2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

مگر اس سب کے باوجود ان کا یہ حال ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم پیروی کرو اس دین حق کی جسے اتارا ہے اللہ نے تو یہ کہتے ہیں کہ نہیں جی ہم تو بس اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادا کو کیا یہ لوگ باپ دادا کے طریقے پر ہی چلتے رہیں گے اگرچہ وہ نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہی انہوں نے سیدھی راہ پائی ہو3

454 حق کے مقابلے میں باپ دادا کی تقلید اہل باطل کا پرانا طریقہ : کہ یہ ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارا تاریخی ورثہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو حق کے مقابلے میں ہمیشہ یہی طریقہ و وطیرہ رہا ہے اصحاب کفر و باطل اور اہل زیغ و ضلال کا۔ کل بھی یہی تھا، اور آج بھی یہی ہے۔ وہ ایسے ہی مفروضوں کی بناء پر قبول حق سے انکاری ہو کر نور حق سے محروم ہوجاتے ہیں، اور دائمی خسارے کو اپنے گلے کا ہار بنا لیتے ہیں، ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو واضح رہے کہ اصل چیز ہے حق کی پیروی اس کو چھوڑ کر باپ دادا کی تقلید و پیروی کرنا اہل کفر و باطل کا طریقہ ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم ان بےسند باتوں اور بےاصل روایات کی بجائے اس دین حق و ہدایت کی اتباع اور پیروی کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے تو یہ لوگ بڑے غرور وتکبر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم تو بس اسی طریقے پر جمے بیٹھے رہیں گے، جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ خواہ وہ باپ دادا نور حق و ہدایت سے محروم ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ 455 باپ دادا کی پیروی جائز حدود کے اندر : پس علم کی روشنی سے محروم باپ دادا کی عادات و تقالید کی پیروی عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ کہ ایسے باپ دادا دنیاوی اعتبار سے اگرچہ بڑے تیز اور ہوشیار ہوں، مگر دینی لحاظ سے وہ کچھ بھی سمجھتے جانتے نہیں کیونکہ اس بارے میں وہ نہ سنجیدہ ہیں اور نہ فکر مند۔ اور وہ صرف اپنے پیٹ کو بھرنے اور تن و توش کو پالنے پوسنے، اور اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور بس۔ اور اسی کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کی رسائی مادیت اور مادہ پرستی کی انہی حدود تک ہے اور بس ۔ { ذالِکَ مَبْلَغُہُمْ مِّنَ الْعِِلْمِ } ۔ یہاں تک کہ وہ اندھے اور اوندھے ہو کر اپنے سے نیچے کی اور کمتر اور بےعقل مخلوق تک کی پوجا پاٹ کرنے لگتے ہیں۔ حیوانوں کی پوجا، درختوں اور پتھروں کی پوجا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ان ان چیزوں کی پوجا جن کو شرافت کی زبان پر لانا بھی ایک بارگراں ہے۔ دانایان فرنگ ہی کو دیکھ لیجئے جن کی عقل اور ہوشمندی کا ڈھنڈورا چار دانگ عالم میں پیٹا اور پورے زور و شور سے پیٹا جا رہا ہے، اور جو چاند پر اترنے اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی تگ و دو میں مشغول ہیں، وہ اپنے خالق ومالک سے غافل، اپنے مقصد حیات سے بیخبر ، اور اپنے مصیر محتوم، اور اپنی زندگی کی جوابدہی سے بےفکر، اپنے آخری اور ہولناک انجام کی طرف بڑھے جا رہے ہیں۔ سو یہ مار ہے نور ہدایت سے منہ موڑنے، اور اپنے خالق ومالک سے بغاوت و سرکشی برتنے کی ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ تو کیا تمہارے باپ دادا اگر نور علم سے اس قدر دور اور محروم ہوں، تو تم لوگ پھر بھی انہی کی پیروی کئے جاؤ گے ؟ اور تم ہوش میں نہیں آؤ گے ؟ اور اسی طرح اندھے بہرے ہو کر اور حق سے منہ موڑ کر دائمی ہلاکت اور تباہی کی طرف بڑھے چلے جاؤ گے ؟ سو ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو - 456 باپ دادا کی محمود و مطلوب پیروی : سو راہ حق و ہدایت سے سرشار و بہرہ ور آباء و اجداد کی پیروی کرنا مطلوب و محمود ہے کہ وہ پیروی دراصل ان کی نہیں، راہ حق و ہدایت کی ہوتی ہے۔ سو " اگرچہ وہ سیدھی راہ پر نہ ہوں " کی اس قید سے معلوم ہوا کہ جو آبا و اجداد حق و ہدایت کی راہ پر ہوں، ان کی اتباع و پیروی ممنوع نہیں، بلکہ وہ تو مطلوب و محمود ہے۔ پس اگر تم نے باپ دادا کے طریقوں پر ہی چلنا ہے، تو ایسے باپ دادوں کے طریقوں پر چلو۔ اور ان کی راہ کو اپناؤ جو خود حق پر ہوں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے ہدایت یافتہ اسلاف کی پیروی کے بارے میں اصولی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا { أُوْلئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہَدَاہُمُ اقْتَدِہْ } ۔ (الانعام : 9 1) اور یہ اس لیے کہ دولت حق و ہدایت سے سرفراز ومالا مال ماں باپ دادا کی پیروی دراصل نور حق و ہدایت ہی کی پیروی ہوتی ہے اور حق و ہدایت کی پیروی ہی اصل میں مطلوب و مقصود ہیـ۔ سو باپ دادا اگر راہ حق پر ہوں تو ان کی پیروی ممنوع و محظور نہیں بلکہ مطلوب و محمود ہے کہ یہ دراصل حق ہی کی پیروی ہے۔
Ayahs 2:171–172

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور مثال ان لوگوں کی جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر ایسے ہے جیسے کوئی پکارتا ہو کسی ایسی چیز کو جو کچھ نہ سنتی سمجھتی ہو بجز پکارو آواز کے یہ لوگ بہرے ہیں سماع حق سے گونگے ہیں حق بات کہنے سے اندھے ہیں راہ حق کو دیکھنے پہچاننے سے پس یہ کچھ نہیں سمجھتے4

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو کھاؤ پیو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے اپنے کرم بےپایاں سے تم کو عطاء کی ہیں اور دل و جان سے شکر بجا لاؤ تم لوگ اللہ کا اگر تم واقعی اسی کی عبادت و بندگی کرتے ہو1

457 نور حق و ہدایت سے محروم لوگ جانور ہیں : سو ان لوگوں نے اپنے سوئ اختیار اور بدنیتی کی بناء پر، اپنے آپ کو شرف انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر حیوانوں کی سطح پر پہنچا دیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو حق بات کو سننے، سمجھنے اور اس کو اپنانے کی اہلیت اور صلاحیت سے ہی محروم کردیا اور یہ چوپایوں کی طرح ہوگئے، بلکہ اس سے بھی برے اور بدتر، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٓئِکَ کَالْاَ نْعَام بَلْ ھُمْ اَضَّلُ } ۔ (الاعراف : 179) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ اس سے بھی آگے انہوں نے اپنے آپ کو بدترین مخلوق " شر البریۃ " بنادیا، جیسا کہ سورة البینۃ میں اس حقیقت کو تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، (البینۃ : 6) ۔ بہرکیف یہاں پر ایسے لوگوں کی تمثیل کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی مثال بھیڑ بکریوں وغیرہ جانوروں کے اس گلے کی سی ہے، جو عقل و ادراک سے عاری اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہوتا ہے، وہ چرواہے کی آواز کو تو سنتے ہیں لیکن اس سے آگے وہ نہیں سمجھ پاتے کہ چرواہا ان سے کیا کہتا، یا کس کام کیلئے بلا رہا ہے۔ سو اس ارشاد ربانی میں حال کی تمثیل حال سے ہے جس میں " ممثل " کے ایک ایک جز کا " ممثل لہ " پر منطبق ہونا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اسکا حال اس کے حال کے مشابہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ من سوء الحال۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ ایسے ہٹ دھرم کافروں کی مثال جانوروں کی سی ہے۔ جو نہ حق کی آواز کو سنتے ہیں اور نہ اس پر توجہ دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ - 458 نور حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو نور حق سے محروم لوگ کچھ نہیں سمجھتے سوائے ان نفسانی خواہشات کی تکمیل اور ان کے ان تقاضوں کو پورا کرنے کے جو کہ عام حیوانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کھایا پیا، پیٹ بھرا اور سوگئے۔ اور جہاں اور جیسے چاہا منہ مارا اور نفس کی خواہش پوری کرلی اور بس۔ اور یہی حاصل اور خلاصہ ہے حیوانی زندگی کا ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو کتنی بدبختی اور کتنی محرومی ہے ایسے انسان کی کہ وہ اپنی بدباطنی اور سوئ اختیار کی بناء پر اپنے آپ کو شرف انسانیت کے اس مقام عالی سے گرا کر اس قدر ہولناک پستی اور تباہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں نے اپنے قوُائے علم و ادارک کو ایسا مسخ کردیا، اور اس قدر بگاڑ دیا کہ یہ لوگ بہرے، گونگے اور اندھے بن کر رہ گئے، جس سے ان کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے غفلت و لاپرواہی اور عناد و ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 2:173–174

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ اس نے تم پر تمہارے ہی بھلے کے لیے حرام فرمایا ہے مردار، خون، اور خنزیر کے گوشت کو اور ہر ایسی چیز کو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اسے اس سے نامزد کیا گیا ہو پھر اس میں بھی اتنی چھوٹ ہے کہ جو کوئی لاچار ہوجائے اور اس بناء پر وہ ان میں سے کچھ کھالے بشرط کہ نہ تو وہ لذت کا طالب ہو اور نہ ہی حد ضرورت سے تجاوز کرنے والا تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے2

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں اس کتاب کے مضامین کو جسے اللہ نے اتارا ہے اور اس کے بدلے میں وہ اپناتے ہیں دنیا کا فانی اور گھٹیا مول تو ایسے لوگ نہیں بھرتے اپنے پیٹوں میں مگر دوزخ کی ہولناک آگ اور اللہ قیامت کے روز نہ ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی وہ ان کو پاک فرمائے گا، اور ان کے لئے وہاں پر ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے3

462 حصر سے یہاں پر مراد حصر حقیقی نہیں اضافی ہے : یعنی " اِنَّما " کے کلمہء حصر سے جو حصر یہاں مستفاد ہو رہا ہے، اس سے مراد حصر حقیقی نہیں، اضافی ہے۔ یعنی یہ حصران محرمات کے اعتبار سے ہے جن کو مشرکین نے از خود تراش رکھا تھا، جیسے " بحیرہ "، " سائبہ "، اور " وصیلہ " وغیرہ۔ سو اس حصر کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو حرام نہیں فرمایا جن کو تم لوگوں نے ازخود حرام قرار دے رکھا ہے۔ بلکہ اس نے تو محض ان اور ان چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو کہ خود تمہارے لئے ضرر و نقصان کا باعث تھیں، اور ہیں۔ دنیا و آخرت دونوں میں۔ پس تم ہمیشہ انہی سے احتراز کرو۔ سو دارین کی سلامتی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی و اتباع میں ہے۔ اور اس سے انحراف و روگردانی میں محرومی و ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ - 463 لحم خنزیر کی حرمت کا ذکر وبیان : کہ خنزیر نجس العین ہے اور اس کے " لحم " یعنی گوشت کی تخصیص یہاں پر اس لئے فرمائی گئی کہ بڑا اور اصل مقصد جانور کے منافع میں سے یہی ہوتا ہے۔ باقی سب فوائد و منافع اس کے تابع ہوتے ہیں۔ ورنہ خنزیر کی کسی بھی چیز سے انتفاع جائز نہیں، کہ وہ سراسر ناپاک اور نجس العین ہے۔ اور دین حق اسلام اپنے پیروکاروں کیلئے انہی چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے جو کہ پاکیزہ ہوتی ہیں اور خبیث اور گندی چیزوں کو وہ حرام اور ممنوع قرار دیتا ہے، جیسا کہ پیغمبر اسلام کی ان خصال وصفات کے بیان کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا گیا جو کہ انکے بارے میں تورات اور انجیل میں بیان فرمائی گئی ہیں ۔ { وَیَحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَات وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَائِثَ } ۔ (الاعراف : 157) یعنی " وہ پیغمبر آخر الزماں لوگوں کیلئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دے گا اور گندی و ناپاک چیزوں کو حرام "۔ تاکہ ایسے لوگ پاکیزہ خصال لوگ بن سکیں ۔ فالحمد للہ جل وعلا - 464 " مَا اُھِلَّ " میں کلمہ " ما " کا عموم وشمول : یعنی کلمہ " ما " کا عموم ایسی ہر چیز کو شامل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا نام لیا گیا ہو۔ خواہ وہ کوئی جانور ہو، یا غلہ، یا کھانا، یا مٹھائی وغیرہ۔ ان میں سے جس چیز کو بھی غیر اللہ کے تقرب اور خوشنودی کیلئے نذر و نیاز کے طور پر پیش کیا گیا ہو، وہ حرام ہے۔ اور اس کا کھانا، کھلانا، دینا، وغیرہ سب حرام ہے۔ جیسا کہ " البَحْرُ الرّائق " وغیرہ کتب فقہ میں اس کی تفصیلات مذکور و مندرج ہیں۔ (معارف القرآن وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ اور نذر و نیاز کی حرمت کی وجہ اس کی باطنی گندگی ہے، جو اس کے اندر غیر اللہ کے نام پر نامزد کردینے سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ دین حق اسلام کے اندر یہ حقیقت اپنی جگہ ایک مسلم اور واضح حقیقت ہے کہ شرک سب سے بڑی عقلی اور باطنی نجاست ہے۔ اس لیے اس کی چھوت کسی بھی پہلو سے جس کسی پاک چیز کو لگ جاتی ہے، وہ بھی اس کی بناء پر نجس اور ناپاک ہو کر رہ جاتی ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اللہ ہر ناپاک ونجس چیز سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 465 " اُھِلََّّ لِغَیْر اللّٰہ " کا معنی و مطلب ؟ : " اُھِلَّ " ماخوذ ہے " اِھلال " سے جس کے معنی رفع صوت کے آتے ہیں۔ جو دراصل ماخوذ ہے " ھلال " سے جو کہ ابتدائی دنوں کے چاند کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ عربوں میں زمانہء قدیم ہی سے یہ رواج چلا آتا تھا کہ وہ نئے چاند کے دیکھنے پر " الہلال الھلال واللہ " جیسی آوازیں اٹھایا کرتے تھے۔ پھر یہ لفظ مطلق رفع صوت یعنی آواز اٹھانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی لئے جب بچہ پیدا ہونے پر روتا، اور آواز لگاتا ہے، تو اس پر کہتے ہیں " اَہَلَّ وَاسْتَہَلَّ " یعنی " بچہ رویا "، یا " اس نے رونے کے آواز لگائی "۔ سو اسی سے " مَا اُہِلَّ بِہٖ " کے یہ الفاظ ماخوذ ہیں۔ یعنی جس چیز کو غیر اللہ کیلئے نامزد کردیا جائے، جیسے مشرکین مکہ وغیرہ " لات " اور " عزی " وغیرہ بتوں کے ناموں سے نامزد کیا کرتے تھے۔ پس ایسی ہر شئی حرام ہے۔ کیونکہ ہر شئی کا خالق ومالک جب اللہ وحدہ لا شریک ہے، تو اس پر نام بھی صرف اسی کا لیا جانا چاہیئے اور خوشنودی بھی اسی وحدہ لاشریک کی مقصود ہونی چاہیئے۔ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا اور کسی چیز کو اس کے لئے نامزد کرنا شرک اور کھلا ظلم ہوگا ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اسی لئے صحیح احادیث میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کو لعنت کا موجب قرار دیا گیا۔ مثلاً صحیح مسلم کی ایک حدیث میں جو کہ حضرت علی ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے اور جس میں کئی چیزوں پر لعنت فرمائی گئی ہے، ان میں سے ایک ہے " وَلَعَنَََ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْر اللّٰہ " " اور خدا کی لعنت ہے اس پر جو غیر اللہ کیلئے ذبح کرے " (صحیح مسلم کتاب الاضاحی) ۔ امام نووی (رح) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اگر ذابح نے اس چیز کو غیر اللہ کی تعظیم کیلئے ذبح کیا تو یہ کفر ہوگا۔ اور ذابح اگر مسلمان تھا تو وہ کافر اور مرتد ہوجائیگا ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ (بحوالہ کبیر، محاسن التاویل) ۔ اور یہی بات دوسرے بہت سے ثقہ اہل علم نے تحریر فرمائی ہے، مثلاً ( تفسیر کبیر، جامع البیان، نیسابوری، تفسیر عزیزی، اور فتاوی عزیز یہ ج 1 ۔ ص 56) وغیرہ وغیرہ۔ پس اہل بدعت کا غیر اللہ کیلئے نامزد کی جانے والی چیز کو " عبداللہ کی گائے "، " عقیقہ کا بکرا " اور " ولیمہ کا دنبہ " جیسی، نسبتوں پر قیاس کر کے دھوکہ دینا سراسر باطل و مردود ہے، کیونکہ ان میں سے کسی بھی چیز میں غیر اللہ کیلئے بطور تقرب و تعظیم نامزد کرنا، اور ذبح کرنا مقصود نہیں۔ بلکہ یہ تو محض ملکیت کی نسبت ہوتی ہے۔ جیسا کہ " عبداللہ کی گائے " میں ہے۔ یا دین کے ایک ثابت شدہ حکم و ارشاد کی تعمیل و تکمیل کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ جیسے " عقیقہ کا بکرا " اور " ولیمہ کا دنبہ " میں ہے۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے۔ سو ان نسبتوں کو غیر اللہ کے نام پر نذر کی جانے والی اشیاء سے ملانا محض خلط مبحث اور مغالطہ آمیزی ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی مغالطہ آمیزی اور اس کے اثرات سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور حق کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ 466 " مضطر " کیلئے اکل حرام کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ : سو " مضطر " کیلئے اکل حرام کی اس اباحت و اجازت کی دو شرطیں ہوگئیں۔ ایک یہ کہ اس میں بغاوت و سرکشی کا کوئی داعیہ اور شائبہ موجود نہ ہو۔ اور وہ شوق و لذت کے طور پر کھانے والا نہ ہو۔ اور دوسرے یہ کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز نہ کرے۔ بلکہ اسی قدر کھائے جس سے اس کی جان بچ سکے اور بس۔ کیونکہ ضرورت کو ضرورت کی حد تک ہی رکھنا ضروری ہوتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے " اَلضَّرُوْرَۃُ تُقَدَّرُ بِقَدْرِہَا " ۔ یعنی " ضرورت کی چیز کو اسی قدر اپنایا اور اختیار کیا جائے گا جتنا کہ اس کی ضرورت ہو اور بس " اس سے زیادہ اس کو اپنانا جائز نہیں۔ کہ ایسا کرنا حد سے تجاوز کرنا ہوگا جو کہ ممنوع و محرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 2:175–176

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنایا گمراہی کے اندھیروں کو بدلے میں ہدایت کے نور عظیم کے اور عذاب کو بدلے میں بخشش کے سو کس قدر صبر اور حوصلہ رکھتے ہیں یہ لوگ یہ (دوزخ کی اس ہولناک) آگ پر4

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

اس لئے کہ بیشک اللہ نے اتارا کتاب کو حق کے ساتھ تاکہ دنیا نور حق سے فیض یاب ہو مگر انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر اسے الٹا گمراہی کا ذریعہ بنادیا اور بیشک جن لوگوں نے اختلاف کیا کتاب میں وہ یقینا بہت دور جا پڑے ضد میں حق کے راستے سے5

470 ہدایت کے بدلے میں گمراہی کے خریدنے کا مطلب ؟ : یعنی جس طرح گاہک اور خریدار اپنی پسند اور اپنے اختیار سے کوئی چیز بشوق ورغبت خریدتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر نور حق و ہدایت سے منہ موڑا اور گمراہی کے اندھیروں کو اپنایا۔ اسی کو یہاں پر " اشتراء " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے تو ان کو حق اور ہدایت کی دولت سے نوازنے اور سرفراز کرنے کیلئے پختہ اور موثر انتظام فرمایا تھا، کہ ایک طرف تو اس کو عہد الست کی صورت میں نور فطرت کے طور پر ان کی طبیعت اور فطرت وجبلت میں پیوست فرما دیا۔ اور دوسری طرف ان کو نور عقل کی نعمت سے نواز کر کائنات کی یہ حکمتوں اور عبرتوں بھری کھلی کتاب انکے سامنے رکھ دی، اور ان کو اس میں غور و فکر کی دعوت دی۔ اور تیسری طرف آسمانی کتابوں اور اپنے رسولوں کے ذریعے ان کو دولت ہدایت سے نوازا، مگر انہوں نے اس سب کے باوجود نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کفر و باطل کے اندھیروں کو اپنایا، اور اپنے لیے دارین کی ہلاکت اور تباہی کا سامان کیا اور یہی نتیجہ ہوتا ہے خواہش پرستی اور عناد و ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 471 منکرین کی غفلت و لاپرواہی پر اظہار افسوس و تعجب : سو منکرین کی غفلت و لاپرواہی اور ان کی بےحسی پر افسوس اور تعجب کے اظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیسے صبر کیے بیٹھے ہیں یہ لوگ دوزخ کے عذاب پر : " ما اصبر " کا صیغہ " ما احسن " وغیرہ کی طرح اظہار تعجب کیلئے ہے کہ یہ لوگ دوزخ کی آگ پر کس طرح صبر کیے بیٹھے ہیں۔ سو یہ دوزخ کے عذاب سے خبردار کرنے کا ایک بڑا موثر اسلوب ہے کہ یہ لوگ دوزخ کی اس راہ پر چلے جا رہے ہیں، اور انہیں اس کی کوئی فکر و پرا وہ ہی نہیں، کہ ہم کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ اور فرصت دنیا کی اس محدود مہلت کے ختم ہونے کے بعد پھر اس ہولناک انجام سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہو سکے گی۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص ایسا جرم کر رہا ہو، جس کا لازمی انجام جیل ہو، تو اس سے کہا جائے کہ " صاحب یہ شخص کس قدر جیل اور قید کی زندگی کا شوقین ہے "۔ سو یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین سے محرومی انسان کو کس قدر احمق، لاپروا اور بے ِحس بنا دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے بدبخت اور محروم لوگ راہ حق و ہدایت سے اتنے دور جا پڑے کہ اب ان کو واپسی کی راہ سوجھتی ہی نہیں۔ سو ضد اور ہٹ دھرمی کا مرض بڑا ہی سنگین مرض ہے کہ اس سے انسان بگڑ کر کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayahs 2:177–178

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہ نہیں کہ تم لوگ اپنے چہرے پھیر لو مشرق یا مغرب کی طرف اور بس بلکہ نیکی تو دراصل یہ ہے کہ آدمی سچے دل سے ایمان لے آئے اللہ پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر اللہ کی نازل کردہ کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر اور وہ اپنا مال خرچ کرے اس کی محبت پر رشتہ داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں اور گردنوں کے چھڑانے میں اور وہ نماز قائم کرے پابندی کے ساتھ اور زکاۃ ادا کرے صیحح طریقے سے اور جو پورا کرتے ہیں اپنے باندھے ہوئے عہد کو جب وہ کوئی عہد کرلیں اور خاص کر وہ لوگ جو صبر و برداشت سے کام لیں سختی اور تکلیف میں اور حالت جنگ میں یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں اپنے قول و فعل میں اور یہی ہیں متقی و پرہیزگار1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پر قصاص فرض کردیا گیا ہے مقتولوں کے بارے میں یعنی قاتل کو قتل کیا جائے گا مقتول کے بدلے میں خواہ وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو اور کیسا ہی کیوں نہ ہو2 آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے پھر جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی تو قاتل سے خون بہا کا مطالبہ کرنا ہے دستور کے مطابق اور پہنچا دینا ہے خون بہا کے اس مال کو اس کے حقدار کے پاس خوبی اور بھلائی کے ساتھ یہ تخفے ہے تمہارے رب مہربان کی جانب سے اور ایک رحمت و مہربانی3 پھر جس نے زیادتی کی اس کے بعد تو اس کے لئے ایک بڑا اور دردناک عذاب ہے

472 ایمان باللہ اور اس کے تقاضے : یعنی وہ اللہ پر ایسا ایمان لائے جیسا کہ اس پر ایمان لانے کا حق اور تقاضا ہے۔ اس کو اس کی ذات وصفات میں یگانہ و یکتا مانے، اور اس کی اطاعت و رضا کو اپنا قبلہ توجہ اور اصل مقصود حیات بنائے رکھے۔ اور اس کے اوامرو ارشاد ات کو دل و جان سے بجا لائے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسی میں بھلا ہے۔ میرا بھی اور دوسری ساری مخلوق کا بھی۔ اور یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے۔ اور یہ کہ اس وحدہ لاشریک کا حق سب سے اعلیٰ وبالا اور سب سے مقدم اور فائق حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ اپنا حق معرفت و بندگی اس طرح ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جس طرح کہ اس کا حق ہے۔ سو انسان کی اصلاح اور اس کی فوز و فلاح کیلئے اولین اساس و بنیاد ایمان باللہ کی دولت ہے۔ اس کے بغیر اس کی حقیقی فوز و فلاح کا کوئی سوال و امکان ہی نہیں۔ اور ایمان بھی وہ معتبر ہے جو اپنے پورے تقاضوں کے ساتھ ہو۔ ورنہ محض زبانی کلامی دعو وں کا کوئی فائدہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق وسعادت سے نوازے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 473 " عَلٰی حُبِّہ " کی ضمیر کے مرجع میں تین احتمال : " عَلٰی حُبِّہ " کی ضمیر مجرور کے مرجع میں تین احتمال ہوسکتے ہیں اور ان تینوں ہی پر معنی و مطلب صحیح بنتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کا مرجع اللہ ہو۔ یعنی وہ شخص جو بھی مال خرچ کرے، وہ محض اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کیلئے خرچ کرے۔ اس کے سوا کوئی مقصد اور غرض اس کے پیش نظر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کا مرجع مال ہو۔ یعنی وہ ایسا مال خرچ کرے جو اسے خود محبوب ہو، اور وہ خود اس کا ضرورت مند ہو۔ اور تیسرے یہ کہ اس کا مرجع " اِیْتاء " ہو، یعنی دینے کا فعل ہو جو " اتَی " کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے۔ یعنی وہ شخص اپنا مال برضا ورغبت اور خوشی خوشی دے۔ نہ کہ مجبوری سے، اور تاوان اور چٹی کے طور پر۔ سو اس ضمیر مجرور کے مرجع میں یہ تینوں احتمال موجود ہیں اور تینوں میں سے ہر ایک پر اس کا معنی و مطلب صحیح اور درست بنتا ہے۔ پس مومن صادق کو چاہیئے کہ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے اپنا عمدہ اور پاکیزہ مال دے۔ اور دے بھی دل کی خوشی اور رضاء ورغبت سے کہ اسکا صلہ و بدلہ خود اسی کو ملے گا۔ دنیا کی اس حیات فانی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 474 " فی الرقاب " کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی غلاموں کی آزادی، مسلمان قیدیوں کی رہائی، قرضداروں کو قرض کی قید سے چھڑانے، اور قیدیوں کے فدیہ کی ادائیگی میں۔ (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ یہ " بر " اور نیکی کی ان اہم اقسام کا ذکر ہوا جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ اب آگے ان کا بیان ہے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ اور دین متین کی تعلیمات مقدسہ کا خلاصہ اور نچوڑ یہی دو چیزیں ہیں۔ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کہ ان دونوں کی معرفت اور پہچان بھی انسان کو حاصل ہو اور ان کو ادا کرنے کی فکر اور کوشش بھی ۔ وباللہ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل - 475 نماز کی اہمیّت و عظمت : حقوق العباد کے بیان کے بعد عبادات میں سے سب سے پہلے نماز کا ذکر فرمایا گیا، جو کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق ہے جس میں انسان اپنے پورے اعضاء وجوارح اور ظاہر و باطن سے اس معبود برحق کی عبادت و بندگی اور اس کی یاد دلشاد میں مصروف ہوتا ہے۔ اور اس میں صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ظاہری ارکان و افعال ادا کرلیے جائیں اور بس۔ نہیں بلکہ اس عبادت مقدسہ کو اس طرح ادا کیا جائے جس طرح کہ اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اور اس کی اس روح اور حقیقت کے ساتھ ادا کیا جائے جو کہ اس میں اصل مطلوب ہے کہ ایسی ہی حقیقی نماز وہ انقلاب آفریں عبادت ہے جو انسان کو بدل کر کچھ کا کچھ بنادیتی ہے، اور اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ اور یہی وہ نماز ہے جو انسان کو بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہٰی عَن الْفَحْشَائ وَالْمُنْکَرِ } ۔ (العنکبوت : 45) ۔ اللہ ایسی ہی کامل اور انقلاب آفریں نماز نصیب فرمائے اور اس پر ثابت قدم اور پکار رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ یہاں پر ایمان اور انفاق کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا ذکر فرمانے سے یہ درس ملتا ہے کہ ایمان اور انفاق کا عملی ثبوت نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان اور انفاق کی شہادت کیلئے جو کم سے کم چیز درکار ہے وہ ہے نماز اور زکوٰۃ۔ اگر یہ دونوں چیزیں غائب ہوگئیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ نہ ایمان باقی رہا اور نہ انفاق۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جنکے ذریعے بندہ اپنے خالق اور اس کی مخلوق کے ساتھ اپنا تعلق صحیح اور صحتمندانہ بنیاد پر استوار کرتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید فی کل شان من شؤون الحیاۃ - 476 فریضہء زکوٰۃ کی اہمیت و عظمت : نماز کے متصل بعد زکوٰۃ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو زکوٰۃ ادا کرے اس کی حدود وقیود کے ساتھ، اور اس کی شروط و آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے، جیسا کہ اس کے دین نے اس کو سکھلایا بتلایا ہے، تاکہ اس طرح وہ فریضہء زکوٰۃ کے ان فوائدو ثمرات سے متمتع ہو سکے جو کہ قدرت نے اس میں رکھے ہیں۔ اور جو اس کی زندگی کو سنوارنے اور اس کی دنیا و آخرت کو بنانے والے ہیں۔ سو جس طرح بدنی عبادات میں نماز ایک عظیم الشان اور انقلاب آفریں عبادت ہے اسی طرح مالی عبادات میں زکوٰۃ ایک عظیم الشان اور بےمثل و انقلاب آفریں عبادت ہے۔ اور یہ دونوں عبادتیں مومن صادق کو ایک پاکیزہ اور نمونے کا انسان بنادیتی ہیں۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اکثر و بیشتر ان دونوں کو یکجا بیان فرمایا گیا ہے۔ یہاں پر زکوٰۃ کا ذکر علیحدہ فرمانے سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اوپر جس انفاق کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اس قانونی مطالبے سے الگ چیز ہے۔ سو برّ وتقوی کے تقاضے صرف فرض زکوٰۃ کی ادائیگی سے پورے نہیں ہوسکتے، بلکہ اس کیلئے فریضہ زکاہ کے علاوہ اس کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سے فیاضانہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلي ما یحب ویرید ـ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف فریضہ زکاۃ ایک عظیم الشان عبادت اور اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ اور مالی عبادات میں اس کا مرتبہ و مقام سب سے اہم اور سب سے مقدم ہے۔ 477 عہد و پیمان کی پابندی کی تعلیم و تلقین : عام اس سے کہ ان کے ان عہود و مواثیق کا تعلق ان کے خالق ومالک کے ان حقوق سے ہو، جن کا التزام انہوں نے اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر کیا ہے، یا ان کا تعلق ان عہود و مواثیق سے ہو جو کہ بندوں کے درمیان آپس میں باہمی طور پر پائے جاتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ دین کے کسی حکم سے متصادم نہ ہوں، کہ ایسے سب ہی عہود و مواثیق کا پورا کرنا اور ان کو صحیح طور پر بجا لانا ایسے لوگوں کے دین و ایمان کا تقاضا ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ یہاں پر اسلوب بدل دیا گیا۔ اوپر ایمان، انفاق، اقامت صلوٰۃ اور ایتاء زکوٰۃ کا ذکر فعل کے صیغے سے فرمایا گیا، لیکن " ایفائے عہد " کا ذکر " موفون " کے صیغے سے، جو کہ اسم فاعل اور صفت کا صیغہ ہے۔ سو اس سے یہ درس ملتا ہے کہ ایفائے عہد ایسے لوگوں کی پکی اور مستقل صفت ہے۔ اس لیے کہ صفت کا صیغہ کسی مستقل صفت اور خصلت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ فعل کا صیغہ کسی امر کے محض وقوع اور حدوث پر دلالت کرتا ہے۔ سو عہد و پیمان کی پابندی کا اسلام کی تعلیمات مقدسہ میں ایک اہم مقام ہے۔ 478 صبر کی عظمت و اہمیت : یعنی " الصَّابِرِیْن " کا نصب اختصاص کی بنا پر ہے۔ اور وجہ اس اختصاص کی یہ ہے کہ ان تین موقعوں پر صبر و ثبات سے کام لینا خاص طور پر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اور جو کوئی ان تینوں اہم موقعوں پر صبر و ثبات سے کام لیتا رہا اس کے لئے دوسرے مواقع پر صبر کرنا آسان ہوگا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف صبر و استقامت اہل ایمان کی صفات میں ایک بڑی اہم اور بنیادی صفت ہے۔ اسی لیے یہاں پر اس کا ذکر اختصاص کے اسلوب میں فرمایا گیا ہے ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور اس درجے میں جو اس وحدہ لاشریک کے حضور مطلوب ہے۔ آمین۔ سو راہ حق میں صبر و ثبات ذریعہ فوز و نجات ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔ 479 متقی و پرہیزگار کون لوگ ہوتے ہیں ؟ : سو متقی و پرہیزگار وہ لوگ ہوتے ہیں جو یہ اور یہ عظیم الشان صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔ پس محض ظواہر اور شکلیات پر الجھنے اور جھگڑنے کی بجائے، تم لوگ یہ پاکیزہ و صاف اور عمدہ خصال اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو، تاکہ تم لوگ سچوں اور پرہیزگاروں میں شامل ہو سکو۔ اور اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو۔ سو تقوی و پرہیزگاری کوئی دکھلاوے اور ظاہرداری کی چیز نہیں، بلکہ یہ ایمان و یقین کے نور اور باطن کی اس کیفیت کا نام ہے جس سے مومن صادق کا باطن منور و معمور ہوتا ہے۔ اور جس کے آثار وثمرات اس کے ظاہر پر اس طرح نمودار ہوتے ہیں کہ وہ ایک امتیازی شان کا اور پاکیزہ انسان بن جاتا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور یہاں پر حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ یہی ہیں متقی اور پرہیزگار لوگ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو ان صفات سے عاری اور محروم ہوگا وہ متقی اور پرہیزگار نہیں ہوسکتا خواہ وہ اپنے آپ کو کیا ہی سمجھتا ہو۔ کیونکہ تقویٰ محض ظواہر و مظاہر کا نام نہیں۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل مندو تاکہ تم بچو خونریزی اور اس کے بھیانک انجام سے4

486 اعتداء اور زیادتی کا انجام برا ۔ والعیاذ باللہ : اور اس طرح اس نے اس قانون تخفیف و رحمت کی ناقدری کی۔ مثلاً یہ کہ ولی مقتول سے قصاص معاف کردینے اور دیت وصول کرلینے کے بعد جب قاتل مطمئن ہوگیا تو اس نے اس کو قتل کردیا، یا قاتل دیت قبول کرلینے اور اس کی ادائیگی کا وعدہ کرلینے کے بعد فرار ہوگیا۔ اور اس طرح اس نے دھوکہ دہی سے کام لیا وغیر ذلک۔ تو ایسا کرنا بہت برا ہوگا اور ایسا کرنے والے کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس جس نے تخفیف کے اس حکم سے فائدہ اٹھانے کے بعد ظلم و زیادتی کی کوئی راہ کھولی، تو وہ یاد رکھے کہ اس کیلئے بڑا ہی برا اور دردناک عذاب ہے، جس سے اس کو کوئی بھی چھڑا نہیں سکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اعتداء و زیادتی سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ 487 قصاص میں سب کی زندگی کی حفاظت کا سامان ہے : کہ جب قاتل کو جرم قتل کا یہ انجام معلوم ہوگا، اور اس کو اس سخت سزا کا پتہ ہوگا، تو وہ قتل کے ارتکاب سے بچے گا، اور اس طرح سب کی زندگیوں کی حفاظت کا سامان ہوگا۔ سو قصاص سے ایک جان گئی لیکن کئی جانیں اس سے بچ گئیں اور قصاص میں قتل ہونے سے قاتل سے قتل کے گناہ کی میل دھل گئی اور وہ دوزخ کی آگ سے بچ کر حیات ابدی سے سرفراز ہوگیا۔ اور قاتل کے قتل ہوجانے سے وارثان مقتول کے دلوں سے انتقام اور دشمنی کی آگ ٹھنڈی ہوگئی اور آگے مزید خونریزیوں کا خطرہ ٹل گیا۔ اور مقتول کا خون بہا لینے سے مقتول کی یتیم اولاد کی مالی امداد ہوگئی اور اس کا خون بالکل رائیگاں نہیں گیا، وغیرہ وغیرہ۔ (المراغی، اور المعارف وغیرہ) ۔ 488 قصاص ہولناک انجام سے بچاؤ کا ذریعہ و وسیلہ : اور اس طرح تم بچ سکو اللہ کے غضب، اور اس کی پکڑ، اور اس عذاب سے جو کہ بہت سخت ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو قصاص ایسے ہولناک انجام سے بچاؤ کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اور خود اس میں تم ہی لوگوں کا بھلا او فائدہ ہے۔ پس تم اس کی قدر کرتے ہوئے اس کو صدق دل سے بجا لاؤ تاکہ اس کے فوائد وثمرات سے تم بھی مستفید و فیضیاب ہوسکو اور پورا معاشرہ بھی اس کی خیرات و برکات سے مالا مال ہوسکے۔ سو اس ارشاد ربانی میں معاشرے کے تمام ذمہ دار لوگوں کو اس بات کی تعلیم و تلقین ہے کہ وہ قصاص کے معاملہ میں کسی سہل انگاری، کسی جانبداری یا کسی چشم پوشی اور کسی بےجا رحم و مروت کو حائل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ جو کسی کو قتل کرتا ہے وہ صرف ایک ہی شخص کو قتل نہیں کرتا بلکہ وہ درحقیقت اس قانون کو قتل کرتا ہے جو سب کی جانوں کی حفاظت کا کفیل اور ضامن ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ گویا سب ہی لوگوں کو قتل کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قتل کا قصاص لے کر اس ضمانت کو بحال کردیں، اور جو بھی شخص اس ضمن میں تعاون کرے گا وہ گویا مقتول کو، پورے معاشرے کو، اور اس قانون کو زندہ کرنے میں تعاون کررہا ہے جو کہ سب کی جانوں کا کفیل اور ضامن ہے۔ سو اسلامی قوانین سراسر رحمت و عنایت خداوندی کا ذریعہ و وسیلہ ہیں ۔ فالحمد للہ -
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کردیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے اگر اس نے کچھ مال چھوڑا ہو کہ وہ وصیت کر جائے اپنے ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق مناسب طور پر یہ حق ہے پرہیزگاروں کے ذمے1

489 وصیت کی فرضیت اور اس کی منسوخی : شروع میں یہ وصیت کرنا مرنے والے کے ذمے فرض تھا، لیکن بعد میں جب آیت میراث نازل ہوگئی، اور ہر صاحب حق کا حصہ مقرر کردیا گیا تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ چناچہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق عطا فرما دیا ہے۔ پس اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں " فَلا وَصَیَّۃَ لَوارثٍ " (ترمذی، کتاب الوصایا) ۔ لہذا اب وارث کیلئے وصیت کرنا جائز نہیں، الا یہ کہ دوسرے ورثاء اس سے راضی ہوں۔ اور وہ اس وصیت کی اجازت دے دیں۔ کیونکہ ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اس حدیث میں یہ استثناء موجود ہے " اِلَّا اَنْ تُجِیْزُہُ الْوَرَثَۃُ " البتہ یہ وصیت ثلث سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے، جیسا کہ دوسری احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مگر واضح رہے کہ یہ بیان اس وصیت کا ہے جس کا تعلق مرنے والے کے مال اور اس کے ترکہ سے ہو، کہ یہ اب منسوخ ہوگئی ہے۔ رہ گئی وہ وصیت جس کا تعلق ان حقوق سے ہو جو کہ مرنے والے کے ذمے دوسرے لوگوں کے عائد ہوتے ہوں، جیسا کہ دوسروں کے مختلف قروض، دیون اور امانات، وغیرہ تو ان سے متعلق وصیت کرنا اس کے ذمے اب بھی لازم ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ اس پر دو یا تین راتیں گزریں اور اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔ بہرکیف وصیت معروف اور دستور کے مطابق ہونی چاہیئے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جس نے اس کو بدل دیا بعد اس کے کہ اس نے اس کو سن لیا تو اس کا گناہ انہی لوگوں کے ذمے ہوگا جو اس کو بدل دیں گے بیشک اللہ سب کچھ سننے جاننے والا ہے

490 وصیت کو بدلنے کا گناہ بدلنے والے پر : نہ کہ اس حاکم و مفتی وغیرہ پر جس نے ایسے لوگوں کے اقوال و بیانات وغیرہ سن کر ظاہر کے مطابق فیصلہ دیا کہ وہ اسی کا مکلف تھا کہ بیانات کے مطابق فیصلہ کرے اور فتوی دے اور بس۔ البتہ جس نے وصیت کو بدل کر کسی کی حق تلفی کی تو اس کا گناہ اسی کے ذمے ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ایسی وصیت کا زیادہ تر انحصار چونکہ گواہوں ہی پر ہوتا تھا، اسی لیے اس ارشاد سے ان کی عظیم ذمہ داری کو واضح فرما دیا گیا کہ اگر انہوں نے صاحب وصیت کی وصیت میں کسی رد و بدل سے کام لیا تو اسکا سارا گناہ انہی کے سر پر ہوگا۔ صاحب وصیت پر یا اس وصیت کو نافذ کرنے والوں پر اسکا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ پس گواہوں کو اپنی ذمہ داری کا پاس و احساس کرنا چاہئے۔ 491 اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے : وہ ان کے ظاہری اقوال اور بیانات کو بھی سنتا ہے اور ان کے دلوں کی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے۔ اس لئے اس سے کسی کی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔ پس ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر کرنی چاہیئے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو " سمیع " اور " علیم " کی ان دو صفتوں کا یہاں پر حوالہ دینے سے ان لوگوں کیلئے تنبیہ اور دھمکی ہے جو اس وصیت کو بدلنے کی جسارت کریں گے کہ وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ وہ سمیع وعلیم سب کچھ سنتا جانتا ہے۔ پس انکا یہ جرم اس سے مخفی نہیں رہ سکتا اور یہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وصیت اور ہر معاملے سے متعلق انسان خدا کا خوف اپنے دل میں رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

البتہ جس کسی کو اندیشہ و خوف ہو وصیت کرنے والے کی جانب سے کسی طرف داری یا گناہ کا اور اس بناء پر وہ ان کے درمیان صلح صفائی کروا دے تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں2 بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے

492 صحیح طور پر صلح صفائی کی تلقین : اس طور پر صلح صفائی کرا دے کہ اس سے عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ نہ کسی کی حق تلفی ہو اور نہ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی۔ تو اس پر کوئی الزام و گناہ نہیں کہ یہ افساد نہیں اصلاح ہے۔ اور فساد و بگاڑ نہیں بلکہ صلح صفائی ہے جو کہ مطلوب و محمود ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وصیت کرنے والے کی وصیت میں کوئی جانبداری یا حق تلفی پائی جائے تو اس کی اصلاح کرنا وصیت کی تبدیلی نہیں ہے۔ اس لیے ایسی صلح کرا دینا درست ہے کیونکہ ایسا کرنا بگاڑ نہیں اصلاح ہے جو کہ مطلوب و محمود ہی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو فرض کردیا گیا تم پر روزہ رکھنا جس طرح کہ وہ فرض کیا گیا تھا ان لوگوں پر جو گزر چکے ہیں تم سے پہلے تاکہ تم لوگ متقی اور پرہیزگار بن جاؤ3

493 روزوں کی فرضیت کا حکم : خود تمہارے فائدے اور بھلے کیلئے تاکہ اس طرح تمہاری ایمانی قوت مضبوط ہو جو کہ اساس و بنیاد ہے مکارم و معالی کی۔ اور تم روحانی ترقی کے درجات طے کرتے جاؤ۔ اور تمہاری قوت شہویہّ اور غضبِیّہ کو لگام دی جائے جو کہ منبع ہے ہر شر و فساد کا۔ اور اسے رام کر کے حق کے تابع کیا جائے جو کہ تقاضا ہے تمہارے دین و ایمان کا۔ اور جس میں تمہاری بہتری اور بھلائی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو روزہ رکھنا تمہارے ایمان کا تقاضا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارے قلب و باطن کا تزکیہ ہو اور شہوت و غضب کی قوتیں کمزور پڑیں۔ اور روحانی ملکات قوت پکڑیں اور عروج حاصل کریں کہ مومن کی اصل قوت اس کے قلب و باطن کی قوت ہے۔ جس پر دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار ہے۔ اسی لیے تم لوگوں کو روزے کی اس عظیم الشان عبادت سے نوازا گیا ہے۔ تاکہ تمہارا بھلا ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ 494 روزوں کی فرضیت امم سابقہ پر : یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضرت عیسیٰ تک گزرنے والے سب ہی لوگوں پر۔ سو تفصیلات کے اعتبار سے ان میں اگرچہ فرق و اختلاف رہا، مگر روزے کی نفس فرضیت ان سب ہی امتوں اور جملہ لوگوں پر رہی (معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ سو یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے تم ہی لوگوں کو سابقہ پیش آ رہا ہو بلکہ یہ مقدس عبادت ہمیشہ ہی فرض رہی۔ چناچہ حضرت آدم پر ہر مہینے کے تین روزے فرض تھے۔ یعنی ایام بیض کے روزے۔ اور یہود پر " عاشوراء "، " یوم السبت " اور کچھ اور دنوں کے روزے فرض تھے۔ اور نصاریٰ پر رمضان ہی کے روزے فرض تھے۔ اور حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی و منقول ہے کہ عاشوراء اور ہر مہینے کے تین روزے حضرت نوح کے زمانے سے لے کر حضور ﷺ کے زمانے تک مقرر رہے۔ یہاں تک کہ رمضان کے روزوں کے حکم سے ان کی فرضیت منسوخ ہوگئی ( نفس المرجع ) ۔ سو روزے پہلے لوگوں پر بھی فرض رہے ہیں۔ 495 روزے کا مقصد حصول تقویٰ و پرہیزگاری : کہ اس طرح تم دنیا میں اپنے خالق ومالک کی معصیت و نافرمائی سے بچو، اور اس کے نتیجے میں آخرت میں تم اس کی گرفت و پکڑ اور دوزخ کی اس ہولناک آگ سے بچو، جو کہ سب سے زیادہ سخت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو روزہ تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، اور اس میں سراسر تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ اور اس کی خاصیت اور تاثیر یہ ہے کہ اس سے انسان کے اندر تقویٰ و پرہیزگاری کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس سے شہوت و غضب کی ان سرکش قوتوں کا زور ٹوٹتا ہے جو انسان کو بےراہروی پر اکساتی اور لگاتی ہیں۔ سو روزے میں تمہارے لیے اصلاح اور اسعاد کے بڑے سامان پوشیدہ ہیں۔ اور اس میں تم لوگوں کی خیر اور سعادت کے بڑے بڑے راز مضمر ہیں جن کا احاطہ اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالٰی -
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

گنتی کے کچھ دن پھر اس میں بھی یہ رعایت کہ تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا وہ کسی سفر پر ہو تو وہ اتنے ہی دنوں کی گنتی پوری کر کے بعد میں اسی قدر روزے رکھ لے4 اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں اور نہ رکھیں تو ان کے ذمہ فدیہ ہے یعنی ایک مسکین کا کھانا مگر جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو وہ بہرحال خود اسی کے لئے بہتر ہوگی اور تمہارا روزہ رکھنا بہرحال تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

496 روزوں کی فرضیت گنتی کے چند دنوں کیلئے : یعنی صرف ماہ رمضان المبارک کے تیس یا انتیس دن۔ سال کے بارے میں سے گیارہ مہینے تمہیں چھٹی اور آزادی ہے۔ صرف ایک مہینے کے روزے اور اس پر ملنے والی رحمتیں اور برکتیں بےحد و حساب۔ سو کتنی ہی رحمت و عنایت کا سودا ہے یہ جس سے تمہیں تمہارے رب رحمان و رحیم نے اس طرح مشرف و سرفراز فرمایا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ دل و جان سے اس کی قدر کرو اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے زیادہ سے زیادہ مستفید و فیضیاب ہونے کی کوشش کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اور گنتی کے ان دنوں کی تحدید و تعیین میں بھی بڑے اثرات اور خاص حکمتیں ہیں۔ سو یہ دن اگر اس سے زیادہ ہوتے تو تم لوگ مشقت میں پڑجاتے۔ اور اگر اس سے کم رکھے جاتے تو اس سے تم پر وہ اثرات مرتب نہ ہوتے جو اس عبادت مقدسہ سے اصل مقصود ہیں۔ پس تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم لوگ ماہ صیام کی اس عبادت مقدسہ سے متعلق اس حکم و ارشاد کو دل وجان سے اور اس کے آداب اور تقاضوں کے مطابق بجا لاؤ تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ وہو الہادی الی سواء السبیل - 497 روزہ چھوڑنے کے اعذار مبیحہ کا بیان : سو فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی بیمار یا مسافر ہو۔ اور ایسے میں اس کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہو تو اس کو روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے۔ اور پھر بعد میں جب عذر زائل ہوجائے کہ بیماری کی بجائے صحت مل جائے اور سفر کی بجائے حضر و اقامت کی سہولت میسر آجائے تو جتنے دن اس نے افطار کیا تھا اتنے ہی دن کے وہ روزے رکھ لے۔ سو یہ دین حنیف کی رحمتوں کا ایک واضح مظہر ہے۔ پس تم لوگ ان کو دل و جان سے اپناؤ تاکہ خود تمہارا بھلا ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور رب رحمن و رحیم یہی چاہتا ہے کہ اس کے دین کی ان واضح اور مقدس تعلیمات کو اپنا کر اور ان پر عمل پیرا ہو کر تم لوگ اپنی دنیا بھی سنوار سکو، اور آخرت بھی۔ اور اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز اور بہرہ ور ہوسکو، کہ اس طرح تم دنیا کی اس حیات فانی و زائل میں حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی نعمت سے بہرہ ور ہوسکو اور آخرت میں جنت کی سدابہار نعمتوں اور وہاں کی نعیم مقیم سے سرفراز ہوسکو۔ اور یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی ۔ وباللہ التوفیق - 498 روزے کے فدیے کا بیان : پس وہ اگر روزہ نہ رکھے اور اس کی بجائے اس قدر فدیہ دے دے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔ اس کے ذمے روزہ رکھنا ضروری نہیں۔ سو یہ دوسری بڑی سہولت تھی جو کہ روزہ داروں کو دی گئی تھی، لیکن یہ سہولت ابتدا میں تھی۔ بعد میں یہ منسوخ ہوگئی تھی۔ چناچہ حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت عبداللہ بن عمر۔ ؓ ۔ وغیرہ حضرات سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اجازت تھی کہ جو چاہے افطار کرے اور فدیہ دے دے، یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } ۔ " پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کا روزہ رکھے " تو یہ اجازت منسوخ ہوگئی (بخاری، کتاب التفسیر، کتاب الصوم اور مسلم کتاب الصوم) ۔ پس اب بلاعذر کسی کو بھی افطار کی اجازت نہیں۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں کچھ اور بھی احتمال اوراقوال ہیں، جن میں سے ایک جس کو بعض اہل علم نے اپنایا، وہ راقم آثم کو بھی بہت اچھا لگا۔ جسکو ہم نے اپنی مختصر تفسیر یعنی " زبدۃ البیان فی تفسیر القرآن " المعروف مختصر تفسیر المدنی میں بھی ذکر کیا ہے اور انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر یعنی " مجمع البیان فی تفسیر القرآن " المعروف تفسیر المدنی الکبیر میں تفصیل سے ذکر کریں گے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 499 نیکی کا فائدہ نیکی کرنے والے ہی کو : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نیکی اور بھلائی خود کرنے والے ہی کے لئے بہتر ہے۔ پس جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے گا وہ خود اسی کیلئے بہتر ہوگی کہ اس کا صلہ وثمرہ خود اسی کو ملے گا۔ اور یہاں بھی اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ایک کی بجائے وہ کئی مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ یا اس کے علاوہ کوئی بھی نفلی عبادت کرے، یا ایسی کوئی نیکی کرے جو اس کے ذمے لازم نہیں تھی، تو وہ سب اس کے لئے بہتر ہے، کہ اس کا اجر وثواب اسی کو ملے گا۔ ارشاد ربانی کے ان کلمات کریمہ کا عموم ایسے تمام امور کو شامل اور محیط ہے۔ سو اس ارشاد عالی میں رب رحمن ۔ جل و علا ۔ کی طرف سے " تطوع " یعنی نیک عمل اور اس کی تکثیر کیلئے ترغیب وتحریض ہے کہ اس کا جو بھی موقع ملے اس کو غنیمت سمجھ۔ اور اس ضمن میں جتنی کمائی تم سے ہو سکے کرلو کہ یہ سب کچھ خود تم ہی لوگوں کو کام آئے گا دنیا کے اس دار فانی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی جہان کا ہر انعام کامل اور جہاں کی ہر نعمت ابدی و سرمدی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 500 روزہ رکھنا بہرحال بہتر ہے : یعنی اگر تم جانتے ہو روزے پر ملنے والے اجر وثواب کو، اور ان فوائد و مصالح کو جو اس عظیم الشان اور بےمثل عبادت کے اندر مخفی و مضمر ہیں ۔ رَبَّنَا افْتَحْ قُلُوْبَنا لذالک واشْرَحْ صُدُوْرَنَا لَہَا یا اکرم الاکرمین وَیَا اَرْحَمَ الرّاحِمیْن ۔ سو اس ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا کہ روزے کے بدلے میں اگرچہ فدیہ کی اجازت ہے لیکن یہ بہرحال ایک رخصت اور رعایت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر اور پسندیدہ بات یہی ہے کہ آدمی فدیہ کی بجائے روزے ہی رکھے اور عجز و عذر کی صورت میں اپنے ترک شدہ روزوں کی تکمیل اور قصا دوسرے دنوں سے کرے۔ سو روزہ ایک عظیم الشان اور بےنظیر عبادت ہے۔ اسی لئے مشہور حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا کہ " بنی آدم کا ہر عمل کرنے والے ہی کے لئے ہے۔ ہر ایک کو اس کے عمل کا اجرو ثواب دس گنا، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھا کردیا جائے گا سوائے روزے کے کہ یہ خاص میرے لئے ہے اور اس کا اجرو ثواب میں خود ہی دوں گا " " اِلاَّ الصَّوْم فَاِنَّہ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہ " یعنی سوائے روزے کے کہ " وہ خاص میرے ہی لئے اور بندہ میری ہی رضا و خوشنودی کی خاطر کھانا پینا اور اپنی خواہشات کو ترک کرتا ہے " ـ۔ " یَدَعُ طَعَامَہ وَشَرَابَہ وَشَہْوَتَہ مِنْ اَجْلِیْ " ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ سو تمہیں روزے کی اس عظمت شان کا علم ہو تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے کہ یہ ایک عظیم الشان اور بےمثال عبادت ہے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان کا مہینہ وہ عظیم الشان مہینہ ہے جس میں اتارا گیا قرآن حکیم جیسے کلام معجز نظام کو جو کہ سراسر ہدایت ہے لوگوں کے لئے اور جو مشتمل ہے ہدایت کے روشن دلائل اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ٹھوس تعلیمات پر1 پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو اس کے ذمے اتنے ہی دنوں کی گنتی ہے دوسرے دنوں سے اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے وہ تم سے سختی نہیں کرنا چاہتا اور یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تاکہ تم لوگ پورا کرسکو روزوں کی گنتی کو اور تاکہ تم بڑائی بیان کرو اللہ کی اس عظیم الشان کرم واحسان پر کہ اس نے تم کو نوازا ہدایت کی دولت بےمثال سے اور تاکہ تم لوگ شکر بجا لاؤ اس واہب مطلق کا2

501 قرآن حکیم سراسر ہدایت : یعنی یہاں پر " ہادی " نہیں فرمایا جو کہ ہدایت سے مشتق ہے، بلکہ " ھدًی " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ پس عام طور پر جو حضرات مترجمین " ہدی " کا ترجمہ " ہدایت دینے والا " جیسے الفاظ سے کرتے ہیں، وہ اس کا پورا ترجمہ نہیں بنتا، کہ وہ ترجمہ اصل میں " ھادی " کا ہے، جبکہ یہاں " ھدی " مصدر کا کلمہ کریمہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس میں مبالغہ ہے اور مصدر کا مبالغہ کیلئے استعمال کیا جانا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے۔ سو ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ ۔ سو قرآن حکیم ہر پہلو اور ہر اعتبار سے سراسر ہدایت و رحمت ہے ۔ والحمدللہ ۔ بہرکیف قرآن حکیم ایسی عظیم الشان اور بےمثل کتاب ہے جو سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے ہر اس شخص کے لئے جو صدق و اخلاص سے اس کی طرف رجوع کرے اور سچے دل اور طلب صادق کے ساتھ اپنا دامن اس کے آگے پھیلائے ـ۔ وباللہ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سو جو لوگ قرآن کی ہدایت سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 502 تکرار حکم برائے افادہ خاص : اس کو مکرر طور پر اس لئے بیان فرمایا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ منسوخی کے حکم کا تعلق صرف فدیہ کے امر سے ہے۔ مریض اور مسافر کیلئے افطار و قضاء کی اجازت و رعایت منسوخ نہیں ہوئی (معارف القرآن للکاندہلوی، (رح) المراغی، الصفوۃ، المحاسن وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو کوئی صحت اور اقامت و حضر کی حالت میں اس مہینے کو پائے، وہ اس کے پورے کے پورے روزے رکھے۔ اور جس کے بیماری یا سفر کی بناء پر کچھ روزے بامر مجبوری رہ گئے ہوں تو وہ ان کی تکمیل دوسرے دنوں سے کرلے، تاکہ وہ ان خیرات و برکات سے فیضیاب اور مالا مال ہوسکے جو اس ماہ مبارک کے ان ایام محدود سے وابستہ ہیں جو کہ عظیم الشان خیرات و برکات ہیں۔ 503 اللہ اپنے بندوں سے نرمی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں کرنا چاہتا : کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان، نہایت ہی شفیق اور انتہائی کریم ہے۔ اور اس کی صفات میں سے صفت " رؤوف " اور " ودود " اور " رحمان " و " رحیم " وغیرہ کا یہی تقاضا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کا عطا فرمودہ یہ دین حنیف رحمتوں، عنایتوں، اور آسانیوں سے معمور و بھرپور ہے۔ مثلًا نبئ رحمت کا یہ مشہور ارشاد جو کہ حضرت انس ؓ وغیرہ سے مروی ہے اس کا ایک واضح مظہر ہے " یَسِّرُوْا وَلا تُعَسِّرُوْا وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا " اور یہ ایک بڑا اہم اور جامع ارشاد ہے، جس میں تیسیر وتبشیر کا حکم دیا گیا ہے اور تعسیر و تنفیر سے منع فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ سفر اور بیماری کی حالت میں جو تم لوگوں کو روزے ملتوی کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تو وہ اس لیے دی گئی ہے کہ اللہ تمہارے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ تمہیں کسی تنگی اور مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا کہ وہ رب رحمان تم لوگوں پر بڑا ہی مہربان اور شفیق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 504 روزوں کی گنتی پوری کرنے کا حکم : اور اس طرح تم روزوں کی برکات سے بھرپور طور پر فیضیاب ومالا مال ہو سکو، اور بیماری اور سفر وغیرہ کے عذر کے سبب جو روزے تم سے رہ گئے تھے ان کو بعد میں پورا کرلو، تاکہ اس طرح تم روزوں کی گنتی پوری کرکے ان فوائد و منافع اور خیرات و برکات سے بہرہ ور ہوسکو، جو قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے ان میں ودیعت فرما رکھے ہیں۔ سو فدیہ کی اجازت اس لیے منسوخ کی گئی ہے کہ تاکہ تم لوگ ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی تعداد پوری کرو، اور ان خیرات و برکات سے محروم نہ رہو جو اس خالق ومالک نے ان مبارک دنوں کے اندر ودیعت فرما رکھی ہیں۔ سو اصل مقصود ان احکام سے خود تم ہی لوگوں کا بھلا اور تمہارا ہی فائدہ ہے۔ 505 نعمت ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی تعلیم و تلقین : جو کہ تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ اور جو ایسی عظیم الشان اور بےمثل نعمت ہے، جس کا کوئی بدل ممکن نہیں۔ پس تم اس کی اس عظیم الشان نعمت پر اس کا شکر ادا کرنے کیلئے اس کی بڑائی بیان کرو۔ سو اللہ پاک کی عظمت و بڑائی کا بیان کرنا دین حنیف کی ایک اہم اور امتیازی تعلیم ہے۔ اسی لیے مومن اپنی اذان میں، اپنی اقامت میں، اپنی نمازوں میں، اپنے حج وعمرہ کی عبادات میں، اور اپنی نمازوں اور عیدوں کے بعد اپنے رب کی عظمت وکبریائی اور اس کی بڑائی کا اعلان و اظہار کرتا ہے اور اس سے رطب اللسان ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنی دنیا اور عقبیٰ دونوں کو سنوارتا ہے۔ سو یہاں پر تکبیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کی جلالت قدر اور اس کی بزرگی و بڑائی کے احساس و اعتراف کی وہ خاص حالت اور کیفیت ہے، جو ایک روزے دار پر روزے کی حالت میں عملاً طاری ہوتی ہے، جس کی بنا پر بندہ مومن محض اپنے رب کی رضا اور اس کی خوشنودی کیلئے کھانے پینے سمیت تمام خواہشات کو ترک کردیتا ہے۔ سو نعمت ہدایت ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ اس لیے اس پر صدق دل سے شکر ادا کرنا چاہیے۔ 506 شکر نعمت اور اس کا صلہ وثمرہ : سو تم شکر بجا لاؤ اسکا اس کی ان عظیم الشان نعمتوں اور عنایتوں پر، جن سے اس نے تم لوگوں کو طرح طرح سے نوازا ہے۔ اور شکر نعمت سے نعمت بڑھتی اور محفوظ رہتی ہے۔ اور اس میں برکت نصیب ہوتی ہے۔ پس اس طرح تم لوگ اس کی مزید از مزید عنایات سے سرفراز ہوسکو گے۔ پس اس واہب مطلق کا شکر ادا کرنے میں خود تمہارا ہی بھلا ہے۔ سو شکر نعمت بذات خود ایک عظیم الشان نعمت ہے کہ اس سے ایک طرف تو وہ واجب شکر ادا ہوتا ہے جو کہ حضرت واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کا بندہ ہونے کے اعتبار سے انسان پر واجب ہوتا ہے، اور دوسری طرف اس سے اس کو ان طرح طرح کی خیرات و برکات سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے جو کہ ادائے شکر سے وابستہ ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو شکر نعمت بذات خود ایک عظیم الشان نعمت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ پر ڈالتی ہے ۔ وباللہ التوفیق -