2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور خدا (کی خوشنودی) کیلیے حج اور عمرے کو پور کرو اور اگر (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈا لے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو (کرے) اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مکہ میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

حج کی فرضیت : جمہور کے قول کے مطابق حج کی فرضیت ہجرت کے تیسرے سال یعنی غزوہ احد کے سال سورة آل عمران کی اس آیت سے ہوئی وَللہِ عَلَی النَّاس حِجُّ الْبیْتِ الخ۔ باتفاق مفسرین یہ آیت واقعہ حدیبیہ 6 ھ میں نازل ہوئی اس آیت کا مقصد حج کی فرضیت کو بتلانا نہیں اس لئے کہ حج تو پہلے ہی فرض ہوچکا ہے اس آیت کا مقصد حج کے کچھ احکام بیان کرنا ہے۔ اَتمّوا الحج والعمرۃَ للہ، یعنی اگر راستہ میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے جس کی وجہ سے آگے جانا ممکن نہ رہے اور مجبوراً رک جانا پڑے تو اونٹ، گائے، بکری، میں سے جو جانور بھی میسر ہو اللہ کے لئے قربانی کردو اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا مراد ہے ؟ فقہاء حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد حرم ہے، یعنی محصر کے لئے اپنی قربانی کا جانور یا اس کی قیمت بھیج دے، تاکہ اس کی طرف سے حدود حرم میں قربانی کی جائے، اور امام مالک و شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک جہاں آدمی گھر گیا ہو تو وہیں قربانی کردینا مراد ہے۔ احصار اور مجبوری سے کیا مراد ہے : اس آیت میں دشمن کے حائل ہوجانے کی مجبوری تو صراحۃ مذکور ہے لہٰذا امام مالک (رح) تعالیٰ اور امام شافعی (رح) تعالیٰ مجبوری صرف دشمن کے حائل ہونے کو مانتے ہیں مگر امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے دشمن کے ساتھ اشتراک علت کی وجہ سے دیگر مجبوریوں مثلاً مرض وغیرہ کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اس آیت میں سرمنڈانے کو احرام کھولنے کی علامت قرار دیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ حالت احرام میں سرمنڈانا یا بال کٹانا ممنوع ہے اسی مناسبت سے اگلا حکم یہ بیان فرمایا کہ اگر کسی بیماری وغیرہ کی مجبوری سے سرمنڈانے کی ضرورت پیش آئے تو بقدر ضرورت جائز ہے مگر اس کا فدیہ دینا لازم ہوگا فدیہ یہ ہے کہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے، قربانی کے لئے حدود حرم کی جگہ متعین ہے روزہ اور صدقہ کے لئے کوئی جگہ متعین نہیں ہر جگہ ادا کرسکتا ہے قرآن الفاظ میں روزوں اور صدقہ کی کوئی مقدار بیان نہیں کی گئی مگر حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے حجرت کعب بن عجزہ ؓ صحابی کی ایک ایسی حالت میں یہ فرمایا تین روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع گندم بطور صدقہ دیں۔ (صحیح بخاری) عمرہ کا حکم : ابن کثیر نے بحوالہ ترمذی، احمد، بیہقی حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ عمرہ واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا واجب تو نہیں لیکن کرلو تو بہتر اور افضل ہے اس وجہ سے امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ وغیرہ کے نزدیک عمرہ واجب نہیں سنت ہے۔ حج تمتع و قران کے احکام : عرب جاہلیت کا خیال تھا کہ جب حج کا وقت یعنی شوال شروع ہوجائے تو ان ایام میں حج وعمرہ کا جمع کرنا سخت گناہ ہے اس آیت کے آخری حصہ میں ان کے اس خیال کی اصلاح اس طرح کردی گئی کہ حدود میقات کے اندر رہنے والوں کے لئے تو حج وعمرہ دونوں کو اشھر حج میں جمع کرنا ممنوع ہے کیوں ان کو اشھر حج کے بعد دوبارہ عمرہ کے لئے سفر کرنا مشکل نہیں لیکن حدود میقات کے باہر سے آنے والوں کے لئے دوبارہ عمرہ کے لئے سفر کرنا دشوار ہے اس لئے آفاقیوں یعنی دور کے رہنے والوں کے لئے حج وعمرہ کو جمع کرنا جائز ہے میقات وہ مقامات ہیں جو اطراف عالم سے آنے والوں کے ہر راستہ پر اللہ کی طرف سے متعین ہیں کہ جب بقصد مکہ آنے والا مسافر یہاں پہنچے تو یہاں سے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھا لازم ہے بغیر احرام یہاں سے آگے بڑھنا جرم اور گناہ ہے ” لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلَہٗ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ کا یہی مطلب ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام کے قرب و جوار یعنی حدود میقات کے اندر نہیں رہتے یعنی وہ حدود و میقات کے اندر کا باشندہ نہیں ہے اس کے لئے حج وعمرہ کو حج کے زمانہ میں جمع کرنا جائز ہے۔ متمتع پر شکریہ کے طور پر دم تمتع واجب ہے خواہ اونٹ، گائے، بکری جو بھی میسر ہو اور جو شخص قربانی نہ کرسکے تو اس پر دس روزے واجب ہیں تین روزے ایام حج میں رکھے یعنی نویں ذی الحجہ تک پورے کر دے باقی سات روزے حج سے فارغ ہو کر جہاں چاہے اور جب چاہے رکھے، اور اگر کوئی شخص ایام حج میں تین روزے نہ رکھ سکا تو پھر اس پر امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور اکابر صحابہ ؓ کے نزدیک قربانی ہی واجب ہے جب قدرت ہو کسی کے ذریعہ حرم میں قربانی کرا دے۔ تمتع اور قران میں فرق : تمتع کے معنی فائدہ اٹھانا، اور قرآن کے معنی ہیں ملانا، اشہر حج میں اگر میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یعنی احرام باندھتے وقت حج وعمرہ دونوں کی نیت کرلے تو یہ شخص قارن کہلاتا ہے یعنی حج وعمرہ کو ملانے والا، اس کا احرام درمیان میں کھلے گا نہیں آخر ہی میں دس ذی الحجہ کو کھلے گا۔ تمتع کا مطلب ہے ایک ہی سفر میں دو عبادتوں کا ثواب حاصل کرکے فائدہ اٹھانا، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ حاجی، میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھتا ہے مکہ جاکر عمرہ سے فارغ ہو کر احرام کھول دیتا ہے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو منی جانے کے وقت حرم سے حج کا احرام باندھتا ہے اس کو اصطلاح میں حج تمتع اور ایسا کرنے والے کو متمتع کہتے ہیں۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ تو عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے اور نیک کام جو تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی راستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زادِراہ (کا) پرہیزگاری ہے اور (اے) اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو

آیت نمبر 197 تا 203 ترجمہ : حج کا وقت متعین مہینے ہیں (اور وہ) شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ ذی الحجہ کا پورا مہینہ ہے تو جس نے ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ کر اپنے اوپر حج لازم کرلیا تو نہ اس کے لئے (حالت) احرام میں فحش بات جماع جائز ہے اور نہ ارتکاب معاصی اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا ہے اور ایک قراءت میں اول دونوں (رَفَثَ اور فُسُوْقَ ) میں فتحہ ہے یعنی (مبنی برفتحہ) اور (نفی کے) تین صیغوں سے نہی مراد ہے اور جو بھی تم کار خیر کرتے ہو مثلا صدقہ اللہ اس سے باخبر ہے، تو وہ تم کو اس کا صلہ دے گا اور اہل یمن کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی جو بغیر زادراہ کے حج کرتے تھے، جس کی وجہ سے لوگوں پر بوجھ بنتے تھے اور اتنی مقدار زادراہ ہمراہ لے لیا کرو جو تمہارے سفر کے لئے کافی ہو بلاشبہ بہترین زادراہ خدا کا خوف ہے کہ جس کی وجہ سے لوگوں سے سوال وغیرہ (مثلاً چوری غصب وغیرہ) سے بچے، اور اے دانشمندو مجھ ہی سے ڈرو، تمہارے لئے اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حج میں تجارت کے ذریعہ اپنے رب کا فضل (روزی) طلب کرو ان کے طلب رزق کو ناپسند کرنے کی تردید کے لئے یہ آیت نازل ہوئی اور جب تم وقوف عرفہ کے بعد عرفات سے لوٹو تو مزدلفہ میں رات گذارنے کے بعد مشعر حرام کے پاس تلبیہ اور تہلیل اور دعاء کے ذریعہ اللہ کا ذکر کرو (مشعر حرام) مزدلفہ کے آخر میں ایک پہاڑ ہے، اس کو قزح کہا جاتا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس جگہ اللہ کے ذکر کے ساتھ قیام فرمایا، اور آپ دعاء کرتے رہے یہاں تک کہ خوب اجالا ہوگیا (رواہ مسلم) اور اللہ کا ذکر کرو اس لئے کہ اس نے تم کو اپنے دین اور حج کے احکام کی ہدایت دی ہے اور بلاشبہ تم اِنْ مخففہ ہے، اس کی ہدایت سے پہلے گمراہوں میں سے تھے، اے قریشیو ! تم بھی وہیں سے واپس ہوا کرو جہاں سے سب لوگ واپس ہوتے ہیں یعنی عرفات سے، اس طریقہ سے کہ تم بھی ان کے ساتھ وہاں قیام کرو، اور قریشی دیگر لوگوں پر برتری جتانے کے لئے مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، ثمّ ، ترتیب ذکری کے لئے ہے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو بیشک اللہ مومنوں کو معاف کرنے والا ہے ان پر رحم کرنے والا ہے جب تم اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، بایں طور کہ تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو اور حلق کرا چکو اور منی میں قیام پذیر ہوجاؤ تو تکبیر و ثنا کے ذریعہ اللہ کا ذکر کرو جیسا کہ تم اپنے آباء و اجداد کا ذکر کیا کرتے تھے، یعنی جس طرح حج سے فارغ ہونے کے بعد تفاخر کے طور ہر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ ان کا ذکر کرنے سے بھی بڑھ کر، اَشَدُّ ، ذکرًا سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جو اذکروا کی وجہ سے منصوب ہے اس لئے کہ اگر (ذکراً ) سے مؤخر ہوتا تو اس کی صفت ہوتا اور ان میں بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب تو ہم کو ہمارا حصہ دنیا ہی میں دیدے، تو اس کو دنیا ہی میں دیدیا جاتا ہے، ایسے شخص کے لئے آخرت میں کوئی کوئی حصہ نہیں، اور ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطاء فرمانا اور وہ جنت ہے اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا اس میں داخل نہ کرکے یہ مشرکین کے طریقہ اور مؤمنین کے حال کا بیان ہے اور اس کا مقصد دارین کی خیر طلب کرنے کے ترغیب دلانا ہے، جیسا کہ اس پر (اللہ نے) اپنے قول ” اُولٰئِکَ لَھُمْ نصیبٌ“ سے وعدہ کیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے اجر ہے ان کے اعمال کا جو انہوں نے حج اور دعاء کے ذریعہ کئے، اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے کہ پوری مخلوق کا حساب دنیا کے دنوں کے اعتبار سے نصف دن میں چکا دے گا، اس مضمون کی حدیث وارد ہونے کی وجہ سے اور جمرات کی رمی کے وقت تکبیر کے ذریعہ، چند دن یعنی ایام تشریق کے تین دنوں میں اللہ کا ذکر کرو اور جس نے جلدی کی یعنی منی سے روانہ ہونے سے عجلت سے کام لیا، یعنی ایام تشریق میں دوسرے دن رمی جمار کرنے کے بعد تو اس عجلت کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی یہاں تک کہ تیسری رات گزاری اور اس دن کی رمی جمار کرلی تو اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں یعنی ان کو اس میں اختیار ہے اور گناہ نہ ہونا اس شخص کے لئے ہے جو اپنے حج میں اللہ سے ڈرتا ہو اس لئے درحقیقت وہی حاجی ہے اور اللہ سے ڈرو اور سمجھ لو کہ تم کو آخرت میں اس کی طرف جمع کیا جائے گا اور وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزاء دے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اَلحج وَقْتُہٗ ۔ سوال : لفظ، وقتُہٗ ، کا اضافہ کس مقصد سے کیا گیا ہے ؟ جواب : مضاف محذوف ہے ای وقت الحج، حج کا وقت، اگر مضاف محذوف نہ مانا جائے تو مصدر کا حمل ذات پر لازم آتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے اس لئے کہ تقدیر عبارت یہ ہوگی، اَلحجُّ اَشْھُرٌ، حج مہینے ہیں، حالانکہ مہینے حج نہیں ہیں بلکہ حج کے اوقات ہیں مضاف محذوف ماننے سے مذکورہ اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : وقیل کلّہٗ ، قیل کے قائل امام مالک (رح) تعالیٰ ہیں اس لئے کہ ان کے نزدیک ذی الحجہ کا پورا مہینہ شہر حج میں شامل ہے۔ قولہ : بالاحرام بہٖ ۔ سوال : بالاحرام بہٖ کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : یہ ائمہ کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک صرف نیت اور احرام باندھنے سے حج لازم ہوجاتا ہے، مگر امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک تلبیہ یا سوق ہدی سے لازم ہوتا ہے۔ قولہ : جِماعَ فِیْہِ ، جِماعَ کا اضافہ تو بیان معنی کے لئے ہے مگر فِیْہِ کے اضافہ کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : لَارَفَثَ ، فَمَنْ فَرَضَ شرط، کی جزاء ہے اور جزاء کے لئے جملہ ہونا شرط ہے حالانکہ لارَفَثَ جملہ تامہ نہیں ہے، اس لئے کہ لانفی جنس ہے اور رَفَثَ اس کا اسم ہے اور خبر ندارد ہے، لہٰذا جملہ ناقصہ ہوا، رَفَثَ کو جملہ تامہ بنانے کے لئے فیہِ محذوف ماننا ضروری ہے تاکہ جائزٌ وغیرہ کے متعلق ہو کر لائے نفی جنس کی خبر ہوسکے اور لائے نفی جنس اپنے اسم و خبر سے مل کر شرط کی جزاء واقع ہوسکے قولہ : وفی قراء ۃٍ اس اضافہ کا مقصد اختلاف قراءت کو بیان کرنا ہے، فَلَارَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ میں چار قراءتیں ہوسکتی ہیں، مگر مفسر علام نے دو کی طرف اشارہ کیا ہے غالباً مفسر علام کے پیش نظر قرآن کریم کا وہ نسخہ ہے جس میں تینوں پر رفع ہے، اسی لئے فرمایا، کہ ایک قراءت میں پہلے دو پر فتحہ ہے اور جِدَالُ ، پر رفع ہی ہے، وہ چار قراءتیں یہ ہیں، (1) تینوں کا نصب (2) تینوں کا رفع، (3) پہلے دو کا رفع اور تیسرے کا نصب (4) پہلے دو کا نصب اور تیسرے کا رفع۔ قولہ : وَالمراد فی الثلثۃِ النھی، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : لَارَفَثَ وَلَا فسوقَ ، وَلَاجِدَالَ یہ تینوں نفی کے صیغے ہیں ان میں خبر دی گئی ہے کہ حج میں نہ فحش بات کا وجود ہے اور نہ فسق اور لڑائی جھگڑے کا، حالانکہ مشاہدہ ہے کہ تینوں چیزیں حج میں واقع ہوتی ہیں حالانکہ خدائی کلام میں تخلف اور کذب نہیں ہوسکتا۔ جواب : نفی سے مراد نہی ہے اس لئے کہ مقصد، لا ترفُثوا، لَا تَفْسُقوا، ولا تجادِلوا ہے یعنی حج میں مذکورہ تینوں کام نہ کرو۔ سوال : نہی کو نفی سے تعبیر کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : دراصل نہی میں مبالغہ مقصود ہے اور اس بات پر دلالت مقصود ہے کہ مذکورہ تینوں کام حج میں ہرگز نہیں ہونے چاہئیں۔ قولہ تعالیٰ : وَمَا تفعلوا۔ سوال : لَارَفَثَ ، لَا ترفثوا، کے معنی میں ہونے کی وجہ سے جملہ انشائیہ ہے اور وَمَا تَفْعَلُوا، جملہ خبریہ ہے حالانکہ وَمَا تَقْعَلُوا کا عطف وَلَا رَفَثَ پر ہے اور یہ عطف خبر علی الانشاء کے قبیل سے ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ جواب : مَاتَفْعَلُوا تاویل میں امر کے ہے ای اِفْعَلُوْا، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : والکاف للتعلیل یعنی کما ھداکم میں کاف تشبیہ کے لئے نہیں بلکہ تعلیل کے لئے ہے، یعنی تم اللہ کا ذکر اس لئے کرو کہ اس نے تم کو احکام دین کی ہدایت عطا فرمائی۔ قولہ : وَاِنْ مخففۃ، یہ ان لوگوں پر رد ہے جو ان کو نافیہ مانتے ہیں اس لئے کہ لَمِن الضّالِّین، میں لام علامت ہے اس بات کی کہ اِنَّ ، مخففہ عن المثقلۃ ہے ورنہ تو لَمِن الضالین کے لام کو اِلّا، کے معنی میں لینا ہوگا جو کہ خلاف اصل ہے۔ قولہ : ثُمَّ للترتیب فی الذکر، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : اوپر عرفات سے روانہ ہونے کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کے قول فَاِذَآ افَضْتُمْ مِّنْ عَرَفَاتٍ ، پھر اس کے بعد ثُمَّ اَفِیْضُوا مِن حَیثُ اَفَاضَ الناس میں مزدلفہ سے روانگی کا ذکر ہے حالانکہ ترتیب خارجی اس کے برعکس ہے اس لئے کہ اول عرفات سے روانگی ہوتی ہے اس کے بعد مزدلفہ سے ہوتی ہے۔ جواب : ثمَّ ترتیب خارجی کے لئے نہیں بلکہ ترتیب ذکری کے لئے ہے۔ قولہ : ونصبُ اَشَدَّ ، علی الحال، اس اضافہ کا مقصد اَشَدَّ ، کے نصب کی وجہ بیان کرنا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اَشَدَّ ذِکرًا، اذکروا کا مفعول مطلق سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اگر اشدَّ ذِکرًا، سے مؤخر ہوتا صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہوتا، موصوف نکرہ پر جب صفت مقدم ہوجاتی ہے تو پھر وہ حال واقع ہوتی ہے، یہی صورت یہاں ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) تفسیر و تشریح اَلْحِجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ، حج کے ایام معلوم و متعین ہیں اور وہ شوال، ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے اول دس دن ہیں مطلب یہ ہے کہ عمرہ تو سال بھر میں ہر وقت جائز ہے لیکن حج صرف مخصوص ایام ہی میں ہوسکتا ہے بعض ائمہ کے نزدیک تو حج کا احرام ایام حج سے پہلے باندھنا جائز ہی نہیں ایسے شخص کا حج ہی نہ ہوگا، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک حج تو ہوجائے گا، البتہ ایام حج سے پہلے احرام باندھنا مکروہ ہے۔ احرام کی حالت میں نہ صرف یہ کہ تعلق زن و شو ممنوع ہے بلکہ ان کے درمیان کوئی ایسی گفتگو بھی نہ ہونی چاہیے جو رغبت شہوانی پر مبنی ہو۔ رَفَث : ایک جامع لفظ ہے جس میں عورت سے مباشرت اور اس کے مقدمات یہاں تک کہ زبان سے عورت کے ساتھ مباشرت کی کھلی گفتگو کرنا بھی داخل ہے، تعریض و کنایہ میں مضائقہ نہیں۔ فسوق : کے لفظی معنی خروج کے ہیں اصطلاح قرآن میں عدول حکمی اور نافرمانی کو کہا جاتا ہے بعض حضرات نے یہاں بھی فسوق کے عام معنی مراد لئے ہیں، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے اس جگہ فسوق کی تفسیر مخطورات احرام سے فرمائی ہے، ظاہر ہے کہ اس مقام کے یہی تفسیر مناسب ہے۔ (معارف) جدال : یہ لفظ بھی اپنے معنی کے اعتبار سے بہت عام ہے لڑائی جھگڑے کو کہتے ہیں اور بعض حضرات مفسرین نے بھی عام معنی مراد لئے ہیں اور بعض حضرات نے حج و احرام کی مناسبت سے ایک مخصوص معنی مراد لئے ہیں وہ یہ کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مقام وقوف میں اور اسی طرح اوقات حج میں اختلاف رکھتے تھے، کچھ لوگ عرفات میں وقوف ضروری سمجھتے تھے اور کچھ مزدلفہ میں اسی طرح کچھ لوگ ذی الحجہ میں حج کرتے تھے اور کچھ لوگ ذیقعدہ میں اور ان معاملات و مسائل میں نزاع اور جھگڑے کرتے تھے اور ایک دوسرے کو گمراہ کہتے تھے۔ قرآن کریم نے لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ، کہہ کر جھگڑوں کا خاتمہ فرما دیا، اور جو بات صحیح اور حق تھی وہ بیان فرما دی۔ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَیٰ ، بعض لوگ زمانہ جاہلیت میں حج کے لئے زادراہ ساتھ لے کر نکلنے کو ایک دنیا دارانہ فعل سمجھتے تھے، اس معاملہ میں یمن کے لوگ زیادہ غلو کرتے تھے اور زادراہ ہمراہ لینے کو خلاف توکل سمجھتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ خود بھی کلیف اٹھاتے تھے، اور دوسروں کے لئے بھی بار بنتے تھے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس غلط خیال کی تردید فرما دی اور بتادیا کہ زادراہ ہمراہ نہ لینا نہ کوئی خوبی ہے اور نہ تقوے کی بات، اصل خوبی اللہ کا خوف اور اس کے حکم کی خلاف ورزی سے اجتناب ہے جس شخص کا باطن تقوے سے عاری ہوا گروہ زادراہ ہمراہ نہ لے تو یہ محض ظاہر میں فقیری کی نمائش ہے، اس کا کو ئئی فائدہ نہیں ایسا شخص خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں ذلیل ہوگا۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفہ) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے

لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ، قدیم عربوں کا جاہلانہ تصور تھا کہ سفر حج کے دوران کسب معاش کے لئے کام کرنے کو برا سمجھتے تھے، قرآن اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ اگر خدا پرست خدا کے قانون کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے معاش کے لئے جدوجہد کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کا فضل تلاش کرتا ہے اور یہ کوئی گناہ نہیں۔ امت کے مختلف طبقوں کا دنیا کے مختلف گوشوں سے یہ عظیم الشان اجتماع محض ایک خشک عبادت اور محض ذکر الٰہی کے لئے ہی نہیں، بلکہ فردوملت یعنی انفرادی اور اجتماعی ہر قسم کے فائدے اس سے حاصل کئے جاسکتے ہیں اور کئے جانے چاہئیں، حج کے روحانی اسرار و حقائق کا ادراک تو فرنگی دماغوں کے لئے آسان نہیں لیکن اس بین الاقوامی سالانہ کانفرس سے جو سیاسی، ملی، اجتماعی، اقتصادی ہر قسم کے فائدے وابستہ ہیں اور اس بین الاقوامی سالانہ بازار سے جو مالی، تجارتی، معاشی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں ان کا اندازہ اور اعتراف تو فرنگیوں کی زبان سے بھی بار ہا ہوچکا ہے۔
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو بیشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ حج کے اعمال، واجبات، سنن، مستحبات تو بہت سے ہیں لیکن ضروری تین ہیں، احرام پوشی، 9 ذی الحجہ کو عرفات میں حاضری اور طواف زیارت ان تینوں میں بھی اہم ترین رکن وقوف عرفات ہے۔ عرفات : مکہ معظمہ سے جو سڑک مشرق کی جانب طائف جاتی ہے اس پر مکہ سے تقریبا بارہ میل کے فاصلہ پر کئی میل کے رقبہ کا ایک لمبا چوڑا میدان ہے اس کا نام عرفات ہے اسی نام کی ایک پہاڑی بھی اسی میدان میں واقع ہے سطح زمین سے اس کی بلندی تقریبا دو سو گز ہے 8 ذی الحجہ کی دوپہر تک حاجیوں کو منی پہنچ جانا چاہیے اور 9 ذی الحجہ کو صبح کو اشراق کے بعد عرفات کے لئے روانگی ہوجائے تاکہ منی اور عرفات کا درمیانی فاصلہ جو تقریباً 8، 9 میل ہے، دوپہر تک طے ہوجائے، دوپہر سے عصر کے آخری وقت تک اسی میدان میں رہنا چاہیے اسی کو اصطلاح میں وقوف کہتے ہیں یہ عرفات کی حاضری حج کا رکن اعظم بلکہ حج کی جان ہے اس کے فوت ہونے سے حج فوت ہوجاتا ہے، یہ سارا وقت تو بہ و استغفار، عبادت، انابت الی اللہ ہی میں صرف ہونا چاہیے غروب کے بعد مزدلفہ (مشعر الحرم) کے لئے روانہ ہونا چاہیے، مغرب کی نماز کا وقت اگرچہ عرفات ہی میں ہوجاتا ہے مگر نماز ادا نہ کرنی چاہیے اور نہ راستہ میں ادا کرے بلکہ مزدلفہ میں جا کر مغرب اور عشاء دونوں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ ادا کرے جس طرح میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں عصر و ظہر ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ مزدلفہ مکہ سے تقریباً چھ میل کے فاصلہ پر واقع ہئ، منی سے عرفات جانے کا ایک راستہ تو سیدھا ہے حاجی 9 ذی الحجہ کو عرفات اسی راستہ سے جاتے ہیں، واپسی میں حکم ہے کہ دوسرے راستہ سے لوٹیں یہ راستہ ذرا چکر کا ہے اور مزدلفہ اسی راستہ میں پڑتا ہے، حاجیوں کے قافلے تقریباً دس بجے شب یہاں پہنچ جاتے ہیں وادی محسر کے سوا پورا مزدلفہ متبرک اور محترم ہے۔
Ayahs 2:200–202

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو (منی میں) خدا کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر، ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ ، زمانہ جاہلیت میں عرب حج سے فارغ ہونے کے بعد منی میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ داد کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے، اس پر ان کو تاکید کی جا رہی ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے، اب اسے اللہ کی یاد میں صرف کرو۔ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ 9 ذی الحجہ کو منی سے عرفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، مگر بعد کے زمانہ میں قریش نے یہ طریقہ شروع کردیا کہ عرفات میں جانے کے بجائے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور دیگر لوگ عرفات چلے جاتے اور قریش دلیل یہ دیتے ہم چونکہ بیت اللہ کے مہنت اور پروہت و مجاور ہیں لہٰذا ہمارے لئے حرم سے باہر جانا مناسب نہیں ہے مقصد ان کا اپنے لئے شان امتیازی قائم کرنا اور دیگر قبیلوں پر اپنی فوقیت اور برتری جتانا ہوتا تھا پھر یہی امتیاز بنی خزاعہ اور بنی کنانہ کو بھی حاصل ہوگیا اس طرح ان قبیلوں کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہوگئی، اسی فخر و غرور کے بت کو اس آیت میں توڑا گیا ہے۔
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور (قیام منی کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن ہیں) خدا کو یاد کرو اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو بعد تک ٹھیرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے

فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلآ اِثْمَ عَلَیْہِ ، منی سے مکہ کی طرف روانگی کی دو صورتیں ہیں اور دونوں بالکل جائز ہیں اب اگر کوئی شخص 10 ذی الحجہ کے بعد صرف دو دن قیام کرکے 12 کی شام کو مکہ چلا آئے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور جس کا جی چاہے 13 تک منی میں قیام کرلے یہ بھی درست ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کے یہاں اگر 13 تک ٹھہرتا ہے تو طلوع آفات سے قبل ہی رمی جمرات کرلے، فقہاء حنفیہ کے یہاں 13 کا قیام افضل ہے۔
Ayahs 2:204–207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین پر دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کر دے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

آیت نمبر 204 تا 210 ترجمہ : اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں کہ دنیا کی زندگی کے بارے میں آپ کو ان کی باتیں اچھی لگتی ہیں اور آخرت کے بارے میں اچھی نہیں لگتیں اس کے اعتقاد کے آپ کے اعتقاد کے خلاف ہونے کی وجہ سے اور اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتا ہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کے قول کے مطابق ہے حالانکہ وہ زبردست جھگڑالو ہے یعنی آپ سے اور آپ کے متابعین سے سخت خصومت رکھنے والا ہے آپ سے خصومت رکھنے کی وجہ سے اور وہ اخنس بن شریق ہے جو منافق ہے، آپ ﷺ سے بہت شیریں گفتگو کرتا تھا اور قسمیں کھاتا تھا کہ وہ آپ پر ایمان رکھتا ہے اور آپ سے محبت رکھتا ہے آپ ﷺ اس کو اپنے قریب بٹھاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اس کے دعوے میں تکذیب فرمائی، ایک مرتبہ مسلمانوں کی کھیتی اور گدھوں کے پاس سے گزرا تو رات کے وقت کھیتی کو جلا دیا اور گدھوں کی کونچیں کاٹ دیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جب وہ واپس جاتا ہے (یعنی) آپ کی مجلس سے لوٹتا ہے تو زمین میں دوڑ دھوپ کرتا ہے تاکہ زمین میں فساد برپا کرے (دوسرا ترجمہ) (اور جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو اس کی ساری دوڑ دھوپ زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے ہوتی) اور کھیتی اور نسل کو برباد کرتا ہے یہ بھی منجملہ فساد کے ہے، اور اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی اس سے راضی نہیں ہے اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ تو اپنی حرکتوں کے بارے میں اللہ سے ڈر تو اس کو تکبر اور جاہلی تعصب گناہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس کو بچنے کے لئے کہا گیا ہے تو اس کے لئے جہنم کافی ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے یعنی وہ برا بچھونا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ اپنی جان کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بیچ دیتے ہیں یعنی اللہ کی طاعت میں اس کو قربان کردیتے ہیں اور وہ صہیب رومی ہیں جب کہ مشرکین نے اذیت پہنچائی تو مدینہ ہجرت کرگئے اور مشرکین کے لئے اپنا تمام مال چھوڑ گئے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے اس لئے کہ ان کو ان باتوں کی رہنمائی فرمائی جن میں اس کی خوشنودی ہے اور جب عبد اللہ بن سلام اور ان کے اصحاب نے اسلام قبول کرنے کے بعد شنبہ کے دن کی تعظیم کرنے کا ارادہ کیا اور اونٹ اور ان کے دودھ کو ناپسند کیا تو آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ! اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ، (السِلم) سین کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ بمعنی اسلام کَافَّۃً ، سلم سے حال ہے یعنی اس کی پوری شریعت میں (داخل ہوجاؤ) اور شیطان کے طریقوں کی پیروی نہ کرو یعنی تفریق کے ذریعہ خوشنمائی کی بلاشبہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے یعنی اس کی عداوت بالکل واضح ہے پس اگر تم نے لغزش کھائی یعنی اگر اسلام میں مکمل داخل ہونے سے تم نے اعراض کیا بعد اس کے کہ تمہارے پاس اسلام کے حق ہونے پر واضح دلیلیں آگئیں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اس کو انتقام لینے سے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی اپنی صنعت میں حکیم ہے پوری طرح اسلام میں نہ داخل ہونے والے، کیا اب صرف اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس اللہ اور فرشتے یعنی اس کا حکم آجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ” اَوْ یَأتِیَ اَمْرُ رَبِّک، ای عذابہ “ بادلوں کے سائبان میں ظَللٌ ظلَّۃٌ کی جمع ہے اور کام تمام کردیا جائے (یعنی) ان کی ہلاکت کا معاملہ انجام کو پہنچ جائے آخرت میں اللہ کی ہی طرف تمام کام لوٹنے والے ہیں (ترجع) معروف و مجہول دونوں ہیں تو وہ جزاء دے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَمَنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجبُکَ ، اس کا عطف فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُوْلُ پر ہے اور وَمِن النَّاس، اپنے متعلق محذوف سے مل کر خبر مقدم ہے اور مَنْ یُعجبُکَ ، مبتداء مؤخر ہے۔ قولہ : اَلَدُّ الخِصَامِ ، لَدٌّ، سے اسم تفضیل ہے سخت جھگڑالو، خِصَامٌ یہ خاصَمَ کا مصدر ہے زجاج نے کہا ہے کہ خَصْمٌ کی جمع ہے جیسا کہ صَعْبٌ کی جمع صِعَابٌ اور ضَخْمٌ کی جمع ضِخَامٌ۔ قولہ : شدید الخصومَۃِ مفسر علام نے اَلَدُّ کی تفسیر شَدِیْدٌ سے کرکے اشارہ کردیا کہ اَلَدُّ ، اسم تفضیل نہیں ہے (کما فی قول بعض الناس) اس لئے کہ اس کی مؤنث، لُدیٰ اور جمع لُدٌّ ہے۔ قولہ : تَوَلّٰی، اِنْصَرفَ عَنْکَ تَوَلَّی، کی تفسیر اِنصَرَفَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ تَوَلّٰی بمعنی اِنْصَراف ہے نہ کہ بمعنی ولایۃ جیسا کہ کہا گیا ہے، اس لئے کہ آیت کا نزول اَخْنَسْ بن شَرِیْق کے بارے میں ہے اور وہ والی نہیں تھا۔ قولہ : مِنْ جملۃ الفساد یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھُوَ مِن الفساد اس جملہ کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : لِیُفْسِدَ فیھَا عام ہے اس میں ہر قسم کا فساد شامل ہے پھر اس کے بعد وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَسْلَ کہنے کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب : یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے، مِنْ جملۃ الفساد سے اسی جواب کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : حالٌ مِنَ السِلْم یہ ان لوگوں کا رد ہے جنہوں نے کافۃً کو مصدر محذوف کی صفت کہا اور تقدیر عبارت یہ مانی ہے ای اِذْ خَالاً کافّۃً رد کی وجہ یہ ہے کہ ابن ہشام نے کہا ہے کہ کافَّۃ، حال اور نکرہ ہونے کے لئے خاص ہے۔ قولہ : من السِلْم، یہ اس کا رد ہے جس نے کہا ہے کہ کافَّۃً ، ادخلوا کی ضمیر سے حال ہے یا تو اس لئے کہ کافُّۃً مؤنث ہے اور سلم مذکر ہے یا اس لئے کہ سِلْم بمعنی اسلام کے اجزاء نہیں ہیں حالانکہ ذوالحال کا ذات الاجزاء ہونا ضروری ہے پہلی دلیل کا جواب اَلسِلْم، حربٌ، کی مانند مذکر و مؤنث دونوں مستعمل ہے دوسری دلیل کا جواب، اسلام سے جمیع شرائع والا حکام مراد ہیں اور شرائع ذات الاجزاء ہیں، لہٰذا سِلْمٌ کا کافۃ سے حال واقع ہونا درست ہے، مفسر علام نے اپنے قول ای فی جمیع شرائعہٖ سے اسی جواب کی طرف اشارہ کیا ہے، مذکورہ آیت عبد اللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی اصحاب میں ثعلبہ بن یامین واسد واسید و سعید بن عمرویہ سب حضرات یہودی تھے انہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا۔ قولہ : طُرُقٌ، خطُواتٌ کی تفسیر طُرُقٌ سے کرکے اس اشکال کا جواب دیا ہے کہ شیطان کے قدم نہیں ہے جواب یہ ہے کہ حال بول کر محل مراد ہے۔ قولہ : ای اَمْرہٗ ، اس میں اشارہ ہے کہ یاتیھُم اللہ کے اندر اسناد مجازی ہے۔ قولہ : تزیینہ، ای تزیین الشیطان، المراد من التزیین وسوستہ، کتحریم لحم الابل و تعظیم یوم السبت۔ تفسیر و تشریح بعض ضعیف روایات کے مطابق یہ آیت اَخْنسْ بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر اس آیت کے مصداق تمام منافقین ہیں، لباب النقول میں ہے، اَخْرَجَ ابن جریر عن السُّدی قال نزل فی اخنس بن شریق، ایک روز اخنس جس کا اصل نام ابی ہے اخنس اس کا لقب ہے اس کنیت کا سبب یہ ہوا کہ بدر کے دن یہ شخص واپس چلا گیا تھا اور اپنے ہمراہ تین سو افراد کو بھی لے گیا تھا جنس کے معنی واپس ہونے اور پلٹنے کے ہیں خناس ان تاروں کو کہتے ہیں جو آگے چلتے چلتے پیچھے کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ اس شخص نے اپنے ساتھ واپس جانے والے منافقوں سے کہا : اِنّ محمداً ابن اُختِکم فِان یَکُ کَاذِبًا کفا کموہ الناسُ وَاِن کان صادقا کنتم اَسْعَدَ الناسِ بہ، قالوا نَعَمَ مَا رَأیتَ ، قال اِنّی سَأخْنَسُ بکم فاتبعونی فخَنَسَ فَسُمِّیَ الَاخْنَسْ لِذَلِکَ ۔ (خازن) اس نے کہا : محمد ﷺ تمہارا بھانجا، اگر جھوٹا ہے تو لوگ تمہاری طرف سے کفایت کریں گے اور اگر سچا ہے تو تم اس کی وجہ سے خوش نصیب ترین لوگ ہوگے، لوگوں نے کہا تم نے بہت اچھی بات کہی، اخنس نے کہا میں تمہارے پاس واپس آؤنگا تو تم میری اتباع کرنا، چناچہ وہ واپس آیا، اسی وجہ سے لوگوں نے اس کا نام اخنس رکھ دیا۔ ربط و شان ونزول : سابقہ آیت میں منافقین کا ذکر تھا، اس آیت میں مخلصین کا ذکر ہے، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہٗ (الآیۃ) یہ آیت صہیب رومی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب سے بیان کیا ہے کہ صہیب رومی مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں مشرکین قریش کی ایک جماعت نے راستہ روک لیا یہ دیکھ کر حضرت صہیب رومی اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور ان کے ترکش میں جتنے تیر تھے سب نکال لئے اور قریش کی اس جماعت سے مخاطب ہو کر کہا اے قبیلہ قریش کے لوگو ! تم سب جانتے ہو کہ میں تیر اندازی میں تم سب سے زیادہ ہوں، میرا تیر کبھی خطا نہیں کرتا، اور ان میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم میرے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکو گے جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہے اور تیروں کے بعد میں تلوار سے کام لوں گا جب تک مجھ میں دم رہے گا، پھر تو جو چاہو کرلینا، اور اگر تم نفع کا سودا چاہتے ہو تو میں تمہیں اپنے مال کا پتہ دیتا ہوں جو مکہ مکرمہ میں رکھا ہوا ہے، تم وہ مال لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو اس پر قریش کی جماعت راضی ہوگئی اور حضرت صہیب رومی ؓ نے صحیح سالم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر واقعہ سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا : ربِحَ البَیْعُ یا ابا یحیٰی رَبِحَ البَیْعُ یا ابا یحیٰی، اے ابا یحییٰ تمہارا سودا نفع بخش رہا، تمہارا سودا نفع بخش رہا۔
Ayahs 2:208–209

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

مومنو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑا جاؤ تو جان رکھو کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

یَآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْم کَافَّۃً ، یعنی کسی استثناء اور تخصیص کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ، تمہارے خیالات نظریات تمہارے علوم تمہارے طور و طریقے تمہارے معاملات تمہاری سعی وعمل کے راستے سب کے سب باکل تابع اسلام ہوں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کے مختلف حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔ ربط آیات اور شان نزول : ابن جریر نے عکرمہ سے نقل کیا ہے فرمایا : کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم یوم السبت کا احترام کریں اور اونٹ کا گوشت ترک کریں تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو اہل کتاب کے علماء میں سے تھے ان کے نزدیک ہفتہ کا دن محترم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا، ان حضرات کو اسلام لانے کے بعد خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کے دن کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدیہ میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں، اسی طرح شریعت موسوی میں اونٹ کا گوشت حرام تھا اور شریعت محمدیہ میں اس کا کھانا فرض نہیں، سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت باوجود حلال اعتقاد رکھنے کے صرف عملاً ترک کردیں تو شریعت موسوی کی بھی رعایت ہوجائے گی اور شریعت محمدیہ کے بھی خلاف نہ ہوگا اور اس میں خدا تعالیٰ کی زیادہ اطاعت اور دین کی زیادہ رعایت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی اصلاح آئندہ آیت میں فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کامل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا جب ہے کہ جو امر اسلام میں قابل رعایت نہ ہو اس کی رعایت دین ہونے کی حیثیت سے نہ کی جائے اور ایسے امر کو دین سمجھنا ایک شیطانی لغزش ہے۔ تنبیہ : اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادت کے ساتھ مخصوص کررکھا ہے معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جز ہی نہیں سمجھتے، آجکل جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو خود کو ماڈرن سمجھتا ہے ان میں یہ غفلت عام ہے۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کا عذاب) بادل کے سائبانوں میں آ نازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے ؟ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْ تِیَھُمُ اللہُ فِیْ ظُلَلٍٍ مِّنَ الْغَمَامِ (الآیۃ) اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا تمام تر دارو مدار اس بات پر ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھے بغیر مانتا ہے یا نہیں جس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کی طاقت رکھنے کے باوجود فرنبرداری اختیار کرے چناچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثیت میں، کتابوں کی تنزیل میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بےنقاب نہیں کیا کہ آدمی کے لئے مانے بغیر چارہ ہی نہ رہے کیونکہ اس سے تو آزمائش بالکل بےمعنی ہوجاتی ہے اور امتحان و آزمائش کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہتا، غیب اور حقیقت کے مشاہد ہونے کے بعد تو بڑے سے بڑا منکر بھی ایمان لے آتا ہے مگر اس ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے اسی بنا پر یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اس وقت کا انتظار نہ کرو، جب اللہ تعالیٰ اور اس کی سلطنت کے کارکن فرشتے خود سامنے آجائیں گے کیونکہ پھر تو فیصلہ ہی کر ڈالا جائے گا، ایمان لانے اور سرجھکانے کی ساری قدروقیمت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت تمہارے حواس سے پوشیدہ ہے اور تم محض دلیل سے اس کو تسلیم کرکے اپنی اخلاقی طاقت کا ثبوت دیتے ہو، ورنہ جب حقیقت بےپردہ ہو کر سامنے آجائے اور تم بچشم سر دیکھ لو کہ خدا اپنے تخت جلال پر متمکن ہے اور یہ ساری کائنات کی سلطنت اس کے فرمان پر چل رہی ہے اور یہ فرشتے زمین و آسمان کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ تمہاری ہستی اس کے قبضہ قدرت میں پوری بےبسی کے ساتھ جکڑی ہوئی ہے اس وقت تم ایمان لائے تو اس ایمان اطاعت کی قیمت ہی کیا ہے ؟ اس وقت تو کٹے سے کٹّا کافر اور بڑے سے بڑا فرعون اور بدتر سے بدتر مجرم بھی انکار و نافرمانی کی جرأت نہیں کرسکتا، ایمان لانے اور اطاعت قبول کرنے کی مہلت بس اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت بےنقاب ہونے کی وہ ساعت نہیں آتی، اور جب وہ ساعت آگئی تو پھر نہ مہلت ہے نہ آزمائش بلکہ وہ فیصلے کا وقت ہے۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

آیت نمبر 211 تا 214 ترجمہ : اے محمد ﷺ بنی اسرائیل سے لا جواب کرنے کے لئے پوچھو تو، کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا کیں ! مثلاً دریا کا دولخت ہوجانا، اور مَنْ و سَلْوٰی کا نازل کرنا، مگر انہوں نے ان نشانیوں (نعمتوں) کا بدلہ ناشکری سے دیا کَمْ استفہامیہ ہے جو سَلْ ، کو مفعول ثانی (آتَیْنٰھُمْ ) میں عمل کرنے سے مانع ہے اور کَمْ آتَیْنَا کا مفعول ثانی ہے اور مُمَیّز ہے اور مِن آیَۃٍ اس کی تمیز ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بدلتا ہے کفر کے ساتھ یعنی ان نعمتوں کو جو اسے بطور انعام نشانیوں کی شکل میں عطا فرمائیں۔ (اور وہ آیات نعمت اس لئے ہیں) کہ وہ سبب ہدایت ہیں تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے سخت عذاب والا ہے کافروں یعنی اہل مکہ کے لئے دنیا کی زندگی کو آراستگی کے ساتھ جس کو انہوں نے محبوب سمجھ لیا ہے خوب مزین کردیا ہے اور یہ لوگ ایمان والوں کا ان کے فقر کی وجہ سے مذاق اڑاتے ہیں جیسا کہ عمار، اور بلال، اور صہیب، یعنی ان کا استہزاء کرتے ہیں ان پر مالی برتری جتاتے ہیں حالن کہ وہ لوگ جو شرک سے بچے اور وہ یہی (فقراء) ہیں قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے یعنی آخرت یا دنیا میں رزق وسیع عطا کرتا ہے اس طریقہ پر کہ جن لوگوں کا مذاق اڑایا گیا ان کو ان کے ماموں کا ان کی گردنوں کا مالک بنا دے گا (دراصل) لوگ ایمان والی ایک ہی امت تھے بعد میں مختلف ہوگئے اس طریقہ پر کہ بعض ایمان لائے اور بعض نے انکار کردیا، بعد اس کے کہ ان کے پاس توحید کی واضح دلیلیں آچکی تھیں اور من بعد کا تعلق اختلف سے ہے اور مِن، اور اس کا مابعد معنی کے اعتبار سے استثناء پر مقدم ہے اور یہ سب کچھ محض آپسی کفر وعناد کی وجہ سے کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی جس میں انہوں نے اختلاف کیا اپنی مشئیت سے رہبری کی اور اللہ جس کی ہدایت چاہتا ہے صراط مستقیم راہ حق کی ہدایت کرتا ہے اور اس مشقت کے بارے میں کہ جو مسلمانوں کو پہنچی (آئندہ) آیت نازل ہوئی، کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو حالات تم سے پہلے ایمان والوں پر آئے تھے، لہٰذا تم اسی طرح صبر کرو جس طرح انہوں نے کیا، ان کو شدید احتیاج پیش آئی اور مرض لاحق ہوئے، مَسَّتْھُمْ جملہ مستانفہ اپنے ماقبل کا بیان ہے مختلف قسم کی آزمائشوں سے ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ اس وقت کا رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے نصرت میں تاخیر اور ان پر انتہائی شدت کی وجہ سے کہہ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے (یقولُ ) نصب اور رفع کے ساتھ ہے، تو ان کو اللہ کی طرف سے جواب دیا گیا ہے سنو اللہ کی نصرت کی آمد قریب ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : سَلْ ، تو سوال کر، (ف) سے امر واحد مذکر حاضر سَلْ کی اصل اِسْئَلْ تھی ہمزہ ثانیہ کی حرکت نقل کرکے اپنے ماقبل سین کو دیدی اور ہمزہ کو تخفیفاً حذف کردیا، ہمزہ وصل چونکہ ضرورۃ لایا گیا تھا ضرورت نہ رہنے کی وجہ سے ساقط ہوگیا سَلْ ہوگیا خطاب آپ ﷺ کو ہے۔ قولہ : تبکیتًا (تفعیل) لاجواب کرنا، خاموش کرنا، شرمندہ کرنا اور یہ استفہام برائے توبیخ ہے نہ کہ استفہام برائے سوال۔ قولہ : مُعَلِّقَۃٌ لِسَلْ مِنَ المفعول الثانی، یعنی کَم، استفہامیہ سَلْ کو مفعول ثانی میں عمل کرنے سے مانع ہے اور خود قائم مقام مفعول ثانی کے ہے تاکہ اس کی صدارت کلام باقی رہے۔ سوال : سَلْ متعدی بیک مفعول ہے اس کو دوسرے مفعول کی ضرورت ہی نہیں ہے تو پھر سَلْ کو مفعول ثانی میں عمل سے روکنے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : سوال چونکہ سبب علم ہوتا ہے اور عَلِمَ افعال قلوب میں سے ہونے کی وجہ سے متعدی بدو مفعول ہے چونکہ سوال سبب ہے علم کا اور علم اس کا مسبب ہے اور بعض اوقات سبب مسبب کے قائم مقام ہوتا ہے لہٰذا یہاں بھی سَئَلَ قائم مقام عَلِمَ کے ہونے کی وجہ سے متعدی بدو مفعول ہوگیا۔ ترکیب : سَلْ فعل امر ضمیر اَنْتَ اس کا فاعل بنی اسرائیل سَلْ کا مفعول اول ہے کَمْ استفہامیہ ممیز، ھُمْ اٰتَیْنَا، کا مفعول اول مِنْ آیَۃٍ تمیز کَمْ مُمیَّزْ اپنی تمیز سے مل کر اٰتینا، کا مفعول ثانی مقدم ہے اٰتَیْنا، اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر جملہ ہو کر قائما ہوا سَلْ کے مفعول ثانی کا سَلْ اپنے فاعل اور مفعول اور قائم مقام مفعول سے مل کر جملہ انشائیہ ہوا۔ سوال : سَلْ ، دو مفعولوں کا تقاضہ کرتا ہے ایک ان میں سے مسئول عنہ ہوتا ہے اور دوسرا مسئول، یہاں مسئول بنی اسرائیل ہے، مسئول عنہ کا ذکر نہیں ہے، حالانکہ مسئول عنہ کے بغیر سوال کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ جواب : جس طرح مفعول ثانی سے مسئول عنہ سمجھا جاتا ہے قائم مقام مفعول سے بھی مسئول عنہ سمجھا جاتا ہے لہٰذا کَمْ اٰتَیْنَاھم جو کہ سَلْ کے مفعول ثانی کے قائم مقام ہے، سے بھی مسئول عنہ مفہوم ہو رہا ہے لہٰذا مسئول عنہ کو مستقلاً ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ قولہ : ومُمَیِّزُھَا مِنْ آیَۃٍ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : کم استفہامیہ کی تمیز پر مِنْ کا استعمال نہیں ہوتا اور نحو کی کتابوں میں کہیں مذکور نہیں۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ کم استفہامیہ کی تمیز پر مِن کا دخول اس وقت منع ہے کہ جب ممیز وتمیز کے درمیان فصل نہ ہو، لیکن اگر ممیز اور تمیز کے درمیان فعل متعدی کا فصل ہو جیسا کہ یہاں اٰتَیْنَا، کا فصل ہے، تو مِنْ کا لانا واجب ہے اور اس جواب کی وجہ مفعول اور تمیز کے درمیان فرق کرنا ہے، اگر تمیز پر مِنْ نہ ہوتا تو اس امر میں التباس ہوجاتا کہ آیۃٍ ، آتِیْنَا کا مفعول ہے، کم استفہامیہ کی تمیز ہے ؟ قولہ : لِانَّھَا سَبَبُ الھِدَایَہ، اس شبہ کا جواب ہے کہ آیات کو نعمت کیوں کہا گیا ہے ؟ جواب آیات چونکہ سبب ہدایت ہیں اور ہدایت سب سے بڑی نعمت ہے، سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا ہے۔ قولہ : کُفْراً ، کُفْرًا، کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ یُبَدِّلُ کا مفعول ثانی محذوف ہے۔ قولہ : شدید العقاب لَہٗ ۔ سوال : لہٗ کو مقدر ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ جواب : مَنْ یُبدِّلْ نَعْمَۃَ اللہ، مبتداء ہے اور فاِنَّ اللہَ شَدِیْدُ العِقَابِ جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہے حالانکہ خبر جب جملہ ہوتی ہے تو اس میں ایک عائد کا ہونا ضروری ہے، لَہٗ ، مقدر مان کر عائد محذوف کی طف اشارہ کردیا۔ قولہ : وَھُمْ یَسْخَرُوْنَ ۔ سوال : ھُمْ ، کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : واؤ حالیہ ہے نہ کہ عاطفہ اور واؤ حالیہ کا جملہ اسمیہ ہونا ضروری ہے اسی لئے، ھُمْ کا اضافہ کیا ہے۔ سوال : واؤ کو عاطفہ ماننے میں کیا قباحت ہے اگر واؤ کو عاطفہ مان لیا جائے تو ھُمْ ، محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جواب : واؤ کو عاطفہ ماننے کی صورت میں یَسْخر، مضارع کا زُیِّنَ ماضی پر عطف لازم آئے گا جو کہ کلام فصیح میں مستحسن نہیں ہے۔ قولہ : وَھَیَ وَمَا بَعْدَھَا مقدم عَلَی الاستثناء معنی، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک مشہور سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال : ایک حرف استثناء کے ذریعہ متعدد کا استثناء درست نہیں ہے، اور یہاں یہی صورت ہے اس لئے کہ : وَمَا اختُلِفَ فیہ مستثنیٰ منہ ہے اور اِلَّا الَّذِیْن اوتوہ مستثنیٰ اول ہے اور مِنْ بَعْدِ مَا جائَتْھُمْ مستثنیٰ ثانی ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ اعتراض اس وقت ہوگا جب مِن بعد الخ کو اُوْتُوْہُ ، کے متعلق کیا جائے جیسا کہ قریب ہونے کی وجہ سے ظاہر ہے مگر مِن بعد کا تعلق اختلفَ سے ہے جس کی وجہ سے مِنْ بَعْدِ الخ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوتوہ پر مقدم ہے لہٰذا، مِن بعد، مستثنیٰ میں نہیں بلکہ مستثنیٰ منہ میں داخل ہے اسی جواب کی طرف مفسر علام نے مِنْ بعدِ الخ متعلقۃ بِاُخْتلِف کہہ کر اشارہ کیا ہے۔ قولہ : معنیً ، اس لفظ کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مِنْ بَعْدِ مَا جَاء تْھُمْ الخ لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ مؤخر ہے مگر معنی کے اعتبار سے مقدم ہے۔ قولہ : بَغْیًا، یا تو مفعول یا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : بَیْنَھُمْ ، بَغْیًا، کی صفت ہے یا حال ہے۔ قولہ : ای قال۔ سوال : مفسر علام نے یقول ، کی تفسیر قَالَ سے کی ہے اس کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اس کا مقصد یقول کی دونوں قراءتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے، اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب حتّٰی، کے بعد مستقبل بمعنی ماضی ہوتا ہے تو اس میں رفع ونصب دونوں جائز ہوتے ہے یہاں یہی صورت ہے اس لئے نافع (رح) تعالیٰ نے رفع اور دیگر حضرات نے نصب پڑھا ہے، حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ ، اصل میں قال الرسول ہے حکایت حال ماضیہ کے طور پر ماضی کو مضارع سے تعبیر کردیا گیا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” مَرضَ فلانٌ حتّٰی لا یَرجونَہٗ “ فلاں شخص بیمار ہوگیا اس کے بچنے کی امید نہیں ہے۔ قولہ : مَیتٰی یاتی نصر اللہ، متٰی، ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور خبر مقدم ہونے کی وجہ سے محل میں رفع کے ہے اور نصر اللہ مبتداء مؤخر ہے مفسر علام نے یأتی، فعل محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ نصر اللہ فعل محذوف کا فاعل ہے۔ تفسیر و تشریح سابقہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت کرنا موجب سزا ہے سَلْ بَبِیْ اِسْرَآئِیْلَ (الآیۃ) اس آیت میں مذکورہ دعوے کی دلیل بیان فرمائی گئی ہے کہ جس طرح بعض بنی اسرائیل کو ایسی ہی مخالفت پر سزا دی گئی ہر مخالفت کرنے والے کو ایسی ہی سزا دی جائے گی۔ آپ علماء بنی اسرائیل سے پوچھئے کہ ہم نے ان کو یعنی ان کے نزرگوں کو کتنی واضح دلیلیں دی تھیں مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ ان سے ہدایت حاصل کرتے الٹی گمراہی پر کمر باندھ لی مثلا تورات ملی، چاہیے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے، مگر انکار کیا آخر کوہ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی، اور مثلاً کوہ طور پر حق تعالیٰ کا کلام سنا، چاہیے تھا کہ سر آنکھوں پر رکھتے، مگر شبہات نکالے اور اللہ تعالیٰ کو بچشم سر دیکھنے کی ضد کی، آخر آسمانی بجلی کے ذریعہ ہلاک کر دئیے گئے اور مثلاً دریا میں شگاف ڈال کر فرعون سے نجات دی، احسان ماننے کے بجائے گائے کی پوجا شروع کردی، جس کی وجہ سے سزائے قتل دی گئی اور مثلاً مَنَّ وَسَلْویٰ نازل ہوا، شکر کرنا چاہیے تھا مگر ناشکری کی اور ذخیرہ کرنے لگے تو وہ سڑنے لگا اور جب اس سے نفرت ظاہر کی تو موقوف ہوگیا، اور مثلاً ان میں انبیاء (علیہم السلام) کا سلسلہ جاری کیا غنیمت سمجھتے، ان کو قتل کرنا شروع کردیا اس کی سزا یہ ملی کہ حکومت و سلطنت چھین کر ذلت و خواری مسلط کردی گئی۔ مِنْ آیَۃٍ بَیِّنَۃٍ کھلی ہوئی نشانیوں سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات مفسرین نے کہا ہے آپ کی وہ صفات اور نشانیاں مراد ہیں جو انبیاء بنی اسرائیلی کو بتائی گئی تھیں، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ وہ آیات تِسْع مراد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھیں۔ نِعْمَۃَ اللہِ ، سے کیا مراد ہے ؟ طبری نے کہا کہ اسلام مراد ہے مگر ظاہر یہ ہے کہ ہر قسم کی نعمت مراد ہے خواہ دنیوی ہوں یا اخروی، روحانی ہوں یا جسمانی، ظاہری ہوں یا باطنی، خواہ ادنی ہوں یا اعلیٰ بہرحال تمام نعمتیں قابل قدر اور لائق شکر گزاری ہیں چہ جائیکہ بنی اسرائیل کو بڑی بڑی دنیوی و اخروی نعمتوں سے مدتوں سرفراز رکھا، اور کتاب و نبوت کی مشعل دے کر دنیا کی رہنمائی کے منصب پر مامور کیا تھا، مگر انہوں نے دنیا پرستی، نفاق اور علم و عمل کی ضلالتوں میں مبتلا ہو کر اس نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا لہٰذا جو گروہ اس قوم کے بعد امامت کے منصب پر فائز ہوا ہے اس کو سب سے بہتر سبق اگر کسی کے انجام سے مل سکتا ہے تو وہ یہی قوم ہے اسی لئے اس قوم کی سرکشی اور تمرد کو بیان کرکے ان کے جیسے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ نَعْمَۃَ اللہِ کی وسعت دینی اور دنیوی ہر قسم کی نعمتوں کو شامل ہے اور یہاں ہر قسم کی نعمت کو مسخ و تبدیل کرنے کے عذاب شدید کی وعید ہے، اب نعمت اگر دینی ہے مثلاًٍکتاب الہٰی یا ظہور انبیاء تو اس میں تحریک تا انکار پر عذاب اخروی کا وقوع ظاہر ہی ہے، لیکن نعمت اگر محض دنیوی ہے مثلٍاً دولت، صحت، سلطنت تو اس کے بےجا استعمال کا خمیازہ، بیماری، ناکامی، افلاس، بغاوت، انتشار، بدامنی، غلامی، ذلت وغیرہ کی شکل میں اٹھانا بھی مشاہدہ کی چیزیں ہیں۔ مذکورہ آیت آج کس قدر امت کے حسب حال اور کسی درجہ مطابق ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ اللہ کی عطا کی ہوئی ہر دینی و دنیوی نعمت کے ساتھ آج ہمارا کیا معاملہ ہے ؟ کس نعمت کا ہم حق ادا کر رہے ہیں ؟ کون سے نعمت ایسی ہے کہ جس کی روح ہم نے نہیں بدل ڈالی ؟ ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے حج، ہماری عبادتیں روح و مغز سے یکسر خالی محض ڈھانچے رہ گئے ہیں، اخلاق و اتحاد کی دولت ہم نے الگ برباد کر ڈالی نتیجہ جو نکلا سب کی آنکھوں کے سامنے ہے، ایران، پاکستان، ترکستان، عراق، انڈونیشا غرضیکہ تمام مسلم ممالک کا آج جو عبرت انگیز حشر ہو رہا ہے ان سب کی تہ میں بھی خدائی دینی و دنیوی نعمتوں کی ناقدری کو دخل ہے۔
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما کردی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

زُیَّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (الآیۃ) زُیِنَ ، مجہول ہے ایک قراءت میں معروف بھی پڑھا گیا ہے اس کے معنی ہیں زینت دیا گیا حقیقت میں زینت دینے والا تو اللہ ہے مگر یہاں زینت سے مغالطہ دینا اور سبز باغ دکھانا مراد ہے یعنی حیات دنیا کو جو کہ فانی اور ناپائیدار ہے کفار کی نظروں میں شیطان نے باقی اور پائیدار اور محبوب کرکے دکھایا ہے۔ اور اسی ناپائیداری اور زوال پذیر دنیا کے بل بوتے پر قریش، ابن مسعود، عمار، صہیب، بلالو خباب ؓ وغیرہ جیسے غریب اور نادار مسلمانوں کو دیکھ کر ہنسا کرتے تھے، مگر دنیا پر فریفتہ اور مغرور ہونے والے کافر سرداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آخر کار غلبہ اور عزت و راحت مومنین ہی کے لئے ہے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مومن مرد یا عورت کو اس کے فقر و فاقہ کی وجہ سے ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو اولین و آخرین کے مجمع میں رسوا اور ذلیل کرے گا، اور جو شخص کسی مسلمان مرد عوعت پر بہتان باندھتا ہے اور کوئی ایسا عیب اس کی طرف منسوب کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو آگ کے ایک اونچے ٹیلے پر کھڑا کریں گے جب تک کہ وہ خود اپنی تکذیب نہ کرے۔ (معارف)