Ayah 2:215785 ۔ (اور کن موقعوں پر) سال ال مومن ون رسول اللہ ﷺ این یضعون اموالھم (روح۔ عن ابن جریح) المطلوب بالسوال ان مصرفہ ای شئی ھو (کبیر۔ عن القفال) مرادھم من قولھم لیس ھو طلب الماھیۃ بل طلب المصرف (کبیر) سوال مسلمانوں کی طرف سے تھا، اور اس باب میں تھا کہ اپنی حسب ہمت وحیثیت اور خوشدلی سے کب خرچ کریں۔ باقی جو خرچ کہ فرض ہوچکا تھا، یعنی زکوٰۃ، اس کا حساب کھلا ہوا تھا سوال اس کی بابت نہ تھا، الاکثرون علی ان الایۃ فی التطوع (روح) عن الحسنھی فی التطوع (مدارک) قرآن جو مکمل دستور حیات ہے، اس میں معاشیات کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے، اپنی جگہ پر وہ پوری اہمیت اس کے اندر رکھتے ہیں۔
786 ۔ (آیت) ” خیر “ کا مفہوم علاوہ نیکی اور بھلائی کے معروف و متعارف معنی کے محمود اور نیک کمائی والے مال کے بھی ہیں۔ المال من وجہ محمود (راغب) اور یہاں یہی مراد ہے۔
787 ۔ مصارف خیر کی یہ فہرست کیسی جامع اور اس کی ترتیب کس قدر حکیمانہ ہے۔ سب سے بڑھا ہوا اور اہم ترین حق انسان کے ماں باپ کا ہے، جتنی بھی مالی خدمت ہوسکے، ان کی کی جائے۔ پھر دوسرے عزیزوں کا نمبر ہے، اور اس میں بھائی بہن، چچا، پھوپھی وغیرہ سب آگئے۔ شریعت نے اپنے نظام میں خاندان کو جو مرکزی اہمیت دی ہے، اس پر یہ ایک اور دلیل ہے۔ پھر امت کے وہ فرزند ہیں، جو معاش کے سب سے بڑے ظاہری سہارے یعنی شفیق باپ کے سایہ سے محروم ہوچکے ہیں۔ پھر وہ اللہ کے بندے ہیں، جن پر کسی طبعی معذوری کی وجہ سے یا اور کسی خارجی سبب سے معاش کے عام ذریعے بند یا قریبا بند ہوچکے ہیں۔ اور اپنی ضرورتوں کے پوری ہونے کے لیے بیرونی امداد کے محتاج ہیں۔ اور آخر میں وہ عام انسان آتے ہیں، جو اپنے وطن سے علیحدہ ہونے کے باعث عارضی طور پر احتیاج یا تنگدستی میں مبتلا ہیں۔ قریبی اور دور کے حقدار اور ملی رشتہ رکھنے والے سب کے سب اپنی اپنی جگہ پر کس خوبصورتی سے ایک فریم کے اندر ” فٹ “ ہوگئے۔ مقصود شریعت یہ ہرگز نہیں کہ پڑوس میں ہمارا بھائی بھوک سے تڑپ رہا ہو، اور ہم اس سے بیخبر چندہ لکھوا رہے ہوں چینی ریلیف فنڈ میں !
788 (اور اس لیے اس کا اجر بھی مل کررہے گا) (آیت) ” خیر “ عام ہے۔ بدنی مالی، بڑی، چھوٹی ہر قسم اور درجہ کی نیکی کو شامل ہے۔ آیت میں تنبیہ ہے کہ گمراہ قوموں نے اپنے دیویوں، دیوتاؤں سے متعلق جو عقیدے گھڑ لیے ہیں، ان پر قیاس کرکے یہ نہ سمجھ لینا کہ اسلام کے خدا کا بھی علم ناقص یا محدود ہے یا جزئیات یا مخفیات پر محیط نہیں۔
Ayah 2:216789 ۔ (جب اس کے شرائط کا تحقق ہوجائے، اے مسلمانو ! ) قتال کے آداب، شرائط وقواعد میں سے کچھ پہلے اسی پارہ میں بیان ہوچکے ہیں، کچھ آئندہ حسب موقع بیان ہوتے رہیں گے، غیرمصافی کو قتل نہ کرنے پر اسلام نے جو ” زور “ دیا ہے، اس کو یاد رکھ کے ذرا ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو، ایسی کتاب سے جو یہود ونصاری دونوں کے نزدیک مقدس ہے :۔ ” سو اب تو جاء اور عمالیق کو مار، اور جو کچھ اس کا ہے یکلخت ختم کر، اور ان پر رحم مت کر، بلکہ مرد اور عورت، ننھے بچے شیر خوار اور بیل، بھیڑ، اور اونٹ اور گدھے تک کو سب کو قتل کر “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 15:2)
790 ۔ جیسا کہ بالکل قدرتی اور طبعی ہے۔ اپنی جان کس کو عزیز نہیں ہوتی، اور اپنی جان خطرہ میں ڈالتے ہوئے ہر جاندار قدرۃ ہچکچاتا ہے، پھر مکہ کے غریب مہاجرین جو ابھی ترک وطن کرکے مدینہ میں آکر پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے، دونوں روپیہ پیسہ میں، سازوسامان میں، تعداد میں، غرض مادی اعتبار سے کسی معنی میں بھی اپنے حریفوں کے مدمقابل نہ تھے، ان شکستہ دلوں، شکستہ بازوؤں کو حکم جنگ و قتال پاکر اگر طبعی گرانی محسوس ہوئی ہو تو یہ ان کے مرتبہ اخلاص اور قوت ایمانی کے ذرا بھی منافی نہیں۔ شاق علیکم مکروہ طبعا (بیضاوی) مکروہ بالطبیعۃ (بحر) ھذہ الکرہ من حیث نفور الطبع عنہ لمافیہ من مؤنۃ المال ومشقۃ النفس وخطر الروح لاانھم کرھوا امر اللہ تعالیٰ (معالم) (آیت) ” ھو کرہ لکم “ آیت پوری تردید کررہی ہے ان بےغیرت ” مستشرقین “ کی جنہوں نے یہ لکھ ڈالا کہ مسلمان مال غنیمت کی حرص میں خود ہی مشتاق جنگ وقت کے تھے !” کرہ لفظ مصدر ہے، معنی مفعول کے دے رہا ہے۔ جیسے خبز سے مخبوز مراد ہوجاتی ہے، اور نقض سے مراد منقوض۔
791 تعداد میں قلیل اور قوت و شوکت میں ضعیف ومضمحل جن مسلمانوں کو جہاد و قتال پر آمادہ کرنے کے لیے ” کرم فرما “ اور مسیحی دنیا کے نامور مؤرخ و سیرت نویس، پروفیسر مارگولیس کا یہ قول کس قدر ” سچائی “ اور ” دیانت “ سے لبریز ہے کہ (نعوذ باللہ) ” محمد ﷺ نے اپنے شورش پسند پیرو وں کو مشغول کا رکھنے کے لیے انہیں جہاد میں لگا دیا “ گویا گمزوروں کا زور آوروں کے سامنے اپنی جانیں دینے کے لیے آنا، شکار کی قسم کا کوئی مشغلہ سیروتفریح تھا !۔۔ دین کے دشمنوں پر یہ بھی اللہ کی کیسی پھٹکار ہے، کہ عقلیں بھی مسخ ہوجاتی ہیں ! شیئا “ صیغہ نکرہ ہے، اور اس سے یہ اشارہ نکل آیا، کہ یہاں کوئی کلی قاعدہ نہیں بیان ہورہا ہے، یعنی ہر طبعی و مرغوب ومحبوب کا شر ہونا اور ہر طبعی مکروہ ومبغوض کا خیر ہونا لازمی نہیں۔
792 ۔ یعنی اللہ ہی کا علم کامل اور ظاہر و باطن ہر پہلو کو محیط ہے۔ اس لیے اس کے احکام ہمیشہ بیشمار حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہوتے ہیں، انسانی علم اس کے برخلاف کسی چیز کا بھی کامل وجامع نہیں ہوتا، اس لیے، خود انسان کی واقفیت ومصلحت اسی میں ہے کی احکام خداوندی کی تعمیل بےچوں وچرا کرلیا کرے۔
Ayah 2:217793 ۔ الشھر الحرام بالشھر الحرام ‘ کی ذیل میں اوپر گزر چکا ہے کہ قمری سال کے چار مہینے، محرم، رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ، عرب جاہلیت میں متبرک ومحترم تھے، قتل و غارت تو ان لوگوں کا پیشہ تھا، لیکن اس زمانہ میں ہر قسم کی جنگ بندرہتی تھی۔ (آیت) ” الشھرالحرام “ سے یہاں مراد ماہ رجب ہے۔ ہوا یہ کہ 2 ہجری میں یعنی ہجرت مدینہ سے کوئی 17 مہینے بعد ایک بار سفر میں بعض صحابیوں کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا، اور ایک مشرک مقابلہ میں جان سے مارا گیا۔ واقعہ کی تاریخ صحابیوں کے خیال میں 30 جمادی الثانی کی تھی، بعد کو علم ہوا (جیسا کہ آج بھی قمری مہینوں میں بارہا ہوتا رہتا ہے) کہ چاند 29 کا ہوگیا تھا، اور وہ تاریخ یک رجب کی تھی۔ مشرکین نے سہو وغلطی کی اس رائی کو لے کر پہاڑ بنادیا، اور طعن واعتراض شروع کردیا کہ مسلمانوں کو اب محترم مہینوں کی حرمت کا بھی لحاظ نہیں۔ ان محمدا بعث سریۃ فلقوا عمرو بن الحضرمی اخر لیلۃ من جمادی الاول لیلۃ من رجب وان اصحاب محمد ﷺ کانوا یظنون تلک اللیلۃ من جمادی وکانت اول رجب ولم یشعر وا قتتلہ رجل منھم واحد (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ لقی واقد بن عبداللہ عمرو ابن الحضرمی اول لیلۃ من رجب وھو یری انہ من جمادی فقتلہ (ابن جریر۔ عن مقسم) (آیت) ” قتال فیہ “ ترکیب میں بدل ہے (آیت) ” الشھرالحرام “ سے۔ بدل اشتمال من الشھر الحرام (بیضاوی) وھذا یسمی بدل الاشتمال کقولک اعجبنی زید علمہ وانقعنی زید کلامہ (کبیر)
794 ۔ (جب کہ دانستہ یعنی ماہ حرام کا علم رکھنے کے باوجود ہو۔ اور یہ جرم مسلمانوں سے سرے سے سرزد ہی نہیں ہو) وما وقع من اصحابہ (علیہ السلام) کان من باب الخطاء فی الاجتھاد وھو معفوعنہ (روح) فقہاء مفسرین میں ایک بڑی بحث اس کی ہوئی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں قتال اب بھی جائز ہے یا نہیں ؟ محققین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جب کافر اس زمانہ میں قتال شروع کردیں، تو مسلمان کی حیات کی حفاظت کے لیے دفاعی وجوابی قتال تو بہرحال جائز ہے۔ لا خلاف فی جواز القتال فی الشھر الحرام اواذا بدوا (زاد المعاد۔ فصل احکام غزوہ خیبر) گفتگو اس میں ہوئی ہے کو اپنی طرف سے بھی اس میں ابتداء جائز ہے ؟ انما الخلاف ان یقاتل فیہ ابتداء (زاد المعاد) سو امام ابوحنیفہ (رح) وامامالک (رح) و امام شافعی (رح) ، امام احمد (رح) اور جمہور فقہاء اس کے قائل ہیں کہ قرآن ہی کی دوسری آیتوں سے یہ حکم حرمت کا لعدم ہوگیا ہے، اور اب جہاد ان مہینوں میں بھی شروع ہوسکتا ہے۔ فالجمھور جو زوہ وقالوا تحریم القتال فیہ منسوخ وھو مذھب الائمۃ الاربعۃ (زاد المعاد) قال سائر العلماء ھی منسوخۃ (ابن العربی) روی سلیمان بن یسار و سعید بن المسیب ان القتال جائز فی الشھرالحرام وھو فقھاء الامصار (جصاص) لیکن عطاء تابعی (رح) اور بعض اور اکابر اس کے قائل ہیں کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ممانعت کا حکم دائمی وقطعی ہے۔ بلکہ عطاء تو اپنے فتوے کی صحت پر حلف اٹھا لینے کو تیار تھے۔ مذھب عطاء وغیرہ الی انہ ثابت غیرمنسوخ وکان عطاء یحلف باللہ مایحل القتال فی الشھر الحرام (زاد المعاد) کان عطاء یحلف انھا ثابت لان الایات التی بعدھا عامۃ فی الازمنۃ وھذا خاص العام لاینسخ بالخاص باتفاق (ابن العربی) قالت طائفۃ حکمہ باق لم ینسخ وفیمن قال ذلک عطاء بن ابی رباح (جصاص)
795 (سوبالفرض وہ جرم مسلمان سے سرزد ہوا بھی ہوتا، جب بھی ایسے شدید بلکہ اشد جرائم کے مجرموں کو کیا حق ہے ایک اتفاقی واقعہ قتل پر اعتراض و احتجاج کا ؟ ) (آیت) ” صدعن سبیل اللہ “ اللہ کی راہ سے مراد اسلام ہے، اس سے روکنا یعنی اسلام قبول کرنے والوں کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنا، ان پر ظلم وستم توڑنا۔ سبیل اللہ اے الاسلام اومایوصل العبد الی اللہ (بیضاوی) (آیت) ” کفربہ “ یعنی اللہ سے کفر اختیار کرنا، اللہ کے دین و شریعت کو نہ قبول کرنے، اور اللہ کا شریک دوسروں کو ٹھہرانے کا عین کفرہونا ظاہر ہی ہے (آیت) ” والمسجد الحرام “ مسجد کعبہ خاص اہل توحید ہی کا معبد و مرکز ہے۔ اس کا ہر وقت اللہ کے پرستاروں کے لیے کھلا رہنا اسلامی حکومت کے فرائض اولین میں سے ہے۔ (آیت) ” المسجد الحرام “ کا عطف ترکیب میں (آیت) ” فی سبیل اللہ پر نہیں، بلکہ تقدیر کلام یوں ہے ویصدون عن المسجد الحرام ولایحسن عطفہ علی سبیل اللہ (بیضاوی) تقدیرہ ویصدون عن المسجد (عکبری) واختار ابو ابوالبقاء کونہ متعلقا بفعل محذوف اے علیہ الصد اے ویصدون عن المسجد الحرام (روح) (آیت) ” اخراج اھلہ منہ “ دونوں ضمیریں (آیت) ” المسجد الحرام “ کی طرف ہیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ اور مومنین کو ہر تنگ وپریشان کرکے مسجد الحرام سے نکال دینا، وہاں ان کا داخلہ بند کردینا، انہیں اھل اس لیے کہا گیا کہ یہی لوگ تو اس حرمت والی مسجد کے حقوق ادا کرنے والے تھے۔ انما کانوا اھلہ لانھم القائمون بحقوقہ (روح) گویا کافروں کے اعتراض کے جواب میں دو باتیں ارشاد ہوئیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے وہ گناہ عمدا زمانہ حرمت میں قتل کرنے کا عمل صادر ہی نہیں ہوا۔
796 ۔ (اپنے مفاسد اور اپنی مضرتوں کے لحاظ سے) (آیت) ” الفتنۃ “ سے مراد وہ شدید مزاحمتیں اور رکاوٹیں ہیں جو معاندین نے دین حق کی راہ میں میں پیدا کر رکھی تھیں۔ اس دین کی راہ میں جس کا مقصد ہی دنیا کو راہ امن دکھانا اور تمام زحمتوں اور کلفتوں سے نجات دلانا ہے۔ اے ممایفتن بہ المسلمون ویعذبون بہ لیکفروا (روح) والمعنی عند جمھور المفسرین الفتنۃ التی کانت تفتن المسلمین عن دینہم حتی یھلکوا (بحر) الفتنۃ ھی ما کانوا یفتنون المسلمین عن دینھم تارۃ بالقاء الشبھات فی قلوبھم وتارۃ بالتعذیب (کبیر) فتنۃ کے معنی یہاں مطلق کفر کے بھی کیے گئے ہیں، لیکن زیادہ چسپاں نہیں ہوتے، بہ قول امام رازی (رح) کے وھو عندی ضعیف (کبیر) قول محقق وہی ہے جو اوپر درج ہوا۔ اکبر کی تفسیر ابن عباس ؓ صحابی اور تابعین کے قول میں اشد سے آئی ہے (آیت) ” من القتل “ یعنی اس خاص واقعہ قتل سے، مقصد اردشاد یہ ہے کہ دین حق کی راہ میں جو لوگ رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، اور لوگوں کو اس طرح آنے سے طرح طرح کی سازشوں، تدبیروں، ترکیبوں سے روکتے ہیں، وہ حقیقۃ دنیا کو امن، عدل اور عافیت سے محروم کردینا چاہتے ہیں۔ اور اس لیے وہ نوع ونسل انسانی کے مجرم ہیں۔ اسلامی جہاد کی تو غایت ہی دنیا سے ہر قسم کی خود غرضیوں اور فریب کاریوں، ظلم وجور، شورش وبدامنی کو دور کرنا ہے، جو احمق اس کو اور عام دنیوی حکومتوں کے قتل و قتال کو یکساں سمجھ رہے ہیں، وہ جراح کے نشتر اور ڈاکو کے خنجر کو ایک سطح پر رکھ رہے ہیں۔
797 ۔ یہ بیان ہے اس کا کہ مشرکین عرب اسلام سے کس درجہ بیزار اور حق کے کس درجہ دشمن تھے۔ (آیت) ” لا یزالون یقاتلونکم “ میں اشارہ انہی دشمنان حق کی جانب ہے۔ ایک انگزیز مترجم قرآن، کیمرج یونیورسٹی کے استاد عربی، پروفیسر پامر ہوئے ہیں، اس موقع پر طنز وتعریض کا نشتر یوں چلاتے ہیں :۔ اب اسلام نے کافروں پر ہر چہار طرف سے دھاوا بول دیا “۔ دھاوا چاروں طرف سے یقیناً بول دیا گیا تھا۔ لیکن اس جھوٹ میں سچ صرف اتنا ہے کہ یہ دھاوا اسلام کا نہ تھا، خود اسلام پر تھا، (آیت) ” حتی “ کے معنی یہاں ” تاکہ “ کے ہیں اور غرض ومقصود کے اظہار کے لیے ہے۔ حتی للتعلیل (بیضاوی) یجوز ان یکون بمعنی الی (عکبری) اے الی ان یردوکم وقیل المعنی لیردوکم (کبیر) (آیت) ” ان استطاعوا “ میں اشارہ یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا اپنے دین سے ہٹنا اور کافروں کا انہیں اپنی کوششوں سے ہٹا لینا کچھ آسان نہ تھا۔ استبعاد لا استطاعتھم (کبیر) اشارۃ الی تصلبھم فی الدین وثبات قدمھم فیہ کانہ قیل وانی لھم ذلک (ابو سعود)
798 ۔ (آیت) ” حبطت۔۔۔ الاخرۃ “ حبط اعمال کا اثر آخرت میں تو یوں ظاہر ہوگا کہ یہ بدنصیب مرتد اپنے کو ہر ساعت کے اجر اور ہر عبادت کے ثواب سے محروم پائے گا اور دنیا میں اس کا ظہور یوں ہوگا کہ نہ مسلمان بیوی سے اس کا نکاح قائم رہ سکتا ہے، نہ مسلمان کی میراث میں اسے حصہ مل سکتا ہے۔ بلکہ حکومت اگر اسلامی ہو تو ایسے بدعہد، باغی وغدار کو زندہ رہنے کا بھی حق باقی نہیں رہتا۔ شریعت یہود میں ارتداد ہی نہیں، سعی ارتداد ہی نہیں، سعی ارتداد اور ترغیب ارتداد کی بھی سزا قتل وسنگساری ہے۔ تو ریت میں ہے :۔ ” اگر تیرا بھائی جو تیری ماں کا بیٹا ہے یا تیر اہی بیٹا ہے یا تیری بیٹی یا تیری ہمکنار جو رو یا تیرا دوست جو تجھے جان کے برابر عزیز ہے تجھے پوشیدہ میں پھسلا وے اور کہے کہ آج غیر معبودوں کی بندگی کریں جن سے تو اور تیرے باپ دادے واقف نہیں تھے۔ تو تو اس سے موافق نہ ہونا، اور اس کی بات نہ سننا۔ تو اس پر رحم کی نگاہ نہ رکھنا، تو اس کی رعایت نہ کرنا، تو اسے پوشیدہ نہ رکھنا، بلکہ اسے ضرور قتل کرنا، اس کے قتل پر پہلے تیرا ہاتھ بڑھے اور بعد اس کے قوم کے ہاتھ۔ اور تو اسے سنگسار کرنا، تاکہ وہ مرجائے “۔ (استثناء۔ 13:6 ۔ 10) اور نصرانیوں کے ہاں بھی۔ ” دانستہ ارتداد ناقابل تلافی گناہ ہے قتل اور زنا کاری کے درجہ کا “۔ (انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈایتھکس جلد 6 صفحہ 623) چناچہ انگلستان میں ایک چھوٹے پادری نے جب تیرہویں صدی مسیحی میں ایک یہودن سے شادی کے پھیر میں دین نصرانیت کو ترک کردیا تھا تو اسے آکسفرڈ میں 17 ۔ اپریل 1232 ء کو جلا دیا گیا۔ (ایضا۔ صفحہ 644) (آیت) ” فیمت وھو کافر “۔ ” اسی حالت کفر ہی میں اس کی موت آجائے “ یہ فقرہ بڑھا کر گویا یہ ترغیب دے دی کہ اگر خدانخواستہ کوئی مرتد ہو ہی گیا، تو اب بھی موقع ارتداد سے پھر اپنے دین کی طرف واپس آجانے کا باقی ہے۔ امام شافعی (رح) نے اس فقرہ سے یہ اسنتباط کیا ہے کہ محض ارتداد سے اعمال کا حبط نہیں ہوجاتا جب تک کہ مرتد کی موت بھی ارتداد پر نہ ہو۔ وبھا احتج الشافعی (رح) علی ان الردۃ لا تحبط العمل حتی یموت علیھا (مدارک) قید الردۃ بالموت علیھا فی احباط الاعمال کما ھو مذھب الشافعی (بیضاوی) لیکن حنفیہ کے پاس جواب ہے کہ یہ مسئلہ تو خود قرآن ہی نے صاف کردیا ہے، اورا یک دوسری آیت میں صاف حبط عمل کو نفس ارتداد پر معلق کردیا ہے۔ ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ اور یہی قول امام مالک (رح) کا بھی ہے۔ قال مالک یحبط بنفس الردۃ (ابن العربی) (آیت) ” یرتدد “ باب افتعال سے ہے۔ اور افتعال میں ایک مفہوم تکلف کا بھی نکلتا ہے۔ بعض اہل معانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ فعل کے اب باب میں لانے سے اسی عمل ارتداد کے استبعاد پر توجہ دلانا ہے وجاء افتعل ھنا بمعنی التعمل والتکسب لانہ تکلف اذ من باشر دین الحق یبعد ان یرجع عنہ (بحر) (آیت) ” عن دینہ “ دین سے یہاں کھلی ہوئی مراد دین اسلام ہے کہ خطاب یہاں مومینن ہی سے ہے۔
799 ۔ (آیت) ” خلدون ‘۔ خلود کے معنی ہیں کسی چیز کا ایک حالت پر بغیر کسی قسم کا خلل پڑے ہوئے قائم و باقی رہنا۔ الخلود بقاء الاشیاء علی الحالۃ التی علیھا من غیر اعتراض الفساد (راغب) اس تصریح نے اور صاف کردیا۔ ورنہ یوں بھی عالم آخرت ہمیشگی کا عالم ہے۔ وہاں کی ہر سزا اور جزا (تاوقتیکہ موقت و محدود نہ کردی جائے) یوں بھی دائمی وجاودانی ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قدیم محقق مترجمین نے اپنے ترجموں میں اس پہلو کو واضح کردیا ہے۔ ایشاں دراں جاوید ند۔ (شاہ ولی اللہ دہلوی) وہ بیچ اس کے ہمیشہ رہیں گے (شاہ رفیع الدین دہلوی)
Ayah 2:218800 ۔ (آیت) ” الذین ھاجروا “۔ دین کے تحفظ وبقا کی خاطر وطن جیسی عزیز ومحبوب چیز کو مع وہاں کے تمام مرغوبات ومالوفات کے چھوڑنا اور کفر کی بستی کو ترک کرکے ایمان کی بستی میں آجانے کا نام ہجرت ہے الخروج من الکفر الی دارالایمان (راغب) (آیت) ” جھدوا “ جہاد کے معنی شدید کوشش اور جدوجہد کے ہیں۔ اس میں سب طرح کی بلائیں اور تکلیفیں آگئیں، اور اس کی بڑی فرد قتال ہے۔ فاطر کائنات کے قانون میں ہجرت و جہاد دونوں کے بڑے فضائل اور بڑے مرتبے ہیں۔ ایمان خود ہی کیا کم دولت ہے۔ اور پھر جب اس کے ساتھ یہ دونوں مرتبے بھی حاصل ہوجائیں، تو اس کے درجہ کا کیا ٹھکانا ہے ! نفس ایمان تو سب صحابیوں میں مشترک تھا ہی، کثرت سے صحابہ ان دونوں دولتوں سے بھی مشرف ہوچکے تھے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “ یہ قید لگا کر پھر اس حقیقت کو صاف کردیا، کہ ہجرت و جہاد، بجائے خود کیسے ہی مجاہدے سہی، اللہ کے ہاں مقبول جبھی ہیں، جب خدا کی راہ میں ہوں، دین خدا کے واسطے ہوں، ورنہ محض محنت ہی محنت ہاتھ رہے گی، وطن، قوم، نسل، رنگ کے نام پر جانیں دے دینے والے، بڑی سی بڑی مصیبتیں جھیل لے جانے والے آج ہندوؤں، بارسیوں، جرمنوں، انگریزوں، روسیوں، امریکیوں، جاپانیوں سب میں لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں مل جائیں گے، سب کے سب (آیت) ” فی سبیل اللہ اور الذین امنوا “ کے وصف سے خالی ! اکبر (رح) نے خوب کہا ہے۔
ع : ثواب جب ہے کہ ناخوش ہو اس بنا پر تم دلوں کو طاعت حق سے یہ دور کرتے ہیں۔
نہ یہ کہ عیش میں میرے ہیں یہ خلل انداز ہمیں ضعیف سمجھ کر غرور کرتے ہیں۔
801 ۔ اس میں بشارت و تسلی ان مومینن کے لیے ہے جن کے ہاتھ سے ایک مشرک کا قتل یکم رجب کو بغیر صحیح تاریخ سے واقفیت کے ہوگیا تھا۔ اوپر حاشیوں میں ضروری تفصیل گزر چکی۔
802 ۔ ان صفات کے اثبات سے مقصود مومنین کی مزید تشفی وبشارت ہے۔ (آیت) ” غفور “۔ سو وہ اپنی صفت غفوریت کے تقاضہ سے اس سہو وخطا کو معاف کرے گا۔ (آیت) ” رحیم “۔ سو وہ اپنی صفت رحیمیت کے تقاضہ سے اجر بھی مرحمت فرمائے گا۔
Ayah 2:219803 ۔ یعنی ان کے حکم شرعی کی بابت، ان کے جواز وعدم جواز کی بابت۔ والمعنی یسئلونک عما فی تعاطیھما بدلیل (کشاف) دل تخصیص الجواب علی ان ذلک السوال کان واقعا عن الحل والحرمۃ (کبیر) (آیت) ” الخمر “ خمر ومیسر یہاں دونوں اپنے عام ووسیع معنی میں ہیں۔ خمر کے تحت میں ہر وہ نشیلا مشروب داخل ہے جو عقل کو مختل کردے، اسم لکل مسکر خامر العقل (تاج) الخمر ما اسکرمن عصیر کل شی (تاج) سمیت لکونھا خامرۃ لمقر العقل (راغب) شریعت نے بھی اسی لغوی مفہوم کو قبول کرلیا ہے۔ صحابیوں اور تابعین سب سے یہی منقول ہیں۔ الخمر ما خامر العقل (بخاری۔ عن ابن عمر ؓ) الخمر کل شراب خمر العقل فسترہ وغطی علیہ (ابن جریر) (آیت) ” المیسر “ بھی ایسے ہی وسیع معنی میں ہے، اور جوئے کے تمام اقسام پر شامل ہے۔ کل شئی فیہ قمار فھو من المیسر (تاج) علمائے شریعت نے بھی اسی لغوی مفہوم پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ المیسروھو القمار (ابن کثیر) یعنی القمار (معالم) وفی حکم المیسر انواع القمار والنرد والشطرنج وغیرھما (مدارک) شراب اور جوا جس طرح آج فرنگی تہذیب میں جائز ہی نہیں بلکہ عین اس تہذیب کا جزوبنے ہوئے ہیں، اور دلیل عزت و شرافت ہیں، اسی طرح قدیم عربی تہذیب کا بھی جزو تھے، اور لوازم شائستگی میں سے سمجھے جاتے تھے۔ اور اکیلے عرب ہی میں موقوف نہیں، یہ مشغلے سارے روئے زمین پر پھیلے ہوئے تھے، اور ہندی تہذیب، مصری تہذیب، یونانی تہذیب، رومی تہذیب تو خیر خود ہی جاہلی تہذیبیں تھیں، اسرائیلی اور مسیحی تہذیبیں تک جو شرف رسالت کے تعلق سے مشرف تھیں، ان کی روک تھام نہ کرسکی تھیں، شریعت اسلامی ہی دنیا کا وہ قانون ہے جس نے آکر ان کی قطعی حرمت کا اعلان کیا۔ یہ آیت سلسلہ حرمت کی سب سے پہلی آیت ہے۔ قطعی حکم بعد کو نازل ہوا۔ علامہ آلوسی بغدادی۔ صاحب تفسیر روح المعانی نے اس مقام پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، کہ ہمارے زمانہ کے فاسقوں نے نشیلے مشروبات کے لیے طرح طرح کے خوشمنا نام اور لقب رکھ لیے ہیں۔ عرق عنبری، ماء الاکسیر وغیرہا لیکن نام کے بدل دینے سے حقیقت اور حکم شرعی نہیں بدل جایا کرتا، نشہ آور چیزیں بحرحال حرام ہیں۔ علامہ کا سال وفات 1853 ء ہے، گویا آج ( 1945 ء) سے ایک سو سال قبل کے عراق میں آپ کو یہ حسرت ناک تجربے ہوچکے تھے۔ ان مرحوم کو کیا اندازہ کہ آج فرنگیوں کے اثر سے ان کے وطن عراق ہی میں نہیں، بلکہ مصر، ایران، ترکی، شام وغیرہ میں شراب کتنی اور کن کن شکلوں کے ساتھ پھیل چکی ہے ! اور خمر ہی نہیں میسر بھی کیسے کیسے نئے اور خوشنما ناموں کے ساتھ ” تہذیب و تمدن “ کا جزوبن چکا ہے۔ اور کتنے گوشوں میں داخل ہوچکا ہے !
804 ۔ (جیسا کہ مشاہد ہے) (آیت) ” اثم “ کا لفظ ہر ایسے فعل کے لیے آتا ہے جو نیکی کی راہ سے رکاوٹ پیدا کرنے والا ہو۔ اسم للافعال المبطنۃ عن الثواب (راغب) (آیت) ” اثم “ کا اطلاق کسی عمل پر خود اسے حرام قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ الاثم کلہ محرم (جصاص) چہ جائیکہ جب اس پر تاکید بھی (آیت) ” کبیر “ کے ساتھ موجود ہو ! (آیت) ” اثم کبیر “ ہی سے فقہاء نے نکالا ہے کہ شراب کی مقدار قلیل بھی حرام ہے۔ ولا حد علی تحریم القلیل منہ (جصاص) اور اس لحاظ سے قرآن مجید ان دونوں کے حق میں لفظ (آیت) ” اثم “ بہت خوب لایا، معاشرہ میں آج تک جتنے فسادات شراب نوشی سے پیدا ہوچکے ہیں۔ اظہر من الشمس ہیں۔ گالیاں یہ بکوائے، بےحیائی یہ پھیلائے، حرامکاری کی طرف یہ لائے، بلوئے، دنگے یہ کراوے، چوری ٹھگی پر یہ آمادہ کردے، قتل کی نوبت یہ لے آئے، ہر عبادت سے، طہارت سے، پاکیزہ منشی سے یہ روک دے، اور اسراف تو اس کے لیے کوئی بات ہی نہیں۔ اور قمار بازی کی لائی ہوئی مصیبتیں کچھ کم ہیں ؟ فرنگستان کے سب سے بڑے قمار خانہ مونٹے کارلو Monte Carlu ہر سال کتنی بیشمار دولت تلف ہوتی رہتی ہے ! دیوالی اور جمگھٹ کی راتوں کو ہندوستان کے اندر کیا کچھ نہیں ہوتا ؟ اور پھر جوئے کی جدید ترین شکلوں، بیمہ کمپنیوں کے جوئے، گھڑ دوڑ کے جوئے، چٹھیوں (لاٹریوں) کے جوئے، سٹے وغیرہ کو کوئی کہاں تک شمار کرے ؟ سچ کہا ان مفسرین نے جنہوں نے کہا کہ ان دونوں مشغلوں کے اندر نیکیوں سے بڑی رکاوٹ ہے۔ فی تناولھما ابطاء عن الخیرات (راغب) من حیث ان تناولھما مؤد الی ما یوجب الاثم وھو ترک المامور وفعل المحظور (روح) بعض صحابیوں، مثلا حضرت عمر اور حضرت معاذ ؓ کی بابت منقول ہے کہ انہوں نے شراب کی بابت رسول اللہ ﷺ سے از خود دریافت کرنا شروع کردیا تھا کہ ایسی چیز جو عقل اور مال دونوں کو غارت وبرباد کردینے والی ہو، اس کے باب میں کیا حکم ہے ؟ کان المسلمون یشربونھا حلال لھم ثم ان عمرو معاذا ونفرا من الصحابۃ قالوا یا رسول اللہ افتنا فی الخمر فانھا مذھبۃ للعقل مسلبۃ للمال (کبیر) صحبت رسول اللہ ﷺ کی برکت سے اگر قلوب میں از خود اتنی جلا پیدا ہوگئی ہو، تو اس میں حیرت ہی کیا ہے ؟
805 ۔ (کچھ تھوڑے بہت) حق تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی کائنات میں سرے سے مضر ہی مضر اور ہر طرح نفع اور مصلحت سے خالی، کوئی شے موجود ہی نہیں۔ یہاں تک کہ شراب نوشی اور قمار بازی جیسے گندے مشغلے بھی اس کلیہ سے مستثنی نہیں۔ مثلا شراب سے بعض بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے۔ بعض شرابیں خوشبورکھتی ہیں، شراب سے فوری لذت و سرور حاصل ہوتا ہے، بعض قوتوں میں عارضی طور پر تحریک پیدا ہوجاتی ہے، وقس علی ہذا یا اسی طرح جوئے میں جو جیتتا ہے، اسے بلامشقت وتعب تھوڑی ہی سی دیر میں آمدنی ہوجاتی ہے۔ وقس علی ھذا اے باللذۃ والفرح فی الخمر واصابۃ المال بلاکد فی المیسر (جلالین) مفسرین نے آیت کے اس جزو کے تحت میں شراب کے بہت سے منافع ومصالح اپنی اپنی بصیرت ودائرہ علم کے لائق گنائے ہیں، اور یہیں سے ایک مسئلہ نکل آیا۔ کسی حرام اور ناجائز شے کے جزوی منافع ومصالح بیان کرنا اس کی حرمت کے منافی اور اس کی حرمت سے انکار کے مرادف ہرگز نہیں۔ آج جو ” اسپرٹ “ ملی ہوئی انگریزی دوائیں کثرت سے چل پڑی ہیں، یہ عموما تیزاب کے قسم کی ہوتی ہیں، اور فقہاء نے انہیں زہر کے حکم میں رکھا ہے۔
806 ۔ (اس لیے عقل سلیم کے لحاظ سے یہ دونوں چیزیں قابل ترک اور واجب الاحتراز ہیں) فقہا نے کہا اور بالکل صحیح کہا ہے کہ حرمت خمر پر دوسری آیتیں اس سے صریح ترنہ موجود ہوتیں، جب بھی خود یہ آیت حرمت کے لیے کافی تھی، ھذہ الایۃ قد اقتضت تحریم الخمر لولم یروغیرھا فی تحریمھا لکانت کافیۃ مغنیۃ (جصاص) یہ فخر تاریخ میں اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے اپنے ایک اشارہ سے اپنے حدود مملکت سے کہنا چاہیے کہ ان خبائث کا خاتمہ ہی کردیا، اور اشخاص وافراد کی کارستانیوں سے قطع نظر، امت کی نظر میں بحیثیت مجموعی لفظ ” شرابی “ اور لفظ ” جواری “ دونوں کو انتہائی تحقیر وذلت کا لقب ٹھہرا دیا۔ یہ اسلام ہی کا اعجاز ہے کہ اس نے اپنے پیرو وں کا جہاں تک ان اخلاقی نجاستوں کا تعلق ہے، پاکیزگی اور ستھرائی کے اس بلند مقام پر پہنچا دیا، جہاں تک باوجود علم وفضل وفہم و دانش کے بلند بانگ دعو وں کے، آج تک نہ کوئی، ” ٹمپرنس ایسو سی ایشن “ (اعتدال، احتیاط کی تبلیغ کرنے والی انجمن) پہنچا سکی ہے نہ کوئی پر وہیبیشنسٹ Prohibitionist گورنمنٹ “ (قانون امتناع جاری کرنے والی حکومت) ! سرولیم میور، اپنے نہیں، بیگانے ہیں، معتقد نہیں منتقد ہیں، باوجود اس کے لکھتے ہیں :۔ ” اسلام فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ترک میکشی کرانے میں جیسا وہ کامیاب ہوا ہے، کوئی اور مذہب نہیں ہوا ہے “ (لائف آف محمد ﷺ صفحہ 52 1) انیسویں صدی کے ربع آخر میں لندن میں چرچ کانگرس کے ایک اجلاس کے موقع پر ایک ممتاز پادری اسحاق ٹیلر نے کہا تھا :۔ ” دنیا میں انسداد مے نوشی کی سب سے بڑی انجمن خود اسلام ہے۔ برخلاف اس کے ہماری یورپین تجارت کے قدم جہاں جہاں پہنچتے جاتے ہیں، مے نوشی وبدکاری اور لوگوں کی اخلاقی پستی بڑھتی ہی جاتی ہے “۔ ٹمپرنس کے نام سے مے نوشی میں اعتدال و احتیاط پیدا کرنے کے لیے یورپ اور امریکہ اور ہندوستان میں آج بھی خدا معلوم کتنی انجمنیں بہترین نظم ونظام اور شہرت کارگردگی کے ساتھ قائم ہیں، اور امریکہ کے مشہور کارکن ” گربہ پاجانسن “ Pussy Foot Johnson نے تو اپنی سرگرمیوں کی دھوم سارے دنیائے متمدن میں مچادی۔ اور بڑے بڑے ڈاکٹر اور ماہرین سائنس شراب کے نقصانات پر بیانات اور اعداد برابر شائع ہی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان ساری سرگرم کوششوں کے باوجود خود انہی لوگوں کو یہ اقرار ہے کہ شراب کو قطعی حرام کیے بغیر کوئی چارہ نہیں “۔ (انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا، جلد 26 صفحہ 590، طبع یازدہم) ہندوستان میں ابھی دو چار سال ہی ہوئے (غالبا 1939 ء میں) متعدد صوبہ وار حکومتوں نے اپنے علاقوں میں قانون امتناع نافذ کیا تھا۔ لیکن آخر میں وہ قانون واپس لیتے ہی بنی !۔۔۔ محکمہ آبکاری کی لکھو کھا روپیہ کی آمدنی سے دستبر دار ہوجانا کوئی آسان بات ہے ؟ رہی قماربازی۔ سو اس باب میں قانون اسلام سے باغی ومنحرف ہو کر یورپ اپنے ہاتھوں اپنا جو حال کررہا ہے، وہ عالم آشکار ہے، خود کشی اوراقدام خود کشی کے کتنے واقعات، مے نوشی اور قمار بازی ہی کا نتیجہ ہوتے ہیں ! پھر مالی ابتری کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یورپ کی پہلی جنگ عظیم سے قبل، اکیلے ملک انگلستان سے متعلق تخمینہ ہے کہ کم از کم دس کروڑ پونڈ سالانہ کی رقم اپنے مالکوں کے قبضہ سے نکل کر جو اریوں کے ہاتھ میں پہنچتی رہتی ہے ! (انسائیکلوپیڈیا آف رییلجن اینڈ ایتھکس۔ جلد 6 صفحہ 164) یہ تخمینہ یورپ کے صرف ایک ملک، اور ایک چھوٹے سے رقبہ سے متعلق تھا، اور وہ بھی پہلی جنگ عظیم سے قبل کا ! یورپ کے کل ملکوں (اور اس فہرست میں دنیائے معلوم کا مشہور ترین قمارخانہ مانٹی کارلو بھی شامل ہے) اور امریکہ کی ساری ولایتوں کی مجموعی تباہ کاریوں کے جدید ترین تخمینہ کے لیے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حساب کے کن ہندسوں تک میزان پہنچے ! رہیں قانون وقت کی ناکام کوششیں، تو اسی انسائیکلوپیڈیا کے اسی مقالہ میں ہے کہ ” قانون اس میں کمی پیدا کرنے کی اپنی والی سب ہی کوششیں کررہا ہے بجز اسے قطعی ممنوع کرنے ناممکن کوشش کے “۔ (ص 165) یہ حوصلہ اسلام ہی کا تھا کہ اس نے ” عقلائے فرنگ “ کی اس ” ناممکن “ کوشش کو اپنے حدود میں ممکن ہی نہیں واقع کرکے دکھا دیا۔
807 (خیر خیرات میں) فرض زکوٰۃ کی تو شرح متعین تھی۔ یہ سوال اس کے علاوہ دوسرے نیک کاموں میں صرف سے متعلق تھا۔
808 ۔ اور اس آسانی کا معیار، بہ قول مفسر تھانوی (رح) یہ ہے کہ اس سے کسی حقدار کا حق ضائع نہ ہو اور اپنے ضروری مصارف میں تنگی نہ اٹھانا پڑے۔ (آیت) ” العفو “ عفو سے مراد بس اتنا خرچ کرنا ہے جو اپنے اوپر بار نہ ہو۔ العفو نقض الجھد وھو ان ینفق مالا یبلغ انفاقہ منہ الجھد (کشاف) اے مالا یجھد (روح۔ عن الحسن) اے انفقوا ما فضل عن قدر الحاجۃ (مدارک)
Ayah 2:220809 (ان احکام پر عمل کے وقت) امور آخرت میں غور وفکر کرتے رہنے کی اہمیت تو ظاہر ہے۔ یہاں حکم اس کامل رہا ہے یہ کہ امور دنیا میں بھی سوچ بچار سے کام لیا کرو، تو کیا دنیا بھی اس قابل ہے کہ اس کے معاملات میں غور و تدبر سے کام لیا جائے ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ راز اس کا یہ ہے کہ انسان خلوء ذہن کے ساتھ جس قدر دنیا اور اس کے کاروبار کو سوچے گا، اسی قدر اس کی بےثباتی اور بےقدری اس کے دل پر جمتی جائے گی ،
810 (کہ ان کے خرچ کا نظام رکھا جائے، آیا اپنے حساب میں شامل رکھا جائے یا ان کا حساب بالکل الگ کردیا جائے) یہ سوال کرنے والے یتیموں کے اولیاء تھے، جن کی ولایت وسرپرستی میں یتیم بچے پل رہے تھے۔ اللہ رہے صحابہ ؓ کی احتیاط اور مرتبہ تقوی ! صراحت کے ساتھ آکر سوال کیا کہ یتیموں کی جائیدادوں سے انتفاع کی آیا کوئی شکل بھی اولیاء اور سرپرستوں تک کے لیے جائز ہے ؟ جائیداد کی طمع بھی بری ہوتی ہے۔ عرب جاہلی میں بہت سے لوگ اس لیے یتیموں کو اپنی ولایت وسرپرستی میں لیتے تھے کہ ان کی جائیداد میں خورد برد کا موقع مل جائے گا۔ بلکہ کوئی یتیم لڑکی اگر مالدار نظرآئی، تو اس سے اپنے لڑکے کی شادی بھی اسی طمع میں کردیا کرتے تھے۔ (آیت) ” الیتمی “ یتیم کی جمع ہے۔ اور یتیم سے مراد وہ لڑکا یا لڑکی ہے، جس کے سر سے باپ یا ماں کا سایہ اٹھ گیا ہو۔ احکام شریعت میں یتیمی باپ کی طرف سے معتبر مانی گئی ہے۔ الیتیم المنفرد عن اجدادیہ (جصاص) انما المراد بالایتام الفاقدون لابآءھم وھم صغار (جصاص)
811 سو وہ جس طریق پر حاصل ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔ یہاں اصل اصول بیان کردیا کہ مقدم شرط جائیداد یتیم کے مصالح کی رعایت ہے۔ اگر اس کا تقاضہ یہ ہو کہ اپنا اور یتیم کا حساب ایک میں رکھا جائے، تو یہی کیا جائے، ورنہ اس کے برعکس۔ اصلاح کا لفظ عام ہے۔ اگرچہ اس کا قریبی تعلق مالی مصالح سے ہے۔ لفظ کے عموم میں جسمانی، مالی، اخلاقی، ہر قسم کی اصلاح آگئی، فقہاء نے بہ قاعدہ اقتضاء النص اس عموم سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یتیم پر جو تہدید، تنبیہ، تعلیم وتربیت کی ضرورت سے ہو وہ بالکل درست ہے۔ اسلام کی یتیم پروری کا اعتراف اپنوں ہی کی طرح بیگانوں اور منکروں کو بھی ہے۔ برطانوی مصنف باسورتھ اسمتھ نے لکھا ہے :۔ ” پیغمبر کی توجہ خصوصی کے مرکز غلاموں کی طرح یتیم بھی رہے ہیں، وہ خود بھی یتیم رہ چکے تھے۔ اس لیے دل سے خصوصی کے مرکز غلاموں کی طرح یتیم بھی رہے ہیں۔ وہ خود بھی یتیم رہ چکے تھے۔ اس لیے دل سے چاہتے تھے کہ جو حسن سلوک خدا نے ان کے ساتھ کیا وہی وہ دوسروں کے ساتھ رکھیں۔ “ (محمڈ اینڈ محمڈ نزم، صفحہ 25 1) امریکی ماہر اجتماعیات، ، ڈاکٹر رابرٹس لکھتے ہیں :۔” قرآن کے مطالعہ سے ایک خوشگوار تیرین چیز یہ معلوم ہوتی ہے کہ محمد ﷺ کو بچوں کا کس قدر خیال تھا۔ خصوصا ان بچوں کا جو والدین کی سرپرستی سے محروم ہوگئے ہوں، بار بار تاکید بچوں کے ساتھ حسن سلوک کی ملتی ہے “ (سوشل لازآف دی قرآن صفحہ 40 ۔ 4 1) اور پھر کہا ہے :۔ محمد ﷺ نے یتیموں کے باب میں اپنی خاص توجہ مبذول رکھی۔ یتیموں کے حقوق کا بکثرت ذکر اور ان سے بدسلوکی کرنے والوں اور ان کے حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف سخت وعیدیں سیرت محمدی ﷺ کے اس پہلوکو ظاہر کرتی ہیں، جس پر مسلمان مصنفین کو بجاطور پر ناز ہے۔ “ (ص 4 1) ۔
812 (بھائی ہیں۔ اور اس لیے مشترک خرچ میں کوئی مضائقہ نہیں) (آیت) ” اخوانکو “ لفظ اخ یا بھائی ہی بھائی ٹھہرے، تو بھائی بھائی میں تکلف کیسا ؟ اور عرب میں تو یہ رشتہ اور زیادہ قوی تھا۔ فھم اخوانکم والاخوان یعنی بعضھم بعضا ویصیب بعضھم من اموال بعض علی وجہ الاصلاح والرضاء (معالم) چونکہ اس وقت اکثر مسلمانوں کے پاس، مسلمان ہی یتیم تھے، اس لیے (آیت) ” اخوانکم “ فرمایا۔ ورنہ اگر دوسرے مذہب کا بچہ بھی اپنی تربیت میں ہو، اس کا بھی بجنسہ یہی حکم ہے۔ اور اس کی دلیل دوسری آیات و احادیث ہیں جو الفاظ عامہ سے وارد ہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ مذہبی رعایت اتنی اور زائد ہے کہ اس بچہ پر بعد بلوغ قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جاتا، مذہبی آزادی دی جاتی ہے “۔ (تھانوی)
813 ۔ یعنی اس پر سب کی نیک نیتی اور بدنیتی دونوں خوب روشن ہیں۔ (آیت) ” المفسد “ یعنی یتیموں کی مصلحت کو ضائع کرنے والا، الذی یقصد بالمخالطۃ الخیانۃ وافساد مال الیتیم (معالم) (آیت) ” المصلح “ یعنی یتیموں کی مصلحت کا لحاظ رکھنے والا الذی یقصد الاصلاح (معالم) مفسر ابو سعود نے کہا ہے کہ لفظ (آیت) ” المفسد “ کو (آیت) ” المصلح “ پر مقدم رکھنے میں وعید میں تاکید اور تہدید اور زیادہ پیدا ہوگئی۔
814 ۔ یعنی بجائے ان آسانیوں کے اب باب میں کوئی سخت قانون بنا دیتا۔ (آیت) ” ولوشآء اللہ “ یعنی اگر اس کی حکمت ومشیت تکوینی کا اقتضاء یہی ہوتا۔
815 ۔ یہاں اپنی دونوں صفات یاد دلادیں۔ پہلی صفت (آیت) ” عزیز “ کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ جو حکم چاہتا دے سکتا تھا، کوئی قوت اس سے بالاتر، کوئی حاکم اس کے اوپرممکن نہیں۔ سب پر بلادست خود ہی ہے۔ لیکن دوسری صفت ” حکیم “ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ احکام وہی دیتا ہے جو بندوں کے لیے نرم وآسان وقرین مصلحت ہوں۔
Ayah 2:221816 ۔ (اے مسلمان مردو ! ) میاں بیوی کا رشتہ انتہائی الفت ورفق کا، اور باہمی مناسبت اور موانست کا ہوتا ہے۔ بیوی کو اگر شوہر سے اس درجہ نامناسبت ہے کہ وہ اس کی ساری شعوری اور اختیاری زندگی کے اصل اصول یعنی توحید و رسالت ہی کی منکر ہے، تو معلوم ہوا کہ دونوں میں باہمی مناسبت کی بنیاد درجہ ضعیف میں بھی موجود نہیں۔ مرد کو ایسی عورت کے ساتھ عمر نباہ کرنے کا خیال ہی چھوڑ دینا چاہیے، موافقت کامل کے دوسرے اجزاء عناصر موجود نہ ہوں، نہ سہی لیکن کم از کم وہ بنیادی عقیدہ تو مشترک ہو، جس کے تابع وماتح، چھوٹا بڑا زندگی کا ہر معاملہ ہے۔ فطرت بشری خود ایسے بےجوڑ ازدواج سے ابا کرتی ہے، دین فطرت اسے کیونکر جائز رکھ سکتا تھا۔ پھر نکاح اسلام میں ایک دینی اور مذہبی عمل ہے۔ محض معاہدۂ دیوانی Civil Contract نہیں۔ جب ایک فریق دین و مذہب کی بنیادوں ہی سے منحرف ہے، تو اس کے ساتھ معاہدہ ممکن کیونکر ہے ؟ (آیت) ” المشرکت “ لفظ مشرکہ یہاں اپنے عام ووسیع معنی میں ہے۔ ہر قسم کی کافر یا غیر مسلم عورت اس حکم ممانعت میں داخل ہوگئی، اس کا بت پرست ہونا لازمی نہیں۔ قول محقق یہی ہے۔ عن ابن عمر انھا عامۃ فی الکتابیات وغیر ھن (جصاص) المشرکات ھنا الکفار (نہر) والا کثرون من العلماء علی ان اللفظ المشرک یتدرج فیہ الکفار من اھل الکتاب وھو المختار (کبیر) امام مالک (رح) و امام شافعی (رح) بس اسی آیت پر رک گئے ہیں اور ان کی فقہ میں ہر قسم کی غیر مسلم عورت سے نکاح ناجائز ہے۔ لایجوز العقد بنکاح علی مشرکۃ کانت کتابیۃ او غیر کتابیۃ قال عمر فی احدی روایتہ وھو اختیار مالک والشافعی (ابن العربی) لیکن فقہاء حنفیہ کی نگاہ مزید نکتہ سنجی کے ساتھ قرآن مجید ہی کی ایک دوسری آیت کی طرف بھی گئی، اور وہ آیت سورة مائدہ کی ہے۔ (آیت) ” والمحصنت من الذین اوتوالکتب من قبلکم “ الخ اور انہوں نے پہلی آیت کے عموم کو اس کی جگہ پر رکھ کر اس کا خصوص اس دوسری آیت سے پیدا کیا۔ یعنی عام قاعدہ کے لحاظ سے تو ہر غیر مسلمہ کے ساتھ نکاح ناجائز ہے لیکن کتابیہ یعنی یہودی یا نصرانی عورت اس حکم سے مستثنی ہے۔ اور یہی مذہب ابن عباس ؓ اور بعض تابعین سے مروی ہوا ہے۔ وھو عموم خص بجواز نکاح الکتابیات (نہر) عن ابن عباس ؓ قال فی ولا تنکحوا المشرکات نسخ من ذلک نکاح نساء اھل الکتاب اجلھن للمسلمین وحرم المسلمات علی رجالھم وعن الحسن و مجاھد مثل ذلک (روح) مفسر تھانوی (رح) کے چند افادات اس موقع پر نقل کرنے کے قابل ہیں :۔ 1 ۔ ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح نا درست ہے۔ 2 ۔ کتابی عورت سے نکاح جائز ہے، لیکن بہتر نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے اسے ناپسند فرمایا ہے اور خود حدیث میں نکاح کا حکم دیندار ہی عورت سے کرنے کا ہے۔ 3 ۔ ایسی عورت جو وضع وطرز سے کتابیہ معلوم ہوتی ہوتی ہو، لیکن بعد تحقیق اس کے عقائد کتابیوں کے سے نہ نکلیں، اس سے بھی نکاح نادرست ہے، یہودیت چونکہ ایک نسلی مذہب ہے، اس لیے اسرائیلیوں کو غیر اسرائیلیوں سے نکاح کرنے کی سخت ممانعت ہے، خروج، 34:6 استثناء 7: 1 ۔ 4 ۔ غررا 9، 10، مسیحی مذہب میں بھی ” بےایمانوں “ یعنی غیر مسیحیوں سے ازدواج کی ممانعت ہے۔ 2 کرنتھیون 6: 14، 15 ۔ ویسڑمارک کی کتاب مختصر تاریخ نکاح (شارٹ ہسٹری آف میریج) میں ہے ” سینٹ پال کی تعلیم ہے کہ کوئی عیسائی کسی کافر سے ہرگز نکاح نہ کرے ،۔ اور ٹرٹولین کے نزدیک تو ایسے ازدواج کا نام حرامکاری ہے۔ “ (ص 58) اور ہندوؤں کے ہاں تو نکاح مذہب سے باہر ہونا کیا معنی ” ذات “ کے باہر بلکہ برادری کے باہر بھی درست نہیں۔ (آیت) ” حتی یؤمن “ یہ قید لگا کر بتا دیا کہ ممانعت کی بنیاد تمامتر دینی واعتقادی ہے۔ نسلی، قومی، جغرافی وغیرہ ہرگز نہیں، جو بھی ایمان لے آئے، اسی وقت جائز ہوجاتی ہے۔
817 ۔ (اور پسندیدگی کی بنا خواہ یہ ہو کہ وہ مالدار ہے، یا یہ کہ وہ حسین و جمیل ہے یا ان کے علاوہ کوئی اور بنا ہو) آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ کفر قرآن کی نظر میں کس قدر مبغوض ہے۔ کافر عورت میں جو بھی خوبیاں ہوں، کل ایک طرف اور اس کے کفر کی گندگی دوسری طرف۔ (آیت) ” لامۃ “ میں ل زور اور تاکید کے لیے ہے۔ اردو میں ایسے موقع پر ” تک “ لاتے ہیں۔ لام الابتداء الشیبھۃ بلام القسم فی افادۃ التاکید (ابوسعود) واللام فی افادۃ التوکید (کبیر۔ عن ابی مسلم) مطلب یہ ہوا کہ ہر مسلم عورت، یہاں تک کہ نعمت آزادی سے محروم اور عرفا حقیر و ذلیل سمجھی جانے والی باندی تک آزاد، خوش حال، خوش جمال کافر عورت سے بہتر ہے۔
818 ۔ (آیت) ” حتی یؤمنوا “۔ یہ ٹکڑا یہاں بھی اسی حقیقت کے زور دار اظہار کے لیے ہے کہ اصلی مانع وحائل ان مردوں کا کفر ہے۔ جب یہ مانع دور ہوجائے، تو پھر کوئی امر مانع نہیں (آیت) ” المشرکین “۔ ” مشرک “ یہاں بھی اسی عام ووسیع معنی میں ہے جیسے ” مشرکہ “ ابھی اوپر آچکا ہے یعنی ہر قسم کے کافر کے مرادف ہے۔ قانون اسلام کا منکر جو کوئی جس قسم کا بھی ہو مومن خاتون اس کے نکاح میں نہ دی جاسکتی ہے، نہ رہ سکتی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ شوہر اگر پہلے سے مسلمان ہے، اور بعد کو خدانخواستہ مرتد ہوگیا، تو مسلمان عورت اسی وقت اس کے نکاح سے باہر ہوجائے گی، اور جو نکاح ابھی تک صحیح تھا ٹوٹ جائے گا ،۔ اور یہ عورت عدت پوری کرکے کسی مسلمان شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ اگر میاں بیوی پہلے سے کافر ہیں، اور عورت مسلمان ہوگئی، تو اب بقاء نکاح کی کوئی صورت نہیں، بجز اس کے کہ شوہر بھی اسلام قبول کرلے۔ مزید تفصیل اس قسم کے مسائل کی کتب فقہ میں ملے گی۔ (آیت) ” لا تنکحوا “ خطاب مردوں سے ہے کہ تم اپنی عورتوں کو کافروں کے نکاح میں نہ دو ، حکم خود عورتوں کو براہ راست نہیں مل رہا ہے کہ تم کافروں کے نکاح میں نہ جاؤ۔ یہ طرز خطاب بہت پر معنی ہے۔ صاف اس پر دلالت کررہا ہے۔ کہ مسلمان عورت کا نکاح مردوں کے واسطہ سے ہونا چاہیے۔
819 ۔ (علی قابلیت کی بنا پر، اونچی ڈگریوں کی بنا پر، بڑے عہدوں کی بنا پر، کسی بھی دنیوی بنیاد پر) (آیت) ” لعبد “ کا، ل، یہاں بھی تاکید اور زور کے لیے ہے۔ اردود کے ” تک “ کے معنی میں یعنی نعمت آزادی سے محروم، اور عرفا حقیر و ذلیل سمجھے جانے والے غلام تک کو اختیار کرسکتے ہو، لیکن نہ اختیار کرو تو کسی کافر کو، خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کیسا ہی بڑا آدمی ہو۔
820 ۔ (آیت) ” الی النار “۔ دوزخ کی طرف، یعنی ان اعمال اور ان عقائد کی طرف، اس طریق زندگی کی طرف جس کا انجام دوزخ ہے اور وہ طریق کفر وشرک ہے۔ اے الی الاعمال موجبۃ للنار (معالم) اے الکفر المؤذی الی النا (بیضاوی) (آیت) ” اولئک “ اشارہ انہی کافر مردوں اور کافر عورتوں کی جانب ہے۔ ان کی طرف سے مزید نفرت دلانے کے لیے یہ فقرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ گویا جتا دیا ہے کہ ایسے گئے گزرے ہوئے اور خطرناک لوگ تو معمولی تعلقات رکھنے کے بھی قابل نہیں، چہ جائیکہ ان سے ازدواج کا ساگہرا رشتہ پیدا کیا جائے !
821 ۔ (چنانچہ اس رحمت ومغفرت ہی کے تقاضے سے اس نے یہ حکم بھی دے رکھا ہے کہ کافروں سے ازدواجی تعلق نہ رکھو، نہ ان کے گہرے تعلق کا کوئی اثر تم پر پڑنے پائے، اور نہ تم جنت ومغفرت سے دور ہوتے جاؤ) (آیت) ” الی الجنۃ والمغفرۃ “ یعنی اللہ ترغیب دیتا ہے ایمان واسلام کی اور اس طریق زندگی کی جس کا انجام جنت ومغفرت ہی ہے۔ (آیت) ” باذنہ “۔ اذن کے معنی یہاں توفیق یا ارادہ یا اعلام احکام کے ہیں۔ باعلامہ ایاکم سبیلہ وطریقہ (ابن جریر) اے قضاۂ وقدرہ وارادتہ (معالم) بتیسیر اللہ و توفیقہ للعمل (کشاف)
822 ۔ (اور نصیحت پر عمل کر کر کے جنت ومغفرت کے حقدار بن جائیں)
Ayah 2:222823 ۔ یعنی عورت کے زمانہ خاص میں اس سے ہم بستری کا حکم۔ قرآن زندگی کا مکمل دستور العمل ہے۔ وہی زندگی جس میں کھانا، پینا، سونا جنسی خواہش کا پیدا ہونا، بچہ کا باپ یا ماں بننا، سب کچھ داخل ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ جو کچھ بھی تعلق تعمیر سیرت سے رکھتا ہے، اس کی بابت ہدایات و احکام وہ لازمی طور پردے گا۔ وہ محض ” بزرگان ملفوظات “ کا مجموعہ نہیں۔ معاشیات، معاشرت، اخلاقیات، قانون، غرض انفرادی واجتماعی زندگی کے ہر شعبہ کے ضروری ابواب کا ذکر نا گزیر ہے۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہوتا، تو اس ہدایت نامہ کی جامعیت وکاملیت پر حرف آجاتا۔ محیض۔ مصدر میمی ہے معنا حیض کے مرادف۔
824 ۔ (جسیا کہ دنیا میں عموما دوسری قوموں نے بھی سمجھا ہے اور سامی نسل والوں نے علی الخصوص) طب قدیم وجدید دونوں کو مسلم ہے کہ یہ ایک خاص قسم کا ناقص خون ہے، رنگ وبو و ترکیب میں عام خون سے الگ۔
825 ۔ (آیت) ” اعتزلوا “ یہ اعتزال یا عورتوں کو چھوڑے رہنے کا حکم صرف ہم بستری کے عمل خاص تک محدود ہے۔ مجالست ومواکلت وغیرہ عام معاشرت سے اس کا تعلق نہیں۔ بعض قوموں میں عورتیں اپنے اس زمانہ میں نہ دوسروں کے ساتھ کھاپی سکتی ہیں، نہ لیٹ بیٹھ سکتی ہیں، بعض قوموں میں اس زمانہ میں عورت کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ بعض مشرک قوموں میں یہ دستور ہے کہ اس زمانہ میں عورت کو میلے کچیلے کپڑے پہنا کر گھر کے ایک الگ گوشہ میں اچھوت بنا کر بٹھا دیا جاتا ہے۔ غرض دوسری قوموں نے عام طور پر اس طبعی ناپاکی سے متعلق بہت مبالغہ آمیز تخیل قائم کرلیا ہے۔ شریعت اسلامی میں اس قسم کے کوئی امتناعی احکام موجود نہیں۔
826 مشرک قوموں نے اس باب میں جو سختیاں روا رکھی ہیں، ان سے قطع نظر خود توریت کے قانون کا تشدد بھی اس باب میں اپنی مثال آپ ہے۔ عورت اپنے ایام ماہوار کے زمانہ میں خود ہی ناپاک نہیں ہوتی، بلکہ جو شخص یا جو چیز بھی اس سے چھو جاتی ہے، وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے، وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے۔ اور سلسلہ در سلسلہ یہ ناپاکی متعدی ہوتی جاتی ہے۔ ” جو کوئی اسے چھوئے گا شام تک نجس رہے گا۔ اور جو کوئی اس کے بستر کو چھوئے، اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے، اور شام تک ناپاک رہے۔ اور جو کوئی اس چیز کو جس پر وہ بیٹھی ہے چھوئے، اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے، اور شام تک ناپاک رہے۔ اگر مرد اس کے ساتھ سوتا ہے، اور اس کی نجاست اس پر ہو، تو وہ رات دن تک ناپاک رہے گا، اور ہر ایک بستر جس پر وہ مرد سوئے گا، ناپاک ہوجائے گا “ (احبار۔ 15: 19 ۔ 24) یہ احکام تو خود توریت کے ہوئے۔ باقی فقہاء یہود تو اپنے تشددات میں ان حدود سے بھی کہیں آگے بڑھ گئے ہیں۔ اور ایسی ایسی قدیں بیچاری عورت پر عائد کردی ہیں گویا وہ عورت نہیں ہے۔ کوئی بلا ہے۔ ملاحظہ ہو، جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 1 1 صفحہ 30 1 نیز ہیسٹنگز کی ڈکشنری آف دی بائبل، جلد 4 صفحہ 827 ۔
827 ۔ یعنی خون نجس کا آنا بالکل بند ہوجائے، اور عورت غسل کرلیے، شریعت میں یہ غسل واجب ہے۔
828 ۔ یعنی جائز و فطری طریق کے مطابق۔ اس عام و فطری طریق قربت کے علاوہ، حصول لذت کے اور سارے طریقے ناجائز ہیں۔
829 ۔ (آیت) ” التوبین “ توابین اس سیاق میں وہ لوگ ہیں جن سے قوانین بالا کے باب میں کوئی اتفاقی خلاف ورزی ہوجائے، اور وہ بعد کو توبہ کریں، اور اپنی غلطی پر نادم ہوں (آیت) ” المتطھرین “ متطھرین “ اس سیاق میں وہ لوگ ہیں جو عورت کی مواصلت سے اس کی طبعی ناپاکی کے زمانہ میں محترز رہتے ہیں۔ اسی لفظ سے فقہا نے اشارۃ النص سے یہ استنباط کیا ہے کہ جو اعمال صریحا نجس ہیں (مثلا اغلام) وہ سب حرام ہیں، صفائی و طہارت کی یہ روح قرآنی عام ہے۔ اور اس کے تحت میں جسمانی اور ظاہری صفائی پوری طرح آجاتی ہے۔ اسلام کی اس لطافت پسندی، نظافت پسندی، طہارت پسندی کے مقابلہ میں، دوسرے سرے پر وہ مذاہب ہیں، جن میں قرب حق کا ذریعہ صفائی کو نہیں، عین جسمانی گندگی، کثافت وغلاظت کو قرار دیا گیا ہے۔ مشرک قوموں میں جو فرقے اگھورنیتی کے نام سے ہیں، ان کے تفصیلی ذکر سے تو ان صفحات کو نجس کرنے کی جرأت نہیں، خود مسیحیت کی تاریخ میں صدیوں تک راہبوں کے لیے غسل یا جسم کی شست وشو ایک مستقل معصیت رہی ہے۔