Ayah 2:150409 اِعادہ حکم برائے بیان مصالح و حکم : یہ تیسری مرتبہ پھر اس حکم و ارشاد کو دوہرایا گیا ہے، کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو تاکہ اس کے بعد ان تین فوائد و مصالح کو ذکر فرمایا جائے جو کہ تحویل قبلہ کے اس حکم پر مرتب ہوتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور جو اس کے متصل بعد ذکر فرمائے جارہے ہیں۔ سو دوسری مرتبہ اسکا اعادہ و تکرار اس حکم کی تاکید، اور سفر و حصر کی دونوں حالتوں کے بیان حکم کے بیان کیلئے تھا۔ اور اب تیسری مرتبہ اسکا ذکر و اعادہ صرف ان مصالح و حکم کے بیان کیلئے ہے جو اس پر مرتب ہوتے ہیں۔
410 تحویل قبلہ سے لوگوں کی حجت بازی کا خاتمہ : کہ تحویل قبلہ کے اس حکم کے بعد لوگوں کا کوئی الزام باقی نہیں رہے گا ورنہ اہل کتاب یہ کہتے کہ نبی آخرالزمان کے بارے میں تو کتب سابقہ میں پیشینگوئی یہ تھی کہ ان کا قبلہ کعبہ مشرفہ ہوگا۔ اور اس پیغمبر کا قبلہ بیت المقدس ہے۔ لہذا یہ وہ پیغمبر نہیں جن کے بارے میں پیشینگوئیاں ہماری کتابوں میں دی گئی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور مشرکین مکہ کہتے کہ یہ کیسے پیغمبر ہیں جو کہ ہیں تو اولاد ابراہیم و اسماعیل میں سے، اور دعویٰ بھی کرتے ہیں ملت ابراہیمی کے احیاء کا، مگر ان کا قبلہ بیت اللہ کی بجائے بیت المقدس ہے۔ سو اب ان سب لوگوں کی ایسی ہر حجت قطع ہوگئی (المراغی، القاسمی، روح، فتح، اور صفوۃ، وغیرہ) ۔ اور ان کی ایسی ہر بولتی بند ہوگئی ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ بجز ظالموں اور ہٹ دھرموں کے کہ ان کا تو کوئی علاج نہیں، سو وہ اس کے بعد بھی چپ نہیں ہوں گے۔
411 نفع و نقصان اللہ پاک ہی کے اختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم ان لوگوں سے نہیں ڈرنا کہ یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، کہ تم حق پر ہو، اور نفع و نقصان میرے اختیار میں ہے اور باطل والے حق والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ { وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلی المؤمنین سَبِیْلًا } ۔ سو نفع و نقصان سب اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، پھر کسی اور سے ڈرنے کا سوال ہی کیوں پیدا ہوتا ہے۔ پس بندہ مومن کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ بھروسہ بھی اسی وحدہ لاشریک پر رکھے، اور ڈرے بھی اسی سے کہ نفع و نقصان کے سب اختیارات اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور طمع وامید بھی ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک سے رکھے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
412 ڈرنا ہمیشہ اللہ ہی سے چاہیئے : سو ارشاد فرمایا گیا " پس تم لوگ خاص مجھ ہی سے ڈرنا " اور میرے ان احکام واوامر کی مخالفت سے بچنا جو میرے رسول نے تم تک پہنچائے ہیں۔ پس ڈرنا ہمیشہ اسی سے چاہیئے جس کے پاس حق ہو، کہ حق والوں کے ساتھ اللہ کی مدد اور اس کی نصرت و امداد ہوتی ہے، اور باطل والوں کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے کہ باطل حق کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، کہ غلبہ بہرحال حق ہی کا ہوتا ہے، مگر افسوس کہ آج مسلمان نے حق سے ڈرنا چھوڑ دیا، جسکے نتیجے میں باطل کا خوف اس پر مسلط ہوگیا ہے، جسکے مظاہر آج ہم یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔
413 تحویل قبلہ سے مقصود اتمام نعمت : تاکہ میں پورا کروں تم لوگوں پر اپنے انعام کو، تمہیں مستقل قبلہ سے نواز کر، اور اشرف الجہات کو تمہارا قبلہ قرار دے کر، اور تم کو متبوع و پیشوا بنا کر، اور قیامت تک آنے والی تمام قوموں کو تمہارا تابع بنا کر، اور پوری روئے زمین کیلئے تمہارے قبلہ کو مرکز توجہ بنا کر۔ اور اس بےمثال مرکزیت سے تمہیں مشرف فرما کر، جس سے آگے بیشمار مادی و معنوی اور ظاہری و باطنی فوائد و مصالح وابستہ ہیں ۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے اس کرم وعطاء کے ۔ فللّہ الحمد رب العالمین ۔ پس اب تمہارا کام اے ایمان والو ! یہ ہے کہ تم دل و جان سے اس نعمت کی قدر کرو اور اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کے حضور صدق دل سے جھک جاؤ جس نے تمہیں ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا کہ اس کے حضور جھکنے ہی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔
414 تحویل قبلہ کا دوسرا مقصد راہ حق کی رہنمائی : یعنی اس عظیم الشان اور پاکیزہ راہ کی راہنمائی جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی ہے، کہ اس پر چل کر تم دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی سے بہرہ ور و سرفراز ہو سکو، اور آخرت میں حقیقی اور ابدی کامیابی سے۔ سو اس راہ حق و ہدایت سے نوازنا قدرت کا وہ عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے، جس جیسا دوسرا کوئی احسان ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جو اس نے اپنے کرم بےپایاں سے تم پر فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس راہ سے مراد وہ سیدھی اور صحیح راہ ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے، جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور جس کو صراط مستقیم کہا جاتا ہے، جیسا کہ سورة انعام میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { قُلْ اِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّی اِلٰی صِرَاط مُّسْتَقِیْمٍ ، دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا، وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } ۔ (الانعام : 16 1) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں صراط مستقیم ہی پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 2:151415 بشریت رسول ایک عظیم الشان انعام خداوندی : سو رسول کا بشر اور اپنی قوم میں سے ہونا ایک مستقل انعام و احسان خداوندی ہے۔ یعنی تمہاری جنس اور تمہاری ہی قوم قبیلے میں سے، تاکہ وہ حیات بشری کی تمام جوانب و جہات میں تمہیں پاکیزہ اور عملی نمونہ دکھا سکے اور تمہیں اپنے اسوہ حسنہ سے سرفراز فرما سکے۔ اور یہ مقصد اس کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا کہ نبی بشر ہو، تاکہ وہ تمہیں وہ سب کچھ کھول کر بتائے جسکی تمہیں اور تمام بنی نوع انسان کو اپنی بشری زندگی کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ نبی اگر فرشتہ وغیرہ کوئی نوری مخلوق ہوتے، تو پھر نہ تو تمہیں ایسا اسوہ کاملہ مل سکتا تھا، اور نہ ہی تم ان کی اتباع و پیروی کرسکتے تھے، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 94 ۔ 95 میں اس بارے تصریح فرمائی گئی ہے۔ پس نبی کا جنس بشر سے ہونا، جہاں عقل و منطق، اور فطرت وجبلت کا تقاضا ہے، وہاں یہ قدرت کا تم پر ایک عظیم الشان انعام و احسان بھی ہے، کہ اس نے بشر ہی کو تمہارے لئے رسول بنا کر بھیجا، مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس سب کے باوجود بشریت رسول کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ حالانکہ یہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم دونوں کا تقاضا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
416 بعثت رسول کا مقصد تزکیہ باطن : تاکہ اس طرح وہ پاک و صاف کرے تمہارے دلوں کو کفر و شرک وغیرہ کی نجاستوں، اور ہر طرح کی آلائشوں سے، تاکہ اس طرح تم پاکیزہ انسان اور جنت کے اہل اور مستحق بن جاؤ، سو تزکیہ باطن مقاصد بعثت اور فرائض نبوت میں ایک بنیادی مقصد اور اہم فریضہ ہے، اور تزکیہ باطن کا یہ مقصد پیغمبر کی تعلیم و تذکیر کے بغیر حاصل ہونا ممکن نہیں۔ سو پیغمبر کی تعلیم و تذکیر اور انکے تزکیہ سے محروم لوگ سراسر اندھیروں میں مبتلا ہیں، اور باطن کی اس ہولناک سیاہی کے باعث وہ چوپایوں سے بھی بدتر، اور " بل ھم اضل " کے مصداق ہیں۔ اگرچہ وہ ظاہری اور مادی ترقی کے اعتبار سے کتنے ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل ترقی تزکیہ قلب وباطن ہی سے ممکن ہوسکتی ہے۔ وباللہ التوفیق ۔
417 بعثت رسول کا ایک اہم مقصد تعلیم کتاب و حکمت : سو رسول کی بعثت و تشریف آوری دولت علم سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ رسول عظیم تم لوگوں کو سکھاتا پڑھاتا ہے کتاب و حکمت اور وہ تم کو سکھاتا ہے وہ کچھ جو تم نہیں جانتے۔ تاکہ اس طرح تم لوگ پہچان سکو اپنے مقصد حیات کو، اور تم دارین کی کامیابی اور حقیقی فوز و فلاح سے مشرف اور بہرہ ور ہو سکو۔ بس تم لوگ ذرا سوچو کہ اس سے بڑھ کر پاکیزہ اور بلند وبالا نصب العین اور کیا ہوسکتا ہے ؟ سو اس پیغمبر کی بعثت و تشریف آوری کے ذریعے جو تمہیں اس راہ حق و ہدایت سے نوازا گیا، اور زندگی کے اس عظیم الشان اور پاکیزہ نصب العین سے آگاہ فرمایا گیا یہ تمہارے خالق ومالک کا تم پر وہ احسان عظیم ہے جسکی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ سو کتنے بےقدرے، ناشکرے، اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں، بلکہ وہ اس نور حق و ہدایت سے دوسروں کو بھی محروم کرنے کی سعی نامراد طرح طرح سے کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے سوا دوسروں کو بھی اندھیروں میں دھکیلتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:152418 ذکر خداوندی سے سرشاری کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مجھے یاد کرو۔ یعنی تم مجھے یاد کرو میری ان صفات اور حقوق و اختیارات کے ساتھ جو میرا خاصہ ہیں، یاد کرو دل و جان سے بھی، اور زبان وبیان سے بھی، اور اپنے اعمال و اخلاق سے بھی اس کا ثبوت دو ، صفات سے مراد یہ ہے کہ دینے والا، بخشنے والا، اور عطاء فرمانے والا، وہی وحدہ لا شریک ہے، جو کہ وہاب و کریم ہے۔ پس ہر ضرورت و حاجت کیلئے دست سوال و دعاء اسی کے حضور پھیلاؤ، اور حاجت روا و مشکل کشا، اسی وحدہ لاشریک کو جانو، اور غائبانہ اسی کو پکارو۔ اور حقوق سے مراد یہ ہے، کہ عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کیلئے خاص اور اسی کا حق ہے کہ معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس قیام، رکوع، سجدہ، طواف اور نذر و نیاز وغیرہ سب کچھ صرف اسی کا حق ہے، کہ یہ سب عبادت کی مختلف شکلیں ہیں، اور عبادت کی ہر شکل و صورت اور ہر قسم، بہرحال اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کیلئے ان میں سے کوئی بھی عبادت بجا لانا شرک اور ظلم ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اختیارات سے مراد یہ ہے کہ اس کائنات کا مالک و متصرف بھی وہی ہے، اور اس میں حاکم و فرمانروا بھی وہی ہے۔ سو جیسے اس کائنات کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک نہیں، اسی طرح اس کے تصرف و ابقاء میں بھی اس کا کوئی حصہ دار نہیں۔ پس ان سب امور کو یاد کرکے تم لوگ دل و جان سے اس کے آگے جھک جاؤ، اور اپنے قول وقرار، اور عمل و کردار سے، اس کا عملی طور پر بھی ثبوت دو ، یہ سب کچھ مفاد ومقتضیٰ ہے اس حرف فاء کا جو کہ " اُذْکُرُوْنِیْ " کے صیغہء امر پر داخل ہے، جو کہ دال ہے تعقیب و ترتیب پر۔ یعنی جب اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے تم کو ان اور ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے، جن کا ذکر اس سے پہلے کی آیات کریمہ میں آچکا ہے، اور جو ایک سے بڑھ کر ایک عظیم الشان نعمت ہے، تو پھر اس سب کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس وحدہ لاشریک کو یاد کرو، اور اس کو اس طریقے سے یاد کرو ۔ جل و علا شانہ ۔ جو اس نے تم کو اپنے رسول کے ذریعے بتایا اور تعلیم و تلقین فرمایا ہے ـ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اپنی طرف سے اس میں بدعتیں شامل نہ کرو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
419 ذکر خداوندی کا عظیم الشان صلہ و بدلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مجھے یاد کرو میں تم لوگوں کو یاد کروں گا۔ یعنی میرے اس ذکر کے بدلے اور صلے میں میں تم کو یاد کرونگا اپنی ان عنایات بےپایاں کے ساتھ، جن سے میں تم کو طرح طرح سے نوازونگا، اور تمہارا ذکر عالم بالا میں، اور فرشتوں کی مجلس میں کرونگا، جس سے تم کو ملائ اعلیٰ (عالم بالا اور ملائکہ مقربین) کی عنایات و توجہات نصیب ہونگی، جیسا کہ احادیث قدسیہ میں وارد و مذکور ہے اور جیسا کہ سورة مومن کی ابتدائی آیات میں بھی ذکر فرمایا گیا ہے، کہ فرشتے اور حاملین عرش فرشتے اس بندہ خاکی کیلئے اپنے خالق ومالک کے حضور کیسی کیسی دعائیں کرتے ہیں، اور یہ اہل ایمان کو ملنے والا ایک منفرد اور بےمثال اعزاز ہے ۔ فالحمد للہ ۔ سو اس ارشاد خداوندی سے اہل ایمان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے عائد کردہ فرائض کو پوری طرح بجا لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تم کو دنیا و آخرت میں اپنی عنایات سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق ۔
420 شکر خداوندی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ میرا شکر کرو۔ شکر خداوندی کی یہ نعمت ایسی نعمت ہے جس سے خود تمہی کو فائدہ ہوگا کہ میری عطا کردہ نعمتوں میں خیر و برکت نصیب ہوگی، اور ان میں اضافہ ہوگا، اور بڑھوتری نصیب ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ } ۔ (ابراہیم : 7) ۔ اور اسی لئے کہا جاتا ہے " وَبِالشُّکْْر تَدُوْمُ النِّعَمُ " کہ " شکر سے نعمتوں کو دوام نصیب ہوتا ہے "۔ سو شکر وسیلہ ظفر ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو شکر کی اسی عظمت و اہمیت کی بناء پر پہلے تو اس آیت کریمہ میں { وَاشْکُرُوْا لِیْ } کے امر سے حکم دیا گیا کہ تم ان تمام نعمتوں کا صحیح صحیح طور پر حق ادا کرنا جن میں سب سے بڑی نعمت شریعت مقدسہ کی وہ نعمت عظمیٰ ہے، جو اب کامل شکل میں اس امت کو بخشی گئی ہے اور آخر میں ۔ { وَلَا تَکْفُرُوْنِ } ۔ سے اس کی پھر تاکید فرما دی گئی کہ تم لوک میری نعمتوں کی ناشکری نہیں کرنا۔ سو شکر نعمت باعث سعادت و سرفرازی ہے اور ناشکری موجب خسران و محرومی ـ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ذکر سے رطب اللسان رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
421 خدائے پاک کی ناشکری سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میری ناشکری نہیں کرنا "۔ یعنی میری نعمتوں پر میری ناشکری نہیں کرنا کہ اس کا نقصان بھی خود تمہی کو پہنچے گا کہ کفران نعمت کی سزا بھی بڑی سخت ہے۔ جیسا کہ سورة ابراہیم کی اسی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ} ۔ (ابراہیم : 7) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد میں مسلمانوں کیلئے یہ بڑا اہم اور بنیادی درس ہے کہ کہیں تم بھی اسی طرح کی ناشکری کے مرتکب نہ ہوجانا، جس طرح کہ یہود نے کیا کہ اس کے نتیجے میں تم بھی اسی انجام کے حقدار بن جاؤ، جسکے وہ لوگ بن چکے ہیں کہ اللہ کا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہم فاعنا علی ذکرک و شکرک وحسن عبادتک وارزقنا التوفیق لذلک وعلی ما تحب وترضی بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاہ یا ذا الجلال والاکرام ۔ اللہ تعالیٰ ناشکری اور کفران نعمت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 2:153422 صبر و صلوۃ مدد خداوندی سے سرفرازی کے دو اہم ذریعے : سو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے دو بڑے ذریعے صبر اور نماز۔ یعنی مدد تو ہمیشہ اللہ ہی سے مانگو کہ مدد دینا بہرحال اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا کام ہے، جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کی مشہور و معروف حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا ۔ " واِذَا ساَلْتَ فَاسْئَل اللّٰہٗ وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَََاسْتَعِنْ باللّٰہ " ۔ کہ جب تمہیں کچھ مانگنا اور سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے مانگو۔ اور اسی سے سوال کرو۔ اور جب مدد طلب کرنا ہو تو اسی وحدہ لاشریک سے طلب کرو "۔ اسی لئے مومن کو تعلیم دی گئی کہ وہ اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں ۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ کے ذریعے اس کے حضور اسی حقیقت کا اظہار اور اس کا اقرار و تکرار کرے، کہ " مالک ! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں، اور کرتے رہیں گے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے "۔ بہرکیف مدد دینے والا وہی وحدہ لاشریک ہے، اور اس کی اس مدد کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ یہ ہے کہ صبر و صلوٰۃ سے کام لیا جائے کہ صلوٰۃ یعنی نماز کے ذریعے بندہ اپنے جسم و جان اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع ہوتا اور اس کی عبادت و بندگی میں مشغول رہتا ہے، اور صبر سے استقامت اور پختگی نصیب ہوتی ہے۔ اسی لئے بعض حضرات اہل علم کے نزدیک یہاں پر صبر سے مراد روزہ ہے، جو کہ صبر و استقامت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرفرازی کیلئے صبر وصلاۃ دو عظیم الشان ذریعے ہیں۔ ان کے ذریعے ہمیشہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ وباللہ التوفیق -
423 اللہ تعالیٰ کی معیت اور اس کے ساتھ ہونے کا مطلب ؟ : یعنی " اللہ تعالیٰ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے "۔ اپنی تائید و نصرت اور مدد و عنایت کے اعتبار سے جو کہ عبارت ہے معیت خاصہ سے جو کہ اہل ایمان اور ان میں سے صابرین وغیرہ کے ساتھ مختص ہے۔ جبکہ اس کی معیت عامہ جو کہ احاطہ علم وقدرت کے معنی میں ہے وہ عام ہے اور سب ہی مخلوقات کو شامل ہے کہ وہ سب ہی اس کے احاطہء علم وقدرت میں داخل ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ہُوَ مَعََکُمْ اََیْنَمََا کُنْتُمْ } ۔ (الحدید :4) اور جیسا کہ ۔ { وََہُُوَ مَعَہُمْ اَیْنَمَا کَانُُوْا } ۔ (المجادلۃ : 7) میں فرمایا گیا ہے۔ اور جب اللہ پاک کی تائید و نصرت اور اس کی معیت و عنایت خاصہ نصیب ہوجائے تو پھر اور کیا چاہیئے ؟ ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 2:154424 شہداء کی خصوصی حیات برزخی کا ذکر وبیان : سو وہ زندہ ہیں اپنی اس حیات برزخی کے اعتبار سے، جو کہ ان کو وہاں پر حاصل ہے اور جو دوسرے لوگوں کی حیات سے الگ ایک امتیازی شان رکھتی ہے (البیضاوی، المراغی، القاسمی، الروح، الصفوۃ اور الجامع وغیرہ) ۔ ورنہ یہ دنیاوی زندگی تو بہرحال ان سے منقطع ہوجاتی ہے۔ اور موت کے عمومی اثرات و احکام جو دوسرے لوگوں اور عام مردوں پر مرتب ہوتے ہیں، وہ ان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ چناچہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، ان کو دفن کیا جاتا ہے، ان کی بیویاں بیوہ قرار پاتی ہیں، ان کے آگے نکاح کئے جاتے ہیں، ان کے بچے یتیم کہلاتے ہیں، اور ان کی میراث تقسیم کی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اگر ان کی یہ دنیاوی حیات ختم نہ ہوچکی ہوتی اور اس اعتبار سے وہ مردہ قرار نہ پاتے تو ان پر یہ احکام کیسے جاری ہوتے ؟ بہرکیف اس میں شہداء کرام کے امتیازی مقام اور عظمت شان کو بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ عالم برزخ میں ایک امتیازی شان کی زندگی سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ لہذا ان کو مردہ نہ سمجھا جائے اور نہ یہ کہا جائے کہ وہ مردہ ہیں۔
425 برزخ کا علم محض عقل و حواس سے ممکن نہیں : کہ اس زندگی کا تعلق برزخ کے اس غیبی جہاں سے ہے جس کا علم و ادراک محض حواس اور عقل سے ممکن نہیں۔ اس کے بارے میں جاننے کا ذریعہ وحی اور صرف وحی ہی ہوسکتا ہے۔ علامہ آلوسی (رح) وغیرہ محققین فرماتے ہیں کہ شہداء کو وہاں پر خاص قسم کے برزخی اجسام عطا ہوتے ہیں جن سے ان کی ارواح کا تعلق قائم کردیا جاتا ہے۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ جیسا کہ مختلف احادیث میں فرمایا گیا کہ ان کی ارواح کو سبز پرندوں " طیر خضر " میں داخل کردیا جاتا ہے۔ بہرکیف ان کو وہاں پر ایک خاص زندگی عطا فرمائی جاتی ہے جو اس دنیاوی زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ سو شہدائ کرام کو برزخ میں ایک خاص اور امتیازی زندگی حاصل ہوتی ہے، اور وہاں کی اس زندگی میں ان کو جن عظیم الشان کامرانیوں اور عنایات سے نوازا جاتا ہے۔ انکا اس ناسوتی زندگی میں تصور بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ ان کو ویسے ہی مانا جائے جیسا کہ نصوص سے ثابت ہو کہ اس کے بارے میں علم وحی کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:155426 صبر والوں کیلئے بشارت کا عموم و شمول : یہاں پر " مُبَشَّربہ " کا ذکر نہیں فرمایا گیا۔ یعنی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان صابرین کو کس چیز کی خوشخبری سنائی جائے، جس سے عموم کا فائدہ ملتا ہے، کہ یہ خوشخبری کسی ایک چیز کی نہیں بلکہ اس کے ماتحت بہت سی اشیاء آتی ہیں جن کا احاطہ اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ مثلا ً یہ کہ صبر کے صلہ و بدلہ میں ان کا اجر وثواب محفوظ ہوجائیگا۔ ان کو اطمینان قلب نصیب ہوگا۔ ان کے اندر رقت و عاجزی پیدا ہوگی۔ ان کو رجوع اور انابت الی اللہ کی توفیق نصیب ہوگی اور آخرت میں ان کو جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف صبر ایک عظیم الشان صفت ہے ۔ اللہ اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 2:156427 ہم سب اللہ تعالیٰ ہی کا مال ہیں : اور مالک اپنی ملکیت میں جو تصرف چاہے فرمائے۔ اس پر کسی چون و چرا کی گنجائش ہی کیا ہوسکتی ہے۔ پھر ہمارا خالق ومالک تو اس کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم اور حکیم و کریم بھی ہے۔ اس لئے وہ ہم سے جو بھی معاملہ فرماتا ہے اس میں ہماری خیر اور بہتری ہی ہوتی ہے اگرچہ ہم اس کو نہ سمجھ سکیں۔ کیونکہ وہ ہم پر خود ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے۔ " اَرْحَمُ بِنَا مِنَّا لِاَنْفُسِنَا " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فَلَکَ الْحَمْدُ وََالشَّکْرُ یَارَبِّیْ عَلٰی کُلِّ حَالٍ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ حََال اَہْل النَّارِ ۔ سو صبر و شکر مومن کی عظیم الشان صفات میں سے ہیں، اور یہ دونوں صفتیں ایسی عظیم الشان صفتیں ہیں کہ مومن کی ہر حالت کو اس کیلئے خیر بنا دیتی ہیں۔ نعمت ملے تو بھی اور تکلیف پہنچے تو اس کو بھی۔ اور یہ شان مومن کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ۔ والحمدللہ جل و علا ۔ جبکہ دولت ایمان سے محروم لوگوں کا معاملہ اس سے یکسر مختلف اور بالکل برعکس ہیـ۔ ان کو نعمت ملتی ہے تو بھی ان کے لیے عذاب بنتی ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بھی عذاب بن جاتی ہے۔
428 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " صبر والے کہتے ہیں کہ ہم سب یقینا اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم سب نے بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے "۔ اور وہاں پہنچنے پر وہ واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ ہمیں اپنی رحمت بےنہایت کی بنا پر اس سے بھی کہیں بڑھ کر ان نعمتوں سے نوازے گا جن کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ ۔ سو اس کے سامنے دنیا کی یہ ساری آزمائشیں اور یہ تمام نقصان کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے، کہ آخرت کی وہ نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں۔ اور اس اکرم الاکرمین کی مزید شان کرم ملاحظہ ہو کہ اس کی ان پاکیزہ اور مقدس تعلیمات پر عمل کرنے سے انسان کو مصیبت پر بھی اور اسی دنیا میں عظیم الشان اجر وثواب سے نوازا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بطور نمونہ صحیح مسلم وغیرہ کی یہ حدیث ملاحظہ ہو جو کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ حضرت نبئ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے مصیبت پر (صدق دل سے) یہ دعا پڑھی یعنی { اِنَّا لِلّٰہ } الخ۔ اور اس کے ساتھ مزید یہ ٹکڑا بھی ملا دیا " اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلِفْ لِیْ خَیْْرًا مِّنْہَا } " اے اللہ، مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس سے بہتر بدلہ عطاء فرما " تو اللہ پاک اس کو ضرور اس سے کہیں بہتر بدلہ عطا فرمائیگا۔ حضرت ام سلمہ ۔ ؓ ۔ فرماتی ہیں کہ جب میرے شوہر ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا تو میں نے اس ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق یہ دعا تو پڑھی مگر میرے دل میں یہ بات تھی کہ ابو سلمہ سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے جو کہ ان اور ان خوبیوں کے مالک تھے۔ مگر اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اس کا مصداق میرے سامنے آگیا کہ میرا دوسرا نکاح خود رسول اللہ ﷺ سے ہوگیا۔ سبحان اللہ ! قدرت کا کتنا عظیم تحفہ ہے یہ عظیم الشان دعا، جو اس اکرم الاکرمین نے اپنی رحمت و عنایت سے اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہے، مگر بندے ہیں کہ اس سے غافل و بیخبر ہیں، الا ماشاء اللہ۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ یہ کلمہ اس امت ۔ امت مسلمہ ۔ ہی کو ملا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ نہیں تھا۔ اسی لئے حضرت یعقوب (علیہ الصلوۃ والسلام) نے حضرت یوسف (علیہ الصلوۃ والسلام) کے غم میں اس کی بجائے ۔ { یََا اَسَفَا عَلٰی یُوْسُفَ } ۔ فرمایا تھا (معارف للکاندہلوی ) ۔ مگر واضح رہے کہ اس سے مراد محض زبانی طور پر پڑھ لینا نہیں بلکہ اصل مقصد اس کے معنی اور مطلب کو سمجھ کر اسے دل سے ادا کرنا ہے ۔ سبحان اللہ ! ۔ کتنا عظیم ہے یہ دین اور کس قدر سچی اور پاکیزہ ہیں اس کی یہ تعلیمات کہ اس سے مصیبت بھی نعمت بلکہ کئی نعمتوں کا ذریعہ اور مجموعہ بن جاتی ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے " اِنَّمَا الْمُصَابُ مََنْ حُرِمَ الثَّوَابَ " کہ " مصیبت زدہ شخص تو درحقیقت وہ ہے جو [ اپنی بےعلمی اور بےدینی ۔ والعیاذ باللہ ۔ کی بنا پر ] اجر وثواب کی دولت سے محروم رہا "۔ ورنہ صابر و شاکر کیلئے تو اس کی مصیبت بھی الٹا نعمت، بلکہ کئی نعمتوں کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ فالحمدللہ رب العالمین۔
Ayah 2:157429 صبر وسیلہ ظفر : سو صبر کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں پر ان کے رب کی جانب سے خاص عنایات بھی ہیں اور عظیم الشان رحمت بھی۔ اور یہی لوگ ہیں راہ پر۔ یعنی حق اور حقیقت کی اس راہ پر جس پر چلنے سے انسان کو دنیا میں بھی حیات طیبہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی حقیقی اور ابدی فوز و فلاح نصیب ہوگی۔ سو کس قدر عظیم الشان ہے حق و ہدایت کی یہ راہ جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرتی ہے ۔ اللہ سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور کس قدر بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ، جو حق و ہدایت کی اس راہ سے منہ موڑ کر خواہشات نفس کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ اور انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت محضہ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور وہ اس حد تک محروم اور بدنصیب ہیں کہ ان کو اپنی اس محرومی کا احساس و شعور ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ َ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ صبر و استقامت سے اہل ایمان اپنے رب کی خاص عنایتوں اور رحمتوں کے مستحق قرار پاتے ہیں، اور اپنے رب کی انہی رحمتوں اور عنایتوں سے انہیں اس صراط مستقیم کی ہدایت ملتی اور اسی سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے جو انسان کیلئے دنیا و آخرت دونوں کی کامیابیوں کی ضامن ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو صفت صبر سے سرفرازی ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:158430 صفا ومروہ " شعائر اللہ " میں سے ہیں : اسلام سے قبل مشرکین مکہ نے صفا ومروہ کی پہاڑیوں پر " اساف " اور " نائلہ " نامی دو بت رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا پاٹ کیا کرتے تھے۔ اب جبکہ نور اسلام کے طلوع کے بعد، حج وعمرہ کے دوران صفا ومروہ کے درمیان سعی کا حکم دیا گیا، تو مسلمانوں کو اس بارے میں اشتباہ ہوا کہ جب ان دونوں پہاڑیوں پر شرک و بت پرستی کا ارتکاب کیا گیا، تو اب اس مقام پر سعی جیسے مبارک عمل کو کیسے بجا لائیں، تو اس پر اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دونوں پہاڑیاں تو اللہ پاک کے شعائر میں سے ہیں، اور مشرکوں نے ان پر جس شرک کا ارتکاب کیا تھا، اس کا ازالہ کردیا گیا ہے۔ لہذا اب ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں پہاڑیاں تو حضرت ابراہیم کے زمانے سے " شعائر اللہ " میں سے تھیں۔ اور ان کے درمیان سعی اور طواف تو حضرت ابراہیم کی سعی و طواف کی یادگار ہے، لیکن بعد میں مشرکین نے جس طرح مرکز توحید بیت اللہ کے اندر سینکڑوں بت رکھ دیئے تھے، اسی طرح انہوں نے ان دونوں شعائر کو بھی بت پرستی سے ملوث کردیا تھا۔ سو اب ان کو شرک کی اس گندگی سے پاک صاف کرکے " شعائر اللہ " کی حیثیت سے اجاگر کردیا گیا۔ لہذا اب انکے درمیان سعی اور طواف میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان سعی مطلوب و مامور ہے۔
Ayah 2:159431 حق کو چھپانے والوں پر لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : کیونکہ ایسے لوگ درحقیقت کتمان حق کے ذریعے اللہ کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کی مخلوق کو اس کی ہدایت کے نور سے محروم کرنا چاہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس کے نتیجے میں یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور اور اس مالک مطلق کی لعنت و پھٹکار کا مورد بن جاتے ہیں، کیونکہ کتمان حق کا یہ جرم اس لحاظ سے بہت سنگین جرم اور ڈبل گناہ بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہ اشارہ ہے یہود کی طرف جنہوں نے ھدی اور بینات سے تعلق رکھنے والی عام تعلیمات کو بھی چھپایا اور خاص کر ان نشانیوں کو جو تورات میں نبی آخر الزماں کے بارے میں ارشاد فرمائی گئی تھیں۔ مگر ان بدبختوں نے ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان کو چھپانے کی کوشش کی۔ اور اس طرح انہوں نے اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی محرومی کا بھی سامان کیا جو کہ جرم بالائے جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت کو آگے پہنچانا ایک اہم مطلب ہے تاکہ اندھیروں میں ڈوبی دنیا اس سے مستفید ہو سکے۔
432 کتمان حق کے مجرموں پر سب لعنت کرنے والوں کی لعنت : کیونکہ یہ لوگ اللہ کے بندوں کو حق و ہدایت کے نور سے محروم کر کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں جو کہ تباہی اور بربادی کی راہ ہے۔ اور کتمان حق کے اس جرم عظیم کے نتیجے میں جب عذاب آتا ہے، تو اس میں چرند پرند وغیرہ دوسری بےگناہ مخلوق بھی مبتلائے عذاب ہوجاتی ہے۔ اس لئے ایسی تمام مخلوق بھی ان ظالموں پر لعنت کرتی ہے، کہ ان کی وجہ سے ہمیں یہ بھگتان بھگتنا پڑا (جامع البیان، معارف القرآن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ سو یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتمان حق کا جرم کس قدر ہولناک اور سنگین جرم ہے، اس لئے اس جرم کے خلاف کمربستہ ہوجانا بھی ہر مسلمان کے ذمے بقدر ہمت و استطاعت لازم و ضروری ہے، ورنہ ایسے سب لوگ اس وعید میں داخل ہوجائیں گے، (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وَاِیَّاہُ نَسْاَلُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی التوفِیْقَ لِمَایُحِبُّ وَیَرْضَیٰ ، نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ صرف زبانی کلامی طور پر توبہ کے الفاظ کہہ دینا کافی نہیں، بلکہ وہ سچی توبہ مطلوب ہے جو کہ سچے دل سے ہو، اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فساد و بگاڑ کی اصلاح بھی کی جائے، جیسا کہ اگلی آیت کریمہ میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو جو لوگ کتمان حق کے جرم کر کے اصلاح کرلیں گے وہ اس انجام سے محفوظ رہیں گے۔ کیونکہ توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 2:160–162433 اللہ تعالیٰ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے : اور اتنا بڑا کہ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کے گناہوں کو یکسر معاف کردیتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی بڑے اور کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، جیسا کہ صحیح حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ ابن آدم اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو رہے ہوں، اور تو سچے دل سے توبہ کرے تو میں وہ سب معاف کر دونگا، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی، ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے تو میں (سچی توبہ پر) تجھے اسی کے برابر بخشش سے نواز دونگا، البتہ یہ شرط ضرور ہے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو { اَلَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا } سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان کرم وعطاء کے، اور کتنی عظیم ہے یہ توبہ کی دولت جس سے رب نے اپنے بندوں کو اپنے کرم بےپایاں سے نوازا ہے، ورنہ گناہوں کی اس تباہ کن میل کو کیسے اور کہاں سے صاف کرایا جاتا اور ہم جیسے گناہگار کہاں جاتے ؟
Ayah 2:163437 معبود برحق صرف ایک ہے یعنی اللہ وحدہ لاشریک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " معبودِ [ حقیقی ] تم سب کا [ اے لوگو ] ایک ہی معبود ہے "۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم، خواہ وہ بدنی، ہو یا مالی، قلبی ہو، یا قالبی، اسی کا اور صرف اسی کا حق، اور اسی کے ساتھ خاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کسی کیلئے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم اور ناقابل معافی جرم ہے۔ اسی طرح اللہ کے سوا اور کسی کو مافوق الاسباب طور پر حاجت روا و مشکل کشا ماننا، اور اس کو حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے بلانا پکارنا، یہ بھی جائز نہیں کہ یہ بھی شرک ہے، (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو معبود حقیقی سب کا ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ پس عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی اور صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ جل جلالہ وعم نوالہ -
Ayahs 2:164–165438 قدرت و عنایت خداوندی کا ایک مظہر : یعنی یہ کشتیاں اور جہاز جن سے انسانی ضرورتوں کے سامان ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچتے ہیں اور طرح طرح سے ان کی حاجتوں کی تکمیل ہوتی ہے، کہ ان کو قسما قسم کے سامان بسہولت میسر آتے ہیں اور کتنی ہی دنیا کی ملازمتیں اور نوکریاں اور کاروبار اس سلسلہ حمل و نقل سے وابستہ ہیں، اور اس طرح ان کی روزی روٹی کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو یہ قدرت و عنایت خداوندی کا کس قدر عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے سمندر کو ان قوانین و ضوابط فطرت کا اس قدر پابند بنادیا کہ وہ انسان کیلئے اتنے عظیم الشان اور گوناگوں فوائد و منافع کا ذریعہ بن رہا ہے، اور دنیا دن رات لگاتار اس سے طرح طرح کے ایسے عظیم الشان فائدے اٹھاتی ہے، مگر اپنے خالق ومالک کا شکر بھی ادا نہیں کرتی بلکہ اس کو اس طرف توجہ ہی نہیں ہوتی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
439 اِحیائ ارض رحمت و عنایت خداوندی کا ایک اور مظہر : جس سے اس میں قسما قسم کی اشیاء، غلے، اناج، اور پھل، پھول وغیرہ نکلتے، پھوٹتے اور پیدا ہوتے ہیں، جن سے انسان طرح طرح سے مستفید ہوتا، اور قسما قسم کے فائدے اٹھاتا ہے، سو اس سب کے باوجود اس خالق کل اور مالک مطلق سے منہ موڑناکس قدر ناشکری اور کتنی بےانصافی ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو جو قادر مطلق تمہاری مادی اور جسمانی ضرورتوں کی تحصیل و تکمیل کیلئے اس طرح کے عظیم الشان انتظامات فرماتا ہے، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان نہ کرے جبکہ جسم و روح میں اصل چیز روح ہی ہے۔ سو جس طرح اس نے ظاہری اور حسی بارش برسا کر مردہ زمین کو زندگی بخشی تاکہ تمہاری مادی اور جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان ہو، اسی طرح اس نے وحی کی معنوی اور روحانی بارش برسا کر تمہارے دلوں کی مردہ زمین کو زندگی بخشنے کا سامان فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز جو تمہیں ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازتا ہے، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تم کو یونہی چھوڑ دے اور اسکا کوئی حساب کتاب نہ لے ؟ سو لازماً حساب کتاب کا ایک دن آئے گا جس میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور بدلہ پانا ہوگا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو وہی ہے روز قیامت جو اس دنیا کے بعد قائم ہوگا، اور جو اس کائنات کے خالق ومالک کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ سو غور کرنے سے ان نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی اس کی قدرت وحکمت، رحمت و عنایت، وحی ورسالت، اور معاد و آخرت سب ہی کے متعلق کھلے اور واضح دلائل ملتے ہیں اور روشن حقائق سامنے آتے ہیں۔ لیکن دنیا ہے کہ غفلت میں ڈوبی پڑی ہے۔ ـ وہ غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں۔ اور جو غور و فکر کرتے بھی ہیں تو وہ صرف مادہ اور معدہ کے نقطہ نظر سے۔ اس لئے وہ چشم کشا اور بصیرت افروز حقائق تک رسائی سے محروم رہتے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
440 زمین میں پھیلے بکھرے جانوروں کے اندر درسہائے عبرت و بصیرت : جانوروں کی تخلیق اور ان کے پھیلا دینے کی نعمت ایک اور عظیم الشان نعمت خداوندی ہے جس سے لوگ بلا واسطہ اور بالواسطہ طور پر، طرح طرح سے، اور نت نئے طریقوں سے مستفید اور فیض یاب ہوتے ہیں۔ سو اس کے باوجود اس واھب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی یاد دلشاد اور اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا کس قدر ناشکری اور بےانصافی ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ ذرا سوچو کہ قسما قسم کے ان جانوروں کو تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کا سامان بنا کر پیدا کرنا اور ان کو اس طرح نہایت پر حکمت طریقے سے پوری رؤے زمین پر پھیلا دینا اس قادر مطلق کی کتنی بڑی رحمت اور کس قدر عظیم الشان عنایت ہے۔ پھر بھی اس سے منہ موڑنا اور اس کے حق عبادت و اطاعت سے غفلت برتنا کتنا بڑا ظلم ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
441 فضاؤں میں پھرتے بادلوں کے اندر نشانہائے عبرت و بصیرت : فضاؤں میں اڑتے پھرتے بادلوں کے اندر قدرت و عنایت خداوندی کے عظیم الشان مظاہر و نمونے ہیں جو ہزاروں ٹن پانی اٹھائے روئی کے گالوں کی طرح فضاؤں میں اڑتے پھرتے ہیں، اور اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد کے مطابق جگہ جگہ بارش برسا کر اس کی مخلوق کی فیض رسانی کا سامان کرتے ہیں۔ نہ زمین پر گرتے ہیں ۔ ورنہ تباہی مچا دیں ۔ اور نہ ظاہری طور پر کسی چیز کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں، بلکہ قدرت و عنایت خداوندی سے آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو فضائ بسیط میں پھیلے بکھرے اور اڑتے پھرتے یہ بادل اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں، مگر لوگ ہیں کہ غفلت میں ڈوبے پڑے ہیں اور کوئی سبق نہیں لیتی ۔ الاماشاء اللہ ۔ ورنہ یہ کائنات درسہائے عبرت و بصیرت سے بھری پڑی ہے۔
442 قدرت کی عظیم الشان نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب میں عظیم الشان نشانیاں ہیں، اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت کی۔ اس کی بےپایاں حکمت وقدرت اور رحمت و عنایت کی ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ کہ وہ قادر مطلق کس قدر رحیم و کریم، اور کیسا حکیم و قدیر ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے ان حکمتوں بھری چیزوں کو وجود بخشا۔ اور ان کو اس پر حکمت طریقے سے اپنے بندوں کے کام میں لگا دیا جن سے وہ ہر وقت اور لگاتار اور طرح طرح سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس حد تک کہ اس کا شمار بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ پھر بھی اس واہب مطلق سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا کس قدر ظلم ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ نیز جب اس کی ان قدرتوں، عنایتوں اور رحمتوں میں کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اسکا شریک وسہیم آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے۔
443 عقل والوں کیلئے دعوت غور و فکر : کہ جو اپنی عقلوں سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں وہی صحیح نتیجہ اخذ کرتے ہیں، ورنہ جو لوگ صحیح طور پر غور و فکر سے کام نہیں لیتے وہ اندھے بہرے بن کر رہتے ہیں، بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر کوئی اس سب سلسلہ ہست و بود کو بخت و اتفاق کا نتیجہ قرار دیتا ہے، کوئی اس کو اندھی بہری طبیعت کی کرشمہ سازی مانتا ہے، اور کوئی ان ہی مختلف ظواہر و مناظر میں الجھ اور اٹک کر رہ جاتا ہے۔ اور وہ خود ان ہی کو معبود قرار دے کر ان کے آگے جھکتے اور ان کی پوجا پاٹ کرنے لگ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کچھ ایسے ہیں جو ان دیو ہیکل اور فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کی مہم میں عمریں صرف کردیتے، اور جانیں تک قربان کردیتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سوچتے اور اس طرف توجہ نہیں کرتے کہ یہ چوٹیاں جن کو سر کرنا ہمارے بس سے باہر ہو رہا ہے ان کو بنایا کس نے ؟ اور اس حیرت انگیز طریقے سے ان کو نصب کس نے کیا ؟ وہ ذات کتنی عظیم ہے، اور اس کا حق ہم پر کس قدر ہے، اور اس کے اس حق کو ادا کس طرح کیا جاسکتا ہے، اس واجب معرفت کو پہچاننا اور اس کا حق اداء کرنا ہم پر کتنا ضروری ہے ؟ وغیرہ وغیرہ اور اس طرح ایسے لوگ جوہر عقل کو صحیح طور پر استعمال نہ کرکے، اور اس سے اس کا اصل کام نہ لیکر، گھٹا ٹوپ اندہیروں کے اندر گر کر، اور گھر کر رہ جاتے ہیں، اور وہ خسارہ در خسارہ میں مبتلا ہوتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وانحراف۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و صواب پر قائم اور گامزن رکھے۔ آمین۔
Ayah 2:166447 گرؤوں کا اپنے پیروکاروں سے تبراء اور اظہار بیزاری : اور ان کی پیروی یہ لوگ اس امید پر کرتے تھے کہ ایسے مشکل وقت میں یہ ہمارے کام آئیں گے، مگر کام آنا تو درکنار وہ سرے سے ان کے اس شرک ہی کا انکار کر دینگے، اور ان سے براءت و بیزاری اور اپنی علیحدگی کا اعلان کردیں گے، بلکہ اس سے بھی آگے یہ کہ وہ ان کے مخالف اور دشمن بن جائیں گے۔ اس لئے قرآن حکیم " کَلَّا " کے حرف زجر و تنبیہ کے ساتھ ان کو خبردار کرتا ہے کہ ایسی خود ساختہ امیدوں کے جھوٹے سہاروں پر نہیں رہنا، ورنہ حساب کتاب کے اس کڑے دن بہت پچھتانا پڑیگا۔ ارشاد ہوتا ہے { کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عََلَیْہِمْ ضِدًّا } ۔ (مریم : 82) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان عظیم ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے پیشگی خبر کردی اور اس قدر تفصیل اور صراحت کے ساتھ تاکہ انسان آخرت کے اس یوم عظیم کیلئے تیاری کرلے، قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے، مگر دنیا ہے کہ اس کے باوجود خواب غفلت میں محو و منہمک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے آگاہ فرما دیا گیا کہ اس روز ایسے سب رشتے کٹ جائیں گے۔ اور اصل حقائق نکھر کر سب کے سامنے آجائیں گے۔
448 باطل پرستوں کا قیامت کے روز کا حال : سو ان کی دنیاوی زندگی کے تمام رشتے اس روز کٹ جائیں گے، اور مٹ جائیں گے۔ عقیدت و غلو، چوما چاٹی اور پوجا پاٹ کے وہ سب روابط و تعلقات، جو انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں باہم استوار کر رکھے تھے، اور کر کری ہوجائے گی ان کی وہ سب منطق، جو اپنی ان شرکیات کو صحیح ثابت کرنے کیلئے دنیا میں یہ لوگ بگھارا کرتے تھے، کہ صاحب یہ بت جن کی پوجا ہم کرتے ہیں، یہ کوئی ایسی بےجان و بےحقیقت اور گری پڑی چیزیں نہیں بلکہ یہ دراصل فلاں فلاں ہستیوں کی شبیہ اور ان کے مظاہر اور اوتار ہیں۔ ان کے آثار و اثرات ان کے اندر منتقل ہوگئے ہیں، اور یہ جو ہمارے قائم کردہ آستانے ہیں، سب حاجتیں یہیں ہی پوری ہوتی ہیں۔ یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ وہ ہماری سنتا نہیں، اور ان کی رد نہیں کرتا۔ لہذا ہماری ان کے آگے، اور ان کی ان کے آگے۔ اور یہ کہ صاحب ہم نے فلاں ہستی کا دامن پکڑ رکھا ہے بس۔ وہی ہمیں کافی ہیں ہم نے فلاں " سرکار " سے تعلق جوڑ رکھا ہے اور ان کا لڑ پکڑ رکھا ہے۔ وہی ہمارا سب کام بنا دینگی۔ ہم سگ دربار فلاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو فیصلے اور عدل و انصاف کے اس روز میں اور کشف حقائق کے اس جہان میں ان سب لوگوں کے یہ سب سہارے ٹوٹ جائینگے، اور یہ سب رشتے اور تعلق کٹ جائینگے۔ تب اصل حقیقت مت کے مارے ایسے بدبختوں کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ان کے افسوس اور ان کی یاس و حسرت کی کوئی حد نہیں رہے گی، مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے۔ سو آخرت سے غفلت کا نتیجہ و انجام بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 2:167449 باطل پرستوں کی حسرت کا ایک منظر : سو اس وقت یہ لوگ رہ رہ کر تمنا کریں گے کہ ہمیں پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے، مگر اب اس کا موقع کہاں۔ اب اس سے ان کی حسرتوں ہی میں اضافہ ہوگا کہ تلافی وتدارک کا زمانہ گزر چکا ہوگا ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ { وَ اَنّٰی لَہُمْ ذَالِکَ اِذَا جَائَ تْہُُمْ ذِکْرٰہُُُمْْْ } ۔ کہ اس کا موقع تو حیات دنیا کی اس مدت محدود اور عمر رواں میں تھا جو کہ اس وقت بہرحال گزر چکی ہوگی۔ اور اب اس نے کسی بھی طرح واپس نہیں آنا۔ سو قرآن حکیم اس طرح جھنجھوڑ کر کہتا اور خبردار کرتا ہے کہ آج ہوش میں آجاؤ اور اس یوم عظیم کیلئے تیاری اور کمائی کرلو، قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ مگر اس طرح کے غافل لوگ اس پر کوئی توجہ نہیں کرتے۔ سو ان کی اس غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ انکے سامنے اس روز اس طرح ظاہر ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
450 باطل پرستوں کے اعمال ان کیلئے باعث حسرت : کہ جن جن امور و اشیاء کو وہ سب کچھ یا بہت کچھ سمجھ رہے تھے وہ انکے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گی۔ وہ سب کچھ تتر بتر بےنام و نشان اور " ہَبَائً مَّنْثُوْرًا " ہو کر رہ جائیگا، اور اب ان کو پتہ چلے گا کہ اصل چیز تو ایمان و یقین کی دولت اور صحت عقیدہ کا وہ سرمایہ تھا، جس کی کمائی کا موقع و مقام حیات دنیا کی وہ فرصت محدود ہی تھی جو کہ اس وقت بہرحال گزر چکی۔ جس کی بازیابی کی اب کوئی صورت ممکن نہ ہوگی { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِِنْ مَّکَانٍ بََعِیْدٍٍٍ } ۔ پس صحت و سلامتی کی راہ یہ اور صرف یہی ہے کہ دین حق کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں آخرت کے اس یوم عظیم کیلئے آج تیاری کی جائے، کہ حیات دنیا کی اس فرصت محدود ہی میں آخرت کیلئے کمائی کی جاسکتی ہے، ورنہ پھر اس کیلئے کوئی موقع ممکن نہیں ہوگا کہ " دار العمل " یہ دنیا ہی ہے اس کے بعد " دار الجزاء " ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:168451 حلال اور پاکیزہ چیزوں کے کھانے کا حکم : حلال یہ کہ اس کے اصل وجود میں کوئی ایسی خرابی و قباحت نہ پائی جاتی ہو، جس کی بنا پر شریعت مطہرہ نے اس کو حرام و ممنوع قرار دے دیا ہو، کہ ایسی حرام و ممنوع چیزوں کا اخذ و تناول جائز نہیں ہوگا، جیسے خمر، خنزیر، میتہ اور دم مسفوح وغیرہ۔ اور طیب و پاکیزہ سے مراد یہ ہے کہ ان کے حصول واکتساب میں کسی حرام و ممنوع فعل کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو، جیسے چوری، ڈکیتی، غصب، دھوکہ، اور سود و قمار وغیرہ ذرائع سے حاصل کردہ مال۔ پس جو اشیاء حلال و طیب ہوں کہ ان کے اصل وجود میں بھی کوئی خرابی نہ ہو، اور ان کے حصول میں بھی کسی فعل ممنوع اور برائی کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو، ان سے استفادہ کرو۔ انہیں کھاؤ، برتو اور حضرت واھب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کا دل و جان سے شکر بجا لاؤ۔ سبحان اللہ ! کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیمات ہیں اس دین متین کی، جو کہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق، اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہیں۔ مگر دنیا ہے کہ ان سے منہ پھیر کر اور ان سے محروم ہو کر طرح طرح کی ظلمتوں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پڑی ہے اور ان کو اس کی کوئی فکر و پرواہ نہیں کہ اس کا نتیجہ وانجام کیا ہونے والا ہے۔ یہاں تک کہ ایسے لوگ ناصح کی نصیحت کو بھی سننے اپنانے اور اس پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ـ ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
452 شیطان کے نقش قدم سے بچنے کی تعلیم و تلقین : کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور ایسا کھلا دشمن کہ اس نے اپنی دشمنی کو چھپایا نہیں، بلکہ اعلانیہ اور قسم کھا کر اور حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ کے سامنے تحدی اور چیلنج کے طور پر کہا کہ تیری عزت کی قسم، میں ان ۔ بنی آدم ۔ کو گمراہ کر کے چھوڑونگا، بجز تیرے خاص اور چیدہ بندوں کے کہ ان پر میرا زور اور جادو نہیں چل سکے گا { فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْْ اَجْمَعِیْنَََ ، اِلَّا عِبَادَکَََ مِنْہُمُ الْمُخْلََصِیْنَ } ۔ (صٓ۔ 82 ۔ 83) سو ایسے کھلے دشمن کی پیروی کرنا اور اس کے نقش قدم پر چلنا انہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جن کی مت ماری گئی اور جن کی عقلوں پر پردہ پڑگیا ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی سے مراد ان مشرکانہ توہمات کو اپنانا اور اختیار کرنا ہے، جن کی بناء پر یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی حلال اور پاکیزہ چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں، جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 14 1 تا 125 میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسرے مختلف مقامات پر بھی اس کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو شیطان کے ایسے تمام ہتھکنڈوں سے ہمیشہ بچتے رہا کرو۔ کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کی پیروی کا انجام دائمی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 2:169453 شیطانی اغواء کے طور طریقے : یعنی تم نہیں جانتے کہ وہ کس قدر سنگین و خطرناک اور تمہاری عاقبت کو تباہ کرنے والی باتیں ہیں۔ مثلاً اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال بتانا اور اس کی حلال فرمودہ اشیاء کو حرام۔ یا یہ کہ ان اسباب و وسائل کو ترک کرکے وہمی اور شرکیہ وسائل کو اپنانے کی تلقین کرنا، جن اسباب و وسائل کے ساتھ قدرت نے اپنی سنن کونیہ میں مختلف اشیاء کو مربوط کر رکھا ہے۔ مثلاً یہ کہ کھیتی کیے بغیر فلاں حضرت فصل اگا دیں گے۔ پڑھے اور محنت کیے بغیر فلاں حضرت یونہی پاس کرا سکیں گے۔ (تفسیر الامام المراغی وغیرہ) ۔ سو اس طرح شیطان تمہیں ہلاکت و تباہی کے کیسے ہولناک گڑھے میں ڈالنا اور دھکیلنا چاہتا ہے۔ پس تم اس کے مکر و فریب اور اس کی چالبازیوں سے ہمیشہ بچتے رہنا، جس کا سب سے بڑا اور موثر ذریعہ ہے تقوی و پرہیزگاری۔ پس ہمیشہ اسی کو اپنائے رکھنا، اور ہر حال میں اپنے خالق ومالک سے ڈرتے رہنا اور اسی پر تکیہ و بھروسہ رکھنا اور اس کے ساتھ اپنا معاملہ رکھنے کی فکر اور کوشش کرتے رہنا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف فرمایا گیا کہ شیطان کی پیروی سے بچنا کہ وہ تمہیں برائی اور بےحیائی ہی سکھائے گا اور تم کو ہلاکت اور تباہی کے راستوں پر ڈالنے ہی کی کوشش کرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -