2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو توڑتے ہیں اللہ کے عہد کو اس کے پختہ کرنے کے بعد اور جو قطع کرتے ہیں ان (تعلقات اور رشتوں) کو جن کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور وہ فساد پھیلاتے ہیں (اللہ کی) زمین میں یہی لوگ ہیں خسارے والے

85 اللہ کے عہد سے مراد اور اس کا عموم ؟ : " عَہْدُ اللّٰہ ِ " سے مراد ہر وہ عہد ہے جسکی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو، اور اس لفظ کا عموم ایسے سب ہی عہدوں اور وعدوں کو شامل ہے جو اس وحدہ لا شریک کے واسطے سے کئے گئے ہوں، خواہ وہ انسان نے اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ سے کئے ہوں، جیسے عہد فطرت اور عہد اَلَست اور عہد ایمان و اسلام، وغیرہ، اور خواہ وہ عہد ہوں جو انسان نے کسی دوسرے انسان سے اللہ کے نام پر کئے ہوں۔ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کے نام پر باندھے گئے ان عہدوں کو توڑنا اور ان کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر من مانی کرنا ان فاسقوں، بدکاروں کا ہمیشہ کا طریقہ و وطیرہ رہا ہے۔ کل بھی یہی تھا، اور آج بھی یہی ہے، جیسا کہ آج کل بوسنیا ہر زگوینا کے نہتے اور مظلوم مسلمانوں پر سرب قوم کی طرف سے توڑے جانے والے کھلے اور ہولناک مظالم کی شکل میں ہو رہا ہے، اور دن دیہاڑے اور حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹنے والی استعماری قوتوں کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، مگر کوئی نہیں جو ظالم سربوں کو روکے، اور ان کے ہاتھوں کو توڑے، اور ان سے پوچھے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟ اور مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں، اور قلب یورپ میں واقع اس چھوٹے سے ملک میں صدیوں سے رہتے بستے آرہے ہیں۔ بس ابنائ کفر و باطل یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح ان کا خاتمہ کردیا جائے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے یورپ سے حق و صداقت کے اس ٹمٹماتے چراغ کو بھی کسی طرح گل کردیا جائے، تاکہ کفر و شرک، اور الحادو زندقہ، کے اندھیرے اور گہرے ہوجائیں، اور یورپین ممالک کی حیوانیت سافرہ کو اپنی انا کی تسکین کے لئے ننگا ناچ ناچنے میں کہیں سے کوئی خطرہ و قدغن نہ ہو، اور اسلام کی نورانی کرنیں جو مختلف اطراف و جہات سے مادہ پرستی اور خواہشات نفس کی پیروی کے اس ظلمت کدے پر پڑ رہی ہیں، وہ وہاں پر پڑنے نہ پائیں، اور ان مسلمانوں کو یورپ کے اندر کوئی مستقر اور ٹھکانا میسر نہ آئے ۔ { وَیَاْبَی اللّٰہُ الاَّ اَنْ یُتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ } ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ وَنَتَضَرَّعُ اَنْ تَنْصُرَ الاِسْلاَمَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ کُلّ مَکَانٍ وَ فِیْ کُلّ زَمَان، مِنُ مَشَارِق الاَرْض وَمَغَارِبِہَا ۔ فَاَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَیْکَ التُّکَلاَنُ اَنْتَ رَبُ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ وَاَنْتَ عَلٰی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْر۔ 86 رشتوں اور تعلقات کے جوڑنے کا حکم : یہاں بھی کلمہ " ما " کا عموم ایسے سب ہی علائق کو عام اور شامل ہے جن کو ملانا اور قائم رکھنا مطلوب و مقصود ہے، جن میں سب سے پہلا علاقہ وتعلق انسان کا اپنے رب سے ہے، کیونکہ وہ اس کا خالق ومالک اور مُنِعم و وَہَّاب ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حقیقت حال بہرکیف یہی ہے کہ انسان کے جسم کے اندر اور اس سے باہر اس پوری کائنات میں پھیلی ہوئی جو بےحد و حساب نعمتیں ہیں، یہ سب کی سب اسی وَحْدَہٗ لا شَرِیْکَ کی بخشی ہوئی ہیں، جو اس نے اپنے کرم لا محدود اور احسان لامتناہی سے انسان کو بخشی ہیں، اور انسان کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر اس نے ازخود اس کو بخشی ہیں، بلکہ ان میں سے کتنی ہی بےحدو حساب نعمتیں ایسی ہیں جن کا انسان کو علم و ادراک بھی نہیں، اور وہ ان سے برابر مستفید ہو رہا ہے، کیا اس کے اس کرم و احسان کا کوئی ٹھکانہ اور کنارہ ہوسکتا ہے ؟ . سبحانہ وتعالی اس لئے سب سے پہلا، سب سے بڑا، اور سب سے مقدم حق، اسی وحدہ لا شریک کا ہے، اور وہ ہے اس کی محبت اور اطاعت و بندگی، جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ } ۔ کہ سچے اور پکے ایمان والوں کو سب سے زیادہ محبت اللہ پاک ہی سے ہوتی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پھر اس کے بعد دوسرا علاقہ وتعلق ہے انسان کا اپنے رسول اکرم ﷺ سے، جنہوں نے آکر انسان کو رب سے ملایا، اسے اپنے رب کی صحیح پہچان کرائی، اور اس کو حیوانیت محضہ اور نفسانیت بحتہ کے قعر مذلّت سے نکال کر اس کو اشرف المخلوقات ہونے کے اعلے مقام اور شرف و امتیاز سے آگہی بخشی، اور اس کو دوزخ کے کنارے سے ہٹا کر جنت کی نعمتوں تک پہنچایا ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلامُہٗ عَلَیْہ وَعَلٰی اٰلِہ الاَطْہَار وَاَصْحَابِہ الاَخْیَار، مَا تَعَاقَبَ اللَّیْلُ وَ النَّہَارُ ۔ پھر اس کے بعدانسان کے خود اپنے والدین کے حقوق و تعلقات ہیں، اور پھر دوسرے رشتہ داروں وتعلق داروں اور عام انسانوں کے حقوق و تعلقات ہیں۔ سو ان سب کو قائم رکھنا اور درجہ بدرجہ ان کی رعایت و پاسداری کرنا سب کلمہ " ما " کے اس عموم میں داخل ہے، (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفا سیر، روح المعانی، اور المنار، وغیرہ وغیرہ) ۔ سو ان تمام تعلقات کو قائم کرنا مومن صادق سے مطلوب ہے اور ان کو قطع کرنا، فاسقوں اور بدکاروں کا کام ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 87 دین حق سے روگردانی فساد فی الارض والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ اللہ کے دین سے منہ موڑنا فساد فی الارض ہے : کہ ایسے لوگ اللہ کے دین اور اس کے احکام سے منہ موڑ کر، بلکہ ان کے خلاف چل کر اور اعلانیہ اور برملا چل کر، اللہ کی زمین میں فساد پھیلاتے اور اس کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ اللہ پاک جو کہ خالق ومالک حقیقی ہے، اس کے احکام واوامر سے منہ موڑ کر بغاوت و سرکشی کی راہ پر چلنا ہی در اصل منبع ہے فتنہ و فساد اور خرابی و تباہی کا۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے اور تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اللہ کے دین حق کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنانا اصلاح ہے، اور ان سے منہ موڑنا اور انحراف برتنا فساد اور تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جو لوگ دین حق کی دعوت دیتے اور مخلوق کو خالق سے ملانے اور اس کے آگے جھکانے کی سعی کرتے ہیں وہی ہیں اصلاح کرنے والے، اور دنیا کو صحیح راہ پر ڈالنے والے اور انکے محسن ۔ اللہ ان کو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے اور ان کو اعداء و اَشرار کے شرور سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ 88 نور حق سے محرومی قطعی خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو نور حق و ہدایت سے محروم لوگ قطعی طور پر خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ مزرعہ دنیا (دنیا کی اس کھیتی) سے آخرت کی حقیقی اور دائمی سعادت، اور فوز و فلاح کی دولت کمانے کی بجائے انہوں نے الٹا اپنی بغاوت و سرکشی اور بےراہ روی، و نفس پرستی کی بناء پر عقل سلیم کے جوہر، اور فطرت مستقیم کے اصل سرمایہ اور راس المال ہی کو ضائع کردیا، سو اس سے بڑھ کر خسارہ و نقصان اور کیا ہوسکتا ہے ؟ کہ یہ دنیا بھی گئی اور آخرت بھی گئی، اور دنیا و آخرت دونوں کا یہ خسارہ سب سے بڑا اور کھلم کھلا خسارہ ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { خَسِرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃ، ذٰالِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمبُِیْن } ۔ ( سورة الحج : 1 1) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایسا خسارہ ہے کہ اس کی پھر تلافی وتدارک بھی ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لیے یہاں پر اس کو حصر کے اسلوب میں بیان فرمایا گیا ہے کہ مبتدا و خبر دونوں معرفہ ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان ضمیر فصل واقع ہے۔ اور یہ اسلوب حصر و قصر کا اسلوب ہے۔ پس اس کا ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ ایسے ہی لوگ ہیں خسارے والے۔ اور جب نور حق و ہدایت سے محرومی ایسا ہولناک خسارہ ہے تو پھر کیا ٹھکانا ہوسکتا ہے ان بدبختوں کا جو راہ حق و ہدایت سے روکنے اور نور حق کو بجھانے کی کوششیں کرتے اور اس کی لیے وہ طرح طرح کے ابلیسی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے پوری دنیا میں ہو رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کے ساتھ (اے منکرو ! ) حالانکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی (کی یہ عظیم الشان نعمت) بخشی پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے (اور دے گا) اور وہی تمہیں زندگی بخشتا ہے (اور بخشے گا)4 پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاتے ہو (اور لوٹائے جاؤ گے)

89 انسان کا وجود عنایت خداوندی کا ایک عظیم الشّان مظہر : کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کتم عدم سے نکال کر خلعت وجود سے نوازنے کا عظیم الشان اور بےمثل انعام و احسان اس پر فرمایا، سو تم لوگ سوچو کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے تم لوگ مختلف اجزاء و ذرات کی شکل میں پھیلے بکھرے تھے، جو کہیں پانی اور ہوا میں پرا گندہ و منتشر تھے، اور کہیں مٹی اور دوسرے مختلف غذائی اجناس واقسام میں پھیلے ہوئے، اور مختلف درجات و طبقات میں اور مختلف حالات میں تھے، اور اس قدر پراگندہ و منتشر اور پر دئہ عدم میں مخفی و مستور، کہ اس حضرت انسان کا کہیں کوئی نام و نشان اور ذکر تک موجود نہ تھا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا : { ہَلْ اَتٰی عَلَی الاِنْسَان حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْر لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا }، " بیشک انسان پر ایک ایسا دور بھی اس لمبے زمانے میں گزرا ہے جس میں یہ کوئی ایسی شیَ نہ تھا جس کا ذکر کیا جائے " (الدھر : 1) ۔ تو اس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنی قدرت بےنہایت، اور رحمت و عنایت بےغایت سے، انسان کو ان تمام پر پیچ مراحل سے گزار کر، اور اسے کتم عدم سے نکال کر خلعت و جود سے نوازا، اور " اَحْسَن تَقْوِیْم ٍ " (بہترین ساخت) پر پیدا فرما کر اسے اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا، تو اب کس قدر ظلم، اور کتنی بےانصافی ہے، کہ یہی انسان اسی وحدہ لا شریک کے ساتھ کفر و انکار کا معاملہ کرے اور کفران نعمت سے کام لے ؟ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعظِیْم ۔ 90 زندگی بخشنا اللہ ہی کا کام اور اسی کا اختیار ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے تم کو نعمت وجود سے نوازا : اور نعمت وجود وحیات ایسی عظیم الشان نعمت ہے، جو کہ دوسری تمام نعمتوں کی اصل ہے۔ جس سے تم اس دار دنیا میں متمتع و مستفید ہو رہے ہو، اور جو دوسری تمام نعمتوں سے سرفرازی کیلئے اصل اور اساس ہے، اور جو تمہاری پہلی اور دنیوی زندگی ہے، اور آج تمہیں اس دنیا میں حاصل و میسر ہے، اور جس میں اپنے عمل و کردار سے تم لوگ آخرت کی حقیقی اور اَبَدی زندگی میں، وہاں کی نعیم مقیم سے سرفرازی کا سامان کرسکتے ہو، کہ اس کے بعد اس کیلئے کوئی موقع ممکن نہیں ہوگا، سو عدل و انصاف اور عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حیات و وجود کی اس عظیم الشان نعمت کی قدر کرے، اور اس کو اپنے خالق ومالک کا عطیہ و احسان سمجھ کر اس کو اس کی اطاعت و بندگی میں صرف کرکے اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی زندگی اور اس کا وجود اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ و احسان ہے۔ اگر انسان سر سے پاؤں تک اپنے جسم اور جسم کے مختلف حصوں اور اعضاء وجوارح ہی پر غور و فکر کی نگاہ ڈالے تو اس کی نگاہ روشن ہوجائے۔ اور یہ دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک کر اپنے اپنے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرلے۔ پھر اسی سے اس بارے غور کیا جائے کہ اپنے اس خالق ومالک سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بڑی بےانصافی ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر ظلم اور بےانصافی یہ کہ انسان اپنے اس خالق ومالک کو بھول کر اور اسکے درِاقدس کو چھوڑ کر اوروں کے آگے جھکے۔ نیز یہیں سے انسان یہ بھی دیکھے اور سوچے کہ جب اس کے جسم کے اندر اور باہر کی ان عظیم الشان نعمتوں کی تخلیق و ایجاد اور بخشش و عطا میں کوئی اس وحدہ لا شریک کا شریک نہیں تو پھر اس کے حق عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 91 سلسلہ موت وحیات اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے : ۔ سو " اِحیاء " و " اِماتت " یعنی " زندگی بخشنا " اور " موت دینا " سب کچھ اللہ وحدہ لا شریک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو موت وہی دیتا ہے کہ آج بھی اور ہر لحظہ اور ہر ساعت میں کتنے ہی لوگ مرتے اور پیوند خاک ہوتے جاتے ہیں، اور آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ بساط ارض لپیٹ دی جائے گی، اور اس سب ہنستی بستی دنیا کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے گا۔ قیام ساعت کا بگل بج جائے گا، اور دوسرا ابدی اور آخری جہاں نئے قوانین و نوامیس کے تحت وجود میں آجائے گا۔ زندگی بخشنے اور موت دینے کا یہ ایک عام اور معروف مفہوم ہے، لیکن اس احیاء و اِمَاتت کا یہ عمل در اصل انسانی جسم میں لگاتار چلتا رہتا ہے، جس کے مطابق اس کے جسم کے اندر قوت و انرجی ( ENERGY) کے سیل (CELLS) برابر بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سائنسی تحقیق کے مطابق دس سال کے عرصے میں اسی انسانی جسم کے برابر ایک اور جسم بن کر ختم ہوجاتا ہے۔ سو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک انسان کی عمر مثلاً ایک سو سال ہے تو اس مدت میں اس کے جسم کے اندر، اسی کے برابر کے دس جسم اور بن کر ختم ہوگئے ہیں، اور یہ سب کچھ اس باریکی و تسلسل، اور اس قدر حکمت و تنظیم کے ساتھ ہوتا رہتا ہے، کہ خود انسان کو بھی اس کی کوئی خبر یا کسی درجہ میں کوئی احساس تک بھی نہیں ہوتا ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ قَادِرٍ قَیُّوْمٍ جَلَّ وَعَلاْ ۔ اگر سائنس کا یہ نظریہ و انکشاف درست اور مبنی بر حقیقت ہے تو یہ قرآن حکیم کا ایک زبردست معجزہ ہے کہ اس کتاب مقدس نے جس چیز کی خبر پندرہ سو سال قبل دی تھی، جبکہ اس طرح کے کسی انکشاف کا دور دور تک کوئی تصور بھی نہ تھا، سائنسی ترقی اب کہیں جا کر اس کا ادراک و انکشاف کرسکی ہے، اسی لئے " یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ " کے صیغوں کا ترجمہ ہم نے استمراری الفاظ کے ساتھ کیا ہے، جو کہ فعل مضارع کا اصل مفہوم و مصداق ہے۔ جبکہ عام اردو تراجم میں ایسے نہیں کیا جاتا ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا، اللہ پاک ہی کی شان اور اسی کی صفت خاصہّ ہے، اس کے سوا اور کسی کیلئے بھی یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ کسی زندہ کو مار سکتا ہے، یا کسی مردہ کو زندہ کرسکتا ہے، قطعی طور پر غلط اور اس ارشاد ربانی کے صریح طور پر خلاف ہے۔ پس غلط اور قطعی طور پر غلط اور شرکیہ بات کرتے ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں قبر والے نے فلاں شخص کو مار دیا، یا فلاں بزرگ نے برسوں کی ڈوبی ہوئی بیڑی کو زندہ کرکے نکال دیا وغیرہ، یہ سب باتیں غلط اور شرکیہ باتیں ہیں، اور اہل بدعت اس طرح کی باتیں کرکے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح کی تمام خرافات سے اپنے دامن کو بچا کر رکھنا چاہیے کہ یہ سب شرک کے پلندے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ 92 " اِحیاء و امِاتَت " کا عمل مسلسل اور برابر جاری ہے : یعنی آج بھی ایسے ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا، یہاں بھی بعینہ وہی تفصیل و ترتیب ملحوظ رکھی جائے جس کا ذکر ابھی اوپر حاشیہ نمبر 9 1 میں ہوا۔ یہاں سے ایک اور بات یہ بھی ظاہر اور واضح ہوگئی کہ زندگی بخشنا اور موت دینا وغیرہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت اختیار میں اور اسی وحدہ لا شریک کی صفت ہے۔ پس یہ کہنا یا سمجھنا کہ فلاں ہستی زندہ کرسکتی ہے، یا موت دے سکتی ہے، جیسا کہ بعض کلمہ گو مشرک سمجھتے اور کہتے ہیں، اور اسی بناء پر ایسے لوگ طرح طرح کے مشرکانہ نام بھی رکھتے ہیں، سو یہ سب غلط اور شرکیات میں سے ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا نہ کوئی زندگی بخش سکتا ہے اور نہ ہی موت دے سکتا ہے، یہ سب اسی کی صفت و شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جن بدعتی مشرکوں نے بارہ سال کی ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالنے، اور اس میں بیٹھی بارات کو زندہ کرنے کا ایک جھوٹا اور من گھڑت افسانہ مشہور کر رکھا ہے، وہ سب جھوٹ، شرک اور نصوص کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 93 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : ۔ سو سب معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اور لوٹائے جائیں گے۔ یعنی آج بھی ایسے ہی ہو رہا ہے کہ تمہارے جملہ امور و معاملات کے اصل حقیقی اور آخری فیصلے اسی وحدہ لا شریک کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں ہوتے ہیں، مگر اس کا کامل اور پورا ظہور کل قیامت کے اس جہاں میں ہوگا جو کہ کشف حقائق اور مشاہدہ و ظہور کا جہاں ہوگا، جہاں اسباب و وسائط کے وہ سب حجاب اٹھ جائینگے جو آج اس دنیا میں حقائق تک رسائی میں آڑ اور رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، اور تم سب نے بہرحال لوٹ کر اس کے حضور جانا، اور زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں، سو بندے کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے اس خالق ومالک کے حضور حاضری کو یاد رکھے اور اس کیلئے تیاری کرے، قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے کہ پھر اس کے دوبارہ ملنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے پیدا فرمایا تمہارے لئے (اپنی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے) وہ سب کچھ جو کہ زمین میں سے ہے، پھر اس نے توجہ فرمائی آسمان کی طرف تو برابر کردیا ان کو سات آسمانوں کی صورت میں بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے

94 سب نعمتیں انسان کے لئے : ۔ سو زمین کی یہ سب عظیم الشان، اور گوناگوں نعمتیں حضرت ِحق جل مجدہ نے انسان ہی کیلئے پیدا فرمائی ہیں۔ اور جس سے تم لوگ ہر لمحہ و لحظہ اور طرح طرح سے مستفید و فیض یاب ہوتے رہتے ہو، اور اس قدر کہ اس کا احصاء و شمار بھی کسی کے بس اور اختیار میں نہیں۔ سو اس سے تم اندازہ کرلو کہ وہ وحدہ لا شریک کس قدر علیم و قدیر، کتنا رحیم و کریم، اور کتنا فیاض و مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پھر اس کے ساتھ کفر و انکار کا معاملہ کرنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کو اس وحدہ لاشریک کا شریک مانا جائے جن کا اس میں کوئی دخل ہی نہیں، کتنا بڑا ظلم اور کس قدر ہولناک اور سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب زمین کی ان گوناگوں نعمتوں کے پیدا کرنے میں اسکا کوئی شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اسکا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ ‘ لاشریک کا حق ہے اور حمد وشکر کا مستحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 95 کائنات قدرت خداوندی کا عظیم الشان مظہر : سو ساتوں آسمان اور یہ پوری کائنات اللہ پاک کی رحمت و عنایت اور قدرت مطلقہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے، اور جب ان سب کے پیدا کرنے، اور ان کے قائم اور باقی رکھنے میں، کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اسکا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس ہر طرح کی عبادت و بندگی اسی اور صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تمہارے آگے پیچھے پھیلے بکھرے قدرت کے یہ عظیم الشان نشان اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی عظمت شان، اس کی وحدانیت مطلقہ اور اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا درس دے رہے ہیں۔ پھر بھی جو لوگ اس خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور ہر چہارسو پھیلے بکھرے کائنات کے اس عظیم الشان مدرسہ علم وحکمت سے کوئی درس نہیں لیتے، وہ کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس سے بڑھ کر ظلم اور بےانصافی یہ کہ وہ اس خالق ومالک کی عطا و بخشش فرمودہ ان بےحد و حساب نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے اور ان کو اس میں شریک قرار دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 96 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے : سو وہ ہر چیز کو اس کے ظاہر و باطن، اور مبداء و منتہا، ہر اعتبار سے، جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے، بخلاف انسان کے کہ یہ زیادہ سے زیادہ کسی چیز کے ظاہری اور مادی پہلو تک ہی رسائی حاصل کرسکے گا اور بس، اور وہ بھی بڑی مشکل سے، اور وہ بھی کسی خاص زاویہ نگاہ سے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیَاۃ الدُّنْیَا وَہُمْ عَن الآخِرَۃ ہُمْ غَافِلُوْنَ } ۔ (الروم :7) ۔ سو اس خالق ومالک وحدہ لاشریک کے کسی حکم و ارشاد کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے حکم و ارشاد سے اعراض و روگردانی کس قدر خسارے کا سودا ہے، ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ سب کچھ جانتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ اس لیے کوشش ہمیشہ یہ ہو کہ اس خالق ومالک، علیم وخبیر اور سمیع وبصیر سے ہمارے ظاہر و باطن کا تعلق درست ہو کہ یہی اساس و بنیاد ہے صلاح و فلاح کی۔ اور اسی پر مدارو انحصار ہے دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی کا ۔ اللہم فہذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بہا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام ۔ یا من بیدہ ازمۃ کل شیء -
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ (اے فرشتو ! ) بیشک میں بنانے والا ہوں زمین میں (اپنا) ایک خلیفہ تو فرشتوں نے عرض کیا کہ (مالک) کیا آپ زمین میں ایسے شخص کو (اپنا خلیفہ) بنائیں گے جو اسمیں فساد مچائے اور خون ریزی کرے حالانکہ ہم برابر تسبیح کرتے ہیں آپ کی حمد (و ثنا) کے ساتھ اور ہم آپ کی تقدیس کرنے میں لگے ہوئے ہیں1 فرمایا میں پوری طرح جانتا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں جانتے

97 تخلیق آدم کے قصے کی یاد دہانی : کہ اس میں بھی بڑے عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت ہیں، اور ایسی عظیم الشان روحانی اور معنوی نعمتیں، جن سے اس وحدہ لا شریک نے محض اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے حضرت انسان کو نوازا ہے۔ پس یہ قصہ آدم اور تکریم آدم یاد کرو اور کراؤ، تاکہ لوگ اس سے سبق لیں اور اس طرح ہر قسم کے شرک اور شائبہ شرک سے بچ کر، خالص اپنے رب کی رضا کے لئے، دل و جان سے اس کے حضور جھک جائیں، جو اس وحدہ لاشریک کا تم پر حق ہے، اور جس میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ اس سے انسان اپنے مرتبہ و مقام کو پہچان سکے، اور صدق دل سے اپنے رب کے حضور جھک کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکے، کہ بندے کی بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ دل و جان سے اللہ پاک کے حضور جھکے۔ وباللہ التوفیق ۔ 98 خلیفہ کا معنی و مفہوم اور اس کا تقاضا ؟ : جو وہاں پر میرے احکام کی تنفیذ کرے گا، اور ان کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے وہ زمین کی تعمیر و اصلاح کا کام کرے گا، پس خلیفہ کے اسی ایک لفظ سے آدم اور اولاد آدم کا تمام نظام حیات اور دائرہ کار واضح ہوگیا کیونکہ خلیفہ اور نائب وہ ہوتا ہے جو کہ اپنے اصل اور منوب عنہ کا نمائندہ اور اس کا نائب ہوتا ہے، اس کا کام اس کے احکام کو نافذ کرنا ہوتا ہے، اور اسی کے مقرر کردہ دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرنا اس کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے، پس نہ وہ آزاد و خود مختار ہوتا ہے، کہ جو چاہے کرے اور خود اپنی مرضی و خواہش سے قانون سازی کرے، اور نہ ہی وہ اپنے منوب عنہ کے مقرر کردہ قوانین کی خلاف ورزی کرسکتا ہے، ورنہ اسے نہ صرف یہ کہ منصب خلافت و نیابت سے معزول کردیا جائے گا، بلکہ وہ مستوجب عقوبت قرار پائے گا، پس مغرب کی وہ مادہ پرستانہ اور مادر وپدر آزاد جمہوریت جس میں انسانوں کی گنتی اور عددی اکثریت کی بناء پر اخلاقی حدود تک کو پھلانگ کر قانون سازی کی کھلی اجازت ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، آخر اس کا اسلامی قانون اور اسلامی دستور اور نظام خلافت سے کوئی لگاؤ اور جوڑ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ جہاں کہ انسان کیلئے وہ خاص حدود وقیود ہیں جو کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے مطابق ہیں، اور ان سے خروج کیلئے کسی کیلئے کوئی اجازت نہیں ہوگی۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے خلافت آدم کا اعلان فرمایا۔ جس سے ان کا مرتبہ و مقام بھی واضح ہوگیا اور ان کی سعی و عمل کی حدود بھی متعین ہوگئیں۔ 99 اولاد آدم کی خونریزی کے خدشے کا اظہار : فرشتوں کو اولاد آدم کی اس خوبو کا اندازہ کس طرح ہوگیا ؟ کہ زمین میں جاکر یہ لوگ خونریزی کریں گے اور فساد مچا دیں گے، سو اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے مختلف قیاس آرائیاں کی ہیں، وہ سب ہی درست ہوسکتی ہیں، مگر جب کلام مجید میں اس کی کوئی تصریح نہیں فرمائی گئی تو ہمیں بھی " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآنُ " کے بنیادی اصول کے مطابق، اس میں زیادہ کھود کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہرکیف ان کو کسی طرح اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ اولاد آدم جاکر زمین میں فساد مچائیں گے تو اس بناء پر انہوں نے حضرت حق جل مجدہ کے حضور اس طرح عرض کیا اور تخلیق آدم سے متعلق حکمت جاننا چاہی کہ اس کے پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 100 فرشتوں کی تسبیح و تقدیس کا ذکر : یعنی ہم ہمیشہ اس تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں، آپ کی ذات اقدس و اعلیٰ پاک ہے ہر نقص و عیب سے، اور ہر طرح کے شائبہ شرک و اشتراک سے، اور یہ کام ہم فرشتے بدرجہ تمام و کمال بجا لا رہے ہیں، کہ تیری عبادت و بندگی، اور تسبیح و تقدیس کے سوا ہمارا اور کوئی کام ہی نہیں، تو پھر ایسے خلیفہ اور نائب کی تخلیق کی کیا ضرورت، جس سے فتنہ و فساد، اور قتل و خونریزی جیسے مہالک کا بھی خطرہ و خدشہ موجود ہو ؟ سو ان ملائکہ کرام کی طرف سے ایسا کہنا بطور اعتراض نہیں تھا کہ یہ بات تو ان کی فطرت وجبلت کے خلاف تھی کہ وہ اپنے خالق ومالک کے کسی امر و ارشاد پر اعتراض کریں کہ ان کی شان یہ نہیں ہے۔ پس ان کا ایسا کہنا اس کی حکمت جاننے کیلئے تھا نہ کہ اعتراض کرنے کی غرض سے کہ ان کی شان ۔ { لا یعصون اللہ ما امرہم و یفعلون ما یؤمرون } ۔ ہے۔ 101 حق تعالیٰ کی طرف سے حاکمانہ جواب کا ذکر : یعنی حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے فرشتوں کو حاکمانہ جواب تھا، کہ وہ وحدہ لاشریک حکیم بھی ہے اور حاکم بھی۔ بہرکیف وہ وحدہ لا شریک جب حاکم حقیقی اور مالک مطلق ہے۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ تو وہ اپنی مخلوق و ملکیت میں جو چاہے اور جیسا چاہے تصرف فرمائے۔ لیکن اس کا کوئی تصرف بھی چونکہ یونہی نہیں ہوتا بلکہ ٹھوس اور قطعی علم اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے، کیونکہ حاکم ہونے کے ساتھ ساتھ وہ " علیم " اور " حکیم " بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے آگے حکیمانہ جواب سے بھی فرشتوں کو اطمینان دلایا گیا۔ بہرکیف یہ امر واضح ہے کہ فرشتوں کا یہ سوال اعتراض کی نیت سے نہیں تھا، کیونکہ یہ ان کی صفت و شان ہے ہی نہیں، بلکہ ان کا یہ پوچھنا محض جاننے اور آگہی حاصل کرنے لئے تھا اور بس۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حاکمانہ جواب سے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
Ayahs 2:31–32

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور سکھائے اللہ نے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) آدم کو نام سب چیزوں کے پھر اس نے پیش فرمایا ان سب کو فرشتوں کے سامنے پھر فرمایا (ان سے) کہ بتاؤ مجھے نام ان چیزوں کے اگر تم سچے ہو

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ (مالک) ہم تو بس وہی کچھ جانتے ہیں جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے بیشک آپ ہی ہیں سب کچھ جانتے نہایت حکمتوں والے

102 تعلیم آدم بذریعہ تعلیم اسماء : سو حضرت آدم کو تعلیم اسماء کے ذریعے نور علم سے نوازا گیا، اور تعلیم کے سلسلہ میں یہی وہ فطری طریقہ ہے جو اب تک جاری وساری ہے۔ چناچہ یہ علم حضرت آدم کی طبیعت وجبلت اور ان کی فطرت میں اس طرح ودیعت فرما دیا گیا، کہ وہ خود اپنی زندگی میں بھی ان چیزوں سے کام لے سکیں، اور ان کے بعد قیامت تک آنے والی ان کی اولاد بھی اس فطری و جبلی علم سے مستفید و فیضیاب ہوتی رہے۔ کیونکہ حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) اور ان کی اولاد کو ان چیزوں سے واسطہ پڑنا تھا، اور ان کو ان کے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آنا تھی، اس لئے اللہ پاک نے فطرت والہام کے طور پر ان تمام چیزوں کے نام، ان کے خواص، اور ان کے استعمال کے طور طریقے آدم کو سکھا دئیے، اور یہ اسی فطری علم اور الہامی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ اولاد آدم آج تک کائنات عالم میں پھیلی ہوئی، ان بیشمار چیزوں سے طرح طرح سے استفادہ کر رہی ہے، اور نت نئے انداز سے اس میدان میں ترقی کر رہی ہے، اور قیامت تک کرتی جائے گی، جبکہ فرشتے نوری مخلوق ہونے کے باعث ان چیزوں کے نہ محتاج ہیں، اور نہ ہی ان کو ان سے استفادہ کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے، اس لئے ان کی فطرت وجبلت میں ان اشیاء کی تعلیم و دیعت نہیں فرمائی گئی، سو یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم میں اصل اور بنیادی تعلیم تعلیم اسماء ہی ہے، اور یہی طریقہ آج تک چلا آرہا ہے۔ چناچہ آج بھی ایک بچے کو تعلیم دینے کے لئے اسی سے کام لیا جاتا ہے۔ یعنی " مَا ہٰذَا " (یہ کیا ہے ؟ ) اور " مَا ذٰلِکَ " (وہ کیا ہے ؟ ) وغیرہ۔ نیز یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگی اور برتری کا سبب و معیار علم ہے، نہ کہ محض عبادت و بندگی، کہ فرشتوں کی عبادت و بندگی تو ضرب المثل تھی اور ہے، مگر اس کے باوجود خلافت و نیابت الٰہی کا شرف آدم اور اولاد آدم ہی کو بخشا گیا، جبکہ ان کا علمی تفوق فرشتوں پر واضح ہوگیا، اور فرشتوں کو صاف طور پر کہنا پڑا کہ مالک ! ہمیں اس کے سوا کچھ علم نہیں جو آپ نے ہمیں سکھایا، یہاں سے اہل بدعت کا وہ مغالطہ بھی رفع ہوگیا جو کہ وہ " کُلَّہا " کے عموم سے " علم غیب کلی " کے اپنے شرکیہ عقیدے کے بارے میں دیتے رہتے ہیں، کیونکہ اس کل سے مراد صرف وہ کل اشیاء ہیں جن سے آدم اور اولاد آدم کو واسطہ پڑنا تھا جیسا کہ حضرات مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے، ورنہ اگر اس کا وہی عموم مراد لیا جائے جو کہ اہل بدعت لیتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ حضرت آدم نے سب کچھ جاننے کے باوجود شیطان سے دھوکہ کیوں کھایا ؟ جس کے نتیجے میں ان کو جنت سے بھی نکلنا پڑا ؟ سو یہ ایک کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے اس بات کا، کہ حضرت آدم نہ عالم غیب تھے اور نہ ہی مختار کل، جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان کو وہی علم دیا گیا تھا جسکی ان کو اور ان کی اولاد کو ضرورت پیش آسکتی تھی۔
Ayah 2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

تب اللہ نے فرمایا (آدم سے) کہ اے آدم بتاؤ ان کو نام ان چیزوں کے سو جب بتا دئیے آدم نے ان کو نام ان سب چیزوں کے تو فرمایا (تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ) کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ بیشک میں جانتا ہوں سب چھپی باتیں آسمانوں کی اور زمین کی اور میں جانتا ہوں وہ سب کچھ جو کہ تم ظاہر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جسے تم چھپاتے ہو

103 آدم کا ذکر " مُعِلّم ملائکہ " کے اسلوب میں : دقّت تعبیر ملاحظہ ہو کہ فرشتوں کو جب ان چیزوں کے نام بتانے کو کہا گیا تو ان سے فرمایا گیا ۔ { اَنْبِئُوْنِیْ } ۔ " بتاؤ مجھے نام ان چیزوں کے " اور آدم کو جب یہی بات ارشاد فرمائی گئی تو ان سے فرمایا گیا ۔ { اَنْبِئْہُمْ بِأَسْمَائِہِمْ } ۔ " بتاؤ ان (فرشتوں) کو نام ان چیزوں کے "، سو اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آدم فرشتوں کے لئے استاذ اور معلم قرار دئے گئے۔ نیز یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ آدم خاکی کا مرتبہ نوری فرشتوں سے بڑا ہے کہ آدم کو ان کا مسجود بھی قرار دیا گیا، اور معلم بھی۔ پس ثابت ہوا کہ اہل بدعت کا یہ سمجھنا کہ نوری کا مرتبہ خاکی سے بڑا ہوتا ہے، اور اسی بناء پر یہ لوگ حضرات انبیاء کرام کی بشریت کا انکار کرتے ہوئے ان کو نوری مخلوق ثابت کرنے کے لئے نصوص کی تحریف تک سے نہیں چوکتے، تو وہ سب سراسر غلط اور باطل و مردود ہے۔ کیونکہ بشر اور خاکی کا مرتبہ نوری سے کمتر نہیں، جیسا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ ان سے بڑھ کر ہے، اور بار خلافت کا اہل اور حقدار بھی حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے اسی خاکی مخلوق کو قرار دیا گیا۔ اور تاج خلافت و نیابت کے شرف سے بھی انہی کو نوازا گیا، نہ کہ ان نوری فرشتوں کو، جو کہ ہمیشہ اس کی تسبیح و تقدیس اور عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ سو اس سے حضرت آدم کی عظمت شان بھی ظاہر ہوگئی اور علم کی فضیلت بھی ۔ والحمد للہ ۔ 104 سب غیب جاننا اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے سب غیبوں کو جاننا اللہ پاک ہی کی صفت و شان ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے سوا کسی کو بھی عالم غیب جاننا اور ماننا درست نہیں۔ بہرکیف اس سے یہ امر اچھی طرح واضح ہوگیا کہ آسمان و زمین کے سب غیبوں کو جاننا خدا وند تعالیٰ کی صفت خاص ہے، اس میں اس کی مخلوق میں سے کسی کو بھی شریک ماننا شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور قرآن پاک میں اس کے علاوہ دوسرے مختلف مقامات پر 34 1 مرتبہ علم غیب کو خدا وند تعالیٰ کی صفت کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے، لہذا حضرت حق جل مجدہ کے سوا کسی اور کے لئے علم غیب کا عقیدہ رکھنا بالکل شرکیہ عقیدہ ہے۔ حضرات انبیائ کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو غیب کا وہی علم حاصل تھا، جو ان کو بذریعہء وحی ملتا تھا، اور جو ان کے مقام و منصب کا تقاضا تھا اور بس۔ تمام کے تمام غیوب کو جاننا نہ تو ان حضرات کے مقام و منصب کے لئے ضروری تھا، اور نہ ہی ان حضرات میں سے کسی نے کبھی اس کا کوئی دعویٰ ہی کیا۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو غیب (اور پوشیدہ) کہنا بھی دراصل بندوں کے اعتبار سے ہے، ورنہ اللہ پاک سے تو کوئی بھی چیز مخفی نہیں کہ اس کی شان ہے ۔ { لایَخْفَی عَلَیْہ شَیْئٌ فِی الاَرْض وَلا فِی السَّمَآئِ } ۔ یعنی اس پر زمین و آسمان کی اس پوری کائنات میں کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں ہوسکتی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس غیب و شہود کی یہ تقسیم درحقیقت مخلوق کے اعتبار سے ہے، جیسا کہ دوسرے مقامات پر ارشاد ہوتا ہے ۔ { عَالِمُ الْغَیْب وَ الشَّہَادَۃ } ۔ " وہ ایک برابر جاننے والا ہے نہاں اور عیاں کا " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 105 اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن سب کو ایک برابر جانتا ہے : جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، یہی کہ آدم اور اس کی اولاد تو فساد برپا کرے گی، اور خونریزیاں کرے گی، جبکہ ہمارا کام ہی تیری تسبیح و تقدیس کرنا ہے، اور اس کے در پردہ جو بات تم چھپاتے ہو، وہ یہ ہے کہ اللہ کے یہاں ہم سے بڑھ کر مرتبہ کسی کا نہیں ہوسکتا، چناچہ وہ کہا کرتے تھے " لَنْ یَخْلُقَ اللّٰہُ خَلْقًا اَکْرَمَ مِنَّا "، " اللہ ہرگز ایسی کوئی مخلوق پیدا نہیں فرمائے گا جو اس کے یہاں ہم سے بڑھ کر عزت والی ہو " (صفوۃ التفا سیرج 1 ص 48، جامع البیان ج 1 ص 12 وغیرہ) بالفاظ دیگر خلافت آدم کے ظاہر کے اعتبار سے جو مفاسد تمہیں نظر آئے اور ان کی بناء پر تم نے یہ سوال کیا تاکہ تم اس اصل حقیقت سے واقف و آگاہ ہوسکو، جو اس ظاہر کے پیچھے مخفی و مستور ہے، سو وہ تم پر عیاں کردی گئی۔ بہر کیف اللہ تعالیٰ وہ سب کچھ بھی پوری طرح جانتا ہے جس کو تم ظاہر کرتے ہو، خواہ وہ اظہار کسی بھی شکل میں ہو اور وہ سب کچھ بھی اسے پوری طرح معلوم ہے جو تمہاری طبائع میں مخفی و مستور ہے (المنار وغیرہ) ، اور یہ صرف اسی وحدہ ‘ لاشریک کی صفت و شان ہے کہ عالم غیب وہی وحدہ لا شریک ہے۔ کوئی بھی اس میں اس کا شریک نہیں۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو) کہ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم سجدہ کرو آدم کو تو وہ سب سجدے میں گرپڑے بجز ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا اور وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوا اور وہ (علم الہی میں) پہلے سے ہی کافروں میں سے تھا

106 فرشتوں کو آدم کے آگے سجدہ کرنے کا حکم و ارشاد : یعنی تم ان کو سجدہ کرو ان کی تعظیم و تکریم کے لئے، ان کے اس علم کی بنا ئِ ، پر، جس سے ان کی فضیلت اور فوقیت تم پر ظاہر ہوچکی ہے۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ اصل شرف اور تفوق کا مدار علم پر ہے، نہ کہ محض عبادت پر (تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور (رح) ) اس طرح یہ سجود ایک طرف تو حضرت آدم کے استحقاق خلافت و نیابت کا اقرار و اعتراف تھا۔ اور دوسری طرف یہ در اصل اس بات کا عہد و اقرار بھی تھا کہ مہمات خلافت اور فرائض نیابت کی انجام دہی میں، فرشتے حضرت آدم کی معاونت و مساعدت کریں گے۔ اس طرح یہ سجدہ جو کہ حضرت حق جل مجدہ ہی کے حکم صریح کی تعمیل و بجاآوری کے لئے تھا، اور ان خاص حکم و مصالح کی بناء پر تھا، جن کا علم و احاطہ اللہ تعالیٰ ہی کو ہوسکتا ہے، اسکا حکم و جواز اسی وقت کے لئے تھا اور بس۔ ورنہ اصل یہی ہے کہ سجدہ خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا ہو اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے، اس کے علاوہ کسی اور کیلئے یہ نہ کبھی جائز تھا نہ جائز ہے۔ سابقہ شریعتوں میں بھی جن دوسری صورتوں میں کہیں یہ پایا گیا۔ وہ محض استثنائی حالات کے اعتبار سے تھا، ورنہ انتہائی عاجزی کے اس مظہر یعنی سجدے کا یہ عمل صرف اور صرف اسی ذات و حدہ لا شریک کا حق ہے، جو سب سے بڑی، اور تمام عظمتوں کی مالک و مستحق ذات ہے، یعنی اللہ رب العزت سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے شریعت اسلامیہ جو کہ گزشتہ تمام شرائع سماویہ کی مکمل اور ان کی ناسخ ہے، اس میں جا بجا اور طرح طرح سے اس امر کی تصریح و تاکید فرمائی گئی ہے کہ اب سجدہ اللہ کے سوا کسی کے لئے بھی جائز نہیں، خواہ وہ کسی بھی نوعیت و شکل کا سجدہ ہو۔ پس جو کوئی اللہ کے سوا کسی اور کیلئے سجدہ کرے گا وہ ایک امر حرام اور شرک کا ارتکاب کرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 107 استکبار باعث محرومی و ہلاکت، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ " اِستکبار " یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ ہلاکت و تباہی کا باعث۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شیطان نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں سجدہ کرنے سے انکار کرکے ہلاکت کی راہ کو اپنایا اور اپنی برائی کے اس گھمنڈ کی وجہ سے اس نے سجدے سے انکار کردیا، کہ میں اپنی اصل کے اعتبار سے جو کہ آگ ہے، افضل اور بہتر ہوں آدم سے، جو کہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کیوں کر کروں، جیسا کہ دوسرے مقامات پر اس کی تصریح موجود ہے، مثلاً سورة اعراف میں اس لعین کی اس سخن سازی اور منطق بازی کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے { قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہُ مِنْ طِیْنٍ } (الاعراف : 12) حالانکہ اس ملعون کے اس مفروضے کے مقدمات اور صغرے کبرے سب ہی غلط اور سرے سے بےبنیاد ہیں۔ ۔ وَالتَّفْصِیْلُ فِی الْمُطَوَّلات ۔ اگر حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے توفیق و عنایت شامل حال رہی، اور حیات مستعار نے وفا کی تو انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں اس پر دل کھول کر لکھیں گے۔ اب تو مقصد اختصار کے پیش نظر، قلم کو رہ رہ کر روکنا پڑتا ہے ۔ اللہ کرے وہ وقت بھی جلد نصیب ہو جبکہ قلم کا یہ رہوارکھلے میدان میں اپنی خواہش ومرضی کے مطابق کھلا چلے، مگر حق و صداقت کی حدود کے اندر، کھلا اور جیسے چاہے چلے۔ وَمَا ذٰالِکَ عَلَی اللّٰہ بِعَزِیْزِ ۔ وَھُوَ عَلٰی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْرِ ۔ سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ ۔ حضرت حق جل جلالہ کے حضور اور اس کے صریح حکم و ارشاد سے اس کی سرتابی میں ابلیس لعین کی اس منطق بازی سے یہ بھی عیاں ہوگیا کہ حق سے منہ موڑ کر محض اپنی نسلی اور خلقی و فطری اصلیت اور عصبیت کی بنا پر اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنا، محض شیطانی دھوکہ، اور ابلیسی فریب، اور دجل وتلبیس ہے، جس نے دنیا میں ہمیشہ ہولناک تباہیوں کو جنم دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس کی آج کی تازہ مثال مغربی اقوام اور خاص کر سرب قوم کی وہ ننگی جارحیت اور کھلم کھلا بربریت ہے، جو وہ قلب یورپ میں واقع چھوٹے سے مسلمان ملک بوسنیا ہر زگوینا پر گزشتہ تین سال سے علی الاعلان جاری رکھے ہوئے ہے، اور جسکے دوران لاکھوں بےگناہ مسلمانوں کے خون سے مسلسل ہولی کھیلی گئی اور لگاتار کھیلی جاری ہے۔ اور قصور ان کا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ مسلمان ہیں، مگر سربی قوم کے درندے ہیں کہ قومیت کے جھوٹے گھمنڈ اور زعم میں چور اپنے لئے نار دوزخ کا زیادہ سے زیادہ سامان کرنے اور ایندھن جمع کرنے میں دن رات مصروف ہیں، اور ان نہتے مسلمانوں پر وہ ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ فَاِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّا الَیْہ رَاجِعُوْنَ ۔ اَللّٰہُمَّ أْجُرْنَا فِیْ مُصِیْبَتِنَا وَاخْلِفْ لَنَا خَیْرًا مِّنْہَا ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِہِمْ- 108 ابلیس کے چھپے کفر کا اظہار : یعنی اس کے کفر کا ظہور اگرچہ اب اور اس خاص موقع پر ہوا مگر وہ تھا پہلے ہی سے کافر، جو کہ حضرت حق جل جلالہ کے علم میں تھا۔ پس اس صورت میں " کان " یہاں اپنے ظاہر پر ہے، اور یہی جمہور کی رائے ہے ۔ " وَالْجَمْہُوْرُ عَلٰی أَنَّ الْمَعْنٰی وَکَانَ فِیْ عِلْم اللّٰہ مِنَ الْکَافِرِیْنَ " ۔ (تفسیر المنار) اور بعض حضرات مفسرین نے یہاں پر " کان " کو " صار " کے معنی میں لیا ہے، یعنی یہ کہ وہ لعین اپنے اس انکار واستکبار کی بنا پر کافروں میں سے ہوگیا، مگر ابن فورک وغیرہ نے اس کو خطاء قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات اصول و ضوابط کے خلاف ہے (نفس المرجع) ۔ لیکن جمہور اہل علم سے بہرکیف یہ دونوں مطلب مروی و منقول ہیں اور وہ اس کے معنیٰ و مطلب کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ۔ " وکان فی سابق علمہ او صار من الکافرین " ۔ ( محاسن التاویل للقاسمی ) ۔ بہرکیف اس ملعون کے کفر کا ظہور اس موقع پر ہوا جبکہ اس نے حکم خداوندی کو ماننے اور اس کے آگے جھکنے سے انکار کیا۔ اور مزید یہ کہ اس نے اپنے تمرد اور سرکشی کو حکم خداوندی کی تعمیل سے بہتر سمجھا جو کہ کفر بالائے کفر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا (آدم سے کہ) اے آدم رہو تم بھی اور تمہاری بیوی بھی جنت میں اور کھاؤ (پیو) تم اس میں بفراغت جہاں سے چاہو مگر اس درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے

109 آدم و حوا کے لیے جنت کی نعمتوں کی اباحت و اجازت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت آدم و حوا کو جنت کی نعمتوں سے متمتع ہونے کی پوری آزادی : پس تم اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق جہاں سے چاہو کھاؤ پیو اور جیسے چاہو فائدہ اٹھاؤ، نہ کسی محنت کی ضرورت، نہ مشقت کی، نہ ختم ہوجانے کا کوئی ڈر، نہ کسی کمی کا کوئی خطرہ، کہ جنت کی نعمتوں کی شان یہی ہے کہ نہ وہاں کوئی روک ہے نہ ٹوک، اور ان کی شان ہے۔ { لامَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃ } ۔ اور یہ اس لئے کہ جنت اور اس کی یہ نعمتیں اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ضیافت و مہمانی ہیں جس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ } ۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے حضرت آدم اور حوا دونوں کو ارشاد فرمایا گیا کہ تم اس جنت سے پوری وسعت اور فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو کھاؤ پیو۔ تاکہ اس طرح تم تمام ماکولات اور مشروبات کے آثار و خواص اور منافع و مضار سے آگاہ ہو سکو اور پھر اپنے اسی علم و تجربے کے مطابق دنیا کے ماکولات و مشروبات میں تصرف کرسکو اور زمین میں تمہارے لیے جو اشجار و اثمار وغیرہ پیدا کیے گئے ہیں ان سے نفع اٹھا سکو اور ان کے مضار سے بچ سکو ( معارف للکاندھلوی ) ۔ 110 شجرہ ممنوعہ سے قرب کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضھ فرما دیا گیا کہ آدم و حوا کو شجرئہ ممنوعہ کے قریب پھٹکنے کی بھی ممانعت : تاکہ اس طرح تم حکم عدولی اور معصیت و نافرمانی کے اسباب و خطرات سے بھی دور اور محفوظ رہو۔ سو اس میں سدّ ذرائع کی تعلیم ہے، جو کہ شریعت مطہرہ کی حکمتوں بھری تعلیمات مقدسہ کا ایک اہم عنصر ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ وہ درخت کو نسا تھا ؟ تو اس کے متعلق قرآن پاک کی نصوص مطہرہ یا کسی صحیح حدیث میں کوئی تحدید و تعیین نہیں فرمائی گئی۔ البتہ حضرات مفسرین سے اس بارے مختلف اقوال منقول ہیں کہ یہ درخت گندم کا تھا، یا انگور کا، یا انجیر کا، وغیرہ۔ مگر جب نصوص شرعیہ میں سے کسی میں اس کی تصریح و تعیین نہیں فرمائی گئی، تو از خود اس کی تعیین و تصریح کی نہ تو کوئی ضرورت ہے، اور نہ ہی اس بارے یقین و وثوق کے ساتھ کوئی بات کہی جاسکتی ہے۔ سو جب کلام خداوندی میں اس کا ذکر مبہم طور پر آیا ہے تو اسے ابہام کے اس پردے میں ہی رہنے دیا جائے، کہ سلامتی اور بہتری کی راہ تو بہرحال یہی ہے، جیسا کہ محققین کا ارشاد ہے کہ ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآنُ " ۔ " جس چیز کو قرآن نے مبہم رکھا ہو تم بھی اس کو مبہم ہی رہنے دو "۔ بہرکیف کوئی درخت وہاں پر ایسا تھا جسکے بارے میں حضرت آدم سے بطور ابتلاء و آزمائش یہ ارشاد فرمایا گیا تھا کہ تم اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف آدم وحوا کو جنت میں پوری آزادی کے باوجود ایک خاص درخت سے روکا گیا تھا۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

مگر آخر شیطان نے پھسلا دیا ان دونوں کو اسی درخت کی بنا پر اور اس نے نکال دیا ان دونوں کو ان نعمتوں سے جن میں وہ (رہ رہے) تھے اور حکم دیا ہم نے (آدم اور حوا کو) کہ اتر جاؤ تم اس حال میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوؤ گے اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے اور برتنے (استعمال کرنے) کا سامان ایک (مقرر) وقت تک1

111 ازلال شیطانی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کا آدم و حوا کو اسی درخت کی وجہ سے پھسلا دینا : " عنہا " کی ضمیر کے مرجع میں دو احتمال ہیں کہ یا تو اس کا مرجع جنت ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ مطلب یہ کہ شیطان نے آدم و حوا کو دھوکہ دے کر جنت سے پھسلا دیا، صاحب جلالین وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور دوسرا احتمال اس ضمن میں یہ ہے کہ اس کا مرجع " الشَّجَرَۃُ " ہو، تب یہ " عَنْ اجْلِہ " ہوگا یعنی ابلیس لعین نے اسی شجرہ ممنوعہ کے ذریعے، اور اسی کی وجہ سے، حضرت آدم و حوا کو مبتلائ معصیت کردیا، جس سے وہ لغزش میں واقع ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ اس دوسرے احتمال میں جو معنویت اور قوت ہے وہ پہلے احتمال میں نہیں، اسلئے راجح احتمال یہی معلوم ہوتا ہے اور طبری (رح) وغیرہ جیسے محققین نے اسی کو اختیار کیا ہے، (صفوۃ التفاسیر، معارف القرآن، محاسن التاویل، وغیرہ) اس قصہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائ کرام ۔ علیھم الصلوٰۃ والسلام ۔ نہ عالم الغیب ہوتے ہیں، اور نہ ہی مختار کل، ورنہ ابوالبشر حضرت آدم جن کو حضرت حق جل مجدہ نے خودبراہ راست ایک امر سے منع فرمایا تھا، وہ اس طرح شیطان کے دھوکے میں آکر اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ کرتے۔ پس اس سے اہل بدعت کے حضرات انبیائ کرام ۔ (علیہ السلام) ۔ اور دوسرے بزرگان دین کے بارے میں علم غیب کلی اور اختیار کلی جیسے شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو راہ حق وصواب سمجھنے کی، اور اس کو اپنا نے کی توفیق بخشے، اور نفس و شیطان کی شرارتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ بہرکیف ابلیس لعین نے اپنے مکر و فریب سے ان دونوں کو لغزش میں مبتلا کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس کے نتیجے میں ان دونوں کو وہاں سے نکلنا اور وہاں کی نعمتوں سے محروم ہونا پڑا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 112 " اِھْبِطُوْا " کے صیغہ جمع سے مراد ؟ : یعنی " اِھْبِطُوْا " کے صیغہ جمع سے مراد تثنیہ ہے اور خطاب اس میں حضرت آدم و حوا سے فرمایا گیا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے۔ { قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا، بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ } ۔ (طٓہ : 123) اور آدم و حواء چونکہ اصل اور منبع ہیں اپنی جملہ ذریت کے لئے، اور آپ کی تمام ذریت بھی بالتبع اس حکم و ارشاد میں داخل اور اس کی مخاطب ہے، اسلئے خطاب بصیغہ جمع فرمایا گیا ہے (روح، و صفوۃ، وغیرہ) جبکہ بعض سلف کے نزدیک یہ خطاب آدم حوا اور ابلیس تینوں کے اعتبار سے ہے، اور یہی مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ سے، (المراغی وغیرہ) ۔ یعنی ان تینوں کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ تم یہاں سے اتر جاؤ، اس حال میں کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوؤ گے۔ سو معاصی وذنوب کا ارتکاب انسان کو منصہ عز و شرف سے گرا کر قعر مذلّت میں پہنچا دیتا ہے، جبکہ تقوی و طہارت سے اس کے مرتبہ و مقام میں اضافہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین، ثم آمین۔ 113 منہایت کا ارتکاب باعث خسارہ و نقصان : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خداوند قدوس کی منع کردہ اشیاء کے اپنانے اور اختیار کرنے کا نتیجہ و اثر فضائل سے محرومی اور رذائل کے ابھرنے کا باعث ہے، والعیاذ باللہ۔ چناچہ حضرت آدم و حوا کو اس حقیقت سے آگاہ فرمایا گیا کہ جنت سے محرومی کے بعد باہمی عداوت و دشمنی : یعنی اس شجرئہ ممنوعہ کے کھانے سے تمہارے اندر حسد، کینہ، اور عداوت و دشمنی وغیرہ کے ذمائم پیدا ہوگئے اور جنت چونکہ ایسی چیزوں کا محل اور مقام نہیں ہوسکتی، لہذا تم اس سے نکل جاؤ کہ ایسی چیزوں کی جگہ زمین اور دنیا ہے، سو اس کا مشاھدہ اس دھرتی پر آج تک برابر کیا جارہا ہے۔ شیطان ملعون کی ازلی دشمنی کے علاوہ خود اولاد آدم کی باہمی عداوت سے آج پوری روئے زمین آگ اور خون سے بھری ہوئی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جگہ جگہ جنگیں ہورہی ہیں، گنہگاروں اور بےگناہوں سب ہی کا خون بہہ رہا ہے، قتل و خونریزی کا بازار گرم ہے، خون کی ہولی جگہ جگہ اور طرح طرح سے کھیلی جارہی ہے، عزتیں لوٹی جارہی ہیں اور عصمتیں تار تار ہورہی ہیں وغیرہ، سو معاصی وذنوب کا ارتکاب بہرحال باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و انحراف ۔ 114 زمین میں قیام وقرار ایک مقررہ وقت تک کے لیے : سو آدم اور اولاد آدم کو بتادیا گیا کہ تمہیں زمین میں ایک مقررہ مدت تک ہی رہنا ہوگا اور بس۔ اس کے بعد تم سب کو بہرحال لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہوگا { ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ } اس کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں، سو زمین میں تمہارا قیام، اور وہاں تمہارا ٹھہرنا، ہمیشہ کا نہیں ہوگا، بلکہ ایک محدود و مقررہ مدت تک ہوگا، جو کہ درحقیقت اختیار و آزمائش کی مدت ہوگی، اس کے بعد تم سب نے بہرحال اپنی آخرت اور اپنے مصیر محتوم کی طرف لوٹنا ہے۔ سو جس نے اس دوران وہاں پر اپنی اصلاح کرلی اور وہ ایمان اور عمل صالح کی دولت کے ساتھ وہاں سے لوٹا تو وہ واپس آکر اسی جنت کی سدا بہار نعمتوں سے ہمیشہ ہمیش کے لئے مستفید و فیض یاب ہوگا، اور جو اس توفیق وسعادت سے محروم رہا، تو اسے واپس آکر دوذخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیش کیلئے جلنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیا ایک ابتلاء و آزمائش کا مقام ہے اور بس۔ اور یہاں کا قیام دائمی نہیں، عارضی اور ایک محدود مدت تک کے لیے ہے۔