2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور ڈرو تم اس عظیم الشان (اور ہولناک) دن سے جس میں تم سب کو بہرحال لوٹ کر جانا ہے اللہ کے پاس،1 پھر وہاں پورا بدلہ ملے گا ہر شخص کو اس کی زندگی بھر کی کمائی کا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،2

802 یوم قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے قیامت کے ہولناک دن، اور وہاں کی پرسش کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ـ سود سے متعلق احکام و ارشادات کا خاتمہ اس آیت کریمہ سے فرمایا گیا ہے جس میں دلوں کو لرزا دینے والی یہ تنبیہ ہے کہ تمہیں بہرحال اس عظیم الشان اور ہولناک دن میں اس وحدہ لاشریک کے حضور پیش ہو کر اپنے کئے کرائے کا حساب دینا ہے، اور اپنے اعمال کا اور زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پانا ہے۔ اب ہر شخص خود دیکھ لے کہ اس کا نامہء اعمال کیسا ہے، اور اس کو کس طرح کے صلے اور بدلے کی توقع ہوسکتی ہے۔ انسان کا ضمیر خود اس کا منصف اور محاسب ہے۔ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ یہ قرآن پاک کی سب سے آخری آیت کریمہ ہے جو نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ صرف اکیس یا اکیاسی دن اس دنیا میں بقید حیات رہے ۔ صَلَوات اللّٰہ وَ سَلَامُہٗ عْلیہ ۔ اور جبریل امین کی ہدایت کے مطابق آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو سورة بقرہ کی آیت نمبر 280 کے متصل بعد رکھا جائے (المراغی وغیرہ ) ۔ بہر کیف اس یوم عظیم کو ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ انسان اس کے لیے تیاری کرسکے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں (قرض و ادھار کا) کوئی لین دین کرو کسی مقررہ مدت تک، تو اس کو تم لکھ لیا کرو3، اور تمہارے درمیان (ایسی دستاویز) لکھنے والا شخص عدل (وانصاف) کے ساتھ لکھے، اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے، جیسا کہ اللہ نے اس کو سکھایا ہے سو وہ لکھے4، اور (اس دستاویز و وثیقہ کا) املاء وہ شخص کرائے جس کے ذمے حق ہے، اور اس کو چاہیے کہ وہ ڈرتا رہے اللہ سے، جو کہ اس کا رب ہے، اور اس میں وہ کوئی کمی (بیشی) نہ کرے۔ پھر اگر وہ شخص کہ جس کے ذمے حق ہے، بےسمجھ، یا کمزور ہو، یا وہ (کسی عذر کی بناء پر) املاء نہ کرا سکتا ہو، تو اس کا مختار (وکار گزار) املاء کرائے، عدل (و انصاف) کے ساتھ5، اور (اس پر) تم دو گواہ رکھ لیا کرو اپنے مردوں میں سے،6 پھر اگر دو مرد نہ مل سکیں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہی کافی ہیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرو گواہی کے لئے، (اور ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کو اس لئے تجویز کیا گیا کہ) تاکہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسکو یاد دلا دے، اور گواہ انکار کریں، (نہ گواہ بننے سے، اور نہ گواہی کی ادائیگی سے) جب کہ ان کو بلایا جائے (اس غرض کے لئے)1 اور تم لوگ اکتایا نہ کرو لکھنے سے، خواہ وہ معاملہ چھوٹا یا بڑا، اس کی میعاد تک، یہ طریقہ اللہ کے نزدیک زیادہ قائم رکھنے والا ہے انصاف کو، اور زیادہ سیدھا (اور درست) رکھنے والا ہے گواہی کو2، اور زیادہ نزدیک ہے اس بات کے کہ تم لوگ (باہمی معاملات میں) شک میں نہ پڑو3، مگر یہ کہ نقدا نقدی کا کوئی ایسا سودا ہو، جو تم (دست بدست) آپس میں کرتے ہو، تو نہ اس کے نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں4، اور تم گواہ مقرر کرلیا کرو جب تم باہم خریدو فروخت کا کوئی معاملہ کرو5، اور کسی طرح کا نقصان نہ پہنچایا جائے، نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں، اور تم گواہ مقرر کرلیا کرو جب تم باہم خریدو فروخت کا کوئی معاملہ کرو، اور کسی طرح کا نقصان نہ پہنچایا جائے، نہ لکھنے والے کو اور نہ گواہی دینے والے کو، اور اگر تم لوگ ایسا کرو گے تو یقینا (تم گناہ کا ارتکاب کرو گے، کہ) یہ تمہارے لئے اللہ کی اطاعت سے نکلنا ہوگا، اور (ہمیشہ اور ہر حال میں) ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے، اور اللہ تم کو سکھاتا ہے (وہ کچھ جس میں تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے) اور اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے

803 آیت مداینہ اور اس کی عظمت شان : سو یہ آیت کریمہ یعنی آیت مداینہ قرآن حکیم کی سب سے بڑی اور ایک عظیم الشان آیت کریمہ ہے اور اس میں لین دین سے متعلق بڑی اہم اور بنیادی ہدایات دی گئی ہیں۔ سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ آپس میں کوئی لین دین کرو کسی خاص مدت تک تو اس لکھ لیا کرو۔ سو ایسے ہر معاملہ کو لکھ لیا کرو تاکہ بعد میں جھگڑے اور اختلاف کی صورت پیدا نہ ہو۔ اور ادھار خواہ قیمت ہو، خواہ مبیع، دونوں صورتوں میں اس کو تحریر کردیا کرو۔ فقہائے کرام میں سے بعض کے نزدیک یہ حکم استحباب کیلئے ہے، اور بعض کے نزدیک وجوب کیلئے (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ یہ آیت کریمہ " آیت مداینہ " کہلاتی ہے۔ کیونکہ اس میں لین دین سے متعلق یہ عظیم الشان ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں، اور یہ قرآن حکیم کی سب سے طویل آیت کریمہ ہے۔ اور یہ قرآن حکیم کے اعجاز اور اس کے کمال کا ایک اور ثبوت ہے کہ اس میں لین دین سے متعلق چودہ سو برس قبل جو ہدایات ارشاد فرمائی گئی تھیں، دنیا اپنی ترقی کے ہزار دعو وں کے باوجود اس سے بہتر تو درکنار اس کے برابر بھی آج تک کچھ نہیں کہہ سکی، اور نہ قیامت تک کہہ سکے گی کہ یہ سب کچھ وحی خداوندی سے ہے جس کے نور سے دنیا محروم ہے۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں باہمی لین دین سے متعلق بڑی اہم اور پاکیزہ ہدایات وتعلیمات ارشاد فرمائی گئی ہیں، جس میں معاشرے کے ہر طبقے کی بہتری اور بھلائی ہے۔ جن کو اپنانے سے بہت سے جھگڑوں اور اختلافات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور ہر کسی کے حقوق محفوظ ہوجاتے ہیں اور امن وامان کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا - 804 تحریر میں عدل و انصاف سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے درمیان لکھنے والا شخص عدل وانصاف کے ساتہ لکھے۔ نہ اصل حقیقت سے کوئی کمی کرے نہ زیادتی، اور نہ کسی کی طرف داری کرے، نہ کوئی رو رعایت، بلکہ صرف عدل و انصاف کو اپنا مطمح نظر بنائے رکھے۔ اور حقیقت امر کو جوں کی توں ضبط تحریر میں لائے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو، کیونکہ اس کا تعلق دوسروں کے حقوق سے ہے۔ اس لئے لکھنے والا ٹھیک ٹھیک حق اور حقیقت کے مطابق لکھے تاکہ نہ کسی کا حق مارا جائے اور نہ کسی پر کوئی زیادتی ہو، کیونکہ بعد میں حقوق کی تشخیص اور ادائیگی اسی تحریر کے مطابق ہوگی۔ اور اس طرح کسی کا حق نہیں مارا جائے گا اور سب کی حقوق محفوظ ہوں گے۔ سو ہر موقع پر اور ہر حال میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا ایک عظیم الشان امتیازی پہلو ہے۔ 805 کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اللہ نے اس کو سکھایا ہے پس وہ لکھے تاکہ اس طرح وہ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرسکے جس سے اس نے اس کو نوازا ہے، اور اس کو اس بات کا احساس و ادراک رہے، کہ لکھنے کی یہ نعمت جس سے کتنے ہی دوسرے محروم ہیں اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے کرم سے مجھے سرفراز فرمایا ہے ۔ فلَہُ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ قَبْلَ کُل شَیٍٔ وَبَعْدَ کُل شیٔ ۔ اور ولایات کی اس نہی سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جو کوئی عوام کے فائدے سے متعلق علم رکھتا ہو، اس کو چاہیئے کہ جب اس کو ایسے کام کی انجام دہی کیلئے بلایا جائے تو وہ اس سے انکار نہ کرے، اور لاباب کی نہی کے بعد ملکیت سے امر و حکم فرمانے سے اس بارے مزید تاکید کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ اس موضوع کا تعلق انسانی حقوق کی حفاظت سے ہے جو کہ خصوصی اہمیت کا معاملہ ہے۔ (تفسیر المراغی) ۔ بہرکیف جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے علم اور کتابت کی دولت سے نوازا ہو اس کو چاہیئے کہ وہ اس سے حسب ضرورت دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ کیونکہ دین حنیف یہ سکھاتا ہے کہ جیسا اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا ہے تم بھی آگے دوسروں پر احسان کرو، ارشاد ہوتا ہے { وَاحْسِنْ کَمَا اَحَْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ } الایۃ (القصص۔ 77) اور حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس کسی نے جان بوجھ کر کسی علم کو چھپایا اس کو قیامت کے روز آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔ (محاسن التاویل للقاسمی (رح) ) سو علم نور ہے جس کا حق یہ ہے کہ اس کو اس طرح عام کیا جائے کہ دنیا اس کی روشنی سے فیضیاب و مستفید ہو۔ اس روشنی کو چھپانا جرم ہوگا کیونکہ اس کی نتیجے میں دنیا ہلاکت کے گڑھوں میں جا گرے گی اور اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی ۔ والعیاذ باللہ - 806 اِملاء کرانے والا کوئی کمی بیشی نہ کرے : ۔ بلکہ امر واقع کے مطابق صحیح صحیح لکھوائے تاکہ نہ کسی کا حق مارا جائے اور نہ کسی پر زیادتی ہونے پائے، اور یہ اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ کسی کمی بیشی سے باز رہے اور اللہ سے ڈرتا رہے جو کہ اس کا رب ہے۔ یہاں پر اسم جلیل اور نعت جلیل یعنی اسم ذات " اللہ " اور صفت یعنی " رب " دونوں کو جمع فرمایا گیا، جس سے معنی میں مزید تاکید پیدا ہوجاتی ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو اللہ جو کہ رب ہے سب کا اس سے ڈرنے اور ڈرتے رہنے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ املاء کے دوران کسی طرح کی کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ املاء اور املال کے دونوں لفظوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی لکھوانا اور قرآن حکیم میں یہ دونوں لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ بہرکیف املاء کرانے والے کو ہدایت کی ـگئی ہے کہ وہ اس ضمن میں کسی کمی بیشی سے کام نہ لے بلکہ ٹھیک ٹھیک لکھے۔ تاکہ کسی کی کسی طرح کی حق تلفی نہ ہو۔ 807 صاحب عذر کی طرف سے اس کا مختار املاء کرائے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ شخص جس کے ذمے حق ہے بےسمجھ یا کمزور ہو یا وہ کسی اور عذر کی بنا پر املا نہ کرا سکتا ہو تو اس کا مختار اور کارگزار املا کرائے عدل و انصاف کے ساتھ۔ جیسے وہ گونگا ہو، یا زبان نہ جانتا ہو، یا کہیں قید میں ہو، یا کوئی پردہ نشین خاتون ہو، جو کاتب کے سامنے نہ آسکتی ہو، وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسی صورت میں اس کا مختار اور کارگزار املاء کرائے اور وہ بھی عدل و انصاف کے تقاضوں کا پاس ولحاظ رکھے، اور معاملہ کو صحیح صحیح اور بلا کسی کمی بیشی کے املاء اور تحریر کرائے۔ وہ بھی نہ کسی طرح کی طرف داری سے کام لے اور نہ بلا ضرورت کسی حذف و اضافہ سے۔ تاکہ حقوق کے سلسلہ میں کسی سے کوئی زیادتی نہونے پائے۔ پس نہ کسی پر زیادتی ہو اور کسی کا حق مارا جائے بلکہ ہر صاحب حق کو اس کا حق پورا ملے۔ اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور امن وامان کا دور دورہ ہو۔ 808 ہر معاملے پر گواہ رکھنے کا ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم گواہ رکھ لیا کرو تاکہ معاملہ مزید یقینی اور پختہ ہوجائے، اور نزاع و مخاصمت کا کوئی خطرہ و اندیشہ باقی نہ رہے۔ اور کسی اختلاف اور نزاع کے پیش آجانے کی صورت میں وہ اصل معاملہ کی گواہی دے سکیں۔ مگر وہ گواہ دو آزاد اور بالغ مسلمان مرد ہوں۔ پس محض دو عورتوں کی یا ایک گواہ یا غلام یا بچے کی گواہی اس بارے معتبر نہیں ہوگی، کیونکہ یہاں پر { شَہِیْدَیْن مِنْ رِّجَالِکُمْ } فرمایا گیا ہے جس سے یہ سب قیود و شروط معلوم و مستفاد ہوتی ہیں۔ سو حقوق کی پاسداری، اور نزاع کی صورت میں معاملہ کو نمٹانے کے لئے گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ سو گواہ کم از کم دو شخص ہونے چاہئیں جو مسلمانوں میں سے یعنی مسلمان ہوں غیر مسلم نہ ہوں۔ 809 گواہ ثقہ اور معتبر ہونے چاہئیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دو گواہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تم لوگ گواہی کے لیے پسند کرو۔ یعنی وہ ایسے ثقہ، معتبر، اور امین شخص ہوں جن پر فسق و فجور، اور بےمروتی و دھوکہ دہی وغیرہ کی کوئی تہمت نہ ہو۔ اور نہ ہی ان سے کوئی ایسی قرابت و رشتہ داری ہو، جو کہ تہمت و شبہ کا باعث بن سکتی ہو۔ غرضیکہ گواہی کے معیار پر ٹھیک طرح سے پورے اترتے ہوں۔ اس قید کا یہاں پر اضافہ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر اس طرح کے باہمی معاملات میں عورت کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے یہاں پر معاملہ گواہ بنانے والوں کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ یعنی گواہ وہ ہوں جنہیں تم پسند کرو۔ 810 ایک مرد کی بجائے دو عورتوں کی گواہی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر دو مرد گواہ میسر نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں ہی کافی ہیں۔ کیونکہ ایسے اجتماعی اور عوامی امور میں اشتغال رکھنا اصل میں اور بنیادی طور پر ذمہ داری ہوتی ہے مرد کی، نہ کہ عورت کی۔ عورت کی اصل اور بنیادی ذمہ داری اس گرانقدر اور بےمثال متاع عزیز کی حفاظت و نگہداشت ہے۔ جو انسان کیلئے سب سے اہم اور سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے، یعنی متاع اولاد جس کی اصلاح و نگہداشت میں اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے، اور اس سے غفلت و اعراض برتنا دنیا و آخرت کے خسران و نقصان کا ذریعہ و سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس دنیاوی عیش و عشرت کیلئے چند ٹکوں کی خاطر اس عظیم الشان ذمہ داری سے غفلت برتنا اور اتنے بڑے نقصان کیلئے آمادہ ہوجانا کسی عقلمند اور ہوش مند انسان کا کام نہیں ہوسکتا۔ اور جب عورت کے کام کا میدان یہ ہے ہی نہیں، تو اس کو ان امور سے متعلق وہ تجربہ کیسے ہوسکتا ہے جو مرد کو ہوتا ہے ؟ اس لئے ان کی گواہی کے سلسلہ میں دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) فرماتے ہیں کہ عجب نہیں کہ قدرت نے بنی آدم میں شروع سے لیکر آخر تک مجموعی طور پر یہی تناسب رکھا ہو کہ عورتیں دو تہائی ہوں، اور اس کے مقابلے میں مرد ایک تہائی، اور اسی تقابل کی بنا پر { لِلذَّکَر مِثْلُ حَظّ الاُنْثَیَیْن } کے ارشاد سے ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابل رکھا گیا ہو۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں عورت کی تنقیص نہیں، بلکہ اس کی تعظیم و تکریم اور اس کو اس کے اس اصل مقام پر رکھنا ہے جو اس کی فطرت کے لائق ہے، اور جس سے اس کے لئے دارین کا بھلا ہے۔ اور آج جو عورت کو اپنے اصل اور حقیقی دائرہ کار سے نکال دیا گیا، تو وہ دراصل فطرت سے تصادم، اور اس کے خلاف جنگ ہے، جسکے ہولناک آثار و نتائج آج دنیا میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے ظاہر ہورہے ہیں، اور طرح طرح کے گل کھلا رہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْزِ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر دو مرد میسر نہ آسکیں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لو۔ 811 گواہ بننے سے انکار نہ کیا جائے : کیونکہ ان کے گواہ بننے میں سب کا بھلا ہے۔ اور اس سے انصاف و حق رسی میں مدد ملے گی، اور ان کے اپنے بھائی کے حق کی حفاظت اور اس کی معاونت ہوگی جبکہ گواہ بننے کے بعد ان کے گواہی نہ دینے سے ان کے بھائی کی حق تلفی ہوگی۔ لہذا ان گواہوں کو گواہی سے انکار نہیں کرنا چاہیئے، نہ گواہ بننے سے انکار کرنا چاہیئے اور نہ گواہی کی ادائیگی سے۔ ربیع کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس وقت اور اس پس منظر میں نازل ہوئی جبکہ آدمی گواہی کیلئے جگہ جگہ پھرتا تھا مگر کوئی اس کے معاملے میں گواہ بننے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ سو گواہ بننے سے ہچکچانا اور گواہی کی ادائیگی سے کنی کترانا دونوں امرحرام اور ممنوع ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یہ فرض کفایہ ہے کسی خاص شخص پر اس کا اطلاق و الزام نہیں ہوتا مگر جبکہ دوسرا کوئی شخص اس کے لیے میسر نہ ہو۔ (نفس المرجع) ۔ بہرکیف جو لوگ کسی دستاویز کے گواہوں میں شامل ہوچکے ہوں، ان کو عندالطلب گواہی سے گریز و فرار کی اجازت نہیں اس لئے کہ حق کی گواہی ایک عظیم الشان معاشرتی خدمت بھی ہے کہ اس سے سب کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے اور " شہداء اللہ " ہونے کے اعتبار سے یہ اس امت کے فریضہ منصبی کا ایک جزو بھی ہے۔ اس لئے عند الضرورت اور عندالطلب گواہی کے تحمل اور اس کی ادائیگی سے انکار کسی کے لئے جائز نہیں۔ بلکہ حسب ضرورت و موقع امر واقع کی گواہی دے اور پوری دیانت و امانت کے ساتھ۔ نہ کسی کی سائیڈ لے اور جانبداری برتے اور نہ کسی کا حق مارے۔ اور ہر صاحب حق کو اس کا پورا حق ملے۔ اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ 812 ہر معاملہ کو لکھنے کی ہدایت خواہ وہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا : " تَکْتُبُوْہٗ " کی ضمیر منصوب کا مرجع حق یا دین ہے، اور " الی " کا کلمہ " مع " کے معنی میں ہے۔ یعنی معاملہ کو اس کی مدت مقرر کے ساتھ لکھ دیا کرو۔ (الجواہر، المحاسن وغیرہ) ۔ یعنی جتنا قرض یا ادھار کا لین دین ہو، اس کو بھی لکھ لیا جائے، اور جتنی مدت اس ضمن میں مقرر کی گئی ہو، اس کو بھی لکھ لیا جائے۔ واضح رہے کہ باہمی لین دین سے متعلق یہی وہ اصول و ضوابط ہیں جن کے مطابق آج تمام محکموں، کمپنیوں، اور اداروں وغیرہ میں سب کچھ لکھا اور جمع کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اب اس بارے میں کمپیوٹرز وغیرہ جدید آلات سے بھی کام لیا جانے لگا ہے، تاکہ سب کے حقوق و واجبات محفوظ ہوں، اور ہر متعلقہ فریق ان سے واقف و آگاہ ہو۔ سو دنیا والوں نے تو اب کہیں جاکر ان چیزوں کو اپنایا اور اختیار کیا ہے، اور اس طرح مربوط اور (Systemise) کیا ہے، مگر دین حنیف نے ان تعلیمات مقدسہ سے دنیا کو چودہ سو برس قبل اس وقت نوازا تھا جبکہ دنیا ہر اعتبار سے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، اور اس طرح کی تعلیم کا کہیں کوئی نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ ضبط و تحریر اور ریکارڈنگ وغیرہ کے آلات و ذرائع نے اگرچہ اب بہت کچھ ترقی کرلی، مگر اس بارے میں بنیادی اصول و ضوابط اور قواعد و قوانین بہرحال وہی ہیں جن کی تعلیم دین حنیف نے دی ہے۔ ان پر کوئی اضافہ نہ آج تک ہوسکا ہے، اور نہ انشاء اللہ العزیز قیامت تک کبھی ہو سکے گا ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ - 813 نقدا نقدی کے باہمی معاملہ کو لکھنا بہتر ہے ضروری نہیں : " تم پر کوئی حرج نہیں " کے اس ارشاد سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایسے میں لکھنا اگرچہ ضروری نہیں، مگر بہتر اس صورت میں بھی بہرحال یہی ہے کہ اسے لکھا اور ضبط تحریر میں لایا جائے، جیسا کہ آج کل " کیش میمو " وغیرہ لکھے جاتے ہیں، مگر اس کو لازم اور ضروری نہیں قرار دیا گیا، تاکہ لوگوں کو دقت و دشواری پیش نہ آجائے۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان اور حکمت بھری تعلیمات ہیں جن سے قرآن حکیم نے دنیا کو نوازا اور اس وقت نوازا جبکہ دنیا گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، اور ایسے نوازا کہ پندرہ صدیاں گزر جانے کے باوجود دنیا ایسی عمدہ اور مقدس تعلیمات کا کوئی نمونہ آج تک نہیں پیش کرسکی، اور انشاء اللہ قیامت تک کبھی نہیں پیش کرسکے گی۔ بہرکیف دست بدست لین دین میں تحریر ضروری نہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کو بھی ضبط تحریر میں لایا جائے۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم (کہیں) سفر پر ہوا کرو اور تمہیں (تحریر معاملہ کے لئے) کوئی کاتب نہ مل سکے، تو کوئی ایسی چیز رہن میں رکھ دیا کرو جو کہ اس کے قبضے میں دے دی جائے،6 اور اگر تمہیں آپس میں ایک دوسرے پر اعتبار ہے (جس کے باعث رہن رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے) تو اس آدمی کو کہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے چاہیے کہ وہ (ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا) ادا کر دے اپنی امانت کو، اور وہ ڈرتا رہے اللہ سے جو کہ اس کا رب ہے، اور تم مت چھپاؤ گواہی کو، اور (یاد رکھو کہ) جس نے چھپایا اسکو، تو بیشک گناہ گار ہے اس کا دل، اور اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو،

814 کاتب اور گواہ میں سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے : " یُضَارَّ " کا لفظ مضارع معروف بھی ہوسکتا ہے، یعنی " یُضَارِرُ " بروزن " یُقَاتِلُ " کہ نقصان نہ پہنچائے لکھنے والا اور گواہی دینے والا، مثلًا یہ کہ تحریر و شہادت کے تحمل یا اس کی ادائیگی میں وہ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے، اور یہ لفظ مضارع مجہول بھی ہوسکتا ہے یعنی " یُضَارَرُ " بروزن " یُقَاتَلُ " کہ نقصان نہ پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو، مثلًا یہ کہ اس مقصد کیلئے ان کو اپنے ضروری کام چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، یا ان کو اس مقصد کیلئے سفر کرنے پر سفر خرچ بھی نہ دیا جائے، یا ان کو کسی اور طرح الجھایا اور پھنسایا جائے وغیرہ۔ بہرکیف لفظ میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں اور ان دونوں میں سے پہلا احتمال حضرت عمر ؓ سے مروی و منقول ہے۔ اور دوسرا حضرت ابن عباس سے۔ ؓ اجمعین ۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیم ہے کہ اس میں ہر ایک کے حق کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے، اور یہ بنیادی اصول تعلیم وارشاد فرمایا گیا ہے کہ کسی کو بھی کوئی ضرر اور نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اگر آج اسی ایک ارشاد ربانی کو صحیح طور پر اور پورے طریقے سے اپنا لیا جائے، تو ہمارے معاشرے کی کس قدر اصلاح ہوسکتی ہے، اور کتنا بگاڑ ختم ہوسکتا ہے، مگر غفلت اور لاپرواوہی کا کیا کیا جائے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔ 815 تقویٰ وسیلہ فوز و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیشہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے اور اس کے ارشاد فرمودہ احکام کو پوری طرح اور دل و جان سے بجا لایا کرو کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو تقوی وسیلہ فوز و فلاح اور ذریعہ نجات و نجاح ہے کہ اسی سے انسان اللہ پاک کی نصرت و عنایت سے مشرف و فیضیاب ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہیں کھلتی اور اسباب و وسائل میسر آتے ہیں۔ اس لیے آیت مداینہ کی اس عظیم الشان آیت کریمہ کا خاتمہ اسی کی تعلیم و تلقین پر فرمایا گیا اور تقوی کو اختیار کرنے کا صاف وصریح طور پر حکم دیا گیا، اور تقوی اور خوف خداوندی ہی اصل میں وہ چیز ہے، جو انسان کو سیدھا، اور راہ راست پر رکھتی ہے۔ سو تقویٰ کے اس حکم و ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کو عام دنیاوی احکام کی طرح نہیں سمجھتا۔ جہاں انسان طرح طرح کے حیلے حوالوں اور چکر بازیوں سے کام لے لیتا ہے، کیونکہ یہ احکام اس ذات اقدس و اعلیٰ کے نازل کردہ ہیں جو کہ دلوں کے رازوں کو جاننے والی ذات ہے۔ اس سے انسان کے ظاہر اور باطن کی کوئی بھی حالت مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے اس کے ساتھ اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کا معاملہ بھی صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 816 اللہ کی تعلیم میں سراسر بندوں کا بھلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو وہ کچھ سکھاتا بتاتا ہے جس میں خود تمہارا بھلا ہے : سو اللہ تعالیٰ کی تعلیم میں سراسر بندوں ہی کا بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور محدود فرصت میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ یہاں پر " یُعَلِّمُ " کا دوسرا مفعول محذوف ہے، جس سے تعمیم کا فائدہ ملتا ہے۔ یعنی وہ اپنی رحمت بےپایاں اور عنایت بےنہایت سے تم لوگوں کو ہر خیر اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے اس کی تعلیمات عالیہ اور ارشادات مقدسہ پر عمل کرنے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہنا چاہیئے کہ بعض حضرات جو اس آیت کریمہ کو اس معنی میں پیش کرتے ہیں کہ تم تقوی اختیار کرو تو اللہ تم کو علم عطاء فرما دیگا، وہ صحیح نہیں۔ کیونکہ تقوی کی اہمیت اپنی جگہ درست اور بجا۔ اس کی عظمت و افادیت اور اس سے ملنے والی نورانیت مسلم۔ اس کے انکار کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ یہاں پر { یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ } کو { اِتَّقُوْ اللّْٰہَ } پر مرتب ماننا اور اس کو اس کے جواب امر کے معنی میں لینا درست نہیں کہ ان دونوں کے درمیان واؤ عاطفہ کا فصل موجود ہے، جو اس ترتب میں مانع ہے۔ پتہ نہیں ان حضرات اہل علم کی توجہ اس طرف کیوں نہیں گئی۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی ارشاد فرمودہ یہ تعلیمات تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی ضامن اور کفیل ہیں۔ اس لیے انکو تم لوگ دل و جان سے اپناؤ کہ اس میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ اسی سے حقوق و فرائض کا تعین اور تحفظ ہوتا ہے۔ 817 رہن رکھنے کا حکم : تاکہ اس شے مرہون کی بنا پر اس کے حق دین کی ضمانت و حفاظت اور توثیق ہو سکے۔ اس میں " مَقْبُوْضَۃٌ " کے لفظ سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ رہن کی تکمیل کیلئے اس کا قبضہ ضروری ہے۔ اور دوسری یہ کہ شیء مرھون پر مرتہن صرف قبضے کا حقدار ہے تاکہ اس طرح اس کے حق دین کی حفاظت و ضمانت ہو سکے، لہٰذا مرتہن کو اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں، جیسا کہ آج ہمارے معاشرے میں بالعموم ایسے کیا جاتا ہے، حالانکہ قرض دے کر اس پر کوئی نفع اٹھانا ممنوع اور حرام ہے، کیونکہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے اصول یہ بیان فرمایا گیا کہ جو قرض دے کر اس پر نفع کمایا جائے وہ حرام ہے " کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا فَہْوَ حَرَامٌ " اور آیت کریمہ میں سفر کی قید احترازی نہیں واقعی ہے، کہ واقعتا ایسے ہوتا ہے کہ حالت سفر میں اس کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں کاتب اور شاھد کا ملنا عادتاً بہت مشکل ہوتا ہے۔ ورنہ رہن حالت حضر میں بھی رکھنا جائز ہے، اور خود آنحضرت ﷺ کی زرہ تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس رہن تھی ۔ کما اخرجہ الامام البخاری و مسلم رحمہما اللہ ۔ لہٰذا یہ کہنا کہ رہن کا حکم صرف سفر کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ بعض سلف نے اس آیت کریمہ سے سمجھا ہے (جامع البیان وغیرہ) وہ صحیح نہیں۔ بلکہ رہن سفرو حضر کی دونوں حالتوں میں درست اور جائز ہے (معارف للکاندہلوی (رح) ، و جامع البیان، وغیرہ) ۔ سو سفر کی اس قید اور کسی ایسے کاتب کا نہ ملنا جو اس قرض کے بارے میں باقاعدہ دستاویز تحریر کرے، دراصل بیان ہے اس عذر کا کہ ایسے موقع پر انکے لیے ایسی تحریر ضروری نہیں، بلکہ وہ کوئی چیز رہن رکھ لیں جو اس تحریر کے قائم مقام ہو، تاکہ صاحب دین مطمئن ہو ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفر کے علاوہ رہن رکھنا جائز نہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو یہ قید غالب احوال کے اعتبار سے ہے کہ ایسی ضرورت اکثر سفر ہی میں پیش آتی ہے۔ 818 قرض کی واپسی کیلئے ایک بلیغ ارشاد : یعنی امانت سے یہاں پر قرض مراد ہے، کیونکہ قرض دینے والے شخص نے محض امن و اعتماد کی بناء پر بغیر کسی تحریر اور رہن کے اس کو یہ قرض دے دیا۔ لہذا عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قرض لینے والا اس اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اس کا قرض صحیح طور پر اور پورے کا پورا واپس کر دے۔ اور اس کی واپسی کا ایسا ہی اہتمام کرے اور اس کا خیال رکھے جیسا کہ امانت کی واپسی کیلئے رکھا جاتا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہاں پر امانت سے مراد رہن کردہ مال ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رہن قرض دینے والے کے پاس بطور امانت ہوتا ہے، جس کی حفاظت مرتہن کے ذمے ہوتی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا اس کے لئے جائز نہیں ہوتا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا ہے کہ رہن رکھنے کی ضرورت اس صورت میں ہے کہ جب قرض دینے والا اس کے بغیر قرض دینے کو تیار نہ ہو۔ لیکن جب ایک دوسرے پر اعتماد کی صورت پیدا ہوجائے مثلاً یہ کہ وہ سفر ختم کر کے حضر میں آجائیں، اور دستاویز تحریر کرنے کے لئے کاتب اور گواہ بن کر آجائیں تو پھر قرض دینے والے کو چاہئے کہ وہ دستاویز وغیرہ پر اعتبار کر کے رہن کردہ چیز کو جو کہ اس کے پاس بطور امانت تھی واپس کر دے۔ سو نہ تم کسی کا حق مارو نہ کوئی تمہارا حق مارے بلکہ ہر کسی کو اس کا حق پورا پورا ملے۔ یعنی جتنا کہ اس کا حق ہے۔ 819 تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنانے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ڈرتا رہے اللہ سے جو کہ رب ہے اس کا۔ یعنی وہ ڈرتا اور بچتا رہے اللہ کی ناراضگی و نافرمانی سے جو کہ اس کا رب ہے۔ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اور یاد رکھے کہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا بندہ ہمیشہ اور ہر حال میں اس سے ڈرتا رہے۔ اور وہ اس بات کا پورا خیال رکھے کہ اس کا رب اس سے ناراض نہ ہوجائے اور مجھ سے اس کی نافرمانی نہ ہوجائے، اور ایسا کرنے میں خود بندے کا اپنا بھلا ہے۔ پس نہ وہ حق کا انکار کرے اور نہ اس میں خیانت کا ارتکاب کرے کہ ایسی ہر صورت تقویٰ و پرہیزگاری کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہاں بھی اس کے اسم جلیل یعنی " اللہ " اور صفت جمیل یعنی " رب " دونوں کو جمع فرمایا گیا ہے جس سے اس حکم و ارشاد کی اہمیت واضح سے واضح تر ہوجاتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی جلالت شان اور اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ تم اس سے ڈرو اسی میں تمہارا بھلا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 820 گواہی کو چھپانا ایک ہولناک جرم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور جس نے چھپایا گواہی کو تو بیشک گناہگار ہوگیا اسکا دل۔ کیونکہ شہادت کو چھپانا براہ راست اور بلاواسطہ قلب ہی کا فعل ہے، کسی اور عضو اور جارحہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ اور جب قلب گنہگار ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو باقی سب اعضاء وجوارح آپ سے آپ گنہگار ہوگئے اور سب برائی میں ملوث ہوگئے، کہ سلطنت جسم و جان کا حاکم اور اس کا بادشاہ دل ہی تو ہے۔ اس کی اصلاح میں تمام اعضاء وجوارح کی اصلاح ہے اور اس کی خرابی و فساد میں سب کی خرابی و فساد۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی مشہور حدیث میں وارد ہے کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " اولاد آدم کے جسم میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوا تو سب جسم ٹھیک اور اگر وہ خراب ہوگیا تو پورا جسم خراب، آگاہ رہو کہ وہ دل ہے " ۔ فَنَوِّرْ اَللّٰہُمَّ قُلُوْبَنَا بِنُوْر الْحَقّ وَالْمَعْرَفَۃِ وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا عَلٰی صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمِ " بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ بعض گناہ تو ایسے ہوتے ہیں جن کا اثر محض انسان کے ظاہری اعضاء تک ہی محدود رہتا ہے۔ ایسے گناہوں کی حیثیت اوپری گردو غبار کی سی ہوتی ہے مثلاً لغو قسمیں جو بےمقصد کھائی جاتی ہیں۔ اس طرح کے گناہ یا تو انسان کے روز مرہ کی معمولی نیکیوں سے جھڑ جاتے ہیں یا معمولی توجہ سے ان کی اصلاح ہوتی رہتی ہے لیکن دوسری قسم کے گناہ وہ ہوتے ہیں جن کی تحریک دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے۔ ایسے گناہوں کے اثرات بھی دل تک متعدی ہوتے ہیں۔ گناہوں کی یہ قسم بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ یہ دل کے فساد کی غمازی کرتی ہے۔ جن کی اصلاح کے لئے خاص توجہ اور فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر دل گنہگار ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر باقی کیا رہ گیا ؟۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 821 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح جانتا ہے ان تمام کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو۔ سو اللہ اپنے بندوں کے سب کاموں کو پوری طرح جانتا ہے : پس تمہارا کوئی کام اور کسی کام کا کوئی پہلو اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ لہذا تم لوگ ہمیشہ اپنا محاسبہ خود کیا کرو اور خود دیکھ لیا کرو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ کیسا ہے۔ کیا اس سے ہمارا وہ خالق ومالک ہم سے راضی ہوگا یا ناراض۔ اور ہر موقع پر اس کا خیال رکھنے سے تمہاری اصلاح خود بخود ہوتی چلی جائے گی، کہ انسان اپنے اعمال، اور اپنے آپ کو اچھی طرح سے، اور پورے طور پر خود جانتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { بَل الاَنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہ بَصِیْرَۃٌ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرََہٗ } الاٰیۃ (القیامۃ۔ 14) ۔ پس تم ہمیشہ اپنے خالق ومالک سے اپنا معاملہ درست رکھنے کی فکر و کوشش کرو، اور ان گناہوں سے بطور خاص بچنے کی فکر اور کوشش کیا کرو جن کے اثرات دلوں تک متعدی ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب کسی کا دل بیمار ہوگیا تو لازما اس کی نتیجے میں اس کے سارے اعضاء وجوارح بیمار ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ہمیشہ اللہ سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی کوشش کی جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے، اور وہ سب کچھ بھی جو زمین میں ہے1، اور اگر تم لوگ ظاہر کرو اس کو جو کہ تمہارے دلوں کے اندر ہے، یا اسے پوشیدہ رکھو، اللہ بہرحال تم سے اس کا حساب لے گا، مگر جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا2، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،

822 کائنات سب کی سب اللہ ہی کی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو کہ زمین میں ہے۔ پس آسمانوں اور زمین میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہیـ کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی، اور سب پر حکم و اختیار اور تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ نہ اس کی تخلیق و انشاء میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے، اور نہ ہی اس کے حکم و تصرف میں { اَلاَ لَہٗ الْخَلْقُ وَاُلاَمْرُ } پس بڑے ہی بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس کے سوا اوروں کو مافوق الاسباب طور پر اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے بلاتے پکارتے ہیں، اور ان کو اس وحدہ لاشریک کی خدائی میں شریک اور حصہ دار مانتے ہیں۔ اور اس طرح وہ شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس زمین و آسمان کی اس حکمتوں بھری کائنات کے اندر جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہٗ لاشریک کا پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے، اور اس پر حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے اور چلے گا۔ اور بالآخر تم سب لوگوں نے لوٹ کر اسی خالق ومالک مطلق کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں۔ بہرکیف اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ 823 اللہ کے محاسبے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ظاہر کرو وہ کچھ جو کہ تمہارے دلوں میں ہے یا اسے پوشیدہ رکھو۔ اللہ اس سب پر تم لوگوں کا محاسبہ فرمائے گا۔ پس جو کچھ تم لوگ اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہو، یا اس کو ظاہر کرتے ہو وہ سب اس کے یہاں ایک برابر ہے کہ اس کی شان ہے { یَعْلَمْ خَائِنَۃَ الْاَعْیُن وَمَا تُخُفْی الصُّدُوْرِ } (المومن۔ 19) ۔ سو وہ تم سے اس سب کا محاسبہ کرے گا، اب تم لوگ خود دیکھ لو کہ تم اس کے حضور کیا لے کر حاضر ہورہے ہو، اور اس کے یہاں سے کس صلے اور بدلے کے مستحق ہوسکتے ہو۔ اور تمہارا یہ محاسبہ ہوگا قیامت کے روز جو کہ حساب کتاب کا دن ہوگا ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ اللّٰہُمَّ اَنْ تُحَاسِبَنَا فِیْ ذَالِکَ الْیَوْم الْعَظِیْم الرَّہِیْب حِسَابًًا یَّسِیْرًا وَالَّذِیْ ہُوَ الْعَرْضُ فَحَسْبُ ۔ کَمَا اَخْبَرَنَا بِذَالِکَ نَبِیُّکَ الاَکْرَمْ ۔ صَلّٰی اللّٰہُ عََلَیْہ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ ۔ واضح رہے کہ یہ محاسبہ دل کے ان ارادوں پر ہوگا جو کہ پکے پختہ اور عزائم کے درجے میں ہوں گے۔ یعنی جس میں کسی برے کام کے کرنے کا پختہ ارادہ تھا، مگر کسی مجبوری یا مزاحمت کے سبب وہ ایسے نہیں کرسکا۔ رہ گئے وہ وساوس و خطرات جو دل میں آئے اور گزر گئے ان پر کوئی گرفت و پکر نہیں ہوگی کہ وہ انسان کے بس میں نہیں اور ان کے بارے میں ان سے متعلق پختہ ارادہ نہیں پایا جاتا جیسا کہ ابھی آگے بھی آ رہا ہے اور احادیث میں اس کی طرح طرح سے تشریح فرمائی گئی ہے۔ کہ خدا وند قدوس کی مشیت میں کوئی مداخلت اور مزاحمت کرنے والا نہیں ہوسکتا اور اس سے مقصود در اصل شرک کی نفی کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ اس طرح کی آیات کریمات کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کی مشیت کے لئے سرے سے کوئی ضابطہ اور قاعدہ ہی نہیں ہوتا۔ نہیں بلکہ اس کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔ سو اس کی بخشش اور عذاب کا معاملہ بھی اسی ضابطہ حکمت کے تحت عمل میں آئے گا۔ 824 اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش اس کی مشیت پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جس کی چاہے بخشش فرمائے اور جسکو چاہے عذاب دیـ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کونسا گناہ مغفرت و بخشش کے لائق ہے، اور کونسا نہیں۔ روایات میں ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہء کرام ؓ سخت گھبرا گئے کہ جب دل کے خیالات کا بھی محاسبہ ہوگا تو پھر کون بچ سکے گا۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس گھبراہٹ کا اظہار نبیء اکرم ﷺ کی خدمت میں کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم بنی اسرائیل کی طرح انکار مت کرو، بلکہ دل و جان سے اس کے حکم کو قبول کرو۔ تو ان حضرات صدق و صفا نے فوری طور پر اور صدق دل سے ایسے ہی کیا، اور کہا { سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمََصِیْرُ } " سن لیا ہم نے اور صدق دل سے مان لیا، ہم تیری بخشش چاہتے ہیں، اے ہمارے رب، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے سب کو " تو اس پر اگلی آیتیں نازل ہوئیں ( صحیح مسلم، کتاب الایمان، واخرجہ الامام احمد و نسائی وغیرھم عن ابن عباس، ابن کثیر، محاسن التاویل، معارف القرآن اور مراغی وغیرہ) بہرکیف بندے کا کام ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کے ہر حکم وارشاد کے آـگے سرتسلیم خم رہے کہ اس کا ہر حکم وارشاد حق وصدق ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

ایمان لائے رسول ﷺ اس (ہدایت) پر جو کہ اتاری گئی ان کی طرف، ان کے رب کی جانب سے، اور سارے مسلمان بھی، (یعنی وہ) سب بھی ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر، (اس بنیاد پر کہ) ہم اس کے رسولوں میں کسی بھی طرح کی کوئی تفریق نہیں کرتے، اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا (اپنے رب کے اوامرو ارشادات کو) اور مان لیا (صدق دل سے اس کے فرامین کو) ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (سب کو3)

825 اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ؟ : سو اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اس طرح مانا جائے کہ وہ وحدہ لاشریک ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گا۔ نہ وہاں سبق عدم تھا اور نہ لحوق زوال کا کوئی سوال ہے۔ جب کچھ بھی نہ تھا وہ تھا۔ اور جب کچھ بھی نہ رہے گا وہ موجود ہوگا۔ اس ساری کائنات کا خالق بھی بلاشرکت غیرے وہی ہے اور مالک و متصرف بھی وہی۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ نہ اس کی ذات وصفات میں، اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہے، کہ اس کی شان ہے { لَم یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفْوًا اَحَد } پس اس پر سچا پکا ایمان و یقین بندے پر سب سے پہلی ذمہ داری ہے اور یہ تمام ایمانیات کی اساس و بنیاد ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی واضح رہے کہ ایمان لانے والوں کے ذکر کے سلسلے میں سب سے پہلے جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ خود رسول کی ذات ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلام میں قانون کی فرمانبرداری اور اطاعت کے معاملہ میں پیغمبر بھی اس سطح پر ہے جس پر عام اہل ایمان ہیں۔ ان کا معاملہ ان دنیاوی بادشاہوں کی طرح نہیں ہوتا جو اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قانون لانے والے پیغمبر نہ صرف یہ کہ اس قانون کے ماتحت ہوتے ہیں بلکہ وہ اس میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور وہ اس کو { اَنَا اَوَّلَ المؤمنین } اور { وَاَنَا اَوَّلُ المسَلِمِیْنَ } کہہ کر اپناتے ہیں۔ سو یہ ان کی صداقت و حقانیت کی ایک بڑی گواہی ہوتی ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین - 826 اللہ کے رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب ؟ـ : یہ کہ وہ سب سچے اور برحق تھے، اور اپنے اپنے وقتوں میں نجات انہی کی اتباع و پیروی میں تھی۔ اور اب آخر میں ان سب کے امام اور خاتم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد ان سب کی شریعتیں اور کتابیں منسوخ ہوگئیں۔ اب سلامتی اور نجات کی راہ صرف ایک ہی ہے کہ اسی آخری وحی پر ایمان لایا جائے اور اسی کی اتباع و پیروی کی جائے۔ ان حضرات انبیائے کرام میں سے جن کے اسمائے گرامی معلوم ہیں ان پر ہم ان کے ناموں کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں، اور جن کے نام معلوم نہیں ان پر اجمالی طور پر کہ وہ سب سچے تھے۔ اور سب ہی اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے۔ سو ان میں سے کسی ایک کا بھی کفر و انکار سب کا کفر وانکار ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 827 تفریق بین الانبیاء کفر ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تفریق بین الانبیاء کفر ہے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں، جیسا کہ یہود و نصاری نے کیا بلکہ ہم بلا تفریق سب کو مانتے اور سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ البتہ ان کے درمیان مراتب و درجات کے فرق کو مانتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو تفریق اور چیز ہے اور فرق مراتب اور چیز۔ تفریق بین الانبیاء تو کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور فرق مراتب و درجات ایک امر واقعہ اور حقیقت صادقہ۔ ارشاد ربانی ہے { تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ } الاٰیۃ (البقرۃ۔ 253) سو اس سے اہل ایمان کی عظمت شان اور ان کی حقانیت واضح ہوجاتی ہے کہ وہ سب ہی رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے جبکہ اہل کتاب تفریق بین الانبیاء والرسل کے اس جرم کے مرتکب ہیں، اور ان کا کہنا اور ماننا ہے، کہ ہم کچھ کو مانتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں { وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ } الاٰیَۃَ (النسائ : 150 ۔ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 828 بخشش کی دعا و درخواست کی تعلیم و تلقین : سو سچے اہل ایمان کے نمونے کو پیش فرما کر یہ تعلیم و تلقین فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب پر اپنے ایمان و یقین کے اعلان و اظہار کے ساتھ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تیری بخشش چاہتے ہیں۔ اپنی ان سب خطاؤں اور تقصیرات کی، جو ہم سے بشری تقاضوں کی بناء پر سرزد ہوگئی ہیں، یا آئندہ ہونگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ " غفرانک " منصوب ہے اور اس کا فعل ناصب محذوف و مقدر ہے جو " نرجو " یا " نشتاق " جیسے کسی فعل کی صورت میں مقدر مانا جاسکتا ہے اور اس طرح کے مواقع پر فعل کو حذف کردینے میں بلاغت کا یہ پہلو کارفرما ہوتا ہے کہ دعا کرنے والا اپنے اندر اس دعا کے لئے سخت اضطراب رکھتا ہے اور یہ چیز دعا کی قبولیت کے لئے نہایت موثر سفارش کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پر سمع وطاعت کے اقرار کے فوراً بعد دعاء کا زبان پر جاری ہوجانا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقرار ایک عظیم الشان ذمہ داری کا اقرار ہے۔ اس لئے بندہ مومن اس کے فوری بعد طلب مغفرت کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے کہ تیری بخشش کے سوا اور کوئی سہارا ہمارے لئے موجود نہیں اور { وَاِلَیْکَ المُصِیْر } میں کامل سپردگی کا ذکر فرمایا گیا کہ تیرے سوا اور کوئی نہیں جو کسی بھی اعتبار سے ہمارا مرجع و ماویٰ بن سکے۔ ہماری آس وامید تجھ ہی سے وابستہ ہے اور ہمارا بھروسہ و اعتماد تجھ ہی پر ہے۔ پس ہمیں ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھ۔ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی (طاقت و) گنجائش کے مطابق، ہر شخص کو پھل ملے گا اس کی اس نیکی کا جو اس نے کمائی، اور اسی پر پڑے گا وبال اس کی اس برائی کا جو اس نے سمیٹی4، (ایمان والو ! اپنی تقصیرات کو پیش نظر رکھ کر اس طرح دعا مانگا کرو کہ) اے ہمارے رب، ہماری گرفت نہیں فرمانا اس بھول یا چوک پر، جو ہم سے سرزد ہوجائے، اے ہمارے رب، ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہیں ڈالنا، جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا ہے جو گزر چکے ہیں ہم سے پہلے (ان کے تمرد اور سرکشی کی بناء پر)5 اے ہمارے رب ہم سے بوجھ نہیں اٹھوانا جن (کے اٹھانے) کی ہمیں طاقت نہیں، ہمیں معاف فرما دے، ہماری بخشش فرما دے، اور ہم پر رحم فرما، کہ تو ہی ہے ہمارا مالک (اور کارساز) پس مدد فرما ہماری کافر لوگوں کے مقابلے میں،1

829 بےاختیار خیالات پر کسی کی گرفت نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بلا قصد و ارادہ آنے والے خیالات پر کسی کی کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ـ پس ان ہوا جس و خواطر پر کسی کی گرفت و پکڑ نہیں ہوگی جو بلاقصد و ارادہ دل میں پیدا ہوجاتے ہیں کہ ان سے بچنا انسان کے بس میں نہیں۔ جیسا کہ نبئ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا کہ میری امت سے خطاء و نسیان اور ہر وہ عمل و قصور مرفوع و معاف ہے جو کسی جبر واکراہ کے ذریعے کرایا گیا ہو " رُفِعَ عَنْ اُمَّتِی الْخَطٓائُ وَالنِّسْیَانُ وَ مَا اسْتُکْرِہُوْا عَلَیْہ " اور وہ اپنے بندوں سے نرمی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں کرنا چاہتا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، الآیۃ (البقرۃ۔ 185) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور ہر شخص اسی حد تک مکلف ہے جس حد تک اس کو طاقت عطا فرمائی گئی ہے۔ سو جو چیز اس کے حدود اختیار و امکان سے باہر ہوگئی اس پر اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ 830 ہر کسی کو اس کے اپنے کئے کرائے کا بدلہ ملے گا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا بدلہ ملے گا خواہ اس کی وہ کمائی نیک ہو یا بد۔ تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ سو یہ شریعت مطہرہ کا دوسرا بڑا ضابطہ و اصول ہے جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے، کہ ہر کسی کو اس کے اپنے کئے کرائے کا پھل ملیگا اور ہر ایک کو اپنی برائی کا بھگتان خود ہی بھگتنا ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا { وَلا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } الاٰیۃ (فاطر۔ 18) ۔ پس یہ نہیں ہوگا کہ " کرے کوئی اور بھرے کوئی "، جیسا کہ عیسائیوں کے عقیدہ " کفارہ " کے موجدوں نے سمجھ رکھا ہے، اور نہ ہی کسی ایک کی نیکی کا پھل کوئی دوسرا پا سکے گا، بلکہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق جو کرے گا وہی بھرے گا کے اصول پر عمل ہوگا۔ اور جو کچھ کوئی بوئے گا وہی کاٹے گا۔ نہ دوسرے کسی کے نیک اعمال کا کریڈٹ اس کو ملے گا اور نہ دوسرے کسی کی برائیاں اس کے کھاتے میں ڈالی جائیں گی۔ بلکہ ہر کسی کو اس کے اپنے کیے کرائے ہی کا صلہ وبدلہ ملے گا۔ 831 بھاری بوجھ سے مراد : یعنی سخت احکام اور تکالیف شرعیہ کی صورت میں، ہم پر بھاری بوجھ نہیں ڈالنا کیونکہ ایسے بوجھ کو اٹھا نے اور برداشت کرنے کی ہمت ہمارے اندر نہیں۔ ہم تو بہرحال عاجز اور کمزور مخلوق ہیں اور ہمیں اپنے عجز و قصور کا اعتراف بھی ہے اور احساس و اقرار بھی، اور تجھ سے بڑھ کر اے ہمارے خالق مالک ہماری کمزوریوں کو اور کون جان سکتا ہے، اور تجھ سے زیادہ ہم پر مہربان اور کون ہوسکتا ہے، ۔ تبارکت وتعالیت ۔ (محاسن التاویل، المراغی اور المعارف وغیرہ) ۔ یہاں پر دعاء میں " اصر " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے اور " اصر " کے اصل معنی عہد و پیمان اور ذمہ داری کے آتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { قَال اَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْ تُمْ عَلٰی ذَالکُمْ اِصْریْ } الایِہ (اٰل عمران : 8 1) اور یہیں سے اس کا استعمال ان گرانبار ذمہ داریوں اور بوجھوں کے لئے ہوا جن کا اٹھانا دشوار ہو۔ سو یہاں پر یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال فرمایا گیا ہے کہ ہم پر ایسے بھاری بوجھ نہ ڈالنا جن کو اٹھانے کی ہمیں طاقت نہ ہو۔ 832 دنیاوی آفتوں سے حفاظت و پناہ کی دعا و درخواست : سو اس عرض والتجاء کا مطلب ہے کہ ہمیں دنیاوی بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا نہیں فرمانا۔ یعنی ہمیں دنیاوی بلاؤں اور مصبیتوں میں مبتلا نہیں فرمانا۔ سو پہلی دعا تشریعات و احکام کے اعتبار سے ہے اور دوسری مصائب و آلام کے اعتبار سے کہ ان دونوں سے ہمیں بچا کر اور محفوظ رکھنا (معارف للکاندہلوی (رح) و المحاسن للقاسمی (رح) و غیر ذالک) تحمیل کے معنی لادنے اور کسی پر بھاری بوجھ ڈالنے کے ہیں، آج کل بھی یہاں پر عربوں کے درمیان تحمیل کا یہ لفظ لوڈنگ، اَن لوڈنگ کے لئے عام استعمال ہوتا ہے۔ سو مطلب یہ ہوا کہ سمع وطاعت کی اس راہ میں آگے جو مشکلات اور آزمائش پیش آنے والی ہیں ان میں کوئی آزمائش ایسی نہ ہو جو ہماری برداشت سے زیادہ ہو۔ جو ہمیں تیری وفاداری کے امتحان میں ناکام بنا دے جہاں تک لفظ ابتلاء و آزمائش کا تعلق ہے وہ تو ایمان و اسلام کا تقاضا اور لازمہ حیات ہے جس سے اس دنیا میں مفر نہیں۔ کھرے کھوٹے کے درمیان فرق وغیرہ کے لئے اس کا پایا جاناتو ضروری ہے لیکن ہم سے اپنی رحمت و عنایت کا معاملہ فرماتے ہوئے ہمیں کسی ایسے امتحان میں نہیں ڈالنا جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔ سو دعا کے اوپر والے ٹکڑے میں یہ دعا و درخواست کی گئی تھی کہ ہماری شریعت اس طرح کے " اصر و اغلال " سے پاک رہے جو گزشتہ شریعتوں میں پائے گئے ہیں اور پائے جاتے ہیں۔ اور دعا کے اس دوسرے ٹکڑے میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ ہمیں ان خارج از استطاعت آزمائشوں سے محفوظ رکھنا، جو اس شریعت کے حقوق ادا کرنے کی راہ میں پیش آسکتی ہیں۔ کیونکہ ہم کمزور اور ضعیف و ناتواں ہیں۔ ہم پر رحم فرمانا۔ 833 کافروں کے مقابلے میں نصرت و امداد کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں۔ جو کہ تیرے دین کے دشمن، اور تیری راہ سے روکنے والے ہیں ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان، پاکیزہ، عمدہ اور جامع دعاء ہے جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کے بندوں کو سکھائی گئی ہے۔ اور اسی میں اس کی قبولیت کا مژدہ بھی ہے، کیونکہ اگر اس نے اس دعاء کو قبول نہ کرنا ہوتا، تو وہ اس کی تعلیم بھی نہ دیتا۔ چناچہ احادیث میں وارد ہے کہ جب بندہ یہ دعاء کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر جملے پر فرماتا ہے " نَعَمَ " " ہاں میں نے ایسے کردیا " (الاساس فی التفسیر) ۔ سو یہ عظیم الشان آیتیں ہیں چناچہ صحیح بخاری میں حضرت ابومسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رات کو سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیں وہ اس کو کافی ہوگئیں۔ (صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورة البقرۃ) اور مسند امام احمد (رح) میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے کے ایک خزانے سے عطاء فرمائی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ (مسند امام احمد ج 5 ص 5 1 15 1، محاسن التاویل اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ سو اس طرح آخر میں مخالفین اسلام کے مقابلے میں مدد و نصرت کی دعا کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ۔ والحمد للہ رب العالمین الذی لا تتم الصالحات الا بتوفیق منہ -