2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (اور) وہ اس کو ایسے پڑھتے ہیں جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے،1 تو یہی لوگ ہیں جو (درحقیقت) اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور جس نے اس کا انکار کیا تو ایسے ہی لوگ ہیں خسارے والے،2

336 " الکتاب " سے مراد جنس کتاب : یعنی الکتاب سے یہاں پر مراد جنس کتاب، اور مراد اس سے تورات و انجیل وغیرہ ہے، اور دوسرا قول اس میں یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن حکیم ہے (جامع البیان، صفوۃ البیان، محاسن التاویل، اور معارف وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں اہل کتاب کے ان اچھے اور حق پرست لوگوں کا ذکر ہے جو اپنی کتاب کی قدر کرتے اور اس پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے۔ رہے وہ اہل کتاب جو اس شرف و امتیاز سے محروم تھے، اور ان کی مثال اس گدھے کی تھی جسکی پیٹھ پر کتابوں کے انبار لگے ہوتے ہیں مگر اس کو کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا لدا ہے، تو ان کا معاملہ الگ ہے، کہ ایسے بےقدرے اور ناشکرے لوگ بہرحال علم اور ہدایت کی نعمت سے محروم ہی رہتے ہیں اور وہ گدھے کے گدھے ہی رہتے ہیں، کہ اللہ پاک کا قانون و دستور اور اس کی سنت یہی ہے کہ وہ ایمان و یقین کی معنوی اور روحانی نعمتوں سے انہی کو نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے جو ان کے قدردان اور خواہش مند ہوتے ہیں جبکہ بےقدرے اور ناشکرے محروم ہی رہتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ من کل زیغ وضلال ۔ 337 اللہ کی کتاب کی تلاوت حق تلاوت کے ساتھ : کہ وہ اس پر سچا پکا ایمان یقین رکھتے ہیں، اس کے الفاظ و حروف کو صحیح طور پر ادا کرتے ہیں، اس کے معانی و مطالب کو سیکھتے، اور اس کے مطابق اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق و کردار کی اصلاح کرتے ہیں، یہ سب کچھ " حَقَّ تَلاوَتِہ " کے عموم میں داخل ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس ۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہمُ وَرَضُوْ اعَنْہُ ۔ وغیرہ صحابہ کرام اور کبار مفسرین و علماء سے مروی و منقول ہے ( ابن کثیر، جامع البیان، القاسمی وغیرہ) سو کتاب اللہ کا ہم پر حق ہے کہ ہم اس کو حق تلاوت کے ساتھ تلاوت کریں، تاکہ اس کے انوار و تجلیات سے سرفراز و فیضیاب ہوسکیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ 338 نبی آخر الزمان پر ایمان لانا اہل کتاب کے اپنی کتاب پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے : یعنی اپنی کتاب پر، اور چونکہ اپنی اس کتاب میں وہ کسی تحریف و تبدیل وغیرہ سے کام نہیں لیتے تو اس کے نتیجے میں وہ نبی آخرالزمان پر بھی ایمان لے آتے ہیں، اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب حکیم قرآن کریم پر بھی۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں نبی آخرالزماں ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی آخری وحی اور خاتم الکتب سے متعلق بشارات اور پیشینگوئیاں درج ہیں۔ اس لئے حضرت خاتم الانبیا ﷺ پر ایمان لانا ان کی اپنی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا ہے۔ چناچہ اہل کتاب میں سے ایسے سچے مومن نبی آخرالزمان اور قرآن کریم پر سچے دل سے ایمان لے آئے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام، بن صوریا اور بن یامین وغیرہ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " بہ " کی ضمیر مجرور کا مرجع قرآن حکیم ہو، یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنی کتاب کے پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں وہی قرآن حکیم پر ایمان لاتے ہیں، اور تیسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ " الکتاب " سے مراد ہی اصل میں قرآن مجید ہو، یعنی جن لوگوں کو ہم نے قرآن سے نوازا ہے اور وہ اس کے پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں وہی اصل میں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ سو یہ تینوں احتمال اس ارشاد ربانی کی تفسیر میں موجود ہیں، اور تینوں ہی درست ہیں اور ہر ایک کا معنی صحیح بنتا ہے۔ سو جو لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے ان کا اپنی کتاب پر ایمان کا دعوی بھی صحیح نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 339 حق کے منکر سراسر خسارے میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی لوگ خسارے میں ہیں کہ ہدایت کے اس نور سے محرومی دراصل دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ سو اس سے بڑھ کر خسارہ اور نقصان اور کیا ہوسکتا ہے ؟ کہ انسان نور حق سے محروم ہو کر اندھا بہرا بن کر رہ جائے، اور ہلاکت اور تباہی کے دائمی گڑھے میں جاگرے ؟ اور اس طور پر کہ پھر اس سے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت بھی اس کے لیے ممکن نہ رہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْز الْعَظِیْمٍ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے منکر سراسر خسارے میں ہیں کہ انہوں نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو اور روشنی کے بجائے اندھیرے کو اپنایا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور اس طرح انہوں نے منصہ شرف سے گر کر حضیض مذلت اور قعر ہلاکت کو اپنایا اور نعیم جنت سے سرفرازی کی بجائے نار جحیم کی راہ کو اپنایا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر خسارہ اور کونسا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:122

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل یاد کرو تم لوگ میری ان نعمتوں کو جن سے میں نے تم کو (طرح طرح سے) نوازا، اور (خاص کر میری اس نعمت کو کہ) میں نے تم کو فضیلت (و بزرگی) بخشی سب (دنیا) جہاں والوں پر،3

340 بنی اسرائیل کے سب جہانوں پر فضیلت پانے کا مطلب ؟ : یعنی اپنے دور میں اور اپنے زمانے کے اعتبار سے کہ اس زمانے میں توحید خداوندی کے عقیدہ صافیہ کے حامل و علمبردار تم ہی لوگ تھے۔ سو اسی بنا پر تمہیں اس عظیم الشان شرف و اعزاز سے نوازا گیا۔ پس تم لوگ اس کو یاد کرو اور اپنی ذمہ داری کو نبھاؤ، اور دین حق کے امین و علمبردار بن جاؤ، تاکہ تمہیں دارین کی سعادت و کامیابی سے نوازا جائے ۔ { اَوْفُوْا بَعَہْدِیْ اُوْف بِعَہْدِکُمْ } ۔ اور اگر تم اس آخری اور کامل دین حق پر ایمان لاؤ گے، اور تمہیں دیکھ کر دوسرے بھی ایمان لائیں گے، تو تمہیں دوہرا اجر ملے گا، اور اگر تم نے جانتے بوجھتے حق سے منہ موڑا، تو دوسروں کا بوجھ بھی تمہارے ذمے ہوگا، اور تم خسارے پر خسارے کے مورد و مستحق بنو گے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ پس تم لوگ دین حق کے پہلے منکر بن کر اس دوہرے خسارے کو اپنے سر لینے کی حماقت نہ کرو ۔ { وَلاَ تَکُوْنُوْا اَوَّلََ کَافِرٍ بِہٖ } ۔ بلکہ صدق دل سے اس پر ایمان لاکر دوسروں کیلئے اسوہ اور قدوہ بن جاؤ تاکہ انکے ایمان لانے کا اجر وثواب بھی تم کو ملے۔ بہرکیف اس ارشاد سے بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر اپنی نعمتوں کی تذکیر و یاددہانی فرما کر ان کو شکر نعمت کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جس کی واحد صورت یہ ہے کہ نبی آخر الزمان پر ایمان لا کر دین حق اسلام کی تعلیمات مقدسہ پر صدق دل سے عمل کریں تاکہ ان کو دنیا و آخرت کی سعادت اور فوز و فلاح سے سرفرازی نصیب ہو سکے۔
Ayah 2:123

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور ڈرو تم (اے لوگو ! ) اس (ہولناک) دن سے جس میں نہ کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام آسکے گا، نہ ہی ان لوگوں کی (کہیں سے) کوئی مدد کی جائے گی،

341 قیامت کے روز اہل کفر و باطل کی لاچاری اور بےبسی : سو اس روز اہل کفر و باطل کی لاچاری و بےبسی کا عالم یہ ہوگا کہ نصرت و حمایت کے معروف ذرائع میں سے کوئی بھی قیامت کے روز اہل باطل کو انکے کام نہیں آسکے گا۔ یعنی نصرت و حمایت اور گلوخلاصی و نجات کے ممکنہ اور معروف ذرائع میں سے کوئی بھی وہاں میسر نہ آسکے گا، اور دین حق سے محرومی اور اس کے انکار کے نتیجے میں تم لوگ وہاں پر اپنے آپ کو ہر طرح سے بےسہارا، اور محروم پاؤ گے۔ لہذا آج قبول حق کا جو موقع تمہیں ملا ہوا ہے، اس کو ضائع نہیں کرو بلکہ اس سے فائدہ اٹھا کر حق کو قبول کرلو، اور اس ہولناک انجام سے بچ جاؤ قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود و مختصر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مزید تو ضیح کیلئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، حاشیہ نمبر 14 1 سو اصل اور حقیقی دولت ایمان و یقین کی دولت ہی ہے، جو دارین میں کام آنے والی ہے۔ ورنہ انسان کی لیے محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں کے ذریعے، تو ابراہیم ان کو بتمام (و کمال) بجا لائے،4 تب اللہ (تعالیٰ ) نے فرمایا کہ میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بناتا ہوں،5 ابراہیم نے عرض کیا، اور (کیا) میری اولاد سے بھی (یہی وعدہ ہے ؟ ) فرمایا میرا عہد (و پیمان) نہیں پہنچتا ظالموں کو،

342 حضرت ابراہیم کے قصے سے عبرت پذیری کی تعلیم و تلقین : سو تم لوگ حضرت ابراہیم کے اس قصے کو یاد کرو کہ اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، کہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی ہستی وہ عظیم الشان اور جلیل القدر ہستی ہے جن کو سب ہی اپنا مقتدا و پیشوا مانتے ہیں۔ یہود بھی، اور نصاریٰ بھی۔ اور مشرکین مکہ کے تو فخر و اعتزاز کی اساس و بنیاد ہی یہ تھی کہ ہم نسل ابراہیمی سے تعلق رکھتے، اور ان کے بنائے گھر کے مجاور و متولی اور خادم و کارندے ہیں، جبکہ مسلمان ہیں ہی ملت ابرا ہیمی پر۔ تو ایسے میں حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی صدق و صفا سے بھرپور، اور ایثار و قربانی والی زندگی، کا آئینہ ان لوگوں کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ خود دیکھ لیں کہ ابراہیم کہاں اور کیسے تھے ؟ اور یہ کہاں اور کیسے ہیں ؟ اور ان کی محبت وتعلق کے دعوے میں یہ کہاں تک سچے اور حق بجانب ہیں، سو ایسے قصوں کی یاددہانی میں عبرت پذیری کی تعلیم و تلقین ہے، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ صرف زبانی کلامی دعو وں اور حضرت ابراہیم کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا جب تک ان کے طریق کار کو نہ اپنایا جائے۔ اس کو اپنا نصب العین نہ بنایا جائے اور ان کی ملت نہ اپنایا جائے یعنی اس دین حق کو جو کہ اب تمہارے سامنے اسلام کے نام سے اور اس کی پاکیزہ اور مقدس تعلیمات کی صورت میں تمہارے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کہ اب حق بہرحالی یہی ہیـ۔ اس کے سوا سب اندھیرے اور خواہشات نفس کے پلندے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 343 ابتلائے ابراہیم کا مطلب اور اسکا اصل مقصد ؟ : سو رب نے ان کو آزمایا تاکہ اس طرح دنیا کے سامنے ان کے انقیاد بےمثل کے آئینہ میں ان کے کارنامے پوری طرح ظاہر ہو سکیں، اور ان سب کو یقین ہوجائے کہ واقعی ابراہیم اس عظیم الشان مرتبہ و مقام کے بجا طور پر اہل اور مستحق تھے، جس سے ان کو نوازا گیا۔ ان کو خلت سے سرفراز فرمایا گیا، اور وہ خلیل اللہ قرار پائے۔ ورنہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کو کسی امتحان اور آزمائش کی کیا ضرورت ؟ وہ تو اپنے علم ازلی و ابدی کی بنا پر سب ہی کچھ جانتا ہے، اور پوری طرح اور ہر اعتبار سے جانتا ہے، کہ اس کے یہاں ماضی و مستقبل عیاں و نہاں اور ظاہر و باطن سب ایک برابر ہیں، مگر وہ ابتلاء و آزمائش کی بھٹی سے گزارتا ہے تاکہ اصل حقیقت سب کے سامنے پوری طرح آشکارا ہوجائے اور کھرا کھوٹا سب کا سب سامنے آجائے، تاکہ اس کے بعد نہ کسی کیلئے کسی سوال و اعتراض کی کوئی گنجائش باقی رہے اور نہ کسی شک و شبہ کی اور پوری طرح واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم واقعی ان انعامات کے مستحق تھے جن سے ان کو نوازا گیا تھا۔ 344 وہ چند باتیں جن کے ذریعے حضرت ابراہیم کی آزمائش کی گئی : یعنی ایسی چند باتوں کے ذریعے جن سے یہ امر پوری طرح واضح ہوگیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو قدرت نے جس بےمثل مقام، اور عظیم الشان انعام سے نوازا، وہ واقعی اس کے اہل تھے۔ سو ان کی ساری زندگی توحید خداوندی کی تعلیم و تبلیغ، کفر و شرک کی تردید و بیخ کنی، اور راہ حق میں ہر ایثار و قربانی سے عبارت تھی۔ آنکھ کھولی تو چاروں طرف کفر و شرک اور بت پرستی کے مہیب اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ باپ نہ صرف بت پرست، بلکہ بت ساز اور بت فروش بھی تھا، اور اس کا یہ کاروبار عروج پر تھا۔ قوم شرک و بت پرستی کی دلدل میں بری طرح غرق تھی۔ وقت کا مطلق العنان حکمران ایک ایسا ظالم و جابر ڈکٹیٹر تھا کہ وہ خود اپنی خدائی کا دعویدار تھا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان سارے محاذوں پر تن تنہا جنگ لڑی، اور کامل اخلاص اور بےمثل استقامت کے ساتھ لڑی۔ باپ چاہتا تھا کہ آپ میری گدی سنبھالیں، اور جو کام میں کرتا ہوں وہی کریں، تاکہ اس طرح زیادہ سے زیادہ دنیاوی فائدے حاصل کرسکیں۔ اگر آپ ایسا کرتے تو بلاشبہ دنیاوی اعتبار سے بہت عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے، مگر آپ نے حق کی خاطر شرک و بت پرستی سے ملنے والے ان تمام مفادات کو لات مار دی، اور سب سے پہلے باپ کو روکا ٹوکا، اور اس کو حق کی دعوت دی، مگر اس نے آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے حضرت ابراہیم سے بائیکاٹ کردیا، اور آپ کو سنگسار کردینے کی سخت دھمکی کے ساتھ، اپنے گھر سے نکال دیا۔ اور صاف وصریح طور پر کہہ دیا { وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا } ۔ حضرت ابراہیم نے اپنے رب کی رضا کی خاطر اس کو بھی قبول اور برداشت کرلیا، اور اپنے باپ سے بھی الگ ہوگئے، پھر آپ نے اپنی قوم کو خطاب کیا اور ان کو بت پرستی سے باز رکھنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے بھی نہ مانا۔ پھر آپ نے شرک و بت پرستی کیخلاف عملی اقدام کیا، اور موقع پا کر ان کے بتوں کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا، اس پر ان لوگوں نے آپکو آگ کے ایک ہولناک الاؤ میں جھونک دیا۔ آپ نے حق کی خاطر اس کو بھی بخوشی بخوشی قبول کرلیا، اور اس کے نتیجے میں وہ آگ اللہ پاک کے حکم و ارشاد اور اس کی توفیق و عنایت سے آپ کے لئے گل و گلزار بن گئی۔ پھر آپ نے وقت کے مطلق العنان حکمران کے دربار میں پہنچ کر اس کو حق کی دعوت دی، اور آپ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کے افضل ترین جہاد سے مشرف ہوئے۔ پھر جب ان میں سے کسی نے بھی آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا، تو حق کی خاطر اور اپنے رب کی رضا کے حصول کیلئے آپ نے اپنے وطن مالوف کو بھی خیرباد کہہ دیا، اور عراق چھوڑ کر فلسطین پہنچ گئے۔ پھر ایک عرصہ تک وہاں قیام کرنے کے بعد، اپنے بھتیجے لوط کو وہاں چھوڑ کر آپ نے ارض حجاز کی راہ لی، اور اپنے بیٹے اور بیوی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہاں کی وادیء غیرذی ذرع میں چھوڑ کر خود واپس ہو لئے۔ پھر ایک اور آزمائش یہ پیش آئی کہ وہی بچہ جو بڑھاپے میں بڑے ارمانوں اور دعاؤں اور التجاؤں کے بعد قدرت کی طرف سے عطاء ہوا تھا، اس کے بھی قربان کردینے کا اشارہ مل گیا، تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ کہیں اس کی محبت تو محبت خداوندی پر غالب نہیں آگئی، تو باپ بیٹا دونوں اس عظیم الشان قربانی کے لئے بھی تیار ہوگئے، اور عظیم الشان باپ نے اپنے عظیم الشان اور ہونہار بیٹے کے گلے پر اپنے رب کی رضا کے حصول کیلئے چھری چلا دی۔ جس پر رب کی طرف سے آپ کو { قَدْ صَدَّقَّتَ الرّؤْیا } ۔ کی عظیم الشان سند اور بےمثال ڈگری مل گئی۔ پھر اپنے لئے کوئی گھر وغیرہ بنانے کی بجائے آپ اپنے اسی بیٹے کے ہمراہ اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی اور اس کی عبادت و بندگی کیلئے ارض مکہ میں اس عظیم الشان گھر کی تعمیر میں مشغول ہوگئے، جو ہزاروں سال سے آج تک مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ اور جہاں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے کوئی ایک منٹ سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا، کہ جب وہاں طواف و نماز، فرض و نفل، تلاوت و تسبیح، تعلیم و تبلیغ اور ذکر و تذکیر وغیرہ وغیرہ، قسماقسم کی عبادات نہ ہوتی ہوں، اور انشاء اللہ تاقیام قیامت ایسے ہی ہوتا رہے گا۔ تو کیا دنیا میں دوسرا کوئی مقام یا گھر ایسا ہوا ہے یا ہوسکتا ہے ؟ جس کی یہ شان ہو ؟ اور کیا ہے دوسری ایسی کوئی ہستی یا ہوسکتی ہے جس کی پوری زندگی اس طرح کی ان عظیم الشان قربانیوں سے عبارت ہو ؟ جس نے حق کیلئے اور اپنے رب کی رضا کی خاطر، اپنے ماں باپ کو چھوڑا ہو ؟ قوم و ملک کو چھوڑا ہو ؟ برضا ورغبت آگ میں کود جانا برداشت کرلیا ہو ؟ وقت کے ایسے جابر و ظالم حاکم کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر، صاف اور برملا طور پر حق کی بات کہی ہو، جو کہ اپنی خدائی کا دعویدار تھا ؟ اور یہ کہ جس نے محض رضأ خداوندی کیلئے اپنے پیارے اور اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری چلائی ہو ؟ اور ہے ایسی کوئی ہستی جس نے اپنے لئے تو جھونپڑے کی بھی پرواہ نہ کی ہو لیکن رضا خداوندی کیلئے خود اپنے ہاتھوں اور اپنے پیارے اور لاڈلے بیٹے کے ہاتھوں، خدا کی عبادت کیلئے ایسے گھر کی تعمیر کی ہو ؟ اسی لئے رَب غَفُور و شکور نے آنجناب کو، ایسے انعامات سے نوازا کہ وہ بھی آپ کے سوا اور کسی کے حصے میں بھی نہیں آئے۔ ایک طرف تو آپ کو امتحان میں کامیابی کی سند اس طرح عطا فرمائی گئی ۔ { فَاَتَمَّہُنَّ } ۔ کہ ابراہیم ان باتوں کو بتمام و کمال بجائے لائے، نیز یہ کہ { وَاِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی } " اور ابراہیم جس نے وفا کا حق ادا کردیا "۔ پھر قرآن حکیم میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے آپ کا ذکر خیر فرمایا، جو آج تک باقی ہے، اور قیامت تک باقی رہے گا۔ پھر نماز میں درود ابراہیمی کے اندر آپ کا ذکر، جو ہر نمازی اپنی ہر نماز میں صبح و شام کرتا ہے، پھر نہ صرف آپ کے بلکہ آپ کی زوجہء مطہرہ کے بعض اعمال و افعال کو بھی حج وعمرہ کی عظیم الشان عبادتوں کا حصہ قرار دے کر زندہ جاوید کردیا گیا۔ اور یہاں تک کہ امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھی اسی ابراہیم حنیف کی ملت حنیفیہ کی اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا، ارشاد ہوتا ہے۔ { ثُمََّ اََوْحَََیْنَآ اِلَیْْکَ اََن اتََّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِِیْمَ حََنِِیْفًا } ۔ (النحل : 123) ۔ سو یہ ہے شان ابراہیمی اور مقام ابراہیم کا ایک ہلکا اور مختصر سا تعارف۔ افسوس بھی ہوتا ہے اور تعجب بھی کہ حضرات مفسرین کرام نے بالعموم حیات ابراہیمی کے ان عظیم الشان پہلوؤں کو نظر انداز کر کے، دوسرے مختلف اور ہلکی قسم کے اوصاف کو ان کلمات امتحان کا مصداق قرار دے دیا، جیسے فطرت سے تعلق رکھنے والے خصال عشرہ کو یعنی مونچھیں کٹوانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کٹوانا اور براجم یعنی جوڑوں کا دھونا وغیرہ۔ اگرچہ ان امور فطرت کا ذکر صحیح مسلم وغیرہ کی روایات میں آیا ہے، مگر ان کے بارے میں کسی بھی روایت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو جن کڑے امتحانوں سے گزارا گیا تھا، ان سے مراد یہی خصال عشرہ ہیں، جو کہ ایک عام مسلمان بھی بجا لاتا ہے۔ اسی لئے مفتی محمد عبدہ وغیرہ محققین نے سخت الفاظ میں اس کی تنقید کی ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر المنار تحت ہذہ الآیۃ) ۔ جبکہ کچھ حضرات نے ان خصال خیر کو ان کا مصداق قرار دیا ہے جو اہل ایمان کی صفات کے ضمن میں سورة توبہ، مومنون، اور احزاب، وغیرہ میں بیان فرمائی گئی ہیں، حالانکہ وہ صفات بھی بہت سے عام مسلمانوں میں پائی جاتی رہی ہیں۔ پہلے بھی پائی جاتی تھیں، اور آج بھی پائی جاتی ہیں، گو کہ وہ اپنی جگہ بیشک بڑی اہم اور عظیم الشان صفات ہیں، مگر وہ بھی ایسی نہیں ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی ان کڑی آزمائشوں کا اصل مصداق بن سکیں۔ اس بندہ ناچیز نے اس بارے جو کچھ یہاں بیان کیا ہے، اس کے کچھ منتشر اجزاء اگرچہ " المنار "، اور " القاسمی " وغیرہ بعض تفسیروں میں ملیں گے، مگر ایسی تفصیل کے ساتھ کہیں پر شاید ہی مل سکیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اور " کلمات " (باتوں) کیلئے ضروری نہیں کہ اس سے مراد زبانی باتیں ہی ہوں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ محاورے میں امور و افعال کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور ایسا ہر زبان میں ہی ہوتا ہے، مثلاً اردو میں بھی کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں شخص کو کچھ باتوں میں آزمایا، مگر وہ سب ہی میں پورا نکلا، مثلًا محنت و مشقت، اطاعت و فرمانبرداری، دیانت و امانت اور وقت کی پابندی اور فرض شناسی وغیرہ۔ اور محض توضیح کیلئے یہ مثال دی گئی ہے، ورنہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو مثالوں سے پاک ہے ۔ وَلَہٗ الْمَثَلُ الاَعْلَی ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ 345 آزمائش میں کامیابی پر حضرت ابراہیم کیلئے انعام خداوندی کا اعلان : یہ وہ انعام و صلہ ہے جس سے حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ان کے رب کی طرف سے ان عظیم الشان قربانیوں کے صلے اور بدلے میں نوازا گیا، اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو یہود و نصاریٰ اور مشرکین وغیرہ سب ہی اپنا پیشوا مانتے ہیں، اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی پر۔ سو جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی عظیم الشان اور بےمثل اطاعت و فرمانبرداری کا ثبوت دیا، اور وفاداری کا حق ادا کیا، اسی طرح رب غفور و شکور نے ان کو نوازا بھی ایسے بےمثل انعام سے، جو انکے سوا اور کسی کے حصے میں نہیں آسکا ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علی نبینا محمد وعلی سائر الانبیاء والمرسلین ۔ اور اس انعام کا حضرت حق جل مجدہ کی طرف اس طرح صاف وصریح طور پر واضح اعلان بھی فرما دیا گیا کہ میں نے آپ کو سب لوگوں کا امام اور پیشوا بنادیا، اور آپ کی یہ عظیم الشان اور بےمثال امامت و پیشوائی سب کے یہاں آج تک مسلم ہے، اور قیامت تک اسی طرح رہے گی، اور پھر یہ امامت و پیشوائی بھی اسی پاکیزہ، روحانی اور بےمثل پیشوائی ہے کہ اس کی بناء پر ہمیشہ اور ہر لمحہ حضرت ابراہیم کو اجر وثواب مل رہا ہے۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسا عظیم الشان اور بےمثل انعام ہے یہ جس سے حضرت ابراہیم کو نوازا گیا۔ سو کیا شان صدق و اخلاص تھی حضرت ابراہیم کی شان اور کیسی عظیم الشان اور بےمثال نوازش ہے حضرت حق جل مجدہ کی نوازش جس سے وہ اپنے حق تعالیٰ سے اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اللہ ہمیں بھی اس سے کسی قدر نواز دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 346 ظلم باعث محرومی و ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : پس جو ظالم نہیں ہوں گے کہ حق سے منہ موڑیں، ان کو بھی یہ شرف نصیب ہوگا، چناچہ ایسے ہی ہوا کہ آپ کے بعد نبوت و رسالت کے شرف کو آپ کی ذریت و اولاد ہی میں منحصر کردیا گیا، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلْنَا فِِیْ ذُرِّیََّّتِہ النُّبُوََّۃَ وَ الْکِتَابََ } ۔ (العنکبوت : 27) لیکن جو ظالم ہوں گے وہ امامت کے اس منصب جلیل کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس لیے ان کو اس سے نہیں نوازا جاسکتا۔ سو ظلم باعث محرومی و ہلاکت ہے، اور ظلم کا معنی ہے حق تلفی، جس کا سب سے بڑا مظہر ہے شرک، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { ان الشرک لظلم عظیم } ۔ سو اس میں سب لوگوں کے لیے بالعموم اور اہل کتاب کے لیے بالخصوص دعوت و تحریک اور تحضیض و تلقین ہے کہ یہ سب نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں جو کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل دونوں کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی بعثت و تشریف آوری دعائے ابراہیمی کی برکت اور اس کا ثمرہ ہے۔ سو یہ لوگ اس نبی آخر الزمان پر ایمان لا کر صدق دل سے ان کے پیش فرمودہ دین حق کی تعلیمات مقدسہ پر عمل کریں۔ تاکہ یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکیں۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے اس (عظیم الشان) گھر (خانہ کعبہ) کو سب لوگوں کیلئے ایک (عظیم الشان اور بےمثل) مرکز اور امن (وسکون کا گہوارہ) بنادیا، اور (حکم دیا کہ) تم لوگ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالو، اور ہم نے تاکید کی تھی ابراہیم اور اسماعیل کو (اس بات کی) کہ پاک رکھنا تم میرے گھر کو، طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے

347 " مثابۃ " کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی یہ مصدر میمی ہے بمعنی ظرف مکان۔ یعنی " مرکز "، اور " مرجع " (صفوۃ البیان، جواہر القرآن، وغیرہ) ۔ " ثَابَ یَثُوْبُ ثَوْبًا وَثوْابًا وَ ثَئُوْبًا " سے ماخوذ ہے بمعنی لوٹنا، رجوع کرنا۔ پس للہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے اس گھر کو ایسا عظیم الشان اور بےمثل مرکز بنادیا کہ دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو اس سے وابستہ و پیوستہ کردیا، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ روئے زمین کے مسلمان اس کی طرف کھچے ہوئے چلے آتے ہیں۔ سال کے بارہ مہینوں، مہینے کے تیس دنوں، اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں یہ سلسلہ برابر بغیر کسی توقف وانقطاع کے لگاتار مسلسل و جاری رہتا ہے۔ ہر طرف سے اور ہر قسم کے اور مختلف رنگوں اور نسلوں کے لوگ کفن کے مشابہ (احرام کا) لباس پہنے " لبیک لبیک " کی صدائیں لگاتے، ننگے سر، اور ننگے پاؤں، طرح طرح کی مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کرکے اور بڑے بھاری اخراجات برداشت کرکے اس بیت عمیق کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ بلاشبہ یہ اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں اور رحمت بےنہایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 348 مقام ابراہیم سے مقصود و مراد ؟ : مقام ابراہیم سے بعض نے کہا کہ مسجد حرام مراد ہے۔ بعض نے کہا جملہ مشاعر حج، جس میں عرفات، منیٰ اور مزدلفہ وغیرہ سب آگئے۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے پورا حرم مراد ہے (جامع البیان و محاسن التاویل وغیرہ۔ ) مگر مشہور قول کے مطابق اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ اور یہی قول ہے جمہور کا (روح وغیرہ) ۔ اور یہ پتھر اب تک وہاں محفوظ ہے، مگر حکم اس کے پاس نماز پڑھنے کا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ ایسا کرنا آسانی سے ممکن ہو۔ اور ہجوم وغیرہ کی وجہ سے کسی کیلئے ایذاء رسانی کا باعث نہ ہو، اس کو چومنے چاٹنے اور چھونے مس کرنے کا کوئی ذکر کہیں نہیں۔ جیسا کہ بعض اہل بدعت وغیرہ کچھ جاہل لوگ کرتے ہیں۔ سو یہ سب کچھ سب بےاصل ہے۔ اس کے لیے نہ کتاب وسنت میں کہیں کوئی ثبوت موجود و سند موجود ہے اور سلف امت سے۔ بہرکیف یہ پتھر اب بھی بیت اللہ کے سامنے موجود ہے اور اس کے گرد جالی بنی ہوئی ہے۔ 349 اللہ تعالیٰ کے گھر ۔ خانہ کعبہ ۔ کی تطہیر کا حکم و ارشاد : ظاہری و باطنی ہر طرح کی نجاستوں سے، حضرت مجاہد، قتادہ، عطائ، مقاتل اور جبیر وغیرہ اکابر مفسرین سے مروی ہے کہ بیت اللہ حضرت نوح (علیہ الصلوۃ والسلام) کے زمانے سے آباد اور توحید و عبادت خداوندی کا مرکز تھا، مگر بعد میں لوگوں نے اپنے بزرگوں کی محبت کے غلو میں ان کی شکل پر بت اور مورتیاں بنا کر اس میں رکھ دیں، انہی سے اس گھر کو پاک کرنے کا حکم حضرت ابراہیم واسماعیل ۔ علیھما الصلوۃ والسلام ۔ کو دیا گیا، (روح اور بحر وغیرہ) ۔ سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے بزرگوں کی محبت میں غلو و افراط کا۔ اسی لئے دین حق نے اس سے طرح طرح سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم کے بعد مشرکوں نے پھر اس خانہء خدا کو بتوں سے بھر دیا، یہاں تک کہ امام الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ کو ان سے پاک فرمایا، اور اس کے بعد سے آج تک یہ بقعہء طاہرہ ہر طرح کے شرک اور شرکیات اور ظاہری نجاسات و قاذورات سے بھی پاک صاف ہے ۔ والحمد للہ ۔ نہ وہاں کوئی عرس نہ قوالی، نہ ناچنا تھرکنا، نہ ڈھول ڈھمکے نہ بھنگ و چرس کے مرغولے نہ چومنا چاٹنا نہ میلے نہ ٹھیلے وغیرہ۔ اللہ پاک نے اس کو ہر طرح سے پاک صاف رکھا، اور انشاء اللہ العزیز قیامت تک ہمیشہ اور ہر طرح سے پاک صاف ہی رہے گا۔ ہر قسم کی گندگی اور ہر طرح کی ہر آلائش سے، اور اپنی زبان حال سے ہمیشہ کیلئے دنیا کو توحید خداوندی کی دعوت دیتا رہے گا۔ انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب تو اس (مقام) کو ایک امن والا شہر بنادے،1 اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں (اور پیداواروں) سے روزی عطا فرما، ان میں سے ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، رب نے فرمایا، اور جس نے کفر کیا تو (دنیاوی زندگی کا) چند روزہ سامان تو میں اس کو بھی پوری طرح دوں گا (مگر) پھر اس کو میں کشاں کشاں لے جاؤں گا دوزخ کے عذاب کی طرف، اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ،2

350 حضرت ابراہیم کی دعا اور اس کی بےمثال قبولیت : سو حضرت ابراہیم نے مکہ مکرمہ کے امن کیلئے مخلصانہ دعا فرمائی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کو بےمثال قبولیت سے نوازا گیا۔ سو اللہ پاک نے حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعاء کو شرف قبولیت سے ایسا نوازا کہ جتنا امن و سکون وہاں بخشا ہے، پوری روئے زمین میں کسی بھی اور جگہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا، یہاں تک کہ وہاں شکار ممنوع، وہاں کا درخت کاٹنا ممنوع، " لقطہ " اٹھانا ممنوع، اور جو بھی وہاں پہنچ گیا، وہ امن والا ہوگیا۔ { وََمَنْ دََخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا } سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان کرم کے۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو بندے کا کام ہے اللہ تعالیٰ سے مانگنا اور اس کے حضور عرض والتجاء کرنا اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے نوازنا اور عطا فرمانا۔ پس جتنا کسی کا صدق و اخلاص زیادہ اور ایمان و یقین قوی ہوگا اتنا ہی اللہ پاک اس کو نوازے گا اور اس کا تو کام ہی نوازنا ہے اور مسلسل و لگاتار نوازنا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔ 351 اہل مکہ کیلئے دنیا بھر کے پھلوں اور پیداواروں کا کھچ کھچ کر چلا آنا : چناچہ دعائے ابراہیمی کے مطابق ایسے ہی ہوا۔ دنیا بھر کی ہر چیز وہاں پر آج بھی میسر و دستیاب ہے، اور { یُجْبٰی اِلَیْہ ثَمَرَاتُ کُلّ شَیْئٍ } کی شاہد عدل بن کر تصدیق کر رہی ہے، اور ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اس کی یہ شان اب تک قائم اور موجود ہے، اور حج اور عمرہ پر جانے والے لوگ اس کا مشاہدہ بچشم خود آج تک کرتے چلے آرہے ہیں ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ رَب العالیمن ۔ الّذی لاحَدَّ لِجُوْدِہٖ وکرمہ واحسانِہٖ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سبحان اللہ ! کہاں وہ " وادی غیر ذی ررع " جس میں کچھ پیدا نہیں ہوتا اور کہاں اس کی صدیوں سے یہ عظیم الشان اور بےمثل شان کہ دنیا بھر کی ہر پیداوار اور ہر قسم کے پھل کھچ کھچا کر وہاں پہنچ رہے ہیں۔ 352 دنیا کی عارضی اور فانی نعمتیں سب کیلئے : کیونکہ ایک تو دنیا کی یہ چند روزہ زندگی دراصل امتحان و آزمائش کی ایک فرصت ہے، اور امتحان کا تقاضا یہی ہے کہ اس دنیاوی سامان اور متاع حیات کو سب کے لئے عام رکھا جائے۔ اور دوسرے اس لئے کہ رب کی ربوبیت عامہ کی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ دنیا میں ان بنیادی ضروریات سے کسی کو بھی محروم نہ کرے۔ اور تیسرے اس لئے کہ جب اس پوری دنیا کی حیثیت اس کے یہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے تو پھر اگر اس زندگی میں کفار و منکرین کو اس میں سے کچھ حصہ مل گیا تو انہیں کیا ملا۔ پس اصل چیز جیسا کہ نصوص میں وارد ہے دین و ایمان کی دولت اور آخرت کی حقیقی اور ابدی کامیابی ہے نہ کہ مال و متاع دنیا۔ 353 کافروں اور منکروں کا آخری انجام دوزخ کی ہولناک آگ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کو میں کشاں کشاں لے جاؤں گا دوزخ کے عذاب کی طرف۔ کیونکہ میرا ضابطہ عام اور بےلاگ قانون یہی ہے کہ جو کوئی ایمان سے منہ موڑ کر کفر کی راہ پر چلے گا اس کا آخری انجام یہی ہوگا۔ اور جوں جوں وہ عمر رواں کی گنی چنی منزلیں طے کرتا جائیگا اپنے اسی انجام کے قریب ہوتا چلا جائیگا۔ اور اس طور پر کہ اس کو اس کا احساس بھی نہ ہوگا کہ میں کہاں جا رہا ہوں، آگے کیا معاملہ پیش آنے والا ہے، اور میں کتنے بڑے خسارے اور ہولناک نقصان کا سودا کر رہا ہوں، یہاں تک کہ اس جہاں میں قدم رکھتے ہی اس کو دھر لیاجائیگا ،۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اسی کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے { اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ } " بیشک تمہارا رب گھات میں بیٹھا ہے " جو دراصل تنبیہ کا ایک بڑا موثر اور بلیغ اسلوب ہے۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان رحمت و کرم کے، بھلا ایسا بھی کوئی ہوا ہوگا یا ہوسکتا ہے ؟ جو گھات لگانے کے بعد دشمن سے کہے، اور اعلانیہ کہے، کہ میں تمہارے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہوں۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک ہی کی شان کرم و عنایت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایسے موثر اور بلیغ انداز سے خبردار کرتا ہے، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں، مگر افسوس کہ لوگ ہیں کہ ان کی اکثریت پھر بھی غفلت اور بےحسی کا شکار ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ 354 دوزخ کا ٹھکانا بڑا ہی برا ٹھکانا ہے : اتنا برا اور اس قدر ہولناک و خطرناک کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اس لئے عقل مندی اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اسی دنیا میں رہتے ہوئے اس سے بچنے اور خلاصی پانے کی فکر و کوشش کرے، کہ اس کے بعد اس سے بچنے کی پھر کوئی شکل و صورت ممکن نہ ہوگی، کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج انسان کو میسر ہے اس میں وہ جو چاہے سامان کرسکتا ہے اور آج کے ان بازاروں سے جو چاہے خرید سکتا ہے، اور دنیا کے اس مزرعہ آخرت میں جو چاہے کمائی کرسکتا ہے، ۔ وباللّٰہ التوفیق ۔ وھو الْمَیَسِّر لِکُلّ عَسَیِر۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی برتنے والوں کو دنیاوی زندگی میں عام سامان زندگی اگرچہ ملتا رہے گا، لیکن آخرکار انکا انجام بہرحال دوزخ ہے، جو کہ بڑا ہی برا اور انتہائی ہولناک انجام ہے۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ابراہیم بنیادیں اٹھا رہے تھے (اللہ کے) اس گھر کی، اور اسماعیل بھی، (اور غایت درجہ عجز و انکساری سے یہ بھی کہتے جا رہے تھے کہ) اے ہمارے رب (اپنے کرم سے) قبول فرما لے ہم سے، (ہماری یہ محنت) بیشک تو ہی سننے والا، جاننے والا،

355 حضرت ابراہیم کے عجزو انکسار اور خلوص و للہیت کا ایک نمونہ : یعنی ہماری یہ محنت و سعی اگرچہ تیرے یہاں قبول فرمائے جانے کے لائق نہیں اے ہمارے رب ! کہ تیری شان بہت ہی بڑی ہے، مگر تو اپنے کرم اور شان رحمت و عنایت سے اسے شرف قبولیت سے نواز دے۔ اور یہ مطلب لفظ " تَقَبَّلَ " سے نکلتا ہے جو کہ باب " تَفَعَّل " سے ہے۔ کیونکہ حضرات علماء و مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جو چیز قابل قبول ہوتی ہے اس کے لئے عموماً قبول یعنی ثلاثی مجرد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور جو چیز قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتی، اس کے لئے " تقبل " یعنی ثلاثی مزید کا صیغہ استعمال ہوتا ہے، جو کہ تکلف پر دلالت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ ہماری یہ خدمت تیرے حضور شرف قبولیت پانے کے لائق نہیں، مگر تو اے ہمارے مالک ! محض اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول فرما لے، سبحان اللہ ! کیا کہنے ان حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلٰوۃ والسلام ۔ کی اس شان عبدیت و تواضع کے، کہ اتنی بڑی اور ایسی بےمثل خدمت کا شرف نصیب ہو رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ شان عبدیت و تواضع بھی اس درجہ بڑھی ہوئی ہے، کہ ہر قول و فعل سے عاجزی ہی عاجزی ٹپکتی ہے ۔ صَلَوات اللّٰہ وَسَلاَمُہْ عَلَیُہْم اجمعین ۔ اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو اور اپنی حالت کو دیکھ کر ہم سکتے میں پڑجاتے ہیں، کہ ہم کیا ہیں ؟ کہاں ہیں ؟ کس حال اور کس شمار میں ہیں ؟ اور ہمارا کیا بنے گا ؟ ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اَللّٰٰہُمَّ الْعَفْوَ والْغُفْرَانَ ۔ وان تسلک بنا الی ما فیہ حبک والرضا یا ذا الجلال والاکرام ۔ 356 اللہ تعالیٰ ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے : کہ تو اے ہمارے خالق ومالک ! دلوں کی نیتوں اور ارادوں تک کو جاننے والا، اور ہر کسی کی دعاء والتجاء کو سننے اور قبول کرنے والا ہے۔ اس بات کو قرآن حکیم میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے، تاکہ یہ حقیقت صادقہ لوگوں کے دلوں میں اتر جائے، ان کے رگ و پے میں پیوست ہوجائے، اور ان کا رخ اور ان کی سمت درست ہوجائے، مگر اس کے باوجود ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے، کہ نہیں صاحب، وہ براہ راست ہماری نہیں سنتا۔ بیچ کے واسطے ضروری ہیں۔ ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے۔ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد کرتا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ دونوں مفروضے غلط اور بےبنیاد ہیں، وہ سب کی سنتا ہے اور ہر حال میں سنتا ہے۔ اور کوئی ہستی ایسی نہیں کہ وہ اس کو ماننے پر مجبور کردے۔ اور اس کے یہاں اڑ کر بیٹھ جائے اور منوا کر چھوڑے، جیسا کہ مشرکانہ ذہنیت کے مالک لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ وہ اگر نہ مانے تو بڑے بڑے جلیل القدر پیغمبروں کی بات نہ مانے۔ چناچہ اس نے حضرت نوح کی دعا ان کے بیٹے کے حق میں، ابراہیم کی دعاء ان کے باپ آزر کے حق میں اور امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی دعاء آپ کے چچا ابوطالب کے حق میں نہیں مانی، تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو وہاں اڑ کر بیٹھ جائے اور منوا کر چھوڑے ؟ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور سچی توبہ پر وہ گناہگار کے سب گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کا کام ہر وقت اس کی طرف رجوع رہنا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 2:128–129

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار، بنا دے ہمیں اپنی فرمانبرداری کرنے والے، اور ہماری نسل میں سے بھی (پیدا فرما) ایک ایسی امت، جو تیری فرمانبردار ہو، اور ہمیں دکھا (اور سکھا) دے طریقے ہماری عبادت کے، اور توجہ فرما ہم پر، بیشک تو ہی ہم سب کی توبہ قبول کرنے والا بڑا ہی مہربان،

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار، اور اٹھا ان کے اندر ایک ایسا عظیم الشان پیغمبر (ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے) جو انہی میں سے ہو3 جو ان کو پڑھ (پڑھ) کر سنائے تیری آیتیں، اور سکھائے انکو کتاب و حکمت (کے علوم و معارف) اور پاک (و صاف) کرے ان کے باطن کو، بیشک تو ہی ہے (اے ہمارے مالک ! ) زبردست، نہایت ہی حکمت والا،

357 حضرت ابراہیم کی دعاء امت مسلمہ کیلئے : یعنی ایسی فرمانبردار امت کہ ان کے عقائد بھی صحیح ہوں، اور اعمال و اخلاق بھی درست ہوں، اور وہ سچے دل سے تیرے آگے جھکنے والے ہوں، کہ تیری اطاعت و بندگی اور فرمانبرداری ہی میں بندے کی سعادت اور اس کی کامیابی ہے، ورنہ اس کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ سو اولاد وہی نعمت ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے سرشار اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے والی، اور اس کی اطاعت و بندگی کے شرف سے مشرف ہو ورنہ وہ کس کام کی۔ بلکہ دین و ایمان سے محروم اولاد ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسان کیلئے عذاب اور اس کی دشمن ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے اور اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروہم } ۔ (التغابن : 1 14) ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے دشمنوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 358 " اَرِنَا مَنَاسِکَنَا " کا مفہوم و مطلب ؟ : یعنی۔ " اَرِنَا " یہاں پر تعلیم کے معنی میں ہے، اور " مناسک " سے مراد اسلام کے احکام و شرائع ہیں (معالم وغیرہ) ۔ اس میں حج کے مقامات و مواقف بھی آگئے اور دوسرے احکام شرع بھی۔ اس لئے یہ معنی عام اور جامع ہے، جبکہ کچھ حضرات اہل علم نے اس کو حج کے اماکن و ارکان کے ساتھ مختص قرار دیا ہے۔ بہرکیف اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت اور تعلیم و ارشاد ضروری ہے۔ اس کے بغیر انسان از خود کچھ نہیں کرسکتا۔ اس لیے حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے رب کے حضور اس کیلئے درخواست کی کہ حق اور ہدایت کا نور اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے مل سکتا ہے اس کے علاوہ اور کہیں سے یہ دولت ملنا ممکن نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین 359 " التّوّاب " کے مبالغے کے اظہار کی دو اہم صورتیں : یعنی ا " لتواب ـ " مبالغے کا صیغہ ہے جس کے معنی کا اظہار دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک اس طرح کہ وہ ہر کسی کی توبہ قبول فرماتا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، اور کتنا ہی بڑا گنہگار کیوں نہ ہو، بشرطیکہ توبہ سچی اور صحیح ہو۔ اور دوسرے اس طرح کہ وہ ایسا بڑاتواب اور مہربان ہے کہ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کے تمام گناہوں کو یکمشت مٹا دیتا ہے، اور ایسا کہ ان کا کوئی اثر و نشان بھی باقی نہیں چھوڑتا، کیونکہ گناہ خواہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، اس کی مغفرت و بخشش بہرحال ان سے کہیں بڑھ کر ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کو طرح طرح سے بیان اور واضح فرمایا گیا ہے، کہ انسان کے گناہ بہرحال محدود ہیں جبکہ اس کی رحمت لامحدود اور ناپیداکنار ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ شان صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ دوسری کوئی ایسی ہستی ہوسکتی ہی نہیں، اس لیے حضرت ابراہیم نے یہاں پر اپنی دعاء میں حصر کا اسلوب اختیار فرمایا کہ { انک انت التواب الرحیم } میں مبتداء و خبر دونوں معرفہ ہیں، اور یہ اسلوب حصر کا فائدہ دیتا ہے، نیز " تب علینا " میں توبہ کے ساتھ " علی " کا صلہ بھی ذکر فرمایا گیا ہے، جو کہ رحمت کیلئے آتا ہے تو اس بناء پر اس کا معنیٰ و مطلب ہوگا کہ تو ہم پر رحمت کے ساتھ رجوع فرما۔ سو یہ ایک عظیم الشان دعا ہے جو بندے کو ہمیشہ اپنے رب کے حضور کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشے اور ہمیشہ اپنی رحمت و عنایت سے نوازے اور سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 2:130

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ہے جو روگردانی کرے ملت ابراہیمی سے ؟ بجز اس کے جس نے حماقت میں مبتلا کردیا ہو،4 اپنے آپ کو، اور بلاشبہ ہم ہی نے ان کو چنا (اپنے علم و اختیار کامل کہ بناء پر) دنیا میں، اور بلاشبہ وہ آخرت میں (ہمارے قرب خاص کے) سزاواروں میں ہے،5

364 ملت ابراہیمی عقل و نقل کے مطابق اور فطرت سلیمہ کا مقتضیٰ ہے : سو ملت ابراہیمی سے منہ موڑنا حماقت ہے کیونکہ ملت ابراہیمی عقل اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق، اور دارین کی سعادتوں اور فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے، اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ ۔ { خَسِرَ الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃ } ۔ کا مصداق بن گیا۔ اور یہی ہے کھلا ہوا اور سب سے بڑا خسارہ ۔ { وَذَالِِکَ ہُوَ الْخُسْرََانُ الْمُبِیْن } ۔ سو اس سے بڑھ کر احمق، بدنصیب اور محروم القسمت اور کوئی نہیں ہوسکتا جو اس ملت مطہرہ سے منہ موڑے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ کہ اس سے منہ موڑنے والا روشنی کو چھوڑ کر اندھیروں کو اپنانے والا ہے، اور اس طرح وہ اپنے مقصد حیات سے غافل اور اپنے مستقبل اور انجام سے بیخبر ہو کر دائمی ہلاکت و تباہی کی طرف بڑھے چلا جارہا ہے جو کہ انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayah 2:131

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

(یاد کرو اس کہ شان عبدیت کو کہ) جب کہا اس سے اس کے رب نے حوالے کردو تم (اپنے آپ کو اپنے رب کے) تو اس نے (فوراً ) عرض کیا کہ میں نے سپرد کردیا اپنے آپ کو پروردگار عالم کے،

365 حضرت ابراہیم کی شان تسلیم و رضا کا ایک مظہر و نمونہ : کہ جب ان سے ان کے رب نے فرمایا کہ تم فرمانبردار ہوجاؤ تو حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو سپرد کردیا پروردگار عالم کے۔ پس میرا جسم و جان سب کچھ میرے خالق ومالک کے حوالے ہے جس نے مجھے وجود بخشا اور ہر طرح کی عنایات سے نوازا اور سرفراز فرمایا۔ اور یہی مدعا و مفہوم ہے اسلام کا کہ اس کے لغوی معنی آتے ہیں " سپردن " یعنی حوالے کردینا۔ سو یہیں سے ملت ابراہیمی کی تعیین و تشریح بھی ہوگئی کہ اس سے مراد اسلام ہی ہے جو کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا پسندیدہ، پاکیزہ اور ایک ہی دین حق ہے۔ اور تمام انبیاء اور رسل ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ نے ہمیشہ اسی کی تعلیم و تبلیغ فرمائی۔ اور دنیا کو اسی کی دعوت دی۔ اس لئے یہاں سے اس پارہ کے خاتمے تک اسی سے متعلق ارشادات فرمائے جاتے ہیں، کہ یہی ملت حنیفہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے، اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے۔ کیونکہ اس سے محرومی کی صورت میں انسان راہ حق سے محروم اپنے مقصد حیات سے غافل اور اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayah 2:132

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی کی وصیت (و تاکید) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو، اور یعقوب نے بھی، کہ اے میرے بیٹو ! بیشک اللہ نے چن لیا ہے تمہارے لئے اس دین (حق) کو، پس تم جان نہیں دینا مگر اسلام ہی کی حالت میں،1

366 حضرت ابراہیم اور یعقوب کی وصیت اپنی اولاد کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی دین حق کی وصیت فرمائی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور حضرت یعقوب نے بھی کہ حق کی دولت ہی اصل دولت ہے۔ سو اسی کی وصیت اور تلقین کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی۔ یعنی اسی ملت ابراہیمی کی جو کہ عبارت ہے اسلام سے اور جو کہ ایک ہی اور سچا دین ہے۔ اور جو تمام انبیاء ورسل کا دین رہا ہے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب نے اپنی اولاد کو اسی کی تعلیم و تلقین فرمائی۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حضرات انبیاء کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے نزدیک سب سے اہم اور سب سے مقدم چیز دین و ایمان ہی ہے۔ اسی لئے حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب نے موت کے وقت اپنی اولاد کو اسی کی وصیت اور تعلیم و تلقین فرمائی۔ سو اس میں والدین کیلئے یہ درس عظیم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اولاد کے دین و ایمان کی فکر کریں، نہ کہ صرف جسم و جان اور تن و توش کی، کیونکہ ان عقیدہ و ایمان اگر درست ہے تو سب صحیح اور درست ورنہ کچھ بھی نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ 367 " فَلا تَمُوْتُنَّ " کا مطلب و مدعا ؟ : " فَلاَ تََمُوْتُن " " تم جان نہیں دینا مگر " الخ ـ۔ سے مراد موت سے منع کرنا نہیں۔ کیونکہ یہ بات تو انسان کے بس میں نہیں۔ اور جو چیز کسی کے بس میں نہ ہو اس سے منع کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اس سے اصل مقصد یہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ نور اسلام سے اپنے دلوں کی دنیا کو معمور ومنور رکھنا تاکہ جب بھی تمہیں موت آئے تو ایمان و اسلام ہی کی حالت میں آئے۔ اور کسی بھی لمحہ اس سے غافل اور خالی نہ رہنا کہ مبادا اسی حالت میں موت آجائے اور تمہاری جان غیر ایمان کی حالت میں نکل جائے، اور تم دائمی خسارے میں پڑجاؤ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو یہ بلاغت کا ایک اہم اور موثر اسلوب ہے، جسے یہاں اختیار فرمایا گیا ہے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی سے کہا جائے " لا تُصَلّ الا وَاَنْتَ خَاشِعٌ " یعنی " تم نماز نہیں پڑھنا مگر اس حال میں کہ تم خشوع کرنے والے ہوا کرو "۔ سو یہاں پر نہی نماز سے نہیں بلکہ عدم خشوع سے ہے۔ مطلب یہ کہ تم جب بھی نماز پڑھو خشوع و خضوع والی نماز پڑھو۔ پس یہ بلاغت کا ایک معروف اور موثر اسلوب ہے، جس کو یہاں اختیار فرمایا گیا ہے۔ تاکہ انسان ہمیشہ اپنی موت کو یاد رکھے اور اس کے لیے تیاری کرے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم لوگ اس وقت موجود تھے جب کہ یعقوب پر موت کا وقت قریب آیا ؟ جب کہ انہوں نے کہا اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کہ بندگی کرو گے میرے بعد ؟ تو ان سب نے (بالاتفاق) کہا کہ ہم اسی (معبود برحق) کی بندگی کریں گے، جو کہ معبود ہے آپ کا اور آپ کے باپ دادا، ابراہیم، اسماعیل، اور اسحاق کا، جو کہ ایک ہی معبود (برحق) ہے، اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں،2

368 یہودیوں کے بہتان کی تردید ایک خاص اسلوب سے : یعنی یہ کہ کیا تم لوگ یعقوب کی موت کے وقت وہاں موجود تھے ؟ اے گروہ یہود و نصاریٰ ، اور اگر تم وہاں موجود نہیں تھے، اور ظاہر ہے کہ نہیں تھے، تو پھر تم یہ دعویٰ کیسے اور کس بنیاد پر کرتے ہو کہ انہوں نے اس وقت اپنی اولاد کو یہودیت اور نصرانیت کی وصیت کی تھی ؟ سو یہ کتنا بڑا جھوٹ اور افتراء ہے جو تم لوگ اپنے اس جدِّامجد کی پاکیزہ ہستی پر باندھ رہے ہو ؟۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ کیا اپنے بڑوں سے انتساب کا یہی طریقہ ہوتا ہے ؟۔ سو حضرت یعقوب کا دین و مذہب بھی اسلام ہی تھا اور انہوں نے اپنے بعد اپنی اولاد کو اسی کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ دین اللہ تعالیٰ کے یہاں اسلام ہی ہے ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہ الاِسْلاَم } ۔ اس کے خلاف جن لوگوں نے دوسرے مختلف ناموں سے اور دین بنا رکھے ہیں وہ سب ان کی اپنی ایجاد و اختراع ہے۔ اللہ کی طرف سے ایک ہی دین سب کے لیے آیا ہے۔ یعنی اسلام جو کہ اس پوری کائنات کا دین ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ولہ اسلم من فی السموات والارض طوعا و کرہا والیہ یرجعون } ۔ (آل عمران : 83) ۔ سو دین حق اسلام ہی ہے جو کہ دین ہے پوری کائنات کا۔ 369 معبود برحق سب کا ایک ہی ہے یعنی اللہ وحدہ لاشریک : سو ان سب نے کہا کہ ہم ایک ہی معبود کی عبادت کریں گے کہ معبود برحق تو بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ بدنی، مالی، زبانی، قالبی اور قلبی عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ خواہ وہ قیام اور رکوع و سجود ہو یا نذر ونیاز یا دعا و استغاثہ یا خوف ورجا وغیرہ۔ سب اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے کہ معبود برحق بہرکیف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کسی کیلئے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر بہکے بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو غیر اللہ کے آگے جھکتے، انکے آگے سجدہ کرتے، انکے ناموں کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے اور ان کو اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے پکارتے ہیں۔ سو یہ سب جہالت کے نمونے اور شرکیات کے پلندے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، ان کیلئے ہے وہ کچھ جو انہوں نے کمایا (اپنی زندگی میں) اور تمہارے لئے ہے وہ کچھ جو تم نے خود کمایا، اور تم سے کوئی پوچھ نہ ہوگی ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے،3

370 ہر کوئی اپنے ہی کئے کرائے کا ذمہ دار ہے : یہود و نصاری کا یہ زعم اور دعوی تھا کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ پس یہی بات ہمارے لئے کافی ہے اور اسی انتساب کی بنا پر ہمارا سب کام ٹھیک ہوجائیگا۔ تو ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارا یہ زعم باطل اور بےبنیاد ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلے کا دار و مدار انتساب پر نہیں، اپنے عقیدہ و کردار پر ہے۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائیگا ۔ { لاَ تََزِرُ وَازِِرَۃٌ وِزُرَاُخْرٰی } ۔ یہ حضرات اللہ پاک کی برگزیدہ اور پاکیزہ ہستیوں کی ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔ ان کو اپنا عمل و کردار کام آئیگا اور تم لوگوں کو اپنا۔ نہ تم سے ان کے بارے میں کوئی پوچھ ہوگی اور نہ انکا انتساب تمہیں کچھ کام آسکے گا، جبکہ تمہارا اپنا عقیدہ و ایمان درست نہ ہو۔ افسوس کہ یہود و نصاری کی اس بیماری کے جراثیم امت مسلمہ کے اندر بھی آج جگہ جگہ اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں، کتنے ہی لوگ مسلمان کہلانے والوں میں ایسے موجود رہے، اور آج تک ہیں، جو کہتے ہیں، اور جن کا زعم اور گھمنڈ یہ ہے کہ ہم بزرگوں کی اولاد، اور فلاں گدی کے مجاور ہیں۔ نسلی شاہ اور خاندانی سید ہیں۔ جو مرضی کرتے رہیں، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ نہ عقیدے کی فکر نہ عمل کی پروا۔ اور اس دھوکے میں وہ متاع عمر کو یونہی ضائع کر رہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ جبکہ حضرت امام الانبیائ ﷺ اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓ سے فرماتے ہیں کہ " فاطمہ تم مجھ سے دنیاوی مال و دولت میں سے جو چاہو مانگو میں دینے کو تیار ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکونگا "۔ اور اسی طرح اپنے خاندان کے دوسرے مختلف افراد کو بھی بلا کر اور پکار کر اسی طرح فرمایا، جیسا کہ احادیث میں موجود ہے مگر اس سب کے باوجود ان لوگوں کا کہنا یہ ہے۔ بہرکیف دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا ذمہ دار خود ہیـ۔ اور اس کو اسی کا جواب دینا ہوگا۔ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

مگر (اس سب کے باوجود) یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی بن جاؤ، یا نصرانی، تو ہدایت پا جاؤ گے، کہو (نہیں) بلکہ ملت ابراہیمی کو اپناؤ جو کہ یکسو (ہو کر ایک اللہ کا ہوگیا) تھا اور اس کا مشرکوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا4

371 یہود و نصاریٰ کا ایک بےبنیاد زعم و گھمنڈ اور اس کی تردید : یعنی یہ کہ ہمیں بس یہ انتساب ہی کافی ہے اور کچھ ضرورت نہیں۔ یہی حال آج کے اہل بدعت وغیرہ زائغین کا ہے جو اسی طرح کے مختلف فرضی سہاروں پر تکیہ کئے اور آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ہم چونکہ فلاں ہستی کی اولاد اور فلاں حضرت کے دامن گرفتہ ہیں۔ اور سگ درگاہ فلاں ہیں۔ لہذا ہمیں کسی کی پروا نہیں۔ جو چاہیں کریں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہود اور نصاری باہمی عداوت اور دشمنی کے باوجود کلام دشمنی کی بناء پر آپس میں متحد ہو کر کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی بن جاؤ یا نصرانی تمہارا کام بن جائے گا۔ اور تم ہدایت پا جاؤ گے، یعنی یہ دونوں دین ٹھیک ہیں لیکن انکے مقابلے میں اسلام کے نام سے جو نیا دین آیا ہے یہ ٹھیک نہیں۔ سو یہ سب کچھ خرافات اور ان لوگوں کی من گھڑت اور خود ساختہ باتیں ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ نجات کا دار و مدار صحت عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے۔ اور ہر کوئی اپنا ذمہ دار خود ہے۔ 372 ملت ابراہیمی کو اپنانے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ملت ابراہیمی کو اپناؤ۔ یعنی " مِلَّۃَ " کا ناصب " اتَّبعوا " یا اس جیسا کوئی فعل مقدر ہے۔ یا اس کی بجائے یہ عامل مقدر جمع متکلم کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے یعنی " نَتَّبِعُ " کہ یہودیت و نصرانیت نہیں بلکہ ہم ملت ابراہیمی ہی کی پیروی کرتے ہیں، یا اس کی جگہ " اِخْتَرْنا " مقدر مانا جائے، کہ نہیں بلکہ " ہم نے ملت ابراہیمی کو اختیار کرلیا " اور اپنا لیا ہے کہ مدار نجات یہی ملت طاہرہ ہے، نہ کہ یہودیت و نصرانیت وغیرہ۔ سو اس طرح کا کوئی بھی فعل اس کا ناصب مانا جاسکتا ہے۔ بہرکیف اس کے ذریعے یہ صاف کردیا گیا کہ نجات کی راہ صرف ملت ابراہیمی ہے اور بس۔ جو اب دین حنیف اسلام کی صورت میں دنیا کے سامنے موجود ہے۔ بہرکیف اس سے ملت ابراہیمی کو اپنانے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ 373 ابراہیم کا مشرکوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا : پس اس سے حضرت ابراہیم کی یہود و نصاریٰ اور مشرکین سب سے براءت و بیزاری کا اعلان واظہار فرما دیا گیا کہ ابراہیم کا مشرکوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ پس مشرکین مکہ کی طرح یہود و نصاریٰ کا بھی حضرت ابراہیم سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا کہ یہ سب لوگ مشرک تھے اور مشرک ہیں کہ مشرکین مکہ نے تو مرکز توحید، خانہ کعبہ کو بھی بتوں کی نجاست سے آلودہ کردیا تھا۔ اور جو گھر صرف اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی عبادت و بندگی کیلئے اور اس کی توحید کی اساس و بنیاد پر ہی بنایا گیا تھا، اس میں بھی انہوں نے تین سو ساٹھ بت رکھ چھوڑے تھے، جبکہ یہود و نصارٰی نے حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ جیسی پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا۔ سو ایسے مشرکوں کا حضرت ابراہیم سے تعلق و انتساب کا دعوی کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ کہ جن کا مشرکوں سے کسی بھی طرح کا کوئی لگاؤ نہیں تھا { وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } پس یہود و نصاری اور مشرکین حضرت ابراہیم کے انتساب میں قطعی جھوٹے ہیں کہ یہ سب شرک میں ملوث اور اس کے روگی ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔