2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:246–247

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں ؟ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھرگئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر (فضیلت دی ہے اور بادشاہی کیلیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاءِ ، مَلاء، کسی قوم کے ان اشراف اور اہل حل و عقد کو کہا جاتا ہے جو خاص مشیر اور قائد ہوتے ہیں جن کے دیکھنے سے آنکھیں اور دل رعب سے بھر جاتے ہیں، مَلَا، کے لغوی معنی بھرنے کے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) ۔ جس پیغمبر کا یہاں ذکر ہے ان کا نام شمویل بتلایا جاتا ہے، ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کچھ بعد تک تو ٹھیک رہے پھر ان میں انحراف آگیا دین میں بدعات ایجاد کرلیں حتیٰ کہ بتوں کی پوجا شروع کردی، انبیاء ان کو روکتے رہے، لیکن یہ معصیت اور شرک سے باز نہ آئے جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل پر عمالقہ غالب آگئے تھے، اور انہوں نے اسرئیلیوں کے اکثر علاقے چھین لئے تھے، شمویل نے یہ ضرورت محسوس کی کہ کوئی اور شخص ان کا سربرارہ ہو جس کی قیادت میں وہ جنگ کرسکیں، لیکن اس وقت بنی اسرائیل میں بہت زیادہ جاہلیت آچکی تھی اور وہ غیر مسلموں کے طور و طریقوں سے اتنے متاثر ہوچکے تھے، کہ خلافت اور بادشاہی کا فرق ان کے ذہنوں سے نکل گیا تھا، اس لئے انہوں نے خلیفہ کے تقرر کے بجائے بادشاہ کے تقرر کی درخواست کی تاکہ اس کی قیادت میں ہم دشمنوں سے لڑیں پیغمبر نے ان کے سابقہ کردار کے پیش نظر کہا کہ تم مطالبہ تو کر رہے ہو، لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ تم اپنی بات پر قائم نہ رہ سکو گے، چناچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ قرآن نے بیان کیا۔ فائدہ : نبی کی موجودگی میں بادشاہ مقرر کرنے کا مطالبہ بادشاہت کے جواز کی دلیل ہے کیونکہ اگر بادشاہت جائز نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس مطالبہ کو رد فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مطالبہ کو رد نہیں فرمایا بلکہ طالوت کو ان کے لئے بادشاہ مقرر فرمایا۔ حضرت طالوت اس نسل سے نہیں تھے جس نسل سے بنی اسرائیل کے بادشاہوں کا سلسلہ چلا آرہا تھا یہ ایک غریب اور عام آدمی تھے، دبّاعی ان کا پیشہ تھا، بائبل میں ان کا نام ساؤل لکھا ہے یہ قبیلہ بن یمین کا ایک تیس سالہ خوبصورت نوجوان تھا، بنی اسرائیل میں اس سے زیادہ کوئی خوبصورت نہیں تھا، اور ایسا قدآور تھا کہ لوگ اس کے کندھے تک آتے تھے، اپنے باپ کے گمشدہ گدھے تلاش کرنے نکلا تھا، راستہ میں جب شمویل نبی کی قیام گاہ کے قریب پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کو اشارہ کردیا کہ یہی وہ شخص ہے کہ جس کو ہم نے بنی اسرائیل کی بادشاہت کے لئے منتخب کیا ہے چناچہ شمویل نبی اس کو اپنے گھر لائے اور نبی اسرائیل کو جمع کر کے اس کی بادشاہی کا اعلان کردیا مگر بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا پیغمبر نے کہا یہ میرا انتخاب نہیں ہے اللہ نے انہیں مقرر کیا ہے علاوہ ازیں قیادت و سیادت کے لئے مال سے زیادہ عقل و علم اور جسمانی قوت و طاقت کی ضرورت ہے اور طالوت ان ابتوں میں تم سے ممتاز ہے، جب ان کو یہ بات بتائی گئی کہ ان کی تقرری اللہ کی طرف سے ہے تو انہوں نے اس پر نشان اور علامت کا مطالبہ کیا تاکہ وہ پوری طرح مطمئن ہوجائیں چناچہ اگلی آیت میں اس نشانی کا بیان ہے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ آیَۃَ مُلْکِہِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ ۔ (الآیۃ) تابوت، جو توب سے مشتق ہے، تاء مجرورہ زائدہ ہے جیسے ملکوت میں، اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل تبرک کے لئے اس کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لئے اس کو تابوت کہا گیا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی) ۔ اس تابوت میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے تبرکات تھے، اس تابوت کو ان کے دشمن عمالقہ چھین کرلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر یہ تابوت فرشتوں کے ذریعہ حضرت طالوت کے دروازہ پر پہنچا دیا جسے دیکھ کر بنی اسرائیل بہت خوش ہوئے اور من جانب اللہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس تابوت کو ان کی فتح و شکست کا سبب قرار دیا۔ فائدہ : اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و صالحین کے تبرکات یقیناً باذن اللہ اہمیت اور افادیت رکھتے ہیں بشرطیکہ وہ واقعی تبرکات ہوں جس طرح اس تابوت میں یقیناً حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے تبرکات تھے، لیکن محض جھوٹی نسبت سے کوئی چیز متبرک نہیں ہوجاتی، جس طرح آج کل، تبرکات کے نام پر کئی مقامات پر مختلف چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن کا تاریخی طور پر پورا ثبوت نہیں ہے اسی طرح خود ساختہ چیزوں سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوسکتا، جس طرح بعض لوگ نبی ﷺ کے نعلین مبارک کی تمثال بنا کر اپنے پاس رکھنے کو یا گھر میں لٹکانے کو قضائے حاجات اور دفع بلیات کے لئے اکسیر سمجھتے ہیں، اسی طرح قبروں پر بزرگوں کے ناموں کی نذر و نیاز کی چیزوں کو متبرک سمجھتے ہیں مزاروں کو غسل دیا جاتا ہے اور اس کے پانی کو متبرک سمجھا جاتا ہے، بہرحال یہ سب باتیں غلط ہیں جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔ فائدہ : مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تقریباً تین صدی بعد اور حضرت داؤد (علیہ السلام) سے کچھ ہی پہلے، جب کہ سن عیسوی کے آغاز میں ابھی تقریباً ہزار گیارہ سو سال کی مدت باقی تھی حضرت شمویل (علیہ السلام) کا زمانہ 1100 ق م تا 1020 ق م کا زمانہ ہے ملک شام قدیم میں ایک کوہستانی علاقہ افرائیم نام کا تھا، اس کے شہر رامہ میں آپ رہتے تھے، بنو اسرائیل اس دور میں خاص طور سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اور جنگ میں ان سے عاجز آچکے تھے، تورات میں اس کی صراحت موجود ہے کہ حضرت شمویل اس وقت بہت بوڑھے ہوچکے تھے، اور آپ کے صاحبزادوں میں امارات و سرداری کی کوئی صلاحیت نہ تھی۔ تابوت سکینہ : اس تابوت کا خاص اصطلاحی نام، تابوت سکینہ تھا، یہ بنی اسرائیل کا اہم ترین ملی اور قومی سرمایہ تھا، اس میں تورات کا اصل نسخہ مع انبیاء (علیہم السلام) کے تبرکات کے محفوظ تھا، اسرائیلی اس کو نہایت برکت و تقدیس کی چیز سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ انتہائی احترام کا برتاؤ کرتے تھے، جنگ و امن میں اسے اپنے ساتھ رکھتے تھے سائز میں یہ کوئی بہت بڑا نہ تھا، موجودہ علماء یہود کی تحقیق کے مطابق اس کی پیمائش حسب ذیل تھی۔ طول 2/1 2 فٹ۔۔۔۔۔ عرض 2/1 1 فٹ۔۔۔۔۔ اونچائی 2/1 1 فٹ بنی اسرائیل اپنی ساری خوش بختی اسی کے ساتھ وابستہ سمجھتے تھے، ایک جنت کے موقع پر فلسطینی مشرک اسے چھین کرلے گئے، اسرائیل اس بات کو اپنے حق میں انتہائی نحوست اور بدشگوفی سمجھتے تھے اس کی واپسی کے لئے نہایت بیتاب اوعر مضطرب رہتے تھے، لیکن یہ تابوت مشرکین کے جس شہر اور جس بستی میں رکھا گیا وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں آخر کار انہوں نے خوف کے مارے ایک بیک گاڑی پر رکھ کر گاڑی کو ہانک دیا، غالباً اسی صورت حال کو قرآن نے : ” تَحْمِلُہُ الْمَلَائِکَۃُ “ سے تعبیر کیا ہے یعنی وہ صندوق فرشتوں کی حفاظت میں تھا کیونکہ وہ گاڑی بغیر کسی گاڑی بان کے ہانک دی گئی تھی اور اللہ کے حکم سے یہ فرشتوں ہی کا کام تھا کہ وہ اسے چلا کر بنی اسرائیل کی طرف لے آئے جب صندوق واپس آگیا تو اس قوم کے لئے بڑی تقویت قلبی کا موجب بنا جس سے ان کی ٹوٹی ہمتیں پھر بندھ گئیں۔ تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت طالوت کے زمانہ میں یہ تابوت واپس آنے کے بعد بنی اسرائیل کے قبضہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) متوفی 933 ق م، تک رہا اور آپ نے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد اسی میں اس تابوت کو بھی رکھ دیا تھا اور اس کے بعد سے اس کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں گیا ؟ یہود کا عام خیال یہ ہے کہ یہ تابوت اب بھی ہیکل سلیمانی کی بنیادوں کے اندر دفن ہے۔
Ayahs 2:249–252

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائیگا کہ) وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائیگا) میرا ہے ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی لے لے (تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر کفار پر فتح یاب کر)

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

آیت نمبر 249 تا 252 ترجمہ : جب حضرت طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلے تو اس وقت شدید گرمی تھی لشکریوں نے طالوت سے پانی کا مطالبہ کیا، تو حضرت طالوت نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا تاکہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان ممتاز ہوجائیں، اور یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا تو وہ میری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے، اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے اِلاَّ یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھرلے، غُرْفۃ فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی جس نے ایک چلو پر اکتفاء کیا، اور اس سے زیادہ نہ پیا تو وہ میرے متبعین میں سے ہے، جب نہر پر پہنچے تو خوب سیراب ہو کر پانی پیا، مگر بہت کم لوگ تھے کہ جنہوں نے ایک چلو ہر اکتفاء کیا اور روایت کیا گیا ہے کہ ان کی اور ان کے جانوروں (گھوڑوں) کی سیرابی کے لئے ایک ہی چلو کافی ہوگیا، اور ان کی تعداد تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی، چناچہ جب حضرت طالوت اور ان کے ساتھی مومنین دریا عبور کر گئے اور یہ وہی تھے جنہوں نے ایک چلو پر اکتفاء کیا تھا تو جن لوگوں نے خوب سیراب ہو کر پیا تھا کہنے لگے کہ آج تو ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کی طاقت نہیں، یعنی ان سے قتال کرنے کی، اور بزدلی دکھا گئے اور نہر کو بھی پار نہیں کیا، اور ان لوگوں نے جو لوگ مرنے کے بعد اللہ سے ملنے پر یقین رکھتے تھے انہوں نے کہا اور یہ وہی لوگ تھے جو نہر کو پار کر گئے تھے کہ بارہا ایسا ہوا ہے، کَمْ ، خبر یہ کثرت کے معنی میں ہے کہ ایک قلیل جماعت اللہ کی مشیت سے ایک بڑی جماعت پر غالب آگئی اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور مدد کے ذریعہ صابرین کا ساتھی ہے اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکریوں سے مقابلہ ہوا یعنی ان سے قتال کرنے کے لئے مقابل ہوئے اور صفت بندی کی گئی تو انہوں نے دعاء مانگی اے ہمارے پروردگار تو ہمیں صبر اور ثابت قدمی عطا فرما جہاد پر ہمارے قلوب کو تقویت دے کر، اور کافر قوم پر ہم کو غلبہ عطا فرما چناچہ ان لوگوں نے اللہ کی مشیت سے جالوتیوں کو شکست دیدی، یعنی ان کو توڑ کر رکھا دیا، اور داؤد (علیہ السلام) نے جو کہ حضرت طالوت کے لشکر میں شریک تھے، جالوت کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو شمویل اور طالوت کے انتقال کے بعد بادشاہت عطا فرمائی اور حکمت نبوت (عطا فرمائی) اور داؤد (علیہ السلام) سے پہلے کسی میں بادشاہت اور نبوت جمع نہیں ہوئیں، اور جو کچھ چاہا علم بھی عطا کیا مثلاً زرہ سازی کی صنعت اور پرندوں کی بولی سمجھنا، اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بوض کے ذریعہ دفع نہ کرتا، بعضھم، من الناس سے بدل البعض ہے تو مشرکین کے غلبہ سے مسلمانوں کو قتل کر کے اور مساجد کو ویران کرکے زمین میں فساد برپا ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل والا ہے کہ بعض کو بعض کے ذریعہ دفع کرتا ہے یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کو ہم اے محمد آپ کو صحیح صحیح سنا رہے ہیں، بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں اِنَّ وغیرہ کے ذریعہ تاکید، کافروں کے اس قول کو رد کرنے کے لئے ہے کہ : آپ ﷺ رسول نہیں ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فَصَلَ ، ای اِنْفَصَلَ ، لازم ہے فَصَلَ کا مفعول چونکہ اکثر محذوف رہتا ہے اس لئے بمنزلہ لازم ہوگیا یہی وجہ ہے کہ اس کے مفعول (بالجنود) پر باء داخل ہے اور اگر متعدی مانا جائے تو اس کا مفعول محذوف ماننا ہوگا، ای فَصَلَ العَسْکَر عن البلد فصولا۔ قولہ : طالوت، بنی اسرائیل کے ایک بااقبال اور صالح بادشاہ کا نام ہے، علم اور عجمہ کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ قولہ : غرفۃ، غین کے ساتھ بمعنی معروف، ایک چلو پانی اور غین کے فتحہ کے ساتھ مصدر برائے مرّۃ ہے۔ قولہ : ای مِن مائہٖ ، یہ حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ نفس نہر کے پینے کا امکان نہیں ہے۔ قولہ : لَمّا وافوہ، من الموافات، ای رسیدن۔ قولہ : بکثرۃٍ ۔ سوال : بکثرۃ مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی۔ جواب : اگر بکثرۃ، کو محذوف نہ مانیں تو اِلَّا قلیلاً منہُ کا مستثنیٰ درست نہ ہوگا، اس لئے کہ پینے والوں میں قلیل بھی شامل ہیں۔ تفسیر و تشریح فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ ، قوم بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کچھ دن بعد تک تو ٹھیک رہی اس کے بعد احکام شکنی اور تورات کی خلاف ورزی شروع کردی یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے بت پرستی بھی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک ظالم و جابر قوم عمالقہ کو مسلط کردیا جو ان کا تابوت سکینہ بھی لے کر چلا گیا، اس وقت بنی اسرائیل کو اصلاح کی فکر ہوئی تو اپنے زمانہ کے نبی سے جن کا نام شمویل تھا درخواست کی کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر فرما دیں ہم اس کی سر کردگی میں جہاد کریں گے، چناچہ حضرت شمویل نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اللہ تعالیٰ نے دعاء کو شرف قبولیت بخشا اور حضرت طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کرنے کا حکم فرمایا، چناچہ حجرت طالوت کی سرکودگی میں جہاد کی تیاری شروع ہوئی۔ اس زمانہ میں فلسطین کا سربراہ جالوت نام کا ایک شخص تھا یہ شخص بڑا بہادر اور تن و توش کا مالک تھا اس کے ساتھ تقریباً ایک لاکھ لشکر جرار تھا اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح تھا، ایسی صورت میں طالوت نے چاہا کہ اپنی قوت کی آزمائش کرلی جائے تاکہ کم ہمت اور وہ لوگ جو جفاکش نہ ہوں ان کو الگ کردیا جائے چناچہ جس رخ پر اسرائیلیوں کو جانا تھا راستہ میں ایک دریا پڑتا تھا یہ وہی دریا ہے جو جو اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، اس دریا کو عبور کرنا تھا مگر چونکہ حضرت طالوت کا معلوم تھا کہ اس قوم میں انضباط اور ڈسپلن بہت کم رہ گیا ہے اس لئے اس نے کارآمد اور ناکارہ لوگوں کو ممیز کرنے کے لئے یہ آزمائش تجویز کی کہ کوئی شخص دریا سے پانی نہ پیئے جو پانی پیئے گا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں اور جو پانی نہیں پیئے گا وہ میرا ہے اصل حکم تو یہی ہے کہ بالکل پانی کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے مگر رخصت کے طور پر اس کی اجازت ہے کہ ایک آدھ چلو گلا تر کرنے کے لئے پی لیا جائے تو مضائقہ نہیں چناچہ اکثر لوگوں نے خوب سیراب ہو کر پانی پیا چونکہ گرمی کا موسم تھا گرمی شدید تھی یہ لوگ پانی پر بےتحاشا ٹوٹ پڑے ایک بہت چھوٹی سی جماعت جس کی تعداد تین سو تیرہ اصحاب بدر کے برابر بتائی جاتی ہے اپنے عزم پر قائم رہی چناچہ جن لوگوں نے خوب پیٹ بھر کر پانی پی لیا تھا وہ دریا بھی عبور نہ کرسکے، صرف وہی لوگ دریا عبور کرکے دشمن کے مقابلہ پر پہنچے جنہوں نے پانی نہیں پیا تھا، یا کم پیا تھا۔ داؤد (علیہ السلام) اس وقت ایک کم سن کو نوجوان تھے، اتفاق سے طالوت کے لشکر میں عین اس وقت پہنچے کہ جب فلسطینیوں کی فوج کا گران ڈیل پہلوان جالوت بنی اسرائیل کی فوج کو دعوت مبازرت دے رہا تھا، اور اسرائیلیوں میں کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اس کے مقابلہ کے لئے نکلے، حضرت داؤد (علیہ السلام) جو ابھی کم سن ہی تھے، اور نبوت اور بادشاہت بھی ان کو ابھی نہیں ملی تھی۔ موقع پر پہنچ گئے، داؤد بن ایشا اپنے بھائیوں میں کوتاہ قد اور کم رو تھے، بکریاں چرایا کرتے تھے، جب طالوت نے فوج کشی کی تو یہ بھی شریک جنگ ہونے کے لئے روانہ ہوئے ان کو راستہ میں ایک پتھر ملا پتھر بولا اے داؤد مجھے اٹھالو میں حضرت ہارون کا پتھر ہوں مجھ سے بہت سے بادشاہ قتل کئے گئے ہیں داؤد (علیہ السلام) نے اٹھا کر اس کو اپنے تھیلے میں ڈال لیا پھر دوسرا پتھر ملا اس نے کہا میں حضرت موسیٰ کا پتھر ہوں فلاں فلاں بادشاہ مجھ سے مارے گئے اسے بھی اپنی تھیلی میں اٹھا کر رکھ لیا پھر ایک تیسرا پتھر ملا اس نے کہا مجھے اٹھالو جالوت کی موت مجھ سے ہی ہے چناچہ حضرت داؤد نے تیسرا پتھر بھی اٹھا لیا۔ ادھر جالوت میدان میں آیا اور مبارز طلب کیا اس کی قوت اور ہیبت سے لوگ خائف تھے طالوت نے کہا جو اسے قتل کر دے گا میں اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کردوں گا داؤد (علیہ السلام) مقابلہ کے لئے نکلے طالوت نے اپنا گھوڑا اور سازو سامان دیا تھوڑی دور چل کر داؤد (علیہ السلام) واپس آئے اور کہا اگر اللہ میری مدد نہ کرے تو یہ سازوسامان کچھ کام نہیں آسکتا، میں اپنی اسی بےسامانی سے لڑوں گا، پھر داؤد اپنا تھیلا اور گوپھن لے کر میدان میں آئے جالوت نے کہا تو مجھ سے اس پتھر سے لڑنے آیا ہے جیسے کوئی کتے کو مارتا ہے، داؤد (علیہ السلام) نے کہا تو کتے سے بھی زیادہ شریر اور خبیث ہے، جالوت غضبناک ہو کر بولا کہ میں یقیناً تیرا گوشت زمین کے درندوں اور آسمان کے پرندوں میں تقسیم کردوں گا حضرت داؤد نے جواب دیا اللہ تیرا ہی گوشت بانٹے گا پتھر نکالا اور کہا بسم اللہ اِلٰہ ابراہیم، اور گوپھن میں رکھا پھر دوسرا پتھر نکالا اور کہا بسم اللہ اِلٰہ اسحاق اس کو بھی گوپھن میں رکھا اس کے بعد تیسرا پتھر نکالا اور کہا بسم اللہ الٰہ یعقوب اس کو بھی گوپھن میں رکھا، پھر گوپھن گھما کر مارا ایک پتھر جالوت کے مغز پر لگا جس کی وجہ سے اس کا بھیجا نکل پڑا تیس آدمی اس کے ساتھ اور ہلاک ہوئے۔ حاصل یہ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کا سر کاٹا اور اس کی انگلی سے انگوٹھی نکالی اور طالوت کے سامنے پیش کی مومنین خوشی کے ساتھ فتحیاب ہو کر واپس ہوئے طالوت نے اپنی لڑکی کا نکاح داؤد (علیہ السلام) سے کردیا، حق تعالیٰ نے بعد میں داؤد (علیہ السلام) کو خلافت اور نبوت عطا فرمائی۔ (فتح القدیر شوکانی ملخصًا، فوائد عثمانی خلاصۃ التفاسیر للتائب)
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتا) بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی اور اگر خدا چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاش کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

آیت نمبر 253 ترجمہ : یہ حضرات مرسلین (کی جماعت) ایسی ہے کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت بخشی۔ تِلْکَ موصوف، الُّرسلُ صفت، موصوف باصفت مبتداء، فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ علیٰ بَعْضٍ اس کی خبر، ان میں سے بعض کو ایسی منقبت کے ساتھ خاص کرکے کہ جو دوسروں کو حاصل نہیں تھی، ان میں بعض ایسے ہیں کہ اللہ (بلاواسطہ) ان سے ہم کلام ہوا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان میں سے بعض یعنی محمد ﷺ کو بدر جہا دوسروں پر فوقیت بخشی (جن و انس کے لیے آپ کی) دعوت کے عام ہونے کی وجہ سے اور آپ پر (سلسلہ) نبوت کے ختم ہونے کی وجہ سے اور آپ کی امت کو دیگر تمام امتوں پر فضیلت دینے کی وجہ سے، اور معجزات کثیرہ کی وجہ سے اور (دیگر) متعدد خصوصیات کی وجہ سے، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلے معجزات عطا کئے، اور ہم نے اس کو روح القدس (یعنی جبرئیل) کے ذریعہ تقویت دی، کہ (جبرئیل) ان کے ساتھ چلتے تھے جہاں وہ جاتے تھے، اگر اللہ کو تمام لوگوں کی ہدایت منظور ہوتی تو وہ لوگ جو رسولوں کے بعد ہوئے یعنی ان کی امتیں، ان کے اختلاف اور بعض کے بعض کو گمراہ قرار دینے کی وجہ سے، باہم قتل و قتال نہ کرتے، بعد اس کے کہ پاس دلائل پہنچ چکے تھے، لیکن وہ لوگ مشیت الہیٰ کے سبب سے باہم مختلف ہوئے، سو ان میں سے بعض ایمان لائے یعنی اپنے ایمان پر قائم رہے، اور بعض کافر ہوئے جیسا کہ مسیح (علیہ السلام) کے بعد نصاری، اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ باہم اختلاف نہ کرتے یہ (ماقبل کی) تاکید ہے لیکن اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے (خیر کی) توفیق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کرتا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : تَلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ اگر تِلْکَ کا مشار الیہ جماعت انبیاء مذکورین ہیں جو اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ میں یا پوری سورت میں مذکور ہوئے ہیں تو ” اَلرُّسُلُ “ پر الف لام عہد کا ہوگا۔ اور اگر جمیع انبیاء مراد ہیں تو الف لام استغراق کا ہوگا۔ سوال : تِلْکَ ، اسم اشارہ بعیدہ کا استعمال کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : یا تو بعد زمانی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے یا پھر عند اللہ عُلوِ مراتب کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ قولہ : صفۃٌ مفسر علام نے ” الرُسُلُ “ کو ” تلک “ کی صفت قرار دیا ہے اور موصوف صفت سے مل کر مبتداء ہے ” الرسل “ سے عطف بیان اور بدل بھی ہوسکتا ہے اس لیے کہ مشار الیہ پر جب الف لام داخل ہوتا ہے تو اس کا صفت اور عطف بیان اور بدل تینوں واقع ہونا درست ہوتا ہے۔ قولہ : فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ ، تِلْکَ ، مبتداء کی خبر ہے، جیسا کہ مفسر علام نے فرمایا ہے۔ سوال : اَلرُّسُلُ کو خبر اول اور فَضّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ کو خبر ثانی قرار دینے کی میں کیا قطاحت ہے ؟ جواب : خبر میں اصل چونکہ تنکیر ہے اور اَلرُّسُلُ ، معرفہ ہے اس لئے الرُّسُلُ کو خبر قرار نہیں دیا۔ سوال : دَرَجات، مے منصوب ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : یا تو مصدر یۃ کی وجہ سے منصوب ہے اس لیے کہ درجات رفعۃً کے معنی میں ہے۔ ای رَفَعَ رفعۃً ، یا رَفَعَ متعدی بالیٰ یا بعلیٰ یا بفی تھا حرف جر کو حذف کردیا جس کی وجہ سے منصوب بنزع الخافض ہوگیا۔ قولہ : بِمَنْقَبَۃٍ ، میم کے فے حہ کے ساتھ، ما یُفْخربہٖ ، (یعنی مفاخر و محاسن) ۔ قولہ : ھَدَی الناس جمیعًا۔ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ، لَوْشاء فعل متعدی ہے اور مفعول اس کا محذوف ہے۔ سوال : ظاہر اور متبادر یہ ہے کہ مشیئۃ کا مفعول وہ ہوتا ہے جو جزاء سے مفہوم و مستفاد ہوتا ہے (کما فی کتب المعانی) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” لَوْشَآءَ اللہُ لَھَدَاکُمْ “ میں۔ اس کی تقدیر ” لَوْشَآءَ اللہُ ھِدَایَتَکُمْ لَھَدَاکُمْ “ ہے مفعول کو جزاء سے مستفاد ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے، اور وہ ” ھدایتکم “ ہے اس قاعدہ کی روشنی میں تقدیر عبارت یہ ہونی چاہیے، ” لَوْ شَآءَ اللہُ عدمَ القتال مَا اقْتَتَلُوْا “ مگر مفسرعلام نے جزاء سے غیر مفہوم مفعول محذوف مانا ہے جو کہ ھَدَی الناسَ جمیعا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مفسر علام مذکورہ قاعدہ سے اس جگہ متفق نہیں ہیں، اس میں کیا نکتہ ہے ؟ نکتہ جواب : جزاء جو کہ مَااقْتَتَلَ ہے، سے جو مفعول مستفاد ہو رہا ہے وہ عدم القتال ہے، اور معدوم شئ سے مشیت اور ارادہ متعلق نہیں ہوتے بلکہ عدم کے لیے ارادہ وجود کا عدم تعلق کافی ہوتا ہے اسی نکتہ کے پیش نظر مفسر علام نے جزاء سے مفہوم کے علاوہ مفعول محذوف مانا ہے۔ قولہ : بَعْدَ الرُّسُلِ ، اس اضافہ کا مقصد، ھُمْ ، ضمیر کے مرجع کی وضاحت ہے۔ قولہ : ای اممھم یہ اَلَّذِین کی تفسیر ہے۔ قولہ : مِنْ بعدِ مَا جَآءَتْھُمْ الْبَیِّنٰتُ ، مِنْ بِعدِھِمْ سے بدل ہے۔ قولہ : لِاِختِلافِھِمْ ، اس کا تعلق اِقْتَتَلَ سے ہے۔ قولہ : ثَبَتَ علیٰ اِیْمَانِہٖ ، آمَنَ کی تفسیر ثَبَتَ ے کرکے اشارہ کردیا کہ ایمان تو اختلاف سے قبل ہی موجود تھا۔ اختلاف کے بعد اس پر قائم رہے۔ اللغۃ والبلاغۃ ورَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجَاتٍ ، یہاں فن ابہام کا استعمال کیا گیا ہے، اس میں اشارہ جامع کمالات اور خاتم نبوت محمد ﷺ کی طرف ہے، شہرت اور تعین کی وجہ سے مبہم رکھ گیا ہے، الابھام ابلغ من الایضاح، زمخشری نے یہاں یہ نکتہ أدب و بلاغت خوب لکھا ہے کہ جہاں شناخت و تعین میں کوئی دقت نہ ہو وہاں کنایہ اور ابہام، صراحت و تفصیل سے بلیغ ومؤثر ہوتا ہے، سُئِلَ الحطیئۃ : مَنْ اَشْعر الناس ؟ فذکر زھیراً وَالنابغۃ، ثم قال : ولو شئت لذکرتُ الثالث، اَرادَ نفسہٗ ، ولو صرّح بذلک لم یکن بھذہ المثابۃ من الفخمیۃ۔ (اعراب القرآن للدرویش) تفسیر و تشریح ربط : تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُہْ عَلیٰ بَعْضٍ ، واِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْن، آپ بھی منجملہ پیغمبروں کے ایک ہیں اس سے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید آپ کی نبوت بھی گزشتہ پیغمبروں کی طرف وقتی اور علاقائی ہو اور مدارج و مراتب بھی ان کے مثل ہوں، اس شبہ کو دور کرنے کے لیے آپ کی فضیلت کو بڑے شدومد کے ساتھ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ ، سے بیان فرمایا۔ انبیاء (علیہم السلام) میں باہم تفاضل : جن انبیاء اور رسولوں کا ذکر قرآن میں ہوا ہے سب ایک مرتبہ کے نہ تھے اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ” تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضْ “ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی، قرآن میں سورة بنی اسرائیل میں بھی اسی مضمون کو ” وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ علیٰ بَعْضٍ “ سے بیان فرمایا۔ اس لیے اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں کہ انبیاء میں بعض بعض سے افضل تھے، البتہ فَضّلْنَا کی ضمیر متکلم قابل لحاظ ہے کہ یہ فضیلت اور افضلیت محض عند اللہ ہے خلق کے لیے بحیثیت مطاع سب یکساں ہیں، اطاعت اور تعظیم سب کو واجب ہے، اسی مفہوم کو ایک دوسری آیت جو اسی سورت کے آخر میں اسی پارہ میں ادا کرتی ہے ” لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مَنْ رُّسُلِہٖ “ (ابن کثیر نے کہا ہے) لیس مقام التفضیل الیکم انما ھو الی اللہ عزوجل وعلیکم الانقیاد والتسلیم لہ والایمان بہ (ابن کثیر) ۔ مدارج کے باب میں عوام کو بحث و گفتگو جائز نہیں، البتہ تقابل کے بغیر ان کے مقامات واحوال و واقعات و فضائل ذکر نے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ سوال : نبی ﷺ نے فرمایا : ” لاتخیرونی من بین الانبیاء “ (بخاری کتاب التفسیر سورة الاعراف، مسلم شریف کتاب الفضائل باب من فضائل موسیٰ ) تم مجھے انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان فضیلت مت دو ۔ اس سے تفاضل کی ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ پہلا جواب : اس سے فضیلت سے انکار لازم نہیں آتا، بلکہ اس سے امت کو انبیاء (علیہم السلام) کی بابت ادب و احترام سکھایا گیا ہے کہ تمہیں چونکہ تمام باتوں اور ان امتیازات کا جن کی بنا پر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہے پورا علم نہیں ہے، اس لیے تم میری فضیلت بھی اس طرح بیان نہ کرنا کہ اس سے دوسرے انبیائ کی کسر شان ہو، ورنہ بعض انبیاء کی بعض پر اور تمام انبیاء پر نبی ﷺ کی فضیلت اور شرافت مسلم اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے جو نصوص کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ دوسرا جواب : فضل جزئی سے فضل کلی لازم نہیں آتا مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کو ملک میں، ایوب (علیہ السلام) کو صبر میں، یوسف (علیہ السلام) کو حسن میں، عیسیٰ (علیہ السلام) کو تائید روح القدس میں، موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام میں، ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت میں فضیلت حاصل ہے، مگر بعض وہ ہیں کہ جن کو فضل کلی اور رفعت کامل حاصل ہے اور یہ مقام خاص ہمارے حضور ﷺ کے لئے ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ چند اصحاب آپس میں گفتگو کر رہے تھے ایک نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہیں دوسرے نے کہا، آدم صفی اللہ ہیں، تیسرے نے کہا عیسیٰ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں، بعض نے کہا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کلیم اللہ ہیں، اچانک آپ ﷺ تشریف لائے، اور فرمایا میں نے تمہاری گفتگو سنی بیشک یہ حضرات ایسے ہی تھے ” اَلا واَنا حبیب اللہ ولا فخر “ میں اللہ کا محبوب ہوں اور میں یہ فخر یہ نہیں کہتا۔ (مظہری، بحوالہ خلاصۃ التفاسیر ملخصا) سوال : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خصوصیت سے ذکر کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت اور یہود کی تردید ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتے بلکہ آپ کی شان میں ناشائستہ کلمات کہتے ہیں۔ سوال : قرآن میں بہت سے انبیاء کا ذکر ہے مگر کسی کا فلاں ابن فلاں کہہ کر ذکر نہیں ہے مگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر عیسیٰ ابن مریم سے کیا ہے اس میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : اس میں نصاریٰ کے عقیدہ کی تردید ہے کہ عیسیٰ نہ خود اللہ ہیں اور نہ ابن اللہ بلکہ عیسیٰ ابن مریم ہیں جس طرح دیگر انسان اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں عیسیٰ بھی مریم عذراء کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ خلاصہ تفسیر : خلاصہ یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعہ علم حاصل ہوجانے کے بعد جو اختلافات لوگوں کے درمیان رونما ہوئے اور اختلاف سے بڑھ کر لڑائیوں تک نوبتیں پہنچیں، تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ معاذ اللہ خدا بےبس تھا اور اس کے پاس ان اختلافات اور لڑائیوں کو روکنے کی طاقت نہیں تھی۔ اگر وہ چاہتا تو کسی کی مجال نہ تھی کہ انبیاء کی دعوت سے سرتابی کرسکتا، اور کفر و بغاوت کی راہ چل سکتا، اور اس کی زمین میں فساد برپا کرسکتا، مگر اس کی مشیت یہ تھی ہی نہیں کہ انسانوں سے ارادہ کی آزادی چھین لے اور انہیں ایک خاص روش پر چلنے کے لیے مجبور کر دے، اس نے انھیں امتحان کی غرض سے زمین پر پیدا کیا تھا، اس لیے اس نے ان کو اعتقاد و عمل کی راہوں میں انتخاب کی آزادی عطا کی اور انبیاء کو لوگوں پر کو توال بنا کر نہیں بھیجا کہ زبردستی انھیں ایمان وطاعت کی طرف کھینچ لائیں، بلکہ اس لیے بھیجا کہ دلائل و بینات سے لوگوں کو راستی کی طرف بلانے کی کوشش کریں، پس جس قدر اختلافات اور لڑائیوں کے ہنگامے ہوئے وہ سب اس وجہ سے ہوئے کہ اللہ نے لوگوں کو ارادے کی جو آزادی عطاء کی تھی اس سے کام لے کر لوگوں نے یہ مختلف راہیں اختیار کیں نہ اس وجہ سے کہ اللہ ان کو راستی پر چلانا چاہتا تھا مگر معاذ اللہ اسے کامیابی نہیں ہوئی جیسا کہ معتزلہ کا عقیدہ ہے
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہوسکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

آیت نمبر 254 تا 257 ترجمہ : اے ایمان والو ! جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو (یعنی) اس کی زکوٰۃ ادا کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی، اور نہ نفع بخش دوستی اور نہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت، اور وہ قیامت کا دن ہے، اور ایک قراءت میں تینوں یعنی بَیْعٌ، خُلَّۃٌ، شَفاعۃٌ، کے رفع کے ساتھ ہے اور اللہ کے منکر یا ان (احکام) کے منکر جو ان پر فرض کئے ہیں، ہی تو ظالم ہیں ان کے اللہ کے حکم کو غیر محل میں رکھنے کی وجہ سے اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے کہ اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں جو (تمام کائنات) کو سنبھالے ہوئے ہے، قیوم وہ ذات ہے جو اپنی مخلوق کے قیام کی تدبیر میں مبالغہ کرنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ وہ سوتا ہے، زمین و آسمان میں جو کچھ ہے بادشاہت کے اعتبار سے اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے اور مملوک ہونے کے اعتبار سے سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کے حضور میں شفاعت کے لیے اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟ یعنی کوئی نہیں ہے جو کچھ مخلوق کے سامنے ہے اور اسے بھی جانتا ہے اور دنیا و آخرت کی جو بات ان سے اوجھل ہے (اس سے بھی واقف ہے) اور وہ اس کے معلومات میں سے کسی چیز کا بھی (علمی) احاطہ نہیں کرسکتے یعنی اس کی معلومات میں کسی کا ادراک نہیں کرسکتے سوائے اس چیز کے کہ جس کو وہ ان میں سے اپنے رسولوں کو خبر دے کر بتانا چاہے اس کا حاکمانہ اقتدار آسمانوں اور زمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے کہا گیا ہے کہ اس کے علم نے ان دونوں کا احاطہ کر رکھا ہے، کہا گیا ہے کہ اس کی بادشاہت نے احاطہ کر رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ بعینہ کرسی اپنی عظمت کی وجہ سے دونوں پر مشتمل ہے۔ اس حدیث کی رو سے : ساتوں آسمانوں کی حیثیت کرسی کے مقابلہ میں صرف ایسی ہے جیسے سات درہم ایک ڈھال میں ڈال دئیے گئے ہوں۔ اور اس پر زمین و آسمان کی نگرانی ذرا بھی گراں نہیں اور وہ عالی شان اور عظیم الشان ہے یعنی اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، دین میں داخلہ کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے، یعنی واضح آیات کے ذریعہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ ایمان ہدایت ہے اور کفر گمراہی ہے (مذکورہ آیت) اس انصاری کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس کے بچے تھے اس نے چاہا کہ بچوں کو اسلام قبول کرنے کے لیے مجبور کرے، اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے (طاغوت) شیطان یا اصنام ہیں (طاغوت) کا اطلاق مفرد اور جمع پر ہوتا ہے اللہ پر ایمان لے آیا تو اس نے عقد محکم کے ذریعہ ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں جو بات کہی جاتی ہے اللہ اس کا سننے والا، اور جو کام کیا جاتا ہے اس کا جاننے والا ہے اللہ ان لوگوں کا مددگار ہے جو ایمان لے آئے وہ ان کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے حمایتی طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی نے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں، اخراج کا ذکر یا تو اس کے قول ” یخرجھم مِنَ الظلمات “ کے مقابلہ کے طور پر لایا گیا ہے یا ہر اس یہودی کے بارے میں جو آپ ﷺ کی بعثت سے قبل آپ ﷺ پر ایمان لایا تھا پھر آپ کا انکار کردیا، یہی آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : زکوٰتہ، اس کلمہ سے اشارہ کردیا کہ انفاق سے مراد انفاق واجب ہے اور آئندہ وعید اس کا قرینہ ہے اس لیے کہ غیر واجب پر وعید نہیں ہوا کرتی۔ قولہ : فِداء، فدیہ کو بیع سے تعبیر کیا ہے اس لیے کہ فداء، اشتراء النفس من الھلاکۃ کو کہتے ہیں، فدیہ وہ قیمت جو قیدی رہائی کے عوض ادا کرتا ہے، سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا ہے اس لیے کہ نفس بیع خلاصی عن العذاب کا فائدہ نہیں دیتی بلکہ فدیہ خلاصی کا فائدہ دیتا ہے۔ قولہ : تنفعُ ، لفظ تنفعُ کا اضافہ کرکے بتادیا کہ مطلق دوستی کی نفی نہیں ہے بلکہ نافع دوستی کی نفی ہے۔ قولہ : اِذنہٖ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : شفاعت کی نفی علیٰ سبیل الاستغراق کسی طرح صحیح ہے ؟ جب کہ احادیث سے انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت روز قیامت ثابت ہے۔ جواب : یہاں اگرچہ مطلق شفاعت کی نفی ہے مگر دوسری آیت نے اس مطلق کو مقید کردیا ہے، آیت یہ ہے، ” اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہٗ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلاً “ وفی قراءۃ برفع الثلاثۃ، تینوں میں لائے نفی جنس کا اسم ہونے کی وجہ سے اصل فتحہ ہے، جیسا کہ ابن کثیر اور ابوعمر و کی قراءت میں اصل کے مطابق فتحہ ہی ہے، مگر ان کے علاوہ کی قراءت میں رفع ہے، رفع کی وجہ یہ ہے کہ در اصل یہ عبارت ایک سوال کا جواب ہے اور سوال یہ ہے، ” ھَلْ فیہِ بَیْعٌ اَوْ خُلَّۃٌ اَوْ شَفَاعَۃٌ؟ “ جواب یہ ہے ” لَا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَلَا شَفَاعَۃٌ، “ سوال و جواب میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے جواب کو بھی رفع دیدیا گیا، بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ لائے نفی جنس مکرر ہونے کی وجہ سے مہمل قرار دیدیا گیا اور بیعٌ مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، مگر یہاں ایک سوال ہوگا کہ بیعٌ، خُلَّۃٌ، شَفَاعَۃٌ، نکرہ ہیں ان کا مبتداء بننا درست نہیں ہے۔ جواب : نکرہ تحت النفی واقع ہونے کی وجہ سے اس کا مبتداء بننا فصحیح ہوگیا۔ (اعراب القرآن للدرویش) قولہ : ” لَاتَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ“ یہ صفات سلبیہ میں سے ہے، ” سِنَۃٌ“ کا تعلق آنکھوں سے ہوتا ہے اور یہ انبیاء (علیہم السلام) کی نیند ہے اور نوم کا تعلق قلب سے ہوتا ہے یہ فترہ طبعیہ ہے جو ہر حیوان پر جبراً طاری ہوتا ہے۔ قولہ : لا معبود بحق الخ اس میں اشارہ ہے کہ ” اِلہٌ“ سے مراد معبود حقیقی ہے نہ کہ مطلق معبود اس لیے کہ معبود مطلق غیر حقیقی کثیر ہیں، ورنہ مطلق معبود کی نفی سے کذب باری لازم آئے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے وراء الوراء ہے ” تعالیٰ اللہ عن ذالک علوًا کبیراً “ ، مگر اس صورت میں یہ سوال ہوگا کہ جب اِلٰہٌ سے مراد معبود حقیقی ہے جو کہ واحد ہے تو پھر اس سے اِلاَّ ھو، کے ذریعہ استثناء درست نہ ہوگا اس لیے کہ یہ استثناء الشئ عن نفسہ ہوگا۔ جواب : معبود بالحق کا مفہوم چونکہ کلی ہے لہٰذا اس سے تصور میں مستثنیٰ منہ کے متعدد ہونے کی وجہ سے استثناء درست ہوگا۔ قولہ : فی الوجود اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لا کی خبر محذوف ہے اور وہ فی الوجود ہے۔ قولہ : مُلکا و خَلقا الخ اس سے اشارہ کردیا کہ ” لَہٗ “ کالام نفع کے لیے نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اشیاء سے نفع کا محتاج نہیں ہے۔ قولہ : فیھا ای فی الشفاعۃ۔ قولہ : مِن معلوماتہٖ ، اس میں اشارہ ہے کہ علم سے مراد معلومات ہیں اس لیے کہ علم صفت بسیط ہے جس میں تجزی نہیں ہوسکتی ہے البتہ معلومات میں تجزی ہوسکتی ہے۔ قولہ : تُرسٍ ، بالضم، ڈھال۔ قولہ : تَمَسَّکَ ، اِسْتَمْسَکَ کی تفسیر تمسَّکَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ استمسکَ میں سین زائدہ ہے۔ قولہ : ذکر الاخراج الخ مفسر علام کا مقصد اس اضافہ سے ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ کفار تو روشنی میں تھے ہی نہیں پھر ان کو روشنی سے تاریکی کی طرف نکالنے کا کیا مطلب ہے ؟ مفسر علام نے اس کے دو جواب دئیے ہیں اول یہ کہ بطور مقابلہ اخراج کا ذکر کیا ہے یعنی مومنین کے لیے چونکہ اخراج کا لفظ استعمال کیا ہے تو کفار کے لیے بھی اخراج کا لفظ استعمال کیا ہے اس کو بلاغت کی اصطلاح میں صفت مقابلہ کہتے ہیں، یہ اطبخوا لی جبۃ وقیمصاً کے، قبیل سے ہے، دوسرے جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی کتابوں کی بشارت کی روشنی میں آپ ﷺ پر ایمان لائے تھے مگر آپ کی بعثت کے بعد وہ ضد کی وجہ سے اس سے پھرگئے گویا کہ روشنی سے تاریکی میں چلے گئے۔ قولہ : اَلْخُلَّۃُ ، بضم الخاء، المودّۃ والصداقۃ (دوستی) ۔ قولہ : القَیُّومُ ، قَائمٌ سے مبالغہ کا صیغہ ہے، مَنْ قامَ بالامر، منتظم، مدبر، خود قائم رہنے والا، دوسروں کو قائم رکھنے والا، ” قیوم “ اصل میں قَیْوُدْمٌ بروزن فَیْعُوْلٌ تھا، واؤ اور یاء جمع ہوئے پہلا ساکن داؤ کو یاء سے بدل دیا اور یاء کو یاء میں ادغام کردیا، قیوم ہوگیا۔ قولہ : السِّنَۃُ سین کے کسرہ کے ساتھ، ما یتقدم من الفتور والاسترخاء مع بقاء الشعور، نیند سے پہلے کی غفلت جس میں شعور و احساس باقی رہتے ہیں، اسی کو نعاش کہتے ہیں یہ نوم الانبیاء کہلاتی ہے۔ قولہ : الکرسی، معروف ہے، اس میں یاء نسبتی نہیں اصلی ہے عرف دارجہ میں، ما یجلسُ علیہ کو کہتے ہیں اس کے اصل معنی بعض شئ کو بعض کے ساتھ ترکیب دینا ہیں اسی سے کر استہ ہے اس لیے کہ اس میں بھی بعض اوراق کو بعض کے ساتھ ملا کر ترکیب دی جاتی ہے بولا جاتا ہے تَکَرَّسَ فلان الحطبَ فلاں نے لکڑیاں جمع کیں۔ قولہ : یَؤُدہٗ ، اٰدَ ، یَؤُدُ اوْدًا (ن) سے مضارع واحد مذکر غائب بار ڈالنا، بوجھل کرنا، تھکانا۔ اللغۃ والبلاغۃ ” وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ “ اس آیت میں استعارہ تصریحیہ ہے، استعارہ مصرحہ وہ استعارہ ہے جس میں لفظ مستعار منہ (مشبہ بہ) صراحت کے ساتھ مذکور ہوجی سے۔ : ؎ فامْطَرَتْ لؤلوءًا من نرجسٍ وسَقَتْ وَرْدًا وعَضَّتْ علی العنابِ بالبردِ معشوقہ نے نرگـس سے موتی برسائے، گلاب کو سیراب کیا اور عناب کو اولوں سے کاٹا، اس میں موتی، نرگس، عناب، اولے مستعارمنہ (مشبہ بہ) ہیں جو صراحۃ مذکور ہیں اور اسی ترتیب سے، آنسو، آنکھ، گال، انگلیوں کے پورے اور دانت مستعارلہ (مشبہ) ہیں جو مذکور نہیں ہیں، اردو کا یہ شعر بھی استعارہ مصرحہ کی مثال ہے !۔ ربط رہنے لگا اس شمع کو پروانوں سے آشنائی کا کیا حوصلہ بیگانوں سے اس شعر میں شمع اور پروانے مستعارمنہ (مشبہ بہ) ہیں جو صراحۃ مذکور ہیں اور عاشق و معشوق مستعارلہ (مشبہ) ہیں جو صراحۃً مذکور نہیں۔ اس آیت میں وَسِعَ کُرْسِیُّہُ الخ، اللہ کے علم وقدرت سے مجاز ہیں، یہ کلمہ مستعارمنہ (مشبہ بہ) ہے جو صراحۃ مذکور ہے اور مشبہ جو کہ علم، قدرت، عظمت ہے محذوف ہے، العروَۃ، کڑا حلقہ، قبضہ و دستہ، (ج) عُرًی، الوثقیٰ بروزن فُعُلیٰ اسم تفضیل اَوْثق کا مؤنث ہے (ج) وُثُقٌ۔ بِالْعَروَۃِ الْوُثْقٰی، اس میں استعارہ تصریحیہ تمثیلیہ ہے، اس میں دین اسلام کو عروہ و ثقیٰ (مضبوط حلقہ) سے تشبیہ دی گئی ہے دین اسلام مستعار لہ (مشبہ) ہے اور عروۃ الوثقی مستعارمنہ ہے مشبہ محذسوف اور مشبہ بہ مذکور ہے، اسی طرح دین اسلام کو اختیار کرنے والے کو مضبوط حلقہ پکڑنے والے سے تشبیہ دی ہے، ظلمات کو ضلال کے لیے اور نور کو ہدایت کے لیے مستعار لینا بھی استعارہ تصریحیہ ہے۔ سوال : ظلمات کو جمع اور نور کو مفرد لانے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : نور سے مراد حق ہے جو کہ ایک ہی ہے اور ظلمات سے مراد باطل ہے جو کہ متعدد شکلوں میں ہوتا ہے اس لیے نور کو واحد اور ظلمات کو جمع لائے ہیں۔ تفسیر و تشریح یَآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِمَّا رزَقْنکُمْ (الآیۃ) مراد راہ خدا میں خرچ کرنا ہے، ارشاد ہو رہا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان کی راہ اختیار کی ہے انہیں اس مقصد کے لیے جس پر وہ ایمان لائے ہیں مالی قربانی برداشت کرنی چاہیے، بعض حضرات نے انفاق سے یہاں واجب مالی مراد لیا ہے مگر حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ نے روح المعانی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ انفاق واجب اور غیر واجب دونوں کو شامل ہے بعد میں آنے والی وعید کا اس سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ مستقل یوم قیامت کی ہولناکی کا بیان ہے۔ وَالْکَافِرُوْنَ ھُمْ الظَّلِمُوْنَ : یہاں کافروں سے یا تو وہ لوگ مراد ہیں جو خدا کے حکم کی اطاعت کے منکر ہوں اور اپنے مال کو اس کی خوشنودی سے عزیز تر رکھیں، یا وہ لوگ مراد ہیں جو اس دن پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں جس کے آنے کا خوف دلایا ہے یا پھر وہ لوگ مراد ہیں جو اس خیال خام میں مبتلا ہوں کہ آخرت میں انہیں کسی نہ کسی طرح نجات خرید لینے کا اور دوستی و سفارش سے کام لے جانے کا موقع حاصل ہو ہی جائے گا۔ یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین اپنے اپنے پیشواؤں یعنی نبیوں، ولیوں، بزرگوں، پیروں، مرشدوں وغیرہ کے برے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ پر ان کا اتنا اثر ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے دباؤ سے اپنے پیروکاروں کے بارے میں جو بات چاہیں اللہ سے منوا سکتے ہیں اور منوا لیتے ہیں، اسی کو وہ شفاعت کہتے تھے، یعنی ان کا عقیدہ تقریباً وہی تھا جو آج کل کے جاہلوں کا ہے کہ ہمارے بزرگ اللہ کے پاس اڑ کر بیٹھ جائیں گے اور بخشوا کر اٹھیں گے، اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں ایسی کسی شفاعت کا وجود نہیں، پھر اس کے بعد آیت الکرسی اور دوسری متعدد آیات و احادیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں ایک دوسری قسم کی شفاعت بیشک ہوگی مگر یہ شفاعت وہی لوگ کرسکیں گے جنہیں للہ اجازت دیگا، اور صرف اس بندے کے بارے میں کرسکیں گے جس کے لیے اللہ اجازت دے گا، اور اللہ صرف اور صرف اہل توحید کے بارے میں اجازت دے گا یہ شفاعت فرشتے بھی کریں گے اور انبیاء و رسل بھی اور شہداء و صالحین بھی، مگر اللہ پر ان میں سے کسی شخص کا کوئی دباؤ ہوگا بلکہ اس کے برعکس یہ لوگ بھی اللہ کے خوف سے اس قدر ترساں اور لرزاں ہوں گے کہ ان کے چہروں کا رنگ فق ہوگا ” وَھُمْ مِنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ “۔ (الانبیاء)
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اسکی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

آیت الکرسی کی فضیلت : آیت الکرسی کی بڑی فضیلت صحیح احادیث میں وارد ہوئی ہے اس کی برکتوں اور فضیلتوں سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو، اسکی جامعیت اور معنویت بھی اتنی نمایاں ہے کہ اپنے تو خیر اپنے ہیں بیگانے (جیسے سیل مترجم قرآن مجید) اور معاندین (جیسے میور اور ہیری) نے بھی بےساختہ اس کی داد دی ہے۔ یہ آیت قرآن کریم کی عظیم آیت ہے، مسند احمد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو تمام آیات سے افضل فرمایا ہے اُبیّ بن کعب ؓ اور ابوذر ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت مروی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورة بقرہ میں ایک آیت ہے جو تمام آیتوں کی سردار ہے وہ جس گھر میں پڑھی جائے شیطان اس سے نکل جاتا ہے۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھا کرے تو اس کو جنت میں داخل ہونے کے لیے بجز موت کے کوئی مانع نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا بیان ایک عجیب و غریب انداز میں کیا گیا ہے۔ آیت الکرسی میں اللہ کا نام اسم ظاہر اور ضمیر کے طور پر سترہ مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ (1) اللہ۔ (2) ھو۔ (3) الحئ۔ (4) القیوم۔ (5) لاتاخذہ کی ضمیر۔ (6) لہ کی ضمیر۔ (7) عندہ کی ضمیر (8) باذنہ کی ضمیر۔ (9) یعلم کی ضمیر۔ (10) علمہٗ کی ضمیر۔ (11) شاء کی ضمیر۔ (12) کرسِیُّہٗ کی ضمیر۔ (13) یَئُودُہٗ کی ضمیر۔ (14) وھو (15) العَلِیّ ۔ (16) العظیم۔ (17) ضمیر مستتر جس پر مصدر حفظھما شامل ہے یہ مصدر مضاف الی المفعول ہے اور وہ ضمیر بارز ہے اس کے لیے فاعل ضروری ہے اور وہ اللہ ہے اور مصدر کے جدا ہونے کے وقت ظاہر ہوتا ہے، یقال، وَلا یَئُوْدُہٰ اَنْ یحفظھما ھو۔ یہ آیت، آیہ الکرسی کے نام سے مشہور ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مکمل معرفت بخشی گئی ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی، اسی بناء پر حدیث میں اس کو قرآن کی سب سے افضل آیت قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت میں دس جملے ہیں : (1) پہلا جملہ : اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ ، اس میں لفظ اللہ اسم ذات ہے، یعنی وہ ذات جو تمام کمالات کی جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے، لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اس ذات کا بیان ہے کہ لائق عبادت اس ذات کے سوا کوئی نہیں۔ (2) دوسرا جملہ : اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ، وہ مستقلا زندہ اور ازلی وابدی ہے صفت حیات اس کی جزء ذات ہے موت یا عدم نہ کبھی اس پر طاری ہوا اور نہ آئندہ کبھی طاری ہوگا، الحئ فی نفسہ الذی لا یموت ابدًا۔ (ابن کثیر) سوال : کیا دنیا میں کبھی کوئی ایسی قوم بھی گزری ہے کہ اس نے خدا کی صفت الحئ القیوم میں شبہ یا انکار کیا ہو ؟ جواب : ایک نہیں متعدد قومیں بحر روم کے ساحل پر اس عقیدہ کی گزری ہیں کہ ہر سال فلاں تاریخ پر ان کا خدا وفات پاتا ہے اور دوسرے دن ازسر نو وجود میں آتا ہے چناچہ ہر سال اسی تاریخ کو خدا کی میت کا پتلا بنا کر جلایا جاتا تھا اور وسرے دن اس کے جہنم کی خوشی میں رنگ رلیاں شروع ہوجاتی تھیں۔ ہندؤں کے یہاں اوتاروں کا مرنا اور پھر جنم لینا اسی عقیدہ کی مثالیں ہیں، اور خود مسیحیوں کا عقیدہ بجز اس کے اور کیا ہے کہ خدا پہلے تو انسانی شکل اختیار کرکے دنیا میں آتا ہے اور پھر صلیب پر جاکر موت قبول کرلیتا ہے۔ القیوم، مسیحیوں نے جس طرح اللہ کی صفت حیات کے بارے میں ٹھوکر کھائی ہے اسی طرح صفت قیومیت کے متعلق بھی عجیب گمراہی میں پڑگئے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ جس طرح بیٹا بغیر باپ کی شرکت کے خدا نہیں ہوسکتا اسی طرح باپ پر بھی بغیر بیٹے کی شرکت کے خدا کا اطلاق نہیں ہوسکتا، یعنی جس طرح نعوذ باللہ، مسیح ابن اللہ خدا کے محتاج ہیں اسی طرح باپ بھی اپنی خدائی کے اثبات میں مسیح کا محتاج ہے، صفت، قیومیت کا اثبات کرکے قرآن نے اسی مسیحی عقیدہ پر ضرب لگائی ہے۔ قیوم : وہ ذات ہے جو صرف اپنی ذات سے قائم ہے بلکہ دوسروں کے قیام کا باعث ہے اور سب کو سنبھالے ہوئے ہے اس کے سب محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ (ماجدی) ۔ بعض روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ جس کو اسم اعظم کہا جاتا ہے وہ یہی الحئ القیوم، ہے۔ (3) تیسرا جملہ : لَاتَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ہے، اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اونگھ اور نیند سے بری ہے سابقہ جملہ میں لفظ قیوم سے معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ تمام آسمانوں اور زمینوں اور ان میں سمانے والی کائنات کا سنبھالے ہوئے ہے، تو کسی شخص کا اپنی جبلت اور فطرت کے مطابق اس طرف جانا ممکن ہے کہ جو ذات پاک اتنا بڑا کام کر رہی ہے اس کو کسی وقت تھکان بھی ہونا چاہیے، کچھ وقت آرام اور نیند کے لیے بھی ہونا چاہیے، اس دوسرے جملہ میں انسان کو اسی خیال پر متنبہ کردیا کہ اللہ جل شانہ کو اپنے یا دوسری مخلوق پر قیاس نہ کرے وہ مثل و مثال سے بالاتر ہے، اس کی قدرت کاملہ کے لیے یہ سارے کام کچھ مشکل نہیں ہیں اور نہ اس کے لیے تھکان کا سبب ہیں اور اس کی ذات پاک تمام تاثرات اور تھکان و تعب اور اونگھ، نیند سے بالاتر ہے۔ جاہلی مذہب کے دیوتا نیند سے جھوم بھی جاتے ہیں اور سونے بھی لگتے ہیں اور اسی غفلت کی حالت میں ان سے طرح طرح کی فروگذاشتیں ہوجاتی ہیں، مسیحیوں اور یہود کا بھی عقیدہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے چھ روز میں آسمانوں اور زمین کو بنا ڈالا تو ساتویں روز اس کو سستانے اور آرام کی ضرورت پیش آگئی، اسلام کا خدادائم بیدار، ہمہ خبردار، غفلت و سستی اور تھکن سے ماوراء خدا ہے۔ (4) چوتھا جملہ : لَہٗ مَافِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ہے، لَہٗ کالام تملیک کے لیے ہے نہ کہ انتفاع کے لیے یعنی آسمانوں اور زمینوں کی سب چیزیں اس کی مملوک ہیں۔ (5) پانچویں جملہ : مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاذْنِہٖ ، ہے یعنی ایسا کوئی نہیں کہ اس کی اذن و اجازت کے بغیر اس کے حضور شفاعت کے لیے لب کشائی کرسکے۔ مسیح کی شفاعت کبریٰ مسیحیوں کا ایک خصوصی عقیدہ ہے، قرآن مجید مسیحیوں کے مخصوص مرکزی عقائد کفارہ اور شفاعت وغیرہ پر ضرب کاری لگانا چاہتا ہے، مسیحیوں نے جہاں نجات کا دارومدار شفاعت پر رکھا ہے، وہیں اس کے برعکس بعض مشرک قوموں نے خدا کو قانون مکافات (کرم) یعنی عمل کے ضابطوں میں ایسا جکڑا ہوا سمجھ لیا ہے کہ اس کے لیے معافی اور اس کے یہاں شفاعت کی گنجائش ہی نہیں ہے، اسلام نے توسط اور اعتدال کی راہ اختیار کرکے بتایا کہ نجات کا مدار کسی شفاعت پر ہرگز نہیں، البتہ اللہ نے اس کی گنجائش رکھی ہے اور اپنی اجازت کے بعد مقبول بندوں کو شفاعت کا موقع دے گا اور قبول کرے گا اور سب سے بڑے شافع محشر رسول اللہ ﷺ ہیں، اسی آیت سے اہل سنت والجماعت نے شفاعت کا استباط کیا ہے۔ (6) چھٹا جملہ ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ یعنی حاضر و غائب، محسوس و معقول، مدرک وغیرہ مدرک، سب کا علم اسے پورا پورا حاصل ہے اس کا علم تمام چیزوں کو یکساں محیط ہے۔ (7) ساتواں جملہ ہے : ” وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖ اِلاَّ بِمَا شَآءَ “ یعنی انسان بلکہ تمام مخلوق اللہ کے علم کے کسی حصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر اللہ جتنا علم ان کو عطا کرے اتنا ہی علم ہوسکتا ہے اس کو تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم ہے یہ اللہ جل شانہ کی مخصوص صفت ہے اس میں کوئی مخلوق اس کی شریک نہیں۔ (8) آٹھواں جملہ : وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضَ ، لفظ کرسی بالعموم حکومت اور اقتدار کے لیے استعارہ کے طور پر بولا جاتا ہے اردو زبان میں بھی اکثر کرسی کا لفظ بول کر حاکمانہ اختیارات مراد لیتے ہیں، عرش و کرسی کی حقیقت و کیفیت کا ادراک انسانی عقل سے بالاتر ہے، البتہ مستند روایات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عرش اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں جو تمام زمین و آسمان سے بدرجہا بڑے ہیں، ابن کثیر نے ابوذر ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کرسی کیا اور کیسی ہے ؟ آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی مثال کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں کوئی حلقہ انگشتری ڈال دیا جائے۔ (9) نواں جملہ : وَلَا یَئُوْدَہٗ حِفْظُھُمَا، یعنی اللہ تعالیٰ کو ان دونوں عظیم مخلوقات آسمان و زمین کی حفاظت کچھ گراں نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ سب چیزیں نہایت آسان ہیں۔ (10) دسواں جملہ : وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ، یعنی وہ عالی شان اور عظیم الشان ہے ان دس جملوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی توحید کا مضمون پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ آگیا۔ (معارف القرآن، تفسیر ماجدی حذف واضافہ کے ساتھ) ۔