Ayah 2:233658 مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال : ان کیلئے جو یہ مدت پوری کرنا چاہئیں، اور جو مائیں یہ مدت پوری نہ کرنا چاہیں، وہ اس سے پہلے بھی اپنی مصلحت و ضرورت کے مطابق جب چاہیں دودھ چھڑا سکتی ہیں۔ اور " وَالِدَات " کا لفظ عام ہے، خواہ وہ طلاق والی ہوں، یا غیر مطلقہ ہوں۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ کیونکہ ماں کا دودھ بچے کیلئے سب سے عمدہ اور افضل دودھ اور سب سے زیادہ مفید اور مناسب غذا ہے۔ اور ایسی اور اس حد تک کہ اس کا کوئی نعم البدل ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا، اس پر سب اطباء اور تمام ڈاکٹروں کا اتفاق ہے۔ اور ماں کا دودھ بچے کی عمر کے مطابق قدرت کی طرف سے خودبخود، حسب ضرورت بدلتا جاتا ہے، اور اس باریک حساب سے، اور حیرت انگیز طور پر، کہ اس کا اور کوئی بدل ممکن نہیں ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ خَالِقٍ عَلِیْمٍ قَدِیْرٍ ۔ اسی لئے ڈبوں وغیرہ کے دوسرے مصنوعی دودھ مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، خاص کر بچوں کے نقصان دہ موٹاپے وغیرہ کی اصل اور بڑی وجہ یہی مصنوعی دودھ ہوتے ہیں، جو ان کو بچپن میں پلائے جاتے ہیں۔ چناچہ اب خود یورپ وغیرہ کے ان ملکوں میں جو یہ دودھ تیار کرتے ہیں ان کے خلاف کام کرنے والی مستقل اور مختلف قسم کی ٹیمیں اور جماعتیں کام کرنے لگی ہیں۔ حالانکہ یہ مضرت و نقصان کا صرف مادی اور حسی پہلو ہے جو ان لوگوں کے سامنے ہے۔ جبکہ اس کا معنوی اور دینی پہلو اس سے بھی کہیں بڑھ کر نزاکت اور اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ عورت کا دودھ بچے کیلئے صرف غذاء ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی تعمیر یا تخریب کا ایک بڑا اہم سبب اور بنیادی عنصر بھی ہوتا ہے، کہ اس کے ذریعے ماں کے اخلاق، اس کی عادات وصفات، اور اس کی محبت و شفقت، کے اثرات وغیرہ سب کچھ بچے میں منتقل ہوتا ہے، اور ظاہر ہے کہ ماں کے دل میں اپنے بچے کیلئے محبت و شفقت، اور ہمدردی و پیار وغیرہ کے جو جذبات و احساسات پائے جاتے ہیں، وہ دوسری کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہوسکتے۔ پھر ماں کے علاوہ جو عورت بچے کو دودھ پلائے گی اس کے اخلاق اور اس کی صحت کے بارے میں بھی پورے جزم و یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ حالانکہ اولاد انسانی زندگی کا سب سے بڑا ثمرہ، اور سب سے عمدہ پھل ہوتا ہے۔ اس کی بنا و اصلاح سے دوسرے کتنوں کا اور کس کس طرح سے بھلا ہوگا، اور اس کے فساد و بگاڑ اور بےراہ روی کے آثار و نتائج کہاں کہاں تک پہنچیں گے، اور کس کس شکل میں پہنچیں گے، اس کا پوری طرح احاطہ و ادراک اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے ممکن ہی نہیں۔ اس لئے دین حق اسلام نے اولاد کی اصلاح اور تربیت و تہذیب کا جس قدر اہتمام کیا ہے، اس کی کوئی نظیر و مثال دنیا کے دوسرے کسی بھی دین و مذہب میں ڈھونڈے سے بھی کہیں نہیں مل سکے گی۔ پس کتنے خسارے اور کس قدر گھاٹے میں ہیں، وہ ماں باپ جو اس اہم ذمہ داری سے غفلت برتتے ہیں، اور اپنی اولاد کو ان نوکرانیوں اور خادماؤں کے حوالے کردیتے ہیں، جن کے نہ دین و ایمان کا کچھ پتہ ہوتا ہے، اور نہ ان کے اخلاق و کردار کا۔ جیسا کہ آج بہت سے مسلمان ملکوں اور مسلمان گھرانوں میں ہو رہا ہے، خاص کر خوشحال اور کھاتے پیتے گھرانوں، اور عیاش اور بےفکر حلقوں میں، جس سے آگے چل کر طرح طرح کے المناک فتنے اور ہولناک مفاسد جنم لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
659 والد کی بجائے " مَوْلُوْد لَہٗ " کہنے کی حکمت : یہاں پر والد کہنے کی بجائے " مَوْلُوْد لَہٗ " فرمایا گیا۔ حالانکہ والد کا لفظ اس کے مقابلے میں مختصر تھا، اس لئے کہ اس میں ایک تو یہ درس ہے کہ اولاد چونکہ باپ ہی کی ہوتی ہے، اس لئے یہ اصل اور بنیادی ذمہ داری اسی کی بنتی ہے کہ وہ اس کی پرورش اور رعایت و نگہداشت کے بارے میں پورا خیال رکھے، کہ مآل و انجام کے اعتبار سے اس کا فائدہ، بہرحال اسی کا پہنچے گا۔ اور اس کی یہ ذمہ داری بھی اس کی حیثیت کے مطابق ہی ہوگی، جیسا کہ سورة طلاق کی آیت نمبر 7 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، جیسا کہ اس کا کچھ ذکر اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ بچے کے باپ کے ذمے ہے کہ وہ اس کو دودھ پلانے والی عورتوں کی اپنی حیثیت کے مطابق خوراک اور پوشاک کا انتظام کرے کہ بچہ اسی کا ہے اور اس کا نسب وتعلق بھی اسی کے ساتھ ہے۔ اس لیے یہ ذمہ داری اسی کی بنتی ہے اور اس کا نفع اور فائدہ بھی اسی کو پہنچے گا۔ اور ۔ " الغرم بالغنم " ۔ کے مشہور و معروف ضابطے اور اصول کا تقاضا بھی یہی ہے۔
660 حد سے بڑھ کر کسی کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں : امیر کو اس کی حیثیت کے مطابق، اور غریب کو اس کی حیثیت کے مطابق۔ اور یہ دین حنیف کا ایک بنیادی ضابطہ اور مستقل اصول ہے کہ کسی بھی انسان کو اس کی حیثیت اور طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دی جاتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { لا یُکَلِّفُ اللّٰہ نَفْسًا اِلَا وُسْعَہَا۔} (البقرۃ۔ 286) نیز فرمایا گیا { لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلّا مَا اٰتٰہَا } الآیۃ۔ (الطلاق۔ 7) سو " مرضعہ " یعنی دودھ پلانے والی عورت کو خوراک و پوشاک کے سلسلہ میں شوہر کی حیثیت، عورت کی ضروریات اور گردوپیش کے حالات کو پیش نظر رکھ کر فریقین فیصلہ کریں گے کہ عورت کو نان و نفقہ کے طور پر کیا دیا جائے ؟ اور اس کے لئے کیا مناسب ہوسکتا ہے۔
66 1 ماں کو اس کے بچے کی بنا پر تکلیف میں ڈالنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کسی ماں کو اس کے بچے کی بناء پر تکلیف میں نہ ڈالا جائے۔ مثلًا یہ کہ اس کو اس کے اپنے بچے کے دودھ پلانے کے حق سے محروم کردیا جائے، یا دودھ پلانے کی صورت میں اس کے نان و نفقہ میں کمی کردی جائے۔ یا اس کو اپنے بچوں کی زیارت و ملاقات وغیرہ سے محروم کردیا جائے، وغیرہ۔ سو اس کو اس طرح کی کسی بھی تکلیف میں ڈالنا اور ایذاء پہنچانا جائز نہیں۔ اور دین حنیف کا مستقل اصول اور ضابطہ یہ بھی ہے کہ نہ نقصان اٹھاؤ نہ نقصان پہنچاؤ۔ نیز یہ کہ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر کوئی ظلم کیا جائے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ } ۔ (البقرہ : 279) ۔ اور حدیث صحیح میں فرمایا گیا، " لَا ضَرَرَ وَ لَا ضِرَارَ فِی الاِسْلَام " یعنی اسلام میں نہ تو نقصان اٹھانے کی اجازت ہے نہ نقصان پہنچانے کی۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے ضَرَر سے بچائے اور ضرار سے بھی ۔ آمین ثم آمین۔
662 باپ کو اس کے بچے کی بنا پر تکلیف میں ڈالنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی کسی باپ کو اس کے بچے کی بناء پر تکلیف میں ڈالا جائے۔ مثلاً یہ کہ ماں دودھ پلانے سے انکار کر دے، تاکہ اس طرح وہ دوسری عورتوں کو دایہ بنانے اور ان سے دودھ پلوانے پر مجبور ہوجائے، یا اس سے نان و نفقہ میں اس کی طاقت و حیثیت سے بڑھ کر مطالبہ کیا جائے، یا وہ بچے کی تربیت اور اس کی پرورش میں کوتاہی سے کام لینے لگے، اور اس کی جسمانی یا اخلاقی تربیت میں جان بوجھ کر غفلت برتنے لگے۔ تاکہ اس طرح وہ بچے کے باپ کو تنگ کرکے اور اس کو مشکلات میں ڈال کر من مانی کرنے لگے وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسی کوئی بھی صورت جائز نہیں کہ ضرر اور اضرار کی ہر شکل اسلام میں ممنوع ہے جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں گزرا۔ سو بچے کی آڑ لے کر باپ پر کوئی بھی ناروا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
663 خاندانی امور و معاملات میں باہمی مشورے کی ہدایت : سو اس سے خاندانی امور میں خاندان والوں کے مشورے کی ضرورت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ یہاں سے باہمی مشورہ کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، جو کہ اسلام کی مقدس تعلیمات کا ایک اہم حکم اور بنیادی عنصر ہے، کہ گھر کے اندر کے مسائل کے بارے میں گھر والے مشورہ کریں۔ محلہ اور شہر کے مسائل، اہل محلہ اور اہل شہر کے اصحاب رائے کے باہمی مشوروں سے طے ہوں۔ اور ملکی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مفکر و دانشور اور اصحاب فکر و بصیرت باہم مشورہ کریں، تو ایسے فیصلوں سے خیر ہی پھیلے بڑھے گی۔ اسی لئے قرآن حکیم میں ایک مستقل سورت سورة شوریٰ کے نام سے نازل ہوئی ہے، جس میں مومنوں کی ایک مستقل صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے ۔ { وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ } ۔ یعنی ان کے اجتماعی اور اہم امور ان کے باہمی مشوروں سے طے ہوتے ہیں اور ایک حدیث شریف میں فرمایا گیا " مَا نَدِمَ مَنْ اِسْتَشَارَ وَلاَ خَابَ مَن اسْتَخَارَ " یعنی جس کسی نے مشورہ سے کام لیا وہ کبھی نادم اور شرمندہ نہیں ہوگا۔ اور جس نے استخارہ کرکے کام کیا وہ ناکام و نامراد نہیں ہوگا۔ سبحان اللہ ! کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیمات ہیں یہ، جن سے دین حنیف نے دنیا کو نوازا ہے، مگر دنیا کی بےقدری اور ناشکری ملاحظہ ہو کہ وہ اس کے باوجود ان ہدایات عالیہ اور تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑے ہوئے ہے، الاماشاء اللہ اور یہ ناشکری اور بےانصافی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ماں باپ دونوں باہم مشورے سے اس سے پہلے ہی دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔
664 دایہ کو اس کا طے شدہ معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت : کہ اپنے قول وقرار کو نبھانا ضروری ہے اور کسی کا حق مارنا یا اس میں کمی و کوتاہی کرنا جائز نہیں۔ اس لیے تم دایہ کو اس کا مقرر کردہ معاوضہ پورے طور پر ادا کردیا کرو۔ ایک تو اس لیے کہ اپنے عہد و پیمان اور قول وقرار کو نبھانا اور پورا کرنا تمارے ایمان و عقیدہ کا تقاضا ہے اور دوسرے اس لیے کہ دایہ کو خوش رکھنا، خود بچے کیلئے اور اس کے والد کیلئے بھی مفید ہے کیونکہ جب دایہ خوش ہوگی تو بچے کی پرورش دل و جان سے کرے گی، ورنہ وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گی، جس سے بچے کی تربیت متاثر ہوگی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر دایہ طبعی طور پر مطمئن اور خوش نہیں ہوگی تو اس کا اثر اس کے دودھ پر بھی پڑے گا، اور اس کا دودھ بھی اس کے نتیجے میں خراب ہوجائے گا۔ جس سے بچے کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔ جس سے لازمی طور پر بچے کے باپ کو بھی تکلیف پہنچے گی اور صدمہ ہوگا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو عقل و نقل سب کا تقاضا یہی ہے کہ دایہ کو اس کی طے کردہ اجرت پوری کی پوری ادا کی جائے، اور اس کی کسی بھی طرح کی حق تلفی نہ کی جائے۔
665 اللہ تعالیٰ کی نگرانی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ دیکھ رہا ہے تمہارے ان کاموں کو جو تم لوگ کررہے ہو۔ پس اس کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے اور ڈرتے رہنا، کیونکہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، مگر وہ بہرحال تمہیں دیکھتا اور پوری طرح سے دیکھتا اور جانتا ہے، اور اسی کے حضور تم نے حاضر ہو کر اپنے کئے کرائے کا حساب دینا ہے اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ فَوَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی فِی کُل شَأنٍ مِّنْ شُوُوْن حَیَاتِنَا مِنَ السِّرّیّۃ مِنْہا والْعَلَانِیّۃ۔۔ سو خوف خداوندی ایک وہ اہم اور بنیادی عنصر ہے جو انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کردیتا ہے اور انسان پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنتا چلا جاتا ہے۔ پس بندہ مومن کا کام اور اس کی صفت وشان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات کو اپنے پیش نظر رکھے کہ میرا معاملہ میرے خالق ومالک کے ساتھ صحیح رہے اور وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے کہ یہ اس کا حق واجب بھی ہے کہ وہ میرا خالق ومالک ہے اور میں اس کا بندہ و مخلوق اور اسی کا مملوک ہوں۔ اور اسی میں خود میرا بھلا بھی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید -
Ayahs 2:234–235666 عدت وفات کا بیان : سو وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی، مگر یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کو حمل نہ ہو، کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاُولَاتُ الْاحْمَال اَجَلُہُُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنّ } ۔ (الطلاق : 4) ۔ آگے ایک آیت کریمہ میں آئے گا کہ عدت وفات ایک سال ہے سو وہ حکم پہلے تھا جو اس آیت کریمہ سے منسوخ ہوگیا۔ پس یہ آیت کریمہ تلاوت کے اعتبار سے اگرچہ مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے موخر ہے۔ (معارف للکاندھوی (رح) ) ۔ اور عام مطلقہ کی بنسبت بیوہ کی عدت میں یہ اضافہ استبراء رحم، عورت کی سہولت اور اس کے سوگ وغیرہ مختلف مصلحتوں کی بناء پر ہے۔ عورت کمزور دل، صنف نازک اور شدید الاحساس ہونے کی وجہ سے شوہر کی وفات کے صدمے کو محسوس بھی زیادہ کرتی ہے، اور حالت بیوگی میں وہ ہمدردی کی محتاج اور مستحق بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اسکا زمانہ عدت زیادہ رکھا گیا ہے، تاکہ شوہر کی وفات کے صدمے کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے شوہر کی ڈیوڑھی چھوڑنے کا صدمہ بھی نہ اٹھانا پڑے۔ سبحان اللہ ! دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں دوسروں کے مشاعر و احاسیس کا کسقدر خیال و احساس اور پاس ولحاظ رکھا گیا ہے تاکہ کسی کے آبگینہ احساس کو کوئی ٹھیس نہ پہنچنے پائے۔ اور ہر ایک کا حق پوری طرح محفوظ رہے۔ فالحمد للہ -
667 عدّت کے بعد ایسی عورتوں کیلئے آزادی و اختیار کا بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انقضائ عدت کے بعد ایسی عورتیں دستور کے مطابق جو کریں اس میں اولیاء پر کوئی گناہ نہیں۔ کیونکہ عدت گزرنے کے بعد ان کو زیب وزینت اختیار کرنے اور نئے نکاح کی اجازت ہے۔ اور جو زیب وزینت اس سے پہلے ان کے لیے ممنوع تھی وہ اب مباح ہوگئی۔ ہاں اگر عدت کی تکمیل سے پہلے اس طرح کی کوئی بات کرتیں تو ان کے سرپرستوں اور دوسرے مسلمانوں کو ان کے روکنے کا حق تھا۔ یہاں تک کہ ان کو اس سلسلہ میں حکومت وقت سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی تو بھی لیتے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ لیکن عدت کو پورا کرلینے کے بعد ان پر ایسی کوئی روک اور پابندی روا نہیں۔ بلکہ وہ اپنے معاملے میں آزاد اور خود مختار ہیں۔
668 دستور کے خلاف کام سے روکنے کی اجازت : البتہ ان کی یہ آزادی معروف کی قید کے ساتھ مقید ہے۔ پس اگر وہ دستور کے خلاف کوئی کام کریں، تو تمہیں بولنے اور مداخلت کرنے کا حق حاصل ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ عدت گزرنے سے پہلے ایسا کوئی کام کرنے لگیں، جو عدت کے دوران کرنا جائز نہیں، یا غیر کفوء میں نکاح کرنے لگیں، یا یہ کہ یونہی کسی سے ناجائز تعلقات استوار کرنے لگیں، وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس صورت میں ان کو روکنے اور منع کرنے کی اجازت ہے۔ بلکہ ایسا کرنا ضروری ہے کہ ازالہ منکر بقدر استطاعت واجب ہے، ورنہ مذکورہ عدت گزار چکنے کے بعد وہ اپنے بارے میں آزاد ہیں۔ جو قدم اپنے مناسب حال سمجھیں اٹھا لیں۔ اس میں نہ ان پر کوئی اعتراض و الزام اور نہ انکے اولیاء پر کوئی اعتراض و الزام۔
669 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ سو اللہ اپنے بندوں کے ہر ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ تمہارا کوئی بھی عمل اس سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ پس تم ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی کوشش اور فکر میں رہا کرو، کہ کوئی جانے یا نہ جانے، وہ بہرحال سب کچھ جانتا ہے۔ اور اسی کے حضور حاضر ہو کر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جوابدہی کرنی ہے، اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی کا یہ حق ہے کہ بندہ ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کو اپنے پیش نظر اور سب سے مقدم رکھے۔ سو خداوند قدوس نے اپنے بندوں کیلئے جو احکام نازل فرمائے۔ اور جو حدود اس نے ان کیلئے مقرر فرمائیں، ان کی پوری پابندی کرنی چاہیئے اور اس بات کو یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ اپنے بندوں کے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بس معاملہ اس سے صحیح رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 2:236677 " خلوت صحیحہ " سے پہلے طلاق کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے پہلے کہ تم نے ان کو ہاتھ لگایا ہو۔ یعنی ان سے صحبت اور مباشرت نہ ہوئی ہو۔ اور " خلوت صحیحہ " بھی اسی کے قائم مقام ہے۔ یعنی ایسی خلوت جس میں مباشرت سے کوئی مانع موجود نہ ہو۔ نہ طبعی جیسے حیض و نفاس وغیرہ۔ اور نہ شرعی جیسے حالت صیام وغیرہ۔ کہ ایسی خلوت " خلوت صحیحہ " کہلاتی ہے اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو کہ صحبت اور مباشرت کا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دے دے کہ نہ اسکا مہر مقرر کیا ہو اور نہ اس نے اس کو چھوا ہو، تو اس صورت میں اس پر مہر کے بارے میں کوئی گناہ نہیں، کہ اس صورت میں وہ اس کو دستور کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کردے جیسا کہ آگے آرہا ہے، اور جس کو " متعہ " کہا جاتا ہے۔ اور جو ایسی صورت میں واجب ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ دوسری صورتوں اور عالم حالات میں وہ بہتر اور مستحب کے درجے میں ہوتا ہے۔
678 " متعہ ٔ طلاق " کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی صورت میں تم ان کو کچھ سامان دے دیا کرو کیونکہ ایسی صورت میں جبکہ مباشرت اور " خلوت صحیحہ " بھی نہیں ہوئی، اور مہر بھی مقرر نہیں تھا، خاوند پر طلاق دینے سے مہر تو کچھ لازم نہیں ہوگا، البتہ وہ کچھ سامان (متاع) دے کر اس کو عزت کے ساتھ رخصت کر دے۔ اور اگر مباشرت یا " خلوت صحیحہ " ہوئی ہوتی، اور مہر مقرر نہ ہوتا تو مہر مثل دینا پڑتا۔ اور اگر کچھ مقرر ہوتا تو وہ پورا اداء کرنا پڑتا۔ اور اگر مہر تو مقرر ہوتا مگر مباشرت یا خلوت نہ ہوئی ہوتی تو مہر مقرر کا آدھ حصہ دینا پڑتا، جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے اور یہ متعہء نساء ۔ جس کا یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے ۔ اس عورت کیلئے دینا تو واجب ہے جس کا مہر مقرر نہ ہو اور اس کی طلاق قبل ازیں واقع ہوگئی ہو۔ جبکہ اس کے علاوہ دوسری مطلقات کیلئے یہ واجب نہیں، محض مستحب ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ سو اس میں بھی حسن معاملہ اور مکارم اخلاق کی اعلیٰ تعلیم دی گئی ہے۔ والحمد للہ -
679 متعہ طلاق کے لزوم و وجوب کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسی صورت میں متعہ طلاق نیکوکاروں کے ذمے حق واجب ہے۔ پس احسان اور نیکو کاری کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے محسن اور نیکوکار لوگ اس حق کو ضروری طور پر، اور برضاو رغبت ادا کریں۔ اور اس میں کسی لیت ولعل، تسویف و تاخیر، اور ٹال مٹول سے کام نہ لیں۔ اور حکمت و مصلحت اس متعہ اور سامان کی یہ ہے کہ عورت کو جب مباشرت اور خلوت صحیحہ سے قبل طلاق دے دی جاتی ہے تو اس کی عزت و شرافت پر بٹہ لگتا ہے اور عام لوگ کہنے لگتے ہیں کہ قصور اس عورت ہی کا ہے ورنہ اسکا خاوند اس کو اس طرح طلاق کیوں دیتا۔ تو اس طرح اس کی عزت داغدار ہوجاتی ہے، لیکن جب وہ اس کو کچھ مال وغیرہ دے کر عزت سے رخصت کرے گا تو لوگ سمجھیں گے کہ عورت میں کوئی قصور نہیں تھا بلکہ خاوند نے اس کو کسی اور وجہ سے ہی طلاق دی ہے ۔ سبحان اللہ ! ۔ دین حنیف میں دوسروں کی عزت اور ان کے احترام، خاص کر صنف نازک کی عزت اور اس کے احترام کی، کس قدر رعایت فرمائی گئی ہے۔ اس لیے شریف لوگ اپنی شرافت کی بناء پر ایسی تعلیمات کا بطور خاص زیادہ اہتمام کرتے اور خیال رکھتے ہیں۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ حضرت حسن ؓ نے اپنی ایک بیوی کو جب اس طرح کی طلاق دی تو اس کو دس ہزار درہم بطور متعہ دیئے تو اس نے کہا، یعنی دس ہزار درہم کی یہ رقم اگرچہ فی نفسہ ایک بڑی رقم ہے لیکن جس رفیق و محبوب کو چھوڑنے کے عوض یہ رقم ملی ہے اس کے مقابلے میں یہ ایک نہایت ہی معمولی چیز ہے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ زن و شوئی کا رشتہ جب صحیح طور پر قائم ہو تو یہ کس قدر بڑی نعمت ہے اور ایک پاکیزہ اور نیک سیرت خاتون اس کو اپنے لیے کتنی بڑی نعمت اور قدرت کا انعام سمجھتی ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ بہرکیف مکارم اخلاق کے ذیل میں متعہ طلاق کو نیکوکاروں کے ذمے واجب قرار دیا گیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 2:237680 ً مہر معاف کرنے کا حکم و اختیار : سو مہر عورت کا حق ہے۔ وہ اگر اپنے حق سے دست بردار ہونا چاہے تو ہوسکتی ہے۔ مثلاً وہ مطلقہ عورت یوں کہے کہ جب میرے اس خاوند نے نہ مجھے ہاتھ لگایا، نہ مجھ سے کوئی فائدہ اٹھایا، اور نہ میں اس کی کوئی خدمت کرسکی تو اب میں اس سے یہ مہر کیونکر لوں۔ لہذا میں اسے معاف کرتی ہوں، تو وہ معاف ہوجائیگا۔ کیونکہ یہ اسی کا حق تھا اور اس نے اپنی خوشی سے معاف کردیا، مگر یہ اس صورت میں معتبر ہوگا جبکہ وہ عاقلہ بالغہ ہو اور اپنا یہ حق مہر برضا ورغبت اور اپنی خوشی سے معاف کرے۔ بہرکیف ایسی صورت میں عورت کا جو حق بنتا ہے یعنی آدھا مہر، وہ اگر چاہے تو اس کو معاف کرسکتی ہے، کہ جب میرے اس شوہر نے نہ مجھ سے کوئی فائدہ اٹھایا اور نہ میں اس کی کوئی خدمت کرسکی تو پھر میں اس سے یہ مہر کیسے لوں ؟ سو معاف کرنے کا محرک دونوں طرف موجود ہے لیکن مرد معاف کرنے کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی " فتوّت " اور مردانـگی کا حق اور اس کا تقاضا ہے۔ اس لیے تحریک وتحریض اسی کو فرمائی گئی ہے کہ وہ معاف کر دے۔
68 1 خاوند کو معاف کردینے کی ترغیب : یعنی اسکا خاوند جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ اور اس کی باگ ڈور ہے، کہ وہ احسان کا معاملہ کرے، اور کہے کہ میں اس کو پورا مہر دونگا، یا اگر پہلے ہی دے رکھا تھا تو اس میں سے جس قدر واپسی کا وہ حق رکھتا تھا، وہ بھی وہ اس کو معاف کر دے، اور کہے کہ اب سب مہر اسی کو پہنچا، تو یہ بھی درست، بلکہ اولیٰ و افضل ہے، کہ اس نے کرم و احسان کا معاملہ کیا، اور اپنا حق اس کو معاف کردیا۔ سو کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیم ہے عائلی زندگی کے بارے میں، جس سے اس دین حنیف نے دنیا کو نوازا ہے ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ وَ الْمِنَّۃ ۔ یہاں پر { اَلَّذِیْ بِیَدِہ عُقْدَۃُ النِّکَاح } کے جملہ کریمہ کی اہمیت اور اس کی عظمت شان پر بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے، کہ اس میں اس اہم بنیادی حقیقت کو اجاگر فرمایا گیا ہے کہ نکاح و طلاق کی باگ ڈور مرد ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل کا اور فطرت کاملہ کا۔ اور اسی سے خاندان کی شیرازہ بندی ہوتی ہے۔ پس غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو یورپ و امریکہ وغیرہ کے مادہ و معدہ کے پجاریوں اور اندھوں بہروں کی سر میں سر ملا کر کہتے ہیں کہ طلاق جیسے حساس اور نازک مسئلے میں مرد اور عورت کو برابر کے اور مساویانہ حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ سو ایسا کہنا اور ماننا عقل و نقل کے تقاضوں کے خلاف، اور فطرت کے تقاضوں سے جنگ کرنے کے مترادف ہے، جس کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نکاح کی گرہ مرد ہی کے اختیار میں ہے، اور اسی سے خاندان کی بہتری اور اس کی تنظیم وابستہ ہے۔ بہرکیف نکاح کی گرہ چونکہ خاوند کے ہاتھ میں ہے اس لیے اس کو عفو وسماح سے کام لینا چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
682 " وَاَنْ تَعْفُوْا " کا مطلب ؟ : " وَاَنْ تَعْفُوْا " کا صیغہ اگرچہ جمع مذکر کا صیغہ ہے، جس کا اولین اور ظاہر و متبادر مصداق اگرچہ مرد ہی ہے، لیکن یہاں پر خطاب دراصل مردوں اور عورتوں دونوں سے ہے (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ کیونکہ عورتوں کا ذکر اس میں دوسری بہت سی نصوص کی طرح ضمناً آگیا ہے، جس سے عورتوں کے مردوں کے تابع ہونے، اور ان کے پردے کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ بہرکیف عفو و درگزر، اور اپنے حق سے تنازل و چشم پوشی کی عادت و خصلت کو اپنانا، اصلاح معاشرہ کیلئے ایک بڑی اہم اور بنیادی خصلت اور اہم تعلیم ہے۔ اور یہ صیغہ چونکہ جمع مذکر کا ہے، اس لئے اس سے یہ اشارہ بہرحال نکلتا ہے کہ عفو و درگزر اور فضل و مہربانی کا معاملہ بھی دراصل مرد ہی کے شایان شان ہے۔ اور یوں مرد کے حاکم اور قوّام ہونے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ عفو و درگزر ہی سے کام لے اور فضل و احسان کا معاملہ کرے۔ اللہ توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
683 مکارم اخلاق کے بارے میں ایک عظیم الشان ضابطے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے مکارم اخلاق اور احسان باہمی کے بارے میں ایک عظیم الشان اصول و ضابطے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو باہمی احسان اور مہربانی کے بارے میں یہ چھوٹا سا جملہ جو ان مختصر سے الفاظ پر مشتمل ہے، اگرچہ اپنے سیاق وسباق کے لحاظ سے، طلاق اور مہر وغیرہ ہی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے، مگر اپنے الفاظ و کلمات، اور معنی و مفہوم، کے عموم و اطلاق کے لحاظ سے یہ عام ہے اور اپنے عموم و شمول کے اعتبار سے یہ جملہ اہل ایمان کو یہ درس عظیم دے رہا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے جملہ معاملات میں فضل و احسان، اور عنایت و مہربانی ہی کا برتاؤ کرنا چاہیئے، اور یہ قرآن حکیم کی معجزانہ تعالیم مقدسہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ اور اتنا عظیم الشان کہ اگر اسی ایک چھوٹے سے جملے کو اپنے پیش نظر رکھا جائے، اور اس پر پوری طرح عمل کیا جائے، یعنی { وَلا تَنْسَوُوا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ } ۔ کہ " تم لوگ آپس میں احسان و مہربانی کا معاملہ کرنا مت بھولو " اور اس کے مطابق ہر مسلمان عدل و مساوات سے بڑھ کر فضل و احسان کا معاملہ کرنے لگے، تو معاشرے کا فساد و بگاڑ بڑی حد تک آپ سے آپ ختم ہوجائے، اور کتنے ہی جھگڑے اور اختلافات ہیں، جو خود بخود رفع ہوجائیں، کیونکہ باہمی معاملات بنیادی طور پر دو طرح کے امور پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایک حقوق، دوسرے فرائض۔ یعنی ایک قسم ان امور کی وہ ہوتی ہے جو دوسروں کے ذمے بطور حق و فرض کے آپ کے لئے عائد ہوتی ہے، جو آپ ان سے لینے اور وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اور دوسری قسم ان کی وہ ہوتی ہے جو آپ کے ذمے ان کے لئے عائد ہوتی ہے، جس کو لینے اور وصول کرنے کا حق وہ لوگ آپ پر رکھتے ہیں، تو یہ آپ کے ذمے فرض ہیں، تو جیسے دوسروں کے ذمے آپ کے حقوق ہیں، ایسے ہی آپ کے ذمے دوسروں کے حقوق ہیں۔ اور جیسے دوسروں کا اپنے ذمے کے حقوق کا اداء کرنا ان پر بطور فرض کے عائد ہوتا ہے، ایسے ہی آپ کے ذمے کے اپنے حقوق کا اداء کرنا آپ پر بطور فرض عائد ہوتا ہے، اب ہوتا یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ان حقوق کا مطالبہ تو کرتا ہے، اور پوری شدت و قوت سے کرتا ہے جو اس کے لئے دوسروں کے ذمے عائد ہوتے ہیں، مگر ان فرائض کو وہ بھول جاتا ہے جو اس کے ذمے دوسروں کے لئے عائد ہوتے ہیں، اور یہیں سے نزاع وجدال پیدا ہوتے، اور فتنہ و فساد کے عوامل جنم لیتے ہیں۔ اب اگر ہر انسان اس کے برعکس اس طریقے کو اپنا لے کہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے ذمے کے فرائض کو بلا کم وکاست پوری طرح ادا کریگا، بلکہ اس کے ساتھ فضل و احسان سے کام لیتے ہوئے وہ اس کے علاوہ کچھ مزید بھی ادا کر دے۔ اور جب اسی طرح کے فضل و احسان والا رویہ دوسرا مسلمان بھائی بھی آپ کیلئے اختیار کرے، تو پھر جھگڑا اور فساد پیدا ہوگا ہی کیونکر ؟ پھر تو اس کے برعکس محبت و اُلفت اور اکرام و احسان ہی کا دور دورہ ہوگا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان اور کس قدر مقدس اور وقیع ہیں دین حق کی یہ مقدس تعلیمات، جن کے اس قدر مختصر سے ارشاد سے بھی تمام بگاڑ ختم ہوسکتا ہے، مگر افسوس کہ آج دنیا اور خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت ان سے منہ موڑے ہوئے ہے، جس کے باعث آج دنیا طرح طرح کے مفاسد اور عذابوں میں پڑی کراہ رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حق کی تعلیمات مقدسہ کو اپنانے میں سب لوگوں اور پورے معاشرے کا بھلا اور بہتری ہے۔
684 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ دیکھ رہا ہے ان تمام کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس لئے تمہارا کوئی بھی کام اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس تم لوگ ہمیشہ یہ بات اپنے پیش نظر رکھا کرو کہ اس سے ہمارا معاملہ صحیح رہے اور وہ ہمارا خالق ومالک ہم سے راضی رہے، اور کوئی کام ہم سے ایسا سرزد نہ ہوجائے جو اس خالق ومالک وحدہ لاشریک کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اور اگر تم سچے دل سے اس کی خواہش رکھو گے، اور کوشش کرو گے، تو وہ تم کو ضرور اس سے نوازیگا، کہ اس کی تو شان ہی نوازنا، اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ اپنے بندوں سے ان کے ظن و گمان کے مطابق معاملہ فرماتا ہے، جیسا کہ حدیث قدسی میں وارد و مذکور ہے۔ یعنی " میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے ظن و گمان کے مطابق ہی معاملہ کرتا ہوں " اب اس کی مرضی جیسا ظن و گمان چاہے قائم کرے۔ سو اللہ پاک کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا ایک اہم مقصود ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے اور بتمام و کمال دیکھ رہا ہے۔ اس لیے بندہ ہمیشہ اس بات کو اپنے پیش نظر رکھے۔ سو یہ ایسی عظیم الشان تعلیم اور اہم اور بنیادی ہدایت ہے کہ اگر انسان اس کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے پیش نظر رکھے تو اس کی آپ سے آپ اصلاح ہوتی جائے اور وہ کچھ کا کچھ بن جائے اور اس کی زندگی میں آپ سے آپ انقلاب بپا ہوجائے۔ سو اس سے اسلامی تعلیمات کی پاکیزگی اور ان کی انقلاب آفرینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ فللہ الحمد رب العالمین -
Ayah 2:238685 صلوۃ وسطیٰ سے مراد ؟ : " صلوۃ وسطیٰ " (درمیانی نماز) سے مراد جمہور کے نزدیک نماز عصر ہے (روح، المراغی، المعارف، وغیرہ) ۔ یہاں پر نکاح اور طلاق وغیرہ کے مسائل کے درمیان میں نماز کی محافظت کا جو حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے، اس سے نماز کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ نیز اس سے دو اور بڑے اہم درس مستفاد ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہو کر فریضہ نماز سے غفلت نہیں برتنا، کہ فریضہ ٔ نماز میں تمہارے لئے دارین کی سعادت مضمر ہے۔ اور اس سے اعراض و محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ طرح طرح کے مفاسد و مہالک کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوسرا یہ کہ فریضہ نماز کی کماحقہ ادائیگی اور پابندی خود ہمارے لئے عام دنیوی معاملات کی اصلاح و سازگاری میں بھی ممد و معاون ہے۔ سو اس کی محافظت و مواظبت سے ہماری مشکلات آسان ہوتی ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْر وَالصَّلٰوۃ } " اور مدد حاصل کرو صبر اور نماز کے ذریعے "۔ اسی لئے نماز کو امور مصلحہ میں اہم اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی بنا پر امیرالمومنین حضرت عمر ؓ نے اپنے دور حکومت میں یہ فرمان جاری فرمایا تھا کہ " تمہارے امور میں میرے نزدیک سب سے اہم امر نماز ہے، جس نے اس کی حفاظت کی وہ باقی کاموں کی بطریق اولیٰ حفاظت کریگا، اور جس نے اس میں کوتاہی برتی، وہ باقی امور میں اور بھی زیادہ کوتاہی سے کام لیگا " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نماز انسانی زندگی کی شیرازہ بندی کی اہم اور مقدس اساس ہے۔ اس لیے اس کو قائم رکھنے کی بار بار تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔
686 نماز کے بارے میں ایک خاص حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور کھڑے رہا کرو تم اللہ کے حضور عاجزانہ طور پر۔ یعنی خاموشی اور سکون کے ساتھ کھڑے رہا کرو۔ بخاری مسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق حضرت زید بن ارقم ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نماز کے اندر بولا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو ہمیں نماز میں بولنے سے منع فرما دیا گیا۔ " قنوت " کے اصل معنی " خضوع " اور " تذلل " کے ہیں۔ سو " قانتین " کے معنی ہوں گے کہ پورے خضوع و تذلل اور عجز و نیاز کے ساتھ اپنے خالق ومالک کی بارگہ اقدس میں کھڑے رہا کرو۔ سو نماز کی محافظت کے حکم میں اسکا یہ ادب بھی داخل ہے۔ پس تم لوگ عجز و نیاز کی تصویر بن کر، نہایت ادب و احترام اور خضوع و تذلل کے ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوا کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو نماز میں انسان پورے ادب و احترام کے ساتھ کھڑا ہو اور اس کے آداب و ارکان کا پورا پورا خیال رکھے۔ نہ کسی سے بولے اور نہ آگے پیچھے دیکھے۔ اور اس کو اپنے اوقات میں پابندی والتزام کے ساتھ ادا کرے۔ اور جب تم اس طرح نماز کا خیال رکھو گے اور اس کی حفاظت کرو گی تو یہ تمہارا خیال رکھے گی اور تمہاری حفاظت کرے گی۔ جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے ( المعارف للکاندھلوی وغیر ذلک ) ۔ سو نماز ایک عظیم الشان عبادت اور مناجات خداوندی کی ایک جلیل القدر شکل ہے۔ اس لیے اس کے تقاضوں کا پوری طرح خیال رکھنے اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 2:239687 نماز کی اہمیت و عظمت کا ایک اہم مظہر : کہ نماز حالت خوف میں بھی معاف نہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوف کی صورت میں بھی جس طرح ہو سکے تم نماز پڑھ لیا کرو۔ اگرچہ اس حال میں تم خشوع و خضوع، رکوع و سجود، اور استقبال قبلہ وغیرہ کی پوری طرح رعایت نہ کرسکو (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ اس سے بھی نماز کی عظمت، اور اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ عظیم الشان فریضہ ایسی حالت میں بھی معاف نہیں، بلکہ ایسی صورت میں بھی جس طرح بن پڑے اس کو ادا کرو۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ اسی لیے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ کافر ہوگیا ۔ سبحان اللہ ! ۔ نماز کی عظمت شان اور اس سے متعلق تاکیدات کیا کہتی بتاتی ہیں اور دور حاضر کے مسلمان کا حال کیا ہے ؟ کتنے ایسے ہیں جو دنوں، ہفتوں بلکہ مہینوں سالوں میں بھی نماز نہیں پڑھتے۔ اور ایسے مست و مگن ہیں کہ کچھ پروا ہی نہیں۔ نہ ایمان بگڑے اور نہ ان کے دین میں کوئی فرق آئے۔ اور ان کو اس کا احساس تک نہیں کہ اس طرح وہ ہلاکت و تباہی کے کس ہاویے میں گرتے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 2:240–241688 بیوہ کیلئے وصیت کا عارضی حکم : یعنی خاوند کے ذمے لازم ہے کہ اپنی وصیت میں اس کی تصریح کر دے کہ سال بھر تک ان کو گھر سے نہیں نکالا جائیگا، اور اس دوران اس کو نان و نفقہ دیا جاتا رہے گا۔ سو جمہور کے نزدیک یہ حکم عارضی اور شروع کا ہے جبکہ مرنے والوں کے اقارب و رشتہ داروں کے حصے مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ مگر بعد میں جب آیت میراث نازل ہوگئی اور اس میں سب کے حصے مقرر کردیئے گئے تو بیوہ کیلئے وصیت کا یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا جبکہ بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ وصیت ازواج کا یہ حکم منسوخ نہیں محکم ہے۔ اور یہ اب بھی باقی ہے لیکن یہ وجوب کیلئے نہیں بلکہ بطور استجاب ہے۔ اور یہی مروی ہے مجاہد سے۔ (معارف اور مراغی وغیرہ) ۔ لیکن جمہور کے نزدیک یہ ایک عارضی حکم تھا جو بعد میں منسوخ ہوگیا تھا۔ بہرکیف بیواؤں کی بہتری کیلئے یہ ایک ابتدائی حکم تھا جو ایک عرصے تک قائم رہا پھر منسوخ ہوگیا۔
689 بیوہ کو جائز حدود کے اندر آزادی برتنے کا حق : مثلاً یہ کہ وہ زیب وزینت اختیار کریں، یا کسی نئے شوہر سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرلیں، تو تمہیں ان کو اس سے روکنے کا کوئی حق نہیں، کہ یہ ان کا حق اور ان کی آزادی کا تقاضا ہے۔ ہاں اگر وہ دستور کیخلاف کسی بات کا ارتکاب کریں تو تم ان کو اس سے روکو، کہ تغییر منکر ہر کسی پر بقدر استطاعت واجب ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اپنی بیوائیں چھوڑ جانے والے شوہر اپنی بیواؤں کیلئے ایک سال کے نان و نفقہ اور اپنے گھروں میں سکونت کی اجازت کی وصیت کرجائیں، اور میت کے ورثاء کو اس کا حق نہیں کو وہ اس وصیت کی خلاف ورزی کریں۔ ہاں اگر اس دوران وہ بیوہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ دے، اور اپنے نکاح ثانی یا اپنی سکونت کے سلسلہ میں دستور کے مطابق کوئی قدم اٹھائے تو اس کو اسکا حق حاصل ہے۔ کوئی اس کو اس کے اس حق سے محروم کرنے کا مجاز نہیں، الا یہ کہ کوئی بات دستور کے خلاف ہو۔ اگر ایسی کوئی صورت پیش آجائے تو پھر اولیائے امور کو روکنے اور مداخلت کرنے کا حق ہے۔
Ayah 2:242691 غور و فکر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : اور تم اپنے بھلے اور فائدے کیلئے سوچو اور غور و فکر کرو، اور عقل و دانش سے کام لو، کہ یہ احکام الہی کس قدر اہم مصالح اور فوائد مشتمل ہیں۔ اور یہ کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ اس دنیا میں بھی۔ اور اس کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ اور اس طرح تم لوگ ان کو دل و جان سے اپنا کر سعادت دارین سے سرفراز و بہرہ ور ہوسکو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو عقل و فکر کا صحیح محمل و مصرف یہ ہے کہ انسان اپنے آغاز و انجام کے بارے میں سوچے، تاکہ اس طرح وہ اپنے خالق ومالک کو پہچان سکے اور اس کے نتیجے میں وہ حق و ہدایت کی اس راہ کو اپنا سکے، جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی عظیم الشان اور بےمثال راہ ہے، لیکن انسان کی بڑی اکثریت کا حال ہمیشہ یہی رہا کہ وہ عقل کے اس جوہر کو اس کے صحیح مصرف میں خرچ کرنے کی بجائے اس کو بطن و فرج کی شہوات و خواہشات کی تحصیل میں صرف کرکے اپنے لیے مزید محرومی کا سامان کرتا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اور اس طرح غافل و لاپرواہ انسان ایک تیز و طرار اور شاطر قسم کا حیوان بن کر رہ جاتا ہے، اور وہ دوزخ کی ہولناک آگ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وَالََّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } (محمد۔ 13) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 2:243692 " اَلَمْ تَرَ " کا خطاب اور اس کے مخاطب ؟ : خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے کہ وحیء الٰہی کے اولین مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں ﷺ مگر اصل مقصود اس سے ہر مخاطب ہوتا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اور کہیں کا بھی ہو، کہ مقصود ایسے کلام سے اسی کو تنبیہ کرنا ہوتا ہے۔ اور رؤیت سے یہاں پر مراد علم ہے، جس کو اس کی غایت شہرت کی بنا پر اس لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (صفوۃ البیان، المراغی، الجواہر، معارف القران، وغیرہ) ۔ بہرکیف اس خطاب میں دعوت غور و فکر ہے کہ کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں اور ان کے حال و مآل میں غور و فکر سے کام نہیں لیا۔ یعنی اس بارے غور و فکر سے کام لینا چاہیئے کہ اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، مثلاً یہ کہ موت سے بھاگنا بےسود ہے کہ کوئی بھاگ کر اور چھپ کر موت سے نہیں بچ سکتا۔ اس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال آکر رہنا ہے اور یہ کہ اللہ پاک کیسا قادر مطلق اور اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور اس خطاب کو مقرر لانے میں یہ بلاغت ہوتی ہے کہ اس میں مخاطب گروہ کا گویا ایک ایک فرد مخاطب ہوتا ہے، اور اس کے بعد جس واقعے کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ یا تو مخاطب گروہ کا عینی مشاہدہ ہوتا ہے، یا واقعے کی شہرت اس درجے کی ہوتی ہے کہ اس کی نسبت باور کیا جاتا ہے کہ اس سے مخاطب باخبر ہیں، یا انکو باخبر ہونا چاہئیے، یا متکلم کو ایسا اعتماد ہوتا ہے کہ واقعے کی صداقت ایسی مسلم ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سو اس میں بلاغت کلام کا ایک خاص زور پایا جاتا ہے جو اس کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔
693 موت سے بھاگنے والوں کیلئے درس عبرت : سو اس نے انکو دوبارہ زندہ کردیا اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے، تاکہ یہ امر لوگوں کے لئے سامان عبرت اور درس بصیرت بن سکے، کہ کوئی شخص بھاگ کر موت کے منہ سے نہیں بچ سکتا، وہ اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہے گی، اور کوئی اس کو کسی طرح ٹال نہیں سکتا۔ پس موت کے ڈر سے جہاد سے منہ موڑنا، یا کسی بیماری کے مقام سے بھاگنا، سراسر حماقت ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ یہ لوگ کون تھے ؟ کتنی تعداد میں تھے ؟ اور کہاں کے رہنے والے تھے ؟ وغیرہ وغیرہ تو ان تفصیلات کا جاننا اس مقصد عبرت کیلئے کچھ ضروری نہیں، جس کے لئے یہ قصہ بیان فرمایا جا رہا ہے۔ ورنہ اللہ پاک خود ہی یہ سب کچھ اپنی کتاب حکیم میں بیان فرما دیتا۔ پس ان عام روایات کی بناء پر جو کہ زیادہ تر اسرائیلیات میں سے ہیں، ہمیں ان امور کی تفصیلات میں پڑنے کی ضرورت نہیں، مختصر یہ کہ یہ کوئی ایسی قوم تھی، جو کہ ہزاروں کی تعداد میں تھی، اور اپنی عیش پسندی وغیرہ امور کی بناء پر، اتنی سست اور کمزور ہوگئی تھی، کہ یہ جہاد کرنے سے نکل بھاگی تھی، جیسا کہ تفسیر المراغی اور ابوالسعود وغیرہ میں بیان فرمایا گیا ہے، اور اس طرح یہ قصہ دراصل توطہ و تمہید ہے، جہاد کے اس حکم کی، جو اس کے بعد والی آیت میں بیان فرمایا جارہا ہے، یا یہ قوم طاعون وغیرہ کسی وباء کے پھوٹ پڑنے پر اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ کوئی بھی صورت ہو، ان کا بھاگنا بہرحال موت کے خوف اور اس کے ڈر سے تھا، جیسا کہ { حَذَرَ الْمَوْتِ } کے قرآنی الفاظ میں اس کی تصریح فرما دی گئی۔ پھر ان کو بحکم خداوندی موت آگئی، اور پھر اس قادر مطلق کی قدرت و حکمت سے ان کو دوبارہ زندگی عطا فرما دی گئی، جس سے خود ان کو اور ان کے ذریعے ان کے بعد کے تمام لوگوں کو یہ بتادیا گیا کہ زندگی و موت دونوں اللہ پاک کے قبضہء قدرت و اختیار میں۔ اور اسی کے حکم و ارشاد کے تابع ہیں۔ پس موت سے بھاگنا فضول اور محض حماقت ہے، اور اس بناء پر جہاد سے بھاگنا بڑے خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ موت اپنے وقت مقررہ سے پہلے نہیں آسکتی اور اس کے بعد ٹل نہیں سکتی تو پھر ڈرنے کا کیا فائدہ ؟ سو اس میں اس بات کا یقین مومن کو ایک عظیم الشان قوت بخشتا ہے۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 2:244694 اللہ تعالیٰ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے : یعنی وہ تمہاری ان باتوں کو بھی سنتا ہے جن کا اظہار تم لوگ اپنی زبان وبیان سے کرتے ہو، اور تمہاری ان پوشیدہ نیتوں اور خفیہ ارادوں کو بھی جانتا ہے، جن کو تم اپنے دلوں اور اپنے باطن میں چھپا کر رکھتے ہو۔ پس تم لوگ اپنے ان اقوال کا بھی خیال رکھا کرو جو تم منہ سے نکالتے ہو، اور اپنی ان نیتوں اور ارادوں کا بھی، جو تم اپنے باطن کے پردوں میں مخفی و مستور رکھتے ہوتے ہو، جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ کوئی آدمی اپنی بہادری دکھانے کیلئے لڑتا ہے، کوئی قومی حمیت کیلئے، اور کوئی ریاء و سُمعہ یعنی دکھلاوے کے لئے۔ تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون شمار ہوگا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا " مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِیْ سََبِِیْل اللّٰہ " یعنی اللہ کی راہ میں لڑنا صرف اس شخص کا ہوگا جو صرف اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ اور اس کا دین سربلند ہو (بخاری کتاب العلم، مسلم کتاب الامارۃ) ۔ پس جب تمہاری نیت بھی دوران جہاد صحیح ہوگی، اور تمہارا کلام اور تمہارے الفاظ و کلمات بھی، تو تم اللہ کی نصرت و امداد سے نوازے جاؤ گے، اور جب اللہ کی نصرت و امداد تم کو حاصل ہوگئی، تو پھر تمہارے مقابلے میں کوئی نہیں جیت سکتا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلا غالِبَ لَکُمْ } الاٰیۃ (آل عمران۔ 160) اور مومن کی مدد اور اس کی فتح و نصرت محض اس کے اسباب اور مادی وسائل سے نہیں، بلکہ وہ اصل میں اللہ پاک کی طرف سے ہوتی ہے، جیسا کہ سورة آل عمران ہی کی ایک دوسری آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا { وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْد اللّّٰہِ الْعَزِیْْز الْحََکِیْم } مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مجاھد واقعی مومن مجاہد ہو، اور اس کا بھروسہ واقعی اللہ ہی پر ہو، اس کے دل کی نیت بھی درست ہو، اور زبان کے الفاظ و کلمات بھی۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان فوج کا حال اس سے دگرگوں ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ خود اپنے ملک کی فوج ہی کو دیکھ لیجئے، بعض اوقات محاذ جنگ پر بھی اس کے لئے غیر محرم مغنی اور رقاص عورتوں کے ناچ گانوں کا انتظام کیا جاتا ہے، اور کتنے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو شراب بھی پیتے ہیں۔ نماز کی فرضیت اور اس کی پابندی سے وہ غافل و بیخبر ہیں، اور مزید یہ کہ وہ نعرے بھی شرکیہ لگاتے ہیں جیسے " یا علی مدد "، " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر ایسوں کیلئے اللہ کی مدد آئے تو کہاں سے، اور کیسے ؟ مگر اس کے باوجود جو بسا اوقات بھرم رہ جاتا ہے، وہ محض اللہ پاک کا کرم، اور شاید اس لئے کہ ان میں بہت سے سچے اور مخلص ایسے بھی ہوتے ہیں جو جذبہ جہاد سے سرشار اور مالامال ہوتے ہیں۔ سو ایسے ہی سچے اور مخلص مجاہدین کے جذبہ جہاد، صدق ایمان اور توکل علی اللہ کا ثمرہ و نتیجہ ہوتا ہے کہ جو فتح نصیب ہوتی ہے۔ ہماری افواج میں ۔ الحمد للہ ۔ ایسے عناصر اب بھی پائے جاتے ہیں ۔ کَثَّرَ اللّٰہُ اَمْثَالَہُمْ وَ ضَاعَفَ اَجْرَہُمْ وَثَوَابَہُمْ ۔ کہ ایسے ہی فوجی فتح و کامرانی کا اصل ذریعہ اور سبب ہوتے ہیں۔ مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس دولت سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 2:245–246695 اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کی تعلیم و تلقین اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کون ہے جو اللہ کو قرض دے قرض حسن ؟۔ یعنی ایسا قرض جو محض اس کی رضا کیلئے، اپنے حلال و پاکیزہ مال سے ہو، دل کی خوشی اور اخلاص کے ساتھ دیا جائے۔ اور یہ بھی اس وحدہ لا شریک کی بےمثال شان کرم و احسان کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ وہ اپنے نام پر اپنے بندے کی طرف سے دئیے کو اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ بندہ خود اور اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کردہ، اسی کا عطاء فرمودہ، اور اسی کی ملکیت ہے۔ اور جبکہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ سب سے غنی و بےنیاز، اور ہر لحاظ سے غنی و بےنیاز ہے ۔ فَسُبْحٰنَہٗ مِنْ رَّبٍّّ رََّحِیْمٍ کَرِیْمٍ وَاِلٰہٍ حَقٍٍّ عَظِیْمٍ ۔ جَلَّ جَلالُہٗ وَعَمَّ نَوَالُہٗ ۔ اور اس کو قرض کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت بھی ہے کہ جس طرح قرض کا واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح وہ واہب مطلق تمہارے دئیے کو ضرور تمہیں واپس کریگا، مگر اس کرم و احسان کے ساتھ کہ اس کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر دیگا، اور اتنا بڑھا چڑھا کر کہ انسان کے تصور سے بھی باہر ہے۔ پس تم لوگ اس کے نام پاک پر اور اس کی رضاء کیلئے کھلے دل سے اور اطمینان قلب کے ساتھ دئے چلے جاؤ، اور اس کے ضیاع یا نقصان کا کوئی خوف و خدشہ مت رکھو ۔ رَزَقَنَا التَّوْفِیْقَ لِذَالِکَ وَالسَّدَادَ وَالثَّبَاتَ عَلَیْہ ۔ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ ۔ سو اللہ پاک کے نام پر دینا اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنا ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ جس کی اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
696 رزق کی تنگی و کشائش اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : جو مبنی ہے مختلف حِکَم و مصالح پر، جن کا علم و احاطہ وہی وحدہ لاشریک کرسکتا ہے۔ پس نہ تو دنیاوی مال و دولت کا مل جانا اللہ پاک کے یہاں محبوب ہونے کی علامت ہوسکتا ہے، اور نہ اس سے محروم ہونا، اور فقرو فاقہ میں مبتلا ہوجانا اس کے یہاں مبغوض ہونے کی نشانی قرار پاسکتا ہے۔ اور دنیا ساری کی حیثیت بھی جب اس وحدہ لاشریک کے یہاں پرکاہ کے برابر بھی نہیں، تو پھر اس میں سے کچھ معمولی سے حصہ کا کسی کو مل جانا اگرچہ وہ کروڑوں اور اربوں ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ وہ پوری دنیا کا تو " کچھ " ہی ہے، سو اس کا کسی کو مل جانا اس کے یہاں مقبول و محبوب ہونے کا معیار آخر کس طرح قرار پاسکتا ہے ؟ سو یہ سب کچھ اس کی مشیئت اور ان دوسری حکمتوں کے تابع ہے جن کا احاطہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ اصل چیز جو اس کے یہاں محبوب و مبغوض ہونے کی اساس و بنیاد، اور علامت و معیار ہے، وہ ہے دین و ایمان کی دولت، جس کو اس سے نواز دیا گیا، وہ اس کے یہاں محبوب ہے، اور جو اس سے محروم ہوگیا، وہ اس کے یہاں مبغوض و مطرود ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے، مگر ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی، یا اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دراصل موقوف ہے انسان کے اپنے ارادہ اور دل کی خواہش وچاہت پر، جو دل سے اس کو چاہے گا، اور اپنے اندر اس کی طلب و تڑپ اور خواہش رکھے گا، اللہ پاک اس کو اپنے فضل و کرم سے اس سے نوازدیگا، کہ اس کی شان ہی نوازنا ہے۔ مسلسل و لگاتار نوازنا۔ اور حسبان و گمان سے بڑھ کر نوازنا۔ اور بلا حدود وقیود نوازنا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو ایسا نہیں چاہے گا وہ محروم رہیگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَ عَلا ۔ پس بندہ مومن کو اپنے قلب و باطن کا معاملہ درست رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -