Ayah 2:124حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش :
وَاِذِابْتَلٰی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمَاتٍ (الآیۃ) قرآن میں مختلف مقامات پر ان تمام آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جن سے گزر کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوع انسان کا امام بنادیا جائے، جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا اس وقت سے لے کر دم واپسیں تک ان کی پوری زندگی سراسر قربانی ہی قربانی تھی، دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان محبت کرتا ہے ان میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور دنیا میں جتنے خطرات ایسے ہیں جن سے آدمی ڈرتا ہے ان میں سے کوئی خطرہ ایسا نہ تھا جسے انہوں نے حق کی راہ میں نہ جھیلا ہو۔
حسن نے کہا : حضرت ابراہیم کو سات چیزوں کے ذریعہ آزمایا گیا (1) کواکب (2) قمر (3) شمس (4) ہجرت (5) ذبح ولد (6) ختنہ (7) نمرود کی آگ، اور بعض حضرات نے تیس کی تعداد کرائی ہے۔ (مظہری) یہ وہ تمام آزمائشیں ہیں جن سے حضرت ابراہیم گزارے گئے اور آپ ہر آزمائش میں کامیاب و کامران رہے، جس کے صلہ میں امام الناس کے منصب پر فائز کئے گئے، چناچہ مسلمان ہی نہیں یہودی اور عیسائی حتی کہ مشرکین عرب سب ہی میں ان کی شخصیت محترم اور پیشوامانی جاتی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اعلانِ امامت :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن آزمائشوں سے گزارے گئے اور آپ ہر آزمائش میں کامیاب و کامران رہے جس کے صلہ میں امام الناس کے منصب پر فائز کیے گئے، ارشاد ہوا اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواہش ظاہر کرتے ہوئے فرمایا : وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ یعنی مری ذریت میں بھی یہ منصب عطا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خواہش کو قبول فرمایا، جس کا ذکر سورة عنکبوت آیت 27، میں اس طرح فرمایا : وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتَابَ ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں رکھ دی، اس کے ساتھ ہی خبردار کردیا کہ میرا یہ وعدہ ظالموں سے نہیں ہے، اس سے اس امر کی وضاحت ہوگئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی اونچی شان اور عند اللہ اتنی قدرومنزلت کے باوجود، اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں سے جو نا خلف اور ظالم و مشرک ہوں گے ان سے میرا کوئی وعدہ نہیں ہے، اور یہ بتادیا کہ اگر ایمان اور عمل صالح نہیں ہے تو پیغمبر زادگی اور پیرزادگی اور صاحبزادگی کی بارگاہ الہٰی میں کوئی حیثیت نہیں، نبی ﷺ کا ارشاد ہے مَنْ بَطَأَ عَمَلُہٗ لَمْ یَسْرَعْ بِہٖ نَسَبُہ (صحیح مسلم) جس کو اس کے عمل نے پیچھے چھوڑ دیا اس کو اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ صرف مسلمانوں کے نزدیک بزرگ اور قابل صد احترام ہیں بلکہ یہود اور نصاریٰ حتی کہ مشرکین عرب کے نزدیک بھی جلیل القدر ہیں، تورات میں آپ کا نام ابراہام اور ابراہیم آیا ہے، سریانی زبان میں ابراہیم کے معنی مہربان باپ کے ہیں جیسے عربی میں ابٌ رحیمٌ کہا جاتا ہے، تورات کی روایت کے مطابق آپ اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس پشتوں کا فاصلہ ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی گیارہویں پشت میں تھے، لیکن خود تورات کے شارحین کا خیال بعض قوی قرائن کی بناء پر یہ ہے کہ تورات میں نسب نامہ کی کچھ پشتیں چھوٹ گئی ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سن ولادت :
آپ کا سن ولادت سرچارلس مارٹن محقق اثریات کی جدید تحقیق کے مطابق 2160 ق م ہے، اور عمر شریف تورات کے بیان کے مطبق 75 سال ہے اس حساب سے آپ کا سال وفات 1985 ق م ٹھہرتا ہے، والد کا نام تارخ تھا، عربی زبان میں اس کا تلفظ آزر ہے، قرآن میں بھی آزر استعمال ہوا ہے، قدیم زبانوں میں نام کا تلفظ چونکہ مختلف طریقہ سے ہوتا تھا اس لئے نام میں اختلاف ہے، مسلمانوں کے لئے قرآنی نام آزر کافی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن :
آپ کا آبائی وطن بابل یا کلدانیہ ہے (انگریزی تلفظ کا لڈیا ہے) جدید جغرافیہ میں اسی کو عراق کہتے ہیں، جس شہر میں آپ کی ولادت ہوئی اس کا نام تورات میں اُر (UR) آیا ہے، مدتوں سے یہ شہر نقشہ سے غائب تھا اب کھدائی کے بعد ازسرنو نمودار ہوا ہے، کھدائی کے کام کی داغ بیل 1894 ء ہی میں پڑگئی تھی 1992 ء میں برطانیہ اور امریکہ کے ماہرین اثریات کی ایک مشترکہ تحقیق مہم برٹش میوزیم اور پنسیلوینیا یونیورسٹی کے زیر اہتمام عراق روانہ ہوئی اور کھدائی کا کام پورے سات سال جاری رہا، رفتہ رفتہ پورا شہر نمودار ہوگیا اور عراق سرکار کے محکمہ آثار قدیمہ نے عجائب خانہ کے حکم میں شامل کرکے ان کھنڈرات کو محفوظ کردیا ہے، یہ شہر خلیج فارس کے دہانہ فرات اور عراق کے پایہ تخت بغداد کے تقریباً درمیانی مسافت پر ہے۔ (تفسیر ماجدی ملخصا)
Ayahs 2:125–126وَاِذْجَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّنَّاسِ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت سے جو بیت اللہ کے بانی اول ہیں، بیت اللہ کی دو خصوصیتیں اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہیں، ایک مَثَابَۃً لِّنَّاسِ لوگوں کے لئے ثواب ی جگہ اور دوسرے معنی ہیں بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ (یعنی) مرکز، دوسری خصوصیت امن کی جگہ یعنی یہاں کسی دشمن کا خوف نہیں رہتا، چناچہ زمانہ جاہلیت میں بھی حدود حرم میں کسی دشمن جان سے بھی انتقام نہیں لیتے تھے، اسلام نے ان کے اس احترام کو نہ صرف یہ کہ باقی رکھا بلکہ اس کی مزید تاکید اور توسیع کردی حتی کہ حرم میں خودروگھاس وغیرہ بھی اکھاڑنا ممنوع قرار دیدیا۔
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کعبہ کرتے تھے، اس پتھر پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ہیں، اب اس پتھر کو شیشے میں محفوظ کردیا گیا ہے، اس مقام پر طواف مکمل کرنے کے بعد دو رکعت پڑھنے کا حکم ہے۔
حنفیہ اور مالکیہ کے یہاں یہ نماز واجب ہے اور شافعیہ کہ یہاں سنت۔
اَنْ طَھِّرَابَیْتِیَ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کو اپنے گھر کو پاک رکھنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس پانی سے کیا مراد ہے ؟ ابن جریر کہتے ہیں (ھو تطھیرہٗ مِنَ الاصْنَامِ و عبَادَۃِ الَا وثَان فیہ ومن الشرک باللہ) یعنی تطہیر سے مراد بتوں اور بت پرستی سے پاک کرنا ہے، حقیقت میں تو معنوی اعتقادی نجاست سے پاکی کا حکم ہے، ضمنا ظاہری طہارت کا حکم بھی اس میں داخل ہے، طھِّرَا بَیتیَ میں بیت سے اگرچہ بیت اللہ (کعبہ) مراد ہے مگر اس سے ہر مسجد کو پاک و صاف رکھنے کا حکم مفہوم ہوتا ہے۔
دَخَلَ فیہ بالمعنی جمیع بیوتہٖ تعالیٰ (قرطبی) اَنْ طَھِّرَا میں اَن تفسیریہ ہے یعنی بمعنی اے۔
Ayahs 2:127–129آیت نمبر 127 تا 129
ترجمہ : اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنادیں یا دیواریں اٹھا رہے تھے یعنی اس کی تعمیر کر رہے تھے مِنَ البَیْت، یَرْفَعُ کے متعلق ہے، اور اِسْمَاعِیْلُ کا عطف اِبْرَاھِیْمُ پر ہے، دونوں دعاء کرتے جاتے تھے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہماری طرف سے اس تعمیر کو قبول فرما تو باتوں کا سننے والا اور کاموں کا جاننے والا ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا کہ جو تیری فرمانبردار ہو، اور مِنْ تبعیضیہ ہے، اور سابق میں لَا یَناَلُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ آجانے کی وجہ سے مِنْ تبعیضیہ لائے ہیں، اور تو ہم کو ہماری عبادت کے طریقے سکھا، یعنی ہماری عبادت کے احکام، یا ہمیں ہمارے حج کا طریقہ سکھا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، بیشک تو بڑا معاف کرنے والا ہے، دونوں کے معصوم ہونے کے باوجود توبہ کا سوال کرنا تو اضعًا اور اپنی ذریت کی تعلیم کے لئے تھا، اے ہمارے پروردگار ! ان میں یعنی اہل بیت میں ایک ایسا رسول مبعوث فرما، چناچہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی شکل میں ان کی دعا قبول فرمالی، جو انہیں تیری آیات قرآنی سکھائے اور انہیں کتاب قرآن و حکمت جس میں احکام ہوں سکھائے اور انہیں شرک سے پاک کرے یقیناً تو غلبہ والا حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : عطف علی ابراھیم یہ عبارت اس شبہ کا دفعیہ ہے کہ واسمٰعِیل جملہ مستانفہ ہے، اس لئے کہ اگر اسماعیل کا ابراہیم پر عطف ہوتا تو اسمٰعیلُ کو اَلقَوَاعِدَ مفعول سے مقدم کرتے۔
جواب : اسماعیل کو اس لئے مؤخر کیا ہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حقیقت میں بانی نہیں ہیں بلکہ معاون ہیں، بانی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، لیکن چونکہ تعمیر اور بناء میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی حصہ تھا اس لئے اصل بانی پر معاون کا عطف کردیا۔
قولہ : یَقُولَان، یقولان کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، اِبْرَاھیمَ واسمٰعِیلَ سے حال واقع ہے، حالانکہ حال واقع ہونا درست نہیں ہے، اس لئے کہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنّا دع اہونے کی وجہ سے جملہ انشائیہ ہے، اور جملہ انشائیہ حال واقع نہیں ہوسکتا۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے یقولون محذوف ہے جس کی وجہ سے یہ جملہ خبر یہ ہوگیا، لہٰذا حال واقع ہونا صحیح ہوگیا، یَقُولان مقدر ماننے کی دوسرے وجہ یہ ہے کہ اگر یَقُولَان مقدر نہ مانیں تو خطاب واحد میں شئ واحد کا بغیر عطف کے غائب و متکلم ہونا لازم آتا ہے، اس لئے کہ تَرْفَعُ ابراہیمُ القواعدَ الخ غائب ہے، اور رَبَّنَا تَقَبَّلْ الخ متکلم ہے، اور جب یَقُولان مقدر مان لیا تو دونوں جملے غائب ہوگئے۔
قولہ : ومِنْ للتبعِیضِ ، وَمِنْ ڈُرِّیَّتِنَا میں مِنْ کو تبعیضیہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اوپر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا لَایَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ وعدہ امامت پوری ذریت سے نہیں بلکہ صرف ان سے ہے جو مومن اور صالح ہوں گے، اگر مِنْ کو تبعیضیہ نہ مانا جائے تو لاینالُ عَھْدِی الظّٰلِمینَ اور وَمِن ذرِیتنَا میں تعارض ہوگا، اس لئے کہ مِنْ ذرّیتِنَا کا مطلب ہے بغیر استثناء پوری ذریت کے لئے امامت کی دعاء فرمائی۔
سوال : مِنْ ذُرِّیتنا میں من تبعیضیہ لینے کی صورت میں دعاء میں بخل لازم آتا ہے، یعنی سب کے لئے دعا نہیں کی بلکہ بعض کے لئے دعا کی۔
جواب : مِنْ کو ابتدائیہ لینا چونکہ ما قبل میں مذکور لَایَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِینَ کے معارض و منافی ہے، اس لئے مِن کا تبعیضیہ لیا ہے۔
سوال : رَرِنَا یہ رَأیٰ سے ماخوذ ہے، جو متعدی بدو مفعول ہے اور جب باب افعال سے لایا گیا تو متعدی بسہ مفعول ہوگیا حالانکہ یہاں صرف دو مفعول ہی مذکور ہیں، ایک نا اور دوسرا مَنَاسِکَ ۔
جواب : اَرَی بمعنی علم وَاَبْصَرَ ہے، جو متعدی بیک مفعول ہے، باب افعال میں آنے کی وجہ سے متعدی بدو مفعول ہوگیا۔
قولہ : سَألاہ التوبۃَ الخ یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا توبہ قبول کرنے کی درخواست کرنا یہ ان کی معصومیت کے خلاف ہے، حالانکہ نبی معصول ہوتا ہے۔
جواب : تواضعاً اور تعلیماً لِلامَّۃِ توبہ کی درخواست کی۔
قولہ : اھلُ البیت اس جملہ کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ وابْعَثْ فِیھم میں ھم ضمیر ذریۃً کی طرف راجع ہے، حالانکہ ذریۃً مؤنث ہے، لہٰذا فِیھَا ہونا چاہئے
جواب : ذریۃً سے مراد اھل البیت ہیں جو کہ ذریۃً ے مفہوم ہیں، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
تفسیر و تشریح
وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) جب بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہماری یہ تعمیری خدمت قبول فرما، تو سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور اے ہمارے پروردگار ! تو ہم دونوں کو اپنا مطیع اور فرمانبردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم (جماعت) اٹھا جو تیری فرمانبردار ہو، اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے سکھا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے، اور خود اسی قوم میں سے ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوار دے تو بڑا قادر و حکمت والا ہے۔
حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کی یہ آخری دعا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی، اور حضرت اسماعیل کی اولاد سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا میں اپنے دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔ (فتح الربابی)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت سے مراد یہ قول ہے مُبِشِّرْا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ احْمَدُ اور والدہ کے خواب سے وہ خواب مراد ہے جو آپ کی والدہ ماجدہ نے حالت حمل میں دیکھا تھا کہ میرے بطن سے ایک نور نکلا جس نے ملک شام کے محلات کو جگمگا دیا۔
البیت العتیق : عبادت خانوں میں قدیم ترین بلکہ سب سے قدیم کعبۃ اللہ ہے، اس کا دوسرا نام البیت العتیق بھی ہے، جب اَلبَیْت مطلق بولا جاتا ہے تو خانہ کعبہ ہی مراد ہوتا ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، جس طرح الکتاب سے قرآن اور النبی سے محمد ﷺ مراد ہوتے ہیں۔
قابل غور بات : یہاں یَرْفَعُ کا لفظ استعمال کیا گیا یُؤَسِّسُ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی نبی اد نہیں رکھی بلکہ سابقہ رکھی ہوئی بنیاد کو اٹھایا، بنیاد تو غالباً حضرت آدم (علیہ السلام) ہی نے اپنے زمانہ میں رکھی تھی، مسیحیوں کو قدامت کعبہ سے جو ضد اور کد ہے وہ ظاہر ہے، خانہ کر بہ کی قدامت کے خلاف زبان و قلم سے ہر امکانی کوشش کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے۔
بعض حق گو محققین کی شہادت : ضد اور تعصب کی تاریکیوں میں بعض اوقات راست گوئی اور حق پسندی کی روشنی نمودار ہو کر ضد اور تعصب کی ظلمت کے دامن کو تار تار کرکے مینارہ نور کھڑا کردیتی ہے، مخالفوں اور دشمنوں کی شہادت زیادہ وزنی ہوا کرتی ہے، سنئے ! جارج سیل (SALE) مترجم قرآن اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں لکھتا ہے :
” مکہ جسے بکّہ بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں الفاظ مترادف ہیں اور ان کے معنی مقام اجتماع عظیم کے ہیں، یقیناً دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ہے، اور بعض کی رائے میں توریت کے (شہر) میسا سے یہی مراد ہے “۔
پھر وہی آگے لکھتا ہے :” مکہ کا معبد اہل عرب کے درمیان مقدس اور ایک عبادت گاہ کی حیثیت سے بہت ہی قدیم زمانہ سے اور محمد ﷺ سے بہت سی صدیوں قبل سے چلا آتا ہے “۔
باسورتھ استمھ اپنے لکچرزان محمد اینڈ محمڈن ازم میں لکھتا ہے :
” بناء کعبہ کا سلسلہ حسب روایات اسماعیل اور ابراہیم تک پہنچتا ہے بلکہ شیث و آدم (علیہما السلام) تک، اور اس کا نام بیت ایل خود اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسے ابتدائی شکل میں کسی ایسے ہی بزرگ نے تمیر کیا ہے۔ (ماجدی)
سب سے بڑھ کر قابل لحاظ شہادت سرولیم میور کے قلم سے ہے :
” مکہ کے مذہب کی تاریخ بہت ہی قدیم ماننی پڑتی ہے، روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ ایک نامعلوم زمانہ سے عرب کا مرکز چلا آتا ہے، جس مقام کا تقدس اتنے وسیع رقبہ میں مسلم ہو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کی بنیاد قدیم ترین زمانہ سے چلی آتی ہے۔ (ماجدی)
رَسُوْلًا مِّنْھُمْ دعاء ابراہیم و اسماعیل ابھی چل رہی ہے، جس میں عرض کیا جا رہا کہ اے پروردگار ! تو ہم دونوں کی نسل سے ایک امت مسلمہ پیدا فرما، اس کے معاً بعد مِنْھُمْ کا لفظ لاتے ہیں، اس سے کھلا اشارہ نسل اسماعیلی کی طرف ہے۔ رَسُولًا ایک تو صیغہ واحد کا، دوسرے تنوین، گویا کہ یہ اشارہ قریب بصراحت پہنچ گیا کہ وہ رسول ایک ہی ہوگا، متعدد نہ ہوں گے، چناچہ حضرت اسماعیل کی نسل میں ایک ہی گوہر یتیم محمد ﷺ کی شکل میں مبعوث ہوا۔
یہود کا دعویٰ ہے اور نصاریٰ بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں، کہ نبوت و رسالت تو بنی اسرائیل کے ساتھ خصوص تھی یہ نیا پیغمبر بنی اسماعیل میں کیسے پیدا ہوگیا ؟ لیکن ان ہی کی تورات باوجود ان کی تمام تحریفات کے اب تک شہادت ان کے دعوے کے خلاف دے رہی ہے، ایک جگہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی بات کی طرف کان دھرو۔ (استثناء : 18: 15)
قطع نظر اس سے کہ بنی اسرائیل میں ایک نہیں نہ معلوم کتنے انبیاء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پیدا ہوتے رہے، جب کہ دعاء ایک نبی برپا کرنے کی فرمائی، اس کے علاوہ خود ” تیرے ہی بھائیوں میں “ سے اس کی تصریح بتارہی ہے کہ مراد نبی اسرائیل نہیں بلکہ ان کے ہم جد بھائی بنی اسماعیل ہیں، اگر اسرائیلی نبی کی خبر دینی مقصود ہوتی تو بجائے تیرے بھائیوں میں سے کے، عبارت ” تجھ ہی میں سے “ ہوتی، اب رہے تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں وغیرہ کے الفاظ تو یہ محض جذبہ انس اور موانست پیدا کرنے کے لئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اے میرے ہم قومو ! جب وہ نبی آئے تو اس کی اطاعت کرنا وہ بھی تمہارا غیر نہیں، تمہارے ہی بھائیوں میں سے ہوگا۔
اس کے دو ہی آیت بعد تو رات میں بعینہٖ یہی مضمون براہ راست حق تعالیٰ کی جانب سے ادا کیا گیا ہے، خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا، میں ان کے لئے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا، اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ (استثناء : 18، 18)
آپ ذرا غور کیجئے کہ اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا، یعنی لفظی کلام الہٰی ہونے کا مصداق بجز قرآن کے تمام آسمانی کتابوں میں اور کون ہے ؟ دوسری کسی آسمانی کتاب کا کلام لفظی ہونے کا کوئی مطلب ہی نہیں اور نہ کوئی قائل، اس کے بعد لفظ ” تجھ سا “ پر غور کیجئے یعنی موسیٰ کے مانند ہونے کا مصداق تاریخ کی دنیا میں بجز ذات محمدی کے اور کون ہے ؟
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ رسول کا پہلا کلام اپنی امت کے سامنے تلاوت آیات ہوتا ہے یعنی اللہ کا کلام پہنچانا، گویا رسول کی پہلی حیثیت مبلغ اعظم کی ہوتی ہے۔
یُعلِّمُھُمُ الْکِتَابَ رسول کا کام محض تبلیغ اور پیغام رسانی پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ تبلیغ کے بعد تعلیم کا بھی ہے اس تعلیم میں کتاب کی شرح و ترجمانی، تعمیم میں تخصیص اور تخصیص میں تعمیم سب داخل ہے اور یہیں سے ان کج فہموں کی بھی تردید ہوگئی جو رسول کا منصب محض ڈاکیہ یا قاصد کا سمجھتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ رسول کی دوسری حیثیت معلم اعظم کی ہے۔
وَالْحِکْمَۃَ پھر رسول کا منصب صرف تعلیم کتاب ہی نہیں ہے بلکہ حکمت اور دانائی کی تلقین بھی منصب رسالت کے فرائض میں داخل ہے، احکام و مسائل دین کے قواعد اور آداب عوام و خواص سب کو سکھانا، یہی رسول کی ذمہ داری ہے، اور خواص کی رہنمائی اسرار و رموز میں بھی کریں گے، گو یا رسول کی تیسری حیثیت مرشد اعظم کی ہے۔
یُزَکِّیْھِمْ تزکیہ سے مراد دلوں کی صفائی ہے، رسول کا کام محض الفاظ اور احکام ظاہری کی تشریح تک محدود نہیں ہے بلکہ اخلاق کی پاکیزگی اور نیتوں کے اخلاص کے فرائض انجام دینا بھی ہے، گویا رسول کی یہ چوتھی مصلح اعظم کی ہے۔
Ayahs 2:130–131آیت نمبر 130 تا 136
ترجمہ : اور کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو بےرغبتی کرے ملت ابراہیمی سے کہ اس کو ترک کر دے مگر وہی جس نے اپنے آپ کو بیوقوف بنا لیا (یعنی بیوقوف محض ہو) (اور) اس بات سے ناواقف ہو کہ وہ اللہ کی مخلوق ہے، اور یہ کہ اس پر اللہ کی عبادت واجب ہے، یا یہ معنی ہیں کہ اس نے اپنے نفس کی تحقیر کی ہے، اور اس کو ذلیل کر رکھا ہے، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی رسالت اور دوستی کے لئے منتخب کرلیا ہے، اور بلاشبہ وہ آکرت میں بھی ان صالحین میں ہوگا جن کے لئے مراتب عالیہ ہیں اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب اس سے اس کے رب نے کہا سرتسلیم خم کر دے یعنی اللہ کا فرمانبردار ہوجا اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر، تو اس نے فوراً ہی کہا میں نے رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، اور اسی طریقے پر چلنے کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو ہدایت کی اور ایک قراءت میں اَوْصٰی ہے، اور یعقوب نے (بھی) اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کی، کہا : اے میرے بچو ! اللہ نے تمہاری لئے یہی دین اسلام پسند کیا ہے، لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا ترک اسلام سے منع فرمایا اور مرتے دم تک اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم فرمایا، اور جب یہود نے نبی ﷺ سے کہا : کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے انتقال کے روز اپنی اولاد کو یہودیت کی وصیت کی تھی (تو یہ آیت) نازل ہوئی، کیا تم اس وقت موجود تھے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) (اس دنیا سے) رخصت ہو رہے تھے، یہ اِذْ ، سابقہ اِذْ سے بدل ہے، اس (یعقوب) نے (انتقال کے وقت) اپنے بچوں سے پوچھا تم میرے بعد یعنی میرے انتقال کے بعد کسی کی بندگی کروگے ؟ جواب دیا : ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے، جو آپ کے آباء ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق کا معبود ہے، اور اسماعیل (علیہ السلام) کو آباء میں شمار کرنا تغلیباً ہے، اور اس لئے بھی کہ چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اِلٰھًا واحِد ًا، اِلٰھکَ سے بدل ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں، اور اَمْ بمعنی ہمزہ انکاری ہے، یعنی تم (یعقوب) کی موت کے وقت حاضر نہیں تھے، تو تم اس کی طرف ایسی بات کی نسبت کیوں کرتے ہو جو اس کی شایان شان نہیں ہے ؟ وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی تلک مبتداء اور اشارہ ابراہیم ارور یعقوب اور ان کے بیٹوں کی طرف ہے، اور (تلک) کو خبر ہے مؤنث ہونے کی وجہ سے مؤنث لائے ہیں، جو اعمال انہوں نے کئے ان کے لئے ہیں، یعنی اس کی جزاء ان کے لئے ہے یہ (جملہ) مستانفہ ہے اور جو تم کرو گے اس کو جزا تم کو ملے گی، خطاب یہودیوں کو ہے ان کے اعمال کے بارے میں تم سے سوال نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ ان سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، جملہ ماقبل کی تاکید ہے، یہود کہتے ہیں، یہودی جو جاؤ، ہدایت پا جاؤ گے اور نصاریٰ کہتے ہیں نصرانی ہوجاؤ ہدایت پاؤ گے، اَوْ تفصیل کے لئے ہے، اول (قول) کے قائل مدینہ کے یہود ہیں اور ثانی (قول) کے قائل نجران کے نصاریٰ ہیں، آپ ان سے کہہ دیجئے ہم تو ملت ابراہیم کی اتباع کریں گے، جس میں کجی کا نام نہیں (حنیفا) ابراہیم سے حال ہے، حال یہ کہ وہ تمام ادیان (باطلہ) سے دین مستقیم کی جانب مائل ہونے والے ہیں، اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھے، کہو ! یہ مومنین کو خطاب ہے ہم تو اللہ پر ایمان لائے اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے، قرآن (اس پر ایمان لائے) اور ان دس صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہوئے اور اسماعیل (علیہ السلام) پر اور اسحٰق پر اور یعقوب (علیہ السلام) پر اور اس کی اولاد پر نازل ہوئے اور جو عطا کیا گیا موسیٰ (علیہ السلام) کو یعنی تورات اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو یعنی انجیل اور جو کتابیں اور آیتیں ان کو عطا کی گئیں ان کے رب کی جانب سے (ایمان رکھتے ہیں) بایں طور کہ ہم ان میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے یہود و نصاریٰ کے مانند کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں، ہم تو اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَمَنْ اَی لا یَرْغبُ ، مَن استفہام انکاری مبتداء ہے، یَرْغَبُ خبر، اس کے اندر ضمیر ہے جو مَن کی طرف راجع ہے۔
قولہ : دین السلام اس میں اشارہ ہے کہ الدِّین میں الف لام عہد کا ہے اور دلیل فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ہے۔
قولہ : نھی عَن ترک الاسلامِ اس سے ایک سوال کا جواب مقصود ہے۔
سوال : فَلَاتَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنَتُمْ مُّسْلِمُوْنَ میں بظاہر موت سے نہی معلوم ہوتی ہے جو کہ بندہ کے اختیار میں نہیں۔
جواب : موت سے نہی نہیں ہے بلکہ ترک اسلام سے نہی ہے اس لئے کہ جب مقید پر نفی داخل ہوتی ہے تو قید کی نفی ہوتی ہے، اس لئے اگرچہ نہی موت پر داخل ہے اور مدخول نہی ہی مقصود عن النھی ہوتا ہے مگر چونکہ مدخول نہی اختیاری نہیں ہے اس لئے قید کی نہی مراد ہے۔
قولہ : اَمَرَ بالثباتِ علیہ اس عبارت سے یہ فائدہ ہے کہ نفس ایمان تو ان کو حاصل تھا، لہٰذا اس کے حاصل کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، بلکہ اسلام پر دوام مراد ہے۔
قولہ : بمنزلۃ الاب، اَلعَمُّ صنوُ اَبیہِ ۔ (الحدیث)
قولہ : والجملۃ تاکید لما قبلہ یہ تکرار کے فائدہ کا بیان ہے۔
قولہ : کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی، اَو تنویع مقال کے لئے ہے نہ کہ تخییر کے لئے، اس لئے کہ ہر فریق ایک دوسرے کی تکفیر کرتا ہے۔
قولہ : قائل الاول الیھود اس اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے۔
اعتراض : کونوا ھودًا اونصاریٰ میں تناقض ہے، اللہ تعالیٰ کے قول لیست الیھود علیٰ شئ الخ سے۔
جواب : کا ماحصل یہ ہے کہ دونوں کے قائل مختلف ہیں لہٰذا کوئی تناقض نہیں ہے۔
قولہ : حال من ابراھیم یعنی حنیفًا ابراہیم سے حال ہے، حالانکہ مضاف الیہ سے حال واقع ہونا درست نہیں ہے، اس لئے کہ اصل مضاف کی جگہ رکھنا درست ہو تو مضاف الیہ سے بھی حال واقع ہونا درست ہوتا ہے، یہاں ایسا ہی ہے اس لئے کہ ابراہیم کو ملۃ کی جگہ رکھنے کے بعد بھی مطلب صحیح رہتا ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول : وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ (س) رَغَبًا توقع کرنا، صلہ جب عَنْ ہو تو اعراض و بےرخی کرنا جیسا کہ یہاں مستعمل ہے، اور اگر صلہ الٰی یا فی ہو تو مائل ہونا، رغبت کرنا۔
روایت کیا گیا ہے کہ عبد اللہ بن سلام نے اپنے بھتیجوں سلمہ اور مہاجر کو اسلام کی دعوت دی اور کہا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں فرمایا ہے کہ میں اولاد اسماعیل میں ایک نبی مبعوث کرنے والا ہوں جس کا نام احمد ہوگا، جو اس پر ایمان لائے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جو ایمان نہ لائے گا وہ ملعون ہوگا، چناچہ سلمہ ایمان لے آئے مگر مہاجر نے انکار کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (روح البیان)
یہاں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ عظمت و فضیلت بیان فرما رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت میں عطا فرمائی ہے، اور یہ بھی وضاحت فرما دی کہ ملت ابراہیم سے اعراض و بےرخی بیوقوفوں ہی کا کام ہے، کسی عقلمند سے اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 2:132وَوَصّٰی بِھَآ اِبْرَاھِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس دین کی وصیت فرمائی جو یہودیت نہیں اسلام ہے، جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت موجود ہے، اور دیگر مقامات پر بھی اس کی تفصیل آئی ہے، مثلاً اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ (آل عمران) اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔
Ayah 2:133اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ یہود کو زجرو توبیخ کی جا رہی ہے کہ تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ابراہیم و یعقوب (علیہم السلام) نے اپنی اولاد کو یہود یت پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی تھی، تو کیا تم وصیت کے وقت موجود تھے ؟ اگر وہ یہ کہیں کہ ہم موجود تھے تو کذب و زور ہے، اور اگر یہ کہیں کہ حاضر نہیں تھے تو ان کا مذکورہ دعویٰ غلط ہوا، اس لئے کہ ان حضرات نے جو وصیت فرمائی وہ تو اسلام کی تھی نہ کہ یہودیت یا عیسائیت یا وثنیت کی، تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین اسلام ہی تھا، اگرچہ شریعت اور طریقہ کار میں کچھ اختلاف تھا، اسی کو نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا : اَلَانبِیَاء اولادُ علّات اُمَّھَاتُھُم شَتّٰی ودینُھم واحد (صحیح بخاری کتاب الانبیاء) انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، ان کی مائیں مختلف (اور باپ ایک) ہے اور دین ایک ہے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت :
تلمود میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی جو وصیت درج ہے وہ قرآن کے بیان سے مشابہ ہے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے وصیت کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں :
خداوند ! اپنے خدا کی بندگی کرتے رہنا، وہ تمہیں اسی طرح تمام آفات سے بچائے گا، جس طرح تمہارے آباء و اجداد کو بچاتا رہا ہے، اپنے بچوں کو خدا سے محبت کرنے اور اس کے احکام بجالانے کی تعلیم دینا تاکہ ان کی مہلت زندگی دراز ہو، کیونکہ خدا ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جو حق کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور اس کی راہوں پر ٹھیک ٹھیک چلتے ہیں، جواب میں ان کے لڑکوں نے کہا : جو کچھ آپ نے ہدایت فرمائی ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، خدا ہمارے ساتھ ہو، تب یعقوب نے کہا : اگر تم خدا کی سیدھی راہ سے دائیں یا بائیں نہ مڑو گے تو خدا ضرور تمہارے ساتھ رہے گا۔
Ayah 2:134تِلْکَ اُمِّۃٌ قَدْخَلَتْ یعنی تم اگرچہ ان کی اولاد سہی مگر حقیقت میں تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں، ان کے نام لینے کا تمہیں کیا حق ہے جب تم ان کے راستہ سے پھرگئے ؟ اللہ کے یہاں تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے ؟ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے تھے، تمہیں اپنے انبیاء صالحین کی طرف نسبت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں، انہوں نے جو کچھ کیا اس کا صلہ ان ہی کو ملے گا تمہیں نہیں، تمہیں تو وہی ملے گا جو کچھ تم کماؤ گے، اس سے معلوم ہوا کہ اسلاف کی نیکیوں پر اعتماد اور سہارا غلط ہے، اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔
Ayah 2:135وَقَلُوْا کُونُوْا ھُودًا اَوْ نَصَاریٰ یہود مسلمانوں کو یہودیت کی اور عیسائی عیسائیت کی دعوت دیتے اور کہتے کہ ہدایت اسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان سے کہو ہدایت ملت ابراہیمی کی پیروی میں ہے، جو حنیف تھا یعنی اللہ تعالیٰ کا پرستار اور سب سے کٹ کر اس کی عبادت کرنے والا، اور وہ مشرک نہیں تھا جب کہ یہودیت اور عیسائیت میں شرک کی آمیزش موجود ہے۔
Ayah 2:136قَوْلُوْآ آمَنَّا بِاللہِ ومآ اُنْزِلَ (الآیۃ) یہ عام مسلمانوں کو خطاب ہے یعنی کہ ہمیں تو نسلی یا قوی تعصب کسی سے بھی نہیں ہے، ہمارا رشتہ اسماعیلی، اسرائیلی، ہر شریعت الہیٰ سے بس اعتقادی و انقیادی ہے یعنی ایمان تو یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ کی طرف سے جو کچھ ملایا نازل ہوا سب پر ایمان لایا جائے کسی بھی کتاب یا رسول کا انکار نہ کیا جائے، بعض کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا یہ انبیاء کے درمیان تفریق ہے جس کو اسلام جائز نہیں رکھتا، البتہ عمل اب صرف قرآن پر ہوگا۔
حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کا تاریخی تعارف : سابق میں مذکور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اسم گرامی بھی چونکہ آیا ہے لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کچھ تاریخی تعارف بھی ہوجائے، عیسیٰ ابن مریم بجائے والد کے والدہ کی طرف منسوب ہیں، بنی اسرائیل کے آخری اور مشہور نبی ہوئے ہیں آپ پر اسرائیلی رسالت و نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔
ولادت شام کے صوبہ (یہودیہ) کے قصبہ بیت اللحم یا بیت المقدس میں شام کے حاکم ہیرود کے زمانہ میں ہوئی شام اس وقت روم کی شہنشاہی کا ایک نیم آزاد علاقہ تھا، سال ولادت اغلبًا 4 ق م ہے، یہ بات سننے میں بظاہر بڑی عجیب معلوم ہوگی لیکن اس پر حیرت نہ کیجئے اس لئے کہ سن عیسوی جو اس وقت رائج ہے خود اسی تقویم کے قائم کرنے میں شروع ہی سے غلطی رہ گئی ہے اور اس کا پتہ بعد میں چلا چناچہ سن عیسوی کا پہلا سال آپ کی ولادت کا سال نہیں بلکہ آپ کی ولادت کے چوتھے سال سے یہ سن شروع ہوا، آپ کی عمر جب غالباً تینتیس (33) سال تھی تو سن عیسوی 30 ء تھا، کہ اسرائیلیوں نے آپ کی تعلیم و تبلیغ سے نہایت آزردہ ہو کر آپ پر مقدمہ پہلے تو اپنی آزاد اور خودمختار مذہبی عدالت میں ثلایا اور سرکاری قانون کا بھی مجرم بنا کر رومیوں کی ملکی عدالت میں پیش کیا وہاں سے سزائے موت کا (بذریعہ صلیب) حکم صادر ہوا۔ (تفسیر ماجدی)
Ayah 2:137آیت نمبر 137 تا 141
ترجمہ : سو اگر وہ یعنی یہود و نصاریٰ اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو ہدایت یافتہ ہوں گے (لفظ) مثل زائدہ ہے اور اگر وہ اس پر ایمان لانے سے روگردانی کریں تو وہ صریح اختلاف میں ہیں یعنی تمہاری مخالفت میں، لہٰذا اطمینان رکھو، اے محمد ﷺ ان کی دشمنی میں اللہ عنقریب آپ کی کفایت کرے گا، وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے حالات کو جاننے والا ہے، اور اللہ ان کے لئے کافی ہوگیا، بنی قریظہ کو قتل کرکے اور بنی نضیر کو جلاوطن کرکے اور ان پر جزیہ عائد کرکے اللہ کا رنگ اختیار کرو (صِبْغَۃَ اللہِ ) مصدر ہے آمَنَّا کی تاکید کے لئے اور اس کا نصب فعل مقدر کی وجہ سے ہے، ای صَبغَنَا اللہُ صبغۃً اور مراد اس سے اللہ کا وہ دین ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا فرمایا، دین کے اثر کے دیندار پر ظاہر ہونے کی وجہ سے جیسا کہ رنگ (کا اثر) کپڑے پر ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے کس کا رنگ زیادہ اچھا ہوگا ؟ صیغہ تمیز ہے، تم تو اس کی بندگی کرنے والے ہیں (جب) یہود نے مسلمانوں سے کہا کہ ہم اول اہل کتاب ہیں اور ہمارا قبلہ سب سے اول قبلہ ہے اور عرب میں انبیاء نہیں ہوئے، اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو ہم میں سے ہوتے، تو آئندہ آیت نازل ہوئی، آپ ان سے کہئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، اس وجہ سے کہ اس نے عرب میں سے نبی منتخب کرلیا، حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، لہٰذا اس کو اختیار ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے منتخب کرے ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں جن کی ہمیں جزا دیجائے گی اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں جن کی جزا تم کو دی جائے گی، لہٰذا یہ بعید نہیں کہ ہمارے اعمال میں ایسی چیز ہو جس کی وجہ سے ہم اکرام کے مستحق ہوں، ہم تو اسی کے لئے دین و عمل کو خالص کرچکے ہیں، نہ کہ تم، لہٰذا انتخاب کے لئے ہم زیادہ اولیٰ ہیں، اور (اَتُحَاجّوننا) میں ہمزہ استفہام انکاری ہے، اور تینوں جملے حال ہیں کیا تم کہتے ہو (یقولون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد یہود و نصاریٰ تھے، ان سے کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ یعنی اللہ زیادہ جاننے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی یہودیت اور نصرانیت دونوں سے براءت ظاہر فرما دی، اپنے قول مَا کَانَ ابراھِیمُ یھودیًّا وَلَانصرَانِیًّا سے اور ان کے ساتھ جو حضرات مذکور ہیں وہ تو (ابراہیم) کے تابع ہیں، اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا ؟ جس نے اللہ کے نزدیک ثابت شدہ شہادت کو لوگوں سے چھپایا، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے، یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے ہے، تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہ ہوگا، ایسی ہی آیت اوپر گزر چکی ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مِثل زائدہ اس اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ مسلمان اللہ پر ایمان لائے، اب یہود و نصاریٰ سے کہا جا رہا ہے ” اگر وہ اس کے مثل پر ایمان لائیں جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں “ تو اس سے تو اللہ کا مثل ہونا لازم آتا ہے، حالانکہ اللہ کا کوئی مثل نہیں ہے۔
جواب : لفظ مثل زائد ہے، اس جواب کی شہادت وہ قراءت بھی دے رہی ہے جس میں بمثل مَا آمَنْتُمْ کے بجائے بِمَا آمَنْتُمْ بہٖ ہے۔ (رویح)
قولہ : مؤکِّدٌ لِاٰمَنَّا، صِبغۃً فعل مقدر کا مصدر ہے اور آمَنَّا باللہِ ومَا اُنزِلَ الخ کے مضمون کی تاکید کے لئے ہے، اس لئے کہ مذکورہ جملہ میں دوسرے مضمون کا احتمال ہی نہیں ہے اسی وجہ سے اس کے عامل کو حذف کردیا گیا، صبغۃ اللہ اصل میں صَبَغَنَا اللہ صِبْغَۃً ، تھا صِبْغۃَ اللہِ میں حرف عطف کو ترک کرکے اشارہ کردیا کہ صَبَغَنَا اللہ اور اٰمَنَّا کا مدلول ایک ہی ہے جس سے تاکید کا مفہوم ظاہر ہے۔
قولہ : دونکم میں اشارہ ہے کہ نحن لہٗ مخْلِصُونَ میں مسند الیہ کی تقدیم حصر کے لئے ہے۔
قولہ : والھمزۃ للانکار، یعنی اَتُحَاجُّوْنَ ، میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اس سے اس کا جواب ہوگیا کہ استفہام اللہ کی شان کے مناسب نہیں ہے۔
قولہ : والجُمَلُ الثَّلٰثُ احوال اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے۔
اعتراض : واؤ میں اصل عطف ہے لہٰذا مذکورہ تینوں جملوں میں واؤ عاطفہ ہوگا، اور معطوف علیہ اَتُحاجُّونَ ہے جو کہ جملہ انشائیہ ہے اور یہ تینوں جملے خبر یہ ہیں، لہٰذا جملہ خبریہ کا عطف انشائیہ پر لازم آتا ہے جو درست نہیں ہے۔
جواب : واؤ عطف کے لئے وہاں اصل ہوتا ہے جہاں عطف سے کوئی مانع نہ ہو اور یہاں مانع موجود ہے اور وہ جملہ خبریہ کا جملہ انشائیہ پر عطف کا لازم آنا ہے، لہٰذا یہاں واؤ عاطفہ نہیں بلکہ حالیہ ہے۔
تفسیر و تشریح
فَاِنْ آمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ یہود و نصاریٰ تمہاری طرح ایمان لے آئیں تو یقیناً وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں گے، اور اگر وہ ضد اور عناد میں منہ موڑ لیں گے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی سازشیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی کفایت و حمایت کرنے والا ہے، چناچہ چند ہی سالوں میں یہ وعدہ پورا ہوا اور بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا گیا اور بنو قریظہ قتل کر دئیے گئے۔
واقعہ : تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت عثمان رضی الہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے وقت جو مصحف ان کی گود میں تھا جس کی وہ تلاوت فرما رہے تھے آپ کے خون ناحق کے دھبے جس آیت پر گرے وہ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ مصحف آج تک ترکی میں محفوظ ہے۔
فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ میں آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنے مخالفوں کی زیادہ فکر نہ کریں، ہم خود ان سے نمٹ لیں گے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسری آیت وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ فرما دیا، کہ آپ مخالفین کی پرواہ نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی حفاظت کرے گا۔
Ayahs 2:138–139صِبْغَۃَ اللہِ اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرکے کہا گیا تھا مِلَّۃ اِبْرَاھِیمَ حنیْفًا اس جگہ دین کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے بتلا دیا کہ دین در حقیقت اللہ تعالیٰ کا ہے، کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازاً کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغۃ کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ کردیا اول تو نصاریٰ کی تردید ہوگئی نصاریٰ کے یہاں ایک ضروری رسم یہ تھی کہ بچہ کو پیدائش کے ساتویں روز ایک زرد رنگ کے پانی میں نہلاتے تھے اور ختنہ کے بجائے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے، نصرانیوں کی اصطلاح میں اس رسم کو ” بپتسمہ “ کہتے ہیں، اس آیت نے بتلا دیا کہ یہ پانی کا رنگ دھل کر ختم ہوجاتا ہے اسکا بعد میں کوئی اثر نہیں رہتا، اصل رنگ تو دین اور ایمان کا ہے جو ظاہری اور باطنی پاکیزگی کی ضمانت ہے، اور پائدار بھی، دوسرے دین کو رنگ فرما کر اس کی طرف اشارہ ہوگیا کہ جس طرح رنگ آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے مومن کے ایمان کی علامت اس کے چہرہ بشرہ اور تمام حرکات و سکنات و معاملات سے ظاہر ہونی چاہیے۔ صِبْغَۃَ اللہِ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں اول یہ کہ ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کرلیا، دوسرا یہ کہ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔
Ayah 2:140وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً الخ یہ خطاب دراصل ان علماء یہود کو ہے جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی مگر اس کے باوجود وہ حق کو اپنے ہی فرقوں میں محدود سمجھتے تھے، نزول قرآن کے وقت یہود میں بڑے بڑے عالم فاضل موجود تھے ان سب کو چیلنج دیکر ایک امی کی زبان سے کہلایا جا رہا ہے کہ تم واقعات کو توڑ مروڑ کر صداقتوں کا گلانٹ کر کچھ بھی کہے جاؤ، واقعہ اور حقیقت اچریات جو کچھ ان حضرات کے دین کی بابت کہہ رہے ہیں جس کی تفصیل گزرچکی ہے وہ اسی قرآنی متن کی شرح اور اسی امی کے لائے ہوئے کلام کے اجمال کی تفصیل ہے۔
Ayah 2:141تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ الخ یہ آیت ابھی گزر چکی ہے اس کو مکرر لانے کی وجہ یہود کے ایک زعم باطل کی نفی کرنی ہے کہ ہمارے اعمال و عقائد خواہ کتنے ہی برے ہوں مگر ہماری پیغمبرزادگی اور ان سے ربط وتعلق کی وجہ سے ہمارے آباء و اجداد ہم کو ضرور بخشوا لیں گے، اسی بیہودہ خیال کی تردید کے لئے اس آیت کو دوبارہ لایا گیا ہے۔
Ayahs 2:142–143آیت نمبر 142 تا 143
ترجمہ : نادان جاہل لوگ یعنی یہود و مشرکین عنقریب کہیں گے کہ کس چیز نے پھیر دیا ان کو ؟ یعنی نبی اور مومنین کو اس قبلہ سے جس پر وہ تھے یعنی نماز میں اب تک جس قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور وہ بیت المقدس ہے اور سین استقبالیہ کو لانا اخبار بالغیب کے قبیل سے ہے، اور کہہ دیجئے کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، یعنی تمام جہات اسی کی ملک ہیں، لہٰذا اس کو حق ہے کہ جس جہت کی جانب چاہے رخ کرنے کا حکم دے، اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں، وہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کو سیدھی (یعنی) دین اسلام کی راہ دکھا دیتا ہے اور ان میں (اے مومنو ! ) تم بھی ہو جن کو راہ مستقیم دکھائی، اور ہم نے اسی طرح جس طرح تم کو راہ مستقیم دکھائی، اے امت محمد ﷺ ! تم کو خیر امت یعنی معتدل امت (بھی) بنایا تاکہ تم لوگوں کے لئے قیامت کے دن گواہ ہو، اس بات پر کہ ان کے رسولوں نے ان کو پیغام پہنچا دیا اور رسول تمہارے لئے گواہ ہوں کہ اس نے تم کو پیغام پہنچا دیا، جس سمت قبلہ پر تم پہلے تھے اور آپ ﷺ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے، مگر جب آپ نے ہجرت فرمائی تو یہود کی دل جوئی کے لئے بیت المقدس کی جانب رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس کی طرف رخ کرکے سولہ یا سترہ مہینہ نماز پڑھی پھر (یہ حکم) تبدیل کردیا گیا، اس کو ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم علم ظہور کے طور پر ظاہر کردیں کہ رسول کی کون اتباع کرتا ہے ؟ (یعنی) اس کی تصدیق کرتا ہے، اور کون ہے، جو الٹا پھرجاتا ہے ؟ یعنی دین میں شک کرتے ہوئے، اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ نبی قبلہ کے معاملہ میں مذبذب ہے، اور اسی وجہ سے ایک جماعت مرتد ہوگئی، گو تبدیل قبلہ کا یہ کام مشکل ہے یعنی لوگوں پر شاق ہے اِنْ مخففۃ عن المثقلۃ ہے، اور اس کا اسم محذوف ہے، (دراصل) وَاِنَّھَا تھا، مگر ان میں سے جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان کیلئے کوئی مشکل نہیں ہے) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا یعنی بیت المقدس کی جانب پڑھی ہوئی نماز کو (ضائع نہ کرے گا) بلکہ اس پر تم کو اجر دے گا، اس لئے کہ اس کا سبب نزول، ان لوگوں کے بارے میں سوال تھا جو تحویل قبلہ سے پہلے مرگئے، اللہ لوگوں مومنوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے، ان کے اعمال کو ضائع نہ کرے گا، اور رأفۃ شدتِ رحمت کو کہتے ہیں ابلغ (یعنی رؤف) کو فاصلہ کی رعایت کی وجہ سے مقدم کیا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : سُفَھَاءُ (واحد) سَفِیْۃٌ بیوقوف، نادان، احمق، جاہل، (س) ۔
قولہ : مَاوَلّٰھُمْ ، مَا استفہامیہ مبتداء وَلّٰھُمْ خبر، وَلّٰی توْلِیَۃً (تفعیل) پیٹھ پھیرنا، منہ توڑنا۔
قولہ : مِنَ النَاسِ ، سُفَھَاء سے حال ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے عامل سیقول ہے، یہ حال مبینہ ہے، یعنی دوسروں سے ممتاز اور جدا کرنے کے لئے کہ سفاہت کے ساتھ جس طرح انسان متصف ہوتا ہے، غیر انسان بھی متصف ہوتا ہے حتی کہ غیر حیوان بھی متصف ہوتا ہے، گدھے کی بےوقوفی تو زبان زد عام و خاص ہے جماد کی جانب بھی سفہ کی نسبت کی جاتی ہے، بَقَلَۃُ الحمقاء بیوقوف دانہ، خرفہ کو کہتے ہیں، خرفہ ایک دانہ ہے دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، اس کو بیوقوف کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی پر بہتے ہوئے بھی اگ آتا ہے جب کہ سیلاب میں بہنے کے وقت بےاطمینانی کی کیفیت ہوتی ہے، ایسی حالت میں اس کا برگ و بار نکالنا بےوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی مسافر حالت سفر میں اپنا مکان بنانا شروع کر دے، اور خرف (س، ک) خرَفًا بڑھاپے کی وجہ سے عقل کا فاسد ہوجانا۔
قولہ : قِبلۃ بروزن جِلسۃ بیان حالت کے لئے ہے، جیسے جلستُ جِلسۃَ القاری، میں قاری کی طرح بیٹھا قِبْلَۃً استقبال کی حالت کو کہتے ہیں عرف شرع میں نماز میں قبلہ کی جانب رخ کو کہتے ہیں، قبلۃ، جعلنا کا مفعول اول ہے اور التی کنت عَلیَھا تقدیر موصوف کے ساتھ مفعول ثانی ہے، تقدیر یہ ہے الجھۃ التی کنت علیھا۔
قولہ : علی عقِبَیہِ اس کا واحد عقبٌ ایڑھی کو کہتے ہیں، مراد انقلاب علی عقبیہ سے حق سے باطل کی طرف پلٹ جانا مرتد ہوجانا۔
قولہ : لِأنّ سبب نُزُولِھَا السوال الخ اس عبارت کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : ایمان کی تفسیر صلوٰۃ سے کیوں کی ؟
جواب : یہود کی جانب سے چونکہ سوال نماز ہی کے بارے میں تھا اس لئے ایمان کی تفسیر صلوٰۃ سے کی ہے۔
قولہ : وقُدّم الا بلغ للفاصلۃ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : عام طور پر ترقی من الادنیٰ الی الاعلیٰ ہوتی ہے نہ کہ بالعکس، جیسے کہتے ہیں عالم نحویرٌ، نحریرٌ عالم نہیں کہتے، اسی قاعدے کے مطابق یہاں رحیمٌ رؤفٌ کہنا چاہیے تھا۔
جواب : فواصل کی رعایت کے لئے پورے قرآن میں ایسا کیا گیا ہے، اگرچہ رحیم کے مقابلہ میں رؤف میں شدت رحمت ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول : جب آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو یہ ممکن تھا کہ بیک وقت کعبۃ اللہ اور بیت المقدس کی جانب رخ ہوجائے اس لئے کہ مدینہ منورہ اور بیت المقدس مکہ سے ٹھیک جانب شمال میں واقع ہیں، مگر جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ صورت ممکن نہ رہی اس لئے کہ بیت المقدس مدینہ سے ٹھیک جانب شمال میں واقع ہے، اور بیت اللہ جانب جنوب میں بدرجہ مجبوری یہود کی دلجوئی کے لئے بحکم خداوندی آپ ﷺ نے بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا جو یہود کا بھی قبلہ تھا، سولہ یا سترہ مہینہ آپ ﷺ نے بیت المقدس کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی مگر آپ کی دلی خواہش اور تمنا تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہی ہوجائے اس لئے کہ دعوت اسماعیلی کا وہی مرکز تھا اور آپ ﷺ وحی کے انتظار میں بار بار نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے تھے، آخر کار آپ ﷺ کی خواہش کے مطابق تحویل قبلہ کا حکم فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الخ کے ذریعہ نازل ہوگیا۔
جب تحویل قبلہ ہوا تو یہود اور مشرکین نے اعتراض کرنا شروع کردیا کہ مسلمانوں کے قبلہ کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں، کبھی بیت المقدس ہوتا ہے تو کبھی بیت اللہ، تو اس کے جواب میں مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
قَلْ للہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ دراصل یہ نادانوں کے اعتراض کا پہلا جواب ہے، یہ لوگ سمت ومقام کے پرستار بندے بنے ہوئے تھے، ان کا خیال تھا کہ خدا کسی خاص سمت میں مقید ہے اس لئے ان کے جاہلانہ اعتراض کے جواب میں فرمایا گیا، مشرق و مغرب اللہ کے ہیں، کسی سمت کو قبلہ بنانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ اسی طرف ہے، لہٰذا یہ کوئی نہ بحث کی بات ہے اور نہ جھگڑنے کی کہ پہلے تم اس طرف عبادت کرتے تھے اب اس طرف کیوں کرنے لگے ؟
امت محمدیہ امت وسط ہے : وسط سین کے فتحہ کے ساتھ ہے اور معتدل کے معنی میں ہے اور افضل اشیاء کو وسط کہا جاتا ہے، ابو سعید خدری ؓ کی روایت میں وسط کی تفسیر عدل مروی ہے جو بہترین کے معنی میں ہے جس کے نتیجہ میں امت محمدیہ کو میدان حشر میں یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی امتیں جب اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی ہدایت و تبلیغ سے انکار کردیں گے اس وقت امت محمدیہ انبیاء (علیہم السلام) کی جانب سے گواہی میں پیش ہوگی، اور یہ شہادت دے گی کہ انبیاء (علیہم السلام) نے ہر زمانہ میں اللہ کا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا، مدعیٰ علیہم امتیں امت محمدیہ پر یہ جرح کریں گے کہ امت محمدیہ ﷺ کا تو ہمارے زمانہ میں وجود ہی نہیں تھا لہٰذا یہ ہمارے معاملہ میں گواہی کس طرح دے سکتی ہیں ؟
امت محمدیہ اس جرح کا جواب دے گی کہ بیشک ہم اس وقت موجود نہیں تھے مگر ان کے و واقعات و حالت کی خبریں ہمیں صادق المصدوق محمد ﷺ نے جو ہمارے نزدیک ہمارے عینی مشاہدہ سے بھی زیادہ وقیع اور قابل اعتماد ہیں، دی تھیں۔
رسول اللہ ﷺ کا تزکیہ : اس وقت رسول اللہ ﷺ پیش ہوں گے اور امت محمدیہ کا تزکیہ و توثیق کریں گے، بیشک انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے۔
واقعہ تحویل قبلہ کی تاریخ و تفصیل : تحویل قبلہ کا یہ حکم رجب یا شعبان 2 ھ میں نازل ہوا، ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی ﷺ بشر بن براء بن معرور کے یہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے، وہاں ظہر کی نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے دورکعتیں پڑھا چکے تھے، تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعہ مذکورہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ ﷺ کی اقتداء میں تمام لوگ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھرگئے، اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں عام منادی کرا دی گئی، براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع کی حالت میں تھے، حکم سنتے ہی سب کے سب اسی حالت میں کعبے کی طرف پھرگئے، انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی سلمہ میں یہ اطلاع دوسرے دن صبح کی نماز کے وقت پہنچی، لوگ ایک رکعت پڑھ چکے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز آئی، خبردار رہو ! قبلہ بدل کر کعبے کی طرف کردیا گیا ہے، سنتے ہی پوری جماعت نے اپنا رخ بدل دیا۔
اس بات کا خیال رہے کہ بیت المقدس مدینہ منورہ سے عین شمال میں ہے اور کعبہ بالکل جنوب میں، نماز باجماعت پڑھتے ہوئے قبلہ تبدیل کرنے میں لامحالہ امام کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا بلکہ مقتدیوں کو بھی کچھ نہ کچھ چل کر صفیں وغیرہ درست کرنی پڑی ہوں گی، تفصیل روایات میں موجود ہے۔