Ayah 2:71206 مطلوبہ گائے کی مزید صفات : ہمارے یہاں چونکہ زمین جوتنے کا کام عام طور پر بیلوں ہی سے لیا جاتا ہے، اس لئے گائے کے زمین میں جوتنے کی بات عجیب سی لگتی ہے، مگر دوسرے مختلف ملکوں اور علاقوں میں یہ کام گائے سے بھی لیا گیا ہے اور آج بھی لیا جاتا ہے، اور بنی اسرائیل میں بھی اس کا رواج تھا، اور لفظ ’ بقرۃ “ کا اطلاق اصل لغت کے اعتبار سے گائے اور بیل دونوں پر یکساں ہوتا ہے۔ (المنجد وغیرہ) ۔ اس لئے بعض مترجمین حضرات نے یہاں پر " البقرۃ " کا ترجمہ بیل سے کیا ہے مگر عام اور مشہور اطلاق کے اعتبار سے " بقرۃ " کا لفظ چونکہ گائے کیلئے ہی مستعمل ہوتا ہے، اور بیل کیلئے " ثور " کا لفظ بولا جاتا ہے، (مفردات راغب، قرطبی وغیرہ) ۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمے میں اسی معنی کو اختیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ " بقر " کا لفظ اپنے لغوی معنی کے لحاظ سے " شق " کرنے اور " چیرنے "، " پھاڑنے " کیلئے آتا ہے۔ اسی لئے بڑے عالم کو بھی " باقر " کہا جاتا ہے کہ وہ جہالت کے پردوں کو چیر پھاڑ کر علم کے موتی نکال لاتا ہے، اور نت نئے اسرار و رموز دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، اور گائے اور بیل کو بھی " بقر " یا " بقرہ " اس لئے کہا جاتا ہے، کہ ان سے ہل جوتنے کا کام لیا جاتا ہے اور اس طرح زمین کو چیر پھاڑ کر کاشت کرنے، اور بیج ڈالنے کے قابل بنایا جاتا ہے ۔ سبحان اللہ ! کیسی عظیم، عجیب، اور کتنی حکمتوں اور نزاکتوں بھری زبان ہے یہ عربی زبان۔ والحمدللہ۔ بہرکیف " انشاء اللہ " کہنے کی برکت سے انہوں نے بالآخر ایسی گائے کو ذبح کردیا، حالانکہ ان کی قیل و قال اور حیل و حجت سے لگتا نہیں تھا کہ وہ ایسا کریں گے، اور یہ گائے ان کو ایک ایسے شخص کے پاس ملی جسکے پاس اس کے سوا کوئی مال نہیں تھا، تو اس نے ان لوگوں کے مطالبے پر اس سے کہا کہ میں تم کو یہ گائے اس قیمت اور اس شرط پر دونگا کہ تم مجھے اسکا چمڑا بھر کر سونا دو ، ان کو اپنی پیدا کردہ تشدیدات کی وجہ سے بامر مجبوری یہ بات ماننا پڑی، چناچہ انہوں نے اس گائے کو اسی قیمت پر خرید لیا اور اس کو ذبح کرکے اسکا گوشت اس مردے سے لگایا تو وہ زندہ ہو کر بول پڑا، اور اس نے اپنے بھتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مجھے قتل کیا ہے، چناچہ اس کو اس کے بعد مقتول کی میراث سے محروم کردیا گیا، اور بعض روایات کے مطابق اس کو قصاص میں قتل کردیا گیا۔ (ابن کثیر، ابن جریر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ)
207 مشرکوں کے شرک کی تردید خود ان کی اپنے ہاتھوں : سو اس طرح گوسالہ پرستی کے غلیظ شرکیہ عقیدے کی تردید خود بنی اسرائیل کے ہاتھوں اور عملی طور پر کرائی گئی کہ جس گائے کے مصنوعی بناوٹی اور بےحقیقت بچھڑے کو انہوں نے اپنا معبود قرار دی کر اس کی پوجا کی تھی اور نہ صرف اس کو معبود قرار دیا تھا بلکہ اس سے بڑھکر یہ ظالمانہ اور کھلے کفر کی بات کہی تھی کہ یہی معبود ہے تم سب کا اور یہی معبود ہے موسیٰ کا مگر وہ بھول کر کوہ طور پر چلا گیا ۔ { ہٰذَا اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ } ۔ (طہ ۔ 88) ۔ آج اسی بچھڑے کی ماں یعنی ایسی عمدہ صفات والی حقیقی گائے کو یہ لوگ سب کے سامنے اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے ہیں۔ـ یعنی ان کی حجت بازیوں، طرح طرح کی قیل و قال، اور انکے ایمان و یقین کے ضعف کی بناء پر لگتا نہیں تھا کہ وہ ایسا کرلیں گے، اور گائے کو اور وہ بھی ایسی اور ایسی صفات والی خاص گائے کو اپنے ہاتھوں ذبح کردیں گے، جس کی تعظیم و تقدیس کی جاہلانہ میل ان کے دل و دماغ میں رچ بس چکی تھی، جس کی بناء پر انہوں نے سامری کے خود ساختہ مصنوعی بچھڑے کو معبود مان لیا تھا، اور اس کے اس قول کفر تک کو تسلیم کرلیا تھا کہ یہی معبود ہے تمہارا بھی، اور موسیٰ کا بھی (علیہ الصلوۃ والسلام) مگر وہ بھول کر کوہ طور چلے گئے ۔ { ہٰذَا اِلَہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ } ۔ مگر اس سب کے باوجود " انشاء اللہ " کہنے کی یہ برکت تھی کہ وہ لوگ ذبح بقرہ کی یہ کڑوی گولی نگل گئے۔ اور اس طرح گائے کی تقدیس اور گو سالہ پرستی کے شرکیہ عقائد سے متعلق خود ساختہ سب فلسفہ طرازیوں کو انہوں نے خود دن دہاڑے عین چورا ہے میں چکنا چور کردیا، اور انہوں نے سب کے سامنے اپنے ہاتھوں گاؤ ماتا کو ذبح کرکے عملی طور بتادیا کہ بڑے اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو اس احمق جانور کو اپنا معبود اور خدا مانتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے حضرت موسیٰ نے گائے کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت مردے کو لگانے کا کوئی بھی کام خود نہیں کیا، بلکہ سب ان ہی سے کروایا، اور ان سے فرمایا کہ یہ سب کام تم لوگ خود ہی کرو، گائے کو ذبح بھی تم خود ہی کرو " اِذْبَحُوْا بَقَرَۃً " تاکہ بعد میں وہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم نے گاؤ ماتا کو ذبح کرنے اور اس کا خون گرانے کا پاپ نہیں اٹھایا، اور فرمایا کہ اس کا گوشت بھی مردے سے تم خود ہی لگاؤ ۔ { فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِہَا } ۔ تاکہ بعد میں اپنی طبعی افتاد کے مطابق اس کو کہیں حضرت موسیٰ کی جادوگری اور شعبدہ بازی نہ قرار دینے لگیں۔ اس طرح ذبح بقرہ کے اس ایک ہی حکم سے کتنے اہم اور بنیادی حقائق کو اس طرح واضح اور آشکارا کردیا گیا، کہ کسی کیلئے کسی انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ سو اس طرح بنی اسرائیل کے ان حیلہ بازوں اور ان جیسے دوسرے تمام مشرکین کیلئے حیلہ بازی اور بہانہ سازی کی تمام راہیں مسدود ہوگئیں ۔ والحمد للہ ۔ اور ان کے سامنے صاف اور صریح طور پر واضح ہوگیا کہ گائے معبود نہیں بلکہ محض ایک جانور ہے۔ اور اس کی تصدیق انہوں نے اپنے عمل سے خود کردی۔
Ayah 2:72208 آباؤ اجداد کے جرم کی نسبت ان کی اولاد و اَحفاد کی طرف اور اس کی وجہ ؟ ـ : یہ خطاب آنحضرت ﷺ کے زمانے کے یہود سے ہے جبکہ اس جرم کا ارتکاب انہوں نے نہیں، ان کے بڑوں نے کیا تھا۔ مگر چونکہ یہ لوگ انہی کی اولاد میں سے تھے، اور ان کی ایسی حرکتوں سے کسی براءت اور بیزاری کا اظہار و اعلان کرنے کی بجائے، الٹا یہ لوگ اپنے ان ہی بڑوں سے تعلق وانتساب پر فخر کرتے تھے، اس لئے یہ ان کی طرف سے اس پر رضا مندی کا ثبوت تھا۔ اس لئے ان سے اس طرح خطاب فرمایا گیا۔ نیز قتل کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان میں سے ایک شخص نے کیا تھا، مگر ان کی رضا کی بناء پر اس کو سب کی طرف منسوب کیا گیا کہ امت و جماعت مجموعی طور پر اپنے ایک فرد ہی کی طرح قرار پاتی ہے، جس کی بنا پر ان کی خوبی یا خرابی کا اثر بھی بحیثیت مجموعی سب پر مرتب ہوتا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
209 اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی : ـ کہ وہ وحدہ لاشریک نہاں اور عیاں کو ایک برابر جانتا ہے، اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی، کوئی شخص یا جماعت کسی بات کو چھپانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے، اس سے تو کسی حقیقت کو کسی بھی طرح چھپایا نہیں جاسکتا، کہ وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا، اور " عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْر " ہے، اس کی شان یہ ہے کہ وہ پوشیدہ راز اور اس سے بھی چھپی بات کو جانتا ہے ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی ۔ سو اس عالم الغیب والشہادۃ سے کوئی بھی بات چھپی نہیں رہ سکتی ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ ۔ کہ اس کی عظمت شان کا عالم یہ ہے کہ " لاَ تَخْفٰی عَلَیْہَ خَافِیَۃٌ " اور جب اس نے تمہارے اس جرم کو، اس کے اسباب و دواعی کو، اور اس کے آثار و نتائج وغیرہ سب کو نکال باہر کرنا ہے تو پھر تمہاری ان چالبازیوں، دسیسہ کاریوں، اور پردہ داریوں، سے حقیقت امر کو چھپانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نکال باہر کرنے والا ہے ان چیزوں کو جن کو تم لوگ چھپاتے تھے۔
Ayah 2:73210 مردہ زندہ ہو کر بول پڑا : ـ اور اپنے قاتل کی خبر دینے کے بعد وہ پھر مرگیا، جس سے قاتل پکڑا گیا، اس سے قصاص لیا گیا اور اس کو میراث سے محروم کردیا گیا۔ (معارف للکاندہلوی (رح) ) کیونکہ ضابطہ یہی ہے کہ " مَن اسْتَعْجَلَ بالشّیئ قَبْلَ الاَوَان عُوْقِبَ بالْخِزْی وَ الْحرْمَانِ " یعنی جو کوئی کسی چیز کے حصول کیلئے جلد بازی سے کام لیتا ہے، اور اس کو اپنے وقت مقرر سے پہلے حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کو رسوائی اور محرومی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے شریعت مطہرہ میں یہ دائمی اور مستقل قانون قرار دیا گیا کہ قاتل مقتول کی میراث سے محروم ہوگا خواہ وہ اس سے کیسا ہی رشتہ و استحقاق کیوں نہ رکھتا ہو ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
211 اللہ پاک کی طرف سے احیاء و اماتت کا عمل مسلسل : یعنی زندگی بخشنے کا یہ کام اس قادر مطلق کی طرف سے، اس کی قدرت مطلقہ کے نتیجے میں آج بھی ہو رہا ہے، اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا، اور اس کا کامل اور آخری ظہور آخرت کے اس جہان میں اس وقت ہوگا، جبکہ وہ اس حیات ابدی سے سرفراز فرما دے گا، جس کے بعد اس کی جانب سے اعلان فرما دیا جائے گا " خُلُوْدٌ لا مَوْتَ فِیْہ " یعنی اب یہ ہمیشہ کی وہ زندگی ہے جس کے بعد کسی موت نے نہیں آنا۔ اور جس دن یہ اعلان ہوگا وہ دن جنتیوں کے لئے سب سے بڑا خوشی و مسرت کا دن ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو یہ خوشی اور یہ سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔ جبکہ دوسری طرف وہ دن دوزخیوں کے لئے سب سے بڑے افسوس اور صدمے کا دن ہوگا ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر شر اور خاص کر اس شر سے محض اپنے فضل و کرم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ سو اللہ پاک کی طرف سے احیاء و اماتت کا یہ عمل مسلسل جاری ہے جو کہ اس کی قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ اور ہم نے عام اردو تراجم کے برعکس یہ ترجمہ اس لئے کیا کہ " یُحْییْ " فعل مضارع ہے جو کہ اپنی اصل و اساس کے اعتبار سے حال اور مستقبل دونوں کو عام اور شامل ہے۔ پھر یہاں پر اس ضمن میں یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ احیاء و اماتت کا یہ حیرت انگیز سلسلہ بیرونی کائنات کے علاوہ خود انسانی جسم کے اندر بھی لگا تار جاری وساری رہتا ہے۔ چناچہ آج کی سائنس اپنے سائنسی انکشافات کی بناء پر کہتی ہے کہ انسان کے اندر قوت و انرجی ( ENERGY) کے سیل (CELL) لگا تار بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ دس سال کے عرصے میں اسی انسان کے برابر ایک اور انسان بن کر ٹوٹ جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک شخص کی عمر مثلاً ایک سو سال ہے، تو اس سے اس دوران اسی کے برابر دس وجود بن کو ٹوٹ پھوٹ چکے ہوتے ہیں ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ خَالِقٍ عَظِیْمٍ ۔ لاَ حَدَّ لقُدْرَِتِہ وَلاَ نِہَایَۃَ لِعَظْمَتِہ ۔ جَلَّ وَعَلاَ ۔ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنَُ الْخَالِقِیْنَ ۔ بہرکیف بنی اسرائیل کے اس قصے سے مردوں کے زندہ ہونے کا ایک نمونہ اور ثبوت سامنے آگیا، سو جس اللہ نے اس طرح اس مردے کو تمہارے سامنے زندہ کردیا، اسی طرح وہ قیامت کے روز مردوں کو زندہ کرکے اٹھائے گا۔ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
212 عقل و فکر سے کام لینے کی دعوت و تحریک : ـ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو۔ یعنی تم لوگوں کو عقل و فکر سے کام لینا چاہیئے تاکہ تم حق اور حقیقت تک رسائی حاصل کرسکو اور اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرکے اس کی عظمت بےپایاں کے آگے دل و جان سے جھک جاؤ۔ اور اس کے ارشادات عالیہ کے مطابق آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی پر صدق دل سے ایمان لاؤ، اور حیات دنیا کی اس محدود فرصت میں اس کے لئے تیاری کرو کہ پھر یہ موقع کبھی نہیں مل سکے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو عقل کی روشنی ایک عظیم الشان روشنی ہے کہ اسی سے انسان کو باقی تمام مخلوق پر فوقیت اور برتری حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر تن تنہا عقل ہی پر اکتفاء کیا جائے تو اس کا نتیجہ و انجام تباہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ لیکن عقل کے جوہر کو اگر وحی کے نور سے منور کرکے صحیح طور پر غور و فکر میں لگایا جائے تو اس سے انسان کو حق اور حقیقت تک رسائی نصیب ہوسکتی ہے اور وہ بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ بہرکیف عقل کے جوہر بےمثال کو صحیح طور پر استعمال کرنا ایک اہم مطلوب ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 2:74–75213 بنی اسرائیل کے دلوں کی سختی کا بیان : اور اپنی اسی قساوت قلبی کی بناء پر تم لوگوں نے ان نشانہائے قدرت سے کوئی سبق نہیں لیا، حالانکہ ان میں سے ایک ایک نشانی ایسی تھی کہ اس سے تمہارے دل گداز ہوجاتے، تم اپنے خالق ومالک کے حضور پگھل پگھل جاتے، ایمان و یقین کا نور تمہارے رگ و ریشہ میں سرایت کرجاتا، اور تم اپنے رب کے اوامرو ارشادات کے آگے صدق دل سے سرتسلیم خم ہوجاتے، خاص کر ذبح بقرہ اور احیائ مقتول کی اس صاف وصریح نشانی کے بعد، جس سے تم نے اپنے رب کی قدرت مطلقہ، اپنے پیغمبر کی صداقت و حقانیت اور بعث بعد الموت سے متعلق ایک صاف وصریح نمونہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا، مگر تمہارے دل ہیں کہ اس سب کے باوجود پگھلنے پسیجنے کی بجائے اور بگڑ گئے، اور وہ لوہے تانبے وغیرہ سے بھی زیادہ سخت ہوگئے، کہ وہ بھی آگ سے پگھل جاتے ہیں۔ مگر تمہارے دلوں پر ترہیب و ترغیب کی کوئی بات بھی اثر نہیں کرتی، یہ ایسے پتھر بن گئے جن پر آگ بھی اثر نہیں کرتی، الا یہ کہ ان کو بلاسٹ کر کے ریزہ ریزہ کردیا جائے ۔ { اِلاَّ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُہُمْ } ۔ سو دلوں کی سختی محرومی کا باعث ہے ـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من قسوۃ القلب وحرمانہ ۔
214 پتھروں سے بھی سخت دل : ـ کہ پتھروں سے بھی نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور ایسی نہریں جن سے لوگ طرح طرح سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی طرح بعض دل ایسے ہیں کہ ان سے علوم و معارف کے چشمے پھوٹتے اور نہریں جاری ہوتی ہیں، جن سے ایک دنیا جہاں کی سیرابی اور فیض رسانی کا سامان ہوتا ہے، جیسے علماء راسخین اور ائمہ ہادیین کی جماعت ہے، کہ ان کے کلمات طیبات مردہ دلوں کیلئے آب حیات کا کام دیتے ہیں، جس سے ایسے لوگ سرفراز و فیضیاب ہو کر ایک دنیا جہاں کی فیض رسانی کا ذریعہ بنتے ہیں، اور علم و عرفان کی یہ سیرابی اور فیض رسانی حسی اور ظاہری سیرابی و فیض رسانی سے کہیں بڑھ کر اعلی وارفع اور مبارک وحیات آفریں ہے، مگر ان لوگوں کی سنگدلی سے کسی خیر اور فائدے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔ سو قسوت قلوب ۔ دلوں کی سختی ۔ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ من قسوۃ القلوب وغلظتہا ۔
215 پتھروں کی فیض رسانی کی دوسری صورت : کہ ان کی پھٹنے سے پانی نکلتا ہے اور پانی کی اس نعمت سے بھی بڑی حد تک لوگوں کو فیض پہنچتا ہے، اور وہ اس سے طرح طرح سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی طرح بعض دل ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے اگرچہ پہلی قسم کے لوگوں کی طرح علوم و معارف کی ایسی بڑی نہریں جاری نہیں ہوتیں، مگر ان سے بھی علم و حکمت کے ایسے چشمے رواں ہوتے ہیں، جن سے اللہ ہی جانے کتنی دنیا کیلئے نفع بخشی اور فیض رسانی کا سامان ہوتا ہے، اور کتنے ہی لوگ ان سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہیں۔ جیسے علماء ربّانِیّیْن کی جماعت، جن سے لوگ طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے، اور حیات تازہ کی کیف آور نعمت سے بہرہ ور ہوتے رہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ بہرکیف اس ارشاد سے دلوں کے پتھروں سے بھی سخت ہونے کی وجہ بیان فرما دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
216 پتھروں کا خوف و خشیت خداوندی سے گرپڑنا : سو جن پہاڑوں کو تم لوگ بےحس اور بےشعور سمجھتے ہو، وہ اپنے رب کی معرفت سے اس درجہ سرفراز و سرشار ہوتے ہیں، اور اس کی عظمت شان کے احساس و ادراک کی بناء پر گر کر وہ اپنی زبان حال سے اللہ پاک کی ہیبت اور عظمت شان کا درس دیتے ہیں، اسی طرح بعض دل ایسے ہوتے ہیں جو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی عظمت شان اور جلالت مقام کے احساس و ادراک سے اس طرح سراپا عجز و انکسار بن جاتے ہیں، کہ ان میں اپنی عظمت و بڑائی اور غرور و استکبار کا شائبہ تک باقی نہیں رہ جاتا، اور اس طرح وہ اپنی زبان حال وقال سے اس عزیز متعال وحدہ لاشریک کی عظمت وکبریائی کا ایسا سچا درس دیتے ہیں کہ " الَّذِیْنَ اِذَا رُأُوْا ذُکِرَ اللّٰہُ " " جن کو دیکھ کر خدا یاد آجائے " کا مصداق بن جاتے ہیں، جیسا کہ حضرات عبادو زہاد کی شان ہوتی ہے، جو کہ ہمیشہ اپنے رب کی عظمت شان کے آگے سرتسلیم خم رہتے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو خوف و خشیت خداوندی سے محروم دل بڑے ہی محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
217 اللہ اپنے بندوں کے اعمال سے غافل و بیخبر نہیں : جیسا کہ غافل و لاپرواہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، اور وہ ایسی غفلت کی زندگی گزارتے ہیں جیسا کہ ان کی کوئی پوچھ ہی نہیں ہونی، سو ایسے نہیں بلکہ وہ تمہارے کئے کرائے کا ایسا عظیم الشان اور بےمثل ریکارڈ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تیار کروا رہا ہے، جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، اور کل قیامت کے اس جہاں میں جو کہ کشف حقائق، ظہور نتائج اور جزائ اعمال کا جہاں ہوگا تمہارا کیا کرایا یہ سب کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے رکھا دھرا ہوگا، اور تمہیں اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس بڑے ہی خسارے میں ہوں گے وہ لوگ جو اس جہاں اور وہاں کے اس انجام کو بھول کر اور اسے پس پشت ڈال کر اسی دنیا پر ریجھ گئے، اور اسی کے ہو کر رہ گئے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ ۔ سو اپنے رب کو کبھی نہیں بھولنا کہ وہ بہرحال تم سب پر نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ { اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَاد } ۔ اور اس کو بھولنا خود اپنے آپ کو بھولنا ہے اور خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ۔ { وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسَاہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُوْلٓئِکَ ہُمُ الْفٰاسِقُوْنَ } ۔ (الحشر : 19)
Ayah 2:76221 یہودیوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو اسی طرح مت مار کر رکھ دی جاتی ہے ان لوگوں کی جو راہ ِحق و ہدایت سے سرتابی کرتے، اور جان بوجھ کر منہ موڑتے ہیں۔ بھلا ان لوگوں کو دیکھئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ہدایت پانے والے، اہل کتاب ہونے کا شرف و امتیاز رکھنے والے اور انبیاء کرام ۔ عَلَیْہِمُ الصَّلٰٰٰوۃُ وَ السَّلاَمُ ۔ کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ لیکن حضرت خاتم الانبیاء پر اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی آخری اور کامل و جامع کتاب قرآن مجید پر ایمان لانے سے انکار کر کے یہ لوگ منصہ شرف سے حضیض مذلت میں اس طرح اور اس حد تک گرگئے کہ یہ اپنے ان لوگوں سے اس طرح کہتے تھے جو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو آنحضرت ﷺ کی ان صفات میں سے کچھ بتادیں جو کہ ان کی کتابوں میں آپ ﷺ سے متعلق وارد ہوئی تھیں۔ تو یہ ان سے کہتے کہ تم نے ایسے کیوں کیا اور مسلمانوں کو ان کے نبی سے متعلق ان صفات کی خبر کیوں دے دی، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں، اور تمہاری کتاب میں ذکر فرمائی ہیں۔ اس طرح تو مسلمان کل حشر میں تمہارے رب کے یہاں تمہارے خلاف حجت قائم کردیں گے، یعنی اگر تم ان کو بتاؤ گے نہیں، اور حق کو اس طرح چھپائے رکھو گے، تو پھر کوئی بات نہیں، گویا کہ پھر اللہ کو پتہ نہیں چلے گا، اور اس طرح کل قیامت کے روز ان کے خلاف حجت قائم نہیں ہو سکے گی۔ یہ حال ہے اس قوم اور ان لوگوں کا جو ایمان و یقین کے دعویدار اور انبیاء و رسل کی نسل اور ان کی اولاد میں سے ہونے کا زعم اور گھمنڈ رکھتے ہیں، اس وحدہ لاشریک کے بارے میں جو کہ " علیم بذات الصدور " ہے۔ ان لوگوں کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ اگر تم لوگ مسلمانوں کو نبی آخر الزماں سے متعلق ان صفات کی خبر نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں تمہارے خلاف کوئی حجت قائم نہیں ہوگی، گویا اللہ کو تمہارے اس جرم حق پوشی کا پھر کوئی پتہ نہیں چل سکے گا، سو اس سے بڑھ کر اندھے اور اوندھے پن کی اور محرومی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ؟ مگر ان بدبختوں کو اس کا احساس و شعور ہی نہیں جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیم -
Ayah 2:77222 اللہ تعالیٰ سے کسی بھی چیز کو چھپانا ممکن نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ : ـ سو جب اس وحدہ لاشریک کی صفت اور شان یہ ہے کہ وہ نہاں وعیاں کو ایک برابر جانتا ہے تو پھر اس سے کسی بات کو چھپا دینا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ پس یہ تم لوگوں کی اپنی حماقت اور سخت بھول ہے، جو تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس طرح حق پوشی کر کے تم لوگ اس قادر مطلق کی گرفت و پکڑ اور اس کے غضب و عقاب سے بچ جاؤ گے، اور تمہاری اس کج فکری نے تمہارا زاویہ نگاہ ہی بدل دیا اور تم لوگوں کو بگاڑ کر کہیں کا کہیں پہنچا دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد میں ان لوگوں کی تحمیق اور تجہیل پر تعریض ہے کہ کیا ان لوگوں کو اس قدر واضح اور اتنی بڑی حقیقت کا بھی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی چھپی اور ظاہری باتوں کو ایک برابر جانتا ہے۔ بہرکیف جیسا کہ حضرت حسن بصری ( (رح) ) وغیرہ حضرات نے فرمایا کہ یہود جب اہل ایمان سے ملتے تو کہتے کہ ہم ایمان لائے، لیکن جب تنہائی میں اپنے بڑوں سے ملتے تو کہتے کہ کیا تم ان مسلمانوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں، تاکہ یہ تمہارے رب کے یہاں تم پر حجت قائم کریں، کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ (قرطبی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ ان لوگوں کی حماقت اور مت ماری کا ایک نمونہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہ ایک اہم اور بدیہی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن دونوں کو ایک برابر جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 2:78223 یہود کی اپنی خود ساختہ امیدوں اور آرزوؤں کی پیروی : ـ مثلاً یہ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور پیارے ہیں ۔ { نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہ وَ اَحِبَّائُ ہ } ۔ نبیوں کی اولاد اور صاحبزادے ہیں، جو کچھ کرتے جائیں نہ ہماری کوئی پکڑ ہونی ہے، اور نہ ہمیں کوئی سزا ملنی ہے، اور اگر کوئی سزا ملی بھی تو محض گنتی کے کچھ دنوں کیلئے ۔ { اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ } ۔ تک ہوگی اور بس۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور قریب قریب یہی حال آج کے بہت سے جاہل مسلمانوں، اہل ھوی اور اصحاب زیع و ضلال کا ہے، وہ بھی اسی طرح کی " امانی " اور خود ساختہ امیدوں اور آرزوؤں کی بھول بھلیوں میں پڑے ہیں، ان میں بھی کتنی ہی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کو نہ اپنے دین کی مقدس تعلیمات کا کچھ پتہ، نہ اپنے فرائض و ذمہ داری سے آگہی، نہ عقائد کا علم، اور نہ اسلامی اخلاق کی خبر، بس کچھ رسوم و تقالید ہیں، جن پر یہ لوگ مست و مگن ہیں، اور کچھ مفروضے ہیں جن پر انہوں نے تکیہ اور آسرا کر رکھا ہے مثلاً یہ کہ ہم سید اور سید زادے ہیں۔ فلاں " گدی " اور دربار کے ملنگ اور مجاور ہیں۔ " نوری " اور " نورانی " ہیں۔ سگ درگہ فلاں اور فلاں حضرت کے تعلقدار ہیں وغیرہ وغیرہ۔ نہ نماز کی پروا نہ روزے کی فکر۔ نہ حلال و حرام کی تمیز نہ قرآن کی تعلیم سے آگہی اور نہ حدیث رسول سے شناسائی ۔ اِلاَّمَاشَائَ اللّٰہ ۔ ان میں سے بعض تو صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ صاحب ہم نے تو فلاں ہستی کا لڑ پکڑ رکھا ہے۔ بس وہی ہمیں کافی ہیں۔ ان ہی کو خوش رکھنا ہمارا کام ہے۔ وہ ہمارا تمام کام خود بنا دینگے۔ جہاں سے اونٹ گزرتا ہے اس کی دم بھی اس کے ساتھ گزر جاتی ہے۔ ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے۔ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے لوگ اسی طرح کی فلسفہ طرازیوں میں الجھے رہتے ہیں، اور اسی طرح کی سخن سازیوں میں مست و مگن رہتے ہیں ۔ تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ سو قرآن حکیم ایسے لوگوں کو طرح طرح سے جھنجھوڑتا اور خبردار کرتا ہے کہ اس طرح کی خود ساختہ آرزوؤں سے کچھ نہیں بنتا، یہ سب کچھ نفس و شیطان کا دھوکہ ہے، ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کام آنے والی چیز بہرحال انسان کا اپنا عقیدہ و عمل ہے اور بس ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔
224 یہودیوں کی ظن وتخمین کی پیروی اور اس کے شاخسانے : حالانکہ ظن وتخمین کی پیروی راہ حق میں کچھ کام آنے والی نہیں ۔ { وَاِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغْنِیْ مِنَ الْحَقّ شَیْئًا } ۔ مگر یہ لوگ اپنی متاع عمر اور فرصت حیات کو اسی طرح ضائع کرتے جارہے ہیں، اور کل جب فیصلہ کے اس مقام پر پہنچیں گے تو ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ تب یہ افسوس کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائینگے مگر عمر محدود اور فرصت عمل کی اپنی پونجی لٹا دینے کے بعد بےوقت کے اس افسوس سے ان کو حسرت و یاس میں اضافے کے سوا اور حاصل کچھ نہیں ہو سکے گا۔ یہی وہ سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ ہے، جس کی تلافی ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے میں قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کس قدر بڑا احسان ہے کہ وہ ان کو بار بار اور طرح طرح سے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر حق و ہدایت کی دعوت دیتا ہے، تاکہ خود ان کا بھلا ہو ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ اللہ تعالیٰ آخرت کی تیاری اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف یہودیوں نے اللہ کے کلام کو تحریف کے خراد پر چڑھا کر ایسا اور اس حد تک بدل دیا تھا کہ وہ کچھ کا کچھ ہو کر رہ گیا تھا۔ یہاں تک یہ بدبخت نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیرے میں ڈوب گئے تھے اور اوہام و ظنون کے ایک خود ساختہ گورکھ دھندے میں الجھ کر اور پھنس کر رہ گئے تھے۔ مثلا یہ کہ جنت میں یہود اور نصاریٰ کے سوا کوئی داخل ہی نہیں ہو سکے گا۔ اور یہ کہ دوزخ کی آگ ہمیں چھوئے گی بھی نہیں سوائے گنتی کے کچھ دنوں کے۔ اور اس طرح یہ لوگ محروم سے محروم تر ہوتے چلے گئے ان کو احساس و شعور بھی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:79225 تحریف کرنے والوں کیلئے بڑی سخت خرابی : ـ یعنی " ویل " کی تنوین تعظیم و تفخیم کیلئے ہے، اور " ویل " مصدر ہے " ویح " کی طرح، لیکن اس سے نہ کوئی فعل آتا ہے اور نہ ہی جمع (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ اور اس کے معنی خرابی، ہلاکت اور تباہی وغیرہ کے آتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ عذاب دوزخ میں مبتلا ہونے سے بڑھ کر ہلاکت و خرابی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اور سنن ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں وارد ہے کہ ویل سے مراد دوزخ کی ایک وادی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے حضرات سلف میں سے اکثر نے اس کا مصداق اسی کو قرار دیا ہے (صفوۃ البیان، روح المعانی، ابن کثیر، وغیرہ وغیرہ) ۔ سو کلام الہٰی میں تحریف اور اللہ کے ذمے ایسی بات لگانا جو اس نے نہیں فرمائی، بڑا ہی سنگین جرم ہے اور اس کا انجام نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس سلامتی کی راہ اور نجات کی راہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی تعلیم فرمودہ ہدایات اور اس کے ارشاد فرمودہ احکام واوامر کی پیروی کرے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف تحریف کرنے والوں کے لیے بڑی سخت خرابی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
226 جرم بالائے جرم کا ارتکاب۔ والعیاذ باللہ : سو کلام الہی میں اپنی طرف سے اضافے کرنے، اور پھر ان کو اللہ کی طرف منسوب کرنے اور اس طرح وہ جرم پر جرم کے مرتکب ہوتے ہیں کہ ایک طرف تو اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بدلنے کی سنگین جسارت کا ارتکاب کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ کتاب ہدایت کو بدل کر اس کی سچی اور نورانی تعلیمات سے خلق خدا کو محروم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور تیسری طرف وہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پر افترا باندھتے ہیں اور ایسی باتوں کو اس کے ذمے لگانے کی سعی مذموم کرتے ہیں جو اس نے نہیں فرمائیں ۔ تَعَالٰی وَتَقَدَّسَ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُُوًّا کَبِیْرًا ۔ اور اللہ پر افترا کرنے والوں سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے ؟۔ اور یہ سب کچھ ایسے بدبخت جانتے بوجھتے کرتے ہیں۔ کوئی بیخبر ی اور جہالت کی بنا پر نہیں۔ اور محض اس لیے کرتے ہیں کہ اس طرح یہ لوگ دنیائے دوں کے چند ٹکے کما سکیں۔ جس سے ان کی دنیا پرستی، خواہشات نفس کی پیروی اور لذت ایمان و یقین سے محرومی جیسے رذائل و قبائح ظاہر و واضح ہوجاتے ہیں اور انکے دعوائے ایمان کی قلعی کھل جاتی ہے مگر ان کو اپنی اس محرومی کا احساس و شعور ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
227 نور حق و ہدایت کے مقابلے میں دنیا ساری ہی ہیچ اور صفر ہے : ـ کہ اول تو دنیا ساری ہی آخرت کے مقابلے میں قلیل اور بےحقیقت ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ } ۔ (النسائ : 77) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوۃ الدُّنْیَا فِی الآخِرَۃ الاَّ قَلِیْلٌ } ۔ (التوبۃ : 38) ۔ اور حدیث شریف میں حضرت نبئ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " اگر اس ساری دنیا کی قدرو قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا " ( ترمذی، باب الزھد) ۔ نیز حضرت جابر ؓ کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ آپ ﷺ نے بکری کے مرے ہوئے ایک ایسے بچے کو جس کے کان بھی چھوٹے چھوٹے تھے ( یعنی وہ بچہ تھا) کان سے پکڑ کر لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے کون ہے جو اس کو ایک درہم کے بدلے میں لینے کو تیار ہو ؟ تو اس کے جواب میں صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ کوئی بھی نہیں، اس کو ہم کیا کرینگے۔ یہ اگر زندہ ہوتا تو بھی ہم اسے لینے کو تیار نہ ہوتے کہ یہ عیب دار ہے، کہ اس کے کان چھوٹے چھوٹے ہیں، تو اب اس حالت میں جبکہ یہ مرا ہوا اور مردار ہے اسے کوئی لے کر کیا کرے گا ؟ تب اللہ کے رسول ۔ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم ۔ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ کے یہاں اس سے بھی کہیں زیادہ گھٹیا اور گئی گزری ہے، جتنا کہ تمہارے نزدیک بکری کا یہ مرا ہوا بچہ ہے " فَوَ اللّٰہ اَلدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللّٰہ مِنْ ہٰذَا عَلَیْکُمْ " تو جب پوری دنیا کی بھی اللہ پاک کے یہاں یہ حقیقت و حیثیت ہے، تو پھر اس کے کچھ ٹکوں کی اور وہ بھی حق فروشی اور حق پوشی کے عوض و بدلہ میں ملنے والے ٹکوں کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اسی عظیم حقیقت کو ہم نے یہاں اپنے ترجمے میں ظاہر کرنے کی امکانی تک کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو اصل چیز دین و ایمان کی دولت بےمثال ہے، جسکے بعد دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر، جبکہ اس کے بغیر دنیا ملے تو بھی عذاب، اور نہ ملے تو بھی عذاب۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دولت ایمان و یقین ایک عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے ۔ والحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان ۔
228 دین فروشی کے بدلے میں کی جانے والی کمائی بہت ہی بری کمائی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین فروشی اور تحریف کے ذریعے کی جانے والی کمائی بہت ہی بری کمائی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ـ سو یہ لوگ کتمان حق اور دین فروشی کے ذریعے ایسے ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں کہ اس طرح یہ لوگ دنیا کے ان عارضی اور فانی فائدوں پر ریجھ کر آخرت کے دائمی اور ہولناک عذاب کو اپنانے کا سامان کرتے ہیں، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح یہ لوگ ہدایت سے خود بھی محروم ہوتے ہیں، جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کو بدل سدل کر یہ لوگ دوسروں کو بھی محروم کرنے کے دوہرے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو پھر اس سے بڑھ کر خبیث او بری کمائی اور کون سی ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف دین فروشی اور کتمان حق یعنی حق کو چھپانے کا جرم ایک نہایت سنگین جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذریعے حاصل کی جانے والی کمائی حرام اور گناہ کی کمائی ہے، اور حرام کمائی جب کسی جسم میں جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ مسلوب التوفیق اور مسلوب الخیر ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حق و ہدایت کی دولت ایسی عظیم الشان اور اس قدر بےمثال دولت ہے کہ پوری دنیا بھی اس کے مقابلے میں ہیچ اور صفر ہے جبکہ اصل اور حقیقی دولت جنت کی نعیم مقیم ہی کی دولت ہے۔ اور اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے جو کہ ابدی اور لا محدود زندگی ہے اور جس میں کامیابی کی اساس و بنیاد تقویٰ و پرہیزگاری ہی پر ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قل متاع الدنیا قلیل والآخرۃ خیر لمن اتقی ولا تظلمون فتیلا } ۔ ( النساء : 77) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سو بڑے ہی بدبخت اور محروم القسمت ہیں وہ لوگ جو دنیائے دوں کے چند ٹکوں کی خاطر دین فروشی کے ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس طرح اپنے لیے دائمی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:80229 بنی اسرائیل کی خودساختہ آرزوؤں کا ذکر وبیان : سو اس سے بنی اسرائیل کی خود ساختہ آرزوؤں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلا یہ کہ ہمیں دوزخ کی آگ چھوئے بھی نہیں مگر گنتی کے کچھ دن یعنی صرف چالیس دن کہ اتنے ہی دن ہم نے گو سالہ پرستی کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ یا صرف سات دن۔ کیونکہ یہود بےبہبود کے نزدیک دنیا کی کل عمر صرف سات ہزار برس ہے، اور ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں ہر ہزار برس کے جرائم کے عوض صرف ایک دن کی سزا ملے گی، اس طرح کل سات دن تک عذاب ہوگا اور بس۔ (جامع البیان، صفوۃ البیان، المراغی، الروح وغیرہ) ۔ سو یہ ان لوگوں کی اپنی خود ساختہ امیدوں اور من گھڑت آرزوؤں کا ایک نمونہ ہے۔ سو ایسے ہی محرومی اور بدنصیبی کے دھکے لگتے ہیں، ان لوگوں کو جو اللہ کی عطا کردہ ہدایت و رہنمائی سے منہ موڑ کر، اپنی من مانی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سلامتی اور راست روی کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو ترک کرکے حق و ہدایت کی اس راہ کو اپنائے، اور اسی بات کی پیروی کرے جو اس کو اس کے خالق ومالک کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے کہ اسی میں اس کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اسمیں اپنی طرف سے کوئی بات شامل نہ کرے۔
230 یہود کے ایک زعم فاسد کی تغلیط و تردید : کہ ہمیں دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں سوائے گنتی کے کچھ دنوں کے۔ سو یہ لوگ اللہ کے ذمّے ایسی بات لگاتے ہیں جس کی بارے میں یہ جانتے نہیں کہ اللہ پاک کے کلام کی تحریف کرنا، اور اس پر افترا باندھنا کس قدر سنگین اور کتنا ہولناک جرم ہے۔ سو اتنی بڑی بات تم لوگ کس بنیاد پر کہہ رہے ہو۔ اس بات کا تعلق چونکہ محض غیب سے ہے اور آخرت کے اس جہاں سے ہے جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، اور غیب کی بات کو جاننا سوائے وحی خداوندی کے ممکن نہیں۔ اب تم بتاؤ کہ تم لوگ آخر ایسی بڑی بات کس بنیاد پر کہتے ہو ؟ کیا تمہارے پاس غیب کی ایسی کوئی خبر اور اللہ تعالیٰ کا کوئی عہد جو اس نے تم سے اس بارہ فرمایا ہو کہیں ہے ؟ اگر ہے تو بتاؤ وہ کہاں ہے ؟ اور اگر ایسا کوئی عہد نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر تم لوگ اللہ پہ افتراء باندھتے ہو، اور اللہ پر یہ افترا باندھنے سے بڑھ کر ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اب تم لوگ اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لو کہ تم لوگ کہاں کھڑے ہو اور کس انجام کی طرف بڑھے چلے جارہے ہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 2:81–82231 خطا کاریوں کا احاطہ اور اس کا نتیجہ : سو بنی اسرائیل کے مذکورہ زعم فاسد کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو دوزخ کی آگ چھوئے گی کیوں نہیں جبکہ قانون عام یہ ہے کہ جس نے برائیوں کی کمائی کی اور یہاں تک کہ گھیر لیا اس کو اس کی خطاکاریوں نے تو ایسے لوگ یقینا دوزخی ہیں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ سو جس کی خطا کاریوں نے اس کو گھیر لیا اور اس کی خطاکاریوں کی ظلمت اس کے قلب و باطن پر چھاگئی ہو، اور اس طرح کہ اس میں ایمان و یقین اور خوف و خشیت خداوندی کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہ گئی ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت اور یہ انجام کفر و شرک ہی کا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے یہاں پر " خطیئۃ " اور خطا کاریوں، سے مراد عام اور ابتدائی نوعیت کی خطائیں اور خطاکاریاں نہیں، بلکہ یہاں پر اس سے مراد اس کا آخری درجہ ہے، یعنی کفر و شرک ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے حضرات مفسرین کرام نے اس کو بالعموم اسی پر محمول کیا ہے، (مدارک، روح، ابن کثیر، المراغی، محاسن التاویل، اور صفوۃ، وغیرہ) ۔ سو جس کو اس کی خطاکاریوں نے اس طرح اپنے گھیرے میں لے لیا ہو، وہ دوزخ کا یار بن جائے گا اور اس کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو جو کہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں خطا کاریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 2:83234 بنی اسرائیل سے عبادت و بندگی کا عہد : ۔ کہ عبادت و بندگی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی کرنی ہے۔ سو وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ تم عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کی کرنی ہے کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وَحْدَہُ لا شَرِیْک ہے۔ پس عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کیلئے مختص اور خاص اس کا حق ہے، خواہ وہ بدنی ہو یا مالی، یا دونوں سے مرکب، اور قلبی ہو یا لسانی، سب اسی وَحْدَہُ لا شَرِیْکَ کا حق ہے۔ ان میں سے کوئی قسم بھی اس کے سوا اور کسی کے لئے بجا لانا جائز نہیں، اور ایسا کرنا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا اور ان اوامرو احکام کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی جو حضرت حق جل مجدہ نے بنی اسرائیل کو فرمائے تھے، اور ان میں سب سے پہلا جو حکم فرمایا گیا وہ حضرت حق جل مجدہ کی عبادت و بندگی کا حق ہے جو کہ سب سے اہم، سب سے مقدم اور سب سے اعلی وبالا حق ہے، اور اس میں دور حاضر کے یہود و نصاری اور دوسروں کیلئے بھی درس ہے کہ تم سب بھی عبادت و بندگی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی بجا لاؤ، کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ و تعالی۔
235 والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین : کہ سچے دل سے ان کی تعظیم و تکریم کرو، بدنی و مالی ہر طرح سے ان کی خدمت کرو اور قولی و فعلی کسی طرح کی ان کو ایذا مت پہنچاؤ وغیرہ وغیرہ۔ قرآن حکیم میں اس آیت کریمہ میں اور اس کے علاوہ دوسرے بھی کئی مقامات پر والدین کے حق کو حق اللہ کے ساتھ ذکر وبیان فرمایا گیا ہے، جس سے حقوق والدین کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور اس کی ایک ظاہری اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کا اور ہر مخلوق کا خالق اور موجد تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، مگر اسباب کی اس دنیا میں انسان کے ظہور و وجود اور اس کی تربیت و پرورش کا ظاہری سبب و ذریعہ اس کے والدین ہی ہوتے ہیں، اس لیے عقلی اور فطری طور پر ان کا حق مخلوق میں سب سے مقدم اور سب پر فائق ہی قرار پاتا ہے۔ اسی لیے حضرت حق جل مجدہ نے اپنے حق کے ساتھ اس کو ذکر فرمایا ہے۔ اور احادیث شریفہ میں بھی ماں باپ کے حقوق کو اسی طرح حق اللہ کے بعد سب سے اہم حق کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے، اور یہ درس دیا گیا ہے کہ سب سے اہم اور سب سے اولین حق تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، اس کے بعد ماں باپ کا حق ہے، کہ اس کے وجود و بروز کا ذریعہ و وسیلہ وہی ہیں۔
236 تمام لوگوں سے حسن سلوک کی تعلیم و تلقین : " الناس " کا لفظ عام ہے۔ مومن غیر مومن سب ہی کو شامل ہے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ہر کسی سے اچھائی اور بھلائی ہی کی بات کرو خواہ وہ کوئی مومن ہو یا غیر مومن۔ اور بھلی بات میں بنیادی طور پر تین باتیں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ بات حق اور سچ ہو۔ دوسرے یہ کہ حق بات کہتے ہوئے نیت بھی بھلائی اور خیر خواہی کی ہو۔ تیسرے یہ کہ کہنے کا انداز بھی درست ہو۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ " حق کہو، حق کیلئے اور حق کے ذریعے "۔ بالفاظ دیگر۔ " الْجَہْرُ بالْحَقّ لَہٗ وَبِہٖ " ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ آج سے کوئی بیس اکیس سال قبل ہم نے اپنی جماعت کے ایک لیٹر پیڈ پر انہی کلمات کو نصب العین اور ماٹو کے طور پر طبع کرایا تھا۔ بہرکیف ۔ { قُوْلُوْ للنَّاس حُسْنًا } ۔ کا ارشاد ربانی جو کہ بظاہر ایک چھوٹا سا جملہ ہے، حقیقت میں ایک عظیم الشان ارشاد ہے، جو مکارم اخلاق کی ایک اہم اساس و بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آج اسی پر صحیح طور پر عمل کرلیا جائے تو معاشرے کی اصلاح میں ایک انقلابی نوعیت کی تبدیلی آسکتی ہے، مگر افسوس کہ آج مسلمان اس کے علم اور اس سے استفادہ کرنے سے محروم اور بےبہرہ ہے۔ اس کو اس کا پتہ ہی نہیں کہ اس کا دین اس کو کیا سکھاتا، بتاتا اور ہدایت کرتا ہے ۔ الاماشاء اللہ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم جَلَّ وَ عَلا ۔ اللہ مکارم اخلاق کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
237 عہد شکنی یہود کی موروثی خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہو ہی پھرنے والے یعنی عہد شکنی اور وعدہ خلافی تمہاری عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اور یہ چیز تمہارے لئے اجتماعی وطیرے اور قومی روگ کی حیثیت اختیار کرگئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کرتوت تو تمہارے یہ ہیں اور دعوے یہ کہ " جنت میں ہمارے سوا کوئی جائے گا ہی نہیں " اور یہ کہ " دوزخ کی آگ ہمیں چھوئے گی بھی نہیں "۔ ذرا سوچو اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو کہ تمہارے کرتوت کیا ہیں اور تم خبط کیسے کیسے رکھتے ہو ؟ یہ منہ اور مسور کی دال ؟ ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تھوڑے سے لوگوں کے سوا باقی سب اپنے عہد سے پھرگئے۔ اور تم لوگ ہو ہی پھرنے والے اور عہد شکنی تمہاری مستقل اور موروثی خصلت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے اس طرح کا کوئی خصوصی وعدہ نہیں فرمایا تھا بلکہ اس نے تم لوگوں سے یہ عہد لیا تھا کہ تم نے عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کی کرنی ہے اور اپنے والدین، رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کی خبرگیری کرنا۔ اور عام لوگوں کے ساتھ خوش خلقی اور خندہ روئی سے پیش آنا۔ مگر تم نے اس عہد کو بھی توڑ ڈالا بجز تھوڑے سے لوگوں کے کہ وہی اس پر قائم رہ سکے۔ اکثریت نے اس کو پس پشت ڈال دیا۔ سو عہد شکنی یہودیوں کی موروثی خصلت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 2:84–85238 دوسروں پر زیادتی خود اپنے اوپر زیادتی ہے : یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو، اور اپنے ہم مذہب بھائیوں کو، ان کے گھروں سے نہیں نکالنا مگر اس کو یہاں پر تعبیر " اَنْفُسَکُمْ " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے کہ تم خود اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نہیں نکالنا، سو اس میں بڑی بلاغت اور معنویت ہے، کہ اس سے یہ عظیم الشان درس ملتا ہے کہ اپنے بھائیوں کو ان کے گھروں سے نکالنا گویا خود اپنے آپ ہی کو نکالنا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ تمہارے بھائی تم ہی میں سے ہیں " بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ " کہ تم سب آپس میں ایک ہی جسم کی حیثیت رکھتے ہو۔ تو ان کو نکالنا گویا خود اپنے آپ کو نکالنا ہے، اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح جب گھروں سے نکالنے کا یہ راستہ کھل گیا اور یہ ریت چل پڑی تو جس طرح آج تم نے ان کو نکالا ہے، کل وہ تمہیں نکالیں گے، تو گویا تم نے خود ہی اپنے آپ کو نکال باہر کیا، کہ یہ خود تمہارے اپنے کیے کا بدلہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
239 یہود کی عہد شکنی انکے اقرار کے باوجود : ۔ سو یہود نے خود گواہی دینے اور اپنے قول وقرار کا عہد کرنے کے باوجود عہد شکنی کے جرم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی تم اس پر خود گواہی دے رہے ہو کہ واقعی ہمارے بڑوں نے ایسے کیا تھا یعنی تمہیں اپنے اس عہد و پیمان سے انکار نہیں، بلکہ تم اس کو اور اس کی ذمہ داریوں کو مانتے اور تسلیم کرتے ہو، " مدینہ منورہ " میں مشرکین کے دو بڑے قبیلے آباد تھے۔ " اوس " اور " خزرج "۔ جن کی آپس میں ہمیشہ جنگ اور خونریزی چلتی رہتی تھی، تاآنکہ اسلام کی رحمتوں بھری اور انقلاب آفریں تعلیمات مقدسہ نے آ کر ان کو باہم شیر و شکر کردیا، ادھر یہود کے بھی مدینہ طیبہ میں دو بڑے قبیلے آباد تھے " بنو قریظہ " اور " بنونضیر " اپنی مشہور و معروف شر انگیزی اور فطری سازشی مزاج کے علاوہ یہود چونکہ وہاں پر اقلیت کی حیثیت میں رہتے تھے اس لئے بھی انہوں نے مشرکین کے ان دو قبیلوں کے ساتھ محبت و دوستی کی پینگیں بڑھائیں، اور ان کے ساتھ وہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ چناچہ بنوقریظہ اوس کے حلیف اور دوست بن گئے، اور بنو نضیر خزرج کے۔ اور جب ان دونوں کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ بھی اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر باہم لڑتے اور آپس میں ایک دوسرے کے قتل و خونریزی کا ارتکاب کرتے اور ایک دوسرے کو جلا وطن کرتے، مگر جب کوئی یہودی گرفتار ہو کر اور قیدی بن کر آتا، تو یہ سب مل کر روپیہ پیسہ جمع کرتے، اور پھر زر فدیہ ادا کر کے اسے چھڑا دیتے، اور کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے، کہ جب ہمارا کوئی ہم مذہب بھائی قید ہوجائے، تو اس کو فدیہ دے کر چھڑانا ہم پر واجب ہے۔ جنگ اور باہمی قتل و خون ریزی تو وقت کا تقاضا، اور دنیوی مصلحت و ضرورت وغیرہ وغیرہ، سو ان آیات کریمہ میں ان کے اسی کردار و عمل پر تبصرہ فرما کر ان کے ضمیر کو جھنجوڑا گیا ہے، مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کی اکثریت کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، وہ بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے آپس کے سر پھٹول، اور قتل و خونریزی، میں ملوث و مبتلا ہیں، یہاں تک کہ اپنے دشمنوں سے مل کر اپنے بھائیوں کو قتل کرانے کے مظاہر بھی جابجا موجود ہیں، جسکو دیکھ کر ایک درد مند انسان کی نگاہیں شرم کے مارے جھک جاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دین حق کی پیروی نہیں بلکہ خواہشات نفس کی پیروی ہے، اور ظن و گمان کے پیچھے چلنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayahs 2:86–87244 دنیا کی آخرت پر ترجیح بیماریوں کی بیماری ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ ہے بیماریوں کی بیماری، اور خرابیوں کی جڑ بنیاد، کہ انسان آخرت کی اپنی حقیقی ابدی اور دائمی زندگی کو بھول کر اور اسے پس پشت ڈال کر اسی دنیائے دوں کیلئے جینے اور اسی کیلئے مرنے لگے۔ یہی حال تھا ابنائے دنیا کا کل بھی، اور یہی حال ہے انکا آج بھی۔ ان کے نزدیک سب کچھ بس یہی دنیائے فانی اور اس کا حطام زائل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ قرآن حکیم اپنی انقلاب آفریں اور پاکیزہ تعلیمات کے ذریعے جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس خیال باطل پر ضرب لگاتا ہے، کہ لوگو ! اس دھوکے میں نہیں پڑنا، کیونکہ اصل زندگی بہرحال آخرت ہی کی زندگی ہے، جیسا کہ سورة الاعلی میں فرمایا گیا ۔ { بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وََالآخِرَۃُ خَیْْرٌ وَّ اَبْقٰی } ۔ (الاعلی : 16- 17) ۔ یعنی " تم لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت اس سے کہیں بڑھ کر اچھی بھی ہے، اور ہمیشہ رہنے والے بھی " سو ایسے میں آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینا خرابیوں کی خرابی اور خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیا میں بقدر ضرورت و کفایت ہی مشغول ہونا چاہیے اور بس ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
245 نور ایمان و یقین سے محروم لوگوں کا ہولناک انجام ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے بدبختوں کو ہمیشہ اسی ہولناک عذاب میں رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو جس بدنصیب کا انجام یہ ہونے والا ہے، اس کو اگر آج اس دنیا کی ساری دولت بھی مل جائے، تو بھی اسے کیا ملا، وہ تو بہرحال محروم اور سراسر محروم اور پرلے درجے کا خائب و خاسر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے برعکس جس کو آخرت کی وہ دائمی اور سدا بہار کامیابی نصیب ہوگئی، وہ کتنا بڑا خوش نصیب اور فائز المرام انسان ہے، اگرچہ اس دنیا میں اس کو پیٹ بھر کر کھانے کو بھی نہ ملا ہو، اور تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا بھی نصیب نہیں ہوا ہو۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت کتنی بڑی دولت ہے، جس سے حضرت حق جَلّ جَلالہُ نے محض اپنی رحمت و عنایت سے ہمیں نوازا ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اور دولت ایمان سے محرومی کتنی بڑی محرومی اور کس قدر ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔