Ayah 2:60آیت نمبر 60 تا 61
وَاذْکُرُ اِذِاسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہ .... الیٰ .... بَمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی قوم کے لئے پانی کی دعاء مانگی، درآں حال کہ وہ مقام تیہ میں پیاسے ہوئے، تو ہم نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام) کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی (فلاں) پتھر پر مارو، اور یہ وہی پتھر تھا کہ جو موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے کپڑے لے کر فرار ہوگیا تھا، (اور) وہ پتھر ہلکا چوکور آدمی کے سر کے مشابہ سفید رنگ کا نرم تھا، چناچہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ شق ہوگیا، (اور) قبیلوں کی تعداد کے مطابق اس پتھر سے بارہ چشمے جارہ ہوگئے اور ان کے ہر قبیلے نے اپنا چشمہ جان لیا، (یعنی) اپنے پانی کی جگہ پہچان لی تاکہ اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو اور ہم نے ان سے کہہد یا کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو، اور ملک میں فساد کرتے مت پھرو، (مفسدین) اپنے عامل سے حال موکدہ ہے عَثِیَ ثاء مثلثہ مک سورة سے ماخوذ ہے بمعنی اَفْسَدَ ہے، اور اس وقت کو یاد کرو، جب تم نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے) کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ایک قسم کے کھانے پر ہرگز اکتفاء نہ کریں گے اور وہ من اور سلویٰ ہے، لہٰذا آپ اپنے رب سے دعاء فرمائیں کہ ہمارے لئے زمین سے اگنے والی چیزوں میں سے کوئی چیز پیدا فرمائے مِمَّا میں مِن بیانیہ ہے (مثلاً ) ساگ، سبزی، اور ککڑی، اور گندم، اور مسور اور پیاز تو موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے ان سے فرمایا کیا تم ادنی درجہ کی چیز کو اعلیٰ درجہ کی چیز کے بجائے، لینا چاہتے ہو، یعنی ادنی کو اعلیٰ سے تبدیل کرنا چاہتے ہو، یعنی اعلیٰ کے بدلے میں ادنیٰ لینا چاہتے ہو، اور ہمزہ انکار کے لئے ہے مگر انہوں نے (اپنے مطالبہ سے) باز آنے سے انکار کردیا، چناچہ موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے اللہ تعالیٰ سے دعاء فرمادی، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اچھا تو) شہروں میں سے کسی شہر میں جا رہو، ساگ وغیرہ جو کچھ تم مانگتے ہو وہاں مل جائے گا، (حتی کہ) ان پر ذلت و خواری اور محتاجی یعنی محتاجی کا (قلبی) اثر فقر اور ذلت مسلط کردی گئی، جس کی وجہ سے (قلبی) محتاجی ان کا لازمہ بن گئی، اگرچہ وہ دولت مند ہی کیوں نہ ہوں، جیسا کہ ٹکسالی سکہ کے لئے ٹھپہ لازم ہوتا ہے اور اللہ کا غضب لے کر واپس ہوئے اور ذلت کا مسلط ہونا اور اللہ کا غضب لے کر لوٹنا، یہ اس لئے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور نبیوں کو ناحق ظلماً قتل کرتے تھے، جیسا کہ زکریا (علیہ الصلوٰة والسلام) اور یحییٰ (علیہ الصلوٰة والسلام) کو، یہ اس لئے ہوا کہ ان لوگوں نے نافرمانی کی اور معاصی میں حد سے تجاوز کرتے تھے۔ (اسم اشارہ) کو تاکید کے لئے مکرر لائے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اِسْتَسْقٰی، طَلَبُ السُقیا، (استفعال) ماضی واحد مذکر غائب، پانی مانگا، پانی کے لئے دعاء کی، اِضْرِب بعصَاکَ الحجر، ضرب کے عام اور معروف معنی مارنے اور ضرب لگانے کے ہیں، ضَرَبَ کے معنی چلنے کے اس وقت آتے ہیں جب اس کا صلہ فی آتا ہے۔ لہٰذا جن حضرات نے پہاڑ پر چلے جانے کا ترجمہ کیا ہے (جیسا کہ سرسید احمد خاں نے کیا ہے) یہ ترجمہ جس طرح لغت اور قواعد زبان کے خلاف ہے، اسی طرح تاریخ کے بھی بالکل مخالف ہے۔
قولہ : الحَجَرَ ، ہوسکتا ہے کہ : مخصوص پتھر مراد ہو جیسا کہ مفسر علام کی بھی یہی رائے ہے، تو اس صورت میں الف لام عہد کا ہوگا اور یہ بھی احتمال ہے کہ کوئی معین پتھر مراد نہ ہو، اس صورت میں الف لام جنس کا ہوگا، معجزہ کے لئے یہ زیادہ مناسب ہے۔
قولہ : فَضَرَبَہ، اس کے مقدر ماننے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فانفجرت میں فاء فصیحہ ہے اور انفجرت محذوف پر مرتب ہے، اِنْفَجَرَت، انفجار، سے مشتق ہے، اس کے معنی شق ہونے اور بہنے کے ہیں۔
قولہ : کُلُّ اُنَاسٍ ، کل سے کل افرادی مراد ہے بالنسبة الی الاسباط نہ کہ کل مجموعی۔
قولہ : تَعْثَوْا، یہ عَثَا یَعْثوا، (ن) اور عثِیَ یَعثٰی، (س) سے نہی جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، یعنی تم فساد نہ پھیلاؤ۔
قولہ : حال مؤکدة لعامِلِہَا، یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : حال ذوالحال میں معنی زائد پر دلالت کیا کرتا ہے جو یہاں مفقود ہیں، اس لئے کہ جو معنی عَثِی کے ہیں وہی معنی مفسدین کے ہیں۔
جواب : معنی کی زیدتی حال منتقلہ میں ضروری ہوتی ہے، نہ کہ مؤکدہ میں اور یہ حال مؤکدہ ہے۔
قولہ : موضع شرب، مشرَب، کی تفسیر موضع شرب سے کرکے اشارہ کردیا کہ، اَلمشرب ظرف ہے نہ کہ مصدر میمی اس لئے کہ مصدر کی صورت میں معنی صحیح نہیں ہیں، کما لا یخفی۔
قولہ : نوع منہ، اس جملہ کے اضافہ کا مقصد ایک اشکال کا جواب ہے۔
اشکال : وحدت سے مراد وحدت نوعی ہے، نہ کہ فردی اور یہ تعدد کے منافی نہیں ہے اسلئے کہ عرف میں بولا جاتا ہے کہ کھانا بڑا لذیز تھا، اگرچہ مختلف قسم کے کھانے ہوتے ہیں۔
قولہ : شیئا، مقدر ماننے میں اشارہ ہے کہ من تبعیضیہ ہے، نہ کہ بیانیہ اور بعد والا مِنْ بیانیہ ہے شیئا، جو کہ یُخْرج کا مفعول بہ ہے، مقدر مان کر ایک اشکال کا جواب دیا ہے۔
اشکال : دو حرف جرکا جو کہ ہم معنی ہوں بغیر عطف ایک فعل سے متعلق کرنا درست نہیں ہے جیسا کہ مما تنبت ، اور من بَقْلِہَا، میں دونوں یُخرِجْ لنا، سے متعلق ہیں۔
جواب : دونوں مِنْ ، ایک معنی میں نہیں ہیں، پہلا تبعیضیہ ہے اور دوسرا بیانہ۔
قولہ : بقلہا، یہ مَا سے حرف جر کے اعادہ کے ساتھ بدل ہے، بَقْل، اس کی جمع بقول ہے، ہر اس نبات کو کہتے ہیں، جس میں تنا نہ ہو، قِثَّائ، ککڑی واحد قِثَّاء ة۔
قولہ : فوم، گندم، لہسن، ہر وہ غلہ جس کی روٹی بنائی جاسکے، عدس، مسور، بَصَلْ ، پیاز۔
قولہ : بائُ و، بَوْئ سے ماضی جمع مذکر غائب، وہ لوٹے اور اسی سے ہے، باء المباة، ای رَجَعَ الی المنزل۔
قولہ : من الامصار، اَیَّ بلدٍ کان من الشام، یہاں مصر سے مراد کوئی مخصوص شہر نہیں ہے اور نہ معروف شہر مصر ہے مطلب یہ ہے کہ ملک شام کی کسی بھی بستی میں چلے جاؤ مِصْرًا کی تنوین تنکیر بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
قولہ : جُعِلَتْ ، ضُرِبَتْ ، کی تفسیر جُعِلَتْ سے کرکے اشارہ کردیا کہ اس میں استعارہ تبعیہ بمعنی لزوم ہے اور یہ ان کے ذلیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : المسکنہ، محتاجی۔
قولہ : اثر، الفقر، اثَر مضاف محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ نفس فقر مراد نہیں ہے، بلکہ لازمہ فقر جو کہ ذلت ہے مراد ہے، ورنہ تو ان میں بہت سے لوگ غنی بھی تھے، اور آج بھی ہیں مگر غنا کا تعلق مال و دولت سے نہیں ہے، بلکہ قلب سے ہے اگر غنا قلبی حاصل نہ ہو، تو اس مصرعہ کے مصداق ہوں گے۔
آنا ن کہ غنی ترند محتاج ترند
قولہ : ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا، ذلک کا مشار الیہ ضرب ذلت اور غضب ہے، سوال پیدا ہوا ہے کہ مشار الیہ دو ہیں اور اسم اشارہ مفرد ہے۔
جواب : مشار الیہ مذکور کے معنی میں ہے لہٰذا کوئی اشکال نہیں۔
تفسیر و تشریح
وَاِذِ اسْتَسْقٰی، یہ واقعہ بعض کے نزدیک مقام تیہ کا اور بعض کے نزدیک صحراسینا کا ہے جب پانی کی طلب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ ولسلام سے فرمایا اپنی لاٹھی پتھر پر مارو چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر پر اپنی لاٹھی ماری، تو اس میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے، ہر قبیلہ نے اپنے لئے ایک ایک چشمہ متعین کرلیا، یہ بھی ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔
قاضی بیضاوی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے خوارق (اور معجزات) کا انکار بہت بڑی غلطی ہے، جب بعض پتھروں (مقناطیس) میں اللہ تعالیٰ نے بعید از قیاس اور خلاف عقل یہ تاچیر رکھی ہے کہ لوہے کو جذب کرتا ہے تو اگر اس پتھر میں ایسی تاثیر پیدا کردی ہو کہ جو پانی کے اجزا کو زمین سے جذب کرلے اور اس سے پانی نکلنے لگے تو کیا محال ہے ؟
وہ پتھر (چٹان) جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب عصا کی وجہ سے پانی جاری ہوگیا تھا، وہ اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے سیاح جاکر اسے دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگاف اس میں اب بھی موجود ہیں۔
مشہور ماہر اثریات (آثار قدیمہ) سرفلنڈر زپڑی (Pertire) تیس آدمیوں کے قافلہ کے ساتھ 5۔ 1904 سینا کی تحقیقی مہم پر روانہ ہوئے ان کے مشاہدات کا خلاصہ ایک دوسرے ماہر اثریات سرچارلس مارسٹن کی زبانی سنئے۔
یہ وسیع بیانانی علاقہ سیاہ اور سرخ رنگ کے پہاڑوں سے لبریز ہے جس میں کہیں کہیں سبزہ زار بھی ہیں اور گہری گہری وادیاں بھی اور شگاف، جابجا نخلستان، ایسی وادی میں پینے کے پانی کی فراہمی کی مشکلات جو اسرائیلیوں کو اپنی صحرا نوردی کے زمانہ میں پیش آئی تھیں، آج بھی ان کا تجربہ ہو رہا ہے۔ (ماجدی)
Ayah 2:61وَاِذْقُلْتُمْ یَامُوْسٰی، یہ قصہ بھی اسی میدان تیہ کا ہے، مصر سے یہاں ملک مصر مراد نہیں بلکہ کوئی بھی شہر مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو مطلوبہ ثیزیں درکار ہیں تو کسی بستی میں چلے جاؤ اور وہاں کھیتی باڑی کرو، اپنی پسند کی سبزیاں دالیں اگاؤ، یہ مطالبہ چونکہ کفران نعمت اور استکبار پر مبنی تھا، اس لئے زجر و توبیخ کے انداز میں ان سے کہا گیا کہ تمہاری مطلوبہ چیزیں وہاں ملیں گی کھیتی باڑی کر اور کھاؤ، تم کو مَن وسلوی جیسی عمدہ اور لذیذ بےمشقت حاصل ہونے والی غذا کی قدر نہیں ہے۔
اس زجر و توبیخ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جس بڑے مقصد یعنی اپنے ملک کی آزادی کے لئے یہ صحرا نوردی تم سے کرائی جا رہی ہے، اس کے مقابلہ میں کیا تم کو کام و دہن کی لذت اتنی مرغوب ہے کہ اس مقصد کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو، مگر ان چیزوں سے محرومی کچھ مدت کے لئے برداشت نہیں کرسکتے ؟
مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ استسقا کی اصل دعا ہی ہے امام حنیفہ (رح) تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ استسقا کی اصل پانی کے لئے دعا کرنا ہے اور یہ دعا کبھی مخصوص نماز کی صورت میں کی گئی ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں آپ ﷺ کا نماز استقا کے لئے عیدگاہ کے میدان میں تشریف لے جانا اور نماز اور خطبہ اور دعا کرنا منقول ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ بغیر نماز کے صرف دعا پر اکتفا فرمایا، جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ خطبہ جمہ ہی میں آپ نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمائی۔
یہودیوں پر ابدی ذلت کا اور اسرائیل کی موجودہ حکومت سے شبہ اور اس کا جواب :
وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ، (الآیۃ) آیات مذکور میں یہود کی نافرمانیوں کی سزا دنیا میں دائمی ذلت و مسکنت بیان کی گئی ہے، اس دائمی ذلت، و مسکنت کا مفہوم جو ائمہ تفسیر اور صحابہ ؓ وتابعین (رح) تعالیٰ سے منقول ہے، اس کا خلاصہ ابن کثیر (رح) تعالیٰ کے الفاظ میں یہ ہے۔
” لَایَزَالُوْنَ مستذلین من وجدھم استذلہم وضرب علیہم الصغار “۔
یعنی وہ کتنے ہی مالدار کیوں نہ ہوجائیں، ہمیشہ تمام اقوام عالم کی نظروں میں ذلیل و حقیر سمجھے جائیں گے جس کے ہاتھ لگیں گے ان کو ذلیل کرے گا اور ان پر غلامی کی علامتیں لگا دے گا۔ (معارف ملخصا)
امام تفسیر ضحاک ابن مزاحم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ان کی ذلت و مسکنت کا یہ مفہوم نقل کیا ہے : ” ھم اہل القبالات یعنی الجزیۃ “ مطلب یہ کہ یہودی ہمیشہ دوسروں کی غلامی میں رہیں گے ان کو ٹیکس وغیرہ ادا کرتے رہیں گے، ان کی قوت و اقتدار دوسروں کے بل بوتہ پر ہوگا، اس مضمون کی ایک آیت سورة آل عمران میں ایک زیادتی کے ساتھ اس طرح آئی ہے۔
” ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ “ مسلط کردی گئی ان پر ذات جہاں کہیں جائیں گے مگر ہاں ایک ایسے ذریعہ سے جو اللہ کی طرف سے ہو اور ایک ایسے ذریعہ سے جو آدمیوں کی طرف سے ہو۔
اللہ تعالیٰ کے ذریعہ کا مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے قانون میں امن دیدیا ہو، جیسے نابالغ بچے، عورتیں، یا ایسے عبادت گزار جو مسلمانوں سے لڑتے نہیں پھرتے، وہ محفوظ اور مامون رہیں گے، اور آدمیوں کے ذریعہ سے مراد معاہدہ صلح ہے، جس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مسلمانوں سے صلح کا معاہدہ یا جزیہ دے کر ان کے ملک میں رہنے کا معاہدہ ہوجائے، مگر الفاظ قرآنی میں : ” مِنَ النَّاسِ “ فرمایا : ” مِنَ المُسلمین “ نہیں فرمایا، اس لئے یہ صورت بھی متحمل ہے کہ دوسرے غیر مسلموں سے معاہدہ صلح کرکے ان کی پشت پناہی میں آجائیں، تو مامون رہ سکتے ہیں، آیت کی اس تفسیر سے وہ تمام شبہات دور ہوگئے، جو آج کل فلسطین میں یہودیوں کی حکومت قائم ہونے کی بنا پر بہت سے مسلمانوں کو پیش آتے ہیں، کہ قرآن کے قطعی ارشادات سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کی حکومت کبھی قائم نہ ہوگی اور واقعہ یہ ہے کہ فلسطین میں ان کی حکومت قائم ہوگئی، جواب واضح ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی موجودہ حکومت کی حقیقت سے جو باخبر ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ حکومت دراصل اسرائیلیوں کی نہیں، بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ایک چھاؤنی سے زیادہ اس کی حقیقت نہیں، یہ اپنی ذاتی طاقت سے ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکتے، یورپین ممالک نے اسلامی بلاک کو کمزور کرنے کے لئے ان کے بیچ میں اسرائیل کا نام دے کر ایک چھاؤنی بنائی ہے اور اسرائیل ان کی نظروں میں بھی ان کے فرمانبردار غلام سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا قرآن کریم کے ارشاد : ” بَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ “ کے سہارے ان ان کا اپنا وجود قائم ہے، وہ بھی ذلت کے ساتھ اس لئے موجودہ اسرائیلی حکومت سے قرآن کریم کے کسی ارشاد پر ادنی شبہ بھی نہیں ہوسکتا۔
بنی اسرائیل پر دائمی ذلت بحیثیت قوم و نسل ہے نہ کہ بحیثیت عقیدہ : ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلُّۃُ ، اول اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ہیں کون لوگ جن پر ذلت و مسکنت مسلط کردی گئی ہے ؟ اس سوال کے جواب کے لئے ضروری ہے کہ ھُمْ ضمیر کا مرجع متعین کریں، ضمیر کا مرجع الیھود یا اِلَّذِیْنَ ھَادُوْا نہیں بلکہ بنی اسرائیل ہیں، یعنی اس وعید کے مصداق فلاں عقیدہ یا فلاں مسلک والے نہیں، بلکہ اسرائیلی نامی ایک متعین قوم و نسل ہے، سبحان اللہ ایک ذرا سا لفظ جان بلاغت ہے، اس نے اس حقیقت کو بالکل واضح کردیا کہ ذلت و نکبت افلاس و مقہوریت کی حامل ایک مخصوص نسل و قوم ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہب و ملت کے پیرو، خود لفظ Srti-Semitsm بتارہا ہے، کہ یہود سے جو مستقل عداوت نازی جرمنی کو خصوصاً ، اور اٹلی ہنگری رومانیہ وغیرہ کو رہ چکی ہے، اس کی بنا نسلی یا قومی تھی، نہ کہ دینی یا اعتقادی۔ (ماجدی)
مفلسی، محتاجی، تنگدستی کے انتساب پر عجب نہیں کہ ناظرین کو حیرت ہو اور سوال دل میں پیدا ہو کہ تمول تو یہود کا ضرب المثل ہے پھر اس قوم کو محتاج و تنگدست کیسے قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن یہ محض دھوکا اور مغالطہ ہے، دولت و ثروت جتنی بھی ہے وہ قوم یہود کے صرف اکابر و مشاہیر تک محدود ہے، ورنہ عوام یہود کا شمار دنیا کی مفلس ترین قوموں میں ہوتا ہے، یہ بیان خود محققین یہود کا ہے، جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے۔
گو یہود کا تمول ضرب المثل کی حد تک شہرت پاچکا ہے، لیکن اہل تحقیق کا اتفاق ہے کہ یہود یورپ کے جس ملک میں آباد ہیں وہاں کی آبادی میں ان ہی کے مفلسوں کا تناسب بڑھا ہوا ہے۔ (ماجدی)
وَبَائُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ ، اور وہ غضب الہیٰ کے مستحق ہوگئے، ای استحقوا غَضَبًا۔
نسل اسرائیل پر اس غضب الہیٰ کا ظہور مسلسل انسانوں کے ہاتھوں ہوتا چلا آرہا ہے زمان قدیم میں بخت نصر کے علاوہ زمانہ قریب میں ہٹلر جیسی چنگیزی فرمانروائی، یہود دشمنی اور یہود بیزاری کسی بھی تاریخ سے واقف شخص سے پوشیدہ نہیں۔
Ayah 2:62آیت نمبر 62 تا 66
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا۔۔۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔۔۔ وَمَا خَلْفَھَا وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔
ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو انبیا سابقین پر ایمان لائے، (یعنی مسلمان) اور یہود اور نصاریٰ اور صابی (اور صابی) یہود و نصاریٰ ہی کا ایک فرقہ ہے، ان میں سے جو بھی اللہ اور روز آخرت پر نبی کے زمانہ میں ایمان لائے گا، اور آپ کی شریعت کے مطابق نیک عمل کرے گا، تو ان کا اجر یعنی ان کے اعمال کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے، اور ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم، آمَنَ اور عَمِلَ کی ضمیر میں مِنْ کے لفظ کی رعایت ہے اور اس کے مابعد میں مَنْ ، کے معنی کی رعایت ہے۔ اور وہ وقت یاد کرو، جب ہم نے تم سے تورات کے احکام پر عمل کرنے کا عہد لیا تھا، درآنحالیکہ ہم نے تمہارے اوپر کوہ طور کو بلند کیا (یعنی) اس کو جڑ سے اکھاڑ کر تمہارے اوپر معلق کردیا، جب تم نے تورات کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، اور ہم نے کہا تھا کہ جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو مضبوطی سے تھامنا، یعنی کوشش اور محنت سے اور جو احکام اس میں درج ہیں، ان پر عمل کے ذریعہ ان کو یاد رکھنا تاکہ تم نار (جہنم) یا معاصی سے بچ سکو، (مگر) پھر تم اس (عہد) کے باوجود طاعت سے پھرگئے، پھر بھی اگر تم پر توبہ اور تاخیر عذاب کے ذریعہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو تم زیاں کاروں (یعنی) ہلاک ہونے والوں میں ہوجاتے۔ اور یقیناً تم ان لوگوں کے بارے میں جانتے ہو، جنہوں نے تم میں سے یوم السبت، (ہفتہ) کے بارے میں مچھلی کا شکار کرکے حد سے تجاوز کیا، حالانکہ ہم نے ان کو اس سے منع کیا تھا، اور وہ ایلہ کے باشندے تھے، تو ہم نے ان کے لئے حکم دیدیا کہ ذلیل دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ، چناچہ وہ بند بن گئے، اور تین روز بعد ہلاک ہوگئے، تو ہم نے اس سزا کو موجودہ اور آئندہ آنے والوں یعنی ان کے اور ان کے بعد آنے والوں کے لئے (سامان) عبرت یعنی ان کے جیسا عمل کرنے سے روکنے والا بنادیا، اور خوف (خدا) رکھنے والوں کے لئے نصیحت بنادیا اور متقین کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی لوگ ان سے استفادہ کرتے ہیں، بخلاف ان کے علاوہ کے۔۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ھَادُوْا، ای دَخَلُوْا فی الیَھُوْدِیَّۃِ ، ھَادُوْا، ماضی جمع مذکر غائب معروف، یہودی مذہب اختیار کیا، (ن) ھُوْدًا، توبہ کرنا یہودی ہونا، گؤسالہ پرستی سے توبہ کرنے کی وجہ سے یہودی کہلائے، ھُوْدٌ یہودیوں کی جماعت، الیھود اگر عربی ہے، تو ھَادَ ، سے موخوذ ہے، بمعنی تاب، چونکہ ان لوگوں نے قتل نفس کے ذریعہ بچھڑے کی پرستش سے توبہ کی تھی، اسی لئے یہ لوگ یہود کہلائے اور اگر عجمی ہے، تو اس صورت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادے ” یہودا “ کی جانب نسبت ہوگی تعریب کے وقت ذال کو دال سے بدل دیا جو کہ معربین کی عام عادت ہے۔
قولہ : النصاریٰ ، یہ نَصْران، کی جمع ہے، اس میں یا نسبتی ضرور استعمال ہوتی ہے کہا جاتا ہے روکنے نصرانی، اِمرأۃ نصرانیۃ، نصاری کی وجہ تسمیہ یا تو یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا : ” نحن انصار اللہ “ یا نَصْران نامی یا ناصرہ نامی بستی کی طرف نسبت کرکے نصرانی کہلانے لگے۔ (اعراب القرآن، لغات القرآن)
قولہ : اَلصَّابِئِیْنَ ، یہ صابی کی جمع ہے اور صَبَا فلانٌ، سے ماخوذ ہے جب کہ دین سے خارج ہوجائے، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صابی ستارہ پرست کو کہتے ہیں، ابو اسحاق صابی کاتب شاعر کا تعلق اسی قوم سے تھا، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ان لوگوں نے ہر دین و عقیدے سے کچھ کچھ لے لیا تھا، اس لئے یہ بین بین ہوگے، مفسر علام نے طائفۃ من الیھود والنصاری کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : فی زمَنِ نبینا، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اشکال کا جواب ہے۔
اشکال : اوپر فرمایا : ” اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا “ اور پھر فرمایا : ” اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ “ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، تو اس تخصیص بعد التعمیم کی کیا ضرورت ہے ؟
جواب : دونوں کا مصداق الگ لاگ ہے : ” اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا “ کا مصداق وہ لوگ ہیں، جو زمانہ فترت (وقفہ) میں ایمان لائے، جیسے کہ ورقہ بن نوفل، بحیرا راہب، سلمان فارسی وغیرہ، ان میں سے بعض نے آپ ﷺ کا زمانہ بھی پایا، اور بعض آپ کی بعچت سے پہلے انتقال کرگئے، اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے علامہ سیوطی نے ” بالانبیائ من قبل “ فرمایا، اور ” مَنْ امَنَ بِاللہِ “ سے وہ لوگ مراد ہیں، جو آپ کے زمانہ میں آپ ﷺ پر ایمان لائے، اس سے معلوم ہوا کہ دونوں کے مصداق میں مغایرت کے بیان کے لئے دوسری آیت کی تشریح میں ” فی زمَنِ نبینا “ فرمایا۔
سوال : مَنْ آمَنَ اور مَنْ عَمِلَ ، میں ضمیر مفرد کا مرجعمَنْ ہے، اور فَلَھّمْ اَجْرُھُمْ کی ھم ضمیر جمع کا مرجع بھی من ہے، جو کہ درست نہیں ہے۔
جواب : مفسر علام نے رُوْعِیَ فی ضمیر الخ کا اضافہ کرکے اسی سوال کا جواب دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اول میں مَن کے لفظ کی رعایت ہے اور دوسرے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہ بات یاد رہے کہ مَنْ ، لفظ کے اعتبار سے مفرد اور معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔
قولہ : وَقَدْ رَفَعْنَا، قَدْ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ واؤ حالیہ ہے نہ کہ عاطفہ اور رَفَعْنَا، قَدْ کی تقدیر کے ساتھ اَخَذْنٰھُمْ ، سے حال ہے، نہ کہ معطوف، اس لئے کہ امام شافعی کے نزدیک معطوف علیہ اور معطوف میں ترتیب ضروری ہے حالانکہ رفع طور مقدم ہے اور اخذ میثاق مؤخر۔
قولہ : بالعمل، بالعمل، کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ ذکر لسانی کافی نہیں بلکہ مقصد عمل ہے مطلب یہ ہے کہ نعمتوں کو شمار کرنا اور گننا مقصد نہیں ہے عمل مقصد ہے۔
قولہ : النار والمعاصی، اس میں اشارہ ہے کہ تَتَّقُوْنَ کا مفعول النار یا المعاصی محذوف ہے یہ تنزیل المتعدی بمنزلۃ الازم کے قبیل سے نہیں ہے۔
قولہ : نَکَال، جمع اَنکال، بیڑی کو کہتے ہیں، لازم منع کے طور پر عذاب اور مَنَعَ میں استعمال ہوتا ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
وَالصّٰبِئینَ : جمع صَابئ، من صَبَأ فلان اذا خَرَجَ مِنَ الدین، والصابئۃ قومٌ کانوا یعبدون النجوم ومنھم ابو اسحٰق الصابئ الکاتب الشاعر المشھور۔
الطور من جبال فلسطین، ویطلق علی کل جبل کما فی القاموس۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : ما قبل میں بنی اسرائیل کی شرارتوں اور ان کی ضد وعناد کا ذکر تھا، اس سے ناظرین کو یا خود یہود کو یہ خیال گزر سکتا تھا کہ ان حالات میں اگر عذر معذرت کرکے ایمان لانا بھی چاہیں تو غالبا اللہ کے نزدیک قبول نہ ہو اس خیال کو دفع کرنے کے لئے اس قرینہ میں ایک قانون رکھتا ہو اور دیگر ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہو، نیز قانون شریعت کے مطابق عمل پیرا ہو، تو ایسے لوگوں کے لئے ان کا حق الخدمت بھی ہے اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر نہ مغموم ہوں گے اور نہ ان کو کسی بات کا خوف ہوگا۔
مطلب : مطلب یہ ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی تخصیص نہیں جو شخص عقائد و اعمال میں پوری اطاعت کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو وہ ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ نزول قرآن کے بعد پوری اطاعت دین محمدی میں منحصر ہے، مطلب یہ ہے کہ ان شرارتوں کے بعد بھی اگر مسلمان ہوجائے گا، تو اس کے لئے راہ نجات کھلی ہوئی ہے، ہم ان کی سب شرارتوں کو معاف کردیں گے۔ (معارف ملخصا)
وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا، اب تک بنی اسرائیل کے نام سے ایک خاص نسل اور قوم کا ذکر تھا، اور ان کی تاریخ کے اہم ترین واقعات اور مناظر سامنے لائے جا رہے تھے، اب یہاں اسی قوم کا ذکر بحیثیت مسلک اور عقیدہ کے شروع ہو رہا ہے، یہاں پہلی بار “ اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا ” کہہ کر ان کے مذہبی عقیدے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
بنی اسرائیل اور یہود میں فرق : بنی اسرائیل ایک نسلی اور خاندانی نام ہے جسے اپنی عالی نسبی پر فخر تھا، اپنے آباو اجداد کی مقبولیت پر ناز تھا، تاریخ کو دہرانے کے لئے ضروری تھا کہ ان کا نسلی نام لیا جائے، چناچہ اب تک ان کا اسی نسلی نام سے ذکر کیا گیا، اب یہاں سے ایک دینی مسلک اعتقادی نظام کا بیان شروع ہو رہا ہے، اس لئے ضروری ہوا کہ اب ایسا نام لیا جائے کہ جو نسبت اور نسل اور خاندان کے بجائے، مسلک و عقیدہ کی طرف رہنمائی کرے : ” والَّذِیْنَ ھَادُوْا “ اسی ضرورت کے لئے بولا گیا ہے۔
یہودی مذہب نسلی مذہب ہے، تبلیغی نہیں ؟ کسی غیر اسرائیلی کو یہودی بنانے کا طریقہ ان کے یہاں نہیں، برناباس حواری غیر اسرائیلی کو یہودی مذہب میں داخل کرنے کے مخالف تھے، اس کے برخلاف پولوس رسول اس کے حامی تھے جو غیر اسرائیلی یہودی مذہب اختیار کرتے تھے، ان کو خارجی کہا جاتا تھا، غیر اسرائیلیوں کے یہودی مذہب اختیار کرنے میں بڑی رکاوٹ ایک یہ تھی کہ وہ یہودی شرعی احکام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، خاص طور پر احکام عشر کو اور ان میں بھی ختنہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے، پولوس رسول نے ایک کانفرنس میں بعض احکام کو منسوخ کردیا، جن میں ختنہ کا حکم بھی شامل تھا، اس ترمیم کی وجہ سے غیر اسرائیلیوں کا یہودی مذہب میں داخل ہونا آسان ہوگیا اور یہیں سے برناباس حواری کی مخالفت کا آغار ہوا۔ (بائبل سے قرآن تک ملخصا)
عرب میں متعدد قبیلے ایسے آباد تھے، جو نہ پیدائشی یہودی تھے، اور نہ نسلا اسرائیلی، بلکہ عرب یا بنی اسماعیل تھے، لیکن یہود کی صحبت سے متاثر و مرعوب ہو کر انہوں نے یہود کے طور طریقہ اور پھر عقیدے اختیار کر لئے اور رفتہ رفتہ ان کا شمار بھی یہودی آبادی میں ہونے لگا۔
اسرائیل کی قومی حکومت کا خاتمہ : اسرائیل کی قومی حکومت کا خاتمہ تو ظہور سلام سے مدتوں پہلے مشرک رومیوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی بربادی کے بعد ہی ہوگیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ کے معاصرین یہود کی حیثیت صرف ایک مذہبی اور دینی فرقے کی رہ گئی تھی، مدینہ اور جوار مدینہ بلکہ یمن میں بھی جو یہود موجود تھے، وہ نسلاً بنی اسرائیل نہ تھے، بنی اسرائیل تھے، لیکن اسرائیلیوں کی صحبت میں رہ کر تمدن معاشرت یہاں تک کہ عقیدے بھی انہیں کے اختیار کر لئے تھے : ” وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا “ میں کھلا اشارہ اسی حقیقت کی طرف ہے۔
بنی اسرائیل کی مختصر تاریخ : اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے، آپ کے بارہ صاحبزادے تھے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہی کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے عہد قدیم میں اللہ تعالیٰ نے اسی خانوادے کو منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا تھا اور ان میں بیشمار پیغمبر مبعوث فرمائے، بنی اسرائیل کا اصل وطن فلسطین کے علاقے تھے، لیکن عمالقہ نے اس علاقہ پر غاصبانہ قبضہ کرکے اسرائیلیوں کو فراعنہ مصر کی غلامی پر مجبور کردیا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس غلامی سے نجات حاصل ہوئی، لیکن اب بھی وہ فلسطین کو دوبارہ حاصل نہ کرسکے تھے، ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفات پاگئے، آپ کے بعد حضرت یوشع اور ان کے بعد کالب (علیہم السلام) پیغمبر ہوئے حضرت یوشع (علیہ السلام) نے اپنے زمانہ میں عمالقہ سے جہاد کرکے فلسطین کا ایک بڑا علاقہ فتح کرلیا، لیکن ان دونوں حضرات کے بعد بنی اسرائیل کو چاروں طرف سے مختلف یورشوں کا سامنا کرنا پڑا اس زمانہ تک بنی اسرائیل عربوں کی طرف نیم خانہ بدوش تھے، اور ان کی زندگی تمدن سے زیادہ قبائلی انداز کی تھی، تاہم جو شخص ان کے قبائلی قوانین کی بنا پر بین القبائلی جھگڑوں کو خوبصورتی سے رفع کردیتا تھا، اسے بنی اسرائیل تقدس کی نظر سے دیکھتے تھے، اور اگر اس میں کچھ عسکری صلاحیتیں بھی پاتے، تو بیرونی حملوں کے مقابلہ کے لئے اسی کو اپنا سپہ سالار بھی بنا لیا جاتا، اس قسم کے قائدین کو بنی اسرائیل قاضی کہا کرتے تھے۔
قاضیوں کے زمانہ میں جہاں اسرائیلیوں نے بیرونی حملوں کا کامیاب دفاع کیا، وہاں گیارہویں صدی قبل مسیح میں وہ کنعانیوں کے ہاتھ مغلوب ہوگئے اور فلسطین کے بڑے علاقہ پر کنعانیوں کی حکومت قائم ہوگئی جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عہد تک قائم رہی۔
بالآخر حضرت شموئیل (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے، تو بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ اب ہم خانہ بدوشی کی زندگی سے تنگ آگئے ہیں آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمارے اوپر ایک بادشاہ مقرر فرما دے جس کے تابع ہو کر ہم فلسطین پر قابضوں کا مقابلہ کریں، چناچہ حضرت شموئیل (علیہ السلام) کی دعا سے ان ہی میں سے ایک شخص کو جس کا نام قرآن کریم کے بیان کے مطابق طالوت تھا، مقرر کردیا گیا، اور بائبل کی روایت کے مطابق ساؤل تھا، طالوت نے فلسطینیوں کا مقابلہ کیا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اس وقت نوجوان تھے، اور طالوت کے لشکر میں اتفاقاً شامل ہوگئے تھے، فلسطینیوں کے لشکر سے ایک پہلوان جالوت نے مبارزہ طلب کیا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور اسے قتل کردیا، اس واقعہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل میں اتنی ہر دلعزیزی عطا کردی کہ ساؤل (طالوت) کے بعد وہ بادشاہ بنے، حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عہد میں فلسطین پر بنی اسرائیل کا قبضہ تقریباً مکمل ہوگیا، ان کے بعد 1974 قبل مسیح میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سلطنت کو اور مستحکم کرے اقبال کے بام عروج تک پہنچا دیا، ان کے ہی حکم سے بیت المقدس کی تعمیر ہوئی، سلطنت کا نام اپنے جد امجد کے نام پر یہودارکھا۔ لیکن 973 قبل مسیح میں حضرت سلیمان کے بعد ان کا بیٹا رجعام تخت سلطنت پر بیٹھا تو اس نے اپنی نا اہلی سے نہ صرف یہ کہ سلطنت کی دینی فضا کو ختم کردیا بلکہ اس کے سیاسی استحکام کو بھی سخت نقصان پہنثایا، اسی کے زمانہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک سابق خادم بریعام نے بغاوت کرکے ایک الگ سلطنت اسرائیل کے نام سے قائم کرلی، اب بنی اسرائیل دو ملکوں میں تقسیم ہوگئے، شمال میں اسرائیلی سلطنت تھی جس کا پایہ تخت سامرہ تھا اور جنوب میں یہود یہ کی سلطنت تھی جس کا مرکز یروشلم تھا ان دونوں ملکوں میں باہم سیاسی اور مذہبی اختلاف کا ایک طویل سلسلہ قائم ہوگیا، جو بخت نصر کے حملے تک جاری رہا، دونوں ملکوں میں آہستہ آہستہ بت پرستی کا رواج بڑھنے لگا، اس کے سدباب کے لئے انبیا (علیہم السلام) مبعوث ہوتے رہے، جب بنی اسرائیل کی بداعمالیاں حد سے زیادہ بڑھ گئیں، تو اللہ نے ان پر شاہ بابل کو مسلط کردیا، اس نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر زبردست حملے کئے اور آخری حملے میں یروشلم کو بالکل تباہ کر ڈالا، اور اس کے بادشاہ صدقیاہ کو قید کرکے لے گیا اور بقیہ السیف یہودی گرفتار ہو کر بابل چلے گئے، عرصہ دراز تک غلامی کی زندگی گزارتے رہے۔
بالآخر جب 536 قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ خسرو نے بابل فتح کیا، تو اس نے یہودیوں کو دوبارہ یروشلم پہنچ کر اپنا بیت المقدس تعمیر کرنے کی اجازت دیدی چناچہ 515 قبل مسیح میں بیت المقدس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور یہودی ایک بار پھر یروشلم میں آباد ہوگئے، اسرائیلی سلطنت یہودا سے پہلے ہی اسوریوں کے ہاتھوں تباہ پو چکی تھی، اب اگرچہ دونوں فرقوں کے مذہبی اختلافات کافی حد تک کم ہوچکے تھے، لیکن انہیں کوئی سلطنت نصیب نہ ہوسکی 400 ق م، میں ان پر سکندر اعظم کا تسلط ہوگیا اور اسی زمانہ میں انہوں نے تورات کا ترجمہ کیا، 165 ق م، میں سوریا کے بادشاہ انتیوکس نے ان کا بری طرح قتل عام کیا اور تورات کے تمام نسخ جلا دئیے، اسی دوران یہودا مکابی نے جو بنی اسرائیل کا ایک صاحب ہمت شخص تھا، ایک جماعت بنائی، اور اس کے ذریعہ فلسطین کے ایک بڑے علاقہ پر قبضہ کرکے اسوری حکمرانوں کو مار بھگایا، مکابیوں کی یہ سلطنت 70 ق م تک قائم رہی۔ (بائبل سے قرآن تک)
وَالنَّصٰریٰ ، نصاریٰ نصرانی کے جمع ہے، ملک شام (موجودہ فلسطین) میں ایک قصبہ ہے، ناصرہ (Nazareth) علاقہ گلیلی میں بیت المقدس سے ستر میل دور شمال میں اور بحرروم سے مشرق میں بیس میل کے فاصلہ پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آبائی وطن یہی قصبہ ہے اور آپ یسوع ناصری اسی مناسبت سے کہلاتے ہیں، ناصرہ ہی کو عربی تلفظ میں نَصْرَان بھی کہتے ہیں، یہی قول قتادہ، ابن جریج کا ہے۔
وھو قول ابن عباس و قتادہ (ابن جریج) (کبیر) قیل سموا بذلک قریۃ تسمی ناصرہ۔ (قرطبی)
مسیحی اور نصرانی میں فرق : مسیحی اناجیل اربعہ پر ایمان رکھتے ہیں، مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا نبی نہیں خدا کا بیٹا مانتے ہیں، یا یہ مانتے ہیں کہ خدا ان کے قالب میں حلول کر آیا تھا، آخرت میں نجات دہندہ خدا کو نہیں مسیح (ابن اللہ) کو مانتے ہیں اور خدائی کو تین اقنوم میں تقسیم کرکے ایک ناقابل فہم فلسفہ بیان کرتے ہیں، ان کے نزدیک ہر اقنوم بجائے خود ایک مستقل خدا ہے اور تینوں اقنوم بھی مل کر ایک مستقل خدا ہے ! کبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎
تثلیث کے قائل نے خالق کو کہا ایک تھی سوئی تین پر حیرت سے بجا ایک
یہاں مقصود بیان نصاریٰ کا ہے، نہ کہ مشرک مسیحیوں کا، نصرانی حضرت مسیح کے سچے پیرو اور آپ کو نبی مانتے تھے، نہ خدا نہ اس کا بیٹا توحید کے قائل تھے، انا جیل اربعہ کے بجائے، انجیل متی کو مانتے تھے، موجودہ مسیحیت سرتاپا پولوسیت ہے اور تمام تر پولوس طرسوسی کی تعلیمات پر مبنی پے یہ فرقہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے کچھ مدت بعد وجود میں آگیا تھا، نصرانی اس کے بالکل منکر تھے، (ماجدی)
وَالصَّابِئِیْنَ ، صابی ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے، جو اپنے دین کو چھوڑ کر دوسرے دین میں شامل ہوجائے خود رسول اللہ ﷺ کو شروع میں صابی اس لئے کہا گیا کہ آپ نے دین قریش کو چھوڑ کر دین اسلام اختیار فرمایا، وکانت العرب تسمی بالنبی الصابی لانہ خرج من دین قریش الی دین الاسلام۔ (نہایۃ، تاج)
اصطلاح میں صابیوں کے نام کا ایک مذہبی فرقہ جو عرب کے شمال مشرق میں شام و عراق کی سرحد پر آباد تھا، یہ لوگ دین توحید اور عقیدہ رسالت کے قائل تھے، اصلاً اہل کتاب تھے، ان ہی کو نصاریٰ یحییٰ بھی کہا جاتا تھا، یہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی طرف نسبت رکھتے تھے، حضرت عمر ؓ جیسے مبصر دور بین اور دور رس خلیفہ راشد اور حضرت عبد اللہ بن عباس جیسے محقق صحابی نے صابیوں کا شمار اہل کتاب میں کیا ہے، حضرت عمر ؓ نے ان کا ذبیحہ بھی حلال قرار دیا ہے۔
قال عمر بن الخطاب وابن عباس ؓ ھم قوم من اھل الکتاب وقال عمر تحل ذبائحھم مثل ذبائح اھل الکتاب۔ (معالم، ماجدی)
Ayah 2:63وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّوْرَ ، (الآیۃ) جب موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر توریت عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو تورات دکھائی اور سنائی تو چونکہ تورات میں احکام کچھ سخت تھے، مگر ان لوگوں کی حالت ایسے ہی احکام کے مطابق تھی، اول تو انہوں نے یہ کہا کہ جب ہم سے اللہ خود کہہ دیں گے کہ یہ میری کتاب ہے، تب مانیں گے (تفصیل اوپر گزر چکی ہے) غرض جو ستر آدمی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے واپس آکر انہوں نے گواہی دی مگر اس شہادت میں (اپنی طرف سے) اتنی آمیزش بھی کردی کہ اللہ تعالیٰ نے آخر میں یہ فرمایا تھا، کہ تم سے جس قدر عمل ہو سکے معاف ہے، اس آمیزش سے ان کو حیلہ بہانہ مل گیا، غرض صاف کہہ دیا کہ ہم سے اس تورات عمل نہیں ہوسکتا، تو حق تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کوہ طور کا ایک حصہ اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردو کہ یا تو قبول کرو ورنہ پہاڑ کا یہ ٹکڑا ابھی گرادیا جائے گا، مجبوراً بنی اسرائیل نے قبول کرلیا۔
ایک شبہ کا جواب : یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ دین میں تو اکراہ نہیں ہے، یہاں کیوں اکراہ کیا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ اکراہ ایمان لانے پر نہیں، بلکہ اول اپنی خوشی سے ایمان اور اسلام ققبول کرلینے اور اس کے بعد اس کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے یہ سزا دی گئی جبکہ باغیوں کی سزا تمام حکومتوں میں بھی عام مخالف اور دشمن قوموں سے الگ ہوتی ہے ان کے لئے ہر حکومت میں دہ ہی راستے ہوتے ہیں، یا اطاعت قبول کریں یا قتل کئے جائیں، اسی وجہ سے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے اور کفر کی سزا قتل نہیں۔
Ayah 2:64ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ ، آیت کے اس آخری جز کے مخاطب آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود معلوم ہوتے ہیں، اس لئے کہ آپ ﷺ پر ایمان نہ لانا بھی عہد شکنی میں داخل ہے، اس لئے ان کو بھی عہد شکنوں میں شامل کرکے بطور امتنان فرمایا کہ اس پر بھی ہم نے تم پر دنیا میں کوئی عذاب ایسا نازل نہیں کیا جیسا کہ پہلے عہد شکنوں پر ہوتا رہا، یہ محض خدا کی رحمت ہے۔
اور اب چونکہ ازروئے احادیث ایسے عذابوں کا نہ آنا حضور ﷺ کی برکت ہے، اس لئے بعض مفسرین نے فضل و رحمت کی تفسیر بعثت محمدیہ سے کی ہے۔
Ayahs 2:65–66وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ ، (الآیۃ) اور تم ان لوگوں کا حال تو اچھی طرف جانتے ہی ہو جنہوں نے روز شنبہ کے بارے میں حد شرع سے تجاوز کیا تھا۔
فائدہ : مچھلی پکڑنے کا واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں پیش آیا تھا، ہفتہ (شنبہ) کا دن بنی اسرائیل کے لئے عبادت کے واسطے مقرر تھا، اس روز مچھلی کا شکار ممنوع تھا، یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے، مچھلی کے شوقین تھے، ان لوگوں نے حکم کو نہ مانا اور شکار کیا اس پر اللہ نے ان پر مسخ صورت کا عذاب نازل فرمایا، یہ مسخ شدہ لوگ تین دن میں مرگئے۔
دینی معاملات میں حیلے کی حقیقت : اس آیت میں یہودیوں کے جس اعتدا کا ذکر ہے جس کی وجہ سے ان پر مسخ صورت کا عذاب نازل ہوا تھا، روایات سے ثابت ہے کہ وہ صاف طور پر حکم شرعی کی خلاف ورزی نہ تھی، بلکہ ایسے حیلے تھے، جن سے حکم شرعی کا ابطال لازم آتا تھا، مثلاً ہفتہ کے دن مچھلی کی دم میں ڈور باندھ کر سمندر میں چھوڑ دینا اور ڈور کو کنارہ پر باندھ دینا اور دوسرے روز شکار کرلینا یا کنارہ پر گڑھا کھود دینا تاکہ ممنوعہ دن میں اس میں مچھلیاں داخل ہوجائیں اور دوسرے روز اس کا شکار کرلیا جائے، یہ اس قسم کے حیلے ہیں کہ جس میں حکم شرعی کے ابطال بلکہ ایک قسم کا استہزا ہے، اس لئے ایسے حیلے کرنے والوں کو بڑا سرکش نافرمان قرار دے کر ان پر عذاب نازل فرمایا
فقہی حیلے : مگر اس سے فقہی حیلوں کی حرمت ثابت ہوتی جن میں سے بعض خود رسول اللہ ﷺ نے بتلائے ہیں مثلاً ایک سیر عمدہ کھجور کے بدلے دو سیر ردی کھجور خریدنا سود میں داخل ہے، مگر اس سے بچنے کے لئے ایک حیلہ خود رسول اللہ ﷺ نے بتلایا کہ جنس کا تبادلہ جنس سے نہ کرو، قیمت کے ذریعہ خریدو فروخت کرو مثلاً دو سیر ردی کھجوریں دو درہم میں فروخت کردیں پھر ان دو درہموں سے ایک سیر عمدہ کھجور خرید لیں تو یہ جائز ہے، اس لئے کہ یہاں حکم شرعی کی تعمیل مقصود ہے، ابطال حکم مقصود نہیں ہے۔
واقعہ مسخ کی تفصیل : وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ ، علم کا لفظ خود تحقیق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، پھر اس پر لام اور قد کے اضافہ سے اس کے معنی میں مزید شدت اور تاکید پیدا ہوگئی گویا قرآن بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کا کوئی واقعہ ان کے لئے خوب اچھی طرح جانا بوجھا ہوا یاد دلا رہا ہے اور ان سے کہہہ رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! جس واقعہ کا ذکر آگے آرہا ہے، وہ تمہاری تاریخ کا ایک مسلم اور متعارف واقعہ ہے، جس سے تم بلاشبہ بخوبی واقفیت رکھتے ہو۔
فِی السَّبْتِ ، احکام سبت کے بارے میں، سبت، ہفتہ (سنیچر) کے دن کو کہتے ہیں یہود کی شریعت میں یہ ایک مقدس دن تھا، جس طرح مسیحیوں کے نزدیک اتوار کا دن مقدس ہے، یہ دن یاد خدا کے لئے مخصوص تھا، اس روز تجارت زراعت وغیرہ ہر قسم کے دنیاوی کام ممنوع تھے، اور ممانعت بھی بڑی شدت کے ساتھ تھی، کہ جو اس حکم کی خلاف کرے، اسے قتل کردیا جائے، توریت کے الفاظ یہ ہیں۔
پس سبت کو مانو اس لئے کہ وہ تمہارے لئے مقدس ہے جو کوئی اس کو پاک نہ جانے، وہ ضرور مار ڈالا جائے۔ (خروج، 31: 14، و 15) (ماجدی)
روایات میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہود کی ایک بڑی آبادی مقام ایلہ میں رہتی تھی، مچھلی کا مذکورہ واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کے یہود کا ہے، حضرت داؤد کا زمانہ 1013 ق م تا 973 ق م کا ہے۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہود نے اول اول تو اس طرح کے حیلے کرکے مچھلیاں پکڑیں پھر ہوتے ہوتے عام طور پر شکار کھیلنے لگے، تو ان میں دو جماعتیں ہوگئیں، ایک جماعت ان دینداروں کی تھی جنہوں نے ایسا کرنے سے روکا مگر وہ باز نہ آئے، تو ان سے تعلقات منقطع کرکے الگ ہوگئے، اور بستی کے دو حصے کر لئے ایک میں یہ نافرمان لوگ رہ گئے، اور دوسرے میں دیندار اور صالح لوگ، ایک روز دینداروں کو یہ محسوس ہوا کہ جس حصہ میں نافرمان رہ رہے ہیں ادھر بالکل سناٹا ہے، تو وہاں جاکر دیکھا، تو سب کے سب بندروں کی صورت میں مسخ ہوگئے ہیں اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ان کے جوانوں کو بندر اور بوڑھوں کو خنزیر کی صورت میں مسخ کردیا گیا یہ مسخ شدہ لوگ اپنے رشتہ داروں اور شناساں لوگوں کو پہچانتے تھے اور ان کے قریب جا کر روتے تھے۔
ممسوخ قوم کی نسل نہیں چلی : اس بارے میں صحیح بات وہ ہے جو خود رسول اللہ ﷺ سے بروایت عبد اللہ بن مسعود ؓ صحیح مسلم میں منقول ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے زمانہ کے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ وہی مسخ شدہ یہودی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں مسخ صورت کا عذاب کرتے ہیں، تو ان کی نسل نہیں چلتی اور پھر فرمایا کہ بندر اور خنزیر دنیا میں پہلے سے بھی موجود تھے اور آج بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں مگر مسخ شدہ بندروں اور خنزیروں سے ان کو کوئی تعلق نہیں۔
Ayahs 2:67–71آیت نمبر 67 تا 71
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا کوئی شخص مقتول ہوگیا تھا اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اور ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعاء فرمائیں کہ وہ قاتل کو ظاہر کر دے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی (اور کہا) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہو، یعنی ہمارا مذاق بناتے ہو، جو اس قسم کا جواب دیتے ہو ؟ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں (یعنی) استہزا کرنے والوں میں شمار ہوں، چناچہ جب وہ سمجھ گئے، کہ آپ حقیقت کہہ رہے ہیں، (مذاق نہیں کر رہے) تو کہنے لگے آپ ہمارے لئے اپنے پروردگار سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں اس (گائے) کے بارے میں کچھ (تفصیل) بتائے کہ اس کی کیا عمر ہو ؟ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا اللہ فرماتا ہے، وہ ایسی گائے ہو کہ جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بچھیا (بلکہ) اوسط عمر کی ہو لہٰذا (ذبح کا) جو حکم تم کو دیا جا رہا ہے وہ کرو، پھر کہنے لگے اپنے رب سے یہ اور پوچھ لو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا وہ فرماتا ہے کہ وہ نہایت شوخ رنگ کی زرد گائے ہو، دیکھنے والوں کو اس کی خوبی کی وجہ سے یعنی (ناظرین) کو تعجب میں ڈالدے، وہ پھر بولے کہ اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کہ کیسی (گائے) مطلوب ہے ؟ جنگل میں چرنے والی ہو یا پالتو (گھریلو) بلاشبہ مذکورہ صفات کی گائے کی تعیین میں ہمیں اشتباہ ہوگیا ہے اس صفت (جنس) کی گائے بکثرت ہونے کی وجہ سے جس کی وجہ سے مقصد تک ہماری رسائی نہیں ہوسکی، اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے، حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ انشا اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی ان کو اس کا پتہ نہ لگ پاتا، (موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا وہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہ لی گئی ہو، کام میں استعمال نہ کی گئی ہو نہ زمین جوتنے میں استعمال ہوئی ہو کہ زمین کو زراعت کے لئے الٹ پلٹ کرتی ہو (جوتتی ہو) اور جملہ (تثیر الارض، ذلولٌ) کی صفت ہے جو نفی کے تحت داخل ہے، اور نہ کھیتی کو سینچتی ہو، یعنی اس زمین کو جس کو کھیتی کے لئے تیار کیا ہو، عیوب اور کام کے نشانات سے صحیح سالم ہو اور اس میں اس کے (اصلی) رنگ کے علاوہ کوئی داغ نہ ہو، تو کہنے لگے اب آپ نے ٹھیک پتہ بتادیا یعنی پوری وضاحت کردی، چناچہ انہوں نے اس کی تلاش کی تو اس کو ایک نوجوان کے پاس پایا جو کہ اپنی والدہ کا فرمانبردار تھا، تو ان لوگوں نے اس گائے کو اس کا چمڑا بھر سونے کے عوض خرید لیا پھر انہوں نے اسے ذنح کیا ورنہ وہ اس کے بیش قیمت ہونے کی وجہ سے ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے، حدیث شریف میں ہے اگر وہ کسی بھی گائے کو ذبح کردیتے تو ان کے لئے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے خود اپنے اوپر سختی کی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بَقَرَۃٔ، بَقَرَۃ، کا اطلاق اگرچہ نرومادہ دونوں پر ہوتا ہے، مگر یہاں مادہ مراد ہے، بَقَرَۃٌ، بَقَرٌ، سے مشتق ہے جس کے معنی پھاڑنے کے ہیں چونکہ یہ زمین کو جوتتی ہے، اسی لئے اس کو بقرۃ کہا جاتا ہے۔
قولہ : مَھْزَوًّا، ھُزُوًا، کی تفسیر مَھْزُوًّا، سے کرکے اشارہ کردیا کہ : ھُزُوًا، مصدر بمعنی اسم مفعول ہے
قولہ : ماسِنُّھَا، ما ھِیَ کی تفسیر ماسِنُّھَا سے کرکے اشارہ کردیا کہ مَا، اگرچہ ماہیت سے سوال کرنے کے لئے آتا ہے مگر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے بلکہ اکثر یہ ہے۔
قولہ : فَارِضٌ، بوڑھی۔
سوال : فارض، بقرۃ کی صفت ہے، لہٰذا فارِضۃ، ہونی چاہیے۔
جواب : مفسر علام نے فارض کی تفسیر مسنۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہ مسنۃ کا نام ہے نہ کہ بقرہ کی صفت فارض، فَرْضٌ، سے اسم فاعل ہے، اس کے معنی چیر نے پھاڑنے اور وسیع کرنے کے ہیں، یہاں فارض سے وہ گائے یا بیل مراد ہے کہ جو اپنی جوانی کاٹ کر بڑھاپے کو پہنچ گیا ہو یا جس کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے دانت اکھڑ گئے ہوں۔
قولہ : عَوَانٌ، متوسط، درمیانی عمر کا، جمع عُوْنٌ، تخفیفاً واؤ کے ضمہ کو حذف کردیا گیا ہے۔
قولہ : فَاقِعٌ، تیز زرد تاکید کے طور پر تیز زرد کے لئے لایا جاتا ہے اصفر فاقِعٌ اور تیز سیاہ کے لئے بولا جاتا ہے اَسْوَدُ حالِکٌ، اور تیز سفید کے لئے بطور تاکید لایا جاتا ہے، ابیض بھقٌ اور سرخ کے لئے بطور تاکید بولا جاتا ہے، احمر قانٍ اور سبز کے لئے اخضر ناضِرٌ۔ (لغات القرآن درویش)
قولہ : لَاذَلولٌ، ای لَاتُذَلَّل لِلْحراثَۃِ ، یعنی جس کو کھیتی باڑی کے کام کاج میں استعمال نہ کیا گیا ہو۔
قولہ : غَیر مُذَلَّلَۃٍ ، بالعمل اس اضافہ سے مفسر علام کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : لَاذَلُوْلٌ، بَقَرَۃ، کی صفت ہے حالانکہ حرف نہ صفت واقع ہوسکتا ہے اور نہ صفت کا جز لہٰذا لَاذَلُولٌ، کا صفت واقع ہونا درست نہیں ہے۔
جواب : لا بمعنی غَیْرَ ، لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں ہے۔ (ترویح الارواح)
قولہ : الجملۃ صفۃ ذلولٍ ، یعنی (تثیر الارضَ ) ذَلُولٌ کی صفت ہے اور لا کے تحت داخل ہے ای لاتثیر الارضَ ۔
قولہ : شیۃ، داغ دھبہ، نشان ایک رنگ کے جانور میں دوسرے رنگ کا دھبہ، شِیَۃ اصل میں وشیۃ تھا واؤ حذف ہوگیا جیسا کہ عِدَۃٌ اور زِنَۃٌ میں اور حذف شدہ واؤ کے عوض آخر میں ھا لاحق کردی گئی جمع شِیَاتٌ۔
قولہ : مَسْکھا، مسکٌ جلد، جمع مَسُوکٌ۔
تفسیر و تشریح
’ وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ اِنَّ اللہ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقْرَۃً ‘۔
بنی اسرائیل میں ایک مالدار لاولد آدمی تھا، جس کا وارث صرف ایک بھتیجا تھا، ایک رات اس بھتیجے نے مال کی لالچ میں اپنے چچا کو قتل کرکے لاش کی آدمی کے دروازے پر ڈال دی، صبح کو قاتل کی تلاش شروع ہوئی، مگر قاتل کا کچھ پتہ نہ چلا، آخر کار آپس میں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے لگے، یہاں تک کہ ہتھیار نکل آئے، اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے لگے۔
قَدْ اَخْرَج عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیھقی فی سننہٖ عن عبیدۃ السلمانی قال : رجلٌ مِنْ بنی اسرائیل عقیمًا لا یولَدُلہٗ وکانَ لَہٗ مالٌ کثیرٌ وکان ابن اخیہ واَرثہ فقتلہٗ ثم احتملَہٗ لَیْلاً فوضَعَہٗ عَلیٰ باب رجلٍ منھم ثم اَصْبَحَ یدعیہ علیہم حتیٰ تسلحوا ورکب بعضھم الہ بعض : فقال ذوالرأی منھم : عَلَامَ یَقْتُلُ بعضکم بَعْضا وھذا رسول اللہ فیکم ؟ فَأتَوْا موسیٰ فذکَرُوا ذلک لہٗ فقال (اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً ) ۔ (فتح القدیر شوکانی)
مفتی محمد شفیع صاحب (رح) تعالیٰ نے معارف القرآن میں مرقات شرح مشکوٰۃ کے حوالہ سے قتل کا واقعہ اس طرح لکھا ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کی لڑکی سے شادی کی درخواست کی تھی، مگر اس نے انکار کردیا، جس کی وجہ سے درخواست کنندہ نے اس کو قت کردیا تھا، قاتل لاپتہ تھا، اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا، ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی تھی، قوم کے کچھ سمجھدار لوگوں نے کہا اس میں لڑنے جھگڑنے کی کوئی بات نہیں ہے اللہ کے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) موجود ہیں ان سے معلوم کرلیا جائے، چناچہ یہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قتل کا پورا واقعہ بیان کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم الہٰی ایک گائے ذبح کرنے اور اس کا ایک حصہ مردے سے لگانے کے لئے فرمایا، بہت امین میخ اور آنا کانی کرنے کے بعد گائے ذبح کردی اور اس کا ایک ٹکڑا مردے سے لگا دیا وہ مردہ باذن الہٰی کچھ دیر کے لئے زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے قاتل کو نام جو کہ خود اس کا بھتیجا تھا، بتادیا اور پھر فوراً ہی اس کا انتقال ہوگیا، ادھر اس قاتل کو جس نے مال کی حرص میں اپنے چچا کو قتل کردیا تھا، وراثت سے محروم کردیا گیا۔
گائے ذبح کرنے کی مصلحت : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے بحکم خداوندی گائے ذبح کرنے کے لئے فرمایا تو ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں آیا، اول تو اس وجہ سے کہ قاتل کا پتہ لگانے اور گائے ذبح کرنے میں بظاہر کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا، دوسرے یہ کہ گائے ماتا ان کی دیوی تھی، جس کے ذبح کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسی لئے ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا شاید آپ ہم سے مذاق کر رہے ہیں۔
گائے ذبح کرانے میں مصلحت یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو صدیوں تک مصر میں گائے پرستوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے گائے کی عظمت اور تقدیس کے مرض کو چھوت لگ گئی تھی، اس لئے ان کو حکم دیا گیا کہ گائے ذبح کریں، ان کے ایمان کا امتحان اسی طرح ہوسکتا تھا، کہ اگر وہ واقعی رب خدا کے سوا کوئی معبود نہیں سمجھتے تو جس بت کو اب تک پوجتے رہے ہیں، اسے اپنے ہاتھوں سے ذبح کریں، چونکہ دلوں میں پوری طرح ایمان اترا ہوا نہیں تھا، اسلئے انہوں نے ٹالنے کی کوشش کی اور گائے کی تفصیلات معلوم کرنے لگے، اور جس قدر تفصیلات معلوم کرتے گئے، اسی قدر گھرتے چلے گئے، یہاں تک کہ آخر کار اسی خاص قسم کی سنہری گائے پر جسے اس زمانہ میں پرستش کے لئے مختص کیا جاتا تھا، گویا ابگلی رکھ کر بتادیا گیا کہ اسے ذبح کرو، بائیل میں بھی اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
تورات میں ذبح گائے کا حکم : بنی اسرائیل سے کہو کہ ایک لال گائے جو بےداغ اور بےعیب ہو اور جس پر کبھی جو انہ رکھا گیا ہو، تجھ پاس لائیں، تم اسے الیعزر کاہن کو دو کہ وہ اسے خیمے سے باہر لے جائے، اور وہ اس کے حضور ذبح کی جائے۔ (گنتی، 2: 19، ماجدی)