Ayah 2:265764 تَثْبِیْتًا مِنْ عِنْد اَنْفُسِہِمْ کا مطلب ؟ : یعنی ایسی تصدیق اور ایسے یقین کی بناء پر جو ان کے دلوں سے نکلا ہوا ہو (معارف للکاندہلوی (رح) ) کہ ہمیں اس انفاق پر اپنے خالق ومالک حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کا اجر وثواب اور صلہ وبدلہ ملے گا۔ اس لئے وہ اپنے مقدور کی حد تک شرک و ریاکاری اور نمود و نمائش کے ہر شائبہ سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اور اپنے دلوں کے اس یقین و اعتماد کے سوا اور کوئی چیز ان کو اس انفاق پر ابھارنے والی نہیں ہوتی۔ اور ان کا مقصود رضائ خداوندی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ پس یہ ارشاد ربانی ایسے ہی ہے جیسا کہ حدیث میں صیام رمضان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " مَنْ صَامَ رَمْضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا " یعنی جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان و یقین کی بناء پر اور اجر وثواب کی نیت سے، اس کے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے گئے۔ آیت کریمہ کا یہی مفہوم حضرت ابن عباس ؓ ، شعبی (رح) اور قتادہ (رح) ، وغیرہ حضرات سے مروی ہے اور ابن جریر (رح) نے اسی کو اختیار فرمایا ہے (ابن کثیر (رح) ) ۔ سو اس صورت میں یہ مفعول لَہٗ ہوگا کہ اس کا عطف " ابتغاء مرضاۃ اللہ " پر ہوگا جو کہ مفعول لَہٗہے اور اس میں اور بھی احتمال ہیں جو انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں پیش کریں گے اگر اس کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر ثبات و استقامت نصیب فرمائے ۔ آمین۔
765 ضِعْفَیْن کا استعمال تکرار و تکثیر کیلئے : یعنی " ضِعْفَیْن " کا لفظ یہاں پر محض تثنیہ کیلئے نہیں، جیسا کہ اس کے تبادر سے عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ لفظ یہاں پر تکرار و تکثیر کیلئے ہے، جیسا کہ " لَبَّیْکَ " کے لفظ میں ہے (تفسیر التحریر لابن عاشور (رح) وغیرہ) یا جیسا کہ {} فَارْجِع الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ } میں ہے۔ یعنی وہ باغ اپنے شاندار محل و قوع اور وسعت فضاء کے باعث اپنے احوال کے اختلاف و تفاوت کے مطابق اپنا پھل کئی گنا بڑھا کر لاتا ہے۔ سو ایسے ہی جو لوگ اپنے حلال اور پاکیزہ مال میں سے اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے خرچ کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں انکے دیئے اور خرچ کیے کا اجر وثواب کئی گنا بڑھا چڑھا کردیا جاتا ہے، ان کے صدق و اخلاص کی بناء پر۔ سو دوسری تمام عبادات کی طرح انفاق فی سبیل اللہ کا اصل اور حقیقی فائدہ بندے ہی کی طرف لوٹتا ہے کہ اس سے اس کو خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور اس کے لئے اجر وثواب کا ذخیرہ بھی جمع ہوتا رہتا ہے۔ اور وہ دوسری بھی طرح طرح کی خیرات و برکات سے سرفراز ومالا مال ہوتا رہتا ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو صدق و اخلاص سے کیا جانے والا صدقہ بڑے اجر وثواب کا باعث ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
766 زرخیز مٹی کیلئے پھوار ہی کافی : اس کی زرخیز مٹی، لطیف و عمدہ آب و ہوا، اور شاندار محل وقوع کی بناء پر۔ سو ایسے ہی مومن مخلص کا انفاق فی سبیل اللہ، اور اللہ کی راہ میں دیا ہوا اس کا صدقہ و خیرات، اس کے اخلاص اور صدق نیت کے مطابق اس کیلئے اجر وثواب کا ذریعہ بنتا ہے۔ کامل اور اعلیٰ درجے کے اخلاص پر وہ اس کے لئے کامل و اعلیٰ درجے کے اجر وثواب کا ذریعہ ہوگا۔ اور اگر یہ نہیں تو نفس ایمان اور نیت کی درستی کی بنا پر بھی اس کو اس کا اجر وثواب کئی گنا بڑھا کردیا جائیگا۔ اس کا دیا ضائع کبھی نہیں ہوگا (الجواہر، القرطبی، الصفوۃ، وغیرہ) ۔ سو ایمان و اخلاص دارین کی سعادت و سرخروئی کی اساس و بنیاد اور وسیلہ سرفرازی ہے، اور جتنا انسان ایمان و یقین میں کامل اور صدق و اخلاص میں سچا اور پکا ہوگا اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی عنایات سے زیادہ سرفراز ہوگا ۔ وباللّہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایمان کامل یقین صادق اور اخلاص و للہیت کی دولت سے نوازے ۔ ریاکاری کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ ـ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
767 اللہ تعالیٰ کی نگرانی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری طرح دیکھ رہا ہے تمہارے ان اعمال کو جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس لئے تمہارا کوئی بھی عمل بلکہ تمہاری نیتوں کا حال اور دلوں کی کیفیت بھی اس سے کسی بھی طور مخفی نہیں رہ سکتی۔ لہذا مومن صادق کو اپنے باطن اور اپنی نیت کے حال پر ہمیشہ نگاہ رکھنی چاہیئے کہ اس میں کوئی شائبہ ریاء یا کھوٹ نہ آجائے، تاکہ کیا کرایا برباد نہ ہوجائے کہ اس کے یہاں قبولیت کیلئے اولین اساس و بنیاد ایمان و اخلاص اور صدق و صفا ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس ارشاد میں آپ نیکو کاروں کے لئے تو تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ تمہارے تمام اعمال کو وہ دیکھ رہا ہے۔ بس تم مطمئن رہو کہ تم اس کے اجر وثواب سے کبھی محروم نہیں ہوؤ گے کہ وہ تمہارے اعمال کو خود اور پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ اور دوسرے اس میں بدکاروں کے لئے تہدید و وعید ہے کہ تم باز آجاؤ کہ تمہارے کرتوت اس سے کچھ پوشیدہ نہیں۔ وہ اگر تمہیں ڈھیل دے رہا ہے تو اس سے دھوکے میں مت پڑجاؤ کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال ختم ہوجانا ہے۔ کہ ڈھیل بہرحال ڈھیل ہوتی ہے اور وہ ایک محدود وقت اور گنی چنی مدت ہی کے لئے ہوتی ہے۔ اس پر مست و مغرور ہونے کے بجائے اس سے صحیح کام لینا چاہئے ـ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 2:266768 ریاکانہ اعمال کے ضیاع کی تمثیل : سو اس سے اپنے اعمال کو ریاکاری وغیرہ کے ذریعے ضائع کردینے والوں کی تمثیل پیش فرمائی گئی ہے۔ بڑھاپے کی حالت زار اور اس سے درس عبرت و بصیرت لینے کی ضرورت ہے جس کے باعث ایسا انسان کمانے اور محنت کرنے کے قابل بھی نہ رہے، کہ اس کی قوت و شباب کا دور گزر چکا ہو۔ اور مزید یہ کہ اس کی ایسی چھوٹی چھوٹی اور کمزور و ناتواں اولاد بھی ہو، جو کمانے کھلانے اور اس کی خدمت کرنے سے بھی عاجز ہو، اور الٹا اس کا بوجھ بھی اس شخص پر ہو، اور اس طرح وہ نہایت ہی قابل رحم حالت کو پہنچ جائے۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اپنی رحمت بھری تعلیمات میں اپنی امت کو بڑھاپے کی عمر میں وسعت رزق کیلئے خاص دعاء کی تعلیم و تلقین بھی فرمائی ہے۔ چناچہ مستدرک حاکم کی روایت کے مطابق اس بارے میں آپ ﷺ کی دعاء اس طرح منقول ہے " اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَیَّ عِنْد کِبَر سِنِّیْ وَانْقَضَائ عُمْرِیْ " (ابن کثیر) " اے اللہ، مجھے اس وقت خاص طور پر اپنے رزق کی وسعت سے نوازنا جبکہ میرا بڑھاپا آجائے، اور میری عمر گزر جانے کو ہوجائے " سبحان اللہ ! کیسی عمدہ اور کیا ہی پیاری دعا ہے جو نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو تلقین فرمائی، اور بڑھاپے کی کمزوری اور ناتوانی کو کس طرح یاد دلایا ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلامُہٗ عَلَیْہ وََجَزَاہُ عَنَّا خَیْرَ مَا جُوْزِیَ بِہٖ نَبِیٌّ عَنْ اُمَّتِہٖٗ ۔ بہرکیف بڑھاپے کی اس عمر کو یاد رکھنے کی اور یاد رکھ کر اس کیلئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے، قبل اس سے کہ جوانی اور صحت کی فرصت محدود ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو یہ تمثیل ہے اس شخص کی حالت زار کی جو ریا کاری وغیرہ کے ذریعے اپنے صدقات کو ضائع کر دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دکھلاوا اور ریاکاری سے اس طرح انسان کی نیک اعمال کی پونجی ضیاع کا شکار ہوجاتی ہے اور انسان آخر کار ایک نہایت ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم -
769 ریاکاروں کے ہولناک خسارے کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے ریاکاروں کی زندگی بھر کی پونجی کی تباہی اور ان کے ہولناک خسارے کو آشکارا فرما دیا گیا اور اس طور پر کہ ایسے شخص کی زندگی بھر کی کمائی اور جمع کردہ پونجی نیست و نابود ہوجائے، اور اس کے باغ کا یہ واحد سہارا بھی اس سے چھن جائے، اور عین ایسے وقت میں جبکہ وہ اس کا سخت محتاج بھی تھا، اور ساتھ ہی ساتھ یہ کہ اب اس کے لئے کمانے اور بنانے کا نہ کوئی موقع ہو نہ امکان۔ سو ایسے شخص کی ناکامی و نامرادی اور خسران و نقصان کا کیا ٹھکانا ہوسکتا ہے۔ پس یہی حال سمجھا جائے اس شخص کا جو ریاکاری اور " مَنَّ وَ اَذٰی " کی بنا پر اپنے صدقات و خیرات کے ذخیرے کو تباہ کر دے، اور اس کے عوض ملنے والے اس عمدہ باغ کو جو اسے آخرت میں نصیب ہوتا، ریاکاری اور من و اذی کا وہ ہولناک بگولا جس میں قہر اور غضب خداوندی کی آگ پنہاں تھی، اس کو جلا کر خاکستر کر دے۔ اور یہ شدید حاجت و ضرورت کے اس ہولناک وقت میں اپنی زندگی بھر کی پونجی سے محروم ہو کر دائمی خسران و ناکامی کا شکار ہوجائے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُل سُوْئٍ وشَر وَالرِّیَا وَالمَنّ وَالْاَذی ۔ اللہ محفوظ رکھے ایسے ہولناک انجام سے۔ بہرکیف اس ارشاد میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انفاق کرنے والے عین اس وقت اپنی امیدوں کے باغ کی تباہی اور بربادی کا حسرت انگیز منظر دیکھیں گے جب کہ وہ اس کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے اور جب کہ ان کے لئے سعی و عمل کے سب دروازے بند ہوچکے ہوں گے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کَل سُوْئٍ وَّشَرٍّ ۔ اللہ تعالیٰ ریا و شرک اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
770 غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے تمہارے لیے اپنی آیتوں کو تاکہ تم لوگ غور و فکر سے کام لو۔ سو تم لوگ سوچو اور غور کرو اپنے انجام اور مستقبل کے بارے میں۔ اور تم فکر کرو اپنے مستقبل اور آئندہ پیش آنے والے اس ہولناک وقت کی ناکامی اور خسارے سے بچنے کی اور ہر حال میں اس کا خیال رکھو، کیونکہ اس ناکامی کا پھر کوئی تدارک ممکن نہیں ہوگا۔ سو روز حساب اور جزا و سزا کے اس دن کا وہ خسارہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ان آیتوں میں غور و فکر سے کام لیکر اپنے انجام کی فکر کرو۔ سو اس نے جو تمہارے لئے یہ فکر انگیز اور چشم کشا تمثیل بیان فرمائی ہے، یہ ان لوگوں کا حال واضح کر رہی ہے، جو اپنے انفاق کو برباد کرنے والی آفتوں سے نہیں بچاتے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے خرمن کو خاکستر کردینے والی بجلی خود ان کی آستینوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اور وہ ٹھیک اس وقت ظاہر ہو کر اپنا اثر دکھائے گی جب کہ ان کے لئے کھو کر پانے کا پھر کوئی امکان باقی نہیں رہے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب حکیم انسان کو کس قدر عظیم الشان اور بےمثال تعلیمات سے نوازتی ہے۔ جن کی دوسری نہ کوئی نظیر و مثال ممکن ہے اور نہ ہی دوسرا کوئی ایسا ماخذ ممکن ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:267771 اپنی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تعلیم و تلقین : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے تم خرچ کرو ایسی پاکیزۃ چیزوں میں سے جو تم نے اپنی محنت و مشقت، صنعت و حرفت، اور کاروبار و تجارت، وغیرہ مختلف ذرائع و وسائل سے کمائی ہیں، بشرطیکہ وہ حلال پاکیزہ اور عمدہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جناب اقدس و اعلیٰ میں ایسی ہی چیزیں شرف قبولیت پاسکتی ہیں۔ اور یہی تقاضا ہے تمہارے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کا۔ اور یہی تقاضا ہے اس خالق کل اور مالک مطلق کی عبادت و بندگی کا ۔ وباللہ التوفیق ۔ " طیبات " کے لفظ سے بیک وقت دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنی کمائی میں سے وہی مال خرچ کرو جو پاکیزہ طریقوں سے آیا ہو کسی غلط یا مشتبہ طریقہ سے حاصل نہ ہوا ہو۔ اور دوسری بات یہ کہ وہ مال بجائے خود اچھا ہو، بےوقعت گھٹیا اور نکما نہ ہو، کیونکہ غلط طریقے سے آئے ہوئے یا نکمے مال سے نہ تو خدا کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی نفس کو وہ تربیت مل سکتی ہے جس کا ذکر اوپر " ثبت " کے لفظ سے ہوا۔ سو اللہ کی نام پر اور اس کی رضا کے لئے جو مال انسان آج دے گا وہی اس کے لئے جمع ہوجائے گا، جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی جہان میں کام آئے گا۔
772 زمین کی پیداوار سے بھی خرچ کرنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان چیزوں میں سے بھی جو ہم نے تم لوگوں کے لیے نکالی ہیں زمین سے۔ جیسے مختلف قسم کے غلے، طرح طرح کے پھل، اور پیداواریں، اور مختلف اقسام کی معدنیات کے بیش قیمت ذخائر وغیرہ وغیرہ۔ جن کے پیدا کرنے میں تمہارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، ہم محض اپنی قدرت و عنایت سے ان کو تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں۔ سو جن چیزوں کے وجود و ابراز میں تمہارا عمل دخل ہے ان میں سے بھی ہماری راہ میں خرچ کرو، اور ان میں سے بھی جو تمہارے عمل دخل کے بغیر ہم از خود اپنی قدرت و عنایت سے تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں، کہ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو { مَا کَسَبْتُمْ } سے مراد وہ مال ہے جو تجارت وغیرہ کے مختلف ذرائع سے تم لوگ کماتے اور حاصل کرتے ہو اور { مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الاَرضَ } سے مراد زمین کی پیداوار ہے۔ یہ سب کچھ دراصل اللہ تعالیٰ ہی کا دیا بخشا ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ پس عقل و نقل اور عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو اس واہب مطلق کی رضا کیلئے خرچ کیا جائے۔ وباللہ التوفیق -
773 اللہ کے نام پر ردی چیز دینے کی ممانعت : سو اس سے اللہ پاک کے نام پر ردی چیز دینے کی ممانعت فرما دی گئی۔ پس اپنے خالق ومالک کے نام پر دینے، اور اس کے حضور پیش کرنے کے لئے اس طرح کی ردی اور بےکار چیز کو اپنے قصد و ارادہ سے چھانٹنا، سخت گستاخی اور گناہ کی بات ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اگر تمہارے قصد و ارادہ کے بغیر اس طرح کی کوئی خراب چیز تمہاری خیرات میں مل جائے تو اس پر تمہارا کوئی مواخذہ نہیں۔ اور تم ذرا سوچو کہ جب تم ایک گھٹیا اور ناقص چیز اپنے حقوق میں لینا گوارا نہیں کرتے، تو پھر اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے گھٹیا اور ناقص چیز کو کیسے گوارا اور برداشت کرتے ہو۔ تمہاری غیرت ایمانی کو کیا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور خراب اور برے مال کی تعریف اس طرح فرما دی کہ اگر وہی مال تمہیں لینا پڑجائے تو تم آنکھیں نیجے، اور دل پر جبر کئے بغیر لینے کو تیار نہ ہوؤ۔ سو جس چیز کو انسان خود اپنے لئے پسند نہ کرے اس کو خدا کے لئے پیش کرنا جب کہ دیا ہوا سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کا ہے، انتہائی خست اور دناءت کی بات ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس کی رضا کیلئے اور اس کے نام اچھی اور عمدہ چیز دو اس نے جب تم کو عمدہ سے عمدہ نعمتوں سے نوازا ہے اور تمہارے کسی استحقاق کے بغیر نوازا ہے تو پھر تم اس کے نام پر ردی چیز دینا کیونکر روا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
774 اللہ تعالیٰ کی صفت غنا اور حمد کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور یقین جان لو کہ اللہ بڑا ہی بےنیاز تمام خوبیوں کا مالک ہے۔ پس وہ جو کچھ حکم تمہیں صدقہ و خیرات، اور انفاق کیلئے دیتا ہے، وہ خود تمہارے ہی بھلے کیلئے دیتا ہے، تاکہ تمہارا دیا ہوا ایک طرف تو تمہارے اپنے ہی ضرورت مند بھائیوں کے کام آ کر تمہارے لئے ذخیرہ آخرت بن جائے، اور وہاں کے مشکل اور سخت ضرورت کے وقت میں تمہیں کام آئے، اور دوسری طرف تمہیں ان ضرورت مندوں کی دعائیں نصیب ہوں جس سے تمہارے مال و دولت میں برکت ہو، اور تمہاری سختیاں اور مشکلیں ٹلیں۔ اور تیسری طرف تمہارے دلوں میں بخل و کنجوسی اور حب دنیا جیسے رذائل کی کدورت و میل نہ جمنے پائے، وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے وہ وحدہ لاشریک اپنی بےپایاں رحمت و عنایت کی بنا پر چاہتا ہے کہ دوسروں کی ضرورتوں اور حاجتوں کی تکمیل کا سامان تمہارے ذریعے اور تمہارے واسطے سے ہو، اور ان محتاجوں کو یہ مال تمہارے ہاتھوں سے ملے، تاکہ خود تمہارا بھلا ہو، ورنہ وہ اگر چاہے تو تم سے یہ سب کچھ چھین کر دوسروں کو دے سکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس غنی مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا فیض ہمیشہ جاری رہتا ہے اور وہ سب خوبیوں کا مالک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے نام پر اور اس کی رضا کیلئے دینا تو انسان کیلئے ایک بڑا شرف ہے۔ اور اس میں خود دینے والے ہی کا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ تو پھر اس میں کوئی ہچکچکاہٹ کیوں ؟
Ayahs 2:268–269775 شیطان کی ایک شیطنت کا ذکر وبیان : سو شیطان کی ایک شیطنت کے ذکر وبیان کے طور پر واضح فرمایا گیا کہ شیطان کا کام فقر و فاقہ کا خوف دلا کر صدقات و خیرات سے روکنا ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے سے مال کم ہوجائے گا، اور تمہاری فلاں فلاں ضرورتیں پوری نہیں ہونگی، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ نصوص قرآن و سنت اس کی تصریح کرتی ہیں، اور تجربہ و عمل سے اس کی تائید و تصدیق ہوتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر، اور اس کی رضا کیلئے دینے سے اور اس کے نام پاک پر خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے مال و دولت میں ترقی و اضافہ اور برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے، جیسا کہ آگے کچھ ہی آیات کریمہ کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے { یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ } " اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے " اور حضرت نبی معصوم ﷺ سے بھی مختلف احادیث و روایات میں یہ امر ثابت و منقول ہے، مثلاً صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، عفو و درگزر سے آدمی کی عزت ہی میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ کہ جس کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کیلئے تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کو رفعت و بلندی ہی سے نوازے گا۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ) ۔ پس یہ وسوسہ و اندیشہ کہ صدقہ و خیرات سے مال میں کمی آ جائیگی محض شیطانی دھوکہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے اس سے ہمیشہ ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
776 شیطان کا کام نیکی سے روک کر بےحیائی کی راہ پر ڈالنا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد ربانی میں شیطان کے طریقہ واردات سے پردہ اٹھایا گیا ہے، کہ وہ لعین ایک طرف تو انسان کو اس طرح کے اندیشوں میں مبتلا کرتا ہے، کہ صدقہ کرنے سے تم فقر و محتاجی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اور دوسری طرف وہ ایسے لوگوں کو بےحیائی کے کاموں میں اس طرح الجھا اور پھنسا دیتا ہے، کہ ان کو نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کی ہمت و گنجائش ہی نہیں رہتی، جیسا کہ اس کے شواہد آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ملتے ہیں، کہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کو اپنی بھاری آمدنیوں کے باوجود خرچے پورے نہیں ہوتے، جبکہ اسلام کی سچی اور پاکیزہ تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے آخرت کی حقیقی کامیابی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی سے قبل اس دنیا میں بھی انسان کو دلی آرام و سکون اور حقیقی راحت و اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اور بندہ اپنے خالق ومالک کی خاص عنایتوں اور رحمتوں کے سائے میں رہتا ہے، جس کی ایک جھلک صحیحین کی اس متفق علیہ حدیث گرامی میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے، جو حضرت ابوھریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر روز جب لوگ صبح کو اٹھتے ہیں تو آسمان سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، جن میں سے ایک کہتا ہے " اَللّٰہُمَّ اعْط مُنْفِقًا خَلَفًا " " اے اللہ، خرچ کرنے والے کو اس کے بدلے میں اور دے " اور دوسرا کہتا ہے " اللّٰہُمَّ اعْط مُمْسِکًا تَلَفًا " " اے اللہ کنجوس کو نقصان دے " (صحیح بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب قولہ تعالیٰ { فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی } صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، باب فی المنفق والممسک) ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayah 2:270778 ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں : کہ انہوں نے اپنے اختیار کردہ ظلم کے باعث خود کو ایسے اعوان و انصار اور مددگاروں سے محروم کردیا، جو ان کو مشکل وقت میں کام آسکتے اور وہ ان کو اللہ کی طرف سے مل سکتے تھے، اور جو مددگار ان لوگوں نے از خود گھڑ رکھے تھے، وہ سب فرضی وہمی اور بےبنیاد تھے۔ پس جس طرح حکمت کا مقتضی ہر چیز کو اس کے صحیح موقع و محل میں رکھنا ہے، اسی طرح ظلم کا مفہوم اس کے بالکل برعکس اس کو بےموقع صرف کرنا، اور غلط جگہ رکھنا ہے۔ پس ان کیلئے کوئی ایسا مددگار نہیں ہوگا جو ان کو قیامت کے اس ہولناک عذاب سے بچا سکے اور ان کے کچھ کام آسکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظالم لوگ ظلم کے ارتکاب سے خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی جن اعوان و انصار اور معاون و مددگار ہستیوں کا ان کو زعم و گھمنڈ تہا ان میں سے کوئی بھی ان کے کام آنے والی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ سب کچھ وہمی اور فرضی تھا جس کی نہ کوئی اساس تھی نہ بنیاد۔ سو وقت آنے پر ان کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ لوگ کس قدر ہولناک خسارے میں پڑے تھے۔ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 2:271779 ابداء صدقات کی اجازت اور اس کے فوائد : سو اس سے ظاہر فرما دیا گیا کہ صدقات کو ظاہر کرکے دینا بھی جائز ہے کہ اس میں بھی کئی فائدے ہیں کہ تمہارے اس نیک عمل کو دیکھ کر دوسرے تمہاری اتباع کریں گے، تو اس طرح تمہارا یہ عمل " اَلدَّالُ عَلَی الْخَیْر کَفَاعِلِہ " کے ضابطہ عمومی کے مطابق تمہارے لئے دوہرے اور دوگنے اجر وثواب کا ذریعہ بن جائے گا۔ نیز دوسرے لوگ تمہاری اس سخاوت کو دیکھ کر تمہارے لئے دعاء کریں گے، اور دوسری طرف اس سے محتاجوں اور مستحقوں کے دلوں میں بھی تمہارے لئے محبت و اکرام اور خیر خواہی کے جذبات ابھریں گے، اور وہ بھی تمہارے لئے دعا کرینگے کہ اس شخص کی دولت ہم جیسے ضرورت مندوں کے کام آنے والی ہے، وغیرہ وغیرہ فوائد اس طرح حاصل ہوتے ہیں، مگر یہ سب کچھ اس امر پر موقوف، اور اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس میں ریاکاری اور دکھلاوے کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے، ورنہ سب کچھ اکارت چلا جائیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
780 اِخفاء صدقات اور اس کی عظمت وافادیت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ صدقات کو چھپا کردینا زیادہ اچھا ہیـ کہ یہ طریقہ ایک طرف تو ریاکاری کے خطرے سے محفوظ ہے، اور دوسری طرف اس میں فقیر و محتاج کی پردہ پوشی بھی ہے۔ اسی لئے صحیحین کی مشہور حدیث گرامی میں جن سات آدمیوں کے قیامت کے روز عرش کے سائے سے مشرف فرمائے جانے کی خوشخبری دی گئی ہے، ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو اپنا صدقہ اس طرح چھپا کر دے کہ دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے اور بائیں کو خبر نہ ہو، " لا تَعْلَمُ شِمَالُہ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہٗ " پس صدقہ ظاہر کر کے اور پوشیدہ رکھ کردینا دونوں طرح درست اور جائز ہے، اور ہر ایک کے اپنے اپنے فضائل و مزایا ہیں، جن میں سے کچھ کا اجمالی ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اور حضرات علمائے کرام کا کہنا ہے کہ فرض صدقہ کو ظاہر کر کے دینا افضل ہے اور نفلی صدقہ چھپا کر اور پوشیدہ رکھ کردینا افضل ہے۔ اور فرض و نفل کا یہ فرق و امتیاز، دوسری تمام عبادات میں بھی اسی طرح ملحوظ و مطلوب ہے کہ فرض عبادت تو انسان ظاہر کرکے ادا کرے، لیکن نفلی عبادت کو پوشیدہ ہی رکھ کر کرے، تاکہ اس طرح وہ تہمتوں سے بھی بچ سکے اور ریاکاری کے خطرات سے بھی۔ کیونکہ ریاکاری کی وبا اعمال کو ضائع کردینے والی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
78 1 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اللہ پوری طرح باخبر ہے ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس اس سے تمہاری کوئی بھی عبادت مخفی نہیں رہ سکتی، اور نہ ہی اس سے تمہارا کوئی عمل چھپ سکتا ہے۔ لہذا تم لوگ ہمیشہ اور ہر حال میں اس بات کا خیال رکھا کرو کہ اس وحدہ لاشریک سے تمہارا معاملہ درست اور صاف رہے، کہ وہی وحدہ لاشریک تمہارا رب ہے اور اس سے تمہاری کوئی حالت اور کیفیت پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ اور اسی کے حضور حاضر ہو کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا بھرپور صلہ اور بدلہ پانا ہے۔ پس تم ہمیشہ اسی کی فکر اور کوشش میں رہا کرو کہ اس سے تمہارا معاملہ ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے صحیح اور درست ہو۔ سو تمہارے اعمال کا علانیہ یا پوشیدہ ہونا تمہارے لحاظ سے ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دونوں صورتیں ایک برابر ہیں، کہ وہ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ سبحانہ تعالیٰ -
Ayah 2:272782 ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جس کو چاہے راہ راست پر لے آئے کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے، اور کس کے باطن کی حالت و کیفیت کیا ہے۔ روایات میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے بعض حضرات نے اپنے ان رشتہ داروں کو صدقہ و خیرات دینا بند کردیا، جو کہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، تاکہ اس طرح وہ لوگ ایمان کے شرف سے مشرف ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو سکیں، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اس طرح مجبور کر کے ان لوگوں کو راہ راست پر لے آنا نہ تمہاری ذمہ داری ہے، اور نہ ہی یہ تمہارے بس میں ہے۔ ہدایت تو اللہ پاک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، وہ وحدہ لاشریک ہی یہ جانتا ہے کہ کونسا دل نور ہدایت کے لائق ہے، اور کونسا اس کے لائق نہیں۔ پس تم لوگ اس کی فکر و پرواہ کئے بغیر ہر ضرورت مند کی حاجت روائی کرو۔ یعنی کافر کو بھی صدقہ دے سکتے ہو۔ یہاں پر یہ امر واضح رہنا چاہیئے کہ یہ حکم صرف نفلی صدقات کیلئے ہے، کیونکہ زکوٰۃ وغیرہ صدقات واجبہ صرف مسلمانوں ہی کا حق ہے، جیسا کہ حدیث معاذ بن جبل ۔ ؓ ۔ وغیرہ میں اس کی تصریح موجود ہے " تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرآئہِمْ " " کہ وہ ان کے امیروں سے لیکر انہی کے ضرورتمندوں پر صرف کی جائیگی " (معارف القرآن وغیرہ) ۔ بہرکیف یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ -
783 تم انسان کا عمل خیر خود اس کے اپنے ہی بھلے کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا تم جو بھی کچھ خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی بھلے کیلئے ہوگا کہ اس کا فائدہ بہرحال خود تم ہی لوگوں کو پہنچے گا، اس دنیائے فانی میں بھی، اور اس کے بعد آخرت کے اس عالم جاودانی میں بھی۔ کہتے ہیں کہ ایک عالم دین بڑی خیرات کیا کرتے تھے، مگر جب کوئی اس بارے ان سے پوچھتا تو وہ قسم کھا کر کہتے کہ میں نے کسی کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی، تو کسی نے ان سے دریافت کیا کہ حضرت یہ کیا بات ہے کہ آپ اتنی خیرات بھی کرتے ہیں، اور پھر پوچھنے پر قسم بھی کھاتے ہیں کہ میں نے کسی سے کوئی بھلائی نہیں کی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کسی کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کرتا، بلکہ میں جو بھی کچھ کرتا ہوں اپنے ہی لئے کرتا ہوں، اور پھر انہوں نے یہی آیت کریمہ تلاوت کی { وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ } سبحان اللہ ! کیسا پختہ ایمان، صحیح فکر و فہم، اور عمدہ ذوق ہے جس کے بعد انسان کو نہ راہ خدا میں خرچ کرنے پر کوئی گرانی ہوسکتی ہے، اور نہ ہی اگلوں کی ناشکری و احسان فراموشی پر کوئی رنج و غم، اور شکوہ و شکایت ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ہی ایمان و یقین نصیب فرمائے اور ریاء ونمود کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
784 کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوگی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تمہاری کوئی حق تلفی نہیں ہوگی : پھر تم کو کسی اور کی کیا پرواہ ؟ جتنا ہو سکے راہ حق میں خرچ کرو، اور پورے اطمینان اور صدق و اخلاص کے ساتھ اس کی راہ میں دیئے جاؤ۔ اس سے بڑھ کر نفع و اطمینان کا سودا اور کیا ہوسکتا ہے، کہ کسی نقصان اور حق تلفی کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہ رہا ہو ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ پس تم لوگ اس کی فکر و پرواہ نہ کرو کہ تمہارا صدقہ مسلمانوں ہی کو ملے کفار کو نہ دیا جائے۔ تاکہ اس طرح وہ ایمان لے آئیں کہ ایسا زبردستی کا ایمان نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ ہی تم لوگوں کی ذمہ داری ہے، بلکہ تم اس کی رضاء کیلئے اور اس کے نام پاک پر دیئے چلے جاؤ کہ آج اس کا موقع ہے۔ کل جب عمر رواں کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر تمہارے لیے اس کا کوئی موقع نہیں ملے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لئے جو بھی کچھ تم خرچ کرو گے، وہ سب تمہیں دیا جائے گا اور پورے کا پورا دیا جائے گا تمہاری کوئی حق تلفی نہیں ہوگی۔ بلکہ تمہارے دیئے ہوئے کو کئی گناہ بڑھا کر تمہیں دیا جائے گا ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
Ayah 2:273785 محصور فی سبیل اللہ صدقات کے زیادہ حق دار ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں محصور ہوجانے والے صدقات و خیرات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں :ـ کہ ان کے تمام اوقات دین کی خدمت اور علوم دین کی تحصیل اور ان کی تعلیم و تبلیغ میں گزرتے ہیں اور وہ اسی راہ میں مشغول رہتے ہیں، اور ان کی انہی کوششوں سے حق و ہدایت اور علم و معرفت کا نور پھیلتا ہے جس سے دنیا طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی ہے۔ اگر یہ لوگ بھی اس عظیم الشان خدمت کو چھوڑ کر کسب دنیا کے پیچھے لگ جائیں، اور دنیا کے دوسرے جھنجھٹوں میں الجھ اور پھنس کر رہ جائیں، تو پھر دنیا علم و ہدایت کے نور سے محروم ہوجائے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔ لہذا ایسے صدقات و خیرات میں سب سے پہلا اور سب سے اہم حق انہی لوگوں کا ہے، تاکہ یہ ذاتی ضروریات کی فکر و تحصیل سے فارغ ہو کر ہمہ تن خدمت دین میں مشغول ہوجائیں اور اسی میں سب کا بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیاوی زندگی کی اس عارضی اور محدود فرصت میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی جہاں اور ابدی زندگی میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ان محصورین سے مراد وہ حضرات ہیں جن کو کسی دینی مقصد نے کسب معاش کی جدوجہد سے روک رکھا ہو۔ وہ اپنی دینی مصروفیت کی بناء پر تجارت وغیرہ کسی کاروبار کے لئے ادھر ادھر سفر یعنی " ضرب فی الارض " کا موقع نہ پاسکتے ہوں۔ سو اس کا اولین مصداق اصحاب صفہ ہیں اور ان کے بعد جو بھی ان کے طریق کار اور نقش قدم پر چلنے والے ہوں، وہ سب ہی اس میں داخل ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہو۔
786 محصورین فی سبیل اللہ کی عزت نفس اور شان استغناء کا ذکر : سو اس میں محصورین فی سبیل اللہ کی شان استغناء اور جاہلوں کا انکے بارے میں گمان کو بیان فرمایا گیا ہے۔ـ یعنی جاہل اور نادان شخص اگرچہ ان کو ان کی عفت و پاکدامنی اور عزت نفس و خودداری کی بناء پر غنی اور مالدار سمجھتا ہو، مگر ایک مومن صادق کیلئے اپنے نور یقین اور فراست ایمانی کی بناء پر ان کو پہنچاننا مشکل نہیں ہوتا۔ اور وہ جان لیتا ہے کہ یہ لوگ مستحق اور اصل اور حقیقی مستحق ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں سے مانگتا پھرے اور ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں لیکر لوٹ جائے، بلکہ مسکین تو حقیقت میں وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو اتنا مال ہو کہ اس سے اس کا گزارہ ہو سکے، اور نہ اس کی حالت ایسی ہو کہ کوئی (عام آدمی) اس کو پہچان کر اس پر کچھ صدقہ کرسکے، اور نہ ہی وہ کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کرسکے۔ سو ایسے سفیدپوشوں کا حق زیادہ بنتا ہے۔
787 اللہ کے علم و آگہی کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر نیک عمل کو پوری طرح جانتا ہے۔ سو وہ پوری طرح جانتا ہے کہ تم لوگوں نے کتنا اور کہاں خرچ کیا، کس نیت سے اور کن حالات اور کن مواقع میں خرچ کیا، کس قدر اخلاص اور کتنی سچائی کے ساتھ خرچ کیا، وغیرہ وغیرہ۔ اسی کے مطابق وہ تم سے معاملہ فرمائیگا اور اس کے بدلہ و جزاء سے نوازیگا ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ اس سے تمہاری کوئی بھی کیفیت اور حالت کسی بھی طرح چھپی نہیں رہ سکتی۔ پس تم لوگ ہمیشہ اس کی فکر رکھو کہ اس سے تمہارا معاملہ درست رہے، کیونکہ وہاں پر قبولیت اور عدم قبولیت کا مدارو انحصار اصل میں نیت و ارادہ اور باطن کی ان ہی کیفیات پر ہوگا، جو کہ اصل محرک ہوتی ہیں ظاہری اعمال کی، اور یہ کام وہاں ایسی چھانٹ پھٹک کے ساتھ ہوگا کہ سب کچھ پوری طرح واضح ہوجائے گا اور ایسا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور کسی عمل کا کوئی گوشہ و زاویہ مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ، فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلا ناصِرْ } (الطارق۔ 9 ۔ 10) پس تم اس کے ساتھ ہر حال میں اور ہر موقع پر اپنا معاملہ درست رکھو، کہ اپنے بس کی حد تک اس بارے میں کوئی کوتاہی نہ ہو ۔ فَوَفّقْنَا اللّٰھُمَّ لِمَا تُحِبُّ وَتَرضٰی مِنَ اْلقَوْل وَالْعَمَلِ ۔ اللہ نفس شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رَبَّ العالمین و یا اکرم الاکرمین -
Ayah 2:274788 ہر حال میں خرچ کرنے والوں کی عظمت شان : یعنی وہ اپنی ہمت و بساط کے مطابق جب بھی ہوسکے، بغیر کسی تخصیص و تعیین کے، ہر موقع پر، اور ہر حال میں، خرچ کرتے ہیں۔ تاکہ رب راضی ہوجائے اور آخرت کا توشہ بن جائے۔ تو ان کے لئے ان کا وہ اجر وثواب ہے جو ان کے صدق و اخلاص کے مطابق، اور ان کے لائق ہوگا۔ سو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں مال کی محبت کیلئے کوئی جگہ نہیں رہ جاتی، اور ان کا شغل شاغل اور مقصود اصلی اپنے رب کی رضا و خوشنودی کا حصول ہوتا ہے۔ اور بس اس کیلئے وہ ہر حال میں اور ہر موقع پر خرچ کرنے کی فکر و کوشش میں ہوتے ہیں۔ سو ان کو بدلہ اور جزا کے اس دن میں کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ غمگین ہوں گے، بلکہ یہ خوش ہو رہے ہوں گے کہ ہم نے اپنے رب ذوالجلال کی توفیق و عنایت سے اپنے مالوں کو اس کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے خرچ کرکے یہ صلہ اور بدلہ پایا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم نے یہ سب کچھ اسی کی راہ میں اور اسی کی رضاء کیلئے لٹا دیا ہوتا۔ جبکہ کنجوس اور بخیل لوگ اس وقت رہ رہ کر افسوس کریں گے کہ کاش کہ ہم نے اپنے مالوں کو جوڑ جوڑ کر رکھنے کی بجائے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوتا، تو آج کے اس یوم عصیب و رہیب میں کام آتا۔ مگر اس وقت کی اس تمنا و آرزو سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ یہاں پر " رات " کو " دن " کے مقابلے میں اور " سِرّ " یعنی پوشیدہ کو " علانیہ " کے مقابلے میں پہلے ذکر فرمایا گیا ہے، جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ رات کا صدقہ اور پوشیدہ طور پر دیئے جانے والے صدقے کا اجر وثواب زیادہ ہوتا ہے بنسبت اس صدقے کے جو دن کو اور علانیہ طور پر کیا جائے۔ روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، جنہوں نے چالیس ہزار دینار صدقہ کیے۔ دس ہزار رات کو، دس ہزار دن کو، اور دس ہزار پوشیدہ طور پر، اور دس ہزار علانیہ طور پر۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں اوقات بھی سب آگئے اور پوشیدہ اور علانیہ کی دونوں حالتوں کا ذکر بھی آگیا۔ سو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو بھی میسر آئے، اور جب بھی آئے، وہ خرچ کرنا چاہئے کہ جو اس کے نام پر دیا اور اس کی راہ میں خرچ کیا وہی محفوظ ہوگیا اور باقی رہ گیا۔ اور باقی سب یونہی رہ گیا سو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی رضاء و خوشنودی کے لیے خرچ کرنا ایک عظیم الشان سعادت ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
Ayahs 2:275–276789 سود خوروں کا عبرتناک اور ہولناک انجام : سو سود خور انسان دنیاوی مال و دولت کے عشق میں اور اس کے خبط میں گرفتار و مبتلاء ہو کر خود کو اسی کے قابل بنا دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اس کا حال یہی ہوتا ہے، کہ ہر وقت اس پر یہی دھن سوار رہتی ہے، اور وہ اسی کے خبط میں مبتلاء اور حیراں و سرگرداں رہتا ہے، کہ مال کس طرح اکٹھا کیا جائے اور کسطرح زیادہ سے زیادہ جوڑ جوڑ کر اور سمیٹ سمیٹ کر رکھا جائے، اور اتنا اور اس قدر کہ اس کے لیے ان کے یہاں کوئی حد اور انتہاء ہی نہیں ہوتی، مگر یہاں یعنی اس دنیا میں اصل حقائق پر چونکہ پردے پڑے ہوئے ہیں، اس لئے وہ سامنے نظر نہیں آسکتے، جبکہ کل آخرت کے اس جہاں میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا، وہاں پر یہ سب مخفی احوال و کو ائف اور مستور حقائق و وقائع جب اپنی اصلی شکل میں سامنے آجائیں گے، تو اس موقع پر سود خوروں کی یہ کیفیت سب کے سامنے آشکارا ہوجائے گی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ سُوْئ الْعَاقِبَۃ ۔ صدقات کے بیان کے ضمن میں سود خوری اور اس کے انجام کے اس ذکر سے دراصل یہ واضح فرمایا جا رہا ہے، کہ جب مال کی محبت انسان کے باطن میں جڑ نہیں پکڑتی، بلکہ دل اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے منور و معمور ہوتے ہیں، تو یہ دنیاوی مال و دولت دوسروں کے کام آتے، خیر کے کاموں میں لگتے، اور سراسر خیر بن جاتے ہیں۔ جبکہ سود خوری کی لت پڑجانے، اور دنیاوی مال و دولت کے عشق و خبط میں مبتلا ہوجانے پر، یہ اموال ہر طرف سے سمٹ سمٹا کر مخصوص ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگتے ہیں، اور پھر اس کے نتیجے میں سود خوروں کے دلوں سے رحم و کرم، اور ہمدردی و خیرخواہی کے خصائل خیر کا قتل اور قلع قمع شروع ہوجاتا ہے، اور ان کی بجائے وہاں پر حرص و آز اور بخل و شح جیسے رذائل جنم لینے لگتے ہیں۔ اور اس طرح انسان بدلتے بدلتے کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے، اور اس طرح پورا معاشرہ عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے اور عداوت و دشمنی کا دور دورہ ہوجاتا ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ سچ فرمایا گیا کہ دنیا کی محبت ہر جرم و خطاء کی جڑ اور بنیاد ہے " حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلّ خَطٓیْئَۃٍ " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
790 سود خوروں کا ایک گستاخانہ اور باغیانہ مغالطہ : یعنی یہ کہ سوداگری بھی سود ہی کی طرح ہے کہ جس طرح اس میں نفع کمایا جاتا اسی طرح اس میں بھی نفع کمایا جاتا ہے، تو پھر جب وہ حلال ہے تو یہ حرام کیوں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ ان دونوں یعنی بیع اور ربوا میں کھلا ہوا اور جوہری فرق موجود ہے، کہ بیع و شراء کے ذریعہ کمایا جانے والا نفع محنت کے عوض اور بدلہ میں ہوتا ہے، اور اس میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے، جبکہ سود کی زیادتی بغیر کسی محنت اور عوض و مقابلہ کے ہوتی ہے اور اس میں سود خوروں کا نفع بہرحال محفوظ اور متعین ہوتا ہے، مگر ان سودخوروں کی مت ایسی مار دی گئی کہ ان کو یہ فرق نظر نہیں آتا بلکہ وہ الٹا ربوٰ (سود) کو اصل قرار دے کر " بیع " یعنی تجارت و سوداگری کو اس کے مثل قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ " بیع " بھی تو سود ہی کی طرح ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ " بیع " یعنی خریدو فروخت اور سوداگری باہمی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ اور تعامل باہمی کا وسیلہ اور باعث خیر و برکت ہے، جبکہ سود ضرورتمندوں کے خون چوسنے اور مسلمان کو غریب سے غریب تر کردینے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
791 تجارت ۔ سوداگری ۔ کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام : اور جب اللہ پاک نے اپنے حکم و ارشاد سے ان دونوں کے درمیان اس طرح فرق کردیا تو یقین جانو کہ ان دونوں کے درمیان بنیادی اور جوہری فرق ہے، اور اللہ پاک کا حکم و ارشاد سراسر حق اور سچ ہے کیونکہ وہ حاکم بھی ہے اور حکیم بھی۔ اور وہی وحدہ لاشریک ہے جو ہر شئی کی اصل حقیقت اور اس کے حال و مآل اور نتائج وثمرات کو پوری طرح جانتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو سودخوری ہلاکت و تباہی کی راہ ہے، اور اس کا انجام بہرحال بہت برا ہے اسی لیے صحیحین وغیرہ میں اس کو " سبع موبقات " یعنی ہلاکت و تباہی میں ڈالنے والی سات بڑی آفتوں میں سے ایک آفت قرار دیا گیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف جب اللہ نے سوداگری اور خریدو فروخت کو حلال ٹھہرایا ہے اور سود کو حرام تو اس سے خود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں سے ایک کی حلّت اور دوسرے کی حرمت کا حکم ہی صحیح اور درست اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ پس بیع و شراء میں چونکہ خلق خدا کے بیشمار فوائد و منافع مضمر ہیں اس لئے اس کو حلال ہی ہونا چاہئے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا اور اس کے مقابلے میں سود خوری کے اندر چونکہ دین اور دنیا دونوں کے اعتبار سے بہت نقصانات ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام ٹھہرایا کہ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
792 اللہ کا حکم ماننا باعث خیر و برکت : یعنی اس حکم تحریم سے قبل، جس قدر سود وہ لے چکا وہ اسی کا ہے وہ اس سے واپس نہیں لیا جائیگا اور اس پر کوئی مؤا خذہ بھی نہیں ہوگا۔ (روح، قرطبی، معارف، وغیرہ) ۔ سو یہ حکم ماضی پر لاگو نہیں، بلکہ اس کے نزول کے وقت سے، اور اب سے آئندہ کیلئے لاگو ہورہا ہے۔ سو اللہ پاک کے حکم و ارشاد کو ماننا اور صدق دل سے اس پر عمل پیرا ہونا باعث خیر و برکت اور موجب اجر وثواب ہے۔ اور اس سے انسان کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نصیب ہوتی ہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ جب کہ اللہ کے حکم سے اعراض و سرتابی موجب لعنت و عذاب ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور بندے کا کام اور اس کے لائق یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اور ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم وارشاد پر سرتسلیم خم رہے۔ یہ اس کی بندگی کا تقاضا ہے اور اسی میں اس کا بھلا ہے ۔ وباللہ التوفیق -
793 سود کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اس کے بعد بھی لوٹا [ سود خوری کی طرف ] تو ایسے لوگ یار ہیں دوزخ کے جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے حرام قطعی کو حلال سمجھا جو کہ کھلا کفر ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور کفر کی سزا آتش دوزخ اور " خلود فی النار " ہی ہے ( روح، قرطبی، معارف، وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایک چیز ہے جذبات کے غلبے سے کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھنا، یہ الگ چیز ہے جو توبہ و استغفار اور نیک اعمال کی برکت سے معاف ہوجاتی ہے۔ لیکن ایک چیز ہے واضح ہدایت اور تنبیہات کے باوجود برائی پر اڑ جانا۔ یہ بالکل دوسری چیز ہے جو کفر اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ایمان و اسلام کا نام لیتا اور دم بھرتا ہے تو وہ ایک منافقانہ چال چل رہا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسی چال دنیا میں اور لوگوں کے سامنے تو چل سکتی ہے مگر اس ذات اقدس اعلی کے سامنے نہیں چل سکتی جو دلوں کے بھیدوں کو جاننے والی " علیم بذات الصدور " ذات ہے۔ لہذا ایسے منافق لوگ اپنے اس کافرانہ اور منافقانہ عمل کے نتیجے میں ہمیشہ آتش دوزخ میں جلتے رہیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوزخ کی اس آگ کے سلسلہ میں دوسرے مختلف مقامات کی طرح یہاں پر بھی " اَھْلُ النَّار " (دوزخی) نہیں فرمایا بلکہ " اَصْحَاب النار " فرمایا گیا ہے۔ " اصحاب " جمع ہے " صاحب " کی اور جو ماخوذ و مشتق ہے صحبت سے۔ سو اس لفظ سے دو بڑی اہم حقیقتیں واضح ہوگئیں۔ ایک یہ کہ یہ لوگ دوزخ کی اس ہولناک آگ کے ساتھی ہوں گے اور جس طرح ایک ساتھی دوسرے ساتھی سے الگ نہیں ہوتا اسی طرح نہ یہ لوگ اس آگ سے الگ ہو سکیں گے اور نہ وہ ان کا ساتھ چھوڑیگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کو گلے لگائے رکھا تو اسی طرح اب اس کفر کا نتیجہ یعنی دوزخ کی یہ آگ بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑیگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:277797 مومنین صادقین کیلئے نہ کوئی غم نہ اندیشہ : سو قیامت کے یوم حساب میں جبکہ لوگ سب سے بڑی گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے ایسے خوش نصیب لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پوری طرح مطمئن اور امن و سکون میں ہوں گے۔ نہ ان کو اپنے ماضے کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف و اندیشہ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے صدق نیت، اور اپنے حسن اختیار، اور اللہ پاک کی توفیق و عنایت سے اپنی زندگی کو حق و ہدایت کی اس راہ پر گزارا ہوگا جس کے نتیجے میں وہ اب سدابہار نعمتوں اور ابدی و حقیقی کامیابی سے سرفراز و سرشار ہوں گے، اور ان کو ایسی کامیابی وفائز المرامی نصیب ہوگی، جو کہ صحیح معنوں میں اور حقیقی طور پر ایک عظیم الشان بادشاہی ہوگی، جس کی بنا پر ان خوش نصیبوں کو نہ اپنے ماضی کا کوئی غم ہوگا، اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی فکر و اندیشہ ۔ اللّٰھُمَََّ اجْعَلنَا مِنْہُمْ ۔ مومنین صادقین اگرچہ اس دنیا میں بھی اس شان سے سرشار و سرفراز ہوتے ہیں، مگر اس کا اصل اور کامل ظہور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں ہوگا جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہان ہوگا۔ مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں وہ حواشی تفسیریہ جو اس طرح کی آیات کریمہ کے ذیل میں اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔
Ayah 2:278798 سود کو ترک کرنا ایمانداری کا تقاضا : سو اس ارشاد میں تصریح فرما دی گئی کہ ایمانداری کا تقاضا ہے کہ تم لوگ باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو کہ سچے ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے کہ انسان صدق دل سے اپنے خالق ومالک کے حکم کے آگے جھک جائے، تو پھر سودخوری جیسے سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب اس سے کس طرح متصور ہوسکتا ہے۔ سو اس کے باوجود جو لوگ سودخوری سے باز نہیں آتے وہ درحقیقت مومن و صادق نہیں، اگرچہ وہ زبانی کلامی طور پر ایمان کے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہوں۔ کیونکہ دین کے کچھ حصوں کو ماننا اور کچھ کو نہ ماننا ایمان نہیں کفر ہے، جس کی سزا " خلود فی النار " ہے، (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:279799 سود خوروں کیخلاف اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد میں تصریح فرما دی گئی کہ اگر تم لوگوں نے سود چھوڑنے کے اس حکم پر عمل نہ کیا تو تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے۔ کیونکہ یہ اس کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے، جو اس سے بغاوت کے مترادف ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظَیْمِ ۔ اور اس محاربہ اور جنگ کی کامل اور آخری شکل کا ظہور تو قیامت کے روز ہی اس وقت ہوگا جبکہ حقائق سے پردہ اٹھے گا، اور سب کچھ اپنی اصل شکل میں سامنے آجائے گا، جبکہ وہاں پر مرابی (سود خور شخص) کو بطور تذلیل و تحقیر کہا جائیگا کہ اپنے ہتھیار لو، اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑو۔ " خُذ سَلاحَکَ وَحَارِب اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ " (جامع البیان، صفوۃ، وغیرہ عن ابن عباس) ۔ مگر اس سے پہلے اس دنیا میں بھی اس کی مختلف کیفیات ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کیخلاف اعلان جنگ کا نتیجہ و انجام محتاج بیان نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سود خوری کا جرم کس قدر سنگین جرم اور کتنا بڑا گناہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَ عَلَا ۔ اس آیت کریمہ سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ اللہ پاک کی مقرر کردہ حدوں کو توڑنا اور اس کے واضح احکام کی جان بوجھ کر اور کھلم کھلا خلاف ورزی کرنا، دراصل اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرے اس سے بڑھ کر بدبخت، ظالم، اور ناکام و نامراد، اور کون ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف جو لوگ اس کے باوجود سود کھا رہے ہیں وہ اپنے بارے میں سوچ لیں اور خود دیکھ لیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے فتنہ و فساد اور ہر قسم کی گمراہی سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
800 نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر کوئی ظلم کیا جائے : یعنی نہ تم سود لو کہ یہ دوسروں پر ظلم ہے، اور نہ تمہیں اپنے اصل سرمایہ اور راس المال سے محروم کیا جائے گا کہ یہ تم پر ظلم ہوگا۔ اگرچہ یہ ارشاد یہاں پر سود خوری کے بارے میں، اور اسی کے ذیل میں ارشاد فرمایا گیا ہے، لیکن اس کو عموم الفاظ سے ایسے عام ضابطے اور کلئے کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے، کہ یہ اس طرح کے ہر موقع و مقام پر چسپاں ہوتا ہے، کہ نہ تم کسی دوسرے پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر ظلم کرے۔ پس ظلم کی ہر شکل سے خود بھی بچنا چاہیئے اور دوسروں کو بھی بچانا چاہیئے۔ سو دوسروں کو ظلم سے بچانا دراصل اپنے آپ کو ظلم سے بچانے کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:280801 تنگ دستوں کے ساتھ نرم روی کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تنگ دست سے درگزر کرنا اور اس کو معاف کردینا بہت بہتر ہے۔ـ سو اگر تم لوگ جانتے ہو حق اور حقیقت کو کہ ایسے میں اس سے تم کو خود یقین ہوجائیگا کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہے، دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی، اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی، کہ اس سے تم کو دنیا میں دل کا سرور، اور سچی خوشی نصیب ہوگی۔ حقیقی عزت و احترام اور پاکیزہ زندگی میسر آئیگی، اور آخرت کا اجر وثواب بھی، جو وہاں پر کئی گنا بڑھا کر اور کہیں بہتر شکل میں ملے گا ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسی عمدہ، پاکیزہ اور رحمت بھری اور انقلاب آفریں تعلیمات ہیں یہ جن سے اس دین حق نے دنیا کو نوازا ہے، کہاں وہ صورت حال کہ سودخوری کے ذریعے انسان دوسرے کا خون چوستا، اور پیسے سے پیسہ کھینچنے کی فکر اور تگ و دو میں لگا رہتا ہے، اور کہاں یہ انقلاب آفریں درس کہ مقروض اور حاجت مند انسان سے تم لوگ اپنی اصل رقم بھی واپس مت لو، بلکہ وہ بھی اللہ کی رضا کیلئے اس کو بخش دو اور معاف کردو۔ دونوں تصویریں ایک دوسرے کی بالکل عکس اور ضد ہیں۔ اسی لئے محققین اور مفکرین کا کہنا ہے کہ سودی نظام اسلامی نظام کے بالکل مغایر و مخالف نظام ہے۔ اور یہ دونوں نظام ہر اعتبار سے ایک دوسرے کے مقابل و معاکس ہیں، مگر افسوس کہ آج خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اس سے ناواقف و بےبہرہ ہے، اور وہ اسی سودی نظام میں جکڑی ہوئی ہے، جسکے نتیجے میں وہ طرح طرح کے مصائب میں پھنسی ہوئی ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ -