2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:87–88

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی، تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سرکش ہوجاتے رہے اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دل پردے میں ہیں (نہیں) بلکہ خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

آیات نمبر 87 تا 90 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور ان کے بعد پے در پے یکے بعد دیگرے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو واضح معجزات عطا کئے مثلاً مردوں کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرنا اور مبروص (کوڑھی) کو اچھا کرنا اور پاکیزہ روح (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ہم نے ان کی تائید کی (روح القدس) میں اضافت موصوف الی الصفت ہے، ای الروح المقدسۃ (قدس کہا) ان کے (نافرمانی سے) پاک ہونے کی وجہ سے (ان کی تائید بایں طور کی) کہ جہاں وہ جاتے تو حضرت جبرائیل بھی ساتھ رہتے، پھر بھی یہ لوگ راہ راست پر نہیں آئے، (لیکن) کیا یہ بات نہیں کہ جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ چیز (یعنی حق) لے کر آیا جو تم کو ناپسند ہوتی تو تم نے اس کی اتباع سے تکبر کیا (اِسْتَکْبَرْتُمْ ) کلَّمَا کا جواب ہے اور یہی محل استفہام ہے اور (استفہام) کا مقصد توبیخ ہے تو ان میں سے بعض کی تم نے تکذیب کی جیسا کہ (حضرت) عیسیٰ (علیہ السلام) اور بعض کو قتل کر ڈالا، جیسا کہ (حضرت) زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) اور (ماضی کے بجائے) مضارع حکایت حال ماضیہ کے لئے ہے یعنی تم نے قتل کردیا اور نبی سے تمسخراً کہا کہ ہمارے قلوب پر پردے ہیں غُلفٌ، اَغْلَفْ کی جمع ہے، یعنی پردوں میں مستور ہیں لہٰذا جو آپ کہتے ہیں اس کو محفوظ نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بات ایسی نہیں بلکہ (دراصل بات یہ ہے) کہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور قبول حق سے محروم کردیا ہے، بَلْ ، اضراب کے لئے ہے اور ان کا (حق) کو قبول نہ کرنا کسی قلبی (دماغی) خلل کی وجہ سے نہیں تھا، سو وہ بہت کم باتوں پر یقین رکھتے ہیں، مَا، تاکید قلت کے لئے زائدہ ہے یعنی ان کا ایمان بہت ہی کم باتوں پر ہے اور اب جب کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب (قرآن) جو اس کتاب کی جو ان کے پاس موجود ہے (یعنی) تورات کی تصدیق کرتی ہے، آئی حالانکہ اس کے آنے سے پہلے (اس کے ذریعہ) کافروں پر فتح و نصرت کی دعاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے، کہ اے اللہ ! تو ہم کو کافروں پر بنی آخر الزمان کے طفیل میں غلبہ عطا فرما، چناچہ جب جب اس حق کا جس کو وہ پہچانتے تھے، اور وہ نبی ﷺ کی بعثت ہے ان کے پاس آیا تو حسد اور زوال ریاست کے خوف سے انکار کر بیٹھے اور پہلے لَمَّا، کے جواب پر دوسرے لَمَّا کا جواب دلالت کر رہا ہے، اللہ کی پھٹکار ہو کافروں پر نہایت بری ہے وہ شئی جس کے عوض انہوں نے اپنے آپ کو یعنی اپنے حصہ کے اجر (وثواب) کو بیچ ڈالا، اور مَا، نکرہ بمعنی شیئًا بئس کے فاعل سے تمیز ہے اور مخصوص بالذم، اَنْ یَکْفُرُوا، ہے یعنی سرکشی کی وجہ سے اس قرآن کا انکار ہے، جس کو اللہ نے نازل فرمایا، بَغْیًا، لِیَکْفُرُوا، کا فعل لہ ہے یعنی محض اس حسد کی وجہ سے کہ اللہ نے اپنا فضل (یعنی) وحی اپنے بندوں میں سے پر جس کو رسالت کے لئے پسند فرمایا نازل فرمایا (یُنَزل) میں (زاء) کی تخفیف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں، تو وہ نازل کردہ کے انکار کی وجہ سے اللہ کا غضب بالائے غضب لے کر لوٹے، (بغضب) کی تنکیر شدت کو بیان کرنے کے لئے ہے (یعنی) غضب کے تو وہ تورات کو ضائع کرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرنے کی وجہ سے پہلے ہی مستحق ہوچکے تھے، اور کافروں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے، یعنی رسوا کن عذاب۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : قَفَّیْنَا، ماضی جمع متکلم (تفعیل) تَقْفِیَۃً ، پیچھے بھیجنا، قَفّٰی، دو مفعول چاہتا ہے، عام طور پر اس کے مفعولوں پر حرف جرد اخل نہیں ہوتا، جیسے : ” قَفّیْتُ زیدًا عمرًا “ میں نے زید کو عمر کے پیچھے بھیجا اور کبھی دوسرے مفعول پر، ب، داخل ہوتی ہے، قرآن مجید میں اس کا استعمال ہے، جیسا کہ اسی آیت میں ہے ” وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ “ ہم نے ان کے بعد پیہم رسول بھیجے۔ قولہ : مَرْیَمْ ، یہ سریانی لفظ ہے اس کے معنی ہیں خادمہ، انگریزی میں اس کا تلفظ میری (Mery) ۔ حضرت مریم اور ان کا نسب : حضرت مریم کی والدہ کا نام حنہ اور والد کا نام عمران تھا، نسب اس طرح ہے مریم بنت عمران بن ماتان۔ حضرت مریم کا نبی ہونا مختلف فیہ ہے اہل سنت کا عقیدہ ہے، کہ کوئی عورت نبی نہیں ہوئی، لیکن بچپن ہی سے آپ کے صاحب کرامت ولیہ ہونے میں شبہ نہیں، بچپن میں ہی اللہ کی طرف سے بےموسم پھل آپ کو بھیجے جاتے تھے، (لغات القرآن) سال وفات مسیحی روایتوں کے مطابق 48 ق م ہے۔ تاریخی اختلاف کے باوجود صحیح فیصلہ یہ ہے کہ : آپ نے کبھی نکاح نہیں کیا اسی لئے آپ کو مریم عذراء کہا جاتا ہے (دوشیزہ) آپ کے بطن سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے کہا جاتا ہے کہ یوسف نجار سے آپ کی نسبت ہوگئی تھی نکاح اور رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ (لغات القرآن) عیسیٰ (علیہ السلام) سلسلہ انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم ہیں : عیسیٰ (علیہ السلام) عجمی لفظ ہے سریانی میں یسوع کہتے ہیں جس کے معنی مبارک کے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) سلسلہ انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم ہیں، سنہ عیسوی آپ ہی کے نام سے جاری ہے، آپ کے بعد صرف نبوت محمدی ہوئی ہے، ملک شام کے علاقہ ارض گلیل میں ایک قصہ ناصرہ نامی ہے آپ کا وہی مادری وطن ہے ولادت بیت المقدس کے ایک گوشہ میں ہوئی 33 سال کی عمر میں آپ جمہور امت کے عقیدہ کے مطابق اور مسیحی عقیدہ کے مطابق تین دن کے لئے وفات پاکر آسمان پر اٹھالئے گئے، آپ کی رفع آسمانی سے انکار صرف بعض جدید فرقوں نے کیا ہے۔ (ماجدی، ملخصا) قولہ : رُوْحُ الْقُدُسِ ، یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا مشہور لقب ہے، مسیحی اصطلاح میں اقانیم ثلثہ میں سے اقنوم ثالث ہے۔ قولہ : وَلَقَدْ اٰتَیْنَا، واؤ حرف عطف ہے، لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے، قد حرف تحقیق ہے۔ قولہ : بِطَھَارَتِہٖ ، یہ المقدس (طاہر) ہونے کی علت ہے۔ قولہ : یَسِیْرُ معہ، حیث سارَ ، ایَّدْنَاہ کی تفسیر ہے۔ قولہ : فلم تَسْتَقِیْمُوْا، یہ جملہ ہی مقصود کلام ہے، یعنی مذکورہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی وہ راہ راست پر نہیں آئے، نیز اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ، اَفَکُمَّمَا، کا مقدر پر عطف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، فَلَمْ تَسْتَقِیْمُوْا فَاسْتکبرتُمْ اَفَکُلّما جاء کم رسول الخ، معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان ہمزہ استفہام توبیخ کے لئے ہے۔ قولہ : تَھْوَیٰ ، مضارع واحد مؤنث غائب وہ خواہش کرتی ہے، (س) ھُوًی خواہش کی طرف نفس کا مائل ہونا۔ (لغات القرآن) قولہ : مِنَ الْحَقّ ، یہ مَا کا بیان ہے۔ قولہ : تَکَبَّرتُمْ ، اِسْتَکْبَرْتُمْ ، کی تفسیر تکبّرتُمْ ، سے کرکے اشارہ کردیا کہ (سین، تاء) زائدہ ہیں، نہ کہ طلب کے لئے۔ قولہ : جَوَابِ کُلَّمَا، کُلَّما متضمن بمعنی شرط ہے اور اِسْتکبرتُمُ ، اس کا جواب ہے اور محل استفہام یہی جواب ہے اور یہ استفہام توبیخی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے استفہام برائے سوال ممکن نہیں ہے، یعنی جب جب بھی تمہارے پاس رسول آئے تب تب تم نے تکبر کیا۔ قولہ : فَفَرِیْقًا، کَذَّبْتُمْ فریقًا کذّبتُمْ کا مفعول مقدم ہے، اور کَذَّبْتُمْ کا عطف اِسْتَکبرتُمْ پر ہے اسی طرح فَرِیْقًا تقتلون ہے۔ قولہ : المضارع لحکایۃ الحال الماضیۃ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال : فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ ، میں مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو زمانہ حال پر دلالت کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود اس آیت کے نزول کے وقت بھی انبیاء کو قتل کر رہے تھے، حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ جواب : گزشتہ واقعہ کی منظر کشی کے طور پر مضارع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے گویا کہ قتل انبیاء کا واقعہ فی الحال نظروں کے سامنے ہو رہا ہے، اسی کو حکایت حال ماضیہ کہتے ہیں۔ قولہ : غُلْفٌ، یہ اَغْلَفْ کی جمع ہے، غیر مختون کو کہتے ہیں، ای لا یَعْیَیْ وَلَایَفْھَمُ ، مفسر علام نے بھی معنی مرادی لئے ہیں، بعض حضرات نے کہا ہے کہ غُلْفٌ غِلافٌ کی جمع ہے، معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے قلوب گنجینہ علوم ہیں، معارف موسوی سے لبریز ہیں ہمیں کسی نئی تعلیم کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ھِیَ جمع غلافٍ ای ھِیَ اَوْعیَۃُ العلم۔ (راغب) قولہ : فَقِلِیْلاً ، یہ اِیْمَانًا موصوف محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : قَبْلَ مَجِیْئِہٖ ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قَبْلُ مضاف الیہ محذوف منوی ہونے کی وجہ سے مبنی برضم ہے۔ قولہ : باعُوا، اِشْتَروا کی تفسیر باعوا سے کرکے اشارہ کردیا کہ اِشْتریٰ اضداد میں سے ہے اس کے معنی بیع اور شریٰ دونوں آتے ہیں۔ قولہ : مِنَ الحَقِ ، مَا، کا بیان ہے، مِن الحق سے، ما کی تفسیر کرکے ایک اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کردیا۔ اعتراض : جس کو یہود نبی آخر الزمان کے طور پر پہنچانتے تھے، وہ آپ ﷺ کی ذات مبارک تھی، جیسا کہ ارشاد باری ہے : ” یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَھُمْ “ پھر یہاں آپ ﷺ کو لفظ، مَا، سے کیوں تعبیر کیا ؟ جواب : مراد اس سے حق ہے، نہ کہ آپ ﷺ کی مخصوص ذات اور آپ کا رسول برحق ہونا معجزات اور تورات میں مذکور علامات سے ظاہر تھا۔ قولہ : حَسَدًا، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ کفر جہل کی وجہ سے ہوا کرتا ہے جب وہ آپ کو اور آپ کی نبوت کو بخوبی جانتے تھے، تو پھر کفر کیونکر ہوا۔ جواب : یہ کفر و انکار جہل اور عدم معرفت کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ حسد اور قومی تعصب کی وجہ سے ہوا۔ قولہ : دَلَّ عَلَیہِ جَوابُ الثَّانِیۃِ ، وَھُوْ قولہ کفروا بہٖ ، مطلب یہ ہے کہ : کفروا بہ، لَمَّا ثانیہ کا جواب ہے اور اسی کی دلالت کی وجہ سے لَمَّا، اولیٰ کا جواب محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، وَلَمَّا جَآءَھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ کَفَرُوْا بِہٖ ، اس سے مبرد کا رد بھی مقصود ہے مبرد کا کہنا ہے کہ : کَفَرُوْا بِہٖ ، لَمِّا، اولیٰ کا جواب ہے اور ثانی لَمَّا طول کلام کی وجہ سے تکرار کے طور پر لایا گیا ہے لہٰذا اس کو جواب کی ضرورت نہیں ہے، وجہ رد یہ ہے کہ اگر لَمَّا، کو مکرر مانا جائے تو وہ محض تاکید کے لئے ہوگا اور تاکید سے تاسیس اولیٰ ہے، اور وکانوا مِن قبلُ الخ تقدیر قَدْ ، کے ساتھ جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : بِئْسَمَا، میں مَا، بِئس کے اندر ضمیر مستتر ھُوَ ، سے تمیز ہے تقدیر عبارت یہ ہے : بئس الشئُ شیئًا اور اشتَرَوا، مَا، کی صفت ہے اور اَنْ یکفروا مخصوص بالذم ہے۔ قولہ : ذُوْاِھَانَۃٍ ، اس میں اشارہ ہے کہ اہانت کی اسناد عذاب کی جانب مجازًا ہے، اس لئے کہ عذاب ذلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ صاحب عذاب (معذَّب) ذلیل ہوا کرتا ہے لہٰذا عذاب، مہین نہ ہوگا بلکہ صاحب عذاب (معذَّب) مہین ہوگا۔ قولہ : مُھِیْنٌ، مُھِیْنٌ، اصل میں مُھْوِنٌ، واؤ کا کسرہ نقل کرکے ہاء، کو دیدیا واؤ ساکن ما قبل مکسور ” یاء “ سے بدل گیا، مُھِیْنٌ، ہوگیا۔ تفسیر و تشریح وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ ، ان آیات کی ضروری تفسیر، تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گزر چکی ہے، ملاحظہ کرلی جائے، باقی یہاں تحریر کی جاتی ہے، یہ بنی اسرائیل کی بعض جنایات کا بیان ہے کلام کو جملہ قسمیہ سے شروع کرنے میں کمال توجہ کی طرف اشارہ ہے۔ الکِتٰب، سے مراد تورات ہے، بنی اسرائیل کو ایک مستقل دستور شریعت انعام خصوصی کے طور پر عطا ہوا تھا، بنو اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی انبیاء کا متواتر اور مسلسل آتے رہنا تاریخ کا ایک مسلم و مشہور واقعہ ہے، یہاں تک کہ اسی سلسلہ کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوئے گویا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سلسلہ انبیاء بنی سرائیل کے خاتم ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ توریت ایک ہی مرتبہ میں یکمشت نازل کی گئی تھی، جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے اٹھانے کا حکم دیا تو آپ نے اٹھا سکے، تو اللہ نے تورات کے جملہ حروف کی تعداد کے برابر فرشتے نازل فرمائے پھر بھی نہ اٹھا سکے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے موسیٰ (علیہ السلام) پر تخفیف فرما کر سہولت فرمائی جس کی وجہ سے آپ اٹھا سکے۔ (روح المعانی)
Ayahs 2:89–90

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب خدا کے ہاں سے انکے پاس کتاب آئی جو ان کی آسمانی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہوگئے پس کافروں پر خدا کی لعنت

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا وہ بہت بری ہے یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

وَلَمَّا جَآءَھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ ، (الآیۃ) آپ ﷺ کی تشریف آوری سے قبل یہود بڑی بےچینی اور شدت سے اس نبی آخر الزمان کے منتظر تھے، جس کی بعثت کی پیش گوئیاں ان کے انبیاء نے کی تھیں اور ان کے واسطے دعائیں مانگا کرتے تھے، کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ ختم ہوا اور ہمارے عروج کا دور شروع ہو، خود اہل مدینہ اس بات کے شاہد تھے کہ بعثت محمدی ﷺ سے پہلے بھی ان کے ہمسایہ یہودی آنے والے نبی کی امید پر جیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تم جتنا چاہو ہم کو ستالو عنقریب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے ہم اس کے ساتھ ہو کر ظالموں سے سب حساب چکا لیں گے، مدینہ کے مشرک یہ باتیں سن چکے تھے، اسی لئے جب نبی ﷺ کے حالات معلوم ہوئے تو انہوں نے آپس میں کہا، دیکھنا کہیں یہ یہودی ہم سے بازی نہ لے جائیں، چلو پہلے ہم ہی اس نبی پر ایمان لے آئیں، مگر یہ عجب بات تھی کہ یہودی جس نبی کی آمد کی امید پر جی رہے تھے اور انتظار کی گھڑیاں گن رہے تھے، اس کے آنے کے بعد سب سے بڑھ کر اس کے مخالف اور دشمن ہوگئے حالانکہ وہ اسے بخوبی پہچان بھی گئے تھے۔ پہچان جانے کی متعدد ثبوت اسی زمانہ میں مل گئے تھے، سب سے زیادہ معتبر اور اہم شہادت ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کی ہے جو خود ایک بڑے یہودی عالم کی بیٹی اور دوسرے یہودی عالم کی بھتیجی تھیں، وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ تشریف لائے، میرے والد اور چچا آپ سے ملنے گئے بڑی دیر تک آپ سے گفتگو رہی پھر جب گھر واپس آئے تو میں نے اپنے کانوں سے ان دونوں کی گفتگو سنی۔ چچا : کیا واقعی یہ وہی نبی ہے، جس کی خبریں ہمیں کتابوں میں دی گئیں ہیں والد : خدا کی قسم ہاں۔ چچا : کیا تم کو اس کا یقین ہے، والد : ہاں۔ چچا : جب تک جان میں جان ہے اس کی مخالفت کروں گا اور اس کی بات چلنے نہ دوں گا۔ یَسْتِفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، اَلذین کفروا، سے یہاں مشرکین عرب مراد ہیں، ایک نو مسلم انصاری صحابی سے روایت ہے کہ جب ہم قبل الاسلام یہود کو شکست دیتے تھے، تو وہ کہا کرتے تھے کہ ذرا ٹھہر جاؤ عنقریب ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، ہم اس کے ساتھ مل کر تمہیں قتل کر کے رکھ دیں گے۔ (سیرت ابن ہشام) ۔ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تو مسیح ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن اس کے بعد سے برابر ایک مسیح (نجات دہندہ) کے ظہور کے منتظر رہا کرتے تھے، اور اس کا ذکر اکثر مشرکین مکہ سے کیا کرتے تھے۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہوچکی ہے ہم تو اسی کو مانتے ہیں (یعنی) یہ اس کے سوا اور (کتاب) کو نہیں مانتے حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے اس کی بھی تصدیق کرتی ہے (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحب ایمان ہوتے تو خدا کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

آیت نمبر 91 تا 96 ترجمہ : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو قرآن وغیرہ (انجیل) اللہ نے نازل کیا ہے، اس پر ایمان لاؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر نازل کیا گیا ہے، یعنی تورات پر ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور واؤ حالیہ ہے جتنی اس کے علاوہ ہے اس کے بعد ہے (اور وہ) قرآن ہے ان کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق بھی ہے، (جملہ) حالیہ ہے، اور اس (تورات) کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے، (مصدقاً ) حال ثانی ہے تاکید کے لئے آپ ان سے دریافت کیجئے کہ اگر تمہارا تورات پر ایمان ہے تو انبیائ سابقین کو تم نے کیوں قتل کیا ؟ حالانکہ تم کو تورات میں ان کے قتل سے منع کیا گیا ہے، خطاب ان (یہود) کو ہے جو آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے، اس وجہ سے کہ ان کے آباؤ (و اجداد) نے جو کچھ کیا یہ اس سے راضی ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کھلے معجزات لائے جیسا کہ عصا، یدبیضاء اور دریا کا دولخت ہوجانا، پھر بھی تم نے اس کے موسیٰ (علیہ السلام) کے میقات (طور) پر چلے جانے کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا، اور تم بچھڑے کو (معبود) بنانے کی وجہ سے ظالم ہوئے اور جب ہم نے تم سے تورات کے احکام پر عمل کرنے کا وعدہ لیا اور ہم نے تم پر جبل طور کو مسلط کیا، تاکہ تم پر گرادیں، جب تم تورات کو قبول کرنے سے باز رہے، اور ہم نے کہا، ہماری دی ہوئی چیز (تورات) کو مضبوطی اور کوشش سے تھا مو اور جس بات کا تم کو حکم دیا جا رہا ہے اسے قبولیت کی نیت سے سنو، تو انہوں نے کہا ہم نے آپ کی بات سنی اور ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے اور ان کے دلوں میں ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑا بسا دیا گیا تھا، یعنی بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں ایسی سرایت کرگئی تھی جیسا کہ شراب (جسم میں) سرایت کر جاتی ہے، آپ ان سے کہئے تمہارا توریت پر ایمان جس گاؤ پرستی کا تم کو حکم دیتا ہے، وہ نہایت بری چیز ہے اگر تم تورات پر ایمان رکھتے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے مطلب یہ کہ تمہارا توریت پر بھی ایمان نہیں ہے اس لئے کہ تورات پر ایمان گاؤ پرستی کا حکم نہیں دیتا، اور (کُمْ ) کے مخاطب ان کے آباء (و اجداد) ہیں یعنی اسی طرح تمہارا بھی تورات پر ایمان نہیں ہے اور تم محمد ﷺ کی تکذیب کرچکے ہو، اور تورات پر ایمان آپ ﷺ کی تکذیب کی اجازت نہیں دیتا آپ ﷺ ان سے کہئے اگر دار آخرت یعنی جنت عند اللہ صرف تمہارے لئے ہے خاص طور پر اور لوگوں کے علاوہ جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو (ذرا) موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو، تمنائے موت کے ساتھ دو شرطیں متعلق ہیں، اس طریقہ پر کہ اول دوسری کے لئے قید ہے، یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ دار آخرت (جنت) صرف تمہارے لئے ہے اور جس کے لئے دار آخرت ہو تو وہ اس کو ترجیح دیتا ہے اور اس تک رسائی کا ذریعہ موت ہے، لہٰذا تم اس کی تمنا کرو، مگر وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کہ وہ آپ ﷺ کا انکار ہے اور موت کی تمنا نہ کرنا ان کی تکذیب کو مستلزم ہے، ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ ظالموں کافروں کو خوب جانتا ہے لہٰذا ان کو سزا دے گا بلکہ سب سے زیادہ دنیا کی زندگی کا حریص آپ ان کو پائیں گے کہ (یہ لوگ زندگی کی حرص میں) مشرکوں منکرین بعث سے بھی زیادہ بڑھے ہوئے ہیں، (لَتَجِدَنَّھُمْ ) میں لام قسمیہ ہے، اس لئے کہ انہیں (یہود کو) یہ بات معلوم ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، بخلاف مشرکوں کے کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل ہی نہیں ہیں ان میں کا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی عمر ہزار سال ہو، مصدریہ ہے، اَنْ ، کے معنی میں ہے اور لَوْ ، اپنے صلہ کے ساتھ مصدر کی تاویل میں ہو کر یَوَدُّ کا مفعول ہے، یہ درازی عمر بھی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکتی، اَنْ یُّعَمَّرَ ، مُزَحْزِحہٖ ، کا فاعل ہے (یعنی اَنْ یُّعَمّرَ ) تعمیر کے معنی میں ہے، اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو بخوبی دیکھتا ہے، یعملون، یاء اور تاء کے ساتھ ہے، یعنی ان کو جزاء دے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَرَآءَ ، یہ ظرف مکان ہے، یہ خلف کے معنی میں زیادہ اور امام کے معنی میں کم استعمال ہوتا ہے یہ اضداد میں سے ہے اور سِویٰ ، اور بِعْدُ ، کے معنی میں بھی مستعمل ہے، مفسر علام نے بعد کے معنی مراد لئے ہیں قولہ : وَھُوْ الْحَقُّ ، یہ مَا سے حال ہے۔ قولہ : مُصَدِّقًا حالٌ ثانیۃ مؤکِدَّۃٌ، یہ ماقبل کے مضمون جملہ کی تاکید کے لئے ہے اس لئے کہ حق صادق ہی ہوتا ہے جیسا کہ زیدٌ اَبوک، عَطُوفًا، میں عطوفًا، ماقبل کی تاکید کے لئے ہے حال ثانیہ کا مطلب یہ ہے کہ تاکید کے اعتبار سے حال ثانی ہے ورنہ تو یہ حال ثالث ہے اس لئے کہ اول، ویکفرون، ہے۔ قولہ : قَتَلْتُمْ ، مضارع کی تفسیر ماضی سے کرنے میں اشارہ ہے کہ انبیاء اکا قتل نزول آیت کے زمانہ کے اعتبار سے زمانہ ماضی میں واقع ہوا ہے اور قرینہ اس پر (مِنْ قَبْل) ہے۔ قولہ : بِمَا فَعَل اٰبَاءُھم، اس میں اشارہ ہے کہ : تَقْتلون، میں اسناد مجازی ہے، اس لئے کہ انبیاء کے قاتل ان کے آباء و اجداد تھے نہ کہ وہ۔ قولہ : رضاھم یہ مجاز کے علاقہ کا بیان ہے اور وہ ملابست ہے، چونکہ موجودہ یہودی اپنے آباء کے قتل سے راضی تھے اسی لیے قتل کی نسبت ان کی طرف کردی گئی ہے۔ قولہ : بالمعجزات، بَیِّنات کی تفسیر معجزات سے کرکے ان لوگوں پر رد مقصود ہے، جو بینات سے تورات مراد لیتے ہیں، اس لئے کہ تورات واحد ہے اور بینات جمع ہے۔ قولہ : اِلھًا، اس تقدیر میں اشارہ ہے کہ اِتَّخَذَ ، کا مفعول ثانی محذوف ہے اور یہ اتخذتُ سَیفًا ای صنعتہ سے ماخوذ نہیں ہے جو ایک مفعول کو چاہتا ہے اس لئے کہ اتخاذ عجل، سامری سے صادر ہوا تھا نہ کہ بنی اسرائیل سے اسی مضمون کو سوال و جواب کی صورت میں بھی بیان کرسکتے ہیں۔ سوال : اِلھًا، محذوف ماننے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ جواب : اتخاذ، ابتداء صنعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے : اِتخذتُ سیفا، ای صَنَعْتُہٗ ، مفعول ثانی ذکر نہ کرنے سے اس معنی کی طرف ذہن منتقل ہوسکتا تھا، اس صورت میں مطلب ہوتا، صَنَعتم یا بنی اسرائیل عجلاً ، حالانکہ عجل سازی کا عمل سامری سے صادر ہوا تھا، نہ کہ بنی اسرائیل سے۔ قولہ : بعد ذِھَابِہٖ ، اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے اس صورت میں مِنْ بعدہ کا تعلق مضاف محذوف سے ہوگا، نہ کہ اتخاذ سے یہ ان حضرات پر رد بھی ہے جن حضرات نے بعد ذھابہٖ کے بجائے مجیئہٖ محذوف مانا ہے، ورنہ تو لازم آئے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں عجل سازی ہوئی جو کہ غلط ہے۔ قولہ : عَلَی العَمَلِ بِمَا فِی التُّورَاۃِ ، اس میں اشارہ ہے کہ : اخذ میثاق سے وہ عمومی میثاق مراد نہیں ہے جو ازل میں تمام اولاد آدم سے الست بربکم کی صورت میں لیا گیا تھا۔ قولہ : وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ العجل سے پہلے حب مضاف محذوف ہے اس لئے کہ بچھڑا دل میں نہیں سما سکتا، مضاف کو حذف کرکے مبالغۃ مضاف الیہ کو اس کے قائم کردیا گیا ہے۔ قولہ : عِبَادُۃُ العِجْل، یہ مخصوص بالذم مقدر ہے۔ قولہ : کذلک انتم لَسْتُمْ بمؤمنین، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : آباء کی جنابت کی وجہ سے ابناء سے مؤاخذہ نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا آپ ﷺ کے زمانہ میں موجودین کو ان کے آباء کے فعل پر مذمت کس وجہ سے ہے ؟ جواب : ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ کے یہود اپنے اسلاف کے فعل پر راضی اور اس سے متفق تھے، نہ کہ نادم و شرمندہ اس لئے کہ برائی پر راضی اور اس سے متفق ہونا بھی برائی ہے۔ قولہ : ای الجنۃ، دار آخرت کی تفسیر جنت سے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دار آخرت عام ہے، جس میں دوزخ اور جنت شامل ہے اور یہ لوگ صرف خود کو جنت کس مستحق سمجھتے تھے۔ قولہ : کما زعمتم، ای بقولکم، ” لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلاَّ مَنْ کَانَ ھُوْدًا “۔ قولہ : تَعَلَّقَ بِتَمَنِّیْہ الشرطانِ الخ، اظہر یہ ہے کہ تعلق تمنیہ بالشرطین کیا جائے، اس میں قلب ہے، یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ جزاء واحد کا تعلق دو شرطوں سے عطف کے بغیر جائز نہیں ہے اور یہاں یہی لازم آرہا ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ جزاء واحد کا تعلق دو شرطوں سے نہیں ہے بلکہ ایک ہی شرط سے ہے اس لئے کہ اول شرط، ثانی کے لئے قید ہے مستقل شرط نہیں ہے۔ قاعدہ : قاعدہ یہ ہے کہ جب دو شرطیں جمع ہوجائیں اور ان کا جواب درمیان میں ہو تو اول شرط ثانی کے لئے قید ہوگی، بایں طور کہ اول ثانی کے معنی کے لئے متمم ہوگی اور جواب ثانی کا ہوگا تقدیر آیت یہ ہوگی : ” اِنْ کُنْتُمْ صٰادقینَ فی زعمکمْ اَنَّ الدَّارَ الآخِرۃَ لکم خاصَّۃً فَتَمنَّوُا المَوْتَ “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : فَتَمنوا الموت، ثانی کا جواب ہے اور اول کا جواب محذوف ہے جس پر اول کا جواب دلالت کر رہا ہے۔ قولہ : المستلزم لِکِذْبِھِمْ ، یہ شکل اول کا نتیجہ ہے، اِنْ کانَتْ لکم الدَّارُ الآخرۃُ ، مقدم ہے فَتمنِّوُاق الموتَ ، تالی ہے اور لَن یتمنَوہ ابداً نقیض تالی ہے، نقیض تالی کا عدم مقدم کے عدم کو مستلزم ہوتا ہے اور مقدم دار آخرت کو اپنے لئے خاص کرنا ہے، لہٰذا دار آخرت کی تخصیص کا دعوی معدوم ہوگیا اور یہ نقیض تعالیٰ کے عدم کی وجہ سے لازم آیا المستلزم لکذبھم، کا یہی مطلب ہے، یعنی یہود کا موت کی تمنا نہ کرنا، اپنے لئے دار آخرت کی تخصیص کے دعوے کے کذب کو مستلزم ہے۔ قولہ : لام قسمٍ ، اس میں اشارہ ہے کہ : وَلتجدنھم، کا عطف لَنْ یَتَمَنَّوْہ، پر ہے اور یہ عدم تمنائے موت کی تاکید ہے نہ کہ جملہ معترضہ جیسا کہ کہا گیا ہے اس لئے کہ اس صورت میں لام تاکید کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ قولہ : یتمنی، یَوَدُّ ، کی تفسیر یتمنٰی، سے کرکے اس سوال کا جواب دینا مقصد ہے کہ : وِدَاد، موجود اشیائ میں ہوا کرتا ہے نہ کہ معدوم میں، اور درازی عمر کی تمنا معدومات میں سے ہے۔ جواب : مُزَحْزِحِہٖ ، اسم فاعل واحد مذکر، دور کرنے والا، مصدر زحزحَۃٌ، بروزن فَعْلَلۃٌ، دور کرنا ثلاثی مجرد زَحَّ ، زَحًّا، (ن) دور کرنا۔ اللغۃ والبلاغۃ (1) وَرَآءَ ، وھو مِن ظروف مکانٍ ، والمشھور اَنَّہ بمعنی خلفٍ وقد تکون بمعنی اَمَامٍ فھو من الاضداد۔ (2) اِذَا سَبَقَ مَا الاستفھامیۃ حرف جر حذفت الفھا، وَنَزلت الکلمتان منزلۃ الکلمۃ الواحدۃ، فتقول : اِلامَ ، حتامَ ، لِمَ ، بِمَ ، عَمَّ ۔ (3) زُحْرِحَ ، یستعمل متعدًیا ولا زمًا، و تکرار الحروف بمثابۃ تکرارِ العمل۔ (4) الکنایۃ الف سنۃ وہی کنایۃ عن الکثرۃ فلیس المراد خصوص الف۔ تفسیر و تشریح وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ آمِنُوْا، (الآیۃ) یہ بنی اسرائیل کا ذکر چل رہا ہے اور یہ بات ان ہی سے کہی جا رہی ہے کہ : آخری کتاب الہٰی، قرآن پر ایمان لاؤ، یہود چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر نازل کردہ کتاب انجیل پر بھی ایمان نہیں رکھتے تھے، اس لئے اس دعوت ایمان میں انجیل اور قرآن دونوں شامل ہیں : ” بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ “ کے عموم سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے، اس کے جواب میں بنی اسرائیل کہا کرتے تھے، کہ ہماری قوم کے لئے جو کتاب نازل کی گئی ہے، وہ ہمارے لئے کافی ہے کسی دوسری کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ وَیَکْفُرُوْنَ بِمَآ وَرَآءَہٗ ، یہود کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اسرائیلی سلسلہ سے باہر کسی اور نبی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، ایک عرصہ تک الطاف الہٰی اور انعامات خداوندی کے مورد خاص بنے رہے اور اسی نسل کے اندر مسلسل انبیاء کے مبعوث ہونے کی وجہ سے ان کے دل میں یہ بات جم گئی ہے کہ : نبوت خاندان اسرائیل سے باہر نہیں جاسکتی۔ قَلْ فَلِمَ یَقْتُلُوْنَ اَنْبِیآءَ اللہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِئْنَ ، یہ یہود کے اس دعوت کی تردید ہے کہ ہم تورات پر ایمان رکھتے ہیں ہمیں کسی اور کتاب پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے، یعنی آپ ان سے کہئے کہ : تمہارا تورات پر ایمان کا دعوی بھی صحیح نہیں ہے، اگر تمہارا دعوی صحیح ہوتا تم انبیاء سابقین کو قتل نہ کرتے، اس لئے کہ تورات میں انبیاء کے قتل سے تم کو صراحۃً منع کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی تمہارا انکار محض حسد اور عناد پر مبنی ہے۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے ( کوہ طور پر جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

وَلَقَدْ جَآءَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبِیّنٰتِ ، (الآیۃ) یہ ان کے انکار وعناد کی دلیل کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واضح معجزات اور دلائل قاطعہ اس بات پر لے کر آئے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ کہ معبود صرف اللہ ہی ہے، لیکن اس کے باوجود تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تنگ کیا اور الہٰ واحد کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے اسکو زور سے پکڑو اور (جو تمہیں حکم ہوتا ہے اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں اور انکے کفر کے سبب بچھڑا گویا ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ ، (الآیۃ) یہ یہود کے کفر و انکار کی انتہاء کا بیان ہے چونکہ پہاڑ سروں پر معلق تھا جان کے خوف سے زبان سے تو اقرار کرلیا کہ سن لیا یعنی اطاعت کریں گے اور دل میں یہ نیت تھی کہ ہم کو عمل کرنا نہیں ہے یا بعد میں کہہ دیا نہ مانیں گے۔ وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمْ الْعِجْلَ یہاں سے ان کے کفر و انکار کی وجہ بیان کی جارہی ہے، وجہ اس کی یہ تھی کہ مدتوں مصر میں غلامانہ زندگی گزارنے کی وجہ سے صورت پرستی ان کے دلوں میں بھی راسخ ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے ان کے قلوب زنگ آلود ہو کر قبولیت حق کی صلاحیت کھو چکے تھے، اس لئے کہ اول تو محبت خود ایسی چیز ہوتی ہے کہ انسان کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے، دوسرے بچھڑے کی محبت کو اَشْرِبُوْا سے تعبیر کیا گیا کیونکہ پانی انسان کے رگ و ریشہ میں خوب سرایت کرتا ہے بہ نسبت کھانے کے، اس عصیان اور گاؤ پرستی کی وجہ ان کا وہ کفر تھا جو ان کے دلوں میں گھر کرچکا تھا۔
Ayahs 2:94–96

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لئے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لئے مخصوص ہے اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

لیکن ان اعمال کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے ؟ کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان کو دیکھ رہا ہے

دعوت مباہلہ : قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الآخِرَۃُ عِنْدِ اللہِ خَالِصَۃً ، (الآیۃ) حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر دعوت مباھلہ سے کی ہے یعنی یہودیوں سے کہا گیا کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اللہ سے دعوائے محبت میں سچے ہو تو مباہلہ کرلو، یعنی اللہ کی بارگاہ میں مسلمان اور یہودی دونوں مل کر یہ عرض کریں کہ : یا اللہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اسے موت سے ہمکنار کر دے یہی دعوت انہیں سورة جمعہ میں بھی دی گئی ہے، نجران کے عیسائیوں کو بھی دعوت مباہلہ دی گئی تھی، جیسا کہ آل عمران میں ہے، لیکن چونکہ یہود بھی عیسائیوں کی طرح چھوٹے تھے، اس لئے عیسائیوں کی طرح یہودیوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہرگز موت کی آرزو نہ کریں گے حافظ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلیٰ حَیٰوۃٍ ، اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ موت کی تمنا تو کجا ؟ یہ دنیوی زندگی کے تمام لوگوں سے حتی کہ مشرکین سے بھی زیادہ حریص ہیں لیکن عمر کی یہ درازی ان کو عذاب الہٰی سے نہیں بچا سکے گی۔ اب آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود اپنے دعوؤں میں یکسر جھوٹے تھے، کہ وہ اللہ کے محبوب ہیں یا جنت کے مستحق صرف وہی ہیں اور دوسرے سب جہنمی ہیں کیونکہ اگر فی الواقع ایسا ہوتا تو یقیناً وہ موت کی تمنا کرنے پر آمادہ ہوجاتے، تاکہ ان کی سچائی واضح اور مسلمانوں کی غلطی آشکارا ہوجاتی موت کی تمنا سے اعراض اور گریز۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ زبان سے اپنے بارے میں خوش کن باتیں کرلیتے ہیں، لیکن وہ اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ : اللہ کی بارگاہ میں جانے کے بعد ان کا حشر وہی ہوگا، جو اللہ نے اپنے نافرمانوں کے لئے طے رکھا ہے۔
Ayah 2:97

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مرجانا چاہئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

آیت نمبر 97 تا 101 ترجمہ : ابن صوریا نے نبی ﷺ سے یا حضرت عمر ؓ سے سوال کیا کہ کونسا فرشتہ وحی لے کر آتا ہے ؟ جواب دیا جبرائیل (علیہ السلام) ، تو اس نے کہا وہ تو ہمارا دشمن ہے، اس لئے کہ وہ عذاب لے کر آتا ہے اگر (وحی لانے والا) فرشتہ میکائیل ہوتا تو ہم ایمان لے آتے، اس لئے کہ وہ خوشحالی اور سلامتی لے کر آتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی، آپ ان سے کہہ دیجئے، جو جبرئیل کا دشمن ہو، تو اس کو چاہیے کہ غصہ میں مرجائے، بیشک اس (جبرئیل) نے ہی تو قرآن اللہ کے حکم سے آپ کے قلب پر اتارا ہے جو (قرآن) سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور مومنوں کو راہ ہدایت دکھانے والا اور جنت کی خوشخبری سنانے والا ہے اور جو بھی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرئیل کا، جبرئیل، جیم کے کسرہ اور اس کے فتحہ کے ساتھ ہے، بغیر ہمزہ کے اور مع ہمزہ کے اور یاء کے اور بغیر، یاء کے ہے اور میکائل کا دشمن ہو اس کا عطف ملائکہ پر عطف خاص علی العام کے طور پر ہے اور ایک قراءت میں میکائیل ہمزہ اور یاء کے ساتھ ہے اور دوسری میں بغیر یاء کے پاس ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے، (لفظ کافِرِیْنَ ) کو، لَھُمْ ، ضمیر کی جگہ ان کی (حالت کفر) کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے اور اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے آپ پر روشن دلیلیں نازل کی ہیں، (بَیّنٰت) اٰیٰتٍ ، سے حال ہے یہ ابن صوریا کی اس بات کا جواب ہے کہ آپ ہمارے پاس کوئی شئی لے کر نہیں آئے، جن کا انکار فاسقوں کے سوا کوئی نہیں کرتا، (صرف) فاسق ہی اس کا انکار کرتے ہیں ان لوگوں نے نبی پر ایمان لانے کے بارے میں اگر وہ ظاہر ہو جب بھی اللہ سے کوئی عہد کیا یا نبی سے عہد کہ اس کے خلاف مشرکوں کو مدد نہ کریں گے تو ان میں سے ایک فریق نے اس عہد کو توڑ کر پس پشت ڈال دیا (نَبَذْہٗ ) کلّما کا جواب ہے اور یہی استفہام انکاری کا محل ہے، بلکہ بَلْ انتقال (اضراب) کے لئے ہے۔ ان میں سے اکثر ایمان ہی نہیں رکھتے، اور جب ان کے پاس ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا رسول (محمد ﷺ اللہ کی طرف سے آیا، تو ان اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اللہ کی کتاب تورات کو پس پشت ڈال دیا، یعنی اس میں رسول پر ایمان لانے وغیرہ کے جو احکام تھے، ان پر عمل نہ کیا، گویا کہ وہ یہ بات کہ یہ نبی برحق ہے یا یہ کہ یہ اللہ کی کتاب ہے جانتے ہی نہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ابن صوریا، عبد اللہ بن صوریا، فدک کے باشندہ ایک یہودی عالم کا نام ہے۔ (روح البیان، جمل) قولہ : جِبرئیل، جبریل (علیہ السلام) اللہ کے ایک مقرب فرشتے کا نام ہے، جبرئیل کے تلفظ میں تیرہ لغات ہیں مگر ان میں بیشتر شاذ ہیں : (1) جِبْرِیْل، جیم کے زیر کے ساتھ۔ (2) جَبْرِیْل، جیم کے زبر کے ساتھ، (3) جِبْرَئِیل، بروزن خَنْدَرِیر، (4) جَبْرَئِل، ہمزہ کے بعد یاء نہیں، (5) جَبْرَئِلَّ لام مشدد، (6) جِبْرِائِل، (7) جَبْرَال، (8) جَبْرَیِلُ ، (9) جِبْرَیَیِلْ ، دو یاء پہلی مفتوح، (10) جِبْرین، (11) جِبْرِیْلَ ، (12) جبرائین۔ (لغات القرآن) جِبْرِیْل، بمعنی عبد اللہ، بندہ خدا، جبر، بندہ، ایل، اللہ، یہ عجمی لفظ ہے، عجمہ اور علم ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے اور میکائیل بمعنی عبید اللہ ہے۔ قولہ : فَلْیَمُتْ غَیْظًا، اس جملہ کو محذوف ماننے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مَنْ کان میں، مَنْ شرطیہ ہے، فَلْیمُتْ ، اس کی جزاء محذوف ہے۔ قولہ : فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ ، یہ علت جزاء ہے نہ کہ جزاء اس لئے کہ جزاء جب جملہ ہو، تو اس میں عائد کا ہونا ضروری ہے جو موجود نہیں ہے۔ قولہ : ای القرآن، نَزّلَہٗ کی ضمیر کے بارے میں چونکہ احتمال تھا کہ جبرئیل کی طرف راجع ہو، مگر یہ معنی کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، اس لئے اَلْقرآن کہہ کر مرجع متعین کردیا اگرچہ ماقبل میں قرآن مذکور نہیں ہے، مگر المشھور کالمذکور کے قاعدہ سے اضمار قبل الذکر لازم نہیں آتا۔ قولہ : اَوْقَعَہٗ مَوقِعَ لَھُمْ ، بَیَانًا لِحَالِھِمْ ، یعنی عَدُوٌّ للکافرین، کہنے کے بجائے، عَدُوٌّ لَّھُمْ کہنا کافی تھا، اس لئے کہ ان کا ذکر سابق میں گزر چکا ہے، مگر چونکہ ان کی عادت شنیعہ اور خصلت قبیحہ کو بیان کرنا مقصود تھا کہ عداوت ملائکہ کی وجہ سے یہ کافر ہوگئے، اس لئے ضمیر کے بجائے اسم ظاہر لائے۔ قولہ : رَدٌّ لقول ابن صوریا الخ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد معطوف علیہ جو کہ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ ہے اور معطوف جو کہ وَمَا یَکْفُرُ بِھَآ اِلاَّ الْفَاسِقُوْنَ ، ہے کہ درمیان جملہ معترضہ کو لانے کے نکتے کو بیان کرنا ہے۔ قولہ : اَوِ النَّبِی، اس کا عطف، اللہ پر ہے اور اس کا مقصد دوسری تفسیر کی طرف اشارہ کرنا ہے، یعنی یہود نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ جب نبی آخر الزمان کا ظہور ہوگا تو ہم اس پر ایمان لائیں گے یا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ آپ کے خلاف مشرکین کا تعاون نہ کریں گے۔ قولہ : اَوَکُلَّمَا، ہمزہ استفہام انکاری ہے واؤ عاطفہ ہے، معطوف علیہ محذوف ہے، اس کی تقدیر یہ ہے، اَکَفروا بایات اللہ البینات، کُلَّما، ظرف زمان متضمن بمعنی شرط۔ قولہ : نَبَذَ فَرِیْقٌ، جملہ ہو کر جواب شرط، کتابَ اللہ، نَبَذَ ، کا مفعول اول اور وَراءَ ظھورھِمْ ، مفعول ثانی ہے اس لئے کہ نَبَذَ ، جَعَلَ کے معنی کو متضمن ہے، اور استفہام انکاری کا محل بھی یہی ہے، یعنی ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو پس پشت ڈالنا نہیں چاہیے تھا۔ تفسیر و تشریح شان نزول : قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ ، (الآیۃ) اس بات پر اتفاق ہے کہ : یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ” ققال ابن جریر الطبری اجمع اہل التاویل جمیعا أنّ ھذہ الآیۃ، نزلت جوابًا علی الیھود اِذَا زَعَمُوا أن جبریل عدولھم وَان میکال ولی لَھُمْ “ سبب نزول کے واقعہ کے بارے میں روایات مختلف ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ : اس آیت کے نزول کا سبب وہ گفتگو ہوئی جو نبی کریم ﷺ اور یہود کے درمیان ہوئی۔ احمد اور عبد بن حمید وغیرہما نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہود کی ایک جماعت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے ابو القاسم ہمارے چند سوالوں کا جواب دیجئے، جن کا جواب سوائے نبی کے کوئی نہیں دے سکتا، آپ ﷺ نے فرمایا آپ کو جو مرضی ہو سوال کرو، چناچہ جو چاہا سوال کیا اور آپ ﷺ نے جواب دیا پھر آخر میں ان لوگوں نے کہا : ” مَنْ وَلِیُّکَ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ “ آپ ﷺ نے جواب دیا : وَلِیّ جِبْرِیْلُ میرے دوست جبرئیل ہیں، اور جبرئیل ہر نبی کے دوست رہے ہیں۔ تو یہود کی جماعت نے کہا ہم آپ کی بات نہیں مانتے اگر جبریل کے علاوہ اور کوئی فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہم آپ پر ایمان لاتے، آپ ﷺ نے فرمایا اس کی کیا وجہ ہے ؟ جماعت نے جواب دیا جبرائیل تو دشمن ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر شوکانی) اسی قسم کی ایک روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں عمر بن الخطاب ؓ سے روایت کی ہے، ابن ابی شیبہ اور احمد وغیرہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن سلام نے جب آپ ﷺ کی تشریف آوری کی خبر سنی حال یہ کہ وہ ایک باغ میں تھے، تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں آپ سے تین سوال کرنا چاہتا ہوں جن کا جواب نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا، (1) قیامت کی پہلی علامت کیا ہے ؟ (2) اور جنتیوں کو سب سے پہلے کیا کھانا ملے گا ؟ (3) اور بچہ اپنے والد یا پنی والدہ کے کس وجہ سے مشابہ ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، جبرائیل (علیہ السلام) ابھی ابھی تشریف لائے تھے، تو انہوں نے مجھے بتایا، عبد اللہ بن سلام نے کہا، جبرئیل نے ! آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عبد اللہ بن سلام نے کہا وہ تو یہود کا دشمن ہے، تو آپ ﷺ نے یہ آیت : ” مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ عَلیٰ قَلْبِکَ “ تلاوت فرمائی۔ مذکورہ تینوں سوالوں کے جوابات : (1) قیامت کی شرط (نشانی) آگ کا مشرق کی جانب سے نکلنا ہے جو لوگوں کو مغرب کی جانب جمع کر دے گی۔ (2) جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کے جگر کے کباب ہوں۔ (3) مرد اور عورت میں سے جس کا مادہ سبقت کرجاتا ہے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے، تو عبد اللہ بن سلام نے کہا : ” اَشْھَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلّآ اللہُ وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہِ “۔ فائدہ : جبرئیل اسلام اصطلاح میں ایک عظیم و باوقار فرشتے کا نام ہے انبیاء (علیہم السلام) تک وحی پہنچانے کی خدمت ان ہی کے سپرد ہے انسان خواہ کتنا ہی مقبول و برگزیدہ ہو بشر ہی ہوتا ہے جسم خاکی رکھتا ہے، اس کے محدود اور کثیف خاکی قویٰ علی العموم اتنا تحمل نہیں رکھتے کہ براہ راست تجلیات لا ہوتی کی شعاعوں کو قبول کرسکیں، اس غرض کے لئے عموماً لطیف الجسم نور سے بنے ہوئے فرشتوں سے سفارت و توسط کا کام لیا جاتا ہے، یہود بھی وجود ملائکہ کے قائل تھے، حضرت جبرئیل کے متعلق ان کا خیال خام یہ تھا کہ وہ فرشتہ سے سفارت و توسط کا کام لیا جاتا ہے، یہود بھی وجود ملائکہ کے قائل تھے، حضرت جبرئیل کے متعلق ان کا خیال خام یہ تھا کہ وہ فرشتہ عذاب ہے ان کا کام وحی نہیں بلکہ عذاب لانا ہے وحی لانا حضرت میکائیل کا کام ہے اپنے ان ہی مفروضہ مقدمات کی وجہ سے آپ ﷺ پر معترض تھے کہ یہ نئے نبی اپنی نبوت کے سلسلہ میں حضرت جبرئیل کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ یہاں ان کی اسی غلط اندیشی سے تعرض کیا جا رہا ہے، آج بھی یہود جبرئیل کو میکائیل کس ہمسر نہیں مانتے۔ (ماجدی ملخصا)
Ayahs 2:98–99

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل کا اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بد کردار ہیں

” مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ “ (الآیۃ) اللہ تعالیٰ یہود کے جواب میں فرماتے ہیں، یہ سب میرے مقبول بندے ہیں، جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے، حدیث شریف میں ہے : ” مَنْ عَادی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَادَرَنِیْ بِالْحَرْبِ “۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق)
Ayahs 2:100–101

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

ان لوگوں نے جب جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اسکو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بےایمان ہیں

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے پیغمبر (آخرالزمان ﷺ آئے اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی تصدیق بھی کرتے ہیں تو جن لوگوں کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا وہ جانتے ہی نہیں

اَوَکُلَّمَا عٰھُدُوْا عَھَدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ ، یعنی ان کی پرانی عادت ہے کہ : جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد معاہدہ یا قول وقرار کرتے ہیں، تو ان میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے، بلکہ بہت سے یہودی ایسے بھی ہیں جو تورات پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔