2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 2:247–248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے فرمایا کہ دیکھو بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا ہے تمہارے لئے طالوت بادشاہ1 تو اس پر ان لوگوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ہم پر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے جب کہ ہم ان کے مقابلے میں بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں اور ان کو تو مال کی فراخی بھی عطا نہیں فرمائی گئی2 ان کے پیغمبر نے ان لوگوں کے ان اعتراضات کے جواب میں فرماتا کہ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اللہ نے اس کو تم پر چن لیا ہے اور دنیاوی مال و دولت کے بجائے ان کو اللہ نے علم اور جسم کی قوتوں میں فراخی اور فراوانی عطا فرمائی ہے اور اللہ اپنی بادشاہی جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا ہی وسعت والا نہایت ہی علم والا ہے3

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہوگی کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آجائے گا جو تم سے چھین لیا گیا تھا اور جس میں تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے تمہارے رب کی جانب سے اور کچھ باقی ماندہ اشیاء ان چیزوں میں سے جن کو چھوڑا ہے آل موسیٰ اور آل ہارون نے اٹھا لائیں گے اس کو فرشتے4 بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم واقعی ایماندار ہو

700 بادشاہی کے خاندانی حقدار ہونے کا دعویٰ : سو انہوں نے اپنے پیغمبر کے انتخاب پر اعتراض کرتے ہوئے کہ طالوت ہمارا امیر اور حاکم کس طرح بن سکتا ہے جبکہ ہم اس کے مقابلے میں حکومت و بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں۔ ہمارا تعلق شاہی خاندان سے ہے۔ کیونکہ ہم لوگ یہودا کی اولاد میں سے ہیں جس میں بادشاہت ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ تو ہم تو بادشاہی کا موروثی حق رکھتے ہیں۔ تو پھر ہم پر طالوت بادشاہ کس طرح ہوسکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں خاندانی اور موروثی طور پر ہم بادشاہی کا حق رکھتے ہیں۔ سو انہوں نے وہی کیا جس کا خدشہ انکے پیغمبر نے ظاہر کیا تھا کہ انہوں نے اول تو اپنے اس امیر کی امارت اور اس کی تعیین ہی پر اعتراض کردیا، جس کو انکے پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت و راہنمائی کی روشنی میں ان کیلئے مقرر فرمایا تھا، اور پھر جب بادل نخواستہ ان کی فوج میں بھرتی ہوگئے تو آگے اس راہ میں پیش آنے والے پہلے ہی امتحان میں ناکام ثابت ہوئے، بجز تھوڑے سے لوگوں کے۔ اور دوسرا اعتراض ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کے اس انتخاب پر یہ کیا کہ طالوت کو تو مال کی وسعت و کشائش بھی نہیں ملی۔ یعنی خاندانی لحاظ سے بھی وہ ہم سے کم تر ہیں اور دنیاوی مال وجاہ کے اعتبار سے بھی۔ تو پھر وہ ہمارے امیر اور حاکم کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ سو یہ ہوتا ہے بگڑی ہوئی ذہنیتوں اور ٹیڑھی کھوپڑیوں کا حال !۔ اور یہ ہوتی ہے منطق ان لوگوں کی جو مادہ اور معدہ کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں کہ ان کو سیدھی بات بھی الٹی نظر آنے لگتی ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 70 1 اللہ کا انتخاب اعتراض وسوال سے اعلیٰ وبالا : پس اللہ کے انتخاب پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ان کے پیغمبر نے ان سے فرمایا کہ یہ اللہ کا انتخاب ہے۔ پس تم مانو یا نہ مانو حقیقت حال بہرکیف یہی ہے کہ اللہ پاک نے ان کو اس منصب کیلئے چن لیا ہے اور اس کا انتخاب بہرکیف حق اور سچ ہے۔ کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہوسکتا۔ تم لوگ تو امارت اور سرداری کو دنیاوی مال و دولت اور جتھا و تعداد وغیرہ کے پیمانوں سے ناپتے تولتے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر علم و عمل کا پیمانہ ہے، اور اس اعتبار سے حضرت طالوت اس منصب کے پوری طرح اہل ہیں، جس کیلئے اللہ نے انکو چنا ہے۔ اس لئے تم کو ان کی امارت پر اعتراض کا حق نہیں ہوسکتا۔ 702 حکومت و بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اپنی حکومت اور بادشاہی عطا فرماتا ہے جسکو چاہتا ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے۔ اور اللہ جس کو جو عطاء فرماتا ہے ٹھیک عطاء فرماتا ہے۔ کیونکہ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون کیسا ہے، اور کس مرتبہ و مقام کے لائق ہے۔ پس اس کا انتخاب ہی بہرحال حق اور صدق ہے۔ سو اقتدار اور حکومت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں اور اسی کی دین وعطا ہے۔ وہ اپنی مشیئت اور حکمت کے مطابق جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اسکا اقتدار تمام اقتداروں کو محیط اور اسکا علم ہر چیز پر حاوی اور اس کو محیط ہے۔ اس کے پاس نہ بخشنے کیلئے کوئی کمی ہے، اور نہ بخش کر واپس لینے میں اس کیلئے کوئی مانع ہوسکتا ہے، اور نہ کسی معاملے کے ظاہر و باطن یا اس کے ماضی اور مستقبل کا کوئی گوشہ اس سے کبھی کسی طرح مخفی ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو حکومت و بادشاہی سے نوازنا اور سرفراز فرمانا یا اس سے محروم کردینا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { توتی الملک من تشاء و تنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء، بیدک الخیر، انک علی کل شیء قدیر } ۔ مگر آج کتنے ہی جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک ایسے ہیں جو الیکشن لڑتے ہیں تو پہلے جا کر کسی بنی ٹھنی قبر یا کسی فرضی اور وہمی " سرکار " کے یہاں حاضری دیتے ہیں اور پھر الیکشن جیتنے پر وہیں جاکر سر ٹیکتے ہیں اور اس طرح اپنی تذلیل کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ 703 اللہ تعالیٰ کی وسعت اور اس کے علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ بڑی ہی وسعت والا اور نہایت علم والا ہے : اور وہ اپنے اسی علم کامل کے مطابق ہر کسی کو اس کے لائق مرتبہ و مقام سے نوازتا ہے، اور اپنی بےپایاں نعمت کے مطابق عطاء فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تم لوگ تو ہر معاملے میں اپنی تنگ اور محدود نگاہوں سے دیکھتے ہو، اور اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے اپنی لامحدود قدرت اور اپنے وسیع اور محیط علم کے اعتبار سے کرتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے تمہیں چاہیئے کہ تم اس کے کسی فیصلے پر اعتراض کرنے کی بجائے اس کو صدق دل سے اپناؤ، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرو۔ اسی میں تمہاری بہتری اور بھلائی ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بہرحال صحیح اور درست ہوتا ہے کہ اس کا علم بھی کامل اور اس کی حکمت و عنایت بھی کامل۔ اس لیے اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہوسکتا۔ اس کا ہر حکم وارشاد حق وصدق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق وصواب پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت لشکر لے کر روانہ ہونے لگے تو ان سے کہا کہ دیکھو اللہ کہ طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ایک نہر کے پانی سے سو یاد رکھو کہ جس نے اس سے پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں اور جس نے اس سے چکھا بھی نہ اصل میں وہی میرا ساتھی ہے ہاں جس نے ایک آدھ چلو بھر لیا تو وہ اسے معاف ہے مگر اس سب کے باوجود ان لوگوں نے اس دریا سے سیر ہو کر پانی پیا بجز ان میں کے تھوڑے سے لوگوں کے پھر اس کا نتیجہ1 یہ ہوا کہ جب طالوت اور ان کے ساتھ والے اہل ایمان نے اس دریا کو پار کیا تو انہوں نے ہمت ہار کر صاف کہہ دیا کہ ہمارے اندر جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں2 اس پر ان لوگوں نے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے بہرحال اللہ سے ملنا ہے ان سے کہا کی دیکھو کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی اللہ کے اذن و حکم سے3 پس تم گھبراؤ نہیں اور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے

707 لشکر بنی اسرائیل کیلئے ایک آزمائش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب طالوت اپنے اس لشکر کے ساتھ روانہ ہونے لگے تو ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو آگے ایک نہر کے ذریعے تم لوگوں کی آزمائش ہونے والی ہے۔ تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو سکے، اور سچے اور پختہ کار لوگ آزمائش کے اس مرحلے سے گزر کر دوسروں سے الگ ہوجائیں، اور خام اور ناقص لوگ ان سے الگ ہوجائیں، کیونکہ معرکہ جہاد و قتال میں ایسے پختہ کار اور سچے پکے مومن ہی ثابت قدمی دکھا سکتے ہیں جو اپنی خواہشات پر قابو پانے والے اور کنٹرول رکھنے والے ہوں۔ بہرکیف حضرت طالوت نے اپنی فوج کی وفاداری و اطاعت گزاری اور انکے ڈسپلن کی آزمائش کیلئے یہ اعلان کیا کہ ہمارے راستے میں جو فلاں ندی آرہی ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہاری جانچ کرے گا۔ تم میں سے جو اس سے پانی پی لے گا وہ میرا ساتھی نہیں بن سکے گا، اور جو اس سے بالکل نہیں پیے گا وہی میرا ساتھی بن سکے گا۔ ہاں اگر کسی نے ایک آدھ چلو پی لیا تو وہ قابل درگزر ہے۔ بہرکیف انہوں نے ان کو پیشگی بتادیا کہ اللہ تعالیٰ اسطرح تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ 708 اکثریت کی آزمائش میں ناکامی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے باوجود ان لوگوں نے وہاں سے سیر ہو کر پانی پیا بجز تھوڑے سے لوگوں کے۔ یعنی ان کی اکثریت صبر نہ کرسکی، اور اس آزمائش میں ہار کر وہ لوگ ہمت توڑ بیٹھے، اور انہوں نے حوصلہ چھوڑ دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے ایمان کی کمزوری اور صبر و استقامت کے فقدان کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اکثریت ہمیشہ غلط کاروں کی ہی رہی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ بہرکیف ابتلاء و آزمائش کے اس مرحلے میں تھوڑے سے لوگ ہی ثابت قدم رہ سکے اور اکثریت اپنے ضعف ایمانی اور فقدان صبر و استقامت کے باعث ناکام رہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ان میں سے زیادہ لوگوں نے اس ندی سے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ اپنے امیر کے حکم و ارشاد کی کوئی پرواہ نہ کی۔ وہ سب فیل ہوگئے اور تھوڑے سے لوگ اس امتحان میں کامیاب ہوسکے۔ سو ان کی اکثریت اس امتحان میں ناکام ہو کر پیچھے رہ گئی اور وہ یمین ہار گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو صبر و برداشت اور استقامت کی صفت بڑی عظیم الشان صفت ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ 709 آزمائش میں کامیابی تھوڑے سے لوگوں ہی کو نصیب ہوئی : سو ارشاد فرمایا گیا بجز ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے۔ کہ انہوں نے صبر و ضبط سے کام لیا، اور وہ آزمائش میں پورے اترے۔ روایات میں ہے کہ یہ لوگ اسی ہزار کی تعداد میں تھے۔ موسم سخت گرمی کا تھا، جو گویا قدرت کی طرف سے ان کی آزمائش کا سامان تھا۔ اس میں کچے لوگ ناکام رہے، اسی ہزار میں سے صرف چار ہزار اس آزمائش میں پورے اتر سکے، جنہوں نے وہاں سے پانی نہیں پیا۔ باقی سب نے وہاں سے اپنے نبی کے روکنے کے باوجود پانی پی لیا اور وہ ناکام رہے (صفوہ وغیرہ) ۔ اسی تھوڑی سی تعداد نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے ایمان و یقین کی پختگی و مضبوطی کی بناء پر، اور اپنے خالق ومالک کی توفیق و عنایت سے وہ لوگ سرخرو اور کامیاب ہوئے۔ پس واضح ہوگیا کہ فتح و کامرانی کا اصل مدارو انحصار ظاہری اسباب پر نہیں، بلکہ ایمان و یقین کی باطنی قوت، اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر ہے، جس کا دار و مدار انسان کے باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ اور خاص کر ان کی قوت ارادی اور صبر و برداشت اور استقامت پر۔ سو تنگی و تکلیف مشکل و مصیبت اور خاص کر جنگ میں اور دشمن سے معرکہ آرائی کے دوران صبر و برداشت کی صفت کی خاص عظمت و اہمت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف وصریح طور پر اسطرح ارشاد فرمایا گیا ہے { وَالصَّابِرِیْنَ فِی الْبَاسَائ وَالضَّرَّائ وَحِیْنَ الْبَاْسِ } یعنی خاص کر جو لوگ صبرو برداشت سے کام لیتے ہیں تنگی تکلیف میں اور عین لڑائی کے موقع پر اور روزے کی عظیم الشان اور مقدس عبادت کے ذریعے۔ مومن صادق اسی چیز کا درس لیتا اور سبق سیکھتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 710 صبر و برداشت کا ثمرہ فتح و ظفر : مفسرین کرام کی اکثریت کے نزدیک یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اس دریا سے پانی نہیں پیا تھا کیونکہ جنہوں نے پانی پیا تھا وہ وہیں رہ گئے اور دریا سے پار جاہی نہیں سکے۔ اور جو آزمائش میں پورے اترے، وہ بعض روایات کے مطابق چار ہزار تھے جبکہ بعض دوسری روایات کے مطابق ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ بہرکیف ان تھوڑے سے لوگوں نے جو چلو بھر پانی پیا اس سے یہ سیراب ہوگئے۔ ان کی پیاس بجھ گئی اور ان کے دل مضبوط اور قوی ہوگئے۔ اور جنہوں نے زیادہ پیا تھا ان کی پیاس بھی نہیں بجھی، ان کی ہمتیں بھی ٹوٹ گئیں اور وہ بزدل ہوگئے۔ اور وہ اس قابل بھی نہ رہے کہ نہر سے پار ہوسکیں۔ (المعارف، القرطبی، المراغی وغیرہ) ۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے بےصبری اور احکام الہی کی خلاف ورزی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اصل چیز راہ حق و ہدایت پر صبر و ثبات ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 711 دونوں لشکروں کا فرق اور اس کا طبعی اثر : سو کمزور ایمان والوں نے دشمن کے لشکر کی کثرت وقوت کو دیکھ کر کہا کہ ہمارے اندر جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلے کی سکت نہیں۔ اور یہ اس لیے کہ اہل ایمان اور اہل کفر کے ان دونوں لشکروں کے درمیان جو فرق و تفاوات تھا، اس کا طبعی تقاضا اور لازمی اثر یہی تھا کہ وہ بےساختہ طور پر یوں ہی کہیں۔ کیونکہ تعداد اور سامان و اسلحہ کے اعتبار سے دونوں فریقوں کے درمیان کوئی تناسب ہی نہیں رہ گیا تھا۔ ایک طرف صرف چار ہزار لوگ تھے، جن کے پاس کوئی خاص اسلحہ اور سامان حرب و ضرب بھی نہ تھا، جبکہ دوسری طرف ایک لاکھ افراد پر مشتمل ایک ایسا ہولناک لشکر تھا جس کے پاس ہر طرح کا اسلحہ اور ساز و سامان موجود تھا۔ ایسے میں تو یہ مقابلہ کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا، چہ جائیکہ اس میں غلبہ حاصل ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قول انہی لوگوں کا ہو جو خوب پانی پی کر وہیں رہ گئے تھے۔ اور وہ ندی پار کرنے کی ہمت بھی نہ کرسکے تھے، اور انہوں نے ہمت ہار کر کہا کہ اب ہمارے اندر جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے کی ہمت نہیں۔ 712 اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے : اور اس کے بالمقابل ان لوگوں نے جو اس بات پر یقین رکھتے کہ انہوں نے بہرحال اللہ سے ملنا ہے انہوں نے ان ہمت ہار جانے والوں سے کہا کہ حوصلہ رکھو۔ دیکھو کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت اللہ تعالیٰ کے اذن و حکم سے ایک بڑی جماعت پر غالب آگئی۔ لہذا تم لوگ ہمت نہ ہارو۔ کیونکہ فتح و شکست کا دار و مدار اصل میں ظاہری اسباب و وسائل پر نہیں، بلکہ ایمان و یقین کی باطنی قوت اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر ہے، کہ ایسی صورت میں جبکہ ایمان و یقین کی قوت مضبوط و مستحکم اور بھرپور ہو ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل رہے، تو پھر ایسے میں کوئی بھی قوت اہل حق پر غالب نہیں آسکتی۔ سو اس کی تصدیق و تائید اس قصے سے بھی ہوتی ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسرو سامان جماعت اتنے بڑے لشکر جرار پر غالب آگئی۔ سو اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے جس سے ایمان والے نصرت و تائید ایزدی سے سرفراز ہوتے ہیں، جسکے بعد ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ فزدنا اللہم ایمانا ویقینا - 713 صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی معیت کی نوید مسرت و بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اپنی تائید و نصرت، اور مدد و حمایت کے اعتبار سے۔ پس تم لوگ صبر و ثبات اور عزم و استقامت سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھو۔ اور کفر اور اہل کفر سے اللہ کے بھروسے و اعتماد پر ٹکرا جاؤ۔ کامیابی اور فتح و نصرت تمہارے ہی لئے ہے، کہ جو لشکر تائید و نصرت خداوندی سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے اس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، کہ فتح و شکست سب اللہ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ سو معرکہ حق و باطل میں اصل چیز تعداد اور ساز و سامان کی قلت و کثرت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اس کی حمایت و مدد ہے۔ اور وہ نصیب ہوتی ہے صبر و ثبات، عزم و ہمت اور حوصلہ و استقامت سے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ قوت ایمان و یقین سے معمور و سرشار مجاہد میدان کارزار میں نکلے تو انہوں نے ظاہری اسباب و وسائل کے فرق و تفاوت سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور عرض کیا اے ہمارے رب اپنے خاص کرم اور عنایت سے ہم پر فیضان فرما دے صبر اور استقامت کا ہمیں نواز دے ثابت قدمی کے جوہر سے اور ہماری مدد فرما ان کافر لوگوں کے مقابلے میں4

714 سچے اہل ایمان کا قابل تقلید نمونہ : کہ وہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگئے اور اسی سے دعا کرنے لگے۔ سو یہ طریقہ ہے مومن صادق کا، کہ وہ اپنے بس کی حد تک ضروری اسباب و وسائل تیار کرلے۔ اور مقدور کی حد تک ان سے کام بھی لے، مگر اصل بھروسہ اور اعتماد ان اسباب و وسائل پر نہیں، بلکہ ان اسباب کے خالق ومالک پر رکھے، کہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ اور یہ سب چیزیں اسی کے حکم و فرمان کے تابع ہیں۔ پس جان بوجھ کر اسباب و وسائل سے منہ موڑنا، اور ان کو ترک کرنا بھی غلط ہے۔ اور اسباب ہی پر تکیہ کرنا، انہی کو سب کچھ سمجھ لینا اور مسبب الاسباب کی طرف رجوع نہ کرنا، اس سے بھی برا ہے ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ اور نبئ اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ اپنے بس کی حد تک اپنے اسباب کو اپناؤ اور پوری طرح اپناؤ، لیکن بھروسہ ان اسباب پر نہیں، بلکہ مسبب الاسباب پر رکھو۔ سو یہی طریقہ ہے جو کہ افراط وتفریط دونوں کی انتہاؤں سے محفوظ، اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اس لیے مومن صادق ضرورت کی حد تک اور اپنی ہمت و بساط کے مطابق اسباب و وسائل یکجا کرنے کے بعد معرکہ کارزار میں اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرتا اور اسی سے مدد مانگتا ہے، جیسا کہ ان حضرات نے اس موقع پر کیا، کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا بہرطور اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن آج کا جاہل مسلمان ایسے مشکل مواقع میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اس کی کسی عاجز مخلوق کی طرف رجوع کرتا، اور اسی کو پکارتا ہے۔ کوئی کہتا ہے " یا علی مدد "، کوئی " پیر دستگیر "، اور کوئی شرکیہ راگ الاپتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ اللہ کے یہ سب پیارے اپنی حاجتوں میں اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ 715 سوال و دعاء ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی سے : سو ان بندگان صدق وصفا نے اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم پر فیضان فرما دے صبر کا۔ ہمیں نواز دے ثابت قدمی سے اور ہماری مدد فرما کافر لوگوں کے مقابلے میں۔ سو یہ دوسری اہم بنیاد ہے اسلامی عقائد کی، کہ رجوع ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کیا جائے، اور دعاء اسی سے مانگی جائے کہ حاجتوں کو پورا کرنا اور مشکلات کو دور کرنا اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا کام ہے۔ اسی کی تعلیم قرآن و سنت کی نصوص کریمہ میں جا بجا اور طرح طرح سے دی گئی ہے۔ صحیحین وغیرہ کی مشہور حدیث میں حضرت نبئ معصوم ﷺ کا ارشاد ہے " اِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَل اللّٰہ " کہ جب تم سوال کرو تو اللہ ہی سے کرو " وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہَ " یعنی جب تم مدد مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور قرآن حکیم میں بھی صاف اور صریح طور پر اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ مجھ ہی کو پکارو میں تمہاری دعاء و پکار کو سنوں گا ۔ { اُدْعُوْنی آَٓسْتَجِبْ لَکُمْ } ۔ نیز مومن کو سکھایا گیا کہ وہ اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھے { اِیاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } " مالک ! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں، اور کرتے رہیں گے، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے " مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج کا جاہل مسلمان اللہ پاک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتا اور اسی سے مدد مانگتا ہے، اور وہ " یا علی مدد "، " یا حسین "، " یا غوث "، اور " یا پیر دستگیر " جیسے طرح طرح کے شرکیہ نعرے لگاتا ہے۔ سچ فرمایا قرآن حکیم نے { وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ باللّٰہ الاَّ وَھُمْ مُّشرِکُوْنَ } کہ ان کی اکثریت ایسی ہے جو ایمان لانے کے باوجود شرک میں مبتلا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ کفر و شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق و صواب پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

سو اس کے نتیجے میں انہوں نے شکست دے دی ان کافروں کو اللہ کے اذن سے اور قتل کردیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے نواز دیا ان کو بادشاہی اور حکمت کی دولت سے اور ان کو سکھا دیا وہ کچھ جو وہ چاہتا تھا اور اگر اللہ اسی طرح لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے ہٹاتا اور مٹاتا نہ رہتا تو یقینا زمین بھر جاتی فتنہ و فساد سے مگر اللہ بڑا ہی فضل والا اور مہربان ہے تمام لوگوں پر5

716 صدق و اخلاص والی دعا کی فوری قبولیت کا ایک نمونہ : یعنی ان حضرات کی اپنے رب کے حضور یہ عاجزانہ دعاء فوراً قبول ہوگئی، اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اتنی تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود دشمن کو اس قدر آسانی سے اور اتنی جلدی شکست اور ایسی شکست فاش دے دی، کیونکہ وہ اپنے عقیدہ و ایمان میں پکے سچے اور مخلص تھے، اور ان کی دعاء بھی صدق دل سے اور اپنے خالق ومالک حقیقی کے حضور ہی تھی۔ اور یہی کامیابی کی راہ ہے، کہ کامیابی کیلئے اپنے خالق ومالک کے حضور دعا مانگی جائے اور پورے صدق و اخلاص سے مانگی جائے۔ بہرکیف اس ارشاد سے حقیقت نفس الامری کا اظہار فرما دیا گیا کہ فتح و شکست جو بھی کچھ پیش آتا ہے، اسکا اصل تعلق قلت و کثرت اور وسائل و تدابیر سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی مشیئت سے ہے۔ اس لیے دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہونا چاہیئے، نہ کہ اسباب و وسائل پر۔ اور اس سے مقصود اسباب و وسائل کے اختیار کرنے کی نفی نہیں بلکہ انہی پر اعتماد کرنے اور تنہا انہی کو وسیلہ ظفر سمجھنے کی نفی ہے۔ حضرت داؤد جنہوں نے ایک پتھر سے جالوت جیسے دیوہیکل سورما کو ڈھیر کردیا، اگرچہ اس وقت نبی نہیں تھے لیکن اس حقیقت سے آگاہ تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انکو اس عظیم الشان کامیابی سے سرفراز فرمایا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو صدق و اخلاص کی دولت عظیم الشان دولت ہے جس کے نتیجے میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ 717 عطاء و عنایت خداوندی کا ایک نمونہ : سو عطاء و عنایت خداوندی کا ایک نمونہ اور اس کی ایک مثال ہے کہ حضرت قادر مطلق نے بھیڑ بکریوں کے چرواہے کو یکایک تخت سلطانی پر بٹھا دیا۔ روایات کے مطابق داؤد ایک ایسے نوجوان تھے جنہوں نے حرب و ضرب کی کوئی تربیت نہیں پائی تھی۔ ان کا کام بھیڑ بکریوں کو چرانا تھا۔ حضرت طالوت کے لشکر میں شامل ہوگئے، اور معرکہ پیش آنے پر جب دشمن کے لشکر سے جالوت جیسے دیوہیکل شخص نے جو کہ سرتاپا لوہے میں غرق تھا، اور وہ اپنے تکبر و غرور کے نشے میں بدمست اور چور ہو کر میدان میں اترا تھا، اور اس نے جب دعوت مبارزت دی تو اس کے مقابلے میں آنے کیلئے حضرت داؤد اپنی سادہ حالت میں اپنی فلاخن کے ساتھ کچھ پتھر لئے ہوئے میدان کارزار میں اتر آئے، تو جالوت نے ان سے اپنے متکبرانہ انداز میں کہا تم اور میرا مقابلہ ؟ اور وہ بھی اس حال میں ؟ میں تمہارے اس طرح پرخچے اڑاؤں گا کہ تمہاری بوٹیاں پرندے اور درندے نوچ نوچ کر کھائینگے، حضرت داؤد نے اپنی فلاخن سے ایک پتھر جو اس پر داغا، تو اللہ پاک کی قدرت و عنایت سے وہ سیدھا جا کر اس کے سر میں پیوست ہوگیا، اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا، اس کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی، اور وہ شکست سے دوچار ہوگئی، اور حضرت داؤد بنی اسرائیل کی آنکھوں کے تارا بن گئے۔ سو یہ ہے اللہ پاک کی شان عطاء و عنایت، جس سے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے، اور اس کو آن کی آن میں کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دینے کے اس کی قدرت و عنایت کے یہ مظاہر ہمیشہ رہے، آج بھی ہیں۔ اور یہاں اور وہاں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ مگر غافل دنیا ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتی ۔ اِلّا ما شاء اللّٰہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اور جہالت کے مارے نام کے مسلمان الیکشن جیتنے کیلئے طرح طرح کے شرکیہ اعمال کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ مختلف قبروں اور آستانوں کے آگے جھکتے، ان کے پھیرے مانتے، ان کے گرد چکر لگاتے، فرضی اور وہمی سرکاروں کے نام پر دیگیں پکاتے، نذریں مانتے، نیازیں دیتے، ننگ دھڑنگ قسم کے چرسی، بھنگی ملنگوں کے آگے جھکتے اور اپنی تذلیل و رسوائی کا سامان خود کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 718 حکمت داؤد سے یہاں پر مراد اور حضرت داؤد کی عظمت شان ؟ : حکمت سے یہاں پر مراد جمہور علماء کے نزدیک نبوت ہے۔ حضرت داؤد پہلے شخص تھے جن کو نبوت اور بادشاہی دونوں سے نوازا گیا، اور ان کے بعد یہ شرف ان کے بیٹے حضرت سلیمان کو بھی نصیب ہوا اور دنیا میں یہ منفرد اعزاز پانے کے باوجود اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے اور اس کی عبادت و بندگی بجا لانے میں بھی حضرت داؤد اس قدر آگے اور ایک مثالی مقام پر فائز تھے کہ صحیح حدیث میں نبیء اکرم ﷺ نے ان کو " اَعْبد النَّاسِ " یعنی " سب سے بڑا عبادت گزار انسان " قرار دیا۔ صوم داؤد جس کو " افضل الصیام "، " سب سے اچھا روزہ " قرار دیا گیا، کہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ہو، یہ حضرت داؤد ہی کی اس شان عبدیت و عبودیت کا ایک عمدہ نمونہ تھا۔ اسی لئے قرآن حکیم میں ان کو " ذَا الاَیْد " " ہاتھوں والا " یعنی بڑی قوتوں کا مالک، اور صبر و استقامت کا ایک ایسا عمدہ نمونہ قرار دیا گیا کہ جس کو یاد کرنے، اور سامنے رکھنے کی تلقین حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھی فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْد اِنَّہٗ اَوَّابٌ} (ص۔ 17) " صبر سے کام لیتے رہو ان باتوں پر جو یہ (ظالم) لوگ بناتے ہیں، اور یاد کرو ہمارے خاص بندے داؤد کو، جو کہ بڑی قوتوں کے مالک تھے (اپنے رب کی طرف ہمیشہ) رجوع رکھنے والے "۔ بہر کیف یہاں سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان کرم کا یہ نمونہ بھی ملاحظہ ہو، کہ وہ جب کسی کو اٹھائے تو کہاں سے اٹھا کر کہاں پہنچا دیتا ہے، اور کیا سے کیا بنا دیتا ہے، اور اس کے لئے وہ کس طرح اسباب مہیا فرما دیتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کو چاہیئے کہ وہ اپنے اس خالق ومالک اور واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ سے اپنے دل اور اپنے ظاہر و باطن کا تعلق صحیح رکھے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ وَالسَّدَاد والرِّشَادَ وَالثَّبَاتَ ۔ مگر اس کے ساتھ ظالموں کے ظلم کا یہ پہلو بھی ملاحظہ ہو کہ جس داؤد کی یہ شان اور یہ عظمت ہے، اس پر بائبل والوں نے کیا کیا بہتان باندھے، اور کیسی کیسی تہمتیں لگائیں۔ اور ابھی انہی دنوں میں جبکہ راقم یہ سطور لکھ رہا ہے، اخبارات میں اسرائیل کے وزیر خارجہ شمعون پیریز کا یہ بیان آیا کہ " داؤد کی سب باتیں ہمارے لئے قابل تقلید نہیں ہیں "۔ اخبارات والوں نے کہا کہ اس سے وزیر مذکور کا اشارہ حضرت داؤد سے متعلق فلاں واقعہ کی طرف تھا، یعنی ایسا جھوٹا قصہ جو ان لوگوں کی مذہبی کتابوں میں پایا جاتا ہے، اور جس سے اللہ کے پیغمبر اور اس پاکیزہ بندے کی سیرت کو داغدار کیا جاتا ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو اپنا انتساب بھی انہی داؤد کی طرف کرتے ہیں، کہ ہم حضرت داؤد کی اولاد، اور ان کے وارثو جانشین ہیں۔ اور " نجمہ داؤد "، " داؤدی ستارہ " کو انہوں نے اپنے قومی نشان اور مقدس شعار کے طور پر اپنا بھی رکھا ہے۔ پھر بھی ان کا کہنا یہ ہے کہ داؤد کا ہر کام ہمارے لئے نمونہ نہیں۔ سو یہیں سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر کتنا کتنا، کہاں کہاں، اور کس کس طرح کا احسان ہے کہ ان حضرات انبیائے کرام ۔ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامُ ۔ کا دفاع بھی یہ قرآن ہی کرتا ہے، جن کی عظمتوں اور صداقتوں کو ان کے ماننے والوں نے بھی جھوٹے قصوں اور بےسروپا حکایات و مخترعات کی بنا پر داغدار کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو قرآن حکیم نے ایسی پاکیزہ ہستیوں کی صفائی کی، اور ان کی عظمت مقام کو پوری طرح اجاگر اور واضح کیا، اور ان کی پاکیزہ سیرتوں سے ایسے تمام داغ دھبوں کو پاک صاف کردیا ۔ فالحمد للہ جل وعلا الذی بیدہ ازمۃ التوفیق والہدایۃ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل اور اس کے جملہ شوائب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ 7 19 مشروعیت جہاد کا اصل مقصد دفع فساد : یہ " جہاد فی سبیل اللہ " کی مشروعیت کی ایک عظیم الشان حکمت اور مصلحت کا بیان ہے، کہ اس کے ذریعہ شر و فساد کے عناصر کا قلع قمع کیا جاتا ہے، ورنہ اشرار ہی کا غلبہ رہنے سے زمین شر و فساد سے بھر جائے۔ سو اس طرح جہاد فی سبیل اللہ، عباد وبلاد دونوں کیلئے اللہ پاک کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان ذریعہ اور مظہر ہے، جیسا کہ سورة حج کی آیت نمبر 40 میں اس کو مزید وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ وہاں ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع اور دور نہ کرتا رہتا اور ان کا زور توڑتا نہ رہتا تو ڈھا دیا جاتا نصاری کے خلوت خانوں کو، اور اجاڑ دیا جاتا عبادت خانوں کو، اور یہود کی عبادت گاہوں کو اور مسلمانوں کی مسجدوں کو۔ ایسی مسجدوں کو جن میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے کثرت سے لیکن چونکہ اللہ بڑا ہی فضل والا اور اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے، اس لیے اس نے جہاد کا حکم دے کر اور اس کو شروع فرما کر ایسے اشرار اور انکے شر کو مٹانے اور کفر و شرک کے فتنہ کی سرکوبی کا انتظام فرمایا، تاکہ اس کی یہ زمین اور اس کے بندے ان کے شرور و فتن سے محفوظ رہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے جہاد کی ضرورت اور اس کے فلسفے کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر جہاد کا حکم نہ دیتا، اور اس کے صالح بندے زمین کو فتنہ و فساد سے پاک کرنے کیلئے تلوار نہ اٹھاتے، اور علم جہاد بلند نہ کرتے تو اشرار و مفسدین دنیا کو شر و فساد سے بھر دیتے اور اس سے نیکی اور تقوی کے آثار مٹا دیتے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر شر و مکروہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ اور ہمیشہ اپنی عنایت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 720 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی فضل والا ہے لوگوں پر۔ اسی لئے وہ ان کے لئے ایسے رحمتوں بھرے اور عظیم الشان انتظامات ازخود فرماتا ہے، جن کا انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ اور ان کی اکثریت ان سے غافل و لاپرواہ ہے، مگر اس کے باوجود وہ ان سے اپنی رحمتوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو کہ اس کے فضل و کرم کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ سو اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندے اس کے اس فضل و کرم کو اور انعام و احسان کو پہچانیں، اور دل و جان سے اس کے حضور جھکے رہیں، تاکہ اس طرح اس کا یہ انعام و احسان خود ان لوگوں کیلئے دارین کی سعادت و سروخروئی کا ذریعہ بن جائے۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اپنے اسی فضل وکرم کی بنا پر اس نے تم لوگوں پر جہاد فرض کیا تاکہ کفر و باطل کا زور ٹوٹے۔ فتنہ و فساد دفع ہو اور خلق خدا کو امن وامان نصیب ہو۔ اور کفر و شرک سے بڑھ کر فتنہ و فساد اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو جہاد فی سبیل اللہ کی مثال ڈاکٹر کے نشتر کی سی ہے جس سے وہ جسم کے فاسد مواد کو کاٹ پھینکتا ہے تاکہ باقی جسم صحت اور سلامتی کے ساتھ رہے۔ ورنہ فساد سب میں پھیل جائے گا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو اے پیغمبر حق کے ساتھ اور بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔6

721 آنحضرت کی رسالت کی ایک عظیم الشان دلیل اور واضح ثبوت : پس یہ آپ ﷺ کی رسالت و نبوت، اور آپ کی حقانیت و صداقت کی ایک عظیم الشان اور واضح دلیل ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور ان کی قوموں سے متعلق صدیوں پہلے کے یہ حالات و واقعات آپ اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، جبکہ آپ ﷺ نے دنیا میں کسی سے ایک حرف بھی کبھی نہیں پڑھا تھا، جس سے واضح ہوگیا کہ آپ ﷺ کے علم کا ماخذ وحی خداوندی ہی ہے، اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ ﷺ یہ سب کچھ وحی کے ذریعے ہی بتا رہے ہیں، ورنہ دوسرا کوئی ذریعہ اس علم و آگہی کا وہاں موجود نہیں تھا۔ سو یہ آپ ﷺ کی صداقت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کہ آپ کے وحی کے ذریعے ہی گزشتہ قوموں اور سابقہ انبیاء و رسل کے حالات کو اس صفائی سچائی اور عمدگی سے بیان فرما دیا۔ سو یقینا آپ اللہ کے سچے رسول تھے۔ اور اب آپ ہی کی رسالت صادقہ قیامت تک چلے گی۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک آپ خدا کے رسولوں میں سے ہیں۔ ان کو بھی اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا اور وہ بھی بےسرو سامانی کے باوجود دشمنوں کے بڑے بڑے لشکروں سے لڑے اور ان کے سچے نام لیواؤں، مخلص جاں نثاروں اور خدام و غلاموں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بڑے بڑے لشکروں پر غلبہ عطا فرمایا۔ سو جہاد پیغمبروں کی سنت ہے۔ اور غلط کہتے ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ جہاد و قتال نبیوں کا کام نہیں ہوتا۔ اگر جہاد و قتال کا حکم نہ ہوتا تو مفسد لوگ عباد وبلاد سب کے لیے عذاب بن جاتے۔ سو جہاد فی سبیل اللہ دفع فساد کا واحد اور بنیادی ذریعہ ہے۔ اور یہ قیامت تک باقی رہے گا۔ کہ جب تک فساد رہے گا تب تک جہاد بھی باقی رہے گا۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول (جن کا ذکر ابھی ہوا) ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی1، ان میں سے بعض ایسے ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا2، اور بعض ایسے ہیں جن کو اس نے (دوسری حیثیتوں) سے بلند درجے عطا فرمائے3، اور ہم نے عیسیٰ بیٹے مریم کو کھلی نشانیاں عطا کی تھیں، اور روح القدس کے ذریعے ان کی تائید (وتقویت) کا سامان کیا تھا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ آپس میں کبھی نہ لڑتے، جو ان (انبیائے کرام ﷺ کے بعد آئے، اس کے بعد کہ آچکیں ان کے پاس کھلی (اور روشن) دلیلیں، مگر یہ لوگ (اس کے باوجود) اختلاف ہی میں پڑے رہے، سو کوئی ان میں سے ایمان لایا اور کوئی اپنے کفر ہی پر اڑا رہا، اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ آپس میں کبھی نہ لڑتے، مگر اللہ اپنی (حکمت بےپایاں اور مشیت مطلقہ سے) جو چاہتا ہے کرتا ہے4

722 رسولوں کی بعض کی بعض پر فضیلت و فوقیت کا ذکر : یعنی ہر ایک کو کسی ایسی خاص فضیلت سے نوازا جو دوسروں کو نہیں دی گئی۔ تاکہ ہر ایک کا فضل و کمال الگ الگ نظر آئے۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا ارشاد ہے { وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلٰی بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاودَ زَبُوْْرًا } ( الاسرائ۔ 55) ۔ سو شرف نبوت و رسالت میں مشترک اور برابر ہونے کے بعد ان کے مراتب و درجات میں فرق و تفاوت رکھا گیا۔ سو اللہ کے رسولوں کے بارے میں یہ ہے صحیح رویہ جو ان کی امتوں کو اپنانا اور اختیار کرنا چاہیئے تھا، کہ اللہ کے رسول سب کے سب سچے اور سب برحق تھے، جن کے مراتب و درجات میں فرق و امتیاز تھا مگر ان لوگوں نے رسولوں کے بارے میں اس صحیح رویئے کے برعکس وہ غلط رویہ اپنایا تھا، جس سے انکے درمیان تعصب کی دیواریں کھڑی ہوگئیں، اور یہ لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن کر باہم جنگ وجدال اور قتل و قتال میں مبتلا ہوگئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم - 723 بعض رسولوں کے لیے کلام خداوندی کے شرف کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان میں سے کچھ سے اللہ نے کلام فرمایا۔ یعنی براہ راست، فرشتہ کے واسطہ کے بغیر، جیسا کہ حضرت موسیٰ سے جن کا لقب ہی اس وجہ سے " کلیم اللہ " پڑگیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، اور جیسا کہ حضرت آدم سے فرمایا تھا جن سے فرمایا گیا تھا ۔ { یَآ اٰدَمُ اَنْبِئْہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ } ۔ اور جیسا کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے شب معراج میں کلام میں فرمایا گیا۔ بہرکیف کچھ حضرات انبیاء و رسل کو ہم کلامی کے شرف سے مشرف فرمایا گیا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت بےپایاں اور اس کی رحمت بیکراں کا نتیجہ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف درجات و مراتب کا یہ اختلاف تو اگرچہ ان حضرات کے درمیان پایا گیا، لیکن تھے وہ سب ہی حق پر۔ 724 حضرات انبیائے کرام کو مختلف درجات سے نوازنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے بعض کے اللہ تعالیٰ نے درجے بلند فرمائے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم کو مقام خلت سے سرفراز فرمایا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا -{ َواتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْْرَاہِیْمَ خَلِیْلًا } ۔ (النسائ۔ 125) ۔ حضرت ادریس کو مکان عالی پر اٹھایا گیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا } ۔ (مریم : 57) ۔ حضرت داؤد کو نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ عظیم الشان بادشاہت سے بھی نوازا گیا۔ اور آپ کے بعد یہ منصب آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کو بھی عطا فرمایا گیا، اور جیسا کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو طرح طرح کے عظیم الشان درجات سے نوازا گیا، مثلاً یہ کہ سلسلہء نبوت کی آپ ﷺ پر تکمیل فرمائی گئی۔ آپ ﷺ کو شب معراج میں سب انبیائے کرام کی امامت و پیشوائی کے شرف سے مشرف فرمایا گیا۔ اور پھر قرآن حکیم کا ایسا عظیم الشان اور بےمثل علمی و معنوی معجزہ آپ ﷺ کو عطا فرمایا گیا، جو سدا بہار معجزہ ہے اور جو رہتی دنیا تک ہمیشہ کیلئے دنیا کے دلوں کو زندگی بخشتا اور ان کو ایمان و یقین کے نور سے منور کرتا رہیگا۔ جو سب کتابوں کا خاتم و جامع، اور علوم و معارف کا ایک بحر ناپیدا کنار ہے۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ کو حسی معجزات بھی سب سے بڑھ کر، اور سب سے زیادہ عطاء فرمائے گئے، جن میں سب سے بڑا اور عظیم الشان معجزہ اسراء و معراج کا معجزہ ہے، جو کہ اپنے اندر دروس و عبر اور معانی و معارف کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ کی شریعت کو تمام آسمانی شریعتوں کی جامع، اور ان کی مکمل کرنے والی، اور سب کی ناسخ شریعت بنایا گیا، وغیرہ وغیرہ ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلامُہٗ عَلَیْہ وَعَلٰی اٰلِہ وَصَحْبِہ اٰجْمَعِیْن ۔ وَمَن اہْتَدٰی بِہَدَاہُ اِلٰی یَوْم الْعَرْض عَلَی اللّٰہ وَ اللِّقائ ۔ اور آپ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری قیامت تک کی سب دنیا کیلئے ہے۔ اب آپ کے بعد قیامت تک کسی نبی و رسول نے نہیں آنا۔ 725 حضرت عیسیٰ کی تائید وتقویت روح القدس کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے عیسیٰ بیٹے مریم کو کھلی نشانیاں عطا کیں اور ان کی تائید روح القدس کے ذریعے فرمائی۔ تاکہ اس طرح ایک طرف تو ان یہود بےبہبود کی عداوت و دشمنی اور ان کے مطاعن و اعترضات سے آپ کی حفاظت ہو سکے، اور دوسری طرف عیسائیت کے علمبرداروں کیلئے بھی یہ واضح ہو سکے کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا تھے اور نہ اس وحدہ لاشریک کی خدائی میں کسی طرح کے شریک۔ بلکہ وہ اس کی مخلوق اور اس کے بندے تھے، جو ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اس کی تائید ونصرت کے محتاج تھے۔ اس لیے ان کو خداوند قدوس کی خدائی میں شریک ماننا کھلا شرک ہے، جو کہ ظلم عظیم اور ناقابل معافی جرم ہے، ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کو خاص معجزات بھی عطاء فرمائے گئے، اور انکو روح القدس کی خاص تایید سے بھی نوازا گیا۔ سو یہ ان چند مخصوصات کا ذکر ہے جن سے حضرات انبیاء و رسل کرام میں سے بعض کو سرفراز فرمایا گیا۔ علی ھذا القیاس دوسرے انبیاء و رسل کرام کو بھی مختلف درجات و مراتب سے سرفراز فرمایا گیا۔ یہاں پر ان چند اہم حضرات ہی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ 726 جبری ہدایت نہ مطلوب ہے نہ مفید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ آپس میں کبھی نہ لڑتے۔ اور یہ لوگ باہم اختلاف کر ہی نہ سکتے کہ وہ اپنے ارادہ اور ایک غیبی اشارہ سے ہی ان سب کو ایک ہی طبیعت پر اس طرح ڈھال دیتا کہ ان میں کوئی اختلاف اور تنازع ہی باقی نہ رہتا، جیسا کہ فرشتے ہیں کہ ان کے درمیان آپس میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ نزاع، یا جیسا کہ سورج چاند وغیرہ باقی تمام مخلوق ہے، کہ وہ قدرت کے حکم تکوین و تسخیر کے مطابق لگے بندھے طریقوں کے مطابق اپنے اپنے کام میں لگی ہوئی ہے۔ ان میں باہم نہ کوئی تصادم ہے نہ کوئی اختلاف، بلکہ ہر ایک { کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْن } ۔ کے مصداق اپنے اپنے دائرے میں رواں دواں اور مصروف کار ہے۔ مگر بنی نوع انسان کے بارے میں ایسا کرنے سے ابتلاء و آزمائش کا وہ مقصد فوت ہوجاتا ہے، جس کے لئے حضرت انسان کو پیدا کیا گیا ہے، اور جس کی خاطر جنت و دوزخ کی تخلیق فرمائی گئی ہے۔ پس اس کے لئے ضروری تھا کہ انسان کو ارادہ و اختیار کی صلاحیت کے ساتھ، اور اس کی آزادی دے کر اس دنیا میں پیدا کیا جائے، تاکہ ان میں سے جو چاہے اپنی عقل و فکر کی قوت سے کام لے کر صحیح راہ کو اپنائے، اور اپنی رضا ورغبت سے اپنے خالق ومالک کی طرف سے بخشی گئی ھدایات کو اپنا کر راہ حق و صواب کا راہی اور جنت کا وارث بن جائے، اور پھر ہمیشہ کیلئے جنت کی سدا بہار نعمتوں سے بہرہ ور اور لطف اندوز ہوتا رہے۔ اللہ ہم کو انہی میں سے بنائے ۔ (آمین) ۔ اور جو چاہے راہ حق و ھدایت سے منہ موڑ کر اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ کر دوزخ کی راہ پر چلے، اور اپنے اس ارادہ و اختیار کی بناء پر وہ وہاں کے دائمی عذاب اور ابدی ناکامی سے ہمکنار ہوجائے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 727 اللہ کی مشیت سب پر حاوی ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس میں نہ کسی کے اعتراض کی کوئی گنجائش ہے، اور نہ کسی میں یہ ہمت اور حق ہے کہ وہ اس سے یہ پوچھ ہی سکے، کہ ایسا کیوں کیا گیا، اور ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ اس کی شان ہے۔ { لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وََہُمْ یُسْْْئَلُوْنَ } ۔ (الانبیائ۔ 23) کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک حقیقی بھی وہی ہے، اور اس میں حاکم مطلق بھی وہی۔ وہ اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت و بادشاہی میں جو چاہے اور جیسا چاہے تصرف کرے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ چونکہ حکیم مطلق بھی ہے، اس لئے وہ جو بھی کوئی حکم و تصرف فرماتا ہے، یا فرمائیگا، وہ سراسر حق و انصاف اور علم و حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے اور مبنی ہوگا۔ لہذا اس کے ہر حکم و ارشاد کو دل و جان سے قبول کرنا اور اس پر پوری طرح سے مطمئن ہوجانا ہی تقاضا ہے عقل سلیم اور فہم مستقیم کا، کہ خیر اور بہتری بہرحال اسی میں ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ نے یہی چاہا کہ وہ اپنے بندوں پر جبر نہ کرے، اور جب اس نے یہی چاہا تو اس سے آپ سے آپ یہ بات نکلتی ہے کہ اسی کے اندر اس کی حکمت اور مصلحت ہے کیونکہ خداوند قدوس کا کوئی ارادہ و فعل حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف وہ خالق ومالک اور حاکم وحکیم ہونے کے اعتبار سے جو چاہے کرے۔ اور اس کا ہر حکم وارشاد علم وحکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو تم خرچ کرو (ہماری راہ میں اور ہماری رضا جوئی کیلئے) اس (مال و متاع) میں سے جو ہم نے تم کو بخشا ہے، اس سے پہلے کہ آپہنچے ایک ایسا ہولناک دن جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ممکن ہوگی، اور نہ ہی دوستی کام آسکے گی، نہ سفارش، اور کافر لوگ ہی (اصل) ظالم ہیں،5

728 اِنفاق فی سبیل اللہ کا حکم و ارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ خرچ کرو [ ہماری رضا و خوشنودی کے لیے ] اس مال و متاع میں سے جو ہم ہی نے تم لوگوں کو دیا بخشا ہے قبل اس سے کہ اس کی فرصت و مہلت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عقل و نقل کا تقاضا اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، یعنی جب دیا ہوا سب کچھ ہمارا ہی ہے، تو اس کو بلکہ اس میں سے بھی " بعض " اور " کچھ "، کو ہما ری راہ میں خرچ کرنا تم لوگوں کو گراں کیونکر ہو۔ اور خاص کر جبکہ اس خرچ کا فائدہ بھی خود تم ہی کو واپس ملنے والا ہے، اور کئی گنا بڑھا چڑھا کر ملتا ہے۔ سو اللہ پاک کے دیئے بخشے میں سے اس کے نام پر اور اس کی رضاء و خوشنودی کیلئے خرچ کرنا عقل و نقل کا تقاضا بھی ہے، اور اس میں بھلا بھی خود بندے ہی کیلئے ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ 729 کافر لوگ ظالم ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کافر ہی اصل ظالم ہیں کہ وہ اپنے اس خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہیں، جس کی نعمتوں میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ اس کی اس ہدایت و وحی اور احکام و ارشادات کے منکر ہو رہے ہیں، جن میں سراسر انہی کا بھلا اور فائدہ اور انہی کی کامیابی کا سامان ہے، اس دنیا میں بھی، اور اس کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ اور اس طرح یہ لوگ خود اپنی جانوں کے حق میں بھی ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور ان کو جنت کی نعمتوں سے محروم کرکے دوزخ کی آگ میں ڈال رہے ہیں۔ سو اپنے خالق ومالک کی ہدایت سے منہ موڑنا ہر طرح سے ظلم ہے۔ اور ایسے ظالموں کو اپنے اس ظلم کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور بڑی ہی بری اور ہولناک شکل میں بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائ السَّبِیْل ۔ سو کفر و انکار ہلاکتوں کی ہلاکت ہے اور ایمان و یقین دارین کی سعادتوں سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔