Ayah 2:136374 " اَسباط " کا معنی و مفہوم ؟ : " اَسباط " سے مراد ہے اولاد یعقوب۔ سو جس طرح بنی اسماعیل کی اولاد میں مختلف خاندانوں کو قبائل کہا جاتا ہے اسی طرح بنی اسرائیل کی اولاد میں ان کو " اَسباط " کہا جاتا تھا۔ اور حضرت یعقوب کی یہ اولاد بارہ کی تعداد میں تھی، جن سے آگے مختلف خاندان چلے اور پھیلے۔ بہرکیف ارشاد یہ فرمایا گیا ہے کہ ان سب حضرات کا دین ایک ہی دین تھا، یعنی اسلام اور ہم نے اسی دین حق کو اپنا رکھا ہے۔ اب اگر تم لوگ بھی اس کو اپناؤ گے تو خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا ورنہ اس کا بھگتان خود تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ سو دین حق سے محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سب سے بڑی محرومی ہے، جو آگے طرح طرح کی گمراہیوں اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اللہ ہر فتنے اور محرومی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
375 تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھنے کا معنی و مطلب ؟ : کہ وہ سب کچھ حق اور سچ تھا اور اپنے اپنے زمانے میں ہدایت و نجات کا دار و مدار اسی پر تھا۔ مگر اب آخری اور کامل وحی کے آجانے کے بعد جو کہ قرآن حکیم کی صورت میں آچکی ہے، وہ سب پچھلی کتابیں اور گزشتہ شریعتیں منسوخ ہوگئیں۔ اب ہدایت اور نجات کی راہ صرف ایک ہی ہے، یعنی قرآن حکیم پر سچا پکا ایمان اور صرف اسی کی اتباع و پیروی، جو کہ عقل و نقل کے عین مطابق، اور ایک واضح حقیقت ہے۔ اب قیام قیامت تک یہی دین حق معیار حق و ہدایت اور مدار نجات و فلاح کے طور پر باقی رہے گا، جیسا کہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " آج اگر موسیٰ اور عیسیٰ بذات خود زندہ موجود ہوتے تو ان کو میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہیں تھا "۔ سو اب نجات دین حنیف اسلام کی تعلیمات مقدسہ ہی میں محصور و منحصر ہے۔ اس کے سوا اور کوئی صورت ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
376 جملہ انبیاء و رسل پر ایمان لانا ضروری ہے : کیونکہ یہ تمام حضرات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے تھے اس لیے ان سب پر ایمان لانا ضروری تھا۔ پس حضرات انبیاء و رسل کرام کے درمیان ایمان کے اعتبار سے تفریق جائز نہیں۔ کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں، سو ہم اس کے کسی بھی طرح روادار نہیں ہوسکتے، بلکہ ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ ہم حق کو ماننے والے ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہو اور کسی بھی شکل میں ہو۔ پس حضرات انبیاء و رسل کرام میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور یہ شرف پوری دنیا میں صرف مسلمانوں کو حاصل ہے کہ وہ تمام ہی انبیاء و رسل پر سچا پکا ایمان رکھتے ہیں اور اب نجات صرف حضرت خاتم الانبیاء والرسل اور تمام انبیاء و رسل کے امام اور ان کے افضل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت و اتباع اور آپ کی ملت کی پیروی ہی میں منحصر ہے ـ۔ کیونکہ آپ کی ملت گزشتہ تمام ملتوں کی خاتم اور ان کی ناسخ ہے ۔ علیہ افضل الصلوات واتم التسلیمات ۔ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب حکیم قرآن مجید گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کی اصولی تعلیمات مقدسہ کی امین و پاسدار اور محافظ و نگہبان ہے اور ان کی تعلیمات اپنی اصلی اور صحیح شکل میں قرآن حکیم کے سوا اور کہیں بھی نہیں مل سکیں گی۔ اسی لیے اس کتاب حکیم کی صفت " مہیمن " بھی فرمائی گئی ہے۔ یعنی یہ ان تمام کتابوں کی اصولی ہدایات وتعلیمات کی محافظ و امین اور نگہبان اور پاسدار کتاب ہے۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 2:137377 حضرات صحابہ کرام کا ایمان معیار حق و صداقت : یعنی اگر یہ لوگ سب انبیاء و رسل پر اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح کہ تم لائے ہو تو یہ ہدایت پا گئے اور کامیاب ہوگئے۔ سو یہ ایک بڑا اہم اور بنیادی ضابطہ ہے جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے، اور جس سے ھدایت و ضلالت کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے، کہ کون حق و ہدایت پر ہے، اور کون نہیں۔ پس جو بھی کوئی صحابہ کرام کی طرح کا ایمان نہ رکھتا ہو، وہ حق اور ہدایت پر نہیں ہوسکتا، خواہ اس کا تعلق پہلے کی امتوں سے ہو یا اس امت سے۔ پھر ان بدبخت لوگوں کے حق پر ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ جو حضرات صحابہ کرام کے ایمان کو نمونہ و مثال بنانے کی بجائے الٹا ان پر طعن وتشنیع کے تیر برسائیں، تبریٰ کریں، اور طرح طرح سے ان کی توہین و تنقیص کا ارتکاب کریں۔ اور اس حد تک کہ کھلے کافر بھی نہ کرسکیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اسی طرح وہ اہل بدعت بھی حق پر قرار نہیں دئیے جاسکتے جو کہ صحابہ کرام سے عشق و محبت کے دعوے کرنے کے باوجود عقیدہ و عمل کے دونوں میدانوں میں ان کے طور طریقوں سے ہٹے ہوئے ہوں، اور وہ ایسی ایسی بدعتوں، اور نت نئے طریقوں، کو دین میں شامل کر رہے ہوں، جن کا ضرورت اور داعیہ کے باوجود صحابہ کرام کے اس پاکیزہ دور میں کوئی ثبوت و وجود نہیں ملتا۔ اسی لئے نبئ اکرم ﷺ نے افتراق امت سے متعلق اپنی مشہور حدیث طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ کی توضیح میں ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے طور طریقے پر ہوں گے ـ ان کے سوا باقی کی تمام بہتر فرقے دوزخ میں ہونگی " کلہم فی النار الا واحدہ " اور اللہ کے رسول کے طریقے سے مراد ہے آپ کی سنت جو کتب حدیث میں تمام و کمال موجود و محفوظ ہے۔ سو آپ کی اور آپ کی ان قدسی صفت صحابہ کرام کی جماعت کو ماننے والے اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ ہی حق والے اور نجات کی حقدار ہیں خواہ وہ کوئی بھی ہوں، کہیں کے بھی ہوں، انہی کو جاتا ہے ۔ اہل السنۃ والجماعۃ ۔ یعنی جو آپ کی سنت کو بھی مانتے اور اپناتے ہیں اور آپ ﷺ صحابہ کرام کی پوری جماعت کو بھی کہ ان سب ہی حضرات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۔ ؓ و رضوا عنہ ۔ کا عظیم الشان اور بےمثال سرٹیفکیٹ مل چکا ہے۔ پس جو لوگ پیغمبر کی سنت کے منکر اور اس کی تارک ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور جو صحابہ کرام سے بغض وعناد رکھتے ہیں اور ان میں سے کچھ کا ماننے کا دعوی کرتے ہیں اور اس کے لئے اپنا معیار بناتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور جو سنت کے خلاف اپنی طرف سے طرح طرح کی بدعات و خرافات کو دین میں داخل کرتے ہیں اور اس دین کامل میں اپنی طرف سے طرح طرح کے اضافے کرتے ہیں وہ سب اسی سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں اور وہ دوزخ کی راہ پر چل رہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے ۔ آمین۔
378 ضد اور ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسوں کا حق کی طرف لوٹنا بڑا ہی مشکل امر ہے۔ کیونکہ ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ کیونکہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا ہے، طلب صادق اور رجوع الی الحق، اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں، تو پھر ان کو حق و ہدایت کی دولت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو ضد اور ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ شقاق اس عداوت و دشمنی کو نہیں کہا جاتا جو حق کی بنا پر ہو یا معمولی نوعیت کی ہو بلکہ شقاق اس سخت قسم کی اور سنگین نوعیت کی عداوت و دشمنی کو کہا جاتا ہے جو ایسی بڑی مخالفت اور دشمنی ہو کہ وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عداوت و دشمنی میں ڈالنے والی ہو اور وہ اس کو اس کے غضب اور اس کی لعنت کا مستحق بنا دینے والی ہو اور اس سے انسان دوزخ کا مستحق بن جاتا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں منکرین کے لیے بڑی وعید ہے اور اس لفظ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف اپنے دلوں میں سخت عداوت و دشمنی رکھتے ہیں۔ اور اسی بنا پر یہ ان کو تکلیف اور ایذا پہنچانے کے درپے ہیں وہ یقینا سخت عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ اسی لیے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی تسکین و تسلی سے نوازا گیا ہے۔ (محاسن التاویل للقاسمی ) ۔
379 اللہ تعالیٰ کی حمایت و کفایت کے بعد اور کسی کی ضرورت ہی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافی ہے آپ کو اللہ ان سب کے مقابلے میں۔ اور جب ان کے مقابلے میں اللہ آپ کو کافی ہوجائے جو کہ قادر مطلق بھی ہے اور سب کا خالق ومالک بھی۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی جان بھی نہیں سکتا، تو پھر آپ ﷺ کو اے پیغمبر ان دشمنوں کی پرواہ ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ صَلَوات اللہ وَسَلَامُہٗ علیہ ۔ پس جس کا تعلق اپنے خالق ومالک سے صحیح ہو اور اس کا بھروسہ و اعتماد اسی پر ہو۔ اس کے لئے فکر و تشویش کی کوئی بات نہیں۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔ مگر افسوس کہ آج کا جاہل مسلمان اور اپنے دین و ایمان کی قدر و قیمت سے غافل و بیخبر انسان، اس سیدھی اور صحیح راہ کو چھوڑ کر طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ قبروں آستانوں کے پھیرے مانتا، وہاں کے چکر لگاتا، بکرے چھترے کاٹتا، شرکیہ تعویز گنڈھے کرتا اور امام ضامن باندھنے جیسے شرک کا مرتکب ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ مگر اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اس کی طرف توجہ کرنے کی توفیق اس کو نصیب نہیں ہوتی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ تو پھر اس کی بگڑی بنے تو کیسے اور کیونکر ؟ ۔ اللہم فکن لنا ولا تکن علینا وخذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک ۔ بہرکیف قرآن وسنت کی تعلیم یہی ہے کہ دل کا بھروسہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہو ۔ وباللہ التوفیق ۔
380 اللہ تعالیٰ ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے سننے اور جاننے والا سو وہی وحدہ لاشریک ہے جو ہر کسی کی سنتا اور ہر حال میں سنتا ہے، اور ہر شے اور ہر حال کو جانتا اور پوری طرح جانتا ہے۔ قرآن حکیم میں اس حقیقت کو جا بجا اور طرح طرح سے بتاکید و تکرار بیان فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس ایمان و یقین کے پختہ ہوجانے کے بعد بہت سے دروازے شرک و شرکیات کے خود بخود بند ہوجاتے ہیں، مگر جاہل انسان کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، کہ وہ اس وحدہ لاشریک کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے طرح طرح کے شرکیہ فلسفے بگھارتا ہے، جیسے یہ کہ بھئی تم جب دنیاوی بادشاہوں وغیرہ میں سے کسی سے بلاواسطہ اور براہ راست نہیں مل سکتے، تو اللہ سے کیسے ملو گے ؟ اور اگر کسی حاکم و بادشاہ کے پاس تم پہنچ بھی گئے تو تمہاری وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوگی، جب تک کہ تم کوئی وسیلہ نہ پکڑو۔ تو پھر تم اللہ تعالیٰ سے براہ راست اور بلاواسطہ کیسے مل سکتے ہو ؟ لہذا وہاں بھی ایسے واسطوں کا ہونا ضروری ہے، جن کے ذریعے ہم اپنی دعاء والتجاء اس تک پہنچا سکیں۔ ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے۔ وہ ہماری سنتا نہیں، اور ان کی رد نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ تمام مفروضے خود ساختہ اور بےبنیاد ہیں، اور ان کی اور اس طرح کے دوسرے تمام مفروضوں کی بنیادی غلطی اور اساسی خرابی یہ ہے کہ ان میں حضرت حق ۔ جَلَّ جَلَالُہَ ۔ کو مخلوق پر قیاس کیا گیا ہے، حالانکہ وہ وحدہ لاشریک خالق اور دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے۔ اسی لئے اس کے لئے ازخود مثالیں بنانے سے صاف اور صریح طور پر منع فرمایا گیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فلَاَ تَضْرِبُوْا للّٰہُ الاَمْثَالَ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ } ۔ (النحل : 74) پس اللہ تعالیٰ کیلئے ازخود مثالیں گھڑنا درست نہیں۔ کیونکہ انسان اپنے طور پر جو بھی کوئی مثال پیش کرے گا وہ مخلوق ہی کی مثال ہوگی کہ اس کی کھوپڑی مخلوق اور محدود ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ خالق اور مخلوق کے دائرہ سے وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کو اسی طرح مانا جائے جس طرح کہ اس نے اپنے بارے میں خود بتایا ہے اور جس طرح کہ اس کے رسول نے بتایا ہے اور بس۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور پیغمبر کا بیان اللہ ہی کا بیان ہوتا ہے۔
381 اللہ کا رنگ اپنانے کی تعلیم و تلقین : یعنی { صبغۃ اللہ } کا ناصب محذوف ہے جس سے اللہ کے رنگ کو اپنانے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ رنگ اللہ ہی کا رنگ ہے جو چڑھتا ہے دلوں کی دنیا پر۔ سو ایمان و یقین کا یہ رنگ ایک انقلاب آفریں رنگ ہے جو کہ چڑھتا ہے اپنی اصل و اساس کے اعتبار سے سلطان دل پر۔ اور پھر اس کے خوشبوئیں بکھیرتے اور رحمتیں پھیلاتے آثار و نتائج ظاہر ہوتے ہیں اعمال و کردار کے ہر دائرے میں۔ اور اس طرح وہ معنوی اور پاکیزہ رنگ، اپنی عطر بینریوں سے زندگی کے تمام پہلوؤں پر ایسا حاوی اور محیط ہوجاتا ہے کہ انسان کو کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ اور اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے کہ وجود انسانی کی اس اہم سلطنت کا بادشاہ تو دل ہی ہے۔ وہ جس بھی رنگ میں رنگا جائے گا، اسی کے آثار و نتائج اس کے ظاہر پر ہویدا ہوں گے۔ اگر سلطان دل کا یہ رنگ صحیح ہوا تو اس کے اثرات اس کے ظاہر پر، اور معاشرے میں ہر طرف، پھیلیں گے اور حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " کا دور دورہ ہوگا۔ اور اگر خدانخواستہ معاملہ دوسرا ہوا تو اس کے نتیجے میں شر انگیزی کے زہریلے دھوئیں پھیلیں گے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اسی کو نبوت کی لسان حق ترجمان نے اس طرح بیان فرمایا ہے " آگاہ رہو کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ایسا لوتھڑا ہے کہ اگر وہ درست ہوا تو پورا جسم درست رہے گا۔ اور اگر وہ خراب ہوگیا تو پورا جسم خراب ہوجائیگا۔ آگاہ رہو کہ وہ دل ہے "۔ یہود و نصاریٰ اپنے بچوں کو اور اپنے دین میں داخل ہونے والے کسی نئے شخص کو ایک خاص قسم کے رنگ سے رنگتے اور کہتے کہ اب یہ اس دین میں پکا ہوگیا ہے۔ اس کو وہ " بپتسمہ " کہتے تھے۔ اس پر فرمایا گیا کہ اس طرح کے ظاہری اور خود ساختہ بناوٹی رنگوں سے کچھ نہیں بنتا۔ بلکہ اصل اور حقیقی رنگ اپناؤ جو کہ ایمان و یقین کا وہ معنوی اور حیات آفریں رنگ ہے جو دل پر چڑھتا ہے۔ اور پھر وہ انسان کے ظاہر و باطن میں انقلاب برپا کردیتا ہے۔ سو فکر اس کی کرو نہ کہ ان ظاہری رسوم و رواج کی۔ یہاں سے یہ اہم اصول اور ضابطہ ملا کہ اسلام کی نظر میں اصل اہمیت قلب و باطن کی ہے نہ کہ محض ظاہری رسوم و طقوم کی۔ کیونکہ باطن اگر سنور جائے تو ظاہر کی اصلاح خود بخود ہوتی جاتی ہے، مگر افسوس کہ آج مسلمان کہلانے والوں میں بھی کتنی ہی تعداد ایسوں کی ہے جن کی ساری تگ و دو کا محور و مرکز ظاہر اور صرف ظاہر ہے۔ وہ قسما قسم کے رنگ بدلتے، خاص پٹے ڈالتے، طرح طرح کی بناوٹیں اپناتے، اور الگ الگ ٹولیاں بناتے، نیلی پیلی خاص سٹائل کی پگڑیاں باندھتے، قطع نظر اس سے کہ پیغمبر ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کا اسوہ کیا ہے، اور دین کی سچی تعلیمات کیا کہتی ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔
Ayah 2:138382 اللہ کے رنگ سے بڑھ کر اچھا رنگ اور کسی کا ہوسکتا ہی نہیں : یعنی استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اللہ کے رنگ سے بڑھ کر اچھا رنگ اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ پس اصل میں اسی کا فکر و اہتمام کرنے کی ضرورت ہے، کہ وہی معنوی، روحانی، اور باطنی رنگ ہے جو اصل مطلوب ہے۔ جو انقلاب آفریں اور حیات بخش ہے۔ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والا ہے۔ اس کے سوا باقی سب بےبنیاد اور بےحقیقت ظاہر داریاں ہیں، اور بس۔ جو محض دھوکے کا سامان ہیں اور ان کے جال میں پھنس کر لوگ اپنی متاع عمر کو یونہی ضائع کررہے ہیں، اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح یہ اپنا کس قدر سنگین اور ہولناک نقصان کرتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو ظواہر و مظاہر پر فریفتہ ہونے والوں کو اس حقیقت صادقہ سے واقف و آگاہ ہوجانا چاہیے کہ یہ سب کچھ فانی اور بےحقیقت ہے۔ اصل چیز باطن اور اس کا رنگ ہے۔ اسی پر اصل توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:139383 اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی اساس صدق و اخلاص : کہ اس کے یہاں صرف وہی عمل قابل قبول ہوسکتا ہے جو خالص اسی کیلئے ہو۔ اس میں اور کسی طرح کا کوئی شائبہ تک نہ ہو۔ اور جب اللہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سب حضرات اسی کے مسلم و فرمانبردار تھے، اور ان سب کا دین اسلام ہی تھا، تو پھر تم لوگ اس کے برعکس دوسرے بےبنیاد دعوے کس طرح کرتے ہو ؟ اور یہودیت اور عیسائیت وغیرہ کے مختلف ناموں سے دین کے دوسرے مختلف ایڈیشن کس طرح تصنیف کرتے اور ان کو رواج دیتے ہو ؟ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی اساس و بنیاد صدق و اخلاص ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ویسا جو اس کے یہاں شرف قبولیت پانے والا ہو ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین -
Ayah 2:140384 اللہ سے کچھ مخفی نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو "۔ اور اس نے تمہارے سب کرتوتوں کا ریکارڈ بھی تیار کرا رکھا ہے اور پوری باریکی اور نہایت محکم طریقے کے ساتھ جس کے مطابق تمہیں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس تم سوچو اور پوری طرح سے سوچ اور دیکھ لو کہ تم کس انجام کی طرف جا رہے ہو۔ اور آگے تم لوگوں کو کس مہیب نتیجہ و انجام سے سابقہ پیش آنے والا ہے۔ لہذا اس کو سوچ کر تم اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور اس طرح کی کسی غلط فہمی میں کبھی نہیں رہنا کہ اللہ تمہارے کیے کرائے سے غافل اور بیخبر ہے بلکہ وہ تمہارے ہر حال کو دیکھتا اور جانتا ہے۔
Ayah 2:141385 صرف آباء و اَجداد کا انتساب کافی نہیں : جیسا کہ یہود و نصاریٰ کا دعویٰ اور گھمنڈ تھا اور ان کا کہنا تھا ۔ { نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہ وَاَحِبَّائہ } ۔ کہ " ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں "۔ سو اس ارشاد سے آباء و اجداد کے انتساب پر بڑائی کے زعم و گھمنڈ پر ضرب کاری کو مکرر ذکر فرمایا تاکہ ان کے دماغوں سے یہ زعم نکل جائے کہ ہم بڑوں اور بزرگوں کی اولاد ہیں۔ اور یہی انتساب ہمارے لئے کافی ہے۔ ہم بخشے بخشوائے ہیں۔ اللہ کے بیٹے، اور اس کے پیارے ہیں { اَبْنَائُ اللّٰہ وَاَحِبََّائہُ } دوزخ کی آگ ہمیں چھوئیگی بھی نہیں، بجز گنتی کے کچھ دنوں کے { لَنْ تََمَسَّنَا النَّار الاَّ اَیَّامًا مَعْدُُُوْدَۃ } وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح اُمّت مُحَمَّدِیّہ ۔ عَلٰی صَاحِِبِہَا اَلْفُ اَلْفُ تَحِیَّۃٍ ۔ کو یہ درس دیا جا رہا ہے کہ تم لوگ اس طرح کے مزاعم فاسدہ سے بچ کر رہنا، جن میں مبتلا ہو کر یہود و نصاری راہ راست سے بھٹک گئے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ مگر افسوس کہ اس امت مرحومہ کا جاہل طبقہ اور اہل زیغ و ضلال کا گروہ بھی، آج ایسے ہی جھوٹے مزاعم اور من گھڑت دعو وں کو گلے لگائے ہوئے ہے، اور یہ لوگ ٹھاٹھ سے کہتے ہیں کہ ہم " سید ہیں "، " صاحبزادے ہیں "، " فلاں حضرت کی اولاد " اور " فلاں گدی کے خادم و مجاور ہیں "۔ فلاں " سرکار " سے نسبت رکھنے والے اور " سگ درگاہ " ہیں۔ ہمیں کسی کی کیا پرواہ، اور کسی عمل اور محنت کی کیا ضرورت ؟ ہمیں تو بس یہ تعلق و انتساب ہی کافی ہے، اسی سے ہمارا کام بن جائیگا وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح کے فاسد عقائد کی جڑ کاٹنے کے لئے اس ارشاد کو مکرر لایا گیا کہ وہ بزرگ دنیا سے رخصت ہوگئے، اور اپنا کیا کرایا اپنے ساتھ لے گئے، جس کا پھل وہ خود پائیں گے۔ تمہیں ان سے یہ انتساب کچھ کام نہیں دیگا بلکہ ان کی سچی تعلیمات کے مطابق اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح کرنے ہی سے تمہاری بگڑی بن سکتی ہے اور تمہاری بہتری ہوسکتی ہے ورنہ یہ سب کچھ سراب اور دھوکہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تم لوگ ان بزرگوں سے انتساب پر فخر اور اکتفاء کرنے کی بجائے، ان کے طور طریقوں کو اپنانے اور ان کے متعین کردہ راستوں پر چلنے کی فکر و کوشش کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو، اور ان سے انتساب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کی سچی تعلیمات کو اپنایا جائے۔ محض انتساب پر فخر کرنا اور عمل و کردار سے منہ موڑ لینا کچھ بھی کام نہیں کہ ۔ اندریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست ۔ یعنی راہ حق میں محض فلاں ابن فلاں کا کوئی درجہ و مقام نہیں بلکہ ایمان و یقین، صحت عقیدہ اور عمل و کردار کی پونجی درکار ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 2:142386 تحویل قبلہ سے متعلق قرآن حکیم کی ایک پیشینگوئی اور اس کی تصدیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے پھیر دیا مسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے جس پر یہ لوگ اب تک تھے "۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ ان لوگوں نے تحویل قبلہ کے اس حکم پر اسی طرح کے اعتراضات کر کے اپنی حماقت و سفاہت کا ثبوت بہم پہنچا دیا، سو یہ بھی قرآن حکیم کا ایک معجزہ ہے کہ اس نے جیسے پیشگی خبر دی تھی ویسے ہی ہوا۔ ورنہ ان لوگوں کے لئے یہ موقع تھا کہ جس قرآن کی مخالفت میں وہ دن رات ایک کئے ہوئے تھے، اس کی اس پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کیلئے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ وہ اس طرح کا کوئی اعتراض نہ کرتے اور پھر کہتے کہ لو جی قرآن کی یہ پیشینگوئی غلط ثابت ہوگئی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ کہ ہم نے ایسا کوئی اعتراض نہیں کیا، مگر اس کی ہمت ان کو نہ ہوسکی۔ سو یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شریعت مطہرہ کے کسی حکم پر اپنی عقل ناقص کی بناء پر اعتراض کرنا سفاہت و جہالت ہے۔ اور یہ یوں بھی ظاہر ہے، کیونکہ عقل کی پرواز جہاں ختم ہوجاتی ہے، وہاں سے وحی کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔ تو پھر اس خام اور ناقص عقل کی بنا پر وحی کے کسی حکم پر اعتراض کرنے کا کیا موقع و مقام ہوسکتا ہے ؟ عقل کا دائرہ تو محسوسات تک ہے، اور بس۔ جبکہ شریعت اور وحی کا تعلق غیب سے ہے جس کا دائرہ عقل سے وراء الوراء ہے، اور اس سے کہیں بڑھ کر اعلیٰ وبالا ہے۔ سو جہاں عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے وہاں سے وحی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
387 مشرق و مغرب سب اللہ تعالیٰ ہی کیلئے : کہ سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی۔ اور اس پر حاکم و متصرف بھی وہی۔ پس وہ جس سمت کو چاہے قبلہ قرار دے، اور جس کو چاہے منسوخ فرما دے۔ بندے کو اس کی " لِمْ " اور علت پوچھنے کا کیا حق ہوسکتا ہے، جبکہ ایک غلام اپنے آقا سے اس کے حکم کی حکمت اور علت پوچھنے کا حق دار نہیں ہوتا، جبکہ ایک مریض اپنے ڈاکٹر کے لکھے ہوئے نسخے پر اعتراض نہیں کرسکتا، تو پھر ایک بندہ مخلوق اپنے خالق ومالک کے حکم کی علت اور حکمت جاننے کا سوال کیونکر کرسکتا ہے ؟ بلکہ بندے کا کام تو اس کے حکم و ارشاد کو بےچون و چرا تسلیم کرنا، اور اسے جوں کا توں بجا لانا ہے اور بس۔ اور یہی تقاضا ہے اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کا، جو کہ اس کے بندوں کی ذمہ داری اور ان سے مطلوب ہے۔ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے کہ اس وحدہ لاشریک کا جو بھی حکم ہوگا، وہ کسی نہ کسی حکمت بلکہ حکمتوں پر ہی مبنی ہوگا، کہ وہ وحدہ لاشریک حاکم ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے ہر حکم کے بےچوں و چرا تسلیم کرنے اور اپنانے ہی میں بندے کا بھلا ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مشرق و مغرب کی یہ ساری کائنات تنہا اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ وہی اس کا خالق ومالک بھی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی۔ پس وہ جو چاہے حکم دے کسی کو اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
388 سیدھی راہ کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے سیدھی راہ سے "۔ سو سیدھی راہ سے نوازے جانے کیلئے بنیادی شرط مشیت خداوندی ہے، کیونکہ اس کا دار و مدار طلب صادق اور اخلاص نیت کی اس اساس و بنیاد پر ہے، جس کا محل دل ہے۔ اور دلوں میں چھپی چیزوں کو جاننے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لئے وہی جانتا ہے کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے، اور کون کس صلے اور بدلے کا مستحق اور کس کے لائق ہے ؟ وہ اسی کے مطابق کسی کو نور حق و ہدایت سے نوازتا ہے، اور کسی کو اس کی اپنی اختیار کردہ ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس انسان کا بھلا اس میں ہے کہ وہ اپنے دل کی دنیا اور اپنے باطن کو صحیح رکھے، اور اپنے خالق ومالک سے اپنا رشتہ وتعلق درست رکھے، کہ اسی پر سارا دارومدار ہے۔ سو انسان کے صلاح و فساد اور اس کے بناؤ بگاڑ کا تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 2:143–144389 بہترین امت کیلئے بہترین قبلہ : یعنی جس طرح ہم نے تمہیں ایسے بہترین قبلے سے نوازا، جو اپنے موقع و محل کے لحاظ سے بھی بےمثل ہے، اور ان انوار و برکات کے اعتبار سے بھی، جو کہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے برابر اس پر برستی رہتی ہیں۔ اسی طرح ہم نے تم کو بھی افراط وتفریط کی ان انتہاؤں سے بچا کر ایک وسط و معتدل اور بہترین امت بنایا ہے، جن میں دوسری بہت سی قومیں مبتلا ہوئی ہیں تاکہ تم ان انتہاؤں سے محفوظ رہو جن میں یہود و نصاری وغیرہ کی دوسری اقوام مبتلا ہو کر راہ راست سے بھٹک گئیں، اور اس طرح وہ صراط مستقیم کی سعادت سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو ہم نے تمہیں کرم بالائے کرم اور احسان پر احسان سے نوازا، پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ اور ہر حال میں دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھکے رہو، اور اس کے ان احسانات و انعامات کی قدر کرو جن سے اس سے تمہیں نوازا ہے۔ یہ اس کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ وباللہ التوفیق ۔
390 " وسط " کا معنی و مفہوم ؟ : " وسط " جیسا کہ حضرات اہل علم فرماتے ہیں اس متوسط اور درمیانی شے کو کہا جاتا ہے، جس کی دونوں طرفین ایک برابر ہوتی ہیں۔ اور یہیں سے اس میں خیریت اور بہتری کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ " خَیْرُ الاُمُوْر اَوْسَطُہَا " ۔ یعنی سب سے بہتر کام وہ ہوتا ہے جو ان کے وسط اور عین بیچ میں ہو، اور اُمّت مُحَمَّدِیّہ ۔ عَلٰی صَاحِِبِہَا اَلْفُ اَلْفُ تَحِیَّۃ ۔ کو سب سے بہتر اور افضل امت اسی لئے کہا جاتا ہے، کہ یہ افراط وتفریط کی انتہاؤں سے بچ کر توسط و اعتدال کی راہ پر چلنے والی امت ہے، اسی لئے یہ خیر الامم کے لقب کی مستحق ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسری کوئی بھی قوم بسیط ارضی پر ایسی نہیں کہ حق و ہدایت کی دولت اسی امت کے پاس ہے۔ والحمدللہ جل و علا ۔
391 امت محمدیہ سب امتوں پر گواہ ہونے کا شرف رکھنے والی امت : سو تم لوگ باقی سب دنیا پر گواہ ہو، اپنے قول اور اپنے فعل کے لحاظ سے، کیونکہ جس دین کا حامل و علمبردار ہونے کا شرف تمہیں بخشا گیا ہے، وہ ابدی صداقتوں کا حامل وامین دین حق ہے، اور اس دین حق کے آجانے کے بعد اب قیامت تک تمام زمانوں کیلئے اور پوری روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کیلئے حق کی دولت اس دین کے سوا اور کہیں بھی نہیں مل سکے گی۔ سو اُمّت مُحَمَّدِیّہ آج تک اپنے قول و فعل سے حق کی شہادت اور گواہی کی یہ عظیم الشان ذمہ داری برابر نبھا رہی ہے، کیونکہ ہزار کمزوریوں کے باوجود آج بھی پوری روئے زمین پر یہی اُمّت مَرْحُومہ ہے جو حق کی پاسداری کے شرف سے مشرف ہے ۔ والحمدللہ ۔ اور آج پوری روئے زمین پر یہی ایک امت ہے جو روزانہ پانچ وقت اپنی اذان و اقامت، اپنے محراب و منبر، اور اپنے قول و فعل سے، اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی عظمت وکبریائی، اس کی وحدانیت ویکتائی، اس کے رسول برحق (علیہ الصلوۃ والسلام) کی رسالت و حقانیت کا اقرار اور اس کا اعلان و اظہار کرتی ہے، دنیا بھر کو اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے اور اس کے حضور سر بسجود ہونے کی دعوت دیتی ہے، اور ان کو حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح کی طرف بلاتی ہے، اور یہی وہ امت ہے جو اس شہادت و گواہی کا عظیم الشان، کامل اور آخری اظہار کل قیامت میں سب دنیا کے سامنے، اور حضرت حق جل مجدہ کے حضور اس وقت کرے گی جبکہ سابقہ امتیں اپنے نبیوں کی تبلیغ کا انکار کردیں گی، تو یہ امت ان سب کے خلاف حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے حق میں گواہی دے گی کہ ان حضرات نے کلمہء حق کی تبلیغ کا فریضہ پوری طرح سر انجام دیا تھا، اور اس میں انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی تھی، کیونکہ ہمیں ہمارے دین نے، ہمارے قرآن و سنت کے دونوں مصادر خیر و برکت نے، اس کی خبر دی تھی اور اس کی تفصیلات بتلائی تھیں۔ اور اللہ کے نبی اپنی امت کے اس بیان اور ان کی اس شہادت و گواہی کی تصدیق فرمائیں گے، جیسا کہ کتب احادیث و تفاسیر میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ فالحمدللہ جل و علا الذی شرفنا بہذا الشرف والاکرام ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
392 حضرت امام الانبیائ ﷺ کی گواہی اپنی امت پر : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں۔ کیونکہ تمہیں حق و ہدایت کی جو بھی دولت ملی، وہ انہی پیغمبر کے سکھانے بتانے سے ملی۔ زندگی میں انہوں نے ایک ایک چیز تمہیں بتائی اور سکھائی، اور دنیا سے انتقال فرما جانے کے بعد وہ تمہارے لئے قرآن و سنت کی شکل میں حق و صداقت کے دو ایسے جامع، عظیم الشان، اور بےمثل ذخیرے، چھوڑ گئے جو قیامت تک زندگی کے ہر گوشے میں تمہاری رہنمائی کرتے رہیں گے، اور پھر کل قیامت کے روز وہ تم پر گواہ بن کر تمہاری گواہی کی تصدیق بھی فرمائیں گے، جو کہ تمہارے اس " شہادت علی الناس " کے شرف و اعزاز کا آخری اور عظیم الشان اظہار ہوگا، جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ۔ فالحمد للہ ۔ اہل بدعت نے اپنی تحریفی کا وشوں کے دوران جو شہیداً کے لفظ سے اپنے شرکیہ عقائد پر استدلال کی سعی نامراد کی، وہ باطل و مردود ہے۔ ایک تو اس لئے کہ یہ استدلال دوسری نصوص قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ یہ کہــ قرون مشہود لہا بالخیر، اور ان کے بعد کے علماء سلف و خلف کی تصریحات کے برعکس اور ان سے متصادم و متضاد ہے۔ اور تیسرے اس لئے کہ اگر شہیداً کے لفظ سے حضرت نبی اکرم ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت کیا جاسکتا ہے تو پھر { لِتََکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاس } کے الفاظ سے پوری امت کو حاضر و ناظر ماننا پڑے گا، کہ بعینہ یہی لفظ یہاں بھی موجود ہے، حالانکہ اس کے تم لوگ بھی قائل نہیں ہو۔ اور چوتھے اس لئے کہ گواہ کے لئے موقع پر حاضر ہونا بنیادی طور پر ضروری ہی نہیں، بلکہ علم یقینی کی ضرورت ہوتی ہے، خواہ وہ کسی بھی طرح سے حاصل ہو۔ مشاہدہ و حاضری سے ہو، یا دوسرے ذرائع سے۔ لہذا اہل بدعت کا اس لفظ سے حاضر و ناضر کے اپنے خودساختہ شرکیہ عقیدے کیلئے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو تحویل قبلہ ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ تھا کہ اس سے کھرے کھوٹے میں تمیز ہوگئی ۔ والحمد للہ ۔
393 تحویل قبلہ امتحان و آزمائش کا ایک ذریعہ : پس جو لوگ اپنے ایمان و عقیدہ میں سچے تھے وہ سچے نکلے، ان کا سچ نکھر کر واضح ہوگیا، اور جھوٹے الگ ہوگئے۔ اور اس طور پر کہ وہ اس کا انکار بھی نہیں کرسکتے، کہ وہ اپنے عمل و کردار کے اعتبار سے خودبخود نکھر کر سامنے آگئے۔ سو سچے اس آزمائش میں اپنے صدق و اخلاص کی بناء پر کامیاب ہوئے اور جھوٹے ناکام و مراد۔ سو سچ کامیابی کا ذریعہ ہے اور جھوٹ ناکامی و ہلاکت کا باعث۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ بہرکیف مطلب اس ارشاد کا یہ ہے کہ جو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی تو وہ اس لیے نہیں کہ یہ تمہارا مستقل قبلہ ہے۔ بلکہ یہ اجازت ایک عارضی اور وقتی اجازت تھی اور مقصود اس اجازت سے یہ تھا کہ پھر اس قبلہ کی تبدیلی کا حکم تمہارے لیے ایک کسوٹی اور ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ بنے، تاکہ اس سے یہ ظاہر ہوجائے کہ تمہارے اندر وہ لوگ کون اور کتنے ہیں جو رسول کے سچے پیرو ہیں، اور وہ کون اور کتنے ہیں جو رسول کی پیروی سے زیادہ اپنی پچھلی روایات کے پرستار ہیں، اور وہ الٹے پاؤں پھر کر اپنے قدم دین کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ پس انسان کو ہمیشہ راہ حق و ہدایت کو اپنانے اور اختیار کرنے کا خوگر ہونا چاہیے کہ اسی میں اس کا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔
394 عادت مالوفہ کو چھوڑنا اور بدلنا انسان کیلئے بڑا مشکل اور بھاری امر ہوتا ہے : کیونکہ انسان جس کسی چیز کا عادی ہوجاتا ہے اس کا اس سے ہٹنا اس پر بہت ہی گراں ہوتا ہے، اور اپنی مالوفات میں سے کسی کو ترک کرنا اس کے لئے بہت مشکل امر ہوتا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے مگر عادت نہیں بدل سکتی۔ " جبل گردد جبلت نہ گردو "۔ پس بڑے مبارک اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی طبیعتیں خیر پر ڈھل گئیں، اور وہ اس پر ایسے پکے ہوگئے کہ خیر ان کی جبلت اور طبیعت ثانیہ بن گئی ۔ جعلنا اللہ جمیعا منہم ۔ اور اس کے برعکس بڑے بدبخت اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کی طبیعت شر کی کسی خاص شکل و صورت پر ڈھل کر ان کی طیبعت ثانیہ بن گئی، جس کے باعث وہ اس کو چھوڑنے اور ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، اور اس طرح بالآخر وہ بڑے ہولناک خسارے میں جاپڑتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ کیونکہ وہ خواہشات کو کچلنے اور ان کو دبانے کے حوصلے سے عاری ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
395 نور حق و ہدایت کی عظمت وشان کا ایک خاص پہلو : کہ نور حق و ہدایت کی یہ نعمت ہر مشکل کو آسان کرنے والی نعمت خداوندی ہے ـ کہ ان کیلئے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا، کیونکہ ان کی طبیعتیں اور ان کے مزاج حق و صداقت اور ہدایت و ارشاد کے سانچوں میں ایسے ڈھل چکے ہوتے ہیں، اور انہوں نے اپنی رضا ورغبت سے اپنے نفوس کی باگیں حق کے اس طرح حوالے کردی ہوتی ہیں کہ وہ حق کے مطابق ان کو جدھر لے جانا چاہیں، بآسانی اور بلاتکلیف و تکلف ادھر ہی چل پڑتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں مومن صادق کو " بعیر منقاد " یعنی " نکیل پڑے اونٹ " سے تشبیہ دے کر اس مفہوم کی توضیح فرمائی گئی ہے، کہ جس طرح اس " بعیر منقاد " یعنی نکیل پڑے اونٹ کو اس کی نکیل سے پکڑ کر اسکا مالک جہاں چاہے آسانی سے لے جاسکتا ہے، اسی طرح مومن صادق کو حق و ہدایت کے مطابق جہاں چاہے لے جایا جاسکتا ہے، اس کیلئے حق کی اتباع و پیروی کے سلسلہ میں کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وہ خواہشات نفس کو کچلنے دبانے کا خوگر ہوچکا ہوتا ہے۔
396 نماز کی تعبیر ایمان سے اس کی عظمت شان کی بنا پر : ایمان سے یہاں پر مراد جیسا کہ عام طور پر مفسرین کرام کا کہنا ہے نماز ہے، جس سے اسلام میں نماز کی اہمیت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے، کہ اس کو یہاں پر عین ایمان قرار دیا گیا ہے، تحویل قبلہ کے حکم کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ جن حضرات نے اس سے قبل سابقہ قبلہ ہی کی طرف نمازیں پڑھیں، ان کی نمازوں کا کیا بنے گا۔ اور معترضین و منکرین نے اس امر کو اور بڑھا چڑھا کر، اور مرچ مسالے لگا کر لوگوں کے درمیان پھیلانے کی کوشش کی، تو اس پر یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تمہاری ان نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں۔ وہ تو بڑا ہی شفقت فرمانے والا، انتہائی مہربان ہے۔ بلکہ وہ تو ایسا ہے کہ جو عمل انسان کرنے کے بعد خود بھول جاتا ہے، وہ اس کیلئے اس کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور پوری طرح محفوظ رکھتا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اََحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ } ۔ (المجادلۃ۔ 6) آگے یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اچھے اعمال کا ذخیرہ جمع کرے تاکہ اس کے یہاں وہ اس کا بہتر صلہ اور عمدہ اجر پائے، و رنہ وہ اپنے کئے کا بھگتان بھگتے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا " فَمَنْ وَجَدَ خَیْْرًا فَلْیَحْمَد اللّٰہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَالِکَ فَلاَ یَلُوْمَنَّ الا َّ نَفْسَہْ " ۔ بہر کیف خانہ کعبہ کو آپ کا قبلہ قرار دیا گیا تاکہ جس طرح آپ کی ملت، ملت ابراہیمی ہے، اسی طرح آپ کا قبلہ بھی قبلہ ابراہیمی ہوجائے (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ سو اب تم سب کا قبلہ ہمیشہ کیلئے خانہ کعبہ ہی رہیگا حتی کہ اگر تم بیت المقدس میں بھی ہوؤ تو بھی تم نے اپنی نمازوں کی صحت و ادائیگی کیلئے مسجد حرام ہی کی طرف رخ کرنا ہے کہ اب تمہارا قبلہ ہمیشہ یہی ہے یعنی کعبہ مشرفہ۔
Ayah 2:145399 ہٹ دھرمی میں کوئی بھی نشانی کام نہیں آسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان لوگوں کے سامنے ہر نشانی بھی لا کر رکھ دیں تو بھی انہوں نے آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کرنی۔ کیونکہ یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں اور ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے، اور اس کی وجہ سے انسان قبول حق کی توفیق وسعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم اے مسلمانو ! ان سے کسی خیر کی کوئی امید اور توقع مت رکھو کہ ہٹ دھرمی میں کوئی بھی نشانی کام نہیں آسکتی کہ میں نہ مانوں (I Never Agree) کا کوئی علاج نہیں۔ سو ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حق سے اعراض و روگردانی دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ اور یہ خسارہ بڑا ہی ہولناک اور ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت دونوں کا خسارہ ہے کیونکہ اس سے انسان اندھا اور اوندھا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
400 امر منسوخ کی پیروی اہل حق سے ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی آپ پیروی کرسکتے ہیں ان کے قبلے کی۔ کیونکہ ان کا قبلہ منسوخ ہوچکا ہے۔ اور جس قبلے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے وہ اب کبھی بھی منسوخ نہیں ہوگا۔ تو اب آپ ﷺ سے ان کے قبلہ کی پیروی کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟ کہ ناسخ کے آجانے اور حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد امر منسوخ کی پیروی کرنا اہل حق کیلئے نہ جائز ہے اور نہ ہی ممکن۔ سو ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں سے حق کو قبول کرنے کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ یہ عناد اور ہٹ دھرمی کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں اور ایسوں کا کوئی علاج نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ایسے ہٹ دھرموں کی ہٹ دھرمی اور اعراض و روگردانی پر نہ تعجب کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان پر غم کھانے کی۔
401 علم حق کی روشنی کے بعد خواہشات کی پیروی کرنا ظلم ہے : خطاب اگرچہ بظاہر آپ ہی سے ہے ﷺ کہ وحی کے اولین مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں ﷺ لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے کہ دین حق کی واضح تعلیمات کے آجانے کے بعد اگر آپ ﷺ کیلئے بھی ان سے پھرنا اور دوسرے کسی دین کی کسی بات کو اپنانا جائز اور ممکن نہیں، تو پھر دوسروں کیلئے اس کی کسی گنجائش کا کوئی سوال ہی کیسے پیدا ہوسکتا ہے، اور بلاغت کے اس اسلوب میں جو قوت اور زور ہے وہ کسی دوسرے طریقہ و اسلوب میں نہیں پایا جاسکتا۔ لہذا ایسے موقع و مقام پر " اے مخاطب کسے باشد " جیسے الفاظ سے ترجمہ کرنے میں وہ بلاغت و تاثیر نہیں پائی جاسکتی جو کہ اس مقام کا اصل مقتضٰیٰ ہے۔ لہذا جن لوگوں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے وہ تقاضا بلاغت کے بھی خلاف ہے اور جمہور علماء و مفسرین کرام کی تفسیر و تصریح کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ جمہور مفسرین اور ثقہ اہل علم کا کہنا یہی ہے کہ ایسے مواقع پر خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہوتا ہے مگر مقصود دراصل دوسروں کو سنانا ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر روح المعافی، روح البیان، المنار، المراغی، محاسن التاویل، جامع البیان، مدارک، معالم، ابن کثیر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ وغیرہ) ۔ واللہ الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
Ayah 2:146402 معاندین و مکابرین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو یہ ان معاندین اور مکابرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کو پوری طرح جاننے کے باوجود نہیں مانتے۔ یعنی جس طرح اپنے بیٹوں کو شکل و صورت سے دیکھنے کے بعد انسان کو ان کے پہچاننے میں کوئی دقت و دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی طرح یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی ان نعوت وصفات کی بنا پر جو کہ ان کی کتابوں میں بیان فرمائی گئی ہیں، پوری طرح جانتے ہیں کہ یہ وہی نبی برحق ہیں جن کی خبر گزشتہ کتابوں میں دی گئی تھی مگر اس کے باوجود یہ مانتے نہیں، محض ضد اور عناد وغیرہ کی وجہ سے۔ سو ہٹ دھرم اور معاند انسان قبول حق کی سعادت و توفیق اور نور حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے اور وہ حق بات کو پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ سو عناد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
403 جان بوجھ کر حق کو چھپانا دوہرا جرم ہے : یعنی یہ لوگ جانتے ہیں کہ حق یہ ہے، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ، حق کو چھپانا کس قدر سنگین جرم ہے، مگر اس کے باوجود یہ لوگ کتمان حق کے اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں، سو ان کا جرم ڈبل ہوگیا، اور یہ سخت سزا کے مستحق ہوگئے اور اس کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ آج جو ڈھیل ان کو ملی ہوئی ہے اس سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے، کہ یہ ایک مہلت ہے جو بہرحال ختم ہوجائے گی ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو حق کو جان بوجھ کر چھپانا جرم پر جرم ہے۔ کیونکہ ایسے کرنے والا شخص نور حق و ہدایت سے خود بھی محروم ہوتا ہے، اور دوسروں کو بھی محروم کرتا ہے اور اس طرح وہ ضلال اور اضلال کے دونوں جرموں کا مرتکب ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:147404 خطاب پیغمبر سے لیکن تنبیہ و عتاب کا رخ مخالفین کی طرف : پس تم شک میں نہیں پڑنا ان لوگوں کی تلبیسات وغیرہ کی وجہ سے۔ خطاب اگرچہ یہاں بھی حسب سابق پیغمبر ہی کو ہے۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ، محاسن التاویل، المراغی، روح، معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ اور اس اسلوب بیان میں بلاغت و تاثیر زیادہ ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر حاشیہ نمبر 40 1 میں گزرا۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ حق بہرحال وہی ہوتا ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آتا ہے، اور رب کی وحی چونکہ پیغمبر ہی کی طرف ہوتی ہے اس لیے نور حق و ہدایت کی دولت دنیا کو پیغمبر کے ذریعے اور ان کے وجود باجود کے توسط ہی سے مل سکتی ہے۔ پیغمبر پر ایمان لائے بغیر اور ان کے توسط کے بدوں نور حق و ہدایت ملنا ممکن ہی نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد میں خطاب بظاہر پیغمبر ہی سے ہے لیکن تنبیہ و عتاب کا رخ مخالفین و معاندین ہی کی طرف ہے، جو کہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے، اور اس میں خاص قوت اور تاثیر پائی جاتی ہے۔
Ayah 2:148405 نیکیوں میں آگے بڑھنے کی ہدایت : کہ اصل مقصد یہی ہے کہ دنیا کی اس کھیتی سے کسب آخرت کا سامان کیا جائے، اور جتنا ہوسکے کیا جائے۔ وباللہ التوفیق ۔ لہذا اس مقصد کو بھول کر تم لوگ فضول باتوں میں اپنا وقت ضائع مت کرو، بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکرو کوشش کرو، کیونکہ فضول باتوں اور بیکار بحثوں میں الجھ کر اپنی متاع وقت کو ضائع کرنا بہت بڑا خسارہ ہے۔ ایسا بڑا کہ پھر اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ کیونکہ متاع وقت کی جو دولت ہاتھ سے نکل گئی، وہ پھر کسی بھی قیمت پر دوبارہ نہیں مل سکتی۔ سو اس کا ضیاع بہت بڑا خسارہ ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو منکرین و معاندین اگر حق کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، تو تم اس سے منہ موڑ کر نیکیوں اور بھلائیوں میں آگے نکلنے کی کوشش کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور ایسے ضدی اور ہٹ دھرم عناصر کے پیچھے لگ کر اپنا وقت ضائع مت کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
406 اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے : پس اس قادر مطلق کیلئے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں، کہ تم سب کو سزا و جزا کیلئے اکٹھا کرلائے، اور اس کے لئے اس کو کوئی تیاری کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ محض اس کے ارادہ اور حکم کی دیر ہوگی۔ جونہی وہ حکم دے گا سب کے سب اس کے سامنے آموجود ہوں گے، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا { فِاِنَّمََا ہِیَ زَجْرَ ۃٌ وَّاحِدَۃٌ، فَاِذَا ہُُمْ بالسَّاہِرََۃٌ } ۔ (النازعات : 13- 14) ۔ سو اس طرح وہ قادر مطلق تم سب کو اکٹھا کرکے لائے گا اور وہاں تم نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے، اب تم دیکھ لو کہ وہاں کیلئے کیا سامان لیکر جارہے ہو ؟ پس اصل فکر و کوشش وہیں کے لیے کرنی چاہئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:149407 اعادہ حکم برائے تاکید حکم : سو اس حکم کو پھر لوٹایا گیا تاکہ واضح ہوجائے کہ یہ دائمی ہے، کسی خاص جگہ، یا وقت کے ساتھ مختص نہیں، بلکہ اب ہمیشہ کیلئے اہل ایمان کا قبلہ یہی رہے گا۔ پس تم جہاں کہیں بھی ہوؤ خواہ سفر میں ہو یا حضر میں۔ اور سفر بھی خواہ قریب کا ہو یا دور کا، اب تم نے بہرصورت اپنا رخ اسی قبلے کی طرف کرنا ہے۔ پس کسی بھی حالت میں انسان کا تعلق اپنے اس روحانی پاور ہاؤس سے منقطع نہیں ہونا چاہیئے، اور سفر و حضر کی ہر حالت میں وہی اسکا قبلہ توجہ ہونا چاہیئے کہ اب قبلہ بہرحال یہی اور صرف یہی ہے اور ہر حال میں مرکز توجہ یہی ہونا چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔
408 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس اور وہ تمہارے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیگا۔ پس تم ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف رکھو اور اسی کی رضا کی فکر و کوشش کرو۔ اور اس انقلاب آفریں درس کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا کرو کہ وہ تمہارے کاموں سے غافل و بیخبر نہیں ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ اور تم جہاں بھی ہوؤ گے وہ تمہارے ساتھ ہے ۔ اَللّٰھُمَّ فَخُذْ بِنَواصِیْنَا الی ما فِیْہ حُبُّکَ وَرِضَاکَ ۔ یَا مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُل شْیْئٍ ۔ یہاں پر یہ آیات بھی محلوظ خاطر رہے کہ آیت کے شروع میں خطاب مفرد کے صیغوں سے ہے، اور آخر میں جمع کے صیغے سے، جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر ﷺ سے خطاب بحیثیت امت کے وکیل کے ہے۔ اس لیے اس سے مراد پوری امت ہے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کی تذکیر و یاددہانی اصلاح احوال کے لیے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں اس کو جگہ جگہ اور طرح طرح دوہرایا جاتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -