Ayah 2:232آیت نمبر 232 تا 235
ترجمہ : اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دیدو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں، (یعنی) ان کی عدت کی مدت پوری ہوجائے تو تم ان کو ان کے، ان خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جنہوں نے ان کو طلاق دی ہے، خطاب اولیاء کو ہے، اس لیے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ معقل بن یسار کی بہن جمیلہ بنت یسار کو ان کے شوہر (بداح بن عاصم بن عدی) نے طلاق دیدی تھی پھر انہوں نے معقل بن یسار کی بہن سے رجوع کرنے کا ارادہ کیا تو معقل نے ان کو منع کردیا۔ (کما رواہ الحاکم)
جب کہ خاوند اور بیوی شرعی قانون کے مطابق راضی ہوں، یہ یعنی روکنے سے ممانعت کی نصیحت اس شخص کو کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس لئے کہ (دراصل) اس سے وہی شخص مستفید ہوتا ہے، یہ منع کرنے سے باز رہنا تمہارے اور ان کے لئے زیادہ شائستہ اور پاکیزہ تر ہے، اس لئے کہ زوجین پر ان کے (سابقہ) تعلق کی وجہ سے تہمت کا اندیشہ ہے اس کی مصلحت ہی خوب جانتا ہے اور تم اس کو نہیں جانتے لہٰذا اس حکم کی اتباع کرو، جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پیئے نہ کہ اس سے زیادہ تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں، کامِلَیْن، حَوْلَین، کی صفت مؤکدہ ہے (اس صورت میں) بچے کے باپ کو معروف طریقہ سے گنجائش کے مطابق بچہ کی ماؤں کو دودھ پلانے کے عوض کھانا کپڑا دینا ہوگا جب کہ وہ مطلقات ہوں، مگر کسی پر اسکی وسعت سے زیادہ بار نہ ڈالا جائے، نہ ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اس طریقہ پر کہ جب وہ دودھ نہ پلانا چاہے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے اور نہ باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان پہچایا جائے، اس طریقہ پر کہ وسعت سے زیادہ اس کو مکلف بنایا جائے، اور ولد کی اضافت والدین کی طرف دونوں جگہوں پر طلب شفقت کے لئے ہے اور وارث (یعنی) باپ کے وارث پر کہ وہ اس کا بچہ ہے، یعنی باپ کے مالی وارث پر بھی اسی جیسی ذمہ داری ہے یعنی جیسی والد پر والدہ کے لئے کھانے کپڑے کی ذمہ داری تھی (ویسی ہی ذمہ داری مرنے والے باپ کے وارث پر ہے) پھر اگر دونوں (یعنی) والدین دو سال سے پہلے ہی آپسی رضا مندی اور باہمی مشورہ سے تاکہ اس میں بچہ کی مصلحت ظاہر ہو بچہ کا دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں ان دونوں پر کوئی حرج نہیں، اور اگر تم خطاب آباء کو ہے، اپنی اولاد کو ان کی ماؤں کے علاوہ کسی دودھ پلانے والی سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں تم دونوں کے لئے کوئی مضائقہ نہیں جب تم ان کو جو اجرت دستور کے مطابق دینا چاہو خوش دلی سے دیدو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کا یقین رکھو کہ جو کچھ کر رہے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے ان میں سے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجائیں یعنی انتقال کر جائیں اور اپنے پیچھے بیوہ چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو ان کے بعد نکاح سے چارمہینے دس راتیں روکے رکھیں اور یہ حکم غیر حاملاؤں کے لئے ہے رہیں حاملائیں تو ان کی عدت وضع حمل ہے آیت طلاق کی رو سے، اور باندی کی عدت ازروئے سنت اس کی نصف ہے پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے یعنی جب ان کی عدت کی مدت ختم ہوجائے تو اے اولیاء وہ جو کچھ اپنی ذات کے بارے میں شرعی دستور کے مطابق کریں خواہ زیب وزینت ہو، یا رشتہ کے بارے میں پیش کش ہو، تو اس میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں، اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے یعنی ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے بیوہ عورتوں سے ان کی عدت کے زمانہ میں اشارہ (کنایہ) سے منگنی کی باتیں کرنے میں تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں، مثلاً کسی شخص کا یہ کہنا کہ تم بہت حسین ہو، تمہاری جیسی کسی کو ملے ؟ (یعنی قسمت والے ہی کو مل سکتی ہے) اور تم کو تو چاہنے والے بہت ہیں، (وغیرہ وغیرہ) یا تم ان سے نکاح کے ارادہ کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھو، اللہ کے علم میں ہے کہ تم ان کا منگنی کے بارے میں تذکرہ ضرور کرو گے اور تم ان کے بارے میں صبر نہ کرسکو گے تو اس نے تمہارے لئے اشارہ ظاہر کرنا جائز کردیا ہے، مگر (دیکھو) خفیہ عہد و پیمان مت کرنا اگر کوئی بات کرنی ہے تو دستور کے مطابق کرو، یعنی شرعی قانون کے مطابق اشارہ کرسکتے ہو، یہ تمہارے لئے جائز ہے اور نکاح کا پختہ ارادہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ فرض کردہ عدت پوری نہ ہوجائے، خوب سمجھ لو الہ تمہارے دلوں کے حال کو یعنی پختہ اور غیر پختہ ارادہ کو خوب جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو کہ اگر تم پختہ ارادہ کرو گے تو وہ اس پر تم کو سزا دے گا اور یہ بات بھی خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اس سے ڈرنے والے کو معاف کرنے والا بردبار ہے مستحق عذاب کو مؤخر کرکے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اِنْقَضَتْ عِدّتھُنَّ ، فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ کی تفسیر اِنْقَضَتْ عِدَّتُھُنّ ، سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہاں بلوغ کے معنی حقیقی مراد ہیں یعنی مدت کا ختم ہوجانا، اس لئے کہ نکاح سے روکنے کا سوال عدت کے ختم ہونے کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے، بخلاف سابقہ آیت کے کہ اس میں بلوغ کے مجازی معنی، قُرْب، کے مراد ہیں، جیسا کہ مفسر علام نے بَلَغْنَ کے معنی قَارَبْنَ سے کیے ہیں، اس لئے کہ امساک فی النکاح اسی وقت تک ممکن ہے جب تک کہ عدت ختم نہ ہوئی ہو عدت ختم ہونے کے بعد امساک ممکن نہیں ہے۔ قولہ : لَا تعضُلُوْھُنَّ ، فعل نہی جمع مذکر حاضر، ھُنَّ ، ضمیر جمع مؤنث غائب، تم ان کو نہ روکو، (ن) عَضْلاً سختی سے روکنا۔
قولہ : خطابٌ لِلاولیاء اس اضافہ کا مقصد ان لوگوں کی تردید ہے جو لَا تَعْضُلُوا، کا مخاطب طلاق دینے والے شوہروں کو قرار دیتے ہیں یعنی طلاق دینے والے شوہروں کو چاہیے کہ اپنی مطلقاؤں کو نکاح کرنے سے نہ روکیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں اَزْوَاجَھُنَّ کے معنی مجازی یعنی مایؤل (ہونے والے) کے اعتبار سے ازواج مراد لینا ہوگا، اور اگر فلا تَعضُلُوھُنّ ، کا مخاطب اولیاء کو قرار دیا جائے تو اَزْوَاجَھُنَّ کے معنی حقیقی یعنی ان کے سابقہ شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، یہاں شوہر سے مراد ما کان، کے اعتبار سے ہوگا اور یہ حقیقی معنی ہیں۔
قولہ : لِانَّ سَببَ نزولِھَا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فَلَا تَعْضُلُوا، کے مخاطب اولیاء ہیں نہ کہ سابقہ شوہر اس لئے کہ سبب نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ روکنے والے اولیاء ہی تھے۔ قولہ : شرعًا یعنی اگر مطلقہ عورتیں شریعت کے مطابق نکاح کریں تو ان کو نہیں روکنا چاہیے اور خلاف شرع نکاح کریں تو اولیاء کو روکنے کا حق۔ قولہ : مافیہ من المصلحۃ، اس میں اشارہ ہے کہ یعلم کا مفعول محذوف ہے۔
قولہ : لِیُرْضِعْنَ ، یُرْضِعْنَ ، کی تفسیر لِیُرْضِعْنَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ خبر بمعنی امر ہے اور ایسا مبالغہ کے طور پر کیا گیا ہے۔
قولہ : بعدھم اس تقدیر کا مقصد اس سوال کا جواب ہے کہ اَلَّذِیْنَ الخ مبتداء ہے اور یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ، جملہ ہو کر اس کی خبر ہے خبر جب جملہ ہوتی ہے تو عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے یہاں عائد نہیں ہے اسی اشکال کا جواب دیا ہے کہ عائد محذوف ہے اور وہ بَعْدَھُمْ ، ہے ای بعد الازواج۔ قولہ : مِنَ اللیالی۔
سوال : من اللیالی کی تخصیص کس وجہ سے کی گئی ہے جب کہ عام طور پر ایام کا ذکر کیا جاتا ہے، چار مہینے دس دن بولا جاتا ہے نہ کہ چار مہینے دس راتیں۔ جواب : بعض احکام مثلاً حج، روزہ، عیدین، عدت کا تعلق قمری تاریخوں سے ہے اور قمری تاریخ کی ابتداء رات سے ہوتی ہے دن رات کے تابع ہوتا ہے، لہٰذا رات کے ضمن میں دن خودبخود شامل ہے، اگر اس کا عکس ہوتا تو قمری تاریخ ناقص ہوتی ہے اسی لئے مفسر علام نے من اللیالی کی قید کا اضافہ فرمایا، شمار اور گنتی کے اعتبار سے اسلامی کیلنڈر میں ان کو رات کے تابع مانا گیا ہے، سوائے یوم عرفہ کے کہ حکم کے اعتبار سے رات کے تابع مانا گیا ہے یعنی نویں ذی الحجہ کے بعد آنے والی رات وقوف عرفہ کے اعتبار سے دن کے حکم میں ہے۔
قولہ : اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّعَشْرًا، عام ہونے کی وجہ سے وہ اس عورت کو بھی شامل ہے جس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو، اس میں حاملہ اور غیر حاملہ نیز آزاد اور باندی سب داخل ہیں مگر آیت طلاق کی وجہ سے حاملاؤں کو اس سے خارج کردیا گیا ہے، آیت طلاق یہ ہے : ” وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ “ اور باندیاں حدیث، عِدَّتُھَا حَیْضَتانٍ “ کی وجہ سے خارج ہوگئیں۔
قولہ : عالم بباطنِہٖ ، اس اضافہ کو مقصد شبہ تکرار کو دفع کرنا ہے۔
شبہ : یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں فرمایا گیا اِنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ اور یہاں فرمایا گیا وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے جو کہ بمنزلہ تکرار کے ہے۔ جواب : مفسر علام نے دونوں میں فرق کو واضح کرنے کے لئے بباطنہ کے لفظ کا اضافہ کیا ہے۔
قولہ : لَوَّحْتُمْ ، یہ تلویح سے ماخوذ ہے اس کے معنی اشارہ سے کام لینا۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : سابقہ دو آیتوں میں قانون طلاق کی اہم دفعات کو بیان فرمایا، اب مذکورۃ الصدر دو آیتوں میں چند احکام و مسائل کا ذکر ہے۔ مسئلہ : جب مطلقہ رجعی کی عدت گزرنے کے قریب آئے تو شوہر کو دو اختیار حاصل ہیں ایک یہ کہ رجعت کرکے اپنی بیوی بنالے اور دوسرے یہ کہ رجعت نہ کرے اور عدت گزرنے دے تاکہ عورت آزاد ہوجائے، لیکن یہ دونوں کام خوش اسلوبی اور شرعی قاعدہ کے مطابق ہونے چاہئیں سورة طلاق کی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رجعت پر دو عادل معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لیا جائے ” وَاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ للہِ “۔
شان نزول : فی لباب النقول روی البخاری وابو داؤد والترمذی وغیرھم، حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ معقل بن یسار نے اپنی بہن جمیلہ بنت یسار کا نکاح بن عاصم بن عدی سے کردیا تھا، بعض روایتوں میں جمیلہ کے بجائے حَوْلاء منقول ہے آپس میں کسی وقتی رنجش کی وجہ سے بداح بن عاصم نے جمیلہ کو طلاق رجعی دیدی، جس کی عدت بھی گزر گئی، بیوی نکاح سے خارج ہوگئی شوہر کو اپنی حرکت پر شرمندگی ہوئی اور دوبارہ نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو معقل بن یسار نے صاف اور سخت جواب دیا کہ میں نے اپنی بہن کا تجھ سے نکاح کرکے تیرا اکرام کیا، اور تو نے اس کو طلاق دیدی واللہ اب وہ تیری طرف کبھی نہ لوٹے گی، اسی معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے ” فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ “ (الآیۃ) نازل فرمائی۔
اسی قسم کا ایک واقعہ جابر بن عبد اللہ کی چچا زاد بہن کا بھی پیش آیا تھا دونوں واقعے نزول کا سبب ہوسکتے ہیں، آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تم مطلقہ عورتوں کو ان کے تجویز کردہ شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، خواہ پہلے ہی شوہر ہوں جنہوں نے ان کو طلاق دی ہے یا دوسرے لوگ، نکاح میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے بغیر رضا مندی، زور ربردستی سے، نکاح درست نہیں ایسی صورت میں اولیاء کو روکنے کا حق نہیں ہے، اور فریقین کی رضا مندی بھی شرعی قاعدے اور دستور کے مطابق ہو، اگر شرعی قاعدہ کے خلاف باہمی رضامندی سے نکاح کرنے لگیں تو اولیاء وغیرہ کو روکنے کا حق ہے۔
Ayah 2:233فائدہ : وَالْوَالِدَاتُ سے صرف وہ عورتیں مراد ہیں جنہیں طلاق دی گئی ہو یا مطلقاً ہر ماں مراد ہے ؟ بعض کے نزدیک مطلقہ عورتیں مراد ہیں اس لئے کہ سابق سے اب ہی کا ذکر چل رہا ہے اور بعضوں کے نزدیک سب مائیں مراد ہیں اس لئے کہ لفظ عام ہے اور غرض بھی مشترک ہے، مگر نفقہ کی قید سے وہ عورتیں خارج ہوگئیں جو نکاح یا عدت میں ہوں، اس لئے کہ ان کا نفقہ تو یوں ہی واجب ہے دودھ پلائیں یا نہ پلائیں۔
مسئلہ : وہ عورت جس کا نفقہ بطور نکاح یا عدت شوہر کے ذمہ ہے اگر اجرت پر اپنے بچہ کو دودھ پلائے تو معاملہ صحیح اور اجرت غیر لازم ہوگی اس لئے کہ عورت نے حق واجب ادا کیا ہے۔ (ھدایہ)
مسئلہ : اگر ماں اپنے بچہ کو دودھ نہ لائے اور باب دایہ سے پلوا سکتا ہو تو ماں مجبور نہ کی جائے گی، اس لئے کہ بےضروررت مستحب ہے واجب نہیں۔ (ھدایہ)
فائدہ : ماں اگر کسی وجہ سے معذور نہ ہو تو اس کے ذمہ دیانۃً یعنی عند اللہ واجب ہے کہ بچہ کو دودھ پلائے، جب کہ وہ منکوحہ یا عدت میں ہو، اجرت لینا درست نہیں۔ ” والوالدات یُرضِعْنَ “ میں یہی مسئلہ مذکور ہے، اور اگر طلاق کے بعد عدت گزر چکی ہو تو اس پر بلا اجرت دودھ پلانا واجب نہیں۔
مسئلہ : اگر ماں دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس کو معذور سمجھنا چاہیے اس پر جبر نہ کیا جائے لَاتُضَارَّ وَالِدَۃٌ میں یہ صورت بھی شامل ہے، البتہ اگر بچہ کسی کا دودھ نہ لیتا ہو اور نہ اوپر کا دودھ پیتا ہو اور نہ کوئی دوسری غذا لیتا ہو تو ایسی صورت میں ماں کو دودھ پلانے کے لئے مجبور کیا جائے گا لا مولود لہٗ بولدہ میں یہ مسئلہ بھی داخل ہے۔
مسئلہ : ماں دودھ پلانا چاہتی ہے اور اس نے دودھ میں کوئی خرابی بھی نہیں ہے تو باپ کو جائز نہیں کہ ماں کو دودھ پلانے سے روکے البتہ اگر اس کے دودھ میں خرابی ہے جو بچے کے لئے مضر ہے تو باپ کے لئے جائز ہے کہ ماں کو دودھ نہ پلانے دے اور کسی انّا سے پلوائے وَاِن اردتُم أن تسترضعوا میں بھی یہ مسئلہ بیان ہوا ہے۔
مسئلہ : ماں دودھ پلانے کی اجرت طلب کرتی ہے سو اگر وہ شوہر کے نکاح میں یا عدت میں ہے تو ان دونوں حالتوں میں اجرت لینا جائز نہیں، بلکہ قضاءً بھی مجبور کی جائے گی کہ دودھ پلائے، ولا مولودلہٗ بولدہ، میں یہ صورت مسئلہ بھی داخل ہے۔
مسئلہ : اگر طلاق کے بعد عدت گزر جائے اور وہ اجرت طلب کرے اگر دوسری اَنَّا سے اتنی ہی اجرت پر پلواتا ہے تو تب تو ماں مقدم ہے، لاتضار والدۃ، میں یہ صورت مسئلہ بھی داخل ہے اور اگر دوسری انّا ماں سے کم اجرت میں پلاتی ہے تو ماں کو یہ حق نہیں کہ خود پلائے اور زیادہ اجرت لے لا مولود لہٗ میں یہ صورت مسئلہ بھی داخل ہے۔
مسئلہ : باپ کے ہوتے ہوئے بچہ کی پرورش کا خرچ صرف باپ کے ذمہ ہے اور جب باپ مرجائے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر بچہ مال کا مالک ہے تب اسی کے مال میں اس کا خرچ ہوگا، اور اگر مال کا مالک نہیں ہے تو اس کا نفقہ مالدار عزیزوں میں جو اس کے محرم ہیں یعنی اس بچہ کا ان سے ایسا رشتہ ہے کہ اگر اس رشتہ دار اور بچہ میں سے ایک کو عورت فرض کیا جائے تو باہم نکاح درست نہ ہو اور محرم ہونے کے علاوہ شرعاً اس کے مستحق میراث بھی ہے یعنی اگر یہ بچہ مرجائے تو محرم رشتہ داروں میں دیکھا جائے کہ اس کے مال میراث میں کس کس کا کتنا کتنا پہنچتا ہے پس ایسے محرم رشتہ داروں کے ذمہ اس کا خرچ واجب ہے اور ان رشتہ داروں میں ماں بھی داخل ہے مثیلاً ایسے بچہ کی ایک ماں ہے، ایک دادا ہے تو اس کا خرچ ایک ثلث ماں کے ذمہ ہے اور دو ثلث دادا کے ذمہ کیوں کہ دونوں مجرم بھی ہیں اور بچہ کی مراچ اسی نسبت سے پاتے بھی ہیں۔
Ayahs 2:234–235وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ (الآیۃ) یہ اس بیوہ کی عدت کا بیان ہے جس کو حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت ہے خواہ جنازہ لے جانے سے پہلے ہوجائے یا چار مہینے دس دن سے بھی زیادہ میں ہو۔
مسئلہ : جس کا خاوند انتقال کر جائے اس عورت کو عدت کے اندر خوشبو لگانا، سنگار کرنا، سرمہ، تین بلا ضرورت دوا لگانا، رنگین کپڑے پہننا درست نہیں، نکاح کے بارے میں صریح گفتگو بھی درست نہیں جیسا کہ اگلی آیت میں آتا ہے، اور رات کو دوسرے گھر میں رہنا بھی درست نہیں۔
مسئلہ : اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی ہو تب تو یہ مہینے خواہ انتیس کے ہوں یا تیس کے چاند کے حساب سے پورے کیے جائیں گے اور اگر چاند رات کے بعد وفات ہوئی ہو تو یہ سب مہینے تیس تیس دن کے حساب سے پورے کیے جائیں گے، کل ایک سو تیس دن پورے کرے گی اور جب وہی وقت آئے گا جس وقت وفات ہوئی تھی تو عدت پوری ہوجائے گی۔
Ayah 2:236آیت نمبر 236 تا 242
ترجمہ : اور جب تک تم عورتوں سے نہ لگو، اور ایک قراءت میں تُمَاسُّوھُنَّ ہے ای تُجَامِعُوْھُنَّ (یعنی قبل اس کے کہ تم ان سے جماع کرو) اور ان کا مہر مقرر نہ کیا ہوا گر تم ان کو طلاق دیدو تو تم پر کوئی حرج نہیں، مَا مصدر یہ ظرفیہ ہے یعنی ہاتھ نہ لگانے اور مہر مقرر نہ کرنے کے زمانہ میں طلاق دینے میں تم پر کوئی مواخذہ نہیں اور نہ مہر واجب، اگر ان کو طلاق دو تو ان کو کچھ فائدہ پہنچاؤ یعنی ان کو کو چھ دو جس سے وہ فائدہ حاصل کریں، اور تم میں سے خوشحال لوگوں پر اپنی مقدرت کے مطابق اور ناداروں تنگ دستوں پر ان کی وسعت کے مطابق فائدہ پہنچانا ہے بالمعروف، مَتَاعًا کی صفت (اول) ہے یہ حق ہے خوش اخلاق لوگوں پر یعنی اطاعت گزاروں پر حَقًا، مَتَاعًا، کی صفت ثانیہ ہے یا مصدر مؤکد ہے اور اگر تم نے عورتوں سے لگنے سے پہلے طلاق دیدی اور تم ان کے لئے مہر مقرر کرچکے ہو تو مقررہ مہر کا نصف ان کے لے واجب ہے اور نصف تمہارے لئے واپس ہوگا، اِلَا یہ کہ بیویاں معاف کردیں اور چھوڑ دیں یا وہ شخص کہ جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے معاد کر دے اور وہ شخص شوہر ہے کہ بیوی کے لئے پورا مہر چھوڑ دے اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ شخص (عورت) کا ولی ہے (جب کہ) عورت اس معاملہ میں معذور ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر تم معاف کردو تو یہ تقویٰ کے لیے زیادہ قریب ہے اَن تعْفُوا، مبتداء ہے اور ” اَقْرَبُ لِلتقوی “ اس کی خبر ہے اور آپس میں معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو یعنی ایک دوسرے کے ساتھ فیاضی سے کام لو، بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اللہ کی نظروں میں ہے سو وہ تم کو اس کی جزاء دے گا پنج وقتہ نمازوں کی ان کے اوقات میں ادا کر کے حفاظت کرو بالخصوص درمیانی نماز کی اور وہ عصر کی نماز ہے جیسا کہ حدیث میں ہے (رواہ الشیخان) یا صبح کی یا ظہر کی نمازیں مراد ہیں، یا ان کے علاوہ (کوئی اور نماز مراد ہے) یہ چند اقوال ہیں اور درمیانی نماز کا اس کی فضیلت کی وجہ سے مستقل طور پر ذکر کیا ہے اور اللہ کے لئے نماز میں با ادب کھڑے رہو کہا گیا ہے کہ اطاعت گزاروں کی طرح (کھڑے رہو) آپ ﷺ کے فرمان کی وجہ سے (لفظ) قنوت جو قرآن میں مذکور ہے اس سے مراد اطاعت ہے، احمد وغیرہ نے اس کو روایت کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خاموشی کے ساتھ کھڑا رہنا مراد ہے، زید بن ارقم کی حدیث کی وجہ سے فرمایا کہ ہم نماز میں باتیں کرلیا کرتے تھے تایں کہ یہ آیت نازل ہوئی (جس میں) ہم کو سکوت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور باتیں کرنے سے منع کردیا گیا، (رواہ الشیخان) اور اگر تم کو دشمن کا یا سلاب کا یا درندے کا خوف ہو تو خواہ پیدل زمین پر، رِجَالاً ، راجلٌ کی جمع ہے یا سواری پر (جس طرح ممکن ہو) نماز پڑھ لیا کرو رُکْبَانٌ راکبٌ کی جمع ہے (مطلب یہ کہ) جس طرح ممکن ہو مستقبل قبلہ ہو یا نہ ہو، اور رکوع سجدہ کے لئے اشارہ کرلیا کرو، اور جب تم خوف سے مامون ہوجاؤ تو پھر اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم کو بتائی گئی ہے بتانے سے پہلے اس کے فرائض اور حقوق کو تم نہیں جانتے تھے، اور کاف بمعنی مثل ہے اور مَا، موصولہ، یا مصدریہ ہے اور تم میں سے وہ لوگ جو وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے لئے وصیت کر جائیں اور ایک قراءت میں وَصِیَّۃٌ رفع کے ساتھ ہے ای وَصِیَّۃٌ اور ان کو کوئی کار آمد چیز دے جائیں جس سے وہ پورے سال تک ان کی موت کے وقت سے جس میں ان پر (عدت کے لئے) انتظار کرنا واجب ہے واجب ہئ فائدہ اٹھائیں مثلا نفقہ اور لباس حال یہ ہے کہ ان کو ان کی قیام گاہوں سے نکالا نہ جائے (غَیْرَ اخراج) حال ہے البتہ اگر وہ ازخود نکل جائیں تو اے اس میت کے اولیاء تم پر کوئی گناہ نہیں، تو وہ (حول کے بعد) اپنی ذات کے معاملہ میں شرعی دستور کے مطابق جو کچھ کریں مثلاً ، سنگار، ترک، سوگ، اور اپنا نان نفقہ از خود ترک کردینا، اللہ اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے اور مذکورہ وصیت، آیت میراث کی وجہ سے منسوخ ہے اور ایک سال کی عدت، اَرْبَعَۃَ اَشْھُرِ وَّعَشْرًا، سے منسوخ ہے جو کہ نزول میں مؤخر ہے (اگرچہ تلاوت میں مقد ہے) اور عورت کے لئے سُکنیٰ (جائے سکونت) امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک واجب ہے اور مطلقہ کو کچھ کار آمد چیزیں جن کو شوہر دستور کے مطابق بقدر گنجائش دیں، یہ حق ہے اللہ سے ڈرنے والوں پر (حَقًا) فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، اس کو مکرر لائے ہیں تاکہ موطوئہ کو بھی شامل ہوجائے، اس لئے کہ سابقہ آیت غیر موطوئہ کے بارے میں ہے جس طرح سابق میں بیان کیا گیا اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَوْ لَمْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ ، مفسر علام نے لَمْ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ لَمْ کا مدخول تَمْسُّوْھُنَّ ، پر معطوف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور اَوْ بمعنی واؤ ہے یعنی جب تک مسیس اور تفریض مہر نہ پائی جائے تو طلاق میں کوئی حرج نہیں، اس لئے کہ یہ بات طے ہے کہ اَوْ ، جب سیاق نفی میں واقع ہو تو عموم کا فائدہ دیتا ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ تَفْرِضُوْا، اَنْ مضمر کی وجہ سے منصوب ہے مگر یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ خلاف ظاہر ہے اور اس لئے کہ اس صورت میں اَنْ مقدر ماننا ہوگا اور اَوْ ، بمعنی اِلاَّ یا الیٰ ، لینا ہوگا۔
قولہ : فَرِیْضَۃً ، فَرِیْضۃ، بمعنی مفروضہ ہے نہ کہ مصدر اس لئے کہ فَعِیْلَۃ کے وزن پر مصدر نادر ہے فَرِیْضَۃً ، تَفْرِضُوْنَ ، کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور مفروض سے مراد مہر ہے، فَرِیْضۃٌ، میں تاء وصفیت سے اسمیت کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے آئی ہے۔
قولہ : مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مَسرْ کی نسبت مرد کی جانب کی گئی ہے حالانکہ مس دونوں کی طرف سے ہوتا ہے اور کبھی عورت کی جانب سے بھی اقدام ہوتا ہے۔
جواب : مرد چونکہ اس معاملہ میں قوی تر ہے اور اکثر اسی کی طرف سے اقدام ہوتا ہے اس لئے مرد کی جانب فعل کی نسبت کردی ہے ورنہ حکم دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
قولہ : مَا مصدریۃ ظرفیۃ، اقرب یہ ہے کہ مَا شرطیہ بمعنی ان ہے نہ مصدریہ نہ ظرفیہ کما قال مفسر علام (رح) تعالیٰ اس لئے کہ ظرفیت کے لئے اس جگہ ہوتا ہے جہاں امتداد ممکن ہو، جیسے ” خَالِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ “ اس لئے کہ خلود میں شان امتداد ہے بخلاد اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْھُنَّ ، میں کہ طلاق میں امتداد نہیں ہے۔
قولہ : اَیْ لاَ تَبِعَۃَ عَلَیکم، لَا جُنَاحَ ، کی تفسیر، لَاتبعۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ جُناحٌ سے مراد طلق مؤاخذہ ہے نہ کہ صرف مؤاخذہ اخروی یا صرف مؤاخذہ دنیوی اول تو یہ تخصیص بلا دلیل ہے دوسرے یہ کہ اگر آخرت کا گناہ مراد لیا جائے تو اس میں نفی مہر شامل نہیں ہوسکتی یہی لفظ نفی پر بھی بالاتفاق دال ہے۔ (ترویح الارواح)
قولہ : والفرض، اس میں اس بات کی طرف اشارہ کہ اَوْتَفْرِضُوْا لَھُنَّ ، میں اَوْ ، بمعنی واؤ ہے اور طلاق دینے والے شوہر پر مہر واجب نہ ہونے کا تعلق عدم مسیس اور عدم فرض دونوں سے ہے نہ کہ ایک سے اسلئے کہ اگر مسیس پایا گیا تو پورا مہر واجب ہوگا اور اگر فرض مہر یعنی تعیین مہر پائی گئی تو نصف مہر واجب ہوگا، مہر کا عدم وجوب تو اسی صورت میں ہوگا جب کہ مسیس اور تعیین دونوں معدوم ہوں
قولہ : فَطَلِّقُوْھُنَّ ۔ سوال : مفسر علام نے فَطَلِّقُوْھُنَّ ، کس مقصد سے محذوف مانا ہے۔
جواب : اگر طَلِّقُوْھُنَّ ، کو محذوف نہ مانا جائے تو مَتِّعُوْھُنَّ کا عطف تَفْرِضُوْا، پر ہوگا، اور یہ عطف اِنْشاء عَلَی الخبر ہوگا، جو کہ مستحسن نہیں ہے اس سے بچنے کے لئے مفسر علام نے طلقوھُنَّ ، مقدر مانا ہے تاکہ عطف انشاء علی الانشاء ہوجائے۔
قولہ : یُفِیْدُ اَنَّہٗ لَانَظْرَ اِلی قدرِ الزوْجَۃِ ، علی الموسع اور علی المقتر چونکہ دونوں مذکر کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لئے ان سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ متعہ میں شوہر کی حیثیت کا اعتبار ہوگا نہ کہ بیوی کی حیثیت کا یہی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے، امام مالک
(رح) تعالیٰ کے نزدیک یہی مفتیٰ بہ ہے۔ (صاوی)
قولہ : صفۃ مَتَاعًا، یعنی بالمعروف محذوف کے متعلق ہو کر مَتَاعًا کی صفت اول ہے، اس عبارت کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے
سوال : مَتَاعًا، موصوف ہے اور حَقًّا، اس کی صفت ہے اور درمیان میں بالمعروف کا فصل ہے جو فصل بالاجنبی ہے۔
جواب : یہ فصل بالاجنبی نہیں ہے بلکہ بالمعروف، مَتَاعًا، کی صفت اول ہے اور حقًّا، مصدر موکِّدْ ہے جملہ سابقہ کے مضمون کے لئے اس کا عامل وجوبا محذوف ہے، ای حَقَّ ذَالِکَ حَقًّا۔
قولہ : رَیْرجعُ لکم النصف۔ سوال : مذکورہ عبارت کو مقدر ماننے کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : اِلَّا، استدراک کے لئے ہے جیسا کہ مفسر علام نے اِلّا، کی تفسیر لکِنَّ ، سے کرکے اشارہ کردیا ہے حالانکہ ماقبل میں مستدرک منہ بننے کی صلاحیت نہیں ہے اس لئے کہ نصف کا سقوط اور اس کا عفوان کے استحقاق کی جنس سے نہیں ہے اس لئے وَیَرْجِعُ لکم النِصْفَ ، کو محذوف مانا تاکہ استدراک صحیح ہوجائے۔ قولہ : یجبُ لَھُنَّ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ ، شرط کی جزاء ہے اور جملہ ناقصہ ہے حالانکہ جزاء کے لئے جملہ تامہ ہونا ضروری ہے۔
جواب : مفسر علام نے یَجِبُ لَھُنَّ ، مقدر مان کر جملہ کو تامہ کردیا تاکہ اس کا جزاء بننا درست ہوجائے۔
قولہ : یَعْفُوْنَ ، عفوٌ سے مضارع جمع مؤنث غائب، معاف کردیں وہ عورتیں۔ قولہ : یَعْفُوَ ، مضارع واحد مذکر غائب منصوب، وہ مراف کر دے۔
قولہ : عن ابن عباس ؓ ، الولی، اِذَا کانت محجورۃً ، اس عبارت کا مقصد، اَلَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ، میں اختلاف کو بیان کرنا ہے، اختلاف یہ ہے کہ ولی عفو کون ہے : شوہر یا عورت کا ولی ؟ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور بعض شافعیہ کا مذہب یہ ہے کہ مَنْ بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے اور ابن عباس کے نزدیک عورت کا ولی مراد ہے اگر عورت معذور یعنی نابالغ یا مجنون ہو امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے مذہب کو ترجیح دینے کے لئے مفسر علام نے وَھُوَ الزوج فرمایا قرینہ اس کا اَقْرَبُ لِلتقویٰ ہے، اس لئے کہ عورت کے معذور ہونے کی صورت میں عورت کے ولی کا مہر کو معاف کرنا تقویٰ نہیں ہے اس لئے کہ اس میں نقصان محض ہے۔
تفسیر و تشریح
طلاق قبل الدخوال کے احکام : طلاق قبل الدخول کے مطلب یہ ہے کہ یکجائی اور خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق کی نوبت آجائے، اس کی دو صورتیں ہیں، یا تو بوقت نکاح مہر کی مقدار مقرر نہ کی گئی، یہلی صورت کا حکم ” لا جنُاحَ عَلَیکم اِنْ طلقتم النساء “ (الآیۃ) میں مذکور ہے طلاق کی مہر اور صحبت کے اعتبار سے چار صورتیں ہوسکتی ہیں، ان میں سے دو کا حکم ان آیات میں بیان کیا گیا اور دو کا بعد والی آیت میں مذکور ہے، ایک یہ کہ نہ مہر مقرر ہو نہ صحبت و خلوت ہوئی ہو، دوسری صورت یہ کہ مہر تو مقرر ہو لیکن صحبت و خلوت کی نوبت نہ آئی ہو، تیسری صورت یہ کہ مہر بھی مقرر ہو اور صحبت بھی ہوئی ہو، اس صورت میں مقررہ مہر پورا دینا ہوگا، یہ حکم قرآن مجید میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے، چوتھی صورت یہ کہ مہر متعین نہ کیا ہو اور صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی ہو اس صورت میں مہر مثل پورا دینا ہوگا۔ مذکورہ آیت میں پہلی دو صورتوں کا حکم بیان کیا گیا ہے ان میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ مہر تو واجب نہیں مگر شوہر پر واجب ہے کہ اپنی طرف سے کچھ دیدے کم از کم ایک جوڑا ہی دیدے، دراصل قرآن کریم نے اس عطیہ کی کوئی مقدار معین نہیں کی البتہ یہ بتلا دیا کہ مالدار کو اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب کو اپنی حیثیت کے مطابق دینا چاہیے جس میں اس بات کی ترغیب ہے کہ صاحب و سعت تنگی سے کام نہ لے، حضرت حسن ؓ نے ایسے ہی ایک واقعہ میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار کا عطیہ دیا تھا، اور قاضی شریح نے پانچ سو درہم کا اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ادنی یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے۔
سبب نزول : لا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ، کا شان نزول یہ ہے کہ ایک انصاری نے ایک عورت سے بلاتعیین مہر نکاح کیا اور قبل الدخول اس کو طلاق دیدی عورت نے آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت کی تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، آپ نے فرمایا، امتعھا ولو بقلنسوتکَ ، اس کو متعہ دو اگرچہ تیری ٹوپی ہی کیوں نہ ہو۔ (حاشیہ جلالین)
فائدہ : متع یعنی ایک جوڑا جس کی قیمت پانچ درہم سے کم اور نصف مہر سے زائد نہ ہو۔ (خلاصۃ التفاسیر)
بحث : متعہ امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک مستحب ہے جیسا کہ کلمہ محسنین سے مفہوم ہوتا ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ واجب کہتے ہیں جیسا کہ کلمہ حَقًّا، سے سمجھا جاتا ہے اور محسن بمعنی مومن ہے۔
سوال : موطوءہ کو متعہ دینا مستحب ہے یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جواب : یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ تحلیل فرج بغیر مال کے نہیں ہوسکتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ ، لہذا جب مال مذکور ہو یا نکاح مع وطی حقیقۃ یا مجازاً پائی جائے، تو مال سے مہر کہتے ہیں واجب ہوگا، اور اگر صرف نکاح پایا جائے تو اس وجہ سے کہ تحلیل فرج حقیقۃً نہیں ہوئی مہر واجب نہ ہوگا، اور اس لئے کہ صورت تحلیل ہوگئی ہے اس کے عوض کچھ مال جس کو متعہ کہا گیا ہے مقرر کیا گیا، پس متعہ کی اصل عدم مہر اور شرط عدم وطی ہے جب دونوں پائے جائیں گے تو متعہ واجب ہوگا، اور جب دونوں نہ پائے جائیں گے متعہ نہ ہوگا، جب ایک پایا جائے تو دونوں دلیلیوں پر نظر کرتے ہوئے استحباب کا حکم دیا جائے گا۔
مقدار متعہ مختلف فیہ ہے : مظہری میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اعلیٰ درجہ متعہ کا یہ ہے کہ غلام دے اور ادنیٰ درجہ ایک جوڑا ہے اور امام احمد (رح) تعالیٰ و شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک حاکم کی رائے اور اجتہاد پر موقوف ہے، مگر حنفیہ نے اپنے اندازے کے دو شاہد قرار دئیے ہیں۔ (1) آثار منقولہ، جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ اور ابن عباس ؓ اور سعید سے تفسیر مظہری میں منقول ہے۔ (2) قیاس، اس لئے کہ متعہ مہر کی فرع ہے اور مہر قبل الوطی نصف ملتا ہے اور نصف مہر پانچ درہم سے کم نہیں ہوسکتا، اور یہی ادنیٰ درجہ متعہ کا ہے اور جب مہر مذکور نہ ہو تو مہر مثل دیا جاتا ہے اور یہی اعلیٰ درجہ قرار پایا، بہرحال ادنیٰ درجہ سے کم نہ ہو، اور اعلیٰ درجہ مہر کے اعلیٰ درجہ سے زائد نہ ہو ” خیر الامور اَوْسَاطُھَا “۔
مسئلہ : قبل الوطی طلاق جائز ہے۔ مسئلہ : بغیر تعین مہر نکاح درست ہے حتیٰ کہ نفی مہر کے ساتھ بھی نکاح درست ہے مگر مہر مثل واجب ہوگا۔ مسئلہ : مہر صرف نکاح سے واجب نہیں ہوتا جب تک کہ وطی یا ذکر مہر نہ ہو، البتہ مال کی ایک مقدار واجب ہوجاتی ہے۔
مسئلہ : ادائے مال واجب ہوجاتا ہے مہر ہو یا متعہ۔ مسئلہ : حق جس پر واجب ہو اس کی حالت استطاعت معتبر نہ ہوگی، موسع اور مقتر، دونوں مذکر کے صیغہ بیان فرمائے اس سے معلوم ہوا کہ مرد کی استطاعت مراد ہے۔ (خلاصہ، شرح وقایہ)
Ayahs 2:237–239وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ أنْ تَمَسُّوْھُنَّ ، (الآیۃ) اگر تم عورتوں کو چھونے (وطی یا خلوۃ صحیحہ) سے پہلے طلاق دو اور مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا ادا کرو، البتہ اگر عورتیں یہ آدھا مہر بھی چھوڑ دیں یا جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے وہ درگذر کرے تو نہ دو ، فَرِیْضَۃٌ، سے مراد مہر اور فرض کرنے سے مراد مہر کا ذکر کرنا ہے خواہ مقدار معین ہو یا نہ ہو پس اگر مقدار بھی معین ہے تو اس کا آدھا دینا آسان ہے اور اگر مقدار معین نہیں تو مہر مثل پر فیصلہ ہوگا سوال یہ ہے کہ مثل کس کا اور کن چیزوں میں معتبر ہے ؟ اس شعر میں مذخور ہے
مثل ہیں اقربائے آبائی یہ زر و حسن وعمر و دانائی
الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ، کعب اور سعید نے کہا یہ زوج ہے اور ابن عباس اور طاؤس و مجاہد کی روایت میں عورت کا باپ یا بھائی یا ولی ہے۔ فائدہ : اگر اس سے شوہر مراد ہے تو مطلب یہ ہے کہ خواہ عورت معاف کر دے اور کچھ نہ لے، خواہ مرد پورا مہر دیدے، یا دیا ہوا ہو تو نصف واپس نہ لے، اور اگر عورت کے اولیاء مراد ہیں تو یہ مطلب ہوگا کہ عورت بالغہ اپنا حق چھوڑ دے یا عورت نابالغہ یا مجنونہ کا حق اس کے اولیاء چھوڑ دیں۔ مسئلہ : اس صورت میں چھوڑنے والے عورت کے مہر کے ضامن ہوں گے۔ مسئلہ : اگر عورت لونڈی ہو تو اس کا مولی معاف کر دے۔ (خلاصۃ التفاسیر)
صلوٰۃ وسطیٰ کی تفصیل : صاحب تفسیر کبیر نے صلوٰۃ وسطیٰ میں چند مذاہب نقل کیے ہیں، (1) پانچویں وسطیٰ ہیں، اس لئے کہ عبادات اور حسنات کا متوسط درجہ نماز ہے حدیث میں وارد ہے ” الصلوٰۃ خیر موضوع “ یعنی نماز سب سے بہتر عبادت ہے، (2) فجر کی نماز مراد ہے یہ قول حضرت علی، وحضرت عمر وابن عباس و جابر ؓ وغیرہ کا ہے امام شافعی (رح) تعالیٰ سے بھی یہ قول منقول ہے، (3) صلوٰۃ وسطیٰ سے ظہر کی نماز مراد ہے یہ قول زید، عمر، ابو سعید خدری واسامہ بن زید ؓ اور ایک قول ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ سے بھی یہ قول منقول ہے اور زیادہ تر اسی پر اعتماد کیا گیا ہے، (5) مغرب کی نماز مراد ہے ابو عبید سلمان اور ابو قبیصہ سے بھی یہی قول منقول ہے، (6) بعض حضرات نے عشاء کی نماز کو صلوٰۃ وسطیٰ کہا ہے۔
Ayah 2:240وَالَّذِیْنَ یُتَوْفَّوْنَ مِنْکُمْ ، زمانہ جاہلیت میں وفات زوج کی عدت ایک سال تھی اور اسلام میں چار ماہ اور دس دن مقرر ہوئی، مگر اس میں عورت کی اتنی رعایت رکھی گئی ہے کہ چونکہ اس وقت تک میراث کا حکم نازل نہ ہوا تھا، اور بیوی کا کوئی حصہ میراث میں مقرر نہ ہوا تھا، بلکہ اوروں کے حق کا مدار محض مردے کی وصیت پر تھا اس لئے یہ حکم دیا کہ اگر عورت اپنی مصلحت کے مطابق خاوند کے ترکہ کے گھر میں رہنا چاہے تو ایک سال تک اس کو رہنے کا حق ہے اور اس کے ترکہ سے اس ایک سالہ مدت میں اس کو نان نفقہ بھی دیا جائے گا، مرنے والے شوہروں کو حکم تھا کہ اس قسم کی وصیت کر جایا کریں، چونکہ یہ حق عورت کا تھا اس کو وصول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار عورت ہی کو تھا اس لئے وارثوں کو تو گھر سے نکالنے کا حق نہ تھا، لیکن خود عورت کے لئے جائز تھا کہ اس کے گھر نہ رہے اور اپنا حق ورثہ کو چھوڑ دے بشرطیکہ عدت پوری ہوچکے، اور نکاح وغیرہ سب درست تھا، معروف سے یہی مراد ہے البتہ عدت کے اندر نکلنا اور نکاح کرنا وغیرہ سب گناہ تھا، جب آیت میراث نازل ہوئی تو عورت کو ترکہ میں سے اس کا حصہ مل گیا، لہٰذا اپنے حصہ میں رہے اور اپنے حصہ سے خرچ کرے، اور آیت وصیت منسوخ ہوگئی۔
Ayahs 2:241–242وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ ، ان ہی الفاظ کے ساتھ ایک آیت سابق میں گذر چکی ہے مگر وہاں مطلقات سے وہ عورتیں مراد تھیں کہ جن کو قبل الدخول طلاق دیدی گئی ہو، اگر مہر متعین نہیں تھا تو متعہ کے ذریعہ فائدہ پہنچانا مراد ہے اور اگر مہر متعین تھا تو نصف مہر مراد ہے۔ اس آیت میں ان عورتوں کو فائدہ پہنچانا مراد ہے جن سے خلوت صحیحہ یا وطی ہوچکی ہے اس کے بعد طلاق دی ہے اگر مہر متعین تھا تو فائدہ کا مطلب ہوگا پورا مہر دینا اور جن کا مہر متعین نہیں ہے ان کو فائدہ پہنچانے کا مطلب ہے کہ مثل مہر دیا جائے۔ (خلاصۃ التفاسیر)
Ayahs 2:243–244آیت نمبر 243 تا 248
ترجمہ : کیا تم کو ان کے بارے میں معلوم نہیں استفہام تعجب دلانے اور مابعد کو سننے کا شوق دلانے کے لئے ہے یعنی تم کو اس کا علم نہیں ہے جو ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے، ان کی تعداد چار ہزار، یا آٹھ ہزار، یا بارہ ہزار یا تیس ہزار یا چالیس ہزار یا ستر ہزار تھی، (حَذَرَ الْمَوْتِ ) خَرَجوا کا مفعول لہ ہے، وہ بنی اسرائیل کی ایک قوم تھی کہ جن کے شہروں میں طاعون پھوٹ پڑا تھا، تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو اللہ نے ان کو حکم دیا مرجاؤ تو سب کے سب مرگئے، پھر آٹھ یوم یا اس سے زیادہ کے بعد ان کے نبی حز قیل (علیہ السلام) کی دعاء سے (اللہ تعالیٰ نے) ان کو زندہ کردیا، حاء مہملہ اور قاف کے کسرہ کے ساتھ اور زاء کے سکون کے ساتھ، تو وہ لوگ ایک زمانہ تک زندہ رہے لیکن ان کے (جسم پر) مردنی کا اثر (زردی) وغیرہ نمایاں تھی، اور جو لباس بھی پہنتے تھے وہ کفن کے مانند ہوجاتا تھا، اور یہ صورت حال ان کی نسل میں مدتوں باقی رہی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل والا ہے، اور اسی میں سے ان لوگوں کو زندہ کرنا ہے لیکن اکثر لوگ نا شکرے ہیں اور وہ کفار ہیں، اور مقصد ان لوگوں کا قصہ ذکر کرنے سے مومنین کی جہاد پر ہمت افزائی ہے، اور اسی وجہ سے اس پر ” وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ “ کا عطف کیا گیا ہے اور جہاد کرو اللہ کے راستہ میں یعنی اس کے دین کو سربلند کرنے کے لئے، اور خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو خوب سننے والا اور تمہارے احوال کا جاننے والا ہے تو وہ تم کو اس کئ جزاء دے گا، اور ایسا کوئی ہے جو اللہ کو قرض حسن دے ؟ اپنے مال کو اس کے راستے میں خرث کرکے، اس طریقہ پر کہ مال کو اللہ کے راستہ میں خوش دلی سے خرچ کرے، پس اللہ اس کو خوب بڑھا چڑھا کر عطا فرمانے والا ہے دس گنے سے لے کر سات سو گنے سے زیادہ تک جیسا کہ عنقریب آتا ہے اور ایک قراءت میں تشدید کے ساتھ ہے اور اللہ جس کو چاہے آزمائش کے طور پر رزق کو روک کر تنگ کرتا ہے اور جس کی چاہے بطور امتحان روزی وسیع کرتا ہے اور آخرت میں بعث کے ذریعہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزاء دے گا کیا تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا ؟ یعنی کیا تم کو ان کے قصہ اور خبر کا علم نہیں ہوا، جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے جو کہ شمویل تھے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے تاکہ ہم اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کریں تاکہ اس کے ذریعہ ہماری بات پختہ ہوجائے اور اس کی طرف رجوع کریں ان کے نبی نے ان سے کہا کہیں ایسا تو نہ ہو کہ تم پر قتال فرض کردیا جائے اور تم نہ لڑو ؟ عَسیْتُمْ ، میں سین کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ (اَلَّا تُقَاتِلُوْا) عسٰی کی خبر ہے اور استفہام متوقع تقریر و تثبیت کے لئے ہے کہنے لگے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں حالانکہ ہم کو ہمارے گھروں سے نکالا گیا اور ہمارے بچوں سے جدا کیا گیا ان کے قتل و قید ہونے کی وجہ سے، اور یہ معاملہ ان کے ساتھ قوم جالوت نے کیا تھا، مطلب یہ کہ ہمیں اس کی معیت میں قتال کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، اور قتال کا مقتضیٰ موجود ہے پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو ان میں ایک سے ایک قلیل تعداد کے سوا سب پیٹھ پھیر گئے اور بزدلی دکھا گئے، اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے طالوت کی معیت میں نہر عبور کی تھی جیسا کہ عنقریب آتا ہے، اللہ تعالیٰ ظالموں کو جانتے ہیں تو ان کو سزا دیں گے چناچہ نبی (شمویل نے) اللہ تعالیٰ سے ایک بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے درخواست قبول فرمالی، اور طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا، تو ان سے ان کے نبی (شمویل) نے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہارا بادشاہ طالوت کو بنادیا ہے تو کہنے لگے اس کی ہمارے اوپر بادشاہت کیسے ہوگی اس سے تو یم زیادہ حقدار ہیں بادشاہت کے اس لئے کہ وہ (ایک تو) شاہی خاندان سے نہیں ہے اور نہ خاندان نبوت سے ہے اور وہ دباغ (چرم ساز) یا چرواہے تھے، اور اس کو تو مالی خوشحالی بھی نہیں دی گئی کہ جس کے ذریعہ نظام سلطنت کو قائم کرسکے، تو نبی نے اس سے کہا (سنو) اللہ نے اسی کو تمہارا بادشاہ منتخب کیا ہے اور اس کو علمی اور بدنی برتری بھی عطا فرمائی ہے اور اس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل میں بڑا عالم اور جسمانی طور پر نہایت جمیل اور مکمل تھا، (بات یہ ہے) کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک اس کو عطا کردیتا ہے اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا فضل بڑا وسیع ہے اور اس سے بخوبی واقف ہے کہ کون اس کا اہل ہے ؟
جب (بنی اسرائیل نے) شمویل نبی سے اس کی بادشاہت کی نشانی طلب کی تو فرمایا اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں انبیاء کی تصویریں ہیں جس کو اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر نازل فرمایا تھا اور وہ صندوق ان کی نسل میں باقی رہا، اس کے بعد ان پر قوم عمالقہ غالب آگئی اور اس صندوق کو چھین لیا اور وہ اسی صندوق کے ذریعہ اپنے دشمن پر فتح حاصل کیا کرتے تھے، اور قتال کے موقع پر اس کو آگے رکھتے تھے اور اس سے سکون حاصل کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس میں تمہارے قلوب کے لے طمانینت ہے، تمہارے رب جانب سے، اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے یعنی جس کو انہوں نے چھوڑا تھا، اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نعلین شریفین تھے، اور آپ کا عصاء تھا اور ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ تھا، اور ایک قفیز مَنّ ، تھا جو کہ ان پر (آسمان) سے نازل ہوتا تھا، اور تورات کے کچھ اجزاء تھے، جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے، تحملہ، یَاتِیْکم کے فاعل سے حال ہے بلاشبہ اس میں تمہارے لئے اس کی بادشاہت کی نشانی ہے اگر تم کو یقین ہو چناچہ فرشتوں نے اس کو آسمان اور زمین کے درمیان اٹھایا اور یہ لوگ اسے دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ اس کو طالوت کے پاس رکھ دیا لہٰذا سب نے اس کی بادشاہت کا اقرار کرلیا اور جہاد کی طرف سبقت کی چناچہ انہوں نے ان کے نوجوانوں میں سے ستر ہزار کو منتخب کیا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَیْ لَمْ یَنْتَہِ ۔ سوال : رؤیت علمیہ کا صلہ اِلیٰ نہیں آتا، رؤیت علمیہ متعدی بدومفعول ہوتی ہے حالانکہ اَلَمْ تَرَاِلَ الَّذِیْنَ خَرَجُوْا، میں رؤیت قلبی مقرد ہے اور اس کے صلہ میں اِلیٰ واقع ہے۔ جواب : رؤیت علمیہ ہی مراد ہے مگر ؛ انتہاء کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا الیٰ صلہ لانا درست ہے اور اسی وجہ سے یہاں یہ متعدی بدو مفعول نہیں ہے مفسر علام نے، لَمْ ینتَہِ ، کہہ کر اسی جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : طاعون، طاعون ایک مہلک وبائی مرض ہے جس میں گلٹی نکلتی ہے خاص طور پر بخل میں اس مرض میں چند ہی روز میں انسان مرجاتا ہے بلادھم، بلاد سے مراد شہر یا قریہ ہے جو واسط کے علاقہ میں تھا اور اس کا نام ذ اور دان تھا۔
قولہ : قفَمَاتوا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے، ثُمَّ اَحْیَاھم کا عطف فَمَاتُوا، مقدر پر ہے، جس کا مقام متقاضی ہے اس لئے کہ اِحْیَاء کے لئے اول موت ضروری ہے ثُمَّ ، کے ذریعہ عطف کرکے اشارہ کردیا کہ مرنے کے کافی دن کے بعد ان کو زندہ کیا گیا۔
قولہ : حزقیل، حزقیل (علیہ السلام) کو ذوالکفل بھی کہا جاتا ہے، یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تیسرے خلیفہ ہیں۔
قولہ : مِنْہُ ، ای من الفضل۔ قولہ : اَلَّا تُقاتلُوا، خبرُ عَسَیٰ ۔
ترکیب : عَسَیتُم، حرف ترجی فعل ماضی، اس کے اندر ضمیر جو اس کا اسم ہے اِنْ حرف شرط، کُتِبَ عَلَیْکم القِتَالُ ، جملہ ہو کر شرط، فلا تبادرون الی القتال جواب شرط محذوف، شرط جزاء سے مل کر عسیٰ کے اسم و خبر کے درمیان جملہ معترضہ، اَلَّا تُقَاتِلُوا، عسیٰ ، کی خبر عَسَیْتُمْ اپنے اسم و خبر سے مل کر قَالَ ، کا مقولہ۔ قولہ : رُضاض، بالضم تورات کے اجزاء ٹکڑے۔
تفسیر و تشریح
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ ، (الآیۃ) عربی زبان میں یہ طرش خطاب ایسے موقع پر آتا ہے کہ جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کے طرف توجہ دلانی مقصود ہوتی ہے، اور رویت سے ہمیشہ رویت بچشم سر ہی مراد نہیں ہوتی، بلکہ کبھی غور و فکر اور تامل و تخیل بھی مراد ہوتا ہے، اور جب اس فعل کا صلہ اِلٰی آتا ہے تو کوئی اہم نتیجہ نکالنا مقصود ہوتا ہے، اس قسم کی رویت کو رویت قلبی کہا جاتا ہے واِذَا عُدِّیَ رأیت بالیٰ اقتضٰی معنی النظر المؤدی الی الاعتبار (راغب) اور کبھی اس کلام سے اظہار تعجب بھی ہوتا ہے، ھذا کلم جریٰ مجری المثل فی معنی العجیب۔ (کشاف) مذکورہ تین آیتوں میں ایک عجیب انداز میں اللہ تعالیٰ نے راہ حق میں جانی و مالی قربانی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، اور ان احکام و ہدایت سے پہلے تاریخ عالم کا ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ موت وحیات تقدیر الہیٰ کے تابع ہے جنگ و جہاد میں جانا موت کا سبب نہیں اور بزدلی سے جان چرانا موت سے بچنے کا ذریعہ نہیں تفسیر ابن کثیر میں سلف صحابہ اور تابعین کے حوالہ سے اس واقعہ کی تشریح یہ بیان کی گئی ہے۔
واقعہ کی تفصیل : بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایک شہر میں یا بستی میں رہتی تھی، عاصم (رح) تعالیٰ کے قول کے مطابق یہ لوگ واسط کے قریب ایک فرسخ کے مسافت پر ذ اور ان کے رہنے والے تھے ان کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے راجح یہ ہے کہ یہ دس ہزار کے قریب تھے ابن عباس کے قول کے مطابق چار ہزار تھے، اچانک ان کی بستی میں طاعون پھوٹ پڑا چناچہ موت کے خوف سے بستی سے نقل ہو کردو پہاڑوں کے درمیان ایک واسیع میدان میں مقیم ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ موت سے کسی کو فراز نہیں دو فرشتے بھیجے جو اس میدان کے کناروں پر آکھڑے ہوئے ایک بالائی کنارے پر اور دوسرا زیریں کنارے پر، ان دونوں نے اللہ کے حکم سے کہا ” مُوْتُوا “ فرشتوں کا یہ کہنا تھا کہ سب کے سب مرگئے، اور جب تک اللہ نے چاہا یہ مردہ پڑے رہے ایک زامنہ کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر جن کا نام حذقیل بتایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ان کو ان لوگوں کا واقعہ بتایا، حضرت حزقیل (علیہ السلام) نے ان کے لئے زندہ کرنے کی دعا کی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو زندہ کردیا۔
بنی اسرائیل کے بادشاہ نے جہاد کا حکم دیا تھا، لوگ عذر کرنے لگے کہ جہاں آپ ہم کو لے جاتے ہیں وہاں تو طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے جب تک وبا ختم نہ ہوگی ہم نہ جا ہیں گے، اس واقعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ موت کا وقت مقرر ہے نہ ایک لمحہ آگے ہوسکتا ہے اور نہ ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکتا ہے اس لئے یہ حرکت فضول بھی ہے اور اللہ کی ناراضگی کا سبب بھی۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے ہزاروں برس پہلے کا ہے اس کو دیکھنے کا آپ کو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا لہٰذا اَلَمْ تَرَ ، کا مطلب ہے اَلَمْ تعلم۔
مسئلہ : جہاں طاعون وغیرہ دیگر متعدی بیماری پھیلی ہوئی ہو تو اس خیال سے کہ یہاں سے بھاگ کر بچ جائیں گے، بھاگنا درست نہیں ہے، البتہ ضرورۃً جانے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، حضرت عمر ؓ نے اسی حدیث کی وجہ سے سفر شام سے وبا کی خبر سن کر مراجعت فرمائی تھی۔
حضرت فاروق اعظم ؓ کے واقعہ مراجعت کی تفصیل : تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ ملک شام کا قصد فرمایا شام کی سرحد پر تبوک کے قریب ایک مقام، سَرَغ ہے وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ملک شام میں سخت طاعون پھیلا ہوا ہے یہ طاعون ملک شام کی تاریخ میں ایک سانحہ تھا یہ طاعون عمواس کے نام کی بستی سے شروع ہوا تھا جو بیت المقدس کے قریب ہے، پھر پورے ملک میں پھیل گیا، اس میں ہزار ہا انسان جن میں بہت سے صحابہ وتابعین بھی تھے شہید ہوگئے عمر فاروق ؓ نے جب طاعون کی شدت کی خبر سنی تو اسی مقام پر ٹھہر کر صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا کہ ہمیں اس وقت ملک شام جانا چاہیے یا واپس ہونا مناسب ہے اس وقت جتنے حضرات مشورہ میں شریک تھے، ان میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کوئی حکم سنا ہو، بعد میں عبد الرحمن بن عوف نے اطلاع دی کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اس معاملہ سے متعلق یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے (طاعونی گلٹی) کا ذکر فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس سے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا، پھر اس کا کچھ بقیہ رہ گیا، اس کا یہ حال ہے کہ کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی پھر آجاتا ہے، تو جو شخص یہ سنے کہ فلاں خطہ میں یہ عذاب آیا ہوا ہے تو اس کو چاہیے کہ اس علاقہ میں نہ جائے، اور جو شخص اس خطہ میں پہلے سے موجود ہے تو طاعون سے بھاگنے کے لئے وہاں سے نہ نکلے۔ (بخاری شریف)
حضرت فاروق اعظم ؓ نے جب یہ حدیث سنی تو رفقاء کو واپس کا حکم دیدیا، حضرت ابو عبیدہ جو ملک شام کے امیر (گورنر) بھی تھے، اس مجلس میں موجود تھے، فاروق اعظم کا یہ حکم سن کر فرمانے لگے، اَفِرارًا مِن قدر اللہ، یعنی کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگنا چاہتے ہیں ؟ تو فاروق اعظم نے جواب دیا نعم نفر مِن قدر اللہ الی قدر اللہ، بیشک ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں مطلب یہ تھا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے حکم سے کر رہے ہیں جس کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا
حکمت : رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ جس شہر یا بستی میں طاعون وغیرہ وبائی مرض پھیلا ہوا ہو باہر والوں کو وہاں جانا منع ہے اور وہاں کے باشندوں کو اس جگہ سے موت کے ڈر سے بھاگنا ممنوع ہے۔
عجیب واقعہ : صحابہ کرام ؓ کے ایک بہت بڑے جنگی کمانڈر حضرت خالد بن ولید ؓ جن کی ساری اسلامی عمر جہاد میں گزری وہ کسی جہاد میں شہید نہیں ہوئے بیمار ہو کر گھر میں بستر مرگ پر وفات پائی، وفات کے قریب بستر پر اپنے مرنے کا افسوس کرتے ہوئے گھر والوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں فلاں فلاں عظیم الشان جنگوں اور جہادوں میں شریک ہوا، اور میرا کوئی عضو ایسا نہیں جس میں تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو مگر افسوس کہ میں اب گدھے کی طرح بستر پر مر رہا ہوں، خدا تعالیٰ بزدلوں کو آرام نہ دے ان کو میری نصیحت پہنچاؤ !۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کا واقعہ بطور تمہید لایا گیا ہے اگلی آیت میں جہاد و قتال کا حکم دیا گیا جو اس قصہ کے ذکر کرنے سے اصل مقصود تھا کہ جہاد میں جانے کو موت اور بھاگنے کو نجات نہ سمجھو، تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا ذکر ہے۔
Ayah 2:245قرض حسن سے کیا مراد ہے ؟ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا، قرض حسن سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے یعنی جانی قربانی کی طرف مالی قربانی میں بھی تاویل نہ کرو رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ دونوں طریقوں سے تمہاری آزمائش کرتا ہے کبھی رزق میں کمی کرکے اور کبھی فروانی کرکے، پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے کبھی ظاہری طور پر اور کبھی باطنی طور پر۔