Ayah 2:186507 بندوں کا سوال اپنے رب کے بارے میں اور رب کی طرف سے اس کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں کہ میں ان کے قریب ہوں یا دور، جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ " کیا ہمارا رب ہم سے قریب ہے کہ ہم اس کو آہستہ سے پکاریں، یا دور کہ اسے زور زور سے پکاریں " ۔ " اََرَبُّنَا قَرِیْبٌ فَنُنَاجِیْہ اَمْ بََعِیْدٌ فَنُنَادِیْہِِ ؟ " ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، روح المعانی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور اس میں صاف اور صریح طور پر بتادیا گیا کہ تمہارا رب تمہارے نہایت قریب ہے۔ اس لیے اس کو بلانے پکارنے کیلئے زور لگانے کی ضرورت نہیں۔ پھر کتنا قریب ہے اس کی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ اور یہ آیت کریمہ دراصل تمہید ہے ان تمام سوالوں کے جواب کی جو روزے کے حکم کے نزول کے بعد ماہ رمضان کے احترام اور روزے کے احکام و آداب سے متعلق لوگوں کے ذہن میں ابھرے، یا ان کی زبانوں پر آئے اور اللہ تعالیٰ نے انکا جواب دیا اور وضاحت فرمائی۔ سو ایسے لوگوں کو قرآن حکیم کے اس ارشاد سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ یہ لوگ اپنے اس طرح کے شکوک و شبہات اور اعتراضات کو خداوند قدوس اور اس کی شریعت مقدسہ کی مخالفت یا اس کی تنقید و تضحیک کا ذریعہ نہ بنالیں، بلکہ انکے سلسلہ میں رہنمائی کی طلب کیلئے یہ لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کریں، اور جو کوئی صدق و اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اس کی طلب کو ضرور پورا کرتا ہے۔ خواہ اس کی ایسی طلب کا تعلق کسی دنیاوی ضرورت سے متعلق ہو یا اخروی ضرورت سے۔ پس بندوں کا کام رب کی طرف دل و جان سے رجوع رہنا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
508 رب تعالیٰ کا قرب اپنے بندوں سے ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ میں بہت قریب ہوں اور اتنا قریب کہ ان کی شہ رگ جو کہ رگ جاں کہلاتی ہے، اس سے بھی زیادہ قریب ہوں، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہ مِنْ حَبْل الْوَََرِیْد } ۔ (ق : 16) اور اتنا قریب کہ اس کے بندے جہاں اور جس حال میں بھی ہوں گے وہ ان کے ساتھ ہوگا، اپنے علم اور اپنے تصرف وقدرت کے اعتبار سے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ } ۔ (الحدید : 4) نیز فرمایا گیا ۔ { اِلَّا ہُوََ مَعَہُمْ اَیْنََ مَا کَانُوْا } ۔ (المجادلہ : 7) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے سفر کے دوران ایک موقع پر کچھ حضرات اونچی آوازوں سے دعائیں کرنے لگے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ لوگو ! تم اپنی جانوں پر رحم کرو [ اتنا زور لگانے کی ضرورت نہیں کہ ] جس کو تم پکار رہے ہو وہ نہ تو بہرا ہے اور نہ تم سے کہیں دور۔ وہ سب کچھ سننے والا، نہایت قریب ہے۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ (المراغی، الروح وغیرہ) ۔ اور ایک اور صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو تم پکارتے ہو وہ تم میں سے ہر شخص کے اس سے بھی زیادہ قریب ہے، جتنا کہ اس کی سواری کی گردن " ( صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعا الخ) ۔ شیخ سعدی (رح) نے کیا خوب فرمایا ۔ دوست من نزدیک تر از من است ۔ ویں عجیب ترکہ من ازو دورم ۔ یعنی " میرا محبوب تو میری جان سے بھی بڑھ کر مجھ سے قریب ہے، مگر یہ عجیب بات ہے کہ میں پھر بھی اس سے دور ہوں " اور شاید اسی قرب بےمثل کے اظہار وبیان کیلئے یہاں پر جواب میں " قل " کا لفظ بھی ذکر نہیں فرمایا گیا، یعنی یوں نہیں فرمایا گیا " فَقُلْ اِنِّیْ قَرِیْبٌ " ۔ " تم کہو کہ میں قریب ہوں " بلکہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ} ۔ " تو واضح رہے کہ میں بہت ہی قریب ہوں " حالانکہ ایسے سوال و جواب کے مواقع پر بالعموم لفظ " قل " ذکر فرمایا گیا ہے، جیسے سورة بقرہ میں فرمایا گیا ہے۔ { یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنََ قل الْعَفْوَ } ۔ (البقرۃ : 2 19) ۔ اور جیسے ۔ { یَسْئَلُوْنَکَ عََن الْیََتٰمٰٰی قُلْ اِصْلاحٌ لَّہُمْ خَیْرٌٌٌ} ۔ (البقرۃ :220) یا جیسے ۔ { یََسْئَلُوْنَکَ عَن الْمَحِیْض قُلْ ہُوَ اَذًی } ۔ (البقرۃ : 222) وغیرہ وغیرہ۔ سو یہاں سے اہل بدعت کے اس خود ساختہ مشرکانہ فلسفے کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے، جو وہ لوگ اس طرح بگھارتے ہیں کہ صاحب، جب تم کسی دنیاوی بادشاہ کے حضور خود براہ راست نہیں پہنچ سکتے، اور پہنچ بھی جاؤ تو تمہاری وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوتی، جب تک کہ تم کوئی ذریعہ اور وسیلہ نہ اپناؤ، تو جب دنیاوی بادشاہوں کے سامنے تم براہ راست اپنا مدعا عرض نہیں کرسکتے، تو پھر تم لوگ اللہ پاک کے حضور براہ راست کیسے پہنچ سکتے ہو ؟ پس لازم ہے کہ تم کچھ ایسے واسطے اور وسیلے اپناؤ جن کے ذریعے تم اپنی عرضداشت اس کے حضور پیش کرسکو کہ " ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے " وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب من گھڑت اور مشرکانہ فلسفہ طرازی ہے، اور خرابیوں کی خرابی اس مشرکانہ فلسفے میں یہ ہے کہ اس میں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو اس کی مخلوق پر قیاس کیا گیا ہے، جو کہ قطعی طور پر قیاس مع الفارق ہے۔ بھلا جو ذات اقدس و اعلیٰ ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہو، اس کو دنیاوی بادشاہوں اور عاجز مخلوق پر قیاس کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ ۔ { فَتَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوّاً کَبِیْرًا } ۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کو زور زور سے اور چیخ چیخ کر پکارنا، دین حق کے مزاج اور اس کی سچی اور پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اوپر آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ " لوگو اپنی جانوں پر رحم کرو، جس کو تم پکار رہے ہو وہ نہ بہرا ہے اور نہ کہیں دور "۔ بھلا جو ذات اقدس وا علیٰ اپنے صاف وصریح ارشاد کے مطابق انسان کے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہو، اس کو چیخ چیخ کر اور زور لگا لگا کو پکارنے کی کیا ضرورت ؟ مگر اس کے باوجود آج ہمارے ملک کے اہل بدعت کا حال یہ ہے کہ وہ مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں کو پوری پاور سے آن کر کے چیختے ہیں۔ اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک مرتبہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک اعلیٰ سطحی مجلس میں گفتگو کے دوران پاکستان کی عدالت عالیہ کے ایک جج صاحب اپنی نجی گفتگو میں فرما رہے تھے، کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب لوگ اپنے لئے مکان ایسی جگہ ڈھونڈا کرتے تھے جہاں مسجد نزدیک ہو، تاکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکیں، لیکن اب وہ مکان ایسی جگہ ڈھونڈتے ہیں، جو کہ مسجد سے کہیں دور ہو، تاکہ وہاں کے شور سے بچ سکیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے ایک اور جج صاحب نے اس موضوع پر " لاؤڈ سپیکر کا ظالمانہ استعمال " کے، عنوان سے ایک مستقل مضمون بھی حال ہی میں لکھا، جو کہ خاصا مقبول ہوا اور ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں چھپا، جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگ اس طرح کے شور شرابے سے کس قدر تنگ ہیں۔ مفسر مصطفیٰ مراغی مرحوم نے اس موقع پر اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو زور زور سے پکارنا اور یاد کرنا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ (تفسیر المراغی) ۔ پھر کیا خیال ہے ان لوگوں کے بارے میں جو اس خلاف ورزی پر اڑے ہوئے ہیں ؟ اور اس کے خلاف وہ حق و ہدایت کی کوئی آواز بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے، اور وہ اپنے چیخنے چلانے ہی کو دین کا تقاضا سمجھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ من کل زیع و ضلال -
509 قبولیت دعاء مشیت خداوندی کے تابع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا اور قبول کرتا ہوں۔ یعنی اپنی حکمت و مشیئت کے مطابق۔ اور ویسا جیسا کہ انسان کیلئے بہتر ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَیََکْشِفُ مََا تَدْعُوْنَ اِلَیْہ اِنْ شَائَ } ۔ (الانعام : 4 1) سو دعا قبول کرنا بھی دوسرے تمام امور کی طرح اس ۔ وحدہ لاشریک ۔ کی مشیئت کے تابع ہے کہ وہی جانتا ہے کس کیلئے کیا اور کیسے بہتر ہے۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ دعاء سے متعلق دوسری ضروری باتیں راقم آثم نے اپنی کتابوں خاص کر " تحفہ علم و حکمت " اور " قرآن و سنت کی مقدس دعائیں " میں کافی تفصیل سے بیان کردیا ہے جو کہ عرصہ ہوا چھپ چکی ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ ۔ تفصیل کیلئے ان کی رجوع فرما لیا جائے۔ بہرکیف بندے کا کام ہے مانگنا۔ آگے قبول کرنا اور کس طرح قبول کرنا یہ سب اس کی مشیئت کے تابع ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ پر صدق دل سے ایمان لانا اور اس کے احکام کی بجاآوری انسان کیلئے راہ حق و ہدایت سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے تو وہ اس کی پکار کو سنتا اور قبول فرماتا ہے، یہ ممکن نہیں کہ بندہ اپنے رب کو پکارے اور وہ اس کی مدد نہ فرمائے، اور اس کی داد رسی اور فریاد رسی کو نہ پہنچے۔ شرط صرف یہ ہے کہ بندہ اسکا بندہ بن کر اس کو اخلاص و تضرع کے ساتھ پکارے، اور اس کو اسی چیز کیلئے پکارے جس کیلئے پکارنا اس کو زیبا ہے۔ اگر بندہ اپنے رب سے وہ کچھ مانگے جو مانگنے کا ہے، اور اس طرح مانگے جس طرح مانگنا چاہیئے تو وہ کچھ اس کو ضرور عطا فرمایا جائے گا۔ اگر فوراً نہیں ملتا تو اس کو اس کے مستقبل یا اس کی آخرت کیلئے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ اور اگر اس کو وہ اس شکل میں نہیں ملتا جس میں وہ اس سے مانگتا ہے تو اس سے بہتر صورت میں مل جاتا ہے۔ یا اس کے نتیجے میں کسی اور سختی اور مصیبت کو اس سے ٹال دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و سنت کی مختلف نصوص میں ان تمام باتوں کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ اس لیے اپنے رب سے مانگنا بہرکیف کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتا۔ پس بندے کا کام اور اس کی بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے رب سے ہمیشہ مانگتا ہی رہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
510 ایمان و اطاعت باعث سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و اطاعت رشد و ہدایت سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ یعنی یہ رشد و ہدایت کی اس راہ کو پاسکیں جس پر چل کر یہ لوگ دنیاوی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوں، اور اخروی فوز و فلاح سے بھی۔ سو راہ حق و ہدایت سے سرفرازی قدرت کا سب سے بڑا اور عظیم الشان عطیہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اس قدر قریب بھی ہے، اور وہ ان کی دعاء و پکار کو سنتا اور قبول بھی فرماتا ہے تو پھر اسی کا ان پر یہ حق ہے کہ یہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں اور صدق دل سے اس پر ایمان لائیں۔ اور اس طرح رشد و ہدایت اور راہ صدق وصفات سے سرفراز و بہرہ ور ہوں۔ کیونکہ اس کے بعد اس کی طرف سے روگردانی کرنے اور کسی اور کی طرف متوجہ ہونے کیلئے کوئی ادنی وجہ جواز بھی باقی نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 2:187511 رمضان کی راتوں میں رفث نساء کی اجازت : جو کہ اس سے قبل ممنوع تھا، جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد و مذکور ہے (صحیح بخاری کتاب التفسیر، وغیرہ) ۔ سو اس طرح یہ تم پر ایک اور کرم و احسان ہے، اس رب رحمان و رحیم کا، جس سے اس نے تم کو نوازا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " رَفَثَ " کے اصل معنی فحش کلام اور شہوانی باتوں کے آتے ہیں، مگر یہاں یہ کنایہ ہے جماع اور اس کے متعلقات سے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو شروع میں جو اس کی ممانعت تھی وہ اب ختم ہوگئی اور اب تم کو اس کی اجازت دے دی گئی ہے۔ " رفث " کے بعد " الی " کا جو صلہ آگیا تو اس سے اس کے اندر بیویوں سے اختلاط و ملاقات کا مضون پیدا ہوگیا۔ بہرکیف اس ارشاد سے رمضان المبارک کی راتوں میں اپنی بیویوں سے اختلاط اور مباشرت کی اجازت کی تصریح فرما دی گئی کہ روزے کی پابندیوں کا تعلق صرف دن سے ہے۔ لہذا رات کے وقت میں اس سے صحبت و ہمبستری میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ وہ مباح اور حلال ہے۔ اور یہ دین فطرت کا مقتضیٰ ہے۔
512 زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے ایک لباس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عورتیں مردوں کا اور مرد عورتوں کا ایک عظیم الشان لباس ہیں اور ایسا عظیم الشان لباس کہ اس جیسا دوسرا کوئی لباس ہے ہی نہیں۔ ایسا لباس جس میں تمہارے لئے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد و منافع مضمر ہیں۔ پس جس طرح لباس انسان کیلئے عزت و وقار اور سکون و اطمینان کا ذریعہ ہوتا ہے، اسی طرح زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کیلئے عزت و وقار اور سکون و اطمینان کا باعث ہوتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِِتَسْکُنُوْآ اِلَیْْہَا وَجَعَلَ بََیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃًً } ۔ (الروم : 2 1) اور اسی لئے شادی کے بعد زوجین میں سے ہر ایک کو " محصن " اور " محصنہ " کہا جاتا ہے، جو کہ حصن سے ماخوذ ہے جس کے معنی " قلعہ " کے آتے ہیں۔ یعنی زواج و نکاح کے بعد ان دونوں میں سے ہر ایک قلعہ بند ہوگیا، اور اس کی عزت و عفت محفوظ ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ شادی کی عمر کو پہنچنے کے بعد شادی نہیں کرتے، ان کو عام طور پر شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگتا ہے، اور طرح طرح سے ان پر نکتہ چینی کی جانے لگتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز جس طرح انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت، لباس سے بےنیاز نہیں ہوسکتا، اسی طرح ہر سلیم فطرت شادی بیاہ سے بھی بےنیاز نہیں ہوسکتا، نیز جس طرح لباس انسان کو سردی گرمی وغیر کی تکلیفوں سے بچاتا ہے اور اس کے آرام و راحت کا ذریعہ بنتا ہے، اسی طرح زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کو تکلیفوں اور پریشانیوں سے بچاتا، مشکلات میں اس کی ڈھارس بندھاتا، اس کے کام آتا اور اس کے لئے آرام و سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔ نیز جس طرح لباس انسان کو دوسروں کی نگاہوں سے مخفی و مستور رکھتا ہے، اسی طرح زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کی کمزوریوں کو چھپاتا اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ سو قدرت کی کتنی بڑی نعمت اور عنایت ہے، انسان کیلئے زوجیت اور زن و شوئی کی یہ نعمت و عنایت۔ اور کس قدر بلیغ، موثر اور جامع ہے قرآن حکیم کی یہ تعبیر و ادا ۔ { ھُنّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لّہُنّ } ۔ جو ایسے ایسے عظیم الشان معانی و مطالب پر حاوی و مشتمل ہے ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ رَب الْعَالَمِیْنَ ، رَب السَّمٰوٰات السَّبْع والاَرْضِیْنَ ۔ اللہ ہم سب کو اس لباس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ " ایک عظیم الشان لباس ہیں تمہارے لئے اور تم ایک عظیم الشان لباس ہو انکے لئے "۔
513 حکم خداوندی کی خلاف ورزی خود اپنے آپ سے خیانت کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم لوگ خیانت کرو گے خود اپنی جانوں سے، حکم الٰہی کی خلاف ورزی کر کے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حکم الہی کی خلاف ورزی کرنا، دراصل خود اپنے آپ ہی سے خیانت کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ظاہر ہے کیونکہ حکم الہی کی خلاف ورزی کا بوجھ خلاف ورزی کرنے والے ہی پر پڑے گا اور اس کا بھگتان خود اسی کو بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو اچھا کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کیلئے کرے گا اور جس نے برائی کی اسکا وبال خود اسی پر پڑے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہ وَمَنْ أسَائَ فَعَلَیْہَا وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیْد } ۔ (السجدۃ : 46) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تم لوگ حکم الہی کی خلاف ورزی کر کے خود اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہو تو اس نے تم پر رحم فرما دیا اور تم کو اس تخفیف و عنایت سے نواز دیا اور تمہارے جرم و قصور کو بھی معاف فرما دیا کہ اس کی شان ہی معاف کرنا اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ وتعالٰی ۔ فاغفر لنا وارحمنا وتب علینا فانک انت التواب الرحیم یا ذا الجلال والاکرام -
514 رشتہ ازدواج سے اصل مقصد متع زوجیت اور صالح اولاد : یعنی متع زوجیت جس کی اس نے تم کو اجازت دی اور اسے تمہارے لئے مباح فرما دیا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر اس نے اس کو تمہارے لئے اجرو ثواب کا ذریعہ بنادیا، جس طرح کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے صحیح حدیث میں وارد و ثابت ہے، کہ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ " وَفِیْ بِضْع اَحَدِِِکُمْ صَدََقَۃٌ " ۔ یعنی تمہارا وظیفہء زوجیت بھی تمہارے لئے اجر وثواب کا باعث ہے، الی آخر الحدیث۔ مگر صرف حظ نفس اور غریزہ جنس کی تسکین ہی اصل مقصد نہ ہو، بلکہ صالح اولاد بھی پیش نظر ہو، جو کہ زندگی کا سب سے بڑا پھل اور قدرت کی نعمتوں میں سے ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ سو کلمہ ٔ " ما " کا عموم ان سب چیزوں کو شامل ہے۔ پس اہل ایمان کو چاہیئے کہ رشتہ زوجیت کی اس عظیم الشان نعمت خداوندی کی قدر پہچانیں اور دل و جان سے اس کا شکر بجا لائیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ رشتہ ازدواج کا اصل مقصد اولاد ہے، اور یہی مقصد تمہارے پیش نظر رہنا چاہئیے۔ سو اصل مقصد محض لذت حیوانی کا حصول نہیں، بلکہ بقائے نسل ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جسکے پیش نظر رکھنے سے رشتہ ازدواجیت کا یہ عمل نیکی اور عبادت بن جاتا ہے، مگر ساتھ ہی " کتب اللہ لکم " کے ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس چیز کا تمام تر انحصار تقدیر الہی پر ہے، نہ یہ تمہارے اختیار میں ہے اور نہ ہی اس میں کسی اور ہستی یا سرکار وغیرہ کا کوئی عمل دخل ہوسکتا ہے۔ سبحان اللہ ۔ دین متین نے جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا کہ اولاد محض عطیہ خداوندی اور عنایت ربانی ہے۔ اس میں کسی اور کا کوئی عمل دخل نہیں ہوسکتا، مگر اس کے باوجود ظالم انسان محض اپنے اوہام و خرافات کی بناء پر ان کو دوسری بےبنیاد چیزوں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کھلے مشرکوں اور بت پرستوں کا معاملہ تو الگ ہے، مگر کتنے ہی جاہل مسلمان ہیں جو ایسی خرافات اور اس طرح کی شرکیات میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف -
515 انقضائ شب کی نشانی سپیدہ صبح کا طلوع : جس سے انقضائ شب اور طلوع فجر کا یقین ہوجائے۔ سو اب سابقہ ممانعت کا وہ حکم منسوخ کردیا گیا، جو پہلے سے چلا رہا تھا، کہ افطاری کے بعد اگر کسی کی آنکھ لگ گئی تو اس کے لئے کھانا پینا وغیرہ سب کچھ ممنوع ہوگیا جس کے باعث تم لوگ بڑی مشکل اور مشقت میں مبتلا تھے۔ پس اب تم سپیدہ صبح کے ظاہر ہونے تک کھاپی سکتے ہو۔ یہ تمہارے رَبّ رحمن و رحیم کا ایک اور کرم ہے، جو اس نے تم پر اپنی عنایت و مہربانی سے فرمایا ہے ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ ۔ سُبْحَانہ وتعالیٰ ۔ پس تم لوگوں کو اپنے خالق ومالک کے ان رحمتوں بھرے احکام کی دل و جان سے قدر کرنی اور ان کو پوری احتیاط اور پابندی سے بجا لانا چاہیئے کہ اس میں سراسر تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ماہ رمضان المبارک کی راتوں میں کھانے پینے کی یہ اجازت صبح صادق کے اچھی طرح نمایاں ہوجانے تک ہے۔ اور اسی کی تائید مختلف احادیث و روایات سے بھی ہوتی ہے۔ سو اس سے پہلے لوگ جس رواج پر چلتے تھی اس کا خاتمہ فرما دیا گیا۔ سو طلوع فجر کے بعد سے لے کر رات کے آنے تک یعنی عروب آفتاب تک روزہ پورا کرو۔
516 اعتکاف کا معاملہ روزہ سے مختلف : اور تم اعتکاف کی حالت میں اپنی عورتوں سے مباشرت نہیں کرنا، کہ اعتکاف کا معاملہ روزہ کے معاملہ سے مختلف ہے۔ کیونکہ روزہ تو دن کے اختتام پر ختم ہوجاتا ہے، مگر اعتکاف اس کے برعکس دن رات جاری رہتا ہے۔ لہذا اعتکاف کے دوران رات میں بھی اپنی بیوی سے صحبت و مباشرت کی اجازت نہیں، کہ طواف کی اس عظیم الشان عبادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کلیتہً اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کیلئے ایسے تمام علائق سے کٹ کر الگ ہوجائے، تاکہ اس کے انوار و تجلیات سے زیادہ سے زیادہ مستفید و فیضیاب ہوسکے۔ کیونکہ اعتکاف کی اصل " تبتل الی اللہ " ہے۔ یعنی یہ کہ انسان ہر طرف سے ہٹ کر اور ہر کسی سے کٹ کر اور کامل یکسوئی کے ساتھ اپنے خالق ومالک سے لو لگائے، تاکہ اس طرح وہ اس کے انوار و تجلیات سے منور و معمور ہو کر ایک نیا انسان بن کر ظاہر ہو، اور اس کے نتیجے میں وہ صرف اپنے ہی لیے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی مینارہ رشد و ہدایت بن کر ابھرے۔ نیز اعتکاف میں چونکہ مسجد کا قیام اس کے لوازم میں سے ہے، جس طرح کہ یہاں بھی " فی المساجد " کی تصریح سے ظاہر فرما دیا گیا ہے، اس لیے اس کے دوران بیویوں سے زن و شو کا تعلق قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے حالت اعتکاف میں رات کے دوران بھی اپنی بیویوں سے مباشرت کی اجازت نہیں۔
517 اللہ کی حدود کے احترام کی تعلیم : سو یہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ پس تم انکے قریب بھی نہ پھٹکنا کہ مبادا کہیں تم ان حدوں کو توڑ بیٹھو، اور مارے جاؤ۔ لہذا ان سے دور ہی رہو، کہ سد ذرائع اور منہیات و محارم سے پوری طرح بچنے کا تقاضا یہی ہے، کہ تم ان سے دور رہو تاکہ حدود کو توڑنے اور پھلانگنے کے محذور سے بچے رہو۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو ایک عظیم الشان مثال سے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح کسی بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے تو جو چرواہا اس کی حدود سے دور رہے گا وہ اس کی حدود کو توڑنے اور پھلانگنے سے محفوظ رہے گا، اور جو اس کی حدود کے آس پاس چرائے گا وہ آخر کسی نہ کسی وقت اس کی حدود کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوجائے گا۔ سو اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حدود اور اس کے احکام کو سمجھو اور آگاہ رہو کہ اللہ تعالیٰ کا وہ ممنوعہ علاقہ اس کی حرمتیں ہیں ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشادات کے ذریعے نفس کی آزادی کیلئے جو حدود مقرر فرما دی ہیں، ان کی پوری احتیاط سے نگرانی چاہیئے۔ سو انسان کو ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ ان حدود کی خلاف ورزی نہ ہوجائے کہ یہ اس کا مجھ پر حق بھی ہے کہ وہ میرا خالق ومالک ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اور اس کی پابندی میں خود میرا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اسی میں بہتری اور بھلائی ہے دوسرے انسانوں اور پورے معاشرے کی۔ وباللہ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل۔ بہرکیف حدود اللہ کی پاسداری دین حنیف میں ایک اہم مطلب ہے۔
518 احکام و حدود خداوندی کی پابندی تقویٰ و پرہیزگاری کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ایسے لوگ بچ سکیں۔ یعنی تاکہ وہ بچ سکیں اپنے خالق ومالک کی نافرمانی و ناراضگی سے، اور اس کے نتیجے میں وہ بچ سکیں، اس کے عقاب الیم اور عذاب شدید سے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِِ ۔ سو احکام و حدود خداوندی کی پابندی تقوی و پرہیزگاری کا وسیلہ و ذریعہ ہے، کہ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز ومالا مال ہوتا ہے، اور اس سے اس کے باطن کی دنیا منور و معمور ہوتی ہے۔ انسان کے اندر اپنے خالق ومالک کی یاد اور اس کے خوف و خشیت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انسان ایک متقی و پرہیزگار اور محتاط انسان بن کر ایک پاکیزہ زندگی سے سرشار و بہرہ ور ہوجاتا ہے جبکہ احکام و حدود خداوندی سے لاپرواہی برتنے والا انسان ۔ والعیاذ باللہ ۔ ایک لاپروا، غیر ذمہ دار اور شتر بےمہار بن کر رہ جاتا ہے اور اپنے منصہ شرف و کرامت سے گر جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:188519 آپس کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھانے کی ممانعت : جیسے سود، جوأ، غصب، چوری، دھوکہ، فریب اور رشوت وغیرہ کے ذریعے کہ لفظ " باطل " کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ دوسروں کے مالوں کو اپنا مال فرمایا گیا ہے، اور ان کو " اَمْوَالَکُمْ " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ پوری امت تکافل اجتماعی کے اعتبار سے ایک جسم اور ایک شخص کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے اس لئے کہ دوسروں کے مال کا احترام دراصل خود اپنے مال کا احترام ہے، اور ان کا اتلاف و ضیاع درحقیقت اپنے ہی اموال کا اتلاف و ضیاع ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِِ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے دوسروں کے اموال ناجائز طریقوں سے ہڑپ کرنے کی تمام صورتوں کی ممانعت فرما دی گئی، کہ " الباطل " کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس دوسرے کسی کے مال سے اس کی رضا کے بغیر فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ سو دین حنیف نے دوسروں کے جان و مال کی حفاظت کی خاص تاکید فرمائی ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
520 مال کو رشوت خور حکام تک رسائی کا ذریعہ بنانے کی ممانعت : جھوٹی قسموں، جھوٹی گواہیوں، اور دوسرے ناجائز اسباب و وسائل، اور اثر و رسوخ وغیرہ کے ذریعے، کہ ایسے ناجائز ذرائع و وسائل میں سے کسی کے ذریعے بھی حاصل کی جانے والی دولت ناجائز اور باعث نکالو وبال ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس دوسروں کے اموال سے انتفاع و استفادہ کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ برضا ورغبت اور اپنی خوشی سے اس کی اجازت دیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کسی شخص کیلئے کسی دوسرے کا مال جائز نہیں مگر یہ کہ وہ اپنی خوشی سے اس کی اجازت دے۔ بہرکیف اس ارشاد کے ذریعے اس بات کی صریح طور پر ممانعت فرما دی گئی کہ اپنے مالوں کو رشوت خور حکام تک رسائی کا ذریعہ بنایا جائے، تاکہ اس طرح دوسروں کے مالوں کو جبراً ہتھیایا جاسکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ " تدلوا " ماخوذ و مشتق ہے " ادلا " سے جو بنا ہے " دلو " سے، جسکے معنی ڈول کے آتے ہیں سو " ادلا " کا معنی ہوا ڈول ڈالنا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں فرمایا گیا { فَاَدْلٰی دَلْوَہ } سو اسی اعتبار سے اس میں رسائی اور قربت حاصل کرنے کا معنی پیدا ہوگیا، کہ جس طرح رسی کے ذریعے ڈول پانی تک پہنچتا ہے، اسی طرح حرام خور انسان رشوت کے مال کے ذریعے حکام تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ سو فرمایا گیا کہ دوسروں کا مال ہڑپ کرنے کیلئے اپنے مالوں کو حکام رسی کا ذریعہ مت بناؤ، کہ اس طرح تم دوسروں کا حق مار سکو ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس دوسروں کا مال کسی بھی ناجائز صورت سے کھانا جائز نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہر قسم کے تجاوز اور زیادتی سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔
521 دوسروں کا مال ہتھیانے کی ممانعت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جان بوجھ کر ناجائز طور پر دوسروں کا مال ہڑپ کرنا اور بھی سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی جبکہ تم یہ جانتے ہو کہ تم دوسروں کا حق مار رہے ہو، اور ناجائز طریقوں سے ان کا مال ہتھیا رہے ہو، کیونکہ محض حکام کے فیصلے سے نہ دوسروں کا مال لینا جائز ہوسکتا ہے، اور نہ ہی اس طرح کوئی حرام حلال بن سکتا ہے۔ نیز تم یہ بھی جانتے ہو کہ ناجائز طو پر دوسروں کے مال ہتھیانا، اور اپنانا کس قدر سنگین جرم اور ہولناک معاملہ ہے۔ سو یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ایسے جرم کا ارتکاب کرنا اس جرم و گناہ کو اور زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ بہرکیف ۔ { وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ } ۔ کے اس جملے سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے میں اس جرم کی سنگینی اور زیادہ ہوجاتی ہے اور رشوت وغیرہ کے ناجائز ذرائع سے دوسروں کا مال ہتھیانا جرم و گناہ اور حق تلفی ہے۔ تمام دنیا کے معروف اور ہر دین و شریعت میں اسکا گناہ ہونا مسلم رہا ہے، اور عقل سلیم کے نزدیک بھی اس کا جرم و گناہ ہونا ایک طے شدہ امر ہے۔ سو رشوت کے ذریعے مال کا حاصل کرنا جائز نہیں بلکہ یہ اثم و گناہ ہے اور بڑا سنگین جرم و گناہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 2:189522 چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں سوال اور اس کا جواب : سو چاند کا گھٹنا، بڑھنا اللہ پاک کا ایک عظیم الفوائد عطیہ و احسان ہے جس سے تم لوگوں کے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ چناچہ ان کے ذریعے تم لوگ بآسانی اپنی تاریخیں معلوم کرسکتے ہو، اور اپنی عبادات، جیسے روزے اور حج وغیرہ کی ادائیگی میں مدد حاصل کرتے ہو، اور آپس کے معاملات کی مدتیں مقرر کرتے اور ان کے مطابق باہمی لین دین کرتے ہو۔ سو یہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و عنایت کی ایک ایسی عظیم الشان نشانی ہے جس سے عامی بھی فائدہ اٹھا رہا ہے، اور خواص بھی مستفید ہوتے ہیں۔ جبکہ جنتریوں کی کتابوں اور ریاضی کی باریکیوں سے خاص پڑھے لکھے لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ عَلٰی اِحْسَانِہٖ وَاِنْعََامِہٖ ۔ اور اس طرح چاند کا یہ عظیم الشان روشن کرہ اپنی ان گھٹتی بڑھتی صورتوں کے ذریعے تمہاری طرح طرح کی عظیم الشان خدمات انجام دے رہا ہے۔ سو عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اپنے اس عظیم الشان خادم یعنی چاند سے فائدے اٹھاؤ۔ خدمتیں حاصل کرو اور اپنے اس خالق ومالک مہربان کے آگے دل و جان سے جھک جاؤ، جس نے سورج اور چاند جیسے ان عظیم الشان کرّوں کو اس قدر کمال حکمت کے ساتھ تمہارے کام میں لگا رکھا ہے، جیسا کہ اس نے اپنے کلام حکیم میں اس حقیقت کو اس طرح آشکار فرمایا ہے۔ سو یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کرّوں کو اپنا خادم اور قدرت کا انعام سمجھنے کی بجائے ان کو اپنا مخدوم بلکہ معبود قرار دے کر ان کے آگے جھکتے اور ان کی پوجا پاٹ کرکے اپنی تحقیر و تذلیل کا سامان کرتے ہیں، اور اپنے خالق ومالک کی نافرمانی کرتے اور اس کے عذاب کو دعوت دیتے دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واضح رہے کہ " اھلہ "، " ھلال " کی جمع ہے جسکے معنی شروع ماہ کے چاند کے آتے ہیں، اور کبھی بطور مجاز اسکا اطلاق مہینے پر بھی کردیا جاتا ہے۔ معنی دونوں طرح صحیح ہے۔ بہرکیف چاند کے بارے میں سوال کے بارے میں یہ حکیمانہ جواب دیا گیا کہ اس میں لوگوں کے لیے مختلف قسم کے فوائد و منافع ہیں ۔ والحمد للہ۔
523 زمانہ جاہلیت کی ایک جاہلانہ رسم کی تردید : یہ زمانہء جاہلیت کی ایک رسم جس کی یہاں تردید فرمائی جارہی ہے۔ ان لوگوں کا طریقہ تھا کہ احرام باندھ لینے کے بعد جب انکو گھر میں واپس آنے کی ضرورت پیش آتی، تو وہ دروازے سے واپس نہیں آتے تھے، بلکہ پیچھے سے یا چھت وغیرہ سے آیا کرتے تھے، کہ جب اس دروازے سے ایک مرتبہ احرام باندھ کر نکل گئے ہیں تو پھر حج یا عمرہ کیے بغیر اسی دروازے سے گھر واپس کس طرح آئیں ؟ تو اس پر فرمایا گیا کہ ایسی خود ساختہ رسوم کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کو چھوڑو اور سیدھے راستے اور سچے دین کو اپناؤ، جو کہ اصل مقصود ہے، کہ تقوی اور پرہیزگاری تو اصل میں ان لوگوں کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی اور پاسداری کرتے ہیں۔ امتوں کے اندر یہ بیماری عام طور پر رہی ہے کہ یہ لوگ دین کے اصلی احکام و فرائض کو آہستہ آہستہ فراموش کرکے اور اس کے اصل اور حقیقی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دین کو خودساختہ رسومات و بدعات کا ایک گورکھ دھندہ بنادیتے ہیں، اور اس طرح وہ راہ حق و صواب سے ہٹ کر کہیں سے کہیں جاپہنچتے ہیں، اور اصل دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اسی لیے دین حنیف میں بدعات کی طرح طرح سے مذمت اور ممانعت کی گئی ہے، اور ایجاد بدعت کو دین کی عمارت کو ڈھا دینے، ہدم کردینے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اور فرمایا گیا کہ ہر بدعت گمراہی اور مردود ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ دین اصل میں وہی اور صرف وہی ہے جو کتاب وسنت کی تعلیمات مقدسہ سے ثابت ہو اور بس۔
524 ایک اہم اصولی ضابطے کی تعلیم و تلقین : { وَأْتُوا الْبُبُوْتَ مِنْ اَبْوَابِہَا } ۔ کے اس ارشاد ربانی کا ذکر تو اگرچہ یہاں پر ایک خاص سیاق وسباق میں آیا ہے لیکن اس سے ایک ایسا عظیم الشان ضابطہ اور اہم اصول تعلیم و ارشاد فرمایا گیا ہے، جس کا دائرہ بہت وسیع ہے، یعنی یہ کہ ہر کام کو اسی طریقہ سے کرنا اور بجا لانا چاہیئے، جو اس کے لئے مقرر کیا گیا ہو، خواہ وہ کوئی بھی کام ہو، سو کسی بھی کام کیلئے اس کے معروف طریقے کو چھوڑ کر اس کے خلاف دوسرا کوئی راستہ و طریقہ اپنانا اور اختیار کرنا درست نہیں، کہ دین فطرت کا مذاق و مزاج یہی ہے، کہ ہر کام کی تکمیل اور انجام دہی اس کے معروف ضابطے اور طبعی طریقہ سے ہو۔ سو اپنے الفاظ و کلمات کے عموم کے اعتبار سے یہ ضابطہ ایسے ہر موقع پر منطبق ہوتا ہے۔ سو زمانہ جاہلیت کے ان لوگوں کی اس رسم بد کی تردید کے ضمن میں ارشاد فرمائے جانے والے اس مختصر سے جملے میں یہ اہم اصولی ضابطہ تعلیم و تلقین فرما گیا ہے کہ ہر کام کو اس کے اس اصول اور ضابطے کے مطابق ہی انجام دیا جائے جو کہ اس کیلئے مقرر کیا گیا ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:190525 تم ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں : تاکہ وہ حق کا راستہ روکنے نہ پائیں، اور اس طرح بول بالا حق اور اہل حق ہی کا ہو، کہ حق ہی کا یہ حق ہے کہ وہ غالب رہے، اور اسی میں بھلا ہے خلق خدا اور اس پوری کائنات کا۔ سو اسلامی تعلیمات کی رو سے جہاد و قتال کا اصل مقصد یہی ہے کہ غلبہ حق ہی کا ہو، اور باطل اور اس کے کارندے و کارپرداز حق کی راہ میں روڑے نہ اٹکا سکیں، اور وہ اپنے کفر و باطل پر چلیں تو بھی اسلام کی بالا دستی کو تسلیم کرتے ہوئے کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے، جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { حَتّٰی یُوْتُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ } ۔ (توبہ :29) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ اگر حج کے سلسلہ میں جنگ کی نوبت آجائے تو تم لڑ سکتے ہو کہ ایسے میں " اشہر حرم " کے اندر دفاعی جنگ جائز ہے۔ البتہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا کہ یہ بات اللہ کو پسند نہیں۔ پس نہ تو تم لوگ " اشہر حرم " میں جنگ کیلئے پہل کرنا اور نہ ہی ضرورت پڑنے پر جنگ کی صورت میں ضرورت سے زیادہ کوئی کاروائی کرنا کہ ایسی کسی بات کی تمہیں اجازت نہیں۔ سو اسلامی جہاد کا اصل مقصد راہ حق کی رکاوٹیں دور اور صاف کرنا ہے۔
526 اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا : پس نہ تو تم " حدود حرم " اور " اشہر حرم " میں ازخود لڑائی کا آغاز کرو، اور نہ لڑائی کے دوران بوڑھوں، بچوں، عورتوں، اور معذوروں، کو قتل کرو اور نہ مثلہ کرو، کہ یہ سب کچھ اعتداء اور تجاوز و زیادتی میں داخل ہے۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے اس دین حق کی ان رحمت بھری تعلیمات اور اس کی عظمت شان کے، کہ عین جنگ کے دوران بھی زیادتی اور بےرحمی کے ارتکاب سے روکا جا رہا ہے، اور رحمت و شفقت اور حدود کی پابندی و التزام کا درس دیا جا رہا ہے۔ کیا ہے دوسرا کوئی دین اور نظام جو اس کا کوئی نمونہ پیش کرسکے سوائے خدائے رحمن و رحیم کے اس دین حق کے ؟ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے " اشہر حرم " میں دفاعی جنگ کی اجازت دی گئی ہے، مگر اتنی اور اس قدر جتنی کہ مدافعت کیلئے ضروری ہو۔ اس سے آگے بڑھنے اور تجاوز کی اجازت نہیں، کہ دین حنیف میں حدود کی پابندی لازم اور ضروری ہے۔
Ayahs 2:191–192527 عہد شکن ظالموں کو جہاں پاؤ قتل کرو : یعنی حدود حرم کے اندر یا باہر، جہاں بھی ان کو پاؤ ان کو قتل کرو، کہ انہوں نے اپنے کفر و شرک اور اپنی عہد شکنی کی بناء پر اپنے آپ کو اسی کے لائق بنادیا ہے۔ (قرطبی، معارف وغیرہ) ۔ سو ایسوں کو حل وحرم میں جہاں پاؤ قتل کرو، تاکہ ایسے ناسوروں کی جڑیں کٹ جائیں اور اللہ کی زمین اور اس کے بندوں کو ایسے شرانگیزوں اور ان کی شرانگیزیوں سے امن وامان نصیب ہوسکے اور اللہ کی دھرتی ایسے لوگوں کے ناروا وجودوں اور ان کے بوجھ سے پاک اور صاف ہوجائے، اور یہی مقصود ہے اسلامی جہاد کا، کہ اس کی حیثیت دراصل ڈاکٹر کے اس نشتر کی ہے جسکے ذریعے وہ آپریشن کر کے مریض کی جسم کا فاسد مواد کاٹ پھینکتا ہے تاکہ باقی جسم اس کے زہریلے اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ سو اسی طرح جہاد اسلامی سے مقصود انسانی معاشرے کو شر و فساد سے نجات دلانا ہوتا ہے تاکہ عباد وبلاد سب کا بھلا ہو اور خیر کا دور دورہ ہو اور امن وامان کے ٹھنڈے سائے سب کے سروں پر سایہ فگن ہوں ۔ فالحمد للہ جل وعلا الذی شرفنا بہذا الدین العظیم المبارک۔
528 انکو نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے : بغیر کسی جرم اور قصور کے، محض اس بنا پر کہ تم لوگ اپنے رب پر ایمان لے آئے، اور اسی وحدہ لاشریک کے بندے بن کر رہنے کا عہد و اقرار کیا، جس کے تم فی الواقع بندے ہو۔ سو ایسی صورت میں ان فرزندان کفر و باطل کا جرم اور بھی زیادہ سخت اور سنگین ہوجاتا ہے۔ لہذا ایسے ظالموں کو ارض حرم کے اس بقعہ نور سے نکال باہر کرو، اس لیے کہ ملت ابراہیمی کے اصل اور حقیقی وارث تم ہو، جبکہ یہ مشرک ہیں۔ لہذا اس گھر سے نکالے جانے کے لائق یہ لوگ ہیں نہ کہ تم۔ پس تم ان کو وہاں سے نکال باہر کرو تاکہ وہ بقعہ نور مشرکوں اور ان کے شرک کی نجاستوں سے پاک و صاف ہو سکے۔ وہاں سے شرک کی ظلمتیں چھٹ سکیں اور وہاں پر توحید کا پھریرا لہرا سکے جو کہ اس بیت عتیق کی تاسیس و تعمیر کا اصل مقصد ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
529 فتنہ کفر سے بھی بڑھ کر ہے : اور کفر و شرک کے اس فتنے کا ارتکاب یہ لوگ کرچکے ہیں، اور حدود حرم اور خانہ کعبہ کے اس بقعہ نور میں جو کہ توحید کا مرکز تھا اور ہے، اور جس کی اساس و بنیاد ہی عقیدہ توحید پر استوار کی گئی ہے۔ اس کو انہوں نے بت خانہ بنادیا ہے، اور حق والوں کو وہاں سے نکال دیا ہے۔ پس تم ان لوگوں سے لڑو اور بیدریغ لڑو، اور ان کو وہاں سے نکال باہر کرکے، اس پاکیزہ مقام کو ان کے کفر و شرک کی غلاظتوں اور نجاستوں سے پاک و صاف کردو، تاکہ ان کو فتنہ انگیزی کے اپنے جرم کی سزا بھی ملے اور یہ آئندہ راہ حق سے روکنے کی جرات و جسارت نہ کرسکیں اور سربلندی حق اور اہل حق ہی کی ہو کہ یہ انہی کا حق ہے { و کلمتہ اللہ ہی العلیا } سو " اشہر حرم " اور " حدود حرم " میں لڑنا اور قتل و قتال کا ارتکاب کرنا اگرچہ بڑی سنگین بات ہے لیکن اللہ کے بندوں کو دین حق سے روکنا، اور محروم کرنا اور انکو محض انکے دین و ایمان کی بناء پر انکے گھروں سے باہر نکال دینا اور ان پر طرح طرح سے ظلم و ستم ڈھانا، اس سے کہیں بڑھ کر ہولناک اور سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظلم کو مٹانا اور اس کے خلاف علم جہاد بلند کرنا عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔ تاکہ حق کا بول بالا ہو
Ayahs 2:193–194531 جہاد اسلامی کا مقصد فتنہ و فساد کی سرکوبی : سو جہاد اسلامی کا مقصد یہی ہے کہ فتنہ و فساد باقی نہ رہے، اور کفر و شرک کو حق کے مقابلے میں سر اٹھانے کی، اور اس کا راستہ روکنے کی ہمت و سکت نہ رہے۔ یا تو کفر و باطل کی ظلمت بالکل مٹ جائے، یا وہ حق کے سامنے مغلوب اور سرنگوں ہو کر رہے، کہ غلبہ بہرحال حق ہی کا ہے، اور اسی کو غالب رہنا چاہیئے تاکہ دنیا اس کے نور سے فیضیاب ہو کر دارین کی سعادت و کامرانی سے بہرہ مند ہوسکے۔ اور یہی خلاصہ و مقصود ہے جہاد اسلامی کی مشروعیت کا، جیسا کہ ابھی اوپر حاشیہ نمبر 26 اور 27 میں بھی گزرا۔ تاکہ حق غالب ہو اور تمام بنی نوع انسان کا بھلا ہو۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
532 دست درازی روا نہیں مگر ظالموں پر : سو ظالموں پر دست درازی روا اور جائز ہے، ان کے اپنے ظلم وعدوان کے نتیجے میں۔ پس جب وہ اس سے تائب ہوگئے اور باز آگئے تو اب ان پر دست درازی کی اجازت نہیں، کہ اب ان کا ظلم وعدوان باقی نہیں رہا۔ سو اگر یہ لوگ باز آکر اسلام کی راہ اختیار کرلیں، تو انکے پچھلے جرائم کی بناء پر انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ پھر صرف انہی کیخلاف کوئی اقدام کیا جائے گا جو کفر و شرک اور ظلم وعدوان پر جمے رہیں۔ سو دست درازی ظالموں کے سوا اور کسی پر جائز نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظلم وعدوان باعث محرومی و خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:195538 اِنفاق فی سبیل اللہ کا حکم : یعنی تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے ان مالوں میں سے، جو اسی نے تم کو عطا فرمائے ہیں اپنے کرم اور مہربانی سے۔ اور جب دیئے ہوئے اسی کے ہیں تو ان کو بلکہ ان میں سے بھی کچھ کو اس کی راہ میں خرچ کرنا تمہارے لیے کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو اس کے دیئے ہوئے ان مالوں میں سے اس کی رضاء و خوشنودی کیلئے خرچ کرو، تاکہ وہ تمہارے لئے توشہ آخرت بنے، اور تمہارے لئے جمع اور محفوظ ہوجائے۔ یوں " انفاق فی سبیل اللہ " کا حکم عام ہے۔ جو بھی کچھ اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کیلئے خرچ کیا جائے گا وہ اس میں داخل ہے، لیکن یہاں پر سیاق وسباق کے اعتبار سے اس سے مراد جہاد کیلئے خرچ کرنا ہے، کہ جہاد جان اور مال دونوں کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں جہاں کہیں بھی جہاد و قتال کا بیان ہوا ہے، وہاں پر بالعموم انفاق کا حکم بھی ضرور دیا گیا ہے۔ وباللّہ التّوفیق ۔
539 اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ سو دین کی تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑنا اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالنا ہے، خاص کر اس کی راہ میں جہاد سے منہ موڑ کر، اور جان و مال کے صرف و خرچ میں بخل سے کام لیکر۔ سو جہاد سے منہ موڑنا، اور اپنے مالوں کو خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی اور دین کی خدمت اور اس کی سربلندی کیلئے خرچ کرنے سے ہاتھ کھینچنا دراصل اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں دھکیلنے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو لوگ اللہ کی راہ میں جان اور مال کی قربانی دینے سے جی چراتے ہیں، وہ خواہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہوں حقیقت میں وہ اپنے آپکو ہلاکت کے جہنم میں جھونکتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت واتباع اور دین حنیف کی تعلمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنانے میں زندگی ہے۔ اور ان سے اعراض و روگردانی میں ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔