Ayah 2:88248 یہود کے عجب و استکبار کا ایک نمونہ : سو یہ ان کے اسی مذکورہ بالا استکبار کا ایک نمونہ اور ثبوت ہے، جس کی بناء پر انہوں نے کلمہء حق کے لئے اپنے دلوں کے دروازے بند کردیئے تھے اور " غلف " یا تو جمع ہے " اغلف " کی، جیسے " حمر " جمع ہے " احمر " کی اور " صفر " جمع ہے " اصفر " کی، اور " اغلف " ایسی شے کو کہتے ہیں، جو کسی پردہ اور غلاف میں ڈھکی اور چھپی ہوئی ہو۔ مطلب ان کے کہنے کا یہ تھا کہ ہمارے دل پردوں میں بند اور محفوظ ہیں۔ آپ کی بات ان تک نہیں پہنچ سکتی، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِی اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنََا اِلَیْہِِ } ۔ (حٰمٓ السجدۃ :5) اور یا " غلف " جمع ہے " غلاف " کی، جیسے " کتب " جمع ہے " کتاب " کی۔ صرف اتنا ہوا کہ " غُلْفٌ " میں لام کے ضمہ کو تخفیف کیلئے سکون سے بدل دیا گیا۔ اور " غلاف " کے معنی ظرف اور برتن کے آتے ہیں۔ تو اب معنی یہ ہوگا کہ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ ہمارے دل چونکہ علوم و معارف سے بھرے ہوئے برتن ہیں، لہذا ہمیں تمہاری بات سننے کی ضرورت نہیں۔ مجاہد ( (رح) ) اور قتادہ ( (رح) ) وغیرہ نے پہلے معنی اختیار کئے ہیں، اور حضرت ابن عباس ؓ نے دوسرے۔ اسی لئے آپ " غلف " کو " غُلُف " پڑھتے تھے یعنی لام کے ضمہ (پیش) کے ساتھ۔ بہرکیف لفظ " غلف " میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں، اور دونوں ہی یہود کے اس استکبار کے نمونے ہیں جو ان کیلئے لعنت و پھٹکار، اور شقاوت و حرماں نصیبی کا باعث بنا، اور یہ ہمیشہ کیلئے محروم اور " مغضوب علیہم " قرار پاگئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔
249 یہود پر اللہ کی لعنت و پھٹکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ ان لوگوں پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہے ان کے کفر کی بنا پر۔ یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح یہ لوگ کہتے اور سمجھتے ہیں، کہ ان کے دل بند اور محفوظ ہیں، یا ان کے دل علوم و معارف کے بھرئے ہوئے برتن ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان پر لعنت اور پھٹکار پڑگئی اللہ پاک کے اس قانون عدل و انصاف کی بنا پر، جو کہ اسباب و مسببات کی اس دنیا میں جاری اور کارفرما ہے، کہ انہوں نے جب اپنے ارادہ و اختیار سے حق اور ایمان کی بجائے کفر و انکار کا راستہ اپنالیا، تو اس کے نتیجے میں یہ اس انجام سے دوچار ہوئے، اور ان کو یہ بھگتان بھگتنا پڑا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ نے تو اپنی رحمت عامہ سے ان کو بھی دوسرے تمام انسانوں کی طرح فطرت سلیمہ پر پیدا فرمایا تھا۔ مگر جب انہوں نے خود راہ راست کو ترک کر کے الٹے راستے کو اختیار کیا، تو یہ لوگ اس لعنت و پھٹکار کے حقدار بن گئے۔ سو جب انہوں نے ٹیڑھے پن کو اختیار کیا تو ان کو اسی کے حوالے کردیا گیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، کہ جب انہوں نے بدی کے راستے کو اپنایا تو اس نے ان کو اسی راہ پر چھوڑ دیا، کیونکہ ہدایت کی دولت ایسے لوگوں کو نہیں مل سکتی، جو اس کی طلب سے محروم اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہوں ۔ فَلَمَّا زَاغُوْآ اَزََاغََ اللّٰہُ قُلُوْبََہُمْ ۔ تو اس طرح ان بدبختوں نے اپنی فطری استعداد کو خود ضائع کردیا، اور کان آنکھ وغیرہ قواء علم و ادراک کو انہوں نے اپنے اوپر خود بند کردیا ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { اُوْلٓئِکَ الَّذِیْنََ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰٰٓی اَبْْْصَارَہُمْ } ۔ (محمد : 23) اور یہ اسی لعنت و پھٹکار کا اثر و نتیجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اس ہولناک نقصان و خسران پر افسوس کرنے کی بجائے الٹا اس پر فخر جتلاتے ہیں، سو ایسے ہی ہوتی ہے خداوند قدوس کی بےآواز لاٹھی کی مار ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
250 ایمان قلیل سے مراد اور اس کا حکم ؟ : " قَلِیْلاً " یہاں پر ایمان کی صفت بھی ہوسکتا ہے، یعنی " اِیْمَانًا قَلِیْلاً " اور مراد اس ایمان قلیل سے ان کا وہ نام نہاد ایمان ہے جو یہ اپنی کتاب کے کچھ حصے پر رکھتے تھے، اور کچھ پر نہیں رکھتے تھے، جس کا ذکر ابھی اوپر آیت نمبر 80 میں بھی آچکا ہے اور جس کا یہ لوگ زبانی کلامی دعوی بھی کرتے تھے۔ مگر ان کا یہ ایمان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اول تو اس لئے کہ ایمان ایسی چیز ہے ہی نہیں جو تقسیم و تجزیہ کے قابل ہو کہ کچھ چیزوں کو مان لو اور کچھ کو نہ مانو۔ اور دوسرے اس لئے کہ ان کا یہ ماننا بھی ہوائے نفس کے تابع ہے کہ جو چیز خواہشات نفس کے مطابق پائی مان لی اور جو اس کے خلاف ہوئی نہ مانی۔ اس طرح یہ امر تو اتباع ھدیٰ سرے سے ہے نہیں بلکہ یہ اتباع ھویٰ ہے جو کہ حق کی ضد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں پر قلت بمعنی عدم کے ہے۔ یعنی تم لوگ سرے سے ایمان رکھتے ہی نہیں ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس دین کے کچھ حصے کو ماننا اور کچھ کو نہ ماننا کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور محض زبانی کلامی دعوے کرنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک ایمان کی حقیقت دل میں اتری ہوئی نہ ہو اور عمل و کردار سے اس کی تصدیق نہ ہوتی ہو، مگر افسوس کہ آج کتنے ہی نام نہاد مسلمان بھی ایسے ہیں جو اس یہودی بیماری میں بری طرح مبتلا ہیں، وہ ایمان کے بلند بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر عمل کے لحاظ سے ان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ الا ماشاء اللہ ۔ وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے، سود کھاتے، جواء کھیلتے، شراب پیتے اور طرح طرح کے مکر و فریب سے دوسروں کا حق مارتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسرا احتمال " قَلِیْلاً " کے اس لفظ میں یہ ہے کہ یہ ایمان کی نہیں لوگوں کی صفت ہو، یعنی بہت کم لوگ ان میں ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہوں، اکثریت ان میں بےایمانوں ہی کی ہے۔ اور یہ قرآن پاک کے عدل و انصاف کا ایک مظہر ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا کہ سب ہی یہود بےبہبود کو ان کے ظلم وعدوان کی بناء پر ایک ہی لاٹھی سے ہانک دے، بلکہ یہ ارشاد فرمایا کہ ان کی اکثریت اگرچہ بےایمانوں بدکاروں کی ہے مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو میانہ رو، اور سچے ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ ور و سرشار ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر بھی ارشاد فرمایا۔ (المائدۃ۔ 96) ۔
Ayah 2:89251 " یَسْتَفْتِحُوْنَ " کا مطلب اور اس سے مراد ؟ : " یَسْتَفْتِحُوْنَ " " فَتَحَ " سے ماخوذ ہے جس کے معنی کھولنے اور بیان کرنے کے آتے ہیں جیسا کہ اوپر آیت نمبر 76 میں انہی لوگوں کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے { أَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ } ۔ " کیا تم ان [ مسلمانوں ] کو وہ کچھ بتا رہے ہو جو اللہ نے تم پر کھولا ہے " اور اسی بناء پر جب کوئی قاری کوئی آیت بھول جائے اور کوئی اس کو بتائے تو عربی محاورے میں اس کو یوں کہتے ہیں " فَتَحَ عَلٰی الْقَارِیْ اَیْ عَلَّمَہٗ الْاٰیۃ الَّتِیْ یَنْسَاہَا " یعنی فلاں شخص نے قاری صاحب کو فتحہ [ لقمہ ] دیا یعنی وہ آیت اس کو بتادی جس کو وہ بھول رہا تھا۔ سو اس صورت میں " یَسْتَفْتِحُوْنَ " میں حرف سین اور تاء زائد ہوں گے، جن کو محض تاکید کیلئے بڑھایا گیا ہے، جیسا کہ۔ " اِسْتَعْصَم "، " اِسْتَصْرَخَ " اور " اِسْتَعْجَبَ " وغیرہ کلمات میں پایا جاتا ہے، اس بناء پر اس آیت کریمہ میں " یَسْتَفْتِحُوْنَ " کا معنی یہ ہوگا کہ یہ لوگ اس سے پہلے مشرکین سے بیان کرتے اور ان کو یہ بتایا کرتے تھے کہ عنقریب جو نبی آخرالزماں تشریف لانے والے ہیں، وہ اہل ایمان کی تائید و مدد کرینگے، اور کفار و مشرکین کو سزا دیں گے (تفسیر التحریر والتنویر للعلامہ ابن عاشور (رح) ) اسی لئے اردو کے بعض معتبر تراجم میں اس لفظ کا ترجمہ " بتایا کرتے تھے، ، کے الفاظ سے کیا گیا ہے، اور اسی بناء پر یہ لفظ یعنی " فتح " فیصلہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورة اعراف کی آیت نمبر 89 میں فرمایا گیا ۔ { رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنََ قَوْمِنَا بِاِلْحَقّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ } ۔ " اے ہمارے رب، فیصلہ فرما دے ہمارے درمیان، حق کے ساتھ، اور تو ہی ہے سب سے اچھا فیصلہ فرمانے والا " اور جیسا کہ سورة انفال کی انیسویں آیت کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنْ تَسْتَفْتِحُوْ فَقَدْ جَآئَ کُمُ الْفَتْحُ } ۔ " اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو بیشک آچکا تمہارے پاس وہ فیصلہ " اور چونکہ ایسے فیصلے کے ذریعہ حق والوں کی نصرت اور مدد ہوتی ہے۔ اس لئے " فتح " کا لفظ نصرت اور مدد کیلئے بھی آتا ہے۔ اس اعتبار سے " یَسْتَفْتِحُوْنَ " کا معنی و مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ اس سے پہلے اللہ پاک کے حضور فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، کہ وہ نبی آخرالزماں جلد تشریف لائیں تاکہ ان کے جھنڈے تلے جمع ہو کر ہم کفار و مشرکین سے لڑیں، اور ان دشمنوں پر بھرپور طریقے سے فتح و غلبہ حاصل کریں اور اسی امیدو انتظار کی بناء پر وہ مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ وہ " نبی منتظر " اب آنے ہی والا ہے، اس کی تشریف آوری کا زمانہ اب قریب ہی آ لگا ہے۔ اور جب وہ آجائیگا تو ہم ان کے ساتھ ہو کر تم سے لڑینگے، اور تمہارا اس طرح صفایا کریں گے جس طرح کہ عاد و ارم کا صفایا کردیا گیا " نَقُتَلُکُمْ مَعَہٗ قَتْْلَ عََادٍ وَ اِِرَمٍ " الخ (تفسیر المنار، المراغی وغیرہ) ابن جریر وغیرہ محققین نے اس بارے میں ارشاد فرمودہ روایات کا مطلب یہی بیان کیا ہے، کہ وہ لوگ اللہ پاک سے دعائیں مانگا کرتے تھے کہ وہ وقت جلد آجائے جبکہ وہ نبی منتظر جلد تشریف لائیں، تاکہ ہم ان کے ساتھ ہو کر اور ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر ان مشرکین سے لڑیں، اور ان روایات میں سے بعض میں " بِحَقّٰہٖ " کے جو الفاظ آئے ہیں، اول تو وہ صحت اور سند کے اعتبار سے درست نہیں، اور دوسرے یہ الفاظ اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں، کیونکہ اللہ کے ذمے کسی کا کوئی حق ہے ہی نہیں، جس کے ذریعے اس سے اس طرح سوال کیا جائے، جیسا کہ امام ابوحنیفہ ( (رح) ) وغیرہ ائمہ کرام اور دوسرے علماء و محققین نے فرمایا ہے (تفسیر المنار وغیرہ) ۔ پس اس تفصیل سے " یَسْتَفْتِحُوْنَ " کا مفہوم پوری طرح واضح ہوگیا، کہ اس سے مراد ہے فتح و نصرت کی دعائیں مانگنا، اور اس نبی منتظر کی تشریف آوری سے متعلق خبر دینا، اور ان پیشینگوئیوں کو بیان کرنا۔ لہذا اب اہل بدعت کے لئے اس ارشاد ربانی سے اپنے شرکیہ عقائد کیلئے سہارا لینے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ لاَتَتِمُّ الصَّالِحَات الاَّ بِتَوْفِیْقٍ مِّنْہُ جَلَّ وَعَلاََ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین
252 انسان کفور کی ناشکری کا ایک مظہر : یعنی اس سے پہلے ان کا حال یہ تھا کہ یہ اس نعمت کبری یعنی بعثت محمدیہ کے منتظر تھے، اور اس کیلئے دعائیں کیا کرتے تھے لیکن جب حضرت واہب مطلق نے اپنے کرم بےپایاں سے ان کو اس سے مشرف و سرفراز فرما دیا تو یہ اس کے منکر ہوگئے، اور یہی عام وطیرہ رہا ہے ایسے انسان کفور کا، کہ نعمت ملنے پر وہ اس کی ناقدری اور ناشکری کرتا ہے، اور اس طرح وہ اپنے رویئے سے اس نعمت کو نقمت بنا دیتا ہے، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو شکر نعمت باعث سرفرازی اور کفران نعمت موجب محرومی، ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید } ۔ (ابراہیم :7) ۔ سو عناد و ہٹ دھرمی اور حقد و حسد باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ انہی دو آفتوں کی بنا پر یہود بےبہبود نے پیغمبر آخر الزمان کی بعثت و تشریف آوری کا جانتے بوجھتے انکار کیا اور ہمیشہ کی محرومی اور ذلت و خواری کا شکار ہوئے۔ اور بجائے اس کے کہ وہ راہ حق و ہدایت میں لوگوں کے مقتدا و پیشوا بنتے، وہ الٹا کفر و ضلالت کے امام بن گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
253 کفر و انکار موجب لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : ان کے اس رویئے اور طرز عمل کی بناء پر، کہ انہوں نے اتنی بڑی نعمت کی اس طرح ناقدری کی، اور کفران نعمت کے اس جرم عظیم کا ارتکاب کیا، اور اس طرح انہوں نے اس نعمت کو اپنے لیے رحمت کی بجائے زحمت اور نعمت کی بجائے نقمت بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی اگر یہ لوگ نبی آخر الزماں کی بعثت و تشریف کے بعد ان پر صدق دل سے ایمان لاتے تو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ومالا مال ہوتے، لیکن انہوں نے اس کے برعکس کفر و انکار سے کام لیکر اپنے لیے دارین کی محرومی کا سامان کیا، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، سو یہی نتیجہ ہوتا ہے عناد و ہٹ دھرمی کا اور ہوی و ہوس کی اتباع و پیروی کا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 2:90254 لفظ " اشتراء " کا معنیٰ و مفہوم ؟: ۔ لفظ " اشتراء " اگرچہ بیع و شراء کے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مگر یہاں پر یہ لفظ بالا تفاق صرف بیع کے معنی میں ہے، اور خریدو فروخت میں اصل چیز چونکہ وہ سامان ہی ہوتا ہے جس کو انسان ثمن اور قیمت کے بدلے میں خریدتا ہے، اور ثمن و قیمت محض اس کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے، اس لئے جس چیز کو انسان اپنے ارادہ و شوق سے اپناتا ہے، اس کو " مشتریٰ " " خریدی جانے والی چیز " قرار دیا جاتا ہے۔ بلاغت کے اسی اسلوب کے مطابق یہاں پر فرمایا گیا کہ ان بےانصاف، ناشکرے اور بدنصیب لوگوں نے کفر و انکار کو اپنا کر اپنی جانوں کو بیچ دیا اور ان کو عذاب دوزخ کے حوالے کردیا، اور حق کو جاننے پہچاننے کے باوجود اس کو اپنانے کی بجائے ان لوگوں نے محض اس ضد اور عناد کی بناء پر اس کو رد کردیا کہ اللہ پاک کا یہ انعام دوسروں کو کیوں مل گیا، اور شرف نبوت بنو اسحاق سے منتقل ہو کر بنو اسماعیل میں کیوں چلا گیا، اور نبی آخرالزماں انکے اندر کیوں مبعوث ہوگئے۔ سو اتباع ھوی اور عناد و ہٹ دھرمی باعث محرومی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور اس کے برعکس اتباع ھدیٰ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف یہود بےبہبود نے محض حسد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر حق سے منہ موڑا اور ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
255 کافروں کیلئے رسوا کُن عذاب : جو کہ تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے ان کے استکبار اور اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ کا، کیونکہ جزاء کے بارے میں اصول یہ ہے کہ وہ عمل کی جنس سے، اور اس کے مطابق ہوتی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے " اَلْجَزَائُ مِنْ جِنْس الْعَمَلِ " چونکہ انہوں نے اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ کی بناء پر حق کا انکار کیا تھا، اس لئے اس کی سزا ان کو یہ دی جائیگی، کہ یہ ایسے " مُہِیْنٌ " اور رسوا کن عذاب سے دوچار ہوں گے۔ عام طور پر ہمارے اردو کے مترجم حضرات اس کا ترجمہ کرتے ہیں " ذلت کا عذاب " حالانکہ یہ ترجمہ ہے " عَذَابُ الْہُوْنِ " کا، جبکہ یہاں پر " عذاب الھون " نہیں بلکہ " عَذَابٌ مُّہِیْن " ٌ فرمایا گیا ہے جس کا فٹ ترجمہ ہے۔ " رسوا کن عذاب "۔ مگر پتہ نہیں یہ حضرات اس فٹ ترجمہ کو چھوڑ کر " ذلت کے عذاب " کا ترجمہ، کیوں اختیار کرتے ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کافروں کو رسوا کن عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا، کہ انہوں نے استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حق سے اعراض و انکار کیا تھا۔ سو حق سے اعراض و انکار اور راہ حق سے روگردانی خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
Ayah 2:91256 دعوت حق اور یہود کے انکار کا ذکر وبیان : سو اس سے قرآن حکیم پر ایمان کی دعوت اور ان لوگوں کے انکار کو ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی جب ان لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ تم ایمان لاؤ اس قرآن حکیم پر، جو کہ خود ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے، اور اس پر ایمان لانا خود ان لوگوں کی اپنی کتاب پر ایمان لانے کا مقتضیٰ ہے، نیز یہ سابقہ تمام کتب سماویہ پر " مُھَیْمِنٌ " اور ان کے علوم و معارف اور مضامین و مطالب کا محافظ و امین اور ضامن و پاسدار ہے جس کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ لوگ اس پر سب سے آگے بڑھ کر اور صدق دل سے ایمان لاتے اور اس کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوتے کہ اس کتاب حکیم پر ایمان لانے میں خود انہی لوگوں کا اپنا فائدہ اور بھلا ہے کہ اس میں ان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اسی لئے ان کو دین حنیف کی رحمتوں بھری تعلیمات میں اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ لیکن یہ ہیں کہ اس سے منہ ہی موڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر غوایت و ضلالت اور ہلاکت و تباہی کی راہ کو اپناتے ہیں۔ اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم ہو کر ابدی شقاوت کے گڑھے میں گرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
257 یہود کا اپنی کتاب پر ایمان کے دعوی میں جھوٹا ہونا : سو یہود کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ پھر تم لوگ اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو۔ اگر تم لوگ واقعی ایماندار ہو ؟ کہ ایمانداری کی حالت میں کوئی اپنے نبی کے قتل جیسے سنگین جرم اور گھناؤنے فعل کا ارتکاب کبھی نہیں کرسکتا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ تم اپنی کتاب اور اپنے انبیاء پر ایمان لانے کے دعوے میں بھی جھوٹے ہو، ورنہ تم قتل انبیاء کے اس سنگین جرم کا ارتکاب کیونکر کرتے ؟ جس کی سنگینی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے مگر یہود نے اس سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب بار بار کیا، جو ان لوگوں کی قساوت قلبی، حرمان نصیبی اور نور ایمان سے محرومی کی ایک واضح اور کھلی دلیل ہے۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو ہوگا جو کسی نبی کو قتل کرے، یا کسی نبی کے ہاتھوں قتل کیا جائے۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 2:92–93258 یہود کا ذکر بحیثیت ایک ظالم قوم : کہ خدائے وحدہ لاشریک اور اس کی توحید و بندگی سے منہ موڑ کر تم بچھڑے کے اور وہ بھی ایک مصنوعی اور بےحقیقت بچھڑے کے آگے جھک گئے، اس کو اپنا معبود بنا لیا، اور اس کی پوجا کرکے تم نے اپنی تذلیل و رسوائی اور عذاب مہین میں مبتلا ہونے کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واضح رہے کہ گوسالہ پرستی کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان یہودیوں نے نہیں کیا تھا، جن سے خطاب کیا جارہا ہے بلکہ ان کے ان بڑوں نے کیا تھا جو ان سے صدیاں پہلے گزر چکے تھے، لیکن یہ لوگ چونکہ انہی کی اولاد و اَحفاد ہونے کے علاوہ ان کے کیے کرائے پر خوش تھے اور یہ انہی کے طور طریقوں پر تھے، اور ان سے اپنے انتساب پر یہ لوگ فخر کرتے تھے، اس لیے اس کی نسبت ان سے کی گئی۔ سو اہل باطل اور ان کی باطل پرستی سے اظہار بیزاری اور براءت بھی ضروری ہے، ورنہ انسان انہی میں شمار ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 2:94264 یہود کی ایک اور تخجیل و تذلیل : سو اس ارشاد میں یہود کے ایک زعم فاسد کی تردید و تغلیط اور ان کی تخجیل و تذلیل فرمائی گئی کہ اگر تم لوگ اپنے اس دعوے اور زعم و گھمنڈ میں سچے ہو کہ آخرت کا وہ گھر خالص تمہارے ہی لیے ہے تو تم لوگ موت کی تمنا کرو تاکہ اس طرح تم لوگ جنت کی نعمتوں سے جلد ہی متمتع اور بہرہ ور ہو سکو، کیونکہ دنیا کی یہ فانی نعمتیں اس کی نعمتوں کے سامنے ہیچ ہیں۔ کیونکہ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ جنت میں تمہارے سوا اور کوئی جائے گا ہی نہیں، کیونکہ ان کا کہنا تھا ۔ { لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصَارًا } ۔ یعنی " جنت میں وہی داخل ہوسکے گا جو یہودی ہوگا یا نصرانی " سو اگر ایسا ہے تو تم لوگ موت کی تمنا کرو تاکہ اس طرح تم جلد جنت میں پہنچ سکو، اور جب تم ایسا نہیں کرتے اور ہرگز نہیں کرسکتے تو ثابت ہوا کہ تم لوگ اپنے دعوے میں قطعی طور پر جھوٹے ہو، اور تمہارے دعوے محض زبانی کلامی نوعیت کے دعوے ہیں، جن کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد، اور نہ وہ کسی کام آنے والے ہیں بلکہ سب کچھ محض دھوکے کا سامان ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلیم العظیم۔
Ayahs 2:95–96265 قرآن حکیم کا ایک معجزہ : سو یہ بھی قرآن حکیم کا ایک معجزہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں کے حال سے متعلق اتنی صراحت و وضاحت سے یہ خبر دی اور اس قدر جزم و تاکید کے ساتھ دی کہ یہ لوگ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ مگر اس کے باوجود وہ لوگ محض ظاہر داری کے طور پر بھی کبھی موت کی تمنا نہیں کرسکے۔ حالانکہ ان کیلئے یہ ایک موقع تھا کہ وہ اپنے طور پر قرآن حکیم کی اس پیشینگوئی کو غلط ثابت کرنے کیلئے ایسی کوئی تمنا کرلیتے مگر کہاں اور کیسے ؟ ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ الَّذِیْ لا اِلٰہَ غَیْرُہ وَلا مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہٗ ۔ سو اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ کلام اس ذات اقدس و اعلی کا ہے جو دلوں کے بھیدوں کو جاننے والی ذات ہے، سبحانہ و تعالیٰ کہ اس میں دلوں کے حال کی اسطرح خبر دی گئی ہے۔ سو یہ ارشاد صرف معجزہ ہی نہیں معجزے پر معجزہ ہے۔ اور اس ایک معجزے کے اندر کئی معجزے مخفی و مستور ہیں ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
Ayah 2:97270 یہود بےبہبود کی دشمنی جبرائیل امین سے : جیسا کہ یہود کا کہنا تھا کہ ہم قرآن پر اس لئے ایمان نہیں لاتے کہ اس کو لانے والے جبریل ہیں۔ اور ان سے ہماری پرانی دشمنی ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہی ہمارے بڑوں پر طرح طرح کے عذاب لائے ہیں، اور سخت احکام نازل کئے ہیں۔ اور بعض یہود کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جبریل ہی تھے جو آخری وحی بنو اسرائیل پر اتارنے کی بجائے بنو اسماعیل پر لے گئے۔ اور اس طرح شرف نبوت و رسالت کو جو کہ اس سے قبل ہمیشہ بنی اسرائیل ہی کے اندر رہا اب وہ ہمیشہ کیلئے بنی اسماعیل میں منتقل ہوگیا۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) اور بعینہ یہی کفر یہ عقیدہ شیعہ کے ایک ملعون گروہ کا بھی رہا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ " نبوت و رسالت کے اصل حقدار تو حضرت علی تھے ۔ ؓ ۔ اللہ کی طرف سے جبریل کو وحی دے کر حضرت علی ؓ کے پاس ہی بھیجا گیا تھا مگر حضرت محمد ﷺ اور حضرت علی کے درمیان چونکہ اس قدر کمال درجہ کی مشابہت تھی کہ ان کو پہچاننا مشکل ہوگیا اور وہ وحی حضرت علی ؓ کی بجائے حضرت محمد ﷺ کے پاس لے گئے۔ اور انہی کو نبی بنادیا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْمِ ۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان اس قدر مشابہت تھی جیسا کہ غراب کو غراب سے اور مگس کو مگس سے ہوتی ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر "۔ اور شاید اسی وجہ سے شیعوں کے اس فرقے کا نام " طائفہ غرابیہ " پڑگیا۔ چناچہ حضرت مجدد الف ثانی ۔ (رح) ۔ اپنے مشہور رسالہ " رد روافض " میں جو کہ آپ نے فارسی زبان میں تحریر فرمایا تھا، روافض کے مختلف فرقوں کے عقائد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " طائفہ غرابیہ ازایشاں میگویند کہ محمد ﷺ بہ علی ؓ مشابہ تربود از مشابہت غراب بہ غراب ومگس با مگس۔ و حق تعالیٰ وحی بجانب علی فرستادہ بود جبریل از کمال مشابہت غلط کردہ وحی بمحمد رسانید وایشاں جبریل رالعن می کنند " ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ (رد روافض بحوالہ تدبر قرآن) ۔ دیکھا آپ نے کہ یہود اور روافض کا قارورہ باہم کس طرح ملتا ہے ؟ اگر اس کے باوجود یہ لوگ مسلمان ہوسکتے ہیں تو پھر کفر کس بلا کا نام ہے ؟ سو یہاں سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر اور ضدو عناد میں مبتلا ہو کر کس قدر اندھا اور کتنا اوندھا ہوجاتا ہے۔ اور اس کی مت کس طرح مار دی جاتی ہے۔ اور وہ کہاں سے کہاں پہنچ کر کیا کیا بکواس کرنے لگتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ بہرکیف وہ یہود کی مت ماری کا نتیجہ تھا کہ ان کو حضرت جبرائیل امین سے دشمنی تھی اور یہ روافض کی مت ماری کا نمونہ کہ یہ حضرت امام الانبیاء ﷺ کے بارے میں اس قدر بیہودہ گماں اور کفریہ عقیدہ رکھتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْمِ-
271 جبرائیل امین سے دشمنی رکھنا پرلے درجے کی حماقت ہے : یعنی " مِنْ " شرطیہ کی جزا محذوف ہے جو اسی طرح کے کسی جملے سے مقدر مانی جاسکتی ہے۔ اور ہم نے اللہ پاک کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت کے سہارے یہاں پر یہ جملہ مقدر مانا ہے۔ اور یہ اس لئے کہ حضرت جبریل امین کی اس ضمن میں بنیادی طور پر دو حیثیتیں ہیں۔ ایک " مامور من اللہ " ہونے کی حیثیت اور اس اعتبار سے ان پر کسی سوال و اعتراض کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ کیونکہ ان کی شان اور ان کا کام ہی یہ ہے کہ اللہ پاک کے ہر حکم کو بلا کسی کم وکاست اور بدوں کسی چوں و چرا کے بجا لائیں۔ اور اس میں ہم لوگوں کیلئے بھی یہ درس ہے کہ اپنے خالق ومالک کے بندے اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے۔ ہم بھی اس کا ہر حکم دل و جان سے بجا لائیں۔ اور دوسری حیثیت حضرت جبریل کی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ پاک کے اذن و ارشاد سے ہمیں قرآن حکیم کی اس عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا ہے، جس جیسی دوسری کوئی نعمت متصور ہی نہیں ہوسکتی جو کہ سراسر ہدایت، عین رحمت، اور عظیم الشان بشارت و خوشخبری ہے، تو اس اعتبار سے ہمیں حضرت جبریل امین کا ممنون احسان اور شکر گزار ہونا چاہیئے، نہ کہ معترض اور دشمن ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ پس ظاہر ہوگیا کہ اس سے بڑھ کر احمق اور کوئی نہیں ہوسکتا جو حضرت جبریل امین جیسی پاکیزہ ہستی سے دشمنی رکھے، اور ان کی لائی ہوئی وحی سے منہ موڑے ۔ والعیاذ باللّہ من کل زَیْغٍ وضَلَال ۔ ومِن کل شر و فساد ۔ فی الحال و فی المآل ۔ بہرکیف اس طرح کی ان بیہودہ باتوں سے یہود اور روافض کی خباثت اور ان کے فساد باطن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور یہ کہ انسان جب نور حق و ہدایت سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ کس قدر گہرے کھڈے اور ہولناک ہاوئے میں گرجاتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ سو اصل دولت حق و ہدایت کی دولت ہے جو کہ سرفرازی دارین کا وسیلہ ہے۔
272 پیغمبر کے علوم و معارف کی عظمت شان کا ایک پہلو : یہاں سے پیغمبر کے علوم و معارف اور دوسرے لوگوں کے علوم کا فرق بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی تعلیم کا آغاز حروف و الفاظ کے سیکھنے سکھانے سے ہوتا ہے۔ اور ایک عمر کھپانے کے بعد کہیں جا کر اصل حقائق تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ دل و دماغ میں اترتے ہیں۔ جبکہ پیغمبر کے علوم کا آغاز ہی براہ راست حضرت حق ۔ جل شانہ ۔ کی طرف سے ان کے دل پر القا کی صورت میں ہوتا ہے۔ پھر ان کے علوم و معارف اور ان کے مرتبہ و مقام کا اندازہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سوا اور کون کرسکتا ہے ؟ یہاں سے اہل بدعت کی ان بےباکیوں اور غوغہ آرائیوں کی حقیقت اور ان لوگوں کے مبلغ علم کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے، جس کا اظہار وہ آئے دن اس طرح کے اعلانات و بیانات وغیرہ سے کرتے رہتے ہیں کہ " ہم مقام مصطفیٰ متعین کر کے رہیں گے "، " ہم مقام مصطفیٰ بیان کرکے چھوڑیں گے " وغیرہ وغیرہ۔ تو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ کہاں عظمت و مقام مصطفیٰ اور کہاں علوم قرآن و سنت کے انوار سے محروم و بےبہرہ یہ ابنائے شرک و بدعت، جو انوار توحید و سنت سے محروم اور ظلمات جہل میں غرق ہیں۔ یہ کون ہوتے ہیں مقام مصطفیٰ متعین اور بیان کرنے والے ؟ مقام مصطفیٰ کو تو حضرت حق جل مجدہ ہی جانے۔ بندہ تو بس اتنا ہی کرسکتا ہے کہ حضرت حق کے عطا کردہ اور متعین فرمودہ مقام ہی کے کسی حصے کو اپنے ظرف محدود کے مطابق بیان کرے اور بس۔ بہرکیف حضرات انبیائ کرام ۔ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ ۔ کے علوم و معارف کا آغاز ہی اس فیضان وحی سے ہوتا ہے جو حضرت واہب مطلق ۔ جلَّ جَلاَلہ و عَمَّ نَواُلہٗ ۔ کی طرف سے ان کے قلوب طاہرہ پر کی جاتی ہے۔ یہی مضمون سورة شعراء میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبّ الْعٰلَمِِیْنَ ، نَزَلَ بِہِِ الرُّوْحُ الاَمِیْنُ ، عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ } ۔ ( سورة الشعرائ : 192 ۔ 194) ۔ سو پیغمبر کا علم براہ راست اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا نزول ان کے قلب طاہر پر ہوتا ہے۔
273 قرآن حکیم کی گزشتہ آسمانی کتابوں کیلئے تصدیق کا مفہوم و مطلب ؟ : سو اس کتاب حکیم کے ان کتابوں کیلئے مصدق ہونے کا مطلب ہے کہ ان کتابوں میں اس کتاب حکیم کے بارے میں پیشنگوئی فرمائی گئی تھی، تو اب اس کتاب کا محض نازل ہوجانا ہی ان کی تصدیق ہے۔ کیونکہ اگر بالفرض یہ کتاب حکیم نازل نہ ہوتی تو وہ کتابیں اس سے متعلق اپنی ان پیشنگوئیوں میں جھوٹی قرار پاتیں۔ اور دوسرے اس طرح کہ اس کتاب حکیم کی اصولی تعلیمات بھی وہی ہیں جو ان کتابوں میں تھیں، یعنی توحید، رسالت اور آخرت وغیرہ۔ یہ بات الگ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ان کتابوں میں طرح طرح کی تحریفات کے ذریعے ان کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا ہے۔ لیکن اصل اور اصولی تعلیمات ان کتابوں کی بھی یہی تھیں، کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا۔ اور تیسرے اس طرح کہ یہ کتاب حکیم ان کتابوں کی حقانیت کی اس طرح تصریح بھی کرتی ہے کہ وہ کتابیں بھی اپنے اپنے دور میں ہدایت و نور کا منبع و سرچشمہ تھیں ۔ { فِیْہَا ہُدًی وَّنُُوْر } ۔ پس ان لوگوں کے اپنی کتابوں پر ایمان کا تقاضا بھی یہ تھا اور یہی ہے کہ وہ قرآن حکیم کی اس کتاب عزیز پر صدق دل سے ایمان لے آئیں۔ اور اگر یہ اس پر ایمان نہیں لاتے تو اسکا مقصد یہی ہے کہ انکا اپنی کتابوں پر بھی ایمان نہیں اور ان پر ان کے ایمان کا دعویٰ محض زبانی کلامی ہے اور بس۔
274 قرآن حکیم سراسر ہدایت : سو اس کتاب حکیم کو تم لوگ جس زاویہء نگاہ سے بھی دیکھو گے اور اس کی طرف سچے دل سے رجوع کرو گے یہ تمہیں ہدایت کے نور سے نوازے گی۔ عام طور پر حضرات مترجمین یہاں پر ترجمہ اس طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں " ہدایت دینے والی "، " راہ دکھانے والی "، " رہنمائی کرنے والی " وغیرہ۔ حالانکہ یہ ترجمہ اصل میں صفت یعنی " ھادی " کے لفظ کا ہے۔ جبکہ یہاں پر " ھادی " نہیں " ھدًی " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ جس میں ظاہر ہے کہ خاص زور اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ سو اسی کے اظہار کے لئے ہم نے اپنا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف یہ کتاب حکیم قرآن مجید جس سے قدرت نے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنے بندوں کو نوازا اور سرفراز فرمایا ہے، سراسر ہدایت، نری ہدایت اور عین رحمت ہے۔ فالحمد للہ رب العالمین الذی شرفنا بہذا الکتاب المبین وبالایمان بہ والاشتغال ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے اس پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
275 قرآن حکیم اہل ایمان کیلئے ایک عظیم الشان خوشخبری : ایسی عظیم الشان خوشخبری جو آخرت کی حقیقی اور دائمی فوز و فلاح اور اس دنیا کی حیات طیبہ وغیرہ سب بشارتوں پر حاوی اور ان کو عام و شامل ہے۔ سو اس میں ایمان والوں کیلئے وہ عظیم الشان اور سب سے بڑی خوشخبری ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ اس کی ہدایت و رحمت یوں تو سب دنیا کیلئے ہے لیکن اس سے مستفید و فیضیاب وہی ہوسکیں گے جو اس پر صدق دل سے ایمان لائیں گے۔ اور ایمان لانا چاہتے ہوں گے۔ کیونکہ عناد اور ہٹ دھرمی رکھنے والوں کیلئے یہ کتاب خسارے پر خسارے کا باعث ہے، اور حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا " القرآن حجہ لک او علیک " یعنی " یہ قرآن عظیم ایک عظیم الشان حجت ہے یا تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف " ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قرآن حکیم ایمان والوں کے لیے ایک عظیم الشان خوش خبری ہے۔
276 قرآن حکیم سے سرفرازی کیلئے اولین شرط ایمان : کہ اس سے سرفراز و فیضیاب ایمان والے ہی ہوں گے۔ پس اس سے بہرہ ور ہونے کیلئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا اس پر سچا پکا ایمان لانا ہے۔ ورنہ بےایمانوں کیلئے تو یہ خسارے اور ان کے وبال ہی میں اضافے کا باعث ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَا یَزِیْدُ الظّٰالِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا } ۔ سو نور ایمان و یقین کی دولت اور اس سے سرفرازی کی نیت و ارادہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ جبکہ اس سے اعراض و محرومی ہر خیر سے محرومی کا باعث ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قرآن حکیم ایمان والوں کے لیے سراسر ہدایت اور عظیم الشان بشارت ہے۔
Ayah 2:98277 جبرائیل و میکائیل سے دشمنی خود اپنی ہی تباہی کا سامان ۔ والعیاذ باللہ : کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے معصوم اور نوری فرشتوں سے عداوت رکھنے اور اس ہدایت و ارشاد سے منہ موڑنے کا لازمی نتیجہ یہی ہے۔ اور ایسی حماقت کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جس کی مت مار دی گئی ہو، اور اس کے نصیب پھوٹ چکے ہوں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ ورنہ ان نوری فرشتوں سے جن کا کام ہی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول رہنا ہے اور جو ذاتیات کے تمام شوائب و علائق سے پاک اور بری ہوتے ہیں۔ اور جو ہر وقت اپنے خالق ومالک کے اوامرو ارشادات کی تعمیل و بجاآوری کیلئے تیار و مستعد رہتے ہیں اور جن سے خلق خدا کو فائدہ تو پہنچتا ہے نقصان کبھی نہیں پہنچتا۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ ہی کے حکم سے کرتے ہیں۔ ان سے عداوت و دشمنی رکھنے کی آخر کیا تک ہوسکتی ہے ؟ سوائے اس کے کہ کسی کی مت مار دی جائے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اسی سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ والوں سے عداوت و دشمنی رکھنا باعث ہلاکت و محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayahs 2:99–100278 پیغمبر پر روشن آیتوں کا نزول : ایسی روشن آیتیں جن سے حق و باطل کا فرق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ اور ایسا اور اس حد تک کہ اس میں کسی خفاء و غموض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ کہ ہٹ دھرم لوگ اس کے باوجود حق کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ سو یہ ان کی اپنی کوڑھ مغزی، ہٹ دھرمی اور محرومی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ وضوح حق میں کوئی فرق باقی نہیں رہ گیا ۔ والحمدللہ جل و علا ۔ اور حق کی اس طرح تشریح و توضیح کردینا کہ اس کے بارے میں کسی طرح کا کوئی خفا و غموض باقی نہ رہے، صرف اور صرف انہی آیات بینات کی خصوصیت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں۔ سو جو لوگ ان آیات بینات پر ایمان و یقین سے محروم ہیں، وہ ہر خیر سے محروم اور سراسر اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں اگرچہ وہ مادی ترقی اور دنیاوی علوم و فنون کے اعتبار سے آسمان کی بلندیوں ہی کو کیوں نہ چھوتے ہوں کہ وہ اپنی منزل مقصود سے غافل و بیخبر اور اپنی زندگی کے اصل مقصد سے غافل و لاپروا ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 2:101280 نبی آخر الزماں کی بعثت و تشریف اور یہود کا ردِّعمل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آگیا ان کے پاس ایک عظیم الشان رسول۔ یعنی نبئ آخر الزماں، امام الانبیاء والمرسلین، خاتم الرسل والنبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جن کی شان سب سے بڑی اور جن کی نبوت و رسالت قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کیلئے عام ہے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلامُہٗ عَلَیْہ وَعَلٰی آلہ وصَحْبِہٖ اِلٰی یَوْم الْعَرْض عَلَی اللّٰہ وَ اللِّقَائِ ۔ سو اس عظیم الشان نعمت اور جلیل احسان خداوندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ آگے بڑھ کر اس نعمت کو اپناتے، اس کی قدر کرتے، اور اس پیغمبر آخر الزمان پر صدق دل سے ایمان لاکر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتے، مگر انہوں نے اس کے برعکس کفر و انکار سے کام لیکر اپنے لیے ابدی ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
281 حسد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حسد اور ہٹ دھرمی انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے جس کے نتیجے میں محرومی اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آگیا ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک ایسا عظیم الشان رسول جو کہ تصدیق کرنے والا تھا اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس تھی۔ تو انہوں نے اللہ کی کتاب کو اس طرح اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا گویا کہ یہ جانتے ہی نہیں۔ محض حسد اور عناد کی بنا پر اور اپنے دنیوی فوائد و منافع کے لالچ میں۔ حالانکہ اس نبی منتظر پر ایمان لانا خود ان کی اپنی کتابوں پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا تھا جس کا یہ دم بھرتے اور بڑھ چڑھ کر دعوی کرتے ہیں۔ مگر حسد وعناد اور ہٹ دھرمی نے ان کو ایسا اندھا اور اس قدر اوندھا کردیا کہ ان کو حق اور ہدایت کی بات سمجھ آتی ہی نہیں۔ سو حسد اور ہٹ دھرمی انسان کو اندھا بہرا بنادیتی ہے، اور ایسا اندھا اور بہرا کہ اس کے بعد نہ اس کو حق بات سننے سمجھنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور نہ اس کو اپنانے اور اختیار کرنے کی، اور اس طرح یہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں، سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayah 2:102282 کتاب الہی کو پس پشت ڈالنے کی سزا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس کے نتیجے میں یہ لوگ کتاب الہی کو چھوڑ کر جادو ٹونوں کے پیچھے لگ گئے اور اس طرح محرومی در محرومی کا شکار ہوگئے۔ سو یہ یہود کی بدبختی کا ایک نمونہ ہے کہ یہ لوگ کتاب الہٰی کو چھوڑ کر جادو ٹونوں کے پیچھے لگ گئے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ یعنی جادوگری اور طرح طرح کے ٹونے ٹوٹکے۔ سو دیکھو کتنے بدنصیب نکلے یہ لوگ کہ کتاب الہی اور نور وحی سے منہ موڑ کر اس طرح کی خرافات اور کفریات میں لگ گئے۔ افسوس کہ آج کتنے ہی جہالت اور بدعت کے مارے مسلمان ہیں جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ قرآن و حدیث کی نورانی تعلیمات سے منہ موڑ کر وہ اسی طرح کے خود ساختہ اور طرح طرح کے گورکھ دھندوں میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ من گھڑت قصے کہانیاں تصنیف کرکے ان خرافات کو رواج دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ بس اتنا لکھ دیتے ہیں کہ " روایت ہے " کس کی روایت ہے ؟ اور کہاں کی روایت ہے ؟ اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ یا لکھتے ہیں کہ اسناد اس دعا کے بہت ہیں مگر مختصر یہ کہ وغیرہ وغیرہ۔ چناچہ اسی طرح کے حیلوں حوالوں سے کام لیکر ایسے بہکے بھٹکے لوگوں اور ہوی و ہوس کے پجاریوں نے عام لوگوں کو " عہد نامہ "، " نورنامہ "، " دعائے گنج العرش "، " دعائے جمیلہ "، " دعائے عکاشہ " اور " درود ماہی " وغیرہ مختلف خود ساختہ چیزوں میں ایسا الجھا اور پھنسا دیا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہی نہیں۔ بس زیادہ سے زیادہ اتنا کرینگے کہ اس کو چوم چاٹ کر مختلف جزدانوں میں بند کر کے رکھ دینگے اور بس۔ کہ صاحب، اس کو کون سمجھ سکتا ہے ؟ یہ تو محض برکت کیلئے ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح یہ لوگ خسارہ در خسارہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو اصل چیز جس سے تعلق اور اشتغال رکھنے کی ضرورت ہے وہ ہے کتاب اللہ الحکیم۔ جو کہ اللہ کا نازل کردہ مکمل ہدایت نامہ ہے۔ اور جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل وضامن ہے۔ اور سنت رسول جو کہ اس کتاب حکیم کی شرح اور اس کی تفسیر ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ اور جو چیز اس سے روکنی والی ہو وہ سراسر خسارہ اور وبال ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ پس دین حنیف کی اس نعمت کو اپنانا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت سے محرومی اور سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
283 جادو کا شیطانی کاروبار حضرت سلیمان کے نام پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ان چیزوں کے پیچھے لگ گئے جو کہ شیطان پڑھتے پڑھاتے تھے لوگوں کو حضرت سلیمان کی بادشاہی کے نام پر کہ صاحب حضرت سلیمان کی اتنی بڑی سلطنت اور ایسی بےمثال بادشاہی، انہی جادو ٹوٹکوں کے ذریعے چلتی تھی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور اس بارے یہ لوگ طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت قصے تصنیف کرتے اور ان کو طرح طرح سے پھیلاتے ہیں۔ اور اس طرح کے جادو ٹوٹکوں کے کاروبار کو چلاتے ہیں۔ عام طور پر حضرات مفسرین کرام یہاں پر کلمہء " علٰی " کو " فی " کے معنیٰ میں لیتے ہیں یعنی شیاطین یہ کام حضرت سلیمان کے دور حکومت میں کرتے تھے۔ مگر تعجب ہوتا ہے کہ " علٰی " کو اپنے معنیٰ پر رکھ کر جو سیدھا اور زیادہ واضح مطلب بنتا ہے اس کو چھوڑ کر ان حضرات کو " علٰی " " فی " کے مجازی معنی میں لینے کی آخر ضرورت کیا پیش آئی۔ اور پھر جب حضرت سلیمان کو جنوں پر کنٹرول اور حکمرانی کا امتیاز بھی حاصل تھا تو وہ اپنے دور حکومت میں ان لوگوں کو جادو گری کے اس کفریہ کاروبار کی اجازت اور چھوٹ دے ہی کس طرح اور کیونکر سکتے تھے ؟ اس لئے صاف اور واضح مطلب وہی ہے جو کہ لفظ " علٰی " کو اپنے حقیقی معنیٰ پر محمول کرنے سے بنتا ہے۔ اور جس کو ہم نے اختیار کیا ہے کہ شیاطین نے حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کے نام پر اپنے اس کفریہ کاروبار کو ان کے بعد چلایا اور اس بارے مختلف قصے اور افسانے ان لوگوں نے گھڑ گھڑ کر اور خود بنا بنا کر لوگوں میں پھیلائے کہ سلیمان کی بادشاہی اسی جادوگری کا کرشمہ تھی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ ورنہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے نہ یہ کفر یہ کاروبار کیا نہ اس کی اجازت دی۔ جیسا کہ آگے صاف طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنََ کَفَرُوْا } ۔ اور آج بھی " سلیمانی جادو " کے نام سے طرح طرح سے جادوگری اور شعبدہ بازی کے اس کاروبار کو چلایا جا رہا ہے۔ اور کتنے ہی سادہ لوح اور دین سے ناواقف لوگوں کو اس حال میں پھنسایا جا رہا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْْعَََظِیْْمِ ۔ بہرکیف یہود کتاب ہدایت سے منہ موڑ کر جادوگری کے اس شیطانی کاروبار کے پیچھے لگ گئے، اور اس طرح منصہ شرف سے گر کر قعر مذلّت میں جاپڑے۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے دین حق سے اعراض و روگردانی کا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
284 ہاروت و ماروت کے جاود کی کیفیت ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز یہ لوگ پیچھے لگ گئے اس چیز کے جس کو اتارا گیا تھا بابل میں ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں پر۔ یعنی جادو، جو کہ ایک خاص حکمت اور اہم مقصد کیلئے قدرت کی طرف سے ان دونوں کو سکھایا گیا تھا، تاکہ اس طرح وہ لوگوں کو معجزہ اور جادو کے درمیان فرق سمجھا سکیں، کیونکہ معجزہ خرق عادت کے طور پر ظاہری اسباب کے بغیر، بلکہ ان کے برعکس ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اور سحر و جادو کی ظاہری شکل بھی اسی طرح کی ہوتی ہے، اس لئے عام لوگوں کو اس سے اشتباہ ہوجاتا ہے، اور ان کیلئے ان دونوں کے درمیان فرق وتمییز کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے ان دونوں فرشتوں کے ذریعے قدرت کی طرف سے عام لوگوں کو معجزہ اور جادو کے درمیان فرق و تمییز کرنے کا انتظام فرمایا گیا، اب جو سلیم اور سیدھی طبیعتیں تھیں، انہوں نے تو اس سے فائدہ اٹھایا، اور وہ معجزہ و جادو کے درمیان اس فرق سے آگاہ ہوگئے، اور شعبدہ بازوں اور جادوگروں کے چنگل میں پھنسنے سے بچ گئے، مگر جو ٹیڑھی طبیعتوں والے تھے انہوں نے الٹا اس سے آگے یہی کاروبار شروع کردیا، اور وہ جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے اسی مذموم عمل میں لگ گئے، اور ان کے گروہ میں شامل ہوگئے، ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ ہذا ما استفدناہ من صفوۃ البیان فی معانی القران وبیان القران والمعارف للکاندہلوی (رح) و غیرہا من التفاسیر ۔ اس میں اور بھی اقوال و احتمال اور مختلف بحثیں ہیں ۔ و سنذکرہا مفصلۃ فی التفسیر المفصل انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ و بتوفیق منہ جل و علا ان کان للعمر بقیۃ ۔ یہاں اس وقت اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ وفیہ کفایۃ ۔ البتہ اس بارے ایک اور اہم قول و احتمال کو ذکر کردینا مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جو معقول اور دل کو لگنے والا ہے کہ ما انزل علی الملکین سے مراد الفاظ و کلمات کے وہ خواص اور اثرات ہیں جو قدرت نے ان کے اندر رکھے ہیں تاکہ اس طرح اور ان کے ذریعے وہ لوگ جادو کے مضر اثرات اور نقاصانات سے بچ سکیں۔ مگر شرپسند لوگوں نے خواص کے اسی علم کو اپنی مذموم اغراض کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا اور وہ اس کو تفریق بین الزوجین جیسے سفلی امور کے لیے استعمال کرنے لگے اور انہوں نے اس کے لیے مختلف قسم کی دکانیں سجا لیں۔ جیسا کہ شعبدہ باز قسم کے لوگ آج بھی اسی طرح کے کاروبار طرح طرح کے ناموں اور مختلف عنوانات سے کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
285 جادوگری کا کاروبار کفر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دونوں فرشتے ایسے شخص سے کہتے کہ دیکھو بھئی ہم تو محض ایک ابتلاء و آزمائش ہیں۔ پس تم کہیں کفر میں نہیں پڑجانا۔ یعنی ہمارا مقصد تو سحر اور معجزہ کے درمیان کے فرق کو ظاہر کرنا اور جادوگروں اور شعبدہ بازوں کا راستہ روکنا ہے، تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی میں نہ ڈال سکیں، اور ان کو شرک و بت پرستی وغیرہ میں مبتلا نہ کرسکیں۔ اب جس نے ہم سے اس مقصد کیلئے اس کو سیکھا اور آگے نہ اس پر یقین کیا نہ عمل، تو وہ بچ گیا اور محفوظ رہا۔ اور جس نے ہم سے سیکھ کر آگے یہی کاروبار شروع کردیا اور وہ اس پر یقین و اعتقاد کر بیٹھا تو وہ مارا گیا، کہ اس نے کفر کا ارتکاب کیا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو اس سے یہ امر ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ جادو کا عمل ایک کفریہ عمل ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی ان سے سیکھنے آتا تو وہ اس سے صاف اور صریح طور پر کہہ دیتے کہ دیکھو بھئی ہم تو محض ایک آزمائش اور فتنہ ہیں۔ پس خبردار کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کفر میں پڑجاؤ اور ایمان کی دولت اور اس کے نور سے محروم ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ ( معارف للکاندھلوی ) ۔
286 نفع و نقصان اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور اس کی مشیئت پر موقوف ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اس کے ذریعے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور اس کی مشیت سے "۔ یعنی جادوگری کا یہ معاملہ بھی عام اسباب و مسببات کی طرح اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی مشیت پر موقوف ہے، وہ جب چاہے اور جس کے حق میں چاہے کسی مسبب کو سبب پر مرتب فرما دے، ورنہ اس کے علاوہ ان لوگوں کو کوئی ایسی قوت و تاثیر نہیں بخشی گئی تھی کہ وہ اپنے طور پر جسکو چاہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا دیں۔ اگر ایسا ہوتا تو جادوگر اپنی جادوگری کے ذریعے جہاں چاہتے اودھم مچا دیتے مگر معاملہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ہاتھ میں اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نفع و نقصان کا مدارو انحصار اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور اس کے اذن پر ہے۔ وہ جب چاہے سحر یا کسی بھی چیز میں تاثیر پیدا فرما دے۔ اور جب چاہے کسی سے اس کی تاثیر سلب فرما دے۔ سو اصل چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ و اعتماد رکھنا کہ اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے اسی کی مشیت کے تحت اور اسی کے اذن سے ہوتا ہے۔ کہ اس کی مخلوق اور اس کی کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے۔ اس لیے اپنا تعلق اس وحدہ لا شریک کے ساتھ ہمیشہ صحیح رکھا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔
287 جادوگری کا وبال خود جادوگروں پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سب کے باوجود وہ لوگ ان دونوں سے وہ کچھ سیکھتے تھے جو ان کو نقصان تو پہنچا سکتا تھا لیکن ان کو نفع اور فائدہ کچھ نہیں دے سکتا تھا۔ کیونکہ سحر اور جادو کے اس کاروبار کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اس روش سے ان کو خود بھی نقصان پہنچتا ہے اور یہ دوسرے لوگوں کے یہاں بھی مبغوض قرار پاتے اور آخرت کا عذاب الگ اپنے سر لیتے اور ذلت کی زندگی گزارتے ہیں۔ چناچہ آج تک ان لوگوں کا یہی حال ہے کہ سب سے زیادہ محتاج اور بدحال ہوتے ہیں اور انہی دنوں میں جبکہ راقم آثم ان سطور کی پروف ریڈنگ کررہا ہے اخبارات اور ٹیوی وغیرہ ذرائع ابلاغ میں یہ ہولناک خبر گردش کررہی ہے کہ جنوبی ہندوستان کے ایک گاؤں میں ہندوؤں کے ایک بڑے گروہ نے ایک جلوس کی شکل میں جادوگروں کے گھروں پر ہلہ بول دیا۔ ان میں سے جو لوگ بھاگ گئے وہ تو بچ گئے لیکن جن پانچ اشخاص کو انہوں نے پکڑا جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی ان کی پہلے تو ان لوگوں نے خوب پٹائی کی، اور پھر ان کو درختوں کے ساتھ باندھ کر پٹرول چھڑکا اور ان سب کو انہوں نے زندہ جلا کر " فی النار والسقر " کردیا ۔ والعیاذ باللہ مِنْ کُلّ سُوْئٍ وَّشَرّ-
288 علم حق ہی ذریعہ اصلاح و نجات ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ جان لیتے حق اور حقیقت کو تو یہ وہ کچھ نہ کرتے، جو اب کر رہے ہیں، اور اس طرح یہ لوگ دارین کی تباہی کے سامان سے بچ جاتے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ لیکن چونکہ یہ لوگ حق اور حقیقت کے علم کی اس دولت سے محروم تھے، اس لیے یہ راہ راست سے سرفراز نہ ہوسکے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ علم حق ہی ذریعہ اصلاح و نجات ہے، کہ اس کے بغیر انسان گھمبیر اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے، اور وہ طرح طرح کے ہولناک گڑھوں میں گرتا جاتا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ پس حق اور حقیقت کے اس علم ہی سے راہ حق و صواب روشن ہوسکتی ہے جس کا منبع ومصدر وحی خداوندی ہو اور اسی روشنی کے ذریعے انسان مہالک سے بچ سکتا ہے۔ ورنہ اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -