2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ وہ ذات ہے جسکے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، جو ہمیشہ زندہ، اور (ساری کائنات) تھامنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند،6 اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے، اور وہ سب کچھ جو کہ زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی جناب (اقدس و اعلیٰ ) میں کوئی سفارش کرسکے، مگر اسی کے اذن سے وہ (پوری طرح) جانتا ہے وہ سب کچھ جو ان (لوگوں) کے سامنے ہے، اور وہ سب کچھ بھی جو کہ ان کے پیچھے ہے،1 جب کہ یہ لوگ اس کی معلومات میں سے کسی (معمولی) چیز کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگر جتنا کہ وہ چاہے چھائی ہوئی ہے اس کی کرسی آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع و عریض کائنات) پر، اور اس کے لئے کچھ گرانی نہیں ان دونوں کی حفاظت میں، اور وہی ہے سب سے برتر، نہایت ہی عظمت والا

730 اللہ ہی زندہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی زندہ ہے اور یہ اس لیے کہ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ کیلئے زندہ رہے گا۔ نہ وہاں عدم سابق تھا اور نہ عدم لاحق کا کوئی سوال و امکان۔ سو جب کچھ نہیں تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ موجود ہوگا ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰیْ وَجَلَّ جَلالُہٗ وَ عَزَّ بُرْہَانُہٗ ۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان اقدس و اعلی ہے دوسری کسی بھی ہستی میں یہ نہ پائی گئی ہے، نہ پائی جاتی ہے، نہ پائی جانی ممکن ہے کہ اس کے سوا مخلوق کی ہر چیز عدم سابق اور عدم لاحق دونوں کے اندھیروں میں گھری ہوئی ہے۔ سو ایسے میں مخلوق میں سے ہر شے کی زندگی کالعدم اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ اصل اور حقیقی زندگی ایک ہی ذات کی ہے اور وہ ہے اللہ وحدہ لا شریک کی ذات اقدس و اعلیٰ ۔ جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کا بدیہی نتیجہ اور لازمی تقاضا یہ ہے کہ معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہو۔ اس کے سوا کسی کیلئے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو زندگی اصل میں اسی معبود برحق وحدہ لا شریک کی ہے باقی ہمہ وشما جیسی مخلوق کو جو عارضی اور فانی زندگی ملی ہوئی ہے یہ بھی اسی کی عنایت سے ہے۔ سو حی اور زندہ حقیقت میں وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 731 قیوم کا معنی و مطلب ؟ : قیوم کے معنی قائم رکھنے اور تھامنے والے کے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ساری کائنات کو تھامنے والا ہے اپنی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور رحمت لا محدود کی بنا پر۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اگر وہ لمحہ بھر بھی اپنی اس کائنات سے توجہ ہٹا لے تو یہ سب کچھ فنا ہو کر بطن عدم میں چلا جائے، اور پھر کسی میں یہ ہمت اور طاقت نہیں کہ وہ اس کو سہارا دے سکے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰت وَالاَرْضَ اَنْ تَزُوْلاَ وَلَئِنْ زَالَتََآ اِنْ اَمْسَکہُمَا مِِنْ اَحَدٍّ مِِّنْ بَعْدِہٖ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا } (فاطر۔ 4 1) " بیشک اللہ ہی نے تھام رکھا ہے آسمانوں اور زمین کو اس سے کہ وہ (اپنی حالت اور جگہ سے) ٹل جائیں، ورنہ اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے بعد کوئی ایسا نہیں جو ان کو روک سکے، بیشک وہ بڑا ہی بردبار، نہایت ہی بخشنہار ہے " تو آسمان و زمین کی یہ کائنات اس کی شان قیومیت کا ایک عظیم الشان اور کھلا مظہر ہے۔ پھر کتنے احمق و نادان ہیں وہ لوگ جو اس کی مخلوق میں سے کچھ زندہ یا مردہ ہستیوں کو " قَیُوْم زماں " یا " قَیُوْم دوران " جیسے القاب سے نوازتے، لکھتے، اور یاد کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف زمین و آسمان کو تھامنے اور قائم رکھنے والا اور بلاشرکت غیرے تھامنے اور قائم رکھنے والا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ - 732 اللہ تعالیٰ مخلوق کے عوارض و شوائب سے یکسر پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کو نہ اونگھ آسکتی ہے نہ نیند کہ یہ مخلوق کی شان اور اسی کے عوارض میں سے ہے، جبکہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ اس سے پاک وبالا اور وراء الوراء ہے، کہ وہ مخلوق کے دائرے سے باہر اور سب کا صانع و خالق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی تو پھر عبادت و بندگی بھی اس کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ پس معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت اور بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق، اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " سنۃ " یعنی اونگھ نیند کی ابتدائی کیفیت ہے اور " نوم " اس کی انتہائی۔ سو یہاں پر " سنۃ " اور " نوم " کی نفی سے ابتداء اور انتہاء دونوں کی نفی کردی گئی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ غفلت کے تمام اثرات سے بدرجہ تمام و کمال پاک اور بری ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ بھی اسی وحدہ لا شریک کی شان ہے۔ اس لئے معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سبحانہ وتعالی ۔ 733 کائنات ساری اللہ ہی کی ہے : سو { لہ } کی تقدیم سے واضح فرما دیا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ بھی جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی ساری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی۔ اور سب کا حاکم و متصرف بھی وہی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس غلط کہتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ " داتا کی نگری " یا " خواجہ کی بستی " یا " پیر بابا کا علاقہ " ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب اللہ پاک صاف وصریح طور پر اپنے کلام حکیم میں فرما رہا ہے اور بار بار اور جگہ جگہ فرما رہا ہے کہ یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کا ہے، تو پھر تم لوگ آخر کس دلیل و بنیاد پر ایسے کہہ رہے ہو ؟ اور تمہیں اسکا حق آخر دیا کس نے کہ تم لوگ اس کی اس ملکیت و بادشاہی کے ازخود حصے بخرے کرکے مختلف ناموں سے تقسیم کرو ؟ سو ایسے تمام تصورات و خیالات بالکل غلط، بےبنیاد اور جہالت پر مبنی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لا شریک کا ہے۔ اس سب کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ۔ اس لئے عبادت اور اس کی ہر قسم اور شکل کا حقدار بھی وہی ہے۔ اس میں دوسرا کوئی بھی نہ اس کا شریک ہے نہ ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 734 مشرکانہ عقیدہ شفاعت کی نفی : سو مشرکانہ عقیدہ شفاعت کے قلع قمع کے لیے استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کون ہے جو اس یہاں سفارش کرسکے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔ سو اللہ کے یہاں سفارش اس کے اذن کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اس کے یہاں شفاعت و سفارش کے لئے دو شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہاں شفاعت و سفارش وہی کرسکے گا جس کو اجازت ملے اور دوسرے یہ کہ وہ سفارش اسی کیلئے کرسکے گا جس کے لئے اجازت ملے اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعََۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیََ لَہٗ قَوْلاً } (طہٓ۔ 109) " اس دن سفارش کام نہ دیگی مگر جسے خدائے رحمان اجازت دے، اور اس کی بات کو وہ پسند بھی کرے " اور یہ اس لئے کہ حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدہ ۔ ہی جانتا ہے کہ کون شفاعت و سفارش کرنے کے لائق ہے، اور کون اس لائق ہے کہ اس کے لئے شفاعت و سفارش کی اجازت دی جائے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں بالعموم جہاں بھی شفاعت اور سفارش کا ذکر ہوا ہے، وہاں پر یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے { یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ } جس سے اسی بات کی تصدیق و تائید ہوتی ہے، کہ اللہ پاک ہی جانتا ہے کہ کس کا جرم قابل معافی اور سفارش کے لائق ہے اور کس کا نہیں۔ اس لئے شفاعت و سفارش اسی کیلئے کی جاسکے گی جسکے لئے اس کے یہاں سے اجازت ملے گی ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ پس اس سے اس جاہلانہ اور مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی ہوجاتی ہے جو جاہل اور مشرک لوگوں نے اپنا رکھا ہے کہ ہم فلاں حضرت سے وابستہ اور انکے دامن گرفتہ ہیں۔ وہ ہمیں بہرحال بخشوا دیں گے، خواہ ہمارے عقائد اور اعمال کچھ بھی کیوں نہ ہوں، کیونکہ ہم جن کے دامن گرفتہ ہیں وہ اڑ کے بیٹھیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسی تمام باتیں من گھڑت اور اس طرح کے لوگوں کے خودساختہ مفروضے ہیں، جن کی کوئی اساس اور بنیاد نہیں۔ اس کے یہاں سفارش وہی کرسکے گا جس کو اس کے لئے اذن ملے گا اور وہ سفارش اسی کے لئے کرے گا جو اس کا اہل ہوگا اور جسکے لئے اجازت ملے گی۔ اڑ کر بیٹھنے اور منوا کر چھوڑنے کی بات وہاں پر سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ سب لوگوں کے من گھڑت ڈھکوسلوں اور ان کی خود ساختہ باتیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 735 انسان کے نقص علم و ادراک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جو ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے مگر یہ اس کے علم میں سے کسی بھی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اور احاطہ تو درکنار انسان ضیعف البنیان یہ بھی پوری طرح نہیں جان سکتا کہ اس کی معلومات کا دائرہ کہاں تک وسیع ہے۔ یہ تو ابھی تک مادیات بلکہ اس کی بھی ابجد ہی میں الجھا ہوا ہے۔ اور اس ضمن میں بھی یہ کسی ایک ہی طرف کا کچھ حال جان سکا ہے، اور وہ بھی محدود نوعیت کے ساتھ۔ اور خاص حدود میں اور بس۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْم اِلَّا قَلِیْلاً } (بنی اسرائیل۔ 85) اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے علم کامل و محیط کے معاملے میں ان لوگوں کا یہ علم یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پھر کوئی اپنے طور پر یہ کیسے جان سکتا ہے کہ کون سفارش کے لائق ہے اور کون نہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کے علم کی یہ وسعت اور دوسروں کے علم کی یہ محدودیت مشرکین کے تصور شفاعت کا بالکل خاتمہ کردیتی ہے۔ قرآن حکیم میں مشرکانہ تصور شفاعت کی تردید کے سلسلہ میں علم الہی کی اسی وسعت اور دوسروں کے علم کی محدودیت کا حوالہ دوسرے مختلف مقامات پر بھی دیا ہے، مثلاً سورة انبیاء آیت نمبر 28 اور سورة طٰہٓ آیت نمبر 109 ۔ 1 10 وغیرہ وغیرہ۔ 736 معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : یعنی جب یہ تمام صفات اسی وحدہ لاشریک کے ساتھ خاص ہیں، اس کے سوا کسی میں بھی نہیں پائی جاتیں، اور نہیں پائی جاسکتیں، تو پھر معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت کی ہر قسم بھی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کے ساتھ خاص اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ آیت کریمہ " آیت الکرسی " کہلاتی ہے کہ اس میں اللہ پاک کی کرسی کا ذکر ہے اور لسان نبوت سے اس کو قرآن پاک کی سب سے بڑی آیت " اعظم الآی " فرمایا گیا ہے۔ اور یہ اس لئے کہ اس میں توحید خداوندی کو نہایت ہی معقول، مدلل، موثر، اور عمدہ طریقے سے بیان فرمایا گیا ہے، جس کی تشریح کیلئے ہم نے اختصار کے ساتھ کچھ اہم نکات کی طرف اشارہ کردیا ہے ۔ تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے اگر اللہ پاک کو منظور ہوا اور اس کی توفیق و عنایت شامل حال رہی ۔ اِنَّہُ ہُوَ الْمُوَفِّقُ لِکُلّ خَیْرٍ وَ الْمُیَسِّرُ لِکُلّ عَسِیْر۔ٍ بہرکیف اس آیت کریمہ میں توحید خداوندی کو ایسی عمدگی سے بیان فرمایا گیا ہے کہ کوئی خفاء باقی نہیں رہ جاتا۔ اور عقیدہ توحید جو کہ سارے دین کی اساس و بنیاد ہے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

کوئی (زور و) زبردستی نہیں دین (کے معاملے) میں، یقینا رشد (و ہدایت کی روشنی) پوری طرح واضح (ہو کر الگ) ہوچکی ہے گمراہی سے،2 سو جو کوئی انکار کرے گا طاغوت کا، اور ایمان لائے گا اللہ پر، تو اس نے تھام لیا ایک ایسا مضبوط سہارا جس نے کبھی ٹوٹنا نہیں،3 اور اللہ (جس کا سہارا ایسے شخص نے تھام لیا ہے) بڑا ہی سننے والا ہے، سب کچھ جاننے والا ہے،

737 دین حق کے لیے کوئی جبر واکراہ نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلام و ایمان کیلئے نہ جبر ہے نہ ہوسکتا ہے۔ راہ حق و ہدایت پوری طرح واضح ہو کر گمراہی سے الگ ہوچکی ہے، اور اس درجہ میں کہ اب حق اور باطل کو جاننے پہچانے میں کسی کیلئے کوئی خفاء و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ اب جس کی مرضی ایمان لائے، کہ اس میں اس کا خود اپنا ہی بھلا ہے، اور جو اس سے منہ موڑے گا تو وہ خود اپنا ہی نقصان کریگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیا کے اس دارالامتحان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ ان دونوں راہوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے۔ زور زبردستی کا اس میں کیا سوال۔ زور زبردستی کا سوال تو وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کو کسی مضریا ناگوار چیز پر مجبور کیا جائے۔ اور جب ایمان نام ہے دل سے ماننے اور قبول کرنے کا تو پھر اس میں کسی اور زبردستی کا کوئی عمل دخل ہو ہی کیسے سکتا ہے ؟ کہ دل کی نیت اور ارادہ تو انسان کے اپنے ہی اختیار میں ہے۔ سو ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے کے لئے نہ کسی جبر واکراہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجبوری کا اور جبری ایمان مفید و معتبر ہے کہ معتبر وہی ایمان ہے جو اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ 738 ایمان باللہ سب سے مضبوط سہارا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے طاغوت کا انکار کیا، اور وہ اللہ پر صدق دل سے ایمان لے آیا تو اس نے ایک بڑے ہی مضبوط سہارے کو اپنا لیا۔ اور اس طرح اس نے ایمان باللہ کے مضبوط حلقے کو تھام کر اپنے آپ کو گمراہی اور ہلاکت و تباہی کے ہاوئیے اور ہولناک گڑھے میں گرنے سے بچا لیا، اور خود اپنا ہی بھلا کیا۔ سو ایمان باللہ یعنی اللہ پر سچے دل سے ایمان لانا اور طاغوت کا انکار، اور اس سے کفر کرنا ایسا مضبوط سہارا ہے جو انسان کو دارین کے مہالک سے بچا کر حقیقی کامیابی اور دائمی سرفرازی سے بہرہ ور کرتا ہے۔ سو اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کو بھیج کر اتمام حجت کا سامان کردیا، اور حق کو باطل سے بدرجہ تمام و کمال نکھار کر الگ کردیا تو اب جسکی مرضی حق کو اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے، اور جسکی مرضی اس کے بعد بھی باطل سے چمٹا رہے، اور آخرکار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایمان باللہ سب سے بڑا اور مضبوط حلقہ ہے۔ نجات کا مدار اسی پر ہے۔ اللہ ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
Ayahs 2:257–258

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ کارساز (اور مددگار) ہے ان لوگوں کا جو (سچے دل سے) ایمان لائے، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر لاتا ہے روشنی کی طرف، اور اس کے برعکس جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر، ان کے حامی و دوست طاغوت ہیں، جو ان کو (ہدایت و ایمان کے) نور سے نکال کرلے جاتے ہیں (کفرو شرک، اور شکوک شبہات کے گھٹا ٹوپ) اندھیروں کی طرف، ایسے لوگ ساتھی، (اور دوست) ہیں (دوزخ کی اس ہولناک) آگ کے، اور ان (بد بختوں) کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا،4

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تم نے غور نہیں کیا اس شخص کے حال پر جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کے بارہ میں، اس بناء پر کہ اللہ نے اس کو عطا فرما رکھی تھی بادشاہی5، جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے6 ، تو اس نے (پوری ڈھٹائی سے) کہا کہ میں، بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں7، تب ابراہیم نے کہا کہ بیشک اللہ لاتا ہے سورج کو مشرق سے، پس تو اس کو لا دکھا مغرب سے1، تو اس پر مبہوت (و ششدر) ہو کر رہ گیا وہ کافر، اور اللہ ہدایت (کے نور) سے نہیں نوازتا ایسے (ضدی اور ہٹ دھرم) کافر لوگوں کو،2

739 ایمان و یقین کی روشنی ایک عظیم الشان و بےمثال روشنی : یعنی ایمان و یقین کی اس عظیم الشان روشنی کی طرف، جو اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی راہیں روشن اور واضح کردیتی ہے۔ سو ایمان و یقین کی روشنی انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے، جس سے انسان اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی سے سرفراز ہوتا ہے اور آخرت میں جنت کی سدا بہار اور ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوگا ۔ انشاء اللہ العزیز ۔ سو ایمان و یقین کی روشنی ایسی عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے جس سے انسان کا عقل و ضمیر روشن ہوجاتا ہے۔ اس کے اعمال و اخلاق روشن ومنور ہوجاتے ہیں، اور نور ایمان سے سرفرازی کے بعد انسان کچھ کا کچھ بن جاتا ہے، جبکہ اس سے محروم انسان طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوب کر دارین کے خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی روشنی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ والحمد للہ جل وعلا - 740 کفر و باطل کے اندھیرے نہایت ہی ہولناک اندھیرے ہیں : سو کفر و باطل کے معنوی اندھیرے ظاہری اندھیروں سے کہیں بڑھ کر ہولناک ہیں، اور انکے آثار و نتائج ظاہری اور محسوس اندھیروں سے کہیں بڑھ کر ہولناک اور تباہ کن ہیں۔ کیونکہ ظاہری اور حسی اندھیرے انسان کو دوزخ میں لے جانے والے نہیں، جبکہ کفر و شرک، اور ضلالت و گمراہی کے یہ مخفی و پوشیدہ اور غیر محسوس اندھیرے انسان کو شرف انسانیت کی عظمتوں سے گرانے والے، اور نار جہنم سے ہمکنار کرنے والے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر انسان کی غفلت اور کوڑھ مغزی ملاحظہ ہو کہ وہ ظاہری اور حسی روشنیوں کے انتظام کیلئے تو دن رات مصروف عمل اور سرگرداں ہے، مگر اپنے دائمی انجام کے خیر و شر سے آگاہ کرنے والی باطنی اور ایمانی روشنی کی وہ کبھی فکر نہیں کرتا۔ سو یہی ہے سب سے بڑا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے میں دین حنیف کی یہ عظیم الشان روشنی قدرت کی کتنی بڑی دولت و عنایت اور اس کا کس قدر عظیم الشان و بےمثال کرم و احسان ہے، جس سے اس نے محض اپنے فضل و کرم سے دنیا کو نوازا ہے، مگر ناشکری دنیا ہے کہ اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور اس سے اعراض اور بےرخی برتتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے اپنی ان نعمتوں کی قدر پہچاننے کی اور ان کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ 741 دوزخ اہل کفر وباطل کا دائمی ٹھکانہ : یعنی کفار و مشرکین کیلئے وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے کہ وہ دنیا سے ایمان کی دولت سے محرومی کے ساتھ رخصت ہوئے، اور ایمان سے محرومی پر جان دینے والوں کا آخری انجام بہرحال یہی ہے۔ یعنی " خلود فی النار " ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کفر و انکار کتنا سنگین اور کس قدر ہولناک جرم ہے، اور کافر و منکر انسان کس قدر محروم و بدنصیب انسان ہے، اور ایسے میں اگر دنیاوی زندگی کی اس چند روزہ فرصت میں ایسے منکر انسان کو دنیا بھر کی دولت مل بھی جائے تو بھی اس کو کیا ملا کہ اس کا آخری انجام تو یہ ہونے والا ہے۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے، جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرتی ہے، اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر چیز سے محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا (تم نے غور نہیں کیا) اس شخص کے بارے میں جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا جو گری پڑی تھی اپنی چھتوں پر، تو اس نے کہا کہ اللہ کیونکر زندہ کرے گا اس بستی کو اس کے مر چکنے کے بعد ؟ تو اللہ نے اس پر موت طاری کر کے اس کو سو سال تک موت کی ایسی ہی نیند سلا دیا، پھر اس نے اس کو (زندہ کر کے) اٹھایا اور اس سے پوچھا، تم کتنا عرصہ (اس حال) میں پڑے رہے ؟ تو اس نے کہا کہ ایک دن، یا دن کا بھی کچھ حصہ، تو فرمایا (نہیں) بلکہ تم تو پڑے رہے ہو اس حالت میں پورے ایک سو سال (کی طویل مدت)3 سو اب دیکھو اپنے کھانے پینے (کے سامان) کی طرف، کہ اس میں کوئی تغیر نہیں آیا، اور دوسری طرف اپنے گدھے کو بھی دیکھ لو (کہ اس کی ہڈیاں بھی بوسیدہ ہوچکی ہیں) اور (ہم نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ) تاکہ ہم تم کو بنادیں ایک عظیم الشان نشانی لوگوں کے لئے،4 اور (اپنے گدھے کی) ان (بوسیدہ) ہڈیوں کو بھی دیکھو، کہ ہم (اپنی قدرت سے) کس طرح ان کو اٹھا کر جوڑتے ہیں، پھر ان پر ہم گوشت چڑھاتے ہیں، سو (اس طرح) جب حقیقت حال اس شخص کے سامنے پوری طرح واضح ہوگئی، تو اس نے کہا کہ میں (یقین) جانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،5

745 " قریہ " کا مفہوم و مطلب اور یہاں پر اس سے مقصود و مراد ؟ : قریۃ کا لغوی مفہوم ہی جمع اور اکٹھا ہونے کی جگہ۔ اس لیے لغت اور محاورہ کے اعتبار سے اس کا اطلاق بستی اور شہر دونوں پر ہوتا ہے اور مشہور اور معتبر روایات کے مطابق اس بستی سے مراد بیت المقدس ہے، جس کو بخت نصر نے تباہ و برباد کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، اور بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد کو اس نے تہ تیغ کردیا تھا، اور ایک بڑی تعداد کو وہ قیدی اور غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ اور اس شخص سے مراد جس کا یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے، حضرت عزیر (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں، سو انہوں نے بخت نصر کی قید سے رہائی کے بعد اس بستی سے گزرتے ہوئے اس کی تباہی کو دیکھ کر حسرت بھرے انداز میں اس طرح کہا تھا، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشئے میں گزرا، سو حضرت عزیر کا اس طرح کہنا کسی شک یا انکار کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ اطمینان قلب اور یقین مزید کے حصول کے لئے تھا، جس کو حق الیقین کہا جاتا ہے۔ سو ان کا یہ کہنا کہ اللہ اس بستی کو اس طرح فنا ہوجانے کے بعد دوبارہ کس طرح زندہ کرے گا " انکار کی نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ یہ اظہار حیرت کی نوعیت کا تھا۔ انسان بسا اوقات ایک چیز کو مانتا تو ہے کہ وہ عقل و فطرت کا تقاضا ہوتی ہے، لیکن وہ بات بجائے خود ایسی حیران کن ہوتی ہے کہ اس سے متعلق یہ سوال بار بار ابھرتا ہے کہ یہ کیسے واقع ہوگی ؟ سو ایسا سوال انکار کے جذبے سے نہیں بلکہ جستجوئے حقیقت کے جوش سے ابھرتا ہے کہ یہ کیسے واقع ہوگئی ؟ سو حضرت عزیر کا سوال بھی اسی نوعیت کا تھا۔ 746 حضرت عزیر کی دعاء بطور استبعاد : سو آپ کا یہ فرمانا استبعاد عادی کے طور پر تھا کہ عادۃً ایسی تباہی کے بعد اس طرح کی کسی بستی کا پھر قائم اور بحال ہونا بڑا مشکل اور بعید ہوتا ہے۔ یہ دراصل حضرت عزیر کی طرف سے اس ویران بستی کی دوبارہ آبادی کیلئے ایک درد بھری دعا تھی۔ اور اسی کے بارے میں ان کا اپنا احساس اور اظہار یہ تھا کہ کیا میری یہ دعاء شرف قبولیت پاس کے گی اور یہ اسی قدر تباہ و برباد ہونے کے بعد کیا دوبارہ آباد ہوسکے گی۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ، و تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت عزیر کا اس طرح فرمانا جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیئے میں بھی گزرا، انکار کی بنا پر نہیں بلکہ جستجوئے حقیقت کے باعث تھا اور یہ حالت ایمان کے منافی نہیں بلکہ اس ایمان کے مقتضیات میں سے ہے، جس کی بنیاد محض روایتی اور تقلیدی نوعیت کی نہیں ہوتی، ایک عقل و بصیرت پر قائم ہوتی ہے۔ اور یہ سلوک باطن کی ایک حالت و منزل ہے، جس سے ہر طالب حقیقت کو گزرنا پڑتا ہے اور یہ سفر اس وقت تک برابر جاری رہتا ہے، جب تک کہ اس کے قلب و نظر انوار ایمان و یقین سے پوری طرح روشن اور منور ہوجائیں اور وہ { حَتّٰی یَأتِیَکَ الْیَقِیْنُ } کی منزل تک نہ پہنچ جائے۔ اس سفر میں اگرچہ ہر منزل خوب سے خوب تر کی طرف اقدام کی نوعیت کی ہوتی ہے، لیکن عارف کی نظر میں اس کا ہر آج اس کے گزشتہ کل سے اتنا روشن ہوتا ہے کہ وہ کل اس کو آج کے مقابلے میں شب تاریک نظر آنے لگتا ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعَلٰی ما یُحِبُّ ویُرِیْدُ ۔ وَ ھُوَ الْہَادِیْ الیٰ سَوَائ السَّبِیْلِ ۔ بہرحال بندے کا کام اپنے رب کے حضور دعاء والتجاء اور اسی کی طرف رجوع ہے۔ یہی اس کی شان عبدیت کا تقاضا ہے اور اسی میں اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 747 مرنے والے کو دنیا کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا الا ما شاء اللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مرنے والے کو مرنے کے بعد اپنے پیچھے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کیونکہ حضرت عزیر کو اس سو سالہ موت کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا تو ان سے پوچھا کہ آپ اس حالت میں کتنا عرصہ رہے ؟ تو آنجناب نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ۔ اور یہ اس بنا پر کہ اگر یہ دوبارہ جی اٹھنا اسی دن ہے جس دن ان پر موت طاری ہوئی تھی، تو یہ دن کا کچھ ہی حصہ ہوا۔ اور اگر یہ دوسرا دن ہے تو پھر یہ پورا دن ہوگیا۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ مردے وادی موت میں اترنے کے بعد نہ کچھ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں۔ یہاں دیکھئے کہ یہ حضرت عزیر جو سو برس تک اس طرح موت کی کیفیت میں پڑے رہے، ان کو خود اپنے بارے میں بھی یہ معلوم نہیں کہ وہ اتنا عرصہ اس طرح سوئے پڑے رہے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن، یا دن کا بھی کچھ حصہ اس طرح پڑے رہے، حالانکہ ان کو اس طرح پڑے ہوئے پورے سو برس ہوچکے تھے۔ جب کہ ان کی یہ موت بھی اصل اور حقیقی موت نہیں تھی۔ تو پھر حقیقی موت والے مردے کیسے سن یا جان سکتے ہیں ؟ سو مرنے کے بعد انسان کو اپنے پیچھے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ پس بڑے ہی گمراہ اور بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو مرے ہوئے حضرات کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے پکارتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ ہماری سنتے اور فریاد رسی، اور حاجت روائی و مشکل کشائی کرتے ہیں اور بعض بدعتی ملاں تو ہانکے پکارے اپنے وعظوں تقریروں میں کہتے ہیں کہ قبر والے کو تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میری قبر پر چڑیا بیٹھی ہے یا چڑا ۔ وَالْعِیَاذُُ باللّٰہ ۔ کس قدر بہل اور بھٹک گئے یہ لوگ ؟ دین کیا کہتا ہے، نصوص قرآن و سنت کیا بتلا رہی ہیں اور یہ لوگ اندھے اور اوندھے ہو کر کہاں گر رہے ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وَاِلَی اللّٰہ الْمُشْتَکٰی وَھُوَ الْمُسْتَعَان ۔ بہرکیف اس قصے سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ بندے کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے مرنے کے بعد کیا ہونا ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ یعنی اگر اللہ کسی کو کچھ بتانا چاہے تو یہ اور بات ہے کہ وہ قادر مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر اس کے ثبوت چاہیے۔ 748 اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عزیر کو حقیقت حال سے آگہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہیں بلکہ تم پورے سو سال تک اس حالت میں رہے ہو۔ سو حضرت عزیر قرآن حکیم کی نص صریح کے مطابق سو سال تک اس حالت میں پڑے رہے۔ اور اس دوران حالات بھی کہیں سے کہیں پہنچ گئے تھے۔ بخت نصر مرگیا تھا۔ بنی اسرائیل آزاد ہوگئے تھے، اور بیت المقدس دوبارہ آباد ہوگیا تھا۔ (معارف وغیرہ) ۔ کیونکہ پوری ایک صدی کے اس طویل زمانے میں ایسا ہونا ایک طبعی امر ہے، مگر حضرت عزیر کو نہ صرف یہ کہ اس بارے کچھ پتہ نہیں تھا بلکہ ان کو خود اپنے بارے میں بھی یہ تک معلوم نہیں تھا کہ وہ صدی بھر کے اس طویل زمانے تک اس طرح محو خواب رہے۔ اور جب حضرت عزیر جیسی جلیل القدر ہستی کو بھی کچھ پتہ نہیں، اور خود اپنے بارے میں بھی پتہ نہیں، اور وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ آپ ﷺ کی یہ موت بھی حقیقی موت نہیں تھی، تو پھر اور کسی کو اپنی موت کے بعد کے حالات کے بارے میں کس طرح کچھ معلوم ہوسکتا ہے ؟ اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ حقیقی موت سے ہمکنار ہوچکے ہوں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر گمراہ ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بزرگوں کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قبر پر بیٹھنے والا پرندہ نر ہے یا مادہ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں گزرا۔ اور ایسے ہی غلط عقیدے کی بنا پر ایسے لوگ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی گمراہی اور اس کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 749 قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ہم آپ کو ایک عظیم الشان نشانی بنادیں اپنی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ کی، کہ ہم کس طرح موت کے بعد زندگی بخشتے ہیں، اور کس کس طرح اپنے بندوں کی رحمت و عنایت کا انتظام کرتے ہیں، تاکہ اس طرح وہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہوسکیں، ان کے ایمان و یقین کی قوت میں اضافہ ہو، اور وہ راہ حق و صواب پر مزید از مزید صدق و بصیرت سے گامزن ہوسکیں۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں۔ سو حضرت عزیر کو ان آیات کا مشاہدہ کرانے سے مقصود ایک تو یہ تھا کہ موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں ایک طرف تو ان کو خود شرح صدر اور اطمینان مزید حاصل ہوجائے۔ اور دوسری طرف ان کا یہ مشاہدہ بھی اسرائیل کے لئے پیغام حیات کا کام دے اور اس سے ان کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی دوبارہ ایک زندہ قوم بنانے پر قادر ہے۔ اس لئے حوصلہ توڑنے کی بجائے ہمت سے کام لیکر آگے بڑھنا چاہئے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ہم آپ کو ایک عظیم الشان نشانی بنادیں سب لوگوں کے لیے۔ کہ قیامت کے روز بھی سب مردے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی طرح زندہ ہو کر اٹھیں گے۔ سو اس طرح تمہارا وجود لوگوں کے لیے قیامت کی ایک مجسم نشانی اور علامت بن جائے گا۔ 750 علم الیقین سے عین الیقین کی طرف ترقی : سو ارشاد فرمایا گیا کحہ جب حقیقت حال انکے سامنے پوری طرح واضح ہوگئی تو انہوں نے کہا کہ میں یقین جانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ کہ پہلے تو صرف علم تھا، اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مشاھدہ بھی ہوگیا اور علم الیقین سے بڑھ کر عین الیقین کا درجہ حاصل ہوگیا۔ سو جو چیز پہلے سے یقینی تھی، وہ اب مشاہدہ عینی بن گئی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ مجھے میری زندگی میں دکھلا دیا۔ سو اس مشاہدے کے بعد جب ان پر حیات بعد الموت کا راز بےنقاب ہوگیا تو وہ پکار اٹھے کہ میں نے یقین جان لیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھا سکتا ہے اور ان کی قوم بھی دوبارہ اٹھ سکتی ہے اور اسی اعتبار سے ان کو اپنی قوم کے لئے قدرت کی ایک نشانی بھی ٹھہرایا گیا۔ سو اللہ پاک کی قدرت ہر چیز پر حاوی و محیط ہے۔ وہ جو چاہے، جیسے چاہے، اور جب چاہے کرے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور (واقعہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ابراہیم نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب (اپنے کرم سے) مجھے دکھا دے کہ تو کس طرح زندہ فرمائے گا مردوں کو ؟ تو اس پر رب نے ان سے فرمایا کہ تم ایمان نہیں رکھتے ؟ عرض کیا " کیوں نہیں، مگر (یہ درخواست اس لئے پیش کی کہ) تاکہ میرا دل (اور زیادہ) مطمئن ہوجائے، ارشاد ہوا۔1 اچھا تو تم چار پرندے لے لو، پھر ان کو اپنے سے اچھی (طرح مانوس) کرلو، پھر ان کا ایک ایک جزو ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو ، پھر ان کو پکارو، وہ چلے آئیں گے تمہارے پاس دوڑتے ہوئے، اور یقین جانو کہ اللہ بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،2

751 حضرت ابراہیم کی درخواست اطمینان مزید کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ کیا تم ایمان نہیں رکھتے ؟ تو انہوں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں۔ لیکن میں نے ایسا اس لیے عرض کیا کہ تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے۔ اور اس طرح مجھے علم الیقین سے عین الیقین کی طرف ترقی نصیب ہوجائے، کیونکہ سننے اور دیکھنے میں تو بہرحال فرق ہوتا ہی ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ " لَیْسَ الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃ " کہ " خبر دیکھنے اور معائنہ کرنے کے برابر نہیں ہوتی "۔ " کَیْفَ " کے لفظ سے جو سوال کیا جاتا ہے وہ بالعموم کیفیت کے بارے میں ہوتا ہے۔ سو حضرت ابراہیم کا یہ سوال اس کیفیت کے جاننے کے بارے میں تھا جس سے مردوں کو زندہ کیا جائے گا۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حضور اطمینان قلب سے سرفرازی کی دعا اور درخواست کی جو کہ مدارج ایمان میں سب سے اعلیٰ درجہ ہوتا۔ ورنہ جہاں تک ایمان کا تعلق ہے اس سے یہ حضرات روز اول ہی سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ سو اطمینان قلب کی طلب ایمان کے منافی نہیں بلکہ یہ اس کی تکمیل ہے۔ تاکہ اس سے ایمان کی قوت مزید پختہ ہو اور میرا یقین اور کامل اور پکا ہوجائے ۔ اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 752 اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز و حکیم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو کہ اللہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے۔ پس وہ جو کرنا چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا، کہ وہ عزیز ہے، اس کا حکم بہرحال نافذ ہو کر رہتا ہے، اور اس کا ارادہ بہرحال پورا ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے وہ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے بہرحال حق اور سراسر حق اور عین حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے، کیونکہ وہ عزیز کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے ۔ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالیٰ وَجَلَّتْ قُدْرَتُہٗ ۔ سو یہاں پر بھی اس نے چار پرندوں کو ذبح کرکے، ان کے اجزاء کو چار مختلف پہاڑوں پر رکھنے کا جو حکم دیا اس کی حکمت بھی وہی جانے۔ بہرکیف آپ کو زندگی بعد از موت کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ سو " عزیز " اور " حکیم " کی ان دو صفتوں کا تقاضا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے، کہ وہ اس پر قادر بھی ہے اور یہ اس کی حکمت کا مقتضیٰ بھی ہے۔ تاکہ اس طرح لوگ زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل پاسکیں۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنا مال اللہ کی راہ میں، ایسی ہے جیسے ایک دانہ (زمین میں بویا جائے) جو اگائے سات بالیں، ہر بال میں ہوں سو دانے، اور اللہ (اس سے بھی کہیں زیادہ) بڑھا چڑھا کردیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے، (اس کے صدق و اخلاق کے مطابق) اور اللہ بڑا ہی وسعت والا، نہایت ہی علم والا ہے،3

753 انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب و تلقین : سو انفاق فی سبیل اللہ کی تحریک و ترغیب کی طور پر ایسے لوگوں کے لیے ایک عظیم الشان مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ہر ایسے موقع و مقام پر خرچ کرتے ہیں جہاں مقصود اسی وحدہ لا شریک کی رضاء و خوشنودی ہوتی ہے۔ دوسرا کوئی مقصد اس میں شامل نہیں ہوتا، تاکہ اس طرح وہ آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی زندگی کیلئے تیاری اور اس کیلئے سامان کرسکیں، کیونکہ آج جو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے دیا جائے گا وہی جمع ہو کر محفوظ ہوجائے گا اور وہاں کام آئے گا۔ جو کام بھی اسلام اور مسلمانوں کی بہتری اور ان کی خدمت کے لئے کیا جائے وہ " فی سبیل اللہ " کے زمرے میں آتا ہے۔ حالات کے اعتبار سے کسی کام کی اہمیت زیادہ ہوسکتی ہے اور کسی کی کم لیکن جو بھی کام اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کے لئے اور شریعت مقدسہ کی تعلیمات کے مطابق کیا وہ " فی سبیل اللہ " ہی ہوگا ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنا ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لیے عظیم الشان ثمرات اور فوائد و منافع ہیں۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 754 انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ایک عظیم الشان تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی مثال اس دانے کی سی ہے جس کی سات بالیں ہوں اور ہر بال میں سو دانے ہوں کہ ایک دانہ مٹی میں ملنے کے بعد سات سو دانے بن جاتا ہے۔ سو یہ قدرت و عنایت خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ زمین سے ایک دانے کے سات سو دانے نکلتے ہیں اور ایسا ہمیشہ اور سب کے سامنے ہوتا ہے۔ سو اسی طرح اللہ پاک کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنے پر اتنا اجر و صلہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے کرم بےکراں اور عنایت بےنہایت سے عطاء فرماتا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس مضمون کو اس طرح نہیں بیان فرمایا کہ اللہ ایک پر سات سو گنا اجر وثواب دیتا ہے، حالانکہ یہ طریقہ مختصر بھی تھا، بلکہ اس کو اس حسی مثال کی صورت میں بیان فرمایا، تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ یہ چیز بالفعل تمہارے سامنے موجود ہے، اور ایسا فی الواقع تمہارے سامنے ہورہا ہے مگر تم لوگ غور نہیں کرتے۔ سو اس طرح یہ ارشاد ربانی " دعویٰ مع الدلیل " کے طور پر ہے۔ سو جب وہ قادر مطلق اس بےجان مٹی سے جو اپنی شان ربوبیت کے مقتضٰی کے مطابق انسان کی حسی اور مادی ضروریات کیلئے اس قدر بڑھا چڑھا کر پیدا فرماتا ہے، تو وہ اس کی روحانی غذا اور معنوی ضروریات کیلئے انتظام کیوں نہیں فرمائے گا ؟ اور وہ تمہیں تمہارے خرچ کئے گئے کے بدلے میں تمہیں کئی گنا بڑھا کر اور وہ بھی اس جہان فانی میں نہیں، بلکہ آخرت کے اس عالم جاودانی میں جہاں اس کی رحمت بےپایاں کا کمال ظہور ہوگا، کیوں نہیں دے گا ؟ اور وہاں پر وہ کیا کچھ نہیں کریگا ؟ اور وہاں پر وہ جو کچھ عطاء فرمائیگا اس کا ٹھکانا ہی کیا ہوگا جہاں بَنَص حدیث وہ کچھ ہوگا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا ہوگا۔ سو آج دنیا کے اس " دارالعمل " میں اس کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے دیئے چلے جاؤ، جو وہاں جمع ہوتا جائے گا اور پھر وہ اس کو وہاں پر اپنی شان کرم کے مطابق بڑھا چڑھا کر واپس فرما دے گا ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ َوعَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ سو اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی پونجی کو دنیا میں سودی بنکوں میں جمع کر کے اپنے گناہوں میں اضافہ کرنے کی بجائے اللہ کے بنک میں جمع کرائے تاکہ وہاں اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس ملے اور اس وقت ملے جب کہ یہ اس کا سب سے زیادہ محتاج ہوگا۔ـ 755 اللہ تعالیٰ کی وسعت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ بڑی ہی وسعت والا ہے۔ اتنی بڑی وسعت والا کہ اس کی بخشش وعطاء کا کوئی کنارہ نہیں۔ انسان ضعیف البنیان کا وہم و گمان بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، جیسا کہ مشہور حدیث قدسی میں وارد ہے کہ اگر اولین و آخریں کے تمام جن انس ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں، اور سب مجھ سے اپنی اپنی حاجت و ضرورت کا سوال کرنے لگیں، اور میں ان سب ہی کی حاجتیں اور ضرورتیں پوری کر دوں تو اس سے میری بادشاہی اور میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئیگی جتنی کہ ایک سوئی کے ناکے کو سمندر میں ڈبونے سے اس میں کمی آسکتی ہے ۔ فَسُبْحَانََ اللّٰہ مَا اَعْظَمَ شَانُہٗ وَمَا اَجَلَّ بُرْہَانَہٗ ۔ اس کے خزانے بےنہایت اور اس کی بخشش لامحدود ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗ اِلَّابِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ } سو اس کی وسعت کا کوئی کنارہ نہیں اور اس کی بخشش وعطاء کی کوئی حد و انتہاء نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم اس کے نام پر اور اس کی رضاء کیلئے دیئے جاؤ اور اس کے بعد کی فکر نہ کرو کہ اس کے یہاں سے تو نوازشیں ہی نوازشیں اور بخششیں ہی بخششیں ہیں اور اس کی اس جود و سخا اور عطا و نوال سے اس کے خزانوں میں ذرہ برابر کمی واقع نہیں ہوتی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 756 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نہایت ہی علم والا ہے : سو اس کی نوازش اس کے علم کی بناء پر اور اسی کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے کہ وہ پوری طرح جانتا ہے کہ کس کو کیا دیا جائے، اور کتنا اور کس قدر دیا جائے۔ اس لئے اس دنیا میں وہ بندوں کو دیتا اتنا ہی ہے جتنا کہ اس کی حکمت اور مشیئت کا تقاضا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ " وَاسِعٌ " کے ساتھ " عَلِیْمٌ " بھی ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ کس کی نیت کیسی ہے اور کس کا صدق و اخلاص کس درجے کا ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ اپنا معاملہ پورے صدق و اخلاص کا معاملہ رکھو ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق ۔ سو " وَاسِعٌ، عَلِیْمٌ " کی ان دو صفتوں کے حوالے سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ بندہ اس کی وسعت کو اپنی تنگ دامنی پر قیاس نہ کرے، کہ اس کی وسعت لا محدود اور ناپیدا کنار ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کی عطاء و بخشش اس کے علم کے مطابق ہوتی ہے۔ نیز اس کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے جو بھی کوئی چھوٹی یا بڑی، یا علانیہ یا پوشیدہ نیکی کی جاتی ہے۔ وہ سب اس کے علم میں رہتی ہے۔ اس لئے بندہ اپنے اجر کی طرف سے مطمئن رہے کہ جب دینے والا خزانہ بھی غیر محدود ہے اور اس کا علم بھی کامل اور لا محدود ہے اور اس کے یہاں کسی نیکی کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں، پھر وہ اپنے خرچ کے پیچھے نہ کوئی احسان جتلاتے ہیں، اور نہ دکھ دیتے ہیں، تو ان کیلئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے یہاں، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے،4

757 صدقہ کے بعد احسان جتلانے اور دکھ دینے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر وہ اپنے خرچ کیے کے پیچھے نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ ہی دکھ دیتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے یہاں ان کا اجر ہے۔ یعنی نہ وہ اپنے قول سے تکلیف دیتے ہیں، نہ فعل سے، نہ اپنی نیکی کو گنتے گنواتے ہیں، اور نہ اس کی وجہ سے وہ اس پر زبان درازی کرتے، یا اس کا ذکر دوسرے سے کرتے ہیں۔ کہ اس طرح کے امور صدقہ و نیکی کو برباد کرنے والے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ آگے والی آیت کریمہ میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ بلکہ ایسے لوگ نیکی کرنے کے بعد اس کو گویا بالکل بھلا ہی دیتے ہیں، اور نیکی کر کنوئیں میں ڈال والا طریقہ اختیار کرتے ہیں، کہ جس مالک کے نام پر اور جسکی رضا کیلئے ہم نے دیا ہے وہ بہرحال جانتا ہے اور یہی ہمیں کافی ہے۔ اس لئے اس کا خیال رہے کہ اس طرح کے کسی امر سے وہ صدقہ کہیں ضائع نہو جائے ۔ وباللہ التوفیق - 758 سچے ایمان والوں کے لئے نہ گزشتہ کا غم نہ آئندہ کا خوف : ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی غم نہ کوئی اندیشہ۔ یعنی نہ ان کو آئندہ کے بارے میں کوئی غم ہوگا کہ ان کو دخول جنت کی حقیقی کامیابی نصیب ہوچکی ہوگی اور فرشتے ان کا { سَلامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ } جیسے پیارے، پاکیزہ اور دلنواز ترحیبی کلمات سے استقبال کر رہے ہوں گے، اور نہ ہی ان کو اپنی دنیاوی زندگی اور ماضی کے بارے میں کوئی حزن و ملال اور رنج و افسوس ہوگا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت سے اپنی دنیاوی زندگی کو ایمان و یقین کے نور اور عمل صالح کی سعادت کے ساتھ گزارا ہوگا، جس کے نتیجے میں وہ اب جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوچکے ہوں گے۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ اور اب وہ ہر غم سے آزاد اور ہر خوف سے محفوظ شاہی زندگی گزاریں گے۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو اس کا اصل ظہور تو اگرچہ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں ہوگا، لیکن اس کا اثر ان کی اس دنیاوی زندگی میں بھی ظاہر اور واضح ہوتا ہے، کیونکہ ان کا اپنے ماضی کے بارے میں کہنا ہوتا ہے کہ جو ہوا سو ہوا، کیونکہ وہ اللہ ہی کی طرف سے تھا اس لئے بہتری اسی میں ہوگی ۔ وَالخَیْرَ فی مَا وَقََعَ ۔ اور آئندہ کے بارے میں ان کو اپنے رب کی طرف سے خیر ہی کی توقع، اور اسی کی دعاء ہوتی ہے۔ اس لئے وہ پریشانی کی بجائے رب تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے سہارے مطمئن رہتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے اور اصل اور حقیقی کمائی وہ ہے جو آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کی جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

بھلی بات (کہہ دینا) اور (کسی ناگواری کی صورت میں) درگزر کرلینا، کہیں بہتر (اور بڑھ کر) ہے ایسے صدقہ (و خیرات) سے، جس کے بعد ستایا جائے، اور اللہ بڑا ہی بےنیاز، نہایت ہی بردبار ہے،

759 اللہ تعالیٰ کی صفت غنا اور حلم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بےنیاز نہایت ہی بردبار ہے۔ پس اس غنی مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے نام پاک پر دینے کو تم لوگ اپنی سب سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی جانو اور احسان جتلانے کی بجائے اپنے اوپر اس کا احسان مانو کہ وہ تم کو ایسے مواقع فراہم فرماتا ہے جن میں خرچ کرنے سے خود تمہاری ہی سعادت و بھلائی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی۔ اور وہ غنی مطلق اور بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا ہی حلیم اور بردبار بھی ہے۔ پس وہ اگر کسی کو اس کے جرم و گناہ پر فوراً نہیں پکڑتا تو اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ اس حلیم مطلق کے حلم بیکراں کا ایک مظہر اور تقاضا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ اس کے حلم و کرم ہی کا ایک مظہر ہے کہ نیکو کار اور بدکار سب ہی اس کے خزانے سے رزق پا رہے ہیں۔ ورنہ وہ اگر اپنے بندوں کو ان کی کوتاہیوں اور نافرمانیوں پر اپنے فضل و کرم سے محروم کردیا کرے تو پھر کون ہے جو کسی فضل کا مستحق قرار پا سکے ؟۔ پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بندوں کے اندر بھی ان صفات کا عکس واظہار ہو۔ سو جن کو اس نے غنی بنایا ہو ان کے اندر ان کے غنا کے بقدر حلم اور بردباری بھی ہونی چاہئے۔ وباللہ التوفیق ۔ بہر کیف وہ غنی مطلق جب تم لوگوں سے مانگتا ہے اور اپنے نادار بندوں کے لئے مانگتا ہے تو اس سے تمہیں یہ سبق لینا چاہئے کہ تم اپنے ان نادار بھائیوں کیلئے از خود اپنے مال خرچ کرو ـ۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، اکارت (اور ضائع) مت کرو تم لوگ اپنے صدقات (و خیرات) کو، احسان جتلا کر، اور ایذا پہنچا کر، اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کو دکھلاوے کے لئے، اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ پر، اور قیامت کے دن پر،1 سو اس کی مثال ایسے ہے، جیسے کسی چٹان پر کچھ مٹی پڑی ہو، پھر زور کی بارش پڑ کر اس کو بالکل صاف کر دے،2 ایسے لوگوں کو اپنی کمائی میں سے کچھ بھی ہاتھ نہ لگ سکے گا، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ایسے ظالم لوگوں کو، (ان کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بناء پر)3

760 منّ و اذی باعث خسران و ضیاع ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے صدقات کو منّ اور اذی کے ذریعے ضائع اور اکارت مت کرو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایذاء رسانی اور احسان جتلانے سے صدقات و خیرات ضائع ہوجاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ الٹا گناہ اور تباہی کا باعث بن جاتے ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں نبئ اکرم ﷺ سے اس کی تصریح وارد ہوئی ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نہ ان سے کلام فرمائیگا، نہ ان کو نظر رحمت سے دیکھے گا، اور نہ ہی ان کو پاک کریگا، اور ان کیلئے ایک بڑا دردناک عذاب ہے۔ اور یہ بات آپ ﷺ نے تین بار ارشاد فرمائی۔ اس پر حضرت ابوذر ؓ نے چونک کر عرض کیا کہ وہ بڑے ناکام و مراد لوگ ہیں۔ اللہ کے نبی بتلائیے وہ کون ہیں " خَابُوْا وَخَسِرُوْا مَنْ ہُمْ یَا رسُوْلَ اللّٰہِ " تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا " المُسْبِلُ ، الْمَنَّانُ ، الْمُنْْفِقُ سِلْعَتَہٗ بالْحَلْف الْکَاذِب "، یعنی ان آدمیوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو اپنا کپڑا اپنے ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے، ۔ خواہ وہ کوئی بھی کپڑا ہو ۔ دوسرا احسان جتلانے والا، اور تیسرا وہ جو اپنا سامان جھوٹی قسمیں کھا کر بیچتا ہے۔ (مسلم، کتاب الایمان) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ 761 اعمال کی قدرو قیمت کا مدار ایمان و اخلاص پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے صدقات کو اکارت اور ضائع مت کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھلاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ اور جب اس کا اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین ہی نہیں، تو پھر وہ خالص اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کیلئے اور آخرت کے اجر وثواب کی غرض سے خرچ کریگا ہی کیونکر ؟ سو یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال کی اصل قدر و قیمت تب ہی بنتی ہے جبکہ انسان کا اللہ پر اور قیامت کے دن پر سچا پکا ایمان و یقین ہو، اور اس کا خرچ بھی صدق و اخلاص سے ہو ۔ ورنہ اس کے بغیر تمام اعمال ہیچ ہیں ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ اِِیْمََانًا کَامِلًا وَیَقِیْنًا صَادِقًا وَالاِخْلاصَ فِی الْقَوْل وَالْعَمَلِ ۔ سو جو لوگ سچے ایمان کی دولت سے محروم ہیں، اور وہ اپنے مال ریاکاری اور دکھلاوے کیلئے خرچ کرتے ہیں وہ سراسر خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف وہی عمل شرف قبولیت پاسکتا ہے، جو ایمان و یقین کی بنیاد پر اور صدق و اخلاص سے کیا جائے۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْقِ ۔ وَہُوَ الْہَادِی اِلٰی سَوَائ السَّبِیْلِ ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے صدق و اخلاص کی دولت سے نوازے اور بدرجہ کمال نوازے۔ آمین۔ 762 ریاکارانہ صدقات کے ضیاع کی تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی چٹان پر کچھ مٹی پڑی ہو جس کو دیکھ کر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس میں بیجائی ہوسکتی ہے، اور وہ اس امید پر اس میں بیج ڈال دیتا ہے، کہ اس طرح اس کو ایک کے سات سو دانے ملیں گے۔ مگر بعد میں جب زور دار بارش کے ریلے سے وہ سب مٹی بہ جاتی ہے تو اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ سو اسی طرح ریاکاری جیسے عوارض صدقات و خیرات کو نیست و نابود کردیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں یہ اپنے کیے کے اجر وثواب کا سب سے زیادہ محتاج ہوگا۔ وہاں اس کو کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا، کہ ریاکاری کے طوفان نے اس کا سب کیا کرایا بالکل برباد کردیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس طرح اس محروم القسمت کسان کی ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے اس کو کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا اسی طرح اس خیرات کرنے والے کی خیرات برباد ہو کر رہ جائیگی جو صدق و اخلاص کی محرومی کے ساتھ خیرات کرتا ہے اور اس کے بعد وہ احسان جتلا کر اور دلآزاری سے کام لے کر اس کو ضائع کردیتا ہے۔ اس کا کوئی حصہ بھی اس کے کام نہیں آئے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ریاکاری کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 763 ظالموں کے لیے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نور ہدایت سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو۔ یعنی ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں ملے گی۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا نور تو عام اور بلا امتیاز سب کیلئے ہے، اور اس کی رحمت سے محرومی کسی کیلئے بھی نہیں، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ انسان اپنے خبث باطن اور بدنیتی کی وجہ سے اس سے خود منہ موڑلے، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو خود اس نعمت عظمیٰ سے محروم کر دے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ ہدایت کیلئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط ہے طلب صادق، جس کا تعلق انسان کے دل سے ہے اور اس کو وہی خود جانتا ہے یا اس کا خالق ومالک۔ اور طلب صادق اور تڑپ کے بغیر ہدایت سے سرفراز کرنا اس کے قانون عدل و فطرت کے خلاف ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { اَ نُلْزِمُکُمُوہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کٰرِہُوْنَ } جس میں ہمزہ استفہام انکار کیلئے استعمال فرمایا گیا ہے، یعنی ایسا نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا کہ کسی کو اس کے نہ چاہنے کے باوجود ہدایت سے یونہی زبردستی سرفراز کردیا جائے، اور یہ ایک فطری اور بد یہی امر ہے کیونکہ جب متاع دنیا کی کوئی عام اور معمولی سی چیز بھی مانگنے اور طلب و استدعاء کے بغیر نہیں مل سکتی، تو پھر ہدایت کی نعمت جو کہ سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے، وہ طلب صادق کے بغیر کیسے مل سکتی ہے ؟ سو یہ مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا کہ اللہ ظالموں کو نور ہدایت سے نہیں نوازتا، کہ وہ چاہتے ہی نہیں۔ ورنہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی سچے دل سے ہدایت چاہتا ہو، اور اللہ پاک اس کو یونہی محروم کردے۔ سو ایسے نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ ذات اقدس و اعلیٰ ایسے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو طلب صادق اور رجوع الیٰ اللہ اصل اساس اور بنیاد ہے سرفرازی کی کہ اسی سے اللہ پاک کی رحمت و عنایت اس کے بندے کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ظلم محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم -