2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:185–186

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو اور اس کا شکر کرو

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں

شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْانُ رمضان میں نزول قرآن کا یہ مطلب نہیں کہ مکمل قرآن کسی ایک رمضان میں نازل کیا گیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ رمضان کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور وہاں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا۔ وہاں سے حسب ضرورت 23 سالوں میں اترتا رہا۔ (ابن کثیر) ۔ قرآن کے رمضان میں نازل ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتداء ماہ رمضان میں ہوئی اور سب سے پہلی قرآنی وحی سورة علق کی ابتدائی آیتیں غار حراء میں اسی ماہ رمضان میں یکم سن نبوی 609 عیسوی میں نازل ہوئی۔ سفر کی حالت میں روزہ رکھنایا نہ رکھنا آدمی کے اختیارِ تمیزی پر چھوڑدیا گیا ہے نبی ﷺ کے ساتھ جو صحابہ سفر میں جایا کرتے تھے ان میں سے کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہ رکھتا تھا، اور دونوں گروہوں میں سے کوئی دوسرے پر اعتراض نہ کرتا تھا، خود آنحضرت ﷺ نے بھی کبھی سفر میں روزہ رکھا ہے اور کبھی نہیں رکھا، ایک سفر کے موقع پر ایک شخص بدحال ہو کر گرگیا اور اس کے گرد لوگ جمع ہوگئے، نبی ﷺ نے یہ حال دیکھ کر دریافت فرمایا : کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا گیا روزہ سے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ نیکی نہیں ہے، جنگ کے موقع پر تو آپ ﷺ حکما روزہ سے روک دیا کرتے تھے تاکہ دشمن سے لڑنے میں کمزوری لاحق نہ ہو، حضرت عمر ؓ کی روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ رمضان میں جنگ پر گئے، پہلی مرتبہ جنگ بدر میں اور دوسری مرتبہ فتح مکہ کے موقع پر اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے نہیں رکھے۔ حالت سفر میں روزہ افضل ہے یا افطار : حدیث نبوی سے ترجیح حالت سفر میں افطار کو معلوم ہوتی ہے، بلکہ بعض صورتوں میں تو ایسے لگتا ہے جیسے روزہ رکھنا مسافر کے لئے ایک جرم ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ : ” فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ ماہ رمضان میں مکہ کی طرف چلے اور روزہ رکھا، یہاں تک کہ مقام کراع الغمیم پہنچ گئے، لوگ روزہ سے تھے تو آپ نے پانی کا پیالہ منگایا اور اس کو اوپر اٹھایا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا اس کے بعد آپ ﷺ نے پانی نوش فرمایا پھر آپ کو اطلاع ملی کہ بعض لوگ اب بھی روزہ سے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ گنہگار ہیں گنہگار ہیں “۔ (مسلم و ترمذی) اس سے ملتی جلتی ایک حدیث بخاری و مسلم اور مؤطا وغیرہ میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی روایت میں تو یہاں تک ہے کہ : قال رسول اللہ ﷺ : صائم رمضان فی السفر کالمفطر فی الحضر۔ (ابن ماجہ) ” سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی گھر میں بیٹھنے والا روزہ نہ رکھے “۔ بحیثیت مجموعی مسافر کے لئے بھی مریض کی طرح حکم شریعت یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر بلازحمت معتدبہ ممکن ہو تو روزہ رکھ ہی لیا جائے، اگر زحمت اور تعب معتدبہ ہو تو قضا کردینا جائز ہے، اور اگر نوبت ہلاکت کی آجائے تو ترک صوم واجب ہوجائے گا۔ (ماجدی) باقی اختلاف مذاق و مسلک اس باب میں شروع سے چلا آرہا ہے، صوم و افطار دونوں کے مسافر کے لئے جواز کے تو سب قائل ہیں، اختلاف جو کچھ ہے وہ اس میں ہے کہ افضل کونسا پہلو ہے ؟ سو بعض صحابہ اور اکثر ائمہ فقہ افضلیت صوم کے قائل ہیں، اس کے مقابلہ میں بعض اجلہ صحابہ اور متعدد نابعین و فقہاء افضلیت افطار کی طرف گئے ہیں۔ وَاختلفوا فی الافضل فَذَھَبَ ابو حنیفۃَ واصحابہٗ ومالکٌ والسافعی (رح) تعالیٰ فی بعض ما رُویَ عَنْھُمَا اِلی اَن الصَّومَ افضل وبہ قال من الصحابۃ عثمان بن ابی العاص الثقفی وانس بن مالکٍ ؓ (بحر) ۔ وَذَھَبَ الَاوزاعی واحمد واسحق (رح) تعالیٰ الیٰ اَنَّ الفِطر افضلُ وبہ قال مِنَ الصِّحابۃ ابن عمر و ابن عباس ؓ ومِنَ التابعین ابن المسیّب والشعبی وعمر بن عبد العزیز ومجاھدٌ وقتادۃ (رح) تعالیٰ (بحر) نَقَلَ ذٰلک ابن عطیۃ عن عُمَر وانبہ عبد اللہ وعن ابن عباس انّ الفطر فی السفر عزیمۃٌ (بحر) ۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمائی اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور جو چیز خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو خدا سے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

آیت نمبر 187 تا 188 ترجمہ : اور حلال کردیا گیا تمہارے لئے روزہ کی رات میں تمہاری عورتوں سے جماع کے طور پر بےحجاب ہونا یہ حکم ابتداء اسلام میں عورتوں سے جماع اور عشاء کے بعد کھانے پینے کی حرمت کو منسوخ کرنے کے لئے نازل ہوا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، یہ کنایہ ہے باہمی معانقہ سے یا ایک دوسرے کا حاجتمند ہونے سے، اللہ کو معلوم ہے کہ تم روزہ کی رات جماع کرکے اپنے ہی ساتھ خیانت کر رہے ہو، یہ واقعہ حضرت عمر ؓ وغیرہ کو پیش آیا تھا، اور ان لوگوں نے آپ ﷺ سے معذرت چاہی، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تم سے درگزر کیا پس اب جب کہ تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے تو ان سے مباشرت کرسکتے ہو یا اس (اولاد) کو طلب کرسکتے ہو جو تمہارے لئے اللہ نے مقدر کردی ہے یعنی جماع جائز کردیا یا ولد مقدر کو طلب کرنا جائز کردیا اور رات کے ہر حصہ میں کھاپی سکتے ہوتا ایں کہ فجر یعنی صبح صادق کا سفید دھاگا کالے دھاگے سے ممتاز ہوجائئے (مِنَ الفجر) الخیط الابیض کا بیان ہے اور الاسود کا بیان محذوف ہے، (اور وہ من اللیل ہے) ظاہر ہونے والی سفیدی کو اور اس تاریکی کو جو اس کے ساتھ ممتد ہوتی ہے سفید اور سیاہ دو دھاگوں کے ساتھ درازی میں تشبیہ دی گئی ہے پھر صبح صادق سے رات تک روزہ پورا کرو، یعنی غروب شمس کے ساتھ رات داخل ہونے تک، اور اپنی عورتوں سے مباشرت نہ کرو جب کہ تم اعتکاف کی نیت سے مسجدوں میں مقیم ہو فی المساجد، عاکفون کے متعلق ہے، یہ ممانعت اس شخص کے لئے ہے جو (مسجد میں) معتکف ہونے کی وجہ سے مسجد سے نکل گیا ہو، اور اپنی بیوی سے مجامعت کرکے واپس آیا ہو، یہ مذکورہ احکام اللہ کی حدود ہیں جس کو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے، لہٰذا ان کے قریب بھی نہ جانا یہ تعبیر لا تعتدوھا سے بلیغ تر ہے، جس کو دوسری آیت میں تعبیر کیا گیا ہے، اسی طرح جس طرح تمہارے لئے مذکورہ (احکام) بیان کئے گئے اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ حرام کردہ چیزوں سے بچیں اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناروا طریقہ سے کھاؤ یعنی باطل طریقہ سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ، یعنی اس طریقہ پر جو شرعاً حرام ہے مثلاً چوری، غصب (وغیرہ) اور نہ پہنچاؤ مال کو یعنی مالی خصومت کو حکام کے پاس یعنی مالی نزاع کو حاکموں کے پاس یا مال کو بطور رشوت حکام کے پاس نہ پہنچاؤ تاکہ کھا جاؤ تم مرافعہ الی الحکام کرکے لوگوں کے مال کا ایک حصہ گناہ کے ساتھ آلودہ کرکے جب کہ تم جانتے ہو کہ تم ناحق پر ہو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ ، الرَّفَثُ وہ گفتگو جو مرد اور عورت کے درمیان جماع کے وقت ہوتی ہے اور دوسرے وقت ناپسند کی جاتی ہے، رفَث اور جماع کے درمیان عموماً لزوم ہونے کی وجہ سے رفث بول کر جماع مراد لیا گیا ہے۔ (اعراب القرآن) رَفَثَ یَرْفُثُ (ن) رَفْثًا، فحش باتیں کرنا۔ سوال : رفث کا صلہ فی یا باء آتا ہے، یہاں الیٰ استعمال ہوا ہے ؟ جواب : رفث چونکہ افضاء کے معنی کو مشتمل ہے لہٰذا صلہ الیٰ لانا صحیح ہے، جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : لَیْلَۃَ الصِّیامِ ظاہر تو یہی ہے کہ لَیْلَۃَ ، اُحِلّ کی وجہ سے منصوب ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے، مگر اس صورت میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حلت تو اس وقت سے پہلے ہی ثابت تھی، اس ترکیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلت اسی وقت ہوئی۔ سوال : الرفثُ جو کہ بعد میں مذکور ہے وہ لَیْلَۃَ کا ناصب ہوسکتا ہے ؟ جواب : الرفث چونکہ مصدر عامل ضعیف ہے جو اپنے ماقبل میں عمل نہیں کرسکتا، اس لئے وہ عامل نہیں ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ لَیْلَۃَ کا عامل محذوف مان لیا جائے، تقدیر عبارت یہ ہوگی اَنْ تَرْفُثوا لَیْلَۃَ الصِّیامِ ۔ قولہ : تخونون، تختانون کی تفسیر تخونون سے کرکے ایک اشکال کا جواب دیا ہے۔ اشکال : تختانون باب افتعال سے ہے جو کہ لازم ہوتا ہے حالانکہ یہاں انفسکم کی جانب متعدی ہے۔ جواب : مفسر علام نے تختانون کی تفسیر تخونون سے کرکے اسی اشکال کا جواب دیا ہے، جواب کا ماحصل یہ ہے کہ افتعال مجرد کے معنی میں ہے اور باب افتعال کثرت خیانت کو ظاہر کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ قولہ : وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا اس کا عطف باشِرُوھُنَّ پر ہے۔ قولہ : الغَبَش شین اور باء کے فتحہ کے ساتھ بمعنی غلس بقیۃ اللیل یا آخر شب کی ظلمت۔ قولہ : الی دخولہ بغروب الشمس اس میں اشارہ ہے کہ غایت مغیا میں داخل نہیں ہے۔ قولہ : شُبِّہَ مَا یَبدُوا مِنَ البِیَاضِ ومَا یمتدُّ مَعَہٗ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اشکال جواب ہے۔ اشکال : یہ ہے کہ صبح صادق کو خیط ابیض سے تشبیہ دی گئی ہے حالانکہ یہ تشبیہ صبح کاذب سے زیادہ مشابہ ہے اس لئے کہ وہ دھاگے کی شکل میں عموداً ممتد ہوتی ہے نہ کہ صبح صادق، صبح صادق تو عرضاً پھیلی ہوئی ہوتی ہے، مذکورہ عبارت سے اسی اعتراض کا جواب دیا ہے جواب : کا خلاصہ یہ ہے کہ صبح صادق جب ابتدا نمودار ہوتی ہے تو اس کا بالائی کنارہ خیط ابیض کے مشابہ ہوتا ہے، معلوم ہوا تشبیہ ابتداء نمودار ہونے والے کنارہ کے ساتھ ہے نہ کہ درمیان یا آخر کے ساتھ۔ فافھم۔ قولہ : فلا تقربوھا اَبلَغُ مِن لا تَعْتَدُوھَا، ھُوَ ابْلَغُ الخ سے دو اشکالوں کا جواب دینا مقصود ہے : (1) پہلا اشکال : جن احکام کے قریب نہ جانے کا حکم کیا جا رہا ہے ان میں سے بعض واجب ہیں اور بعض مباح اور بعض حرام تو ان سب کے لیے یہ کہنا ان کے قریب بھی مت جانا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ (2) دوسرا اشکال : دوسری آیت میں وارد ہوا ہے تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تعْتَدُوْھَا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی حدود و احکام ہیں ان سے آگے نہ بڑھنا (تجاوز نہ کرنا) ان دونوں آیتوں کے مفہوم میں تضاد ہے، لہٰذا جمع و توفیق کی کیا صورت ہوگی ؟ (1) پہلے اشکال کا جواب : اللہ تعالیٰ نے احکام کو ان حدود کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو حق و باطل کے درمیان حاجز ہیں جو ان احکام پر عمل پیرا ہوگا وہ حق کا ادا کرنے والا ہوگا اور جو ان کی مخالفت کرے گا وہ باطل میں واقع ہوگا، لہٰذا ان کے قریب جانے سے منع فرما دیا تاکہ باطل کے قریب نہ جائے گویا کہ قربان حدود سے نہی، قرب باطل سے نہی ہے۔ (2) دوسرے اشکال کا جواب : فلا تقربوھَا اور لَا تَعْتَدُوھَا دونوں کا مقصد باطل کے قریب جانے سے منع کرنا ہے، لا تعتدوھَا میں صراحت کے ساتھ منع کیا گیا ہے اور فلا تقربوھا میں بطور کنایہ منع کیا گیا ہے، اور قاعدہ مشہور ہے کہ الکنایۃ ابلغ من التصریح۔ قولہ : ای لا یا کل بعضکم مال بعض اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔ شبہ : وَلَا تَاْکُلُوا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنا مال باطل طریقہ سے نہ کھائے حالانکہ اس کا کوئی مفہوم نہیں ہے جواب : یہ تقسیم جمع علی الجمع کے قبیل سے نہیں ہے جیسا کہ اِرکَبُوا دَوابکم یعنی تم میں سے ہر اییک اپنے گھوڑے پر سوار ہوجائے، بلکہ یہ لَاتَلْمِزُوا اَنْفُسَکُم کے قبیل سے ہے، یعنی آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ، جیسا کہ بَینَکم کے لفظ سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ قولہ : وَلَا تُدْلُوْا بِھَا، لا کو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اس کا عطف لاتاکلوا پر ہے۔ لہٰذا جس طرح لاتاکلوا مجزوم بالجازم ہے اسی طرح تدلوا بِھَا بھی مجزوم بالجازم ہے، فرق یہ ہے کہ یہاں جازم مقدر ہے اور وہاں ظاہر تدلوا، اِدلاءٌ سے ماخوذ ہے، اِدلا کے معنی رسی کے ذریعہ کنوئیں میں ڈول لٹکانا، اب وسیلہ اور ذریعہ کے معنی کیلئے مستعار لے لیا گیا ہے، یعنی حکام کے پاس مالی خصومات کو لیجا کرنا جائز طریقہ سے دوسروں کا مال کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اَو بالاموالِ رشوۃ، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مال سے مالی رشوت مراد ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : اُحِلَّ لکُم، اُح، لَّ لکُم کے لفظ سے معلوم ہوا کہ جو چیز اس آیت کے ذریعہ حلال کی گئی ہے وہ اس سے پہلے حرام تھی، بخاری وغیرہ میں بروایت براء ین عازب ؓ مذکور ہے کہ ابتداء میں جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو افطار کے بعد کھانے پینے اور بیویوں سے اختلاط کی صرف اس وقت تک اجازت تھی جب تک سو نہ جائے، سو جانے کے بعد کی سب چیزیں حرام ہوجاتی تھیں، بعض صحابہ کرام ؓ کو اس میں مشکلات پیش آئیں۔ قیس بن صرمہ انصاری ؓ دن بھر مزدوری کرکے گھر پہنچے تو گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا، بیوی نے کہا میں کہیں سے کچھ انتطام کرکے لاتی ہوں، جب وہ واپس آئیں تو دن بھر کی تکان کی وجہ سے قیس بن صرمہ کی آنکھ لگ گئی جب بیدار ہوئے تو کھانا حرام ہوچکا تھا اسی حالت میں اگلے روز کا روزہ رکھ لیا دوپہر کی وقت ضعف کی وجہ سے بیہوش ہوگئے۔ (ابن کثیر) اسی طرح بعض صحابہ سونے کے بعد اپنی بیویوں کے ساتھ اختلاط میں مبتلا ہو کر پریشان ہوگئے اسی قسم کا ایک واقعہ حضرت عمر ؓ کا بھی روایات میں مذکور ہے، ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ رات دیر گئے آنحضرت ﷺ کے پاس سے گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارادہ کیا، بیوی نے کہا میں سو چکی ہوں حضرت عمر ؓ نے کہا تم سو چکی ہو میں تو نہیں سویا، اور یہ کہہ کر ہم بستری کی، حضرت کعب ؓ کا بھی اسی طرح کا واقعہ ہوا، حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس کی معذرت چاہی تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حَتٰی یتبیَّنَ لکُم الخیطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الخیط الْاَسْوَد مِنَ الفجر، خیط ابیض سے صبح صادق کا ابتداء نمودار ہونے والا کنارہ اور خیط الاسود سے ظلمت شب بطور استعارہ مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ جب صبح صادق نمودار ہوجائے تو کھانا پینا بند کردو۔ امام بخاری وغیرہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ” وکلوا واشربوا حتی یتبیَّنَ لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود “ نازل ہوئی، تو بعض لوگوں کا یہ طریقہ کار تھا کہ وہ اپنے پیر میں سفید دھاگا اور کالادھاگا باندھ لیتے تھے اور اس وقت تک کھاتے پیتے رہتے تھے جب تک کہ دونوں دھاگوں میں امتیاز نہ ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ” مِنَ الفجر “ نازل فرمائی قرآن میں نازل ہونے والی یہ سب سے چھوٹی آیت ہے۔ صحیحین میں عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ وپ اپنے تکیہ کے نیچے دو دھاگے رکھ لیا کرتے تھے ایک سفید اور دوسرا کالا اور ان دھاگوں کو دیکھتے رہتے اور کھاتے رہتے اس کا تذکرہ آنحضرت ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” اِنّ وِسَادَکَ لعریْضٌ انما ذلک بیاض النھار وسواد اللیل “ اور بخاری وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا : اِنَّکَ لعریض القَفَا اِنَّما ذلک بیض النھار وسواد اللیل یعنی تیرا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے کہ اس میں بیاض نہار اور سواد لیل سما جاتی ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تم عریض القفا ہو۔ عریض القفا بیوقوف اور ناسمجھ کو کہا جاتا ہے، عام طور پر مشہور ہے کہ جس کی گدی عریض ہوتی ہے وہ بیوقوف ہوتا ہے۔ مسئلہ : اگر کوئی شخص صبح صادق کے ہونے نہ ہونے میں شک اور تذبذب کا شکار ہو تو اصل تو یہی ہے کہ کچھ کھانے پینے کا قدام نہ کرے، مشکوک حالت میں صبح صادق کا یقین ہونے سے پہلے کسی نے کچھ کھالیا تو گنہگار نہیں ہوگا لیکن بعد میں تحقیق سے یہ ثابت ہو کہ اس وقت صبح صادق ہوچکی تھی تو قضاء لازم ہوگی، امام جصاص کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس شخص کی آنکھ دیر میں کھلی اور صبح صادق یقینی طور پر ہوچکی تھی ایسی صورت میں اگر کچھ کھائے گا تو گنہگار بھی ہوگا اور قضا بھی لازم ہوگی اور اگر مشکوک حالت میں کھائے گا تو گنہگار تو نہیں ہوگا مگر قضا واجب ہوگی۔ وَلاَ تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ ، اعتکاف کے لغوی معنی کسی جگہ ٹھہرنے کے ہیں اور قرآن و سنت کی اصطلاح میں خاص شرطوں کے ساتھ مسجد میں قیام کرنے کا نام اعتکاف ہے لفظ المساجد کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف مسجد میں ہی ہوسکتا ہے فقہاء نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ اعتکاف ایسی مسجد میں درست ہوگا جس میں پنجوقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو۔ حالت اعتکاف میں رات کو بھی وطی جائز نہیں ہے، ایک دن کے اعتکاف میں سابق رات بھی شامل رہے گی احناف کے یہاں ایک شب و روز سے کم کا اعتکاف نہیں اور اس میں بھی روزہ شرط ہے۔ مسئلہ : اعتکاف کے لئے روزہ شرط ہے اور یہ کہ بلا ضرورت شرعی یا بشری مسجد سے نکلنے سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً ) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (الآیۃ) تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناروا طریقہ سے مت کھاؤ اس آیت میں مال حرام سے اجتناب کی تاکید فرمائی گئی ہے اس سے پہلی آیت میں رزق حلال کھانے کی تاکید فرمائی تھی آیت شریفہ میں اکل کے معروف معنی، خوردن، ہی مراد نہیں ہیں بلکہ مطلقاً قبضہ کرنا اور استعمال کرنا مراد ہے۔ شان نزول : ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ قیس بن عابس کی بیوی اور عبدان بن اشوع الحضرمی کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا امرء القیس نے ارادہ کیا کہ قسم کھا کر معاملہ اپنی طرف کرا لے تو اس وقت وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ (الآیۃ) نازل ہوئی، مذکورہ آیت کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حاکموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدے اٹھانے کی کوشش نہ کرو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے تو محض اس لئے کہ اس کے پاس اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا اس بناء پر کہ تم اس کو کسی ایچ بیچ یا چرب زبانی سے کھا سکتے ہو، اس کا مقدمہ عدالت میں نہ لے جاؤ، ہوسکتا ہے کہ حاکم عدالت رودادِ مقدمہ کے لحاظ سے وہ مال تم کو دلادے مگر حاکم کا ایسا فیصلہ دراصل غلط بیانی اور غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکا کھانے کا نتیجہ ہوگا اس لئے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کرلینے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے جائز مالک نہ بن جاؤ گے، عبد اللہ وہ مال تمہارے لئے حرام ہی رہے گا، مفسر علام نے مذکورہ دونوں معانی کی طرف اشارہ کردیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا، میں ایک انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے معاملہ کو زیادہ رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کرے اور میں اس سے مطمئن ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں اگر فی الواقع وہ اس کا حق دار نہیں ہے تو اس کو لینا نہیں چاہیے کیونکہ اس صورت میں جو کچھ میں اس کو دوں گا وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہوگا۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکو کار وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

آیت نمبر 189 تا 194 ترجمہ : اے محمد ﷺ آپ سے چاند کی حالتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ باریک کیوں نمودار ہوتا ہے ؟ (یعنی جب نمودار ہوتا ہے تو باریک ہوتا ہے) پھر بڑھتا ہے، یہاں تک کہ پرنور ہوجاتا ہے، پھر (اپنی سابقہ حالت کی طرف) عود کرتا ہے (یعنی گھٹنا شروع ہوجاتا ہے) اور ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا نمودار ہوا تھا، اور سورج کے مانند ایک حالت پر نہیں رہتا، آپ ان سے کہئے یہ لوگوں کے لئے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے مواقیت میقات کی جمع ہے، یعنی لوگ ان کے ذریعہ اپنی کھیتی اور تجارت کے اوقات معلوم کرتے ہیں، اور اپنی عورتوں کی عدت اور اپنے روزوں (رمضان) اور افطار (شوال) کے اوقات معلوم کرتے ہیں اور حج کے لئے (شناخت وقت کا آلہ ہے) اس کا عطف اَلنَّاسْ پر ہے یعنی چاند کے ذریعہ حج کا وقت معلوم کرتے ہیں اگر (چاند) ایک ہی حالر پر رہتا تو یہ باتیں معلوم نہ ہوسکتیں، اور حالر احرام میں گھروں کے پیچھے سے آنا کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں (کی دیواروں) میں نقب لگاؤ، تاکہ تم اس نقب سے داخل ہو اور نکلو، اور دروازہ (سے نکلنا) چھوڑ دو (مشرکین عرب) ایسا کرتے تھے، اور اس کو نیکی سمجھتے تھے بلکہ نیکی یعنی نیک وہ ہے جو اللہ کی مخالفت کو ترک کرکے اللہ سے ڈرا، حالت احرام میں بھی بغیر احرام کے مانند گھروں سے آیا کرو، اور اللہ سے اس پر صلح کی کہ (آپ ﷺ آئندہ سال آئیں گے، اور وہ (مشرکین) ان کے لئے تین دن کے لئے مکہ خالی کردیں گے اور آپ ﷺ نے عمرۃ القضاء کے لئے تیاری فرمائی، اور مسلمانوں کا اس بات کا اندیشہ تھا کہ (کہیں ایسا نہ ہو کہ قریش اپنے عہد) کی پابندی نہ کریں اور مسلمانوں سے جنگ کریں اور مسلمان ان سے حرم میں اور (حالت) احرام میں اور شہر حرام میں قتال کرنا ناپسند کریں، اور قتال کرو اللہ کی راہ میں ان کافروں سے جو تم سے قتال کریں، اس کے دین کے بلند کرنے کے لئے اور لڑائی کی ابتداء کرکے ان پر ظلم نہ کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ مقررہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور یہ حکم سورة براءت کی آیت یا اللہ کے قول ” واقتلوھم حَیثُ ثَقِفْتموھم “ سے منسوخ ہے یعنی جہاں تم ان کو پاؤ وہیں قتل کرو اور ان کو نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا یعنی مکہ سے، اور فتح مکہ کے سال ان کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا، اور فتنہ یعنی ان کا شرک قتل سے زیادہ شدید ہے ان کو حرم میں ھالت احرام میں قتل کرنے سے جس کو تم عظیم سمجھتے ہو، اور مسجد حرام کے پاس یعنی حرم میں ان سے قتال نہ کرو تاآنکہ وہ خود تم سے اس میں قتال نہ کریں پس اگر وہ حرم میں تم سے قتال کریں تو تم بھی حرم میں ان سے قتال کرو اور ایک قراءت میں تینوں افعال بغیر الف کے ہیں، یہی قتل اور جلاوطنی ایسے کافروں کی سزا ہے، پس اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرنے والا ہے تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ شرک باقی نہ رہے اور عبادت اللہ وحدہ کی ہونے لگے اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہ ہو، پس اگر وہ شرک سے باز آجائیں تو ان پر تم زیادتی نہ کرو، اس حذف جزاء پر فَلَا عَدْوَانَ ، دلالت کر رہا ہے تو قتل وغیرہ کے ذریعہ زیادتی ظالموں کے علاوہ پر جائز نہیں اور جو باز آگیا وہ ظالم نہیں، لہٰذا اس پر زیادتی بھی نہیں ہونی چاہیے، ماہ محترم عوض ہے ماہ محترم کا لہٰذا جس طرح انہوں نے اس میں تم سے قتال کیا تو تم بھی اس جیسے مہینہ میں قتال کرو اور یہ مسلمانوں کے اس مہینہ کو باعظمت سمجھنے کا رد ہے، اور احترام میں برابر ہے، حُرماتٌ حرمَۃ کی جمع ہے، جس کا احترام واجب ہو اور احترام کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا، یعنی اگر بےحرمتی کی جائے تو اس کے مثل بدلہ لیا جائے گا لہٰذا حرم میں یا احرام میں یا ماہ محرم میں قتال کے ذریعہ جو شخص تمہارے اوپر ظلم کرے تو تم بھی اس پر اتنا ہی ظلم کرسکتے ہو جتنا اس نے تم پر کیا ہے ظلم کی جزاء کو ظلم مقابلہ کے طور پر کہا گیا ہے، صورۃ اس زیادتی کے اپنے مقابل کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اور اللہ سے ڈرتے رہو بدلہ لینے میں اور ترک زیادتی میں، اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ مدد اور نصرت کے ذریعہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : جَمْعُ ھِلَالٍ ، اَھَلَّۃ، ھِلَالٌ کی جمع ہے ھلال تیسری رات تک کے چاند کو کہتے ہیں، ھِلَال کو ھلال، اس لئے کہا جاتا ہے کہ ھِلَال کے معنی آواز بلند کرنے اور شور مچانے کے ہیں نئے چاند کو دیکھ کر لوگ شور مچاتے ہیں جیسا کہ ہمارے یہاں عید بقرا عید کا چاند کو بچے بڑے شور مچاتے ہیں، اسی لئے اس کو ھلال کہا جاتا ہے۔ سوال : ھِلال تو ایک ہی ہوتا ہے پھر اس کی جمع کیوں لائی گئی ہے ؟ جواب : یا تو اس لئے کہ روزانہ کا چاند اپنے ما قبل کے دن کے چاند سے مختلف ہوتا ہے تو گویا وہ سابق چاند کا غیر ہے اس لئے متعدد چاند ہوگئے جس پر جمع کا ا اطلاق کرنا درست ہے، یا ہر ماہ کا چاند الگ ہوتا ہے، اس اعتبار سے بھی متعدد چاند ہوگئے لہٰذا جمع کا اطلاق درست ہے۔ سوال : یسئلُونَک عَنِ الْاَھِلَّۃِ میں چاند کے گھٹنے بڑھنے کی علت کے بارے میں سوال کیا گیا ہے مگر جواب میں اس کی حکمت اور فائدہ بیان کیا گیا ہے۔ جواب : جواب میں چاند کے گھٹنے بڑھنے کی علت بیان کرکے اس بات کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے کہ سائل کو چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حقیقت یا علت معلوم کرنے کے بجائے اس کی حکمتوں اور فائدوں کے بارے میں سوال کرنا چاہیے جو کہ ان کے کام کی اور فائدہ کی بات ہے۔ (کما فی المختصر المعانی) قولہ : لِمَ تبدوا دقیقۃً یہ دوسرے جواب کی طرف اشارہ ہے اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ سوال چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت کے بارے میں ہی تھا سوال میں مضاف محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ یَسْلُونکَ عن حکمۃ الأھِلّۃِ اس صورت میں جواب سوال کے مطابق ہوگا، فلا اعتراض، اس جواب کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے قَالُوْا یَا رسولَ اللہ، لِمَ خُلِقَتِ الْاَھِلَّۃُ ، فنزلَتْ یَسْئلونکَ عن الْاَھِلَّۃِ ، یہ روایت چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت کے سوال کرنے کے بارے میں صریح ہے۔ قولہ : جمعُ میقات، مَوَاقیت میقات اسم آلہ کی جمع ہے وقت پہچاننے کا آلہ۔ قولہ : مَتَاجِرِھِمْ یہ مَتْجَر کی جمع ہے مصدر ہے نہ کہ ظرف زمان۔ قولہ : عِدَدَ نِسَآئِھِمْ عِدَد، عِدَّۃ کی جمع ہے۔ قولہ : عَطْفٌ علی الناس، مفسر علام کا اس اضافہ سے مقصد بعض لوگوں کے اس شبہ کو دور کرنا ہے کہ والحج کا عطف مَوَاقِیْتُ ، پر ہے حالانکہ یہ درت نہیں ہے اس لئے کہ مواقیتُ کا حمل اَھِلَّۃ کی ضمیر ھِی پر ہے ای اَلْاَھِلَّۃُ ھِیَ المواقیتُ اگر الحج کا عطف مواقیت پر کردیا جائے تو اس کا حمل بھی ھِیَ ضمیر پر ہوگا اور تقدیر عبارت یہ ہوگی اَلْاَھِلَّۃُ ھِیَ الحج، حالانکہ یہ معنی درست نہیں ہیں۔ قولہ : فی الاحرام۔ سوال : فی الاحرام، کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے۔ جواب : دراصل فی الاحرام کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے سوال : لَیْسَ البرُّ بَان تاتوا البُیُوْتَ مِن ظھورِھَا، اور ماسبق لِلنَّاسِ میں بظاہر کوئی جوڑا اور ربط نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ جوڑا اور ربط ہے اور وہ یہ کہ مواقیت اوقات حج ہیں اور حالت احرام میں گھر کے پیچھے سے گھر میں داخل ہونا ان کے نزدیک افعال حج میں سے ہے لہٰذا ربط وتعلق ظاہر ہے۔ قولہ : ای ذَالبِرَّ اس کے بارے میں سوال و جواب سابق میں گذر چکا ہے ملاحظہ فرما لیا جائے۔ قولہ : بآیۃِ البراءۃ وَھِیَ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ ۔ (الآیۃ) قولہ : ای فی الحرم۔ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کی تفسیر ای فی الحرم سے کرکے اشارہ کردیا کہ جزء بول کر کل۔ یعنی مسجد حرام بول کر پورا حرم مراد ہے اس لئے کہ قتال صرف مسجد حرام ہی میں ممنوع نہیں ہے بلکہ پورے حرم میں ممنوع ہے۔ قولہ : بِلَا الف فی الافعال الثلث وہ تین افعال یہ ہیں، لاتَقْتُلوھم، یَقْتُلوکم، فان قتلوکم۔ قولہ : توجَدُ ، تکون کی تفسیر توجَدُ سے کرکے اشارہ کردیا کہ کان تامہ ہے۔ قولہ : سُمِّیَ مقابلتَہ الخ سے ایک شبہ کا جواب ہے۔ شبہ : یہ ہے کہ ظالم سے اگر ظلم کا بدلہ لیا جائے تو اس کو ظلم نہیں کیا جاتا وہ تو اس کا حق ہے حالانکہ یہاں بدلہ لینے کو اعتداء سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جواب : صورۃً یکساں ہونے کی وجہ سے جزاءِ اعتداء سے تعبیر کردیا گیا ہے یہ جزاء السیئۃ سیِّئۃ، کے قبیل سے ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : اَخْرَجَ ابن ابی حاتم عن ابی العالیہ قال : بَلَغنا اِنَّھم قالوا یا رسول اللہ لِمَا خُلقَتِ الْاَھِلَّۃُ فاَنْزَلَ اللہ تعالیٰ ، یَسْئلونَکَ عَنِ الْاَھِلّۃِ ، لوگوں نے آپ ﷺ سے معلوم کیا کہ چاند کا گھٹنا بڑھنا کس غرض سے ہے، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، اس روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا سوال چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت کے بارے میں تھا، لہٰذا اس کا جواب بھی قُلْ ھِیَ مَوَاقیْتُ للناس کے ذریعہ بیان حکمت سے دیا گیا لہٰذا، الجواب علی اسلوب الحکیم کے تکلف کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اب رہی وہ روایت جو معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے : ” مَا بالُ الھِلال یَبْدُوا دَقیقًا ثمّ یَزیدُ “ الخ تو اس کی سند ضعیف ہے، کما فی روح المعانی نیز اس کا بھی سوال عن الحکمت پر محمول کرنا ممکن ہے۔ قمری تاریخوں کا حکم اور اہمیت : سورج اپنے تشکل کے اعتبار سے ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتا ہے، گو مطالع اور مغارب اس کے بھی روزانہ بدلتے ہیں مگر اس کی شناخت ایک امر دقیق اور پیچیدہ ہے شمسی تاریخیں معلوم کرنے کے لئے تقویم (کیلنڈر) کے علاوہ وہ کوئی صورت نہیں، اگر کوئی شخص شمسی تاریخ بھول جائے اور کسی ایسی جگہ ہو کہ جہاں (تقویم) کیلنڈر وغیرہ دستیاب نہ ہو اس کے لئے شمسی تاریخ معلوم کرلینا آسان نہ ہوگا، بخلاف چاند کے کہ روزانہ اس کے تشکلات بدلتے رہتے ہیں اس کے علاوہ ہر ماہ ایک ہی ضابطہ کے مطابق بدلتے ہیں اور اختلاف ایسا واضح ہوتا ہے کہ ہر کہ ومہ خواندہ و ناخواندہ دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے اسی وجہ سے شریعت نے اصالۃً احکام و عبادات کا دارومدار قمری تاریخوں پر رکھا ہے، بعض احکام میں تو قمری حساب کو لازم کردیا کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار جائز ہی نہیں جیسے حج، روزہ رمضان، عیدین، زکوٰۃ وعدت طلاق وغیرہ، ان کے علاوہ معاملات میں اختیار ہے چاہے جس حساب سے معاملہ کریں شریعت نے مجبور نہیں کیا کہ قمری تاریخوں ہی سے حساب رکھیں۔ احکام شرعیہ کے علاوہ میں گو قمری حساب کے علاوہ کی اجازت ہے مگر چونکہ بوجہ خلاف ہونے وضع صحابہ و صالحین کے خلاف اولیٰ ضرور ہے، اور چونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا مدار قمری حساب پر ہے اس لئے قمری تاریخوں کو محفوظ رکھنا یقیناً فرض علی الکفایہ ہے اور انضباط کا آسان طریقہ یہی ہے کہ اپنے روز مرہ کے معاملات میں قمری تاریخوں کا استعمال رکھا جائے۔ بدعت کی اصل بنیاد : لِیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا، زمانہ جاہلیت میں جہاں اور بہت سے رسم و رواج رائج تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ احرام باندھنے کے بعد اگر کسی ضرورت سے گھر آنا ہوتا تو دروازہ سے داخل ہونے کے بجائے گھر کی پشت کی جانب سے دیوار میں نقب لگا کر یا دیوار پھاند کر داخل ہوتے اور اس کو کار ثواب سمجھتے اس آیت میں اسی بدعت کی تردید کی گئی ہے، اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس چیز کو شریعت اسلام ضروری یا عبادت نہ سمجھتی ہو اس کو اپنی طرف سے ضروری یا عبادت سمجھ لینا جائز نہیں، اسی طرح جو چیز شرعاً جائز ہو اس کو گناہ سمجھنا بھی گناہ ہے، بدعات کے ناجائز ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ غیر ضروری چیز کو فرض اور واجب کی طرح سمجھ لیا جاتا ہے یا بعض جائز چیزوں کو حرام و ناجائز قرار دیا جاتا ہے اس آیت میں نہ صرف یہ کہ بےاصل اور بےبنیاد رسم کی تردید کی گئی ہے بلکہ تمام اوھام پر یہ کہہ کر ضرب لگائی گئی ہے کہ نیکی دراصل اللہ سے ڈرنے اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچنے کا نام ہے ان بےمعنی رسموں کو نیکی سے کوئی واسطہ نہیں جو محض رسماً زمانہ قدیم سے آباء و اجداد کی تقلید میں چلی آرہی ہیں اور جن کا انسان کی سعادت و شقاوت، نحوست وسعادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ ذی القعدہ 6 ھ میں آپ ﷺ ادائے عمرہ کے قصد سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے اس وقت تک مکہ مشرکین کے قبضہ میں تھا، ان لوگوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ میں داخل ہونے سے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا، آخر کار بڑی گفتگو کے بعد یہ معاہدہ قرار پایا کہ آئندہ سال آکر عمرہ کریں چناچہ ذی قعدہ 7 ھ میں قضائے عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے لیکن آپ کے اصحاب کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں مشرکین مکہ عہد شکنی کرکے حملہ آور نہ ہوں تو ایسی حالت میں نہ سکوت مصلحت ہے اور اگر مقابلہ کیا جائے تو ماہ محترم میں قتال لازم آتا ہے اس لئے کہ ذی القعدہ چار محترم مہینوں میں سے ایک ہے وہ چار محترم مہینے یہ ہیں۔ ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب، مسلمان، اس گومگو کی صورت حال سے پریشان تھے، تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات نازل فرمائیں، کہ ان معاہدہ کرنے والوں کے ساتھ معاہدہ کی رو سے تم اپنی جانب سے لڑائی کی ابتداء نہ کرو، لیکن اگر وہ لوگ عہد شکنی کریں اور تم سے لڑنے پر آمادہ ہوجائیں تو اس وقت تم کسی قسم کا اندیشہ نہ کرو اور بےتکلف تم بھی ان سے لڑو۔ اس آیت میں حکم یہ ہے کہ قتال صرف ان کافروں سے کریں جو مسلمانوں سے آمادہ قتال ہوں مطلب یہ ہے کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، مذہبی پیشواؤں جو دنیا سے یکسر ہو کر مذہبی شغل میں لگے ہوں مثلاً راہب پادری اسی طرح اپاہج و معزور یا وہ لوگ جو کافروں کے یہاں محنت مزدوری کا کام کرتے ہوں جو کافروں کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو جہاد میں قتل کرنا جائز نہیں، اسلئے آیت میں جہاد کا حکم ان لوگوں سے ہے جو مسلمانوں سے قتال کریں، اگر مذکورہ لوگوں میں سے کوئی شخص جنگ میں کافروں کی کسی طرح کی بھی مدد کریں تو ان کا قتل جائز ہے اس لئے کہ یہ لوگ ” اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ “ میں داخل ہیں۔ (مظہری، جصاص اسلام صرف ان ہی افراد کے مقابلہ میں قتال کا حکم دیتا ہے جو واقعی جنگ میں شریک ہوں غیر مقاتلین یا عام رعایا سے جنگ کا کوئی تعلق نہیں ہے آج کل عوام کے سروں پر بم برسادینے پر امن شہریوں پر ہوائی تاخت کرنے اور ان پر زہر یلی گیس چھوڑنے بلکہ آگ لگانیوالے نیپام بم گرانے کے مہذب ترین آئیں سے اسلام کا حربی قانون بالکل نا آشنا ہے سینکڑوں کو نہیں بلکہ ہزاروں بےگناہوں کو چشم زدن میں موت کی نیند سلا دینے کے بعد صرف (سَوْری Sorry) کہہ دینا آج کل کی مہذب دینا کو ہی زیب دیتا ہے اسلام کو نہیں۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

جہاد کا مقصد خون بہانا نہیں : وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ (الآیۃ) آیت کا منشا یہ ہے کہ بلاشبہ انسانی خون بہانا بہت برا فعل ہے لیکن جب کوئی جماعت یا گروہ زبردستی اپنا فکری استبداد دوسروں پر مسلط کرے اور لوگوں کو قبول حق سے بجبررو کے اور اصلاح و تغیر کی جائز اور معقول کوششوں کا مقابلہ دلائل سے کرنے کے بجائے حیوانی طاقت سے کرنے لگے تو وہ قتل کی بہ نسبت زیادہ سخت برائی کا ارتکاب کرتا ہے ایسے گروہ کو بزور شمشیر راہ سے ہٹا دینا بالکل جائز ہے۔ مکی زندگی میں کافروں کے ذریعہ انتہائی اذیتیں برداشت کرنے کے باوجود مسلمانوں کو حکم تھا کہ عفو و درگذر سے کام لیں مکی زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں آتا تھا کہ سورج اپنے طلوع کیساتھ مسلمانوں کے لئے کوئی نئی مصیبت لے کر نہ آتا ہو مگر مسلمانوں کو تاکید تھی کہ عفو و درگزر سے کام لیں، آیت کے عموم سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کفار جہاں کہیں ہوں ان کو قتل کرنا جائز ہے اول تو یہ حکم حالت جنگ کا ہے دوسرے یہ کہ یہ آیت اپنے عموم پر نہیں ہے اس لئے کہ ایک تخصیص تو اگلے جملہ میں آرہی ہے ” وَلَا تُقَاتَلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الَحَرَامِ حَتّٰی یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْہِ “۔ مسئلہ : حرم میں انسان کیا کسی شکاری جانور کو بھی قتل کرنا جائز نہیں، مگر اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر حرم میں کوئی شخص دوسرے کو قتل کرنے لگے تو اس کو بھی مدافعت میں قتل کرنا جائز ہے۔ (معارف)
Ayahs 2:192–194

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ، یعنی تم جس خدا پر ایمان رکھتے ہو اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گنہگار کو بھی معاف کردیتا ہے جب کہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائے یہی صفت تم اپنے اندر بھی پیدا کرو، تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لئے نہ ہو بلکہ خدا کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لئے ہو تمہاری لڑائی کسی گروہ یا جماعت سے اسی وقت تک ہونی چاہیے جب تک وہ راہ خدا میں مزاحم ہو اور جب وہ پنا رویہ چھوڑ دے تو تمہارا ہاتھ بھی اس پر نہ اٹھنا چاہیے۔ سابقہ آیت وَقَاقِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ میں جو مظلوم مسلمانوں کو قتال کی اجازت دی جا رہی ہے وہ اچانک اور بلا سبب نہیں بلکہ دو چار مہینہ نہیں پورے تیرہ سال مکہ میں ہر طرح کے شدائد بلکہ شقاوت، سفا کی، بہیمیت پر بر کے امتحان میں پورے اترنے کے بعد دفاع کی اجازت مل رہی ہے، ابھی وطن سے بےوطن ہو کر مدینہ میں چین سے بیٹھنے بھی نہیں پائے تھے، کہ جنگ بدر پیش آئی اور لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، اور مدینہ آنے کے بعد بھی مسلمانوں نے جو کچھ کیا صرف اپنے دفاع میں کیا، دنیا خواہ کچھ بھی کہے مگر حقیقت یہی ہے، خدا تربت ٹھنڈی کرے نو مسلم لارڈ ہیڈلے کی کہ جس نے بات پتے کی کہی ہے، کہ تین ابتدائی اسلامی غزوات کے جغرافیائی محل وقوع کو دیکھ کر خود فیصلہ کرو کہ لڑائی کی ابتدء کس نے کی ؟ اور حملہ آور کون تھا ؟ اور حفاظت خود اختیاری میں کون لڑ رہا تھا مکہ کے جنگ جو، اہل فساد، یا مدینہ کے صابر و شاکر مومنین ؟ ٍ (1) غزوہ بدر، بدر مدینہ سے 30 میل کے فاصلہ پر ہے۔ (2) غزوہ احد، احد مدینہ سے کل 12 میل کے فاصلہ پر ہے۔ (3) جنگ احزاب، اس میں تو محاصرہ خود مدینہ ہی کا ہوا۔ غرضیکہ مذکورہ غزوات میں ہر مرتبہ قریش مکہ یا ان کے حلیف مدینہ پر چڑھ کر آئے۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

آیت نمبر 195 تا 196 ترجمہ : اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (یعنی) اس کی طاعت میں کہ وہ جہاد وغیرہ ہے اور تم جہاد میں خرچ کرنے سے بخل کرکے اور جہاد ترک کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اس لئے کہ یہ (بخل و ترک) دشمن کو تم پر جری کر دے گا (باَیدی) میں باء زائدہ ہے (راہ خدا میں) خرچ وغیرہ کے ذریعہ نیکیاں کرو، اللہ تعالیٰ نیکیاں کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے یعنی ان کو اجر عطا کرتا ہے اور حج وعمرہ اللہ کے لئے پورے کرو، یعنی دونوں کو ان کے حقوق کی رعایت کے ساتھ ادا کرو، پس اگر حج اور عمرہ سے (یعنی) ان کے پورا کرنے سے دشمن یا اسی جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ تم کو روک دیا جائے تو جد ہدی (قربانی کا جانور) تم کو میسر ہو اور وہ بکری ہے اور اپنے سروں کا حلق نہ کراؤ یعنی حلال نہ ہوتاوقتی کہ ہدی مذکور اپنی جگہ نہ پہنچ جائے جہاں اس کا ذبح کرنا جائز ہے اور وہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک احصار کی جگہ ہے لہٰذا حلال ہونے کی نیت سے اسی جگہ (ہدی) ذبح کردی جائے اور اس مقام کے مساکین پر (گوشت) تقسیم کردیا جائے، اور حلق کرالیا جائے، اس سے حلت حاصل ہوجائے گی، مگر جو شخص تم میں مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو مثلاً جوں یا سر کا درد تو وہ حالت احرام میں حلق کرا سکتا ہے، تو اس پر فدیہ واجب ہے اور وہ تین دن کے روزے ہیں یا تین صاع کو مقامی عمومی خوراک سے چھ مسکینوں پر صدقہ کرنا ہے یا قربانی کرنا ہے یعنی بکری ذبح کرنا، اور اوتخییر کے لئے ہے اور اسی حکم میں وہ شخص بھی شامل ہوگا جس نے بغیر کسی عذر کے حلق کر الیا ہو اس لئے کہ کفارہ کے وجوب کے لئے یہ زیادہ لائق ہے یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جس نے حلق کے علاوہ کچھ اور استفادہ کیا مثلاً خوشبو لگائی یا تیل لگایا عذر کی وجہ سے ہو یا بغیر عذر کے، پھر جب تم دشمن سے مامون ہوجاؤ بایں طور کہ دشمن چلا گیا یا تھا ہی نہیں، تو جس شخص نے تم میں سے عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر احرام کی ممنوعات سے حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھ کر فائدہ اٹھایا اس کے عمرہ سے فارغ ہونے اور اس سے حلال ہونے کی وجہ سے تو اس پر جو میسر آئے قربانی واجب ہے اور وہ ایک بکری ہے کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد ذبح کرے، اور افضل یوم نحر ہے تو جس کو ہدی میسر نہ ہو، ہدی کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یا اس کی قیمت نہ ہونے کی وجہ سے تو اس پر تین روزے ہیں ایام حج میں یعنی حج کے احرام کی حالت میں، تو ضروری ہے کہ ساتویں ذی الحجہ سے پہلے (حج) کا احرام باندھے اور افضل چھٹی ذی الحجہ سے پہلے ہے یوم نحر میں حاجی کے لئے روزہ مکروہ ہے اور ایام تشریق میں امام شافعی (رح) تعالیی کے صحیح ترین قول کے مطابق روزہ جائز نہیں ہے اور سات روزے اس وقت جب کہ اپنے وطن واپس ہو وطن مکہ ہو یا غیر مکہ، اور کہا گیا ہے کہ جب تم ارکان حج سے فارغ ہوجاؤ اس میں غائب سے حاضر کی طرف التفات ہے یہ دس روزے پورے ہیں یہ جملہ اپنے ماقبل کی تاکید ہے قربانی یا روزوں کے وجوب کا مذکورہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو حج تمتع کرے یا یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر بار مسجد کے قریب نہ ہوں اس طرح کہ حرم سے دو مرحلوں سے کم نہ ہو، یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک ہے اور اگر دو مرحلوں سے کم ہے تو اس پر نہ دم ہے نہ روزہ اگرچہ تمتع کرے اور اھل کے ذکر کرنے میں وطن بنانے کی شرط کی طرف اشارہ ہے اور تمتع کی نیت کی، تو اس پر مذکورہ چیز (یعنی قربانی) واجب ہے اور یہ ہمارے (یعنی شوافع) کے نزدیک ہے اور تمتع کے ساتھ مذکورہ احکام میں حدیث کی وجہ سے قارن کو بھی ملا لیا گیا ہے اور قارن وہ ہے جو حج وعمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھے، یا حج کو عمرہ پر داخل کر دے طواف عمرہ کرنے سے پہلے (یعنی عمرہ کا طواف شروع کرنے سے پہلے حج کا احرام باندھ لے) اور ان چیزوں میں اللہ سے ڈرتے رہو جن کا تم کو حکم دیتے ہیں اور جن سے منع کرتے ہیں اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اس کا خلاف کرنے والے کو سخت سزا دینے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ ، لا تُلْقُوْا، اِلْقَاءٌ (افعال) سے صیغہ نہی جمع مذکر حاضر، تم نہ ڈالو۔ سوال : اِلقَاءٌ متعدی بنفسہ ہے حالانکہ یہاں اِلیٰ کے ساتھ تعدیہ کیا گیا ہے۔ جواب : اِلْقَاء انتہاء کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا تعدیہ بالیٰ جائز ہے۔ قولہ : تَھْلُکَۃ، (ض) یہ خلاف قیاس نادر مصادر میں سے ہے، ہلاکت میں ڈالنا، قاموس میں لام مثلث کے ساتھ لکھا ہے اَلتَّھْلُکَۃُ چونکہ مصادر نادرہ میں سے ہے، اس لئے اَلْھَلَاک، مصدر مشہور ہے اس کی وضاحت کردی۔ قولہ : بِالطَّفْقَۃِ ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے، اَحْسِنُوْا، تفضلُوا کے معنی میں ہے جو کہ متعدی بالباء ہوتا ہے۔ قولہ : بالنفقۃ، کو ماسبق سے مربوط کرنے کے لئے لایا گیا ہے اس لئے تَھْلُکَۃ، کی تفسیر اِمْسَاک عن النفقۃ سے کی ہے تو یہاں احسان کی تفسیر انفاق فی سبیل اللہ سے کرنا ہی مناسب ہے تاکہ دونوں میں ربط پیدا ہوجائے۔ قولہ : ای یُثِیْبُھُمْ ، یُحِبّ کی تفسیر یثیب سے تفسیر باللاّزم ہے اس لئے کہ حبٌ کے معنی میلان القلب کے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں متصور نہیں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ رحمت کی تفسیر احسان سے کرتے ہیں ورنہ تو رحمت کے معنی رقۃ القلب کے ہیں جو ذات باری میں متصور نہیں ہے۔ قولہ : اَدَّوْھُمَا، اس سے حج وعمرہ دونوں کے وجوب کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک دونوں واجب ہیں اور اگر لفظ اتمُّوْا، کا ظاہری معنی پر ہی رکھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ شروع کرنے کے بعد ان کو پورا کرنا واجب ہے اس لئے کہ احناف کے نزدیک نفلی عبادت شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے۔ قولہ : بِعَدُوِّ یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ اور امام مالک (رح) تعالیٰ کے قول کے مطابق ہے اس لئے کہ ان حضرات کے یہاں احصار دشمن ہی کے ذریعہ صحیح ہے بخلاف احناف کے کہ دشمن کے علاوہ مرض وغیرہ سے بھی احصار درست ہے۔ قولہ : عَلَیْکم اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ فَمَا استَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ، جواب شرط ہے حالانکہ یہ جملہ تامہ نہیں ہے اور جواب شرط کے لئے جملہ ہونا شرط ہے۔ جواب : عَلَیْکم، محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ مَا مبتداء کی خبر محذوف ہے تاکہ مبتداء اپنی خبر سے مل کر جملہ ہو کر شرط کی جزاء واقع ہو سکے تقدیر عبارت یہ ہے فَعَلَیْکُمْ مَا اسْتَیْسَرْتُمْ ۔ قولہ : فَفِدْیَۃٌ، فِدْیَۃ، مبتداء ہے اور عَلَیْہِ اس کی خبر محذوف ہے۔ قولہ : مِنْ صِیَام یہ محذوف سے متعلق ہو کر فدیۃٌ کی صفت ہے ای فِدْیَۃٌ من صیام۔ قولہ : باَنْ ذَھَبَ اَوْلَمْ یکن اس عبارت کے اضافہ کا مقصد، اَمِنْتُمْ کے دونوں معنی کی طرف اشارہ کرنا ہے أمِنْتُمْ ، یا تو اَمَنَۃٌ سے مشتق ہے اس کے معنی زوال خوف کے ہیں یا امَنٌ سے مشتق ہے اس کے معنی اَمَن یعنی ضد الخوف کے ہیں اگر اَمِنْتُمْ کو الْاَمَنَۃ، سے مشتق مانا جائے تو معنی ہوں گے فَاِذَا زَالَ عَنْکم خوف العدوّ ، تو اس صورت میں اس شخص کا حکم کہ جس کا احصار زائل ہوگیا ہو عبارۃ النص کے طور پر ثابت ہوگا اور اسی سے اس شخص کا حکم جو پہلے ہی سے مامون ہو دلالت النص کے طور سے مفہوم ہوگا، اور اگر أمِنْتُمْ ، اَلْاَمَن سے مشتق ہو تو اس کے معنی ہوں گے کہ جب تم امن و اطمینان میں ہو۔ (ترویح الارواح) قولہ ؛ نُسُکٍ یہ نَسِیْک کی جمع ہے بمعنی قربانی، اور نُسُکٍ ، مصدر بھی ہے قربانی کرنا۔ قولہ : فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الھَدْیِ ، فاء رابطہ ہے جواب شرط کے لئے مَا، اسم موصولہ مبتداء اس کی خبر محذوف، ای فعلَیْہ مَا اسْتَیْسَرَ ، اِسْتَیْسَرَ صلہ، جملہ ہو کر جواب شرط۔ قولہ : بان لَمْ یکونوا علی مرحَلَتَیْنِ مِنَ الحرم عند الشافعی ( (رح) تعالیٰ ) اس عبارت کا مقصد متمتع پر وجوب قربانی اور عدم وجوب قربانی کی دونوں صورتوں کو بیان کرنا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ متمتع اگر آفاقی ہو تو اس پر دم تمتع واجب ہے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک آفاقی وہ ہے جو حرم سے کم از کم دو مرحلوں کی مسافت کا باشندہ ہو اور جو اس سے کم مسافت کا باشندہ ہو وہ ان کے نزدیک حضری ہے تو اس پر دم تمتع واجب نہیں ہے اور جب دم واجب نہیں تو اس کا نائب یعنی روزہ بھی واجب نہیں۔ قولہ : فی ذکر الأھل الخ اس عبات کا مقصد لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَمِ کی تشریح ہے مطلب یہ ہے کہ دم تمتع ساقط ہونے کیلئے مقیم شرعی ہونا ضروری ہے اگر کسی شخص نے قبل اشھر الحرم مکہ میں قیام تو کیا ہے مگر وطن نہیں بنایا یعنی پندرہ دن قیام کا ارادہ نہیں کیا تو اس شخص سے دم تمتع ساقط نہیں ہوگا، اس لئے کہ اقامت شرعی کی نیت کے بغیر وہ آفاقی ہی شمار ہوگا اور آفاقی پر دم تمتع واجب ہوتا ہے۔ تفسیر و تشریح مالی ہنگامی ضرورت : وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبیْلِ اللہِ ، اس آیت سے فقہاء نے یہ حکم اخذ کیا ہے کہ مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی بعض حقوق مالیہ فرص ہیں مگر وہ ہنگامی (ایمرجنسی) اور قتی ضرورت کے لئے ہیں دائمی نہیں نہ ان کے لئے کوئی مقدار متعقین ہے بلکہ جتنی ضرورت ہو اس کا انتظام کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور جب ضرورت نہ ہو تو کچھ فرض نہیں، جہاد کا خرچ اسی ہنگامی ضرورت میں شامل ہے۔ ترک جہاد قومی ہلاکت ہے وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ ، لفظی معنی تو ظاہر ہیں، کہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اب رہی یہ بات کہ ہلاکت میں نہ ڈالنے سے یہاں کیا مراد ہے اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں امام جصاص رازی (رح) تعالیٰ نے فرمایا ان میں کوئی تضاد نہیں سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے فرمایا : کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم اس کی تفسیر بخوبی جانتے ہیں، بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ اور قوت عطا فرما دی تو ہم میں یہ گفتگو ہوئی کہ اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ؟ ہم اپنے وطن میں ٹھہر کر اپنے مال اور جائیداد کی خبر گیری کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ؟ جس نے یہ بتلا دیا کہ ہلاکت سے مراد اس جگہ ترک جہاد ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ ترک جہاد مسلمانوں کی قومی ہلاکت و بربادی کا سبب ہے اس لئے حضرت ابو ایوب ؓ انصاری نے اپنی پوری عمر جہاد میں صرف کردی، یہاں تک کہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جہاد کرتے ہوئے 52 ھ میں شہادت حاصل کی موصوف کی قبر آج بھی قسطنطنیہ میں زیارت گاہ خاص و عام ہے آپ کی قبر کے پاس ایک مسجد بھی تعمیر کردی گئی ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ نے فرمایا : کہ گناہوں کی وجہ سے اللہ کی رحمت و مغفرت سے مایوس ہوجانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، اس لئے مغفرت سے مایوس ہونا حرام ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنا کہ بیوی بچوں کے حقوق ضائع ہوجائیں یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ایسا اسراف جائز نہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا : ایسی صورت میں قتال کے لئے اقدام کرنا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جب کہ یہ اندازہ ہو کہ ہم دشمن کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، خود ہلاک ہوجائیں گے ایسی صورت میں اقدام قتال اس آیت کی بناء پر منع ہے۔ وَاَحْسِنُوْآ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ، اس جملہ میں ہر کام کو اچھا کرنے کی ترغیب ہے اور کام کو اچھا کرنا جس کو قرآن میں احسان سے تعبیر کیا گیا ہے دو طرح سے ایک عبادت میں اور دوسرے معاملات و معاشرت میں، عبادت میں احسان کی تفسیر حدیث جبرئیل (علیہ السلام) میں خود رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ اس طرح عبادت کرو جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ اعتقاد تو لازم ہی ہے کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اور معاملات و معاشرت میں احسان کی تفسیر مسند احمد میں بروایت حضرت معاذ حضرت رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ تم سب لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور جس چیز کو تم اپنے لئے ناپسند کرو دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرو۔ (معارف)