Ayah 2:37115 آدم کے کلمات توبہ سے مراد ؟ : سو حضرت آدم کو کلمات توبہ کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی تاکہ وہ انکے ذریعے رب کی طرف رجوع کرسکیں، سو یہ اس وحدہ لا شریک نے اپنی شان کرم اور اپنی اس رحمت و عنایت کی بناء پر جو کہ اس کو اپنے بندوں سے ہے، حضرت آدم کو القاء والہام فرمادیئے تھے، تاکہ حضرت آدم ان پاکیزہ کلمات کے ذریعے اس کے حضور توبہ اور معافی کی درخواست پیش کرسکیں، چناچہ آدم نے ایسے ہی کیا، جس پر رحمت خداوندی نے ان کو پھر اپنی آغوش میں لے لیا، جیسا کہ { َتَابَ عَلَیْہ } کی تصریح سے ظاہر ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ وہ کلمات کونسے اور کیا تھے ؟ تو سورة اعراف کی تیئسویں آیت کریمہ میں خود حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ان کو بیان فرما دیا گیا ہے، کہ وہ { رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا } الخ کے دعائیہ کلمات تھے۔ جمہور علماء و مفسرین کرام کا قول یہی ہے، جیسے مجاہد، سعید بن جبیر، ابوالعالیہ، ربیع ابن انس اور قتادہ، وغیرہ۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیرابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، اور صفوۃ البیان، وغیرہ) ۔ اسی لئے علامہ رشید رضا مرحوم نے جزم و یقین کے ساتھ اسی قول کو اختیار کیا ہے، ملاحظہ ہو تفسیرالمنار) ۔ اس ذیل میں بعض تفاسیر میں جو بعض دوسری دعاؤں کا ذکر آتا ہے، تو وہ محض تکمیل و تذییل کا درجہ رکھتی ہیں، جن کو اس دعاء کے ساتھ شامل کیا جاسکتا ہے، ورنہ اصل دعا یہی ہے۔ اس ضمن میں مستدرک حاکم کے حوالے سے جو روایت " یَارَبّ اَسْاَلُکَ بِحَقّ مُحَمَّد ٍ " کے الفاظ کے ساتھ بعض کتابوں میں وارد و مذکور ہوئی ہے، اور اہل بدعت نے اپنی طبعی افتاد کے مطابق اسی کو یہاں پر مدار قرار دیا ہے، تو وہ روایت محققین کے نزدیک ضعیف اور واہی روایت ہے۔ بلکہ جرح و تعدیل کے مشہور و معروف اور مسلم امام، امام ذہبی (رح) نے اس کو موضوع قرار دیا ہے " قُلْتُ بَلْ مُوْضُوْعٌ " تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " قَاٍعِدَۃٌ جَلِیْلَۃٌ فِی التَّوَسُّل وَ الْوَسِیْلَۃ " لشیخ الاسلام ابن تیمّیہ (رح) ۔ سو کلمات توبہ سے مراد وہی کلمات ہیں جن کا ذکر سورؤ اعراف میں فرمایا گیا ہے۔
116 آدم کی توبہ کی قبولیت کا بیان : اور اس طرح خصوصی رحمت و عنایت کا جو سلسلہ آپکی لغزش کی بنا پر آپ سے کٹ گیا تھا، وہ دوبارہ بحال فرما دیا گیا، کیونکہ توبہ کے معنی ہی لوٹنے اور واپس ہوجانے کے ہیں۔ سو بندہ جب اپنے کئے پر نادم ہو کر اپنے رب کے حضور معافی مانگنے کے لئے سچے دل سے لوٹتا اور رجوع کرتا ہے، تو اس کا رب کریم بھی اپنی رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت کی بناء پر اس پر پھر رجوع فرما لیتا ہے، اور اس کو دوبارہ اپنی رحمت کے آغوش میں لے لیتا ہے، کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو توبہ کا دروازہ ایک عظیم الشان دروازہ ہے جسکے ذریعے بندہ اپنے رب کے حضور رجوع کرتا ہے، اور اپنے گناہوں کی معافی اور اپنے رب کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف و سرفراز ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ یہاں تک کہ وہ گناہوں کی میل سے پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا " اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْب کَمَنْ لا ذَنْبَ لَہ " ۔ سو توبہ و استغفار قدرت کی طرف سے بندوں کے لیے ایک عظیم الشان عطیہ و احسان ہے گناہوں کی میل کے ازالے کے لیے۔ ورنہ ہم جیسے گنہگار انسان کیا کرتے ۔ فاستغفر اللہ الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ ۔
117 اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے : اتنا بڑا توبہ قبول کرنے والا کہ زندگی بھر کے گناہوں کی میل سچی توبہ سے اسطرح مٹا دیتا ہے کہ گو یا اس تائب صادق نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں تھا۔ جیسا کہ ارشاد نبوی میں فرمایا گیا : " التَّائِبُ مِنْ الذَّنْب کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ " اگرچہ گنہگار کے گناہوں کے انبار آسمان کی بلندیوں کو ہی کیوں نہ چھور ہے ہوں، جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی صحیح احادیث میں وارد ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سچی توبہ اور ایمان و عمل صالح کے نتیجے میں وہ گناہوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل فرما دیتا ہے جیسا کہ سورة فرقان کی سترویں آیت کریمہ میں اس کا صریح ذکرو اعلان فرما دیا گیا ہے۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے اس کی شان کرم اور رحمت بےنہایت کے ۔ جلَّ جَلَا لُہَ وَ عّم نوالہ ۔ مگر توبہ کی اس عظمت شان اور بخشش و مغفرت کے اس اعلان و فرمان کے بارے میں یہ بات بھی واضح رہے کہ اس میں دو بنیادی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ وہ شخص شرک اور اس کے شوائب سے پاک اور بری ہو، کیونکہ احادیث شریفہ میں " لایشرک بی شیئا "، " وہ میرے ساتھ شرک نہ کرتا ہو " کی تصریح اس ضمن میں موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ توبہ صحیح معنوں میں اور سچی اور حقیقی توبہ ہو، جس کو " توبہ نصوح " بھی فرمایا گیا ہے۔ محض توبہ کی ظاہری شکل یا کچھ رٹے رٹائے الفاظ کا بےسوچے سمجھے ورد و تکرار کافی نہیں اور محض ایسا کرنے سے، یہ مقصد عظیم حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور سچی توبہ کے بنیادی طور پر چار ارکان ہیں۔ اول ندامت، کہ انسان اپنے کئے پر سچے دل سے نادم اور شرمندہ ہو، کہ میں نے ایسے کیوں کیا ؟ دوم یہ کہ وہ اس گناہ کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ اور کنارہ کش ہوجائے، یہ نہیں کہ گناہ کی میل میں تو اسی طرح ملوث رہے اور زبان سے میری توبہ، میری توبہ یا رب، کی رٹ لگائے جا رہا ہو، اور تیسرے یہ کہ دل سے یہ پکا اور پختہ عزم و ارادہ کرے کہ آئندہ یہ کام نہیں کرونگا، اور دلوں اور نیتوں کا معاملہ چونکہ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا، اس لئے وہاں محض ظاہرداری سے کام نہیں چلے گا، بلکہ دلوں کا معاملہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ صحیح رکھا جائے اور صدق دل سے توبہ کی جائے، اور توبہ کی چوتھی شرط یا چوتھا رکن یہ ہے کہ اس کے ذمے جو حقوق واجب الاد ہوں، ان کو وہ پورا پورا ادا کر دے، کہ دین اصل میں نام ہی ادائیگی حقوق کی تعلیم کا ہے۔ سو ان آداب و شرائط کی اس طرح رعایت کے ساتھ جو توبہ کی جائے گی، وہ انشاء اللہ سچی توبہ ہوگی، اور اس کی قبولیت کی حضرت حق جل مجدہ کی رحمت سے بھر پور امید رکھنی چاہیئے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ میرے تمام صغیرہ و کبیرہ اور ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو معاف فرما دے۔ آمین۔
118 اللہ بڑا ہی مہربان ہے : یعنی وہ صرف گناہوں ہی کو معاف نہیں فرماتا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے بھی نوازتا ہے، کیونکہ وہ " توّاب " کے ساتھ ساتھ " رحیم " بھی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ایسا رحیم کہ اس کی رحمتوں کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ سو کس قدر محروم اور بدنصیب ہیں، وہ لوگ جو اس بےنہایت رحمتوں والے خداوند قدوس سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اس لیے بندے کا کام اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع رہے، اپنی کوتاہیوں اور تقصیرات سے اپنے رب غفور و تواب سے معافی بھی مانگتا رہے، اور اس سے اس کی رحمت و عنایت کی دعاء و درخواست بھی کرتا رہے۔ سو بندوں کے لئے صحت و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ رہیں اور اس سے رحمت و عنایت کی دعاء و درخواست کرتے رہیں۔ اور اس سے اس کی رحمت ہی کی امید رکھیں کہ اس کا کام اور اس کی شان ہی نوازنا اور رحمت فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فاغفرلی وارحمنی یا ارحم الراحمین۔
Ayah 2:38119 بندوں کیلئے ہدایت کا وعدہ و اعلان : یعنی ایسی ہدایت جو میرے انبیاء ورسل کے واسطے سے تم لوگوں تک پہنچے، جس کا انتظام تمہاری بہتری و بھلائی اور رہنمائی کے لئے بہرحال کیا جائے گا، کیونکہ اپنے بندوں کیلئے راہ حق و ہدایت کو واضح کرنے کا ذمہ ہم نے خود لے رکھا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدَی وَ اِنَّ لَنَا لَلآخِرَۃَ وَالاوْلَی } ۔ (اللیل : 12- 13) اور ہدایت خداوندی کا نور ہی وہ نور ہے جو انسان کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرتا ہے، اور اس کے بغیر انسان کیلئے اندھیرا ہی اندھیرا اور محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ہدایت کی ضرورت انسان کو کھانے پینے کی ظاہری اور جسمانی ضرورتوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب اس قادر مطلق نے انسان کی جسمانی اور ظاہری ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا تو یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی روحانی اور معنوی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ہدایت کا انتظام نہ فرماتا۔ سو اس رب رحمن و رحیم نے اس کا بتمام و کمال انتظام فرمایا ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔
120 ھدی و ھوی کے دو راستوں کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے سامنے " ھدٰی " اور " ھویٰ " کے دو راستے : سو حق اور ھدی کی پیروی کرنے والوں کے لئے خوف و اندیشہ، اور حزن وملال سے دوچار نہ ہونے کی یہ عظیم الشان خوشبخری عام اور مطلق ہے، کسی خاص وقت یا خاص مرحلے کی تقیید و تحدید کا کوئی ذکر اس میں نہیں۔ پس یہ اپنے عموم و اطلاق پر ہے، اور اہل حق مراتب و درجات کے تفاوت کے ساتھ اس سے ہمیشہ ہی سرشار و شاد کام رہتے ہیں، اور رہیں گے، کیونکہ خوف و اندیشہ جو آئندہ کے بارے میں ہوتا ہے، کہ ایسے ہوجائے اور ایسے نہ ہوجائے وغیرہ۔ تو مومن صادق اپنے ایمان و یقین کی قوت کی بنا پر اس سے محفوظ ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس ایمان و یقین سے سرشار ہوتا ہے کہ جو ہونا ہے وہ بہرحال ہو کر ہی رہے گا، تو کسی اور سے ڈرنے اور اندیشہ رکھنے کی نہ ضرورت ہے، نہ کوئی وجہ، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرو، اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور دوسری طرف وہ اپنے اس عقیدہ و ایمان کی بنا پر ہمیشہ مطمئن رہتا ہے، کہ میرا رب چونکہ رحمن و رحیم ہے، لہذا وہ میرے لئے جو بھی کچھ کرے گا، اس میں میری بہتری اور بھلائی ہی ہوگی، خواہ مجھے سمجھ آئے یا نہ آئے، کیونکہ وہ پوری طرح جانتا بھی ہے، اور سنتا دیکھتا بھی۔ پس میرا تعلق اس وحدہ لاشریک کے ساتھ صحیح اور مضبوط رہنا چاہیئے، سو اپنے اس ایمان و یقین کی بنا پر، مومن صادق مصائب میں مبتلا ہونے کے دوران بھی، مطمئن اور خوش باش رہے گا، اور اس طرح اجر وثواب کی جو دولت وہ جمع کرتا جاتا ہے، وہ اس کے علاوہ ہوتی ہے۔ سبحان اللہ ! کیا دولت ہے عقیدہ و ایمان صادق کی یہ دولت جو انسان کو مصائب و مشکلات کے بھنور میں بھی ہنستا مسکراتا بنا دیتی ہے، جبکہ اس سے محروم انسان دنیا کی ظاہری اور مادی نعمتوں کی ہر طرح کی فراوانی و بھرمار اور جملہ آسائشوں کے باوجود، امن و سکون کی نعمت سے محروم اور دل کی گھٹن اور تنگی کا شکار رہتا ہے، جسکے لئے وہ طرح طرح کے مصنوعی ذرائع و وسائل کا سہارا لیتا ہے۔ پھر مومن صادق دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی اندیشہ مستقبل اور غم ماضی کے بارگراں سے سبکسار، لذت ایمان سے سرشار اسطرح رخصت ہوتا ہے کہ " چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست " کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے، کیونکہ ماضی کے بارے میں اس کو یہ افسوس نہیں ہوتا کہ میں نے متاع زندگی کو بےراہ روی میں گزارا بلکہ وہ مسرور اور مطمئن ہوتا ہے کہ مجھے زندگی میں متاع ھدیٰ کی اِتّباع کی سعادت حاصل رہی جس کے ثمرات سے میرا رب مجھے اب پوری طرح نوازیگا، اور ملائکہ رحمت زندگی کے اس پورے سفر کے دوران ایسے خوش نصیبوں کو { اَلاَّ تَخَافُوْا وَلا تَحْزَنُوْا } کی کیف آور لوریاں دیتے رہیں گے، اور پھر خوف و اندیشیہ اور حزن و ملال سے محفوظ رہنے کی اس عظیم الشان خوش خبری کا اصلی ظہور ان کے حق میں آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں ہوگا جہاں ہر انسان کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بلا کم وکاست پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا، اور وہ وہاں پر اس سب سے بڑی گھبراہٹ یعنی " فَزع اکبر " کی ہولنا کیوں سے بھی محفوظ رہیں گے، جس نے ابناء کفر و ضلال کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللہ العظیم ۔ اور اللہ پاک کے نوری فرشتے بڑھ بڑھ کر ان کا استقبال کرتے، ان کو سلام پیش کرتے، اور ان کو خوشخبریاں دے رہے ہوں گے، جیسا کہ سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا گیا، { لاَیَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الاَکْبَرُ وَتَتَلَقّٰہُمُ الْمَلٓئِکَۃُ ہٰٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدوْنَ } (الانبیاء : 103) ۔ یعنی " ان کو (قیامت کے دن کی) وہ سب سے بڑی گھبراہٹ بھی پریشان نہیں کرسکے گی، اور فرشتے وہاں بڑھ بڑھ کر ان کو لے رہے ہوں گے (اور ان کے سرور کو دوبالا کرنے کے لئے ان سے کہا جارہا ہوگا کہ) یہی ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " اور جیسا کہ سورة نمل میں فرمایا گیا ہے کہ " وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہو نگے " { وَہُمْ مِنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ } (نمل : 89) اسطرح ان خوش نصیب بندگان خدا کے حق میں اندیشہ و خوف اور حزن و ملال سے محفوظ رہنے کی اس عظیم الشان خوشبخری کا کامل ظہور آخرت میں اس روز ہوگا، جو کہ کشف حقائق، ظہور نتائج اور مشاہدئہ غیوب کا دن ہوگا۔ وہاں اگر ان کو کوئی غم اور افسوس کسی درجہ میں ہوگا بھی تو وہ صرف اس بات کا ہوگا کہ انہوں نے اس یوم عظیم کے لیے اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ کمائی کیوں نہ کی۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں حضرت نبی معصوم ۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) سے۔ اسطرح وارد و منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
Ayah 2:39121 اِتّباع ہوی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ھوی کے راستے کو اپنانے کا نتیجہ و انجام، دوزخ کا ہمیشہ کا عذاب اور ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے بدبختوں کو اپنے کفر و انکار اور تکذیب و اعراض کے نتیجے میں اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس معلوم ہوا کہ حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمِ ۔ اور حق سے سرفرازی حقیقی کامیابی اور فائز المرامی کی شاہ کلید ہے۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ راستے دو ہی ہیں ایک اتباع ہدی یعنی حق و ہدایت کی پیروی کا راستہ، جو کہ سراسر خیر، سلامتی، اور حقیقی و ابدی کامیابی کا راستہ ہے، اور دوسرا اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ، جو کہ تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے، مگر افسوس کہ اس کے باوجود دنیا کی عظیم اکثریت اور خاص کر مغرب و مشرق کی مادہ پرست اور دنیوی ترقی کے گھمنڈ سے مخمور اکثریت آج ہلاکت و تباہی کے اسی راستے پر چلی جا رہی ہے، اور اس ضمن میں حق و صداقت کی کوئی آواز ان کے دل و دماغ تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اس سے بالکل بند اور مقفل کر رکھا ہے، اور ان کی زندگی کی گاڑی صرف اسی محور پر گھوم رہی ہے کہ نفس کی خواہش کی تکمیل کس طرح کی جائے اور بس۔ جو کہ تمام خرابیوں سے بڑی خرابی اور تمام فتنوں اور مہالک کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمَ -
Ayahs 2:40–41122 اسرائیل کا معنیٰ اور اس لفظ سے خطاب کرنے کی وجہ ؟ : اسرائیل دراصل عبرانی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی عبداللہ کے آتے ہیں، یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے اور یعقوب کی بجائے اس نام کے ذریعے خطاب کرکے دراصل بنی اسرائیل کو اس عقیدئہ توحید کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے، جس کی دعوت حضرت یعقوب زندگی بھر دیتے رہے، مگر بنی اسرائیل نے بعد میں طرح طرح کی شرکیہ آمیزشوں سے بگاڑ کر اسے کچھ کا کچھ بنادیا تھا۔ اور اسطرح عقیدئہ توحید کی اس اصل اساس و بنیاد ہی کو ان لوگوں نے بدل کر رکھ دیا تھا جس پر دین کی پوری عمارت کا مدارو انحصار ہے، اور اس طرح ان ناہنجاروں نے دین توحید کو دین شرک بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ " ہوس دنیا " اور " صاحبزادگی " کے مرض کے نتائج اسی طرح کے گل کھلاتے ہیں۔ اس طرح اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑا درس عبرت و بصیرت ہے جنہوں نے آج اپنے دنیوی مفادات، وقتی فائدوں، اور گدی نشینیوں وغیرہ کے کاروبار کے لئے دین میں طرح طرح کی بدعات و خرافات کا بازار گرم کر رکھا ہے جس سے یہ لوگ دنیا کو راہ حق سے ورغلاتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمَ-
123 تذکیر نعمت برائے شکر نعمت کا درس : سو اس طرح تم لوگ میرے ان طرح طرح کے احسانات اور قسما قسم کی نعمتوں کو یاد کرو، جن سے میں نے تمہیں نوازا، تاکہ اسطرح تم اپنے منعم کا حق پہچان کر، راہ راست کو اپنا سکو، اور خود اپنے بھلے کا سامان کرسکو، اور اس شکر نعمت کے تقاضے کے طور پر تم میرے بھیجے ہوئے آخری پیغمبر محمد ﷺ پر ایمان لاؤ، جس کا سراپا تم لوگ اپنی کتابوں میں لکھا پاتے ہو، سو نعمت کی تذکیر و یاددہانی اس اعتبار سے ایک اہم مطلوب ہے کہ اس سے شکر نعمت کی تحریک ہوتی ہے، اور شکر نعمت بذات خود ایک عظیم نعمت ہے کہ اس نعمت سے اضافہ بھی نصیب ہوتا ہے اور برکت بھی ملتی ہے، اور نعمت کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کفران نعمت محرومی اور زوال نعمت کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ ارشاد ہوتا ہے : ۔ { اذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید } ۔ ( ابراہیم : ) ۔
124 اللہ ہی سے ڈرنے کا درس : کہ وہی خالق ومالک اسکا اصل حقدار ہے، اس لیے فرمایا گیا کہ تم مجھ ہی سے ڈرو کہ میں ہی اس قابل ہوں اور میرے ہی قبضہء قدرت و اختیار میں ہر شئی کی زمام ہے { ہُوَ أَہْلُ التَّقْوٰی وَاَہْلُ الْمَغْفِرَۃ ِ }، جسکو میں دینا چاہوں اس کو کوئی روک نہیں سکتا، اور جسکو میں محروم کردوں اس کو کوئی دلوا نہیں سکتا، تو پھر تم لوگ خواہ مخواہ کے مخاوف میں مبتلاء ہو کر اوروں سے کیوں ڈرتے اور حق سے کیوں منہ موڑتے ہو ؟ سو تقوی و پرہیزگاری بھی اسی سے ہونی چاہیئے کہ اسکا اہل اور حقدار بھی وہی ہے، اور مغفرت و بخشش کا سوال بھی اسی سے کرنا چاہیئے، کہ اسکا اہل اور حقدار بھی وہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فایاہ نسأل التوفیق لذالک والسداد والثبات علیہ ۔ سو جب ہر قسم کا نفع و نقصان اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے تو پھر کسی اور سے ڈرنے کا معنیٰ و مطلب ہی کیا ؟ اسی لیے یہاں پر حصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وایای فارہبون } ۔ کہ " تم لوگ خاص مجھ ہی سے ڈرو "۔
Ayah 2:42129 کتمان حق سے ممانعت : ۔ بوجھ کر حق کو چھپانے کے ہولناک جرم سے ممانعت : سو جان بوجھ کر حق کو چھپانے کا جرم ایک ہولناک جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ جان بوجھ کر حق کو چھپانا اور حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور گڈ مڈ کرنا، دو ہرا جرم ہے، کہ اس میں اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی حق سے محروم کرنا ہے۔ (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ یعنی حق کو مت چھپاؤ اس حال میں کہ تم جانتے ہو کہ یہ حق ہے اور یہ باطل۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا بڑا سنگین جرم ہے کہ ایسے میں کتمان حق یعنی حق کو چھپانا اور بھی سنگین جرم بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تم لوگ حضرت خاتم الانبیائ ﷺ سے متعلق ان نعوت اور صفات کو مت چھپاؤ جن سے تم واقف و آگاہ ہو، اور جو ان سے متعلق تمہاری کتابوں میں موجود ہیں، (صفوۃ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ کہ اس طرح کر کے تم لوگ نور حق سے محروم ہونے اور محروم کرنے کے دوہرے جرم کے مرتکب ہوؤ گے جس کا انجام نہایت برا اور انتہائی ہولناک اور سنگین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:43130 زکوٰۃ بطیب خاطر ادا کرنے کی ہدایت : کیونکہ " ایتاء " کا استعمال بطبب خاطر دینے ہی کے لئے ہوتا ہے، جیسا کہ " اتیان " بطبب خاطر آنے کے لئے۔ پس زکوٰۃ کی ادائیگی اپنے مالک کا حق سمجھ کر، اور اپنی بہتری و بھلائی کا ذریعہ جان کر بطبب خاطر کرو، نہ کہ بوجھ سمجھ کر ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْمِ ۔ سو زکوٰۃ کی ادائیگی ایک عظیم الشان عبادت وسعادت ہے کہ اس سے ایک طرف تو اس خالق ومالک کا حق ادا ہوتا ہے جس نے مال و دولت کی ان تمام نعمتوں سے نوازا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے نتیجے میں اس کی رضاء و خوشنودی حاصل ہوتی ہے، اور دوسری طرف اس سے اپنے باطن کا تزکیہ اور اس کی صفائی ہوتی ہے، اور تیسری طرف اس سے ضرورتمندوں کی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے، معاشرے کی اصلاح اور بہتری ہوتی ہے، اور انسان کو ضرورت مندوں کی دعائیں ملتی اور اس طرح ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے، سو عبادت اور خاص کر نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اسی لیے قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر ان دونوں کا ایک ساتھ حکم دیا گیا ہے۔
131 رب کے حضور جھکنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جھک جاؤ تم اپنے خالق ومالک کے حضور۔ سو اپنے خالق ومالک کے حضور دل و جان سے جھک جانے کی ہدایت ایک عظیم الشان ہدایت ہے، کہ وہی معبود برحق اس کا حقدار ہے کہ اس کے آگے جھکا جائے اور بس۔ اس کے سوا اور کسی کے بھی آگے جھکنا درست نہیں، اور اس کے سوا کسی اور کے آگے جھکنا انسان کی حد درجہ تذلیل ہے، وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْم مگر افسوس کہ اس کے باوجود آج کتنے ہی ایمان و توحید کے دعویدار کلمہ گو ایسے ہیں جو یہاں اور وہاں، جگہ جگہ، اور طرح طرح کی چیزوں کے آگے جھکتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی تذلیل اور خداوند تعالیٰ کے غضب کا سامان کرتے ہیں، وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْم بہرکیف جھکنا یعنی رکوع و سجود جو کہ نہایت عاجزی اور فروتنی کے مظہر ہیں، یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے جو کہ سب کا خالق ومالک اور معبود حقیقی و برحق ہے، سبحانہ و تعالیٰ اس کے حضور جھکنا اور اس کی رضاء کیلئے رکوع و سجود بجا لانا اس کے بندوں کے ذمے اسکا حق بھی ہے، اور اسی میں اس کے بندوں کی عظمت شان اور سعادت دارین کا سامان بھی، کہ یہ رب کی رضاء و خوشنودی کے حصول اور اس کی نصرت و امداد سے سرفرازی کا سب سے اہم اور بنیادی ذریعہ ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ کے بارے میں وارد و منقول ہے کہ جب آپ ﷺ کو کوئی مشکل پیش آتی تو آپ ﷺ نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے۔
Ayah 2:44132 اپنی فکر سب سے پہلے کرنے کی ضرورت : ۔ سو اس ارشاد سے دوسروں کو ہدایت کرنے اور خود اپنے آپ کو بھول جانے کی مہلک روش سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ دوسروں کو تو احکام تورات پر عمل کرنے کی تعلیم دیتے ہو مگر خود ایسا نہیں کرتے۔ یہ خطاب علماء یہود سے ہے۔ (تفسیر کبیر، وغیرہ) مزید یہ کہ جب مشرکین مکہ اور یہود کے اہلِِ ایمان اپنے ان پیشواؤں سے اسلام کی حقانیت اور صداقت کے بارے میں پوچھتے تو وہ ان سے کہتے کہ بیشک یہ وہی نبی ہیں جن سے متعلق پیشگوئیاں ہماری کتابوں میں آئی ہیں، اور یہ وہی آخری پیغمبر اور آخری دین ہے، جس کی ہمیں انتظار تھی، لہذا تم ان پر ایمان لے آؤ مگر خود ایمان نہیں لاتے تھے اس خوف سے کہ اسطرح ان کے دنیاوی مفادات متاثر ہوجائیں گے، اور نذرانے بند ہوجائیں گے، اس پر ان کو اس خطاب سے تنبیہ فرمائی جار ہی ہے، کہ جان بوجھ کر " دیگراں را نصیحت اور خود میاں فضیحت " والا، معاملہ اپنانا کس قدر تعجب خیز اور افسوسناک ہے، (کبیر، مدارک اور قرطبی وغیرہ) ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر تم خود عمل نہیں کرتے تو دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین و تبلیغ کرنا بھی چھوڑ دو ، جیسا کہ بعض لوگ کہتے اور سمجھتے ہیں کیونکہ اسطرح تو تبلیغ کا کام ہی بند ہوجائے گا، کیونکہ ایسا کون ہوگا جو ہر حکم پر خود پوری طرح اور کما حقہ عمل کرتا ہو، سو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو نیکی کا حکم دینے سے پہلے خود بھی عمل کرو۔ چناچہ حضرت سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ " اسطرح تو تبلیغ کا کام ہی ختم ہوجائے گا " اور حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ " شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ لوگ اس طرح کے غلط خیالات میں پڑ کر فریضہء تبلیغ ہی چھوڑ دیں "، پس آیت کریمہ کا اصل مطلب یہ ہے کہ واعظ اور ناصح کو یہ نہیں کرنا چاہیئے کہ دوسروں کو تو حق کی تبلیغ و تلقین کرے، اور خود اس سے محروم رہے، کہ اس میں اس کا اپنا ہی خسارہ ہے بلکہ اس کو پہلے خود اس کا نمونہ بننا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اپنی فکر سب سے پہلے کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔
133 بےعمل علماء وعاظ کو تنبیہ و تذکیر : سو اسمیں ایسے عالموں اور واعظوں کی مذمت موجود ہے جو خود عمل نہیں کرتے، یعنی جب تم لوگ خود کتاب پڑھتے ہو تو پھر بھی تمہارا عمل و کردار یہ ہے، آخر کیوں ؟ سو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تم لوگوں کا خود اپنی کتاب پر بھی ایمان و یقین نہیں ورنہ تمہارا حال یہ نہ ہوتا، سو اس میں ان بےعمل علماء و وعاظ کو تنبیہ و تذکیر ہے جو دوسروں کو تو وعظ و نصیحت کرتے ہیں مگر اس پر خود عمل نہیں کرتے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے لوگ وعظ ہی چھوڑ دیں۔ نہیں بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنی بےعملی کو ترک کرکے سچے عمل و کردار کا نمونہ پیش کریں تاکہ دوسروں پر ان کی بات کا اثر ہو اور وہ ان کے اسوہ اور قدوہ پر عمل کریں اور ان کے لئے دوہرے اجر وثواب کا باعث بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یجب و یریدہ وہو الہادی الی سواء السبیل ۔
134 عقل سے صحیح طور پر کام لینے کی تعلیم و تلقین ؟ : کہ اس طرح حق و ہدایت سے منہ موڑتے ہو، حالانکہ نور حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور تم لوگ جانتے بوجھتے حق سے محروم رہتے ہو، حالانکہ حق سے محرومی درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے، تو تم کیسے لوگ ہو جو جانتے بوجھتے اتنے بڑے نقصان کو اپناتے ہو، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہود اپنے رشتہ داروں سے کہتے کہ تم محمد پر ایمان لے آؤ کہ وہی پیغمبر آخر الزمان ہیں جن کے بارے میں پیشینگوئیاں ہماری کتابوں میں پائی جاتی ہیں، مگر وہ خود ایمان نہیں لاتے تھے، تو اس پر ان لوگوں کو اس ارشاد ربانی میں جھنجھوڑا جارہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ عالم با عمل کی مثال اس شمع کی سی ہے جو دوسروں کو تو فائدہ پہنچاتی ہے مگر خود جلتی جاتی ہے۔ (المراغی، المعارف، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور صحیحین وغیرہ میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی، پھر وہ انکے گرد ایسے پھرے گا جیسا کہ گدھا چکی کے گرد پھرتا ہے، تو اہل جنت اس کے پاس اکٹھے ہوجائیں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں کیا تو وہی شخص نہیں ہے جو ہمیں نیکی کی تعلیم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا ؟ اس پر وہ کہے گا ہاں میں وہی شخص ہوں لیکن میرا حال یہ تھا کہ میں تم لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتا تھا مگر خود نیکی نہیں کرتا تھا، اور تم کو برائی سے روکتا تھا لیکن خود برائی کرتا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو راہ حق سے منہ موڑنا اور ـاعراض و روگردانی سے کام لینا اور نور حق و ہدایت سے محروم رہنا ہر خیر سے محرومی اور خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال -
Ayah 2:45135 مدد ہمیشہ اللہ ہی سے مانگنے کی تعلیم و تلقین : کہ مدد دینے والا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے، جیسا کہ مشہور حدیث میں فرمایا گیا ۔ " اِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہ وَاِذَا سأَلْتَ فَاسْأَل اللّٰہَ " ۔ " جب تم مدد مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب تم سوال کرو تو اللہ ہی سے کرو " ۔ اسی لئے مومن کو تعلیم دی گئی کہ وہ اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں اپنے رب کے حضور اپنی عرض والتجاء اس طرح پیش کرے۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ کہ " مالک ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، اور مانگتے رہیں گے "۔ پھر یہاں پر جیسا کہ سورة فاتحہ کی تفسیر میں بھی گزر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ مدد و استعانت کی دو صورتیں ہیں " ماتحت الاسباب “ اور " مافوق الاسباب "۔ ماتحت الا سباب سے مراد وہ مدد ہے جو عام دنیوی اسباب و وسائل کے دائرہ میں ہو۔ جیسے کسی سے قرض لینا، کسی کو کسی کام کے لئے کہنا، ڈاکٹر سے دوالینا وغیرہ۔ تو یہ مدد جب اسباب کے درجے میں ہی ہو تو دوسروں سے لینا جائز ہے، کہ اس عالم اسباب کا مزاج و تقاضا یہی ہے۔ اور دین حق نے اس بارے اپنی پاکیزہ تعلیمات میں بھی یہی درس دیا ہے، اور ہمارے پیغمبر ﷺ نے عملی طور پر بھی یہ سب کچھ ہمیں کرکے بتلایا ہے ۔ صَلوَات اللّٰہ وَسَلاَمُہُ عَلَیْہ ۔ البتہ اس ضمن میں دین حق نے ہمیں یہ بھی سکھایا اور بتایا ہے کہ اس سلسلے میں بھی اصل نظر اسباب پر نہیں، بلکہ مسبب الاسباب پر ہونی چاہیئے کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جب کہ استمداد و استعانت کی دوسری قسم جو کہ عام اسباب سے ہٹ کر اور مافوق الاسباب طریقے سے ہو، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت اور اسی کا خاصہ ہے۔ اس کے سوا اور کوئی ایسی مدد نہ کرسکتا ہے، اور نہ ہی اسطرح کی کوئی مدد مخلوق میں سے کسی سے مانگنا جائز ہے۔ پس غائبانہ کسی کو مدد کے لئے پکارنا، یا کسی فوت شدہ ہستی سے مدد مانگنا خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہستی کیوں نہ ہو، یا کسی آستانہ اور قبر پر جھکنا اور وہاں کے پھیرے لگانا، وغیرہ سب ناجائز اور شرک ہے۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْمِ ۔ پس مومن صادق کے عقیدہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دل کا بھروسہ و اعتماد بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی پر رکھے، اور مدد و امداد بھی ہمیشہ اسی سے مانگے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہی ہے ہر کسی کی مدد کرنے والا اور ہر کسی کی حاجب روائی اور مشکل کشائی فرمانے والا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
136 صبر وصلوہ کی اہمیت اور عظمت شان کا ذکر وبیان : ۔ سو للہ تعالیٰ کی مدد سے سرفراز ہونے کیلئے یہ دو اہم ذریعے ہیں یعنی صبر اور صلوٰۃ : پس مدد دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے مگر اس سے مدد لینے کے یہ دو عظیم الشان ذریعے اور طریقے ہیں۔ پس جس قدر تم صبر و صلوٰۃ کی پابندی اور اس کا التزام و اہتمام کرو گے، اسی قدر وہ قادر مطلق تمہیں اپنی نصرت و مدد اور عنایات سے نوازتا چلا جائیگا، کہ اس کا کام اور اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے کہ وہ اکرم الاکرمین ہے۔ پس مدد ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک سے مانگی جائے اور اس کے دو بڑے ذریعے یہاں ارشاد فرمائے گئے ہیں، یعنی صبر اور نماز۔ اور صبر کی آگے تین صورتیں ہیں۔ " صبر عن المعصیۃ " یعنی برائی سے رکنا یعنی اس کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ دینا۔ جبکہ اس کی دوسری قسم ہے " صبر علی الطاعۃ " یعنی نیکی اور اطاعت پر جم جانا۔ یعنی اس پر پکا رہے اور استقامت سے کام لے۔ اور تیسری قسم صبر کی ہے " صبر علی المکارہ والمصائب " یعنی تکلیفوں اور مصیبتون پر صبر و برداشت سے کام لینا۔ اور یہ سب کچھ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت کے بغیر ممکن نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے سرفرازی کا ذریعہ نماز ہے، جو کہ ایک عظیم الشان اور بےمثال عبادت اور رب تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں سے فائز المرام ہونے کا ایک بےمثال ذریعہ و وسیلہ ہے، اس لیے صبر و صلوۃ کے ان دو وسیلوں اور ذریعوں سے رب تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علي ما یحب ویرید۔
137 خشوع و خضوع کی عظمت شان : ۔ سو خشوع و خضوع کی صفت بڑی عظیم الشان اور اہم صفت ہے اور اسکا اثر و نتیجہ بھی بڑا اہم ہے۔ " خشوع " کا لفظ اگرچہ ظاہر کے اعتبار سے بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس کا اطلاق اقوال و اصوات پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَخَشَعَت الْاَصْوَات للرَّحْمٰن فَلاَ تَسْمَعُ الاَّ ہَمْسًا } ۔ " اور آوازیں [ اس روز ] خدائے رحمن کے حضور ایسی پست ہوجائیں گی کہ تم ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ سننے نہیں پاؤ گے "۔ مگر اس کا اصل تعلق دل کے ساتھ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب دل جھک گیا، تو باقی تمام اعضاء وجوارح اور ان سے صادر ہونے والے افعال و اعمال آپ سے آپ جھک پڑیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ اپنے خالق ومالک کے حضور صدق دل سے جھک جانا ہی شاہ کلید ہے۔ تمام کامیابیوں اور فائز المرامیوں کی، جیسا کہ سورة حج میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { وَبَشِّر الْمُخْبِتِیْنَ } ۔ یعنی " خوشبخری سنا دو ان عاجزی کرنے والوں اور صدق دل سے اپنے رب کے حضور جھک جانے والوں کو "، جن کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ یہاں پر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو یہ خوشخبری کس چیز کی سنائی جائے، اس لئے اس عموم و اطلاق سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کے لئے ہر اچھائی اور ہر خوبی کی خوشخبری ہے۔ پس ایسے " خاشعین " اور " مخبتین " کے لئے نماز ادا کرنا بھاری نہیں، بلکہ ان کیلئے اس کا چھوڑنا اور ترک کرنا بھاری ہوتا ہے، کہ نماز تو ایسوں کے لئے ایک ایسی لذت ہے کہ اس جیسی دوسری کوئی لذت ہو ہی نہیں سکتی، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : " جُعِلَتْ قُرَّۃُُ عَیْنِیْْ فِی الصَّلٰوۃ ِ " ۔ کہ " میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے "۔ اسی لئے آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے ۔ " اَقِم اٰلصَّلٰوۃَ یَا بلالُ اَرِحْنِیْ بِہَا " ۔ " بلال نماز قائم کرکے میرے لئے راحت و آرام کا سامان کرو " جبکہ لذت یقین اور دولت خشوع سے محروم لوگوں کے لئے یہ نماز واقعی ایک کوہ گراں ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے اس کو یہاں پر ۔ { وَاِنَّہَا لَکَبِیْرۃٌ } ۔ کے تاکیدی الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، کہ ایسے لوگوں کیلئے نماز یقینا بڑی ہی بھاری ہے کہ اس میں کئی چیزیں صبر آزما ہیں ۔ " واشتمالہا علی ضروب من الصبر " ۔ ( المحاسن وغیرہ ) ۔
Ayahs 2:46–47138 عقیدہ آخرت ایک انقلاب آفریں عقیدہ : سو ایمان بالآخرت یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا ایمان و یقین ایک عظیم الشان اور انقلاب آفرین عقیدہ۔ پس ایسے لوگوں کیلئے نماز کوئی بھاری نہیں بلکہ ان کیلئے ایک عظیم الشان قوت وسعادت ہے جن کو یہ یقین ہے کہ ان کو بہرحال لوٹ کر اپنے رب کے یہاں جانا ہے، اور وہاں پہنچ کر اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور وہاں کی کامیابی اور رب کی رضا سب سے بڑا مقصد اور سب سے بڑی اور حقیقی غایت اور اصل کامیابی ہے، جس کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہی نماز ہے۔ پس اس یقین و ایمان کی بناء پر نماز ان کے لئے ایک نہایت ہی محبوب عبادت اور لذیذ عمل بن جاتی ہے۔ سبحان اللہ ! کیسی دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت، جو انسان کو ایسی قوت اور نشاط سے سرفراز کردیتی ہے۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا بِکَ اِیْمَانًا وَّ یَقِیْنًا ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بہت بھاری ہے مگر ان خاشعین پر جن کا آخرت پر کامل اور پختہ یقین ہے کہ ان پر یہ بھاری نہیں بلکہ ان کے لیے تسکین قلوب اور تسلیہ صدور کا ذریعہ و باعث ہے ۔ جعلنا اللہ منہم -
Ayahs 2:48–49141 قیامت کے یوم عظیم کی ہولناکی کا ایک اہم پہلو : مصیبت میں کسی دوسرے کے کام آنے کی بالعموم یہی چار صورتیں ہوسکتی ہیں کہ یا تو کوئی اس کی جگہ اپنی جان پیش کر دے، یا سفارش کرکے اسے چھڑا دے، یا پھر فدیہ اور مال پیش کرکے اس کو رہا کراوے، یا یہ کہ اپنی قوت بازو کی مدد سے اس کی جان بخشی کرا دے۔ پس یہاں پر ان چاروں صورتوں کی نفی فرما دی گئی ہے کہ نفسی نفسی کے اس عالم میں کوئی شخص ان میں سے کسی بھی طریق سے کسی دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ واضح رہے کہ یہاں جس شفاعت و سفارش کی نفی کی گئی ہے، وہ اس مشرکا نہ شفاعت و سفارش کی نفی ہے، جس کا عقیدہ اہلِِ شرک رکھتے تھے، کہ ہم کچھ بھی کریں فلاں فلاں ہستیاں ہمارا کام بنادیں گی، اور وہ روٹھ کر اور لڑ کر اور اڑ کر ہمیں چھڑوا دیں گی، کہ وہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ ان کی بات رد نہیں کی جاتی۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے " وغیرہ۔ جس طرح کہ آج بہت سے کلمہ گو مشرک بھی اسی طرح کے خود ساختہ عقیدوں اور مصنوعی سہاروں کی بنا پر نہ عمل کی فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت سمجھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے فلاں ہستی کا دامن پکڑ رکھا ہے، جو بڑی " پہنچی ہوئی سرکار "، ہیں، وہ ہمارا سب کام خود کرا دیں گی۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے "۔ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا۔ پس ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے نذرانوں وغیرہ کے ذریعے اپنی انہی " سرکاروں “ کو خوش رکھیں۔ آگے ہمارا سب کام یہ خود ہی کرا دیں گی وغیرہ۔ اس لئے ایسے لوگ نمازوں کی پابندی، عقائد کی اصلاح، قرآن پاک کی تعلیم، فریضہ زکوٰۃ کی باقاعدہ ادائیگی وغیرہ وغیرہ احکام کی کوئی پروا نہیں کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس آیت کریمہ اور اس طرح کی دوسری نصوص طیبہ سے دراصل اسی طرح کے مشرکانہ عقیدہ شفاعت و سفارش کی نفی مقصود ہے۔ رہ گئی وہ شفاعت جو شریعت مقدسہ کے ارشادات عالیہ اور تقاضائے عقل و نقل کے مطابق ہوگی، اس کی نفی نہیں۔ اس کا ثبوت تو نصوص قرآن و سنت سے صراحتہً ملتا ہے۔ اور اس کے لئے بنیادی طور پر دو شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ سفارش کرنے والا اس کا اہل ہو، اور اس کو اس کی اجازت ملی ہو۔ اور دوسرے یہ کہ جس کے لئے سفارش کی جائے وہ اس قابل ہو کہ اس کی سفارش کی جاسکے۔ یعنی اس کا جرم قابل معافی ہو، اور یہ دونوں باتیں اللہ پاک ہی کے علم اور اسی وحدہ لاشریک کی مرضی پر، اور اسی کے اختیار میں ہیں۔ پس شفاعت و سفارش کا معاملہ اسی کے اذن پر موقوف ہے جیسا کہ دوسرے مقامات پر اس کی تصریح موجود ہے مثلاً سورة طہٰ میں ارشاد ہوتا ہے۔ { یَوْمَئِذٍ لاَّ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَہٗ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہ قَوْلاً } ۔ (طٓہَ : 109) ۔ اور سورة سباء میں ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَ لاَتنْفَعُ الشِّفَاعَۃُ عِنْدَہٗ الاَّ لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ } ۔ (سبا : 23) اور سورة نباء میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { لاَ یَتَکَلَّمُوْنَ الاَّ مَنْ اَذِنَ لَہٗ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا } ۔ (النبأ: 38) ۔ پس ان نصوص کریمہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس شر کی اور بدعی شفاعت و سفارش کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، جو اہل ہوٰی نے اپنے تئیں گھڑ رکھی ہے۔ کہ فلاں فلاں ہستیاں اڑ کے بیٹھ جائینگی، اور منوا کے چھوڑیں گی، کہ ان کی بات رد نہیں کی جاسکتی وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسی سب باتیں اس طرح کے لوگوں کی خودساختہ ہیں، جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس، نہ سند نہ ثبوت، محض ایسے لوگوں کے اپنے مفروضے ہیں اور بس ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔ بہرکیف اس روز انسان کو اپنا ایمان وعمل ہی کام آسکے گا۔
Ayah 2:50144 بنی اسرائیل کیلئے سمندر کو پھاڑنے کا انعام : سو یہ بنی اسرائیل کے لئے ایک خاص انعام تھا کہ سمندر کو پھاڑ کر ان کے لیے را ستے بنا دئے گئے تاکہ وہ آرام اور سہولت کے ساتھ اس سے پار ہو سکیں۔ سو ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اپنی قدرت بےپایاں اور رحمت شاملہ سے تمہارے لئے سمندر کو اس طرح پھاڑ دیا، تاکہ اس طرح ایک طرف تو تمہاری نجات اور دشمن کے ظلم و ستم سے تمہاری رہائی کا سامان ہوسکے۔ اور دوسری طرف اسطرح کے معجزانہ انتظام سے تمہاری تعظیم و تکریم بھی۔ اور تیسری طرف تمہارے دشمن اور اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کی اپنے لاؤ لشکر سمیت غرقابی کا بندوبست بھی ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ قَادِرٍ قَوِیٍٍّ حَکِیْمٍ عَزِیْزٍ ۔ سو اس طرح ہم نے تم لوگوں کو کرم بالائے کرم اور عنایت بالائے عنایت سے نوازا جس کا تقاضا یہ تھا کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے رب کے حضور جھک جھک جاتے، اور اس طرح اپنے خالق کا حق ادا کرکے تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتے، مگر تم نے ناشکری اور حکم عدولی سے کام لے کر اپنے لیے دارین کی ناکامی اور محرومی کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے بنی اسرائیل کو اس خاص انعام سے نوازا کہ چلتے سمندر کو پھاڑ کر اور اس کی موجوں کو روک کر بنی اسرائیل کے لئے خشک راستے بنا دئے جو بلاشبہ ان کے لئے قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان تھا مگر انہوں نے پھر بھی ناشکری ہی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔
145 فرعون کی غرقابی بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے : سو اس سے بنی اسرائیل کیلئے ایک اور انعام کا ذکر فرمایا گیا کہ، فرعون کی غرقابی ان کی آنکھوں کے سامنے فرعون کی غرقابی کا ایک اور انعام تھا۔ سو اس طرح ہم نے تمہارے دشمن کو تمہارے سامنے غرق دریا کیا، جس سے تمہارا سرور دوبالا اور تمہیں ملنے والے اس انعام کا درجہ دو چند ہوجاتا ہے کہ جس سمندر کے پھٹنے سے تمہاری نجات کا سامان ہو رہا ہے اور تمہارے لئے خشک راستے نکل آتے ہیں، اسی سمندر سے اور انہی راستوں میں اترنے سے تمہارا دشمن اپنے لاؤ لشکر سمیت تمہارے سامنے، دیکھتے دیکھتے غرق ہو رہا ہے۔ سو ایسے عظیم الشان انعامات کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جاؤ اور اس کے بھیجے ہوئے آخری رسول اور ان پر اتاری گئی آخری کتاب پر صدق دل سے ایمان لے آؤ اور اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ مگر تم ہو کہ اس سب کے باوجود اور اس کے برعکس کفر و انکار کی راہ پر چل رہے ہو۔ اور اس آخری پیغمبر اور آخری وحی پر ایمان لانے کی بجائے تم لوگ اس میں سدِّراہ بن رہے ہو۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے عناد و ہٹ دھرمی، اتباع ھویٰ اور خواہشات نفس کی پیروی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:51146 بچھڑے کی پوجا ایک ظلم عظیم۔ والعیاذ باللہ : سو بچھڑے، اور وہ بھی ایک مصنوعی بےحقیقت اور بےجان بچھڑے کی پوجا بنی اسرائیل کا ایک ظلم تھا، تم نے اس بےحقیقت بچھڑے کو اپنا معبود ٹھہرایا اور تم اس کے آگے جھک گئے جو سامری نے خود تمہارے زیورات سے تمہارے سامنے گھڑا اور تراشا اور تمہاری پوجا کے لئے پیش کردیا اور کہا کہ " یہ معبود ہے تمہارا بھی اور موسیٰ کا بھی مگر وہ بھول گئے " ۔ { ہٰذا اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ } ۔ اور تم نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً اس کے آگے جھک گئے اور اس کو اپنا معبود مان لیا۔ اور اس ہولناک ظلم کا ارتکاب کرکے تم نے اپنے خالق ومالک کے عذاب کو دعوت دے دی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو کیسے کیسے انعامات اور احسانات سے نوازا مگر تم ہو کہ تم نے شرک جیسے اس ظلم عظیم کا ارتکاب کیا جس سے تم لوگوں کا جرم، ظلم پر ظلم اور جرم بالائے جرم بن گیا اور تم لوگ طویل سزا کے مستحق قرار پائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو گوسالہ پرستی کا یہ جرم ان لوگوں کی طرف سے کفران نعمت کی انتہاء ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
147 بنی اسرائیل کے گوسالہ پرستی کے سنگین جرم کا ذکر : اور ایسے ظالم کہ اپنے رب کی طرف سے اس قدر معجزانہ انعامات سے سرفراز ہونے کے باوجود اور حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر کی اتنی طویل دعوت و تبلیغ اور درس توحید کے باوصف، تم لوگ گو سالہ پرستی کے اس صریح شرک اور ظلم عظیم میں مبتلا ہوگئے اور سوچا تک نہیں کہ عقیدہ توحید کی کن عظمتوں سے گر کر تم لوگ شرک کے کس مہیب گڑھے میں پڑ رہے ہو۔ اور تم اپنے لئے کس قدر بڑی ہلاکت و رسوائی کا سامان کر رہے ہو۔ اور تم کتنے بڑے اور کس قدر ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ انبیاء و رسل کی نسل سے تعلق رکھنے کے باوجود اور حضرت موسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کی بلاواسطہ دعوت و تبلیغ کے با وصف تم لوگوں نے اتنے بڑے ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔ سو تم کتنے بڑے ظالم اور ناشکرے لوگ ہو۔ سو اس طرح انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ دین و ایمان کی امانت مقدسہ کو سنبھالنے کے اہل نہیں رہے۔ اس لیے ان کو اس نعمت اور امامت و پیشوائی کے منصب جلیل سے معزول کردیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے ایمان و عقیدے، صدق و اخلاص اور عمل و کردار سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید جل وعلا شانہ -
Ayah 2:52148 نعمائے خداوندی کا تقاضا شکر خداوندی : اور اس کے شکر کے تقاضے میں تم اس کے حضور صدق دل سے جھک کر خود اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو، کہ شکر نعمت، نعمت کی حفاظت وبقاء اور اس میں خیر و برکت کا ذریعہ ہے، جبکہ ناشکری اور کفران نعمت، نعمت سے محرومی اور عذاب کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اَنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد } ۔ پس شکر نعمت میں تمہارا اپنا بھلا ہے۔ اور کفران نعمت میں خود تمہارا اپنا ہی نقصان ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو شکر نعمت ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ نے بارگہ خداوندی میں عرض کیا کہ مالک تیری نعمتیں تو لامحدود اور بیشمار ہیں تو پھر بندہ تیرا شکر کس طرح ادا کرسکتا ہے ؟۔ تو اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ بندے کا یہ سمجھ لینا کہ جو بھی نعمت ہے وہ میری ہی طرف سے ہے، بس یہی اس کے لیے کافی ہے۔ (خازن بحوالہ معارف للکاندھلوی ) ۔
Ayah 2:53149 بنی اسرائیل کیلئے عطائ تورات کی نعمت : یعنی کتاب سے یہاں پر مراد تورات ہے جو کہ اپنے دور میں حق و ہدایت کا منبع ومصدر، اور سرچشمہ فیض تھی، اور اپنے زمانے کیلئے وہ روشنی کا ایک مینار تھی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { فِیْہَا ہُدًی وَّ نُوْرٌ } ۔ سو تم کو تورات کی اس نعمت سے نوازا گیا، تاکہ تمہیں شریعت اور دستور حیات نصیب ہوسکے، اور اس طرح تم حق و ہدایت کی نعمت سے سرفراز ہوسکو، سو تم کو دوسری بیشمار اور عظیم الشان حسی اور ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ عطائ تورات کی عظیم الشان معنوی اور روحانی نعمت سے بھی نوازا گیا، مگر تم نے اس کی قدر نہ پہچانی جسکے نتیجے میں تم حرمان نصیبی کے حقدار بن کر رہ گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل کفران و خسران ۔ سو کتاب ہدایت کی نعمت عظمیٰ پر شکر ادا کرنا بندے کے ذمے واجب ہے کہ یہ نعمتوں کی نعمت ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔
150 " الفرقان " کا معنیٰ و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ : " فرقان " سے یہاں پر مراد یا تو تورات ہی ہے کہ اس کے احکام و ارشادات حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے تھے، اور اس صورت میں یہ عطف " عطف الصفۃ علی الموصوف " کے قبیل سے ہوگا۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ اور تورات کو " کتاب " اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے دور کے لحاظ سے احکام خداوندی کی جامع تھی۔ اور کتاب کے اصل معنی جمع ہی کے آتے ہیں۔ اور اس کو " فرقان " اس اعتبار سے فرمایا گیا کہ اس کے احکام و فرامین حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کرنے والے تھے۔ (صفو ۃ، کبیر، معالم وغیرہ) ۔ اور یا اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ ۔ علی نبینا و (علیہ السلام) ۔ کو عطا فرمائے گئے تھے کہ ان کے ذریعے بھی حق اور باطل کے درمیان فرق وتمیز حاصل ہوتی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کتاب ہدایت بھی دی اور فرقان سے بھی نوازا مگر تم لوگ سیدھے نہ ہوئے۔
151 راہ حق سے سرفرازی ایک عظیم الشان نعمت : سو اس سے واضح فرمایا دیا کہ صحیح اور سیدھے راستے سے سرفرازی ایک عظیم الشان نعمت : ایک عظیم الشان نعمت یعنی تم لوگوں کو ان نعمتوں سے نوازا تاکہ تمہیں وہ صحیح راستہ مل سکے جس پر چل کر تم دنیا میں بھی پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی گزار سکو، اور جس کے نتیجے میں تم کو آخرت کی اس حقیقی، ابدی اور سدا بہار زندگی میں بھی کامیابی نصیب ہو سکے، جو اس دنیاوی زندگی جو کہ ایک عارضی اور فانی زندگی ہے، کے بعد آنے والی زندگی ہے۔ سو راہ حق و ہدایت سے سرفرازی انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامرانی سے بہرہ ور کرنے والی ایک عظیم الشان نعمت خداوندی ہے۔ اور ایسی کامل اور سچی ہدایت و راہنمائی انسان کو اپنے خالق ومالک کے سوا اور کہیں سے ملنی ممکن ہی نہیں۔ پس ہدایت کی نعمت وہ سب سے بڑی نعمت ہے جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کے بندوں کو عطا کی جاتی ہے کہ اسی کے ذریعے انسان کو صحیح راہ ملتی ہے اور وہ حیات طیبہ سے سرفراز ہوتا ہے۔ اور حق و ہدایت سے محرومی کی صورت میں انسان محض حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کتاب ہدایت کی نعمت اب اپنی آخری اور تکمیلی شکل میں قرآن حکیم کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ پس اس کا شکر ادا کرنا سب سے بڑا حق ہے جو بندہ مومن پر واجب ہوتا ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان بہذا الکتاب وبالاشتغال بہ تعلما و تعلیما و تفسیرا و تذکیرا ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہر شائبہ شرک و ریا سے محفوظ رکھے اور اس پر دوام و استقامت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔