2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت، اور جو (جانور) غیر اللہ کے لئے نامزد کیا گیا ہو، حرام کیا ہے،615 لیکن (اس میں بھی) جو شخص مضطر ہوجائے،616 ۔ اور نہ بےحکمی کرنے والا ہو، اور نہ حد سے نکل جانے والا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں،617 بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،618 ۔

615 ۔ یعنی حیوانات کے سلسلہ میں تو شریعت الہی کی حرام کی ہوئی بس یہ چیزیں ہیں، نہ وہ چیزیں جو تم نے اپنی تجویز سے گڑھ رکھی ہیں، یہاں تردید تمامتر مشرکوں کے خود تراشیدہ محرمات کی ہورہی ہے۔ باقی جو چیزیں حدیث صحیح کی بنا پر، یا کسی اور دلیل شرعی سے حرام ہیں، ان سے آیت کو کوئی بحث نہیں۔ لیس المراد من الایۃ قصر الحرمۃ علی ما ذکر مطلقا بل مقید بما اعتقدوہ حلالا (روح) (آیت) ” المیتۃ “۔ میتہ یا مردار وہ جانور ہے جو بغیر کسی کے ہلاک کیے از خود مرجائے، یا ہلاک تو کیا جائے لیکن ذبح شرعی کے مطابق نہ ہو۔ ھو غیر المزکی اما لانہ لم یذبح اوانہ ذبح ولکن لم یکن ذبحہ ذکاۃ (کبیر) وھی کل مافارقہ الروح میں غیر ذکاۃ مما یذبح (مدارک) زندہ جانور کے اگر گوشت کا کچھ حصہ کاٹ لیاجائے۔ تو وہ بھی مراد ہی کے حکم میں داخل ہوگا۔ حنیفہ کے ہاں مردار سے کسی قسم کا بھی نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔ یہاں تک کہ مردار گوشت کتوں اور شکاری پرندوں کو کھلانا بھی درست نہیں کہ یہ بھی تو اس سے نفع اٹھانا ہی ہوا۔ درآنحالیکہ قرآن میں مردار کی حرمت مطلق صورت میں ہے۔ قال اصحابنا لایجوز الانتفاع بالمیتۃ علی وجہ ولا یطعمھا الکلاب واجوارح لان ذلک ضرب من الانتفاع بھا وقد حرم اللہ المیتۃ تحریما مطلقا معلقا بعینھا (جصاص) لیکن عمل دباغت کے بعد، مردار کی ہڈی، کھال وغیرہ پاک ہوجاتی ہے اور مردار کے حکم میں رہتی ہی نہیں۔ یہ مسئلہ احادیث وآثار سے ثابت ہے، اور حنفیہ اور بعض دوسرے ائمہ فقہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ قال ابوحنیفۃ و اصحابہ والحسن بن صالح وسفیان الثوری وعبداللہ بن الحسن العنبری والاوزاعی والشافعی یجوز بیعہ بعد الدباغ والانتفاع بہ (جصاص) والحجۃ لمن طھرھا وجعلھا زکاۃ ماورد عن النبی ﷺ من الاثار المتواترۃ من الوجوہ المختلفۃ بالفاظ مختلفۃ کلھا یوجب طھار تھا والحکم برکا تھا (جصاص) اور احادیث اس قسم کی وارد ہوئی ہیں : ایما اھاب دبغ فقد طھر (عن ابن عباس ؓ دباغ جلود المیتۃ طھورھا (عن زید بن ثابت) زکاۃ الادیم دباغتہ (عن سلمہ بن المخیق) دو جانور ایسے ہیں جو حدیث صحیح کی رو سے بغیر ذبح بھی جائز ہیں۔ ایک مچھلی دوسرے ٹڈی۔ وقد احلت المیتتان بالحدیث السمک والجراد (مدارک) ھذہ الایۃ فلھا التخصیص بقولہ (علیہ السلام) احلت لنا میتتا الحوت والجراد اخرجہ الدارقطنی (قرطبی) فقیہ مفسرین نے اسی سلسلہ میں اس مسئلہ کو بھی بیان کردیا ہے کہ جن غذاؤں میں ذبیحہ کا سوال نہ پیدا ہو، وہ مجوس اور مشرکوں اور سب غیر کتابیوں کے ہاں کی بھی جائز ہیں۔ وقال ابوعمر ولا باس بالکل طعام عبدۃ الاوثان والمجوس وسائر من لا کتاب لہ من الکفار مالم یکن من ذبائحھم (قرطبی) (آیت) ” والدم “ یعنی خون جاری یا سیال۔ المراد بالدم الجاری (معالم) یعنی السائل (مدارک) اور سورة انعام میں دم مسفوح کی قید خود موجود ہے۔ اور فقہا کا متفقہ فیصلہ ہے کہ دم جو یہاں مطلق صورت میں ہے وہ اسی قید مسفوحیت کے ساتھ حرام ہے۔ وحمل العلماء ھھنا المطلق علی المقید اجماعا (ابن العربی) اس پر فقہاء امت کا اجماع ہے کہ خون جاری حرام بھی ہے اور نجس بھی۔ نہ اس کا کھانا جائز ہے نہ اس سے اور کوئی نفع اٹھانا جائز ہے۔ اتفق العلماء علی ان الدم حرام نجس لا یوکل ولا ینتفع بہ (ابن العربی) حدیث صحیح کی رو سے دو منجمد خون حلال ہیں، ایک جگر، دوسرے تلی، اور ان کی حلت پر فقہائے امت کا اجماع ہے۔ احلت لنادمان الکبد والطحال اخرجہ الدار قطنی (قرطبی) گوعلماء نے یہ بھی کہا ہے کہ جگر وطحال خون کی تعریف میں آتے ہی کب ہیں۔ وہ تو گوشت کی قسم کی چیزیں ہیں، نہ کہ خون کی قسم کی، اور اس تخصیص و استثناء کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ والصحیح انہ لم یخصص وان الکبد والطحال لحم یشھد بذلک العیان الذی لایعارضہ بیان ولا یفتقرالی برھان (ابن العربی) (آیت) ” ولحم الخنزیر “ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ حرمت لحم خنزیر کی آئی ہے لیکن فقہاء امت کا اجماع ہے کہ سؤر کا صرف گوشت ہی نہیں، بلکہ اس کی چربی، ہڈی، کھال، بال سب ہی حرام ہیں، اور لحم کی تصریح تو اس لیے ہے کہ گوشت ہی ہر جانور کے جسم کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے اور جب گوشت کہہ دیا تو اس کے تحت وتاتعیت میں جانور کے دوسرے اجزاء بھی آگئے، یعنی الخنزیر بجمیع اجزاۂ وخص اللحم لانہ المقصود بالکل (مدارک) اتفقت الامۃ علی ان الخنزیر حرام بجمیع اجزاۂ (ابن العربی) بعض مبتدع فرقوں کے اس قول کے جواب میں کہ گوشت کی حرمت سے چربی کی حرمت کہاں لازم آتی ہے۔ فقیہ ابن العربی مالکی کہتے ہیں، کہ یہ اعتراض اہل عجم کی طرف سے ہوا ہے جو یہی نہیں جانتے کہ لفظ لحم میں شحم شامل ہے، البتہ شحم میں لحم شامل نہیں جس طرح ہر حمد شکر ہے، لیکن ہر شکر حمد نہیں۔ وھم اعاجم لا یعلمون انہ من قال لحما فقد قال شحما ومن قال شحما فلم یقل لحما ان کل شحم لحم ولیس کل لحم شحم (ابن العربی) رہی اس کے جسم کی نجاست، تو جمہور فقہاء اس کے بھی قائل ہیں۔ قال الجمھور العلماء انہ نجس (ابن العربی) البتہ امام مالک (رح) کا اصول چونکہ یہ ہے کہ زندگی خود دلیل طہارت ہے، اور ہر زندہ جانور پاک ہے، اس لیے وہ سؤر کی نجاست کے بھی قائل نہیں۔ قال مالک انہ طاھر وکذلک کل حیوان عندہ لان علۃ الطھارۃ عندہھی الحیاۃ (ابن العربی) سؤر کا اور سارا جسم تو ناپاک ہوتا ہی ہے، البتہ اس کے بالوں سے نفع اٹھانے کی گنجائش ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں اس کا جواز مذکور ہے۔ لاخلاف ان جملۃ الخنزیر محرمۃ الا الشعرفانہ یجوز الخرازۃ بہ وقدروی ان رجلا روسول اللہ ﷺ عن الخرازۃ بشعر الخنزیر فقال لا باس بذلک (قرطبی) امام ابوحنیفہ (رح) ومحمد (رح) واوزاعی (رح) سؤر کے بالوں سے انتفاع کے جواز کے قائل ہیں، اور امام شافعی (رح) عدم جواز کے، اور امام ابو یوسف (رح) سے جواز وکراہت دونوں کی روایتیں منقول ہیں۔ وقد اختلف الفقھاء فی جواز الانتفاع بشعر الخنزیر فقال ابوحنیفۃ ومحمد یجوز الانتفاع بہ للحر وقال الشافعی لایجوز الانتفاع بشعر الخنزیر (جصاص) فقہی احکام اور شرعی حرمت سے قطع نظر، خنزیر ہے ہی ایسی نجس چیز کہ خود فطرت سلیم اسے گندہ سمجھتی ہے اور نظافت طبع کو اس کی جانب رغبت کرنے سے کراہت آتی ہے۔ یہاں تک کہ لفظ خنزیر بھی عربی فیلالوجی (لسانیات) کے بعض ماہروں کا خیال ہے کہ قذر الشئی ( ” وہ چیز گندی ہوگئی “ ) سے بنا ہے۔ انگریزی زبان میں بھی جتنے نام اس جانور کے مثلا Hog, Swine, Pig, یا اس جانور کے گوشت کے لیے ہیں۔ مثلا Ham, Pork, Bacon ہیں وہ بھی سب کے سب دلالت ثانوی گندگی وغلاظت پر کرتے ہیں۔ اور اس کے گوشت کے جو طبعی نقصانات ہیں، خصوصا امراض غدودی میں یہ جس طرح معین ہوتا ہے، اس پر تو آج کل کے ڈاکٹر بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں، سؤر کی گندگی اور ناپاکی اتنی روشن وعیاں ہے کہ بعض پرانی قومیں مثلا اہل مصر بھی اسے نجس سمجھتی رہی ہیں، بلکہ خود یہود کے ہاں بھی یہ حرام تھا، آج ” مسیحی “ قومیں جس ذوق وشوق سے یہ گندہ گوشت، تازہ اور خشک دونوں صورتوں میں کھایا کرتی ہیں، اور اس کی چربی سے جو طرح طرح کے کام لیتی رہتی ہیں، بلکہ اس کی نسل کی پرورش کا انتظام جس بڑے پیمانہ پر جابجا کیے ہوئے ہیں، اسے دیکھ کر تو قیاس یہی ہوتا ہے کہ کراہت کیسی، عجب نہیں کہ کچھ فضائل اس جانور کے، مسیحیت میں وارد ہوئے ہوں ! حالانکہ اس کی حرمت اور نجاست دونوں، صراحت کے ساتھ بائبل میں موجود ہیں :۔ ” اور سؤر کہ کھر اس کا دو حصہ ہوتا ہے اور اس کا پاؤں چرا ہے، پر وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لیے ناپاک ہے “ (احبار 1 1:7) اور سؤر بھی کہ اس کے کھر چرے ہوئے ہیں۔ یہ جگالی نہیں کرتا، اور یہی تمہارے لیے ناپاک ہے۔ تم اس کا گوشت نہ کھائیوں، نہ اس کی لاش کو ہاتھ لگائیو۔ “ (استثناء۔ 12:8) (آیت) ” وما اھل بہ لغیر اللہ “۔ اھلال کے اصلی معنی آواز بلند کرنے، پکار کردینے، شہرت دے دینے کے ہیں۔ ھو رفع الصوت عنہ رؤیۃ الھلال ثم ویستعمل لکل صوت (راغب) الا ھلال رفع الصوت (قرطبی) مراد یہ ہے کہ جس جانور کو بہ طریق تعظیم و عبادت یا بہ قصد تقرب کسی مخلوق کے لیے نامزد کردیا جائے، اور نیت کسی مخلوق کی نذرونیاز یا بھینٹ کی کرلی جائے، وہ حرام ہوجاتا ہے، خواہ اس کے ذبح کے وقت بسم اللہ بھی کیوں نہ پڑھ لی جائے۔ شیخ سدو کے نام کے بکرے اور اس قبیل کی تمام چیزیں اسی حکم کے تحت میں آجاتی ہیں۔ ولا خلاف بین المسلمین ان المراد بہ الذبیحۃ اذا اھل بھالغیر اللہ عندالذبح (جصاص) ” در حدیث صحیح وارداست کہ ملعون من ذبح لغیر اللہ۔ یعنی ہر کہ بہ ذبح جانور تقرب غیر خدا نماید ملعون است خواہ دردقت ذبح نام خدا گیرد زیرا کہ چوں شہرت داد کہ ایں جانور برائے فلانے سے ذکر نام خدا وقت ذبح فائدہ نہ کرو، “ (تفسیر فتح العزیز) جس جانور کو غیر اللہ کے نامزد اس نیت سے کیا ہو کہ وہ ہم سے خوش ہوں گے اور ہماری کاروائی کرائیں گے جیسا کہ اکثر عام جاہلوں کی عادت ہوتی ہے کہ اس نیت سے بکرا، مرغا وغیرہ مقرر کردیتے ہیں، وہ حرام ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیا ہو، البتہ اگر اس طرح نامزد کرنے کے بعد اس سے توبہ کرلے پھر حلال ہوجاتا ہے۔ “ (تھانوی (رح)) بعض فقہاء نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی حاکم یا سردار کے آنے پر بہ طور بھینٹ کے ذبح کرے گا، تو بھی وہ حرام ہوجائے گا۔ اگرچہ اس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو۔ ذبح القدوم الامیر ونحوہ کو احد من العظماء یحرم لانہ اھل بہ لغیر اللہ ولو اصلیۃ ذکر اسم اللہ تعالیٰ (درمختار) بلکہ فقہاء نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ کوئی مسلمان اگر جانور کو تقرب غیر اللہ کے قصد سے ذبح کرے گا، تو مرتد ہوجائے گا، اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ سمجھا جائے گا۔ قال العلماء لوان مسلما ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحھا التقرب الی غیر اللہ صار مرتدا وذبیحتہ ذبیحۃ مرتد (کبیر) 616 ۔ یعنی مجبور ہو کر حرام غذا کے استعمال پر۔ اے فمن اضطرا الی شیء من ھذا المحرمات اے احوج الیھا (قرطبی) اضطر اضطرارا۔ ضرورت سے مشتق ہے، اور اس کے باب افتعال سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شدید ضرورت کے وقت ان حرام غذاؤں کو بھی بہ قدرت کفایت کھایا جاسکتا ہے۔ شدید ضرورت کی صورتیں دو ہوسکتی ہیں :۔ ( 1) یہ کہ بھوک کی شدت سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جارہا ہے۔ اور حلال غذا سرے سے دستیاب ہی نہیں ہورہی ہے۔ یا افلاس کی بنا پر اس تک دسترس نہ ہو اور یا پھر کسی مرض کی بنا پر وہ حلال غذا ناقابل استعمال ہو۔ (2) یہ کہ کوئی حاکم اس حرام غذا کے استعمال پر مجبور کررہاہو۔ وھذہ الضرورۃ لھا سببان احدھما الجوع الشدید والثانی اذا اکرھہ علی تناول مکرہ (کبیر) الاضطرار لایخلوان یکون باکراہ من ظالم اور بجوع فی مخمصۃ والذی علیہ الجمھور من الفقھاء والعلماء فی معنی الایۃ ھومن صیرہ العدم والغرث وھو الجوع الی ذلک (قرطبی) 617 ۔ (ان حرام چیزوں کے کھالینے میں) بلکہ اکثر تو ایسے موقع پر نہ کھانا گناہ ہے۔ بل ربما یا ثم بترک التناول (روح) اس لیے کہ حفظ نفس تو اولین فرائض میں سے ہے، اور ایسے موقع پر غذا نہ کھانا خود کشی کے مترادف ہے، جو حرام خوری سے شدید تر ہے۔ ولا خلاف انہ لایجوز لہ قتل نفسہ بالامساک عن الاکل وانہ مامور بالاکل علی وجہ ولوجوب (قرطبی) لوترک الاکل تلف نفسہ وتلک اکبر المعاصی (قرطبی) وقال الطبری لیس الاکل عند الضرورۃ رخصۃ بل ذلک عزیمۃ واجبۃ ولوامتنع من الاکل کان عاصیا (بحر) وقال مسروق بلغنی انہ من اضطرالی المیتۃ فلم یا کل حتی مات دخل النار کانہ اشار الی انہ قاتل نفسہ بترکہ ما اباح اللہ لہ (بحر) (آیت) ” غیرباغ “ یعنی اس کی نیت اور ارادہ نافرمانی اور قانون شکنی کا نہ ہو۔ اور وہ محض طالب لذت نہ ہو، ضرورت واقعی ہو، یہ ہرگز نہ ہو کہ کسی شخص کے دل میں قانون الہی کا احترام ہی ہلکا ہو یا وہ حرام چیزوں سے لذت ہی حاصل کرنا چاہتا ہو۔ (آیت) ” باغ “ کے معنی دوہوسکتے ہیں۔ ایک، دوسرے پر ظلم کرنے والا، دوسرے طالب لذت۔ (آیت) ” ولاعاد “ اور نہ حدود شرعی سے تجاوز کرنے والا۔ یعنی مقدار میں بھی بس محض بہ قدر ضرورت کھائے، یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔ قال الشافعی وابو حنیفۃ و اصحابہ لایاکل المضطر من المیتۃ الا قدر مایمسک رمقہ (کبیر) 618 ۔ (آیت) ” غفور “ ایسا مغفرت والا کہ بعض حالات میں جرائم پر بھی مؤخذہ نہیں کرتا بلکہ انہیں جرائم باقی بھی نہیں رہنے دیتا۔ (آیت) ” رحیم “ ایسا شفقت والا کہ تنگی کے موقعوں پر آسانی بہم پہنچا دیتا ہے۔
Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے معاوضہ میں قلیل قیمت حاصل کرتے ہیں،619 سو ایسے لوگ تو اپنے سینوں میں بس آگ ہی (آگ) بھر تے ہیں،620 ۔ اور اللہ قیامت کے دن ان سے نہ کلام کرے گا،621 اور نہ انہیں پاک کرے گا،622 اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

619 ۔ یہود کی جانب اشارہ ہے جو اپنے ہاں کی اصل آسمانی تعلیمات کو چھپاتے تھے اور اس اخفاوکتمان سے ان کا مقصود کچھ نفع دنیوی حاصل کرنا ہوتا تھا۔ (آیت) ” ثمناقلیلا “ سے یہ مراد نہیں کہ زیادہ قیمت اور بڑے معاوضہ پر دین فروشی جائز ہے۔ مراد اس سے محض دنیوی معاوضہ ہے۔ اور دنیوی معاوضہ نفع آخرت کے مقابلہ میں ہمیشہ قلیل ہی ہوگا۔ 620 ۔ یہود کا جرم اخفائے حق اور کتمان وحی آسمانی ان کی معصیت اکل حرام سے کہیں بڑھا ہوا تھا۔ اس لیے اس جرم کی سزا بھی اس سے سخت تر مذکور ہوئی۔ 621 ۔ (بہ طریق لطف وملاطفت) جو خطاب بہ طریق عتاب ہوگا، وہ ظاہر ہے کہ اس سے مستثنی ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی اپنے بندوں سے گفتگو ان کی انتہائی خوش قسمتی ہوگی۔ اور اس سے محرومی ان کی انتہائی بدنصیبی۔ 622 ۔ (گناہوں سے) برزخ کے بعد حشر میں بھی جو لوگ اپنے ایمان اور دوسری نیکیوں کی بنا پر اپنے کو گناہوں سے دھلا دھلایا اور اپنے کو گرفت سے پاک پائیں گے، وہ بھی گویا بڑے سستے چھوٹ جائیں گے، بڑی اور اصلی مصیبت ان کی ہے، جن میں قیامت کے دن بھی کوئی شائبہ ایمان نہ پایا جائے گا۔
Ayah 2:175

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو خرید لیا ہے ہدایت کے بدلہ میں اور عذاب کو نجات کے بدلہ میں، اور یہ لوگ کیسی جیوٹ رکھتے ہیں دوزخ کے لیے،623 ۔

623 ۔ (کہ اس کے لیے تیار ہوگئے، اور یہاں دنیا میں ایمان وطاعت پر آمادہ نہ ہوئے ! ) ما۔ کلمہ تعجب ہے، کہ اپنی ان حرکتوں کے ہولناک ثمرے اور دہشت ناک نتیجے معلوم ہیں، اور اس پر بھی یہ شوخ چشمی ! مذھب الجمھور منہم الحسن ومجاھدان مامعناہ التعجب (قرطبی) (آیت) ” اشتروا الضللۃ بالھدی۔ اس کا تعلق اسی دنیا سے ہے۔ یعنی ہدایت کے بدلے گمراہی کو لے لیا اسی دنیا میں۔ (آیت) ” والعذاب بالمغفرۃ “ اس کا تعلق عالم آخرت سے ہے۔ یعنی لازمی نتیجہ عدم ایمان کا یہ ہوگا کہ آخرت میں مغفرت کے بجائے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

اور یہ (سزا) اس لئے ہوگی کہ اللہ نے تو کتاب کو (بالکل) ٹھیک ٹھیک اتارا تھا،624 ۔ اور بیشک جو لوگ کتاب کے بارے میں اختلاف ڈال رہے ہیں، وہ (بڑے) دور دراز کے خلاف میں پڑے ہوئے ہیں،625 ۔

624 ۔ (اور ناہنجار بندوں نے اس میں خواہ مخواہ خلط وتلبیس کردیا) (آیت) ” الکتب “ یہاں بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ مراد ہیں تمام کتب آسمانی (آیت) ” بالحق “ یعنی بالکل صحیح یا دلائل و شواہد کے ساتھ۔ اے بالصدق وقیل بالحجۃ (قرطبی) (آیت) ” ذلک “ یہ اشارہ عذاب کی طرف ہے۔ اے ذلک العذاب (بیضاوی) 625 ۔ (اور اس کے نتائج بھگت کر رہیں گے) (آیت) ” اختلفوا فی الکتب “ یعنی خواہ مخواہ اور اپنے اغراض کے لیے اپنی کتاب آسمانی میں جھگڑے نکال کھڑے کیے۔ ورنہ تعلیمات الہی میں کمال وضوح کی بنا پر اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ (آیت) ” فی شقاق بعید “ یعنی بھٹک کر حق وصداقت سے بہت ہی دور جاپڑے ہیں۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ یہ غفلت ان میں اس سے پیدا ہوگئی ہے کہ اللہ کے سچے کلام میں انہوں نے از راہ نفسانیت خواہ مخواہ اختلاف کیا اور اس لیے اور زیادہ بھٹک گئے۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

طاعت یہ نہیں ہے،626 ۔ کہ تم اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلیا کرو،627 ۔ بلکہ طاعت یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ اور قیامت کے دن اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے،628 ۔ اور اس کی محبت میں مال صرف کرے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیروں اور سائلوں پر،629 ۔ اور گردنوں کے آزاد کردینے میں،630 ۔ اور نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے،631 ۔ اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے والے جبکہ وعدہ کرچکے ہوں، اور تنگی میں اور بیماری میں، اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ، 632 ۔ یہی لوگ ہیں جو سچے اترے، اور یہی لوگ تو متقی ہیں،633 ۔

626 ۔ (جیسا کہ گمراہ و مشرک قومیں سمجھ رہی ہیں) قرآن مجید کے متعدد مقامات کی طرح یہ آیت بھی اصلا گمراہ و مشرک قوموں کے رد میں ہے اور اس کا مفہوم پوری طرح جبھی روشن ہوگا، جب ان کے عقائد باطل کو پیش نظر رکھا جائے۔ (آیت) ” البر “ بر کے معنی لغت عربی میں بہت وسیع ہیں، نیکی کے جملہ اقسام پر شامل ہے۔ اردو میں اس کا صحیح مفہوم لفظ طاعت ہی سے ادا ہوسکتا ہے۔ البرالتوسع فی فعل الخیر فمن اللہ تعالیٰ الثواب ومن العبد الطاعۃ (راغب) البرالطاعۃ (تاج) قال بعضھم البر الخیر قال ولا اعلم تفسیرا جمع منہ لانہ یحیط بجمیع ماقالوا (تاج) اہل لغت ہی کو نہیں اہل تفسیر کو بھی (آیت) ” بر “ کے مفہوم کی بھی وسعت مسلم ہے۔ البر اسم جامع للطاعات و اعمال الخیر المقربۃ الی اللہ تعالیٰ (کبیر) اسم عام لجمیع مایوجر علی الانسان (کبیر) اسم جامع لانواع الخیر والطاعات المقربۃ الی اللہ تعالیٰ (روح) البرکل فعل مرضی (بیضاوی) 627 ۔ (حالت نماز میں یا عبادت کے وقت) ظہور اسلام سے قبل دنیا کی بیشمار گمراہیوں میں سے ایک اہم گمراہی سمت پرستی تھی یعنی بےجان دیوتاؤں، دیویوں، مورتیوں، پتھروں، درختوں، پہاڑوں، دریاؤں کے علاوہ خود سمتوں یا جہتوں کی بھی پرستش جاری ہوگئی تھی اور مختلف جاہلی قوموں نے یہ اعتقاد جمالیا تھا کہ فلاں مخصوص سمت، مثلا مشرق، مقدس ہے، اور فلاں متعین جہت مثلا مغرب قابل پرستش ہے۔ قرآن مجید یہاں شرک کی اسی صورت خاص کی تردید کررہا ہے، اور ارشاد کررہا ہے کہ کسی جہت میں کیا تقدس رکھا ہوا ہے، اور کوئی سمت، بہ حیثیت سمت ہرگز قابل تقدیس نہیں۔ طاعت (البر) سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہمارے حضرات مفسرین کو اس آیت میں جو اشکال نظر آیا وہ محض اس لیے کہ ان کی نظر مذاہب غیر کی اس گمراہی پر نہ تھی۔ اسلام نے ظاہر ہے کہ نماز کے لیے کوئی سمت، بہ حیثیت سمت ہرگز متعین نہیں کی ہے، اس نے صرف ایک متعین مکان یعنی خانہ کعبہ کو ایک مرکزی حیثیت دی ہے۔ اور اسے قبلہ توجہ ٹھیرایا ہے خواہ ہو کسی سمت میں پڑجائے۔ چناچہ مشاہدہ ہے کہ کعبہ مصر وطرابلس وحبشہ سے مشرق میں پڑتا ہے۔ ہندوستان، افغانستان اور چین سے مغرب میں، شام و فلسطین و مدینہ سے جنوب میں، اور یمن اور بحرقلزم کے جنوبی ساحلوں سے شمال میں، اور بہت سے مقامات سے ان مختلف سمتوں کے مختلف گوشوں میں۔ (آیت) ” المشرق “ سورج دیوتا دنیائے شرک کا معبود اعظم رہا ہے۔ مشرک قوموں نے اس کی پرستش بڑی کثرت سے کی ہے۔ اور یہ چونکہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ اس لیے عموما جاہلی قوموں نے مشرق کو بھی مقدس سمجھ لیا، اور عبادت کے لیے مشرق رخی اختیار کرلی۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے چند ہی سال بعد جب مسیحیوں میں ایک شخص پولوس نامی آگھسا (جسے ایک دنیا آج سینٹ پال کے نام سے یاد کرتی ہے) اور اس نے مسیحیت کا رخ بجائے تجدید موسویت کے ایک مستقل تثلیثی شرک کی طرف پھیر دیا۔ رومی اس وقت حاکم قوم تھی، اور جیسے آج ہندوستان کے ہر شعبہ زندگی میں انگریزیت اور ” صاحبیت “ کا بول بالا ہے، اس وقت بھی محکوموں کے دلوں میں رومی مشرکوں ہی کے علوم وفنون، تہذیب ومعاشرت، دین و عقائد کا تسلط چھایا ہوا تھا۔ اور رومی مذہب کا ایک جزو آفتاب پرستی بھی تھا۔ پولوسوی مسیحیوں نے جہاں اور بہت سے مشرکانہ مراسم رومیوں سے دھڑادھڑاخذ کرلیے، وہیں اس مشرق پرستی کو بھی ان سے لے لیا، اور عبادت مشرق کی طرف رخ کرکے کرنے لگے۔ چناچہ مسیحیوں کے گرجے آج تک مشرق رویہ چلے آتے ہیں، قرآن مجید نے اس مشرق رخی پر زبردست ضرب لگائی، اور بتادیا کہ یہ سمت وار تقدس تو کسی درجہ میں بھی طاعت یا عبادت نہیں، بلکہ طاعتیں وہ ہیں جن کی تفصیل یہی آیت آگے کررہی ہے۔ (آیت) ” المغرب “ مشرق پرستی سے تو بہرحال کم اور بہت کم، لیکن پھر بھی بہت کچھ عام اور وسیع وبامغرب پرستی کی بھی شرک کی دنیا میں رہ چکی ہے۔ آفتاب کے طلوع و غروب پر قیاس کرکے مشرک ذہنیت نے یہ نتیجہ نکالا کہ مصدر حیات جس طرح سمت مشرق ہے، اسی طرح مستقر موت واجل سمت مغرب ہے اور یہ بھی مستحق تعظیم و تقدیس ہے۔ نیز ملاحظہ ہوں حواشی نمبر 45 1، 453 ۔ پ 1 (آیت) ” المشرق والمغرب “ یہ دو نام صراحت کے ساتھ صرف مثال کے طور پر لے لیے گئے۔ مقصود تمام سمتوں کی تعمیم ہے، انہی دوسمتوں کی تحدید یا تخصیص نہیں۔ والمراد من ذکر المشرق والمغرب التعمیم لاتعیین المستین (روح) 628 ۔ مشرکانہ ذہنیت کی تردید کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ اصلی طاعت یہ ہے جس کا بیان اب ہورہا ہے، آیت کے اس جزو میں عقائد کی تصحیح آ الفراء والزجاج وقطرب (کبیر) (آیت) ” امن باللہ “۔ اس میں دہریت والحاد کی جلی وخفی ہر صورت کی تردید آگئی۔ ایمان وطاعت میں داخلہ کا یہی دروزاہ ہے، کوئی ایسانظام یا مسلک (خواہ اس کی بنیادیں نقلی ہوں یا اخلاقی یا معاشی یا سیاسی) جس میں اللہ کی آیات وصفات پر ایمان کامل داخل نہ ہو، طاعت سے کوئی علاقہ بھی نہیں رکھتا۔ مادیت وعقلیت (ریشنلزم) لاادریت (ایگناسٹی سزم) بالشویت وغیرہ سب اسی حکم کے تحت میں آجاتی ہیں۔ اور بودھ مذہب اور جین مت بھی، اگر ان کی بابت یہ بیان صحیح ہے کہ ان میں توحید باری موجود نہیں۔ (آیت) ” والیوم الاخر “ اس میں تردید ان تمام گمراہ قوموں کی آگئی جو وجود باری کی تو قائل تھیں، لیکن اس عقیدہ سے خالی ہیں کہ ایک عالم آخرت بھی ہے، جہاں ایک روز، جزائے اعمال کا سامنا کرنا اور زندگی کے ایک ایک معاملہ کا حساب دینا ہے۔ اور تو اور یہود نے اپنی زبردست توحید کے باوجود، عالم آخرت سے اپنا تعلق نہایت درجہ ضعیف کر رکھا تھا۔ جزاوسزا اسی دنیا میں سمجھنا خواہ قومی واجتماعی عروج وزوال سے، خواہ بہ قاعدۂ تناسخ مختلف قالبوں میں روح کے الٹ پھیر سے، یہ سب انکار آخرت ہی کی شکلیں ہیں۔ (آیت) ” والملئکۃ “ فرشتوں پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ ان نورانی اور مجرد مخلوقات کا وجود اللہ کے بندوں اور کارساز مطلق کے قاصدوں، خادموں اور کارندوں کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے، نہ یہ کہ خود انہی کو مستقل قوتوں کی طرح فاعل، عامل، متصرف مان کر ان سے دعائیں مانگی جائیں، اور انہی کو ایک چھوٹے پیمانہ پر حاجت روا قرار دے لیاجائے، اس ایمان بالملائکہ سے یونان، رومہ، ہندوستان، ایران کی ان تمام مشرک قوموں کی تردید ہوگئی، جنہوں نے فرشتوں ہی کے تخیل کو مسخ کرکے کائنات کے مختلف شعبوں کے لیے دیویاں اور دیوتے تجویز کرلیے ہیں (آیت) ” والکتب “ کتاب یہاں بہ طور اسم جنس آیا ہے اس کا اطلاق صحیفہ آسمانی کے نفس تخیل پر ہوگا، کتاب آسمانی کا عقیدہ بھی ایک تمامتر اسلامی عقیدہ ہے۔ مشرک قومیں تو خیر اس تخیل ہی سے ناآشنا ہیں، کہ اللہ کے ہاں سے کوئی کتاب کسی بندہ پر نازل ہوتی ہے۔ ” اہل کتاب “ تک اب اسلامی اصطلاح کے مطابق کسی ” کتاب الہی “ کے قائل نہیں۔ ان کے ہاں ” کتاب “ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ خدا نے ہدایت کے لیے بعض اشخاص کو چن لیا، اور ان کے قلوب میں کچھ مضامین بہ طور الہام القاء کردیئے۔ اور ایسا الہام ہر عارف کو ہوسکتا ہے، نبوت اس کی کوئی لازمی شرط نہیں۔ پھر بعد کو ان بزرگوں اور عارفوں نے انہی مضامین ومعافی کو اپنے لفظ وعبارت میں مرتب کرکے اپنے شاگردوں اور مریدوں کوسنادیا، پھر ان سامعین نے انہیں اپنے طور پر لکھ لکھا لیا۔ (بجزتوریت کی ابتدائی پانچ سورتوں کے کہ وہ یہودی عقیدہ کے مطابق خود حضرت موسیٰ کی نوشتہ ہیں) ۔ گویا ان الہامی کتابوں کی حیثیت کل وہ ہے جو ہمارے ہاں بزرگوں کے جمع کیے ہوئے ملفوظات کی ہوتی ہے۔ اور کہاں مسلمانون کا یہ عقیدہ کہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف تک وحی شدہ ہے، جس میں خلط اور خطا کا امکان ہی نہیں اور مسیحی تو جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کی رسالت ونبوت ہی کے سرے سے قائل نہیں بلکہ ان کی الوہیت کے مدعی ہیں تو حضرت محمد ﷺ کا صاحب کتاب رسول ہونا ان کے ہاں کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔۔ کوئی آپ اپنے اوپر بھی بھلا کتاب نازل کیا کرتا ہے ؟ (آیت) ” والنبین “ یعنی عقیدہ یہ ہو کہ اللہ انسانوں کو پیغمبر بنا کر بھیجتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ خود حق تعالیٰ مجسم ہو کر اس دنیا میں آجاتا ہے۔ یا کسی قالب میں حلول کر آتا ہے۔ اسی عقیدہ میں صاف تردید ہوگئی اوتار پرستی کی، مظہر پرستی کی، حلول کی، تجسم باری تعالیٰ کی ،” اوتار “ ٹھیک ضد اور مقابل ہے ” پیغمبر “ کے اوتار کا مفہوم یہ ہے کہ خالق کائنات خود کوئی مادی پیکر اختیار کرکے دنیا میں آجاتا ہے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ وہ قالب انسان ہی کا ہو، شیوجی یا بشن جی جس طرح رام چندر جی بن کر یاسری کرشن بن کر آسکتے ہیں، اسی طرح سانپ بن کر، شیر، بن کر یا مچھلی یا کچھوے کا قالب اختیار کرکے بھی آسکتے ہیں۔ غرض یہ کہ اوتار، معنی و حقیقت کے اعتبار سے خدا ہوتا ہے اور صورت اور ظاہر کے اعتبار سے انسان یا جانور، پیغمبر اس کے برعکس صرف بشر ہوتا ہے۔ اور ہمیشہ بشر ہی، نہ کبھی فوق البشر، نہ کبھی تحت البشر اور بجز اس کے کہ صاحب وحی ہوتا ہے (اور اس لیے اخلاق کی پاکیزگی میں بےنظیر، اور جرم وعصیان سے پاک) اور کسی حیثیت سے شکل و صورت میں، چلنے پھرنے میں، بولنے چالنے میں، بھوک پیاس میں، غم ومسرت میں، صفات بشری سے ممتاز نہیں ہوتا، آیت کے اتنے جزو میں قرآن مجید نے اپنی معجزانہ بلاغت و ایجاز سے تمام اعتقادی گمراہیوں کی جڑ کاٹ دی، اور سارے مذاہب باطلہ کی تردید کردی، اعتقادی گمراہی جب کبھی بھی انسانوں کو گھیرلے گی، ہمیشہ ایمان باللہ، ایمان بالآخرت، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب، اور ایمان بالانبیاء ہی کی کسی نہ کسی غلطی یا غلط فہمی کی راہ سے آئے گی ، 629 ۔ عقائد کی تصیح ہوچکی تو اب اعمال کی تصحیح شروع ہوئی اور اعمال میں بھی ابتداء شعبہ معاملات سے ہوئی، آیت کے اسی جزو میں اس کا بیان ہے (آیت) ” علی حبہ “ اس کی محبت میں۔ ضمیر اللہ کی طرف ہے۔ اس کی محبت سے مراد اللہ تعالیٰ کی محبت۔ یعنی یعطون المال علی حب اللہ اے علی طلب مرضاتہ (کبیر) قیل علی حب اللہ (کشاف) قیل الضمیر للہ تعالیٰ (بیضاوی) گویا یہ بتادیا کہ صرف مال فی نفسہ ہرگز محمود ومطلوب نہیں، مطلوب ومقصود صرف وہ صرف مال ہے، جو اللہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے اللہ کے دین کے فروع کے لیے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ صرف مال، مال کی محبت کے باوجود ہو۔ یعنی ضمیر غائب کا مرجع بجائے اللہ کے، لفظ قریب مال کو قرار دیا گیا ہے۔ وھو قول الاکثرین انہ راجع الی المال (کبیر) اے مع حب المال والشح بہ کماقال ابن مسعود ؓ (کشاف) اس میں بھی ایک بختہ مومن کی تصویر آگئی ہے۔ مال وزر کی محبت اور قدر اس کے دل میں ہے، خواہشیں اس کی زندہ ہیں، اپنی ذات پر، اپنے محبوبات ومرغوبات پر وہ خرچ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امر الہی کے آگے اپنی گردن جھکا دیتا ہے۔ اپنی خواہشوں کو دبا دیتا ہے۔ اپنے شوق کو حکم خداوندی پر قربان کردیتا ہے۔ وہ عمل اسی پر کرے گا، جو حکم ربانی ہے۔ اور خرچ وہیں کرے گا، جہاں شریعت حکم دیتی ہے۔ (آیت) ” ذوی القربی “ الخ۔ مصارف خیر کی اسلام نے یہ کتنی مناسب اور حکیمانہ ترتیب قرار دے دی ہے۔ آیت کے اس جزو میں امت کا پورا نظام معاشی ایک خلاصہ کی شکل میں آگیا ہے۔ مالی اعانت سب سے پہلے اپنے عزیزوں قریبوں کی کرنا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ بھائی کی کوٹھیاں تیار ہورہی ہیں، اور بہن جھونپڑے کو ترس رہی ہو، چچا کے پاس موٹریں ہوں، اور بھتیجے کو تانگہ کے پیسے بھی میسر نہ ہوں، ہر زردار کو سب سے پہلے خبر گیری اپنے نادار عزیزوں، کنبہ والوں، بھائیوں، بہنوں، بھتیجوں، بھانجوں اور دوسرے قریبیوں کی کرنا چاہیے۔ اس کے بعد نمبر محلہ کے بستی کے، شہر کے یتیم بچوں، بچیوں کا آتا ہے، جن کا کوئی والی، وارث، سرپرست باقی نہیں رہا ہے، اس کے بعد درجہ بدرجہ نمبر امت کے عام مفلسوں، محتاجوں اور پھر ان مسافروں، راہ گیروں کا آتا ہے جو زادراہ سے محروم ہیں۔ اور اس لیے اپنے ضروری سفروں سے محروم رہے جاتے ہیں۔ یا بستی میں کہیں باہر سے وارد ہوگئے ہیں، اور کوئی ان کے ٹھیرانے، کھلانے پلانے کا روادار نہیں ہورہا ہے۔ اور پھر آخر میں اہل حاجت سوالی رہ جاتے ہیں۔ اس پورے معاشی پروگرام پر اگر قاعدہ سے عمل ہونے لگے تو امت میں کہیں مفلسی، تنگدستی، بےمعاشی، بےروز گاری کا وجود باقی رہ سکتا ہے ؟ 630 ۔ (قیدیوں اور غلاموں کی) (آیت) ” فی الرقاب “ رقاب، رقبۃ کی جمع ہے۔ لفظی معنی گردن کے ہیں، محاورہ میں اس سے مراد وہ ہوتے ہیں، جن کی گردنیں آزاد نہیں، یا جو بندھے ہوئے ہیں، یعنی غلام جو دوسروں کی رعایا ہیں۔ یا قیدی، جو کسی جرم فوجداری یا دیوانی کی علت میں گرفتار ہو کر محبوس ہیں۔ الرقبۃ جعل فی التعارف اسما للمما لیک کما عبربا لرأس وابالظھر من المرکوب (راغب) والرقبۃ مجاز عن الشخص (روح) تقدیر کلام یوں ہے، فی تخلیص الرقاب، یا فی فکاک الرقاب، گویا مضاف محذوف ہے، اور یہ ترکیب قرآن مجید میں عام ہے، مراد وہی زر معاوضہ دے کر قیدیوں کو قید سے اور غلاموں کو غلامی سے آزادی دلانا ہے، یعنی المکاتبین قالہ اکثر المفسرین (معالم) وقیل فداء الاساری (معالم) وھم المکاتبون (ابن کثیر) اے فی تخلیصھا بمعاونۃ المکاتبین اوفک الاساری (بیضاوی) اے فی تخلیصھا الرقاب وفکاکھا (روح) مصارف خیرواعانت کی ایک ضروری مدرہی جاتی تھی، قرآن مجید نے آخر میں اس کا بھی اضافہ کردیا، اور اب یہ فہرست امت کے اجتماعی نقطہ نظر سے ہر طرح مکمل ہوگئی۔ 631 ۔ تصحیح عقائد کی ہوچکی تصحیح معاملات کی ہوچکی۔ اب نمبر عبادات کا آتا ہے۔ عبادات بیشمار ہیں، بنیادی اور بڑی تقسیم عبادت بدنی اور عبادت مالی کی ہے۔ یہاں الصلوۃ والزکوۃ لا کر دونوں کی جنس کی طرف اشارہ کردیا، نماز ساری بدنی عبادتوں کی قائم مقام ہوگئی۔ زکوٰۃ ساری مالی عبادتوں کی۔ (آیت) ” اقام الصلوۃ “ یعنی نمازیں وقت مقرر پر، شرائط وقواعد معلوم کے ساتھ ادا کرتے رہتے ہیں، (آیت) ” اتی الزکوۃ “۔ یعنی زکوٰۃ، حسب آداب و شرائط شریعت باقاعدہ ادا کرتے رہتے ہیں ، 632 ۔ عقائد ہوچکے، معاملات ہوچکے، عبادتیں ہوچکیں، اب ذکر اخلاق کا شروع ہوا، (آیت) ” الموفون بعھدھم “ فقرہ ہر قسم کے معاہدات کا جامع ہے۔ خواہ وہ معاہدہ بندہ کا اپنے خالق کے ساتھ ہو، یا معاہدہ بندوں کا بندوں کے درمیان ہو، مومن جھوٹا وعدہ کرنا یا جھوٹا عہد لینا جانتا ہی نہیں، اے فی مابینہم وبین اللہ تعالیٰ وفی مابینہم وبین الناس (قرطبی) (آیت) ” الباسآء “ مصیبت اور تنگدستی میں۔ باسآء کا اصل تعلق مالی پریشانیوں سے ہے۔ اے الشدۃ والفقر (قرطبی) (آیت) ” الباسآء “ فی الاموال کالفقر (بیضاوی عن الازہری) (آیت) ” الضرآء “ بیماری کی تکلیفوں میں۔ ضرآء کا اصل تعلق جسمانی آزار سے ہے۔ اے المرض والزمانۃ (قرطبی) الضرآء فی الانفس کالمرض (بیضاوی۔ عن الازہری) (آیت) ” حین الباس “۔ یعنی جنگ کے وقت دشمنان دین کے مقابلہ میں۔ اے وقت مجاھدۃ العدو (بیضاوی) اے وقت الحرب (قرطبی) ثبات وصبر کے ظاہر کرنے اور جوہر سیرت و مردانگی کی چمک دکھانے کے یہی تین خاص مواقع ایک مومن کے لیے ہوتے ہیں۔ 633 ۔ یعنی کمالات حقیقی کے ساتھ موصوف، اور طاعت وپرہیزگاری (بروتقوی) میں پورے اترنے والوں کی علامتیں یہی ہیں جو اوپر بیان ہوچکیں۔ اس معیار سے جس کو چاہو، جانچ لو، پرکھ لو، اے صدقوا فی الدین واتباع الحق وطلب البر (بیضاوی) قرآن مجید کی ہر آیت بجائے خود معظم، محترم وواجب العمل ہے۔ لیکن اس آیت کے باب میں تو حدیث نبوی ﷺ میں یہاں تک صراحت موجود ہے، کہ من عمل بھذہ الایۃ فقد استکمل الایمان (جس نے اس آیت پر عمل کرلیا، اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا) اور محققین کا قول نقل ہوا ہے، کہ یہ آیت اہم ترین آیتوں میں سے ہے اور اس کے اندر دین و شریعت کے سولہ احکام آگئے ہیں۔ قال علماؤنا ھذہ عظیمۃ من امھات الاحکام لانھا تضمنت ست عشرۃ قاعدۃ الایمان باللہ وباسمہ وصفاتہ والنشر والحشر والمیزان والحوض والشفاعۃ والجنۃ والنار والملئکۃ والکتب المنزلہ وانھا حق میں عند اللہ والنبیین وانفاق المال فی مایعن من الواجب والمندوب وایصال القرابۃ وترک قطعھم وتفقد الیتیم وعدم اھمالہ والمساکین کذلک ومراعاۃ ابن السبیل والسوال وفک الرقاب (قرطبی) اور بعض صوفیوں نے آیت کے اجراء کی جامعیت پر نظر کرکے کہا کہ آیت اصل و مدار ہے شریعت وطریقت کی۔ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن کے لیے کافی نہ صرف باطنی اعتقاد ہے اور نہ صرف ظاہری، بلکہ دل میں ایمان ہونا بھی لازمی ہے اور ظاہر میں احکام کی اطاعت بھی، اور خیر یہ باتیں تو سب اپنوں کی تھیں۔ فرنگیوں میں سے ایک ذات شریف پادری وہیری (Wherry) نامی ہوئے ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کے بڑے ” عنایت فرما “۔ سن سفید ڈاڑھی کے بال اسلام کی عداوت ہی میں سفید کیے۔ سیل (Sale) کے انگریزی ترجمہ قرآن پر تفسیر کا اضافہ انہی کے قلم سے ہے۔ ؛ اس آیت پر پہنچ کر قدرت ان کے قلم سے یوں لکھواتی ہے :۔” یہ (آیت) قرآن کی بلند ترین آیتوں میں سے ہے۔۔ ذات باری پر ایمان، اور نوع انسانی کے ساتھ حسن سلوک، اس کو اس میں واضح طور پر مذہب کا جوہر اصلی بتایا گیا ہے۔ اس میں لب لباب عقائد اور اعمال کا آگیا “۔ خیریہی بہت غنیمت ہے کہ پادری صاحب کو کچھ تو آیتیں قرآن مجید میں ” بلند “ نظر آگئیں۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو، تم پر مقتولوں کے باب میں قصاص فرض کردیا گیا ہے،634 ۔ آزاد کے بدلہ میں آزاد، اور غلام کے بدلہ میں غلام، اور عورت کے بدلہ میں عورت،635 ۔ ہاں جس کسی کو اس کے فریق مقابل کی طرف سے کچھ معافی حاصل ہوجائے،636 ۔ سو مطالبہ معقول (اور نرم) طریق پر کرنا چاہیے،637 ۔ اور مطالبہ کو اس (فریق) کے پاس خوبی سے پہنچا دینا چاہیے،638 ۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے،639 ۔ سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا اس کے لیے (آخرت میں) عذاب درد ناک ہے،640 ۔

634 ۔ (اس حال میں کہ جب تم اپنی حکومت رکھتے ہو، اور سزاؤں کے نفاذ پر باقاعدہ قدرت رکھتے ہو) اسلام اپنے پیرو وں سے توقع دینوی سربلندی ہی کی رکھتا ہے، اور اسے بہ طور ایک مسلمہ کے فرض کیے رہتا ہے کہ امت دنیوی اقتدار کی بھی مالک ہوگی۔ مسلمانوں کا صدیوں تک مسلسل کافروں کے تسلط واقتدار میں رہنا اسلام کے مفروضات اولین میں گویا داخل ہی نہیں۔ قانون فوجداری اور قانون دیوانی دونوں کی اکثر دفعات کا نفاذ نظام حکومت کے اسلامی ہونے پر معلق ہے یعنی امت کو ان قوانین الہی کی تنفیذ کی باقاعدہ قدرت بھی تو ہو۔ لاخلاف ان القصاص فی القتل لایقیمہ الا اولوالامر فرض علیھم النھوض بالقصاص واقامۃ الحدود وغیر ذلک (قرطبی) اتفق ائمۃ الفتوی علی انہ لایجوز لاحد ان یقتص من احد حقہ دون السلطان ولیس للناس ان یقتص بعضھم من بعض (قرطبی) قصاص۔ یہ انتقام محض کا مرادف نہیں کہ ہر فرد دوسرے فرد سے از خود لینا شروع کردے، بلکہ قانون فوجداری کے ماتحت سزا کی منظم، مہذب ومنضبط ترین شکل کا نام ہے۔ امت کا ایک قانونی واجتماعی حق ہے۔ اس کے اجراء کی ذمہ داری حکومت یا اہل حل وعقد پر عائد ہوتی ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ میں مومنین سے خطاب اجتماعی حیثیت سے ہے، انفرادی حیثیت سے نہیں۔ قتلی۔ قتل عمد کی سزا دنیا کے ہر قانون میں عموما قتل ہی ہے۔ البتہ خود قتل عمد کی تعریف میں بہت کچھ اختلافات ہیں۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں قتل عمد وہ ہے کہ کوئی کسی کو ارادہ کرکے کسی آہنی سلاخ سے یا کسی اور حربہ سے جس سے گوشت پوست کٹ کر خون بہ سکے، قتل کرے۔ اما العمد فما تعمد ضربہ بسلاح اوما یجری مجری السلاح فی تفریق الاجزاء (کافی) السلاح مایکون الۃ قاتلۃ اعدت للقتال (نہایہ) اور فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ قصاص یعنی سزائے قتل اسی قتل کے ساتھ خاص ہے۔ 635 ۔ مراد یہ ہے کہ قصاص میں مساوات ملحوظ رہے گی، اور خون خون سب کا برابر سمجھا جائے گا۔ یہ نہیں کہ اونچے شخص کی جان کی قیمت معمولی شخص کی جان سے زیادہ سمجھی جائے۔ عرب جاہلی میں ایک دستور یہ پڑگیا تھا کہ آزادوں میں سے کوئی اگر کسی غلام کو مار ڈالتا، تو قصاص میں جان اس آزاد کی لینے کے بجائے کسی غلام کی لی جاتی۔ دنیا کی تاریخ دوسرے ملکوں میں بھی ایسی مثالوں سے خالی نہیں، اور امریکہ میں تو آج تک ایک گورے (White) کا خون ایک کالے (Negro) کے خون سے کہیں زیادہ قیمت رکھتا ہے۔ اور فرنگی حکومتیں اپنے ایک ایک مقتول کے عوض، قاتل قوم کے کئی کئی شخصوں کی جانیں بےتکلف لیتی رہتی ہیں۔ یہاں پہونچ کرداد ان فقہاء ومفسرین کی نکتہ سنجی کی دنیا پڑتی ہے جنہوں نے آیت کی تفسیر میں صاف لکھ دیا ہے۔ ؛ اے السماواۃ بینہم لاالزیادۃ۔ اسلام نے ان ظالمانہ دستوروں کو مٹایا، اور اعلان کردیا کہ زندگی ہر مومن کی، امت کے ہر فرد کی، یکساں قابل احترام ہے۔ اور مرد ہو، عورت ہو، آزاد ہو، غلام ہو، کوئی ہو، جس کا جو قاتل ہوگا، وہی سزا پائے گا، القصاص عبارۃ عن المساواۃ، والمعنی فرض علیکم اعتبار المماثلۃ والمساواۃ من القتلی (مدارک) فقہ حنفی کے دو مسئلے اس سلسلہ میں قابل خیال رکھنے کے ہیں :۔ ( 1) مقتول اگر کافر ہے لیکن ذمی تو اس کا بھی قصاص قاتل ہی سے لیا جائے گا، اگرچہ وہ مسلم ہو، ہاں کافر حربی چونکہ کھلا ہوا باغی اور دشمن ہوتا ہے، اسلامی ” اسٹیٹ “ کا بھی اور اسی لیے تو اسے حربی کہا ہی جاتا ہے، سو اس کے قتل میں ظاہر ہے کہ قصاص نہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ قتل عمد میں آزاد کے عوض میں تو آزاد قتل کیا ہی جائے گا، غلام کے عوض میں بھی آزاد قتل کیا جائے گا اگر وہ قاتل ہے اور عورت کے عوض میں عورت تو ماری جائے گی، لیکن مرد بھی قتل کیا جائے گا، اگر وہ قاتل ہے۔ آیت میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جس سے معتزلہ کا رد نکل آیا۔ معتزلہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو خارج از ایمان سمجھتے ہیں حالانکہ آیت میں الکبرالکبائر یعنی قتل مسلم کا بیان ہے اور قاتل کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا ہے، مسلمان ہی شمار کیا ہے۔ شریعت موسوی کی جو تصریحات اس باب میں درج ہیں وہ قابل ملاحظہ ہیں :۔ ” اور وہ جو انسان کو مارڈالے گا وہ مار ڈالا جائے گا “۔ (احبار 24: 17) ” اور جو انسان کو مار ڈالے۔ ، جان سے مارا جائے ، “ (احبار۔ 24:2 1) ” توڑنے کے بدلہ توڑنا۔ آنکھ کے بدلہ آنکھ، دانت کے بدلہ دانت، جیسا کوئی کسی کا نقصان کرے، اس سے ویسا ہی کیا جائے “۔ (احبار۔ 24:20) ۔ 636 ۔ (آیت) ” فمن عفی لہ “ ظاہر ہے کہ اس سے مراد قاتل یا قاتلین ہی ہوسکتے ہیں۔ یراد بھا القاتل ھذا قول ابن عباس وقتادۃ و مجاھد وجماعۃ من العلماء (قرطبی) من ھو قاتل معفولہ (مدارک) (آیت) ” من اخیہ “ یعنی مقتول کے فریق کی طرف سے۔ مدعی یا مستغیث کی طرف سے۔ لفظ اخیہ کی بلاغت ومعنویت اس سیاق میں سردھننے کے قابل ہے، شدید ہیجان جذبات انتقام واشتعال پزیری کا موقع قتل سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے۔ اس انتہائی موقع پر بھی یہ لفظ لا کر بتادیا کہ قاتل باوجود اتنے سنگین جرم کے کافر نہیں ہوجاتا۔ اخوت اسلامی کے دائرہ سے خارج نہیں ہوجاتا۔ مقتول کا ولی ووارث، قاتل کا دینی بھائی اس وقت بھی رہتا ہے۔ والمراد بالاخ ولی الدم (روح) سماہ اخا استعطافا بتذکیر اخوۃ البشریۃ والدین (روح) یعنی ولی الدم وذکرہ لفظ الاخوۃ الشابتۃ بینھما من الجنسیۃ والاسلام لیرق لہ ویعطف علیہ (بیضاوی) والاخ ولی المقتول وذکر بلفظ الاخوۃ بعثالہ علی العطف لما بینھما من الجنسیۃ والاسلام (مدارک) (آیت) ” شیء “ لفظ اہم ہے یعنی سزائے واجب کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے، نہ ہو کہ تمامتر معاف کردیا جائے، مطلب یہ ہوا کہ مقتول کے عزیز اور وارث اگر قاتل کو سزائے قتل نہ دینا چاہیں، بلکہ اسے ہلکی کوئی سزا دے کر، یا خون بہا کی پوری رقم میں سے کچھ حصہ اسے معاف کرکے اسے چھوڑ دینے پر آمادہ ہوں، رومیوں کی مشرک قوم میں قتل تمامتر ایک جرم قانون فوجداری کا تھا۔ قانون دیوانی سے اسے کوئی علاقہ ہی نہ تھا۔ موجودہ فرنگی قانون چونکہ تمامتر رومیوں ہی کے قانون (رومن لا) پر مبنی ہے۔ اس لیے اس میں بھی قتل محض ایک فوجداری کا جرم ہے۔ شریعت اسلامی کی نظر فطرت بشری کی گہرائیوں اور مصالح اجتماعی کی باریکیوں پر اس سے کہیں زائد ہے۔ اس نے اپنے اصول قانون میں یہ بات رکھی کہ قتل جس طرح فوجداری کا جرم ہے، دیوانی کا بھی ہے ؛۔ اس جرم سے محض (اسٹیٹ) حکومت، اور (سوسائٹی) ہیئت اجتماعیہ ہی کے ایک قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، بلکہ یہ فرد پر بھی اس کی شخصی حیثیت میں ایک حملہ ہے گویا یہ جرم ایک پبلک حیثیت رکھتا ہے اور ایک پرائیویٹ۔ اور جب اس کی یہ دو گونہ حیثیت ہے تو مقتول کے وارثوں یا خون کے مدعیوں کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ چاہیں تو مجرم کو پوری سزا اسٹیٹ (حکومت) سے دلائیں، اور چاہیں تو خود مالی معاوضہ لے کر انتہائی سزا سے دستبردار ہوجائیں، اسی مالی معاوضہ کو اصطلاح شریعت میں دیۃ یا خون بہا کہتے ہیں۔ اور اس میں گھٹ بڑھ برابر ہوسکتی ہے (دیت کا ذکر خود قرآن مجید میں آگے آرہا ہے) آج بھی انٹرنیشنل (بین الاقوامی) قانون میں یہ بالکل جائز ہے کہ جب ایک (اسٹیٹ) ملک کی رعایا کا خون دوسرے ملک (اسٹیٹ) کے باشندوں کے ہاتھوں ہوجائے، اور غیر ملک میں فوجداری کا مقدمہ چلانے میں دقتیں اور دشواریاں محسوس ہوں، تو بجائے فوجداری استغاثہ اور اس کی پیروی کے صرف ” ہر جانہ “ (Damages) کی رقم پر کفایت کرلی جائے، یہ ” ہر جانہ “ اسی خونبہا کے لیے ایک خوشنما اور جدید اصطلاح ہے۔ 637 ۔ (اور خواہ مخواہ چھیڑ چھاڑ شروفساد کا موقع نہ نکالنا چاہیے) یعنی مقتول کا فریق، کہ وہی اب مدعی یا مستغیث ہوگا۔ خونبہا کی مطلوبہ رقم کا مطالبہ معقولیت، آدمیت سے کرے، خواہ مخواہ ضد اور اشتعال سے فریق مقابل کو تنگ نہ کرے، اور اس کے جوش کو نہ بڑھائے کہ اس سے فساد کو مزید تحریک ہوگی۔ عین حدت واشتعال طبع کے نازک موقعوں پر یہ رکھ رکھاؤ۔ اتنی احتیاط اور حسن معاشرت کو سنبھالے رکھنے کا اہتمام شریعت اسلامی کا مخصوص حصہ ہے۔ 638 ۔ اب یہ تاکید قاتل یا اس کے فریق کو ہورہی ہے۔ ان ملزموں یا مدعا علیہم کو بھی اپنی طرف سے بھی چاہیے کہ جتنی رقم کی قرار داد ہوچکی ہو، اسے بغیر مزید طوالت یا پیچیدگی وبدمزگی کے، فریق مقتول یعنی مدعیوں یا مستغیثوں تک خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے پہنچا دیں۔ (آیت) ” الیہ “ میں ضمیر فریق مقتول کی جانب ہے۔ والضمیر فی الیہ الاخ (مدارک) فطرت بشری کی ان نزاکتوں کا لحاظ، اور قاتل ومقتول ہر ممکن فریق کے مصالح وجذبات کی رعایت کون انسانی قانون رکھ سکتا ہے ؟ قانون ساز انسان تو ایک محض خشک انسان ہوتا ہے۔ اتنے متعدد اور باریک پہلوؤں کی رعایت تو صرف خدائی قانون ہی کی شان ہوسکتی ہے۔ 639 ۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی حکم جو اوپر (آیت) ” فمن عفی لہ “ کے اندر مذکور ہوچکا۔ یعنی الحکم المذکور من العفو واخذ الدیۃ (مدارک) ایک طرف قصاص کی بظاہر سختی، دوسری طرف دیت اور عفو کی نرمی، یہ حسن امتزاج اور اعتدال و توازن کا یہ مکمل قوام اسی قانون کا حصہ ہوسکتا ہے جو بشری دماغ سے نہیں۔ حکمت مطلق سے نکلا ہو۔ 640 ۔ (آخرت میں) اعتداد۔ یعنی زیادتی کی صورتیں بہت سی ہوسکتی ہیں، مثلا ایک یہی کہ کسی بےگناہ پر قتل کا جھوٹا دعوی کردیا۔ یا یہ کہ قاتل کو پہلے تو معاف کردیا، اور پھر معافی کے بعد پورے قصاص کے درپے ہوگئے، وقس علی ھذا، ایسے بیدردوں اور خداناترسوں کو صرف خوف آخرت ہی بیجا جسارتوں سے روک سکتا ہے۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اے اہل فہم (قانون) قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ،641 ۔

641 ۔ قانون قصاص عین عدل و مساوات کا قانون ہے اور ہیئت اجتماعی کے نظم و قیام راستی کا بہترین ضامن وکفیل، کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرنے پائے اور قوی و ضعیف سب کے حقوق کا تحفظ ہوجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو زبردست ہوں وہ زیردستوں پر ستم ڈھاڈھا کر رہیں۔ امت کے مختلف طبقوں میں ایک دوسرے کی طرف سے اطمینان ودلجمعی پیدا کرنے والا درحقیقت یہی قانون ہے، اور جب اس قانون پر عملدر آمد ایک عرصہ تک رہے گا، اس قانون کی روح امت میں سرایت کرجائے گی تو ساری قوم کا مزاج صالح ہوجائے گا، اور آئین پسندی، باہم صلح و سازگاری، خدمت ومعاونت جزو زندگی بن جائے گی، اور امت دیکھتے ہی دیکھتے امت صالحین و ابرار، امت عادلہ کہلانے کی مصداق بن جائے گی ،
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی معلوم ہو، بشرطیکہ کچھ مال بھی چھوڑ رہا ہو، تو وہ والدین اور عزیزوں کے حق میں معقول طریقہ سے وصیت کرجائے یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر،642 ۔

642 ۔ یہ حکم وصیت، آیت میراث کے نزول سے (جس میں حقداروں کے حصے معین کرکے بتادیئے گئے ہیں) بہت قبل کا ہے۔ نزلت قبل نزول الفرائض والمواریث (قرطبی) اس لیے قدرۃ اب اس پر عملدر آمد اس آیت متاخر ومابعد ہی کے ماتحت ہوگا، اور اسی کو مفسرین اپنی اصطلاح میں ایک آیت کا دوسری آیت سے منسوخ ہوجانا کہتے ہیں۔ جائیداد کی تقسیم اب آیت میراث کے بموجب ہوگی۔ اور وصیت کا اب کوئی محل ہی نہ رہا، بجز جائداد کے ایک ثلث کے، کہ اتنے میں وصیت چل سکتی ہے۔ اور اس کی تصریح بھی اسی سورة النساء کی آیت میراث میں موجود ہے۔ وصیۃ کے لفظی معنی نصیحت کے ہیں، اصطلاح شریعت میں اس سے مراد وہ ہدایتیں ہوتی ہیں جو وصیت کرجانے والے کی موت کے بعد قابل عملدرآدم ہوتی ہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ وصیت کی بھی کئی قسمیں ہیں :۔ ( 1) بعض وصیتوں کی تعمیل درجہ واجب میں ہے مثلا ادائے زکوٰۃ وکفارہ کی وصیت، یا ادائے امانت یا ادائے قرض کی وصیت۔ (2) بعض مستحب کا درجہ رکھتی ہیں، مثلا کسی کار خیر کیلیے وصیت کرجانا، یا کسی ایسے عزیز کو میراث دے جانا جسے حصہ نہ پہنچ رہا ہو۔ (3) بعض صرف مباح ہوتی ہیں، جیسے کسی امر جائز کے لیے وصیت کرجانا، (4) ان کے علاوہ بعض ایسی بھی ہوتی ہیں۔ جن کی تعمیل ممنوع ہے۔ وہ وصیتیں کالعدم سمجھی جائیں گی، مثلاکسی کافر حربی کے حق میں، یا کسی فعل حرام کے لیے وصیت کرجانا۔ (5) اور بعض وصیتیں موقوف کہلاتی ہیں، ان کی تعمیل شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہے۔ مثلا ترکہ کے ایک ثلث سے زائد میں وصیت کرجانا، اس کی تعمیل دوسرے ورثاء کی رضامندی پر موقوف رہے گی، (آیت) ” الوصیۃ “ یہاں الایصاء کے معنی میں ہے اور اسی معنی کا لحاظ کرکے اس کے لیے فعل مذکر (آیت) ” کتب “ لایا گیا ہے۔ ورنہ اصل قاعدہ کے لحاظ سے فعل مؤنث ” کتبت “ آنا چاہیے تھا۔ اور تاء تانیث کے حذف کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اسم وصیت اپنے فعل سے بہت فاصلہ پر ہے اور اتنا فاصلہ حائل ہوجانے پر محاورۂ زبان میں فعل کی تاء تانیث حذف ہوجاتی ہے۔ (قرطبی) (آیت) ” خیرا “ خیر کے ایک معنی علاوہ مشہور معنی کے، مال طیب کے بھی آتے ہیں، چناچہ قرآن مجید میں اس استعمال کی مثالیں جابجا ملتی ہیں، مثلا (آیت) ” قل ما انفقتم من خیر “ ( سورة بقر) یا (آیت) ” وما تنفقوا من خیر “ ( سورة بقرہ) وقس علی ھذا بہرحال اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہاں خیر مال ہی کے معنی میں ہے۔ الخیر ھھنا المال من غیر خلاف (قرطبی) قال بعض العلماء انما سمی المال ھھنا خیرا تنبیھا علی معنی لطیف وھو ان الذی یحسن الوصیۃ بہ ماکان مجموعا من المال من وجہ المحمود (راغب) اے مالا کما قالہ ابن عباس و مجاھد (روح) ایک گروہ نے لفظ وجوب سے استناد کرکے کہا ہے کہ کچھ نہ کچھ وصیت بہرحال کرجانا چاہیے، دوسرے گروہ نے آیت میراث کی موجودگی میں اسے بالکل غیر ضروری ٹھیرایا ہے۔ امام نخعی (رح) کا قول اس باب میں قول فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دونوں قسم کے اسوہ حسنہ موجود ہیں۔ ابوبکر صدیق ؓ وصیت کرگئے تھے۔ لیکن خود رسول اللہ ﷺ نے کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ وقال النخعی مات رسول اللہ ﷺ ولم یوص وقد اوصی ابوبکر فان اوصی فحسن وان لم یوص فلاعلیہ شیء (قرطبی) (آیت) ” بالمعروف “ یعنی پسندیدہ طریقہ پر، عقل کی رعایت سے، حاجت کا لحاظ کرکے، حسن معاشرت وحسن معاملت دونوں قسم کے احکام کے موقع پر قرآن مجید میں یہ لفظ کثرت سے آیا ہے (آیت) ” علی المتقین “۔ مقین سے یہاں مراد مومنین ہیں۔ ان کے وصف تقوی کا ذکر کرکے مراد خود انہی سے لی گئی ہے۔ مراد بالمتقین المومنین وھم الذین اتقوا الکفر (بحر) والمراد بالمتقین ال مومن ون (روح)
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی اسے اس کے سننے کے بعد بدل ڈالے، سو اس کا گناہ بس انہیں پر ہوگا جو اسے بدل ڈالیں،643 ۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا ہے، بڑا جاننے والا ہے،644 ۔

643 ۔ (نہ کہ حاکموں پر جو عالم الغیب نہیں ہوتے، بلکہ گواہوں کے بیانات ہی پر فیصلہ کی بنیاد رکھتے ہیں) ” بدلہ “ اور ” سمعہ “ دونوں میں ضمیر وصیت کی طرف ہے۔ والضمیر فی بدلہ یرجع الی الایصاء وکذلک الضمیر فی سمعہ (قرطبی) یعنی جن گواہوں کے سامنے وصیت کی گئی کہ فلاں فلاں عزیز کو اتنا اتنا حصہ ملے، اور وہ گواہ اس میں اپنی طرف سے کچھ قطع وبرید کردیں، جس سے بعض کی حق تلفی لازم آتی ہے۔ (آیت) ” اثمہ علی الذین یبدلونہ “ یہ حاکموں، قاضیوں کو اطمینان دلایا ہے کہ تمہارا اس غلط اجراء میں کیا قصور، قصور تو بس انہی جھوٹے گواہوں کا ہے۔ 644 ۔ (آیت) ” سمیع “ َ اس پر خوب روشن ہے کہ گواہ نے کس کس طرح جھوٹ سے کام لیا، اور اصل وصیت میں کیا کیا کتر بیونت کی۔ (آیت) ” علیم “ اس پر خوب روشن ہے کہ قاضی یا ثالث ایسے موقع پر کیسا معزور وبے بس ہوتا ہے۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

البتہ جس کسی کو وصیت کرنے والے سے متعلق کسی بےعنوانی یا گناہ کا علم ہوجائے،645 ۔ وہ ان لوگوں کے آپس میں صلح کرادے،646 ۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں،647 ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا مغفرت کرنے والا ہے، بڑا رحم کرنے والا ہے،648 ۔

645 ۔ (اور وہ اس بنا پر از راہ اخلاص وخیر خواہی وصیت میں تبدیلی کردے، جس سے اس بےضابطگی یا معصیت کی اصلاح ہوجائے) (آیت) ” خاف “۔ خوف عربی میں ہمیشہ اندیشہ اور ڈر ہی کے معنی میں نہیں آتا، بلکہ کبھی علم کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں یہی معنی مراد ہیں۔ اے فمن توقع وعلم وھذا فی کلامھم شائع (کشاف) والخوف والخشیۃ العلم (کبیر) ومعنی خاف توقع وعلم (روح) اے قد ظہر لہ من احوال الموصی ما یقلب معہ علی ظنہ انہ یرید الجور وصرف المیراث عن الوارث (جصاص) جنفا۔ جنف کہتے ہیں نادانستہ غلطی، یا بےضابطگی کو، مراد ہے سہو یا خطائے فہم سے گونہ زیادتی۔ الجنف الخطاء (ابن جریر عن ابن عباس ؓ الجنف الخطاء من حیث لا یعلم بہ (کبیر) میلا عن الحق بالخطاء (کشاف) (آیت) ” اثما “۔ یعنی دانستہ غلطی۔ کھلی ہوئی حق تلفی جس پر گناہ کا اطلاق ہوسکے۔ الاثم العمد (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ الاثم ھو العمد (کبیر) 646 ۔ (مضمون وصیت میں ترمیم کرکے، اور وارثوں کی حق تلفیوں کو دور کرکے) (آیت) ” بینھم “ میں ضمیر جمع غائب وارثوں کی جانب ہے۔ اے بین الموصی لھم (روح) الکنایۃ عن الورثۃ (قرطبی) یعنی وصیت اگر بےضابطہ ہے یا خلاف قاعدہ شرعی ہے، اور کوئی شخص وارثوں کے درمیان وقوع نزاع یا احتمال نزاع ہی دیکھ کر مضمون وصیت میں ایسی ترمیم کردے جس سے حق تلفیوں کی اصلاح ہوجائے اور وارثوں میں باہم مصالحت ہوجائے۔ بعض فقہاء نے اس حکم کے ماتحت وسعت دے کر کہا ہے کہ حکم صرف وصی اور گواہان وصیت اور حاکم کے ساتھ مخصوص نہیں، امت کا ہر فرد اس پر عمل کرسکتا ہے۔ فمن خاف من سائر الناس من موص میلا عن الحق وعدولا الی الجور فالواجب علیہ ارشادہ الی العدل والصلاح (جصاص) الخطاب لجمیع المسلمین (ابن العربی) اس لیے کہ اس حکم کا تعلق باب امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے ہے اور وہ ساری امت پر فرض ہے۔ ولا یختص بذلک الشاہد والوصی والحاکم دون سائر الناس لان ذلک من باب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر (جصاص) لان اصلاح الفساد فرض علی الکفایۃ (ابن العربی) فقہاء نے اس آیت سے یہ بھی استنباط کیا ہے کہ غلبہ ظن کے بعد رائے وعمل کا اجتہاد جائز ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ وصیت کرنے والے کی طرف سے ظلم و زیادتی کا اندیشہ تو ظن غالب ہی کے حکم میں رہے گا۔ وفیھا الدلالۃ علی جواز اجتھاد والرای والعمل علی غالب الظن لان الخوف من المیل یکون فی غالب ظن الخائف (جصاص) وفی ھذا دلیل علی الحکم بالظن (ابن العربی) 647 ۔ (اس تبدیل و ترمیم مضمون وصیت کے باب میں) بلکہ وہ تو اور مستحق اجر وثواب کا ہوگا۔ لانہ تبدیل باطل الی حق (مدارک) 648 ۔ اللہ تو گنہ گاروں تک کے حق میں غفور ورحیم ہے۔ چہ جائیکہ یہ شخص جو گنہگا رہے بھی نہیں بلکہ اپنی سعی اصلاح میں تو مطیع حکم اور مستحق اجر ہے۔ (آیت) ” غفور “۔ یعنی گناہوں کا بخشنے والا ، (آیت) ” رحیم “۔ یعنی خطا کاروں کے حال پر رحم کرنے والا۔