Ayahs 2:103–104289 علم بلا عمل نہ ہونے کے برابر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حسرت و افسوس کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کاش کہ یہ لوگ جان لیتے "۔ یعنی یہ بات جان لیتے کہ کامیابی اور نجات کا مدارو انحصار صرف ایمان وتقوی پر ہے، جس کے حاصل کرنے کا موقع و مقام یہی دنیاوی زندگی ہے تو یہ لوگ ایسا نہ کرتے۔ پس اس فرصت محدود و مختصر کے ختم ہونے سے پہلے یہ لوگ آخرت کے لیے کوشش اور کمائی کرلیتے۔ سو اگر ان لوگوں کو یہ حقیقت معلوم ہوجاتی تو یہ ایسے لایعنی کاموں میں نہ لگتے اور متاع وقت کو ان میں ضائع کرنے کی بجائے اپنی توجہ ایمان وتقویٰ کی تحصیل پر مرکوز رکھتے، مگر حق اور حقیقت کے علم سے محروم ہونے کے باعث یہ لوگ ایمان وتقوی کی اس راہ کو نہ اپنا سکے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے۔ اور اس طرح یہ محرومی اور خسارے کی راہ پر چل پڑے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر اور لائق توجہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں پہلے تو فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جس کسی نے جادو گری کے اس کاروبار کو اپنایا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور یقینا بڑا ہی برا ہے وہ کچھ جس کے بدلے میں انہوں نے بیچا اپنی جانوں کو اور پھر آیت کریمہ کے خاتمے پر ارشاد فرمایا گیا کہ کاش یہ لوگ جان لیتے۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جس علم کے مطابق عمل نہ ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 2:105293 کفار و مشرکین کی دشمنی اہل ایمان سے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم : سو کفار و مشرکین اپنی عداوت و دشمنی کی وجہ سے اہل ایمان کیلیے کسی بھی خیر کے روادار نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ " خَیْر " نکرہ ہے جو کہ عموم کے معنیٰ دیتا ہے۔ پھر اس پر بھی تنوین ہے جو کہ تقلیل کا فائدہ دیتی ہے۔ پھر اس پر بھی " مِن " جارہ داخل ہے جو کہ استغراق کے معنی میں استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو ان سب باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ہم نے اس کا ترجمہ " کوئی بھی بھلائی " سے کیا ہے ۔ والحمد للہ ۔ تو جب اہل کتاب کے کافر اور دوسرے کھلے کفار و مشرکین، تم پر اے مسلمانو ! کسی معمولی قسم کی خیر اور بھلائی کے نزول و حصول کے بھی روادار نہیں تو پھر قرآن پاک جیسی اس عظیم الشان اور بےمثال نعمت کا تم پر نزول ان کو کیسے برداشت ہوسکتا ہے ؟ جو کہ سب سے بڑی نعمت ہے اور جو کہ دارین کی سعادت و کامیابی کی ضامن و کفیل ہے۔ اور جس سے اللہ پاک نے تمہیں محض اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ پس ان لوگوں کے حسد وعناد پر تم نہ کوئی تعجب کرو اور نہ کسی طرح کی تشویش و پروا۔ بلکہ تم ان کو یونہی چھوڑ دو ۔ تاکہ یہ حسد کی اپنی اس ٹھنڈی آگ میں خود جلتے رہیں جو جسم اور ظاہر کو نہیں بلکہ باطن اور قلوب کو جلاتی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ سو اس مضمون کے زور اور اثر کا مدارو انحصار بڑی حد تک " مِنْ خَیْرٍ " کے " مِنْ " استغراقیہ پر ہے جس کا احساس و ادراک ذوق سلیم والوں پر واضح وعیاں ہے۔ مگر تعجب ہوتا ہے کہ عام طور پر بعض بڑے بڑے حضرات مفسرین کرام بھی اس کو " مِنْ “ زائدہ کہہ دیتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں۔ ان کو اس کے لئے مجبوری کیا پیش آتی ہے اور اس تاثیر و بلاغت پر ان کی نظر کیوں نہیں جاتی۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے کفار و مشرکین کے خبث باطن اور مسلمانوں سے ان کی عداوت و دشمنی کو آشکارا کردیا گیا، جس میں اہل ایمان کیلئے یہ درس عظیم ہے کہ وہ اپنے ایسے دشمنوں سے کسی طرح کی کوئی توقع نہ رکھیں، بلکہ ہمیشہ محتاط رہیں اور بھروسہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی پر رکھیں۔ ایسے دشمنوں کو نہ اپنا رازدار بنائیں اور نہ پر بھروسہ اور اعتماد کریں۔
294 اللہ اپنی رحمت سے جس کو چاہے نوازے : تو پھر ان لوگوں کے جلنے اور حسد کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ پس تم ان کی فکر کرنے، یا ان کے پیچھے لگنے کی بجائے اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی رضا و خوشنودی ہی کی فکر کرو، جس نے تمہیں اس نعمت عظمیٰ سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ اور اس سے اپنا تعلق درست رکھو وباللہ التوفیق۔ اور وہ جسکو بھی نوازتا ہے اور جتنا نوازتا ہے ٹھیک نوازتا ہے، کہ اس کا علم بھی کامل ہے اور اس کی رحمت و عنایت بھی سب پر محیط اور شامل ہے، اور وہی جانتا ہے کون کس لائق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ اس وحدہ لاشریک کی تقسیم وعطاء پر چلتے اور اعتراض کرتے ہیں وہ خود اپنی حماقت اور جہالت کا ثبوت دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ مالک الملک جو چاہے کرے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کافر خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا دوسرے کھلے مشرکوں میں سے۔ وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھی خیر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہو اپنے حقد و حَسَد اور بغض وعناد کی بنا پر۔ تو پھر وہ اس سے کیسے اور کس طرح راضی ہوسکتے ہیں کہ تم کو دین و وحی اور قرآن جیسی عظیم الشان نعمت سے نوازا جائے جو کہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ مگر انکے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہے نوازے۔ اور جب اور جیسے چاہے نوازے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہوسکتا۔
295 اللہ بڑے ہی فضل والا ہے : واضح رہے کہ یہاں پر فضل کو اسم ذات ۔ اللہ ۔ کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ فضل فرمانا اس وحدہ لاشریک کی ذاتی صفت ہے، دنیا میں جس کسی پر بھی کوئی فضل و احسان ہوا ہے یا ہوتا ہے۔ یا آئندہ ہوگا۔ وہ اسباب کی اس دنیا میں جس بھی کسی سبب کے پردے میں بھی ہو، وہ سب بہرحال اسی وَحْدَہٗ لا شَرِیْکَ لَہٗ کی طرف ہی سے ہوتا ہے ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی فَلَہٗ الْحَمْدُ وَلَہٗ الشَّکْرُ قَبْلَ کَلّ شَیْئٍ وَ بَعْدَ کُلّ شَیْئٍ ۔ اب دیکھئے کہاں یہ ارشادات وتعلیمات اور کہاں آج کے کلمہ گو مشرکوں کی وہ طرح طرح کی شرکیات جن کا ارتکاب وہ طرح طرح سے اور نت نئے طور طریقوں سے کرتے ہیں۔ جگہ جگہ قبروں آستانوں پر جھکتے، سر ٹیکتے، سجدے کرتے، غیر اللہ کے نام کی دیگیں پکاتے، بانٹتے، طرح طرح کے آستانوں کے پھیرے مانتے، چکر لگاتے، نذریں مانتے، نیازیں دیتے، اور اپنی اولاد کے نام تک، " پیر بخش "، " حضور بخش "، " نبی بخش "، " رسول بخش "، " علی بخش "، " پیراں دتہ "، " علی داد "، " نذر حسین "، " عبدالحسین "، " عبدالرسول " اور " عبدالنبی " جیسے شرکیہ نام رکھتے ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے جہالت اور ناواقفی سے ایسے نام رکھ لئے ہیں، وہ تو پھر بھی کسی حد تک معذور ہوسکتے ہیں۔ مگر جو جان بوجھ کر ایسے نام رکھتے ہیں، اور پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم توحید والے اور سنی مسلمان ہیں، تو ان کا معاملہ یقینا الگ اور قابل غور، اور لائق توجہ ہے کہ اس طرح کی سب شرکیات کے باوجود نہ ان کا ایمان بگڑے نہ توحید میں کچھ فرق آئے، اور نہ ان کی نام نہاد سنیت کے دعوے پر کوئی اثر پڑے، تو پھر کوئی بتائے کہ شرک اور کس بلا کا نام ہے ؟ اور مشرک اور کس کو کہتے ہیں ؟ ۔ فَاِلَی اللّٰہ الْمُشْتَکٰی ۔ وَہُوَ الْمُسْتَعَانُ وَ عَلَیْہ التَّکْلانُ ۔ جَلَّ جَلالَہٗ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ فضل اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے۔
Ayahs 2:106–107296 " نُنْسِہٰا " کا معنی و مطلب ؟ : بھلا دینے کا یہ معنیٰ اس وقت ہوگا جبکہ اس لفظ کو " نسیان " سے ماخوذ مانا جائے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لفظ " نسا " سے ماخوذ ہو جس کے معنیٰ موخر کرنے کے ہوتے ہیں۔ تو اس صورت میں اس کے معنیٰ ہوں گے کہ ہم اس کو موخر کردیتے ہیں۔ اب اس کے مطلب اور معنیٰ و مراد میں آگے کئی احتمال ہیں۔ نمبر ایک یہ کو لوح محفوظ سے اس کا نزول مؤخر کردیتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ تورات کے احکام میں سے جس کے نسخ کو موخر کر کے اسے قرآن حکیم میں مستقل طور پر محفوظ کردیتے ہیں۔ نمبر تین یہ کہ قرآن حکیم کے احکام میں سے جس حکم کو نسخ سے محفوظ رکھ کر اسے ہم باقی رکھ دیتے ہیں وغیرہ۔ (محاسن التاویل المعروف تفسیر القاسمی (رح) ) ۔ بہرکیف نسخ سے متعلق اس اصولی اور بنیادی ارشاد سے دراصل یہود و مشرکین وغیرہ کے ایک مشہور و معروف اعتراض اور مغالطے کا جواب دیا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کا اعتراض و مغالطہ اور ان کا کہنا یہ تھا کہ جب پہلی شریعتیں اور پہلی کتابیں بھی آسمانی اور الہامی تھیں، تو پھر ان کو منسوخ کر کے مسلمانوں کی یہ نئی شریعت اور نئی کتاب اتارنے کی آخر ضرورت ہی کیا تھی ؟ نیز خود اسلام کے اندر کے جو احکام منسوخ کردیئے جاتے تھے، ان پر بھی کچھ لوگ ایسے ہی اعتراض کرتے تھے کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو ۔ نعوذ باللہ ۔ پہلے معلوم نہیں تھا ؟ جو بعد میں ایسے احکام کو منسوخ کردیا ؟ تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ نسخ کا معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم لوگوں نے اپنی کج فطرتی، اور بدنیتی سے سمجھا ہے، بلکہ یہ تو اللہ پاک کی بےپایاں حکمتوں کا مظہر اور عقل و منطق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، کیا تم لوگ اللہ پاک کی بےنہایت قدرت اور آسمان و زمین میں پائی جانے والی اس کی وسیع سلطنت کے اسرار و رموز پر غور نہیں کرتے کہ حقیقت حال تمہارے سامنے واضح ہوجائے۔ اللہ پاک کا علم تو ہمیشہ سے کامل ہے، اس میں کسی تغیر و تبدل کا تو کوئی سوال ہی نہیں، مگر وہ اپنے بندوں کی مصلحت اور بہتری کیلئے اپنے احکام و فرامین میں ترمیم و تنسیخ سے کام لیتا ہے، اور یہ پر حکمت سلسلہ تو اس عالم کون و فساد میں بھی برابر جاری وساری ہے۔ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ ایک انسان کی غذا اس کے بچپن سے لیکر آخر تک کیسے بدلتی رہتی ہے ؟ ماں کے پیٹ میں اس کی غذا اسکا خون ہوتا ہے، اور وہ بھی منہ سے نہیں، ناف کے راستے، پھر پیدائش کے بعد ایک عرصہ تک یہ دودھ پیتا ہے، اور وہ بھی ایسا کہ جو ابتداء میں اس کی طبیعت و حالت کے عین مطابق بالکل پتلا اور ہلکا ہوتا ہے، اور پھر رفتہ رفتہ وہ گاڑھا ہوتا چلا جاتا ہے، پھر اس کے بعد یہ بچہ ہلکی ہلکی غذا کھانے لگتا ہے، پھر شدہ شدہ یہ اس دور میں پہنچ جاتا ہے کہ لکڑ ہضم، پتھر ہضم، والا معاملہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انسانیت جب اپنے عہد طفولیت میں تھی، تو اس کو شریعت کی جو روحانی غذا دی گئی تھی، وہ بالکل ہلکی اور ابتدائی نوعیت کی تھی، پھر شدہ شدہ جب انسانیت شباب و عروج کو پہنچ گئی، تو اس کو قرآن و سنت کی شکل میں وہ آخری اور کامل غذا مرحمت فرما دی گئی جو تا قیام قیامت اس کی ضرورتوں کیلئے کافی و وافی ہے، یا جس طرح ایک ماہر ڈاکٹر و حکیم مریض کی حالت کے مطابق اس کی دوا اور اس کی غذا میں تبدیلی کرتا جاتا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو شروع میں ان سب دواؤں اور غذاؤں کا علم نہیں تھا ؟ نہیں ایسے نہیں۔ اور ہرگز نہیں، بلکہ وہ دوا و غذا کی یہ تبدیلی مریض کی کیفیت اور اس کی بدلتی ہوئی حالت کے نقطہ نظر سے کرتا ہے۔ سو اسی طرح شریعت کی روحانی دوا و غذا کی تبدیلی بھی انسانوں کی حالت کے مطابق ہوتی ہے۔ اور کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس عالم تکوین میں اس کی یہ حکمت جا بجا کس اور کس طرح کارفرما ہے ؟ یہ دن و رات کا ہمیشہ بدلنا، نہایت باقاعدگی سے ان کا آنا جانا اور چھوٹا بڑا ہونا اور مختلف موسموں کا تغیر و تبدل وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس کی اس وسیع ترین قدرت و حکمت کے واضح اور کھلے مظہر نہیں ؟ اور جب ان میں سے کسی بات پر بھی کسی سوال و اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، تو پھر آخر نسخ کے مسئلہ پر اس طرح کا کوئی اعتراض کیسے اور کیونکر وارد ہوسکتا ہے ؟ سو نسخ حضرت حق جل مجدہ کی قدرت کاملہ اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
297 " اَوْمِثْلِہَا " کا فائدہ ؟ : یعنی یا ہم اسی جیسی کوئی آیت لے آتے ہیں، جس کے ذریعے یا تو تم سے کسی حکم کی مشقت اور سختی کو کم کیا گیا ہوگا، اور تمہارے لئے آسانی پیدا کی گئی ہوگی۔ یا اس میں تمہارے لئے اجر وثواب زیادہ ہوگا وغیرہ۔ سو حکم ناسخ کبھی منسوخ سے اس اعتبار سے بہتر ہوتا ہے کہ اس پر عمل کرنا آسان ہوتا ہے اور کبھی اس لحاظ سے کہ اس پر اجر وثواب زیادہ ملتا ہے۔ اور کبھی یہ حکم اسی جیسا اور اس کے برابر ہی ہوتا ہے، جس میں دوسری کئی حکمتیں ہوتی ہیں جن کا احاطہ وہی وحدہ لاشریک کرسکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جو بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اس کو بھلا دیتے ہیں، تو اس سے بہتر یا اس جیسی کوئی آیت لے آتے ہیں جس میں تمہارے بھلے کی صورتیں ہوتی ہیں۔
Ayahs 2:108–111300 لایعنی سوالات سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے ویسے ہی سوالات کرو جیسے سوالات حضرت موسیٰ کی قوم نے ان سے کیے تھے ؟۔ جیسے ذبح بقرہ کے قصے میں ان لوگوں نے طرح طرح کی حجت بازیاں کر کے خود اپنے ہی لئے مشکلات پیدا کی تھیں، نیز انہوں نے حضرت موسیٰ سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ " ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا دو " { اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً } یعنی یہ تم جیسی وفا دار اور جاں نثار امت کے شایان شان نہیں کہ تم لوگ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے غیر ضروری سوالات کرو۔ سو اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ارشادات پر صدق دل سے عمل کریں اور ان کی محفل میں اس طرح کے غیر ضروری اور لایعنی سوالات نہ کریں، جس طرح کہ یہود نے حضرت موسیٰ سے کیے تھے، (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔
301 ایمان کے بدلے میں کفر کو اپنانا خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی ایمان کے بدلے میں کفر کو اپنائے گا وہ یقینا بھٹک گیا سیدھی راہ سے اور سیدھی راہ سے بھٹک جانا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ کیونکہ سیدھی راہ ہی وہ راہ ہے جو کہ انسان کو منزل مقصود تک پہنچانے اور دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور کرنے والی راہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی راہ سے بھٹکنا اور محروم ہوجانا سب سے بڑا خسارہ و محرومی اور ناقابل تلافی وتدارک نقصان ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ اور سیدھی راہ سے بھٹکنے کے بعد انسان جتنا آگے بڑھے گا اتنا ہلاکت و تباہی ہی کی طرف بڑھتا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ سیدھی راہ پر چلنے والا انسان جتنا بھی آگے بڑھے گا اپنی منزل ہی کی طرف بڑھی گا اور اس کا جو بھی قدم اٹھے گا وہ صحیح سمت میں اور منزل ہی کی طرف اٹھے گا اور وہ آخر کار منزل مقصود تک پہنچ جائے گا ۔ سو سیدھی راہ سے سرفرازی، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی دارین کی محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ اللہ ہمیشہ صراط مستقیم پر رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 2:112312 جنت میں داخلے کیلئے ضابطہ عام ایمان اور عمل صالح : " بلٰی " کلمہء ایجاب و اثبات ہے، جو نفی کے بعد آتا ہے۔ یعنی تمہارے سوا اور کوئی جنت میں کیوں نہیں جائیگا، جبکہ ضابطہء عام اور قانون عدل و انصاف یہ ہے کہ جو بھی کوئی ایمان و احسان کی راہ کو اپنائے گا وہ اس کا صلہ و بدلہ بہرحال پائے گا۔ اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ جنت سے بہرہ ور و سرفراز ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ کیونکہ وہاں اعتبار ذات پات اور حسب و نسب کا نہیں، بلکہ صدق و اخلاص اور عمل و کردار کا ہے۔ سو اس سے جنت میں داخلے اور اس سے سرفرازی کیلئے ضابطہ عام بیان فرما دیا گیا کہ وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اصل چیز جس پر دار و مدار ہے وہ انسان کا اپنا عمل و کردار ہے۔
313 جنتیوں کیلئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم : سو ایسوں پر نہ کوئی خوف ہوگا نہ غم کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جنتی ہوں گے، اور جنتیوں کی شان یہی ہوگی، کہ نہ ان کو آئندہ کے بارے میں کوئی خوف و اندیشہ ہوگا کہ وہ جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوچکے ہوں گے، جو نہ کبھی ختم ہوں گی، اور نہ کبھی چھینی جائیں گی کہ وہ { لاَ مَقْطُوْعَۃٍ وَّ لاَ مَمْنُوْعَۃٍ } کی شان والی ہونگی اور نہ ہی ایسے خوش نصیبوں کو اپنی دنیاوی زندگی کے بارے میں کوئی افسوس ہوگا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہاں پر صحیح عقیدہ و عمل کی متاع بےبہا سے سرفراز رہے ہوں گے۔ ہاں افسوس اگر ہوگا تو اس کا ہوگا کہ ہم نے حیات مستعار کی اس محدود و مختصر فرصت میں آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے اور زیادہ کمائی کیوں نہ کی، تاکہ مزیداز مزید درجات قرب و رضا سے سرفراز، اور بہرہ ور ہوتے، جیسا کہ حضرت نبیء معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے صحیح حدیث میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ " قیامت کے روز نیک و بد ہر کسی کو افسوس کرنا پڑیگا، بد کو تو اس بات کا کہ میں نے بدی کو چھوڑ کر نیکی کی راہ کو کیوں نہ اپنایا، اور نیک کو اس بات کا کہ میں نے اور زیادہ نیکی کیوں نہ کی "۔ اس بارے کچھ مزید روشنی اس سے ملتی جلتی ایک اور آیت کریمہ میں اس سے پہلے بھی ڈالی جا چکی ہے اس کو بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ بہرکیف یہ جنتیوں کی ایک امتیازی شان اور ان کیلئے ایک خاص مژدہ جانفزا ہے کہ جنت سے سرفرازی کے بعد ان کیلئے نہ ماضی کا کوئی غم ہوگا، اور نہ آئندہ کے بارے میں کوئی خوف اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ راہ حق پر رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العلمین۔
Ayahs 2:113–114314 یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک کا دوسرے کو بےدین کہنا : یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کو بےبنیاد اور بےدین کہتے ہیں، حالانکہ دونوں آسمانی کتابوں کے حامل ہیں، جو کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مصدر فیض سے اتری تھیں، مگر ان کو چونکہ ان لوگوں نے اپنی اہواء و اَغراض کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ کردیا تھا، اس لئے اب واقعتًہ کتاب حق و ہدایت ان میں سے کسی کے پاس بھی نہیں رہی، جس سے اب یہ دونوں ہی گروہ جہالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اب حق و ہدایت کی روشنی قرآن حکیم کے سوا اور کہیں سے بھی نہیں مل سکتی، سو جو لوگ نور قرآن سے محروم ہیں وہ بہرحال گھٹا ٹوپ اندھیروں کے اندر ہیں۔ خواہ وہ دنیاوی اعتبار اور مادی لحاظ سے کتنی ہی کچھ ترقی کیوں نہ کرچکے ہوں کہ وہ نور حق و ہدایت سے محروم ہیں اور ان کی زندگی محض ایک حیوانی زندگی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔
315 مشرکین اور مجوس کا بھی دوسروں کو بےدین کہنا : یعنی مشرکین اور مجوس وغیرہ، دوسرے تمام ایسے باطل پرست، جن کے پاس نہ کوئی آسمانی اور الہامی کتاب ہے، نہ مذہب، بلکہ محض اھواء و رسوم، اور ظن وتخمین پر مبنی کچھ طور طریقے اور اوہام و خیالات ہیں، جن پر وہ مست و مگن ہیں، اور بےفکری کے عالم میں متاع زندگی کو یونہی لٹا رہے ہیں، اور ان کو اس کا کوئی شعور و احساس نہیں کہ اس طرح وہ کس قدر ہولناک خسارے اور سخت نقصان میں مبتلاء ہیں اور یہی نتیجہ ہوتا ہے مت ماری کا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ سو ایسے لوگ بھی اسی طرح دوسروں کو بےدین کہتے ہیں۔ سو غلط عقیدہ جب کسی کے دل و دماغ میں جڑ پکڑ جاتا ہے اور کفر و شرک کی میل جب کسی پر جم جاتی ہے تو وہ اپنے اس کفر و باطل ہی کو حق اور سچ سمجھنے لگتا ہے اور باقی سب کو غلط اور گمراہ قرار دیتا ہے۔ اور اس طرح وہ نور حق و ہدایت سے مزید دور ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
316 اصل اور حقیقی فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ فیصلہ فرما دے گا ان سب کے درمیان قیامت کے روز۔ یعنی علمی فیصلہ تو آج اس دنیا میں بھی فرما دیا گیا ہے اور نہایت وضاحت و صراحت کے ساتھ اور پوری تفصیل کے ساتھ فرما دیا گیا ہے، کہ راہ حق وہی اور صرف وہی ہے جس کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے قول و فعل سے پوری طرح واضح فرما دیا ہے، اور اس درجہ کہ " لَیْلُہَا کَنَھَارِہَا " یعنی اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن اور واضح ہے، اور اس سے محروم وہی ہوگا جس کے نصیب ہی پھوٹ گئے ہوں " لا یَزِیْغُ عَنْہَا الاَّ ہَالِکٌ " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس کے باوجود کتنی ہی دنیا ایسی ہے جو اس صاف وصریح فیصلے اور دل و دماغ کو اپیل کرنے والے حق کو نہیں مانتی۔ بلکہ وہ اس کی عداوت و دشمنی پر کمربستہ ہے، اس لئے ان سب کے بارے میں عملی فیصلہ، فیصلے کے اس یوم عظیم میں کردیا جائیگا، جب کہ ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ دے دیا جائیگا، جس کے مطابق منکرین حق کو دوزخ کے عذاب مقیم میں جھونک دیا جائیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان مومنین صادقین کو جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرمایا جائیگا، جنہوں نے عقیدہ و عمل کے میدانوں میں قرآن و سنت کی مقدس تعلیمات کو سچے دل سے اپنا کر، ان کی روشنی میں زندگی گزاری ہوگی، اور وہ اپنے رب کی رضا کے حصول کیلئے کوشاں رہے ہوں گے۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف فیصلے کے اس یوم عظیم میں سب باتوں کا آخری اور عملی فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayah 2:115319 مشرق و مغرب سب اللہ ہی کیلئے ہے : کہ سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی۔ اور سب پر حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے، اور اس کی رحمت و عنایت بھی ہر جگہ موجود ہے، اور اس کا علم بھی سب کو محیط، اور ہر زمان و مکان پر حاوی اور عام ہے۔ اور اس نے اپنے کرم بےپایاں سے تمام روئے زمین کو تمہارے لئے مسجد اور عبادت کی جگہ بنادیا ہے، اور اس کی مٹی کو تمہارے لئے " طہور " اور پاکی کا ذریعہ۔ پس اگر کہیں ظالم تمہیں اللہ کی مسجد سے روک دیں، یا مسجدوں کو منہدم کردیں، جیسا کہ ظالموں نے کیا ہے، اور کر رہے ہیں، تو تمہارے لئے اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی کے شرف سے محرومی پھر بھی نہیں، کیونکہ اس کی پیدا کردہ اس وسیع و عریض دھرتی میں تم جہاں چاہو اس کے حضور سجدہ ریز ہوسکتے ہو۔ اور اس کے حضور سجدہ ریزی سے اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرسکتے ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
320 اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہر جگہ : یعنی اس کے کرم اور اس کی عنایت کو تم وہاں موجود پاؤ گے، اور اس کی رحمت تمہیں اپنے آغوش میں لے لیگی ورنہ وہ جسم اور جسمانیت کے تقاضوں سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ اور وہ ایسا نہیں کہ کسی ایک جگہ ہو اور دوسری جگہ نہ ہو، اور اس نے جو تمہارے لئے ایک قبلہ مقرر فرمایا ہے، تو وہ خود تمہاری توحید صفوف، اطمینان قلوب، وغیرہ ان مصالح و حکم کی بنا پر فرمایا ہے، جن کا علم و احاطہ اس کے سوا اور کسی کو نہیں ہوسکتا، اور جہاں حالات و حوادث کی بنا پر تمہارے لئے استقبال قبلہ کا یہ حکم متعذر ہو تو وہاں تمہارے لئے یہ پابندی اب بھی ضروری نہیں رہتی۔ مثلاً دشمن کے خوف اور مقابلے کی وجہ سے، یا رات کے اندھیرے وغیرہ ایسے عوارض کی بناء پر، جہاں تمہارے لئے جہت قبلہ پہنچاننا ممکن نہ رہے، یا تم کسی ایسی سواری پر نماز پڑھتے ہو، جہاں استقبال قبلہ بھی دشوار ہو، اور سواری سے اترنا بھی، جیسے ہوائی جہاز یا ٹرین وغیرہ پر سفر کے دوران، تو تم بقدر امکان جہت قبلہ متعین کرنے کے بعد جدھر بھی رخ کر کے نماز پڑھو، پڑھ سکتے ہو (المعارف للکاندہلوی (رح) ) ۔
Ayah 2:116321 اہل باطل کا قول مردود کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد ٹھہرائی ہے : چناچہ یہود نے حضرت عزیر کو، نصاریٰ نے حضرت مسیح ابن مریم کو، اور مشرکین مکہ نے فرشتوں کو، خدا کی اولاد ٹھہرایا اور اپنے ہی طور پر یہ بھی قرار دے دیا کہ انہی حضرات کو خوش کرنے کی کوشش کرو، یہ اللہ کو خود راضی کر دینگے، اور ہمارا کام بنا دینگے۔ اس طرح شیطان مَرِید نے ان لوگوں کو اپنے خالق ومالک حقیقی کی عبادت و بندگی کے شرف سے محروم کر کے، اور ان کو سیدھی راہ سے ہٹا کر، طرح طرح کے اوہام و خرافات کے خود ساختہ جالوں میں بری طرح سے الجھا اور پھنسا دیا۔ اور افسوس کہ امم سابقہ کی یہی عمومی اور اجتماعی بیماری اس آخری امت، امت محمدیہ میں بھی مختلف راستوں اور مختلف طریقوں سے سرایت کرگئی۔ چناچہ شیعوں نے اپنے خود ساختہ اماموں کو معصوم قرار دے کر ان کو حضرات انبیاء و ملائکہ تک پہنچا دیا، بلکہ اس سے بھی بڑے درجوں پر فائز کردیا، اور ان کو خدائی حقوق و اختیارات میں شریک وسہیم بنا لیا، اور ان کا یہ عقیدہ عقیدہ امامت ان کے مذہب کی تمام بنیادی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دور حاضر کے امام، امام خمینی ۔ علیہ ما علیہ ۔ جس کو یہ لوگ " آیت اللہ "، " روح اللہ "، اور " امام غائب " کا نمائندہ، وغیرہ کیا کچھ کہتے اور مانتے ہیں وہ بھی اپنی کتاب " الحکومۃ الاسلامیۃ " میں کہتا ہے کہ ہمارے دین کا اہم اور بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے امام کا مرتبہ وہ ہوتا ہے جس کو کوئی ملک مقرب اور نبیء مرسل بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور اسی طرح کے شرکیہ عقائد بہت سے اہل بدعت بھی رکھتے ہیں، جو کہنے کو تو اپنے آپ کو اہل السنت کہتے ہیں، اور اس کے لئے بڑے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے عقائد کا حال یہ ہے کہ ان کے کتنے ہی غالیوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ " اَحد " اور " احمد " میں تو بس میم کی مروڑی کا فرق ہے، ورنہ اندر سے یہ دونوں ہستیاں ایک ہی ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ اسی لئے ان کے بعض غلو پسندوں کا غلو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا۔ وہی جو مستویئ عرش تھا خدا ہو کر۔ اتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ہو کر ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان کے بعض غالیوں نے تو یہاں تک کہہ دیا " اللہ کے پاس وحدت کے سوا دھرا کیا ہے، جو کچھ لینا ہوا ہمیں لیں گے محمد سے " ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ یہ خرافات و اعتقادات اور پھر بھی دعوی ایمان اور توحید کا، بھلا ان دونوں باتوں کا باہم جمع ہونا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ ۔ َ تَعَالٰی اللّٰہ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا ۔ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
322 پوری کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ خلق و ایجاد کے اعتبار سے بھی، کہ اس سب کا خالق و موجد بھی وہی ہے، اور ملکیت و بادشاہی کے اعتبار سے بھی، کہ اس سب پر ملکیت بھی اسی کی ہے اور بادشاہی بھی اسی کی، اور حکم و تصرف کے لحاظ سے بھی کہ سب پر حکم بھی اسی کا چلتا ہے، اور تصرف بھی اسی کا، تو جب خلق و ایجاد، ملکیت و بادشاہی، اور تصرف و حکمرانی، میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جھوٹ کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے جگہ جگہ اور طرح طرح کے ناموں سے مختلف " سرکاریں " گھڑ رکھی ہیں جہاں پر یہ لوگ طرح طرح کی شرکیات اور خرافات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حالانکہ " سرکار " صرف ایک ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی سرکار جو اپنی اس پوری کائنات پر حکومت کرتا ہے۔ ظاہری اسباب کے مطابق جو دنیا والوں کو مختلف حکومتیں ابتلاء و آزمائش کے لیے ملی ہوئی ہیں وہ اور چیز ہے۔ لیکن خلاف اسباب کسی مری ہوئی ہستی کو سرکار ماننا عقل و نقل دونوں کے خلاف اور شرک کے زمرے میں آنے والی بات ہے اور ایسی خود ساختہ سرکاریں اوہام و خرافات ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:117323 سب ہی اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار ہیں : تکوین و تخلیق کے دائرے میں تو سب ہی اس کے مطیع و فرمانبردار ہیں، اور اس لحاظ سے اس کائنات کی ایک ایک چیز اس کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہے، حتی کہ کافر و منکر، اور باغی و سرکش، بھی تکوینی امور میں اس وحدہ لاشریک کا فرما نبردار ہے۔ چناچہ وہ اپنی پیدائش، اپنی موت، اپنی عقل و فکر، اپنی رنگت و نسل، اپنے قد کاٹھ، وغیرہ وغیرہ تمام امور میں اسی کا تابع فرماں ہے، مگر تکوین و تخلیق کے اس دائرے میں پائی جانے والی انسان کی اس جبری اور غیر اختیاری اطاعت و فرمانبرداری پر اس کے لئے کوئی اجر وثواب نہیں، کیونکہ یہ اطاعت و فرمانبرداری اس کے اپنے ارادہ و اختیار سے نہیں، بلکہ مجبوری اور اضطرار کی بنا پر ہے، اور اجر وثواب ملتا ہے اس اطاعت و فرمانبرداری پر جو کہ انسان کے اپنے ارادہ و اختیار سے، اور برضا ورغبت ہو، اور اسی کو تشریعی فرمانبرداری کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان کو آزاد و خود مختار بنایا گیا ہے کہ ابتلاء و آزمائش اور امتحان و اختیار کا دار و مدار اسی پر ہے۔ اور جنت و دوزخ کے فیصلے اور اس کے استحقاق کا مدارو انحصار بھی بنیادی طور پر اسی پر ہے۔ اور اس تشریعی فرمانبرداری کے لحاظ سے بھی بہت سے لوگ اس وحدہ لاشریک کے مطیع و فرمانبردار ہیں، جیسے حضرات انبیاء کرام، ملائکہ کرام، صحابہ کرام، اور صلحا عظام، اور دیگر تمام مومنین صادقین وغیرہ جو کہ اپنے ارادہ و اختیار سے، اور اپنی رغبت و شوق سے اپنے خالق ومالک کے آگے جھکتے، اسی کے حضور سجدہ ریز ہوتے اور اسی کی اطاعت و بندگی سے سرشار ہوتے ہیں جس سے وہ اپنے رب کے یہاں عظیم الشان مراتب و درجات کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ جبکہ دوسرے بہت سے لوگ اس تشریعی اور اختیاری اطاعت و فرمانبرداری سے اعراض و سرکشی کر کے دوزخ اور اس کے درکات کے حقدار بنتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سورة حج کی اٹھارہویں آیت کریمہ میں اس بات کو پوری صراحت و وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔
324 ساری کائنات کا موجِد اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا موجد اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اور جب اس کائنات کی تخلیق و ایجاد میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، اور عبادت کی ہر شکل اور ہر قسم اسی کا حق، اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے سوا اور کسی کے لئے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر دنیا ہے کہ اس ظلم عظیم کا ارتکاب ہمیشہ کرتی رہی اور آج تک کرتی جا رہی ہے۔ چناچہ روئے زمین پر جگہ جگہ اور طرح طرح سے کفر و شرک کے اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ کھلے کفار و مشرکین کا تو کہنا ہی کیا۔ انکا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ اسلام کا نام لینے والے کلمہ گو مشرکوں کا بھی حال یہ ہے کہ وہ بھی اس میں ملوث ہیں۔ چناچہ وہ بھی جگہ جگہ سجدے کرتے، طواف کرتے، چکر لگاتے، پھیرے مانتے، صدیوں پرانی قبروں اور بنے ٹھنے قبوں کے آگے جھکتے ان سے اپنی مرادیں مانگتے، حاجتوں کا سوال کرتے، ان کی نام کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے اور دیگیں پکاتے ہیں۔ اور ایسے اور اس حد تک کہ حضرت قادر مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کو بھول ہی گئے اور یہاں تک کہ ان میں سے بعض اس طرح کا کفر بکتے ہیں کہ ہمیں تو سب کچھ یہیں سے اور اسی قبر والے کی طرف سے اور اسی درگاہ سے ملتا ہے۔ ہم تو بس اسی درگاہ کے کتے ہیں۔ یہاں سے نہیں ہٹیں گے اور اس کو کبھی نہیں چھوڑیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس قدر کفر و شرک اور ایسی بغاوت و سرکشی کے باوجود ایسے ظالموں کو ڈھیل دینا، اسی وحدہ لا شریک کی شان حلم و کرم کا کام ہوسکتا ہے اور بس ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کسی کے لیے ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
325 اللہ تعالیٰ کی شان کن فیکون کا ذکر : سو یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ یعنی وہ جب کوئی کام کرنا چاہتا تو اس کیلئے اس کو کوئی لمبی چوڑی تیاری نہیں کرنی پڑتی۔ جیسا کہ انسانوں کے یہاں ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو اس کیلئے صرف حکم فرمانا ہوتا ہے اور بس۔ اور اس سے بھی مراد کلمہ " کُنْ "، " ہوجا " بولنا نہیں بلکہ یہ دراصل کنایہ ہے اس کے ارادے سے ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ ورنہ اس کے یہاں یہ لفظ بولنے کی بھی حاجت نہیں بلکہ جونہی کسی چیز کا ارادہ فرمایا اور چاہا وہ ہوگئی ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسی اقدس و اعلیٰ شان ہے اس خالق ومالک وحدہ لاشریک کی ؟ اور کس قدر غلط اور ٹیڑھی سوچ والے ہیں وہ لوگ جو اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے اس کے لیے طرح طرح واسطے اور وسیلے گھڑتے اور ڈھونڈتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سبحانہ و تعالی۔ سو اس وحدہ لا شریک کے لئے شریک وسہیم ماننا، اور اس کی رحمت و عنایت تک رسائی کیلئے وسیلے ڈھونڈنا کتنا بڑا ظلم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کل زیغ و ضلال -
Ayahs 2:118–119326 علم حق کے نور سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ : اور اس طرح ایسے لوگ حق اور حقیقت کے ادراک سے بیخبر ہوتے ہیں کہ اس طرح کے احمقانہ اور گستاخانہ سوالات کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے، جو علم کے نور سے محروم ہوتے ہیں۔ ورنہ جو لوگ حق اور حقیقت کا علم رکھتے ہیں ان کی شان ہی الگ ہوتی ہے۔ وہ ایسے سوالات کبھی نہیں کرتے۔ سو علم اصل میں وہی ہے جو انسان کو حق اور حقیقت سے آگاہ و روشناس کرے ورنہ انسان جاہل ہی ہے خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ اٹھائے ہوئے ہو، بلکہ وہ جہل بسیط سے بڑھ کر جہل مرکب کا شکار ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس حق اور حقیقت کا علم ہی وہ اصل علم اور اسکا نور ہی وہ اصل نور ہے جو انسان کیلئے حق اور صواب کی راہیں روشن کرتا اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتا ہے، ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
327 اہل باطل کے غرور اور گھمنڈ کا ایک خاص پہلو : یعنی ان کا کہنا ہے کہ اللہ ہم سے براہ راست بات کیوں نہیں کرتا، جیسا کہ وہ فرشتوں سے کرتا ہے، یا جس طرح کہ اس نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے کلام کیا۔ یا بالواسطہ طور پر وحی اور فرشتے کے ذریعے، جس طرح کہ وہ دیگر انبیاء و رسل سے کلام کرتا ہے۔ سو یہ ان لوگوں کے تکبرو عناد کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنے گھمنڈ کی بناء پر اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ لیا، جیسا کہ سورة فرقان کی بائیسویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { لَقَد اسْتَکْبَرُوْا فِٓیْ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا } ۔ سو تکبر اور اپنی بڑائی کا جھوٹا گھمنڈ، اور ایمان و یقین سے محرومی، اور قیامت اور اس کی بازپرس سے بےفکری ایسے ہی گل کھلاتی ہے کہ اس میں مبتلا ہو کر انسان اسی طرح کی خرمستیاں کرنے لگتا ہے ۔ َالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ سو اللہ پاک نہ ہر کسی سے کلام فرماتا ہے اور نہ ہی یہ بات عقل اور نقل کے تقاضوں کے مطابق ہے کہ وہ ہر کسی سے براہ راست کلام فرمائے۔ اور نہ ہی ہر کسی کے اندر اس کی اہلیت و صلاحیت ہی ممکن ہے، کہ وہ براہ راست اللہ پاک کے کلام کو سننے کا متحمل ہوسکے۔ بلکہ اس مقصد کیلئے وہ مالک مطلق اپنے بندوں میں سے کچھ کو چنتا ہے، اور ان کو نبوت و رسالت کے شرف سے نواز کر انکے ذریعے تمام مخلوق تک اپنا کلام پیغام پہنچاتا ہے، ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہی تقاضا ہے عقل اور نقل کا۔ اور اسی میں بھلا ہے بنی نوع انسان کا۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔
328 مشرکین کا فرمائشی معجزے کا مطالبہ : یعنی ان کی ان فرمائشی نشانیوں میں سے کوئی نشانی، جن کا مطالبہ یہ لوگ کیا کرتے تھے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 90 سے آیت نمبر 93 میں ذکر فرمایا گیا ہے، کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے اس زمین کو پھاڑ کر اس میں سے ایک عظیم الشان چشمہ جاری کردیں۔ یا آپ کیلئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی ایسا عظیم الشان باغ ہو جسکے درمیان نہریں رواں دواں ہوں، یا آپ آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دیں۔ جیسا کہ آپ کا دعوی ہے۔ یا آپ اللہ اور اس کے فرشتوں کو ہمارے سامنے لاکھڑا کریں۔ یا آپ کیلئے سونے کا ایک گھر ہو، یا آپ آسمان میں چڑھ جائیں اور صرف چڑھنے ہی کو ہم نہ مانیں گے، یہاں تک کہ آپ ہم پر کوئی ایسی کتاب نہ اتار دیں جس کو ہم خود پڑھیں۔ سو ان سب کے جواب میں پیغمبر کو یہ کہنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ کہو میں تو محض ایک بشر اور انسان ہوں جس کو رسول اور پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے اور بس ۔ { ھَلْ کُنْتُ اِلّا بَشَرًا رَّسُوْلًا } ۔ یعنی میں نے ایسی کسی خدائی صفت کا کوئی دعویٰ کیا ہی کب ہے کہ تم لوگ مجھ سے اس طرح کے سوالات کرو ؟ جن کا تعلق خدائی صفات و اختیارات سے ہے ؟ میں تو اللہ کا پیغام پہنچانے والا ایک بشر اور رسول ہوں اور بس۔ سو میرا پیغام اگر تم لوگ صدق دل سے قبول کروگے تو تمہارا اپنا بھلا ورنہ خود تمہارا نقصان ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ بہرکیف مشرکین نے کہا کہ اللہ براہ راست ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ سو یہ نشانی ہے ان لوگوں کے کبر و غرور کی ۔ والعیاذ باللہ ۔
329 حق سے محروم لوگوں کے مطالبے ایک ہی طرح کے : یعنی یہ صرف آج کی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے کے منکروں کا حال بھی یہی تھا کہ انہوں نے بھی اپنے انبیاء و رسل سے اسی طرح کے مطالبے کئے جیسے یہود نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا ۔ { اَرِنَا اللّّٰہَ جَہْرَۃً } ۔ نیز انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے، وغیرہ وغیرہ۔ سو ان لوگوں کا اس طرح کہنا کوئی حقیقت حال کو جاننے اور سمجھنے کیلئے نہیں تھا بلکہ محض عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تھا (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت اور دولت ایمان و یقین سے محروم لوگوں کا حال ہمیشہ ایک ہی طرح کا رہا، اور انہوں نے اپنی بےفکری، لاپرواہی اور عناد و ہٹ دھرمی وغیرہ کی بناء پر ہمیشہ اسی طرح کے لایعنی مطالبات و سوالات کیے اور اس کے نتیجے میں پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ کر انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
330 اہل باطل کے دل آپس میں ایک جیسے : کجی و قساوت اور زیغ و ضلال وغیرہ میں، اور زبان تو محض ترجمان ہے دل کی۔ جو کچھ دل کے اندر ہوگا وہی زبان پر آئے گا۔ اور اعضاء وجوارح تو سلطان دل کے کارندے، اور اس کے حکم پر چلنے والے ہیں۔ سو جب دل بگڑ اور بدل گئے، تو پھر ان اعضاء کی درستگی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ اسی کو حضرت نبئ معصوم ـــعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مشہور و معروف ارشاد سامی میں اس طرح بیان فرمایا کہــ " انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ جب وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوگا، اور جب وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا، آگاہ رہو کہ وہ ٹکڑا دل ہے " ۔ ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــاَللّٰہُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوْب ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلٰی دِیْنِکََ ـ اَللّٰہُمَّ مُصََرِّفَ الْقُلُوْب صَرِّفْ قُلُوْبَناَ اِلٰی طَاعَتِکَ , وَ احْفَظْنََا منْ اَمْرََاض الْبَاطِنِ وَ الظَّاہِر بہرکیف ــاہل باطل کے دل اور ان کے بواطن آپســــــ میں چونکہ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں اور کفر و باطل کی سیاہی ان سب ہی پر چھائی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے ان کے مونہوں سے باتیں بھی ایک ہی طرح کی نکلتی ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ سو اصلاح و فساد کا اصل تعلق انسان کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔
331 ہم نے کھول کر بیان کردیں اپنی نشانیاں ــــ:ــــ ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور نشانیوں سے مستفید ہونے کیلئے اولین شرط نور ایمان و یقین سے سرفرازی ہے جس سے ایسے منکر اور ہٹ دھرم لوگ محروم ہیں تو پھر یہ ان سے آخر کیوں اور کس طرح مستفید ہوسکتے ہیں۔ بہر کیف اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ ایک نشانی کیا ہم نے تو طرح طرح کی ایسی نشانیوں کا سامان کیا ہے جو کہ احقاق حق، اور ابطال باطل کیلئے کافی و وافی ہیں۔ جن میں سب سے بڑی نشانی جو ہزاروں نشانیوں پر مشتمل ہے، قرآن حکیم کی یہ عظیم الشان نشانی ہے، جو کہ آیت خالدہ اور معجزہ کبریٰ کے طور پر قیامت تک موجود و محفوظ رہے گی مگر اس سے فائدہ انہیں لوگوں کو پہنچ سکے گا جو ضد وعناد اور ہٹ دھرمی سے پاک صاف ہو کر اور تعصب کی عینک اتار کر صدق دل سے اس کی طرف رجوع کریں گے اور ایمان لانا اور یقین حاصل کرنا چاہیں گے، اور اس کے برعکس جو لوگ اعراض و استکبار اور عناد و ہٹ دھرمی سے کام لیں گے اور اپنے دل و دماغ کے منافذ اور اپنے سمع و بصر کے ذرائع علم و ادراک بند کرلیں گے، وہ بہرحال اس سے محروم ہی رہیں گے۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ -
Ayah 2:120333 ہٹ دھرموں کے لئے محرومی ہی محرومی ـ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : ۔ سو ہٹ دھرم لوگ کبھی نور حق و ہدایت سے مستفید و فیضیاب نہیں ہوسکیں گے کہ ان کے مذہب کی پیروی آپ کیلئے ممکن نہیں، اور جو ناممکن پر موقوف و معلق ہو وہ بھی ناممکن و محال ہے۔ پس ان ہٹ دھرم لوگوں کا ایمان لانا ناممکن ہے۔ لہذا آپ ﷺ اپنی عظیم الشان رحمت وشفقت کی بناء پر ان کے پیچھے لگ کر خود تکلیف نہ اٹھائیں، کہ ان کی محرومی ان کے اپنے ہی عناد، اِعراض اور استکبار ہی کا نتیجہ ہے۔ آپ ﷺ کا اس میں بہرحال کوئی قصور نہیں۔ اور ہٹ دھرم لوگ نور حق و ہدایت سے کبھی مستفید و فیضیاب نہیں ہوسکتے، کیونکہ اس سے استفادہ اور فیضیابی کیلئے اصل اور بنیاد طلب صادق ہے جس سے ایسے لوگ محروم ہوتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔
334 اہل باطل کا دین صرف خواہشات کی پیروی : یہاں پر ان کے دین و مذہب کو " اَہْوَائَ " " خواہشات " کے لفظ سے تعبیر فرما کر دراصل اس بنیادی حقیقت سے پردہ اٹھا کر یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ جس مذہب کے یہ لوگ دعویدار ہیں، وہ درحقیقت کوئی مذہب نہیں، بلکہ ان کی اپنی خواہشات کا پلندہ ہے، جس کو یہ لوگ دین و مذہب کے نام سے چلانے اور رواج دینے میں لگے ہوئے ہیں، اور اس طرح یہ لوگ دراصل دین و مذہب کے نام سے اور اس کے پردے میں اپنی ان خواہشات کی تکمیل کا سامان کررہے ہیں۔ اور اس پر یہ اپنے طور بدمست و مگن ہیں کہ یہ اچھا کررہے ہیں۔ مگر ان کو اس کا کوئی شعور و احساس نہیں کہ اس طرح یہ اپنے لیے کیسی ابدی محرومی اور ہولناک تباہی کا سامان کررہے ہیں، ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ اور اہل باطل دین و مذہب کے نام سے جن مختلف رسوم و طقوم کو اپنائے ہوئے ہیں، ان سے ان کی خواہشات کی تکمیل کے جو سامان وابستہ ہیں اور جن طرح طرح کی عیاشیوں اور عیش پرستیوں سے یہ لوگ کام لے رہے ہیں، وہ کسی بھی صاحب فکر و بصیرت سے مخفی نہیں، اس لیے ایسے لوگ اپنی ان خواہش پرستیوں کو چھوڑ کر دین حق کو اپنانے کیلئے کبھی آمادہ اور تیار نہیں ہوسکتے، الا ماشاء اللہ۔ اگر کسی نے ان کی عیش پرستیوں اور خر مستیوں کے نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہوں تو جا کر ان گرجاؤں، مندروں اور آستانوں وغیرہ میں خود دیکھ لے۔ اس کو نظر آئے گا کہ وہاں پر کیا کیا سامانہائے عشرت و عیش پرستی موجود ہیں۔ اور کن کن رنک رنگلیوں سے وہاں کام لیا جا رہا ہے ـ۔ اور وہاں کی " فادر "، " بشپ "، " سادھو "، " بھکشو "، " ملنگ "، " نانگے " اور فقیر و درویش وغیرہ وغیرہ کن کن عیش پرستیوں میں محو و منہمک ہیں، الا ما شاء اللہ جل وعلا ـ۔ والعیاذ باللہ سبحانہ وتعالی ـ۔ تو پھر ایسے لوگ اس دین حق کو اپنانے کے لئے کس طرح تیار ہوسکتے ہیں جس میں نبئ امّی ۔ فداہ لحمی ـ ۔ اپنی امت کو اس طرح کا درس دیتے ہیں کہ " سب سے برا برتن جو انسان بھرتا ہے وہ اس کا پیٹ ہے۔ آدمی کو تو بس چند لقمے چاہئیں جن سے اس کی پیٹھ سیدھی ہو سکے اور بس۔ اور اس سے زیادہ اگر کچھ کھانا پینا ہے بھی تو اس کو تین حصوں پر تقسیم کرے۔ ایک حصہ کھانے کیلئے ایک پانی کیلئے اور ایک حصہ سانس کیلئے ـ۔ سبحان اللہ ! کہاں دین حنیف کی یہ تعلیمات مقدسہ اور ہدایات عالیہ اور کہاں ادیان باطلہ کی وہ رنگ رلیاں اور فتنہ سامیانیاں جن کے نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں۔ سو دین حق ایک اور صرف ایک ہے یعنی اسلام مجید اور باقی سب نفس و شیطان کے دھوکے اتباع ہوی اور خواہشات کی پوجا و پرسش کے سامان ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ اللہم فخذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک یا ذا الجلال والاکرام
335 دین حق سے منہ موڑنے والوں کے لئے نہ کوئی یار نہ مددگار : سو دین حق سے منہ موڑ کر خواہشات کی پیروی کرنے والوں کیلئے نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ یہاں پر خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ ہی سے ہے، کہ وحی الہٰی کے اصل اور اولین مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں ﷺ مگر اس میں سنانا اور بتانا دراصل دوسروں کو ہے، کہ حق سے منہ موڑنا اور باطل کی پیروی کرنا، اس قدر سنگین جرم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمٍ ۔ کہ اگر بالفرض آپ بھی ایسا کریں گے اے پیغمبر ! تو آپ کیلئے بھی اللہ کی گرفت و پکڑ سے چھڑانے اور بچانے کیلئے کوئی یارومددگار نہیں ہوسکے گا، تو پھر دوسروں کا کیا حال ہوگا ؟ سو خطاب اگرچہ اس میں آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے، ؟ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ اَللّٰہُمَّ فثَبِّتْ اَقْدَامَنَا عَلَی الصِّرَاط الْمُسْتََقِیْم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ـ