2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:54

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب موسیٰ نے (دکھ اور درد بھرے انداز میں) اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو ! ) بیشک تم نے بڑا ظلم ڈھایا ہے اپنی جانوں پر اس بچھڑے کو (اپنا معبود) ٹھہرا کر، سو تم لوگ فوراً سچی توبہ کے ساتھ رجوع کرو اپنے پیدا کرنے والے (رب) کے حضور، اور قتل کرو اپنے آپ کو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے ہاں، پھر اس نے (اپنے فضل و کرم سے) تمہاری توبہ قبول فرما لی، بیشک وہ بڑا ہی قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے4،

152 شرک خود اپنے اوپر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو مشرک شرک کے ذریعے خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بچھڑے کو اپنا معبود ٹھہرا کر تم لوگوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، کہ اسطرح تم لوگوں نے کھلے اور صریح شرک کا ارتکاب کیا جو کہ سب سے بڑا جرم اور سنگین گناہ ہے اور جو کہ ناقابل معافی جرم اور ظلم عظیم ہے۔ سو اس کے لئے توبہ کرنا اشد ضروری ہے۔ اور اس کا طریقہ تمہارے لئے یہ قتل ہے کہ تم لوگوں نے حیوان اور بچھڑے جیسے حیوان کو اپنا معبود ٹھہرا کر ہولناک ظلم کا ارتکاب کیا، جو کہ بیوقوفی میں ضرب المثل ہے۔ سو مشرک شرک کے ذریعے خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتا ہے اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر دائمی ہلاکت میں مبتلا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و انحراف۔ 153 گوسالہ پرستی کی سزا قتل باہمی : یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو، یعنی جو بری ہو وہ مجرم کو قتل کرے۔ چناچہ اسطرح ستر ہزار یہودی قتل کے گھاٹ اتارے گئے۔ (صفوۃ التفاسیر، صفوۃ البیان، روح، کبیر اور جامع البیان وغیرہ) ۔ کہ مخلوق پرستی اور بچھڑے جیسی مخلوق کی پوجا و پرستش جو کہ حماقت و بیوقوفی میں ضرب المثل ہے، ظلم بالائے ظلم ہے۔ اس لئے ان کو اس کی ایسی ہولناک سزا بھگتنا پڑی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اپنی اس بری حرکت سے ان گوسالہ پرستون نے ظلم بالائے ظلم اور حماقت در حماقت کا ارتکاب کیا۔ اور اس حد تک کہ انسان حیرت میں ڈوب کر رہ جاتا ہے کہ نبیوں رسولوں کی اولاد ہونے کی باوجود حضرت موسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر سے براہ راست توحید کا درس لینے کے باوصف یہ لوگ اس قدر ہولناک کھڈے میں آخر کیسے اور کس طرح گرگئے ؟ سو جب قلب وباطن کی دنیا ایمان و یقین کے نور سے منور و معمور نہ ہو تو انسان کا حال یہی ہوتا ہے اور وہ نفس و شیطان کے وساوس و خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اور کبھی بھی پھسل کر ہلاکت و تباہی کے کی ہولناک کھڈے میں گر سکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 154 اسلامی سزائیں باعث رحمت : سو اسلامی سزاؤں میں رحمت و عنایت خداوندی کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس سے گناہوں کی میل یہیں صاف ہوجاتی ہے۔ اور انسان اخروی عذاب سے بچ جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ سزائیں معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کا عظیم الشان ذریعہ ہیں۔ بہرکیف ان گوسالہ پرستوں کو حکم ہوا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو کہ اسطرح اس جرم عظیم کی سزا تم کو یہیں مل جائے اور تم آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ جو کہ بڑا ہی ہولناک اور بہت ہی سخت اور رسواکن عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ اسلامی سزاؤں میں رحمت و عنایت خداوندی کا ایک خاص پہلو ہے تاکہ اس طرح ایسے لوگوں کا معاملہ یہیں صاف ہوجائے، اور وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں کہ وہاں کا وہ عذاب بڑا ہی سخت اور نہایت ہی ہولناک عذاب ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { ولعذاب الآخرۃ اکبر } ۔ نیز فرمایا گیا : ۔ { ولعذاب الآخرۃ اخزی } ۔ یعنی " آخرت کا عذاب بڑا ہی ہولناک اور انتہائی رسوا کن ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ 155 بنی اسرائیل پر توبہ کی قبولیت کا انعام : ۔ سو بنی اسرائیل پر قبولیت توبہ کا یہ ایک اور خاص انعام تھا جس سے ان کو نوازا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے اپنے کرم سے تمہیں معاف فرما دیا، حالانکہ تمہارا یہ جرم اپنی سنگینی میں فرعون کے جرم سے بھی بڑھ کر تھا کیونکہ وہ ملعون تو سرے سے ایمان ہی نہیں لایا تھا، مگر تم لوگوں نے تو ایمان لانے کے بعد، اور اتنے کھلے معجزات دیکھنے کے باوجود یہ کفر کیا، مگر اس کے باوجود اس نے اپنے کرم بےپایاں سے تمہاری اس توبہ پر تمہارا یہ جرم بھی معاف فرمادیا، اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اس کے حضور دل و جان سے اور ہمیشہ جھکے رہو، کہ اسی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ بہرکیف بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی کے اس ہولناک جرم کے ارتکاب پر حکم ہوا کہ " تم لوگ اپنے آپ کو قتل کرو "۔ یعنی تم میں سے ساکتین اپنے ہاتھ میں خنجر لے کر ان مرتدین کو قتل کریں جنہوں نے گوسالہ پرستی کے اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔ سو حضرت موسیٰ نے جب ان لوگوں کو یہ حکم خداوندی سنایا تو ان سب نے کہا کہ ہم سب حکم خداوندی پر راضی ہیں۔ چناچہ ان سب کو ایک میدان میں جمع کیا گیا اور جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کے جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا انہوں نے اپنے خنجروں اور تلواروں سے گوسالہ پرستوں کو قتل کرنا شروع کردیا اور ستر ہزار کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر حضرت موسیٰ اور ہارون نے نہایت عجز و انکسار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور عفو و درگزر کی درخواست کی جس کو قبول فرما لیا گیا۔ سو مقتولین کی بخشش فرما دی گئی اور بقیۃ السیف کو معاف فرما دیا گیا۔ ( معارف القرآن وغیرہ ) ۔ 156 اللہ پاک کی شان توّابیّت کا ذکر وبیان : سو وہ ایسا بڑا توّاب ہے کہ زندگی بھر کے گناہوں کی میل کو توبہ کرنے پر یکبارگی صاف فرما دیتا ہے، بشرطیکہ توبہ صحیح معنوں میں توبہ ہو، اور وہ گھڑی بھر کی تکلیف برداشت کرلینے پر ہمیشہ کی عزت و کرامت سے نواز دیتا ہے، حیات فانی اور اس کے حطام زائل کے بدلے آخرت کی حیات سرمدی اور اس کی نعیم مقیم، اور سرور ابدی سے سرفراز فرما دیتا ہے، کہ اس کی شان ہی کرم کرنا اور رحمت فرمانا ہے۔ سو توبہ کو قبول فرمانا اور اپنے گنہگار بندوں کو اپنی خاص رحمت و عنایت سے نوازنا اس رب رحمن و رحیم کی ایک خاص شان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فَتُبْ عَلَیَّ وَارْحَمْنِی یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ بہرکیف اس کی شان ہے کہ ۔ نیم جاں بستاند وصد جاں دہد ۔ آنچہ درہمت نیاید آں دہد ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف دنیا کی یہ فانی زندگی آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کے مقابلے میں گھڑی بھر سے زیادہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ اس کا حق یہ ہے کہ اس ساری زندگی کو اس خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کردیا جائے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ اَلدُّنْیَا سَاعَۃ ٌفَاجْعَلْہَا طَاعَۃٌ ۔ یعنی " یہ دنیا ساری ایک گھڑی ہے پس تم اس گھڑی کو سراپا اطاعت و فرمانبرداری بنالو " ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ایسے میں وہ لوگ کس قدر بہکے بھٹکے اور گمراہ ہیں۔ اور وہ کتنے بڑے خسارے میں مبتلا ہیں جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو بھول کر صرف اس دنیائے دوں ہی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل شَائِبَہٍ مِنْ شَوَائِب ہَذَا الاِغْتِرَارِ- 157 اللہ کی صفت رحمت کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تواب کے ساتھ رحیم بھی ہے۔ سو اللہ پاک " توّاب " ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مہربان بھی ہے۔ پس وہ چونکہ " توّاب " کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم بھی ہے۔ اس لئے صرف یہی نہیں کہ گناہ معاف فرما دیتا ہے اور بس۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے بندے کو خواہ وہ سمجھے یا نہ سمجھے اور اسے اس کا احساس و ادراک ہو یا نہ ہو، طرح طرح سے اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے بھی نوازتا ہے ۔ جلّ جَلَالُہٗ وَعَمّ نَوالُہٗ ۔ پس بندے کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں دل و جان سے اس کی طرف رجوع رہے، کہ اس کی عبدیت اور بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اسکا بندہ بن کر رہے، یہی اس کی شان بندگی کے لائق ہے اور اسی میں اسکا بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی اور حقیقی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:55

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب تم لوگوں نے (اپنے پیغمبر سے) کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارے کہنے پر یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو خود اپنی آنکھوں سے کھلم کھلا نہ دیکھ لیں، تو (اس گستاخی پر) تم کو آپکڑا بجلی کے ایک کڑاکے نے تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے، (جس کے نتیجے میں تم سب ڈھیر ہو کر رہ گئے5)

158 بنی اسرائیل کا ایک بیہودہ مطالبہ اور اس کا نتیجہ : یہ اس وقت ہوا کہ جب حضرت موسیٰ ۔ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ ۔ نے باذن الہٰی ستر آدمیوں کو کوہ طور پر لے جانے کے لئے چنا۔ تاکہ یہ لوگ وہاں جا کر گو سالہ پرستی کی معذرت کریں۔ تو جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو انہوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کیا کہ آپ اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں اپنا کلام سنا دے، اس پر تھوڑی دیر میں ایک نورانی ابر ظاہر ہوا، تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس میں کھو گئے، اور یہ بنی اسرائیلی نیچے کھڑے رہے۔ تب اللہ پاک نے کلام فرمایا جو ان لوگوں نے سنا۔ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس ابر نورانی سے باہر تشریف لا کر جب ان لوگوں سے دریافت کیا کہ تم نے کلام ِالہیٰ سنا، تو انہوں نے کہا کہ کلام تو ہم نے سنا لیکن اس کے کلام الہیٰ ہونے کا یقین ہم اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ ہم علانیہ اور کھلم کھلا اللہ کو اپنی آنکھوں سے بولتا نہ دیکھ لیں، تو اس بےہودہ جسارت پر ان کو بجلی کے ایک کڑاکے نے اچانک اس طرح پکڑا کہ یہ ادھر ہی ڈھیر ہو کر رہ گئے (معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ کیونکہ ان لوگوں کا یہ مطالبہ ایک بیہودہ مطالبہ تھا۔ کیونکہ اس دنیا میں اور ان ناسوتی آنکھوں سے حضرت حق جل مجدہ کو دیکھنا کسی کیلئے ممکن نہیں، کہ ان ظاہری اور مادی آنکھوں سے کسی ظاہری اور مادی چیز ہی کو دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ وہ خالق ومالک وحدہ لاشریک ایسے تمام تصورات سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ اور وہ مادہ اور مادیت کے تمام شوائب سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 159 بنی اسرائیل کی ایک سنگین گستاخی اور اس کی سنگین سزا : کیونکہ ان لوگوں کا یہ مطالبہ ایک سنگین جسارت اور سخت گستاخی تھی جس کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا تھا، اس لئے کہ مخلوق کی ان محدود و مختصر اور قاصر نگاہوں سے حضرت خالق جل و علا کو دیکھنا کسی طرح ممکن نہیں ہوسکتا، ان عاجز اور محدود نگاہوں کے ساتھ دیکھنے کے لئے انسان جتنا بھی زور لگائے، اور جس قدر بھی کوشش کرے، وہ کسی مخلوق ہی کو دیکھ سکتا ہے، اور بس، جبکہ حضرت خالق جل و علا کا معاملہ تو مخلوق کے دائرہ، اور اس کے احاطہ و ادراک سے وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہاں جنت کی اس کامل زندگی میں انسان اس شرف عظیم سے مشرف ہو سکے گا، اور یہ ایسا بڑا شرف اور اتنا بڑا انعام ہوگا کہ اس کے سامنے جنت کی تمام نعمتیں ماند پڑجائیں گی، مگر وہاں پر یہ اس لئے ممکن ہوگا کہ حضرت حق جل مجدہ اپنی قدرت کاملہ اور رحمت بےنہایت سے اہل جنت کو ایک نئی زندگی اور نئی اٹھان دیگا { وَاَنَّ عَلَیْہ النَّشَأَۃَ الاُخْرٰی } جس سے یہ ضعیف البنیان انسان ایک اور ہی انسان کے روپ میں اٹھے گا ۔ اَللّٰہُمَّ شَرِّفْنَا بِہَا بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ -
Ayah 2:56

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر ہم نے اٹھا کھڑا کیا تم سب کو (اپنی رحمت و عنایت سے) تمہارے مر چکنے کے بعد، تاکہ تم لوگ احسان مانو (اور اپنے منعم حقیقی کا) شکر بجا لاؤ6،

160 " مِنْ بَعْد مَوْتِکُمْ " سے مراد ؟ : سو " من بعد موتکم " میں وارد لفظ " موت " کے بارے میں حضرات اہل علم کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں پر موت سے مراد اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ اس سے مراد اس کا مجازی معنی ہے۔ اس لئے کہ موت کا اطلاق بطور مجاز، نیند، غنودگی اور بےہوشی وغیرہ پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ سو کر اٹھنے کے بعد پڑھی جانے والی دعائے ماثور میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ " الْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَااَمَاتَنَا وَاِلَیْہ النُّشُوْرُ " ۔ کہ اس دعا میں وارد لفظ موت سے نیند ہی مراد ہے۔ اسی لئے بعض لوگوں نے کہا کہ " من بعد موتکم " میں بھی موت سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ نیند ہے۔ یعنی وہ لوگ حقیقت میں مرے نہیں تھے بلکہ ان پر ایک طرح کی نیند طاری ہوگئی تھی، مگر جمہور علماء و مفسرین کرام کے نزدیک اس آیت کریمہ میں وارد لفظ موت اپنے حقیقی معنوں ہی میں مستعمل ہے، اور بلاوجہ اس کو مجاز پر محمول کرنے کی ضرورت بھی نہیں، یعنی وہ لوگ حقیقت میں مرگئے تھے، کیونکہ جب تک کوئی قرینہ صارفہ موجود نہ ہو لفظ کو اپنے حقیقی معنی سے پھیرنا درست نہیں، بہرکیف بنی اسرائیل کو انکے اس بیہودہ مطالبے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور اس طرح ان کو اپنی اس گستاخی اور اس جرم کی سزا نقدا نقد مل گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 161 شکر نعمت کی تعلیم و تذکیر۔ وباللہ التوفیق : یعنی ہم نے تم پر یہ احسان کیا تاکہ تم شکر ادا کرو اس احسان کا کہ ہمارے مالک نے اپنے کرم سے ہمیں اتنے بڑے انعام سے نوازا کہ زندگی کی نعمت بھی دوبارہ عطاء فرمائی، توبہ و استغفار اور انابت و اعتذار کا موقع بھی بخشا، اور بعث بعد الموت کا نمونہ بھی دکھلا دیا، جس کے بعد ہمارا ایمان ایک درجے میں استدلالی سے بڑھ کر شہودی ایمان ہوگیا، جو کہ ناقابل تزلزل ہوتا ہے سو اس کرم بالائے کرم کو دیکھ کر تم لوگ دل و جان سے اس کے حضور جھک جاؤ اور اس طرح شکر منعم اور اس کے حضور خشوع و خضوع سے سرشار ہوجاؤ کہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور (مزید کرم یہ کہ) ہم نے تم پر (میدان تیہ میں) بادلوں کا سایہ کیا، اور تم پر من وسلویٰ اتارا (اور تم سے کہا کہ) کھاؤ (پیو) تم لوگ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں بخشی ہیں، اور انہوں نے (حکم عدولی کرکے) ہمارا کچھ بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے تھے7

162 بنی اسرائیل کیلئے عظیم الشان سائے کا انتظام : سو بنی اسرائیل کے لیے اس تپتے صحرا میں بادلوں کے ایک عظیم الشان سائبان کی نعمت کا اہتمام و انتظام کیا گیا جب مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں تمہارے لئے سر چھپانے کی بھی کوئی جگہ میسر نہ تھی، تو ہم نے ٹھنڈے اور سفید بادلوں سے ۔ کما قال ابن عباس ۔ تمہارے لئے عمدہ سائے کا عظیم الشان انتظام کیا، ورنہ اس گرم اور تپتے ہوئے صحرا میں اتنے لاکھ لوگوں کیلئے اس طرح سائے کا انتظام کرنا کسی کے بس میں نہ تھا، اور اگر اس سائے کا انتظام نہ کیا جاتا تو کھلے آسمان تلے اس صحرا کی آگ برساتی دھوپ میں تم لوگ جل کر مرجاتے، سو سوچو کہ یہ تم پر تمہارے رب کا کس قدر بڑا اور عظیم الشان انعام و احسان تھا جو کہ ایک طرف تم لوگوں پر اس منعم و وہاب کا ایک عظیم الشان احسان تھا اور دوسری طرف اس کی قدرت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر بھی۔ ورنہ لاکھوں لوگوں کے اس جم غفیر کیلئے اس طرح فوری طور پر سائے کا انتظام کردینا تو دور حاضر کی کسی بڑی سے بڑی متمدن اور ترقی یافتہ حکومت کے بس میں بھی نہ تھا، چہ جائیکہ ہزاروں سال پہلے کے اس دور میں اور پھر بادلوں کی طرح کا بلند اور ٹھنڈا سایہ بان مہیا کرنا تو ہزاروں سال بعد آج کے اس ترقی یافتہ اور متمدن دور میں بھی دنیا کی کسی بڑی سے بڑی حکومت کیلئے ممکن نہیں، مگر تمہارے رب نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے تمہارے لیے اس عظیم الشان اور بےمثال سائے کا انتظام فوری طور فرما دیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ 163 بنی اسرائیل کیلئے ایک عظیم الشان کھانے کا اہتمام و انتظام : سو بنی اسرائیل کے لئے اس لق و دق صحرا میں " من وسلویٰ " کی ایک عظیم الشان خوراک کا اہتمام و انتظام کیا گیا۔ اور یہ عظیم الشان قدرتی غذائیں تم کو مہاجرت کے اس زمانے میں برسہا برس تک برابر ملتی رہیں جو کہ ایک اور عظیم الشان خداوندی انعام تھا جس سے تم لوگوں کو نوازا گیا تھا۔ حالانکہ تم کئی لاکھ کی تعداد میں تھے۔ اور اتنی بڑی تعداد میں مہاجروں کا اتنے بڑے عرصے کیلئے، اور اتنے وسیع پیمانے پر، اس قدر ریگستان اور صحرائی علاقے میں انتظام کرنا آج کی متمدن حکومتوں کیلئے بھی نہایت مشکل امر ہے، چہ جائیکہ اس وقت کے ان حالات میں جو کہ آج سے کہیں مختلف، اور کئی ہزار برس پہلے کے تھے۔ واضح رہے کہ " من " کے، بارے میں حضرات علماء و مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ یہ دھنیے کے بیج سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، جو ان لوگوں کیلئے قدرتی طور پر اوس کی طرح گرتی اور زمین پر جم جاتی تھی، جسے یہ لوگ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق سمیٹ سمیٹ کر استعمال کرتے تھے، اور " سلوی " بٹیر کی قسم کے ایسے خاص پرندے تھے جو فضل وقدرت خداوندی سے ان لوگوں کیلئے اس کثرت وبہتات سے جمع ہوجاتے کہ وہ اتنی بڑی تعداد کے لوگوں کی غذائی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے کافی ہوجاتے جو واقعی قدرت کا ایک معجزانہ کرشمہ تھا جس سے اس نے اس ناہنجار قوم کو نوازا تھا (روح، قرطبی، اور مدارک وغیرہ) مگر اس سب کے باوجود اس بےانصاف اور ناشکری قوم نے کفران نعمت ہی سے کام لیا، والعیاذ باللہ العظیم۔ 164 اللہ کی نعمتوں سے استفادے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کھاؤ پیو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے : سو ان لوگوں کو اللہ پاک کی بخشی ہوئی پاکیزہ چیزوں سے استفادہ کا حکم و ارشاد فرمایا گیا۔ پس تم ان میں سے کھاؤ پیو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، جمع کرنے اور جوڑ جوڑ کر رکھنے کی کوشش نہ کرنا، اللہ تعالیٰ اپنے خزانہء غیب اور قدرت کاملہ سے اور دیتا جائیگا، مگر ان ناہنجاروں نے اس کے باوجود ذخیرہ اندوزی کی اپنی جبلی خصلت کی بناء پر اس رزق کو جوڑنا اور ذخیرہ کرنا شروع کردیا جس سے وہ گلنے اور سڑنے لگا اور آخر کار یہ لوگ اس پاکیزہ رزق سے محروم کردیئے گئے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ تورات وغیرہ کی روایت کے مطابق ان لوگوں کو یہ قدرتی خوراک چالیس برس تک ملتی رہی، (ابن کثیر، محاسن التاویل، اور تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ سو اس طرح حکم عدولی اور نافرمانی سے انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ 165 اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد سے منہ موڑنا خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے : سو اپنے خالق ومالک کے حکم وارشاد سے منہ موڑنا اور اس کی خلاف ورزی خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس طرح انہوں نے معصیت و نافرمانی کا بار الگ اٹھایا اور اس پاکیزہ رزق سے محرومی الگ ہوئی جس میں نہ کوئی غل و غش تھا نہ محنت و مشقت۔ اور نہ آخرت میں کوئی سوال اور باز پرس۔ پس معصیت و گناہگاری میں خود انسان کا اپنا ہی خسارہ و نقصان ہے، نہ کہ حضرت حق ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ ۔ کا، وہ اس سے پاک اور وراء الوراء ہے کہ کوئی مخلوق اپنے کسی عمل سے اس کو کوئی فائدہ یا کسی طرح کا کوئی نقصان پہنچا سکے، جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کی تصریح موجود ہے ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی -، ۔ وَالْعَیَاذُ بِہٖ جَلَّ وَعَلاَ ۔ سو بندہ جو بھی کچھ کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے، نیکی کا صلہ وثمرہ اسی کو ملے گا اور برائی کا وبال بھی اسی پر پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ ورنہ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کا کام ہمیشہ اپنے خالق ومالک کے حضور جھکے رہنا ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ہم نے (تم سے) کہا کہ داخل ہوجاؤ تم اس بستی میں، اور وہاں تم لوگ کھاؤ (پیو فراغت اور) بےتکلفی کے ساتھ جہاں سے چاہو، اور داخل ہونا اس کے دروازے سے جھکے ہوئے، اور (زبان سے) کہتے جانا حطتہ1 (ہماری توبہ) تو ہم بخش دیں گے تمہاری خطاؤں کو، اور مزید (عنایتوں سے) نوازیں گے نیکوکاروں کو،

166 " قَرْیَۃ " کا مفہوم اور " ھٰذہ القَرْیَۃ " سے مراد ؟ : " قَرْیَۃ " کا لفظ دراصل " قُری " سے ماخوذ ہے جس کے معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے آتے ہیں، چناچہ کہا جاتا ہے " قَرَی المائَ فِی الْحَوْض "، " اس نے پانی کو حوض میں جمع کردیا " اور بستی چونکہ لوگوں کے جمع اور اکٹھا ہونے کی جگہ ہوتی ہے، اور اس میں مکانات وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، اس لئے اس کو لفظ " قریہ " سے موسوم کیا جاتا ہے، اور یہ معنی چونکہ بڑے شہروں میں بھی پایا جاتا ہے بلکہ زیادہ نمایاں طور پر پایا جاتا ہے، اس لئے " قریہ " کا اطلاق بڑے شہر پر بھی آتا ہے، جیسا کہ سورة زخرف کی اکتیسویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَریَتَیْن عَظِیْمٍ } ۔ " اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دو بستیوں میں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا "۔ یہاں " قریتین " سے مراد " مکہ مکرمہ " اور " طائف " کے دو شہر ہیں۔ اب رہ جاتی ہے یہ بات کہ سورة بقرہ کی اس زیر بحث آیت کریمہ میں مذکور اس " القریہ " سے، مراد کونسی بستی ہے ؟ تو اس میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ اور قتادہ، ربیع بن انس اور ابو مسلم اصفہانی وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے (کبیر، روح، مدارک وغیرہ) اور یہ قصہ اس وقت کا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے اپنی نافرمانی حکم عدولی اور پست ہمتی کے باعث، چالیس سال کا طویل عرصہ میدان تیہ کی صحرا نوردی میں گزارنے اور حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے انتقال فرما جانے کے بعد، حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں بیت المقدس کو فتح کیا، اور ان کو اس شہر میں فاتحانہ داخلے کا موقع نصیب ہوا، تو اس موقع پر ان کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ شہر میں اس طرح داخل ہوؤ کہ اس سے اللہ پاک کی نعمتوں کی قدردانی اور تشکر و امتنان کا اظہار ہو، نہ کہ تکبر و رعونت کا، مگر ان میں سے بعض نے پھر بھی نافرمانی کی، جس کی بناء پر ان پر آسمان سے عذاب نازل ہوا، (المراغی وغیرہ) ۔ 167 ادب شکر و تواضع کی تعلیم و تلقین : یعنی " سجود " سے یہاں پر اس کے اصطلاحی اور معروف معنی مراد نہیں بلکہ اس کے لغوی معنی مراد ہیں جو کہ عبارت ہیں انتہائی تذلل اور عاجزی سے۔ یعنی اللہ پاک کی نعمتوں اور اس کے احسان و انعام کے احساس سے اس کے حضور جھکے جھکے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اس شہر میں داخل ہونا۔ اور یہ اس لئے کہ حقیقی سجدہ کی حالت میں شہر میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ جیسا کہ ظاہر ہے۔ اور امام رازی وغیرہ نے بھی لکھا ہے اس لئے سجود یہاں پر اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ " أَیْ خُشَّعًا نَاکِسِی الرُّّؤُوْسَ تَوَاضُعًا لِلّٰہ " ۔ (تفسیر المراغی) ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " سجود " کا لفظ اپنے حقیقی معنی میں مستعمل ہو۔ اور مطلب اس صورت میں یہ ہو کہ شہر میں داخل ہو کر اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ شکر بجا لاؤ، جس کو اصطلاحی زبان میں حال " مقدرہ " کہا جاتا ہے۔ (المراغی، القاسمی، المنار، الروح، الکشاف وغیرہ) ۔ مآل و مفاد بہرحال ایک ہی ہے کہ شہر میں فاتحانہ غرور کے ساتھ داخل نہیں ہونا جس طرح کہ ابنائے دنیا کا طریقہ و وطیرہ ہوتا ہے، بلکہ عاجزانہ اور متشکرانہ انداز میں داخل ہونا۔ جیسا کہ حضرات انبیاء کرام ۔ عَلَیْہم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ ۔ اور دوسرے صالحین و مقربین کا طریقہ رہا ہے کہ اللہ پاک کے احسان کے تصور سے دل و جان سے اس کے حضور جھکے رہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل۔ بہرکیف اس سے ادب شکر و تواضع کی تعلیم دی گئ ہے۔ 168 " حطہ " کا مفہوم اور یہاں اس سے مقصود و مراد ؟ : " حطۃ " دراصل خبر ہے مبتداء مخدوف کی،- أیْ مَسْئَلَتُنَا حِطَّۃٌ ۔ (مدارک، کبیر وغیرہ) ۔ یعنی ہمارا سوال اور ہماری عرض والتجا اپنے خالق ومالک کے حضور یہ ہے کہ وہ ہمارے گناہوں اور ہماری لغزشوں اور خطاؤں کو معاف فرما دے۔ جن میں سے ایک بڑی خطا و لغزش کفران نعمت کی ہے جو ہم سے صادر ہوئی۔ (المراغی) ۔ اور اللہ والوں کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ فتح و غلبہ کے ایسے مواقع پر بھی تکبر واستکبار اور رعونت و بربریت میں مبتلا ہونے کی بجائے اسے حضرت واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ ہی کی طرف سے مرحمت فرمودہ انعام و احسان جانتے ہوئے اس کے حضور دل و جان سے جھک جاتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں بتلایا گیا کہ ظاہری اور بدنی عمل کے طور پر تو اس کے حضور سجدہ تشکر و امتنان بجا لاؤ اور زبانی اور کلامی لحاظ سے اس کے حضور معافی و درگزر کی درخواست پیش کرو۔ اور اس کا سب سے عمدہ، کامل اور بےمثال نمونہ ہمارے آقا و مولیٰ ۔ صَلَوات اللّٰہ وَسَلاَمُہُ عَلَیْہ ۔ کی مقدس و پاکیزہ زندگی میں دکھایا گیا ہے کہ پوری تاریخ انسانی میں جو بےمثال فتح آپ ﷺ کو نصیب ہوئی، اس پر اترانے اور جشن فتح منانے کی بجائے آپ ﷺ کو اپنے رب کی تسبیح وتحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا۔ جیسا کہ سورة نصر میں اس کی تصریح ہے ۔ { فَسَبِّحْ بِحَمْد رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ۔ اور آپ ﷺ نے اس کی تعمیل میں بےمثال نمونہ پیش فرمایا کہ فتح مکہ کی عظیم الشان فتح کے موقع پر اپنے رب کے حضور آپ ﷺ کی اس تواضع و انکساری کا اظہار آپ ﷺ کی ہر ہر ادا اور ہر ہر قول و فعل سے ہویدا تھا۔ روایات کے مطابق آپ ﷺ کی اس شان تواضع و انکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ کا عمامہ مبارکہ آپ ﷺ کی ناقہ غراء کی کوہان سے لگتا تھا۔ اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے غسل فرمایا اور پھر بیت اللہ میں آٹھ رکعات نماز اداء فرمائی، جو کہ بعض علماء کے نزدیک ضحی یعنی چاشت کی نماز تھی، اور بعض کے نزدیک یہ فتح و شکر کی نماز تھی۔ اور پھر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ ﷺ کرام ؓ کی بھی یہی شان رہی۔ چناچہ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص۔ ؓ ۔ جب ایوان کسریٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنے اس فاتحانہ دخول کی بناء پر تکبر و غرور میں آنے کی بجائے محل میں پہنچ کر اپنے رب کے حضور عاجزانہ آٹھ رکعت نماز پڑھی (ابن کثیر، معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) سو اپنے خالق ومالک کے حضور تواضع اور عجز و انکسار ایک بڑی محمود و مطلوب شئی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ 169 حکم خداوندی کی تعمیل پر خطاؤں کی بخشش کا وعدہ : یعنی تمہارے اس متشکرانہ قول و فعل کی بناء پر، تمہاری گزشتہ خطائیں اور لغزشیں معاف کردی جائیں گی، کہ ان دونوں کا منبع ومصدر، اور ان کی اصل و روح قلبی ندامت اور اپنے رب کی طرف دلی جھکاؤ ہے، اور اسی کی اصل قدرو قیمت ہے تمہارے رب کے یہاں ۔ { فَسَبِّحْ بِحَمْد رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ۔ سو مومن کا کام ہے عجز و انکسار اور توبہ و استغفار۔ اس پر وہ رب غفور نوازتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم جب بیت المقدس میں داخل ہوجاؤ تو عجز و انکساری اور شان بندگی و تواضع کے ساتھ داخل ہونا، اور زبان سے اپنے گناہوں اور تقصیرات کی معافی مانگتے جانا کہ یہی شکر نعمت کا تقاضا ہے اور اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ 170 نیکو کاروں کیلئے مزید سرفرازی کا وعدہ : یعنی ان نیکوکاروں کو جنہوں نے پورے صدق و اخلاص سے ہماری ہدایات پر عمل کیا۔ جیسا کہ لفظ احسان کا تقاضا ہے۔ یا جنہوں نے شروع سے ہی ہمارے خوف و خشیت کی بناء پر گو سالہ پرستی اور کفران نعمت جیسی نافرمانیوں، اور حکم عدولیوں سے، اپنے دامن کو بچائے رکھا، اور محسنین ( اور نیکو کاروں) کو اپنی خاص عنایات سے نوازنا ہماری بےپایاں شان کرم وعطاء کا تقاضا ہے۔ { اِنَّہٗ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ } ۔ سو احسان اور نیکوکاری ایک بڑی عمدہ اور اہم محمود صفت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو اس میں تحریض و تحریک ہے کہ تم احسان اور نیکوکاری کی روش کو اپنانے کی کوشش کرو، اور ہمیشہ اس کو اپنے پیش نظر رکھو۔ تم اپنا معاملہ احسان کا رکھو وہ تم کو اس کے بدلے میں احسان سے نوازے گا کہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { ہَلْ جَزَا ئُ الاحْسَان اِلّا الاحْسَانِ } ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور دین وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے ثابت ہو اور بس۔ کوئی خود ساختہ امر دین نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

مگر بدل دیا ان ظالموں نے اس کو ایک اور ہی بات سے، اس کے خلاف جو کہی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ہم نے اتارا ان ظالموں پر ایک بڑا ہی سخت (اور ہولناک) عذاب آسمان سے، ان کی ان نافرمانیوں (اور حکم عدولیوں) کی بنا پر جو کہ یہ لوگ کرتے چلے آرہے تھے2

171 بنی اسرائیل کی ایک اور گستاخی اور باغیانہ جسارت : یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اور جو کچھ ان سے کہا گیا تھا اس کو بجا نہ لائے۔ اس خلاف ورزی اور حکم عدولی کو یہاں پر تبدیل سے تعبیر فرمایا گیا۔ جیسا کہ سورة فتح کی پندرھویں آیت کریمہ میں تبدیل کا لفظ اسی معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یہ حضرات مفسرین کرام کا ایک قول ہے۔ جیسا کہ تفسیر المراغی اور تفسیر القاسمی وغیرہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے قول کے مطابق لفظ تبدیل یہاں پر اپنے مشہور و معروف اور متبادر معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہ ان ظالموں نے اپنے رب کی طرف سے تعلیم فرمودہ لفظ " حطۃ " کو جو کہ خود انہی کے بھلے اور فائدے کیلئے تھا، بدل دیا۔ اور اس کی بجائے انہوں نے اپنی طرف سے دوسرے الفاظ تجویز کر لئے مثلا یہ کہ " حِطَّۃٌ " کی بجائے " حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ " یا " حِنْطَۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ " وغیرہ کہا (فتح القدیر، صفوہ وغیرہ) ۔ سو دین کے تعلیم فرمودہ کلمات کو بدلنا ایک ہولناک جسارت ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ خداوند قدوس کی طرف سے تعلیم و تلقین فرمائے گئے کلمات کریمہ میں جو معنویت اور جو جامعیت اور خیر و برکت پائی جاسکتی ہے وہ کسی انسان کے تجویز کردہ کلمات میں آخر کہاں اور کیسے پائی جاسکتی ہے ؟ اس لیے اس وحدہ لاشریک کے تعلیم فرمودہ کلمات کریمہ کی پابندی میں ہر طرح کی خیر و برکت ہے سو خیر سب کی سب اتباع میں ہے اور شر ابتداع میں ۔ اللہ تعالیٰ ابتداع کی ہر شکل سے محفوظ رکھے۔ 172 ِاللہ کے قول کو بدلنے کی بنا پر یہودیوں کیلئے ایک سخت عذاب : سو حکم خداوندی کی تبدیلی کی جسارت پر ان بنی اسرائیل کیلئے آسمان سے ایک سخت اور نہایت ہولناک عذاب نازل کیا گیا۔ قرآن حکیم نے اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ یہ عذاب کیا تھا جو ان بدبختوں پر نازل ہوا۔ مگر ایک تو رجزاً کی تنوین سے جو کہ " تفخیم " کیلئے ہے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہولناک اور سنگین عذاب تھا۔ اور رجز کے معنی ہی محققین کے نزدیک اشد العذاب کے ہیں، سو اسی کو ظاہر کرنے کیلئے ہم نے ترجمہ کے اندر بین القوسین " اور ہولناک " کا اضافہ کیا ہے۔ اور دوسری بات اس عذاب کے متعلق اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ وہ ۔ { مِنَ السَّمَآئ } ۔ یعنی اوپر آسمان کی طرف سے تھا جس کو ٹال دینا یا روک دینا کسی کے بس میں نہ تھا۔ مگر اس سے آگے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ عذاب تھا کس طرح کا۔ البتہ تفسیری روایات کے مطابق وہ طاعون کا عذاب تھا جس سے ستر ہزار بنی اسرائیلی آناً فاناً لقمہء اجل بن گئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ ۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ طاعون ایک مرض تھا جس کے ذریعے تم سے پہلے کی امتوں کو عذاب دیا جاتا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 173 برے اعمال کی کچھ سزا دنیا میں بھی : سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ بداعمالیوں کی کچھ سزا بطور نقد اس دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ پوری سزا آخرت کے اس ابدی جہاں ہی میں ملیگی جو کہ " دار الجزا " ہے جبکہ دنیا " دار الجزا " نہیں " دار العمل " ہے۔ بہرکیف اس سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی سزا اس دنیا میں بھی ملتی ہے، مگر یہ پوری سزا نہیں ہوتی، بلکہ اسی قدر ملتی ہے جس قدر کہ حضرت حق جل مجدہ کی حکمت اور اس کی مشیت کا تقاضا ہوتا ہے۔ رہی اعمال کی پوری سزا و جزاء تو وہ آخرت ہی میں ملے گی، جس کی دوسری متعدد نصوص میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلًا سورة آل عمران کی پچیسویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ } ۔ " اور قیامت کے اس روز میں ہر شخص کو اس کی کمائی کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا) اس کے علاوہ دیگر متعدد آیات کریمہ میں بھی اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلًا سورة بقرہ آیت 272 ، 281 ، سورة آل عمران آیت نمبر 70 ، 161 ، سورة ھود آیت 15 و نمبر 1 1 1 ، النور 25 ، فاطر 30 الزمر 70 اور الاحقاف 19 وغیرہ وغیرہ۔ سو ان تمام آیات کریمہ میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ اعمال کا پورا پورا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا، اور اس کی بنیادی طور پر دو وجہیں ہیں۔ اول یہ کہ یہ دنیا دراصل " دارالجزائ " نہیں " دارالعمل " ہے۔ " دارالجزائ " کا مرحلہ اس دنیا کے خاتمے کے بعد اس جہان ہی میں آئے گا جو کہ آخرت کا اور بدلہ و جزاء کا جہان ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا اپنی محدودیت کی بناء پر اس قابل ہے ہی نہیں کہ اس میں اعمال کا پورا بدلہ مل سکے، اس لئے اعمال کی پوری سزا و جزاء تو اگرچہ آخرت ہی میں ملے گی لیکن ان کا کچھ نہ کچھ صلہ و بدلہ انسان کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے، جیسا کہ یہاں پر اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے اور اس کے علاوہ دوسری بہت سی نصوص کریمہ میں بھی اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مزید تفصیل انشاء اللہ کسی دوسرے مناسب موقع و محل پر۔ وَالتَّوْفِیْقُ بِیَد اللّٰہ ۔ سُبْحَانِہٗ وَتَعَالٰی -
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم کیلئے (ہم سے) پانی کی درخواست کی، تو ہم نے ان سے کہا کہ مارو تم اپنی لاٹھی کو فلاں پتھر پر، پس (لاٹھی کا مارنا تھا کہ) اس سے پھٹ پڑے بارہ چشمے (اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے) ہر گروہ نے اچھی طرح (دیکھ اور) پہچان لیا اپنے گھاٹ کو، (اور ہم نے ان سے کہا کہ) کھاؤ پیو تم لوگ اللہ کے دئیے ہوئے میں سے، اور مت پھرو تم اس زمین میں فساد مچاتے

174 بنی اسرائیل کے لئے پانی کی دعا و درخواست : سو میدان تیہ کے اس تپتے صحرا میں بنی اسرائیل کیلئے حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور پانی کی دعاء و درخواست پیش کی۔ یعنی میدان تیہ کے اسی لق و دق صحرا اور تپتے دہکتے ریگستان میں، جہاں پانی کا کوئی نام نشان بھی نہ تھا، حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کیلئے اپنے رب سے پانی کی درخواست کی کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے، حضرات انبیاء و رسل بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی کے حضور دست دعاء وسوال دراز کرتے ہیں تو پھر اور کوئی حاجت روا و مشکل کشا کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو غلط کہتے اور کرتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ کی عاجز مخلوق میں سے طرح طرح کی ہستیوں کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا مان کر پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 175 میدان تیہ میں بنی اسرائیل کیلئے پانی کا معجزانہ انتظام : اور اس طرح کھانے کی طرح تمہارے پینے کیلئے بھی خرق عادت کے طور پر پانی کا انتظام کردیا گیا، تاکہ اس طرح تم لوگ حضرت حق جل جلالہ کی قدرت و عظمت اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کی بناء پر اس کے حضور دل و جان سے جھک جھک جاؤ، اور اس کی توحید ویکتائی کا عقیدہ دل میں پختہ کرلو، حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی صداقت و حقانیت کا ایمان و یقین تمہارے دلوں میں راسخ اور پکا ہوجائے، اور اس غیبی طعام و شراب سے ایک طرف تو تمہاری قدر و منزلت کا اظہار ہو اور دوسری طرف اس پاکیزہ غذا سے تمہارے دلوں میں ایمان و یقین کے نور میں ترقی ہو، اور اس طرح تم دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو انسان کا قلب و باطن اگر نور ایمان و یقین سے منور و معمور ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ نعمتوں کو اسی کی عطا و بخشش سمجھ کر استعمال کرے تو یہ مادی نعمتیں بھی اس کی روحانی قوت اور خوراک کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور انہی کے ذریعے وہ اپنی آخرت کے لیے توشہ جوڑتا اور جمع کرتا جاتا ہے۔ اور اس مضمون کو دوسری مختلف نصوص کریمہ میں طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ " اَلطَّاعِمُ الشَّاکِرُ کَالصَّائِم الصَّابِر " ۔ یعنی " کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا انسان ایسا ہوجاتا ہے جیسا اس نے روزہ رکھا ہو " ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیا کہنے دین حنیف کی ان انقلاب آفریں تعلیمات مقدسہ کے کہ ان سے خالص دنیا بھی دین بن جاتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید سبحانہ وتعالی ۔ 176 میدان تیہ میں بنی اسرائیل کیلئے تقسیم آب کا خاص اہتمام : اس طرح اس واھب مطلق جل و علا نے اپنی رحمت و عنایت بےپایاں سے، تم کو کرم بالائے کرم، اور رحمت پر رحمت سے نواز دیا۔ اس صحرا میں خرق عادت کے طور پر پانی جیسی عظیم الشان نعمت سے مشرف فرمایا، اور مزید یہ کہ پانی کے بھی بارہ الگ الگ چشمے جاری فرما دیئے، تاکہ تمہیں بھیڑ بھاڑ، دھکم پیل اور اس کے نتیجے میں باہمی لڑائی، اور جدال و فساد سے بھی دوچار نہ ہونا پڑے، اور ہر گروہ اپنے اپنے گھاٹ سے ہی اپنی ضرورت پوری کرلے، اور دوسرے کیلئے تنگی اور تکلیف کا باعث نہ بنے۔ سو قدرت نے ان کی آب رسانی اور اس میں سہولت اور آسانی کے لیے بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کے مطابق بارہ چشمے جاری فرما دیے۔ پھر اس میں قدرت کی مزید عنایت و رعایت ملاحظہ ہو کہ ان بارہ چشموں کے پھوٹنے کے لیے یہاں پر { فَانْفَجَرَ } کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس کے معنیٰ خوب رواں دواں ہونے کے ہیں۔ لیکن سورة اعراف میں اس کے لیے { فَانْبَجَسَتْ } کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جس کے معنیٰ رسنے اور آہستہ آہستہ نکلنے کے آتے ہیں۔ سو روایات کے مطابق حضرت کے عصا کی ضرب سے اس پتھر سے عورت کے پستان جیسی شیء ظاہر ہوئی جس سے وہ پانی رسنا شروع ہوجاتا اور اس کے بعد وہ خوب زور اور قوت سے بہنے لگتا۔ ( معالم التنزیل وغیرہ ) ۔ اور امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب ضرورت زیادہ ہوتی ہو تو وہ زیادہ بہتا ہو لیکن جب ضرورت کم ہوتی ہو وہ کم بہتا ہو۔ (معارف للکاندھلوی ) ۔ سو اس میں کئی معجزے ہیں جو اس ناشکری قوم کے لیے اس قصے میں ظاہر ہوئے۔ 177 اللہ کی زمین میں فساد پھیلانے کی ممانعت : جیسا کہ غافل اور فارغ البال انسان کا عام طور پر طریقہ و وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عیش و راحت میں پا کر اترانے اور تکبر کرنے لگتا ہے، اور وہ استغناء و بےنیازی کے جھوٹے گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے، جو کہ فساد و انحراف کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سورة عَلَق کی چھٹی آیت کریمہ میں اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ نے اس حقیقت کو اس طرح آشکارا فرمایا ہے۔ { کَلَّا اِنَّ الاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی اَنْ رَّاہُ اسْتَغْنٰی } ۔ " ہرگز نہیں، بیشک انسان بڑا سرکش ہوجاتا ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے لگتا ہے " کہ مجھے جب یہ اور یہ کچھ مل گیا تو مجھے اور کسی کی کیا پروا۔ یہاں تک کہ اسی بنا پر وہ اپنے خالق ومالک سے بھی منہ موڑ لیتا ہے جو کہ احسان فراموشی اور نمک حرامی کے علاوہ خود اس کی اپنی ہی ہلاکت اور حرمان نصیبی کا سامان ہوتا ہے ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور ناشکرے لوگوں کے اس طرز عمل کے نمونے ہم آج بھی یہاں اور وہاں، ادھر اور ادھر، ہر طرف پھیلے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اور اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے ان کو ڈھیل دیئے جا رہا ہے تاکہ ان کو سمجھنے اور سنبھلنے کے مواقع بھرپور طریقے سے مل سکیں، مگر ایسے بدنصیب لوگ اپنی حرمان نصیبی کی وجہ سے اور اکڑتے اور بگڑتے جاتے ہیں، کہ ہم نے جو طریقہ اپنایا ہے وہ ٹھیک ہے۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ الْعَظِیْم ۔ حالانکہ عقل و فہم اور عدل و انصاف کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ نعمت پانے کے بعد انسان اپنے خالق ومالک کے حضور اور زیادہ اور دل و جان سے جھک جائے، اسی میں اس کی اپنی سعادت و کامیابی ہے ۔ فَإِیَّاہُ نَسْأَلُ التَّوْفِیْقَ وَ السَّدَاد لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ بہرکیف فساد فی الارض ممنوع و محرم شے ہے۔ والعیاذ باللہ -