Ayah 2:211579 بنی اسرائیل کی نشانیوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے کتنی ہی کھلی نشانیاں عطا کیں بنی اسرائیل کو تاکہ حق پوری طرح ان کے سامنے واضح ہوجائے، اور اس کی روشنی میں یہ لوگ اپنی سعادت و کامرانی کی راہیں استوار کرسکیں، اور ظاہر ہے کہ یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ان لوگوں کیلئے نعمت کبریٰ تھی، جس کا شکر اداء کرنا ان کے ذمے فرض تھا۔ اور اس کا تقاضا تھا کہ یہ لوگ صدق دل سے اس پر ایمان لاتے، اور اس طرح یہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتے، مگر انہوں نے اس کے برعکس دیدہ و دانستہ اس سے روگردانی کی، اور حق کا انکار کیا، اور اس طرح یہ حرمان نصیبی کا شکار ہو کر سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور انہوں نے شکر نعمت کی بجائے کفران نعمت سے کام لیکر اپنی قوم کو ہلاکت اور تباہی کے ہولناک گڑھے میں اتار دیا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { اَلَمْ تَرَ الیٰ الَّذِیْنَ بَدَّلُوا نِعْمَۃَ اللّٰہ کُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَہُمْ دَارَ الْبَوَار، جَہَنَّمَ یَصْلَوْنَہَا وَبِئْسَ الْقَرَار } ۔ (ابراہیم : 28-29) ۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار -
580 کفران نعمت باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی اللہ کی نعمت کو بدلے گا اس کے بعد کہ وہ اس کے پاس پہنچ گئی تو اس کا انجام بڑا برا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کو بلامحنت و مشقت، یہ نعمت ازخود نصیب ہوگئی۔ اس طرح ان کو نعمت پر نعمت، اور کرم بالائے کرم سے نوازا گیا، مگر انہوں نے پھر بھی اس کو نہ مانا، تو اس طرح انہوں نے حق سے اعراض واِنکار، اور اس کی ناقدری و ناشکری کے دوہرے جرم کا ارتکاب کیا، جس کے نتیجے میں یہ لوگ حق اور ہدایت کی دولت سے محروم ہوگئے کہ کفران نعمت محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو شکر نعمت ذریعہ خیر و برکت اور وسیلہ سرفرازی ہے جبکہ کفران نعمت ۔ والعیاذ باللہ ۔ باعث محرومی اور موجب خسران ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ ۔ وَہُوَ الْہَادِیْ الیٰ سَوَائ السَّبِیْلِ ۔ اللہ ہمیشہ اپنا شاکر و ذاکر رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
581 اللہ کے عذاب سے ڈرنے کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ پس وہ ایسے بےانصاف اور ظالم لوگوں کو سخت عذاب میں مبتلا کریگا، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ایسی بڑی اور عظیم الشان نعمت کی ناقدری کی، اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کی بجائے الٹا اس کی توہین کی، اور اس طرح انہوں نے اس کو اپنے لئے گناہ اور عذاب میں اضافے کا باعث بنادیا۔ سو اس میں ان لوگوں کیلئے سخت وعید ہے جنہوں نے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد ان پر ایمان نہیں لایا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک رحمن و رحیم ہونے کے ساتھ ساتھ شدید العقاب بھی ہے اس لیے جہاں اس کی رحمت و عنایت کی امید رکھنا ایمان کا تقاضا ہے وہاں اس کی گرفت و پکڑ سے بچنے کی فکر اور اس کے عذاب سے ڈرنا بھی ایمان کا تقاضا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ اور اپنی عنایت میں رکھے اور ہر قسم کے عذاب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 2:212–213582 حب دنیا ہلاکت و بربادی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بیماری کی جڑ بنیاد دنیا کے متاع فانی پر ریجھ جانا اور اس کی محبت میں گرفتار ہوجانا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اس ارشاد سے اصل مرض کی تشخیص فرما دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی اس محرومی اور بدنصیبی کی اصل وجہ یہ ہے، کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی اور اس کے متاع فانی پر ریجھ گئے، اور انہوں نے اس کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کو سب کچھ سمجھ لیا، جس کی بناء پر یہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس وجہ سے انہوں نے آخرت کی اصل، حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا جو کہ خساروں کا خسارہ اور دائمی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس فریب نظر میں مبتلا ہونے کے باعث اہل کفر و باطل اپنے کفر و باطل پر مست و مگن ہیں، اور یہ حق اور اہل حق کی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہوتے، اور اہل حق کی طرف سے جب انکو انکے انجام سے خبردار کیا جاتا ہے، تو یہ اس کو سننے کی بجائے الٹا انکا مذاق اڑاتے ہیں، اور انکو زچ کرنے کیلئے طرح طرح کی باتیں بناتے، آوازے کستے، اور انکو تنگ کرنے کیلئے طرح طرح کے مطالبات کرنے لگتے ہیں، اور اس طرح یہ لوگ کلمہ حق کو سننے ماننے اور اس کو اپنانے سے اندھے، بہرے اور گونگے بن کر رہ جاتے ہیں، جو کہ خساروں کا خسارہ اور دائمی ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے۔ سو راہ حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و تباہی ہے ـ اور اس کا نتیجہ و انجام بہت برا اور نہایت ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
583 کفر و باطل پر اڑ جانا سب سے بڑا خسارہ : یعنی ایک قسم تو ان کفار کی ہے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور وہ حق کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ سو ایسے لوگ کبھی نہ کبھی نور حق سے مشرف ہوجاتے ہیں، اور اسلام کے حظیرہ قدس میں داخل ہوجاتے ہیں۔ سو وہ تو قابل عتاب و مواخذہ نہیں، مگر ایک قسم ان کفار کی وہ ہے جو حق کے بارے میں عقل سے کام لیتے ہی نہیں، اور وہ اپنے کفر و باطل ہی پر اڑے رہتے ہیں، اور وہ اپنے کفر و باطل کے سیاہ اور مہیب دلدل سے نکلنے کو تیار ہی نہیں ہوتے، اور اپنے گھٹا ٹوپ اندھیروں ہی میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں، یہاں تک کہ فرصت عمر تمام ہوجاتی ہے، اور وہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ سو ایسے بدبخت ہی دوزخ کا ایندھن بنیں گے، اور ایسے ہی منحوس لوگ ہیں جو اہل ایمان کا مذاق اڑاتے، اور اس طرح یہ اپنے کفر کی سیاہی کو اور پکا کرتے ہیں، اور اپنے کفر و باطل کی نحوست کی بناء پر وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے اور ایک نہایت ہی ہولناک اور ابدی خسارے کی طرف بڑھے جارہے ہیں، ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ غلط رویے اور غلط راستے سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
584 اہل ایمان کا مذاق اڑانا کفار اشرار کا ہمیشہ کا شیوہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حالانکہ نور ایمان کی دولت، جس سے یہ خوش نصیب لوگ سرفراز ہیں وہ دولت ہے جس سے انسان دنیا و آخرت میں کامیابی اور فائز المرامی سے سرفراز و بہرہ مند ہوتا ہے، اور اس کی بنا پر حاملین عرش فرشتے بھی اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں، مگر یہ کفار اشرار ہیں کہ ایسے مومین صادقین کا مذاق اڑتے، ان کی تحقیر و تذلیل کرتے، اور ان کی طرح طرح سے دلآزاری کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم، سو اہل ایمان کا مذاق اڑانا کفار اشرار کا شیوہ اور محرومی کا باعث ہے، والعیاذ باللہ العظیم اور ایسے لوگ اپنی دنیاوی ترقی اور مادی سروسامان کی بناء پر تکبر میں مبتلا ہو کر اہل ایمان کا مذاق اڑاتے اور ان کی تحقیر کرکے اپنی محرومی کے داغ کو اور پکا اور گہرا کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت کا یہ پہلو زیادہ باعث ہلاکت و محرومی ہے کہ اس سے انسان محروم سے محروم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ -
585 اہل تقویٰ کیلئے عظیم الشان درجات کی خوشخبری : سو اہل ایمان کو قیامت کے اس یوم فصل و تمییز میں ایسے عظیم الشان درجات سے نوازا جائے گا کہ یہاں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، مگر چونکہ یہ سب کچھ ابھی پردہ غیب میں ہے، اس لئے نور ایمان سے محروم لوگ ایسے متقی اور پرہیزگار لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور خود ان کو جس ہولناک انجام سے دوچار ہونا ہے اس سے یہ لوگ غافل و لاپرواہ اور بےفکر ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْزِ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو ان کفار و مشرکین کو تنبیہ ہے جو ان اہل حق اور اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اپنی اس روش سے باز آکر اپنی اصلاح اور اپنی آخرت کی فکر کرو کہ تمہارا بھلا اسی میں ہے۔ اور دوسری طرف اس میں اہل حق کیلئے تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ ایسے کفار و اَشرار کے طعن وتشنیع اور مذاق و استہزاء سے تمہیں افسردہ اور دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں، کہ تمہارے لیے رب نے آخرت میں ایسے عظیم الشان درجات تیار کر رکھے ہیں جن کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ سو ایمان وتقوی کی دولت ہی اصل دولت ہے جو دارین کی سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ زیادہ سے زیادہ اس دولت سے محفوظ و سرفراز رکھے۔ آمین ثم آمین۔
586 رزق و روزی کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی عطا فرماتا ہے۔ پس نہ تو دنیاوی روزی اور دولت کا مل جانا اللہ تعالیٰ کے یہاں عزت و شرف اور محبوبیت کا ثبوت ہوسکتا ہے، اور نہ ہی اس کا نہ ملنا اس کے یہاں مبغوض اور غیر محبوب ہونے کی علامت قرار پاسکتا ہے، بلکہ یہ مسئلہ محض اس کی حکمت و مشیئت پر مبنی و موقوف ہے، جس کے حکم و مصالح کا احاطہ اس کے سوا کوئی نہیں کرسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ البتہ دین و ایمان کی دولت سے سرفرازی ضرور اس کی رضا اور محبت کی علامت ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں نبئ اکرم ﷺ سے صاف وصریح طور پر مروی ہے، کہ " اللہ تعالیٰ دنیا تو اپنے پیاروں کو بھی دیتا ہے اور دشمنوں کو بھی، مگر دین صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کے یہاں محبوب ہوتا ہے " اور دین و ایمان سے سرشار ایسے ہی حضرات کو وہ دنیا کی حقیقی عزت و عظمت کے علاوہ آخرت میں بھی بےحد و حساب روزی عطاء فرمائیگا۔ (جامع، صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو دولت ایمان و یقین سے سرفرازی دارین کی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔
Ayah 2:214592 سنت ابتلاء و آزمائش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے ؟۔ یعنی نہیں ایسا نہیں ہونے کا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے دستور عام کے خلاف ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ابتلاء و آزمائش کے مراحل سے گزارتا ہے، تاکہ کھرے اور کھوٹے میں علیحدگی اور تمییز ہو سکے۔ { لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ } ۔ اور اسی ابتلاء و آزمائش کے بعد جو جس کے لائق ہوتا ہے اس کو اس سے نوازا جاتا ہے جو کہ تقاضا ہے اس کے قانون عدل و انصاف کا۔ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کھرے کھوٹے اور صحیح اور غلط کے درمیان فرق وتمیز کا ذریعہ ابتلاء و آزمائش کی کسوٹی ہی ہے۔ اور اسی سے ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ انعام کا مستحق کون ہے اور سزا کا مستوجب کون ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے سنت ابتلاء و آزمائش اور اس کی غرض وغایت کو ذکر وبیان فرما دیا گیا ہے۔
593 اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کا قانون عام اور بےلاگ ہے۔ اور وہ سب کیلئے یکساں ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت خباب بن الارت ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کا یہ حال رہا ہے، کہ ایک شخص کو آرے سے چیر کردو ٹکڑے کردیا جاتا تھا، لوہے کی کنگھیوں سے ان کے جسموں سے گوشت اور ہڈیوں کو الگ کردیا جاتا تھا، مگر اس کے باوجود وہ لوگ دین سے نہیں پھرتے تھے (بخاری، کتاب الاکراہ) ۔ اور خود اس امت کے اندر بھی ابتلاء و آزمائش کے بہت سے واقعات پیش آئے۔ غزؤہ احد میں اور غزؤہ اَحزاب وحُنَین وغیرہ میں، جن کا ذکر قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر فرمایا گیا ہے، مثلًا غزؤہ اَحزاب کی تصویر سورة احزاب کی آیت نمبر 10 تا 12 میں اس طرح پیش فرمائی گئی ہے " جبکہ دشمن تم پر ہر طرف سے چڑھ آئے تھے " وغیرہ وغیرہ۔ سو اللہ تعالیٰ ابتلاء و آزمائش کے ایسے مختلف اور صبر آزما مراحل سے گزار کر کھرے کھوٹے کی تمیز کا سامان کرتا ہے، اور ہر کوئی اپنے ایمان و یقین کے مطابق درجات و مراتب سے سرفراز ہوتا ہے۔ اور اسی کے ذریعے عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔
594 ہر تنگی کے بعد آسانی کا مژدہ : سو ان کو یہ بشارت سنائی گئی کہ بیشک اللہ کی مدد قریب ہے کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا دستور یہ ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہوتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّ مََعَ الْعُُسْر یُسْرًًًا اِنَّ مَعَ الْعُسْر یُسْرًا } ۔ پس تم صبر و استقامت سے کام لو، اے مسلمانو ! اللہ کی نصرت و مدد اور فتح و ظفر تمہیں پہنچنے والی ہے، اور جب اللہ کی مدد تمہیں مل گئی تو تمہیں پھر اور کسی کی پرواہ ہی کیا ہوسکتی ہے۔ پس تمہارا اصل مطمح نظر یہ ہونا چاہیئے کہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ جو کہ خالق کل اور مالک مطلق ہے اس کے ساتھ اپنا رشتہ وتعلق ہمیشہ درست رہے جو کہ عبدیت و اطاعت کا رشتہ ہے جسکے نتیجے میں تمہیں اس کی معیت کا شرف حاصل ہوگا اور اس کی نصرت و امداد سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور جب اللہ کی معیت اور اس کی نصرت و امداد سے سرفرازی نصیب ہوجائے تو پھر اور کیا چاہیے کہ یہ چیز تو سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یجب ویرید -
Ayah 2:215595 جواب علی اسلوب الحکیم کا ایک نمونہ : سو ایسے جواب کو " جو اب علٰی اُسْلُوْب الْحکیم " کہا جاتا ہے۔ یعنی حکیمانہ انداز سے جواب دینا، یعنی جواب میں وہ پہلو اختیار کرنا جو کہ سائل کیلئے زیادہ مفید اور بہتر ہو۔ یہاں پر سوال یہ تھا کہ کیا خرچ کریں ؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان اور ان لوگوں پر خرچ کرو۔ یعنی خرچ جو بھی کچھ کرنا ہو کرو، وہ تمہاری اپنی مرضی و اختیار، اور حالات پر منحصر ہے، کیونکہ نفلی صدقات میں صدقہ کرنے والے کا اپنا ارادہ اور اس کی صوابدید ہی اصل بنیاد ہوتی ہے، مگر تم خرچ جو بھی کچھ کرو، وہ ان اور ان مصارف میں کرو، تاکہ وہ اپنے صحیح محل اور مصرف میں لگے، اور تمہارے لئے محفوظ ہوجائے، اور زیادہ سے زیادہ کار آمد ثابت ہو، کیونکہ صدقہ و خیرات اگر صحیح مصرف میں نہ لگے تو وہ مفید اور بہتر نہیں ہوسکتا۔ جس طرح کہ مکتوب الیہ تک وہی خط پہنچ سکتا ہے جس کو صحیح طور پر لیٹربکس میں ڈالا جائے، ورنہ غلط جگہ ڈالنے سے وہ بیکار ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ ان کا سوال تھا کہ کیا خرچ کریں تو جواب دیا گیا کہ جو کچھ بھی خرچ کرو وہ ان ان مصارف میں خرچ کرو۔ تاکہ تمہارا انفاق صحیح اور تمہارے لیے مفید ہو۔
596 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کا حوالہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہر بھلائی کو پوری طرح جانتا ہے۔ تو جب اس رب غفور و شکور کے کمال علم اور اس کی شان کرم وعطاء اور قدر دانی کا یہ عالم ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر تمہیں فکرو تشویش کی کوئی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ بلکہ عمل کی ضرورت ہے، جتنا بھی ہو سکے۔ پس اس کی رضا و خوشنودی کیلئے عمل کرتے جاؤ، وہ محفوظ فرماتا جائیگا، تاکہ وہ تم کو اس کے اجر جزیل سے نوازے، کیونکہ اس کی شان ہی عطاء و نوال ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہر لحظہ اس کے جو خزانے تقسیم ہوتے ہیں، ان کا شمار بھی کسی کے بس میں نہیں، اور اس کا صاف اور صریح وعدہ ہے کہ میں کسی بھی عامل کا عمل اور اس کا اجر وثواب ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ چناچہ اس کا ارشاد ہے۔ { فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ اَنِّیْ لَا اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } ۔ (آل عمران۔ 195) نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ۔ { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّہٍ خَیْرًا یَّرَہ } ۔ (الزلزال : 7) ۔ پس بندے کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے کام کیے جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:216597 جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت کا بیان : سو تم پر جہاد فرض کردیا گیا تاکہ فتنہ و فساد کی جڑ کٹ سکے، اور حق کا بول بالا ہو، اور باطل والے حق کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں، جیسا کہ عام دواؤں سے جب فائدہ نہیں ہوتا تو پھر آخری علاج آپریشن ہی ہوتا ہے، تاکہ جسم کا وہ مسموم حصہ کاٹ پھینکا جائے، اور اس طرح جسم کے باقی اجزاء اس زہر کے اثر سے سالم و محفوظ رہیں۔ سو اسی طرح جہاد کو سمجھو، جو دنیا کو زہریلے عناصر اور فاسد مواد سے پاک صاف کرتا ہے، تاکہ اللہ کے دین حق کا بول بالا رہے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند وبالا اور سب سے افضل و اعلی ہے۔ اور جہاد میں چونکہ جان اور مال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے یہ طبعی طور پر انسان کیلئے گراں اور سخت مشکل چیز ہے، لیکن بعض اوقات بلکہ بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ ایک چیز انسان کو طبعی طور پر بری لگتی ہے لیکن اس کی بہتری اور بھلائی کا سامان اسی میں مضمر ہوتا ہے۔ سو " جہاد فی سبیل اللہ " بھی ایک ایسی عظیم الشان اور بےمثال عبادت ہے جو انسان اور خاص کر مسلمان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے، کہ اس سے دنیا سے شر و فساد کے عناصر کا قلع قمع ہوتا ہے۔ حق کا بول بالا ہوتا ہے اور مسلمان کو دنیاوی عزت و کرامت بھی نصیب ہوتی ہے، اور آخرت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی بھی۔ اور اگر اس سے گریز و فرار اختیار کرلیا جائے تو تمام انسانی اقدار بالکل تباہ ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جہاد فی سبیل اللہ ایک عظیم الشان فریضہ ہے۔
598 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری طرح جانتا ہے ہر چیز کو : پس تم اپنی پسند اور ناپسند، اور گوارا اور ناگوار ہونے کو کبھی بنیاد نہ بناؤ، بلکہ اصل بنیاد اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین ہی کو بناؤ کہ تمہاری بہتری اور بھلائی بہرحال اسی کے حکم و ارشاد میں ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خواہ تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے، کہ اس کا ہر حکم و ارشاد بہرحال حق و صدق اور تمہاری خیر اور بھلائی ہی پر محیط و مشتمل ہوتا ہے۔ اور وہی وحدہ لاشریک ہے جو ہر چیز کو اس کے ظاہر و باطن، حال مآل ہر اعتبار سے جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور تم لوگ نہیں جانتے۔ سو دنیاوی اعتبار سے اگرچہ تم لوگ بھی ظاہری طور پر اور مادی پہلو کے لحاظ سے بہت کچھ جانتے ہو، لیکن حق اور حقیقت کے اعتبار سے اور مآل و انجام اور نہایت و عاقبت کے لحاظ سے تم لوگ کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے علم و ادراک اور اطلاع و آگہی پر انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار ہے، اور یہ سب کچھ جاننا اللہ کے سوا اور کسی کیلئے ممکن ہی نہیں۔ لہذا تم لوگ ہمیشہ اور ہر حال میں اس خالق ومالک کی تعلیمات و ہدایات پر یقین و اعتماد رکھو کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ اور اس کے ارشادات کو دل و جان سے اپناؤ ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:217599 حرمت والے مہینے کے بارے میں ایک سوال و اعتراض اور اس کا جواب : کہ اس میں لڑائی کرنا کیسا ہے ؟ صحیح ہے یا غلط ؟ جائز ہے یا ناجائز وغیرہ۔ روایات کے مطابق نبئ اکرم ﷺ نے غزوہ بدر سے کوئی دو ماہ پیشتر اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن حجش ؓ کی قیادت میں آٹھ یا بارہ آدمیوں کا ایک جتھا کفار کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ ان حضرات کا مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع وادی نخلہ کے مقام پر کفار قریش کے ایک قافلے سے مقابلہ ہوا، جو طائف سے سامان تجارت لے کر لوٹ رہا تھا۔ اس حملے میں کفار کے ان رؤسا میں سے جو اس قافلے میں موجود تھے، عمرو بن الحضرمی مارا گیا، اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ گرفتار ہوگئے، اور صحابہ کرام یہ ساز و سامان، اور ان قیدیوں کو لیکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اتفاق سے یہ تاریخ یکم رجب کی تاریخ تھی جو کہ " اشہر حرم " میں سے ہے۔ جبکہ صحابہء کرام نے اس کو جمادی الثانیہ کی تیسویں سمجھ رکھا تھا، مگر چاند انتیس کا ہوجانے کی وجہ سے رجب کی یکم ہوچکی تھی، جس کا ان حضرات کو علم نہیں تھا۔ اس پر کفار نے شور مچانا شروع کردیا کہ یہ لوگ اشہر حرم میں بھی جنگ کرنے سے نہیں چوکتے، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ابن کثیر، معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ تو اس سے کفار کے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا گیا کہ جو لوگ اس واقعے کی آڑ میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف کر رہے تھے، کہ یہ واقعہ جو غلط فہمی کی بناء پر پیش آگیا، تو تم لوگوں کو برا لگ رہا ہے، لیکن تم لوگ خود اپنے آپ کو نہیں دیکھتے، کہ تم نے کتنے بڑے اور کیسے کیسے ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اور کر رہے ہو۔ اللہ کی راہ سے روکنا، اس کے گھر میں عبادت کرنے سے منع کرنا، اور اس کے ساتھ کفر کرنا، وغیرہ وغیرہ، جو کہ اس سے کہیں بڑھ کر بڑے گناہ ہیں، تو دوسروں کے تنکوں پر شور مچانے والوں کو اپنی آنکھوں کے یہ شہتیر آخر کیوں نظر نہیں آتے ؟ اور ان کی اس طرف توجہ کیوں نہیں ہوتی ؟۔ سو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے آپ کو دیکھو۔
600 حرمت والے مہینے میں جنگ کرنا بہت برا ہے : مگر تب جبکہ کوئی قصدًا اور جان بوجھ کر ایسا کرے، جبکہ حضرات صحابہء کرام ؓ نے قصداً ایسے نہیں کیا تھا، بلکہ خطاء اور لغزش سے ایسے ہوگیا تھا، کہ وہ اس کو پچھلے مہینے کی تیسویں تاریخ سمجھتے رہے تھے، مگر مہینہ انتیس کا ہوجانے کی وجہ سے وہ اگلے ماہ کی پہلی تاریخ ہوچکی تھی، جو کہ " اشہر حرم " میں سے تھا۔ تو ان سے اس فعل کا صدور قصد و ارادے سے نہیں، خطاء و لغزش سے ہوگیا تھا۔ اور خطاء و لغزش قابل مواخذہ نہیں ہوتی، جبکہ تم لوگ جن جرائم کا ارتکاب کرتے ہو وہ سب عمداً اور قصد و ارادہ سے کرتے ہو۔ مگر یہ انسان کی بدبختی اور نفسیاتی کج روی کا ایک شاخسانہ ہے۔ اور خاص کر منکر اور بدنیت انسان کا کہ وہ دوسروں کی چھوٹی بات کو بہت بڑی چیز سمجھتا ہے مگر اپنے بڑے بڑے جرائم کی بھی پروا نہیں کرتا اور ان کو معمولی چیز سمجھتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ الا ما شاء اللہ والعیاذ باللہ العظیم -
601 اللہ کی راہ سے روکنے کا مطلب ؟ : یعنی دین حق سے روکنا، جو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت تک پہنچنے کا راستہ اور ذریعہ ہے۔ پس اللہ کے دین سے روکنا اللہ کے راستے سے روکنا ہے جو کہ جرموں کا جرم ہے۔ سو یہ امور تو اس سے کہیں بڑھ کر سنگین گناہ اور ہولناک جرم ہیں، جن کی پرواہ کیے بغیر اور ان سے آنکھیں بند کرکے تم لوگ ایسی چھوٹی بات پر اس طرح کا واویلا کرتے ہو۔ یہ مت ماری اور عناد و ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعَلاَ " سو اللہ کی راہ اور اس کے دین متین سے روکنا ڈبل جرم ہے کہ اس سے انسان اپنی محرومی کو مزید پکا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کے سنگین اور دوہرے جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
602 اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت : پس تم لوگ اپنے جرائم سے آنکھیں بند کرکے دوسروں کی عیب چینی کا ایک کافرانہ رویہ ترک کر کے ذرا اپنے آپ کو دیکھو اور اپنے کرتوتوں پر نظر ڈالو اور خود اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھو کہ تمہارا اپنا حال کیا ہے ؟۔ سو اس میں منکرین و معاندین کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دی گئی ہے کہ جب ان اور ان سب حرکات شنیعہ اور افعال قبیحہ کا ارتکاب تم لوگوں نے کیا ہے، اور اب تک کر رہے ہو، تو دوسروں کی آنکھ کا تنکا بھی جب تم کو اتنا بڑا نظر آ رہا ہے، تو اپنی آنکھوں کے ان شہتیروں کو تم لوگ آخر کیوں نہیں دیکھتے ؟ سو تم لوگوں نے اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ کفر و شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ کے پاکیزہ اور مقدس بندوں کو مسجد حرام کی حاضری و زیارت اور حج کی ادائیگی سے روکا۔ اللہ کے رسول اور ان کے ساتھیوں کو ان کے گھروں سے نکالا اور ان میں ایک سے بڑھ کر ایک گناہ ہے۔ تو پھر تم لوگ کس منہ سے ایسا سوال و اعتراض کرسکتے ہو ؟ اور فتنہ یعنی دین حق سے پھیرنے کا جرم تو قتل کے جرم سے بھی کہیں بڑھ کر ہے، مگر اسکا ارتکاب تم لوگ کرتے ہو، اور لوگوں کو دین حق سے پھیرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہو۔
603 کفار کی اصل دشمنی حق کے ساتھ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفار و منکرین کی دشمنی دراصل اس دین حق ہی سے ہے جس کا امین و پاسدار تم کو بنایا گیا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیَات اللّٰہ یَجْحَدُوْنََ } ۔ (الانعام : 33) ۔ پس تم کبھی ان کے بارے میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہونا، اے دین حق کے علمبردارو و پاسدارو۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو اہل ایمان کو ان کفار و مشرکین کے شرور و فتن سے محتاط اور چوکنا رہنے کی تلقین ہے اور دوسری طرف اس میں اہل حق کیلئے یہ تسلی و تسکین بھی کہ یہ لوگ اپنا سارا زور لگانے کے باوجود اہل حق کو دین حق سے نہیں پھیر سکیں گے۔ ان کی کوشش بہرحال یہی ہے اور یہی رہے گی کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو دین حق سے پھیر دیں۔ تاکہ کفر و انکار کے جن ہولناک اندھیروں میں یہ لوگ بھٹک رہے ہیں تم بھی انہی میں مبتلا ہوجاؤ اور نفس و شیطان کی طرف سے ایسے لوگوں کی ملمع سازی کی تائید ہوتی ہے۔ پس تم لوگ اے مسلمانو ان کے مکر و فریب سے محتاط اور ہوشیار رہنا ۔ وباللہ التوفیق -
604 کفر پر مرنے والوں کے سب اعمال اکارت ۔ والعیاذ باللہ : پس ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کا نہ اس دنیا میں کوئی فائدہ پہنچ سکے گا، اور نہ آخرت میں۔ کیونکہ اس کے لئے اولین اساس اور بنیادی شرط ہے ایمان۔ جس کے نور سے یہ لوگ بوجہ اپنے ارتداد کے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس نہ تو ان کیلئے جان و مال کی حفاظت کا وہ حق باقی رہے گا جو اس سے پہلے انہیں حاصل تھا، نہ ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور نہ ہی انکو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا، اور آخرت میں ان کے کسی عمل پر ان کو کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔ اور یہ ہمیشہ کیلئے دوزخی ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ مند کرنے والی دولت ہے، جبکہ اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دارین کی محرومی ہے۔ اور ایسے لوگ سخت خسارے میں رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
605 کفار کیلئے دائمی عذاب دوزخ : سو ان کو ہمیشہ ہمیش کیلئے دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں رہنا ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے ایمان سے محرومی اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، اور کفر کی سزا یہی ہے۔ یعنی دائمی عذاب۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی ہر خیر سے محرومی، دائمی نقصان اور ابدی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس کافر کا یہ ہولناک انجام ہونے والا ہے، وہ کس قدر محروم اور کتنا بڑا بدبخت انسان ہے اگرچہ اس کو دنیا کی اس عارضی اور مختصر وفانی زندگی میں دنیا بھر کی دولت ہی کیوں نہ مل جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کو آخرکار اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا ہے۔ سو اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس مومن صادق کو ایمان و یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے، وہ کتنا نیک بخت اور کس قدر خوش نصیب انسان ہے کہ اس کو دوزخ کے اس ہولناک انجام سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے گا کہ یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَمَنْ زُحْزِحَ عَن النَّار وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ } ۔ (آل عمران : 185) ۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو کفر و کفار کا انجام بہرحال بہت برا ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 2:218606 مومن صادق کیلئے اللہ کی رحمت کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے حضرات اللہ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں، اپنے اخلاص، اور اپنی سعی اور کوشش کی بناء پر، کہ ان کے ذمے جو کچھ تھا وہ اسے بجا لائے اور اپنے بس کی حد تک انہوں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگئے، اور انہوں نے اپنے رب کی رحمت پا لی، اور وہ جنت کے مستحق ہوگئے وغیرہ۔ بلکہ { یَرْجُوْنَ } فرمایا گیا ہے یعنی " یہ لوگ اپنے رب کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں " کہ اس سے ان کو نوازا جائیگا۔ اور یہ اس لئے کہ بندہ جتنی بھی کوشش و محنت کرے، وہ یقین سے کبھی نہیں کہہ سکتا کہ میرا عمل ایسا ہے کہ اسے لازماً قبول کیا جائیگا، بلکہ وہ صرف امید ہی رکھ سکتا ہے کہ انشاء اللہ میرا عمل شرف قبولیت پا لیگا۔ دوسرے اس لئے کہ جنت انسان کو اپنے عمل کے بدلے میں نہیں، بلکہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت ہی سے نصیب ہوگی۔ جیسا کہ دوسری نصوص میں صراحتاً وارد و مذکور ہے۔ اور یوں بھی جب انسان کا عمل محدود ہے، اور جنت اور اس کی نعمتیں ابدی اور لامحدود، تو پھر وہ اس محدود اور ناقص عمل کا بدلہ کیسے قرار پاسکتی ہیں ؟ اس سے تو اللہ پاک اپنے بندوں کو محض اپنے کرم سے نوازیگا۔ البتہ وہ ملے گی انسان کے اسی عمل محدود کی وجہ، اور اس کے سبب سے، جو کہ اس نے اپنی زندگی میں اپنے مالک کی رضا کیلئے کیا ہوگا۔ تو اعمال اس کا سبب ہیں، نہ کہ مقابل اور بدلہ، اور اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے اپنے مومن بندوں کو اس سے نواز دے گا ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ سو یہ لوگ ایمان، جہاد اور ہجرت کے ان تمام مراحل سے گزرنے کے باوجود اللہ کی رحمت کے حقدار ہونے کا یقین نہیں کرسکیں گے، بلکہ یہ اس کے امیدوار ہی ہوسکتے ہیں۔ سو کسی کو کبھی مست نہیں ہوجانا چاہئے۔ بلکہ خوف و رجا کے دونوں پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہیے اور یہی صحت و سلامتی کی راہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
607 اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کی تذکیر و یاددہانی : سو اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ پس جو غلطیاں، کو تاہیاں، بشری تقاضے سے سرزد ہوجائیں، وہ ان کو معاف فرما دیتا ہے۔ روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن حجش ؓ اور آپ ؓ کے ساتھی جو مال غنیمت لائے تھے، وہ ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ حکم خداوندی کے انتظار میں رکھا تھا، تو اس آیت کریمہ کے نازل ہونے پر آنحضرت ﷺ نے اس مال کا خمس نکالا، جو بیت المال کیلئے ہوتا ہے، اور باقی غانمین میں تقسیم فرما دیا (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف گناہ جتنے بھی ہوجائیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش اور رحمت و عنایت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس سے ہمیشہ اس کی مغفرت و بخشش اور رحمت و عنایت کا سوال کرتے رہنا چاہیئے کہ اس کی بخشش اور رحمت ناپیدا کنار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 2:219608 شراب اور جوئے کا گناہ انکے فائدوں سے کہیں بڑا ہے : کہ شراب سے انسان جوہر عقل سے محروم ہوجاتا ہے، جو تمام خوبیوں اور کمالات کی اصل و اساس، اور انسان کیلئے مابہ الامتیاز ہے۔ اور اس جوہر سے محرومی کے بعد انسان طرح طرح کی بدمستیوں میں مبتلا ہو کر ذلیل و خوار ہوتا ہے، اور گالی گلوچ اور بغض وعناد جیسی برائیوں اور بداخلاقیوں میں پھنس جاتا ہے، اور طرح طرح کی ہلاکت خیزیوں کا ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ جوا مال کی تباہی اور بربادی کا ذریعہ اور باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ یہاں پر جوئے اور شراب کے جن منافع اور فوائد کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس سے مراد انکے طبی، جسمانی اور مادی فوائد و منافع نہیں۔ ایک تو اس لیے کہ ان اشیاء و اعمال کے مادی اور طبی و جسمانی فوائد کو بیان کرنے کا قرآن حکیم سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں، کیونکہ اس کتاب ہدایت کا اصل موضوع و مقصد خلق خدا کی ہدایت و رہنمائی ہے نہ کہ مادی اور طبی امور پر بحث کرنا۔ اور دوسرے اس لیے کہ اس طرح کے طبی اور مادی فوائد تو ہر گناہ میں پائے جاتے ہیں، ورنہ انسان گناہ کرے ہی کیوں ؟ سو اس بناء پر شراب اور جوئے کے ان فوائد و منافع سے مراد انکے وہ معاشرتی فوائد و منافع ہیں جو اس دور کی شراب نوشی اور جواء بازی میں پائے جاتے تھے۔ سو وہ لوگ اس طرح کے مواقع میں پیسے تقسیم کیا کرتے تھے جس سے غریبوں کا بھلا ہوتا تھا۔ سو اس پر ارشاد فرمایا گیا کہ شراب نوشی اور جواء بازی میں اس طرح کے کچھ معاشرتی فوائد و منافع اگرچہ موجود ہیں، لیکن انکا گناہ انکے ان فوائد سے کہیں بڑھ کر خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے مہلک امور سے ہمیشہ دور و نفور رہنا چاہیے۔ یہی مومن کی شان ہے اور اسی میں اس کا بھلا ہے ۔ وباللہ التوفیق -
609 " عفو " یعنی ضرورت سے زائد کو خرچ کرنے کا حکم : سو تم اس کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرو، تاکہ وہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں جمع اور محفوظ ہوجائے، اور تمہیں اس وقت کام آئے جبکہ تم اس کے سب سے زیادہ ضرورت مند، اور محتاج ہوؤ گے، کہ اپنے ہاتھوں کا دیا ہی کام آئے گا باقی سب یہیں رہ جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے میں اس کو کہاں خرچ کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اپنی ذات پر خرچ کرو، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے تو ارشاد ہوا اس کو اپنی اولاد پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے گھر والوں پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم بہتر جانتے ہو یعنی تم جہاں اس کو بہتر سمجھو خرچ کرو۔ (ابوداؤد، کتاب الزکوۃ، باب صلۃ الرحم، نسائی، کتاب الزکوۃ) ۔ سبحان اللہ ! کیسی عظیم الشان اور کتنی عمدہ اور پاکیزہ تعلیم ہے اس دین حنیف کی جس سے قدرت نے ہمیں نوازا ہے۔ اب دیکھئے کہاں یہ تعلیمات مقدسہ اور کہاں نفسی نفسی، ذخیرہ اندوزی اور خودغرضی کی وہ مارا ماری جس کا آج دور دورہ ہے۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال و سوء وانحراف۔
Ayah 2:220610 اپنی دنیا و آخرت کیلئے فکر مندی کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم لوگ سوچو اپنی دنیا و آخرت کے بارے میں تاکہ اس طرح تمہیں دنیا میں بھی سعادت مندی نصیب ہو اور تم حیات طیبہ سے بہرہ ور اور سرفراز ہو سکو، اور آخرت میں بھی تمہیں حقیقی کامیابی اور فائز المرامی حاصل ہو سکے، کہ دنیا و آخرت دونوں ہی کی بہتری مقصود ہے۔ پس نہ تو تم لوگ ان ابنائے دنیا کی طرح ہوجاؤ جو آخرت کو بھول کر دنیا ہی کے لئے جی رہے ہیں، حالانکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، جو کہ حقیقی بھی ہے اور ابدی اور دائمی بھی۔ اور اس کو بھلا دینا ناقابل تلافی خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعََظِیْْم ۔ اور نہ ہی تم ان تارِکُ الدُّنْیَا راہبوں اور جوگیوں کی طرح بن جاؤ جو کہ دنیا کو ایک " دار العذاب " قرار دے کر اپنے آپ کو طرح طرح کی مشقتوں اور عذابوں میں ڈال کر اپنے رب رحیم و کریم کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم کردیتے ہیں، کہ انتہاء پسندی کا یہ نظریہ بھی جو کہ عقل و فطرت کے خلاف ہے، دین حق کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے صحیح نہیں، کہ یہ فطرت کے تقاضوں کے خلاف جنگ ہے۔ جبکہ راہ حق و صواب ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے، جس کی تعلیم دین فطرت یعنی اسلام نے دی ہے۔ سو توسط و اعتدال اور صدق و صواب کی اس راہ کو پہچاننا اور اس تک پہنچنا اسلام کی سچی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ اسلام دنیا کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ یہ سکھاتا اور بتاتا ہے کہ اس کو سب کچھ اور اصل منزل نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنی آخرت کی ابدی زندگی کو بنانے کیلئے ایک فرصت جانو، تاکہ اس طرح تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی کامرانی کا سامان ہو سکے۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلا تَنْسََ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا } ۔ (القصص : 77) ۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ اکثر و بیشتر یہ دعا مانگا کرتے تھے جو کہ دنیا و آخرت کی بھلائی کی جامع دعا ہے۔ { رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسََنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَََذَاب النَّار } ۔ (البقرۃ : 20 1) ۔ سو توسط و اعتدال کی یہ راہ جو دین حنیف نے تلقین فرمائی ہے، ہی وہ صحیح راہ ہے جو عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ اور اسی میں پوری نوع انسانیت کا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔
611 یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم ان کو شریک کرلو تو بھی کوئی حرج نہیں کہ وہ تمہارے بھائی ہیں اور جب یتیم تمہارے بھائی ہیں تو انکے ساتھ خلط ملط میں کوئی حرج نہیں، کہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے مال سے خلط ملط رکھنا، اور حسب ضرورت و ضابطہ اس سے فائدہ اٹھانا منع نہیں جبکہ نیت اس کی ضرر رسانی کی نہ ہو، بلکہ فائدہ پہنچانے کی ہو۔ سو اصل مدارو انحصار نیت اور باطن پر ہے۔ اس لئے اصل اور ہمیشہ نظر اسی پر رکھو، تاکہ اس کا معاملہ صحیح رہے۔ سو یتیموں کے ساتھ لطف و عنایت اور کرم و احسان کا معاملہ مطلوب ہے۔ اسی لیے ان کو بھائی قرار دیا گیا کہ جس طرح تم لوگ اپنے بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو اسی طرح ان یتیموں کے ساتھ بھی کرو۔ بہرکیف جب یتیموں کے حقوق اور انکے اموال کی حفاظت سے متعلق دین حنیف نے سخت تنبیہات فرمائیں، مثلاً سورة نساء کی دسویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ظلم و زیادتی کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں، اور انکو یقینا دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا "۔ اور سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 34 میں فرمایا گیا کہ " تم یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکو، مگر اسی طریقے کے ساتھ جو کہ سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے اپنی جوانی کو " تو ایسے ارشادات کی بناء پر مسلمانوں کے دلوں میں طبعی طور پر یہ فکر و اندیشہ پیدا ہوا کہ ایسے میں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے، تو انہوں نے اس بارے سوالات کیے، جن کے جواب میں انکو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ایسے خلط ملط میں کوئی حرج نہیں۔ اصل جو چیز مقصود ہے وہ ہے یتیموں کے بارے میں بہتری اور اصلاح احوال کا معاملہ۔ وہ جس طرح بھی پورا ہو اس میں کوئی حرج نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں۔ سو اصل معاملہ تمہاری نیت اور تمہاری صوابدید پر ہے کہ مقصود یتیم کی بہتری ہو نہ کہ ضرر وایذا رسانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دار و مدار انسان کے قلب وباطن اور اس کی نیت و ارادے پر ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
612 اپنے قلب و باطن کی دنیا کو درست رکھنے کی ہدایت : سو قلب و باطن کی دنیا کو درست رکھنے کی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ مصلح اور مفسد ہر ایک کو جانتا ہے : پس تم لوگ اس سے اپنے دلوں اور اپنی نیتوں کا معاملہ درست رکھو، کہ وہاں پر محض ظاہر داری سے کام نہیں چلے گا کہ وہ باطن کے احوال اور سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ اور پوری طرح جانتا ہے۔ اور اس کو پوری طرح معلوم ہے کہ کون اصلاح کرنے والا، اور کون فساد بپا کرنے والا ہے۔ پس ظاہرداری پر زور دینے کی بجائے اپنی نیتوں اور اپنے بواطن کا معاملہ درست رکھو جس پر اصل مدارو انحصار ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ جانتا ہے کہ یتیموں کے اموال کے ساتھ اشتراک اور خلط ملط کرنے سے کس کا مقصد یتیموں کی اصلاح اور ان کی بہتری ہے، اور کون اس طرح انکے اموال ہڑپ کرنا چاہتا ہے کہ اس سے کسی کا بھی کوئی معاملہ مخفی نہیں رہ سکتا۔ سو جس نے دین متین کی اس اجازت سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، وہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکے گا، کہ وہ رب رحمن و رحیم بڑا ہی زبردست بھی ہے اور انتہائی عزیزو حکیم بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس معاملہ اس سے صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ سو اصل چیز صلح و صفائی اور اصلاح معاملات ہے۔ سو دار و مدار انسان کے اپنے قلب و باطن کے بناؤ بگاڑ پر ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
613 اللہ تعالیٰ کی تیسیر و عنایت کی تذکیر و یاددہانی : سو اللہ تعالیٰ کی تیسیر و عنایت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور اگر اللہ چاہتا تو تم لوگوں کو سخت مشقت میں ڈال دیتا : سخت اور مشکل احکام نازل کرکے۔ مثلًا اس طرح کہ وہ تم کو یتیموں کے ساتھ مخالطت اور مشارکت کی اجازت نہ دیتا، اور تم کو معمولی اور بلاقصد کی گئی کمی بیشیوں پر بھی پکڑتا، تو تم لوگ یقینا بہت مشکل اور سخت مشقت میں پڑجاتے، مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ تمہیں اپنی رحمت و عنایت سے نوازا، کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کی ان عنایتوں اور رحمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ تم ان کی قدر کرو، اور دل و جان سے تم اس کے حضور جھک جاؤ، اور اس طرح خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو۔ سو اس وحدہ لاشریک نے تم لوگوں پر بڑا کرم فرمایا کہ اس نے تمہیں کسی مشقت اور مشکل میں ڈالے بغیر تمہارے لیے یتیموں کی خدمت اور نیکی کی یہ راہ کھولی، بس تم اس کے اس احسان کا شکر ادا کرو، اور اس کے ہر حکم کو پورے صدق و اخلاص سے بجا لاؤ اور اس کی مقرر فرمودہ حدود وقیود کی پوری پابندی کرو تاکہ خود تمہارا بھلا ہو ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 2:221614 مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ایک ایماندار باندی ایک مشرک عورت سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ مشرک عورت تم کو اچھی لگتی ہو۔ سو اصل قدر و قیمت ایمان و یقین کی ہے : ۔ کہ ایمان و یقین کی بےمثل، اور بےبدل، دولت کے مقابلے میں دنیوی مال و منال اور حسن و جمال کی کوئی حیثیت نہیں خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اور کیسا ہی دلربا کیوں نہ ہو۔ سو اصل قدر و قیمت ایمان و یقین کی ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی کو اپنے پیش نظر رکھو اور اس کے مقابلے میں ظاہری حسن و جمال جیسی کسی بھی چیز کو کوئی حیثیت نہ دو کہ یہ سب کچھ بےحقیقت اور فانی اور زائل ہونے والا ہے۔ سو اس ارشاد عالی سے یہ اصول اور بنیادی تعلیم دی گئی ہے کہ اسلام میں پسند و ناپسند کی بنیاد اور اخذ و ترک کا معیار، نہ ظاہری شکل و صورت ہے نہ حسب و نسب، اور نہ ہی آزادی و غلامی۔ بلکہ صرف ایمان اور عمل صالح ہے اور بس۔ لہذا اہل ایمان کے ایمان و یقین کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اسی اصول اور بنیاد کو اپنے پیش نظر رکھیں اور اسی کے مطابق آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی کوشش کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
615 مسلمان عورت کے کافر مرد سے نکاح کی حرمت کا بیان اور اپنے ایک قصے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں مت دو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اور ایک ایماندار غلام ایک کافر و مشرک آزاد شخص سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ کافر اور مشرک شخص تم لوگوں کو اچھا لگے۔ کیونکہ یہ لوگ دوزخ کی آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ سو کفار و مشرکین کی دعوت و پکار دوزخ کی ہولناک آگ کی طرف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ دوسروں کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اپنے قول و فعل سے، کیونکہ کفر و شرک کی جس راہ پر یہ چل رہے ہیں، اس کا لازمی نتیجہ اور حتمی انجام دوزخ کی آگ ہی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعََظِیْْم ۔ اِلاَّ یہ کہ وہ سچے دل سے اس سے تائب ہو کر ایمان لے آئیں، اور اسلام کے حظیرہ قدس میں داخل ہوجائیں۔ پس جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، ان سے مناکحت و ازدواج کا رشتہ قائم کرنا جائز نہیں، ورنہ تم بھی ان ہی کے انجام سے دوچار ہوجاؤ گے، جو کہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعََظِیْْم ۔ اسی لئے دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَََلاَ تَرْکَنُوْآ اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ } ۔ (ھود : 1 13) ۔ مگر افسوس کہ اس قدر صاف وصریح اور قطعی تعلیمات و ہدایات کے باوجود آج کتنے ہی کلمہ گو مسلمان ایسے ہیں جو کہ ہلاکت و تباہی اور نار جہنم کی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ یہاں اور وہاں، ادھر اور ادھر، مشرق و مغرب میں، کتنے ہی نام نہاد مسلمان ایسے ہیں جن کی رشتہ داریاں، ہندؤوں، عیسائیوں، رافضیوں اور قادیانیوں اور دوسرے مختلف گمراہ اور بےدین لوگوں سے قائم ہیں۔ محض دنیا کے کچھ عارضی فائدوں اور وقتی مفادات کی بناء پر۔ خود یہاں متحدہ عرب امارات میں جہاں راقم گزشتہ کوئی پچیس سال سے بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے سے قیام پذیر ہے، اور جہاں بیٹھ کر میں اس وقت بھی یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، یہاں کچھ ہی سال قبل بعض انگریزی اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ روزینہ قمر الدین نام کی ایک نام نہاد مسلمان لڑکی کی شادی بھاٹیا گنیش مہندر نامی ایک ہندو سے ہو رہی ہے، اور کوئی اس سے ٹس سے مس نہیں ہو۔ کچھ غیرت مند مسلمانوں نے اس بارے راقم آثم سے رابطہ کیا، اور بتایا کہ ایسے ہو رہا ہے۔ اور اگر ایک عرب ملک میں ایسے ہوگیا تو یہ ایک ایسی بری مثال قائم ہو جائیگی جو آئندہ ہمیشہ کیلئے ایک دردسر اور عذاب بن جائیگی۔ ملکی سفارت خانے وغیرہ سے رابطہ قائم کیا گیا تو کہیں سے بھی کچھ توقع قائم نہیں ہوسکی۔ ہر ایک نے کہا ہم اس بارے کچھ نہیں کرسکتے۔ اس پر راقم آثم نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے، اور اسی کے سہارے و اعتماد پر مختلف طریقوں سے اس بارے کوشش شروع کی۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے کامیابی و سرفرازی سے نوازا۔ وہ رشتہ منسوخ ہوگیا۔ مقامی وزارت اوقاف، اور اسلامک سنٹر وغیرہ سے باضابطہ فتوے جاری کرائے گئے۔ ان کو اخبارات میں شائع کرایا گیا، جن کے تراشے (Cuttings) وغیرہ اب بھی ہمارے پاس ۔ الحمدللہ ۔ موجود ہیں۔ اور اس طرح ایک فتنہ جو کہ ایک نئے انداز سے پر پرزے نکال رہا تھا مٹ گیا ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَب الْعَالَمِیْنَ -
616 نصیحت کو صدق دل سے اپنانا ایک اہم مقصود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے اپنی آیتوں کو لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور تاکہ وہ ان کو اپنا کر، اور ان پر عمل پیرا ہو کر اپنا بھلا کریں اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکیں۔ سو نصیحت حاصل کرنا اور درس عبرت و بصیرت لینا ایک اہم مقصود ہے۔ سو اللہ پاک اپنے بندوں کیلئے اپنے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ یہ بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے، ان کی عقلوں کو اپیل کرے اور وہ اس کو صدق دل سے اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں اور انکو اس حقیقت سے آگہی ہوجائے کہ رشتوں ناطوں کے اثرات زندگی پر سطحی اور سرسری نہیں ہوتے، بلکہ بڑے گہرے اور بہت دور رس ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص انکو نظرانداز کرکے صرف ظاہری حسن و جمال یا مال و منال یا قوم قبیلہ یا وقتی مصالح و مفادات جیسے عوامل ہی کو پیش نظر رکھے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ہی خرچے پر اپنے گھر میں ایک ایسی بلا پال لے، جو صرف اسی کے نہیں بلکہ اس کی آئندہ نسلوں کے دین و ایمان کی بھی جڑ نکال دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ شادی بیاہ کے تعلقات نے مذہب، روایات اور تہذیب و تمدن میں جو عظیم تبدیلیاں پیدا کی ہیں تاریخ کے اوراق و صفحات انکے ذکر وبیان سے بھرے پڑے ہیں۔ اس لئے اس بارے پورے حزم و احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ بہرکیف دین حق کی تعلیمات مقدسہ کو اپنانا اور نصیحت پر کان دھرنا ذریعہ سرفرازی ہے۔ وباللہ التوفیق -