Ayahs 2:222–223617 حیض کے بارے میں سوال اور اس کا مبنی برحق وانصاف جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں حیض کے بارے میں کہ ایسی حالت میں عورت سے کیا معاملہ کریں۔ کیونکہ اسلام سے پہلے لوگ اس بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا تھے۔ یہود اس انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے کہ ایسی حالت میں عورتوں کو اپنے گھر میں رکھنے کے بھی روادار نہ تھے، بلکہ ان کو ایک نجس اور ناپاک مخلوق قرار دے کر اپنے سے الگ کردیا کرتے تھے، جبکہ نصاریٰ اس بارے تفریط میں مبتلا تھے، کہ وہ ایسی حالت میں ان سے صحبت و مباشرت کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ (المراغی، وغیرہ) ۔ اور آج بھی حق و ہدایت کی روشنی سے محروم مادہ پرست دنیا کا حال یہی کچھ ہے، کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی تسکین و پیروی میں کسی اخلاق و ضابطہ اور حدبندی کے سرے سے قائل اور روادار ہی نہیں ۔ اِلّامَا شَائَ اللّٰہ ۔ جبکہ دین حق اسلام نے افراط وتفریط کی ان دونوں انتہاؤں سے پاک و مبرا ایسا طریقہ و راستہ بتایا جو کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، کہ حالت حیض میں تم اپنی بیویوں سے صحبت و مباشرت کے سوا باقی تمام تعلقات قائم رکھ سکتے ہو، جیسا کہ اگلے حاشیے میں آ رہا ہے۔ سو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ عقل سلیم اور طبع مستقیم کے عین مطابق ہیں۔ اور انہی میں بھلا اور بہتری ہے انسان کے لیے دنیا و آخرت میں ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
618 حائضہ سے تعلقات کے بارے میں خاص ہدایات : سو اسلامی تعلیمات کی رو سے حالت حیض میں عورت سے مباشرت کے سوا ہر طرح کے اختلاط کی اجازت ہے۔ یعنی اس حالت میں تم ان سے صحبت و مباشرت نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ باقی تمام تعلقات قائم رکھنا جائز ہے۔ پس ان کے ساتھ کھانے پینے اور رہنے سہنے کے اشتراک میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے ایک طویل حدیث میں جس میں ایک قصہ بھی مذکور ہے۔ اس میں مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ الاّ النَّکَاح " یعنی حالت حیض میں تم ان عورتوں سے مجامعت اور ہمبستری کے سوا باقی ہر کام کرسکتے ہو۔ (مسلم، کتاب الحیض) ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حالت حیض میں عورتوں سے علیحدگی اور کنارہ کشی صرف زن و شو کے خاص تعلق کی حد تک ہی مطلوب ہے۔ یہ نہیں کہ ایسی صورت میں اس کو بالکل اچھوت بناکر رکھ دیا جائے، جیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے۔ سو اس ضمن میں دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ افراط وتفریط کی دونوں انتہاؤں سے پاک، عدل و انصاف اور فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا۔ سو اس طرح اسلام نے صنف نازک کو طرح طرح کے مظالم سے نجات دلائی ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہذا الدین المبارک المجید ۔
619 فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب وہ حیض سے اچھی طرح پاک ہوجائیں تو تم ان کے پاس آؤ جہاں سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ یعنی آگے کی جانب سے، جو کہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، نہ کہ دبر سے، کہ وہ خباثت کی علامت اور لعنت و پھٹکار کا باعث ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ ۔ چناچہ حضرت نبئ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد ہے " مَلْعُوْنٌ مَنْ اَتٰی اِمْرَاَتَہ فِیْ دُبُرِہَا " یعنی ملعون اور لعنتی ہے وہ شخص جو عورت کی دبر میں وطی کرے۔ (رواہ احمد، و ابو داود، بحوالہ معارف للکاندہلوی (رح) ابن کثیر، و المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربّانی میں فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے، اور ان کی پاسداری کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ اسی میں بھلا ہے، خود انسان کا، اس کی شخصی زندگی کا اور پورے انسانی معاشرے کا۔ اس دنیا میں بھی اور اس ابدی جہاں میں بھی۔ اور فطرت کے یہ تقاضے چونکہ بدیہی اور واضح ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے معاملات کو انسان کی فطرت پر چھوڑ دیا ہے کہ فطرت اپنے تقاضوں کی تعمیل و تکمیل کے سلسلہ میں کسی راہنمائی کی محتاج نہیں۔ اگر کسی کی فطرت مسخ نہ ہوگئی ہو تو وہ اس کے تقاضوں کو بالکل صحیح طور پر پورا کردے گا۔ اسی بناء پر محل مباشرت کا حال بھی یہی ہے کہ جس کی فطرت صحیح اور سلامت ہوگی وہ قُبُل ہی سے مباشرت کرے گا۔ اور جو فطرت کو مسخ کرکے دبر سے وطی کرے گا وہ حیوان سے بھی گرجائے گا، کہ ایسا شخص اندھا اور اوندھا بن کر ایسا کام کرتا ہے جو کوئی حیوان بھی نہیں کرتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء و انحراف۔ بہرکیف فطرت کے تقاضوں کی صحیح طور پر تکمیل دین فطرت کی تعلیمات مقدسہ کے بغیر ممکن نہیں کہ فطرت کے تقاضوں کو حضرت فاطر ۔ جل مجدہ ۔ ہی صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے۔
620 طہارت و پاکیزگی محبت خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرفرازی کا ایک اہم ذریعہ و وسیلہ طہارت و پاکیزگی ہے۔ پس تم گناہ اور نافرمانی کی نجاست و غلاظت، اور دوسری ہر طرح کی ناپاکی سے ہمیشہ اور ہر طرح سے بچنے کی کوشش کیا کرو، اور پھر بھی جو کوتاہی ہوجائے اس پر تم ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے رہا کرو، تاکہ اس طرح تم اس کے محبوب بندوں میں شامل اور شمار ہوسکو، کہ اس کی محبت کے حقدار یقینی طور پر وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ توبہ کرتے رہتے ہیں اور جو پاک صاف رہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو توبہ اور تطہر کی دو صفتیں اللہ تعالیٰ کو پسند اور پیاری ہیں۔ توبہ دراصل اپنے باطن کو گناہوں کی آلائشوں سے پاک کرنے کا کام ہے، اور تطہر اپنے ظاہر کو نجاستوں اور گندگیوں سے پاک کرنا ہے۔ سو ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب اور پیارے ہیں، جو اپنے ظاہر اور باطن دونوں کے اعتبار سے پاک اور صاف ہوں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 2:224–225625 اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے لیے آڑ بنانے کی ممانعت : سو اس سے اللہ تعالیٰ کے پاک نام کو اپنی قسموں کیلئے آڑ بنانے کی ممانعت فرما دی گئی۔ روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ اور ان کے داماد حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے درمیان کسی بات میں تکرار ہوگیا، تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے قسم کھالی کہ میں نہ تم سے ملونگا، نہ کلام کرونگا، اور نہ تمہاری کسی بھلائی برائی میں کوئی دخل دونگا۔ اس کے بعد جب کوئی حضرت عبداللہ سے اس بارے میں بات کرتا تو آپ ؓ کہہ دیتے کہ میں نے تو اللہ کے نام کی قسم کھائی ہے۔ لہذا میں اس بارے کچھ نہیں کرسکتا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (معارف، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں اس بات سے منع فرمایا گیا ہے کہ کسی نیک کام کے کرنے سے قسم کھائی جائے، اور اگر کوئی ایسا کرلے تو وہ اپنی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے، اور وہ نیک کام جس سے اس نے قسم کھالی تھی کرلے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے کوئی قسم کھالی، پھر دیکھا کہ وہ کام جس سے اس نے قسم کھائی تھی بہتر ہے، تو وہ اس کام کو کرلے، اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرلے (صحیح مسلم، کتاب الایمان) ۔ نیز اس آیت کریمہ سے یہ بھی نکلتا ہے کہ اللہ کا نام لے کر بار بار قسمیں کھانا بھی اسلام کی نظر میں درست نہیں، کیونکہ اللہ پاک کا نام اس طرح کی قسموں میں بار بار استعمال کرنا بھی اس کو آڑ بنانا ہے (القاسمی) ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لیے بار بار قسمیں کھانے کو منافقوں کی نشانی بتایا گیا ہے۔ بہرکیف اللہ پاک کا نام بہت ہی عظمت و شان والا ہے۔ لہذا اس کی اس عظمت شان اور جلالت مقام کا ہمیشہ اور ہر موقع پر خیال رکھا جائے، اور پھر اس قول و فعل سے احتراز و اجتناب اور پرہیز کیا جائے، جس سے اس کے بارے میں سوء ادبی کا کوئی پہلو نکلتا ہو یا اس طرح کا کوئی شائبہ پایا جاتا ہو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ والعیاذ بہ جل و علا ۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ کے نام کی عظمت بھی آشکارا ہوجاتی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 2:226628 " اِیلاء " کا معنیٰ و مفہوم اور اسکا حکم ؟: ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس طرح کی قسم کو " ایلاء " کہا جاتا ہے کہ مرد اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھالے۔ پس اگر اس کے پاس نہ جانے کی یہ مدت چار ماہ یا اس سے زیادہ کی ہو۔ یا کسی تعیین و تحدید کے بغیر ہو۔ تو اس کا حکم یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے پر طلاق بائن واقع ہو جائیگی، اور اس کی بیوی اس سے الگ ہو جائیگی۔ اور اگر چار ماہ سے کم کی مدت ہو تو یہ " منعقدہ " کے حکم میں ہوگی۔ اس مدت کے اندر اگر بیوی سے رجوع کرلیا تو کفارہ یمین ادا کرنا پڑیگا۔ اور اگر چار ماہ سے کم کی صورت میں اس نے رجوع نہیں کیا، اور وہ مدت پوری ہوگئی تو بغیر کفارہ یمین کے بیوی اس کے پاس رہے گی، اور کوئی طلاق وغیرہ نہیں واقع ہوگی۔ کیونکہ طلاق ہوتی ہے چار ماہ کی مدت پر۔ اور کفارہ ہوتا ہے " حنث " یعنی قسم توڑنے پر۔ اور یہاں ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں پائی گئی، قسم توڑنے اور کفار ادا کرنے پر اللہ ان کو معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی غفور اور رحیم ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 2:227629 " اِیلائ " پر قائم رہنے والوں کا حکم : کہ وہ اپنی قسم پر ہی قائم رہے، نہ انہوں نے رجوع کیا، اور نہ ہی قسم توڑی، تو چار ماہ کی یہ مدت گزرتے ہی ان پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائیگی، جس کے بعد اس بیوی کو اپنے عقد زوجیت میں رکھنے کیلئے اس کو تجدید نکاح کی ضرورت ہوگی کہ وہ اس کے حبالہ عقد سے بہرحال نکل گئی۔ سو ایسے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈریں کہ وہ سمیع وعلیم ہے جو ان کے " ایلاء " اور ان کی قسموں کو بھی سنتا ہے، اور ان کے دلوں کی نیتوں اور ان کے مخفی ارادوں کو بھی جانتا ہے۔ اس کی گرفت و پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف اور صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس طرح کی قسم چونکہ ازدواجی مقاصد کے خلاف اور بر وتقوی کے منافی ہے، کہ اس سے بیوی بالکل معلق ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے اسلام نے اس طرح کی قسم کھاکر بیٹھنے والوں کیلئے چاہ ماہ کی حد مقرر کردی ہے، کہ یا تو وہ اس مدت کے اندر بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کرلیں۔ یا اگر اس کو طلاق دینے کا فیصلہ ہے تو طلاق دے دیں، تاکہ وہ یونہی معلق نہ پڑی رہے، اور اس کا معاملہ طے ہوجائے۔ اور اس کی پوزیشن واضح ہوجائے۔ اور اس کو ایذا نہ پہنچے۔
Ayah 2:228630 طلاق یافتہ عورتوں کو تین حیضوں تک انتظار کرنے کا حکم : کہ اس دوران وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کریں، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان کو حمل ہے یا نہیں، تاکہ ایک دوسرے کی اولاد میں باہم خلط ملط نہ ہوجائے۔ اس لئے استبرائ رحم کیلئے اتنی مدت تک کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ " بانفسہن " کے لفظ میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ ان کے ذمے لازم ہے کہ یہ اپنے آپ کو اتنی مدت تک انتظار میں رکھیں کہ یہ اپنی جانوں پر اتنا کنٹرول رکھتی ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف تین حیضوں کی اس مدت کے مقرر کرنے کا اصل مقصد چونکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ اس چیز پر بہت سے اہم امور کا انحصار ہے۔ اس وجہ سے ان مطلقات کے دین و ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ یہ اگر اپنے اندر حمل کی قسم کی کوئی چیز محسوس کریں تو اس کو چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ ورنہ اس سے ان تمام مصالح کو سخت نقصان پہنچے گا جو شریعت مطہرہ نے اس حکم میں مرد عورت اور پیٹ میں موجود بچے کیلئے ملحوظ رکھے ہیں ۔ والعیاذ باللہ من کل سوء و زیغ۔
631 عورتوں کے اپنے رحموں کے اندر کی کیفیت کو چھپانے کی ممانعت : یعنی حیض یا حمل کو، جس پر ان کی عدت اور آگے کے دیگر امور کا دارو مدار ہے، اور ان کا اصل اور براہ راست علم انہی کو ہوسکتا ہے، نہ کہ دوسروں کو۔ تو وہ اگر اپنے اس معاملہ کو چھپائیں گی، کہ تاکہ عدت جلد گزر جائے، یا خاوند کو ان سے رجوع کا حق باقی نہ رہے وغیرہ، تو ایسا کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہوگا۔ زمانہ جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا کہ عورت اپنے خاوند سے علیحدگی کے فوراً بعد ہی دوسرے سے نکاح کرلیتی، جس سے بعد میں پتہ چلتا کہ وہ پہلے خاوند سے حاملہ تھی، تو اس سے کئی طرح کے فساد پیدا ہوتے، اور خرابیاں جنم لیتیں۔ بچہ کسی کا ہوتا اور وہ ذمے کسی اور کے لگ جاتا۔ نسب بگڑ جاتے وغیرہ وغیرہ۔ تو اسلام نے اپنی عدل و انصاف پر مبنی تعلیمات مقدسہ کے ذریعے اس پر روک لگا دی۔ اور ایسے تمام مفاسد کو بند کردیا۔ فالحمدللہ۔ سو اسی بناء پر مطلقہ عورتوں کے دین و ایمان کا تقاضا قرار دیا کہ وہ اپنے باطن کی کیفیت کو چھپائیں نہیں بلکہ صحیح بات بتائیں تاکہ صحیح فیصلہ ہو۔
632 ایمان کا تقاضا احکام خداوندی کی اطاعت و فرمانبرداری : کہ ان کے اس ایمان کا تقاضا یہی ہے، کہ ایمان خیانت اور دھوکہ دہی و فریب کاری کی اجازت نہیں دیتا۔ اور اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے نازل کردہ اور ارشاد فرمودہ تمام احکام واوامر کو صدق دل سے بجا لایا جائے کہ یہ اس خالق ومالک کا مجھ پر حق ہے اور ان کی پابندی میں بھلا ہے، خود میرا اور تمام بنی نوع انسان اور پورے معاشرے کا۔ اور اسی میں میری بہتری ہے اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد آنے والے آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اور قیامت کے دن پر ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس دن مجھ سے پوچھ ہوگی اور میں نے اپنے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا بدلہ اور پھل پانا ہے، جبکہ اس کے برعکس احکام خداوندی کی اطاعت و فرمانبرداری سے گریز و فرار اور اعراض واِنحراف ایمان کے تقاضوں کے منافی اور اپنی دنیا و آخرت کو بگاڑنے کے مترادف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وانحراف۔ بہرکیف ایمان کا تقاضا ہے کہ احکام خداوندی کی صدق دل سے فرمانبرداری کی جائے۔
633 دوران عدت خاوند کو رجوع کرنے کا پورا حق ہے : خواہ وہ عورتیں اس سے راضی ہوں یا نہ ہوں۔ اور اس کو چاہیں یا نہ چاہیں۔ کیونکہ طلاق کی صورت میں عدت گزرنے سے پہلے وہ من وجہ انہی کی زوجیت میں ہوتی ہیں۔ اور ان کا رشتہ زوجیت ابھی منقطع نہیں ہوتا۔ اس لئے عدت کے اندر وہ تجدید نکاح کے بغیر ہی ان کی زوجیت میں واپس آجاتی ہیں، جبکہ وہ ان سے اس بارے رجوع کرلیں، کیونکہ طلاق رجعی میں خاوند کو اس کا حق بہرحال رہتا ہے، لیکن خاوند کیلئے ضروری ہے کہ وہ رجوع حسن نیت سے کرے یعنی اس کا مقصد اس کو صحیح طور پر رکھنا ہو، نہ کہ محض معلق کرکے عذاب میں ڈال دینا کہ یہ ظلم ہے جو ممنوع اور حرام ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا من کل سوء وزیغ۔
634 بیویوں سے رجوع میں اصلاح کی نیت کی شرط : کہ وہ ان کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتے ہوں۔ محض ان کو تنگ کرنا مقصود نہ ہو، کہ نہ تو وہ انکو صحیح طریقے سے بیوی بنا کر رکھیں، اور نہ ہی انکو آزاد کریں۔ تاکہ وہ کسی دوسری جگہ اپنا عقد کرلیں، کہ اس طرح عورت کو روکنا ظلم اور زیادتی ہے، جس کی دین حق کبھی اجازت نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا کہ وہ لوگ نہ تو اس کو صحیح طریقے سے بیوی بنا کر رکھتے، اور نہ ہی اس کو چھوڑتے کہ وہ کسی اور جگہ اپنا عقد کرلیتی۔ پس اس طرح ظلم و زیادتی کے ساتھ وہ اس کو لٹکائے رکھتے۔ یہاں تک کہ اسلام نے آ کر ان کی داد رسی فرمائی، اور ان پر ہونے والے اس ظلم کو روکا، اور اس سے منع فرمایا۔ مگر واضح رہے کہ ایسا کرنے سے رجعت اگرچہ ہو جائیگی، مگر اس کا گناہ بہت بڑا اور سخت ہوگا، (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ (المراغی) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو اصل مطلب و مقصد اصلاح احوال ہے۔
635 مردوں اور عورتوں کے ایک دوسرے پر باہمی حقوق و فرائض : پس اصلاح و خیر خواہی اور حسن زوجیت کا یہ مقصد اس وقت تک پورا نہ ہوگا، جب تک کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے حقوق کو ادا نہ کرے۔ اور اس کا پوری طرح خیال نہ رکھے۔ اور مراد اس تماثل اور مثلیت سے یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے ذمے جو حق ہے، اس کے بدلے اسی طرح کا حق دوسرے کے ذمے بھی ہے۔ اپنے اپنے اس دائرہ کار میں، جو کہ فطرت نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔ پس وہ دونوں حقوق و اعمال، شعور و احساس اور فرائض و واجبات وغیرہ کے اعتبار سے باہم دیگر برابر و مساوی ہیں، تاکہ دونوں اپنے باہمی ترابط واشتراک سے زندگی کی گاڑی کو اس طرح صحیح طور پر چلا سکیں، کہ وہ خود ان دونوں کیلئے، ان کی اولاد و متعلقین کیلئے، اور پورے معاشرے، اور ملک و ملت، سب کیلئے خیرو برکت اور یمن وسعادت کا ذریعہ بن سکیں۔ اسی لئے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ فرماتے تھے۔ " اِِنِّیْ لَاَتَزَیَّنُ لِاِِمْرَاَتِیْ کَمَا تَتَزَیَّنََ ہِیَ لِیْ " ۔ " کہ میں اپنی بیوی کیلئے اسی طرح زیب وزینت اور اچھی پوشاک کا اہتمام کرتا ہوں، جس طرح کہ وہ میرے لئے کرتی ہے "۔ (تفسیر المراغی) ۔ یعنی اس آیت کریمہ میں وارد مثلیت اور برابری کے اعتبار سے میں اس بات کا خیال رکھتا ہوں، سبحان اللہ ! کس قدر شرف و اعزاز سے اسلام نے اس صنف نازک کو نوازا، اور پندرہ سو برس قبل، اس وقت نوازا جبکہ چہار سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ حقوق نسواں کا کوئی تصور و خیال تک کسی ملک و معاشرے، اور قانون و دستور میں، موجود نہیں تھا۔ اسلام نے اس وقت عورت کو وہ حقوق دیئے، جو عقل و فطرت، اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق تھے اور ہیں۔ اور اس اعلیٰ وارفع پیمانے پر نوازا کہ دنیا آج بھی ہزار ترقیوں کے دعو وں اور نعروں کے باوجود اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکی۔ اور انشاء اللہ قیامت تک نہیں پہنچ سکے گی۔ بھلا خالق کے قانون و دستور کا مقابلہ کرنا کسی انسان یا انسانوں کے کسی مجموعے کے بس میں آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ { فَتَعٰالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ اور آج جو مغرب زدہ حلقے، اور مادہ پرست طبقے، اور لادین لوگ، عورت کے حقوق کے نام سے یہاں اور وہاں، طرح طرح سے واویلا کرتے اور شور مچاتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہوس کی تسکین کا سامان کرنے کی کوشش میں ہیں اور بس۔ عورت کو وہ لوگ اس کی حقیقی عزت و کرامت سے محروم کر کے اس کو بازاری مال بنانا چاہتے ہیں، تاکہ اس طرح یہ لوگ اپنی اغراض مشؤمہ کو حاصل کرسکیں، بلکہ قرآن حکیم نے اپنی اعجاز بیانی سے ایک جملے کے ایک مختصر سے حکم و ارشاد کے ذریعے جو تعلیم اس بارے دی ہے۔ دنیا کے تمام دساتیر و قوانین اس کے مقابلے سے عاجز ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے { وَعَاشِرُوْہُنَّ بالْمَعْرُوْفِ } الاٰیۃ " اور تم ان سے حسن معاشرت کا معاملہ کرو، دستور کے مطابق " (النسائ۔ 19) پھر کتنے ظالم، اور کس قدر بےانصاف، ہیں وہ لوگ، جو اس بارے دین حق پر اعتراض کرتے ہیں، اور اس طرح یہ لوگ خود اپنی محرومی اور سیاہ بختی میں اضافہ کرتے ہیں، اور انکو اس کا شعور احساس تک نہیں کہ وہ کس قدر خسارے کا سودا کررہے ہیں۔ اور ایسا خسارہ جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل نوع من انواع الخسران -
636 مردوں کو عورتوں پر حاکمیت و قوامیت کی فضیلت حاصل ہے : اور یہ درجہ قدرت نے ان کی فطرت وجبلت میں ودیعت فرمایا ہے، جو کہ حاکمیت اور قوامیّت کا درجہ ہے، تاکہ گھریلو زندگی کی اس چھوٹی سی حکومت کا نظام صحیح طور پر چل سکے، جو کہ ملکی حکومت اور پھر باہمی نظام کی صحت کیلئے اولین اساس و بنیاد ہے۔ اور یہ کوئی جبر و استبداد کا نظام نہیں، بلکہ یہ ایسے ہی فطری عمل ہے جیسا کہ خود انسانی جسم میں سر اور دل و دماغ وغیرہ، ہر ایک کا اپنا ایک مقام اور مرتبہ ہے، اور ہاتھ پاؤں وغیرہ دوسرے اعضاء وجوارح کا اپنا وظیفہ و عمل۔ ہر ایک اپنی جگہ اپنا اپنا کام کرتا ہے تو انسانی جسم و جان کا سسٹم و نظام صحیح طور پر چلتا ہے۔ اس سے کسی کے اونچ یا نیچ ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ سو ایسے ہی بیوی، خاوند اور اولاد پر مشتمل خاندان کی اکائی ( unit) میں ہر ایک کا اپنا ایک درجہ اور مقام ہے۔ اس کے مطابق جب ہر کوئی اپنی ذمہ داری اپنے فطری دائرے میں پوری کرے گا تو اس میں سب کا بھلا اور فائدہ ہوگا۔ اس کے برعکس ان میں سے بھی اگر کوئی اپنے کام اور اپنے مقام کو چھوڑ کر دوسرے کے کام اور اس کے مقام میں دخل دے گا تو اس سے سارا نظام مختل ہوجائے گا کہ فطرت سے لڑنے اور ٹکرانے کا انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور فطرت کے تقاضوں کا پاس ولحاظ دین فطرت میں بتمام و کمال موجود ہے۔
Ayahs 2:229–230637 تیسری طلاق آخری اور فیصلہ کن : پس تیسری طلاق آخری اور فیصلہ کن امر ہے۔ اس کے بعد اس کی بیوی قطعی طور پر اس کی زوجیت سے فارغ اور الگ ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا کہ انسان جتنی طلاقیں چاہتا اپنی بیوی کو دے دیتا۔ اور پھر اس کی عدت گزرنے سے پہلے وہ اس سے رجوع کرلیتا، اور اس طرح وہ " معلقہ " (لٹکی ہوئی) رہتی۔ نہ تو اس کا خاوند اسے باقاعدہ بیوی بنا کر رکھتا، اور نہ ہی وہ اسے باقاعدہ طلاق دے کر چھوڑ دیتا، تاکہ وہ کسی اور جگہ اپنا عقد نکاح کرلیتی۔ یہاں تک کہ اسلام نے آکر صنف نازک کو اس عذاب سے ہمیشہ کیلئے رہائی اور نجات دلائی، اور طلاق کی آخری حد تین تک مقرر کردی، کہ تین طلاق کے بعد وہ اس سے بالکل فارغ اور الگ ہوجائے گی۔ بہرکیف اس ارشاد سے طلاق کا صحیح طریقہ تعلیم و ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ تمام معاشرتی زندگی کی بنیاد چونکہ نکاح کے پاکیزہ رشتے ہی سے وابستہ ہے۔ اس لیے اگر کسی مجبوری کے باعث اس کے ٹوٹنے کی نوبت آجائے تو یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ آدمی ایک ہی جھٹکے میں اس رشتے کو توڑ تاڑ کر رکھ دے، بلکہ وہ دو الگ الگ طہروں میں دو مرتبہ طلاق دے۔ پھر تیسرے طہر میں اس کو اختیار ہے کہ یا تو وہ اس سے مراجعت کرلے اگر اسکا ایسا ارادہ ہو، نہیں تو وہ اس کو بھلے طریقے سے رخصت کر دے اس کو یونہی معلق کرکے نہ رکھے کہ وہ نہ ادھر کی رہے نہ ادھر کی کہ یہ ظلم اور زیادتی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ دنیا کو ظلم سے بچانے کی ضامن و کفیل ہیں کہ یہ فاطر فطرت کی طرف سے ہیں اور ان میں ہر ایک کے حقوق کی پوری رعایت موجود ہے ۔ والحمد للہ -
638 " خلع " کی اجازت اور اس کا بیان : جب باہمی حدود کو قائم نہ رکھ سکنے کا اندیشہ ہو تو مرد اور عورت باہمی فرقت و جدائی اختیار کرسکتے ہیں اور ان کو اندیشہ ہو کہ اس طرح اس رشتہ نکاح کو باقی رکھ کر وہ گناہ میں مبتلا ہوں گے۔ تو ایسی صورت میں اگر مرد کچھ مال لے لے، اور عورت کچھ مال دے کر فارغ ہوجائے، تو ایسا کرنا درست ہے۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں " خلع " کہا جاتا ہے۔ اور اس مال کو بدل خلع اور خلع کے لغوی معنی ہوتے ہیں لباس اتارنا، اور بیوی خاوند میں سے ہر ایک کو چونکہ قرآن حکیم کی تصریح کے مطابق ایک دوسرے کے لیے لباس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے { ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وََاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنّّ } کہ " تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو "۔ اس لئے علیحدگی کی صورت میں گویا ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے اس لباس کو اتار دیا ہے، جو ان دونوں کے درمیان رشتہ زوجیت کی بناء پر قائم اور موجود تھا۔ اس لئے اس کو " خلع " کہا جاتا ہے اور جس مال کے بدلے میں اس لباس عظیم کو اتارا گیا اس کو " بدل خلع "۔ بہرکیف جب میاں بیوی کے درمیان ازدواجی زندگی کا نباہ نہ ہوسکے اور وہ محسوس کریں کہ وہ ازدواجی زندگی کی حدود وقیود کو نباہ نہیں سکیں گے تو وہ خلع کے ذریعے جدائی اختیار کرسکتے ہیں۔ تاکہ اس کے بعد دونوں میں سے ہر ایک اپنا من پسند راستہ اختیار کرسکے۔
639 " خلع " میں زوجین میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں : سو باہمی حقوق نہ ادا کرسکنے کے اندیشے کی صورت میں مال کے عوض طلاق حاصل کرنے پر زوجین میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں۔ نہ عورت پر اس مال کے دینے میں، اور نہ مرد پر اس مال کے لینے اور قبول کرنے میں۔ کیونکہ ان دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ اب اس رشتہ زوجیت کو قائم رکھنے کی صورت میں وہ دونوں ان حدود کی پاسداری نہیں کرسکیں گے، جو کہ حضرت حق جل مجدہ نے اس ضمن میں قائم فرمائی ہیں۔ اور ایسی صورت میں اس رشتہ زوجیت کو باقی رکھنا ان کیلئے خیر کا ذریعہ نہیں، شر کا باعث بنے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے ان دونوں نے جب اندیشہ شر کی بنیاد پر " خلع " کیا تو اس طرح دین ہی کے تقاضے کو پورا کیا۔ ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں۔ سو نہ عورت پر مال ۔ بدل خلع۔ دینے میں کوئی گناہ ہے اور نہ مرد پر وہ مال لینے میں کوئی گناہ ہے جو عورت نے اس کو دیا بشرطیکہ وہ مہر سے زیادہ نہ ہو ( معارف للکاندھلوی ) ۔ بہرکیف خلع رشتہ زوجیت کے بگاڑ کا آخری حل ہے۔
640 اللہ کی حدود کو توڑنے والے ظالم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ لوگ ظالم ہیں اللہ کے حق میں کہ انہوں نے اپنے خالق ومالک کی حدوں کو توڑا۔ نیز یہ لوگ ظالم ہیں خود اپنی جانوں کے حق میں، کہ اللہ کی قائم کردہ حدود کو توڑ کر یہ ہر طرح سے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ اور مزید یہ کہ ایسے لوگ پورے معاشرے کو فساد اور بگاڑ کی راہ پر ڈالتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی مقرر فرمودہ حدوں کو توڑنا ہر طرح سے اور سراسر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد عالی سے ایک طرف تو اس حقیقت کو ظاہر اور واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ اور مقرر کردہ یہ احکام جن کا ذکر اوپر بیان فرمایا گیا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود ہیں۔ سو جس طرح تم لوگ اپنے رقبوں اور چراگاہوں کے اردگرد حدبندیاں کرتے ہو، اور تم نہیں چاہتے کہ کوئی ان حدوں کو توڑے اور ان میں کسی طرح کی مداخلت کرے، اور ایسی کسی مداخلت کو تم لوگ اپنی عزت اور غیرت کیلئے چیلنج سمجھتے ہو۔ اسی طرح خداوند قدوس نے اپنے محارم کے ارداگرد یہ حدیں قائم فرمائی ہیں۔ تمہیں انکے اندر مداخلت کی اجازت نہیں۔ اور اللہ پاک کی یہ مقرر فرمودہ حدود چونکہ انسانی فطرت کے تقاضوں کے مطابق اور بندوں کے مصالح پر مبنی ہیں۔ اس لیے جو لوگ انکو توڑتے ہیں وہ خود اپنی ہی فطرت کے تقاضوں کی بربادی کا سامان کرتے اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مصالح کی دھجیاں بکھیرتے ہیں۔ سو اس طرح وہ ظالم قرار پاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حدود الہی کی پابندی و پاسداری ہی میں انسان کے لیے بہتری ہے۔ اور ان کو توڑنا اور پھلانگنا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:231646 " اِمساک بالمعروف " سے مراد ؟ : کہ ان سے صحیح طریقے سے رجوع کر کے، ان کو اپنی زوجیت میں باقی رکھنا مطلوب ہو، نہ کہ محض عدت کو طول دینا اور اس کو تکلیف میں ڈالنا، اور ضرر پہنچانا، کہ ایسا کرنا اور اس غرض کیلئے رجوع کرنا جائز نہیں۔ واضح رہے کہ ۔ { بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ } ۔ سے مراد یہ نہیں کہ وہ عدت پوری کرلیں، کیونکہ عدت پوری کرنے کے بعد ان کو روکنے کا کسی کو حق ہے ہی نہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ عدت کے خاتمے کے قریب پہنچ جائیں (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ اس لیے ہم نے اپنے ترجمے کے اندر بین القوسین کے لفظ بڑھا کر اسی مفہوم کو واضح کیا ہے ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف ارشاد عالی کا مطلب یہ ہے کہ جب ان کی عدت کے خاتمے کا وقت قریب آجائے تو اب دو میں سے ایک ہی صورت جائز ہے کہ یا تو ان کو دستور کے مطابق روک لیا جائے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ سو منشاء اس ارشاد عالی کا یہ ہے کہ انکو روکنا انکو اذیت اور نقصان پہنچانے کی نیت سے نہ ہو، بلکہ اصلاح اور نیکی کی نیت سے ہو، جس سے ان کو بیوی بنا کر رکھنا مقصود ہو۔
647 بھلے طریقے سے چھوڑنے کا حکم و ارشاد : یعنی تم ان کو بھلے طریقے سے چھوڑ دو تاکہ وہ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں نکاح کرلیں، اور اپنی مرضی کی ازدواجی زندگی گزاریں، کہ یہ ان کا ایک جائز حق ہے، جس سے ان کو روکنا اور منع کرنا درست نہیں جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے، اور ان کو ایسے لٹکا کر رکھتے کہ نہ ان کو بیوی بنا کر رکھتے اور نہ ہی طلاق دے کر فارغ کرتے کہ وہ کسی اور جگہ نکاح کرلیں۔ سو اسلام نے صنف نازک کو اس ظلم سے رہائی دلائی۔ سو " تسریح بالمعروف " یعنی بھلے طریقے سے چھوڑنے میں یہ بھی داخل ہے کہ محض انکو تنگ کرنے اور عدت کو طول دینے کیلئے نہ روکو، اور اس کے ساتھ ایسی بھی کوئی حرکت نہ کرو کہ انکو بدنام اور مطعون کرکے آگے کا بھی نہ چھوڑو، جس طرح کچھ ظالم اور بےانصاف لوگ پہلے بھی کرتے تھے۔ اور آج بھی بعض جگہوں پر کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
648 خالق کے احکام کی خلاف ورزی کرنا خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے ایسے کیا تو اس نے یقینا خود اپنی جان ہی پر ظلم کیا کہ اس طرح اس نے ایک طرف تو اس نے اپنے خالق ومالک۔ اللہ وحدہ لاشریک ۔ کی ناراضگی کا ارتکاب کیا جو کہ ایک سنگین جرم اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوسری طرف اس نے حقدار کو اس کے حق سے محروم کیا۔ اور تیسری طرف اس نے معاشرے کی اصلاح کی بجائے اس کو فساد اور بگاڑ کی راہ پر ڈال دیا۔ اور اس کے نتیجے میں وہ لوگوں کے درمیان بھی مبغوض و ممقوت قرار پائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ارشاد فرمودہ احکام انسان کے فطری تقاضوں کے مطابق عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کی خلاف ورزی کرکے انسان اپنے فطری تقاضوں اور عدل و انصاف کے اصولوں کو پامال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور اس طرح وہ اپنی جان پر خود ہی ظلم کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
649 اللہ کی آیتوں کو مذاق بنانے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ممانعت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مذاق مت بناؤ اللہ کی آیتوں کو۔ کہ ان سے منہ موڑنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا، اور ان سے لاپرواہی برتنا، ان سے مذاق کرنے اور ان کو تماشہ بنانے کے مترادف ہے۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) اور ظاہر ہے کہ یہ ایک سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا اہل ایمان کو اس کی ہر شکل سے بچنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ حضرت ابوالدردائ ؓ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا اور پھر کہتا کہ میں تو ایسے ہی مذاق کررہا تھا اور اپنے غلام کو آزاد کرتا اور پھر کہتا کہ میں تو ایسے ہی مذاق کررہا تھا تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں ایسی تمام باتوں سے ممانعت کردی گئی۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ نیز مذاق اڑانے میں یہ بھی داخل ہے کہ بظاہر تو وہ اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہو، لیکن اندر نیت اس کے مقتضیٰ کے خلاف رکھتا ہو۔ مثلاً یہ کہ تیسرے طہر میں وہ اپنی بیوی سے مراجعت کرے تو از روئے شریعت اس کو اسکا حق حاصل ہے، لیکن اس سے اسکا مقصد بیوی کو بسانا اور آباد کرنا نہیں بلکہ تنگ کرنا ہو، تو یہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑانا ہے۔ اور اللہ کی آیتوں کو مذاق بنانے کا ارتکاب اگر قصد و ارادہ ہے ہو تو یہ کفر ہے ورنہ یہ ایک سنگین جرم اور گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑانا ایک ممنوع و محرم امر ہے ۔ والعیاذ باللہ -
650 تذکیر نعمت برائے شکر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا اور یاد کرو تم لوگ اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر فرمایا، اپنے عظیم الشان رسول کو تمہارے اندر مبعوث فرما کر۔ اور ان کے ذریعے اپنے اس عظیم الشان کامل و مکمل اور آخری دین حنیف کی سچی تعلیمات سے تمہیں نواز کر، جس سے تم کو دارین کی سعادت و کامرانی، اور حقیقی کامیابی اور فائز المرامی کی راہ نصیب ہوئی۔ ورنہ تم لوگ تو ہدایت کی روشنی سے محرومی کے باعث دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کی راہ پر چلے جا رہے تھے، تو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنے اس رسول عظیم کو مبعوث فرما کر، اور دین کامل و مبین کی نعمت سے تمہیں سرفراز فرما کر، تم کو اس ہولناک انجام سے بچا لیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وََکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّار فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا } ۔ (آل عمران۔ 103) " اور تم لوگ (دوزخ کی) اس (ہولناک) آگ کے کنارے پر کھڑے تھے، تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا " اور بلاشبہ یہ اس وحدہ لاشریک رب مہربان کی رحمت بےنہایت اور کرم بےپایاں کا ایک عظیم الشان اور بےمثل و بےبدل مظہر ہے، جس سے اس نے محض اپنے فضل و کرم سے تمہیں نوازا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس حق و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اس کی قدر کر کے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور کہیں تم نے ناشکری سے کام لیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو خود اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شکر نعمت کا فائدہ خود انسان کو پہنچتا ہے اور کفر نعمت کا نقصان بھی اسی کو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے شکر کی نعمت سے سرشار رکھے۔ آمین ثم آمین۔
651 کتاب و حکمت کی دولت بےمثال اور اسکا تقاضا : سو یہ ایک عظیم الشان دولت ہے جس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہیں جس کی ہدایت و رہنمائی اس میں نہ فرمائی گئی ہو، اور دارین کا کوئی شر ایسا نہیں جس سے اس میں خبردار نہ کیا گیا ہو، اور اس سے تحذیر و تنبیہ نہ فرمائی گئی ہو۔ سو کتنے ظالم، اور کس قدر بدنصیب، اور بےانصاف ہیں وہ لوگ، جو ہر خیر کے اس سرچشمہ سے منہ موڑتے، اور اس سے اعراض و بےرغبتی برتتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعََظِیْْم ۔ سو اللہ تعالیٰ نے تو تمہارے اندر اپنا پیغمبر مبعوث فرمایا، اور اس کے ذریعے تمہیں ہر خیر و شر اور نیک و بد کے درمیان فرق و تمییز سے آگہی بخشنے والی اس کتاب عظیم سے نوازا، جو کہ قانون اور حکمت دونوں کا مجموعہ ہے، مگر تم لوگوں نے ان عظیم الشان نعمتوں کی دل و جان سے قدر کرنے کی بجائے الٹا ان کی حدود کو توڑا، اور اس کی شریعت کا مذاق اڑایا۔ سو سوچ لو ایسی ناشکری اور بےانصافی کا نتیجہ اور انجام کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف کتاب و حکمت کی دولت بےمثال کا شکر اور اس کی قدردانی لازم ہے۔
652 اللہ کی نصیحت منفرد و بےمثال : کہ یہ وہ نصیحت ہے جس میں کسی غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ سو یہ وہ عظیم الشان اور بےمثال نصیحت ہے جس میں کسی خطا اور غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ باقی دنیا کی ہر نصیحت میں غلطی اور کوتاہی ہوسکتی ہے، مگر اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات ایسے ہیں کہ ان میں کسی غلطی و خطا اور کوتاہی کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ پس تم لوگ دل کے اطمینان اور کامل سکون و اعتماد کے ساتھ ان کو دل و جان سے اپنا لو، کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر تم نے اس سے منہ موڑا تو تم خود اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس طرح اللہ پاک خود یکتا و بےمثال ہے اسی طرح اس کی نصیحت بھی یکتا و منفرد اور بےمثال ہے جو اب قرآن حکیم کی صورت میں دنیا کی رہبری و راہنمائی کے لیے موجود ہے اور انشاء اللہ تا قیام قیامت موجود رہے گی۔ سو اس کو اپنانا سعادت دارین سے بہرہ مندی کا ذریعہ اور واحد ذریعہ ہے اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
653 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو کہ اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ سو اس سے کسی کا کوئی قول و فعل، یا نیت و ارادہ تک کوئی بھی چیز کسی بھی درجے میں چھپی نہیں رہ سکتی۔ پس تم ہمیشہ اور ہر حال میں اس کا خیال رکھو کہ اس سے تمہارا معاملہ درست رہے ۔ رَبّ اِنّی راضٍ عَنْکَ مِنْ اَعْمَاق قَلْبِیْ ۔ فَارْض اَنْتَ عَنِّی بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ وَاِحْسَانِکَ ۔ وَخُذْنِیْ بِنَاصِیَتِیْ اِلٰی مَا فِیْہ حُبُّکَ وَرِضَاک بِکُل حَالٍ مِّنَ الْاَحَوَال، وَفِیْ کُلّ مَوْقِفٍ مِنَ الْمَوَاقِف فِی الْحَیَاۃِ ۔ یَا مَنْ ھُوَ اَرْحَمُ بِنَا مِنَّا لِاَنْفُسِنَا ۔۔ بہرکیف ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے خالق ومالک سے اپنا معاملہ درست رکھنے کی ضرورت ہے اور سچے دل سے کہ وہاں ظاہرداری نہیں چل سکتی، کہ وہ ہر چیز کو ہر اعتبار سے اور پوری طرح جانتا ہے۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ وہ نیکوں کی نیکیوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے، اور بروں کی برائیوں کو بھی۔ پس ہمیشہ اس امر کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ میرا معاملہ صحیح ہو اور اس کی رضا و خوشنودی کا شرف مجھے نصیب ہوجائے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:232654 عورتوں کو انکے حق نکاح سے روکنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عورتوں کو ان کے حق نکاح سے مت روکو۔ خواہ وہ اپنے سابقہ شوہروں سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں یا دوسرے نئے خاوندوں سے۔ ان کو بہرحال اس کی آزادی و اختیار ہے۔ پس تم ان کو ان کے اس حق اور آزادی کے اختیار اور استعمال سے کبھی نہیں روکنا، بشرطیکہ وہ دستور کے مطابق (بالمعروف) ہو۔ پس اگر دستور کیخلاف کسی امر کا ارتکاب کیا گیا ہو تو پھر اس کو روکنے کا حق ہے۔ مثلاً یہ کہ کسی امر محرم کا ارتکاب کیا گیا ہو، یا وہ نکاح غیر کفو میں ہو، وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں اس کی مزید تفصیل آرہی ہے۔ " عضل " کے معنی روکنے اور کسی کام میں رکاوٹ ڈالنے کے ہوتے ہیں۔ اور " ازواجہن " میں " ازواج " سے مراد ان کے ہونے والے وہ شوہر ہیں جن سے وہ آئندہ نکاح کرنا چاہتی ہیں۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں پرانے ہوں یا نئے۔ سو یہ اختیار ان کا حق ہے۔ اس لیے ان کو اس سے مت روکو۔
655 دستور کے خلاف ہونے والے نکاح کو روکنے کا حکم : سو بالمعروف کی قید سے واضح فرما دیا گیا کہ حکم و ارشاد اس صورت میں ہے جبکہ یہ نکاح دستور کے مطابق ہو۔ پس اگر ان کا یہ نکاح دستور کے مطابق نہ ہو، مثلا ً یہ کہ وہ غیر کفو میں، یا کسی غیر مسلم، یا مرتد و زندیق، کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں، یا عدت کے اندر ہی نکاح کا پروگرام بنالیں، وغیرہ۔ تو ایسی ہر صورت میں تم دخل دے کر ان کو روک سکتے ہو، اور روکنا چاہیئے۔ تاکہ وہ ایسی برائی میں مبتلا ہونے اور ارتکاب منکر سے بچ جائیں۔ اور منکر سے روکنا ہر مسلمان کا دینی و ایمانی فریضہ ہے۔ روایات کے مطابق حضرت معقل بن یسار ؓ کی ہمشیرہ کو طلاق ہوگئی۔ پھر ان کی عدت پوری ہونے پر اسی شخص نے جس نے ان کو طلاق دی تھی دوبارہ پیغام نکاح دیا، تو حضرت معقل ؓ کو چونکہ اس طلاق پر بہت صدمہ اور افسوس تھا، اس لئے آپ ؓ نے قسم کھالی کہ اب میں دوبارہ اپنی بہن کو تمہارے نکاح میں کبھی نہیں دوں گا، کیونکہ میں نے اس سے پہلے تم سے اس کا نکاح کیا، اور تمہارا گھر بسایا، مگر تم نے اس کو بلاوجہ طلاق دے دی۔ لہذا اب یہ دوبارہ تمہارے گھر کسی صورت میں بھی نہیں جائیگی، معقل ؓ خود کہتے ہیں کہ وہ آدمی بھی کوئی برا آدمی نہ تھا، اور میری بہن بھی اس کے یہاں دوبارہ جانے پر راضی تھی، مگر میں نے قسم کھالی کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، جس سے وہ فوراً اس شخص سے اپنی بہن کا دوبارہ نکاح کرنے پر آمادہ ہوگئے، اور اس کا نکاح اسی شخص سے کر بھی دیا، جیسا کہ ان حضرات کی شان اور ان کا طرہ امتیاز تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر یہ اس طرح فوراً لبیک کہتے تھے کہ اس کے بعد کسی چوں و چرا، حیل و حجت اور قیل و قال کا کوئی سوال ہی نہ تھا ۔ رِضْوَان اللہ علیہم اجمعین ۔ بہرکیف شان نزول کوئی بھی ہو، حکم بہرحال عام ہے اور قرآن حکیم نے اپنی اعجاز بیانی کے مطابق یہ قانون کلی اور دستور عام اس بارے میں مقرر فرما دیا کہ عورتوں کی عدت جب پوری ہوجائے، تو اس کے بعد دستور کے مطابق وہ جہاں چاہیں اپنا نکاح کرلیں۔ تم ان کو ان کے اس حق سے مت روکو، کہ اسی میں سب کی بہتری اور بھلائی ہے ورنہ خوامخوہ ان کو روکنے سے معاشرے میں کئی خرابیان پیدا ہوسکتی ہیں اور پیدا ہوتی ہیں جن کے اثرات دور دور تک پہنچتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
656 ایمان و یقین کی دولت اصل اور اساس ہے ہر خیر کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے ہر اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ یعنی فائدہ اس نصیحت سے بہرحال وہی اٹھائے گا، جو یہ ایمان و یقین رکھتا ہو، اور اسے اس کا احساس ہو کہ میں نے وہاں پہنچ کر اپنے کئے کرائے کی جو ابدہی کرنی ہے، اور یہ میرے خالق ومالک کا مجھ پر حق ہے کہ میں اس کے حکم و ارشاد کو دل و جان سے قبول کروں اور ان پر لبیک کہوں۔ سو ایمان و یقین کی دولت اصل اور اساس ہے ہر خیر کی اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ نصیحتیں ان ہی لوگوں کو کی جارہی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان و یقین رکھتے ہیں، کہ انکے ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان نصیحتوں پر عمل کریں۔ پھر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ تمہارے لیے نہایت پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے۔ یعنی اگر عورت کے حسب منشاء ومرضی نکاح میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اس سے خاندان میں اور پھر پورے معاشرے میں طرح طرح کی برائیاں پھیلنے کے خدشے ہیں۔ یہیں سے خفیہ روابط، پھر زنا پھر اغواء اور بالآخر قتل و فرار جیسے طرح طرح کے مفاسد کے دروازے کھلتے ہیں۔ اور اس طرح بالآخر ان سب لوگوں کی ناک کٹ کر رہنی ہے، جو اپنی ہی ناک کو اونچا رکھنے کے زعم میں فطری جذبات کے مقابلے میں رسم و رواج کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حنیف کی مقرر فرمودہ حدود وقیود کی پابندی ہی میں سب کا بھلا اور بہتری ہے۔
657 اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے : پس یہ یقین و اطمینان رکھو کہ اس کے ارشاد فرمودہ ہر قانون و ضابطہ میں خود تمہارے ہی لئے بہتری اور سراسر خیر اور بھلائی ہے، خواہ تمہیں اس کی سمجھ آئے یا نہ آئے، کہ وہ وحدہ لاشریک ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے اس کے ظاہر و باطن کے اعتبار سے، اور حال و مآل دونوں کے لحاظ سے، پس اس کا ہر ارشاد سراسر حق اور عین خیر ہے اور اسی میں بھلا ہے ہر کسی کا۔ پس تم اے ایمان والوں اپنے اس خالق ومالک کے ہر ارشاد کو دل و جان سے اپناؤ، سو تمہارا علم ناقص اور تمہاری نظر محدود و قاصر، اس لیے زندگی کے تمام نشیب و فراز کو جاننا، اور ہر چیز سے پوری آگہی رکھنا تمہارے لیے بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے، بھلا ناقص عقل اور محدود و قاصر نگاہیں ہر چیز کو پوری طرح آخر کیونکر جان سکتی ہیں ؟ سو تمہارے لیے بہتری اور سلامتی کی راہ یہی اور صرف یہی ہے کہ تمہیں خداوند قدوس کی طرف سے جو بھی حکم دیا جارہا ہو، اس کو تم دل و جان سے اپناؤ اور اس کی مقرر فرمودہ حدود وقیود کی پوری پابندی کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سو علم وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے۔ اس کے سوا باقی تمام علوم ناقص اور محدود ہیں۔ ان کا تعلق صرف مادیات اور محسوسات سے ہے اور بس۔ حالانکہ محسوسات کا دائرہ بہت محدود ہے۔ غیب کا جہان اس سے کہیں زیادہ وسیع اور محیط ہے۔ سو علم محیط اور شامل اللہ تعالیٰ ہی کا علم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -