2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور3 (وہ بھی یاد کرو کہ) جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز صبر نہیں کرسکتے ایک ہی طرح کے کھانے پر، پس آپ ہمارے لئے درخواست کریں اپنے رب سے، کہ وہ ہمارے لئے نکالے ان چیزوں میں سے جن کو زمین اگاتی ہے، جیسے ساگ، (کھیرے) ککڑی، گہیوں، مسور، اور پیاز، (وغیرہ) تو موسیٰ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ ادنیٰ چیز کو لینا چاہتے ہو، اس کے بدلے میں، جو کہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے ؟4 اچھا تو اترجاؤ تم لوگ کسی شہر میں، وہاں تمہیں وہ سب کچھ مل جائے گا جو تم نے مانگا ہے، اور (آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ) چپکا دی گئی ان پر ذلت (و خواری) اور پستی (و بدحالی) اور لوٹے یہ لوگ اللہ کی طرف سے (آنے والے) ایک بڑے ہی ہولناک غضب کے ساتھ5، یہ اس لئے کہ یہ لوگ کفر کرتے تھے اللہ (پاک) کی آیتوں کے ساتھ، اور قتل کرتے تھے (اس کے) نبیوں کو ناحق طور پر6، (اور) یہ اسلئے کہ یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے (اپنے رب کی) اور یہ لوگ تجاوز کرتے تھے، (اس کی مقرر کردہ حدوں سے)7

178 بنی اسرائیل کی ناشکری اور جسارت کی ایک اور مثال : یہ بنی اسرائیل کے بےادبانہ انداز تخاطب اور گنوارپن کا ایک مظہر ہے کہ اپنے پیغمبر کو نام لیکر پکارتے اور مخاطب کرتے ہیں۔ حالانکہ اپنے سے بڑے کو نام لیکر پکارنا تہذیب و ثقافت سے گری ہوئی بات، اور ایک گستاخانہ طریقہ ہے۔ اسی لئے پورے قرآن پاک میں کسی ایک جگہ بھی آنحضرت ﷺ کو آپ ﷺ کے نام نامی سے پکار کر مخاطب نہیں فرمایا گیا، یعنی کسی ایک مقام پر بھی آپ کو " یا محمد "، کہہ کر نہیں پکارا گیا، بلکہ آپ ﷺ کو کسی نہ کسی وصف کے ساتھ ہی مخاطب فرمایا گیا ہے، جیسے " یٰآ أُیُّہا النَّبِیُّ "، " یٰآ ایُّہا الرَّسُوْلُ "، " یٰآ اَُیُّہا الْمّزمِّل " اور " یَآ أیَّہَا الْمُدَّثِّرُ " وغیرہ۔ اہل بدعت کے ایک بڑے صاحب نے بھی بنی اسرائیل کے اس گستاخانہ انداز کا ذکر اس مقام پر اپنے تفسیری حواشی میں کیا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت " یا محمد " کہنے پر گویا ادھار کھائے بیٹھے ہیں، اپنے در و دیوار پر، اپنی کتابوں رسالوں کے صفحات پر، اپنی گاڑیوں مشینوں وغیرہ کی پیشانیوں پر، اپنے کتبات و لوحات پر، اپنے اشتہارات اور سٹیکروں وغیرہ وغیرہ پر وہ دھوم دھڑلے سے، اور ہانکے پکارے اس طرح لکھتے، پکارتے، اور اعلان کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس گستاخانہ جسارت پر نظمیں بھی بنائی ہیں مثلاً پنجابی میں ایک نظم اس طرح بنائی ہے، " اسیں یا محمد کہندے رہنا اے، انہاں وہابیاں جلدے رہنا اے "، یعنی " ہم یا محمد کہتے رہیں گے اور یہ وہابی ۔ اللہ والے۔ جلتے رہیں گے " جسارت ملاحظہ ہو کہ اللہ پاک نے تو اپنی کتاب حکیم قرآن مجید میں کسی ایک مقام پر بھی " یا محمد " نہیں فرمایا۔ مگر ان اہل بدعت کا دھوم دھڑلے سے اور فخریہ انداز میں کہنا ہے کہ ہم ایسے کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے، سو جہالت، ضد اور ہٹ دھرمی ایسے ہی گل کھلاتی ہے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اللہ پاک تو چونکہ سب کا خالق ومالک ہے، اس کی ذات اقدس و اعلی سب سے بڑی اور مقدس وبالا اور دائرہ مخلوق سے وراء الوراء اور سب کی خالق ومالک ذات ہے، اس لئے وہ جس کو بھی چاہے اور جیسے چاہے خطاب فرما سکتا ہے، اور انبیاء سابقین ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کو اس نے ان کے اسمائے گرامی کے ساتھ خطاب فرمایا بھی ہے، جیسے " یَااٰدَمُ "، " یَانُوْحُ "، " یَاہُوْدُ "، " یَا مُوْسٰی " اور " یا عیسیٰ " وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس کے باوجود پورے قرآن پاک میں کسی ایک مقام پر بھی آنحضرت ﷺ کو " یا محمد " سے خطاب نہیں فرمایا، حضرت حق جلّ جَلَالُہٗ کا یہ انداز بھی ملاحظہ ہو، اور اہل بدعت کی وہ جسارت و جہالت بھی، جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو اس طرح بےادبانہ انداز میں خطاب کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہوئے حضرت موسیٰ سے کہا کہ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و انحراف بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ ۔ 179 ہر کوئی اللہ پاک ہی کی رحمت و عنایت کا محتاج ہے : سو انہوں نے حضرت موسیٰ سے یہ نہیں کہا کہ ایسی چیزیں آپ ہمیں دے دو یا دلوا دو ۔ بلکہ یہ کہا کہ آپ اپنے رب کے حضور درخواست و وعا کرو کہ وہ ہمیں یہ عطا فرما دے۔ کیونکہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ ٔ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اسی کی مشیت و ارادہ پر موقوف ہے ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل طرح طرح کی گمراہیوں، خرابیوں، اور اخلاقی گراوٹوں کے باوجود، شرکیات کے اس مہیب اور ہولناک گڑھے میں اس حد تک نہیں گرے تھے جس میں آج کے بہت سے کلمہ گو مشرک گرے ہوئے ہیں، کہ انہوں نے کتنے ہی مشکل کشا اور حاجت روا ازخود گھڑ رکھے ہیں، اور جو اپنی حاجت روائیوں اور مشکل کشائیوں کے لئے طرح طرح کی مصنوعی " سرکاروں " اور " آستانوں " کے آگے، جھکتے، ان کو چومتے چاٹتے، ان کے گرد طواف کرتے، پھیرے مانتے، چکر لگاتے، بکرے کاٹتے، ان پر چادریں چڑھاتے، تعزیے کے گھوڑے کے نیچے سے گزرتے، اور کیا کیا کچھ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ ہمارے ملک میں اہل بدعت کے ایک مشہور گویا مولوی صاحب ہوا کرتے تھے جو ابھی کچھ ہی سال قبل دنیا سے رخصت ہوگئے، وہ بھرے جلسوں میں اس طرح گوہر افشانی فرمایا کرتے تھے کہ " اوہ وہابیا ! تیری گولی قبض کشا ہوسکتی ہے، تو علی مشکل کشا کیوں نہیں ہوسکتے ؟ " اور آگے سے ان کو اس پر نعرہ رسالت، نعرہ حیدری اور نعرہ غوثیہ جیسے نعروں کی گونج سے داد ملا کرتی تھی ۔ فَإنَّا لِلّٰہ وَاِنَّآ اِلَیْہ رَاجِعُوْنَ ۔ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کیا کہتی اور بتاتی ہیں، اور یہ لوگ کیسے اندھے اور اوندھے ہورہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا ایک ہی ہے، یعنی اللہ وحدہ لاشریک، سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہی ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور باقی تمام مخلوق اسی کی محتاج ہے۔ اور ہر حال میں اور ہر چیز میں اس کی محتاج ہے۔ اور سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 180 بنی اسرائیل کی ناشکری اور ان کی محرومی کا ایک مظہر اور نمونہ : یعنی " منَّ وسلویٰ " کی اس قدرتی غذاء کے بدلے میں، جو کہ قدرت کی طرف سے تمہیں مفت، بلامعاوضہ اور بغیر کسی محنت و مشقت، کے مل رہی ہے، جو کہ پاکیزہ، بےغل و غش اور بغیر کسی حساب و کتاب کے تمہیں مل رہی ہے، اور اس طرح تمہیں شاہی ضیافت اور شاہی اکرام و اعزاز کا جو عظیم الشان شرف نصیب ہو رہا ہے، وہ اس سب سے کہیں بڑھ کر ہے جو تم مانگ رہے ہو، آخر تمہاری مت کہاں اور کیسے ماری گئی، اور تم لوگ کہاں اور کس قدر گر چکے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سبحان اللہ ۔ کیسا اعزاز ان کو ملا تھا، اور کس قدر ناشکری کا مظاہرہ انہوں نے کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی طرح محروم اور بدبخت لوگوں کی مت ماری جاتی ہے، جس سے وہ الٹے اور اوندھے ہو کر رہ جاتے ہیں، اور ان کی فکر و سوچ کے دھارے ٹیڑھے ہوجاتے ہیں، اور وہ نعمت کو اپنے لیے نقمت اور عذاب بنالیتے ہیں، اور حق و صداقت سے دور اور نفور ہو کر محرومی در محرومی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہیں۔ اور ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں تک بنی اسرائیل کے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا گیا جن سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے ان کو اپنی قدرت و عنایت سے نوازا۔ اور اب ان کی ان شرارتوں اور شرانگیزیوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن سے ان ناشکرے لوگوں نے کام لیا۔ سو ایک طرف تو قدرت کی یہ عظیم الشان نعمتیں ان لوگوں پر برستی گئیں اور دوسری طرف ان کے تمرد وعناد اور سرکشی و خرمستی میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ کفران نعمت اور اپنی طبعی خست و دناءت کی بنا پر یہ لوگ خسیس کو نفیس پر ترجیح دینے لگے۔ سو اسی سے ان کی شناعتوں اور قباحتوں کے ذکر کا آغاز فرمایا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 181 بنی اسرائیل کی ناشکری اور نافرمانی کا نتیجہ و انجام : کہ ان پر ذلت و خواری کا ٹھپہ لگ گیا۔ یعنی ان کی بدنیتی اور بدباطنی کی بناء پر۔ سو " اھبطوا " کے صیغہء امر سے ان کے لئے جس ھبوط و انحطاط کا آغاز ہوگیا تھا، وہ بڑھتا ہی چلا گیا، یہاں تک کہ نوبت اس انجام وزوال کو پہنچ گئی اور انبیاء و رسل کی نسل سے تعلق رکھنے والی یہ قوم " مغضوب علیہم " بن کر رہ گئی ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے معصیت و نافرمانی پر اصرار اور استکبار کا،۔ والعیاذ باللہ ۔ سو صحت و سلامتی کی راہ یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی معصیت و نافرمانی سے ہمیشہ بچتا رہے، اور اگر کبھی نفس و شیطان کے شر سے کسی معصیت و نافرمانی میں گرفتار ہو بھی جائے ۔ والعیاذ با للہ ۔ تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور اس سے معافی مانگے، اور وہ بڑا ہی معاف کرنے والا توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور توبہ اس خالق ومالک کی طرف سے اس کے بندوں کے لیے ایک عظیم الشان عنایت اور رحمت ہے جس سے گناہوں کی وہ ہولناک میل صاف ہوجاتی ہے جو دوزخ میں لے جانے والی میل ہے اور جس کی صفائی اور اس سے رہائی کا توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کے سوا اور کوئی ذریعہ و وسیلہ نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ 182 بنی اسرائیل پر ذلّت و خواری کا ٹھپّہ : سو ان کی معصیت و نافرمانی کے اصرار پر ان پر یہ ٹھپہ لگ گیا، جس کا ثبوت ان کی پوری تاریخ سے ملتا ہے کہ اپنی پوری تاریخ میں یہ قوم جگہ جگہ اور طرح طرح سے مرتی پٹتی اور ذلیل و خوار ہوتی رہی، یہاں تک کہ ہماری اسی رواں صدی کے اواسط میں اس پر یہ عذاب نازی جرمنی کے ہٹلر کی شکل میں مسلط ہوا، اور چھ ملین یعنی ساٹھ لاکھ یہود کو اس نے نیست و نابود کردیا، اور اس کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جونکیں ہیں، جنہوں نے میری قوم کا خون چوسا ہے، اس لئے ان کو واپس میرے ملک کی دھرتی میں دفن کرو، تاکہ انکا چوسا ہوا وہ خون واپس میرے ملک کی مٹی میں آجائے، چناچہ اس نے اس کام کیلئے سپیشل طور پر خاص قسم کے پلانٹ لگوائے، جن میں ہزاروں کے حساب سے یہودیوں کو گھسیڑا جاتا، اور پھر مشینیں چالو کردی جاتیں، جس سے یہ لوگ ایک سیاہ رنگ کے بہتے مادے کی شکل میں تبدیل ہو کر دوسری طرف سے باہر نکلتے، اس طرح نازی جرمنوں نے اپنے ملک سے گویا اس قوم کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، اور اس سے قبل کی طویل ترین تاریخ بھی اس قوم کی ایسی ہی عبرتناک داستانیں پیش کرتی ہے، اسرائیل کی صورت میں پائی جانے والی موجودہ یہودی ریاست سے کسی شبہ میں نہیں پڑنا چاہیئے، اول اس لئے کہ تاریخ کی قدیم ترین قوم ہونے کے اعتبار سے اس کی تو دنیا میں سب سے زیادہ حکومتیں ہونی چاہئیں تھیں، جبکہ آج مسلمانوں کی جو کہ یہود و نصاری میں سب سے آخر میں آنے والی قوم ہے اس کی دنیا میں ساٹھ کے قریب اپنی مستقل حکومتیں ہیں، اور عیسائیوں کی بھی اتنی ہی ہونگی، یا اس سے کچھ کم و بیش، مگر یہود کی یہ چھوٹی سے حکومت جس کی آبادی لاکھوں میں ہے صرف ایک ہی حکومت ہے، اور وہ بھی صدیوں بعد کچھ ہی سال قبل وجود میں آئی۔ دوسرے اس لئے کہ وہ بھی دوسری اسلام دشمن اور استعماری طاقتوں کے سہارے پر کھڑی ہے، جس کا استثناء خود قرآن پاک میں { اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاس } کے الفاظ کے ساتھ موجود ہے، اور دنیا جانتی ہے کہ آج بھی اگر امریکہ و یورپ وغیرہ کی استعماری طاقتیں اس سے اپنے ہاتھ کھینچ لیں، تو اس کو فلسطینی عوام اکیلے ہی چبا جائیں، اور تیسرے اس لئے کہ اسرائیل کی یہ نام نہاد حکومت بھی ہمیشہ نہیں رہے گی، ایک وقت آئیگا جب یہی ارض فلسطین ان یہود بےبہبود کیلئے قبرستان بنے گی، لیکن یہ کب اور کیسے ہوگا ؟ اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، اللہ کی اللہ ہی جانے، البتہ یہ ایک عام قاعدہ اور دستور ہے کہ قوموں کے فیصلے مہینوں سالوں میں نہیں، صدیوں اور قرنوں میں بدلا کرتے ہیں۔ پس اپنے وقت پر یہ لوگ اپنے آخری انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے، انشاء اللہ العزیز ۔ اللہ وہ دن جلد دکھائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔ انت ربنا و رب المستضعفین یا ذا القوۃ المتین ۔ 183 بنی اسرائیل کیلئے ایک ہولناک غضب : سو منھل ہدایت و وحمت سے دین حق و ہدایت کے ساتھ لوٹنے کی بجائے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہولناک غضب کے ساتھ لوٹے، اپنی کرنیوں کی بناء پر، اور ایسی خباثتوں کی وجہ سے، یہ لوگ ایک ہولناک غضب کے ساتھ لوٹے، اور اس طرح یہ لوگ منصہ شرف سے گر کر قعر مذلّت اور حضیض رسوائی میں جا پڑے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ ۔ عام اردو تراجم میں اس کا ترجمہ اللہ کے غضب یا " غضب الہیٰ " وغیرہ الفاظ سے کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ترجمہ " غضب اللہ " کا ہے جبکہ یہاں پر " بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہ " فرمایا گیا ہے اور ان دونوں تعبیروں میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ عربیت کا ذوق رکھنے والوں پر مخفی نہیں۔ اور مزید یہ کہ تنوین اس میں تفخیم و تہویل کیلئے ہے، اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ وَ اللّٰہُ الْمُوَفِّقُ ، وَہُوَ مُلْہِمُ الصِّدْق وَ الصَّوَاب ۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ سورة فاتحہ میں وارد " مغضوب علیہم " کے وصف سے مراد یہی یہود بےبہبود ہیں، کیونکہ قرآن حکیم کی اس آیت کریمہ میں، اور اسی طرح کی بعض دوسری آیات کریمہ میں بھی غضب کا مورد انہی کو قرار دیا گیا ہے، سو انبیائ کرام کی نسل میں سے ہونے کے باوجود ان بدبختوں کے اس ہولناک انجام سے دوچار ہونے میں بڑا درس عبرت و بصیرت ہے، ان لوگوں کیئے جو عبرت پکڑتے اور سبق لیتے ہیں، پس جب تک انسان کا اپنا ایمان و عقیدہ صحیح نہ ہو بڑوں کے انتساب سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا جس کی واضح مثال دنیا میں ان بدبختوں کی شکل میں موجود ہے۔ کہ انبیائے کرام کی اولاد ہونے کے باوجود غضب خداوندی کے مستحق بنے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 184 " بِغَیْر الْحَقِّ " کی قید کا فائدہ : " بِغَیْر الْحَق "، " ناحق طور پر " کی یہ قید ان لوگوں کی بدکاریوں کی تشنیع و تاکید کے اظہار کیلئے ہے، ورنہ حضرات انبیائے کرام ۔ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُ ۔ کا قتل تو ہوتا ہی ناحق ہے، اس کے حق ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ جرم تو وہ جرم ہے جو قیامت کے دن سخت ترین عذاب کا باعث ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نبیء معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز سب سے زیادہ اور سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو، یا جو کسی نبی کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہو، اور جو کسی گمراہی کا (موجدو) پیشوا رہا ہو، اور تصویر بنانے والا شخص، (مسند احمد، بحوالہ معارف للکاندہلوی (رح) ) پس " بغیر الحق " کی یہ قید ایسے ہی ہے جیسا کہ ۔ { رَبٍّ احْکُمْ بالْحَقّ } ۔ (الانبیاء 1 12) میں " با لحق " کی قید ہے، کہ وہ بھی محض تاکید اور اظہار واقع کیلئے ہے، ورنہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کا حکم و فیصلہ تو ہوتا ہی حق کے ساتھ ہے۔ بہرکیف اس بدبخت قوم نے قتل انبیاء کے اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا من کل زیغ وضلال و سوء و انحراف ۔ 185 معاصی وذنوب انسان کو کفر تک پہنچا دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو اللہ کی نافرمانی اور اس کی مقرر فرمودہ حدود سے تجاوز شدہ شدہ انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اپنے رب کی نافرمانی اور اس پر مداومت و اصرار ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کی مقرر کردہ حدود وقیود سے تجاوز انسان کو شدہ شدہ کفر کی انتہاء تک پہنچا دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو گناہوں کو چھوٹا سمجھنے کی خطورت سے سختی کے ساتھ خبردار فرمایا ہے، چناچہ ایک مقام پر آپ ﷺ نے اس ضمن میں ارشاد فرمایا " اِیَّاکُمْ وَأَنْ تُحُقِّروا الذُّنُوْبَ "، " خبردار کہ تم گناہوں کو حقیر سمجھو " کیونکہ کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر کرنے سے گناہ سے متعلق وہ نفرت دلوں سے آہستہ آہستہ نکلنا شروع ہوجاتی ہے، جو انسان کو گناہ اور برائی سے روکتی اور باز رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ نوبت کفر و الحاد تک جا پہنچتی ہے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ ۔ اسی لئے فرمایا گیا " اَلْمَعَاصِیْ بَرِیْدُ الْکُفْر "، " گناہ کفر کی ڈاک اور ذریعہ ہیں " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کہا جاتا ہے " اِنَّ مُعْظَمَ النَّار مِنْ مُسْتَصْغَر الشَّرَر " یعنی بڑی آگ کا الاؤ چھوٹی چنگاریوں ہی سے تو بھڑکتا ہے۔ پس امن و سلامتی کی راہ یہ ہے کہ انسان ہر طرح کے گناہوں سے اپنا دامن بچا کر رکھنے کی کوشش کرے، اور ہمیشہ اپنے رب سے اس کی توفیق و عنایت اور راہ حق پر استقامت کی دعاء کرتا رہے، اس سے وہ واہب مطلق اس کو ضرور اپنی رحمت و عنایت سے نوازے گا ۔ وَہُوَ الْہَادِیْ الٰی سَوَائ الصِّرَاط وملہم الصدق والصداق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک (اللہ کے قانون عدل و انصاف کے مطابق) جو لوگ ایمان لائے، جو یہودی بن گئے، اور نصرانی اور صابی (ان میں سے) جو کوئی بھی (سچے دل سے) ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر، تو ایسوں کیلئے (بلا فرق وتمیز) ان کا اجر ہے ان کے رب کے یہاں، اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے3

186 " اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا " کے اسلوب کی بلاغت کا بیان : عام ترجموں میں اس کا ترجمہ لفظ یہود سے کیا جاتا ہے، حالانکہ آیت کریمہ میں " یہود " یا " الیہود " کا لفظ نہیں فرمایا گیا، حالانکہ یہ مختصر تھا۔ بلکہ " اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا " فرمایا گیا ہے۔ سو اگر اس سے مراد " یہود " یا " الیہود " کا مفہوم ہی ہوتا تو پھر اس مختصر لفظ کو چھوڑ کر " الَّذِیْنَ ہَادُوْا " کا جملہ کیوں ارشاد فرمایا جاتا، جبکہ لفظ " یہود " خود قرآن پاک میں دوسرے کئی مقامات پر ذکر بھی فرمایا گیا ہے۔ سو اسی فرق کو واضح کرنے کیلئے ہم نے اپنے ترجمے میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے " جو یہودی بن گئے " جس، سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ یہودیت وغیرہ کے نام سے جو ادیان ادیان سماویہ کے طور پر ایسے لوگوں نے اپنا رکھے ہیں، وہ درحقیقت ان لوگوں کے اپنے خود ساختہ دین ہیں، جو انہوں نے اپنی اپنی اہواء و اغراض کے مطابق خود گھڑ لئے ہیں، ورنہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی طرف سے اس کی مخلوق کی ہدایت و ارشاد اور فوز و فلاح کیلئے جو دین بھیجا گیا وہ ہمیشہ ایک ہی دین رہا ہے، یعنی دین اسلام، جیسا کہ ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہ الاَسْلاَم } ۔ اور دوسری بہت سی آیات کریمہ میں اشارد فرمایا گیا ہے۔ ہٰذَا ما عِنْدِیْ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ ۔ سو دین حق اسلام سے محروم لوگ نور حق و ہدایت سے قطعی طور پر محروم ہیں۔ اور یہ ایسے محروم اور بدبخت ہیں کہ اپنے حقیقی نفع و نقصان کے فہم وادراک سے بھی عاری ہیں جس کے باعث یہ اپنے ضرر و نقصان کو بھی فائدہ اور بہتری سمجھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ 187 " صابئین " سے مراد ؟ : " صابی " دراصل ایسے شخص کو کہا جاتا تھا جو ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں داخل ہوجائے (صفوۃ البیان لمعانی القرآن) اس لئے یہ لفظ بےدین یا بددین لوگوں کیلئے استعمال کیا جاتا تھا، اسی بناء پر مشرکین مکہ اس شخص کو " صابی " کہا کرتے تھے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتا اور دین حق میں داخل ہوجاتا، اور اس طرح وہ لوگ اپنے بغض وعناد کی بنا پر اہل حق کو صابی کہہ کر اپنے معاشرے میں بدنام کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے، جیسا کہ دور حاضر میں اہل بدعت اور قبر پرست لوگ حضرات اہل حق کو " وہابی " کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جہالت کے مارے بہت سے سادہ لوح عوام کو وہ اس طرح غلط فہمی میں مبتلا کر کے اپنے پھندے میں پھنسا بھی لیتے ہیں، حالانکہ " وہابی " کا، لفظ اپنی اصل حقیقت اور معنی کے اعتبار سے کوئی گالی یا عیب نہیں بلکہ ایک خوبی اور کمال کا غماز و آئینہ دار ہے۔ کیونکہ اس کے معنی " اللہ والے " کے ہیں جو ایک بڑا اعزاز ہے۔ سو اس طرح اہل بدعت اور قبرپرست لوگ خود اپنے منہ سے اہل حق کیلئے " اللہ والے " ہونے، کی شہادت اور گواہی دے رہے ہیں ۔ والحمد للہ ۔ بہرحال " صابی " ستارہ پرست یا ملائکہ پرست وغیرہ لوگوں کا ایک گروہ تھا جو گزر چکا ۔ علی اختلاف اقوال المفسرین ۔ بہرکیف ایمان و یقین کی دولت سب لوگوں کے لیے یکساں ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ 188 ایمان و یقین والوں کا اجر و صلہ محفوظ : یعنی ان کا وہ اجر وثواب جس کے ایسے لوگ اپنے عقیدہ و ایمان اور صدق و اخلاص کی بنا پر مستحق ہیں اور جس کی عظمت شان کو ان کا رب ہی جان سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب وہ ان کے رب کے یہاں محفوظ ہے تو پھر اس کے ضائع ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے، نیز جب ان کو وہ اجر و صلہ ان کے رب کے یہاں سے ملے گا تو پھر اس کی عظمت شان کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے کہ وہ اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ملے گا جس کے کرم کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد عالی سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نجات کا دارومدار حسب و نسب، قوم و قبیلہ یا شکل و صورت وغیرہ جیسے ان فوارق میں سے کسی پر نہیں جو انسان کے اپنے بس اور اس کے اختیار میں نہیں کہ یہ " تکلیف مالا یطاق " ہے، بلکہ اسکا دارومدار اور انحصار انسان کے اپنے عقیدہ و ایمان اور عمل و کردار پر ہے، جتنا کسی کا ایمان و عقیدہ صحیح اور پختہ و مضبوط ہوگا، اور جتنا اسکا عمل و کردار صحیح اور درست ہوگا، اتنا ہی وہ اپنے رب کی عنایات سے سرفراز ہوتا جائے گا، اور اللہ پاک کا قانون سب کیلئے ایک اور یکساں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ آگے معاملہ انسان کے اپنے ارادہ و اختیار کا ہے۔ 189 سچے ایمان والوں کیلئے نہ کوئی خوف اور نہ غم : کیونکہ ان کے گزشتہ گناہ ایمان کی بناء پر معاف ہوگئے، کہ ۔ " اِلاِسْلامُ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہ " ۔ " اسلام گزشتہ گناہ مٹا دیتا ہے " اور آئندہ کیلئے اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر ان کو خدا وند قدوس کی رحمت و عنایت کا سہارا مل گیا، تو ایسی صورت میں ان کو نہ ماضی کا کوئی غم اور افسوس ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف و اندیشہ۔ بہرکیف یہاں سے یہ ایک عام اصول اور ضابطہ بتادیا گیا ہے، کہ وہاں پر بات حسب و نسب وغیرہ کی نہیں، بلکہ ایمان و عقیدہ اور عمل صالح ہی کی ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کیسا بھی ہو، جو بھی سچے دل سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا وہ اس کا صلہ و بدلہ پائے گا اور جو اس کے برعکس چلے گا، اس کو اپنا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو اس ارشاد سے اس بنیادی اور اصولی ہدایت کو واضح فرما دیا گیا کہ جو بھی کوئی صدق دل سے ایمان لائے گا اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اعمال صالحہ بجا لائے گا وہ اس کا اجر و صلہ پائے گا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ کسی بھی رنک و نسل اور شکل و صورت کا ہو اور اس کا تعلق کسی بھی قوم اور قبیلے سے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش و عطا قوم قبیلے اور رنگ و نسل وغیرہ کے ان مصنوعی فوارق و امتیازات پر نہیں جو انسان کے اپنے بس میں نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے یہاں سے ملنے والی عطا و بخشش کا تمام تر مدارو انحصار انسان کے اپنے ایمان و عقیدے اور عمل و کردار پر ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرلیا کرو کہ) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا، اور تم پر اٹھا دیا تھا کوہ طور کو، (اور تم سے کہا تھا) کہ مضبوطی سے تھام لو تم اس چیز کو جو ہم نے تمہیں دی ہے، (یعنی توراۃ) اور یاد کرو تم ان (احکام و ہدایات) کو جو کے اس کے اندر (موجود و مندرج) ہیں تاکہ تم بچ سکو،

190 اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم اور اسکا مطلب ؟ : کہ سچے دل سے اس پر ایمان لا کر، اس کے احکام پر پوری طرح عمل کرو کہ یہی صحت و سلامتی کی راہ ہے اور اسی میں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے، اور اسی کے نتیجے میں تم لوگوں کو نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کی سعادت بھی نصیب ہوگی، کیونکہ تمہاری اس کتاب میں ان سے متعلق صریح پیشگوئیاں موجود ہیں۔ بہرکیف کتاب الہی کو مضبوطی سے تھامنے اور پکڑنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس پر سچے دل سے ایمان لایا جائے، اور اس کی ہدایات عالیہ اور تعلیمات مقدسہ کے مطابق عمل کیا جائے، جتنا کسی کا اس پر ایمان و یقین پکا اور پختہ ہوگا اتنا ہی وہ اپنے دعوی ایمان میں سچا ہوگا اور اسی قدر کتاب الہی اپنی فیض رسانی سے اس کو نوازے گی، اور سرفراز کرے گی اور لذّت ایمان و یقین سے سرفراز و سرشار ہوتا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب حق تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی تو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اس کو قبول کریں اور مضبوطی سے تھام کر صدق دل سے ان پر عمل کریں۔ جو بنی اسرائیل نے اس کے بعض احکام کے شاق ہونے کی وجہ سے تورات کے احکام کو اپنانے سے صاف انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو حکم دیا کہ وہ پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سر پر معلق کردیں تو جبریل نے تعمیل ارشاد میں پہاڑوں کو ان کے سروں پر معلق کردیا اور ان سے کہا کہ تم لوگ ان احکام کو صدق دل سے قبول کرو اور اپناؤ۔ ورنہ یہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا تو انہوں نے فورا اقرار کرلیا۔ اور وہ سجدے میں گر گیے۔ سو اس آیت کریمہ میں اسی واقعے کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ ( معالم التنزیل بحوالہ معارف للکاندھلوی ) ۔ سو احکام خداوندی کو صدق دل سے اپنانا اور ان پر عمل کرنا اصل مقصود ہے۔ 191 کتاب الہٰی کو مضبوطی سے پکڑنا تقویٰ و پرہیزگاری کا ذریعہ : یعنی تاکہ اس طرح تم لوگ بچ سکو، اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی نافرمانی سے، اور اس کے نتیجے میں تم بچ سکو اس کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے، اور یہی ہے بڑی کامیابی۔ سو اپنی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا حصول تقویٰ کا ذریعہ ہے اور تقوی و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی ہے کا ذریعہ ہے۔ تقوی و اتقاء کا اصل مفہوم ہوتا ہے بچنا اور پرہیز کرنا، ہر اس چیز سے جو رب کی ناراضگی کا باعث ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور رب تعالیٰ کی رضا و عدم رضا کا پتہ وحی خداوندی اور کتاب الہی کے بغیر چلنا ممکن نہیں، کتاب الہی ہی وہ واحد اور پاکیزہ ذریعہ و وسیلہ ہے جس سے انسان اپنے رب کی رضا اور عدم رضا کو جان سکتا ہے اور اسی کے مطابق چل کر انسان تقوی و طہارت اور اپنے رب کی رضاء و خوشنودی سے سرفراز ہوسکتا ہے اور خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی ہی اصل مقصود ہے ۔ واللہ التوفیق ۔ ورنہ محض زبانی کلامی دعو وں سے کچھ نہیں بنتا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر اس کے بعد بھی تم لوگ پھرگئے (اپنے اس پختہ قول وقرار سے) سو اگر نہ ہوتی تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور اس کی رحمت (و عنایت) تو یقینا تم لوگ ہوجاتے خسارہ اٹھانے والوں میں سے،

192 عہد سے پھرنا یہود کی موروثی خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگ پھرگئے اس کے بعد اپنے قول وقرار سے اور تم نے ان خداوندی احکام و ارشادات سے غفلت و لاپرواہی برتی، اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ایسے پس پشت ڈال دیا کہ گویا تم اس کو جانتے ہی نہیں۔ سو اپنے قول وقرار سے پھرنا، اور عہد شکنی کرنا یہود بےبہبود کی موروثی خصلت اور پرانی عادت ہے، جو ان کے اندر آج بھی جوں کی توں موجود ہے، جسکے مظاہر اور نمونے آج ہم فلسطین میں بچشم خود دیکھتے ہیں، فلسطینیوں سے انہوں نے کتنے ہی عہد و پیماں کیے پھر ان کو توڑ دیا، اور آج تک توڑتے اور طرح طرح سے ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور قسما قسم کے مکر و فریب سے کام لیتے ہیں۔ بہرکیف یہاں پر ان کی اس عہد شکنی کا ذکر فرمایا گیا جو انہوں نے حضرت موسیٰ سے پختہ عہد کرنے کے باوجود کی اور احکام خداوندی کو پس پشت ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اپنے قول وقرار اور عہد و وعد سے پھرنا یہود بےبہبود کی ایک موروثی خصلت ہے جو جب سے اب تک جاری ہے اور اس قوم کے لیے ایک لازمہ اور وصمہ عار کی حیثیت رکھتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 193 اللہ پاک کی شان رحمت و عنایت کا ایک مظہر : سو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی رحمت سے نوازا جس کی بنا پر اس نے تمہیں تمہارے کیے پر فوراً نہیں پکڑا اور تمہیں پھر سنبھلنے کا موقع دیدیا۔ سو یہ اس مالک مہربان کی شان رحمت و عنایت کا ایک اور مظہر ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تم دل و جان سے اس کے آگے جھک جاؤ اور اس طرح خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور اپنی شان رحمت و عنایت کی بنا پر کسی کو بھی فوراً نہیں پکڑتا بلکہ ڈھیل پر ڈھیل دئے جاتا ہے، تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے، نہیں تو اپنا پیمانہ لبریز کرلے۔ سو اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور نچنت ہونا بہت خسارے کا سودا ہے جس کا انجام بہرحال برا اور بہت برا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تمہارے لیے اے اہل کتاب اب یہ موقع موجود ہے کہ تم اس نبی آخر الزمان پر ایمان لے آؤ جو اب تشریف لا چکے ہیں، جن کا عہد تم سے تورات میں لیا جا چکا ہے اور جن کی بعثت و تشریف کے تم منتظر تھے۔ سو اپنے اس عہد کا ایفاء کرتے ہوئے تم اس نبی آخر الزمان پر ایمان لے آؤ اور ان کی اطاعت و اتباع کے شرف سے مشرف ہو کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو۔ ( معارف للکاندھلوی) ۔ 194 اللہ کے عہد سے پھرنا ہولناک خسارے کا باعث۔ والعیاذ باللہ العظیم : کہ دنیا میں بھی تم اپنے کئے کا بھگتان بھگتتے اور عذاب میں دھر لئے جاتے، اور آخرت میں بھی دائمی عذاب میں گرفتار ہوجاتے۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ الْعَظِیْم ۔ مگر اس نے اپنے کرم بےپایاں سے تم کو پھر سنبھلنے کا موقع دے دیا۔ سو اب تمہیں اس کی قدر کرنی چاہیئے اور اللہ کے عہد کو نبھانا اور پورا کرنا چاہیئے کہ اس کے عہد سے پھرنا دنیا و آخرت کا خسارہ و نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کے عہد کی پابندی میں دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے، اور اس سے اعراض و انحراف میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ دارین کا خسارہ و نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس مومن صادق کو ہمیشہ اللہ کے عہد کی پابندی کی فکر و کوشش میں رہنا چاہئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت نہ ہوتی تو تم لوگ یقینا سخت خسارے میں پڑگئے ہوتے کہ تمہاری بدعہدی اور عہد شکنی کا تقاضا یہی تھا۔ مگر اس کریم مطلق نے پھر بھی تم لوگوں سے لطف و کرم اور رحمت و عنایت کا معاملہ فرمایا تاکہ تم لوگ سنبھل جاؤ اور اپنی اصلاح کرلو۔ سو تم لوگ اگر عقل و خرد رکھتے ہو تو اس رب رحمٰن و رحیم کے اس امہال کی قدر کرو اور ایمان اور توبہ استغفار سے اپنی اصلاح کرلو، قبل اس سے کہ یہ فرصت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ اور تمہیں ہمیش کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم اپنی قوم کے ان لوگوں (کے حال و مال) کو بھی اچھی طرح جانتے ہو، جنہوں نے (قانون) سبت کے بارے میں تجاوز کیا تو ہم نے ان سے کہا (اپنے حکم قہری اور تکوینی طور پر) کہ ہوجاؤ تم بندر ذلیل (و خوار)4

195 یہود کا قانون سبت سے تجاوز : جو کہ حضرت داؤد ۔ (علیہ السلام) ۔ کے زمانے میں گزرے ہیں اور جو سمندر کے کنارے پر رہا کرتے تھے۔ ان کی گزربسر کا زیادہ تر مدارو انحصار مچھلی کے شکار پر تھا۔ اور ہفتے کا دن جسے انہوں نے ازخود اپنی عبادت کیلئے مقرر کیا تھا۔ ان کی آزمائش کیلئے اس دن ان کے لئے مچھلی کے شکار کی ممانعت کردی گئی تھی، مگر انہوں نے طرح طرح کے حیلے بہانوں سے کام لیکر ہمارے ان احکام کی خلاف ورزی کی، اور وہ آزمائش میں ناکام ہوئے، تو اس کے نتیجے میں وہ ایک ہولناک اور رسواکن عذاب سے دوچار ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ اللہ پاک کی طرف سے عبادت اور اس کے اہتمام کیلئے ہفتے کے سات دنوں میں سے جمعے کا دن ہی سب قوموں کیلئے مقرر فرمایا گیا تھا، اور مسلمانوں کے یہاں آج تک جمعہ کا دن ہی اس غرض کیلئے مقرر ہے، جو کہ ان کیلئے ہفتہ واری عید کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس کے برعکس یہود نے اپنے لئے ہفتے کا دن منتخب کیا، اور نصاری نے اتوار کا دن، اس طرح وہ دونوں گروہ مسلمانوں سے پیچھے ہوگئے، جیسا کہ یہ امر حضرت نبیء معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ثابت و وارد ہے اور قانون سبت سے متعلق یہود بےبہبود کا یہ قصہ آگے سورة اعراف میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے جہاں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاسْاَلْہُمْ عَن الْقَرْیَۃ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ } ۔ الخ۔ (الاعراف : 163) ۔ سو قانون سبت کی مخالفت کی بنا پر یہود کو سخت بھگتان بھگتنا پڑا۔ 196 یہود کیلئے بندر اور خنزیر بن جانے کی ہولناک سزا : یعنی ذلیل و خوار اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے محروم و مطرود ہو کر ۔ والعیاذ باللہ ۔ معلوم ہوا کہ جھوٹے حیلوں بہانوں سے اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کو بدلنا، اور ان سے گلوخلاصی کی کوشش کرنا، اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کو پامال کرنا نہایت سنگین اور ہولناک جرم ہے، جس کا انجام بہت سخت اور خوفناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر وہ حیلے جن کا مقصد احکام شرعیہ کا ابطال نہیں، بلکہ ان پر عمل کرنا ہو، وہ اس زمرے میں نہیں آتے۔ سو ان کو اپنانا جائز ہے کہ ان کا ثبوت خود قرآن و حدیث سے ملتا ہے، مثلاً سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جب ایک حیلہ و ترکیب کے ذریعے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لیا، تو قرآن پاک نے اس قصے کو نقل کرنے کے بعد اس کی کسی طرح کی کوئی تردید یا تغلیط نہیں فرمائی، بلکہ اس کی درستگی اور تصویب کو اس طرح صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ۔ { کَذَالِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ } ۔ " اسی طرح تدبیر بتائی ہم نے یوسف کو " اسی طرح حضرت ایوب (علیہ الصلوۃ والسلام) کے قصے میں وارد ہے کہ جب انہوں نے غصے کی حالت میں اپنی بےقصور بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھالی تو اس میں " حنث " یعنی قسم توڑنے کے گناہ سے بچنے، اور بےقصور بیوی کو بلاوجہ سو کوڑوں کی سزا سے بچانے کیلئے، حضرت حق ۔ جل وعلا ۔ کی طرف سے آپ کو یہ ترکیب بتلائی گئی، اور یہ حیلہ سکھایا گیا کہ آپ سو کوڑوں کی بجائے سو تنکوں کا ایک مٹھا لیکر اس کے ذریعے ان کو ایک ہی دفعہ مار دو ، تاکہ قسم بھی پوری ہوجائے، حانث بھی نہ ہونا پڑے، اور ایک بےگناہ کو بلاوجہ مارنے کا ارتکاب بھی لازم نہ آئے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَ لا تَحْنَثْ } ۔ اسی طرح حدیث پاک میں ایک صاع عمدہ کھجور کو دو صاع ردی کھجور کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا گیا کہ تفاضل کی اس صورت میں اکل ربو [ سود خوری ] کا ارتکاب لازم آتا ہے۔ اور اس سے بچنے کیلئے یہ طریقہ اور حیلہ ارشاد فرمایا گیا کہ تبادل جنس سے بچ کر اس کو نقد کی صورت میں خرید لو، تو اس کے ذریعے مطلوبہ تبادلہ کرلو، تو اس طرح اختلاف جنس کے سبب سود لازم نہیں آئیگا، (معارف للدیوبندی المرحوم) ۔ پس ہر ایسا حیلہ ممنوع و محظور ہے، جس سے کسی حکم شرعی کا ابطال لازم آتا ہو، اور جہاں حیلہ سے مقصود کسی حکم شرعی کا ابطال نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا اور اس میں تسہیل مقصود ہو تو وہ درست ہے۔ پس اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ اہل بدعت کے ایک بڑے صاحب نے جو یہ کہا کہ " شرعی حیلے کرنے بنی اسرائیل پر حرام تھے ہماری امت پر حلال ہیں " تو اس نے ایک ایسی بالکل غلط اور بےبنیاد بات کہی جو عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ کیونکہ جس شرعی حیلے سے مقصود کسی حکم شرعی کا ابطال ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ نہ کل جائز تھا نہ آج جائز ہے۔ اسی لئے بنی اسرائیل کو اس سنگین جرم پر اتنی بڑی اور سنگین سزا بھگتنا پڑی ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ بنی اسرائیل کے مسنح کا یہ قصہ جمہور کے نزدیک اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ یعنی واقعۃً ان لوگوں کی شکلیں بندروں کی شکلیں بنادی گئی تھیں۔ مگر چونکہ قانون قدرت کے مطابق ایسے لوگوں کی نہ نسل چلتی ہے، اور نہ ان کو زیادہ لمبی زندگی ملتی ہے، بلکہ اس طرح نمونہ عبرت بننے کے جلد ہی بعد ان کو مٹا دیا جاتا ہے۔ اس لئے ان لوگوں سے بھی یہی ہوا کہ روایات کے مطابق اس مسنح صوری کے تین روز بعد یہ لوگ ہمیشہ کیلئے مٹا دیئے گئے، البتہ مجاہد ( (رح) ) وغیرہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ یہ مسنح صوری نہیں معنوی تھا۔ مفتی محمد عبدہ مرحوم اور حضرت مصطفیٰ مراغی مرحوم، وغیرہ کچھ مفسرین کرام نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ اگرچہ قرآن حکیم یا کسی حدیث صحیح میں ان دونوں احتمالوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی کوئی تصریح موجود نہیں، اور الفاظ قرآنی میں دونوں کا احتمال موجود ہے۔ اس لئے قطعیت اور یقین کے ساتھ ان دونوں میں سے کسی ایک رائے کو حتمی قرار دینا تو مشکل ہے۔ البتہ عمومی قرائن اور تبادر لفظی کے اعتبار سے ہمارے نزدیک راحج قول جمہور ہی کا ہے۔ ایک تو خود اختیار جمہور کی وجہ سے۔ اور دوسرے اس لحاظ سے کہ مسنح معنوی تو یہود بےبہبود کی ایک عمومی صفت اور طبعی اور جبلی خصلت کے اعتبار سے یونہی مشہور و معروف ہے، وہ کوئی نئی اور اچنبھے کی بات نہیں، کہ اس کو ایسے کسی خاص واقعہ کا مصداق قرار دینے کی ضرورت پڑے،۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ جَلَّ وَعَلَا ۔ واضح رہے کہ اصحاب سبت کا یہ قصہ آگے سورة اعراف میں آیت نمبر 162 سے آیت نمبر 166 تک میں خود بیان فرمایا گیا ہے۔ وَالتَّفْصِیْلُ فِی الْمُفَصَّل انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو سورة اعراف میں اس پر مزید کچھ عرض کیا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

سو (اس طرح) ہم نے اس (قصہ) کو سامان عبرت بنادیا اس زمانے کے لوگوں کیلئے، اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کے لئے بھی، اور ایک عظیم الشان نصیحت پرہیزگاروں کیلئے5

197 یہود کا انجام دوسروں کیلئے نمونہ عبرت : تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے احکام و ارشادات سے سرتابی کرنا اور حیلے حوالوں اور خود ساختہ مشکلات اور حیلے بہانوں سے کام لیکر ان سے منہ موڑنے اور گلوخلاصی کی کوشش کرنے کا انجام کس قدر ہولناک اور کتنا خطرناک ہوتا ہے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہِ ۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں سچائی ہی کام آسکتی ہے نہ کہ بناوٹ اور ظاہر داری کہ اس کی صفت اور شان یہ ہے کہ اس سے کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور وہ آنکھوں کی چوری اور دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی اس عقوبت و سزا اور ان کے اس قصہ کو ایک ایسی عبرت بنادیا گیا جس سے ہر عبرت پکڑنے والا عبرت پکڑ سکتا ہے۔ " نکال " کے اصل معنیٰ روکنے اور منع کرنے کے آتے ہیں۔ کیونکہ ایسی سزا دوسروں کو ایسے جرم و قصور سے روکتی ہے ۔ " ای تمنعہ و تردعہ " ۔ اور اسی لیے باندھنے کی رسی کو بھی نکل کہا جاتا ہے ( محاسن التاویل للامام القاسمی ) ۔ 198 اہل تقویٰ ہی دوسروں کے انجام سے عبرت لیتے ہیں : تاکہ اس کو دیکھ کر وہ اپنے خالق ومالک کی معصیت و نافرمانی سے بچیں اور اس طرح کے عذاب اور انجام بد سے محفوظ رہیں۔ کیونکہ سعادت مندوں کی صفت و شان یہی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو اور ان کے حال و مآل کو دیکھ کر عبرت پکڑتے ہیں۔ جیسا کہ مشہور ہے۔ " السَّعِیْدُ مَنْ وُّعِظَ بِغَیْرِہ " ۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ نصیحت ہے پرہیزگاروں کیلئے کہ اس سے صحیح معنوں میں سبق وہی لیتے ہیں، ورنہ یہ نصیحت سب ہی کیلئے عام ہے، مگر اہل تقوی کے علاوہ دوسرے لوگ چونکہ لاپرواہ، بےفکرے اور نچنت ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اس طرح کے عبرت انگیز واقعات سے نہ نصیحت لیتے ہیں اور نہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں، اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " اس واقعہ کو ہم نے نصیحت بنایا پرہیزگاروں کیلئے " کہ وہی قول حق و ہدایت پر صحیح طور سے کان دھرتے اور اس سے سبق لیتے ہیں۔ اسی لیے مثل مشہور ہے کہ غلام اور بیوقوف شخص کو ڈنڈے سے تنبیہ کی جاتی ہے، جبکہ عقل مند اور شریف انسان کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے ۔ " ان العبد یقرع بالعصا والعاقل تکفیہ الملامۃ والاشارۃ " ۔ (معارف للکاندھلوی ) ۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے کی اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ذبح کرو ایک گائے کو، تو انہوں نے کہا کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں ؟1 موسیٰ نے کہا " میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں ہوجاؤں جاہلوں میں سے "

199 بنی اسرائیل کا ایک اور عبرت انگیز قصہ : یہ بنی اسرائیل کی عبرت بھری داستان میں سے ایک اور سبق آموز اور عبرت انگیز قصے کا ذکر ہے جس کی تفصیل تفسیری روایات کے مطابق اس طرح ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا مالدار شخص تھا۔ اس کے وارثوں میں اس کی ایک بیٹی اور ایک بھتیجے کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ اس کے اس بھتیجے کے دماغ میں یہ سودا سوار ہوا کہ اپنے اس چچا کو قتل کر دوں تاکہ اس کے مال پر بھی جلد قبضہ کرلوں اور اس کی بیٹی پر بھی۔ چناچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ اور قتل کرنے کے بعد اپنے اس مقتول چچا کی لاش کو اس نے دوسروں کے در پر ڈال دیا، اور جھوٹ موٹ کا رونا رونے لگا کہ میرے چچا کو کسی نے قتل کردیا، جیسا کہ ایک گروہ نے نواسہء رسول کو جھوٹے وعدے کر کے خود عراق بلایا، اور وہاں ان کو حکومت وقت سے ٹکرا کر خود ان سے علیحدہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں حضرت حسین ؓ کو میدان کربلا میں اپنے خاندان کے دوسرے افراد سمیت جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ اس کے بعد انہی لوگوں کے اتباع و احفاد اپنے نصیب کو آج تک روتے، اور اپنے سینوں اور چہروں کو اپنے ہاتھوں سے خود آج تک پیٹتے جا رہے ہیں، جو درحقیقت خداوند قدوس کی بےآواز لاٹھی کا ایک کرشمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف بنی اسرائیل کے اس قتل کا کیس حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام کے حضور پیش ہوا تو آنجناب نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کر کے اس کا گوشت مردے سے لگاؤ، وہ خود زندہ ہو کو بول پڑیگا، اور اپنے قاتل کا پتہ بتا دیگا۔ اب اگر یہ لوگ ایمان و یقین کی سچی قوت سے سرشار ہوتے تو اپنے پیغمبر کے حکم پر فوراً عمل کرتے، تو اس طرح مسئلہ بھی حل ہوجاتا اور وہ ان جھنجھٹوں سے بھی محفوظ رہ جاتے جن سے بعد میں ان کو اپنے کیے کی بنا پر سابقہ پیش آیا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت کتنی عظیم اور امن و سکون بخشنے والی دولت ہے، اور بےایمانی و بےیقینی انسان کو کیسی کیسی مصیبتوں سے دوچار کردیتی ہے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کے اس حکم و ارشاد پر ان لوگوں نے آگے حیل و حجت شروع کردی، جس سے انکا معاملہ تنگ سے تنگ تر اور مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔ اور اس طرح وہ لوگ اپنے لئے خود مشکلات پیدا کرتے گئے۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس قصے سے ان بدبختوں کے اعراض و روگردانی اور ان کی حجت بازی کا ایک اور نمونہ پیش فرمایا گیا ہے اور اس میں اہل حق کے لیے یہ درس ہے کہ وہ اس طرح کی ہر یہودی روش سے ہمیشہ بچ کر رہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ 200 ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں جوـ ہمیں ایسی انہونی اور بےجوڑ بات کا حکم دے رہے ہیں۔ بھلا گائے کا گوشت مردے سے لگانے اور اس کے زندہ ہوجانے کے درمیان کیا جوڑ اور کیا تعلق ہوسکتا ہے ؟ سو یہ نتیجہ و انجام ہوتا ہے بےیقینی اور بےایمانی کا کہ اتنے بڑے جلیل القدر پیغمبر سے اس گستاخانہ انداز میں بات کی جاتی ہے۔ پس ایمان و یقین سے محرومی انسان کو مکارم اخلاق اور حسن تخاطب کی تمییز سے بھی محروم کردیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف وہ لوگ چونکہ ایمان و یقین کی قوت اور اس کی لذت سے محروم اور عاری تھے۔ اس لیے اپنے پیغمبر کی بات ماننے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے الٹا پیغمبر کے حکم و ارشاد کے جواب میں انہوں نے یہ گستاخانہ بات کہی کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں، تو پیغمبر نے فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں، یعنی دین سے متعلق سوال کے جواب میں مذاق کرنا تو جہالت کی بات اور جاہلوں کا کام ہوتا ہے، بھلا میں ایسے کیسے کرسکتا ہوں ؟ یعنی میں تم لوگوں سے مذاق نہیں کررہا بلکہ حق اور حقیقت بیان کررہا ہوں بس تم صدق دل سے اس پر عمل پیرا ہوجاؤ، تاکہ تمہیں اس الجھن اور پریشانی سے رہائی مل جائے۔ 201 بامقصد سوال کے جواب میں مذاق اڑانا جاہلوں کا کام ہے : سو حضرت موسیٰ نے ان لوگوں کے اس بیہودہ قول کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں کہ مقصد سوال کے جواب میں صحیح اور حق بات کہنے کی بجائے مذاق اڑانا تو جاہلوں کا کام ہوتا ہے، کیا میں منصب نبوت و رسالت پر فائز ہو کر ایسے کرسکتا ہوں ؟ اللہ کی پناہ کہ میں اس طرح کی کوئی بات کروں۔ سو پیغمبر کی شان اس سے بہت بلند ہوتی ہے کہ وہ سوال کے جواب میں مذاق اڑاے۔ سو پیغمبر جو کہتا ہے وہ حق اور صدق ہوتا ہے، اور اس کے حکم و فرمان کو صدق دل سے اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے ہی میں بہتری اور بھلائی ہوتی ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں خسارہ و نقصان ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات میں ہے کہ اگر وہ لوگ پیغمبر کے ارشاد پر کوئی بھی گائے ذبح کرلیتے تو انکا کام بن جاتا، لیکن انہوں نے جب خود سختی اور تشدد سے کام لیا تو ان پر معاملہ سخت اور مشکل کردیا گیا۔ (ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو انہوں نے اپنی قیل وقال سے اپنے لئے خود مشکلات پیدا کیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنے اس جواب سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کے تبلیغ وتعلیم کے سلسلے میں مذاق سے کام لینا جہالت اور حماقت ہے جس سے حضرات انبیائے کی ذوات قدسیہ جن کا ایک ایک ارشاد اور ہر قول و بول کانٹے کے تول پر تلا ہوا ہے۔ پاک اور اعلیٰ وبالا ہوتی ہیں لیکن وہ جو مثل مشہور ہے کہ آدمی دوسروں کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے ۔ " المرء یقیس علی نفسہ " ۔ تو اسی کی بنا پر ان بدبختوں نے حضرت موسیٰ کی جناب میں ایسی بیہودہ بات کہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 2:68–69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا کہ " اچھا تو پھر آپ اپنے رب سے یہ درخواست کرو، کہ وہ ہمارے لئے بیان کرے کہ گائے کیسی ہو "؟ تو موسیٰ نے کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو (بہت) بوڑھی ہو، اور نہ (بالکل) بچھیا، (بلکہ) اس کے درمیان اوسط عمر کی ہو، پس تم لوگ کر گزرو وہ کام جس کا حکم تمہیں دیا جارہا ہے2

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

(مگر) انہوں نے پھر بھی موسیٰ سے کہا کہ آپ اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ " ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ " موسیٰ ، نے کہا " وہ فرماتا ہے کہ وہ زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جس کا رنگ ایسا شوخ (اور تیز) ہو کہ وہ بھاتی ہو دیکھنے والوں کے دلوں کو "3

202 حضرت موسیٰ سے سوال کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ : سو جب ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ ان سے مذاق نہیں کر رہے، بلکہ سچ اور حقیقت ارشاد فرما رہے ہیں، تو اب ان کو یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ گائے کوئی عام گائے بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید وہ کوئی خاص قسم کی گائے ہوگی، جس کے ذریعے اس طرح کا معجزانہ فعل صادر ہوگا، تو اب لگے وہ ہندی کی چندی کرنے، کہ وہ گائے کیسی ہو ! بہرکیف انہوں نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ وہ گائے کیسی اور کن صفات کی ہو ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر وہ کوئی سی بھی گائے ذبح کرلیتے تو انکا کام بن جاتا لیکن انہوں نے سوالات کے ذریعے سختی سے کام لیا، تو ان کیلئے انکے معاملہ کو سخت کردیا گیا، (ابن کثیر، ابن جریر وغیرہ) ۔ 203 مطلوبہ گائے درمیانہ قسم کی ہو : ـ سو حضرت موسیٰ نے ان لوگوں کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ وہ گائے درمیانہ قسم کی ہو۔ یعنی نہ وہ اتنی بوڑھی ہو کہ اب بچے دینے کے قابل بھی نہ رہ گئی ہو " فارض " اور نہ بالکل بچھیا کہ ابھی تک وہ اس قابل ہی نہ ہو کہ بچے دے سکے۔ " بکر " بلکہ ان دونوں حدوں کے درمیان " عوان " ہو، اور ظاہر ہے کہ اس طرح کی اور ان صفات کی حامل گائے بڑی عمدہ اور زیادہ قیمت کی ہوتی ہے، سو اس طرح انہوں نے اپنے لیے دائرہ اور تنگ کردیا، اور اس طرح کا جانور سب سے اچھا، عمدہ اور قوی ہوتا ہے، (ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور اس طرح کی گائے کا ملنا ان کیلئے اور مشکل ہوگیا۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنے اس جواب سے ان لوگوں کے لیے واضح فرما دیا کہ وہ گائے کوئی عجوبہ قسم کی چیز نہیں ہوگی بلکہ یہ عام گائے ہی ہوگی جو تمہارے گھروں میں پائی جاتی ہے۔ البتہ یہ چند خاص صفات ایسی ہیں جو اس میں پائی جانی مطلوب ہیں جو ایک عمدہ گائے کی صفات ہیں۔ پس ان کا لحاظ رکھنا۔ 204 مزید قیل و قال سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم اس کو ذبح کردو اور مزید حیل و حجت اور قیل و قال سے اپنے اوپر دائرہ خود تنگ مت کرو، روایات میں ہے کہ اگر وہ لوگ اس طرح کے سوالات اٹھانے کی بجائے ابتداء امر ہی سے کوئی بھی گائے ذبح کردیتے، تو ان کا کام بن جاتا، مگر انہوں نے اپنی قیل و قال وغیرہ سے اپنا کام خود مشکل سے مشکل تر بنادیا، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو تین باتوں سے خاص طور پر روکا اور منع فرمایا ہے، یعنی قیل و قال، کثرت سوال اور اضاعت مال، یعنی مال کو ضائع کرنے سے، کہ بےمقصد قیل و قال بھی کئی طرح کے مفاسد کا باعث بنتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور مزید اس کی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ہو۔ اور ایسی عمدہ اور خوبصورت قسم کی ہو کہ دیکھنے والوں کو اچھی لگتی اور انکے دلوں کو لبھاتی ہو، اور ظاہر ہے کہ اس طرح اس گائے کا حاصل کرنا ان کیلئے اور بھی مشکل ہوگیا -
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

انہوں نے پھر کہا کہ " آپ اپنے رب سے پھر درخواست کریں، کہ وہ گائے کس طرح کی ہو، کیونکہ گایوں کا معاملہ ہم پر سخت مشتبہ ہو رہا ہے، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور (حقیقت کی) راہ پالیں گے "

205 " ان شائَ اللہ " کہنے کی برکت : سو " انشاء اللہ " کہنے کی برکت سے ان لوگوں کو اس حکم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مل گئی۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ اگر یہ لوگ " انشاء اللہ " نہ کہتے تو کبھی بھی راہ نہ پاتے، بیشک اللہ کا نام بہت بڑا ہے، یہاں پر " ماھیَ " سے سوال گائے کی صفات کے بارے میں ہے، جبکہ پہلے " مَا ھِیَ " سے سوال اس کی نوعیت کے بارے میں تھا۔ بہرکیف یہاں سے " انشاء اللہ " کہنے کی برکت ظاہر ہوگئی اور امر واقعہ یہی ہے کہ سب کچھ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی مشیئت ہی کے تابع ہے، اسی لئے اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا ہے کہ " کسی بھی کام کے بارے میں یہ مت کہو کہ میں کل اس کو کرلونگا مگر یہ کہ اللہ چاہے "۔ ارشاد ہوتا ہے { وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَیْ ئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدا اِلَّا اَنْ یَّشَائَ اللّٰہُ } ۔ (الکہف :23- 24) کیونکہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بندے کے ذمے صرف یہ بات ہے کہ وہ اپنے بس کی حد تک کوشش کرے اور ضرور کرے اور بھرپور طریقے سے کرے، لیکن دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر رکھے، اور اسی سے ہمیشہ نصرت و امداد کی دعاء مانگے کہ ہوگا بہرحال وہی جو اس وحدہ لاشریک کو منظور ہوتا ہے، کہ اس کی کائنات میں مشیئت اسی وحدہ لاشریک کی چلتی ہے، سبحانہ و تعالی۔