2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے بنادیا تمہارے لیے اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا اور آسمان کو ایک عظیم الشان چھت، اور اس نے اتارا آسمان سے پانی (ایک نہایت ہی پُر حکمت نظام کے تحت) پھر اس نے نکالیں اس کے ذریعے طرح طرح کی پیداواریں (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) تمہاری روزی رسانی کے لئے پس تم لوگ اللہ کے لئے شریک مت بناؤ درآنحالیکہ تم لوگ خود جانتے ہو2

58 بچھونہ ارضی میں سامان غور و فکر : سو زمین کا یہ عظیم الشان بچھونا قدرت و عنایت خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے اور یہ ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال بچھونا ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے، اور ایسا عظیم الشان کہ انسانوں کے بنائے ہوئے عام بچھونے تو صرف ایک دو یا چند آدمیوں کے لئے ہوتے ہیں، اور ہوسکتے ہیں، مگر لا محدود قدرت والے اس خداوند قدوس کا یہ عظیم الشان بچھونا ساری دنیا میں پھیلی ہوئی اس کی گوناگوں اور رنگا رنگ مخلوق اور اس کی بےحد و حساب سب ضروریات کی کفالت کے لئے کافی و وافی ہے۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ خَالِقٍ عَظِیْمٍ جَلَّتْ قُدْرَتُہٗ ۔ سو انسان کے پاؤں تلے بچھا ہوا قدرت کا یہ عظیم الشان نمونہ، اور قدرت کی پھیلی بکھری بےحد و حساب نعمتیں ہر وقت پکار پکار کر اپنے خالق ومالک کی عظمت شان، اس کی رحمت بےپایاں اور اس کی عنایت بےغایت کا درس دے رہی ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ 59 سقف سماوی میں دلائل قدرت و حکمت : سقف سماوی قدرت کی حکمت و عنایت کا ایک اور عظیم الشان مظہر و نمونہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان کی یہ عظیم الشان چھت قدرت کی رحمت و عنایت کا ایک اور عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ اور آسمان کی یہ چھت ایسی عظیم الشان چھت ہے کہ انسانوں کی بنائی ہوئی چھتیں تو کچھ افراد یا گروہوں پر ہی تن سکیں گی، اور ان ہی کو فائدہ پہنچا سکیں گی، اور وہ ٹوٹتی پھوٹتی اور اصلاح و ترمیم کے تقاضے بھی برابر رکھتی ہوں گی، مگر لا محدود قدرتوں والے اس خالق عالم کی بنائی ہوئی یہ عظیم الشان اور بےمثل چھت دنیا جہاں کی مخلوقات پر تنی ہوئی اور ان سب پر سایہ فگن ہے، اور ایسی مضبوط و مستحکم ہے کہ خدا جانے کتنے ہی ان گنت زمانے اور کس قدر ادوار اس پر گزر گئے مگر اس میں نہ کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوئی، نہ کسی ترمیم و اصلاح کی کوئی ضرورت محسوس ہوئی۔ سو زمین کے اس عظیم الشان فرش کے اوپر اور آسمان کی اس عظیم الشان چھت کے نیچے رہتے ہوئے اور ہر وقت اور ہر حال میں ان عظیم الشان اور بےحد و حساب نعمتوں سے مستفید و فیضیاب ہونے کے باوجود اس خالق ومالک کو بھول جانا جس نے یہ سب کچھ محض اپنی قدرت و عنایت سے بنایا، اور ان کو لاتعداد اور بےحدو حساب نعمتوں سے بھردیا، کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر ناشکری ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کو اس کا شریک ماننا کس قدر ظلم ہے، ۔ فَسُبْحَانَ الَّذِیْ لاَ اِلٰہَ غَیْرُہُ ۔ اور اس ظلم اور سرکشی کے باوجود اس خالق ومالک کی طرف سے یہ ڈھیل اور اس قدر جھوٹ اس خالق کل اور مالک مطلق کا کس قدر عظیم الشان فضل و کرم اور انعام و احسان ہے، سبحانہ و تعالی۔ 60 بارش کا اتارنا قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان : سو آسمان سے بارش کا اتارنا قدرت کا ایک اور عظیم الشان مظہر : جس پر انسانی زندگی اور اس کی ضروریات کا مدارو انحصار ہے، جیسا کہ سورة الانبیاء میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلْنَا مِنَ الْمٓاءِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ اَفَلاَ یُؤْمِنُوْنَ } ۔ " اور ہم نے [ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ] ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے " (الانبیاء : 30) یعنی ہر جاندار کی زندگی اور اس کی بقاء کا دارو مدار پانی پر ہے، اور جب پانی کے اس طرح بنانے اور ایک نہایت ہی پر حکمت نظام کے تحت اس کو پوری کائنات میں اس طرح پھیلانے اور تقسیم کرنے کے اس رحمتوں اور حکمتوں بھرے عمل میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی کے حق میں کوئی اس (وحدہ لاشریک) کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ تو جب پانی کے اس جوہر بےمثال کے ذریعے وہ تمہارے سامنے طرح طرح کی چیزوں کو پیدا کرتا، اور ان کو مرمٹنے کے بعد دوبارے وجود بخشتا ہے تو اس کو تمہارا دوبارے پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو بارش اور پانی کے ذریعے حیات آفرینی کا یہ عمل بعث بعد الموت کیلئے ایک زندہ جاوید نمونہ اور مثال ہے، اسی لیے قرآن حکیم دوسرے مختلف مقامات پر زندگی اور موت کے ان مختلف مظاہر کو بعث بعد الموت کے امکان اور اس کے وقوع کے استدلال میں پیش کرتا ہے، اور فرماتا ہے اسی طرح تم لوگوں کو زندہ کرکے تمہاری قبروں سے نکالا جائے گا، نیز بارش اور پانی کے اتارنے کے اس پر حکمت نظام میں تم لوگوں کیلئے یہ عظیم الشان درس عبرت و بصیرت بھی ہے کہ جب اس نے تمہاری ظاہری، جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے بارش اور پانی کا اس طرح انتظام فرمایا ہے تو پھر یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی اور باطنی ضرورتوں کی تکمیل کا انتظام نہ کرے ؟ جبکہ اصل چیز یہ معنوی اور باطنی ضرورتیں ہی ہیں، سو انہی کی تکمیل کیلئے اس نے تمہارے لیے وحی کی مقدس بارش کے اتارنے کا انتظام فرمایا جس کی آخری اور کامل شکل اب قرآن حکیم کی صورت میں تمہارے پاس موجود ہے، جو قیامت تک کے لوگوں کیلئے باطن کی سیرابی کا سامان کرتی رہے گی۔ فللہ الحمد رب العالمین۔ سو اس کو صدق دل سے اپنانا اور اس کی تعلیمات مقدسہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنا، اپنے دلوں کی دنیا کو سیراب کرنا، اور اپنی دنیا و آخرت کو بنانے اور سنوارنے کا سامان کرنا ہے اور اس نور مبین سے منہ موڑنا، اور اس سے اعراض اور روگردانی برتنا اپنے باطن کی دنیا کو ویران کرنا، اور اپنی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 61 مظا ہر حیات میں غور و فکر کی دعوت : سو اس سے یہ درس دیا گیا کہ تم لوگ ان ظواہر کے پیچھے کارفرما دست غیب کی راہنمائی و کارستانی میں غور و فکر سے کام لو تاکہ تمہیں ان انقلاب آفریں اور حیات بخش و کیف آور غیبی حقائق کی معرافت نصیب ہو سکے، جس سے تمہاری زندگی میں انقلاب آجائے، اور یہی مادی نعمتیں تمہارے لئے جنت کی حقیقی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی کا ذریعہ بن جائیں۔ سو پانی کے اس جوہر حیات آفریں سے زمین کی پیداوار از خود اور آپ سے آپ نہیں نکل آتی، بلکہ یہ سب کچھ بھی اسی خالق ومالک کی رحمت و عنایت کا محتاج ہے، صرف اتنی بات ہے کہ اسباب کے درجے میں اس قادر مطلق نے ان چیزوں کے اخراج اور ان کی پیداوار کو کچھ اسباب سے مربوط فرما دیا ہے، کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب، ورنہ ایک کسان تو زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کرسکتا ہے کہ ہل چلا کر زمین نرم کردے، اور پھر اس میں بیج ڈال دے اور بس، اس سے آگے تو اس کے بس میں کچھ بھی نہیں، نہ وہ اس بیج کو پھاڑ کر اس سے پودا نکال سکتا ہے، نہ آسمان سے پانی اتار سکتا ہے، نہ اس کی سیرابی کا انتظام کرسکتا ہے، اور نہ اس بیج کو زمین کی تری کا اثر قبول کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ، بلکہ اس کو یہ تک بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کونسا بیج کہاں پر، اور کس طور پر پڑا ہے، اس سب کے باوجود اس ہلکے سے بیج سے پودے کی نرم و نازک کونپل کا پھوٹنا، اس کا زمین کو چیرتے ہوئے باہر نکل آنا اور حسب ضرورت زمین سے اپنی خوراک حاصل کرنے کا طریقہ سیکھنا، اور بتدریج بڑھتے چلے جانا، وغیرہ وغیرہ، سب کچھ اس قادر مطلق وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ ہی کا نتیجہ ہے، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا : " پھر انسان اپنے کھانے ہی کی طرف دیکھ لے کہ کس حیرت انگیز طریقے سے ہم پانی برساتے ہیں پھر زمین کی چیر پھاڑ کرتے ہیں، پھر اس سے طرح طرح کی پیداواریں نکالتے ہیں " ( سورة عبَس : 22 تا 32) ، سو اس قادر مطلق کی ان گوناگوں اور عظیم الشان نعمتوں سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہونا، اور برابر و لگاتار مستفید و فیضیاب ہونا، اور اس خالق ومالک کو بھول جانا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بڑی ناانصافی اور نمک حرامی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انسان پلے تو اس واہب مطلق کی ان گوناگوں نعمتوں پر اور نام لے دوسروں کا، اور ان کو اس کی خدائی میں شریک جانے تو یہ کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر اس کے باوجود قدرت کی طرف سے چھوٹ ایک عظیم الشان کرم واحسان ہے اس وحدہ لا شریک کا سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ تمام مظاہر اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کے کھلے دلائل ہیں۔ 62 ثمرات کے مفہوم کا عمل و شمول : " ثَمرَاتٍ " کا مفہوم و مراد اور قدرت کی رحمت و عنایت کا ایک اور عظیم الشان مظہر : یعنی " ثمرات سے " یہاں پر مراد صرف پھل اور میوہ جات ہی نہیں، جیسا کہ اردو کے عام ترجموں سے بالعموم ظاہر ہوتا ہے، اور پھر اس سے آگے کئی اشکالات پیدا ہوتے ہیں، بلکہ اس سے اصل میں مراد زمین سے نکلنے والی وہ سب ہی فصلیں اور پیداواریں ہیں جو اللہ پاک اپنے بندوں کے فائدے اور بھلے، اور ان کی رزق رسانی کے لئے نکالتا ہے، ہم نے اپنے ترجمے میں اسی عمومی مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اور الحمدللہ کہ اپنے اس خیال کی تائید و تصدیق بعض جلیل القدر حضرات مفسرین کرام سے بھی مل گئی، سو اس سلسلہ کے کچھ حوالے ملاحظہ ہوں، " وھِی اَی الثَّمَرَاتُ ہٰہُنَا الْمَاکُوْلاتُ کُلُّہَا مِنَ الْحُبُوْب وَ الْفَوَاکِہ وَغَیْرِہَا مِمَّا یَخْرُجُ مِنَ الاَرْض وَ الشَّجَر کَمَا فِی التَّیْسِیْر " (روح البیان ج 1 ص 75 طبع دارالفکر بیروت) ۔ " الثَّمَرَاتُ مَا یَحْصُلُ مِنَ النَّبَات نَجْمًا کَانَ أَوْ شَجَرًا " (تفسیر المنارج 1 ص 188 طبع دار الفکربیروت) و المعنی " اَخْرَجْنَا لَکُمْ اَلْوَانًا مِّنَ الثَّمَرات وَ اَنْوَاعًا مِنْ النَّبَات " (فتح القدیر للشو کانی ج 1 ص 50 طبع دار المعرفہ بیروت) ۔ " فَاَخْرَجَ لَہُمْ بِہ أَنْوَاع الزَّرْعِ وَالثِّمَار رِزْقًا لَّہُمْ وَ لِاَنْعَامِہِمْ " (صفوۃ التفا سیر ج 1 ص 42 طبع دارالقلم بیروت) ۔ واضح رہے کہ یہاں پر " مِنَ الثِّمَرَات " میں جو " مِنْ " ہے یہ " تَبْعِیْضِیّۃ " نہیں جیسا کہ اہل بدعت کے بعض بڑے حضرات نے سمجھا، اسی بناء پر انہوں نے یہاں پر اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے تو اس سے " کچھ پھل " نکالے تمہارے کھانے کو، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان " کچھ پھلوں " کے علاوہ باقی جو بےحد و حساب پھل اور پیداواریں دنیا میں پائی گئیں اور پائی جاتی ہیں، پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں، وہ کس نے نکالیں اور پیدا کیں ؟ ۔ { ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیَرُ اللّٰہ یَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمآئ وَالْاَرْض لاَآِلٰہَ الاَّ ہُوَ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ } ۔ " [ لوگو ہوش کے ناخن لو ] کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے یا ہوسکتا ہے ؟ جو تمہیں روزی دیتا ہو آسمان اور زمین سے ؟ آخر تمہاری مت کہاں اور کیوں ماری جارہی ہے ؟ پس " مِنَ الثَّمَرَاتِ " کا " من " " تَبْعِیْضِیْہ " نہیں " استغراقیہ " ہے جیسے کہ موقع و مقام کا تقاضا ہے۔ پس " مِنَ الثَّمرَات " بیان ہے " رِزْقاً " کا اور بیان کی تقدیم اپنے مبین پر جائز ہے، چناچہ علامہ مغرب امام محمد طاہر بن عاشور مرحوم و مغفور اپنی مشہور و معروف تفسیر " التحریر والتنویر " میں اس موقع پر لکھتے ہیں اور یہ کلمہ " مِنْ " جو کہ " مِنَ الثَّمَرَاتِ " میں موجود ہے تبعیض کے لئے نہیں، کیونکہ تبعیض مقام امتنان کے مناسب ہی نہیں۔ پس یا تو یہ رزق مخرج کے بیان کے لئے ہے، اور بیان کی تقدیم اپنے مبین پر کلام عرب میں شائع و ذائع ہے، اور یا یہ زائدہ ہے تاکید کے لئے، (التحریر والتنویر ج 1 ص 334 طبع الدار التونسیہ للنشر، تیونس) پس اہل بدعت کے ان حضرات نے جو اس کا " تَبْعِیْضِیَّۃ " کا ترجمہ کیا وہ غلط ہے۔ اور اگر کسی اور مفسر یا مترجم صاحب کو بھی یہ غلط فہمی ہوئی ہو تو وہ بھی اسی طرح اور اسی بنا پر غلط ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف یہ گوناگوں اور طرح طرح کی پیداواریں قدرت کی عظیم الشان رحمت و عنایت کی بناء پر ہیں۔ 63 شرک کی ممانعت اور توحید کی دعوت : سو مشرک کی ممانعت اور توحید خداوندی کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ اللہ کے لیے شریک مت ٹھہراؤ درآنحالیکہ تم خود لوگ جانتے ہو۔ سو قدرت و عنایت خداوندی کے ان مظاہر کا لازمی نتیجہ اور بدیہی تقاضا وحدانیت خداوندی ہے۔ سو قدرت و عنایت خداوندی کے یہ عظیم الشان مظاہر اپنی زبان حال سے پکار پکار کر توحید خداوندی کی دعوت دے رہے ہیں، کہ جب ان مذکورہ بالا امور وصفات میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس معبود برحق کے حق عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالی۔ پس عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے، اور اس کے سوا اور کسی کیلئے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم، کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو خداوند قدوس کی ان عظیم الشان نعمتوں سے مستفید ہونا، اور پھر بھی شرک کرنا ظلم بالائے ظلم ہے۔ مگر دنیا ہے کہ اس ظلم کے ارتکاب میں ملوث و مبتلا ہے۔ کھلے مشرکوں کے علاوہ کتنے ہی کلمہ گو مشرک ایسے ہیں جو اس ظلم میں مبتلا ہیں۔ وہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے غیر اللہ کی پوجا میں پاٹ میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے طرح طرح کے من گھڑت ناموں سے قسما قسم کی خود ساختہ " سرکاریں " بنا رکھی ہیں۔ اور یہ لوگ ایسے مقامات پر ہر طرح کی شرکیات کا کھلے عام ارتکاب کرتے ہیں اور بدعتی ملاں اور جیب بھرو پیر طرح طرح سے ان جاہلوں کی پیٹھ ٹھونکے جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جو اس کے لیے نصوص قرآن وسنت میں تحریف تک کے ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شک ہو اس (کتاب) کے بارے میں جس کو ہم نے اتارا ہے اپنے بندہ پر تو تم اس جیسی ایک (چھوٹی سے چھوٹی) سورت ہی بنا لاؤ اور بلا لو تم اس (غرض کے لئے) اپنے تمام حمایتیوں کو سوائے اللہ (پاک سبحانہ و تعالی) کے اگر تم سچے ہو3

64 ہمارے حضور کی شان عبدیت کا ذکر وبیان : یعنی " عبدنا " سے یہاں پر مراد امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں، سو اگر تم لوگوں کو ان پر نازل کی جانے والی اس وحی کے بارے میں کسی بھی طرح کا کوئی شک ہو کہ یہ ہماری طرف سے نازل کردہ ہے، یا ان کی خود ساختہ، اور اس میں جو کچھ بتایا گیا ہے وہ سب حق اور سچ ہے یا نہیں، تو تمہارے لیے یہ چیلنج ہے، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عبدیت آنحضرت ﷺ کی ایک خاص صفت و شان ہے، اور اس میں آپ ﷺ وہ امتیازی درجہ اور مرتبہ رکھتے ہیں جو آپ ہی کے لائق ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر آپ ﷺ کی اسی شان عبدیت کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا گیا، " سبحان الذی اسریٰ بعبدہ " الایۃ یعنی " پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات لے گئی اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک " (بنی اسرائیل۔ 1) نیز سورة جن میں فرمایا گیا، " وانہ لما قام عبد اللہ یدعوہ " ۔ الآیۃ ۔ " یعنی " جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے " (الجن۔ 19) ۔ مگر اس سب کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی اس شان عبدیت و بندگی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ 65 قرآن حکیم کا ایک عظیم الشان اور بےمثال چیلنج : کہ قرآن حکیم کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی بنا لاؤ، مگر یہ بھی بنا لانا کسی کے بس میں نہیں۔ پس تم لوگ اگر اس کو نہیں مانتے تو تم بھی ایسی چھوٹی سی سورت بنا کر لاؤ، کہ یہ تمہارے اس طرح کے تمام شکوک و شبہات اور اعتراضات و اشکالات کا آسان اور واضح جواب ہے۔ مگر تم لوگ کہاں اور کیسے لاسکتے ہو ؟ سو یہ قرآن حکیم کا ایسا عظیم الشان اور بےمثال چیلنج ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی پائی گئی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی پائی جانی ممکن ہے، تو پھر اس سے بڑھ کر اس کتاب حکیم کی صداقت و حقانیت کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے ؟ سو یہیں سے اس نبی ﷺ اُمّی کی صداقت و حقانیت بھی روز روشن کی طرح عیان ہوجاتی ہے جس نے اُمّی محض ہونے کے باوجود یہ پورا قرآن پیش فرمایا، جس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بنا لانے سے بھی پوری دنیا عاجز و قاصر ہے، اور اس قدر کھلے چیلنج کے باوجود عاجز و قاصر ہے۔ فللّٰہ الحمد رب العالمین ۔ سو یہ دین حق، قرآن حکیم اور نبی امّی ﷺ کی صداقت و حقانیت کی ایک عظیم الشان اور بےمثال دلیل ہے۔ اور ایسی کہ اس کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 66 قرآنی چیلنج کی تاکید مزید : سو اس چیلنج کو مزید موکد کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا " اور بلا لاؤ تم لوگ اپنے سب حمایتیوں کو اگر تم لوگ سچے ہو اپنے الزام و اعتراض میں۔ ان سب حمایتوں کو جن کا تمہیں بڑا زعم اور گھمنڈ ہے، سو ان سب کو بلا لاؤ اور پھر تمہیں پتہ چل جائے کہ کیا یہ قرآن کسی بشر کا کلام ہوسکتا ہے۔ پس تم ان کو بلالو اپنی مدد و معاونت کے لئے، اور پھر تم سب باہم مل کر اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے زور لگا لو، اور پھر دیکھ لو اور اپنے ضمیر سے پوچھ لو کہ کیا یہ کلام کسی بشر کا کلام ہوسکتا ہے ؟ لیکن قرآن حکیم کے اس بےمثال چیلنج کو پندرہ سو سال ہو رہے ہیں، مگر اب تک کوئی اس کے جواب کے لئے کھڑا نہیں ہوسکا۔ اور کوئی کھڑا ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ یہ قرآن حکیم کلام ہے اللہ رب العالمین کا جو کہ خالق ومالک ہے ساری کائنات کا۔ سو جیسا وہ خالق ومالک خود بےمثال ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بےمثال ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 67 منکرین کی تحضیض برائے اظہار تعجیز : سو ان کے عجز و قصور اور ان کی بےبسی و درماندگی کو مزید آشکارا کرنے کے لیے ان کی تحضیض کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ پورا کرو اس چیلنج کو " اگر تم لوگ سچے ہو "۔ اگر تم سچے ہو تو اس چیلنج کو پورا کرکے دکھاؤ، مگر کہاں اور کیسے ؟ یعنی اگر تم سچے ہو اپنی ان باتوں میں اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت پر اپنے اس طرح کے شکوک و شبہات اور اشکالات و اعتراضات میں، سو یہ ایک نہایت مؤثر اور واضح طریقہ ہے تمہارے شکوک و شبہات کے ازالہ اور ہر طرح کے تردد کے خاتمے کیلئے، اور ایسا واضح اور مؤثر کہ اس کے بعد حق و صدق سب کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گا، اور کسی کے لئے کسی شک و شبہہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اور حق پوری طرح واضح ہوجائے گا۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پس اگر تم لوگ (ہمارے اس کھلے چیلنج کے با وجود) ایسا نہ کرسکے اور ہرگز بھی نہیں کرسکو گے تو پھر بچو تم (دوزخ کی) اس (ہولناک) آگ سے جس کا ایندھن لوگ ہوں گے اور پتھر (اور) جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے

68 ایک فیصلہ کن اور بےمثال چیلنج : سو ارشاد فرمایا گیا " پس تم لوگ بچ جاؤ دوزخ کے عذاب سے، اس کتاب برحق پر صدق دل سے ایمان لا کر، اس کی عظمتوں اور صداقتوں کو سچے دل سے تسلیم کرکے، اور اس کی تعلیمات مقدسہ اور ہدایات عالیہ پر پوری طرح عمل پیرا ہو کر، کہ تمہارے اس عجز و درماندگی سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہوگیا ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ درحقیقت انسانوں کے خالق ومالک حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے نازل شدہ کلام ہے، اور جیسا وہ خود بےمثل و بےمثال ہے، اسی طرح اس کا کلام بھی بےمثل و بےمثال ہے، اور جس طرح خود اس کی کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، اسی طرح اس کے اس کلام معجز نظام کی بھی کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، اور جس کا یہ ایک کھلا اور واضح ثبوت موجود ہے کہ تم لوگ اپنی مایہ ناز فصاحت و بلاغت کے باوجود اس کلام مجید اور اس کے لانے والے نبیٔ برحق ﷺ سے اپنی کھلی عداوت و دشمنی کے باوصف، اور حضرت حق جل جلالہ کے اس قدر صریح، مکرر، اور پرزور چیلنج کے ہوتے ہوئے بھی تم لوگ اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بنا لانے سے بھی عاجز ہو ‘ جبکہ اس کو تمہارے سامنے پورے کا پورا اس نبیٔ امی نے پیش فرمایا جس نے زندگی بھر دنیا میں کبھی کسی انسان سے ایک حرف بھی نہیں سیکھا پڑھا تھا، بلکہ وہ تو اپنے ہاتھ سے لکھنا بھی نہیں جانتے تھے، تو اس سے بڑھ کر آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے اس کلام مجید کی حقانیت و صداقت کا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اب اگر تم اس پر ایمان لاؤ گے تو اس سے اس کی شان میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوجائے گا، بلکہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے کہ اس ایمان و تصدیق کی بدولت تم سعادت دارین سے بہرہ ور ہوسکو گے، اور دوزخ کی اس ہولناک آگ سے بچ سکو گے جس کا ایندھن لکڑی بورے وغیرہ کا عام اور معروف ایندھن نہیں ہوگا بلکہ وہ انسانوں اور پتھروں کا ایندھن ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جس کی ہولناکی کا اس جہاں میں ازخود تصور کرنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 69 دوزخ کا ایندھن بننے والے لوگ کونسے اور کیوں ؟ : اور اس کا ایندھن وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں کافر و مشرک اور باغی وطاغی بن کر رہے ہوں گے۔ سو اپنے خود اختیار کردہ اس کفر و شرک اور بغاوت و سرکشی کے نتیجے میں وہ بدبخت آتش دوزخ کے اس ہولناک الاؤ میں ہمیشہ کیلئے جلتے رہیں گے۔ سو یہ آگ اصل میں ان کفار و معاندین ہی کیلئے تیار کی گئی ہے جو کہ اپنے کفر و انکار پر اڑے رہے ہوں گے، اور " اُعِدَّتْ " ماضی مجہول کا صیغہ ہے یعنی وہ آگ تیار کی جاچکی ہے، اگرچہ لوگوں کو نظر نہیں آتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم " کن فیکون " کی شان کا ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جنہوں نے کفر و انکار پر ہی جان دی ہوگی وہ اس آگ میں ہمیشہ کیلئے جلتے رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف " اُعِدَّتْ " " اس کو تیار کیا جا چکا ہے " کے اس ارشاد سے ایک اہم حقیقت تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ وہ آگ تیار ہے، صرف اتنی بات ہے کہ ابتلاء و آزمائش کے تقاضوں کی بناء پر آج اس پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ کل قیامت کے روز جب اس سے اس پردے کو ہٹا دیا جائے گا تو وہ بےنقاب ہو کر سب کے سامنے آجائے گی۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا، " وَبُرِّزَت الْجَحِیْمُ لِلْغاوِیْن َ " (ا لشعراء : 90) یعنی " اس روز دوزخ کو بےنقاب کردیا جائے گا گمراہوں کے لئے، اور دوسری حقیقت اس ارشاد سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ دوزخ کی یہ تیاری اصل کافروں کے لئے ہوگی نہ کہ مسلمانوں کے لئے۔ اور جو مسلمان اپنے معاصی وذنوب کی بنا پر اس میں جائیں گے وہ اس کا اصل مقصود نہیں بلکہ ان کا اس میں داخل ہونا اور عذاب پانا بالتبع اور ثانوی حیثیت میں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 70 دوزخ کے ایندھن کی ہولناکی کا بیان : دوزخ کا ایندھن بننے والے پتھر کیسے اور کونسے ہوں گے ؟ : ایسے پتھر جن میں ان کے وہ خود ساختہ، بےجان اور بےحس و بےشعور بت بھی شامل ہوں گے، جن کی یہ لوگ دنیا میں پوجا پاٹ کیا کرتے تھے اور جن کے بارے میں انہوں نے طرح طرح کے بےبنیاد اور بےحقیقت مفروضے از خود گھڑ رکھے تھے، اور قسما قسم کے افسانے پھیلا رکھے تھے، کہ یہ " سرکاریں " جو در حقیقت عام پتھر نہیں بلکہ فلاں فلاں، ہستیوں کی نمائندہ اور ان کی مظہر اور اوتار ہیں، بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " اور خاص ہستیاں ہیں۔ ہمارے کرتا دھرتا اور حاجت روا و مشکل کشا یہی ہیں، ہماری عرضداشتیں ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے پیش کی جاتی ہیں، کیونکہ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی ٹھکراتا نہیں، وغیرہ وغیرہ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا { وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہ اَوْلِیَائَ مَا نعْبدُہُمْ الاَّ لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلٰی اللّٰہ زُلْفٰی } (اور جنہوں نے اس (مالک حقیقی وحدہ لاشریک) کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں (ان کا کہنا یہ ہے کہ) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں) (الزمر : 3) اور دوزخ کے ایندھن میں جلنے والے ان پتھروں میں کبریت و گندھک کے ایسے اثرات پیدا کردئے جائیں گے، جن کی بناء پر ان کی آگ اور زیادہ سخت اور ہولناک ہوجائے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ مختلف آثار و روایات میں وارد و منقول ہے (ابن کثیر، فتح القدیر، اضواء البیان وغیرہ وغیرہ) ۔ پھر ان بتوں کا اس آگ میں ڈالا جانا اور ان کا وہاں جلنا ان کو عذاب دینے کے لئے نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو بےجان و بےشعور پتھر ہیں، جن کے مکلف اور معذّب ہونے کا اپنی اصل کے اعتبار سے تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ان کا آگ میں ڈالا جانا در اصل ان مشرک بت پرستوں کے عذاب میں اضافہ کرنے کے لئے ہوگا کہ جن پر انہوں نے تکیہ و آسرا کر رکھا تھا، اور جنکی زندگی بھر وہ ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے تھے، وہ ان کے کام آنے کی بجائے اس وقت اس طرح ان کے سامنے آگ میں جل رہے ہیں۔ سو اس سے ان کو انتہائی صدمہ ہوگا کہ وہ ان کے کچھ کام آنے کی بجائے آج خود ان کے سامنے اور ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جل رہے ہیں، البتہ جن زندہ اور باشعور ہستیوں نے اپنی خواہش و چاہت سے اپنی پوجا کرائی ہوگی کہ لوگ ان کی موجودگی میں ان کے آگے سجدہ ریز ہوتے، ماتھے ٹیکتے، ان میں خدائی صفات و اختیارات مانتے، شرکیہ اعتقادات رکھتے، اور ان شرکیات کا پروپیگنڈا کرتے ‘ اور یہ ان کو اس سے نہ روکتے نہ منع کرتے تھے۔ بلکہ اپنی پوجا پاٹ کے ان شرکیہ افعال سے یہ لوگ خوش ہوتے تھے، تو وہ بھی یقیناً سزا کے طور پر دوزخ میں ڈالے جائینگے ‘ کیونکہ ان کا قصور اور ان کی سرکشی واضح ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔۔ چناچہ قرآن حکیم میں اس بارے میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْن اللّٰہ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ } ۔ " بیشک تم اور جن کی پوجا تم لوگ کرتے ہو اللہ کے سوا، سب دوزخ کا ایندھن ہو، تم سب کو اس میں بہر حال داخل ہونا ہے " ( سورة الانبیائ : 98) رہ گئیں حضرات انبیاء اور اولیاء کرام کی وہ مقدس ہستیاں، جن کی پوجا بعد کے لوگوں نے ازخود کی، اور ان میں خدائی صفات مانیں ان کا معاملہ اس سے یکسر الگ اور مختلف ہے، کیونکہ ان کا اس میں کوئی قصور نہیں، بلکہ اس جرم کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان حضرات کی مرضی کے خلاف، اور ان کی صاف وصریح تعلیمات کے برعکس، اس طرح کی شرکیات کا ارتکاب کیا، اس لئے ایسے حضرات دوزخ اور اس کے عذاب سے دور اور ہر طرح سے محفوظ ہوں گے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الَّذِْینَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٓیٰ اُولئک عَنہْاَ مُبْعَدُوُنَ } ۔ (الانبیائ : 10 1) اور یہ دوزخ سے اسقدر دور ہوں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سن سکیں گے، اور جنت میں اپنی من چاہی نعمتوں کے اندر ہمیشہ کے آرام و سکون میں رہ رہے ہوں گے، جیسا کہ سورة انبیاء کی مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بعد والی آیت کریمہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ والحمد للہ علی کل حال ونعوذ بہ جل وعلا من حال اہل النار ۔ 71 دوزخ اصل میں کافروں ہی کے لیے : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ دوزخ کی آگ اصل میں کافروں ہی کیلئے تیار کی گئی ہے : کہ وہی ہیں جو کہ اپنے جرم کفر و انکار کی بناء پر اس کے اصل میں لائق اور مستحق ہیں، اور نجاست کفر و شرک نے ان کے ظاہر و باطن میں پیوست ہو کر، اور ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کرکے، ان کو سراپا نجس و ناپاک بنادیا ہے، جس کے باعث اب وہ ہمیشہ کے لئے اسی ٹھکانے کے باسی بن کر رہیں گے، جبکہ گنہگار مسلمانوں کو ان پر طاری ہونے والی گناہوں کی عارضی میل کی صفائی کے بعد دوزخ سے نکال دیا جائے گا ۔ ِوَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُلّ نُوْعٍ مِنْ عَذَاب الْجَحِیْمِ ۔ سو کفر و انکار ہر شر و فساد اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ایمان وانقیاد دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف کافر و منکر انسان چونکہ اپنے کفر وانکار کی میل کی بنا پر ایسا گندا اور اس قدر پلید ہوجاتا ہے کہ اس کی ذات ہی نجس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے اس کا ٹھکانا دوزخ کی وہ دہکتی بھڑکتی آگ ہی ہوگی جبکہ مومن اپنے ایمان کی بنا پر ناپاک نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کی روایت میں وارد ہے ۔ " ان المومن لا ینجس " ۔ البتہ گناہوں کی بنا پر جو میل اس پر طاری ہوگئی تھی اس کے ازالے اور اس کی صفائی کے لیے اس کو کچھ عرصہ دوزخ میں رہنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کے بعد اس کو اس سے نکال دیا جائے گا۔ (معارف وغیرہ) ۔ سو کفر و انکار محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور خوشخبری سنا دو تم ان (خوش نصیبوں) کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے کہ ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں ہیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں4 جب بھی ان کو وہاں کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے ملا تھا اور انہیں دئیے بھی جائیں گے باہم ملتے جلتے اور ان کے لئے وہاں ایسی بیویاں ہوں گی (جنہیں ہر طرح کے ظاہری و باطنی عیوب و نقائص سے) پاک کردیا گیا ہوگا1 اور ان (خوش نصیبوں) کو ان (جنتوں اور انکی نعمتوں) میں ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا

72 ضرورت عمل کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دعوی ایمان کے ساتھ عمل کی بھی ضرورت ہے : یعنی انہوں نے صرف زبانی کلامی ایمان کا دعوی ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے عمل و کردار سے بھی اپنے عقیدے و ایمان کا ثبوت فراہم کیا۔ سو ایمان کا صرف زبانی کلامی دعوی ہی کافی نہیں بلکہ اس دعوی کی تصدیق کے لیے عمل صالح کا پایا جانا بھی ضروری ہے، سو ایمان کی مثال اس صالح بیج کی سی ہے جو زمین کے اندر ہوتا ہے، اور عمل صالح کی مثال اس پودے کی سی ہے جو اس بیج سے پھوٹ کر باہر نکلتا ہے۔ پس جس طرح بیج کے بغیر کوئی پودا پیدا ہی نہیں ہوسکتا، اسی طرح ایمان کے بیج کے بغیر کسی عمل صالح کے وجود کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، اور جس طرح پودے کے نہ نکلنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بیج گل سڑ کر ختم ہوگیا ہے، اسی طرح عمل صالح کا فقدان اس کی دلیل ہوتا ہے کہ ایمان کے نور سے اسکا باطن خالی اور محروم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان صحیح کا لازمی نتیجہ اور طبعی ثمرہ اور عمل صالح ہے۔ اور عمل صالح وہ ہوتا ہے جو قرآن وسنت کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ 73 اہل ایمان کیلئے عظیم الشان جنتوں کا مژدہ جانفزا : ایسی عظیم الشان کہ ان کی عظمت کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، عام طور پر اردو تراجم میں جنت کا ترجمہ " باغوں " کے لفظ سے کیا جاتا ہے اور اصل لغت کے اعتبار سے اس کا ترجمہ ہے بھی یہی۔ لیکن عرف عام میں باغ کے لفظ سے جو تصور ذہن میں آتا ہے، اس کی جنت کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں، کیونکہ جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ اس دنیا میں ان کے ناموں کے سوا اور کوئی حقیقت سرے سے موجود ہی نہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس بارے میں مروی ہے کہ " لَیْسَ فِی الدُّنْیَا مِمَّا فِی الْجَنَّۃ الاَّ الاَسْمَاء " (ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی جنت کے بارے میں جو کچھ اس دنیا میں ذکر کیا جاتا ہے وہ ناموں کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے ہم نے جنت کا ترجمہ " عظیم الشان جنتیں " کیا ہے، اور جنت اور اس کی نہروں کی عظمت کا کچھ اندازہ اگلے حاشیے سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اصل اور حقیقی کامیابی ان عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی ہی کی کامیابی ہے، سو عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہمیشہ اسی حقیقی اور اَبَدی کامیابی کو اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنایا جائے، کہ اس کے سامنے دنیا ساری کے متاع غرور اور حطام زائل کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ۔ وب اللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ 74 جنت کی نہریں اور ان کی عظمت شان : سو جنت کی یہ نہریں ایسے صاف و شفاف عمدہ پانی کی ہونگی جو کبھی خراب نہ ہو، اور ایسے عمدہ اور بےمثل دودھ کی جس کا مزہ کبھی تبدیل نہ ہو، اور ایک ایسی ممتاز نوعیت کی شراب کی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذت و نشاط ہو، اور ایک ایسی منفرد قسم کے شہد کی جو ہر طرح سے منقّی و مصفّٰی ہوگی، اور جنت کی ان نہروں کا ذکر اسی ترتیب و تفصیل کے ساتھ سورة محمد کی آیت نمبر 15 میں موجود ہے، تو کیا ہے وئی باغ اس دنیا میں اس طرح کا جس میں اس طرح کی ان نعمتوں کا تصور بھی کیا جاسکتا ہو ؟ یہاں پر اول تو ایسی کوئی نعمت سرے سے ہے ہی نہیں۔ کیونکہ یہاں پانی ہے تو ایسا کہ ایک عرصہ تک رکا اور بند رہنے کی وجہ سے اس میں سٹراند پیدا ہوجائے، اور اس میں کیڑے پڑجائیں، دودھ ہے تو وہ تھوڑے سے وقت کے بعد ہی کھٹا ہو کر اور پھٹ کر اتنا بگڑ جائے اور اس قدر خراب ہوجائے کہ استعمال کے قابل بھی نہیں رہے گا، یہاں کی شراب ہے تو بدبودار اور ایسی سٹراند والی کہ اول تو اس کی بھبک ہی سے پینے والے اور اس کے ساتھ والے کا منہ پھر جائے، اور حلیہ بگڑ جائے، پھر اندر جا کر اس کا جوہر دماغ کو خراب کر دے، اور پھر طرح طرح کی موذی بیماریوں کو جنم دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہاں کا شہد ہے تو اس میں طرح طرح کی آمیزشیں اور ملاوٹیں ہوتی ہیں، اور پھر ان چیزوں کے یہاں پر نہروں کی شکل میں پائے جانے کا تو سرے سے کوئی تصور ہی نہیں، یہاں تو یہ چیزیں ناپ تول کر تولوں اور چھٹانکوں کے حساب سے دی اور لی جاتی ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنت کی نعمتیں کس قدر عظیم الشان ہونگی، اللہ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرما دے، مجھے بھی، اور میری بیوی اور بچوں کو بھی، اور میرے بہن بھائیوں اور باقی سب رشتہ داروں کو بھی، خاص کر میرے والدین کریمین مرحومین و مغفورین کو، اور میرے آباء و اجداد اور دیگر تمام متعلقین کو بھی، اور میرے اساتذہ و مشائخ اور سب مسلمان مردوں اور عورتوں کو بھی۔ آمین ۔ اِنَّہُ ہُوَ اْلاَعَزُّ الاَکْرَمُ وَخَیْرُ الْمَسْئُول وَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْر، وَبِالاِجَابَۃ جَدِیْرٌ، وَعَلٰی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین، یا اکرم الاکرمین یا من لا حدَّ لِجُوْدِہٖ وکرمہٖ واحسانہ، یا مَنْ لا یُخَیّب فیہْ اَمَلُ الاٰملینَ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 75 " مُتَشَابِہاً " کا معنی و مطلب ؟: ۔ یعنی وہ پھل ملتے جلتے ہوں گے دنیاوی پھلوں کے ساتھ، محض ظاہری شکل و صورت میں، تاکہ ان کو کوئی وحشت واجنبیت نہ ہو، اور یہ تشابہ بھی محض ظاہر کے اعتبار سے ہوگا، ورنہ اصل حقیقت اور لذت و اثر کے اعتبار سے ان دونوں میں کوئی نسبت ہی نہ ہوگی، یا یہ کہ وہ جنت کے پھل آپس میں باہم ملتے جلتے ہوں گے، تاکہ کسی کے گھٹیا اور کمتر ہونے کا پہلو نہ نکلے، جس طرح کہ دنیا میں ہوتا ہے، کہ یہاں کے پھلوں میں باہم بڑا تفاوت ہوتا ہے، جس سے ان کی باہمی قدر و قیمت میں بھی بڑا فرق و تفاوت پایا جاتا ہے، آیت کریمہ کے معنی و مطلب میں یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں، اور سلف سے یہ دونوں ہی قول منقول و ما ثور ہیں (ابن کثیر، فتح القدیر، وغیرہ) ۔ اس لیے بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ دنیا دراصل آخرت کا ایک شو روم ہے اگرچہ اصل حقیقت وہیں جا کر کھلے گی ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف جنت کی وہ عظیم الشان نعمتیں اگرچہ شکل وصورت میں باہم ملتی جلتی اور ایک دوسرے کی متشابہ ہونگی لیکن اپنے باطن اور حقیقت کے اعتبار سے ایک دوسری سے یکسر مختلف ہونگی تاکہ ان کا لطف و سرور دوبالا ہو۔ اور ان کے شکر میں اضافہ ہو ( محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 76 اہل جنت کی بیویاں اور ان کی عظمت شان : سو ان کو ہر طرح کے عیوب اور نقائص سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ پس نہ ان میں حیض و نفاس اور بول و براز وغیرہ کی ظاہری اور حسی کوئی میل کچیل اور کدورت و قذارت ہوگی، اور نہ ہی بدخلقی اور باطنی زیغ و انحراف کا کوئی معنوی اور غیر مرئی عیب۔ (المراغی، القاسمی، ابن کثیر وغیرہ) اور ایماندار جنتی عورتیں قیامت کے روز جنتی حوروں سے بھی کہیں بڑھ کر خوبصورت ہونگی۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ اور یہ اس لئے کہ ان کو وہاں ایک نئی پیدائش اور نئی اٹھان ملے گی جیسا کہ سورة واقعہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " ہم نے ان کو ایک نئی اٹھان دی ہوگی، پھر ان کو ہم نے کنواریاں بنادیا ہوگا، دل لبھانے والی ہم عمر، داہنے [ ہاتھ ] والوں کے ساتھ " ( سورة الواقعۃ : 35 ۔ 38) ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ عام طور پر اردو تراجم میں اس لفظ کا ترجمہ " پاکیزہ " کے لفظ سے کیا جاتا ہے، حالانکہ پاکیزہ اصل میں " طاہرۃ " کا ترجمہ ہے جبکہ یہاں " طاہرہ " نہیں " مطہرہ " فرمایا گیا ہے، اور ان دونوں لفظوں میں بڑا فرق ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ جل و علا ۔ بہرکیف اس سے اہل جنت کی بیویوں کی عظمت شان کو ظاہر فرما دیا گیا۔ 77 اہل جنت کی ایک منفرد نعمت، خلود و دوام : پس نہ کبھی ان کو وہاں سے نکالا جائے گا، جیسا کہ سورة حجر میں فرمایا گیا ہے : ۔ { لا یَمَسُّہُمْ فِیْہَا نَصَبٌ ومَا ہُمْ منہَا بِمُخْرَجِیْنَ } ۔ " نہ ان (جنتیوں) کو وہاں پر کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی ان کو وہاں سے نکالا جائے گا " (الحجر : 48) ۔ اور نہ ہی کبھی بور ہو کر ان کا خود ہی وہاں سے نکل جانے کا دل چاہیگا، جیسا کہ اس دنیا میں بالعموم ہوتا ہے۔ چناچہ سورة الکہف میں ارشاد ہوتا ہے : ۔ { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا لاَ یَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلاً } ۔ " انہیں وہاں پر ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا کبھی وہاں سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے " اور صحیح بخاری (رح) و مسلم (رح) وغیرہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ " جب جنتی سب جنت میں داخل ہوجائیں گے، اور دوزخی دوزخ میں، تو پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرکے کہے گا کہ اے دوزخیو، اب کوئی موت نہیں، اور اے جنتیو : اب کوئی موت نہیں، ہر ایک جس حال میں ہے اب ہمیشہ اسی میں رہے گا، پس یہ دن جنتیوں کے لئے تو نہایت ہی خوشی کا دن ہوگا، مگر دوزخیوں کے لئے یہ نہایت ہی حسرت و یاس کا دن ہوگا ۔ " وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ الْعَزیِْز الرّحیم " ۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث میں مروی ہے کہ اگر دوزخیوں سے یہ کہا جائے کہ روئے زمین میں جس قدر کنکریاں ہیں اتنے سال تم کو دوزخ میں رہنا ہے، اس کے بعد تم کو اس سے نکال دیا جائے گا تو وہ اس سے بھی خوشی محسوس کریں گے، کہ آخر اتنے عرصے کے بعد تو دوزخ سے نکلنا نصیب ہوجائے گا، اور دوسری طرف اگر جنتیوں سے یہ کہا جائے کہ روئے زمین میں جس قدر کنکریاں ہیں اتنا تم کو جنت میں رہنا ہوگا، اس کے بعد تم کو یہاں سے نکال دیا جائے گا تو وہ اس پر بھی غمگین ہوجائیں گے کہ یہ مدت جو اس قدر طویل ہے آخر ہے تو محدود ہی، جو بالآخر ختم ہوجائے گی، مگر وہاں ایسے بھی نہیں ہوگا، بلکہ اس اعلان کے بعد دوزخیوں کو وہاں دوزخ میں ہمیشہ ہمیش کے لئے رہنا ہوگا اور جنتیوں کو بھی جنت میں۔ بہر کیف خلود و دوام کی یہ صفت عالم آخرت کی ایک خاص اور اہم صفت ہوگی، جو اس جہان رنگ و بو میں ممکن ہی نہیں، کیونکہ یہاں کا حال یہ ہے کہ ۔ " لاَبَأْسٌ یَّدُوْمُ وَّلاَ نَعِیُمْ " ۔ یعنی نہ یہاں کی تکلیف دائمی، نہ نعمت دائمی۔ سو یہاں سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس کافر و مشرک کا انجام یہ ہونے والا ہے، اس کو اگر یہاں پر اس ساری دنیا میں ساری دنیا کا مال و دولت بھی مل جائے تو بھی اسے کیا ملا، اور اسے اس کا کیا فائدہ ؟ کہ اس کا مآل و انجام تو یہ ہونے والا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعظِیْم ۔ اس کے مقابلے میں ایک مومن صادق جس کو اس کے ایمان وتقوی کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے جنت کی ان ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے نواز دیا ہوگا، وہ کس قدر خوش نصیب ہے اگرچہ دنیا میں اس کو پیٹ بھر کر کھانے کو بھی نہ ملا ہو، اور تن ڈھاپننے کے لئے ضرورت کا کپڑا بھی میسر نہ آیا ہو۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان کی دولت ایسی عظیم الشان اور بےمثل دولت ہے کہ دنیا بھر کی تمام دولتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں، پس اے اللہ ہمیں ایمان کامل کی دولت سے مالا مال فرما دے، ہماری اس دولت ایمان و یقین کو محفوظ رکھ، اور اسی پر ہمیں خاتمہ نصیب فرما کہ سب کچھ تیرے ہی قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور تیری شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ پس محض اپنے فضل و کرم سے ہماری ان دعاؤں کو قبول فرما لے اور ہمیں جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرما دے ۔ آمین ثم آمین یا اکرم الاکرمین۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بیشک اللہ (پاک سبحانہ و تعالی) شرماتا نہیں اس بات سے کہ وہ بیان فرمائے کوئی مثال (حقیقت حال کی توضیح کے لئے) مچھر کی یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی2 سو جو لوگ ایمان (کا نور) رکھتے ہیں وہ یقین جانتے ہیں کہ یہ (تمثیل) قطعی طور پر حق ہے ان کے رب کی طرف سے مگر جو لوگ کفر (کی ظلمت) والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کو کیا لگے اس طرح کی مثالوں سے اللہ اس سے بہتوں کو گمراہی کی (دلدل) میں ڈالتا ہے اور بہتوں کو ہدایت (کی عظیم الشان دولت) سے نوازتا ہے اور وہ اس سے گمراہ نہیں کرتا مگر ان ہی بدکاروں کو3

78 کفر و باطل کی تحقیرو تذلیل کیلئے مثال کا بیان : یعنی کوئی ایسی مثال جو حقیقت امر کو پوری طرح واضح کردے، کہ مثال کا مدعا و مقصود یہی ہوتا ہے کہ کسی غیر محسوس چیز کو کسی محسوس چیز سے تشبیہ دے کر واضح کیا جائے، تاکہ اس کے سمجھنے میں کوئی دقت و دشواری باقی نہ رہے، اس لیے ضرب الامثال کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ عمدہ اور عظیم چیزوں کیلئے عمدہ اور عظیم چیزوں کی مثال دی جائے اور گھٹیا اور حقیر چیزوں کی توضیح کیلئے گھٹیا اور حقیر چیزوں کی مثال دی جائے، تاکہ مقصد پوری طرح واضح ہوجائے۔ لہذا قرآنی امثال اس کی عظمت شان کے خلاف نہیں بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کا تقاضا ہیں۔ جن لوگوں نے ان مثالوں کی بناء پر قرآن حکیم پر اعتراض کیا انہوں نے دراصل اپنی حماقت، اور جہالت و سفاہت کا ثبوت دیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ اس طرح کی باتوں سے شرما کر اور ایسے احمق لوگوں کی اس طرح کی احمقانہ باتوں کی بنا پر حقائق و معانی کی تمثیل و توضیح کے لیے ایسی کوئی مثال بیان کرنے سے رک جائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 79 تمثیل اور اس سے اصل مقصود ؟ : یعنی اس سے بھی بڑھ کر ہو اپنی حقارت میں (روح المعانی ) ۔ کیونکہ تمثیل سے جو امر مقصود ہوتا ہے اس کا تقاضا یہی ہے، یہ رد ہے کفار و مشرکین وغیرہ معاندین اور معترضین کے اس اعتراض کا کہ اگر قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے، تو پھر اس میں مکھی مچھر اور مکڑی وغیرہ جیسی حقیر اشیاء کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، تو اس سے اس کا رد فرمایا گیا کہ اس طرح کی چیزوں سے مثال بیان کرنا کوئی ایسی شرم و عار کی چیز نہیں کہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ شرما کر ان کی مثال دینا چھوڑ دے، بلکہ یہ در اصل اعتراض کرنے والوں کی خود اپنی حماقت کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ یہ ایک صریح اور واضح امر ہے کہ جب کسی چیز کی تحقیر اور بےحقیقتی کو واضح کرنا ہو تو اس کی مثال کسی حقیر اور گھٹیا چیز ہی سے تو دی جائے گی، پھر تمہارا (اے منکرو ! ) محض اس بنیاد پر کلام الہٰی پر اس طرح کا اعتراض کرنا کس قدر لچر اور احمقانہ حرکت ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کی مزید تفصیل و تشریح جو اس موقع پر کرنا تھی محض طوالت کے خوف سے چھوڑتا ہوں اس کو انشا اللہ اپنی مفصل تفسیر میں پیش کروں گا، اگر حیات مستعار نے وفا کی اور توفیق و عنایت خداوندی شامل حال رہی ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْقُ وَہُوَ الْمُوَفِّقُ لِکُلّ خیْرٍ وَالْمُیَّسر لِکُل عَسِیْر۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ وایاہ نسال ان یاخذنا الی ما فیہ حبہ والرضا جل وعلا ۔ 80 نور ایمان کی عظمت شان اور اس کی برکات کا اثر و نتیجہ : سو نور ایمان ایک عظیم الشان نعمت اور عنایت خداوندی ہے، اور نور ایمان کی یہ روشنی ایسی عظیم الشان اور بےمثل روشنی ہے، جو مومن صادق کی ہر مقام پر دستگیری کرتی اور اسے راہ حق دکھاتی ہے، جیسا کہ سورة یونس کی نویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { اِنَّ الَََّذِیْنَ آٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَات یَہْدِیْہِمْ رَبُّہُمْ بِاِیْمَانِہِمْ } ۔ " بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ان کا رب ان کی راہنمائی فرماتا ہے اور فرماتا رہے گا ان کے ایمان کی بدولت " (یونس :9) سُبْحَان اللّٰہِ ! کیسا نور ہے یہ ایمان کا نور، اور کتنی بڑی نعمت و دولت ہے یہ ایمان و یقین کی نعمت و دولت، جو انسان کو حق و ہدایت کی اس شاہراہ پر ڈالتی ہے جو اسے دارین کی فوز و فلاح سے ہمکنار کرتی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین، ثم آمین، یا رب العالمین۔ 81 ظلمت کفر سب خرابیوں اور فساد کی جڑ اور بنیاد : سو ایسے اعتراضات کا منشاء ایسے لوگوں کا کفر و انکار ہے۔ پس جس طرح نور ایمان تمام خیرات و برکات کا سرچشمہ ہے، اسی طرح ظلمت کفر سب خرابیوں اور فساد کی جڑ اور بنیاد ہے، جس سے انسان کی مت ہی مار کر رکھ دی جاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں اس کو سیدھی بات بھی الٹی نظر آنے لگتی ہے اور وہ سیدھی راہ سے ہٹ کر الٹی راہ پر چلنے لگتا ہے، اور اس کو یہ شعور و احساس تک نہیں رہتا کہ اس طرح وہ کتنے بڑے خسارے کا سودا کر رہا ہے، اور ذلت و رسوائی کے کیسے ہاوئے میں گر رہا ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ سو مومن تو اپنے نور ایمان کی ہدایت وبرکت کی بنا پر ایسی مثالوں سے حق و حقیقت سے علم و آگہی حاصل کرتا ہے اور کافر و منکر انسان اپنے کفر و انکار کی سیاہی کی بنا پر الٹا اوندھا ہو کر ان پر اعتراض کرتا ہے۔ اور اس طرح وہ اپنے باطن کی سیاہی اور سیاہ بختی میں اور اضافہ کرتا ہے۔ اور اس طرح وہ سدھرنے کی بجائے اور بگڑتا اور مزید گمراہ ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بعض سلف سے مروی و منقول ہے کہ جب میں قرآن کی کسی مثال کو سمجھ نہیں سکتا تو اپنی محرومی اور کوتاہ فہمی پر روتا ہوں۔ ( معارف للکاندھلوی) سو نور ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور ظلمت کفر و انکار خرابیوں کی خرابی اور ہر شر و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 82 اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے اور گمراہ کرنے کا مطلب ؟ : سو اللہ انحراف والوں کو گمراہی میں ڈالتا ہے، ان کی اپنی بدنیتی، خُبث باطن، اور سوئ اختیار کی بناء پر، ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس وحدہ لا شریک خدا وند قدّوس کا قانون و ضابطہ یہی ہے، کہ جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑتا ہے وہ اس سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ بالکل عدل و انصاف پر مبنی قانون و ضابطہ ہے کہ جو کوئی ہدایت سے منہ موڑیگا وہ اس سے محروم رہے گا، کیونکہ عقل و فطرت کا تقاضا یہی ہے، کہ جب دنیا کی ایک عام اور معمولی شئی بھی طلب و جستجو کے بغیر نہیں مل سکتی، تو پھر ہدایت کی وہ نعمت جو کہ تمام نعمتوں سے بڑی نعمت، اور جو جملہ خیرات و برکات کی اساس و بنیاد ہے، وہ یونہی بلا کسی طلب و خواہش کے کس طرح مل جائے گی ؟ ملتی تو وہ بیشک اس واہب مطلق کے یہاں سے سب کو مفت اور بلا معاوضہ ہی ہے، مگر طلب صادق اس کی اولین شرط اور اساس ہے۔ سو یہی معنی و مطلب ہے اس ارشاد عالی کا کہ وہ " اس کے ذریعے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے "۔ یعنی اس کا قانون و ضابطہ یہی ہے کہ جو کوئی اس کی ہدایت سے منہ موڑے گا وہ اس سے محروم رہے گا، ورنہ یہ مطلب اس کا ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ یونہی بلاوجہ کسی کو نعمت ہدایت سے محروم کردیتا ہے، اور محروم کرنے کے کیا معنی ؟ وہاں تو ہدایت سے نوازنے کا ایسا پر حکمت اور زبردست انتظام ہے کہ کوئی بدبخت ہی اس سے محروم رہے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ایک طرف تو اس رب رحمن و رحیم نے انسان کو نعمت عقل سے نواز کر، اور کائنات کی حکمتوں بھری یہ عظیم الشان کتاب اس کے سامنے کھول کر اس کو دعوت غور و فکر دی کہ اس کو دیکھتے، پڑھتے، اور اس میں غور کرتے جاؤ، تاکہ تم اصل حقائق سے آگاہی حاصل کرسکو، اور اس رب قدیر و قدوس کی چہار سو پھیلی ہوئی رحمتوں کی بےپایاں عظمتوں، اور ان گنت حکمتوں، اور عنایتوں، کے تذکرہ و استحضار سے اپنے دل و دماغ کو ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال، اور ہدایت و معرفت کے نور سے منور و فیضیاب کرتے جاؤ، اور دوسری طرف اس کریم و وہّاب نے اپنے انبیائ کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی ان پاکیزہ ہستیوں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری فرمایا جن کی بعثت و تشریف آوری کا مقصد ہی خلق خدا کو رشد و ہدایت کی راہ صدق و صواب کی تعلیم دینا تھا، اور اس سلسلہ مقدسہ کا اختتام خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر فرمایا، اور آپ ﷺ کے ذریعے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے وہ کامل و مکمل نظام نازل فرمایا، جو قیامت تک کی سب دنیا کے لئے کافی و وافی ہے، اور جو کتاب و سنت کے دو اصولی اور عظیم الشان سر چشموں کی شکل میں آج بھی موجود ہے، اور قیامت تک ایسے ہی موجود و محفوظ، اور ضیاء بار اور ضوء فشاں رہے گا ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ ۔ اس لئے اس کے یہاں سے کسی کے گمراہ کرنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لئے اس کے اسمائ حُسنٰی میں " الھادی "، " ھدایت دینے والا " تو ہے، لیکن " اَلْمُضِّل "، " گمراہ کرنے والا " کوئی اسم نہیں۔ سو اس طرح کی آیات کریمہ کے ظاہری الفاظ اور عمومی اردو تراجم سے یہ غلط فہمی چونکہ پیدا ہوتی ہے، جس سے بہانہ جو طبیعتیں، اس کو اپنی مذموم اغراض کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرنے لگتی ہیں، کہ صاحب جب اللہ خود ہی گمراہ کرتا ہے تو پھر ہمارا کیا قصور ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو اس توضیح و تشریح سے وہ غلط فہمی ختم ہوگئی، اسی لئے ہم نے اس موقع پر اختصار کے ارادہ کے باوجود اس قدر تفصیل سے بات کردی، تاکہ حق اور حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے، اور اس طرح کی کوئی الجھن پیش نہ آئے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ- 83 حسن اختیار اور صدق نیت باعث سرفرازی : سو ایسے خوش نصیبوں کو وہ واہب مطلق نور حق و ہدایت سے نوازتا ہے، ان کے حسن اختیار، صدق نیت، صفاء و اخلاص، اور طلب صادق کی بناء پر۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حسن اختیار اور صدق نیت باعث سرفرازی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس اس سے یہ اہم بنیادی حقیقت و اضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے صلاح و فساد اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ اگر اس کا باطن درست اور اس کی نیت صحیح ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی عنایات سے نوازتا ہے، نہیں تو اس کے لئے محرومی اور خسارہ ہی ہے، اور قلب و باطن کی کیفیت کو انسان لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، لیکن اللہ سے چھپانا ممکن نہیں کہ وہ " علیم بذات الصدور " ہے اور انسان کو وہ اس کے باطن اور اس کی نیت و ارادہ کی بنیاد ہی پر نوازتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 84 فسق و فجور باعث محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گمراہ نہیں کرتا مگر بدکاروں کو : کہ وہ ہدایت چاہتے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہشات نفس کی پیروی میں شتر بےمہار بن کر رہنا چاہتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمُ ۔ طلب صادق کے گوہر مقصود سے وہ محروم ہیں، جو کہ اس راہ میں اصل اساس و بنیاد ہے کہ بےطلب وہ واہب مطلق ہدایت سے نوازتا نہیں، کہ اس کا صاف وصریح ارشاد ہے { اَنُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کٰرِہُوْنَ } کیا ہم اس کو تم سے چپکا دیں گے جبکہ تم لوگ اس سے نفرت کرتے ہو ؟ ( سورة ھود : 28) استفہام یہاں پر انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں ہونے کا۔ پس اس ارشاد پاک سے ہماری اس بات کی تصدیق و تائید ہوتی ہے جو ابھی ہم نے اوپر حاشیہ 82 میں قدرے تفصیل سے بیان کی ہے، کہ اس وحدہ لاشریک کے یہاں سے ھدایت سے محرومی انہی بدنصیب محروموں کے لئے ہے جو ہدایت چاہتے ہی نہیں، ورنہ اس کا کرم تو عام اور اس کا فیض سب کو شامل ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہاں سے محرومی کسی کیلئے بھی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر جو خود ہی منہ موڑے اور محرومی و ہلاکت کی راہ پر چل پڑے تو اسکا کیا علاج ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔