2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

آیت نمبر 30 تا 33 ترجمہ : اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں زمین میں ایک نائب بنائوں گا، جو زمین میں میرے احکام نافذ کرنے میں میری نیابت کرے گا اور وہ آدم علیہ الصلاة والسلام ہے، تو فرشتوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں ایسے شخص کو مقرر فرمائیں گے جو زمین میں معاصی کے ذریعہ خون خرابہ کرے گا ؟ یعنی قتل کے ذریعہ خون ریزی کرے گا، جیسا کہ جناب نے کیا اور وہ زمین میں پہلے سے (مقیم) تھے، چناچہ جن انہوں نے فسادبرپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف فرشتوں کو بھیجا تو فرشتوں نے ان کو جزیروں اور پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا، اور ہم آپ کی حمد وثناتو کر ہی رہے ہیں، یعنی سبحان اللہ، الحمداللہ کہہ رہے ہیں اور ان چیزوں سے جو تیری شایان شان نہیں ہیں تیری پاکی بیان کررہے ہیں (لَکَ ) میں لام زائد ہے اور جملہ حال ہے اور خلافت کے ہم زیادہ مستحق ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آدم علیہ الصلاة والسلام کے نائب بنانے میں جو مصلحت ہے، میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ، (اور وہ یہ) کہ اس کی اولاد میں فرمانبردار بھی ہوں گے اور نافرمان بھی، تو ان میں عدل کا مظہور ہوگا، تو فرشتوں نے عرض کیا ہمارا رب ہرگز کوئی ایسی مخلوق پیدانہ کرے گا، جو اس کے نزدیک ہم سے افضل ہو اور نہ ایسی کہ جو ہم سے اعلم (زیادہ جاننے والی) ہو، اس وجہ سے کہ ہم کو حق سبقت حاصل ہے اور اس وجہ سے کہ جو ہم نے دیکھا ہے وہ کسی نے نہیں دیکھا، چناچہ حق تعالیٰ شانہ ' نے آدم علیہ الصلاة واسلام کو زمین کی مٹی سے پیدا فرمایا، یعنی سطح زمین (کی مٹی) سے اس طریقہ سے کہ زمین سے ہر رنگ کی ایک مٹھی مٹی لی اور اس کی مختلف پانیوں سے گوندھا اور اس میں روح پھونک دی تو وہ ایک حساس (شئی) بن گیا، بعد اس کے کہ وہ جماد ( بےجان) تھا، اور آدم علیہ الصلاة والسلام کی ساری چیزوں کے نام سکھائے، حتی کہ پیالہ، پیالی، اور پاد اور پھسکی اور ڈوئی بایں طور کہ آدم کے قلب پر ان کا علم القاہ فرمایا، فرمایا، پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے روبروپیش فرمایا، ھم جمع مزکر کی ضمیر لانے کی وجہ، ذوی العقول کو غلبہ دینا ہے اور فرمایا کہ تم مجھے ان چیزوں کے نام بتائو، اگر تم اس ( مشورہ) میں سچے ہو کہ میں تم سے زیادہ جاننے والے کو پیدانہ کرونگا، یا تم اس دعوے پر حق دور ہو ( تو تم مجھے ان چیزوں کے نام بتائو) اور جواب شرط پر اس کا ماقبل دلالت کررہا ہے، فرشتوں نے عرض کیا آپ تو پاک ہیں ، ( یعنی) آپ تو اعتراض ( نقص) سے پاک ہیں ہمیں کچھ علم نہیں، مگر اتناہی جتنا آپ نے ہمیں سکھلایا، نے شک آپ ہی ( انت ضمیر) کاف خطاب کی تاکید کے لئے ہے، علم و حکمت والے ہیں کہ آپ کے علم و حکمت سے کوئی شئی خارج نہیں، حق تعالیٰ نے فرمایا اے آدم ! توبتادے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام، چناچہ آدم علیہ الصلاة والسلام نے ان کو ہر چیز کا نام بتادیا اور ان کی حکمت اور خواص بیان کردیئے، جس کے لئے وہ چیزیں پیدا کی گئی تھیں جب آدم علیہ اصلاة السلام نے ان کو چیزوں کے نام بتادیئے، تو حق تعالیٰ نے تو بیخا فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کی جو ان میں فرشتوں سے مخفی ہیں اور اس کو بھی جانتا ہوں جو تم اپنے قول اَتَجعَلُ فیھا من یفًسد الخ سے ظاہر کرتے ہو، اور جوابات تم چھیاتے ہو، یعنی اپنے قول :'' لن یخلق ربنا خلقا اکرم علیہ مناولا اعلم '' کو۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَاِ ذْقَالَ رَبُّکَ ، وائو، استینافیہ ہے، اِذْ ، اُذْکُرْ ، فعل محذوف کا مفعول بہ ہے، قرآن میں مذکور قصوں کے شروع میں یہی ترکیب اغلب ہے، زمخشری اور ابن عطیہ کا یہی قول مختار ہے اور ابوحیان نے کہا ہے کہ : اِذْقَالُوْااَتَجْعَلُ ، کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : لِلْمَلَا ئِکَةِ : یہ مَلَکُ کی جمع ہے، یہ اصل مَأ لَکُ بروزن مَفْعَل تھا ہمزہ کو تخفیفاً حذف کردیا گیا، مَلَک یہ اُلُوکة سے مشتق ہے، اُلوکةکے معنی ہیں پیغام بری، رسالت، فرشتے بھی خدا کا پیغام مخلوق تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں اور خالق و مخلوق کر درمیان واسطہ ہوتے ہیں اس لئے ان کو ملائکہ کہتے ہیں۔ قولہ : مُتَلَبِّسِیْنَ ، اس میں ارشاد ہے کہ : بِحَمدِکَ ، نسبح کی ضمیر سے حال اور باء، ملابَسَت کے لئے ہے۔ قولہ : نُقَدِّسُ لَکَ ، میں لازم زائدہ برائے تاکید ہے، اس لئے کہ نقدس متعدی بنفسہ ہے۔ قولہ : والجملة حال یعنی وَنَحْنُ نُسَبِّحُ ، اَتجعَلُ کی ضمیر سے حال ہے اور نقدس کا عطف نُسَبِّحُ پر ہے معطوف معطوف علیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہوکر، نحن، مبتداء کی خبر ہے۔ قولہ : والضملة حال، کو ایک اعتراض کا جواب بھی قراردیا جاسکتا ہے۔ سوال : وَنُسَبِّحُ ، کا اَتَجْعَلُپرعطف درست نہیں ہے، اس لئے کہ : اَتَجْعَلُ جملہ انشائیہ ہے اور نُسَبِّحُ جملہ فعلیہ۔ جواب : وَنُسَبِّحُ کا عطف اَتَجْعَلُ پر نہیں ہے بلکہ وائو حالیہ ہے نہ کہ عاطفہ لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔ قولہ : نُنَزِّ ھُکَ عَمَّا لَا یلیقُ بِکَ ، اس عبادت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : نُسَبِحُّ اور نُقَدِّ سُ ، دونوں ہم معنی ہیں لہٰذاہ تکرار بےفائدہ ہے۔ جواب : دونوں کے معنی مختلف ہیں تسبیح کے معنی ہیں زبان سے تسبیح بیان کرنا اور تَقْدِیْس کے معنی ہیں پاکی کا دل سے اعتقاد رکھنا۔ قولہ : و جواب الشرط دَلَّ علیہ ماقبلہ یعنی اِنْ کنتم صٰدقین کا جواب شرط محذوف ہے اور دال علی الحذف، ماقبل یعنی انبؤنی ہے تقدیر عبادت یہ ہوگی، اِنْ کتنم صٰدقین انبؤنی، اور سیبویہ کے نزدیک چونکہ جواب شرط کی تقدیم جائز ہے لہٰذا جواب شرط محذوف ماننے کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ ماقبل میں مذکور، أ نبؤنی، ہی جواب شرط ہوگا۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ (الآ یة) اِذ ظرف زمان ہے کسی گذشتہ واقعہ کی یاددلانے کے موقع پر استعمال ہوتا ہے جس طرح کہ اِذَا کسی واقعہ ' مستقبل پر دلالت کرنے کے لئے آتا ہے۔ (ابوسعود) فرشتے اللہ کی نوری مخلوق ہیں جن کا مسکن آسمان ہے جواوامرالٰہی کے نجالانے اور اس کی تقدیس وتحمید میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے اپنا وجود خارجی رکھتے ہیں محض صفات الٰہی یا قوائے طبعی کے مرادف نہیں ہیں عادة انسان کے لئے غیر مرئی رہتے ہیں حسب ضرورت مختلف شکلیں اختیار کرسکتے ہیں، گذشتہ رکوع میں رب کی بندگی کی دعوت اس بنیاد پر دی گئی تھی کہ وہ تمہارا خالق و پروردگار ہے اسی کے قبضئہ قدرت میں تمہاری زندگی اور موت ہے اور جس کائنات میں تم رہتے ہو اس کا مالک اور مدبر بھی وہی ہے لہٰذا اس کی بندگی کے سوا تمہارے لئے کوئی دوسرا طریقہ صحیح نہیں ہوسکتا۔ اب اس رکوع میں وہی دعوت اس بنیاد پر دی جارہی ہے، کہ اس دنیا میں تم کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا ہے خلیفہ بنایا ہونے کی حیثیت سے تمہا را فرض صرف اتناہی نہیں ہے کہ صرف اس کی بندگی کرو، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق کام کرو، اگر تم نے ایسانہ کیا اور اپنے ازکی دشمن کے اشارہ پر چلے تو بدترین بغاوت کے مجرم ہوگے، اور بدترین انجام دیکھوگے۔ تاریخ آفرینش آدم علیہ الصلاة ولسلام اور اس کا منصب : اس سلسلے میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی حیثیت ٹھیک ٹھیک بیان کردی گئی ہے اور نوع انسان کی تاریخ کا وہ باب پیش کیا گیا ہے، جس کے معلوم ہونے کا دوسرا کوئی ذریعہ انسان کو میسر نہیں ہے اس باب سے ہم کو جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، یا جو ہم کو نتائج حاصل ہوتے ہیں، وہ ان نتائج سے بہت زیادہ قیمتی ہیں جو زمین کی تہوں سے متفرق ہڈیاں نکال کر اور انہیں قیاس وتخمین سے ربط دے کر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حتی کہ نسل انسان کا جدا علیٰ بندر کو قرار دے کر انسان کی توہین وتزلیل سے بھی نہیں چوکتے۔ خلیفہ : خلیفہ کہتے ہیں اس کو جو کسی کی نیابت کرے خواہ اس لئے کہ وہ موجود نہیں یا اس لئے کہ وہ فوت ہوچکا ہے یا اس لئے کہ وہ معذور ہے اور خواہ اس لئے کہ اس سے مستخلف کی تعظیم ظاہر ہو۔ '' الخلافة، النیابة مِنَ الغیر امّالغیبَة المنوب عنہ واِمّا لموتہ وَاِمالعجزہ وَاِمّالِتشریف المسْتخلف '' (راغب، تفسیر ماجد) واضح رہے کہ دنیا کے کسی انسان کو اس بلند مرتبہ یعنی خلافت و نیابت الٰہی پر نہیں رکھا ہے جاہلی مذاہت کا تو ذکر ہی کیا ؟ خودیہودیت اور اس کا مسخ شدہ ضمیمہ مسیحیت بھی اس باب میں اسلام سے کہیں پیچھے ہے، بائبل میں اس موقع پر صرف اس قدرذکر ہے۔ بائبل میں تحقیق آدم کا ذکر : '' خداوندنے زمین پر پانی برسا یا تھا، اور آدم نہ تھا کہ زمین کی کھیتی کرے اور زمین سے بخاراٹھتا تھا، اور تمام روئے زمین سیراب کرتا تھا اور خداوندانے زمین کی خاک سے آدم کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا سو آدم جیتی جان ہوا ''۔ (پیدائش، 2، 5، 7، ماجدی) گویا جس طرح دیگر حیوانات پیدا ہورہے تھے، ایک جاندار، آدم بھی پیدا ہوگیا، اس کا کام زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ زمین پر کھیتی کرے، کہاں یہ اتنا طویل لیکن نے مغز، انسان کو کاشتکاری تک محرود رکھنے والا بیان اور کہاں قرآن مجید کا باوجود نہایت اختصار کے انسان کے مرتبئہ خلافت الٰہی پو پہنچا دینے والا بلند اور جامع اعلان۔ قَالُؤ ااَتَجْعَلُ فِیْھَامَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا (الآیة) فرشتوں کا یہ قول بطور اعتراض یا گستاخی کے نہ تھا جیسا کہ بعض حضرت کا خیال ہے، فرشتے تو گستاخی کر ہی نہیں سکتے، باغی فرشتوں کا تخیل تمامتر مستحی ہے اور عجب نہیں کہ مسیحیوں کے ساتھ تعلقات قائم ہوجانے سے یہ خیال مسلمان علماء میں داخل ہوگیا ہو، فرشتوں کا یہ قول تمام تروفور نیاز مندی، اقرار وفاداری اور جوش جاں نثاری کا نتیجہ تھا جیسا کہ بعض محققین نے لکھا ہے۔ '' وقول الملا ئکة ھٰذالَیْسَ علی وجہ الاعتراض علی اللہ ولاعلیٰ وجہ الحسدلنبی آدم کماقد یتو ھمہ بعض المفسرین ''۔ (ابن کثیر) اس موقع پر بہترین تقریر حضرت تھا نوح (رح) تعالیٰ کی ہے آپ فرماتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تو سب کے سب آپ کے فرمانبردار ہیں اور ان میں کوئی کوئی مفسد وسفاک بھی ہوگا، سو اگر یہ کام ہمارے سپرد کیا جائے، تو ہم سب لگ لپٹ کر اس کو انجام دیں گے اور وہ لوگ سب اس کام کے نہ ہوں گے البتہ جو مطیع ہوں گے وہ تو جان ودل سے اس میں لگ جائیں گے، مگر جو مفسد اور ظالم ہوں گے ان سے کیا امید کہ وہ اس کام کو انجام دیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ جب کام کرنے والوں کا ایک گروہ موجود ہے، تو ایک نئی مخلوق کو جن میں کوئی کام کا ہوگا کوئی نہ ہوگا، اس خدمت کے لئے تجویز فرمانے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ بطور اعتراض کے نہیں کہا نہ اپنا استحقاق جتلایا بلکہ یہ ایسی بات ہے کہ کوئی حاکم نیاکام تجویز کرکے اس کے لئے ایک مستقل عملہ بڑھانا چاہے اور اپنے قدیم عملے سے اس کا اظہار کرے وہ لوگ اپنی جاں نثاری کی وجہ سے عرض کریں کہ حضور جو لواس کام کے لئے تجویز ہوئے ہیں ہم کسی طرح معلوم ہوا ہے کہ بعض بعض تو اس کو نخونی انجام دیں گے اور بعض بالکل ہی کام بکاڑدیں گے، جن سے حضور کا مزاج نا خوش ہوگا، آخرہم کس مرض کی دوا ہیں، ہر وقت حضور پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں کیسا ہی کام کیوں نہ حضور کے اقبال سے اس کو انجام دے نکلتے ہیں، کبھی کسی خدمت میں ہم غلاموں نے عذر نہیں کیا اور اگر وہ نئی خدمت بھی ہم کو عنایت ہوگی تو ہم کو کوئی عذروانکار نہ ہوگا، فرشتوں کو عرض معروض بھی اسی طرح نیاز مندی کے وسطے تھی۔ (تفسیر ماجد ملخصًا) فرشتوں کی یہ ساری عرض ومعروض ان کی کسی غیب دانی کی بناپو نہیں بلکہ نیابت الٰہی و خلافت ربانی کا نام سن کر خود ہی انہوں نے اندازہ لگالیا تھا قوائے بشری کی ترکیب کا بھی اور زمین مخلوق کی ضرورتوں اور طبعی تقاضوں کا بھی، اور اس سے یہ نتیجہ خود بخود ان کے سامنے آگیا تھا کہ زمین فساد بھی ہوگا اور انسانوں میں سے باغی و نافرمان بھی پیدا ہوں گے، یہ بھی کہا کیا ہے کہ انسانی آبادی سے قبل روئے زمین پر جنات آباد تھے، ان کی سرشت و فطرت پر قیاس کرکے فرشتے انسانوں کے حق میں بھی یہی سمجھے، مفسرعلام سیوطی نے اپنے قول '' یُریقھا بالقتل کما فَعَلَ بنوالجان '' اسے اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے اور معالبم میں ہی :'' کمافَعَلَ بنوالجان فقاسوا الشاھِدعلی الغائب '' (معالم) وَاَنَّھُمْ قَاسَوْھُمْ عَلیٰ مَنْ سَبَقَ (ابن کثیر) اور ہوسکتا ہے کہ فرشتوں نے روح پھونکے جا نے سے پہلے ملکوتی نظر سے آدم کے جسد خاکی کو دیکھا ہو جو عناصر اربعہ متضادہ سے مرکب تھا اور اسی سے اندازہ کرلیا ہو کہ نئی مخلوق بھی زمین میں شروفساد برپا کرے گی، اور اس کو غیب نہیں کہتے یہ ایک شئی کا دوسری شئی پو قیاس اور نتیجہ کا اخذ ہے۔ (روح المعانی، ملخصًا) وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ، دنیا میں دیوتا پرستی کی بیماری فرشتوں ہی کے فرائض کی غلط تشخیص سے پیدا ہوئی ہے، آگ کے فرشتوں کو جاہلی قوموں نے اگئی دیوتا بارش کے فرشتوں کو اندردیوتا اور رزق رساں فرشتوں کو اَنْ دیوتا علی ہذا القیاس قراردیدیا، قرآن نے نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکِ الخ فرشتوں کی زبانی کہلواکران کی عبدیت محض پر انہیں کی زبان سے مہرلگادی، فرشتے یہاں صاف صاف عرض کررہے ہیں کہ ہم خدام تو اپنی سرشت کے لحاظ سے بجز حضور والا کی تحمید و تقدیس کے اور کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ فرشتہ اور دیوتا میں فرق : دونوں کے تصور میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فرشتہ مکمل مخلوق اور عبد ہوتا ہء اللہ کے حکم سے موجودات کے کسی خاص شعبہ پر مامور ہوتا ہے، اس سے کسی غلط، لغزش یا خیانت کا احتمام نہیں ہوتا، اس کے برعکس دیوتا خودایک مستقبل بالذاتو خودمختار وجودہوتا ہے اور عبد نہیں بلکہ معبود ہوتا ہے۔ (ماجدی، ملخصًا) قَالَ اِنِِّیٔ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ : فرشتوں کو جب یہ خلجان ہوا کہ ایسی مخلوق جس میں مفسد اور خون ریز تک ہوں گے، ہم ایسے مطیع اور فرمانبردار کے ہوتے ہوئے ان کو خلیفہ بنانا اس کی وجہ کیا ہوگی، تو بطور استفادہ یہ سوال کیا، اعتراض ہرگز نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ جا فرشتوں کو اجمالی جواب : فرشتوں کو سردست بالا جمال یہ جواب دیا گیا کہ ہم خوب جانتے ہیں اس کے پیدا کرنے میں جو حکمتیں ہیں تم کو ابھی تک وہ حکمتیں معلوم نہیں ورنہ اس کی حلافت اور افضلیت پر شبہ نہ کرتے۔ وَعَلََّمَ آدَمَالْاَسْمَآئَ کُلَّھَّا، یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ الصلاة والسلام کر ہر ایک چیز کا نام مع اس کی حقیقت و خاصیت اور نفع و نقصان کے تعلیم فرمایا اور یہ علم بلاواسطہ القاء فرمایا، اس لیے کہ کمال علمی کے بغیر خلافت اور دنیا پر حکومت ممکن نہیں ہے۔
Ayahs 2:31–33

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو (سب چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بیشک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم ! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں ! میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے ؟

وَعَلََّمَ آدَمَالْاَسْمَآئَ کُلَّھَا، اَسْمَاء سے مراد اشخاص ومسمیات کے نام اور ان کے خواص و فوائد کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے القاء والہام کے ذریعہ حضرت آدم علیہ الصلاة السلام کو سکھلایا تھا، اسم کے ساتھ اگر مسمّٰی کا علم نہ ہو تو اسم محض ایک آواز رہے گی، ذہن میں اس کا کوئی مفہوم ظاہر نہ ہوگا، علامہ راغت نے اسی مفہوم کو اس طرح بیان فرمایا ہیں : '' اَنَّ معرفة الاسماء لا تحصل اِلَّا بمعرفة المسمّٰی و حصول صورتہ فی الضمیر '' کہ اسم کی معرفت بغیر مسمّٰی کی معرفت کے اور ذہن میں اس تصویر کے ہو نہیں سکتی، پھر جب آدم علیہ الصلاة والسلام سے کہا گیا کہ ان کے نام بتائو تو انہوں نے فوراً سب کچھ بیان کردیا، جو فرشتے بیان نہ کرسکے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک تو فرشتوں پر حکمت تخلیق آدم واضح کردی، دوسرے دنیا کا نظام چلانے کے لئے علم کی اہمیت و فضیلت بیان فرمادی، جب یہ حکمت اور اہمیت علم فرشتوں پر واضح ہوگئی، تو انہوں نے اپنے قصور علم وفہم کا اعتراف کرلیا۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گرپڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آ کر کافر بن گیا

آیت نمبر 34 تا 39 ترجمہ : اور یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ الصلاة والسلام کے سامنے تعظیم کے طور پر جھک جائو سب جھک گئے، مگر ابلیس نہ جھکا وہ جنوں کا جداعلیٰ ہے، یعنی سجدہ کرنے سے بازرہا، وہ فرشتوں کے درمیان رہا کرتا تھا، اور سجدہ کرنے سے تکبر کیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں اور وہ اللہ کے علم میں منکرین میں سے تھا اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم تم (انت) ضمیر مستتر کی تاکید کے لئے ہے، تاکہ اس پر عطف کیا جاسکے اور تمہاری بیوی، حوآء مد کے ساتھ اور اس کی تخلیق آدم علیہ الصلاة والسلام کی بائیں پسلی، جنت میں رہو، اور تم دونوں جو چاہو بافراغت کھائو، یہاں کوئی پابندی نہیں، لیکن کھانے کے ارادہ سے تم دونوں اس درخت کے نزدیک (بھی) مت جانا، وہ گندم کا درخت تھا، یا انگورو وغیرہ کا، ورنہ تو نافرمانوں میں شمار ہوگے، لیکن شیطان ابلیس نے اس درخت کی وجہ سے دونوں کو لغزش دیدی اور ایک قراءت میں فَا زَالَھُمَا ہے یعنی ان دونوں کو جنت سے بر طرف کرادیا، اس طریقہ سے کہ ابلیس نے ان دونوں سے کہا کیا میں تم کو (شجرةالخلد) یعنی ہمیشگی کا درخت بتادوں ؟ اور اللہ کی قسم کھاکران سے کہا کہ وہ ان دونوں کی خیرخواہ ہے چناچہ دونوں نے اس درخت سے کچھ کھالیا، سو نکال دیا دونوں کو اس عیش سے جس میں وہ تھے اور ہم نے ان سے کہہ دیا تم نیچے زمین پر اتر جائو یعنی تم دونوں مع اس ذریت کے جو تمہارے اندر موجود ہے، تمہاری ذریّت بعض بعض کی دشمن ہوگی، بعض کے بعض پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکا نہ ہے اور اس کی پیداوار سے ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے یعنی تمہاری مدت عمر ختم ہونے تک آدم علیہ الصلاة والسلام نے اپنے سب سے چند کلمات سیکھ لئے، جو اس نے آدم علیہ الصلاة والسلام کو الہام فرمائے اور ایک قراءت میں ادَمَ کے نصب اور کلمات کے رفع کے ساتھ ہے یعنی وہ کلمات آدم کو حاصل ہوئے اور وہ کلمات :'' رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا '' (الآیة) ہیں چناچہ حضرت آدم علیہ الصلاة والسلام نے ان کلمات جے ذریعہ دعاء فرمائی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی نے شک وہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے اور ہم نے ان سے کہا تم جنت سے چلے جائو، اس جملہ کو مکرر ذکر فرمایا تاکہ اس پر عطف کیا جاسکے، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت کتاب اور رسول پہنچے، اِمّا، میں ان شرطیہ کے نون کا، مازائدہ میں ادغام ہے، تو جس نے میری ہدایت کی تابعداری کی کہ مجھ پر ایمان لایا اور میری طاعت پر عمل کیا، تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ آخرت میں رنجیدہ ہوں گے اس لئے کہ وہ جنت میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں، کتابوں کی تکذیب کی وہ جہتمی ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے نہ فناہوں گے اور نہ (اس سے) نکلیں گے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اُذکر، مفسر علام نے حسب عادت، اُذکر، فعل مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ، اِذْقُلْنَا الخ، فعل محذوف کا ظرف ہے قولہ : بالْاِنْحِنَآئِ ، سجدہ کی تفسیر انحناء سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں سجدہ کے لغوی معنی مراد ہیں، اور وہ جھکنا ہے قال ابو عمرو سحد اذا طأطأ راسہ، جیسا کہ حضرت یوسف علیہ الصلوٰة والسلام کے واقعہ میں سجدہ سے لغوی معنی مراد ہیں، جھک کر تعظیم کرنا امم سابقہ میں جائز تھا اس امت میں جائز نہیں ہے، اور اگر سجدہ کے معنی وضع الجبھة علی الارض مراد ہوں تو لِاٰدَمَ ، میں لام بمعنی اِلٰی ہوگا یعنی سجدہ تو اللہ ہی کو مراد ہے، مگر رخ آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف کرکے جیسا کہ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے اللہ کو سجدہ کیا جاتا ہے، مگر یہ قول ضعیف ہے۔ قولہ : تَحِیَّة، یہ حَیِیَ یَحیٰ (س) کا مصدر ہے، اس کے مععنی ہیں حَیَّا اللّٰہ کہنا، سلام کرنا۔ قولہ : ابلیس، اس کے مشتق اور غیر مشتق ہونے میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ یہ عجمی لفظ ہے اور عجمہ اور علم ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے اور اگر ابلاس بمعنی مایوسی سے مشتق ہوتا تو منصرف ہوتا۔ قولہ : ھو ابو الجن، اس عبارت کے مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِلاَّ ابلیس مستثنیٰ منقطع ہے یعنی ابلیس فرشتوں کی جنس سے نہیں تھا، بلکہ صرف ان کے درمیان بودوباش رکھتا تھا، تغلیباً فرشتوں میں شامل کرلیا گیا، مفسر علام نے '' وَکَانَ بَیْنَ الملائکةِ '' سے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : تکبرَّ ، استکبر کی تفسیر تکبَّرَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ سین زائدہ مبالغہ کے لئے ہے۔ قولہ : وَاسْتَکبرَ کا عطف اَبٰی پر عطف علت علی المعلول کے قبیل سے ہے یعنی استکبر علت ہے اور اَبٰی معلول سوال : علت معلول پر مقدم ہوا کرتی ہے نہ عکس۔ جواب : معلول چونکہ ظاہر اور محسوس ہے اور علت یعنی تکبر، معنوی اور غیر محسوس شئی ہے اس لئے محسوس کو غیر محسوس پر مقدم کردیا۔ سوال : کان من الکافرین، سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ : ابلیس پہلے ہی کافر تھا، تو پھر وہ جنت میں کس طرح داخل ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں۔ اول جواب یہ کہ اس وقت کافر نہیں تھا۔ مگر اللہ کے علم ازلی کے اعتبار سے کافر تھا، دوسرا جواب کان بمعنی صار ہے، یعنی کافر ہوگیا۔ قولہ : بالاکل، مفسر علام نے اس کلمہ کے اضافہ سے اشارہ کردیا کہ لاتَقْرَبا میں قرب مکانی سے نہی مقصود نہیں ہے بلکہ نہ کھانے کی تاکید میں مبالغہ مقصود ہے، جیسے : اللہ تعالیٰ کا قول : '' وَلاَ تَقْرَبُوا الزِّنَا '' الخ میں۔ قولہ : اَذْھَبَہُمَا واَزَالُہمَا، ان دونوں کلموں کے اضافہ کا مقصد اَزَلَہُمَا، کے دو معنی کا بیان ہے، ایک معنی لغزش دینا اور دوسرے معنی نکلوا دینا، برطف کرا دینا۔ قولہ : کَرَّرَہ لیُعْطَفَ علیہ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال کی تمہید : قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا، کو مکرر ذکر کیا گیا ہے اس تکرار میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اول اِھبَاط اس بات پر دلالت کرنے کے لئے ہے کہ یہ ہبوط دار المحن (دنیا) کی طرف ہے، جس میں معیشت کے لئے تگ و دو کدو کاوش کرنی ہوگی اور آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور یہ ہبوط ایک محدود وقت تک کے لئے ہوگا اور دوسرے ہبوط میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس عارضی قیام کے دوران وہ تکالیف شرعیہ کے بھی مکلف ہوں گے اس سے معلوم ہوا کہ دو مرتبہ ہبوط کہنے کا مقصد الگ الگ ہے۔ سوال : دونوں مقصدوں کو ایک ہی ہبوط شے متعلق کیوں نہیں کیا ؟ جواب : ایسا کرسکتے تھے، مگر درمیان '' فَتَلَقّٰیَ آدَمُ مِنْ رَََََّبِّہ '' جملہ معترضہ آگیا، اس لئے ہبوط کو مکررلائے تاکہ ثانی مقصد ثانی کے ساتھ اور اول مقصد اول کے ساتھ متصل ہوئے، اس مقصد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے مفسر علام نے '' لیُعْطَفْ علیہ '' کا اضافہ فرمایا یہاں عطف سے مراد اصطلاحی عطف نہیں ہے بلکہ اتصال مراد ہے۔ قولہ : فاِمَّا، فاء ترتیب مابعد علی ماقبل کے لئے ہے، فَاِمَّا یَأْ تِیَنَّکُمْ ، اِمَّا اصل میں اِنْ مَا تھا، اِن شرطیہ اور مَازائدہ ہے، فَمَنْ ثَبِعَ ھْدَایَ فَلَا خَوْف عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ، جملہ شرطیہ جزائیہ ہو کر ان شرطیہ کا جواب واقع ہے۔ تفسیر وتشریح ر بط آیات : وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلآ ئِکَةِ اسْجُدُوْا لآدَمَ ، گزشتہ آیات میں علمی حیثیت سے آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی فضیلت فرشتوں اور جنوں پر ثابت ہوچکی، اب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ عملی طور پر بھی آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے فرشتوں اور جنوں سے آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی خاص قسم کی تعظیم کرائی جائے، جس سے یہ ثابت ہو کہ آدم دونوں حیثیت سے کامل و مکمل ہے، اس کے لئے جو عمل تعظیمی تجویز کیا گیا اس کے حکایت کرتے ہوئے فرمایا : '' اِذْقُلْنَا لِلْمَلآئِکَةِ اسْجُدُوْا لِآدَمَ '' یعنی ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ الصلوٰة والسلام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے، سب فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، مگر ابلیس نے انکار کردیا اس کا یہ انکار کسی غلط فہمی یا اشتباہ کی بناء پر نہیں تھا، بلکہ خالص غرور و نخوت اور پندار و تفوق کی بنا پر تھا۔ کیا سجدہ کا حکم جنات کو بھی تھا ؟ آیت میں اگرچہ فرشتوں کو حکم کی صراحت ہے مگر آگے استثناء سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم جنات کو بھی تھا، فرشتوں کے ذکر پر اس لئے اکتفاء کیا گیا ہے کہ فرشتے سب سے افضل و اشرف تھے، جب افضل کو سجدہ کو حکم دیا گیا تو مفضول اس میں بطریق اولیٰ شامل ہوں گے۔ سجدہ تعظیمی پہلی امتوں میں : امام جصاص (رح) تعالیٰ نے احکام القرآن میں تحریر فرمایا کہ انبیاء سابقین کی شریعت میں بڑوں کی تعظیم اور تحیہ کے لئے سجدہ مباح تھا، شریعت محمدیہ ﷺ میں منسوخ ہوگیا اور بڑوں کی تعظیم کے لئے صرف سلام، مصافحہ کی اجازت دی گئی۔ توضیح : توضیح اس کی یہ ہے کہ اصل کفر و شرک اور غیر اللہ کی عبادت تو اصول ایمان کے خلاف ہے وہ کبھی کسی شریعت میں جائز نہیں ہوسکتی۔ لیکن کچھ اعمال و افعال ایسے ہیں جو اپنی ذات میں شرک و کفر نہیں، مگر لوگوں کی جہالت اور غفلت سے وہ افعال ذریعہ، کفر و شرک بن سکتے ہیں ایسے افعال کو انبیاء سابقین کی شریعت میں مطلقاً منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کو ذریعہ شرک بنانے سے روکا گیا جیسے : جانداروں کی تصویر بنانا گو اپنی ذات میں کفر و شرک نہیں اس لئے گزشتہ شریعتوں میں جائز تھا، حضرت سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے قصہ میں مذکور ہے : '' یَعْمَلُوْنَ لَہ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ ، یعنی جنات ان کے لئے بڑی محرابیں اور تصویریں بنایا کرتے تھے، اسی طرح سجدہ تعظیمی گذشتہ شریعتوں میں جائز تھا، لیکن آخر لوگوں کی جہالت سے یہی چیزیں کفر و شرک اور بت پرستی کا ذریعہ بن گئیں۔ اہم بات : سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ فرشتوں کے آدم کو سجدہ کرنے کا معاملہ عالم ارواح کا ہے نہ کہ عالم ناسوت کا اور تکلیفات شریعت کا تعلق عالم ناسوت سے ہے، عالم ارواح میں امتثال امر ہی عبادت ہے۔ سجدہ تعظیمی کی ممانعت : شریعت محمدیہ میں سجدہ تعظیمی کی ممانعت احادیث متواترہ سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کے لئے سجدہ تعظیمی جائز قرار دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کیا کرے۔ یہ حدیث بیس صحابہ ؓ کی روایت سے ثابت ہے اصول حدیث کی معروف کتاب تدریب الراوی میں ہے کہ جس روایت کے دس صحابہ کرام ؓ راوی ہوں تو وہ حدیث متواتر ہوجاتی ہے جو قرآن کی طرح قطعی ہے، یہاں تو یہ حدیث بیس صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ (معارف) ابلیس کا کفر محض عملی نافرمانی کا نتیجہ نہیں، کیونکہ کسی فرض کا عملاً ترک کردینا اصول شریعت میں فسق و گناہ ہے کفر نہیں ابلیس کے کفر کا اصل سبب حکم ربانی سے معارضہ اور مقابلہ ہے، کہ آپ نے جس کو سجدہ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے وہ اس قابل نہیں کہ میں اس کو سجدہ کروں یہ معارضہ بلاشبہ کفر ہے۔ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ : اِسْتَکْبَرَ ، باب استفعال سے ہے جس سے بعض حضرات نے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ ابلیس میں یہ کبر فطری اور خلقی نہیں تھا، بلکہ اس نے خود پیدا کیا، وَکَانَ السین والتاء لِلْاِشعار بِاَنْ الکِبر لیس مِنْ طبعہ ولکنَّہ مستعد لَہ۔ (المنار) کَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ ، یعنی اس نافرمانی نے اسے کافروں میں داخل کردیا، یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے سے کافروں میں تھا، کان بمعنی صار بکثرت مستعمل ہے، جیسا کہ صاحب تفسیر مدارک، بیضاوی، معالم، روح المعانی، نے کان بمعنی صار لیا ہے، اور جن حضرات نے کَانَ بمعنی کَانَ ہی لیا ہے، انہوں نے فی علم اللہ، کو محذوف مانا ہے۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہوجاؤ گے

اُسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ ، لفظ انت کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اصلی حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام تھے، حضرت حواء کی حیثیت تابع کی تھی، مذکورہ آیت میں حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) دونوں کے لئے جنت کو مسکن بنانے کا ارشاد ہے جس کو مختصر لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے، اُسْکُنَا الجنةَ یعنی دونوں جنت میں رہو جیسا کہ : وَکُلَا، اور لَا تَقْرَبَا، میں دونوں کو ایک صیغہ میں جمع کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے خلاف اَنْتَ وَزَوْجُکَ ، کے الفاظ اختیار کرنے میں مخاطب صرف حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو قرار دیا ہے اور انہی سے فرمایا کہ تمہاری زوجہ بھی جنت میں رہیں اس میں دو مسئلوں کی طرف اشارہ ہے۔ (1) اول یہ کہ بیوی کے لئے رہائش کا انتظام شوہر کے ذمہ ہے دوسرے یہ کہ سکونت میں بیوی شوہر کے تابع ہے، جس مکان میں شوہر رہے اسی میں رہنا چاہیے۔ (2) اُسْکُنْ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس وقت ان دونوں حضرات کے لئے جنت کا قیام محض عارضی تھا بطور ملکیت نہ تھا، کیونکہ اُسْکُنْ ، کے معنی ہیں اس مکان میں رہا کرو، یہ نہیں فرمایا کہ یہ مکان تمہارا ہے یا تمہیں دیدیا گیا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ آئندہ ایسے حالات پیش آنے والے ہیں کہ آدم و حواء (علیہما السلام) کو یہ مکان چھوڑنا پڑے گا، اس لئے کہ جنت کا دائمی اسیحقاق تو قیامت کے بعد ایمان و عمل کے صلہ میں ہوگا۔ غذا و خوراک میں بیوی شوہر کے تابع نہیں : وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا، یعنی تم دونوں جنت میں با فراغت کھاؤ، اس میں خطاب صرف آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو نہیں ہے بلکہ دونوں کو ایک ہی لفظ میں شریک کرکے تثنیہ کا صیغہ استعمال فرمایا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غذا اور خوراک میں بیوی شوہر کے تابع نہیں وہ اپنی ضرورت اور خواہش کے مطابق استعمال کرسکتی ہیں۔ (معارف) مسئلہ عصمت انبیائ : اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو ایک خاص قسم کے درخت سے کھانے بلکہ پاس جانے سے بھی منع کردیا گیا تھا اور ساتھ ہی متنبہ کردیا گیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس سے ہوشیار رہنا، اس کے باوجود حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام نے اس درخت سے کھالیا، جو بظاہر گناہ ہے حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) گناہ سے معصوم ہوتے ہیں، قرآن کریم میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق ایسے واقعات مذکور ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب بھی ہوا حضرت آدم علیہ الصلوٰة السلام کا یہ واقعہ بھی اسی میں داخل ہے۔ ایسے واقعات کا حاصل باتفاق امت یہ ہے کہ کسی غلط فہمی یا خطاء و نسیان کی وجہ سے ان کا صدور ہوجاتا ہے کوئی پیغمبر جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے خلاف عمل نہیں کرتا خطاء اجتہادی ہوتی ہے، یہ خطاء و نسیان کے سبب باقی معافی ہوتی ہے، جس کو اصطلاح میں گناہ نہیں کہا جاسکتا، اور سہو و نسیان کی غلطی ان سے ایسے کاموں میں نہیں ہوسکتی جن کا تعلق تبلیغ وتعلیم و تشریح سے ہو، بلکہ ذاتی افعال و اعمال میں ایسا سہو و نسیان ہوسکتا ہے۔ (بحر محیط معارف) آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی خطاء کی توجیہ اول : یہ کہ جس وقت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو منع کیا گیا تھا تو ایک خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے منع کیا گیا تھا اور مراد وہی خاص درخت نہیں تھا، بلکہ اس کی جنس کے سارے درخت مراد تھے، ہوسکتا ہے کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام نے اسی مخصوص درخت کی ممانعت سمجھی ہو اور شیطان نے بھی اسی خیال کو وسوسہ کے ذریعہ مستحکم کردیا ہو، اور قسم کھا کر باور کرایا ہو کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو جس وقت شیطان نے اس درخت کے کھانے کے منافع بتلائے ہوں کہ اس درخت کے کھانے سے ہمیشہ ہمیش کے لئے جنت میں رہنے کا اطمینان ہوجائے گا اور اس وقت حضرت آدم کو ممانعت یاد نہ رہی ہو، قرآن مجید کی آیت : '' فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْلَہ عَزْمًا '' سے اس احتمال کی تائید ہوتی ہے۔ بہرحال اس طرح کے متعدد احتمالات ہوسکتے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جان بوجھ کر نافرمانی کا صدور نہیں ہوا، مگر آدم علیہ الصلوٰةو السلام کی شان نبوت اور قرب خداوندی کے مقام کے اعتبار سے یہ لغزش بڑی سمجھی گئی اور قرآن میں اس کو لفظ معصیت سے تعبیر کیا گیا، اور آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی توبہ و استغفار کے بعد کافی کا ذکر فرمایا۔ فائدہ : عام طور پر یہ مشہور ہے کہ حضرت حواء کی پیدائش حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی بائیں پسلی سے ہوئی ہے یہ روایت تورات کی ہے۔ اور خداوند نے کہا : اچھا نہیں آدم اکیلا رہے، میں اس کے لئے ایک ساتھی اس کے مانند بناؤں گا اور خداوند خدا نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سوگیا اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا، اور خداوند خدا نے اس کی پسلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی، ایک عورت بنا کر آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اس وجہ سے وہ ناری کہلائے گی کہ وہ نر سے نکالی گئی۔ حدیث کی طعض روایتیں جو اس مضمون کی مروی ہوئی ہیں ان میں سے کوئی ایسی نہیں کہ جسے قطعی صحت کا درجہ حاصل ہو۔ (ماجدی) شجر ممنوعہ کیا تھا : ظاہر ہے کہ یہ درخت جنت کے درختوں میں سے کوئی معروف و متعین درخت تھا، حضرت آدم بھی اس سے واقف تھے، لہٰذا اس کی تعیین کے درپے ہونے سے کوئی فائدہ نہیں، جس کو اللہ نے مبہم رکھا، اس کو مبہم ہی رکھنا بہتر ہے محقق امام ابن جزری کا موقف بھی خاموشی اور سکوت کا ہے ہماری بعض تفسیروں میں مادی درختوں میں سے گندم، خرما، کافور، انجیر، حنظل وغیرہ، سے لے کر شجرہ محبت اور شجرہ علم وغیرہ معنوی درختوں تک بہت نام شمار کرائے گئے ہیں۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے

فَاَزَلَّہُّمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا، زَلَّتْ لغت میں لغزش کو کہتے ہیں، اِزْلاَل، کے معنی ہیں لغزش دینا، مطلب یہ ہوا کہ شیطان نے آدم و حوا، (علیہما السلام) کو لغزش دیدی، قرآن کریم کے یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی یہ خلاف ورزی اس طرح کی نہ تھی، جو عام گناہ گاروں کی طرف سے ہوا کرتی ہے، بلکہ شیطان کی تلبیس سے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا ہو کر ایسے اقدام کی نوبت آگئی کہ جس درخت کو ممنوع قرار ددیا تھا اس کا پھل وغیرہ کھا بیٹھے، عَنْھا میں، عَنْ بمعنی سبب ہے یعنی اس درخت کے سبب اور ذریعہ سے شیطان نے آدم و حواء (علیہما السلام) کو لغزش میں مبتلا کردیا ایک سوال اور اس کا جواب : یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شیطان کو سجدہ سے انکار کے نتیجہ میں پہلے ہی مردود کرکے جنت سے نکالا جا چکا تھا، تو پھر یہ آدم و حوا (علیہما السلام) کو بہکانے کے لئے جنت میں کیسے پہنچا ؟ جواب : اگرچہ اس بات کی کوئی صراحت نہیں ہے کہ شیطان نے جنت میں داخل ہو کر روبرو بہکایا، یا وسوسہ اندازی کے ذریعہ، مگر بہکانے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بغیر ملاقات کے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ہو اور ہوسکتا ہے کہ اپنی قوت جنیہ کے ذریعہ مسمر یزم کی صورت میں سے حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کے ذہن کو متاثر کیا ہو اس لئے کہ جنات کو اس کی قوت اور قدرت حاصل ہے جیسا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ذہن کو قوت خیالیہ کے ذریعہ متاثر کرسکتا ہے جنات کی قوت خیالیہ انسان کے مقابلہ میں قوی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان اپنی شکل و صورت بدل کر جنت میں داخل ہوگیا ہو اور روبرو بہکایا ہو اور حضرت آدم علیہ الصلوٰةو السلام کا اس طرف ذہن نہ گیا ہو، وَقَاسَمَہُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ ، سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے صرف وسوسہ سے کام نہیں لیا، بلکہ آدم و حوا، (علیہما السلام) سے زبانی گفتگو کرکے اور قسمیں کھا کر متاثر کیا۔ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدَوّ ، آپسی دشمنی کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے، کہ شیطان اور نبی آدم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن رہیں گے اور یہ بھی کہ نبی آدم آپس میں عداوت اور دشمنی رکھیں گے۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَّبِّہ کَلِمَاتٍ (الآیة) حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام جب ندامت و پشیمانی میں ڈوبے ہوئے دنیا میں تشریف لائے، تو توبہ و استغفار میں مصروف ہوگئے، اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور وہ کلمات معافی سکھلا دئیے جو سورة اعراف میں بیان کئے گئے ہیں : '' رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْمَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ''۔ قبولیت دعاء کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ جنت میں آباد کرنے کے بجائے دنیا ہی میں رہ کر جنت کے حصول کی تلقین فرمائی اور حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کے واسطے سے تمام نبی آدم کو جنت کے حصول کا یہ راستہ بتلایا جا رہا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ میری ہدایت تم تک پہنچے گی جو اس کو قبول کرے گا وہ جنت کا مستحق ہوگا اور بصورت دیگر عذاب الٰہی کا سزاوار ہوگا۔ بندہ نوازی کا کمال : فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَّبِّہ کَلِمَاتٍ ، خطا وار کو توبہ استغفار کے الفاظ اپنی طرف سے تلقین کردینا یہ خود اپنی جگہ پر انتہا درجہ کی بندہ نوازی ہے اللہ رب العالمین نے حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو معافی کے کلمات القاء فرمائے کہ اس طرح معافی مانگو میں معاف کر دوں گا اور پھر اس سے بڑھ کر بندہ نوازی کا کامل یہ ہے کہ اس تعلیم و تلقین کی نسبت تک اپنی جانب نہیں فرمائی، بلکہ اسے آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی جانب منسوب کردیا گیا کہ انہوں نے یہ الفاظ سیکھ لئے، کیا حد ہے شفقت اور بندہ پروری کی ! ! یہ الفاظ اور کلمات کیا تھے ؟ روایتیں مختلف ہیں لیکن خود قرآن مجید میں جو الفاظ حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی زبان سے نکلے ہوئے ہیں وہ یہ ہیں : '' رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا الخ ''۔ سوال : خطا وار تو وہ تھے۔ مگر تلقی کلمات کی نسبت صرف آدم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف کی گئی ہے۔ جواب : عورت مرد کے تابع ہے اور متبوع کے ذکر میں تابع کا ذکر خودبخود آجاتا ہے۔
Ayahs 2:38–39

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا، جنت سے نیچے اترنے کا حکم حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) کے ساتھ ساتھ صلب آدم علیہ الصلوٰةو السلام میں موجود ذریعت کو بھی ہے اس لئے اِھْبِطُوا جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔ یہ حکم بطور سزا نہیں تھا : جنت سے نکلنے کا حکم بطور سزا و عتاب نہیں تھا، اس لئے کہ خطا تو معاف ہوچکی ہے، بلکہ یہ محض نتیجہ طبعی کا ظہور ہے، شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا لینے سے جو طبعی اثرات مرتب ہو رہے تھے، ان کے لحاظ سے اب جنت میں قیام کی گجائش نہ تھی، روح کے داغ دھل جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جسم و مادہ سے بھی غلط کاری کے نقش مٹ جائیں، اگر کوئی شخص خود کشی کے ارادہ سے زہر کھالے اور معاً اسے اپنے عصیان کا اسی پر تنبہ ہوجائے، اور وہ روئے گڑگڑائے دل سے توبہ کرے عجب نہیں کہ اس کا گناہ معاف کردیا جائے، لیکن زہر کے طبعی اثرات جو نظام جسم پر مرتب ہوتے ہیں، وہ تو بہرحال ہو کر رہیں گے۔ (تفسیر ماجدی) مَھْبَطِ آدم و حواء (علیہما السلام) : حضرت آدم وحواء (علیہما السلام) زمین کے کسی خطہ میں اتارے گئے ؟ اس بارے میں روایتیں مختلف ہیں زیادہ تر روایتیں ارض ہند کے بارے میں ہیں ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کوہ صفا اور حواء کو مروہ پر اتارا گیا، اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور حاکم سے مروی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے ابن عباس نے کہا ہے حضرت آدم کا ہبوط اولی ارض ہند میں ہوا۔ (فتح القدیر شوکانی) اور ایک روایت میں جو کہ ابن ابی حاتم سے منقول ہے کہا گیا ہے کہ مکہ اور طائف کے درمیان آپ کا نزول ہوا اور ابن جریر (رح) تعالیٰ اور حاکم (رح) تعالیٰ کی ایک توایت جس کو انہوں نے صحیح کہا ہے یہ ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ حضرت آدم کا ہبوط ارض ہند میں ہوا۔ (مخلصا) اور ابن ابی سعد (رح) تعالیٰ اور ابن عساکر (رح) تعالیٰ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدم علیہ الصلوٰة والسلام ارض ہند میں اور حواء جدہ میں اترے، حضرت آدم حواء کی تلاش میں جدہ آئے اور خازن میں ہے کہ آدم سرزمین ہند سرندیپ میں اور حضرت حواء جدہ میں اترے اور ابلیس بصرہ میں ایلہ کے مقام پر اترا۔ (تفسیر خازن، ص : 5) مذکورہ روایات کے علاوہ اور بھی روایات ہیں، جو آپس میں مختلف ہیں مگر ان میں تطبیق ممکن ہے ظاہر ہے کہ ہبوط حقیقی تو ایک ہی جگہ ہوا ہو مگر انتقال مکانی کو مجازاً ہبوط سے تعبیر کردیا گیا ہو۔
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

یٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا ....... الیٰ ..... وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ ترجمہ : اے بنی اسرائیل اولاد یعقوب میری ان نعمتوں کو یاد کرو، جو میں نے تم کو عطا کیں، یعنی تمہارے آباء و اجداد کو مثلاً فرعون سے نجات دینا اور دریا کو پھاڑ دینا اور بادل کو سایہ فگن بنانا، وغیرہ وغیرہ بایں طور کہ میری اطاعت کرکے میری نعمتوں کا شکریہ ادا کرو، اور تم میرے عہد کو پورا کرو، جو میں نے تم سے لیا اور وہ محمد ﷺ پر ایمان لانے کے متعلق ہے میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا، جو میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی ایمان لانے پر جنت میں داخل کرکے ثواب عطا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرو، یعنی عہد شکنی کرنے میں مجھ سے ڈرو نہ کہ میرے علاوہ کسی اور سے اور اس قرآن پر ایمان لاؤ جو تمہاری کتابوں کی یعنی تورات کی تصدیق کے لئے میں نے نازل کیا ہے، توحید اور نبوت میں اس (قرآن) کے اس (تورات) کے موافق ہونے کی وجہ سے اور تم اہل کتاب میں سے اول منکر نہ بنو، اس لئے کہ تمہارے بعد آنے والے تمہاری اتباع کریں گے تو ان کا گناہ بھی تمہارے اوپر ہوگا اور میری ان آیتوں کو جو تمہاری کتاب میں ہیں مثلاً محمد ﷺ کی صفات کو حقیر قیمت کے عوض فروخت نہ کرو، یعنی دنیوی معمولی بضاعت سے تبدیلی نہ کرو، یعنی ان صفات کو اس حقیر معاوضہ کے فوت ہونے کے خوف سے مت چھپاؤ، جس کو تم اپنے کمزور طبقوں سے وصول کرتے ہو، اور مجھ ہی سے ڈرو، یعنی اس معاملہ میں مجھ ہی سے ڈرو، نہ کہ میرے علاوہ کسی اور سے اور حق کو جو میں نے تمہاری طرف نازل کیا ہے، باطل کے ساتھ جس کو تم گھڑتے ہو خلط ملط کرو، اور نہ حق کو چھپاؤ، یعنی محمد ﷺ کی صفت کو کہ تمہیں تو خود اس کا علم ہے کہ وہ (رسول) برحق ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یٰبنِیْ اِسْرَائِیْلَ ، یعنی اولاد یعقوب، اسرائیل عربی لفظ ہے یا عجمی اس میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ عجمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عجمہ اور علم ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے، اسرائیل مرکب اضافی ہے، اِسرا بمعنی عبد، اِیل بمعنی اللہ، یعنی عبد اللہ یا صفوة اللہ (اللہ کا برگزیدہ) اور اسرائیل حضرت یعقوب بن اسحاق (علیہما السلام) کا لقب ہے۔ قولہ : بان تشکروھا، بطاعتی اس کا تعلق اُذکُرُوْا سے ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اذکروا نعمتی، سے مراد صرف ذکر شمار ہی نہیں ہے، بلکہ ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا ہے ورنہ ذکر و شمار تو ہر شخص کرتا ہے حتی کہ کافر و مشرک بھی کرتا ہے۔ قولہ : علیٰ آبائکم، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اَنْعَتُ علیکم، کے مخاطب آپ ﷺ کے زمانہ کے یہود ہیں اور اَنعمتُ علیکم کی تفسیر میں جن انعامات کو شمار کرایا گیا ہے، ان میں سے ایک بھی آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود یہودیوں پر نہیں ہوا، پھر آپ ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو مخاطب کرکے انعمت علیکم کہنا کیسے درست ہے ؟ جواب : عبارت حذف مضاف کے ساتھ ہے ای انعمتُ علی آبائکم، لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں رہا۔ قولہ : اَوْفوا، تم پورا کرو، یہ ایفاء (افعال) سے جمع مذکر امر حاضر ہے۔ قولہ : اُوْفِ ، میں پورا کروں گا۔ ایفاء سے مضارع واحد متکلم ہے۔ قولہ : اَوْفُوْا بِعَھْدِی اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ ، تم میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔ سوال : اس آیت میں بنی اسرائیل سے اس عہد کے پورا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو بنی اسرائیل نے نہیں کیا، بلکہ اُوْفوا بِعَھْدِی، سے معلوم ہوتا ہے کہ : عہد اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، بنی اسرائیل سے ایفاء عہد کا مطالبہ کرنا، یہ تو غیر فاعل سے ایفاء کا مطالبہ کرنا ہے جو درست نہیں ہے۔ جواب : جو عہد مُعَاہِد، (فاعل) کے فعل پر معلق ہو، تو مفعول یعنی (فریق ثانی) کی جانب سے معلق علیہ کو پورا کرنا وفاء عہد کہلائے گا اور فاعل معاہد (اللہ) کا عہد جنت میں داخل کرنا ہے، جو معلق ہے، بنی اسرائیل کے ایمان لانے پر اور بنی اسرائیل کا ایمان معلق علیہ (شرط) ہے لہٰذا معلق پورا کرنے کے لئے معلق علیہ کے وفاء کا مطالبہ کرنا صحیح ہے : '' اِنّ العَھْدَ الْمعلقَ علی فعلِ المعاھدِ یکونُ الوفائُ مِنَ المفعول بالْلِتیان بالمعلق علیہ وَمِنَ الفاعلِ بالاتیان بالمعلق فالمراد بِعَھْدِ اللّٰہِ اِیّاہم بالایمان والعمل الصالح، فیصح طلب الوفاء منھم بالاتیان ''۔ (ترویح الاروح) قولہ : اَلَّذِیْ عَھدتُہ اِلیکم، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دونوں جگہ عہد مصدر مضاف الی الفاعل ہے اور ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں اول مضاف الی الفاعل ہے اور ثانی مضاف الی المفعول ہے اور رد کی وجہ یہ ہے کہ : اضافت الی الفاعل اکثر واقع ہے اور راجح ہے، لہٰذا جب تک کوئی صارف موجود نہ ہو، ترک نہیں کیا جائے گا اور یہاں کوئی موجود نہیں ہے۔ قولہ : دونَ غیری، یہ اس حصر کی جانب اشارہ ہے جو اِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ میں تقدیم مفعول سے مستفاد ہے۔ قولہ : من اہل الکتاب، اس اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت مکہ میں ہوئی اور سب سے پہلے نبوت کا دعویٰ بھی آپ نے مکہ میں کیا، جس کا کفار مکہ نے انکار کردیا، تو اس اعتبار سے اول منکرین کفار مکہ ہیں نہ کہ مدینہ کے یہود۔ جواب : یہاں اول منکرین سے مراد اہل کتاب ہیں۔ قولہ : تستبدلوا، تَشْتَرُوا، کی تفسیر، تَسْتَبْدِلُوْا سے کرنے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہاں اشتراء کے حقیقی معنی نہیں ہیں اس لئے کہ یہ باء ثمن پر داخل ہوئی ہے یہاں آیاتی پر داخل ہے، لہٰذا آیاتی ثمن ہوگا اور ثمنا مبیع ہوگی، یعنی آیات دیکر ثمن مت خریدو، اور یہ حقیقة متعذرہ ہے لہٰذا اشتراء سے مجازاً استبدال مراد ہے۔ تفسیر و تشریح نبی اسرائیل سے خطاب : مشہور نامور پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام عراقی ثم شامی ثم حجازی، 2160 یا 1985 ق م، سے دو نسلیں چلیں ایک بی بی ہاجرہ مصری کے بطن کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام سے، یہ نسل بنی اسرائیل کہلائی اور آگے چل کر قریش اسی کی ایک شاخ پیدا ہوئی، ان کا وطن عرب رہا، دوسری نسل بی بی سارہ عراقی کے بطن کے فرزند حضرت اسحاق علیہ الصلوٰة والسلام کے بیٹے حضرت یعقوب عرف اسرائیل سے چلی، یہ نسل بنی اسرائیل کہلائی اس کا وطن ملک شام رہا ایک تیسری بیوی حضرت قطورہ سے چلی، وہ بنی قطورہ کہلائی، لیکن اسے تاریخ میں اس درجہ کی اہمیت حاصل نہیں۔ بنی اسرائیل کا عروج صدیوں تک رہا مدتوں تک یہی قوم توحید کی علمبردار رہی غرضیکہ ایک زمانہ تک قوم بنی اسرائیل دینی اور دنیوی اعتبار سے سکہ رائج الوقت رہی ان میں بڑے بڑے صاحب اقتدار بادشاہ ہوئے اور فوجی جرنیل بھی اور اولو العزم پیغمبر و صلحاء واولیاء بھی مگر نزول قرآن سے مدتوں پہلے ان کا اقتدار رخصت ہوچکا تھا، ان کا شیرازہ بکھر کر دنیا میں منتشر ہوچکا تھا، ان کے بعض قبیلے حجاز اور اطراف حجاز خصوصاً یثرب (مدینہ) اور حوالی یثرب میں آباد ہوچکے تھے۔ بنی اسرائیل تو ایک نسلی نام ہے مذہبی حیثیت سے یہ لوگ یہود تھے توریت محرف، مسخ شدہ بہر حال جیسی بھی تھی، ان کے پاس موجود تھی، دینی سیادت ابھی تک ان کے پاس تھی، دنیوی اعتبار سے مالدار تھے، تجارت کے بڑے ماہر تھے، حجاز کی آبادی میں اس دینی و دنیوی تفوق کی بناء پر ان کو اچھی خاصی اہمیت حاصل تھی، ساتھ ہی ساتھ سفلی عملیات سحر و کہانت میں بڑے ماہر تھے، ملک کی عام آبادی مشرکوں اور بت پرستوں کی تھی، وہ لوگ ایک طرف تو یہود کے علم و فضل کے قائل تھے، اور ان کی دینی واقفیت سے مرعوب تھے اور دوسری طرف اکثر ان کے قرض دار بھی رہا کرتے تھے، اور جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ منظم اور غالب قوموں کے تمدن سے، کمزور اور غیر منظم قومیں مرعوب و متاثر ہوجاتی ہیں، مشرکین عرب بھی اسرائیلی اخلاق، اسرائیلی روایات بلکہ اسرائیلی عقائد سے بہت کچھ متاثر ہوچکے تھے، ان سب چیزوں کے علاوہ یہود کے مذہبی توشتوں اور اسرائیلیوں کی مقدس زبانی روایتوں میں ایک آنے والے نبی کی بشارت موجود تھی، اور یہ لوگ اس نبی موعود کے منتظر رہتے تھے، ان اسباب کی بناء پر یہ امر بالکل قدرتی تھا، کہ قرآن مجید میں تخاطب اس قوم کے ساتھ ہو اور خوب تفصیل سے ہو چناچہ چودھویں رکوع تک بڑی تفصیل کے ساتھ ان سے خطاب کیا گیا ہے۔ قرآن کے مخاطبین : مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک نظر قرآن مجید کی ترتیب بیان پر کرلی جائے، قرآن مجید کا اصل تخاطب نوع انسانی سے ہے، اسی مناسبت سے اول رکوع میں اس کا بیان ہوا کہ نوع انسانی کی حقیقی دو قسمیں ہیں ایک اچھے یا مومن دوسرے برے یا کافر، مومن یا نیک وہ ہیں جو قرآن مجید کے دستور حیات کو تسلیم کرتے ہیں، کافر یا بد وہ ہیں جو اس سے انکار کرتے ہیں، دوسرے رکوع میں کافروں ہی کی ایک خاص قسم کا بیان ہے، جن کو منافق کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ : یہ لوگ بھی ایمان اور نجات سے محروم ہی رہیں گے، تیسرے رکوع میں ساری نسل انسانی کو مخاطب کیا گیا ہے اور قرآن مجید کا اصل پیغام یعنی توحید و رسالت بیان کیا گیا ہے، چوتھا رکوع تاریخ انسانی سے متعلق ہے، اس میں بیان ہوا ہے کہ انسان کی آفرینش سے اصل غرض دنیا میں قانون الٰہی کی تنفیذ ہے اور حاکمیت الٰہی کی نیابت ہے ذرا سی غفلت کی وجہ سے نسل انسانی کا دیرینہ دشمن شیطان اس کو پچھاڑ سکتا ہے اور حق سے باطل کی جانب اور نور سے ظلمت کی طرف موڑ سکتا ہے، لیکن اگر انسان ذرا بھی ہمت اور ہوشمندی سے کام لے اور انبیاء کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر قائم رہے، تو وہی غالب و منصور رہے گا، اب پانچویں رکوع سے بڑی تفصیل سے اس کا بیان شروع ہوتا ہے کہ مدت دراز ہوئی ایک بڑے مقبول برگزیدہ بندے کی اولاد میں ایک خاص نسل کو توحید کی خاص نعمت سے سرفراز کیا گیا تھا وہ قوم اس کی نااہل ثابت ہوئی موقع اسے بار بار دیا گیا، اس کے ساتھ رعایت بار بار کی گئی، لیکن ہر بار اس نے اس نعمت کو اپنے ہاتھوں ضائع کیا، یہاں تک کہ اپنی نسل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ کی مخالفت میں تو حد ہی کردی، طویل اور مسلسل مراعات کے بعد اب حکومت الٰہیہ کا دستور ایک نیا ضابطہ اختیار کرتا ہے، اس ناشکرگزار، نافرمان، عصیان پیشہ قوم کو اس منصب سیادت سے معزول کیا جاتا ہے، اور یہ نعمت ان سے چھین کر ایک اسماعیلی پیغمبر کے واسطہ سے دنیا کی تمام قوموں اور نسلوں کے لئے عام کی جا رہی ہے۔
Ayah 2:41

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمد ﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب (تورات) کو سچا کہتی ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکر اول نہ بنو اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو اور مجھی سے خوف رکھو

وَلَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہ، بِہ کی ضمیر قرآن یا محمد ﷺ کی طرف راجع ہے اور دونوں طرح صحیح ہے اس لئے کہ دونوں لازم و ملزوم ہیں، اس لئے کہ ایک کا کفر دوسرے کے کفر کو مستلزم ہے اول کافر نہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ یہود میں تم اول کافر نہ بنو ورنہ تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال تم پر پڑے گا، ہجرت سے پہلے مکہ میں بہت لوگ آپ کی دعوت کا انکار کرچکے تھے، اول منکرین کے مصداق اہل مکہ ہیں۔ وَلَا تَشْتَرُوْا بِآیَاتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً ، تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ : اگر زیادہ معاوضہ مل جائے، تو احکام الٰہی کا سودا کرلو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی کے مقابلہ میں دنیاوی مفادات کو اہمیت نہ دو ، احکام الٰہی تو اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا مال و متاع بھی ان کے مقابلہ میں ہیچ اور ثمن قلیل ہے، آیت میں اصل مخاطب اگرچہ بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ حکم قیامت تک آنے والوں کے لئے عام ہے، جو بھی ابطال حق یا اثبات باطل یا کتمان علم ارتکاب اور احقاق حق سے محض طلب دنیا کے لئے گریز کرے گا، وہ اس وعید میں شامل ہوگا۔ یہود کی حق فروشی : یہود کی حق فروشی کے کاروبار کا ذکر عہد نامہ جدید میں بھی ہے مثلاً یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطر ناشائستہ باتیں سکھا کر گھر کے گھر تباہ کردیتے ہیں۔ (طیطس، 1: 11)