Ayah 2:191697 ۔ (آیت) ” واقتلوھم “۔ میں ھم کی ضمیر انہی لوگوں کی طرف ہے جو مسلمانوں سے لڑنے نکلے ہیں۔ والضمیر عائد الی الذین امر لقتلھم فی الایۃ الاولی (کبیر) حیث ثقفتموھم۔ یعنی ان مقاتلین محاربین مکہ کو جہاں کہیں بھی پکڑ پاؤ، اور جب کبھی ان پر غلبہ حاصل کرپاؤ قتل کردو۔ ھم الکفار من اھل مکۃ فامر اللہ تعالیٰ بقتلھم حیث کانوا فی الحل والحرم وفی الشھر الحرام (کبیر) اے حیث وجدتموھم من حل اور حرم (ابو سعود) (آیت) ” واقتلوا “ کے صیغہ جمع سے فقہاء حنفیہ نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ قتال و جہاد فریضہ انفرادی نہیں ہے، امام کی معیت میں ہے۔ لشکر کا وجود وجوب بہ طور عبارۃ النص کے نکلا اور امام کا بہ طور اقتضاء النص کے، کہ لشکر کا انتظام اجتماع بغیر ایک امام کے ممکن نہیں۔ من حیث اخرجوکم “ یعنی سرزمین مکہ سے۔ ” من حیث “ کے معنی ” جہاں سے “ کے علاوہ ” جس طرح “ کے بھی ہیں۔ واقتلوھم۔ واخرجوھم “ مراد یہ ہے کہ زمین مکہ سے انہیں چاہے مارو، چاہے نکالو، جو بھی تمہیں اپنی قدرت ومصلحت کے مطابق نظر آئے۔ والمراد افعلوا کل ماتیسرلکم من ھذین الامرین فی حق المشرکین (روح)
698 ۔ (اپنی مضرتوں اور مفسدوں کے لحاظ سے) مفسر تھانوی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ مشرکوں کی شرارت جسے یہاں فتنہ سے تعبیر کیا گیا ہے وہی تو اصل جڑ تھی اور اخراج وقتل، وغیرہ اس کی سزائیں تو محض فرع ہوئیں۔ الفتنۃ، فتنہ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب وتحریص اور اہل توحید کی تخویف ہے۔ الفنۃ الشرک باللہ وعبادۃ الاوثان (ابن عباس ؓ اقدام الکفار علی الکفر وعلی تخویف ال مومنین (کبیر) روی عن جماعۃ من السلف ان المراد بالفتۃ ھھنا الکفر وقیل انھم کانوا یفتون المومنین التعذیب ویکرھونھم علی الکفر (جصاص) کفر وترغیب کفر کو فتنہ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ نظام کفر آخر دنیا کو فتنہ و فساد، کشت وخون، غدر وبدامنی ہی کی طرف لے جاتا ہے۔ انما سمی الکفر بالفتۃ لانہ فساد فی الارض یؤدی الی الظلم والھرج وفیہ الفتۃ (کبیر) (آیت) ” اشدمن القتل “ یعنی حرم میں قتل وخون سے بھی شناعت میں کہیں بڑھا ہوا درجہ اس مرکز توحید و ایمان میں شرک، اشاعت شرک وتبلیغ شرک کا ہے۔ اشد من القتل فی الحرم (ابن عباس ؓ اے شرکھم باللہ اعظم من القتل الذی یحل بھم منکم (مدارک) یجوزان یرادفتنھم ایاکم بصدکم عن المسجد الحرام اشد من قتلکم ایاھم فی الحرم (کشاف) یعنی کفرھم وتعذیبھم ال مومنین فی البلد الحرام فی الشھرالحرام اشد و اعظم اثما من القتل فی الشھرالحرام (جصاص) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مکہ والوں کی یہ مسلسل وغیر منقطع تعدیاں اور مظالم قتل سے بھی کہیں زیادہ سخت وناقابل برداشت ہیں، اور بعض قدیم اکابر کی نظر بھی اسی پہلو کی طرف گئی ہے۔ اے المحنۃ التی یفتن بھا الانسان کالاخراج من الوطن اصعب من القتل لدوام تعبھا وبقاء تألم النفس بھا (بیضاوی) اے المحنۃ والبلاء الذی ینزل بالانسان یتعذب بہ اشد علیھامن القتل (کشاف) الاخراج من الوطن لما فیہ من مفارقۃ المالوف والاحباب وتنقیض العیش دائما (بحر) ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ یہاں فتنہ سے مراد وہ ابدی عذاب اخروی ہے جو انہیں کفر کی سزا میں ملے گا۔ گویا ارشاد یہ ہے کہ وہ دائمی عذاب دنیا کی سزائے قتل سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے، اور عذاب پر اس معنی میں فتنہ کا اطلاق جائز ہے۔ المراد من الفتنۃ العذاب الدائم الذی یلزمھم بسبب کفرھم (کبیر) واطلاق اسم الفتنۃ علی العذاب جائزوذلک من باب اطلاق اسم السبب علی المسبب (کبیر) والکفر باللہ یقتضی العذاب دائما والقتل لیس کذلک (بحر)
699 ۔ (کہ یہاں قتال کی ابتداء بلاوجہ اور بلاضرورت کردینے سے حدود حرم کی ہتک لازم آتی ہے) (آیت) ” عند المسجد الحرام “ یعنی حرم شریف یا مسجد کعبہ کے گردونواح میں کئی میل کا پورا علاقہ جو اصطلاح میں حرم کہلاتا ہے۔ اور اس کے احترام کے خاص آداب وقواعد ہیں۔ عندنا المسجد الحرام یقع علی الحرم کلہ (مدارک) نزول آیت کے وقت مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان عارضی صلح کا معاہدہ تھا۔ یہاں یہ ارشاد ہورہا ہے کہ اس پاس معاہدہ کے علاوہ مسلمانوں کے لیے یہ دوسرا مانع احترام حدود حرم کا بھی تو ہے۔ بعض تابعین اور فقہاء حنیفہ نے آیت سے یہ مستقل حکم نکالا ہے کہ مسجد حرام میں قتل و قتال ناجائز ہے، تاوقتیکہ وہ جواب ومدافعت میں نہ ہو۔ قال مجاھد لایجوز قتال احد فی المسجد الحرام الا بعد ان یقاتل وبہ قال طاؤس وھو الذی یقتضیہ نص الایۃ (قرطبی) والیہ ذھب ابو حنیفۃ و اصحابہ (قرطبی) فیہ قولان احدھما انہ محکم قالہ مجاھدوابوحنیفۃ (ابن العربی)
700 ۔ حفاظت خود اختیاری حدود حرم کے اند بھی قتال کو جائز کردے گی۔ کذلک۔ یعنی یہی سزائیں جو اوپر گزر چکیں : وطن سے اخراج اور حدود حرم کے اندر قتل۔ (آیت) ” جزآء الکفرین “ یعنی ایسے معاند، پیمان شکن، بےادب کافروں کی سزا۔” کفار کے ساتھ جبکہ شرائط جواز کے پائے جائیں، ابتداء قتال شروع کرنا درست ہے۔ اور اس مقام پر جو ابتداء بالقتال سے ممانعت فرمائی ہے تو وہ صرف بہ وجہ معاہدہ کے ہے۔ تو معاہدہ میں ابتداء ناجائز ہے۔ البتہ اگر معاہدہ کا باقی رکھنا مصلحت نہ ہو تو صاف اطلاع کردی جائے کہ ہم وہ معاہدہ باقی نہیں رکھتے۔ پھر قتال جائز ہے۔ اسی طرح اگر وہ لوگ معاہدہ توڑ دیں تب بھی قتال جائز ہے “۔ (تھانوی (رح )
Ayah 2:192701 ۔ (محض جنگ سے نہیں، جسے انہوں نے شروع کیا تھا، بلکہ عقائد کفر وشرک سے جو محرک اور باعث بنے ہوئے تھے جنگ و قتال کے) اے عن الکفر والشرک وتابوا (ابن عباس) اے فان تابوا (ابن جریر۔ عن مجاہد) من قتالکم وکفرھم باللہ (ابن جریر) عن الشرک والقتال (مدارک) یعنی انتھوا بالایمان (ابن العربی) عن الکفر بالتوبۃ منہ کما روی عن مجاہد وغیرہ اوعنہ و عن القتال (روح) (آیت) ” فان انتھوا “ میں ضمیر غائب کفار محاربین کی طرف ہے، حرف تعقبسے مراد ہے، جنگ شروع کرنے کے بعد، جن مفسرین جدید نے انتھوا سے صرف جنگ میں باز آجانا مراد لیا ہے۔ انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔
702 (اس لیے ان کی توبہ قبول کرلی جائے گی، انہیں دائرہ اسلام میں داخل سمجھا جائے گا اور ان کے اسلام کو لا حاصل یا بےقدر نہیں سمجھا جائے گا) آیت کے اس جزو نے (آیت) ” ان انتھوا “ کے اس مفہوم کو خود قرآن ہی سے واضح کردیا کہ مراد کفر وشرک سے باز آجانا ہے، نہ کہ محض جنگ و قتال سے۔ صفات مغفرت و رحمت کا ترتب کفر ہی سے تائب ہونے پر ہوسکتا ہے نہ کہ محض ترک جنگ پر۔ جو کفر سے تائب ہوگیا اس کے پچھلے گناہ بھی معاف ہوجائیں گے، اور آئند بھی اس کے ساتھ معاملہ رحمت کا ہوگا، جیسا کہ خود قرآن ہی میں دوسری جگہ ہے۔ (آیت) ” قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ما قد سلف “۔ غفور لمن تاب ورحیم لمن مات علی التوبۃ (ابن عباس ؓ فان اللہ یغفرلھم جمیع ماتقدم ویرحمھم کلامنہم بالعفو عما اجترم (ابن العربی) ولذلک علق علیہ الغفران والرحمۃ وھما لا یکونان مع الکفر (بحر) فقہاء ومفسرین نے آیت سے قاتل کی قبول توبہ کا مسئلہ بھی مستنط کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کفر کی توبہ قبول ہوسکتی ہے، تو قتل عمد تو کفر سے خفیف تر ہے، اس سے توبہ کیوں نہ قبول ہوگی۔ وفیہ دلالۃ علی قبول توبۃ قاتل العمد اذ کان الکفر اعظم ماثما من القتل وقد اخبر تعالیٰ انہ یقبل التوبۃ من الکفر (بحر) ھذا یدل علی ان قاتل العمد لہ توبۃ اذ کان الکفر اعظم ماثما من القتل وقد اخبر اللہ انہ یقبل التوبۃ منہ ویغفرلہ (جصاص)
Ayah 2:193703 ۔ (ان لوگوں میں، یاسر زمین عرب پر) (آیت) ” قتلوھم “ میں ھم کی ضمیر کس کی طرف ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کا حکم کس کے مقابلہ میں دیا جارہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ روئے زمین کے عام کفار بھی مراد ہوسکتے ہیں، اور مشرکین عرب بھی سمجھے جاسکتے ہیں، لیکن فقہاء حنفیہ اور بہ کثرت تابعین نے مراد مشرکین مکہ ہی سے لی ہے۔ ومن راھا غیر ناسخۃ قال المعنی قاتلوا ھو لآء الذین قال اللہ فیھم فان قاتلوکم (قرطبی) وھم کفار مکۃ والفتنۃ ھھنا الشرک ولا یسن بھمسنۃ اھل الکتب فی قبول الجزیۃ قالہ ابن عباس وقتادۃ والربیع والسدی (بحر) عطف علی قاتلوا الذین یقاتلونکم ویؤیدہ ان مشرکین العرب لیس فی حقھم الا الاسلام اوالسیف (روح) وھذہ الایۃ خاصۃ فی المشرکین دون اھل التب لان ابتداء الخطاب جری بذکرھم فی قولہ عزوجل واقتلوھم حیث ثقفتوھم واخرجوھم من حیث اخرجوکم وذلک صفۃ المشرکین اھل مکۃ الذین اخرجوا النبی ﷺ و اصحابہ فلم یدخل اھل الکتب فی ھذا الحکم (جصاص) (آیت) ” حتی “۔ یہاں اظہار غایت کے لیے ہے اور کے یا الی، ان کے مرادف ہے۔ وھذا البیان غایۃ القتال (روح) حتی بمعنی کے یا الی، ان (مدارک) (آیت) ” لاتکون فتنۃ “ یعنی حدود حرم اور حدود عرب کے اندر شرک وکفر باقی نہ رہنے پائے۔ فتنہ سے یہاں کفر وشرک کے مراد ہونے پر کہنا چاہیے کہ محققین امت کا اجماع ہے۔ اے شرک قالہ ابن عباس وابو العالۃ و مجاھد والحسن وقتادہ والربیع ومقاتل بن حیان والسدی (ابن کثیر) اے الشرک باللہ فی الحرم (ابن عباس ؓ اے حتی لاتکون شرک باللہ وحتی لا یعبددونہ احد (ابن جریر) قال ابن عباس وقتادۃ و مجاھد والربیع ابن انس الفتنۃ ھھنا الشرک وقیل انما سمی الکفر فتنۃ لانہ یؤدی الی الھلاک کما یؤدی الیہ الفتنۃ (جصاص) اگر وہ لوگ اسلام نہ لائیں تو گو اور کفار سے جزیہ دینے کے اقرار پر قتال سے دستکش ہونے کا حکم ہے۔ لیکن یہ خاص کفار چونکہ اہل عرب ہیں، ان کے لیے قانون جزیہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کے لیے اسلام ہے یا قتل (تھانوی (رح) اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، اس کے لیے ضروری تھا کہ اس کا ایک جغرافی مرکز ہو، مستقر ہو۔ اور روئے زمین پر کم از کم ایک خطہ تو ایسا ہو، جو شرک وکفر سے قطعا پاک، اور اہل توحید کے لیے صحیح معنی میں ” پاکستان “ ہو۔ اور اس غرض کے لیے مولد رسول ﷺ ومہبط قرآن سے بڑھ کر سرزمین اور کون ہوسکتی تھی ؟ قدرۃ انتخاب اس کے لیے سرزمین عرب کا ہوا۔ کفار عرب اگر اسلام نہ لائیں تو ان لیے صرف قتل کا قانون ہے۔ اگر وہ جزیہ دینا چاہیں تو نہ لیا جائے گا۔ (تھانوی (رح )
704 ۔ (خالصۃ۔ اور کفر وشرک ہر دین باطل کا زور ٹوٹ کر رہے) ذکر وہی خطہ عرب کی خالص اسلامی حکومت کا چل رہا ہے کہ کم از کم اس ” پاکستان “ میں کفر وترغیبات کفر کے لیے موقع ہی باقی نہ رہیں۔ یکون الاسلام والعبادۃ للہ فی الحرم (ابن عباس ؓ علی وجہ المداومۃ والعادۃ (جصاص)
705 ۔ (اپنے کفر و انکار سے، اور ملت اسلامیہ میں داخل ہوجائیں) عن قتالکم ودخلوا ملتکم واختروا بما الزمکم اللہ من فرائضہ (ابن جریر) عن الکفر واسلموا (معالم)
706 (جواسی بےانصافی کی راہ سے اب تک دین توحید تک سے منکر ہیں) اور جب یہ تائب ہو کر مسلمان ہوگئے تو ظاہر ہے کہ اب اپنے حق میں ظالم باقی نہیں رہے۔ اور اب ان کے حق میں سزائے قتل وغیرہ کا حکم باقی نہ رہا۔ فلاسبیل لکم بالقتل (ابن عباس ؓ (آیت) ” عدوان “۔ اس کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں یہاں سزا اور سزائے قتل کے معنی میں ہے۔ والمراد من العدوان ھھنا المعاقبۃ والمقاتلۃ ( ابن کثیر) اے العقوبۃ بالقتل (روح) عربی اسلوب بیان میں ایک دستوریہ بھی ہے کہ جزاء عمل کے موقع پر بعینہ وہی لفظ بول دیا جاتا ہے جو خود اس عمل کے لیے ہوتا ہے۔ مثلا مفکر کے مقابلہ میں مکر ہی کا لفظ کید کی سزا کے موقع پر لفظ کید کا استعمال، استھزاء کے معاوضہ میں لفظ استھزاء وقس علی ھذا۔ اس صنعت کا نام مشاکلت ہے اور قرآن مجید نے عربی بلاغت کی دوسری صنعتوں کی طرح اس کا بھی بار بار استعمال کیا ہے، چناچہ یہاں سزائے عدوان کے موقع پر خود لفظ عدوان کا لانا اسی طرز پر ہے۔ ومن العدوان الذی ھوعلی سبیل المجازاۃ قولہ فلان عدوان الاعلی الظمین (راغب) انہ ذلک علی وجہ المجازاۃ لما کان من المشرکین من الاعتداء (ابن جریر) سمی جزاء الظلمین ظلما للمشاکلۃ (کشاف) ارادھنا بالعدوان الجزاء یقول لاجزاء ظلم الا علی ظالم (ابن قتیبہ)
Ayah 2:194707 ۔ یعنی کسی مہینہ کی حرمت کی بنیاد تو بس اسی پر ہے کہ دوسرا فریق بھی اسکی حرمت ملحوظ رکھے گا، اور اگر یہ نہیں تو پھر کسی مہینہ کی حرمت کی بنیاد ہی نہیں، یہ چیز تو محض عوض معاوضہ کی، اور طرفین کے تعامل پر مبنی ہے۔ (آیت) ” الشھر الحرام “ کے لفظی معنی میں ” حرمت والا مہینہ “ عرب کے قبائل آپس میں سخت جنگجو چلے آتے تھے۔ لیکن میں یہ بھی ٹھہرگئی تھی کہ سال میں چار مہینے جنگ بندر ہے، اور یہ زمانہ امن وصلح کے ساتھ گزارا جائے اور یہ چار مہینے یہ تھے :۔ محرم۔ سنہ قمری کا پہلا مہینہ۔ رجب۔ سنہ قمری کا ساتواں مہینہ۔ ذی قعدہ۔ سنہ قمری کا گیا رہواں۔ ذی الحجہ۔ سنہ قمری کا بارہواں مہینہ۔ یہاں اشارہ ذی قعدہ 7 ھ کی جانب ہے۔ رسول اللہ ﷺ بہ قصد عمرہ اس وقت صحابیوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے تھے، لیکن مشرکین آمادۂ قتال ہوگئے تھے، بلکہ تیراندازی اور سنگ اندازی شروع کردی تھی۔ عرب جاہلیت اپنی جہالت، شقاوت، جنگجوئی کے لیے بدنام اور بالکل بجاطور پر بدنام ہے۔ لیکن اس کے باوجود سال کی صرف دو تہائی لڑتے تھے، اور باقی 3، 1 حصہ امن وآشتی ہی کے مشغلہ میں گزار دیتے تھے۔ یہ کمال تو جاہلیت جدید یا جاہلیت فرنگ ہی کے لیے اٹھ رہا تھا کہ فرنگی قوموں کے بڑے بڑے سورما نہ اتوار دیکھیں، نہ بڑا دن، نہ ایسٹر، نہ گڈ فرائیڈے، نہ کوئی موسم نہ کوئی مہینہ، ہر روز اور ہر ہفتہ، ہر مہینہ اور ہر موسم میں، توپیں اور ٹینک اور ہوائی بم ہیں کہ ایک دوسرے کی جانیں لینے پر تلے ہوئے ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنے پر اڑے ہوئے رہتے ہیں !
708 ۔ (پس تم سے ان حرمتوں کی رعایت کرے، تم بھی ان سے حرمتوں کی رعایت ملحوظ رکھو) قصاص کے لفظی معنی بدلہ کے ہیں، خواہ وہ معاوضہ قولی ہو، یا عملی، یا جسمانی اور یہاں عملی بدلہ مراد ہے۔ یعنی جیسا تمہارے فریق مقابل نے تمہارے ساتھ کیا، تم اس کے ساتھ کرو، قصاص اے بدل (ابن عباس ؓ القصاص ھو المجازاۃ من جھۃ الفعل اوالقول او البدن وھو فی ھذا الموضع من جھۃ الفعل (ابن جریر) القصاص المساوات والمماثلۃ وھو ان یفعل بالفاعل مثل مافعل (معالم) یہاں کافروں پر تعریض ہے کہ خود تو ان مقدس مہینوں کا ذرا پاس لحاظ نہیں کرتے، اپنی کسی حرکت سے بھی باز نہیں رہتے، اور مسلمانوں سے توقع یہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کے سارے ظلم اور زیادتیوں پر اس لیے خاموش رہیں رہیں گے کہ یہ مقدس مہینے ہیں ! والحاصل ان حرمۃ الشھر الحرام لما لم تمنعھم عن الکفر والافعال القبیحۃ فکیف جعلوہ سببا فی ان یمنع القتال من شرھم وفسادھم (کبیر)
709 ۔ یعنی اگر فریق مقابل قتال شروع کردے، تو تم بھی برابر جواب دو ۔ (آیت) ” اعتدی علیکم “ مثلا ایک زیادتی یہی، کہ دشمن ان مہینوں کا احترام نہ کرے، بلکہ تم سے جنگ شروع کردے (آیت) ” فاعتدواعلیہ “ یہاں مسلمانوں کے اس جوابی اور دفاعی کارروائی کو محض مجاز اور محاورۂ زبان کے اعتبار سے (اعتداء) فرمادیا گیا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ زیادتی کے جواب میں جو کارروائی بہ طور سزا کی جائے، اس پر حققتہ زیادتی کا اطلاق ہوکیونکر سکتا ہے ؟ عربی زبان کے قاعدۂ مشاکلت الفاظ پر حاشیہ ابھی اوپر گزرچکا ہے۔ بس وہی صورت یہاں بھی ہے، اور محض لفظی تطابق کی بنا پر یہاں سزائے اعتداء کو خود اعتداء سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ اہل لغت اور اہل تفسیر دونوں کے ہاں یہ تصریح منقول ہے۔ اے قابلوہ بحسب اعتداۂ وتجاوزوا الیہ بحسب تجاوزہ (راغب) نہ بمعنی المجازاۃ واتباع لفظ لفظ وان اختلف معناھما (ابن جریر) انما سمی الفعل الثانی اعتداء وھو مفعول بحق حملا للثانی علی الاول علی محاورۃ العرب (ابن العربی)
710 ۔ (ان سارے احکام ومعاملات میں، اپنی زندگی کے شعبہ میں) یہ اسلام ہی کا معجزانہ کمال ہے کہ ایک طرف تو قتال اور انتقام کی اجازت پوری پوری دی اور دوسری طرف آخر میں پھر یہ بھی یاد دلا دیا کہ دیکھنا، حدود سے تجاوز کسی حال میں بھی نہ ہو، جوش پر قابو بہر صورت رکھنا، یہ نہ کہ الٹی زیادتی تم اپنی طرف سے حالت انتقام میں کرنے لگے۔ خوف خدا، باز پرس کا خیال، ہر وقت مستحضر رہے جو کچھ بھی ہو، شدید اشتعال کے موقع پر بھی ہیجان نفس کے ماتحت نہیں، خشیت الہی ہی کے ماتحت ہو ! واتقوا ایھا ال مومن ون فی حرماتہ وحدودہ ان تعتدوافیھا (ابن جریر) اللہ اکبر ! اس حکیمانہ امتزاج کی نظیر، دنیا کے کسی قانون، کسی آئین، کسی نظام کے اندر ملے گی ؟
711 ۔ اللہ اللہ ! کتنی بلند وپر حکمت تعلیم ہے۔ ابھی ابھی انتقام میں بھی اہل ایمان پر تقوی کی زبردست قید عاید کی جاچکی ہے۔ اے یکون دین اللہ ھو الظاھر العالی علی سائر الادیان (ابن کثیر) خالصا لیس للشیطان فیہ نصیب (مدارک) (آیت) ” الدین “۔ دین سے مراد اللہ کی عبادت اور اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ اما الدین الذی ذکرہ اللہ فی ھذا الموضع فھو العبادۃ والطاعۃ اللہ فی امرہ ونھیہ (ابن جریر) الدین ھنا الطاعۃ اے یکون الانقیاد خالصا للہ (بحر) والدین الشرعی ھو الانقیاد للہ عزوجل والاستسلام لہ اب ارشاد ہورہا ہے کہ ان احکام سے کہیں پست ہمت نہ ہوجانا، اور یوں نہ خیال کرنے لگنا، کہ ” حدودوقیود “ عائد کرکے پرزور مقابلہ سے روکا جارہا ہے۔ اور ان کے بعد دل کے حوصلے پوری طرح کیونکر نکل سکیں گے ؟ تو یہ بات نہیں ہے، بلکہ قانون الہی یہ ہے کہ اللہ کی فتح ونصرت، رحمت و عنایت شامل حال انہیں لوگوں کے رہتی ہے، جو اس کی خشیت و عظمت اپنے دل میں رکھتے ہیں اور متقی ہوتے ہیں ! تقوی کی تاکید عین نصرت وہمت افزائی کے لیے ہے۔ ضعف پیدا کرنے کے لئے نہیں۔ (آیت) ” مع المتقین “ متقین کے ساتھ اللہ کی معیت کی آخر نوعیت کیا ہوتی ہے ؟ محققین کا فیصلہ ہے کہ اللہ کی معیت بلحاظ اس کی نصرت، اعانت، حفظ علم وغیرہ کے ہوتی ہے نہ کہ کسی جسمانی یا مادی اعتبار سے۔ اے بالمعونۃ والنصرۃ والحفظ والعلم (کبیر) النصر والعون (روح) بالنصرۃ والتکمین والتائید (بحر) اور یہیں سے امام رازی (رح) نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ حق تعالیٰ نہ مجسم ہے، اور نہ وہ کسی جگہ کو گھیرے ہوئے ہے جیسا کہ ہر جسم کسی متعین جگہ کو اپنے سے لبریز کردتیا ہے۔ وھذا من اقوی الدلائل علی انہ لیس بجسم ولا فی مکان (کبیر)
Ayah 2:195712 ۔ (اپنا مال) جان قربان کر ڈالنے کا حکم تو قتال کے ذیل وضمن میں آچکا، اب حکم صرف مال کامل رہا ہے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “ اس قید کا خوب کا خیال رہے، اسلام میں جس طرح محض جان دے دینا مطلوب ومقصود نہیں بلکہ وہ جان دینا مطلوب ومقصود ہے، جو خدا کی راہ میں ہو، اللہ کے دین کی بڑائی کے لئے ہو، اسی طرح مطلق صرف مال کی ہرگز کوئی وقعت وقدر نہیں، قدر صرف اس مال کی ہے جو باطل کی راہ میں نہیں، حق کی راہ میں ہو، ہوائے نفس کی تکمیل کے لیے نہیں، رضائے الہی کے حصول کے لیے ہو، یہاں اشارہ خاص جہاد و قتال کی جانب ہے، لیکن (آیت) ” فی سبیل اللہ کے الفاظ عام ہیں۔ ہر دینی خدمت میں مالی امداد اس کے تحت آجاتی ہے۔ یعنی فی طاعۃ اللہ (قرطبی)
713 ۔ (جان یا مال میں بخل کر کرکے) قرآن مجید میں جب صیغہ جمع حاضر آتا ہے تو کبھی تو افراد مخاطب ہوتے ہیں اور کبھی جماعت، یہاں اصل مخاطب امت سے بہ حیثیت مجموعی ہے۔ اور بیان یہ حقیقت ہورہی ہے کہ افراد امت نے اگر جہاد و قتال سے جان چرائی، اور مجاہدین کو مالی امداد دینے میں بخل کیا، تو نتیجہ لازمی طور پر ساری امت کی تباہی، بربادی، ہلاکت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ (آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم “ اصل تقدیر کلام یوں ہے : ولا تلقوا انفسکم بایدیکم یا انفسکم (اپنے آپ کو) محذوف ہے قیل تقدیرہ ولا تلقوا انفسکم بایدیکم (کشاف) اے لا ترفعوا انفسکم فی الھلاک (بیضاوی) (آیت) ” التھلکۃ “ لفظی ہلاکت کے ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ امت کی ضرورت کے موقع پر بخل کرکے امت کو بربادی میں نہ ڈالو اور یہی معنی ابن عباس، ابوایوب انصاری، اور حذیفہ ؓ اجمعین صحابیوں سے اور حسن اور قتادہ اور عکرمہ اور عطاء تابعین سے مروی ہیں، اور محدث جلیل امام بخاری نے بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں۔ بترک الانفاق فی سبیل اللہ وھو قول حذیفۃ والحسن وقتادۃ وعکرمۃ وعطاء (معالم) وقال حذیفۃ بن سلیمان وابن عباس وعکرمہ وعطاء ومجاھد وجمھور الناس المعنی لا تلقوا بایدکم انتترکوا النفقۃ فی سبیل اللہ ولا تخافوا عیلۃ والی ھذا المعنی ذھب البخاری اذلم یذکر غیرہ (قرطبی) التھلکۃ الاقامۃ فی الاھل والمال وترک الجھاد (کشاف عن ابی ایوب الانصاری) بعض نے یہ معنی بھی لیے ہیں کہ بہت زیادہ خڑچ کرکے اپنے کو تباہ حال نہ کردو۔ وقال الجبائی التھلکۃ الاسراف فی الانفاق (روح) اے بالاسراف وتضیع وجہ المعاش (بیضاوی) قیل ھو الاسراف فی الانفاق حتی الایجدما یا کل ویشرب فیتلف (جصاص) ۔
714 ۔ قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کی جانب رغیب والتفات، ناپسندیدگی وبیزیدگی، وبیزاری کے افعال وصفات بارہامنسوب کیے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی اللہ کے لیے ہے کہ (آیت) ” یحب المحسنین۔ ان سارے افعال وصفات کے لانے سے ایک بڑا مقصود ان گمراہ قوموں کی تردید ہے، جو وجود باری کے تو قائل ہیں، لیکن خدا تعالیٰ کو صفات کمال و جمال سے معزی ایک طرح کا محض جامد، بےجان، بےحسن، علت العلل سمجھے ہوئے ہیں ! اسلام کا خدا، قرآن کا خدا ہر معنی میں ایک زندہ خدا، بیدار، متحرک، فعال خدا ہے۔ خوش بھی ہوتا ہے ناخوش بھی۔ مخلوق کو محبوب بھی رکھتا ہے، مبغوض بھی، صلہ بھی دیتا ہے، اور سزا بھی۔ (آیت) ” احسنوا “۔ یعنی جو کچھ بھی کرو، حسن نیت واخلاص کے ساتھ کرو۔ محض بیگار سمجھ کر بوجھ سا نہ اتارو۔ صحابیوں سے اسی قسم کے معنی مروی ہیں۔ اے احسنوا اعمالکم بامتثال الطاعات روی ذلک عن بعض الصحابۃ (قرطبی) احسنوا اعمالکم وافعالکم (بیضاوی) ۔
Ayah 2:196715 ۔ یعنی جب یہ عبادتیں بجالاؤ تو اللہ کی رضاجوئی ہی کے لیے بجالاؤ۔ اور اخلاص نیت کے ساتھ اور اللہ کے مقرر کیے ہوئے قاعدوں اور ضابطوں کے ساتھ، تمام ممنوعات سے محترزرہ کر۔ یہ نہ ہو کہ کسی طرح الٹے سیدھے ادا کر کے ان عبادتوں کو بھی ناقص وفاسد بنادو۔ اے افعلوا الحج والعمرۃ علی نعت الکمال والتمام (کبیر) وظاھر السباق باکمال افعالھمابعد الشروع فیھما (ابن کثیر) اے ادوھما تامین بشرائطھماوفرائضھما لوجہ اللہ تعالیٰ بلاتوان ولا نقصان (مدارک) حضرات صحابہ ؓ وتابعین رحمہم اللہ سے متعدد تفسیرین نقل ہوئی ہیں۔ لیکن سب سے جامع تفسیر مقاتل تابعی کی ہے کہ اس درمیان میں کوئی ایسی چیز نہ کرو کہ جو ان عبادتوں کے غیر شایاں ہو۔ الاتفعلوا فیھا مالا ینبغی لکم (قرطبی) ” للہ “ کی تفسیر میں ایک فقیہ مفسر ابن العربی مالکی (رح) نے یہ نکتہ بہت خوب پیدا کیا ہے کہ اعمال تو سارے کے سارے اللہ کی جانب منسوب ہوتے ہی ہیں، خلق، علم، ارادہ وغیرہ ہر لحاظ سے یہاں اس تائید و تخصیص مقصود اس امر کی نتبیہ ہے کہ حج وعمرہ کا قصد، میلہ ٹھیلہ سمجھ کر نہ ہو، تفاخر کی راہ سے نہ ہو، تجارتی ضروریات سے نہ ہو، اخلاص محض کے ساتھ، قرب ورضائے الہی کی نیت سے ہو، وفائدۃ ھذا التخصیص ان العرب کانت تقصد الحج للاجتماع والتناصر والتظاھر والتنافروالتفاخر وقضاء الحوائج و حضور الاسواق ولیس للہ تعالیٰ فیہ حظ یقصد ولا قربۃ تعتقد فامر اللہ سبحانہ بالقصد الیہ لاداء فرضہ وقضاء حقہ (احکام القرآن)
716 ۔ یعنی اگر کسی دشمن کی روک تھام کے باعث، یا کسی بیماری وغیرہ سے معذور ہو کر راستہ ہی میں رک جانا پڑے اور منزل مقصود تک نہ پہنچ سکو، تو قربانی کا جانور جو ساتھ میں ہو، اسے وہیں ذبح کردو، اور احرام کھول ڈالو۔ عازم حج جب کسی معذوری کی بنا پر راہ ہی میں رک گیا، اور اب قصد حج پورا نہیں کرسکتا، تو احرام سے باہر آنے کا طریقہ اسے بتایا جارہا ہے، (آیت) ” ان احصرتم “۔ احصار المنع من طریق البیت یقال فی المنع الظاھر کالعدو والمنع الباطن کالمرض (راغب) قال الفراء ان لفظ الاحصار یفید الحبس والمنع سواء کان بسبب العدواوبسبب المرض (کبیر) قال الکسانی وابوعبیدۃ و اکثر اھل اللغۃ الاحصار المنع بالمرض اوذھاب النفقۃ (جصاص) چناچہ فقہاء حنفیہ نے بھی اسی عام معنی میں لیا ہے۔ اور یہی معنی بعض فقہاء صحابہ وتابعین سے منقول ہیں۔ ذھب الامام ابوحنفیۃ الی انہ المراد بہ مایعم، کل منع من عدو و مرض وغیرھما (روح) روی عن ابن مسعود زفر والثوری (جصاص) ولما کان اصل الحصر الحبس قالت الحنیفہ المحصر من یصیر ممنوعا من مکۃ بعد الاحرام بمرض اوعدو اوغیر ذلک واحتجوا بمفتضی الاحصار مطلقا (قرطبی) اے منعتم بای عذر کان قالہ مجاھدو قتادۃ وابوحنفیۃ (ابن العربی) البتہ امام شافی (رح) و امام مالک (رح) کے نزدیک احصار صرف دشمن کے باعث ہوسکتا ہے۔ المراد من الاحصار ھنا حصر العدو عند مالک والشافعی (رح) (روح) وعندالشافعی الاحصار بالعدو وحدہ (مدارک) اے بالعدو خاصۃ قالہ ابن عمرو ابن عباس وانس والشافعی ھو اختیار علمائنا (ابن العربی)
717 (جو علامت ہے مناسک حج کے تمام ہوجانے اور حالت احرام سے باہر آجانے کی) (آیت) ” محلہ “ یعنی موضع حرم، قربانی کی اصل جگہ وہی ہے۔ اے مکانہ الذی یجب نحرہ فیہ وھو الحرم (مدارک) جب عازم حج خود وہاں پہنچنے سے معذور ہوجائے تو قربانی کا جانور وہاں بھیج دے۔ وہیں اس کی قربانی کردے جائے گی۔ (آیت) ” ھدی “ کے لفظی معنی محض اس پیشکش کے ہیں، جو خانہ کعبہ کے لیے بھیجا جائے۔ الھدی مختص بما یھدی الی البیت (راغب) وھو ما یھدی الی بیت اللہ من بدنہ اوغیرھا (قرطبی) حنفیہ نے بھی اسی عام معنی میں رکھا ہے، اور قربانی کا ہر جانور اس سے مراد لیا ہے، اور امام مالک (رح) و امام مالک (رح) و امام شافعی (رح) سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔ فقال ابوحنیفۃ وابو یوسف ومحمد وزفر ومالک والشافعی الھدی من اصناف الثلثلۃ الابل والبقر والغنم وھو قول ابن شبرمہ (جصاص) بعض ائمہ کے نزدیک اس کا اطلاق قربانی کے صرف اونٹ پر ہوتا ہے۔
718 (ایسے مرض میں کہ اس کی وجہ سے سر کے بال اتروانے کی ضرورت پڑجائے) مرضا یحوجہ الی الحق (بیضاوی)
719 ۔ مثلا درد، زخم، وغیرہ سے، اور اس لیے سرمنڈانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہو،
720 ۔ معذوروں کو اجازت ہے کہ قبل از وقت ہی سرمنڈاڈالیں، اور اس کا شرعی فدیہ دے دیں۔ ففدیۃ۔ من راسہ “ کے بعد عبارت مقدر یوں ہے۔ فحلق فعلیہ فدیۃ۔ فیہ اضمار اے فحلق فعلیہ فدیۃ (معالم) اور اس فدیہ کی تین صورتیں ہیں۔ یاروزے رکھ لیے جائیں، یا مسکینوں کو صدقہ دے دیا جائے، یاقربانی کردی جائے، ” من صیام “۔ جمہور فقہاء کا مسلک حدیث صحیح کی بنا پر، تین روزے رکھنے کا ہے۔ جمھور فقھاء المسلمین علی ان الصوم ثلثۃ ایام وھو محفوظ صحیح فی حدیث کعب بن عجرۃ (قرطبی) (آیت) ” اوصدقۃ “ کھانا اگر دیا جائے، تو چھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار کے مساوی دیا جائے علی ستۃ مساکین لکل مسکین نصف صاع من بر (مدارک) ” فیحصل من ذلک ان یکونوا من التمرستۃ اصح ومن الحنۃ ومن الحنطۃ ثلاثۃ اصع وعدد المساکین الذین یتصدق علیھم ستۃ بلا خلاف (جصاص) (آیت) ” اونسک۔ نسک “ سے مراد بالاتفاق ذبح ہے۔ یقال نسکت للہ اے ذبحت للہ (ابن قتیبہ) النسیکۃ مختصۃ بالذبیحۃ (راغب) یہ قربانی کم از کم ایک بکری کی ہونی چاہیے اور اس سے بہتر یہ ہے کہ ایک گائے یا اونٹ کی ہو۔ ولا خلاف بین الفقھاء ان ادناہ شاۃ وان شاء جعلہ بعیرا اوبقرۃ (جصاص) اعلاہ بدنۃ واوسطہ بقرۃ وادناہ شاۃ (معالم۔ عن الحسن قتادۃ) روزہ، صدقہ، قربانی، یہ تینوں صورتیں فدیہ وکفارہ کی یکساں ہیں، جو شق بھی پسند آئے، اختیار کی جاسکتی ہے۔ لا خلاف انہ مخیر بین ھذہ الاشیاء الثلاثۃ یبتدی بایھا شاء وذلک مقتضی الایۃ واوتخییر (جصاص) وعامۃ الاثار عن کعب بن عجرۃ وردت بلفظ التخییر وھو نص القرآن وعلیہ مضی عمل العلماء فی کل امصار وفتواھم (قرطبی)
721 ۔ بہ مقابلہ اس حالت خطرہ ومرض کے جس کا ذکر شروع آیت میں (آیت) ” فان احصیرتم “ میں آچکا ہے۔ اور جس طرح وہاں ایک عام اور جامع لفظ احصار آیا تھا، یہاں بھی ایک عام وجامع لفظ امن آیا ہے، جو مرض کے دور ہوجانے پر بھی اسی طرح حاوی ہے، جس طرح خطرۂ دشمن کے دفع ہوجانے پر، اصل الامن طمانیۃ النفس وزوال الخوف (راغب) معناہ برأتم من المرض وقیل خوفکم من العدوقالہ ابن عباس ؓ وقتادۃ وھو اشبہ باللفظ الا ان یخیل الخوف من المرض فیکون الا من منہ (قرطبی) جاء بلفظ الا من وھو عام فی العدو والمرض لیکون اخر الکلام علی نظام اولہ (ابن العربی) اذا شرطیہ ہے۔ اس سے فقہاء نے یہ نکالا ہے بعد حصر اگر وقت حج میں مانع دور نہ ہو تو عاصی نہ ہوگا۔ (آیت) ” امنتم “ فقہاء کہتے ہیں کہ صحت کو بھی امن سے اس لیے تعبیر کیا کہ صحت اچھی ہوجانے پر بہ ظاہر فوت حج کی طرف سے اطمینان ہوجاتا ہے ،۔
722 (اور اگر کسی نے صرف حج یا صرف عمرہ کیا ہو تو اس پر یہ قربانی واجب العمل نہیں) (آیت) ” فمن تمتع “ کے لفظی معنی فائدہ اٹھانے کے ہیں، اصطلاح فقہ میں مراد حج اور عمرہ کے ملا لینے سے ہوتی ہے۔ یعنی فائدہ اٹھانے کے ہیں۔ اصطلاح فقہ میں مراد حج اور عمرہ کے ملا لینے سے ہوتی ہے۔ یعنی زمانہ حج میں ایک احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا جائے اور پھر دوسرے احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا جائے اور پھر دوسرے احرام سے حج بھی کرلیا جائے۔ دونوں احراموں کی درمیانی مدت میں حالت احرام کے ممنوعات سے پوری طرح تمتع کیا جاسکتا ہے۔ دین ابراہیمی کو چھوڑ کر عرب جاہلی جہاں اور بہت سے ادہام میں گرفتار تھے۔ وہاں ایک عقیدہ یہ بھی گڑھ لیا تھا کہ موسم حج میں عمرہ کرنا سخت گناہ ہے۔ لان العرب فی الجاھلیۃ کانت لاتعرف العمرۃ فی اشھر الحج وتنکرھا اشد الانکار (جصاص) یروی عن ابن عباس وعن طاؤس ان ذلک عندھم کان من افجر الفجور (جصاص)
723 (ان ایام حج میں بسبب ناداری یا کسی اور معذوری کے)
724 ۔ تین زمانہ حج میں اور سات زمانہ حج کے بعد۔ یہ ” پورے دس “ کی تصریح تاکید در تاکید کی غرض سے ہے۔ کاملۃ توکید للکلام، کما تقول کتبت بیدی وقولہ کاملۃ تاکید آخر (قرطبی) (آیت) ” اذا رجعتم “ فقہاء حنفیہ اور بعض اکابر تابعین کے ہاں اس رجوع سے مراد اعمال حج سے فراغت ہے، خواہ واقعۃ کوئی وطن واپس ہوجائے یا ابھی وہیں مقیم رہے اے بعد الفراغ من اعمال الحج وھو المراد من الرجوع المذکور فی الایۃ (معالم) قال ابوحنیفہ (رح) المراد من الرجوع الفراغ من اعمال الحج (کبیر) اے فرغتم ونفرتم من اعمال (روح) قالالمجاہدوعطاء و ابراہیم المعنی اذا رجعتم نفرتم وفرغتم من اعمال الحج وھو مذھب ابی حنفیۃ (بحر) بعض دوسرے اکابر کے نزدیک مکہ سے وطن کی واپسی مراد ہے، یعنی الی بلاد کم قالہ ابن عمر وقتادۃ والربیع ومجاھدو عطاء قالہ مالک فی کتاب محمد وبہ قال الشافعی (قرطبی) اذارجع الی اھلہ ومصرہ (ابن جریر)
725 ۔ یعنی موسم حج میں عمرہ کے ساتھ حج کا ملا لینا، (آیت) ” ذلک “۔ یہ اشارہ تمتع کی جانب ہے جس کا ذکر ذرا اوپر فمن تمتع “ کے ضمن میں آچکا ہے۔ اے التمتع بالعمرۃ الی الحج (ابن جریر) اشارۃ الی التمتع (مدارک) یہ تفسیر امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض تابعین کے مسلک کے مطابق تھی۔ جن کے ہاں حج میں تمتع اور قرآن یعنی موسم حج میں عمرہ کے ساتھ حج کرلینے کی دو صورتیں صرف آفاقیوں کے لیے درست ہیں، مکہ اور جوار مکہ والوں کے لیے نہیں۔ اذ لا تمتع ولا قران لحاضری المسجد الحرام عندنا (مدارک) وقال ابوحنیفۃ (رح) ان قولہ ذلک اشارۃ الی الا بعد وھو ذکر التمتع المفھوم میں قولہ فمن تمتع عند ابی حنفیۃ (رح) (روح) امام شافعی (رح) کے نزدیک (آیت) ” ذلک “ کا اشارہ اصل حکم، یعنی وجوب قربانی کی جانب ہے۔
726 ۔ یعنی جو مکہ کے باشندے یا شہر مکہ سے بالکل متصل کے باشندے نہ ہوں، بلکہ حدود میقات سے باہر کے رہنے والے ہوں۔ (آیت) ” میقات “ اس مقام کو کہتے ہیں، جہاں سے حرم کے حدود شروع ہوجاتے ہیں۔ اور وہاں پہنچ کر ہر آفاقی پر حج یا عمرہ کی نیت کرلینا اور احرام باندھ لینا واجب ہوجاتا ہے، ہر ہر سمت سے آنے والوں کی میقات الگ الگ ہے۔ (آیت) ” لمن لم یکن “ میں ل بمعنی علی ہے، اے وجوب الدم علی من لم یکن من اھل مکۃ (قرطبی) (آیت) ” حاضری المسجد الحرام “ سے خاص اہل مکہ کا مراد ہونا اور ان کے لیے تمتع کا ناجائز ہونا سب کو مسلم ہے۔ اجمع جمیعھم علی ان اھل الحرم معنیون بہ وانہ لا متعتہ لھم (ابن جریر) لیکن فقہاء حنفیہ اور بعض تابعین کا مذہب یہ ہے کہ اس میں مکہ کے علاوہ جوار مکہ کے باشندے بھی شامل ہیں۔ اور حدود میقات کے ادھر تک کل رہنے والے حاضری المسجد کے حکم میں داخل ہیں، عن مکحول قال من کان دون المواقیت (ابن جریر) عن عطاء قال من کان اھلہ من دون المواقیت فھوکاھل مکۃ لا یتمتع (ابن جریر) ھم اھل مواقیت فمن دونھا الی مکۃ (مدارک) قال عطاء ومکحول من دون المواقیت وھو قول اصحابنا (جصاص) امام شافعی (رح) کے نزدیک مکہ سے قصر نماز کی مسافت تک رہنے والے اہل مکہ ہی کے حکم میں رہتے ہیں۔ المرادبالموصول من کان من الحرم علی مسافۃ القصر عند الشافعی (رح) ومن کان مسکنہ وراء المیقات عند ابی حنیفۃ (رح) (روح) اور مفسرطبرینے بہ قاعدۂ عربیت لفظ حاضر کے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے، جو امام شافعی کا اختیار ہوا ہے۔ واولی الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال ان حاضریالمسجد الحرام من ھو حولہ فمن بینہ وبین المسافۃ مالا تقصر الیہ الصلوۃ لان حاضر الشیء فی کلام العرب ھو الشاھد لہ بنفسہ (ابن جریر) لیکن محقق جصاص رازی نے قرآن مجید ہی کی متعدد آیتوں کے سیاق سے یہ دکھایا ہے کہ محاروۂ قرآنی میں البیت سے خانہ کعبہ نہیں، بلکہ مکہ ہی نہیں بلکہ جوار مکہ مرادلیا گیا ہے۔ کان مراد اللہ تعالیٰ بذکرالبیت اقرب من مکۃ وان کان خارج منھا (احکام القرآن) اور (آیت) ” المسجد الحرام) سے بھی مراد مکہ اور مضافات مکہ ہی لی گئی ہے۔ وھی مکۃ وماقرب منھا (احکام القرآن) اور (آیت) ” المسجد الحرام “ سے بھی مراد مکہ اور مضافات مکہ ہی لی گئی ہے۔ وھی مکۃ وماقرب منھا (احکام القرآن) ۔
727 ۔ ان کی جو احکام الہی کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ اور تقوی الہی اختیار نہیں کرتے۔ لمن لم یتقہ (بیضاوی) (آیت) ” واتقو اللہ “ یعنی اللہ سے ڈرتے رہو۔ ان تمام احکام کی بجا آوری میں۔ اصل شے اور مدار کار تمام احکام ومسائل میں بس یہی تقوی الہی یا خوف خدا ہے۔ باقی تعبیر و تفسیر میں جزئی اختلافات تو اپنی اپنی فہم و بصیرت، فکر ونظر کے مطابق علماء وفقہاء شارحین ومفسرین میں ہوتے ہی رہیں گے۔ (آیت) ” شدید العقاب۔ یہاں جس سیاق میں آیا ہے اس سے بعض علماء نے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ مقدس ومتبرک مقامات میں جس طرح قبولیت وسعادت کے مواقع بہت زیادہ ہیں، اسی طرح گناہ عقوبت کا خطرہ بھی زیادہ لگا ہوا ہے۔
Ayah 2:197728 ۔ اور چونکہ وہ مشہور ومعلوم ہیں۔ اس لیے قرآن کو ان کی تصریح کی بھی ضرورت نہیں، اور وہ تین مہینے شوال، ذیقعدہ وذی الحجہ ہیں، اصل ارکان حج تو ذی الحجہ کے دوسرے ہفتہ میں ادا ہوتے ہیں، لیکن احرام حج شوال ہی سے بندھنا شروع ہوجاتا ہے، احرام اس خاص پوشش کا نام ہے جو حدود حرم یا میقات میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی وزائر پر واجب ہوجاتی ہے۔ یہ پوشش اور کچھ نہیں، صرف بےسلی ہوئی چادریں ہونی چاہئیں۔ حنفیہ کے ہاں احرام جب چاہے باندھا جاسکتا ہے۔ گو قبل شوال ناپسندیدہ ہے۔ جائز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حنفیہ کے ہاں احرام رکن نہیں صرف شرط حج ہے، جیسے وضو کہ رکن نماز نہیں، صرف شرط نماز ہے۔ امام شافعی (رح) کے ہاں شوال سے قبل حج کا احرام باندھنا جائز ہے، اس لیے کہ شافعی (رح) کے احرام رکن حج ہے، اور کسی رکن حج کی ادائیگی قبل موسم حج درست نہیں۔ (آیت) ” الحج “۔ روزانہ پنج وقتہ نماز باجماعت، مہینہ بھر کے روزوں، اور مال کے 40 1 حصہ کی زکوٰۃ کی طرح حج بیت اللہ بھی اسلام کی ان عبادتوں میں سے ہے، جس نے اپنوں ہی کو نہیں، بیگانوں کو بھی خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ اور ” مستشرقین کے رعب افگن نام سے فرنگی اہل علم واہل قلم کا جو طبقہ ہے، اس نے تو اس کے ظاہری منافع اور اجتماعی مصالح پر بار بار شک کیا ہے اور اسے اکثر ” عالم اسلامی کی سالانہ کانگرس “ سے تعبیر کیا ہے۔
729 ۔ (آیت) ” فرض فیھن الحج “ یعنی موسم حج میں ادائے حج کی نیت کرلے، اور اسے اپنے اوپر واجب کرلے، اے اوجبہ علی نفسہ (ابن قتیبہ) فمن الزمہ نفسہ (کشاف) الفرض اصلہ وجوب الشیء (ابن قتیبہ) لیکن اپنے اوپر لازم کرلینے کی عملی اور متعبر علامت کیا ہے، بعض ائمہ کے نزدیک صرف نیت کرلینا کافی ہے۔ لیکن حنفیہ نے بعض صحابیوں اور تابعین کی طرح اس کی علامت، پوشش احرام کو قرار دیا ہے۔ الفرض الاحرام (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ فرض الحج الاحرام (ابن جریر۔ عن عطاء والحسن) ولزم علی نفسہ بالاحرام (مدارک) قال ابن عباس والحسن وقتادۃ فمن احرم (جصاص)
730 ۔ (بلکہ اس سارے زمانہ میں اپنے آپ کو عبادت وذکر الہی میں مشغول رکھو) ایام صوم کی طرح یوم حج کو بھی اعمال خیر کے ساتھ مناسبت خاص حاصل ہے۔ اور جو چیزیں حرام ہیں۔ وہ تو خیر ہمیشہ ہی حرام ہیں۔ باقی جو امور جائز ومباح ہیں، ان میں بھی بہت سی چیزوں سے زمانہ صیام کی طرح حالت احرام میں دستبردار ہونا چاہیے۔ جملہ صورۃ خبر یہ ہے، لیکن معنی نہی ہے، اور وہ بھی تاکید کے ساتھ۔ یعنی ان سب امور سے ممانعت کا قطعا حکم ہورہا ہے۔ وان کان ظاہرہ الخبر فھو نھی عن ھذہ الافعال وعبر بلفظ النفی عنھا لان المنھی عنہ سبیلہ ان یکون منفیا غیر مفعول (جصاص) نفی الثلاثۃ علی قصد النھی للمبالغۃ (بیضاوی) (آیت) ” فی الحج “۔ یعنی اس زمانہ حج میں، حالت احرام میں۔ فی وقتہ ولا فی موضعہ (قرطبی) اے فی ایامہ (روح) (آیت) ” فلارفث “۔ رفث کا مفہوم عام ہے، ہر قسم کی شہوانیت یعنی مباشرت کے دواعی و مبادی اس میں شامل ہیں۔ الرفث کلام متضمن لما یستقبح ذکرہ من ذکر الجماع وداعیہ (راغب) الرفث کلمۃ جامعۃ لما یریدہ الرجل من اھلہ (قرطبی) وقال قوم الرفث الا فحاش بذکر النساء کان ذلک بحضرتھن ام لا (قرطبی) یہاں مراد شہوانی تذکرے ہیں۔ تابعین اور بعض صحابیوں سے بھی مروی ہیں۔ فقہا نے صراحت کے ساتھ دواعی و مبادی مباشرت کو اس کے تحت میں شامل رکھا ہے۔ قال ابن عمر وطاؤس وغیرھم الرفث الافحاش للمرأۃ بالکلام (قرطبی) قال ابن عباس ھو التعریض بالجماع (ابن جریر) الرفث التعریض للنساء بالجماع (ابن جریر۔ عن ابن طاؤس) قال عطاء الرفث الجماع ومادونہ من قول الفحش (ابن جریر) الجماع ودواعیہ محظورۃ علی المحرم (جصاص) وقال الحسن المراد من کل ما یتعلق بالجماع (کبیر) اللہ اکبر ! ایک معیار یہ ہے۔ عبادت میں طہارت وپاکبازی کا، اسلام کا قائم کیا ہوا، کہ اشارۃ وکنایۃ بھی اس زمانہ میں جائز شہوانی خیالات زبان پر نہ لائے جائیں۔ اور دوسری طرف مشرک قوموں کے میلے ٹھیلے، تیر تہوہار، تیرتھ جاترا، اور نمائشیں اور جلسے ہیں، جن کی گرم بازاری ہی فحش کاریوں اور شہوت انگیزیوں سے ہے ! اور پھر عرب جاہلیت کے تو ارکان حج تک میں فحش داخل تھا۔ (آیت) ” ولا فسوق “ اس کے تحت میں بڑے چھوٹے ہر قسم کے گناہ کی ممانعت آگئی، قال بعضھم الفسوقھی المعاصی کلھا (ابن جریر) عن محمد بن کعب القرظی قال الفسوق معاصی کلھا (ابن جریر) یعنی جمیع المعاصی کلھا قالہ ابن عباس وعطاء وحسن وکذلک قال ابن عمر وجماعۃ (قرطبی) اے ولا خروج عن حدود الشرع بارتکاب المحظورات (روح) حالت احرام میں جب متعدد جائز مشغلے مثلا شکار، ناجائز ہوجاتے ہیں، تو بڑی چھوٹی کسی قسم کی معصیت کی گنجائش ظاہر ہے کہاں نکل سکتی ہے۔ یہاں یہ حکم محض تاکید کے لیے ہے۔ (آیت) ” ولا جدال “۔ جدال اپنے عام ووسیع معنی میں ہے۔ مار پیٹ، ہاتھا پائی الگ رہی، زبانی حجت و تکرار جو اکثر مسابقت ومفاخرت کے موقعوں پر ہوجاتی ہے، سب احرام کی حالت میں ممنوع ہے۔ قال محمد بن کعب القرظی الجدال ان تقول طائفۃ حجتنا ابرمن حجتکم ویقول الاخر مثل ذلک (قرطبی) وقیل الجدال کان فی الفجر بالا بآء (قرطبی) اے لاخصام مع ال خدام والرفقۃ (روح) لامراء مع الرفقاء والخدم (مدارک) اے الجدال فی تقریر الباطل وطلب المال والجاہ (کبیر) حج کے موقع پر دنیا کے گوشہ گوشہ کی آبادیاں کھینچ کر آجاتی ہیں، ہر قسم، ہر عمر، ہر قماش، ہر مزاج کے لوگ ہوتے ہیں، بوڑھے بھی، جوان بھی، بچے بھی، بڑے تیز مزاج اور غصہ ور بھی، آوارہ مزاج بھی، حریص وطامع بھی، حسین ونوجوان عورتیں بھی، پھر تکلیفیں اور صعوبتیں بھی، راہ اور سواری کے سلسلہ میں طرح طرح کی پیش آتی ہیں۔ بڑے بڑے حلیم بھی دامن صبر چھوڑ بیٹھتے ہیں، رشک ومنافقت، بدنظری وبدکاری، نزاع وجدال کے موقع قدم قدم رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ حکیم مطلق کی حکیمانہ نگاہ نے (آیت) ” رفث “ اور (آیت) ” فسوق “ اور (آیت) ” جدال “ سب کے تصریحا اور تاکید ممانعت کرکے کمزور بندوں کے حق میں کیا خوب انتظام کردیا ہے۔ محققین نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ فقرہ کے آخر میں، یعنی فی الحج میں جو بجائے ضمیر کے اصل اسم لایا گیا ہے یہ تاکید وتعظیم کے لیے ہے۔ الاظھار فی مقام الاضمار لاظھار کمال الاعتناء بشانہ (روح)
731 (اور اسی کے مطابق صلہ بھی دے گا) حاجیوں کے اعمال خیر کی تشویق ورغبت افزائی کے لیے یہ بہترین ومؤثر ترین یاد دہانی ہے۔ اللہ کے عالم کل وعالم جزئیات ہونے کا پورا استحضار رکھو، اہل جاہلیت کی طرح کہیں اس تذبذب میں نہ پڑجاؤ کہ ہمارے فلاں فلاں عمل خیر کا صلہ ملے یا نہ ملے، علم الہی میں وہ آئے بھی، یا آنے سے رہ جائے۔ مومن کے لیے تو بڑی سے بڑی ہمت بھی اسی عقیدہ کا استحضار پیدا کرسکتا ہے کہ خفی سے خفی، باریک سے باریک نیکی بھی عالم الغیب کی نظر سے مخفی نہیں۔ اطباء یونانی موسم بہار میں مصفیات پلاتے ہیں، اور جاڑے کے زمانہ میں مقایات استعمال کراتے ہیں، کہ ان موسموں کو ان دواؤں کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ رمضان کا مہینہ اور حج کا موسم بھی روحانیات کے عالم میں اپنی صحت بخش آب وہوا کے لیے ممتاز ہیں، تو طبیب حقیقی ان موسموں میں اعمال خیر کی طرف خصوصی توجہ کیسے نہ دلاتا !
732 ۔ جب ارادۂ حج سے نکلا کرو۔ اس ہدایت کی قدر اس وقت ہوگی جب جاہلی قوموں کے زائرین کی ذہینت پر نظر ہو، خصوصا جاہلیت عرب کی تاریخ پر۔ آج بھی ہندوستان میں کتنی ہی قومیں ایسی ہیں، جو تیرتھ جاترا کے وقت گھر سے مفلس اور تہید ست نکلنا ہی اپنی روحانیت کا کمال سمجھتے ہیں ! راستہ میں مانگتے ہوئے جائیں گے، کوئی دوسرے انہیں کھلا پلا دیا کرے گا یہ اپنے فقیر ہونے پر فخر کریں گے، اس قسم کے سارے تخیلات وادہام اسلام نے مٹادیئے اور حکم دیا کہ جب گھر سے حج وزیارت کے لیے نکلو تو ضرورت بھر کا روپیہ پیسہ لے کر نکلو۔ راستہ میں دوسروں پر بار بننے کی کوشش نہ کرو، عرب جاہلیت میں یہ مرض اور زیادہ پھیلا ہوا تھا، بلکہ بعض گروہوں کو تو یہ غلو تھا کہ احرام پہننے کے بعد جو کچھ سرمایہ ہوتا بھی، اسے بھی پھینک دیتے ! کانوا یحجون بغیر زاد وکان بعضھم اذا احرم رمی بما معہ من الزاد (ابن جریر) کان اھل الیمن یحجون ولا یتزودون ویقولون نحن المتوکلون فاذا اقدموا مکۃ سألوا الناس (بخاری۔ عن ابن عباس ؓ طائفۃ من العرب کانت عالۃ علی الناس (قرطبی) اسلام ایسے دستور کا جو جھوٹی اور نمائشی روحانیت پر مبنی تھا اور ایک طرف شخصی غیرت وخودداری کے بھی منافی تھا اور دوسری طرف معاشیات اجتماعی پر ایک خواہ مخواہ کا بار تھا، کیسے روادار ہوسکتا تھا، اور اسے کیونکر باقی رہنے دیتا۔ (آیت) ” تزودوا “ کے صیغہ امر سے فقہاء نے نکالا ہے کہ زاد راہ لینے کا وجوب آیت سے بہ قاعدۂ عبارۃ النص ثابت ہے۔ فقہاء نے یہ بھی صاف لکھ دیا ہے کہ آیت ان ” توکل پیشہ “ صوفیہ کے مذہب کی بھی تردید کررہی ہے، جو کسب معاش کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور اسے کوئی بڑا روحانی کمال سمجھ رہے ہیں۔ ھذا یدل علی بطلان مذھب المتصوفۃ الذین یتسمون بالمتوکلۃ فی ترکھم التزود والسعی فی المعاش (جصاص) ھم المقصرون عن درجۃ التوکل الغافلون عن حقائقہ (ابن العربی) ۔
733 (خصوصا گداگری اور دوسروں کے آگے دست سوال دراز کرنے سے احتیاط) اے اتقوا الا اتقوا الاستطعام وابرام الناس والتثقیل علیہم (کشاف) فان خیر الزاد ما تکفون بہ وجوھکم عن السوال (کبیر) اے الاتقاء عن الابرام والتثقیل علیہم (مدارک) زائروں اور جاتریوں کی گدا گرانہ عادت اور جھوٹے توکل کو خاص طور پر روکنا تھا۔ اس لیے حکم تزودوا کے بعد مزید تاکید کے لیے یہ تصریح اور بڑھا دی، ابھی ارشاد ہوا تھا کہ مصارف سفر کا انتظام کرکے چلو، اب ارشاد ہورہا ہے، کہ بڑا انتظام یہی ہے کہ راہ میں دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا اور دوسروں کے لیے باعث گرانی نہ بننا پڑے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ زاد سے جب زاد راہ اور زاد عمل دونوں مراد ہوسکتے ہیں، تو واجب یہی ہے کہ دونوں کا اہتمام والتزام رکھا جائے۔ لمااحتملت الایۃ الامرین من زاد الطعام وزاد التقوی وجب ان یکون علیھما اذلم تقم دلالۃ علی تخصص زاد من زاد (جصاص)
734 (ان احکام کی تعمیل کے باب میں) اہم حکم کے بعد تقوی الہی کی تاکید اس کی دلیل ہے کہ اسلام صرف احکام کی ظاہری تعمیل کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ چاہتا ہے کہ بندوں کی اصلاح باطن سے ہو جو بھی نیک عمل انسان کرے وہ صرف اعضاء وجوارح سے نہیں بلکہ ضمیر اور دل کی پاکیزگی کے ساتھ۔