Ayah 2:41150 ۔ (آیت) ” بما انزلت “۔ اشارہ ہے قرآن کی طرف (آیت) ” لما معکم “ اشارہ ہے توریت کی طرف۔ (آیت) ” کافر۔ صورۃ واحد ہے۔ معنی جمع ہے یعنی یا تو تقدیر کلام یہ ہے۔ ولا تکونوا اول فریق کافر (قرطبی) اور یا بقول اخفش نحوی وفراء نحوی اعتبار معنی فعل کا کیا گیا ہے۔ لان المعنی اول من کفر بہ (قرطبی) (آیت) ” بہ “ ضمیر قرآن کی طرف ہے۔ (آیت) ” اول کافر بہ “ قرآن کا اولین منکر بنی اسرائیل کو اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ مشرکین عرب یہود کے تسلیم واقرار کے بعد جس طرح اس باب میں ان کی تقلید کرتے، اسی طرح یہود کے انکار ومخالفت کے بعد اسے بھی سند میں پیش کرتے اور خود بھی انہیں کی راہ پر چلتے، یہود بہرحال اہل کتاب تھے، کتاب آسمانی کی قدر انہیں کو ہونا چاہیے تھی، اور بطور مقتدائے عرب انہیں کی ذمہ داری سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 147 ۔ وعندکم فیہ من العلم مالیس عندغیرکم (ابن جریر عن ابن عباس ؓ فان وظیفتکم ان تکونوا اول من امن بہ لما انکم تعرفون حقیقۃ الامر (روح)
151 ۔ (آیت) ” ثمناقیلا “ حق کو کسی دنیوی مادی مصلحت کی بنا پر چھوڑ دینا، آخرت کی ابدی دولت کو دنیا کے ثمن قلیل (تھوڑی سی قیمت پر) فروخت کر ڈالنا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ عقبی کو تھوڑے دام پر نہ بیچا جائے، اور زیادہ دام پر بیچ ڈالا جائے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی آخرت کے مقابلہ میں بہرحال قلیل ہی ہے۔ کل کثیر الیہ قلیل وکل کبیر الیہ حقیر (کشاف) یہود کی حق فروشیوں کے کاروبار کا ذکر انجیل میں بھی ہے۔ مثلا ” یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطر ناشائستہ باتیں سکھا کر گھر تباہ کردیتے ہیں۔ “ (طیطس۔ 1: 1 1)
152 ۔ خوف خداوندی کی تاکید سے توریت اور انجیل دونوں بھرے پڑے ہیں۔
Ayah 2:42153 ۔ (کلام الہی میں لفظی یا معنوی تحریف کرکے) (آیت) ” لاتلبسوا “ تلبیس کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کو ڈھانپ لینا، چھپالینا۔ واصل اللبس ستر الشئی (راغب) ادھوری بات کہنا کہ مطلب کچھ کا کچھ ہوجائے، یا جھوٹ کو لفظی اور ظاہری سچائی کا رنگ دے دینا، بعض اوقات بالکل گھڑے ہوئے جھوٹ سے کہیں بڑھ کر دھوکے اور مغالطہ کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ہوئی شے کا نام آج کی اصطلاح میں پروپیگنڈہ ہے۔ موجودہ فرنگیوں کی طرح یہود بھی اس فن میں استاد رہ چکے ہیں۔
154 ۔ احکام الہی کو بدل دینے کی ممکن صورتیں دو ہیں۔ ایک ان میں اندرونی تحریف، تلبیس وتخلیط۔ دوسرے ان کا سرے سے اخفاوکتمان۔ یہود نے اپنے دینی صحیفوں میں دونوں طرح کے عمل جاری کر رکھے تھے۔ توریت کے مکرر تلف ہوجانے سے اول تو یوں ہی کتنے احکام سرے سے غائب اور گم ہوگئے تھے۔ پھر جو باقی رہ گئے تھے، انہیں حاملان توریت نے اپنے اپنے اغراض ومصالح کے ماتحت خدا معلوم کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔
155 ۔ (کہ تم تلبیس وکتمان کے مرتکب ہورہے ہو) یعنی تحریف تمہارے ارادہ واختیار سے باہر نہیں، دیدہ دانستہ تمہارے علم کے اندر ہورہی ہے۔ فی حال علمکم انکم لا بسون کا تمون (کشاف) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ تم اپنے ان اعمال تلبیس وکتمان کی شناعت سے بھی خوب واقف ہو۔
Ayah 2:43156 ۔ یعنی ایمان کے بعد عملا بھی ارکان اسلام کی پابندی کرو۔ ایمان لانے کا حکم ابھی ایک آیت قبل (آیت) ” وامنوا بماانزلت “ میں مل چکا ہے۔ اب تعلیم اہم جزئیات احکام کی ہورہی ہے۔ (آیت) ” اقیموا الصلوۃ “ نماز کے پابند ہوجاؤ کہ اس سے مرض حب جاہ کا علاج ہوجائے گا (تھانوی (رح)) (آیت) ” اتوالزکوۃ۔ زکوٰۃ دیتے رہو کہ اس سے مرض حب مال کی اصلاح ہوجائے گی۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” ارکعوا مع الراکعین “ جھکنے والوں کے ساتھ جھکو کہ تواضع باطنی کے حصول میں بڑا دخل اہل تواضع کی معیت کو ہوتا ہے (تھانوی (رح)) (آیت) ” ارکعوا “۔ رکوع اسلامی نماز کے ایک معروف رکن کا نام ہے۔ مقصد ارشاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نماز جماعت میں شریک رہو۔ فقہاء میں ایک بحث یہ پیدا ہوئی ہے۔ کہ آیا کافروں کو فروع کا مخاطب بنانا درست ہے ؟ ایک گروہ نے اسی آیت سے یہ سارے احکام ایک آیت قبل کے حکم ایمان (آیت) ” وامنوا بماانزلت “ کے ماتحت ہیں۔ یعنی پہلے ایمان لاؤ اور پھر ان احکام پر عمل کرو۔
Ayah 2:44157 ۔ یعنی کیسے غضب کی بات ہے کہ دوسروں کو تو ایمان لانے کا مشورہ دے دیتے ہو اور خود ایمان نہیں لاتے۔ خطاب یہود سے چلاآرہا ہے۔ اوپر کسی حاشیہ میں یہ آچکا ہے کہ یہود اپنے صاحب علم و کتاب ہونے کی بنا پر مشرکین عرب کی نظر میں بھی محترم اور قابل وقعت تھے، اہل یثرب اکثر ان کے پاس آکر رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت کے باب میں استفادۃ مشورے کیا کرتے کہ اس مدعی نبوت کے دعو وں میں کہاں تک صداقت ہے ؟ ہم اس کی تصدیق کریں یا نہ کریں ؟ وغیرہا۔ احبار یہود ایسے موقعوں پر بارہایہ مشورہ دے اٹھتے کہ بیشک ان میں علامتیں تو ہمارے ہاں کی پیشگوئیوں کے مطابق پائی جاتی ہیں۔ قالوا ھو صادق وامرہ حق فاتبعوہ (کبیر) نزلت فی احبار المدینۃ کانوا یامرون سرا من نصحوہ باتباع محمد ﷺ (روح۔ عن ابن عباس ؓ ضمیر ودیانت کے لحاظ سے تو ان کا مشورہ یہ تھا۔ لیکن اپنے عمل کے وقت ہوائے نفس حائل ہوجاتی، اور خیال یہ گزرنے لگتا کہ اسلام لانے کے بعد ماتحتی اور پابندی کی زندگی بسر کرنا ہوگی۔ سیادت کے یہ مالی اور جاہی مزے کہاں رہیں گے۔ وھم کانوا لایتبعونہ لطمعھم والصلات التی کانت تصل الیھم من اتباعھم (کبیر) ولا یتبعونہ (روح۔ عن ابن عباس) البر۔ بر کے لفظی معنی نیکی کے ہیں۔ ، اور یہ اپنے اطلاق میں عام ہے یعنی ہر قسم کی نیکی پر شامل۔ البر اے التوسع فی الخیر الکامل (راغب) ھو اسم جامع الاعمال الخیر (کبیر) یتناول جمیع اصناف الخیرات (ابن مسعود) یہاں مراد قبول اسلام وتصدیق رسالت محمدی ﷺ سے ہے۔ (آیت) ” اتامرون۔ ہمزہ یہاں اظہار حیرت اور ملامت کے لیے ہے۔ والھمزۃ للتقریر مع التقریع والتعجب (کبیر) الھمزۃ للتقریر مع التوبیخ والتعجب من حالھم (کشاف)
158 ۔ یعنی کتاب توریت، جس میں علامتیں اور شہادتیں۔ ان خاتم النبیین ﷺ کی درج ہیں، یعنی بالکتب التورۃ (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ
Ayah 2:45159 ۔ (ایمان کی ثابت قدمی اور شعائر کفر کے ترک پر)
Ayah 2:46160 ۔ (آیت) ” انھا “ ضمیر نماز کی طرف ہے۔ نماز کا حکم ابھی ابھی ملا ہے۔ اب بیان ان طریقوں کا ہورہا ہے، جن سے نماز آسان ہوجائے اور نماز کی پابندی میں سہولتیں پیدا ہوجائیں۔ خاشعین، خشوع کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے۔ اب یہاں آیت میں خشوع قلب کے دو خاص اثرات کا بیان ہورہا ہے۔ پہلا اثر یہ ہے کہ خاشعین کو اس کا دھیان لگا رہتا ہے کہ یہ عبادتیں رائگاں جانے والی نہیں۔ اپنے شفیق وکریم پروردگار کے حضور میں بہرحال حاضر ہونا ہے۔ اس وقت یہ ساری محنت وصول ہوجائے گی، اور استحقاق سے کہیں بڑھ کر اجر ملے گا، شوق نماز اس مراقبہ سے پیدا ہوجانا یقینی ہے۔ دوسرا اثر خشوع قلب کا یہ ہے کہ خاشعین کے دل میں یہ بات جم جاتی ہے کہ آخر تو واپسی مالک حقیقی کے روبرو ہوگی۔ حساب ہر ہر عمل اور ترک عمل کا ہوگا۔ ترک نماز کی عادت اس سے خود بخود ترک ہوجائے گی۔ عمل میں ساری سہولتیں یقین ہی کی مضبوطی اور قوت سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور یقین کے ایجابی وسلبی دونوں پہلو یہاں بیان میں آگئے۔ نفسیات جدید میں حرک عمل دو ہی چیزیں مانی گئی ہیں۔ ترغیب وترہیب۔۔ ترغیب کا جزو (آیت) ” انھم ملقوا ربھم “ میں جزاواجر کے استحضار سے آگیا۔ اور ترہیب کا جزو ” انھم الیہ رجعون “ میں مراقبہ مؤاخذہ سے آگیا۔ یظنون۔ ظن، لغت میں شک اور یقین دونوں کے معنی میں آیا ہے۔ العرب تسمی الیقین ظنا والئسک ظنا (ابن جریر) الظن من الاضداد یکون شکاو یقیناً (معالم) اور کلام عرب میں ظن بہ معنی یقین کے استعمال کے نظائر بےانتہا ہیں۔ والشواھد من اشعار العرب وکلامھا علی ان الظن فی معنی الیقین اکثر من ان تحصی (ابن جریر) الظن بمعنی الیقین اوالترجیح مشھور عن العرب (نہر) یہاں اکثر ائمہ تفسیر نے یقین ہی کے معنی میں لیا ہے۔ اے یعلمون ویستیقنون (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ الظن ھھنا الیقین (ابن جریر۔ عن ابی العالیہ) اے یستیقنون (معالم) وروی عن مجاھد والسدی والربیع بن انس وقتادہ نحوقول ابی العالیۃ (ابن کثیر) معناہ یوقنون (بحر) بعض نے یہاں بھی مراد توقع وامید سے لی ہے۔ اور اس قدر بھی کافی ہے۔ یظنون اے یتوقعون (کشاف)
Ayah 2:4716 1 ۔ ملاحظہ ہوں حواشی نمبر 146، نمبر 162 ۔
162 ۔ خوب خیال رہے کہ یہاں ذکر مذہب یہود کا نہیں ایک مخصوص قوم ونسل کا ہے۔ بنی اسرائیل نام کسی مذہب یا فرقہ یا عقیدہ کا نہیں، ایک خاص نسل کا ہے۔ افضیلت یہاں مذہب یہودیت کی نہیں نسل اسرائیل کی بیان ہورہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نسل کی افضیلت سارے عالم پر، کس معنی میں ارشاد ہورہی ہے ؟ اور وہ کونسی ایسی نعمت تھی جو بہ حیثیت نسل بنی اسرائیل کے ساتھ بلاشرکت غیرے ، ، مدتوں مخصوص رہی ؟ اگر کہیے کہ دولت یا حکومت یا تجارت یا کثرت آبادی۔ تو اول تو یہ انعامات اللہ کے خود اس درجہ کے نہیں کہ ان کا ذکر اس شان واہتمام کے ساتھ کیا جائے، اور انہیں کو معیار فضیلت وافضیلت بنایا جائے۔ اور پھر یہ نعمتیں تو بہت سی قوموں کو اپنے اپنے وقت میں نصیب رہ چکی ہیں۔ کلدانیہ، مصر، ہندوستان، ان سب ملکوں کا تمدن اپنے زمانہ میں، اسرائیلوں سے قبل عروج پر رہ چکا ہے۔ اور تاریخ کا بیان ہے کہ ان قوموں کا دنیوی جاہ وحشم اسرائیلیوں سے کچھ بڑھ ہی چرھ کر رہا ہے۔ پھر آخرقوم اسرائیل کی وہ مخصوص فضیلت کیا تھی ؟ تاریخ کی زبان سے جواب ایک ہی ملتا ہے کہ وہ دولت یا اللہ کی اعلی ترین نعمت، مسلک توحید کی تھی۔ دنیا کی تاریخ کے جس دور میں ساری قومیں اور ساری نسلیں کم وبیش شرک میں مبتلا تھیں، یا اس کی طرف بہی چلی جارہی تھیں یہ نسل اسرائیل ہی ایک ایسی قوم تھی جو من حیث القوم توحید کی علمبردار ہی۔ عقیدہ توحید اور عقیدۂ رسالت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ رسالت کی قائل صرف وہی قوم ہوگی، جس کا عقیدہ واضح و پختہ ہوگا۔ اور انبیاء ورسل، جہاں تک کسی نسل کا تعلق ہے، نسل اسرائیل ہی میں مسلسل پیدا ہوتے رہے۔ ہاں متفرق طور پر کسی دوسری نسل میں بھی کبھی کبھی پیدا ہوگئے ہوں، تو وہ اس کے منافی نہیں۔ ذکر یہاں افراد کا نہیں، نسل وقوم کا ہورہا ہے۔ دنیا کی ساری دوسری قوموں میں جس وقت ظہور ” اوتاروں “ کا ہورہا تھا، اور وہ قومیں عناصر پرستی، مظاہر پرستی، دیوتا پرستی، بت پرستی، غرض شرک ہی کی کسی نہ کسی شکل میں گرفتار تھیں، انبیاء ورسل اور ان کی تعلیمات کا چرچا صرف بنی اسرائیل میں تھا۔ ہندوستان کی آریہ نسل میں فلسفہ، ہندسہ، ریاضیات، معقولات کے ماہرین وعلماء، جیسے بھی پیدا ہوتے رہے ہوں، بہرحال حلولیت کا شرک اس میں حلول ہی کیے ہوئے تھا، اور توحید و رسالت کی دعوت صرف سامی نسل کی شاخ اسرائیلی کے حصہ میں آئی تھی۔ موجودہ یہود کو بھی اپنے اسلاف کی یہ امتیازی حیثیت یاد ہے۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے :۔ ” بنی اسرائیل پر خاص فرض عائد ہوا تھا کہ توحید باری کی دعوت دیتے رہیں۔ اور آفتاب پرستی ، ، ماہتاب، پرستی، کواکب پرستی کے خلاف جہاد کرتے رہیں “۔ (جلد 6 ۔ صفحہ 5) ” بنی اسرائیل کا واحد فریضہ دنیا میں خدا کا گواہ بننا تھا “۔ (جلد نمبر 6 صفحہ 2) ” مخلوقات کے مراتب مختلف ہیں ذی شعور مخلوق، غیر ذی شعور سے فائق و برتر ہے۔ انسان فائق ترین ہے۔ انسانوں میں بنی اسرائیل بحیثیت موحد پر ستار ان حق کے مشرکوں سے افضل و بالاتر ہیں “۔ (جلدنمبر 6 صفحہ 1 1) ” سیاسی قوموں میں سب سے پہلے عبرانیوں ہی کی رسائی اپنے انبیاء کی تعلیم سے توحید باری تک ہوئی “۔ (جلد 8 ۔ صفحہ 659) مسیحی فرنگی مؤرخین نے بھی اسی تاریخی حقیقت کا اعادہ کیا ہے ہسٹورینس ہسٹری آف دی ورلڈ میں ہے :۔ ” دین توحید کی بنیاد بنی اسرائیل ہی میں پڑی “۔ (جلد 2 ۔ صفحہ 3) ” انسانیت کی موجودہ روحانی کائنات، عام اس سے کہ مسیحی ہو یا اسلامی، سب کی تہ میں اسی عقیدہ توحید کی باز گشت ہے جس کی دعوت سب سے پہلے اسرائیلیوں نے دی تھی “۔ (جلد 2 ۔ صفحہ 3) خود توریت کی تصریحات بھی اس سلسلہ میں نظر انداز کرنے کے قابل نہیں :۔ ” تو خداوند اپنے خدا کے لیے ایک پاک قوم ہے۔ خداوند تیرے خدا نے چن لیا کہ تو سب گروہوں کی نسبت جو زمین پر ہیں اس کے خاص گروہ ہو۔ خداوند نے تم سے محبت رکھی اور تمہیں برگزیدہ کیا، نہ اس لیے کہ تم اور گروہوں سے گنتی میں زیادہ تھے۔ کیونکہ تم سب گروہوں سے کمتر تھے بلکہ اس لیے کہ خداوندعالم نے تم سے محبت رکھی “۔ (استثناء 7:6، 7) ” خداوند کو خوش آیا کہ تمہارے باپ دادؤں سے محبت رکھے۔ اس لیے ان کے بعد ان کی اولاد کو یعنی تم کو سارے گروہوں کی بہ نسبت پہلے برگزیدہ کیا۔ جیسا کہ آج ہے۔ “ (استثناء 10: 15) ” تم میرے گواہ ہو، خداوندفرماتا ہے اور میرا بندہ بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا۔ سو تم میرے گواہ ہو۔ “ (یسعیاہ۔ 43: 10، 1 1) قوم بنی اسرائیل اور امت موسوی دو بالکل اور قطعا علیحدہ چیزیں ہیں۔ اور آیت کی تفسیر میں امت موسوی اور امت محمدی کے تقابل وتفاضل کا کوئی سوال ہی سرے سے نہیں پیدا ہوتا۔ اس سوال کا یہاں اٹھانا قطعا بےضرورت بلکہ بےمحل ہے۔ افضلیت بنی اسرائیل کو کسی خاص زمانہ کے اندر محدود ومقید کرنے کی ضرورت ہمارے قدیم مفسرین کو محض اس لیے پیش آئی کہ ” امت موسوی “ اور ” قوم اسرائیل “ کے درمیان خلط ہوگیا، اور دونوں کا عظیم الشان فرق نظر میں نہ رہا۔
امت محمدی ﷺ کی افضلیت بلحاظ دین و عقیدہ ہے، نہ کہ کسی نسلی یا قومی اعتبار سے اور آیت میں ذکر ایک خاص نسل کی افضلیت کا ہے۔ اور کوئی نظریہ یا اجتہادی مسئلہ نہیں۔ ایک مسلم تاریخی حقیقت ہے کہ جس وقت دنیائے تہذیب طرح طرح کی مشرکانہ وہم پرستیوں میں مبتلا تھی۔ موحد اعظم ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی نسل کی ایک شاخ توحید کا علم بلند ہوئے تھی۔ ہمارے مفسرین میں سے بھی کسی کسی کے ذہن کی رسائی اس حقیقت تک ہوگئی ہے۔ اور وہ صاف لکھ گئے ہیں کہ نسل اسرائیلی کی افضیلت اس میں سلسلہ نبوت وانبیاء کے لحاظ سے تھی۔ بما جعل فیھم من الانبیاء وھذا خاصۃ لھم ولیست لغیرھم (قرطبی) ۔
Ayah 2:48163 ۔ یوما ” اس دن “ سے مراد ظاہر ہے کہ یوم قیامت ہے۔ قیامت کی یاد بڑے حکیمانہ موقع پر دلائی گئی۔ حشرونشر، جزاوسزا کا عقیدہ جو انسان کے دل میں مسؤلیت اور ذمہ داری کی روح ہے۔ اسرائیلیوں کے دلوں ہی سے نہیں، کہنا چاہیے کہ ان کی مقدس کتابوں اور نوشتوں تک سے مٹ چکا تھا۔ آگے روز قیامت کے جو اوصاف بیان ہورہے ہیں، سب میں رد ہی ہے کسی نہ کسی اسرائیلی عقیدہ کا (آیت) ” لا تجزی نفس عن نفس “ اس سے مقصود اس اسرائیلی عقیدہ کی تردید ہے، جو آج تک جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ان الفاظ میں لکھا چلا آتا ہے ” بہت سے لوگ اپنے اسلاف کے اور بہت سے لوگ اپنے اخلاف کے اعمال حسنہ کی بنا پر بخش دیئے جائیں گے “ (جلد 6 ۔ صفحہ 6 1) (آیت) ” ولا یقبل منھا شفاعۃ “ (جس صورت میں کہ موت حالت کفر پر اور عدم ایمان میں ہوئی ہو) یہاں بھی تردید ہے اس اسرائیلی عقیدہ کی کہ عمل اور عقیدے کیسے ہی ہوں، بہرحال اپنے اسلاف کرام شفاعت کرکے بخشوا ہی لیں گے۔ شفاعت اور ایک شفیع مستقل کا یہی وہ مبالغہ آمیز آمیز تخیل ہے، جس نے مسیحیت میں آکر انتہائی شکل اختیار کرلی۔ اور کفارہ ہی کی طرح شفاعت پر مسیحیت کی بنیاد ہے۔ (آیت) ” لایؤخذ منھا عدل “۔ اس میں اصلی ضرب یہودی اور مسیحی عقیدہ کفارہ پر ہے۔ مسیحیوں کے ہاں عقیدۂ کفارہ کی اہمیت تو ظاہرہی ہے۔ لیکن خود یہود بھی ایک بڑی تعداد میں، اسی عقیدۂ کفارہ سے متاثرہوکر اس کے قائل ہوگئے تھے (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 2 صفحہ 278) ۔ (آیت) ” لا ھم ینصرون “ ایمان نہ رکھنے والوں کو کسی طرف سے مدد ونصرت بھی نہ پہنچے گی، کہ سزا میں کچھ تخفیف ہی ہو سکے چہ جائے کہ نجات کامل ہوسکے۔
Ayah 2:49164 ۔ ال لغت میں اھل کا مرادف ہے۔ اور مراد اس سے اہل و عیال، اتباع، ہم مذہب اور ہم نسب ہوتے ہیں اھل الرجل عیالہ واتباعہ واولیاءہ (تاج) فرق یہ ہے کہ اھل کا استعمال عام ہے، اور ال صرف خصوصیت اور اہمیت رکھنے والوں کے لیے آتا ہے۔ لا یستعمل الال الامافیہ شرف غالبا (تاج) ۔ (آیت) ” فرعون “ یہ کسی متعین بادشاہ کا ذاتی نام یا علم نہیں۔ قدیم شاہان مصر کا عام لقب تھا۔ جیسے ہمارے زمانہ میں بھی تک جرمنی کے بادشاہ کو قیصر، روس کے تاجدار کو زار، اور ٹرکی کے فرمانرواکو سلطان کہتے تھے یا آج بھی والئی مصر کو خدیو اور والئی دکن کو نظام کہتے ہیں۔ فرنگی مؤرخین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم عصر کوئی ایک بادشاہ نہیں ہوا ہے، یکے بعد دیگرے دوبادشاہ ہوئے ہیں، یہ اگر صحیح ہے تو اسے بھی قرآن کا اعجاز ہی کہنا چاہئے، کہ وہ بجائے شخصی نام کے عمومی لفظ لایا جس کے بعد شخصیتوں کے ایک یا دو یا چند ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ (آیت) ” یسومونکم سوٓء العذاب “ یعنی ظالم و جابر حکمرانوں کی طرح تمہیں رعایا بنائے ہوئے تمہارے اوپر طرح طرح کی سختیاں کررہے تھے، توریت میں ہے : مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انہوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی، ان کی ساری خدمتیں جو وہ ان سے کراتے تھے مشقت کی تھیں۔ (خروج۔ 1: 13، 14) قدیم ترین اسرائیلی مؤرخ جو زیفس کی تاریخ آثار یہود (History of Je ish Antiqities) میں تفصیلات اور زیادہ موجود ہیں۔ قرآن مجید اور توریت کے بیان کا یہ فرق بھی قابل لحاظ ہے کہ توریت نے حاکمانہ سخت گیریوں کو سارے ” مصریوں “ کی جانب منسوب کردیا۔ اور قرآن نے اپنے حسب معمول محتاط اور انتہائی صادقانہ لہجہ میں نام صرف ” فرعونیوں “ کا لیا۔ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے ایسی ہی الگ ہیں جیسے انگریزی قوم اور انگریزی حکومت۔ نجینا۔ باب تفعیل سے ہے اور اس باب کی ایک خاصیت فعل کی تدریج ظاہر کرنا بھی ہے۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ سارے اسرائیلی مصر سے دفعۃ نہیں نکلے تھے۔ بلکہ رفتہ رفتہ اور مختلف ٹولیوں میں نکلتے رہے۔ اور ان کا سب سے بڑا اور آخری دستہ وہ تھا جو حضرت موسیٰ کی قیادت میں روانہ ہوا، اور راہ بھٹک کر پھر سمندر پار ہوا۔ ہیسٹنگز کی ” ڈکشنری آف دی بائبل “ میں ہے :۔ ممکن ہے کہ مصری اسرائیلیوں کے گروہ وقتا فوقتا مصر سے نکل کر اپنے اجداد کے مقبروں کے مقبروں کے گرد آباد ہوتے رہے ہوں “ (جلد 3 صفحہ 860) اگر تاریخ نے کبھی مؤرخین کے اس خیال کی تصدیق کردی، تو قرآن مجید کے لفظ نجینا کے باب تفعیل سے آنے کی اعجازی قدر اس وقت ہوگئی۔
165 ۔ توریت میں ہے :۔ اگر بیٹا ہو تو اسے ہلاک کردو۔۔ اور فرعون نے اپنے سب لوگوں کو تاکید کرکے کہا، کہ ان میں سے جو بیٹا پیدا ہو تم اسے دریا میں ڈال دو “۔ (خروج۔ 1:5، 22)
166 ۔ یہ لڑکیوں کا قتل نہ کرنا اور انہیں عورت بننے کے لیے زندہ رکھنا غالبا اس لیے تھا کہ انہیں آئندہ فرعونی امراء اپنے حرم میں داخل کریں ، (ملمین کی ” ہسڑی آف دی جیوز “ جلد اول صحفہ 77) ۔ توریت میں ذکر قرآن کی طرح صرف ان کے زندہ رکھنے کا ہے۔ وجہ ومصلحت درج نہیں :۔ ” اگر بیٹا ہو تو اسے ہلاک کردو۔ اور اگر بیٹی ہو تو اسے جینے دو ۔ ان میں جو بیٹا پیدا ہو تم اسے دریا میں ڈال دو ، اور جو بیٹی ہو، جیتی رہنے دو ۔ “ (خروج۔ 1:5، 22)
167 ۔ مشہور وقدیم یہودی مورخ جو زیفس کے الفاظ بھی تقریبا بالکل یہی ہیں :۔ یہ ایک بہت سخت ابتلا تھا “ (تاریخ آثار یہود۔ باب 2 ۔ فصل 9)
Ayah 2:50168 ۔ فرعون اور مصری گورنمنٹ کے مظالم سالہا سال تک برداشت کرنے کے بعدبالآخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں ساری قوم اسرائیل نے مصر کی سکونت ترک کرکے اپنے آبائی وطن شام و فلسطین کو چلا جانا طے کرلیا۔ سفر مصری حکومت سے چھپ چھپا کر رات کیو قت شروع کیا۔ زمانہ وہ تھا کہ نہ آج کل کی سی باقاعدہ سڑکیں تھیں، نہ راستوں میں لمپ لالٹین، شب کی تاریکی میں اسرائیلی راستہ بھول گئے۔ اور بجائے اس کے کہ شمال کی طرف کچھ اور آگے بڑھ کر اپنے دائیں پر مشرق کی طرف مڑتے، پہلے ہی ادھر گھوم پڑے۔ ادھر فرعون کو خبر ہوگئی، اور وہ اپنے لشکر کی کمان خود کرتا ہوا تیزی سے تعاقب میں آپہنچا۔ اب اسرائیلیوں کے سامنے یعنی مشرق کی جانب سمندر تھا۔ اور دائیں بائیں شمال وجنوب میں پہاڑیاں تھیں، اور پشت پر یعنی مغرب کی جانب مصری لشکر۔ قرآن مجید میں اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ توریت میں اس کو خروج بنی اسرائیل سے موسوم کیا ہے۔ زمانہ کی تعیین جزم کے ساتھ مشکل ہے۔ جدید ترین تحقیقات کے مطابق پندرھویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) کا وسط قرار پایا ہے۔ بلکہ بعض نے جرأت کرکے سنہ بھی متعین کردیا ہے۔ 1447 ق۔ م۔ (آیت) ” بکم “ تمہارے لیے، یعنی تمہیں بچانے کے لیے، تمہیں راستہ دینے کے لیے۔ اے فرقنا لکم (معالم) اے فرقنا بسببکم وبسبب انجائکم (کشاف) فرقنا البحر۔ بشر کے محدود نقطہ نظر اور انسان کے ناقص علم کے اعتبار سے جو مستعبد، خلاف معمول اور حیرت انگیز واقعہ کسی نبی کی تائید میں، ظاہری مادی اسباب سے بےتعلق، ظہور میں آئے، اسے اصطلاح میں معجزہ کہتے ہیں، ایسے کسی واقعہ کو جس کا ثبوت رؤیت یا روایت ، ، مشاہدہ یا نقل صحیح سے مل جائے، ” خلاف عقل “ کہہ کر اس کے امکان سے انکار کر بیٹھنا خود ایک انتہائی نادانی اور بےعقلی ہے۔ تاریخی عجائب سے آخر تاریخ لبریز ہی ہے۔ اور خوارق، نوادر، حوادث عجیبہ سے دنیا کا کون سا گوشہ، زمانہ کا کوئی سا دور خالی رہا ہے ؟ یا آج کس دن، کس تاریخ کے اخبارات خالی رہتے ہیں ؟ زیادہ سے زیادہ ایسے واقعات کو خلاف معمول، خلاف عادت عامہ کہا جاسکتا ہے۔ اور ان کے روایت ثبوت کا مطالبہ یقیناً کرنا چاہیے۔ راویوں پر جرح بھی خوب کرلینا چاہیے۔ لیکن اس سے تجاوز کرکے ان کے نفس امکان میں شک کرنا یا انہیں خلاف عقل یا محال قرار دینا خود اپنی کم عقلی کا اظہار کرنا ہے۔ استبعاد جو کچھ بھی ہے، وہ تو صرف انسانی معیار سے ہے، انسان کے بہت ہی محدود ومختصررقبہ علم و تجربہ کے اعتبار سے ہے، ورنہ جو قادر مطلق ہے، اس کے لیے تو ” حسب معمول “ اور ” خلاف معمول “ سب ایک ہے اور ” غریب “ و،” مانوس “ کا، فرق اس کے لیے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔” وقوع “ اور ” امکان “ دو بالکل الگ چیز کا ہے۔ اللہ کے دائرہ قدرت کے اندر ہر بڑی سے بڑی چیز ہے، ناممکن تو اس کے لیے کوئی سی بھی چیز نہیں، لیکن وقوع پر یقین کرنے کے لیے ضرورت شاہدوں کی ہوتی ہے، اور جو واقعہ جس قدر عجیب اور معمول عام سے ہٹا ہوگا، اسی نسبت سے اس پر یقین لانے کے لیے شہادت بھی زبردست ہونی چاہیے۔ یہ تو معجزات پر اصولی گفتگو تھی۔ باقی یہاں جس ” فرق البحر “ کا ذکر ہے، تو یہ سمندر کا پھٹ جانا اور درمیان میں خشکی کی راہ بن جانا کچھ ایسا زیادہ خارق عادت ہے بھی نہیں، کہ اس کی نظیر کہیں ملتی ہی نہ ہو، بحری زلزلہ کے وقت ایسی صورتیں پیش آتی ہی رہتی ہیں۔ چناچہ جنوری 1934 ء (رمضان 1352 ھ) میں جو عظیم الشان زلزلہ بہار اور اطراف بہار میں آیا، اس موقع پر صوبہ کے صدر مقام، شہر پٹنہ میں دن دہاڑے کوئی ڈھائی بجے کے وقت، ایک مجمع کثیر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گنگا جیسے وسیع و عریض دریا کا پانی چشم زدن میں غائب ہوگیا، اور اتنے چوڑے پاٹ میں بجائے دریا کے دھارے کے خشک زمین نکل آئی اور یہ حیرت انگیز اور دہشت ناک منظر چند سیکنڈ نہیں، چار پانچ منٹ تک قائم رہا، یہاں تک کہ دریا اسی برق رفتاری کے ساتھ یک بیک زمین سے ابل کر پھر جاری ہوگیا ! واقعہ کی مفصل رواداد ایک وقائع نگار کے قلم سے، انگریزی روز نامہ پانیر (لکھنو) کی 20 جنوری 1934 ء کی اشاعت میں درج ہے ! (آیت) ” البحر “ بحر سے مراد یہاں دریائے نیل نہیں جیسا کہ بعض ثقات کو دھوکا ہوگیا ہے۔ بلکہ بحرقلزم (یا بحراحمر) مراد ہے۔ دریائے نیل تو بنی اسرائیل کے مسکن اور محلہ سے مغرب کی طرف واقع تھا۔ اور اسرائیلیوں کا راستہ شام کے لیے مشرق کی طرف تھا۔ نیل سے اس راستہ کو دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ مصر سے شام کی راہ کے قریب بحر قلزم تھا۔ اسی کے تنگ شمالی سرے کی جانب یہاں اشارہ ہے۔ مصر کے مشرق میں جہاں اب نہر سویز کھد گئی ہے، اس سے متصل جنوب میں، نقشہ میں سمندر دو مثلثوں کی شکل میں تقسیم نظر آئے گا۔ یہاں ان میں سے مغربی مثلث مراد ہے۔ اسرائیلیوں نے اسی کو عبور کر کے جزیرہ نمائے سینا میں قدم رکھا تھا۔
169 ۔ اسرائیلی اپنے کو ہر طرف سے محصورپاکر قدرۃ سخت پریشان ہوئے۔ لیکن رہنمائی اللہ کے ایک پیمبر کررہے تھے۔ آپ نے وحی الہی کے اشارہ سے فرمایا کہ بلاتوقف سمندر میں چل پڑو۔ سمندر کا پانی سمٹ کر دونوں طرف پہاڑ جیسی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ درمیان میں خشک راستہ پیدا ہوگیا۔ اسرائیلیوں کا قافلہ عبور کرگیا۔ اتنے میں فرعونی بھی لب ساحل پہنچ گئے۔ اور یہ منظر دیکھ کر وہ بھی پیدل اور سوار خشک سمندر میں درآئے۔ لیکن ابھی درمیان ہی میں تھے کہ پانی کی وہ کھڑی ہوئی دیواریں آنافانا آپس میں مل گئیں۔ اور سمندر کا پانی حسب سابق رواں ہوگیا۔ اور دیکھتے دیکھتے فرعون مع اپنے لاؤلشکر کے غرق ہو کر رہ گیا۔ توریت میں تصریحات ذیل ملتی ہیں : ” پھر موسیٰ نے دوبارہاتھ بڑھایا اور خداوندنے بہ سبب بڑی پوربی آندھی کے تمام رات میں دریا کو چلایا۔ اور دریاکو سکھادیا۔ اور پانی کو دو حصہ کیا۔ اور بنی اسرائیل دریا کے بیچ میں سے سوکھی زمین پر ہو کر گزر گئے۔ اور پانی کی ان کے داہنے اور بائیں دیوارتھی۔ “ (خروج۔ 14 ۔ 2 1 ۔ 22) ” بنی سرائیل خشک زمین پر دریا کے بیچ میں چلے گئے اور پانی کی ان کے داہنے اور بائیں دیوارتھی، سو خداوند نے اس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے یوں بچایا۔ “ (خروج۔ 14:29 ۔ 30) اور مصریوں نے پیچھا کیا اور ان کا پیچھا کیے ہوئے وہ اور فرعون کے سب گھوڑے اور اس کی گاڑیاں اور کے سوار دریا کے بیچوں بیچ تک آئے۔۔۔ اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ دریا پر بڑھایا۔ اور دریا صبح ہوتے ہی اپنی اصلی قوت پر لوٹا اور مصری اس کے آگے بھاگے اور خداوند نے مصریوں کو دریا میں ہلاک کیا۔ اور پانی پھرا۔ اور گاڑیوں اور سواروں اور فرعون کے سب لشکر کو جو ان کے پیچھے دریا میں آئے تھے چھپا لیا۔ اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔ “ (خروج۔ 14:24 ۔ 28) واقعہ کا زمانہ جدید ترین اثری تحقیق کے مطابق۔ 1447 ق۔ م یا اس کے لگ بھگ قرارپاتا ہے۔ (آیت) ” وانتم تنظرون “ فقرہ غیرضروری یا برائے بیت نہیں بنی اسرائیل پر اس حقیقت کا پرزور طریقہ پر اعلان مقصود ہے کہ اپنے ایسے پر قوت دشمن کی ہلاکت و بربادی کا نظارہ محض تائید خداوندی سے تم نے اپنی آنکھوں سے کرلیا۔ توریت میں ہے :۔ اسرئیلیوں نے مصریوں کی لاشیں دریا کے کنارہ پر دیکھیں “ (خروج۔ 14 ۔ 3 1)
Ayah 2:51170 جب حضرت موسیٰ اپنی قوم کو مصری حکومت کے پنجہ غضب سے نکال لائے۔ تو اب مشیت خداوندی یہ ہوئی کہ اس قوم کو ایک پورا نظام شریعت اور دستور زندگی عطاہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے ایک پہاڑ کی چوٹی کوہ طور پر نوشتہ غیبی لینے کے لیے ایک چلہ کے لیے طلب کیے گئے۔ موسیٰ ۔ موسیٰ بن عمران سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور جلیل القدر پیمبر کا نام ہے۔ توریت میں ہے کہ عمر ایک سو بیس سال کی پائی (استثناء۔ 24:7) آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثریین کا تخمینہ ہے کہ پندرھویں اور سولہویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) کا تھا۔ سال ولادت غالبا 1520 ء ق، م۔ سال وفات غالبا 1400 ق، م۔ (آیت) ” اربعین لیلۃ۔ چالیس رات دن مراد ہیں۔ توریت میں ہے :۔ ” اور موسیٰ پہاڑ پر چالیس دن رات خداوند کے پاس رہا “۔ (خروج 34:28) اسلامی روایتوں میں آتا ہے کہ یہ زمانہ ذی قعدہ کے پورے مہینہ اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کا تھا۔ قیل انھا ذوالقعدۃ بکمالہ وعشرمن ذی الحجۃ (ابن کثیر) مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ اہل سلوک کے یہاں جو چلہ کی میعاد متعارف ہے، اس کی اصل یہیں سے ہے۔
172 ۔ (اپنے حق میں) قرآن مجید نے اس قسم کے فسق شدید بلکہ شرک کو اکثر ” ظلم “ ہی سے تعبیر کیا ہے۔ اور واقعی اس سے بڑھ کر ظلم انسان کا اپنے حق میں اور ہو بھی کیا سکتا ہے۔ اسرائیلیوں میں یہ گمراہی آئی کہاں سے ؟ اس سوال کے جوابات مختلف دیئے گئے ہیں ایک قول ہے کہ یہ مصریوں کی گاؤ پرستی کا عکس تھا۔ دوسرا قول ہے کہ مشرک کنعانیوں (فلسطینیوں) کے ہم جوار ہونے کا اثر تھا۔ تیسرا قول ہے کہ گوسالہ مورت تھی چندرماں دیوتا کی، اور گوسالہ پرستی مرادف تھی ماہتاب پرستی کی۔ بہرحال یہ شرک جس راہ سے بھی آیا ہو، قرآن نے اسے ہی شرک قرار دیا، خواہ وہ مورتی (نعوذباللہ) خدائے واحدہی کی کیوں نہ بنائی گئی ہو۔ مرشدتھانوی مدظلہ، نے فرمایا کہ حلول باری تعالیٰ کی جناب میں محال ہے ورنہ اگر محض غلطی ہوتی تواسرائیلی اس میں معذور سمجھے جاتے۔
Ayah 2:52173 (تمہارے توبہ و استغفار اور تم میں سے ایک خاص گروہ کی سزا یابی کے بعد) گوسالہ پرستی اور شرک جیسے انتہائی جرم کی سزا چاہیے تو یہ تھا کہ ساری قوم کو ملتی، شرک کرنے والوں کو شرک کی، اور باقی تماشہ دیکھتے رہنے والوں کو سکوت عن الحق اور اعانت جرم کی۔ لیکن واقعۃ سزا صرف ایک مخصوص گروہ کو ملی۔ جیسا کہ ابھی آتا ہے، اور باقی ساری قوم توبہ و استغفار کے بعد بچ گئی۔
174 (کہ شکر گزاری اور منت پزیری تو جوہر شرافت اور لازمہ انسانیت ہے) اس موقع پر عملی شکر گزاری توحید وطاعت پر ثابت قدمی تھی۔
Ayah 2:53175 (اور جزئیات تک کے لیے زندگی کا ایک دستورالعمل ہاتھ آجائے) اجمالا راہ ہدایت یعنی توحید کی تعلیم تو اسرائیلیوں کو پہلے سے ملی ہوئی تھی، اور پیمبر ان کے درمیان موجود ہی تھے۔ اب کتاب اس لیے نازل فرمادی گئی کہ ایک مستقل ومرتب دستورالعمل جزئیات زندگی کا ان کے ہاتھ میں آجائے، اور آئندہ یہ راہ سے بھٹکنے نہ پائیں۔ (آیت) ” الکتب “ یعنی توریت۔ قرآن مجید میں مطلق (آیت) ” الکتب “ کا لفظ، علاوہ قرآن کے توریت کے لیے بھی آیا ہے۔ (آیت) ” الفرقان “ فرقان اپنے لفظی معنی میں ہر وہ چیز ہے جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ کل ما فرق بہ بین الحق والباطل فھو فرقان (لسان) (آیت) ” الفرقان “ قرآن کا بھی ایک نام ہے ، ، اس مناسبت سے کہ قرآن حق و باطل، حرام و حلال کے درمیان فارق ہے۔ اور اسی مناسبت سے اس کا اطلاق علاوہ قرآن کے توریت وانجیل پر بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کتابیں بھی فارق ہیں بہ لحاظ عقائد حق و باطل کے درمیان۔ بہ لحاظ اقوال صدق وکذب کے درمیان۔ اور بہ لحاظ اعمال نیک وبد کے درمیان (راغب) اس مقام پر (آیت) ” فالفرقان “ کی متعدد تفسیریں نقل ہوئی ہیں۔ 1 ۔ الکتب والفرقان۔ کے درمیان عطف تفسیری ہے۔ اور مراد دونوں سے ایک ہی ہے یعنی توریت۔ توریت ہی کی دو صفتیں ہیں۔ ایک صفت کتابت، دوسری صفت فرقانیت۔ اول کے لحاظ سے وہ (آیت) ” الکتب “ ہے، اور دوسری کے لحاظ سے (آیت) ” الفرقان “ یعنی الجامع بین کونہ کتابا منزلا وفرقانا یفرق بین الحق والباطل یعنی التوراۃ (کشاف) الفرقان نعت والواو زائدۃ یعنی الکتب الفرقان (معالم۔ عن الکسائی)
2 ۔ دوسرے یہ کہ اس سے مراد یہاں توریت اپنے احکام وشرائع کے لحاظ سے ہے۔ ابن عباس ؓ اور بہت سے تابعین کا یہی مذہب ہے۔ یہ قول قول اول سے معنی بالکل ملتا ہوا ہے۔
3 ۔ مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے تھے۔ مثلا معجزہ عصا، معجزۂ یدبیضا، وغیرہما۔ یہ مذہب مجاہد تابعی کا ہے۔ انہ معجزات الفارقۃ بین الحق والباطل (روح) ۔
4 ۔ مراد وہ فتح و غلبہ ہے جو بنی اسرائیل کو حکومت فرعونی کے مقابلہ میں عطا ہوا تھا۔ النصر والفرج الذی اتاہ اللہ بنی اسرائیل علی قوم فرعون (کبیر) الفرقان الفرج من الکرب لانہم کانوا مستعبدین مع القبط (قرطبی) ۔ یہود کا عقیدہ ہے کہ لکھی ہوئی کتاب توریت کے علاوہ زبانی بھی بہت سے اسرار ومسائل کی تعلیم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہوئی تھی، اور وہ ان کے بعد سے سینہ بہ سینہ نسلا بعد نسل ان کی قوم میں منتقل ہوتے چلے آئے ہیں۔ سو یہود کے نقطہ خیال سے فرقان سے مراد اس علم سفینہ کے علاوہ یہ علم سینہ ہے۔
Ayah 2:54176 ۔ (بعد اس کے کہ بنی اسرائیل شرک اور گوسالہ پرستی کے مرتکب ہوچکے تھے)
177 ۔ (کہ توحید جیسی دولت بےبہا پاکر پھر شرک اور مخلوق پرستی کی سفلیت پر اتر آئے)
178 ۔ (آیت) ” فتوبوا میں فاسببیہ ہے کہ نہ انہوں نے ظلم کیا ہوتا نہ آج توبہ کی نوبت آتی والفاء للتسبیب (بیضاوی) لان الظلم سبب للتوبۃ (بحر) توریت میں ہے :۔ ” اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آج خداوند کے لیے اپنے تئیں مخصوص کرو۔ ہر ایک مرد اپنے بیٹے اور بھائی پر حملہ کرے تاکہ وہ تمہیں برکت دیوے۔ “ (خروج۔ 32:29)
179 ۔ (اپنے ہاتھ سے یعنی غیرمجرمین مجرمین کو قتل کریں) فلیقتل الذی لم یعبد العجل الذی عبدہ (ابن عباس ؓ شرک شریعت موسوی اور آئیں اسرائیلی میں علاوہ معصیت مذہبی کے فوجداری کا بھی ایک سنگین جرم تھا، مستوجب قتل، توریت کی قانونی آیتوں میں مشرک ومشر کہ کے لیے یہ تصریح ہے کہ ” اس مرد یا اس عورت پر یہاں تک پتھراؤ کیجیو کہ وہ مرجائیں۔ گواہوں کے ہاتھ اس پر پہلے اٹھیں تاکہ اس کو قتل کریں اور ان کے بعد سب لوگوں کے ساتھ تم یونہی اپنے بیچ سے شرارت کو نیست ونابود کیجیو “۔ (استثناء۔ 17:5 ۔ 7) اور ظاہر ہے کہ شریعت کا نفاذ صاحب شریعت کے سامنے بھی نہ ہوتا تو اور کب ہوتا۔ شرک کے مجرمین پکڑ پکڑ کر سامنے لائے گئے اور اپنے ہی بھائی بندوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترے۔ توریت میں ہے :۔” تم میں سے ہر مرد اپنی کمر پر تلوار باندھے اور ایک دروازہ سے دوسرے دروازہ تک تمام لشکر گاہ میں گزرتا پھرے۔ اور ہر مرد تم میں سے اپنے بھائی کو اور ایک آدمی اپنے دوست کو اور ہر ایک آدمی اپنے قریب کو قتل کرے۔ اور بنی لاوی نے موسیٰ (علیہ السلام) کے کہے کے موافق کیا۔ چناچہ اس دن لوگوں میں سے تقریبا تین ہزار آدمی مارے پڑے “۔ (خروج۔ 32:27 ۔ 28) (آیت) ” فاقتلوا انفسکم “ میں قتل سے مراد یہی اہلاک ہے جسے سب جانتے ہیں۔ اور محققین کا گروہ اسی معروف معنی میں قتل کا قائل ہے۔ والمتبادر من القتل القتل المعروف من ازھاق الروح (روح) ظاہر ھذا انہ ھو القتل المعروف من ازھاق الروح (بحر) والصحیح انہ قتل علی الحقیقۃ ھنا (قرطبی) ۔ اس کھلے ہوئے معنی کو چھوڑ کر، بلاوجہ بلاضرورت قتل کے مجازی معنی مجاہدہ یا ریاضت یا نفس کشی کے کرنا نہ کسی نقلی سند کے مطابق ہے نہ کسی عقلی دلیل کے ماتحت۔ یہ واقعہ قتل تاریخ اسرائیل کا ایک مشہور ومسلم واقعہ ہے توریت کی سند ابھی گزرچکی، تاریخ کی سب کتابیں اس کو دہرا رہی ہیں۔ سارے دفتر نقل وروایت میں کوئی لفظ اس کے خلاف موجود نہیں۔ رہی ” عقل “ سو خدا معلوم دنیا کے پردہ پر وہ کون سی پاگل گورنمنٹ ہے، جو اپنے قانون فوجداری کے شدید مجرموں، لٹیروں، ڈاکوؤں، نقب زنوں کو محض معافی طلب کرنے پر چھوڑ دیتی ہے ؟ آج کے ” روشن خیال “ تفسیر نویسوں کی تاویلات بھی عجیب عجیب ہوتی ہیں !
180 ۔ (اور اس خیریت اور بہتری کا ظہور آخرت میں ہوگا) (آیت) ” خیر “ سے اشارہ یہاں نجات، مغفرت اور گناہ کی گندگی سے پاک صاف ہونے سے ہے۔ یہاں ذکر تو ایک اسرائیلی ضابطہ شریعت کا ہے۔ لیکن خود اسلامی شریعت کا ضابطہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے۔ رہزنی، سرقہ، زنا کاری وغیرہ جن جن جرائم کے لیے حدود مقرر ہیں، وہ دنیا میں معاف نہیں ہوسکتے، خواہ مجرم صدق دل سے تائب ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ اجرائے حد کے بعد یہ امید ضرور قائم ہوجاتی ہے کہ وہ نادم وتائب حشر میں دھلا دھلایا، پاک صاف حاضر ہوگا۔
181 ۔ تاب علیکم، یعنی تمہاری توبہ من حیث القوم قبول کرلی، سزا صرف انہیں افراد کو ملی جو شرک کے مجرم واقعۃ اور عملا تھے۔ آبادی کا بڑٹا حصہ جو صرف خاموشی سے شریک جرم رہا اس کی خطا معاف ہوگی۔
182 ۔ دنیا کی بہت سی گمراہ قوموں کا یہ عقیدہ رہ چکا ہے اور اب بھی ہے (مثلا بدھ مذہب والوں کا) کہ خدا کو معاف کردینے کا کوئی اختیار ہی نہیں، کیونکہ وہ خود قانون مکافات عمل کا پابند ہے۔ مسیحیت بھی اسی اساسی گمراہی میں مبتلا ہے۔ خدا چونکہ از خود کسی کو معاف نہیں کرسکتا، اور معاف کرنا چاہتا ہے، اس لیے اس نے اپنے بیٹے کو سب کی طرف سے بہ طور کفارہ سزادے کر دوسروں کو معاف کردیا۔ یہودیت نے بھی خدا کی قہاریت پر اتنا زور دیا کہ اس کی رحمت ورحمانیت کی تصویر بالکل ہی دھندلی پڑگئی۔ قرآن مجید نے توبہ و قبول توبہ اور رحمت الہی کی وسعت پر باربار زور دے کر ان ساری گمراہیوں کی تردید کردی۔
Ayah 2:55183 ۔ (کہ جو مخاطبہ تم سے ہوا وہ مخاطبہ الہی ہی تھا، اور جو کلام تم ہمیں سنا رہے ہو وہ کلام الہی ہی ہے) (آیت) ” قلتم “ تم نے کہا تھا “ یعنی تمہاری قوم کے ستر بڑے بوڑھے نمائندوں نے۔ والقائلون ھم السبعون الذین اختارھم موسیٰ للمیقات (بیضاوی) (آیت) ” لن نؤمن لک “۔ اے لاجل قولک (بیضاوی) تاریخ اسرائیل کے اہم ترین واقعات دہرائے جارہے ہیں، اور اسرائیلیوں پر ان کی قومی تاریخ سے ’ حجت ‘ قائم کی جارہی ہے۔ اب ذکر اس وقت کا ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ستربزرگان قوم کو ہمراہ لے کر لشکر گاہ سے کوہ طور پر گئے ہیں۔ دامن کوہ میں انہیں چھوڑ کر خود آگے بڑھ گئے ہیں اور مکالمہ ومخاطبہ الہی سے مشرف ہونے کے بعد اس کی اطلاع اور خوشخبری ان بزرگان قوم کو پہنچائی ہے۔
184 ۔ (اپنی انہیں مادی اور ظاہری آنکھوں سے) گویا اللہ تعالیٰ بھی کوئی مادی جسم رکھتا ہے ! اور گویا رسول کے حواس عام بشری حواس سے کچھ ممتاز ہی نہیں ہوتے !
185 ۔ (اس گستاخانہ مطالبہ کی پاداش میں) لفرط العناد والتعنت وطلب المستحیل (بیضاوی) (آیت) ” اخذتکم “ پکڑلیا تم کو “ یعنی انہیں ستربزرگان قوم کی جماعت کو۔ معتزلہ نے آیت سے استدلال یہ کیا ہے کہ رؤیت باری جائز ہی نہیں، ورنہ اگر جائز ہوتی تو اس سوال پر سرداران اسرائیل کو اتنی سخت سزا نہ ملتی لیکن اہل سنت کا مذہب ہے کہ رؤیت باری جنت میں تو مومنین کو ہو ہی کر رہے گی، باقی دنیا میں بھی مخصوص افراد کو بہ طور فضل خاص ممکن ہے۔ البتہ ہر جہت، جسم اور مادی کم وکیف سے پاک۔ وقد اختلف فی جواز رویۃ اللہ تعالیٰ فاکثر المبتدعۃ علی انکارھا رفی الدنیا والاخرۃ واھل السنۃ والسلف وعلی جو ازھا فیھما ووقوعھا فی الآخرۃ (قرطبی) الممکن ان یری رویۃ منزھۃ عن الکیفیۃ وذلک للمومنین فی الاخرۃ ولا فراد من الانبیاء فی بعض الاحوال فی الدنیا (بیضاوی) رہی ان کی یہ سزا تو اس کے اسباب بالکل دوسرے ہیں۔ مثلا یہ کہ وہ پیمبر (علیہ السلام) کی بات کو جھٹلا رہے تھے (حالانکہ معجزات و دلائل کے بعد پیغمبر (علیہ السلام) پر ایمان لانا فرض ہوجاتا ہے) یا یہ کہ وہ سوال اپنے رفع جہل کے لیے نہیں بلکہ بطور انکار، از راہ عناد کررہے تھے۔ انما عوتبوا بکفرھم لانھم امتنعوا عن الایمان بموسی بعد ظہور معجزاتہ والایمان بالانبیاء واجب بعد ظھور معجزاتھم ولانھم لم یسألوا سوال استرشاد بل سوال تعنت وعناد (مدارک) ۔
186 ۔ توریت میں ہے :۔ ” اور یوں ہوا کہ تیسرے دن صبح کو بادل گرجے اور بجلیاں چمکیں اور پہاڑ پر کالی گھٹا امڈی اور قرنائی کی آواز بہت بلند ہوئی، چناچہ سب لوگ ڈیروں میں کانپ کانپ گئے “۔ (خروج۔ 19: 16) (آیت) ” وانتم تنظرون “۔ مفسرابن حیان نے کہا ہے کہ ینظرون عربی میں ینتظرون کے معنی میں بھی آتا ہے اس لیے اگر کوئی یہ مراد لے کہ ” تم سوال رؤیت کے مقبول ہونے کا انتظار کررہے تھے “۔ تو اس معنی کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے۔ اگرچہ کسی سے یہ مفہوم منقول نہیں، ولکن ھذا الوجہ لیس بمنقول فلا اجسر علی القول بہ وان کان اللفظ یحتملہ (بحر) ۔
Ayah 2:56187 ۔ یہ احیاء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سفارش پر ہوا تھا۔ اسرائیلی روایات اس باب میں خاموش ہیں (آیت) ” بعثنکم “۔” جلااٹھایا تم کو “ یعنی انہیں ستر بزرگان قوم کو۔ (آیت) ” بعثنکم من بعد موتکم “ موت اور بعث دونوں کے کھلے ہوئے معنی مرنے اور جی اٹھانے کے ہیں۔ اور ایسا ہی مفسرین نے عموما سمجھا ہے، بلکہ یہ کہہ دیا ہے کہ بعد موت کے قید لگائی ہی اس لیے گئی ہے کہ بعث کو کوئی غشی یا نیند کے بعد نہ سمجھے۔ اے احییناکم (قرطبی) وقید البعث لانہ قدیکون ارواحہم ثم رد والا ستیفاء اجالھم (قرطبی) وقید البعث لانہ قد یکون عن اغماء اونوم (بیضاوی) والموت ھنا ظاھرہ مفارقۃ الروح الجسد وھذا ھو الاحقیقۃ (بحر) بحر، روح وغیرہ میں ایک دوسرا قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ موت حقیقی نہ تھی، بلکہ بیہوشی کی قسم سے مجازی موت تھی۔
188 ۔ (اور آئندہ توحید اور ایمان پر پوری طرح قائم رہو) بعض تفسیروں میں یہ اں یہ قصہ نقل ہوا ہے کہ یہ ستر اشخاص بعد کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے نبی ہوگئے۔ لیکن یہ قصہ بےاصل ہے۔ ھذا غریب جدا (ابن کثیر) وھو بعید (روح)
Ayah 2:57189 ۔ (تمہیں آفتاب کی تپش سے بچانے کے لیے جب کہ تم صحرائے سینا میں بھٹک رہے تھے) جزیرہ نمائے سینا جیسے ریگستانی ملک اور چٹیل میدان کی دھوپ میں سایہ میسرآجانا واقعی سایہ رحمت سے کم نہیں۔ توریت میں ستون ابر اور ستون زر دونوں کا ذکر بہ طور معجزہ کے ہیں سیاق قرآنی سے معجزہ کا پہلو لازم نہیں آتا۔ ذکر عام نعمتوں کا ہورہا ہے جو بنی اسرائیل پر ان کی توریت میں ہے :۔ ” اور خداونددن کو بدلی کے ستون میں تاکہ انہیں راہ بتائے اور رات کو آگ کے ستون میں ہو کے تاکہ انہیں روشنی بخشے ان کے آگے چلا جاتا تھا تاکہ دن رات چلے جائیں اور بدلی کا ستون دن کو اور آگ کا ستون رات کو ان کے آگے سے ہرگز نہ اٹھاتا تھا۔ “ (خروج۔ 13:2 1، 22) روایات یہود میں حسب بیان جیوش انسائیکلوپیڈیا (جلد 4 صفحہ 123) یہ تصریح بھی موجود ہے کہ بنی اسرائیل جب کثرت معاصی میں مبتلا ہوجاتے تھے تو یہ ابران پر سایہ کرنا چھوڑ دیتا تھا۔ (آیت) ” الغمام “ قرآن مجید نے اسے محض ابر بتایا ہے۔ یہود اسے تخت خداوند سمجھتے تھے۔
190 ۔ (اسی دشت سینا میں انزل۔” اتارا “ سے یہ مراد لازمی طور پر نہیں ہوتی کہ وہ چیز کسی غیر طبیعی، معجزانہ طریق پر اتری ہو۔ پانی، لوہا، کھانے کے سامان وغیرہ جو اپنے معمولی اور طبعی طریقوں پر انسان کے کام کے لیے پیدا ہوتے رہتے ہیں، ان سب کے لیے قرآن مجید کی زبان میں، اتارنے ہی کا لفظ آیا ہے۔ من اہل لغت کی تحقیق میں یہ ایک میٹھی میٹھی رطوبت تھی۔ جو درختوں پر گرا کرتی تھی۔ المن شی کالطل فیہ حلاوۃ یسقط علی الشجر (راغب) ، عربی میں اسم جنس ہے، خیر وشر کی طرح، جس کا واحد نہیں آتا۔ اسم جنس لاواحدلہ من لفظہ مثل الخیر والشرقالہ الاخفش (قرطبی) ۔ معنی اس کے متعدد بیان کیے گئے ہیں، میٹھا گوند، شہد، شربت وغیرہ۔ لیکن اکثر کا خیال ہے کہ یہ ترنجبین کے مرادف ہیں۔ الترنجبین وعلی ھذا اکثر المفسرین (قرطبی) الاکثرون علی ان المن ھو الترنجبین (معالم) اور ترنجبین سے متعلق قدیم طب کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ شہد کی طرح جمی ہوئی اور لذیذ، آسمان گرنے والی شبنم کی قسم کی چیز ہے۔ الترنجبین طل یقع من السماء وھو ندی شبیہ بالعسل جامد متحبب (مفردات ابن البیطار) بہرحال اتنا یقینی ہے کہ کوئی لذیذ قدرتی غذا تھی جو بنی اسرائیل کو مسلسل مسافرت کے زما نہ میں، بلامشقت وتعب مل جاتی تھی، توریت کی تصریحات اس بارے میں حسب ذیل ہیں :۔ ” صؓح کو لشکر کے پاس اوس پڑی۔ اور جب اوس پڑچکی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول چیز ایسی سفید جیسے برف کا چھوٹا ٹکڑا زمین پر پڑی ہے، اور بنی اسرئیل نے دیکھ کر آپس میں کہا کہ من ہے۔ کیونکہ انہوں نے نہ جانا کہ وہ کیا ہے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا کہ یہ روٹی ہے جو خداوند نے کھانے کو تمہیں دی ہے۔ “ (خروج۔ 16: 14، 15) ” اسرائیل کے گھرانے نے اس کا نام من رکھا اور وہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید تھی، اور مزہ اس کا شہد میں ملی ہوئی پھلوری کا تھا۔ “ (خروج۔ 16:3 1) ” اور من سوکھے دھنیے کی مانند تھا۔ اور اس کا رنگ موتی کے دانہ کا سا تھا۔ لوگ ادھر ادھر جاکر اسے جمع کرتے تھے۔ اور چکی میں پیستے تھے۔ یا اوکھلی میں کوٹتے تھے، اور تو وں پر پکاتے تھے اور پھلکیاں بناتے تھے۔ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا اور رات کو جب خیموں پر اوس پڑتی تھی تو من بھی ان پر پڑتا تھا۔ “ (گنتی۔ 1 1:8 ۔ 1 1) سلوی۔ ایک قسم کا بٹیر ہے۔ بٹیر جزیرہ نمائے سینا کا خاص جانور ہے۔ بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ گرمی میں شمال کی طرف چلا جاتا ہے۔ جاڑے میں جنوب کی طرف پھر آجاتا ہے۔ اڑتا اونچا نہیں۔ بہت نیچے رہتا ہے۔ تھک بہت جلد جاتا ہے اور شکار بڑی آسانی سے ہوجاتا ہے۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا۔ جلد 10 صفحہ 285) اس کا شمالی سفر مصر سے فلسطین کی جانب عموما مارچ میں ہوتا ہے۔ اور جنوبی فلسطین سے مصر کی طرف عموما نومبر میں۔ یہ اسرائیلی بٹیر وہ تھے جو مارچ اپریل میں رات کے وقت اپنی شمالی پرواز میں ہوتے ہیں، بحرقلزم شمال میں جہاں دو حصوں میں تقسیم ہوا ہے، وہاں تک یہ اپنے سالانہ اڑان میں آتے ہیں۔ اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ سمندری ہوا ان کی بیشمار تعداد بہ آسمانی اسرائیلیوں کے ڈیروں تک لے آتی تھی (ڈکشنری آف دی بائبل۔ از ڈاکٹرہیسٹنگز۔ جلد 4 صفحہ 179) ان کا گوشت چربی دارہوتا ہے، رکھنے سے بہت جلد خراب ہوجاتا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا ببلیکا، کلام 3699) ۔ واضح رہے کہ سارے رکوع میں اور اس کے بعد بھی ؟ ذکر بنی اسرائیل کے ساتھ حق تعالیٰ کے معاملات کا ہے۔ اور ان معاملات کو حق تعالیٰ نے بہ طور اپنے احسانات و انعامات کے گنایا ہے۔ ضرور نہیں کہ یہ سارے واقعات اپنے عام طبیعی اسباب سے ہٹ کر بہ صورت معجزات ہی پیش آئے ہوں، اصل مقصود یہاں احسانات والطاف خداوندی کی یاد دہی ہے۔ خواہ وہ حسب عادت ہوں، خواہ بہ طور خارق عادت، یعنی قانون تکوینی کی عام دفعات کے ماتحت، یا کسی خصوصی دفعہ کے مطابق۔ اہل تفسیر نے عموما ابر کی سایہ افگنی، من وسلوی کے نزول، اور چٹان سے چشمہ کی روانی ، ، سب کو معجزات میں شمار کیا ہے۔ لیکن کسی کی تحقیق میں اگر یہ سب امور عام واقعات طبیعیہ میں داخل ہوں اور ان کی توجیہ عام اور معمولی قوانین تکوینی کے ماتحت ہوجائے، یا آج کل کی اصطلاح میں ان کے سائینٹفک اسباب دریافت ہوجائیں، تو اس کا اثر ارشادات قرآنی پر مطلق نہیں پڑے گا۔ ان کی احسانی اور انعامی حیثیت بہرصورت قائم رہتی ہے۔ اور اسی کی تذکیر قرآن کا مقصود ہے۔ توریت میں البتہ اس کے برعکس، سارا زور ان واقعات کی معجزانہ حیثیت پر ہے۔
191 ۔ (اور ان چیزوں کا ذخیرہ نہ کرو۔ روز کی روز خرچ کرتے رہو) حکم اسرائیلیوں کو یہ ملا تھا کہ بلاضرورت ان غذاؤں کا ذخیرہ نہ کرتے جاؤ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ” ذخیرہ اندوزی “ Hoarding کی عادت یہودیوں کی آج کی نہیں، بہت قدیم ہے۔
192 ۔ (اس حکم کی خلاف ورزی کرکے) مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ باوجود معاصی کے نعمتوں کا جاری رہنا استدراج اور سخت خطرناک ہے اور اس میں جاہل صوفیوں کو سخت دھوکا ہوا ہے چناچہ وہ کثرت جاہ ومال کو علامت مقبولیت کی سمجھتے ہیں، حرص میں مبتلا، توکل سے ناآشنا، اور نافرمانی کے عادی بنی اسرائیل سے تعمیل اتنے معمولی حکم کی بھی نہ ہونے پائی۔ لگے ان غذاؤں کا ذخیرہ فراہم کرنے، اور لطیف غذائیں باسی ہو ہو کر سڑنے لگیں۔ توریت میں ہے :۔ اور باوجودیکہ موسیٰ نے کہا کہ کوئی اس میں سے صبح تک باقی نہ چھوڑے۔ وہ اس کے سننے والے نہ ہوئے۔ اور بعضوں نے صبح تک کچھ رہنے دیا، سو اس میں کیڑے پڑگئے اور سڑ گیا۔ “ (خروج۔ 16:20) یہود جو مشرک قوموں کے اثر سے عقیدہ تجسیم کے قائل تھے۔ یعنی خدا تعالیٰ کو بھی بشری اوصاف سے متصف جانتے تھے، اور اس کے تاثر وانفعال کے معتقد تھے، انہیں یہ بار بار بتانے اور یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ خدا تعالیٰ کسی نفع ونقصان سے متاثر نہیں ہوا کرتا۔ یہ انسان ہی ہے جو احکام الہی کی نافرمانی کرکے نقصان اٹھاتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Ayah 2:58193 ۔ (بنی اسرائیل سے ان کے پیمبر (علیہ السلام) کی وساطت سے) یہ واقعہ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے تو وہی مراد ہیں، اور اگر ان کے بعد کا ہے تو ان کے جانشین حضرت یوشع (علیہ السلام) قرآن مجید، جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے، توریت کے بعض حصوں کی طرح تاریخ کی کوئی کتاب نہیں۔ اس لیے اس کے بیانات میں تسلسل زمانی اور ترتیب تاریخی ہرگز ضروری نہیں، اس کا مقصود صرف نتایج وعبر ہیں، اخلاقی وروحانی سبق، نہ کہ واقعات کی روداد، اس ایک حقیقت کو پیش نظر نہ رکھنے سے یہود ونصاری آج قرآن فہمی میں طرح طرح کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، یہ واقعہ جس کا ذکر اب شروع ہو رہا ہے۔ تاریخ اسرائیل ہی کا ایک مسلم واقعہ ہے۔ زمانہ تاریخی اس کا جو کچھ بھی ہو۔
194 ۔ یہ بستی کون سی تھی ؟ ممکن ہے کہ فلسطین کا مشہور شہر اریحا ہو۔ جو موجودہ نقشوں میں Jericho کے نام سے ملے گا، یہ بحرمردہ کے شمالی ساحل سے پانچ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اسے اسرائیلیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانہ میں فتح کیا تھا۔ قدیم ائمہ تفسیر کا رخ، بیت المقدس کے بعد پھر اسی شہر کی جانب ہے قریۃ اریحا (ابن عباس ؓ ھی اریحا قریبۃ من بیت المقدس (ابن جریر۔ عن ابن زید) اس کے علاوہ بھی متعدد شہروں اور مقامات کے نام لیے گئے ہیں۔ بعض شہروں کے نام تک اب بدل گئے ہیں۔ مثلا ایلہ کہ اب اسے عقبہ کہتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ مراد شہر سطیم ہو۔ یہ علاقہ موآب میں واقع ہے، جو بحر مردہ کے مشرق میں ہے۔ شہر دریائے یردن کے مشرق (بائیں) کنارہ پر ہے۔ بحرمردہ کے شمال ومشرق میں۔ بنی اسرائیل کی دشت پیمائی کے زمانہ میں یہ شہر گویا ان کا سرحدی ناکہ تھا، عربی میں اسے وادی النار بھی کہتے ہیں اور وادی ستی مریم بھی۔ بعض مفسرین نے جو درون کا نام لیا ہے، اس سے بھی یہی مراد معلوم ہوتا ہے۔
195 ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر خوب وسیع اور خوب آباد پررونق تھا۔
196 ۔ (بہ طور اظہار عجزونیاز و عبودیت کے) کہ یہی شان مومنین مخلصین کی ہے۔ (آیت) ” الباب ‘۔ دروازہ سے مراد شہر کا پھاٹک ہے۔ قدیم شہروں کے اردگرد ایک بلند چہار دیواری شہر پناہ کے نام سے مشہور ہوتی تھی شہر میں داخل ہوتے وقت اسی شہر پناہ کے پھاٹک سے گزرنا ہوتا تھا (آیت) ” سجدا “ یہاں اپنے لغوی معنی میں ہے یعنی عاجزی سے فروتنی کے ساتھ۔ سجدۂ نماز کی ہیئت مخصوص مراد نہیں سجدا ای متذللین منقادین (راغب) خاشعۃ خاصعۃ (ابن جریر، ابن عباس ؓ ارادبہ الخضوع وھو الاقرب (کبیر) قیل متواضعین خضوعالاعلی ھیءۃ متعینۃ (قرطبی) توریت اس اہم جزو کے تذکرہ سے خالی ہے۔
197 ۔ گویا زبان بھی قلب واعضاء کی طرح اظہار تذلل کرتی رہے، یہ فرق ہے اللہ والوں کے لشکر اور دنیا دار بادشاہوں کے لشکروں کے داخلہ میں، ایک کے ہاں قومی بینڈ اور ترانے بجتے ہوتے ہیں، وطنی نعرے لگتے ہوتے ہیں، یعنی قدم قدم پر قومی شیخی اور وطنی بڑائی کا اظہار دوسرے کے ہاں قلب خشوع سے لبریز اور زبان پر تسبیح (آیت) ” قولوا حطۃ “ سے یہ مراد نہیں کہ بعینہ لفظ (آیت) ” حطۃ “ کا تلفظ ادا کرتے جاؤ۔ یہ لفظ تو عربی ہے، اور اسرائیلیوں کی زبان عربی نہیں، عبری یا عبرانی تھی۔ مراد یہ ہے کہ انہیں زبان سے بھی کلمات توبہ و استغفار ادا کرتے رہنے کا حکم ملا تھا۔ وقدروی عن ابن عباس انھم امروا بھذا اللفظۃ بعینھا وھذا محتمل ولکن اقرب خلافہ بوجھین احدھما ان ھذہ الفظۃ عربیۃ وھم ماکانوا یتکلمون بالعربیۃ وثانیھما وھو الاقرب انہم التوبۃ علی ذکر لفظۃ بعینھا (روح) اور ایسا ہی صاحب بحر نے بھی کہا ہے۔ تفسیر قرطبی اور ابن العربی مالکی کی احکام القرآن میں یہ اں طویل بحث اس کی موجود ہے کہ آیا شریعت کے الفاظ میں تبدیلی جائز ہے ؟ خلاصہ بحث یہ ہے کہ جہاں الفاظ ہی تعبد کے ہوں، یعنی حکم انہیں الفاظ ہی کا ہو، وہاں تبدیلی جائز نہیں، لیکن جہاں اصل مقصود معانی ہوں، وہاں لفظی تبدیلی جائز ہے بشرطیکہ معنوی تغیر تک نہ پہنچ جائے۔
198 ۔ یعنی ان لوگوں کو جو نیک کاری میں اخلاص کامل سے لگے ہوئے ہیں، عفو ومغفرت کا وعدہ تو سب ہی توبہ کرنے والوں سے ہوچکا، اس کے بعد یہ ذکر مزید فضل وکرم کا ہے۔