2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتاہو تو جو اس کو ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی اور جب گواہ (گواہی کے لئے) طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لیے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہہ بھی نہیں پڑے گا ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جب خریدوفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں) کسی طرح کا نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

آیت نمبر 282 تا 283 ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم ادھار کا مثلا بیع سلم کا اور قرض کا معاملہ ایک مدت معلومہ کے لیے کرنے لگو تو اس کو دستاویز کے طور پر نزاع دفع کرنے کیلئے لکھ لیا کرو اور تمہارے درمیان قرض (کی تحریر) لکھنے والے کو چاہیے کہ حق (و انصاف) سے لکھے مال اور مدت میں نہ زیادتی کرے اور نہ کمی۔ اور لکھنے والے کو لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔ جب اس سے لکھنے کے لیے کہا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو لکھنا سکھلایا ہے۔ یعنی کتابت کے ذریعہ اس کو فضیلت بخشی ہے لہٰذا لکھنے میں بخیلی نہ کرے۔ اور کاف، یابَ سے متعلق ہے پس چاہیے کہ وہ لکھ دے۔ یہ تاکید ہے۔ اور جس پر حق ہے (یعنی) مقروض کو چاہیے کہ کاتب کو لکھائے۔ اس لیے کہ وہی مشہور علیہ ہے تو اقرار کرے تاکہ معلوم ہو کہ اس پر کیا واجب ہے ؟ اور کاتب کر لکھانے میں اپنے رب اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور حق میں سے کچھ بھی کم نہ کرے پس اگر مدیون کم عقل فضول خرچ ہو یا صغر سنی یا کبر سنی کی وجہ سے (جسمانی طور) پر ضعیف ہو۔ یا گونگا ہو یا زبان نہ جاننے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے لکھانے پر قادر نہ ہو تو اس کے کارندے کو چاہیے کہ ٹھیک ٹھیک لکھائے (کارندہ) خواہ والد ہو، یا وصی ہو، یا منیجر ہو، یا مترجم ہو، اور قرض پر بالغ، مسلمان آزاد مردوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لینا چاہیے۔ اور اگر دو مرد گواہ میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوجائیں، ایسے گواہ جن کو تم ان کے دین اور عدالت کی وجہ سے پسند کرتے ہو اور عورتوں کے دو عدد ہونے میں مصلحت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک شہادت بھول جائے ان کی عقل اور یادداشت کے ناقص ہونے کی وجہ سے تو ان میں سے ایک یعنی یاد رکھنے والی دوسری یعنی بھولنے والی کو یاد دلا دے (فَتُذکِّر) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے حقیقت میں اذکار لام علت کے داخلہ کا محل ہے، ای لِتُذکّرَ اِنْ ضلَّتْ ، اگر بھول جائے تو یاد دلادے، اور لام علت ضلال پر اس لیے داخل ہوا ہے کہ وہی سبب تذکیر ہے اور ایک قراءت میں، اِنْ شرطیہ کسرہ اور تذکر رفع کے ساتھ جملہ مستانفہ اور جواب شرط ہے اور جب گواہ بننے یا گواہی دینے کے لیے گواہوں کو بلایا جائے، ” ما “ زائدہ ہے، تو انکار نہ کرنا چاہیے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ادائیگی کی میعاد کی تعیین کے ساتھ لکھانے میں تساہل نہیں برتنا چاہیے، یعنی جس پر تم نے حق کی شہادت دی ہے، اس کے کثرت سے واقع ہونے کی وجہ سے اکتانا نہیں چاہیے (الی اجلہ) تکتبوا کی ضمیر سے حال ہے۔ یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیادہ قربین عدل ہے اور شہادت کو قائم کرنے پر زیادہ معاون ہے اس لیے کہ یہ تحریر شہادت کی یاد دلاتی ہے اور زیادہ قریب ہے اس کے کہ تم حق کی مقدار اور مدت کے بارے میں شک میں نہ پڑو (اور) اگر لین دین دست بدست (نقد) ہو جس کا تم لین دین کرتے رہتے ہو (یعنی مبیع اور ثمن پر) دست بدست قبضہ کرتے ہو اور اس کی کوئی مدت نہیں ہوتی (یعنی ادھار نہیں ہوتا) اور (تجارۃً حاضرۃً ) ایک قراءت میں نصب کے ساتھ ہے اس صورت میں ” تکون “ ناقصہ ہوگا اور اس کا اسم، تجارۃ (کی طرف لوٹنے والی) ضمیر ہوگی تو تمہارے لیے اس صورت میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نہ لکھو، اور تجارت سے مراد سامان تجارت ہے (تب بھی تم اس پر) گواہ کرلیا کرو جب خریدو فروخت کرو اس لیے کہ یہ بات اختلاف کو زیادہ ختم کرنے والی ہے، اور (شہادت کا یہ حکم اور ماقبل میں کتابت کا حکم) استحبابی ہے۔ اور کاتب و گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے یعنی صاحب حق اور جس پر حق ہے نقصان نہ پہنچائیں۔ (تحریر) میں تحریف کرکے یا گواہ کو اور کاتب کو گواہی اور کتابت سے روک کر اور نہ صاحب حق کاتب اور گواہ کو تکلیف پہنچائے ان کو ایسی بات کے لیے مجبور کرکے جو شہادت اور کتابت کے لائق نہیں اور اگر تم ممنوعہ حکم کا ارتکاب کروگے تو یہ تمہارے حق میں ایک گناہ ہے جو تم کو لاحق ہوگا۔ یعنی طاعت سے خروج ہے، اس کی امر و نہی کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ تم کو تمہارے معاملات کی مصلحتیں سکھاتا ہے اور (وَیعلمکم، اتقوا کی ضمیر سے) حال مقدرہ ہے۔ یا کلام مستانفہ ہے اور اللہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے اور اگر تم حالت سفر میں ہو یعنی مسافر ہو اور ادھار لینے دینے کی نوبت آجائے اور کسی لکھنے والے کو نہ پاؤ تو رہن رکھنے کی چیزیں ہی قبضہ میں دیدی جائیں کہ جن کے ذریعہ تم معاملہ مضبوط کرلو، اور ایک قراءت میں ” رُھُنٌ“ ہے اور حدیث میں حالت حضر اور کاتب دستیاب ہونے کی صورت میں بھی رہن کو بیان کیا گیا ہے، اس لیے کہ مذکورہ دونوں قیدیں اس لیے ہیں کہ حالت سفر میں مضبوطی کی ضرورت زیادہ شدید ہوتی ہے۔ اور مقبوضۃ کے لفظ سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ رہن میں قبضہ شرط ہے، اور یہ کہ خود مرتہن یا اس کا وکیل قبضہ کرلے تو کافی ہے اور اگر آپس میں ایک دوسرے پر دائن اور مدیون کو اپنے حق کے بارے میں اعتبار ہو تو رہن نہ رکھے۔ تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے (یعنی مدیون) تو اس کو چاہیے کہ اس کا دین ادا کرے اور اللہ سے جو کہ اس کا رب ہے اداء دین کے بارے میں ڈرتا رہے اور جب تم کو ادائے شہادت کیلئے بلایا جائے تو تم شہادت کو نہ چھپاؤ اور جو کوئی اسے چھپائے گا تو اس کا قلب گنہگار ہوگا اور قلب کا مخصوص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کہ وہی محل شہادت ہے اور اسلئے بھی کہ جب قلب گنہگار ہوگا تو اس کی اتباع میں دیگر اعضاء بھی گنہگار ہوں گے تو گنہگاروں کے مانند ان کے ساتھ سزا کا معاملہ کیا جائے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے تمہارے اعمال میں سے اس سے کوئی عمل پوشیدہ نہیں تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : تَدَایَنْتُمْ (تَدَایُنٌ) تَفَاعُلٌ، ماضی جمع مذکر حاضر : تم نے قرض کا لین دین کیا۔ قولہ : تعامَلْتُمْ اس کا اضافہ تَدَایَنْتُمْ ، کے بیان معنیٰ کے لیے ہے۔ اس لیے کہ تَدَایُنٌ، کے دو معنیٰ آتے ہیں آپس میں قرض کا معاملہ کرنا۔ اور بدلہ دینا (کما یقال، کما تُدِیْنُ تُدَانُ ) یہاں پہلے معنیٰ مراد ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ دَیْنٌ، تَدَایَنْتُمْ کے لیے تاسین ہو نہ کہ تاکید، اگر تَدَایَنْتُمْ کو دَیْنٌ کے معنی میں لیا جائے تو آگے بِدَیْنٍ کا لفظ تَدَایَنْتُمْ کی تاکید ہوگا حالانکہ تاکید سے تاسیس بہتر ہے اسی لئے تَدَایَنْتُمْ کا تَعَاملتم کے معنیٰ میں لیا گیا ہے۔ قولہ : اِستینافٌ۔ یعنی فَتُذَکِّر جملہ مستانفہ ہے بایں معنیٰ کہ اِنْ شرطیہ اس میں عامل نہیں ہے۔ قولہ : کانَ ، کانَ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ صغیراً اور کبیراً ، کان محذوف کی خبر ہیں۔ قولہ : تَقَعُ ، کان کی تفسیر تَقَعُ سے کرکے اشارہ کردیا کہ کان تامہ ہے تجارۃ حاضرۃ اس کا اسم، اور ایک قراءت میں نصب کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں تکون ناقصہ ہوگا۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی ” اِلَآ ان تکون التِّجَارَۃُ تِجَارَۃً حَاضرۃً “۔ قولہ : حَالٌ مقدرۃ اَوْ مُسْتَانِفٌ۔ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یُعَلِّمُکمُ اللہُ ۔ کا عطف واتقوا اللہ پر درست نہیں ہے اس لیے کہ یہ جملہ خبریہ کا جملہ انشائیہ پر عطف ہوگا جو کہ درست نہیں ہے جواب : واؤ عاطفہ نہیں ہے بلکہ حالیہ یا استینافیہ ہے۔ قولہ : تَسْتَوْثِقُوْنَ بھا، اس جملہ کو محذوف ماننے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ فرھانٌ مقبوضۃٌ، موصوف صفت سے مل کر مبتداء ہے اور تَسْتَوْثِقُوْنَ جملہ ہو کر اس کی خبر ہے۔ اللغۃ والبلاغۃ تَدَایَنْتُمْ ، آپس میں لین دین کا معاملہ کرنا، یقول تَدَایَنْتُ الرُّجُلَ ، ای عَامَلْتُہٗ ، یُمْلِلُ ، مِنْ الِامْلَال، لکھنا، املا کرانا، الاِمْلال اور الاملاء، دونوں کے ایک ہی معنیٰ ہیں، فَرِھٰنٌ، راء کے کسرہ کے ساتھ مصدر ہے یا رَھْنٌ، کی جمع ہے بعض قراءتوں میں رُھُنٌ بضمتین، جمع کا صیغہ ہے۔ عَلیٰ سَفَرٍ ، اس میں استعارہ تبعیہ ہے، اس میں مخاطب کو سوار سے اور سفر کو سواری کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ استعارہ تبعیہ وہ ہے کہ جس میں لفظ مستعار، فعل، یا حرف، یا اسم مشتق ہو جیسے فلان رکب علیٰ کتفَیْ غریمہٖ فلاں شخص اپنے قرض دار کے کندھوں پر سوار ہوگیا۔ یعنی اپنے قرضدار کے بری طرح پیچھے پڑگیا۔ تفسیر و تشریح ربط : سب سابقہ آیات میں سودی نظام کی سختی سے ممانعت اور صدقہ و خیرات کی تاکید بیان کی گئی تو اب آپسی قرض کے لین دین کے احکام و مسائل کی ہدایات فرمائیں اس لیے کہ جب سودی لین دین کو حرام قرار دیدیا گیا اور ہر شخص صدقہ و خیرات کی استطاعت نہیں رکھتا، اس کے علاوہ بعض لوگ صدقہ و خیرات لینا پسند بھی نہیں کرتے، تو ایسی صورت میں ضروریات پوری کرنے کے لئے طریقہ قرض ہی کا باقی رہ جاتا ہے، اسی لیے احادیث میں قرض دینے کا بڑا اجر وثواب بیان فرمایا گیا ہے، تاہم قرض جس طرح ایک ناگزیر ضرورت ہے اس میں بےاحتیاطی یا تساہل جھگڑوں کا سبب بھی ہوسکتی اسی لیے اس آیت میں جسے آیت دَیْن کہتے ہیں اور جو قرآن کی طویل ترین آیت ہے اللہ تعالیٰ نے قرض کے سلسلہ میں ضروری ہدایات ارشاد فرمائی ہیں۔ ادھار معاملہ کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ مبیع (چیز) نقد وصول کی اور قیمت کے لیے مدت طے کرلی دوسرے یہ کہ مبیع کی قیمت اسی وقت نقد دیدی اور مبیع وصول کرنے کے لیے وقت مقرر کردیا، اس کا اصطلاح میں بیع سلم کہتے ہیں یہ حدیث کی رو سے جائز ہے اگرچہ یہ معدوم کی بیع ہے۔ (تفصیلات کتب فقہ میں دیکھئے) اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی، مفسرین نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ قرضہ کے معاملات میں مدت بالکل صاف اور غیر مبہم ہونی چاہیے، گول مول اور مبہم نہ رہے۔ مثلاً یہ کہ جاڑوں میں یا گرمیوں میں یا کھیتی کٹنے کے وقت دیدیں گے، اس لیے کہ ان مواعید میں تقدیم و تاخیر ہوتی ہے، اور ابیام کی وجہ سے نزاع کا اندیشہ ہے۔ مدت ماہ و تاریخ کے ساتھ متعین ہونی چاہیے۔ اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ ، یعنی جب تم آپس میں ادھار لین دین کا معاملہ کیا کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اس آیت میں ایک اصول اور ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ ادھار لیتے دیتے وقت تحریر لکھ لیا کرو۔ عمومًا دوستوں اور عزیزوں کے درمیان قرض کے معاملات میں تحریر (دستاویز) لکھنے اور گواہ مقرر کرنے کو معیوب اور بےاعتمادی کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قرار دادوں کو تحریر میں لانا چاہیے اور اس میں شہادت بھی ثبت کرلینی چاہیے، تاکہ آئندہ کوئی نزاع پیدا نہ ہو۔ اس آیت میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ ادھار کا معاملہ جب کیا جائے تو اس کی میعاد ضرور مقرر کرلی جائے۔ غیر معین مدت کے لئے ادھار لین دین جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سے جھگڑے، فساد کے دروازے کھلتے ہیں۔ اسی وجہ سے فقہاء نے کہا ہے کہ میعاد بھی ایسی ہونی چاہیے کہ جس میں کوئی ابہام و اجمال نہ ہو۔ وَلْیَکْتُبْ بَیْنَکُمْ کَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ، چونکہ لکھنا اس زمانہ میں عام نہ تھا بمشکل ہی کوئی لکھنے والا دستیاب ہوتا تھا، آج بھی اس ترقی یافتہ دور میں دنیا کی بیشتر آبادی ناخواندہ ہے تو یہ ممکن تھا کہ لکھنے والا کچھ کا کچھ لکھ دے جس کی وجہ سے کسی کو نقصان اور کسی کا فائدہ ہوجائے اس لیے ارشاد فرمایا کہ لکھنے والے کو چاہیے کہ عدل و انصاف سے صحیح صحیح لکھے، اور دستاویز لکھنے کا ماحصل چونکہ اپنے ذمہ حق کا اقرار کرنا ہے لہٰذا لکھنے کا انتظام اسی کو کرنا چاہیے جس کے ذمہ حق واجب الاداء ہے، لکھنے والے اور لکھوانے والے کو دل میں خوف خدا رکھ کر لکھنا لکھانا چاہیے۔ (وَلْیَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ ) میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْھًا اَوْ ضعِیْفًا (الآیۃ) بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس شخص پر حق عائد ہوتا ہے اور خفیف العقل ہو یا سٹھیایا ہوا بوڑھا ہو یا نابالغ بچہ یا گونگا، یا کوئی دوسری زبان بولنے والا ہو جس کی زبان کاتب نہیں سمجھتا، اس لئے دستاویز لکھوانے پر اس کی قدرت نہ ہو تو ان کی طرف سے ان کا ولی لکھائے یا کوئی وکیل اور کا رمختار لکھائے یہاں ولی دونوں معنی میں ہوسکتا ہے۔ ضابطہ شہادت کے چند اہم اصول : سابقہ آیت میں تحریر و دستاویز لکھنے اور لکھانے کا بیان تھا، اس آیت میں بتایا گیا کہ صرف تحریر و دستاویز کو کافی نہ سمجھیں بلکہ اس پر گواہ بھی بنالیں تاکہ بوقت نزاع عدالت میں ان گناہوں کی گواہی پر فیصلہ کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تحریر حجۃ شرعیہ نہیں ہے، جب تک کہ اس ہر شہادت شرعیہ موجود نہ ہو، آج کل کی عدالتیں بھی محض تحریر پر زبانی شہادت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتیں۔ شہادت کے لیے دو عادل مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا ہونا ضروری ہے، اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَافَتُذََکِّرَ اِحْدٰھُمَا الْاُخْرَیٰ ، یہ ایک مرد کے بجائے دو عورتوں کو گواہ بنانے کا حکمت بیان ہے، یعنی دو عورتوں کو بمنزلہ ایک مرد کے رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ عورت عام طور پر مرد کے مقابلہ میں ضعیف الخلقت اور قلیل الفہم ہوتی ہے اس لیے اگر ایک عورت معاملہ کا کچھ بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلادے، رہا یہ شبہ کی عورت کو مرد کے مقابلہ میں ضعیف کیوں تسلیم کیا گیا ہے اور نسیان کا احتمال مرد کی شہادت میں کیوں نہیں رکھا گیا ؟ تو یہ سوالات ذہن و اخلاق کی دنیا میں ایسے ہی ہیں جیسے جسمانی ساخت و مادیات کی دنیا میں یہ دریافت کیا جائے کہ حمل ورضاعت کا تعلق صرف عورت ہی سے کیوں رکھا گیا ؟ اور مرد کو باوجود اس کی قوت اور برداشت کے کیوں ناقابل سمجھا گیا ؟ خالق کائنات جو کائنات کے ہر ایک ذرہ سے واقف ہے اس کے پیش نظر بھی ذہنیات اور اخلاقیات کی باریک سے باریک حقیقتیں ہیں۔ مغرب کے ماہر نسائیات ہیولاکایلس Hoolock Ellis نے یہاں تک لکھ دیا کہ عورت کے لیے دھوکا اور فریب بمنزلہ امر طبعی کے ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ھو تفسیر ماجدی، انگریزی) ہاں اگر تجارتی لین دین دست بدست ہو اور اس کو نہ لکھا جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں، مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کی خریدو فروخت کی تحریر ضروری نہیں ہے پھر بھی اگر لکھ لیا جائے تو بہتر ہے جس طرح آج کل کیش میمودینے کا رواج ہے۔ وَلَایُضَارَّ کَاتِبٌ وَّلَاشَھِیْدٌ، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ کسی شخص کو دستاویز لکھنے اور گواہ بننے پر مجبور نہ کیا جائے، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر کاتب اپنی کتابت کی اجرت طلب کرے یا گواہ اپنی آمدورفت کا خرچہ طلب کرے تو اس کا حق ہے۔ اسلام نے اپنے نظام عدالت میں جس طرح گواہ کو گواہی دینے پر مجبور کیا ہے اور گواہی چھپانے کو سخت گناہ قرار دیا ہے اسی طرح اس کا انتظام بھی کیا ہے کہ لوگ گواہی سے بچنے پر مجبور نہ ہوں۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر پر ہو اور (دستاویز لکھنے والا مل نہ سکے) تو (کوئی چیز) رہن باقبضہ رکھ کر) قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کرے اور خدا سے جو اس کو پروردگار ہے ڈرے اور دیکھنا شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ (الآیۃ) اس کا یہ مطلب نہیں کہ رہن کا معاملہ سفر ہی میں ہوسکتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت چونکہ سفر میں زیادہ پیش آتی ہے اس لیے خاص طور پر سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہ مطلب بھی نہیں کہ جب کوئی محض دستاویز لکھنے کی صورت میں قرض دینے کے لیے تیار نہ ہو تو اسی صورت میں رہن رکھ کر قرض لے لے، بلکہ دستاویز اور رہن دونوں بھی جائز ہیں۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرض دینے والا اپنے اطمینان کے لیے رہن رکھ سکتا ہے مگر اس لفظ ” مقبوضہ “ سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شئ مرہونہ سے نفع نہ اٹھایا جائے یہ اس کے لیے جائز نہیں، مرتہن کو صرف اتنا ہی حق ہے کہ اپنا قرض وصول ہونے تک مرہون شئ پر اپنا قبضہ رکھے۔ قولہ : فَاِنَّہٗ اٰثِمٌ قَلْبُہُ ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو نزاعی معاملہ کا صحیح علم ہو تو اس کو شہادت نہ چھپانی چاہیے، اور اگر چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا دل کو اس لیے گنہگار فرمایا کہ کوئی شخص اس کو صرف زبان کا گناہ نہ سمجھے اس لیے کہ ارادہ اول قلب ہی میں پیدا ہوتا ہے اس لیے اول گناہ قلب کا ہوگا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

آیت نمبر 284 تا 286 ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے برے اعمال اور ان کا پختہ ارادہ جو تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو اللہ ان کی تم کو قیامت کے دن سزا دے گا، پھر جس کی مغفرت چاہے گا مغفرت کر دے گا اور جس کو عذاب دینا چاہے گا عذاب دیگا دونوں فعل (یغفر اور یعذب ) جواب شرط (یُحَاسِبْکم) پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں اور تقدیر ھو کی وجہ سے مرفوع بھی، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور انہیں چیزوں میں سے تمہارا محاسبہ کرنا اور تم کو جزاء دینا ہے رسول یعنی محمد ﷺ نے اس قرآن کو تصدیق کی جو ان پر ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا، اور مومنین نے (بھی) اس کا عطف اَلرّسول پر ہے، یہ سب (کّلٌّ) کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے (ای کلّھُمْ ) اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے (کُتُبْ ۔ کتاب) جمع اور افراد کے ساتھ ہے، اور اس کے رسولوں پر وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے رسولوں میں باہم کوئی فرق نہیں کرتے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں، جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا، اور انہوں نے کہا جس کا آپ نے ہم کو حکم دیا قبولیت کے کان سے ہم نے سن لیا، اور ہم نے اطاعت کی اے ہمارے پروردگار ہم آپ سے خطابخشی کا سوال کرتے ہیں اور تیری ہی طرف واپسی ہے، یعنی بعث کے ذریعہ لوٹنا ہے اور جب ماقبل کی آیت نازل ہوئی تو مومنین نے وسوسوں کے بارے میں شکایت کی اور ان پر وسوسوں کے بارے میں حساب فہمی گراں گزری تولا یُکَلِفُ اللہُ نِفْسًا الخ نازل ہوئی، اللہ کسی کو طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا یعنی جو اس کے بس میں ہو، جو نیکی جس نفس نے کمائی اس کا ثواب اس کے لئے ہے اور جس نے جو بدی کمائی اس کا گناہ اس پر ہے کوئی کسی کے جرم میں ماخوذ نہ ہوگا اور ناکردہ جرم یعنی نفس کے وسوسوں میں ماخوذ ہوگا کہو، اے ہمارے پروردگار ہماری عذاب کے ذریعہ گرفت نہ فرما اگر ہم سے بھول ہو یا چوک ہوجائے (یعنی) بلاقصد ہم درستگی کے تاریک ہوجائیں جیسا کہ آپ نے اس پر ہم سے ماقبل والوں کی گرفت فرمائی، اور اللہ تعالیٰ نے اس امت سے بھول چوک کو معاف فرما دیا، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، پھر (معافی) کی درخواست دراصل اللہ کی نعمت کا اعتراف ہے اے ہمارے پروردگار، ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پیشتر تھے بنی اسرائیل، کہ وہ توبہ کے عوض قتل نفس ہے اور زکوٰۃ میں چوتھائی مال کی زکوٰۃ نکالنا، اور امام نجاست کو کاٹنا، یعنی ایسا حکم جو ہمارے لیے ناقابل برداشت ہو، تکالیف اور مصائب کے قبیل سے، اور ہم سے ہمارے گناہوں کو درگذر فرما اور ہم کو معاف فرما اور رحم فرما رحمت میں مغفرت کے مقابلہ میں زیادتی ہے، تو ہی ہمارا آقا ہے یعنی ہمارے امور کا متولی ہے سو ہم کو کافروں پر غلبہ عطا فرما قیام حجت میں اور ان سے قتال میں فتح کے ساتھ، اس لیے کہ آقا کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کی دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کرتا ہے اور حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی تلاوت فرمائی، تو ہر کلمہ کے بعد (رسول) سے کہا گیا۔ قد فَعَلْتُ ، یعنی میں نے منظور کیا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : تُظْھِرُوْا، تُبْدُوْا، کی تفسیر تَظْھِرُوا سے کرکے اشارہ کردیا کہ تُبْدُوْا، اِبْداءٌ سے ہے کہ بَدْءٌ سے جس کے معنی شروع کرنے کے ہیں قولہ : میں سوءٍ ، مِن بیانیہ ہے، ” ما “ کا بیان ہے۔ قولہ : یُحَاسِبْکُمْ ، اس کی دو تفسیریں ہیں ایک یجزکُمْ اور دوسری یُخْبِرُکم، ہے مفسر علام نے سوءٌ کی تفسیر والعزم علیہ سے پہلے لفظ کے اعتبار سے کی ہے، اور والعزم علیہ میں واؤ تفسیری ہے مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل میں جو پختہ خیالات آتے ہیں یعنی جن کو عملی جامہ پہنانے کا عزم مصمم ہوتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ مواخذہ فرمائیں گے اس لیے کہ محض وساوس قلبی پر مواخذہ نہیں ہے۔ قولہ : والعزم علیہ، سے ایک اعتراض کا جواب بھی مقصود ہے۔ سوال : وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بہِ اللہُ ، سے معلوم ہوتا ہے کہ وساوس قلبی پر بھی مؤاخذہ ہوگا حالانکہ وساوس قلبی پر بندے کا اختیار نہیں ہے نیز یہ تکلیف مالایطاق بھی ہے۔ اس کا جواب دیا کہ مافی انفسِکم سے وہ وساوس مراد ہیں جن کو عملی جامہ پہنانے کا عزم مصمم کرلیا گیا ہو، اسی طرح مفسر علام نے یُحَاسِبْکُم کی تفسیر یخبرکم سے کر کے بھی اس سوال کا جواب دیدیا کہ حدیث شریف میں فرمایا کہ وساوس قلبی پر کوئی مواخذہ نہیں جب کہ ان کو عملی جامہ نہ پہنائے۔ اس کا جواب دیا کہ یحاسبکم کے معنی ہیں یخبرکم یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن، قلبی وساوس سے بھی بندے کو آگاہ کر دے گا۔ اور جن نسخوں میں یخزکم ہے تو پھر نسخ لَایُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا سے ہوگا۔ سابقہ آیت وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ الخ، کو اگر عام رکھا جائے جو قلبی وساوس اور معزومات کو بھی شامل ہو تو آئندہ آیت ” لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا “ الخ اس کی ناسخ ہوگی اور اگر سابقہ آیت کو عزم پر محمول کیا جائے تو پھر نسخ نہیں ہوگا بلکہ لاحقہ آیت سابقہ آیت کی توضیح ہوگی۔ قولہ : عطفاً علی جواب الشرط، اگر یَغْفِرْ اور یُعَذِّبْ کو جزم کے ساتھ پڑھا جائے تو جواب شرط یعنی یُحَاسِبْ پر عطف ہوگا اور اگر دونوں کو مرفوع پڑھا جائے تو، ھُوْ مبتداء محذوف کی خبر ہوگی اور جملہ استینافیہ ہوگا۔ قولہ : تَنْوِیْنُہٗ عوض عن المضاف الیہ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : جب المؤمنون کا عطف الرسول پر ہے، تو جملہ معطوفہ ہو کر خبر مقدم ہوگی اور کُلُّ مبتداء موخر ہوگا، حالانکہ کُلُّ کا نکرہ ہونے کی وجہ سے مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے۔ جواب : کُلُّ اضافت الی الغیر کی وجہ سے معرفہ ہے اس لیے کہ کُلُّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے تقدیر عبارت کلّھُمْ ہے اور عوض کا حکم مُعَوْض کا ہوتا ہے۔ قولہ : یقولون۔ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : یقولون کے مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : لاَنُفرِّقُ ، جمع متکلم کا صیغہ ہے اس میں جو ضمیر جمع متکلم ہے وہ الرسول اور المؤمنین کی طرف راجع ہے حالانکہ وہ اسم ظاہر ہونے کی وجہ سے بحکم غائب ہیں، اور غائب کی طرف کلام واحد میں متکلم کی ضمیر نہیں لوٹ سکتی، لہٰذا نفرقُ سے پہلے یقولون مقدر مان لیا تاکہ جمع اور ضمیر میں مطابقت ہوجائے۔ اللغۃ والبلاغۃ الطاقۃ، المجھود والقدرۃ، یہ مصدر حذف زوائد کے ساتھ استعمال ہوا ہے اصل میں اَلاِطَاقۃُ تھا، الاِصر بھاری بوجھ، تکالیف شاقہ، سخت دشوار امور (ض) مقابلہ : لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ، اس میں صفت مقابلہ ہے۔ صفت مقابلہ کی تعریف یہ ہے کہ دو یا زیادہ متوافق معنی لائے جائیں پھر علی الترتیب ہر لفظ کا متقابل لایا جائے، جیسے فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلاً وَّلْیَبْکُوْا کَثِیْرًا یہاں یضحکوا اور قلیلا متوافق لفظ ہیں اس کے بعد اسی ترتیب سے یَبْکوا اور کثیرا لایا گیا ہے مذکورہ آیت میں لَھَا، اور عَلَیْھَا، ان دونوں میں مقابلہ ہے اسی طرح، کَسَبَتْ اور ما اکْتَسَبَتْ میں بھی مقابلہ ہے اول فعل عمل خیر کے ساتھ خاص ہے اور دوسرا فعل عمل شر کے ساتھ خاص ہے۔ (اعراب القرآن للدرویش) ۔ حسن الختام، یہ ہے کہ تفصیلی طور پر جن امور کو پورے مضمون میں بیان کیا گیا، اس پورے مضمون کے ایجاز و اختصار کے ساتھ خاتمہ کلام میں اعادہ کردینا۔ سورت کا آغاز دین کی بنیادی تعلیمات سے کیا گیا تھا، سورت کو ختم کرتے وقت بھی ان تمام بنیادی اصولوں کو بیان کردیا گیا ہے جن پر دین اسلام کی اساس قائم ہے تقابل کے لیے اس سورت کے پہلے رکوع کو پیش نظر رکھا جائے تو زیادہ مفید ہوگا۔ تفسیر و تشریح للہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ قرآن مجید کی طویل ترین سورت کا یہ آخری رکوع ہے اس میں عقیدہ توحید کا پھر اعادہ ہے، سوت کا آغاز اصول دین سے متعلق جامع تعلیم سے ہوا تھا، سورت کا خاتمہ بھی اسی جامعیت کے ساتھ بنیادی عقائد پر ہو رہا ہے، اسی کو بلاغت کی اصطلاح میں حسن الختام کہا جاتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ بڑے پریشان ہوئے، دربار رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج و جہاد وغیرہ یہ سارے اعمال جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ہم بجالاتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری طاقت سے بالا نہیں ہیں، لیکن دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور وسوسوں پر تو ہمارا اختیار ہی نہیں ہے اور وہ تو انسانی طاقت سے باہر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی محاسبہ کا اعلان فرمایا ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فی الحال تم سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ہی کہو، صحابہ کے جذبہ سمع و اطاعت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کو، آیت لَایُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا، سے منسوخ فرما دیا۔ (فتح القدیر) صحیحین اور سنن اربعہ کی یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے، اِنَّ اللہ تَجَاوَزَلِی عن امتی مَا وَسْوَسَتْ بہ صَدْرُھَا مالَمْ تعمل اَوْ تتکلّم، اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جی میں آنے والی باتوں کو معاف کردیا ہے، البتہ ان باتوں پر گرفت ہوگی جن پر عمل کیا جائے یا جن کا اظہار کیا جائے اس سے معلوم ہوا کہ وساوس اور خیالات پر ہمیشہ مؤاخذہ نہیں ہوگا، صرف اس وقت مؤاخذہ ہوگا جب وہ عمل کے قالب میں ڈھل جائیں اور ان کے کرنے کا پختہ عزم ہوجائے۔ امام ابن جریر طبری کا خیال ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اس لیے کہ محاسبہ تو ہر ایک کافر مائیں گے، لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو محاسبہ کے باوجود اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
Ayahs 2:285–286

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے نقصان پہنچے گا اسے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجیو اے پروردگا ہم ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

اَمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ (الاٰیۃ) اس آیت میں پھر ان ایمانیان کا ذکر ہے، جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اس سے اگلی آیت ” لَایُکَلِّفُ اللہُ “ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت اور اس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے ان دونوں آیات کی احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو اس کو کافی ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ سورة بقرہ تمام ہوئی وللہ الحمداولہ وآخرہ وظاھرہ و باطنہ وھوالمستعان۔ بندہ محمد جمال استاذدارالعلوم دیوبند۔ بعد نماز مغرب بروزپیر۔ 21 شوال 1424 ھ، 15۔ 12۔ 2003 ء