Ayah 2:196540 حج اور عمرے کے اتمام کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کیلئے پورا کرو تم لوگ حج اور عمرہ کو : یعنی ان دونوں کے احکام و افعال کو مکمل کروا اور ان کی ادائیگی اور تکمیل سے صرف اس کی رضا مقصود ہو۔ ریاء و نمود اور نمائش و دکھلاوے وغیرہ کا کوئی شائبہ بھی اس میں شامل نہ ہو۔ حج وعمرہ کی عبادت چونکہ ایک عظیم الشان اور منفرد نوعیت کی عبادت ہے اور اس میں خاص مظاہر اور اعمال بھی پائے جاتے ہیں، جن کی بناء پر اس میں ریاء و نمود کا خطرہ و خدشہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں ریاکاری اور نمود و نمائش کی آمیزش نہ ہوجائے اور وہ ایسے جملہ شوائب سے پاک و صاف اور محفوظ ہو، تاکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں شرف قبولیت پاکر انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن سکے ۔ اللہ پاک اس کی توفیق و عنایت نصیب فرمائے۔ آمین۔
541 " اِحصار " کا معنیٰ و مفہوم اور اسکا حکم ؟ : " اِحصار " کے معنی گھیرنے اور گھیر لیے جانے کے ہیں۔ یعنی اگر تمہیں گھیر لیا جائے کسی بیماری یا دشمن وغیرہ کی وجہ سے، جس کو فقہ کی اصطلاح میں " اِحصار " کہا جاتا ہے اور جس کے خاص احکام و مسائل ہیں۔ سو اگر ایسا کوئی موقع پیش آجائے اور ایسے کسی عذر اور مانع کی وجہ سے تم اپنا حج یا عمرہ پورا نہ کرسکو اور تمہیں اس سے پہلے ہی احرام کھولنا پڑجائے، تو اس کیلئے تم کوئی قربانی پیش کرو خواہ اونٹ ہو یا گائے بکری وغیرہ۔ اور بعد میں موقع میسر آنے پر اس فوت شدہ " نسک " کی قضاء کرلو۔ سو جب تم کو " اِحصار " کی ایسی کوئی صورت پیش آجائے اور اس کی بناء پر تمہارے لیے بیت اللہ تک پہنچنا ممکن نہ رہے تو تمہیں جو قربانی میسر آئے وہ وہیں پیش کردو، جہاں تم گھر جاؤ۔ چناچہ حضور ﷺ نے اسی ہدایت کے مطابق " حدیبیہ " ہی میں قربانی پیش کرکے احرام کھول دیا تھا، اور اس کو دیکھ کر آپ کی سب صحابہ کرام نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ سو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس عمل سے بھی احصار کا یہ حکم واضح ہوجاتا ہے۔
542 " ھَدْی " یعنی قربانی کے ذبح کی جگہ حرم : یعنی وہ حرم میں پہنچ جائے کہ اس کی ذبح کی جگہ حرم ہی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { ثُمَّ مُحِلُّہَا اِلَی الْبَیْت الْعَتِِیْق } ۔ (الحج : 23) ۔ نیز فرمایا گیا { ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبِۃ } الاٰیۃ (المائدۃ۔ 95) ۔ سو اس " ھدی " " قربانی " کے اپنے موقع یعنی حرم میں پہنچنے سے پہلے تمہارے لئے احرام کھولنا جائز نہیں۔ لہذا اس کے لیے اس بات کا انتظام کرو کہ وہ اپنے مقام پر پہنچ کر ذبح ہوجائے اس کے بعد تم اپنا احرام کھولو (معارف للکاندھوی (رح) ) ۔ سو جب وہ حرم میں پہنچ کر ذبح ہوجائے تو تم حلق یا قصر کر کے اپنا احرام کھول دو اور احرام کی پابندیوں سے فارغ ہوجاؤ۔
543 امن ملنے پرــ " مناسک " بجالانے کا حکم : سو جب تم کو امن نصیب ہوجائے تو تم حسب معمول تمام مناسک بجا لاؤ یعنی عارض رفع ہوجائے، خطرہ ٹل جائے اور احصار ختم ہوجائے۔ یا شروع سے ہی تم لوگ امن وامان میں ہو اور احصار وغیرہ کی کوئی صورت پیش ہی نہ آئی ہو، تو ان دونوں صورتوں میں حکم یہی ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے، کہ حج اور عمرہ دونوں کی ادائیگی میں وہ " دم تمتع " ادا کرے۔ یہ دراصل آفاقی حاجیوں یعنی عازمین حج کیلئے ایک رخصت بیان فرمائی گئی ہے، جو حدود حرم سے باہر سے آتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات حدود حرم کے اندر رہنے والے لوگوں کیلئے ٹھیک تھی اس لیے کہ ان کیلئے حج اور عمرہ کیلئے الگ الگ سفر کرنا کچھ مشکل نہ تھا، لیکن دور سے آنے والے حجاج کیلئے اس میں زحمت تھی۔ اس لیے شریعت مطہرہ نے انکو یہ رخصت مرحمت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں ادا کرسکتے ہیں۔ البتہ ایسی صورت میں ان کیلئے قربانی کرنا ضروری ہے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو دس روزے رکھیں جیسا کہ آگے آرہا ہے، اور یہ قربانی دـم شکر کہلاتی ہے۔ یعنی اس بات کا شکر کہ ایک ہی سفر میں دونوں عبادتوں کی سعادت نصیب ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت کے بغیر ازخود بندہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
544 دمِ " تمتع " کے وجوب کا بیان : پس جو کوئی تمتع کرنا چاہے اور یہ دونوں عبادتیں وہ ایک ہی سفر میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہے خواہ وہ عمرہ اور حج کے ان دونوں نسکوں کو ایک ہی احرام میں ادا کرے، جیسے " قرآن " میں ہوتا ہے یا الگ الگ احرام میں، جیسا کہ حج تمتّع میں ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اپنے خالق ومالک کے حضور قربانی پیش کرے اور یہ قربانی وہ اس کے شکر میں پیش کرے کہ اس کی توفیق و عنایت سے ایسے شخص کو حج وعمرہ کی یہ دونوں عظیم الشان عبادتیں ایک ہی سفر میں ادا کرنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی۔ اس لیے اس کو دم تمتع اور دم شکر کہا جاتا ہے اور اس کا گوشت وہ خود بھی کھاسکتا ہے، جیسے قربانی کا گوشت کھاتا ہے۔ سو " فمن تمتع " سے مراد اس کا لغوی معنی ہے، جو کہ اصطلاحی تمتع اور قرآن دونوں کو شامل ہے۔ یعنی حج تمتّع کرے یا قرآن کرنا چاہے۔ اس کی ذمے " ہدی " یعنی قربانی واجب ہے، جو کہ اصل میں " دم شکر " ہے۔ یعنی اس بات کا شکر کہ ایک ہی سفر میں ان دونوں عبادتوں کی ادائیگی کی سعادت نصیب ہوگئی ۔ والحمد للہ جل وعلا -
545 قربانی حسب توفیق و تیسیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو قربانی اس کو میسر ہو ادا کرے۔ یعنی اونٹ، گائے، بیل اور بھیڑ بکری وغیرہ میں سے جو بھی میسر آئے وہ اس کی قربانی کرے، جس کو دم تمتع یا دم قرآن کہا جاتا ہے۔ سو حج کی تین قسموں میں سے دو میں قربانی کرنا لازم ہے۔ یعنی " حج تمتّع " اور " قرآن " میں۔ جبکہ تیسری قسم یعنی " حج افراد " میں قربانی کرنا ضروری نہیں۔ کیونکہ اس قربانی کی اصل حیثیت جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا دم شکر کی ہے، کہ جب انسان ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں عبادتوں کو بجا لانے کی سعادت حاصل کرتا ہے تو اس کے شکر میں وہ اپنے رب کے حضور شکرانے کے طور پر قربانی پیش کرتا ہے۔ اور حج افراد میں چونکہ یہ صورت ہوتی نہیں کہ وہاں عمرہ نہیں ہوتا بلکہ صرف حج ہی ہوتا ہے اس لئے اس میں قربانی کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اسی طرح صرف عمرے کی ادائیگی پر بھی دم تمتع کی یہ قربانی واجب نہیں کہ وہاں دو عبادتیں جمع نہیں ہوتیں۔
546 " ہدی " کے بجائے روزوں کی اجازت : سو " ہدی " میسر نہ آنے کی صورت میں ایسا شخص تین روزے رکھے اور اس طور پر کہ ان کا آخری دن نویں ذی الحجہ ہو۔ لیکن اگر اس سے پہلے ہی پورے کرلے تو یہ بھی بالاجماع جائز ہے۔ (بیان القرآن، معارف القرآن للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ بہرکیف جسکو " ھدی " یعنی قربانی کا جانور میسر نہ ہو خواہ اس بناء پر کہ جانور موجود ہی نہ ہو یا اس بناء پر کہ جانور خریدنے کیلئے اس کے پاس مال نہیں تو ایسی صورت میں وہ اس کے بدلے دس روزے رکھے۔ تین حج کے دوران یعنی یوم نحر سے پہلے اور سات واپس گھر لوٹ کر۔ خواہ گھر پہنچ کر یا اس سے پہلے رجوع کے دوران ہی۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف " حج تمتّع " اور " حج قرآن " میں سے جو بھی حج کوئی کرے، اس پر قربانی واجب ہے۔ جو کہ در اصل دـم شکر ہے جو بندہ اپنے رب کے حضور شکر کے طور پر ادا کرتا ہے یعنی اس بات کا شکر کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے اس نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کی دونوں عبادتوں کو یکجا ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اور اگر قربانی میسر نہ ہو سکے تو اس کی جگہ دس روزے رکھے۔ تین سفر حج کے دوران ہی، یوم نحر سے پہلے اور سات وطن واپس لوٹ کر۔ سو یہ پورے دس روزے ہوگئے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃ ٌ } ۔ سو جس کو قربانی میسر ہو وہ قربانی کرے۔ اور جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ دس دن کے روزے رکھے۔ پس دین حنیف میں محرومی کسی کے لیے بھی نہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
547 " تمتّع " و " قرآن " کی اجازت اہل حرم کے سوا دوسروں کیلئے : یعنی " تمتع " اور " قرآن " کی سعادت حاصل کرنے کی یہ رعایت و اجازت صرف ان لوگوں کیلئے ہے جو حدود حرم سے باہر کے رہنے والے ہوں، حرم مکہ کی حدود کے اندر رہنے والوں کیلئے نہیں ۔ { فَمَنْ تَمَتَّعَ } ۔ کے لفظ سے یہاں پر اس کے اصطلاحی معنی مراد نہیں، بلکہ لغوی معنی مراد ہیں، جو کہ " تمتع " اور " قرآن " دونوں کو شامل ہیں (معارف القرآن وغیرہ) ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ باہر والوں کیلئے حج اور عمرہ کیلئے الگ الگ سفر کرنا مشکل ہے۔ اس لیے انکو یہ اجازت دی گئی کہ وہ حج اور عمرہ کی یہ دونوں عبادتیں ایک ہی سفر میں ادا کرسکتے ہیں، بخلاف اہل مکہ کے کہ انکو اس کیلئے کسی سفر کی ضرورت نہیں پڑتی ہے وہ جب چاہیں عمرہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان کو ایک ہی سفر میں یعنی ایام حج میں " تمتع " اور " قرآن " کی اجازت نہیں، تاکہ ان دنوں میں آفاقی حجاج کے لئے آسانی اور سہولت ہوـ۔ سو حدود حرم کے اندر رہنے والے ان دنوں میں صرف حج افراد کرسکتے ہیں نہ کہ قرآن و تمتع۔ ( معارف وغیرہ ) ۔
548 تقویٰ کا حکم وارشاد : سو ہدایت فرمائی گئی کہ اللہ کے خوف اور اس کے تقویٰ کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنائے رکھو اور یہ کہ یقین جانو کہ اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی کی رضاء و خوشنودی کو اپنے پیش نظر رکھو، اور اسی کی کوشش کرو، کہ اس سے ہمارا معاملہ صحیح ہو، کہ وہ راضی ہوگیا تو سب کام بن گیا۔ اور اس کے بغیر مخلوق کی رضا کیلئے کوشش کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ مگر افسوس کہ آج دنیا کی اکثریت کا حال اس کے برعکس یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی رضا کے اس اصل اور اہم مقصود کو بھول کر، مخلوق کی رضا کے حصول ہی کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں نہ خدا راضی کہ اس کی ان کو فکر ہی نہیں، اور نہ ہی مخلوق راضی، کہ مخلوق کے دل تو اسی خالق ومالک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ تو اس کی رضا کے بغیر مخلوق کی رضا کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟ اسی لئے آج انسان طرح طرح کی الجھنوں میں مبتلاء اور قسما قسم کی پریشانیوں کا شکار ہے، اور آرام و راحت کے تمام تر اسباب و وسائل مہیا ہونے کے باوجود وہ سکون اور اطمینان قلب کی دولت سے محروم ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعَلَا ۔ سو تقویٰ کلید ہے فوز و فلاح کی، وباللہ التوفیق۔
Ayahs 2:197–199549 " اشہر حج " سے مقصود و مراد ؟ : " اشہر حج " سے مراد یہ تین مہینے ہیں۔ یعنی شوال، ذوالقعدہ، اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن، جن کو " اشہر حج " کہا جاتا ہے، اور ذوالحجہ کے اگرچہ دس ہی دن ہیں مگر یہ اس قدر فضائل اور خصوصیات کے حامل دن ہیں کہ پورے مہینے کے برابر، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اور راقم آثم نے " فضائل عشرہ ذی الحج " کے نام سے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جو عرصہ قبل چھپ بھی چکا ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ " اشہر معلومات " کے الفاظ سے مقصود و مراد " ایام معدودات " کی طرح انکے محدود اور معین ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ کوئی ایسی محدود اور غیر معین مدت نہیں ہے، کہ حج اور عمرہ کی نیت کرنے والوں کیلئے ان کی پابندیاں بہت بھاری اور مشکل ہوں، بلکہ یہ تو چند معلوم اور معین مہینے ہیں۔ سو جو کوئی ان میں حج یا عمرے کا عزم و ارادہ کرے وہ ان کی پابندیوں کو اپنائے، اور شہوت و نافرمانی اور لڑائی جھگڑے سے بچے، اور زیادہ سے زیادہ نیکی اور تقویٰ کی کمائی کرنے کی کوشش کرے جو کہ خیر و برکت کے اس موسم کا تقاضا ہے کہ اس میں کیے جانے والے عمل کا اجر وثواب بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق -
550 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کی یقین و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی نیکی تم کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر عمل کو جانتا ہے۔ اور اس پر وہ تمہیں اپنے بےپایاں فضل و کرم کی بناء پر اجر وثواب سے نوازے گا۔ سو جب وہ تمہارے ہر عمل کو دیکھتا اور جانتا ہے تو پھر اور کسی کی کیا فکرو پرواہ۔ تمہارا کوئی بھی عمل نہ ضائع ہوسکتا ہے اور نہ تمہیں اس کے اجرو ثواب سے محروم ہونے کا کوئی خدشہ ہونا چاہیئے۔ پس تم ہر وقت نیکیوں کی دولت جمع کرنے کی فکر و کوشش میں لگے رہا کرو، خاص کر حج اور عمرہ کے ان دنوں میں جو گنتی کے ہی کچھ دن ہیں کہ ان میں نیکیوں کی کمائی کا خاص موقع ہے۔ انسان کو اس جہاد میں اگرچہ اپنے جذبات اور خواہشات کی قربانی ضرور دینا پڑتی ہے، لیکن یہ چیز ایسی نہیں ہے کہ اس سے انسان اپنا حوصلہ چھوڑ دے اور کمزوری دکھائے، بلکہ اس کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی جانتا ہے اور وہ اس کو اس پر بھرپور اجر و صلہ سے نوازے گا۔ اس لئے اس کی رضا و خوشنودی ہی کو اپنا اصل مقصد بنانا چاہئے۔ کہ اس خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی اگر نصیب ہوگئی تو سب کچھ مل گیا ورنہ کچھ بھی نہیں۔
551 تقویٰ بہترین زاد سفر : کہ تقوی و پرہیزگاری کا یہ زاد سفر تمہیں دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی کے علاوہ، آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی کام دیگا، جہاں مال و اولاد وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسری چیز کام نہیں آسکے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے ۔ { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مََنْ اَتَی اللّٰہََ بِقَلْْبٍ سَلِیْمٍ } ۔ (الشعرائ : 88-89) ۔ یہ اسلام کی مقدس تعلیمات کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم مظہر ہے کہ یہ عام دنیاوی امور کو بھی آخرت کی تذکیر و یا دہانی کا ذریعہ بنادیتی ہیں۔ مثلًا یہاں پر زاد راہ اور سفر خرچ کا ذکر ہو رہا تھا جو کہ عام دنیاوی چیز ہے جس کی ضرورت مومن غیر مومن سب ہی کو یکساں طور پر ہوتی ہے، مگر یہاں پر اس کے ذکر کے ساتھ ہی آخرت کے اس مسلسل اور دائمی سفر کی یا دہانی بھی کرا دی، جو کہ ہر شخص کو در پیش ہے، اور جس پر ہر کوئی رواں دواں ہے۔ اور اس قدر التزام و پابندی کے ساتھ کہ وہ چاہے یا نہ چاہے، بہرکیف وہ اپنے انجام کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے، اور اپنی اس آخری منزل کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے، جس سے پھر اس دنیا میں نہ واپسی کی کوئی شکل ممکن ہوگی، اور نہ کمائی کی کوئی صورت۔ اور یہ بھی بتادیا کہ اصل زاد راہ اور آخرت کے اس سفر میں کام آنے والی چیز صرف اور صرف تقویٰ و پرہیزگاری کا زاد راہ ہے، جو آج دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود اور حیات مستعار ہی میں کمائی جاسکتی ہے، اور بالکل مفت اور بلا کسی دقت و دشواری کے۔ اسی طرح سواری پر بیٹھتے وقت پڑھنے کیلئے جو یہ دعاء تلقین فرمائی گئی ۔ { سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلََنَا ہٰذَا وَ مََا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنََ } ۔ " پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے مسخر کردیا اس سواری کو، ورنہ ہم از خود اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے " تو اس میں بھی اس کے ساتھ ہی آخرت کی تذکیر و یاددہانی کیلئے یہ بھی تلقین فرما دیا گیا ۔ { وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ } ۔ " اور بیشک ہمیں بہرحال اور ہر قیمت پر اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔ یعنی ایک سفر تو یہ ظاہری سفر ہے جس پر ہم اس وقت اس سواری کے ذریعے روانہ ہو رہے ہیں، اور ایک وہ مخفی اور معنوی سفر ہے جس پر ہم ہمیشہ رواں دواں ہیں۔ اور جس کا خاتمہ حیات دنیا کے خاتمے پر ہی ہوگا۔ لہذا اس کے لئے بھی تیاری کرنی چاہیئے بلکہ دنیاوی سفر اور دنیاوی زندگی کے سامان سے بھی کہیں بڑھ کر اس کی فکر کرنی چاہیئے۔ اس لئے کہ وہاں سے پھر واپسی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی اور وہاں کیلئے کمائی کرنے کا پھر کوئی موقع نہیں مل سکے گا۔ اسی طرح سوتے وقت پر دعاء تعلیم فرمائی گئی ۔ " بِاسْمِکَ اللّٰہُُمَّ اَمُوْتُ وَاَحْیََا رََبّ قِِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکََ " ۔ " تیرے ہی نام کے ساتھ اے اللہ میرا مرنا اور جینا ہے، اے میرے رب، مجھے اپنے عذاب سے بچا دینا اس روز کہ جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھا کھڑا کریگا "۔ اسی طرح نیند سے اٹھتے وقت یہ دعابتائی گئی ہے۔ " اَلْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہ النُّشُوْرُ " ۔ " حمد و ثنا ہے اس اللہ کیلئے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہمیں پھر واپس جانا ہے "۔ نیند اور اس سے بیدار ہونے کے ان دونوں موقعوں سے متعلق ان دعاؤں کے ذریعے یہ بتلایا گیا ہے کہ نیند اور بیداری کی یہ دونوں کیفیتیں جو آج لوگوں کو پیش آرہی ہیں دراصل زندگی بعد الموت کیلئے ایک طرح کی ریہرسل اور یاد دہانی ہیں، جن کے ذریعے انسان کو روزانہ یہ عملی درس دیا جاتا ہے، کہ مرنے کے بعد تم ایسے ہی دوبارہ اٹھو گے، جیسا کہ نیند کے بعد اٹھتے ہو، تو نیند مشابہ ہے موت کے۔ اسی لئے اس کو " اُخْتُ اْلمَوت " " موت کی بہن " کہا گیا ہے۔ اور اس سے بیداری اور سو کر اٹھنا مرنے کے بعد جی اٹھنے کا نمونہ ہے۔ سو اس طرح اسلام نے ان طبعی چیزوں کو بھی حق و صداقت کا درس و پیغام بنادیا، جن سے غیر مسلم بھی مستفید ہوتے ہیں، مگر ان کو ان عظیم الشان حقائق کی طرف توجہ کہاں نصیب ہوسکتی ہے، جو کہ صرف نور ایمان کی بدولت ہی نصیب ہوسکتی ہے۔ وہ تو عام حیوانوں کی طرح ۔ بلکہ ان سے بھی بدتر انداز میں ۔ سوتے اور جاگتے ہیں۔ کسی درس و نصیحت اور سود و زیاں کا کوئی پتہ ہی نہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ ان کی ساری تگ و دو کا حاصل تو خواہشات نفس کی پیروی اور انکے تقاضوں کی تکمیل کا سامان کرنا ہے اور بس۔ سو کس قدر خسارے کا باعث ہے نور ایمان سے محرومی، اور کس قدر بڑی دولت ہے ایمان و یقین کی یہ دولت ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذِہ النِّعْمَۃ العظمی ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام -
552 تقویٰ و پرہیزگاری عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا : سو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا یہی ہے کہ انسان سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے اس خالق ومالک سے ڈرے۔ اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش کرے، جس نے اسے نعمت وجود سے نوازا۔ اور پھر اسے اس کے جسم کے اندر اور اس کے باہر ان بےحد و حساب نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا، جن کو پوری طرح جاننا اور شمار کرنا بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ اور پھر آخرکار لوٹ کر جانا بھی اسی کے حضور ہے، جہاں پر ہر کسی کو اپنی زندگی بھر کی کارگزاری کی جو ابد ہی کرنی ہے۔ پس اسی سے ڈرا جائے اور اسی کی رضا و خوشنودی کو مقصود حیات بنایا جائے، سو عقل صحیح و سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ ہر حال میں اپنے خالق ومالک سے ڈرے، اور اسی کی رضا و خوشنودی کو اپنے پیش نظر رکھے۔ اور جو لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور انکے طور طریقے اس کے برعکس ہیں، ان کی عقلیں سلیم و صحیح ہیں ہی نہیں، بلکہ انکو اہوا و اَغراض کی میل نے ماؤوف کردیا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لیے یہاں پر " اولوالعقول " نہیں " اولوالالباب " فرمایا گیا ہے۔ اور " لبّ " عقل خالص ہی کو کہا جاتا ہے جبکہ عقل عام ہے۔ اس کا اطلاق ہر قسم کی عقل پر ہوتا ہے خواہ وہ کیسی ہی ہو۔ اور وہ کفر و شرک وغیرہ کے زنگ سے ماؤف ہی کیوں نہ ہوچکی ہو ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 2:200557 آباؤ اجداد کی بجائے اللہ کو یاد کرنے کی ہدایت و ارشاد : سو تم لوگ دل و جان سے یاد کرو اللہ کو تاکہ اس طرح تم دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو، کہ اللہ اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد انقلاب آفریں اور حیات بخش سعادت ہے۔ اور اس سے محرومی موت ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور ان کے مفاخر گنوانے سے جھوٹی نخوت اور تکبر کے سوا تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا، کہ وہ دنیا سے کفر ہی کی حالت میں گئے، اور کفر پر مرنے والے باپ دادوں سے انتساب پر فخر کرنا اپنی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فخر کی چیز یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ کون حق و ہدایت کی دولت بےمثال و لازوال سے زیادہ بہرہ مند اور مالا مال تھا۔ بہرکیف قرآن حکیم نے انکو ارشاد فرمایا کہ اپنے باپ دادا کے مفاخر بیان کرنے کے غلو مشاغل کو ترک کرکے اللہ کے ذکر کو اپناؤ تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ اللہ تعالیٰ کی یاد دلشاد دلوں کی زندگی اور اس سے محرومی دلوں کی موت ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
558 ذکر خداوندی کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ ذکر اس اللہ کا کرو جس کی نعمتوں اور رحمتوں و عنایتوں کا کوئی کنارہ اور ٹھکانا نہیں۔ اور اس کی یاد دلشاد میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے، اور اس کے عبید اور بندے ہونے کے اعتبار سے یہ اس کا تم پر حق بھی ہے۔ سو ذکر خداوندی ایک عظیم الشان نعمت اور جلیل القدر عبادت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ ہمیشہ اور ہر حال میں اور دل و جان سے اس کی یاد دلشاد سے سرشار رہو ۔ اَللّھُمّ فَخُذْنَا بِنَواصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہ حَبُّکَ وَرِضَاکَ بِکُل حَالٍ مِنَ الاَحْوَال " ۔۔ سو ذکر اور یاد خداوندی دلوں کی دنیا کو آباد اور زندہ کرنے والی ایک عظیم الشان اور بےمثال عبادت ہے۔ اور یہ ایسی عظیم الشان اور بےمثال عبادت ہے کہ انسان اس سے ہر حال میں اور ہر جگہ اور ہر وقت سرشار ہوسکتا ہے۔ اس میں نہ کوئی رکاوٹ نہ کوئی مشکل۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل۔
559 اصل معاملہ مشیئت خداوندی پر ہے : یعنی دنیا کا ملنا بھی ان کی مرضی و خواہش پر نہیں، بلکہ ہماری مرضی اور مثیئت پر موقوف ہے۔ ہم جس کو چاہیں، اور جتنا اور جو چاہیں، اور جیسا چاہیں عطاء کریں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ } ۔ (بنی اسرائیل : 18) ۔ سو اصل چیز مشیئت ومرضی خداوندی ہے۔ سب کچھ اسی کے تابع ہے۔ اس کی کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کی مشیئت ومرضی سے ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر ابنائ دنیا اس ایمان و یقین سے محرومی اور اس حقیقت سے اپنی بیخبر ی کے باعث دنیا کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کو اپنا مقصد حیات اور مطمح نظر بنائے ہوئے ہیں، اور اسی بناء پر انہوں نے زمانہ جاہلیت میں حج جیسی مقدس عبادت کو ایک تجارتی میلے کی شکل میں بدل کر رکھ دیا تھا، اور اسی بیماری کے مریض اور اس کے جراثیم کے حامل دور حاضر کے وہ لوگ ہیں جو حج کو ایک سالانہ کانفرنس کے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حج کی اصل روح " ہجرت الی اللہ " ہے، اس کے دنیوی فوائد محض ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ سو اس عبادت مقدسہ کی روح اور اس کے اصل مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ وباللہ التوفیق -
560 طالبان دنیا کیلئے آخرت کی محرومی : کیونکہ آخرت انہوں نے مانگی ہی نہیں، ان کی ساری تگ و دو بس دنیا اور اس کے متاع فانی ہی تک محدود رہی، اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کو وہ بھول بیٹھے تھے، اس لئے وہاں ان کیلئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات کے علاوہ سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ہی ارشاد فرمایا گیا { ثُمَّ جَعَلْنَا لَہ جَہَنَّمَ یَصْلٰہَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا } (بنی اسرائیل۔ 18) " یعنی دنیا کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں ایسے لوگوں کو جہنم کے اندرداخل ہونا ہوگا، ذلیل و خوار ہو کر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی ہے وہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، اور جس کی تلافی وتدارک کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی اور یہی ہے سب سے بڑا خسارہ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعَلَا -
Ayahs 2:201–202561 دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے ایک عظیم الشان اور جامع دعا : سو یہ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنے کیلئے ایک جامع دعا ہے کہ دنیوی زندگی میں اپنی حاجات و ضروریات کی تکمیل کیلئے حلال و پاکیزہ ذرائع و وسائل میسر ہوں۔ خاص کر نیک بیوی، کھلا کشادہ گھر، صحت و عافیت کی نعمت، اور ایمان و یقین کی دولت وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ہم اس دنیا میں بھی امن و عافیت اور سکون وسعادت والی زندگی گزار سکیں، اور تیری اطاعت و بندگی سے زیادہ سے زیادہ سرفراز و سرشار ہو سکیں، اور اس طرح آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کمائی کا سامان بھی کرسکیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ تیری توفیق و عنایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اے ہمارے مالک ! اور جب حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے محض اپنے کرم سے دارین کی سعادت و سرخروئی پر مشتمل اس جامع دعاء کی تلقین فرمائی ہے تو وہ انشاء اللہ اس کو قبول بھی ضرور فرمائے گا۔ پس بندے کا کام ہے اس سے مانگنا اور درخواست کرنا کہ دینے والا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ -
562 آخرت کی بھلائی اور اس سے مراد ؟ : یعنی آخرت کی وہ بھلائی نصیب فرما جس سے تیری رضا اور جنت سے بہرہ مندی کی سعادت و کامیابی نصیب ہو سکے، جو کہ اصل مقصود ہے۔ سو اس طرح یہ دعا دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی کو جمع کردیتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبئ اکرم ﷺ اکثر و بیشتر یہی دعا فرمایا کرتے تھے، اور حضرات صحابہ کرام کا عمل بھی یہی تھا۔ (صحیح بخاری کتاب الدعوات ابن کثیر (رح) و محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور دوزخ کی آگ سے بچانے سے مراد یہ ہے کہ ان معاصی و محارم سے بچا کر رکھ جو دوزخ کا باعث بنتے ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:203563 " ایام منیٰ " میں ذکر خداوندی کی ہدایت و تلقین : " ایام منیٰ " سے مراد ہیں " ایام تشریق " یعنی ذو الحجہ کی گیا رہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ (ابن عباس ؓ ۔ نیز " یوم عرفہ " اور " یوم نحر " بھی اس میں شامل ہیں، کہ ان دنوں کو حدیث میں اکل و شرب اور خوشی کے دن فرمایا گیا ہے، اسی لئے ان میں فرض نمازوں کے بعد بآواز بلند تکبیرات کہی جاتی ہیں (ابن کثیر، محاسن التاویل، اور معارف وغیرہ) ۔ سو ان مخصوص اور مبارک دنوں میں اللہ پاک کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے زیادہ سے زیادہ بہرہ ور و سرفراز ہونے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
564 منیٰ سے کوچ کیلئے تعجیل و تاخیر دونوں کی اجازت : اور وہ بارہویں کو ہی رمی جمرات کے بعد منیٰ سے واپس لوٹ آیا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کہ اس کا حج تو بہرحال پورا ہوگیا۔ اس کا وہاں پر مزید ٹھہرنا ضروری نہیں، اس سے دراصل زمانہء جاہلیت کے ایک خیال فاسد کا رد فرمایا گیا ہے، کہ ان میں سے کچھ لوگ تو جلدی کرنے والوں کو گنہگار سمجھتے تھے، اور کچھ دوسرے تاخیر کرنے والوں کو، تو اس پر ارشاد فرمایا گیا کہ گناہ نہ تعجیل میں ہے نہ تاخیر میں۔ دونوں ہی صورتیں درست ہیں۔ البتہ بہتر اور افضل یہی ہے کہ انسان وہاں پر تین دن قیام کرے، اور تیرھویں کو بھی رمی جمرات کرکے لوٹے۔ (معارف القرآن للکاندہلوی (رح) ) کہ اس طرح اس کو زیادہ اجر وثواب حاصل ہوگا جو کہ مستقل مطلوب ہے۔ بہرحال اجازت دونوں کی ہے۔
565 اصل چیز تقویٰ و پرہیزگاری : پس اصل چیز جو بنیادی طور پر مطلوب اور ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے، وہ ہے تقوی خداوندی کہ رب راضی ہوجائے۔ اس کی رضا ہی اصل مقصد ہے۔ اس بنیادی امر کو پیش نظر رکھ کر تم لوگ تعجیل و تاخیر کی ان دونوں باتوں میں سے جو بھی اختیار کرو، وہ جائز اور درست ہے۔ اس میں کسی حرج اور گناہ کا کوئی سوال نہیں۔ پس تقوی و پرہیزگاری کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے اور مقصد بنانے کی ضرورت ہے کہ یہی اصل اور اساس ہے۔ وباللہ التوفیق -
566 آخرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور یقین جانو کہ تم سب کو بہرحال اسی کے حضور اکٹھے ہو کر جانا ہے، اور وہاں پہنچ کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا، اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ حساب و کتاب کے اس یوم عظیم کو پیش نظر رکھو، اور اس سے کسی بھی حال میں غفلت اور لاپرواہی مت برتو، اور ہمیشہ اس کے لیے تیار اور اس کی فکر میں محو رہا کرو کہ اس کیلئے تیاری کا موقع یہی دنیاوی زندگی ہے۔ اس کے خاتمے کے بعد پھر اس کی تیاری کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ پس اس کو غنیمت سمجھو اور اس سے فائدہ اٹھالو، قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود و مختصر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس روز کوئی شخص اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دیئے بغیر اور اپنے رب کے حکم کے بغیر وہاں سے قدم نہیں اٹھا سکے گا۔ اور حج کا یہ اجتماع روز حشر کے اس عظیم الشان اجتماع کی تذکیر و یاددہانی ہے۔ سو اس مجاز کی شکل میں دیکھی جانے والی اس حقیقت کبری سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہیئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:204567 اہل باطل کی ملمع سازی کا ایک نمونہ و مظہر : " فی الحیاۃ الدنیا " کے اس کلمات کریمہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایسے لوگوں کی ان ملمع سازیوں کا جادو اسی دنیا میں چل سکتا ہے اور بس، کہ یہاں اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے، جس کی بناء پر یہاں دھوکہ و فریب سب کچھ چلتا ہے، مگر آخرت میں ایسوں کی کوئی منطق کارگر نہ ہو سکے گی، کہ وہ کشف حقائق کا جہاں ہوگا اور وہاں پر ہر شی اپنی اصل شکل میں سامنے آ جائیگی۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے لوگوں کی یہ باتیں جو دنیاوی زندگی کے بارے میں ہوتی ہیں، وہ بڑی چکنی چپڑی اور دلوں کو لبھانے والی ہوتی ہیں۔ اور یہ اس لئے کہ ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا اور مطمح نظر ہی یہ دنیا اور اس کے مادی اور وقتی فوائد و منافع ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ } ۔ (النجم :29- 30) اور اللہ پاک کا عام قانون و ضابطہ یہی ہے کہ انسان جدھر بھی جانا چاہے اللہ تعالیٰ اس کی باگیں ادھر ہی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اپنے ارمان پورے کرلے اور اپنے انجام کا سامان خود کرلے، مگر راہ حق سے منہ موڑ کر باطل کی راہوں پر چلنے کا نتیجہ و انجام بہرحال جہنم ہے، جیسا کہ ایک اور مقام پر ایسے شخص کیلئے ارشاد فرمایا گیا (النسائ۔ 1 15) اور ابنائے دنیا جب دنیا ہی کو اپنا مقصد حیات اور مطمح نظر بنا دیتے ہیں، اور وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں، تو اللہ پاک انکو ان کے اپنے اختیار کفرو ضلال اور ان کی اپنی خواہش و چاہت کے مطابق، اور ان کی کوششوں اور محنتوں کے نتیجے میں، آخرت سے محروم کرکے دنیا ہی کے راستے ان پر کھول دیتا ہے، جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر ابنائے دنیا کی تاریخ کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْن } ۔ (العنکبوت : 38) یعنی دنیاوی اعتبار سے وہ لوگ واقعی بڑے چالاک اور ہوشیار تھے۔ اور یہی بات ہر زمانے کی طرح آج بھی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کہ ابنائے دنیا، دنیا کی تعمیر و ترقی، زیب وزینت، اور اس کی ظاہری ٹیپ ٹاپ، اور اس کے مادی تقاضوں کی تکمیل کیلئے بہت کچھ جانتے اور کرتے ہیں، مگر آخرت کی اپنی اصل حقیقی اور دائمی زندگی کے تقاضوں سے ایسے لوگ یکسر غافل اور بیخبر ہوتے ہیں ۔ اِلا مَا شَائَ اللّٰہُ ۔ بہرکیف آیت کریمہ میں ارشاد فرمودہ کلمات کریمہ " فِی الْحَیٰوۃ الدُّنْیَا " میں کلمہئ " فِیْ " ظرفیّہ بھی ہوسکتا ہے اور اجلیہ بھی۔ اور دونوں صورتوں میں دو مفہوم بنتے ہیں (جامع البیان وغیرہ) ۔ اور یہ دونوں ہی صحیح، اور اپنی اپنی جگہ بہت اہم اور مہتم بالشان ہیں۔
568 اہل باطل کی اصل دشمنی حق کے ساتھ : کہ ایسوں کی زندگی کا اصل مقصد نفس کی پیروی اور خواہش کی پرستش ہوتا ہے، اور حق ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے، جس کی بناء پر ان کی اصل دشمنی اور مخاصمت حق اور حق والوں ہی سے ہوتی ہے۔ پس تم لوگ ایسوں کی ان ظاہری چکنی چپڑی باتوں کے دھوکے میں نہیں آنا، کہ ایسے لوگ خود دھوکے اور فریب میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص اپنی باتوں کا اعتبار دلانے کیلئے اپنے دل کی نیت پر اللہ کو گواہ بناتا اور قسمیں کھاتا ہے، اور یہ منافق انسان کی ایک عمومی خصلت اور نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنا اعتبار قائم کرنے کیلئے بات بات پر قسم کھاتا ہے۔ اس کے پاس سچائی کی دولت اور کردار کی پونجی چونکہ ہوتی نہیں، اس لیے وہ ہر قدم پر قسمیں کھا کھا کر اپنا اعتبار قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کے دل میں چور موجود ہوتا ہے کہ لوگ میری باتوں پر اعتبار نہیں کرتے۔ جبکہ مومن صادق اپنے ایمان و یقین کی بنا پر ہمیشہ مطمئن رہتا ہے۔ سو یہ اس کو ایک نقد انعام ملتا رہتا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayahs 2:205–206569 " تَوَلّٰی " کے دو معنی و مطلب : پیٹھ پھیرتا ہے یعنی مجلس سے، یہ اس صورت میں ہے جبکہ " تولیٰ " کو " ولی " سے ماخوذ مانا جائے، جس کے معنی پھرنے اور لوٹنے کے آتے ہیں۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہ " وَلایَۃٌ " سے ماخوذ ہو، جس کے معنی والی اور حاکم بننے کے ہیں، یعنی جب ایسا شخص کسی علاقے کا والی اور حاکم بنتا ہے اور کرسی اقتدار پر بیٹھتا ہے، تو ایسے اور ایسے کام کرتا ہے۔ (جامع البیان، التحریر والتنویر وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح کے شخص کی باتیں جب وہ تمہارے سامنے ہوتا ہے تو بڑی دل لبھانے والی ہوتی ہیں، لیکن تمہارے سامنے سے ہٹنے کے بعد یا کرسی اقتدار پر بیٹھنے کے بعد ایسے شخص کی ساری بھاگ دوڑ اور تگ و دو فساد فی الارض کیلئے ہوتی ہے، اور فساد فی الارض سے مراد اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی مخالفت اور مزاحمت کرنا ہے، کیونکہ زمین کے تمام تر امن وامان اور عدل و انصاف کا مدارو انحصار اس بات پر ہے کہ اللہ کے بندے اسی کی عبادت و بندگی اور اطاعت و فرمانبرداری کریں جو کہ اس ساری کائنات کا بلاشرکت غیرے خالق ومالک اور حاکم و فرمانروا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ -
570 حرث و نسل کی انسانی معاشرے میں اہمیت : سو حرث و نسل دو اہم بنیادیں ہیں جن پر انسانی معاشرے کا مدارو انحصار ہے۔ یعنی کھیتوں کی پیداوار، اور نسل یعنی حیوانی دولت کو تباہ کردے۔ اور یہ دو ہی ایسی بنیادی چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی اور معاشرہ کا دار و مدار اور انحصار ہے۔ سو ان کی تباہی دراصل انسان اور پورے انسانی معاشرے کی خرابی اور تباہی کا سامان کرنا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ ۔ مگر ظالم انسان کل کی طرح آج بھی یہی کر رہا ہے۔ کھیتوں کو جلایا جا رہا ہے، ان کو زہر آلود کیا جا رہا ہے، جانوروں کی بیخ کنی کی جا رہی ہے، جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس کے روح فرسا مظاہر دیکھنے میں آ رہے ہیں، خواہ وہ بوسنیا ہر زگوینا ہو، یا افغانستان، یا فلسطین یا کشمیر یا بمبئی اور دلی وغیرہ، ہندوستان کے مختلف شہر ہوں یا افریقہ کے یوگنڈا اور راونڈا وغیرہ ممالک۔ ہر جگہ اور ہر طرف ایک آگ ہے جو لگی ہوئی ہے، کھیتوں اور آبادیوں کو جلایا جا رہا ہے، اور انسانی ضروریات کا سامان جگہ جگہ اور طرح طرح سے بھسم کیا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ شان نزول کے اعتبار سے اگرچہ یہ آیات کریمہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئیں، جو کہ اس تصویر کا اولین مظہر اور اس کا ایک اہم مصداق تھا، جیسا کہ تفسیری روایات میں وارد و مذکور ہے لیکن الفاظ کے عموم کے اعتبار سے یہ قیامت تک آنے والے اس قماش کے سب ہی لوگوں کیلئے عام، اور ان سب کو شامل ہیں۔ نیز یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ لفظِ " حرث و نسل " کا اطلاق جس طرح اس ظاہری کھیتی وغیرہ پر ہوتا ہے اسی طرح اس کا اطلاق عورت پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان کھیتی ہے جس سے نسل انسانی جیسی عظیم الشان پیداوار حاصل ہوتی ہے، اور جو انسانی زندگی کا حاصل اور اصل متاع ہے۔ تو ایسے مفسد لوگ اس عظیم الشان کھیتی اور نسل انسانی کی تباہی کیلئے بھی تگ و دو کرتے ہیں، اور طرح طرح سے ان کی خرابی اور بگاڑ کی کوشش کرتے ہیں، جس کی ایک بڑی کھلی اور مہلک صورت فحاشی اور بےحیائی کے وہ وسائل و ذرائع ہیں، جو آج اپنے عروج و شباب پر ہیں، اور جن سے اخلاق و ایمان کی دولت کو تباہ کرنے کیلئے طرح طرح سے کام لیا جا رہا ہے، اور خاص کر عورتوں اور جوان نسل کے اخلاق کو بگاڑنے کے سلسلہ میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اخلاقیات کی اصل اور اساس یعنی شرم و حیا کو ختم کرنے کیلئے طرح طرح کے شیطانی وسائل سے کام لیا جارہا ہے، کیونکہ شرم و حیا کی دیوار ہی وہ دیوار ہے جو فواحش و منکرات کو روکتی ہے اور یہ دیوار اگر گرجائے تو پھر خواہشات و منکرات روکنے کیلئے کوئی آڑ باقی نہیں رہ جاتی۔ اسی حقیقت کو لسان نبوت سے اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ پہلی نبوت سے جو کلام متوارث چلا آرہا ہے یہ ہے کہ جب شرم و حیا ختم ہوجائے تو پھر تم جو مرضی کرو، اسی کو فارسی میں کہتے ہیں " بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو شرم و حیا ایک عظیم الشان جوہر ہے جو انسان کو بہت سے برائیوں سے روکتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔
571 اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا : پس جو ایسا فسادی اور شرانگیز ہوگا وہ اللہ کا محبوب کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ لہذا ایسے شخص کا اللہ کو اپنی نیک نیتی پر گواہ بنانا بھی ایک طرح کا فریب اور فراڈ ہے۔ پس تم اس طرح کے لوگوں کی ان باتوں میں کبھی نہیں آنا، نہ یہ بحالت موجودہ اصلاح کرنے کے لائق ہوسکتے ہیں، اور نہ ہی یہ اللہ پاک کے محبوب اور پیارے بن سکتے ہیں، الا یہ کہ یہ اپنی اس روش کو بدل دیں اور اخلاق فاسدہ کی بجائے اخلاق فاضلہ اور خصال حمیدہ کو اپنالیں۔ سو مفسد بظاہر کتنی ہی چکنی چپڑی اور دل لگی کی باتیں کریں، وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی محبت کا دم بھی کیوں نہ بھرتے ہوں، وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہرحال کوئی مرتبہ اور مقام نہیں حاصل کرسکتے، کہ ایسے لوگ اپنے طرز عمل سے اس فساد کو ہوا دے رہے ہیں، جسکے نتیجے میں تمام انسانیت کی تباہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی پیدا کردہ اس دنیا کی فلاح و بہبود اور اس کی بہتری چاہتا ہے۔ پھر وہ اس میں فساد اور مفسدین کو کس طرح پسند فرما سکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور فساد کی سب سے بڑی بنیاد کفر و شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ
Ayah 2:207572 ایمان کا تقاضا کہ جان بھی اللہ کیلئے قربان : کہ یہ جان ہماری نہیں، ہمارے اسی خالق ومالک کی ہے۔ اس پر ہماری مرضی نہیں چلے گی، بلکہ اسی وحدہ لاشریک کی مرضی چلے گی۔ یہ اس کا ہم پر حق ہے اور اسی میں ہماری بہتری و بھلائی اور فوز و فلاح ہے۔ روایات میں ہے کہ جب حضرت صہیب رومی ۔ ؓ ۔ ہجرت کے ارادے سے نکلے، تو کفار قریش نے ان کا راستہ روک لیا کہ تم نہیں جاسکتے۔ تو آپ ؓ نے ان سے فرمایا کہ دیکھو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو، کہ میں تم میں سب سے بڑا تیر انداز ہوں، جب تک ایک بھی تیر میرے ترکش میں باقی رہا تم لوگ میرے قریب نہیں آ سکو گے، اور جب تیر ختم ہوگئے تو میں تمہارے ساتھ اپنی تلوار سے لڑونگا، جب تک میرے اندر تلوار اٹھانے کی سکت رہی، اور جب اس سے بھی رہ گیا، تو پھر تمہاری مرضی، تم میرے ساتھ جو چاہو سلوک کرلینا، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اور اگر تم لوگ مال چاہتے ہو، تو آؤ میں تم کو اپنے مال کا پتہ دے دیتا ہوں، جا کرلے لو، اور میرا راستہ خالی کردو۔ تو ان لوگوں نے آپ ؓ کی یہ بات مان لی، اور وہ مال کے بدلے آپ ؓ کا راستہ خالی کرنے پر راضی ہوگئے، اور آپ ؓ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی خاطر اپنا سب مال و دولت ان کے حوالے کر کے خالی ہاتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچ گئے، اور وہاں پہنچ کر اپنا سب ماجرا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ " رَبِحَ الْبَیْعُ اَبَا یَحْییٰ ، رَبِحَ الْبَیْعُ اَبَا یَحْییٰ " " ابو یحییٰ تمہارا یہ سودا کامیاب ہوگیا، ابو یحییٰ تمہارا یہ سودا کامیاب ہوگیا " اور فرمایا کہ تمہارے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسََلامُہٗ عَلَیْہ وَرِضْوَان اللّٰہ عَلَیْہِم اَجْمَعِیْنَ ۔ سو اللہ پاک کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردینا، خسارے کا نہیں سراسر نفع کا سودا ہے کہ اس خالق کل اور مالک مطلق کی رضاء و خوشنودی دارین کی فوز و فلاح کی ضامن اور کفیل ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے مومن مخلص کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔
573 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے : اتنا مہربان کہ اس کی عنایت و مہربانی کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ اسی کے اس کرم بےپایاں کا ایک مظہر ہے کہ وہ غنی مطلق اہل ایمان سے ان کے جان و مال خریدتا ہے، کہ اس کے عوض ان کو وہ جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے نوازے، حالانکہ بندے خود اور جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے، وہ سب کا سب بھی اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کیا ہوا اور اسی کی ملکیت ہے۔ بندہ سے صرف اسی قدر مطلوب ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے اس کی اطاعت و بندگی قبول کرے، اور اسی کا ہو کر رہے۔ اور اپنے خالق ومالک سے کئے گئے اس سودے پر خوش و خرم رہے اور بس ۔ { فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ } ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی عبادت و بندگی اور رضاء و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔ سو وہ وحدہ لاشریک اپنی اسی رافت و رحمت اور مہربانی کی بناء پر اپنے بندے پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اور اگر بندے سے اس کے بشری تقاضوں کی بناء پر کوئی تقصیر ہوجاتی ہے تو وہ اس کو معاف فرما دیتا ہے۔ اور اس کی رحمت و عنایت اس کے سخط و غضب پر غالب ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 2:208574 اسلام کے حظیرہ قدس میں پورے کے پورے داخل ہونے کا حکم و ارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اسلام میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے۔ اپنے عقیدہ و عمل اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے۔ اور زندگی کے تمام احکام و مسائل میں اسلام ہی کی طرف رجوع کرو۔ یہ نہیں کہ کچھ احکام یہاں سے لو، اور کچھ وہاں سے، اور کسی کام کیلئے ادھر رجوع کرو، اور کسی کے لئے ادھر۔ روایات میں ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض حضرات نے ایمان لانے کے بعد ایک موقع پر آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی کہ اگر ہم تورات کے بھی کچھ ایسے احکام پر عمل کرلیں جو کہ اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں ہیں، تاکہ اس طرح دونوں کتابوں پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کرلیں، تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا ؟ مثلاً یہ کہ شریعت موسویہ کے مطابق سبت کی بھی تعظیم کرلیا کریں، اونٹ کا گوشت کھانے، اور دودھ پینے، سے بھی پرہیز کریں، اور تورات کی بھی تلاوت کرتے رہیں، وغیرہ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، جس میں بتادیا گیا کہ ایسے کسی خیال کی دین حق اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ دین ہر طرح سے کامل و مکمل ہے۔ لہذا اس میں اس طرح کی کسی بھی پیوندکاری کی نہ کوئی ضرورت ہے، نہ گنجائش، بلکہ سعادت اور نجات کی صرف ایک ہی راہ ہے، کہ اسلام میں داخل ہونا ہے تو پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، اور اس میں کسی بھی طرح کی کسی آمیزش اور پیوند کاری کا سوچو بھی نہیں۔ پس دین حق اسلام میں کسی طرح کے دوسرے نظریات کی پیوندکاری کی نہ کوئی ضرورت ہے نہ گنجائش۔ اور آج جو لوگ نئے نئے نعرے لگا کر اپنی سیاسی دکانداری چمکا رہے ہیں، مثلاً یہ کہ اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، اور سوشلزم ہماری معیشت ہے، وغیرہ۔ تو وہ سب کچھ اس ارشاد ربانی کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ بندوں سے یہی مطلوب ہے کہ وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
575 شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے کہ اس نے اپنی انسان دشمنی کو چھپایا نہیں، بلکہ علی الاعلان اسکا اظہار کیا، اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سامنے کہا اور اس کی عزت کی قسم کھا کر کہا کہ " میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑونگا، بجز تیرے ان چنے ہوئے خاص بندوں کے جن پر میرا زور نہیں چل سکے گا " کہ وہ تو بہرحال میرے حملوں اور میرے اغواء واضلال کے پھندوں میں نہیں پھنسیں گے، ورنہ باقی کسی کو نہیں چھوڑوں گا جیسا کہ سورة صٓ میں اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ، اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ } ۔ (صٓ: 82-83) ۔ سو اطاعت کامل کا یہی راستہ امن و سلامتی کا راستہ ہے، اور جو لوگ اس کو چھوڑ کر کوئی اور راہ نکالنا چاہتے ہیں، اور وہ بیک وقت کفر اور اسلام دونوں سے راہ و رسم رکھنے کے خواہش مند ہیں، وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہیں، اور شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اس لیے اس نے روز اول ہی سے اس کی راہ مارنے اور گمراہ کرنے کا کھلم کھلا الٹی میٹم دے رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:209576 اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز و حکیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے : پس اس کی گرفت اور پکڑ سے نہ کوئی نکل سکتا ہے اور نہ کہیں بھاگ کر بچ سکتا ہے، مگر وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لئے فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ ڈھیل دیتا ہے۔ سو اس کی پکڑ بھی بڑی سخت اور نہایت حکیمانہ ہوتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ۔ اللّھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ بِکُل حَالٍ مِّنَ الاَحْوَالِ ، وَفِیْ کُل مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنِ ، یَا مَنْ رَحْمَتُہٗ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وسَبَقَتْ غَضَبَہٗ ۔ سو اس کے امہال اور ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ کوئی مجرم اس کی گرفت اور پکڑ سے کسی بھی طرح بچ نہیں سکتا، الا یہ کہ وہ سچے دل سے توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرلے اور اس کی گرفت و پکڑ بڑی ہی دردناک اور سخت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:210577 منکرین کے عناد اور ہٹ دھرمی کا ذکر وبیان : سو منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ آجائے ان کے پاس اللہ بادلوں کے سایہ بانوں میں اور اس کے فرشتے بھی اور معاملہ تمام کردیا جائے ؟۔ یعنی امر حق کی وضاحت اور اس کے بیان میں تو اب کوئی کمی اور کسرباقی نہیں رہ گئی۔ سب کچھ دلائل وبراہین کے ساتھ پوری طرح اور روز روشن کی طرح واضح ہوگیا ہے۔ اب بھی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو گویا اب یہ قیامت ہی کے منتظر ہیں، کہ وہ ان کے پاس آجائے، اور یہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور اپنے آخری انجام سے ہمکنار ہوجائیں، تو تب مانیں گے۔ سو اس وقت یہ مانیں گے تو ضرور، مگر اس وقت کے اس ماننے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ ایمان ان کے کچھ کام نہیں آسکے گا۔ اور وہاں کے اس ہولناک عذاب سے بچنے کی ان کے لئے کوئی صورت پھر ممکن نہ ہوگی، جس کا یہاں پر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان وہ معتبر ہے جو بالغیب یعنی بن دیکھے ہو جس کا موقع یہ دنیاوی زندگی ہے اور بس۔ اور عالم آخرت کا وہ ایمان چونکہ بالمشاہدہ ہوگا اس لیے اس سے انکو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کہ وہ ایمان بالغیب نہیں بلکہ ایمان بالشہود والمشاہدہ ہوگا۔ جو کہ نہ مطلوب ہے اور نہ مفید۔
578 جملہ امور کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام معاملات اور جملہ امور۔ یعنی آج بھی سب امور و معاملات اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اور ہوتا وہی ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے، کیونکہ اس کائنات میں حکم و تصرف بہرحال اسی کا چلتا ہے۔ اور یہاں جو بھی کچھ ہوتا ہے، وہ اسی کے حکم و ارشاد سے، اور اسی کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے، اور کل بھی سب امور و معاملات آخری فیصلہ کیلئے اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے، کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَسُبْحَانَ الَّذِیْ بِیَدِہ مَلَکُوْتُ کُل شَیْئٍ وَّ اِلَیْہ تُرْجَعُوْنَ } ۔ (یٰسین :83) ۔ پس انسان کو اپنے دائرہ اختیار میں بھی اسی وحدہ لاشریک کی طرف رجوع کرنا چاہیئے، اور ہر معاملے میں اعتماد و بھروسہ بھی اسی وحدہ لاشریک پر رکھنا چاہیئے، کہ ہوتا وہی ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے، اور ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا۔ پس ہر کوئی اسی اہم اور بنیادی حقیقت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھے، تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ پس بندہ ہمیشہ اس حقیقت کو اپنے پیش نظر رکھے کہ میرا معاملہ میرے خالق ومالک سے درست ہو ۔ وباللہ التوفیق -