2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:102–103

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے ایسا (جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیج ڈالا وہ بری تھی، کاش وہ (اس بات کو) جانتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا اے کاش وہ اس سے واقف ہوتے

آیت نمبر 102 تا 103 ترجمہ : اور پیچھے لگ گئے (یہود) (اِتَّبَعُوْا) کا عطف نَبذَ ، پر ہے اس (سحر) کے کہ جس کو شیاطین سلیمان (علیہ السلام) کے عہد سلطنت میں پڑھا کرتے تھے، جب سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ختم ہوگئی تو سحر (کی کتابوں) کو شیاطین نے سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا تھا، یا اس کے پیچھے پڑگئے جس کو شیاطین چوری سے سن لیا کرتے تھے اور اس میں (اپنی طرف سے) جھوٹ ملا کر کاہنوں کو بتادیا کرتے تھے اور وہ اس کو مدون کرلیا کرتے تھے، اور اس بات کی شہرت ہوگئی، نیز مشہور ہوگیا کہ جنات غیب جانتے ہیں تو سلیمان (علیہ السلام) نے (جادو کی) کتابوں کو جمع کرکے دفن کردیا، چناچہ جب سلیمان (علیہ السلام) کا انتقال ہوگیا تو شیاطین نے لوگوں کو اس کی نشاندہی کردی، چناچہ لوگوں نے اس کو نکال لیا، تو اس میں جادو پایا، تو کہنے لگے (سلیمان (علیہ السلام) نے تمہارے اوپر اسی (جادو) کے بدولت حکمرانی کی، تو ان لوگوں نے اس جادو کو سیکھا اور اپنے انبیاء کی کتابوں کو بالائے طاق رکھ دیا، اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی براءت کرتے ہوئے اور یہود کی اس بات کو رد کرتے ہوئے : کہ محمد کو دیکھو سلیمان کو نبیوں میں شمار کرتے ہیں حالانکہ وہ محض جادوگر تھے فرمایا اور سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا، یعنی عمل سحر نہیں کیا اس لئے کہ (عمل سحر) کفر ہے، لکِنَّ تشدید اور تخفیف کے ساتھ لیکن شیاطین نے کفر کیا، کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، جملہ (یُعَلّمون الناس السحر) کفروا، کی ضمیر سے حال ہے اور (شیاطین) ان کو وہ علم سحر بھی سکھاتے تھے، اور جو ان دو فرشتوں پر نازل کیا گیا جو (شہر) بابل میں رہتے تھے، اور مَلِکین کو لام کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، بابل وسط عراق میں ایک شہر ہے (ان فرشتوں کا نام) ہاروت اور ماروت تھا، یہ مَلَکین، سے بدل یا عطف بیان ہے، ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ دونوں جادوگر تھے، خود جادو سکھایا کرتے تھے، اور کہا گیا ہے کہ دو فرشتے تھے، جو جادو کی تعلیم کے لئے اللہ کی جانب سے لوگوں کی آزمائش کے طور پر اتارے گئے تھے اور وہ دونوں (جادو) کسی کو نہیں سکھاتے تھے، مِن زائدہ ہے، مگر نصیحۃً یہ کہہ دیتے تھے، کہ : ہم اللہ کی جانب سے (لوگوں کی) آزمائش ہیں، تاکہ جادو سکھا کر اس کی آزمائش کریں لہٰذا جس نے جادو سیکھا اس نے کفر کیا اور جو سیکھنے سے باز رہا وہ مومن ہے، لہٰذا اس کو سیکھ کر کفر نہ کرو، پھر بھی اگر وہ سیکھنے پر مصر رہتا تو اسے سکھا دیتے، پھر لوگ ان سے وہ علم سیکھتے جس کے ذریعہ بیوی اور اس کے شوہر کے درمیان جدائی کرا دیں بایں طور کہ آپس میں بغض رکھنے لگیں اور یہ جادو کرنے والے اس (جادو) کے ذریعہ کسی کو اللہ کے حکم (اور) ارادہ کے بغیر نقصان نہیں پہنثا سکتے اور یہ لوگ وہ چیز سیکھتے ہیں، جو ان کو آخرت میں نقصان پہنچائے، نفع نہ پہنچائے، اور وہ جادو ہے اور یقیناً یہ یہود لَقَدْ میں لام قسمیہ ہے، بخوبی جانتے ہیں کہ جس نے اس (جادو) کو اختیار کیا یا کتاب اللہ سے بدلا، اس کا آخرت میں جنت سے کچھ حصہ نہیں ہے، لَمَنْ ، میں لام ابتدائیہ ہے جو اپنے ماقبل کو عمل سے مانع ہے اور مَنْ موصولہ ہے، اور یقیناً جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کیا وہ چیز نہایت بری ہے، یعنی بیچنے والے ہیں اپنے (نفسوں) یعنی اس کے آخرت کے حصہ کو (برا ہے) اس کا سیکھنا، اس لئے کہ اس سیکھنے نے ان کے لئے جہنم کو واجب کردیا اگر یہ لوگ اس عذاب کی حقیقت کو جان لیتے، جس کی طرف یہ جا رہے ہیں تو اس کو نہ سیکھتے، اور اگر یہ یہود نبی اور قرآن پر ایمان لے آتے اور ترک معصیت کرکے اللہ سے ڈرتے مثلاً (ترک) جادو کرکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بہترین ثواب ملتا، لَوْ ، کا جواب محذوف ہے اور وہ لَاثِیْبُوْا ہے جس پر لَنَثُوْبَۃٌ (بمعنی ثواب) دلالت کر رہا ہے اور وہ مبتداء ہے اور اس میں لام قسمیہ ہے، اس سے جو انہوں نے اپنے لئے خریدا اگر وہ اس بات کو جان لیتے کہ یہ بہتر ہے، تو جادو کو اجر وثواب پر ترجیح نہ دیتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَاتَّبَعُوْا، واؤ عاطفہ ہے، اِتَّبَعُوْا، (اِتِّبَاعٌ) (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب ہے انہوں نے اتباع کی وہ پیچھے پڑگئے، اس کا عطف نَبَذَ ، پر ہے، اِتَّبَعُوْا، کے اندر ضمیر جو فریق کی طرف راجع ہے وہ اس کا فاعل ہے، مَا، موصولہ اِتَّبعُوْا کا مفعول ہے، تتلوا الشیطین فعل فاعل سے مل کر جملہ ہو کر صلہ۔ سوال : تَتْلُوْا، مضارع کا صیغہ ہے جو کہ حال پر دلالت کرتا ہے حالانکہ نزول آیت کے وقت شیاطین تلاوت نہیں کرتے تھے، اس لئے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد شیاطین کے آسمانوں پر جانے پر پابندی لگ گئی تھی۔ جواب : مضارع کا صیغہ حکایت حال ماضیہ کے طور پر استعمال ہوا ہے گویا وہ معاملہ اس وقت نظروں کے سامنے ہو رہا ہے، اسی جواب کی طرف علامہ سیوطی نے تتلوا، کی تفسیر تَلَتْ سے کرکے اشارہ کیا ہے۔ قولہ : اَوْ کَانَتْ تَسْتَرِقُ السَّمْعَ الخ، اَوْ تنویع کے لئے ہے، اس کا عطف معنوی طور پر مِن السحر پر ہے، اور تَتْلُوْا کے تحت ہے اور یہ اختلاف کی طرف اشارہ ہے یعنی شیاطین لوگوں کو سحر پڑھ کر سنایا کرتے تھے، یا جن باتوں کو شیاطین آسمان پر جاکر چوری سے سن آیا کرتے تھے، ان کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ قولہ : علی عَھدِ سلیمان، ای فی عھد علیمان، علیٰ بمعنی فی اور یہ بھی احتمال ہے کہ تتلوا، بمعنی تَتَقَوَّلُ (افتراء کرنا) ہو تو پھر علیٰ اپنے حال پر رہے گا اس لئے کہ تَقَوَّلَ کا صلہ علیٰ آتا ہے اس صورت میں متعلق محذوف ہوگا، اس کی تقدیر عبارت اس طرح ہوگی ” وَاتَّبَعُوا ما تَتَقَوَّلُہُ الشیطٰینُ علی اللہ زَمَنَ ملک سلیمان “ اور مِنَ السحر، ما کا بیان ہے عائد محذوف ہوگا تقدیر یہ ہوگی تتلوہُ ۔ قولہ : لَمْ یَعْمَلِ السِّحْرَ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتایا ہے کہ محض تعلیم سحر کفر نہیں ہے بلکہ عمل بالسحر، کفر ہے۔ قولہ : وَیُعَلِّنُوْنَھُمْ مآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ ، یُعَلِّمُوْنَ ، محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ مَا موصولہ ہے اس کا عطف اَلسِّحْرَ ، پر ہے اور یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے، لہٰذا عطف الشئ علی نفسہٖ کا اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ قولہ : ای اُلھِمَاہُ ، یہ اُنْزِل کی تفسیر ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُنزِل سے وحی کے انزال کا طریقہ مراد نہیں ہے، جس سے عظمت معلوم ہو بلکہ مطلقاً سکھانا مراد ہے۔ قولہ : بِبَابِلَ ، باء بمعنی فی ہے، بابل، ایک عظیم الشان شہر کا نام ہے جو قدیم زمانہ میں دریائے فرات کی دونوں جانب واقع تھا فرات اس کے درمیان سے گزرتا تھا، آج بھی اس کے کھنڈرات موجود ہیں اس کا عرض البلد شمالی 23 درجہ 30 دقیقہ 14 ثانیہ اور طول البلد شرقی 44 درجہ 23 دقیقہ 40 ثانیہ ہے یہ طویل مدت تک سلطنت عراق کا پایہ تخت رہا ہے اور بخت نصر کے زمانہ تک بڑی شان و شوکت کا شہر تھا، 538 قبل مسیح کے بعد سے اس پر ایسی تباہی آئی کہ : ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کا خاتمہ ہوگیا بابل سحر و ساحری میں بہت مشہور ہے یہ عجمہ اور علم ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے اخفش نے کہا ہے کہ تانیث اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ (لغات القرآن) قولہ : ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ، یہ دو فرشتوں کے نام ہیں علمیت اور عجمہ ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔ بعض مفسرین نے دوسری قراءت کی بنا پر ان کو انسا کہا ہے مگر راجح اول ہے۔ قولہ : لامُ ابتداءٍ مُعَلِّقَۃٌ لِمَا قَبْلَھَا مِنَ العمل، لَمَن، میں لام ابتدائیہ ہے، یہ مبتداء پر داخل ہوتا ہے یا مضارع پر داخل ہوتا ہے لیکن جب ماضی پر داخل ہوتا ہے تو، قد، لفظاً معنًا ضروری ہوتا ہے، البتہ جو لام ابتداء کو لام قسم قرار دیتے ہیں ان کے یہاں لام ابتداء کا تصور نہیں ہے۔ (روح المعانی) لَمَن، میں لام ابتداء نے اپنے ماقبل عَلِمْوا، کو عمل سے روک دیا ہے، اس لئے کہ عمل کی صورت میں لام ابتداء کی صدارت باطل ہوجائے گی۔ قولہ : حَظَّھا، اس میں حذف، مضاف کی طرف اشارہ ہے حَظَّھْمُ ای حَظَّ اَنْفُسِھِمْ ۔ قولہ : اَنْ تَعَلَّمُوْہُ ، مفسر علام نے یہ جملہ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ مخصوص بالذم بتاویل مصدر ہو کر محذوف ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ، مَا بمعنی شیئًا ہونے کی وجہ سے نکرہ ہے، جس کی وجہ سے مخصوص بالذم واقع نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ مخصوص کا معرفہ ہونا ضروری ہوتا ہے، اس کا جواب دیدیا، کہ، مَا، شیئًا کے معنی میں ہو کر بئس کے اندر مستتر، ھُوَ ، ضمیر فاعل کی تمیز ہے اور مخصوص بالذم، اَنْ تَعَلِّمُوا، محذوف ہے قولہ : حَقِیقَۃَ مَا یَصِیرُوْنَ اِلَیْہِ الخ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : سابق میں، وَلَقَد عَلِمُوا، سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو علم ہے اور لو کانوا یعلمون سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو علم نہیں ہے، دونوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ جواب : یعنی اللہ کے عذاب کو جانتے ہیں، مگر حقیقت عذاب اور اس کی شدت کو نہیں جانتے، لہٰذا اب کوئی تنافی نہیں ہے اسی سوال کے جواب کے لئے مفسر علام نے حقیقۃ ما یصیرون کا اضافہ فرمایا۔ قولہ : مَا تَعَلَّمُوْہ، یہ لو کانوا یَعْلموان کا جواب محذوف ہے۔ قولہ : جَوَابُ لَوْ محذوف، یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : لَوْ کے جواب کا فعل ماضی ہونا ضروری ہے اور یہاں لَمَثُوْبَۃٌ جملہ اسمیہ جواب واقع ہو رہا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ جواب : لَوْ ، کا جواب لمثوبۃ نہیں ہے بلکہ جواب محذوف ہے اور وہ لَاثِیْبُوْا ہے اور اس حذف پر لَمَثُوْبَۃٌ دلالت کر رہا ہے۔ قولہ : لَمَا آثَرُوْہُ ، یہ لو کانوا یَعْلَمُوْنَ کا جواب محذوف ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) اللغۃ والبلاغۃ ھٰرُوتَ ومٰرُوتَ ” علمان اعجمیان بدلیل منع الصرف، ولو کانا من الھرت والمرت ای الکسر، کما زعم بعضھم لانصرفا، وقد نُسِحَتْ حولھا اساطیر طریفۃ یُرجع الیھا فی المطوّلات۔ تفسیر و تشریح بنی اسرائیل کی شیطان کی پیروی : وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ ، ذکر چل رہا ہے بنی اسرائیل کی قباحتوں کا، یہ بھی ان کے فرد جرم کی فہرست میں ایک اور فرد جرم کا اضافہ ہے یعنی یہود نے اللہ کی کتاب اور اس کے عہد کی تو کوئی پرواہ نہیں کہ البتہ شیطانی علم کے پیچھے لگ گئے، نہ صرف یہ کہ خود جادوٹونے میں لگ گئے، بلکہ یہ دعویٰ بھی کرنے لگے کہ سلیمان (نعوذ باللہ) اللہ کے پیغمبر نہیں تھے بلکہ ایک جادوگر تھے اور جادو کے زور سے حکومت کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی براءت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) عمل سحر نہیں کرتے تھے، اس لئے کہ عمل سحر کفر ہے، کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو گری کا سلسلہ بہت عام تھا، چاروں طرف اسی کا چرچا تھا، کہ بنی اسرائیل بھی اللہ کی کتاب تورات کو پس پشت ڈال کر جادو ٹونے اور تعویذ گنڈوں میں لگ گئے تھے، جس کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جادو کی کتابیں جمع کرکے اپنے تخت کے نیچے دفن کردیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد ان شیاطین اور جادوگروں نے ان کتابوں کو نکال کر نہ صرف لوگوں کو دکھایا بلکہ لوگوں کو یہ باور کرایا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قوت اور اقتدار کا راز ہی عمل سحر تھا اور اسی وجہ سے ان ظالموں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو سلسلہ انبیاء سے نکال کر جادوگر اور کافر قرار دیا اس آیت میں اللہ نے اسی کی تردید فرمائی ہے۔ (ابن کثیر) فن سحر میں یہود کی مہارت : فن سحر و کہانت میں یہود کی مہارت ایک تاریخی حقیقت ہے ان کے اکابر اور مشاہیر اس کا فخر کے ساتھ برابر ذکر کرتے آئے ہیں، یہود کو ساحری کا شوق ان کے قدیم تاریخ سے قطع نظر کرتے ہوئے خود رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی نہ صرف یہ کہ باقی تھا بلکہ معمول یہ بھی تھا، چناچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے مشرکوں کا ایک وفد مدینہ آیا اور ایک مشہور ساحر لبید بن عاصم یہودی سے ملا اور کہا کہ ہم نے محمد ﷺ پر جادو کرنے کی بہت کوشش کرلی مگر ہمیں کامیابی نصیب نہیں ہوئی، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ جادو میں مہارت تامہ رکھتے ہیں لہٰذا آپ ہمارا یہ کام کردیں اور جو چاہیں اجرت لیں چناچہ لبید بن عاصم یا اس کی لڑکپوں نے آپ ﷺ پر جادو کردیا، جس کی تفصیل حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا یہودی النسل پر وفیسر مار گو لیس جس کی اسلام دشمنی ضرب المثل کی حد تک پہنچی ہوئی تھی، اپنی انگریزی کی کتاب سیرت رسول میں معاصر یہود عرب کے سلسلہ میں لکھتا ہے، یہ لوگ فن سحر کے ماہر تھے اور بجائے میدان جنگ میں آنے کے سفلی عملیات کو ترجیح دیتے تھے۔ (ص : 189، تفسیر ماجدی) یہود میں سحر دو طرف سے پھیلا : خلاصہ یہ ہے کہ یہود اپنے دین اور کتاب کا علم چھوڑ کر علم سحر سیکھنے کے پیچھے پڑگئے اور سحر لوگوں میں دو طرف سے پھیلا، ایک تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں چونکہ جنات اور انسان ملے جلے رہتے تھے، تو انسانوں نے جنات سے علم سیکھا اور نسبت حضرت علیمان کی طرف کردی کہ ہم کو سحر ان ہی سے پہنچا ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت اسی سحر کی بدولت تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : ” مَا کَفَرَ سُلَیْمَانٌ یہ کافر کفر ہے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا۔ دوسرے ہاروت و ماروت کی طرف سے پھیلا، یہ دونوں فرشتے تھے جو شہر بابل میں بصورت انسان رہتے تھے، وہ علم سحر سے واقف تھے، جو کوئی سحر سیکھنے کا طالب ان کے پاس جاتا اول تو وہ اس کو منع کرتے کہ اس میں ایمان جانے کا خطرہ ہے اس پر بھی اگر وہ باز نہ آتا تو اس کو سکھا دیتے اللہ تعالیٰ کو ان کے ذریعہ بندوں کی آزمائش منظور تھی جیسا کہ خوبصورت انسانی شکل میں فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو آزمایا تھا۔ ہاروت و ماروت کے واقعہ کی تفصیل : احمد بن حنبل اور محمد بن حمید نے اپنی اپنی مسانید میں ذکر کیا ہے، کہ جب حق سبحانہ و تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو خلیفہ مقرر فرمایا، تو فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تیری تقدیس کرتے ہیں، اور آدم خاکی سے سوائے فساد اور خونریزی کے کچھ نہ ہوگا بارگاہ الہٰی سے حکم ہوا کہ دو فرشتے زمین پر جا کر بنی آدم کے اعمال کی نگرانی کریں۔ اور بیہقی نے بیان کیا ہے کہ جب ملائکہ نے دیکھا کہ آدمی گناہ کرتے ہیں تو تعجب سے کہا کہ کیسے جاہل اور نافہم ہیں ؟ پروردگار نے جواب دیا، اگر تم ان کی جگہ ہوتے اور ان کے جیسی خواہشیں تم میں ہوتیں، تو تم کو معلوم ہوجاتا، فرشتوں نے عرض کیا اے پروردگار بندہ کس طرح اپنے پروردگار کی نافرمانی کرسکتا ہے، اور ہم تو تیری تقدیس وتحمید کرتے ہیں ارشاد ہوا، اس کا امتحان ہونا چاہیے بحکم خداوندی تین فرشتے جو کہ عابد و زاہد اور نہایت متقی و پرہیزگار سمجھے جاتے تھے، منتخب کئے گئے، ان میں ایک کا نام ہاروت اور دوسرے کا نام ماروت تیسرے کا نام عزبائیل تھا، ان تینوں کو انسان جیسی خواہشیں اور ضرورتیں عطا کی گئیں، عزبائی یہ صورت حال دیکھ کر پروردگار کے حضور میں عرض کرنے لگے کہ مجھے آپ آسمان پر بلالیں میں اس امتحان کے لائق نہیں ہوں اور چالیس برس سجدہ میں پڑے رہے اور مارے حیا و شرم کے پھر کبھی سر نہ اٹھایا، مگر ہاروت و ماروت دونوں زمین پر آکر رہے، ان کو شرک و قتل اور شراب نوشی سے ممانعت کردی گئی، یہ دونوں فرشتے مقدموں کا تصفیہ کیا کرتے تھے، اور رات کو اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلے جایا کرتے تھے، ایک روز ایک نہایت ہی حسین و جمیل نوجوان دوشیزہ نے جس کا نام زیرہ تھا اور بعض کہتے ہیں کہ فارس کی شہزادی تھی ان کے پاس آکر اپنے شوہر کا جھگڑا پیش کیا، ان مذکورہ دونوں فرشتوں کے دل میں خواہش بشری بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے دامن وتقویٰ و پرہیزگاری ہاتھ سے جاتا رہا، ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا تیرے دل کا بھی وہی حال ہے جو میرے دل کا ہے، اس نے کہاں ہاں میرا بھی یہی حال ہے، ایک نہ کہا کیا ہم فیصلہ اس کے شوہر کے خلاف کردیں تاکہ زہرہ راضی ہوجائے ؟ تو دوسرے نے جواب دیا اللہ کا عذاب شدید ہے اس نے کہا وہ غفور و رحیم بھی تو ہے، چناچہ انہوں نے زہرہ سے تعلقات استوار کرنے شروع کر دئیے، زہرہ نے کہا یہ جب ممکن ہے جب تم میرے شوہر کو قتل کردو، تو ایک نے کہا اللہ کا عذاب سخت ہے دوسرے نے کہا اس کی رحمت بڑی وسیع ہے، غرضیکہ ان دونوں نے اس کے شوہر کو قتل کردیا تاکہ اپنے جذبات کو تسکین دیں زہرہ نے کہا میرا ایک بت ہے تم اس کو سجدہ کرو تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہو۔ دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ زہرہ نے کہا تم مجھے وہ دعاء (اسم اعظم) سکھا دو جسے پڑھ کر تم آسمان پر جاتے ہو زہرہ وہ دعاء سیکھ کر آسمان پر چلی گئی اور مسخ ہوگئی کہ یہ زہرہ وہی ہے جسے زہرہ ستارہ کہتے ہیں، مگر یہ قول ضعیف ہے ایک روایت میں یہ ہے کہ ہاروت و ماروت نے پہلے شراب پی اور زہرہ سے ہم صحبت ہوئے، ایک شخص نے ان کی اس حرکت کو دیکھ لیا، انہیں غیرت آئی، اس بیچارہ کو قتل کر ڈالا جب ہوش آیا اور اپنی خطا پر شرمندگی و ندامت ہوئی تو حضرت ادریس (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ ہماتے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعاء فرمائیں، حضرت ادریس (علیہ السلام) کی دعاء اور سفارش سے یہ حکم ہوا کہ سزا تو ضرور ملے گی مگر اس بات میں اختیار ہے کہ سزا دنیا کی قبول کریں یا آخرت کی، عذاب دنیا کو فانی اور کمتر سمجھ کر سرجھکا دیا اور عرض کیا جو حکم ہو حاضر ہیں، مگر خاتمہ بالخیر ہو، ان کے عذاب میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ ان کے بادلوں سے لٹکا دئیے گئے، اور بعض کہتے ہیں کہ الٹے لٹکا دئیے گئے اور لوہے کے گرزوں سے مارے جاتے ہیں۔ (خلاصہ اتفاسیر، تائب لکھنوی، ملخصا) سلیمان (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل : وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلَکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا، سلیمان (علیہ السلام) کا زمانہ 990 ق م، تا 930 ق م ہے، سلیمان بن داؤد (علیہم السلام) اسرائیلی سلسلہ کے ایک نامور پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ نامور حداد بھی ہوئے ہیں، شام اور فلسطین کے علاوہ آپ کی حدود حکومت جانب مشرق میں عراق میں دریائے فرات کے ساحل تک اور مغرب میں مصر تک وسیع تھیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کی عظمت و شوکت کے دوست و دشمن سب ہی معترف ہیں۔ بنی اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) کی رداء عصمت کو تار تار اور دامن بےداغ کو کفر و شرک کی گندگی سے داغدار کیا، بلکہ سلسلہ نبوت سے خارج کرکے ان کو ساحرو کاہن قرار دیا اور محمد ﷺ کی تصدیق کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا : دیکھو تو سہی یہ تو سلیمان کو سلسلہ نبوت میں شمار کرتے ہیں۔ اسلام نے اس کے برخلاف نہ صرف یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو معصوم اور پاکیزہ کردار قرار دیا ؛ بلکہ ان کی طرف سے صفائی پیش کرکے ان کے دامن پر بنی اسرائیل کے لگائے ہوئے داغ دھبوں کو دھوکر ان کی پاکیزہ سیرت اور بےداغ کردار کی شہادت بھی دی۔ یہودی قصص و حکایات اور مسیحی آثار و روایات کو چھوڑئیے خاص بائبل یعنی عہد عتیق کے صحائف جن پر یہود و نصاری کا ایمان ہے، اس مجموعہ میں آج تک صراحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے : جب سلیمان بوڑھا ہوا تو اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبود کی طرف مائل کیا اور اس کا دل اپنے خدا کی طرف کامل نہ تھا۔ (سلاطین 10، 6، 4: 11) یعنی محض غفلت یا بےتوجہی کی بنا پر عمل کوتاہی یا عصیان کے مرتکب نہیں ہوئے ؛ بلکہ صریح بدعقیدگی اور توحید کی طرف سے بےیقینی تھی، اور آگے ملاحظہ ہو : سواز بس کہ ان کے دل خداوند اسرائیل کے خدا سے برگشتہ ہوا اس لئے خداوند آسمان پر غضبناک ہوا کہ اس نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ ان اجنبی معبودوں کی پیروی نہ کرے، مگر اس نے خداوند کے حکم کو یاد نہ رکھا۔ (سلاطین 10، 9: 11) (معاذ اللہ) دیکھا آپ نے ! خدا کا پیغمبر اور بقول بنی اسرائیل و کفر میں مبتلا ! ! ! ؎ چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی دنیا ہزاروں سالوں تک ان ہی یہود یا نہ تحریفات اور افتراء ات کا شکار ہو کر اس موحد اعظم کو کافر و مشرک سمجھتی رہی، جب قرآن جو ہر زمانہ کے سچے پیغمبروں کی عزت و ناموس کا محافظ ہے، آیا اور آکر ببانگ دہل اعلان کیا کہ : سلیمان (علیہ السلام) کو (معاذ اللہ) کافر کہتے ہو، وہ تو کفر کے قریب بھی نہیں تھے، اس وقت قرآن کی صدائے حق صدائے صحراء ہو کر رہ گئی، جن کے کان تھے، انہوں نے گوش گوش سے سنا اور باقی دنیا خواب غفلت میں پڑی رہی، اسی طرح صدیاں گزر گئیں۔ قرآن کا اعجاز : جب تیرہ ساڑھے تیرہ صدیاں گزر گئیں، تو قدرت حق کا کرشمہ اور قرآن کا اعجاز دیکھئے کہ بائبل کے پرستاروں کے قلم سے محققانہ اور فاضلانہ کتابیں اور مضامین شائع ہوتے ہیں وہ بائبل کے الزاموں کی تائید و تصدیق نہیں کرتیں بلکہ قرآن کے جواب صفائی کی تصدیق و تائید کر رہی ہیں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا جو برطانوی کاوش و تحقیق کا لب لباب ہوتا ہے اسکے سب سے آخری ایڈیشن میں مقالہ زیر عنوان، سلیمان، نکال کر دیکھئے، آپ کو صاف لکھا ہوا ملے گا۔ سلیمان (علیہ السلام) خدائے واحد کے مخلص پرستار تھے۔ (جلد دوم، ص 952، طبع چہارم) (ماجدی) انسائیکلوپیڈیا ببلیکا، جو خاص مسیحی فضلا کی تحقیق و تدقیق کا ثمرہ ہے، میں لکھا ہے : بائبل کی وہ آیتیں جن میں سلیمان (علیہ السلام) کی طرف کفر و شرک کی نسبت کی گئی ہے، وہ الحاقی ہیں۔ (بعد میں اضافہ شدہ ہیں) مفسرابن جریر طبری نے آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے اپنی تفسیر میں ابن اسحاق کے حوالہ سے یہ روایت درج کی ہے کہ آیت بالا وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ یہود کے گندے عقائد اور افتراء کے رد میں نازل ہوئی ہے، جو آپس میں کہتے تھے۔ قال بعض احبارِ الیھود الا تعجبون من محمد ﷺ یزعمُ ابن داؤد کان نبیاً واللہ ما کان اِلّا ساحرًا فاَنزلَ اللہ ذٰلک من قولھم ومَا کَفَرَ سلیمان الخ (تفسیر ماجدی ملخصًا) ۔ اس نئے مدعی نبوت کی نادانی تو دیکھو کہ ابن داؤد کو نبی اللہ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ امام جصاص (رح) تعالیٰ نے مذکورہ حوالہ کے علاوہ ابن عباس اور سعید بن جبیر اور قتادہ تابعی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ بنی اسرائیل کی فرد جرم کے بیان کرنے کا سلسلہ چل رہا ہے، خود کفر کرنا اور نسبت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جانب کرنا یہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ مذکورہ آیات میں بنی اسرائیل (یہود) کی مذمت بیان کی ہے، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر الزام کی صفائی پیش کی گئی ہے، قرآن کریم نے کس کس طرح دوسری امتوں کے انبیاء کی طرف سے صفائی پیش کی ہے، انہیں کے امتیوں کے لگائے ہوئے داغ دھبے ان کی پاک سیرتوں سے دور کئے ہیں، یہی ناشکر گزار اور احسان فراموش قومیں قرآن اور صاحب قرآن کی دشمنی پر تلی ہوئی ہیں۔ سحر کی حقیقت : سحر کی حقیقت و ماہیت اور اقسام پر بعض قدیم مفسرین نے بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے، خصوصاً ابوبکر جصاص رازی، اور امام فخر الدین اور ابن کثیر نے، اور زمانہ قریب کے مفسرین میں سے طنطاوی نے، یہاں مختصراً اتنا جان لینا کافی ہے کہ سحر نام ہے اسباب خفیہ کا مثلاً تاثیر کواکب، استعانت شیاطین الجن وغیرہ سے کام لے کر تصریفاتِ عجیبہ کرنے کا، خاص خاص مشقوں اور ریاضتوں سے یہ فن حاصل ہوجاتا ہے، مشرک اور جاہل قوموں میں اس کا رواج پہلے ہی سے بہت تھا۔ سحر و کہانت تاریخ بنی اسرائیل کی ایک مسلم اور ناقابل انکار چیز ہے، خود عہد عتیق کے صحیفوں میں اس کی شہادت موجود ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے بیٹی کو آگ کے درمیان گزارا اور فال گری اور جادو گری کی، ان باعثوں سے خداوند بنی اسرائیل سے غصہ ہوا اور اپنی نظر سے انہیں گرا کر دور کردیا “۔ (2 سلاطین 21، 17: 18) تاریخ قدیم کے جاننے والوں پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ عہد رسالت اور طلوع اسلام سے صدیوں قبل قوم بنی اسرائیل دو مستقل حصوں میں بٹ چکی تھی، ایک حصہ وہ تھا جس نے بخت نصر کے ہاتھوں جلاوطنی یا جبری ہجرت کے بعد کلدانیہ یا بابل (موجودہ عراق) میں بودو باش اختیار کرلی تھی، دوسرا حصہ وہ جو ایک مدت دراز کے بعد بابل سے واپس آکر فلسطین میں مقیم ہوگیا تھا، آیت اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے کہ عہد رسالت کے معاصر، یہود عرب فلسطین اور بابلی دونوں قسموں کے رذائل و خبائث کے جامع ہیں، تاریخ قدیم کے یہ وہ نازک اور دقیق حقائق ہیں، جو عام طور سے اچھے اچھے اہل علم کے علم میں بھی نہیں، یہ دقیق حقائق تاریخ کے کسی مؤرخ اعظم کی زبان سے نہیں بلکہ (فداہ ابی وامی) عرب کے ایک امی کی زبان سے ادا کرائے جا رہے ہیں۔ وَمَآ اَنْزِلَ یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ انزال و تنزیل کا اطلاق صرف احکام تشریعی ہی کے بارے میں نہیں ہوتا، امور تکوینی میں بھی ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ تکوینیات کے سلسلہ میں جتنے بھی کام ہوتے ہیں خواہ اچھے ہوں یا برے، ان کے لئے واسطہ اور ذریعہ فرشتے ہی ہوتے ہیں اور یہ بات ان کی معصومیت کے ذرا بھی منافی نہیں مَا اَنْزِلَ میں ما موصولہ الذی کے معنی میں ہے، بعض مفسرین نے ما کو نافیہ قرار دیکر مَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ پر عطف کیا ہے، لیکن محققین نے اس کو قبول نہیں کیا ہے، اللہ کی طرف سے صرف کتاب حکمت، وحی والہام ہی نازل نہیں ہوتے، قحط، بیماری، یا موت کا نزول بحیثیت مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، قرآنی محاورہ میں انزال کا لفظ رزق، پانی، لباس، لوہا، انعام کے سلسلہ میں صراحت کے ساتھ آیا ہے حتی کہ رجز (عذاب) کے لئے بھی یہی لفظ صراحۃ مستعمل ہے، اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰی اَھْلِ ھٰذِہٖ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ ۔ (عنکبوت) ۔ لہٰذا انزال سحر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا اس کی قدوسیت کے منافی نہیں ہے، جن لوگوں نے ایسا سمجھا برا، طاعت و معصیت وجود پذیر ہوتا ہے، سب کا وجود تکوینی حیثیت سے مسبب الاسباب ہی کے نازل کرنے سے ہوتا ہے، اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ سے یہ غلط فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ ہاروت و ماروت کی جانب نزول کی نسبت کرنے سے ان کا اکرام یا تعظیم مقصود ہے، اس لئے کہ اس انزال و نزول سے انبیاء و رسل والانزول وانزال مراد نہیں ہے، جس میں عظمت و اکرام مقصود ہوتا ہے، اسی شبہ کو دور کرنے کے لئے مفسر علام نے وَاُلْھِمَاہُ کے لفظ کا اضافہ فرمایا ہے، ایک دوسری قراءت میں ملِکَین لام کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ قراءت بھی صحابہ وتابعین ہی کے زمانہ سے چلی آرہی ہے، ابن عباس، ضحاک، حسن بصری ؓ کی روایت ہے۔ چناچہ اسی دوسری قراءت کی بناء پر بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ ہاروت و ماروت اصلاً فرشتے نہ تھے، بشر تھے، مراد بادشاہ یا شہزادے، ان ہی کو دوسری روایتوں میں مجازاً مَلک (فرشتہ) کہا گیا ہے، اس لئے کہ وہ صفات ملکوتی کے حامل تھے (قیل رجلان سَمّیا مَلَکَینِ باعتبارِ صَلاحِھمَا) (بیضاوی) لیکن جنہور کا قول فرشتہ ہونے ہی کا ہے۔ نظام تکوینی اور نزول سحر : نظام تکوینی میں فرشتوں کے اوپر حقیقت سحر کا نزول ان کی نزاہت اور معصومیت کے منافی نہیں ہے، خصوصًا جبکہ نزول کا مقصد اصلاح خلق ہو یعنی لوگوں کو سحر و کہانت سے بچانا اور ان کی حقیقت سے واقف کرانا نہ کہ اس پر آمادہ کرنا۔ مجرموں کو پکڑنے یا جرائم کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے دیکھا گیا ہے کہ انسپکٹر اور خفیہ پولیس کے افراد جرائم کی عملی واقفیت حاصل کرنے کے لئے وہ سب طریقے استعمال کرتے ہیں جو ایک مجرم اختیار کرسکتا ہے، مثلاً رشوت خور افسر کو پکڑنے کے لئے نشان زدہ سکے یا نوٹ رشوت میں افسر کو دیتے ہیں تاکہ رشوت خور کو رنگے ہاتھوں پکڑا جائے، چور کو پکڑنے کے لئے چوروں کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں، ظاہر ہے کہ ان کا مقصد خود جرم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی مکمل واقفیت سے مجرموں کو جرم سے باز رکھنا ہوتا ہے، نہ کہ رشوت لینے کے راستے اور طریقے بتانا۔ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ : یہ بابل میں مقیم دو فرشتوں کے نام ہیں، جو اپنی اصلیت کے اعتبار سے فرشتے ہی تھے، لیکن جب ایک خاص مقصد اور غرض کے لئے انسانوں کے درمیان رہنے بسنے کے لئے بھیجے گئے، تو ظاہر ہے کہ ان کی شکل و شباہت رنگ و روپ، جسم و قالب انسانوں کا سا ہوگا، اور ان کی عادتیں اور جذبات بھی بالکل انسانوں ہی جیسے ہوں گے، بعض اہل تفسیر نے یہاں ایک اسرائیلی قصہ عراق کی مشہور رقاصہ زہرہ کا بیان کیا، جس کی تفصیل گزرچکی ہے، ول تو آیت کی تفسیر اس قصہ پر موقوف نہیں، دوسرے خود محدثین و محققین مفسرین نے اس کی صحت سے بالکل انکار کیا ہے، اور صاف لکھ دیا کہ یہ قصہ گھڑا ہوا، لغو اور مردود ہے، اس گروہ میں قاضی عیاض مالکی، امام رازی، شہاب الدین عراقی، وغیرہ شامل ہیں، اور ابن کثیر نے تو بڑی لمبی بحث کے بعد یہ کہہ دیا ہے کہ اگرچہ یہ قصہ بڑے بڑے تابعین نے نقل کیا ہے لیکن اس کی سند حدیث صحیح سے ذرا بھی نہیں ملتی، بلکہ اسرائیلیات پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر بالفرض صحیح ہو بھی تو جب کسی خاص حکمت و مصلحت سے کسی فرشتے کو پیکر انسانی اور جذبات بشری دئیے گئے ہوں تو اگر کسی وقت وہ ملکوتی الاصل بشری جذبات سے مغلوب بھی ہوجائے تو اس میں نہ تو شرعی استحالہ ہے اور نہ عقلی۔ یُعَلِّمَانِ تعلیم کے متعارف مفہوم کی بناء پر اس لفظ سے یہ شبہ نہ ہو کہ ملائکہ سحر کا درس دیا کرتے تھے، اسلئے کہ تعلیم کے معنی سکھانے اور درس دینے کے علاوہ اعلام یعنی جتلانے اور بتلانے، آگاہ کرنے کے بھی آتے ہیں وَالتعلیم رُبَّما یُسْتعمل فی معنی الاعلام (راغب) ۔ چناچہ ماہرین قرآن کی ایک جماعت نے یہی معنی مراد لئے ہیں، (والتعلیم بمعنی اعلام) (عالم) وقالت طائفۃ ھو معنا بمعنی یُعْلِمَان بالتخفیف فھو من باب الاعلام (بحر) اور ایک قراءت بھی مصدر اعلام کے ساتھ منقول ہے (وَقَرأ طلحۃ بن مصرف یُعلِمان بالتخفیف مِنَ الاِعلام۔ (روح) سحر اور معجزے میں فرق : جس طرح انبیائ (علیہم السلام) کے معجزات یا اولیائ اللہ کی کرامات سے ایسے واقعات مشاہدے میں آتے ہیں جو عادۃً نہیں ہوسکتے، اسی لئے ان کو خرق عادت کہا جاتا ہے، بظاہر سحر اور جادو سے بھی ایسے ہی آثار مشاہدے میں آتے ہیں، اس لئے بعض ناواقف کاروں کو ان دونوں میں التباس بھی ہوجاتا ہے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں جہلاء معجزہ اور جادو میں فرق نہیں کر پاتے تھے اور دونوں کو ایک سمجھنے کی وجہ سے ساحروں اور جادو گروں کی بھی ویسی عزت و توقیر کرتے تھے جیسی کہ انبیاء (علیہم السلام) کی، معجزے اور جادو کے فرق کو ہی واضح کرنے کے لئے ہاروت و ماروت کو بابل میں بھیجا گیا تھا۔ یہ فرق ایک تو حقیقت کے اعتبار سے ہے اور ایک ظاہری آثار کے اعتبار سے، حقیقت کا فرق تو یہ ہے کہ جادو سے جو چیزیں مشاہدے میں آتی ہیں وہ دائرہ اسباب سے خارج نہیں ہوتیں، فرق صرف اسباب کے ظہور و خفا کا ہے، جہاں اسباب ظاہر ہوتے ہیں وہ آثار ان اسباب کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور کوئی تعجب کی چیز نہیں سمجھی جاتی لیکن جہاں اسباب مخفی ہوں تو وہ تعجب خیز چیز ہوتی ہے اور عوام اسباب کو نہ جاننے کی وجہ سے اس کو خرق عادت سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ وہ درحقیقت دیگر تمام عادی امور کی طرف کسی جن یا شیطان یا کسی مخفی سبب کے اثر سے ہوتے ہیں، اگر ایک خط مشرق بعید سے آج ہی کا لکھا ہوا اچانک سامنے آگرے تو دیکھنے والے اس کو خرق عادت کہیں گے، حالانکہ جنات و شیاطین کو ایسے اعمال و افعال کی قوت دی گئی ہے۔ اگر ان کا ذریعہ معلوم ہو تو پھر خرق عادت نہیں رہے گا، ریڈیو، ٹیلی ویژن، فیکس کے اگر اسباب معلوم نہ ہوں تو یہ خرق عادت ہوں گے، اور جب ان کے اسباب کا پتہ چل گیا تو اب کوئی حیرت و تعجب کی بات معلوم نہیں ہوتی، دواؤں کی حیرت انگیز تاثیر، عمل تنویم، مقناطیسی کشش، مسمر یزم، تاثیر کو اکب اگر ان کے اسباب معلوم نہ ہوں تو یہی چیزیں خرق عادت معلوم ہوں گی، اور جب ان کے اسباب معلوم ہوجائیں تو یہ چیزیں خرق عادت نہ رہیں گے۔ معجزہ : بخلاف معجزہ کے کہ وہ بلاواسطہ حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے اس میں اسباب طبعیہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے آتش نمرود کو حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈی ہوجا، مگر ٹھنڈی اتنی کہ ٹھنڈک سے تکلیف نہ ہو۔ آج بھی بعض لوگ بدن پر دوائیں استعمال کرکے آگ پر چل کر کرشمہ دکھاتے ہیں وہ معجزہ نہیں بلکہ دواؤں کا اثر ہوتا ہے، اور دواؤں کے مخفی ہونے کی وجہ سے لوگوں کو خرق عادت کا دھوکہ ہوتا ہے، یہ بات کہ معجزہ کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے خود قرآن عزیز کی صراحت سے ثابت ہے، ارشاد فرمایا : وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَ اللہَ رَمٰی (کنکریوں کی مٹھی جو آپ نے پھینکی در حقیقت آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی) معجزہ اور سحر کی حقیقت کا مذکورہ فرق کہ معجزہ بالاواسطہ اسباب طبیعہ براہ راست حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے اور جادو اسباب طبعیہ خفیہ کا اثر ہوتا ہے، حقیقت سمجھنے کے لئے تو کافر ہے مگر عوام الناس کی نظر میں نتیجہ اور انجام کے اعتبار سے دونوں یکساں ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ عوام کی شناخت کے لئے بھی حق تعالیٰ نے کئی فرق ظاہر فرمائے ہیں۔ سحر کی وجہ سے انقلاب ماہیت ہوتا ہے یا نہیں ؟ امام راغب، ابوبکر جصاص انکار کرتے ہیں، معتزلہ کا بھی یہی خیال ہے مگر جمہور علمائ کی تحقیق یہ ہے کہ انقلاب اعیان میں نہ عقلی امتناع ہے اور نہ شرعی مثلاً جسم حیوانی پتھر بن جائے، یا ایک نوع سے دوسری نوع تبدیل ہوجائے، قرآن میں فرعونی ساحروں کے سحر کو جو تخیل قرار دیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر سحر تخیل ہے اور بعض حضرات نے سحر کے ذریعہ انقلاب حقیقت کے جواز پر حضرت کعب احبار کی اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے، جو مؤطا امام مالک میں بروایت قعقعہ منقول ہے، لولا کلمات، اقولھن لجعلنی الیھود حمارًا (اگر یہ چند کلمات نہ ہوتے جن کو میں پابندی سے پڑھتا ہوں تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے) گدھا بیوقوف کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر بلا ضرورت حقیقت کو چھوڑ کر مجاز مراد لینا صحیح نہیں ہے، وہ کلمات یہ ہیں : اعوذ باللہ العظیم الذی لیس شئ اعظم منہ وبکلمات اللہ التامات التی لا یجاوزھنّ برٌ ولا فاجر وباسمائ اللہ الحسنیٰ کلھا ما علمت منھا وما لم اَعْلم من شر ما خلق وبرء وذرء۔ اخرجہ فی الموطأ باب التعوذ عند النوم اور ل یہ کہ معجزہ یا کرامت ایسے حضرات سے ظاہر ہوتی ہے جن کا تقویٰ ، طہارت، پاکیزگی اخلاق و اعمال کا سب مشاہدہ کرتے ہیں، اس کے برعکس جادو کا اثر صرف ایسے لوگوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے جو گندے ناپاک اور اللہ اور اس کی عبادت سے دور رہتے ہیں، یہ چیزیں ہر انسان آنکھوں سے دیکھ کر مجزہ اور سحر میں فرق کو پہچان سکتا ہے۔ کیا سحر کا اثر انبیاء (علیہم السلام) پر ہوسکتا ہے ؟ سحر کا اثر انبیاء پر بھی ہوسکتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ سحر دراصل اسباب طبعیہ ہی کا اثر ہوتا ہے، انبیاء (علیہم السلام) اسباب طبعیہ کے اثر سے متاثرہ ہوتے ہیں، یہ تاثیر شان نبوت کے خلاف نہیں، جیسے ان کا بھوک پیاس سے متاثر ہونا، بیماری میں مبتلا ہونا اور شفا پانا ظاہری اسباب سے سب جانتے ہیں، اسی طرح جادو کے باطنی اسباب سے بھی انبیاء (علیہم السلام) متاثر ہوسکتے ہیں اور متاثر ہونا نبوت کے منافی نہیں رسول اللہ ﷺ پر یہودی لبید بن عاصم یا اسکی لڑکیوں کا سحر کرنا اور آپ ﷺ کا اس سے متاثر ہونا اور بذریعہ وحی اس جادو کا پتہ لگنا اور ازالہ کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سحر سے متاثر ہونا خود قرآن میں مذکور ہے، آیات یُخَیَّلُ اِلِیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تسْعٰی اور فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْیفَۃَ مُّوْسٰی موسیٰ (علیہ السلام) پر خوف طاری ہونا اسی جادو کا اثر تھا۔ (معارف القرآن مخلصا) سحر کے احکام : قرآن و سنت میں جس سحر کو کفر کہا گیا ہے وہ کفر اعتقادی یا کم از کم کفر عملی سے خالی نہیں ہوتا، اگر شیاطین کو راضی کرنے کے لئے کچھ اقوال یا عمال کفر و شرک کے اختیار کئے تو کفر حقیقی اعتقادی ہوگا اور اگر کفر و شرک کے اقوال و افعال سے بچ بھی گیا مگر کہ یہ سحر کفر حقیقی اعتقادی یا کفر عملی سے خالی نہیں ہوتا۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ سحر کفر اعتقادی یا عملی سے خالی نہیں ہوتا تو اس کا سیکھنا اور سکھانا بھی حرام ہوا، اس پر عمل کرنا بھی حرام ہوا، البتہ مسلمانوں سے دفع ضرر کے لئے بقدر ضرورت سیکھا جائے تو بعض فقہاء نے اجازت دی ہے۔ (شامی، عالمگیری) تعویذ گنڈے وغیرہ جو عامل کرتے ہیں ان میں بھی اگر جنات و شیاطین سے استمداد ہو تو حرام ہے، اور اگر الفاظ مشتبہ ہوں معنی معلوم نہ ہوں اور شیاطین اور بتوں سے استمداد کا احتمال ہو تو بھی حرام ہے۔ اگر محض مباح اور جائز امور سے کام لیا جائے تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اس کو کسی ناجائز مقصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ اگر قرآن و حدیث کے کلمات ہی سے کام لیا جائے مگر ناجائز مقصد کے لئے استعمال کریں تو وہ بھی جائز نہیں، مثلاً کسی کو ناحق ضرر پہچانے کے لئے تعویذ کیا جائے یا وظیفہ پڑھا جائے، اگرچہ وظیفہ اسماء الہٰیہ یا آیات قرانیہ ہی کا ہو حرام ہے، (معارف)
Ayahs 2:104–105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے اہل ایمان (گفتگو کے وقت پیغمبر خدا ﷺ سے) راعنا نہ کہا کرو اُنْظُرْنا کہا کرو اور خوب سن رکھو اور کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (و برکت) نازل ہو اور خدا تو جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کیساتھ خاص کرلیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

آیات نمبر 104 تا 108 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم نبی کو راعنا نہ کہا کرو (رَاعِنَا) مَرَاعَاۃٌ سے امر کا صیغہ ہے (صحابہ ؓ آپ ﷺ سے یہ لفظ کہا کرتے تھے، اور یہ (لفظ) یہود کی زبان میں گالی ہے، رَعونَۃ سے مشتق ہے، یہود اس سے خوش ہوتے تھے، اور خود بھی اس کلمے سے (آپ ﷺ کو) خطاب کرتے تھے، مومنوں کو اس (کلمے کے کہنے) سے منع کردیا گیا، اور اس کے بجائے انظرنا کہا کرو، یعنی ہمارا خیال رکھئے، اور توجہ سے سنا کرو جس بات کا حکم دیا جائے عمل کی نیت سے اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے، تکلیف دہ اور وہ آگ ہے، یہ لوگ جنہوں نے حسد کی وجہ سے (دعوت حق قبول کرنے سے) انکار کردیا، اہل کتاب ہوں یا مشرکین عرب اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سے کوئی خیر (مثلاً ) وحی نازل ہو، (ولا المشرکین کا عچف) اھل الکتاب پر ہے، اور مِن بیانیہ ہے۔ (مِن خیرٍ ) میں مِن زائدہ ہے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت (یعنی) نبوت کے لئے خاص کرلیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے، اور جب کفار نے نسخ میں طعن کیا اور کہا کہ محمد اپنے اصحاب کو آج ایک بات کا حکم دیتے ہیں تو دوسرے دن اس سے منع کردیتے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی، ہم جس آیت کو منسوخ کردیں یعنی اس کے حکم کو زائل کردیں ما شرطیہ ہے، یا تو مع لفظ کے (یعنی تلاوت اور حکم دونوں کو) یا بغیر لفظ کے (صرف حکم کو) اور ایک قراءت میں نُنْسِخُ ، اَنْسَخَ سے نون کے ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی تم کو یا جبرئیل کو اس نسخ کا حکم دیتے ہیں، یا اس کو مؤخر کردیں تو ہم اس کے حکم کو زائل (منسوخ) نہیں کرتے، اور اس کی تلاوت اٹھا لیتے ہیں یا اس کو لوح محفوظ میں مؤخر (موقوف) کردیتے ہیں، اور ایک قراءت میں بغیر ہمزہ کے ہے (نُنْسِھَا) نسیان سے مشتق ہے، اور اس کو ہم آپ کے قلب سے مٹا دیتے ہیں، اور جواب شرط، نَأتِ بخیر مِنْھَا ہے تو ہم اس سے بہتر لاتے ہیں، (یعنی) جو بندوں کے لئے (عملاً ) سہولت کے اعتبار سے یا کثرت اجر کے اعتبار سے زیادہ نافع ہو یا کلیف و اجر میں اسی کے برابر ہو، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی میں سے نسخ و تبدیل بھی ہے، اور استفہام تقریر کے لئے ہے کیا تم نہیں جانتے کہ زمین و آسمان کی فرمانروائی اللہ ہی کے لئے ہے ان میں جو (تصرف) چاہتا کرتا ہے، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی مولا ہے جو تمہاری حفاظت کرے اور نہ مددگار، جو تم سے عذاب کو روک سکے اگر تمہارے اوپر آئے (مِن غیرہٖ ) میں من زائدہ ہے، اور جب اہل مکہ نے آپ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ (پہاڑوں کو ہٹا کر) مکہ میں وسعت کردو، اور (کوہ) صفا کو سونے کا بنادو، تو یہ آیت نازل ہوئی تو کیا تم اپنے رسول سے ایسے ہی سوال کرنا چاہتے ہو جیسے ماسبق میں موسیٰ (علیہ السلام) سے کئے جا چکے ہیں یعنی ان کی قوم نے ان سے سوال کئے، مثلاً ان کا یہ سوال کہ ہم کو اللہ کا بچشم سردیدار کرا دو وغیرہ (سنو) سو جس نے ایمان کو کفر سے بدلا یعنی ایمان چھوڑ کر کفر اختیار کیا، واضح آیتوں میں غور و فکر کو ترک کرکے، اور ان آیات کے علاوہ کی جستجو میں لگا، تو وہ راہ راست سے بھٹک گیا، یعنی راہ حق سے خطا کر گیا، اور سَوَاء دراصل وسط شئ کو کہتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا، راعِم مُرَاعَاۃٌ (مفاعلۃ) سے امر واحد مذکرحاضرکا صیغہ ہے، نَا ضمیر مفعول ہے، ہمارا خیال رکھئے، ہماری رعایت کیجئے، عبرانی زبان میں راعن بیوقوف کو کہتے ہیں، یہ رعونت سے مشتق ہے جس کے معنی حمق کے ہیں، الف ندا کا ہے، اے بےوقوف، راعی چروا ہے کو بھی کہتے ہیں، یہود تحقیر و استہزاء کے طور پر زبان دبا کر جب رَاعِنَا بولتے تھے تو رَاعِیْنَا ہوجاتا تھا، جس کے معنی ہیں ہمارا چرواہا۔ قولہ : اُنْظُرْ اِلَیْنَا مفسر علام نے انظرنا کی تفسیر انظر اِلَینَا سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ کلام حذف کے ساتھ ہے اس سے اس اعتراض کا جواب بھی ہوگیا کہ انظر لازم ہے اور یہاں متعدی استعمال ہوا ہے، اس لئے کہ نَا اس کا مفعول ذکر کیا گیا ہے، اور ان لوگوں پر بھی رد ہوگیا جو انظرنا کو انتظرنا کے معنی میں لیتے ہیں۔ (ترویح الارواح) قولہ : مَا تُؤْمَرُوْنَ بہٖ یہ حذف مفعول کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : مَا یَوَدُّ ، مَا نافیہ ہے، یَوَدُّ ، مَوَدَّۃٌ سے جمع مذکر غائب مجزوم، آرزو کریں گے، خواہش کریں گے۔ قولہ : من العرب من العرب کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو فع کرنا ہے۔ اعتراض : اہل الکتاب بھی مشرک تھے اس پر ولا المشرکین کا عطف کیا، یہ عطف الشئ علی نفسہ ہے۔ جواب : مشرکین سے غیر اہل کتاب مشرکین مراد ہیں جو کہ عرب ہیں۔ قولہ : اَنْ یُنَزَّلَ یہ یَوَدُّ کا مفعول ہے۔ قولہ : مَا شرطیہ مَا ننسَخْ کا مفعول مقدم ہے اور شرطیہ ہے نہ کہ موصولہ کہ اس کے صلہ میں ضمیر کی ضرورت ہو۔ قولہ : نُزِلْ حُکْمھَا یہ مِن آیۃٍ کی صفت ہے۔ قولہ : اِمَّا مَعَ لَفْظِھَا اَوْلَا یعنی کبھی صرف حکم منسوخ ہوتا ہے مگر تلاوت باقی رہتی ہے اور کبھی حکم اور تلاوت دونوں منسوخ کردی جاتی ہیں۔ قولہ : او جبرئیل جبرئیل کا عطف نَاْمُرُکَ کے کاف پر ہے، یعنی ہم نسخ کا حکم آپ ﷺ کو یا جبرئیل (علیہ السلام) کو کرتے ہیں۔ (ترویح الارواح) قولہ : نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ ، نَنْسَخْ جمع متکلم مضارع مجزوم (ف) نَسْخًا مٹانا، زائل کرنا۔ قولہ : وفی قراء ۃِ ، نُنْسِخُ باب (افعال) سے مضارع جمع متکلم، اس صورت میں نُنسِخُ متعدی ہوگا یعنی ہم مٹانے کا یا زائل کرنے کا حکم کرتے ہیں، مفسر علام نے نَامُرُکَ او جبرئیل مقدر مان کر، اسی قراءت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : نُنْسِھَا یہ اِنسَاءٌ (افعال) سے جمع متکلم مضارع ھَا مفعول بہ، اصل میں نُنْسِھَا ہم اس کو فراموش کرا دیتے ہیں قولہ : وفی قراءۃ بلاھمزٍ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسر علام کے سامنے قرآن کریم کا جو نسخہ ہے وہ نُنْسَأھَا، مع المہزۃ والا ہے، اسی وجہ سے فرمایا بلاھمز، ہمارے سامنے جو نسخہ ہے اور یہاں ہمارے اطراف میں یہی نسخہ رائج ہے، وہ بلا ہمزہ والا ہی ہے، نُنْسَأھَا یہ نَسْاءٌ سے ماخوذ ہے، اس کے معنی ہیں مؤخر کرنا، بولا جاتا ہے نَسَأَ اللہُ فِیْ اَجَلہٖ اللہ نے اس کی عمر مؤخر کردی، یعنی عمر بڑھا دی، یہ ہمزہ والی قراءت کی تفسیر ہے۔ (لغات القرآن) قولہ : او نُنْسِکَھَا اگر نُنْسِھَا نسیان سے ہو تو متعدی بیک مفعول ہوگا، یعنی ہم اس کو بھول جاتے ہیں اور اگر اِنْسَاءٌ سے ماخوذ ہو تو متعدی بدو مفعول ہوگا، اس لئے کہ انساء متعدی بدو مفعل ہے، ایک مفعول، نُنْسِکَھَا میں ضمیر خطاب کاف ہے، اور دوسرا مفعول ہا ضمیر ہے جو آیت کی طرف راجع ہے، ہم تم کو وہ آیت بھلا دیتے ہیں، مفسر علام نے وَنَمْحُھَا مِنْ قَلْبِکَ کا اضافہ کرکے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فائدہ : اگر مفسر علام فی قراء ۃٍ بلاھمزٍ کے بجائے وفی قراءۃ بِضَمِّ النون والسِّین کہتے تو مراد زیادہ واضح ہوتی، اس لئے کہ مفسر علام کی عبارت میں ایک دوسری قراءت کا بھی احتمال ہے جو فاسد ہے، اور وہ نَنْسَھَا بفتح النون والسین ہے، یہ صورت لفظاً اور معنی دونوں طرح فاسد ہے، لفظا تو اس لئے کہ یہ قراءت منقول نہیں، معنًا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے صدور نسیان کا مقتضی ہے۔ قولہ : مِنَ النِّسْیَانِ بہتر ہوتا کہ من الانساء کہتے، اس لئے کہ رباعی کا مصدر جو کہ زیر بحث ہے اِنْسَاءٌ ہے نہ کہ نسیان۔ (جمل) تفسیر و تشریح شان نزول : لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا اے ایمان والو ! تم رَاعِنَا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو، رَاعِنَا کے معنی ہیں ہمارا خیال رکھئے، جب متکلم کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کے ذریعہ متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر بولتے جس کی وجہ سے اس کے معنی تبدیل ہوجاتے تھے، اس سے وہ اپنے جذبہ عناد کی تسکین کرتے، مثلاً راعِنَا کو ذرا کھینچ کر بولتے تو رَاعِیْنَا ہوجاتا، جس کے معنی ہیں ہمارا چرواہا، یا رَاعِنٌ حماقت اور بےوقوفی کو بھی کہتے ہیں، یہ رعونۃ سے مشتق ہے اور الف اس میں اشباع کا ہے، اس کے علاوہ یہود کی زبان میں راعِنَا گالی کا کلمہ بھی تھا، جیسا کہ یہود السلام علیکم کی بجائے السام علیکم (تم پر موت ہو) کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے مسلمانو ! تم یہ کلمہ نہ کہا کرو، بلکہ ابتداء ہی سے بغور سنتے رہا کرو تاکہ اس کلمہ کے کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ مذکورہ واقعہ بعض روایتوں میں کچھ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ منقول ہوا ہے، وَاَخْرَجَ ابو نُعَیم فی الدلالئل عن ابن عباس ؓ قال : ابو نعیم نے ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رَاعِنَا یہود کی زبان میں قبیح قسم کی گالی تھی، اور یہود اس لفظ کا استعمال آپ ﷺ کی شان میں کیا کرتے تھے، جب صحابہ کرام ؓ نے یہ لفظ سنا تو وہ بھی کلمہ تعظیم سمجھ کر آپ ﷺ کی شان میں اس کلمہ کا استعمال کرنے لگے، اب تک تو یہود اس کلمہ کا استعمال خفیہ طور پر کرتے تھے مگر جب یہود نے دیکھا کہ مسلمان بھی اس کلمہ کو استعمال کرتے ہیں تو یہود نے اس کا استعمال آپ ﷺ کی شان میں اعلانیہ کرنا شروع کردیا، اور اس کلمہ کو استعمال کرکے آپس میں خوب ہنستے، سعد بن معاذ ؓ چونکہ یہود کی زبان سمجھتے تھے جب سعد بن معاذ ؓ نے یہ کلمہ یہودیوں سے آپ ﷺ کی شان میں سنا تو کہا اگر آئندہ میں نے کسی سے یہ کلمہ سن لیا تو اس کی گردن مار دوں گا۔ (مظہری و فتح القدیر شوکانی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
Ayah 2:106

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے

مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا (الآیۃ) ما شرطیہ جازمہ ہے ” نسخ “ لغت میں زائل کرنے اور نقل کرنے کو کہتے ہیں، بولا جاتا ہے نَسَختِ الشمس الظلَّ سورج نے سایہ زائل کردیا، ونسختُ الکتابَ میں نے کتاب نقل کرلی، اور اصطلاح میں انتہاء حکم کو بیان کرنے کو کہتے ہیں، نسخ کی تین صورتیں ہیں : (1) تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں، مثلاً عَشَرَ رَضعات مَعْلَومَاتٍ یحرُمْنَ (2) تلاوت منسوخ، حکم باقی، مثلاً الشیخ والشیخۃُ اِذا زَنَیَا فارجموھما البتۃ (3) حکم منسوخ، تلاوت باقی، جیسا کہ کُتِبَ علیکم اِذَا حضَرَ اَحَدَکم الموتُ اِنْ تَرَکَ خیرَ الوَصیۃ لِلْوَ الِدَیْنِ یہ آیت، آیت مواریث (یوصیکم اللہ فی اولادکم، سورة نساء) اور آپ (علیہ السلام) کے قول لَا وصِیۃَ لِوَارثٍ سے منسوخ ہے۔ قولہ : نامُرُکَ او جبرئِیلَ دونوں میں تلازم ہے، جبرئیل کو نسخ حکم دینا آپ ﷺ کو حکم دینا ہے، اور آپ ﷺ کو حکم دیان جبرئیل کو حکم دینا ہے۔ (صاوی) شان نزول : یہودی تورات کو ناقابل تنسیخ سمجھتے تھے، اور قرآن پر بھی انھوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے پر اعتراض کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی، اور فرمایا : زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھتا ہے کرتا ہے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت و حکمت کے مطابق ہوتا ہے اسے نافذ کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے، یہ اس کی قدرت ہی کا ایک مظاہرہ ہے، بعض قدیم گمراہیوں (مثلاً ابو مسلم اصفہانی معتزلی) اور آج کے بھی بعض متجد دین نے یہود کی طرف قرآن میں نسخ ماننے سے انکار کیا ہے، مذکورہ آیت میں اسی نظریہ کی تردید کی گئی ہے۔ احکام الہٰیہ کے نسخ کی حقیقت : دنیا کی حکومتوں میں کسی حکم کو منسوخ کرکے دوسرا حکم جاری کردینا مشہور و معروف ہے، لیکن انسانوں کے احکام میں کبھی نسخ اس لئے ہوتا ہے کہ مثلاً پہلے کسی غلط فہمی کی وجہ سے ایک حکم جاری کردیا گیا بعد میں حقیقت معلوم ہوئی اور وہ حکم مناسب حال نہ رہا تو اس حکم کو بدل دیا، اور کبھی اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جس وقت یہ حکم جاری کیا گیا تھا اس وقت کے حالات کے مناسب تھا اور آئندہ آنے والے حالات کا اندازہ نہیں تھا، جب حالات بدلے تو حکم بھی بدلنا پڑا، یہ دونوں صورتیں احکام خداوندی میں نہیں ہوسکتیں۔ اور تیسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ حکم دینے والے کو اول ہی سے یہ معلوم تھا کہ حالات بدلیں گے، اور اس وقت یہ حکم مناسب نہ ہوگا دوسرا حکم دینا ہوگا، یہ جانتے ہوئے بھی آج ایک حکم دیدیا اور جب اپنے علم کے مطابق حالات بدلے تو اپنی قراردادِ سابق کے مطابق حکم بھی بدل دیا اس کی مثال ایسی ہے کہ مریض کے موجودہ حالات کو دیکھ کر طبیب دوا تجویز کرتا ہے اور جانتا ہے کہ دو روز اس دوا کے استعمال کرنے کے بعد مریض کا حال بدلے گا، اس وقت مجھے دوسری دوا تجویز کرنی ہوگی۔ ماہر طبیب یہ بھی کرسکتا ہے کہ پہلے ہی دن پورے علاج کا نظام لکھ کر دیدے اور ہدایت کر دے کہ دو روز تک یہ دوا استعمل کرنا اور پھر تین روز تک فلاں دوا استعمل کرنا اور پھر ایک ہفتہ بعد فلاں دوا، لیکن یہ مریض کی طبیعت پر بلاوجہ ایک بار ڈالنا ہے، اس میں غلط فہمی کی وجہ سے خلل کا بھی اندیشہ ہے اس لئے طبیب پہلے ہی سے پوری تفصیل نہیں بتاتا۔ اللہ تعالیٰ شانہ کے احکام میں اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں صرف یہی آخری صورت نسخ کی ہوسکتی ہے اور ہوتی رہی ہے، بعد میں نازل ہونے والی ہر کتاب نے سابقہ نبوت و شریعت کے بہت سے احکام کو منسوخ کرکے نئے احکام جاری کئے اور اسی طرح ایک ہی نبوت اور شریعت میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، کہ کچھ عرصہ تک ایک حکم جاری رہا پھر بتقاضائے حکمت خداوندی اس کو بدل کر دوسرا حکم نافذ کردیا گیا، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے : لَمْ تکن نبوۃ قط الاتناسخت (مسلم) یعنی کوئی نبوت نہیں آئی جس نے احکام میں نسخ اور ردوبدل نہ کیا ہو۔ (قرطبی، معارف) نسخ کی تعریف میں متقدمین اور متاخرین کے درمیان فرق : چونکہ نسخ کے اصطلاحی معنی تبدیلی حکم کے ہیں اور یہ تبدیلی جس طرح ایک حکم کو بالکلیہ منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسرا حکم لانے میں ہے جیسے بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کو قبلہ بنادینا، اسی طرح کسی مطلق یا عام حکم میں کسی قید و شرط کو بڑھا دینا بھی ایک قسم کی تبدیلی ہے، متقدمین نے نسخ کو اسی معنی میں استعمال کیا ہے، جس میں کسی حکم کی پوری تبدیلی بھی داخل ہے اور جزوی تبدیلی بھی مثلاً قیدو شرط یا استثناء وغیرہ اس میں شامل ہے، اسی لئے متقدمین کے نزدیک قرآن میں آیات منسوخہ کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی۔ حضرات متاخرین نے صرف اس تبدیلی کو نسخ کہا جس کی پہلے حکم کے ساتھ کسی طرح تطبیق نہ ہوسکے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علامہ سیوطی نے صرف بیس آیتوں کو منسوخ قرار دیا اور ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ (رح) تعالیٰ نے ان میں بھی تطبیق کی صورت پیدا کرکے صرف پانچ آیتوں کو منسوخ قرار دیا، جن میں کوئی تطبیق تاویل بعید نہیں ہوسکتی تھی۔ نسخ کے بارے میں جمہور کا مسلک : جمہور کا مذہب وقوع نسخ کا ہے، گو ایک طبقہ عدم نسخ کا بھی قائل رہا ہے (ویروٰی عن بعض المسلمین انکار النسخ واحتج الجمھور من المسلمین علی جواز النسخ ووقوعہٖ (کبیر) والمسلمون کلھم متفقون علی جواز النسخ فی احکام اللہ تعالیٰ لما لہ فی ذلک من الحکمۃِ البالغۃِ وکلھم قالوا بوقوعہ۔ (ابن کثیر)
Ayahs 2:107–108

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے ؟ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا (الآیۃ) اس آیت میں مسلمانوں (صحابہ ؓ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہود کے مانند اپنے پیغمبر سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کرو اس میں اندیشہ کفر ہے، صورت یہ تھی کہ یہودی موشگافیاں کر کرکے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کیا کرتے تھے، اور انہیں اکسایا کرتے تھے کہ اپنے نبی سے یہ سوال کرو یہ پوچھو یہ معلوم کرو اس پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اس معاملہ میں یہودیوں کی روش اختیار کرنے سے بچو۔ بعض مفسرین نے مذکورہ آیت کا مخاطب یہود کو قرار دیا ہے نَزَلَتْ فی الیھود۔ (معالم) اس آیت کے بارے میں تین قول نقل ہوئے ہیں : (1) مخاطب مسلمان ہیں (2) مخاطب اہل مکہ ہیں (3) مخاطب یہود ہیں، اِختلفوا فی المخاطب بہ علی وجوہ احدھا انّھم المسلمون والقول الثانی انہ خطاب لاھل مکۃ والقول الثالث المراد الیھود وھذا القول اصح (کبیر) ورجّح اَنّھم الیھود۔ (بحر)