2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:72–73

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا اور پھر اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو (اپنی قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

آیت نمبر 72 تا 77 ترجمہ : اور اس واقعہ کو یاد کرو، جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر تم اس (معاملہ) میں لڑنے جھگڑنے لگے تھے، (اِدَّارَئتُمْ ) اصل (یعنی تَدَارَئتم) میں تا، کا دال میں ادغام ہے، یعنی جھگڑ رہے تھے، اور ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے تھے، اور جس بات کو تم چھپانا چاہتے تھے، اللہ اس کو ظاہر کرنے والا تھا، یہ جملہ معترضہ ہے، یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ (اگرچہ تلاوت میں مؤخر ہے) تو ہم نے حکم دیا کہ اس مقتول سے (مذبوحہ) گائے کا کوئی حصہ لگاؤ، چناچہ گائے کی زبان، یا دم کی جڑ مقتول سے لگائی گئی تو وہ (مقتول) زندہ ہو اٹھا اور بتادیا کہ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے فلاں اور فلاں نے قتل کیا ہے اور (اتنا بتا کر فوراً ) مرگیا، چناچہ دونوں میراث سے محروم کر دئیے گئے اور قتل گئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس (کو زندہ کرنے) کے مانند اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور تم کو اپنی قدرت کے نمونے دکھائے گا تاکہ تم سمجھو غور وفکر کرو، اور اس بات کو سمجھ لو کہ جو ذات ایک شخص کے زندہ کرنے پر قادر ہے وہ بہت سے اشخاص کے زندہ کرنے پر بھی قادر ہے، سو تم ایمان لے آؤ، پھر اس مذکور یعنی مقتول کے زندہ کرنے اور اس سے پہلے مذکور معجزے دیکھنے کے بعد اے یہودیو ! حق قبول کرنے سے تمہارے دل سخت ہوگئے، تو وہ سنگ دلی میں پتھر کے مانند ہیں، یا اس سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بلاشبہ پتھروں میں تو بعض ایسے بھی ہیں کہ جن سے چشمے بھی نکلتے ہیں اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، (یشّققُ ) میں دراصل تا کا ادغام ہے، شین میں کہ ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعض ان میں ایسے ہیں کہ اللہ کے خوف سے اوپر سے نیچے لڑھک جاتے ہیں (مگر) تمہارے دل نہ تو متاثر ہوتے ہیں اور نہ نرم پڑتے ہیں اور نہ خوف کھاتے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے اور بلاشبہ وہ تم کو ایک وقت تک کے لئے مہلت دیتا ہے اور ایک قراءت میں (یعملون) یاء تحتانیہ کے ساتھ ہے اور اس میں حاضر سے (غائب کی جانب) التفات ہے، اے مسلمانو ! کیا اب بھی تم توقع رکھتے ہو، کہ یہود تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں ایک فریق کہ وہ ان کے علماء کا ہے، تورات میں اللہ کے کلام کو سنتا ہے اور سمجھنے کے بعد اس کو بدل دیتا ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ افتراء کر رہے ہیں، (اَفَتطمعونَ ) میں ہمزہ انکار کا ہے یعنی تم توقع مت رکھو، اس لئے کہ کفر ان کی خصلت سابقہ ہے اور منافق یہودی جب مسلمانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ : ہم اس بات پر کہ محمد ﷺ (اللہ کے) نبی ہیں، ایمان لاچکے ہیں اور ہماری کتاب میں ان کی بشارت دی گئی ہے اور جب آپس میں تنہائی میں ملتے ہیں، تو ان کے سردار جو منافق نہیں ہیں منافقوں سے کہتے ہیں کہ کیا تم ان (مسلمانوں) کو وہ باتیں بتا دیتے ہو، جو اللہ نے تمہارے اوپر منکشف فرمائی ہیں، یعنی محمد ﷺ کی وہ صفات جو تم کو تورات میں بتائی گئی ہیں تاکہ تم پر اس کے ذریعہ آخرت میں تمہارے رب کے روبرو حجت قائم کریں یعنی تمہارے ساتھ مخاصمت کریں اور لام صیرورت کے لئے ہے اور اس (محمد) کی ترک اتباع پر اس کو سچا (نبی) جاننے کے باوجود حجت قائم کریں کیا یہ لوگ نہیں جانتے، استفہام تقریر کے لئے اور اس پر جو واؤ داخل ہے وہ عطف کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو جانتا ہے، جس کو یہ چھپاتے ہیں، اور ظاہر کرتے ہیں، ان باتوں میں سے اور ان کے علاوہ سے اس لئے اس اخفاء سے باز آجائیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اِدَّارَئْتُمْ ، بروزن اِفّاعَلْتُمْ ، مادہ، دَرَءٌ ہے بمعنی جھگڑنا اور دفع کرنا، اِدّا رَءْتُمْ ، تَدَارَاء تُمْ ، (تفاعل) سے ماضی جمع مذکر حاضر تم نے ایک دوسرے پر الزام ڈالا، اِدِّا رَءْتُمْ ، اصل میں تَدَارَءْتُمْ ، بروزن تفاعَلْتُمْ تھا، تاء اور دال کے قریب المخرج ہونے کی وجہ سے تاء کو دال سے بدل دیا پھر دال کو دال میں ادغام کردیا جس کی وجہ سے ابتداء بالسکون لازم آگیا اس دشواری کو دور کرنے کے لئے ہمزہ وصل شروع میں لے آئے، اِدَّارَء تُمْ ، ہوگیا۔ قولہ : فِیْھَا، ای فی واقعۃِ قتل النفس۔ قولہ : ھذا، اعتراض، یعنی : وَاللہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ، معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : مِن اَمْرِھَا، اس میں اشارہ ہے کہ : تَکْتُمُوْنَ کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ، میں مَا، موصولہ ہے اور تکتُمُون جملہ ہو کر صلہ ہے عائد محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے الِّذِی تکتمونَہٗ من امر القتل۔ قولہ : ھو اول القصۃ، یعنی اِدَّارَئْتُمْ ، سے اول قصہ کا بیان ہے، اور سابق رکوع میں جو بیان ہوا وہ اس کے بعد کا حصہ ہے گو تلاوت میں مقدم ہے اس تقدیم و تاخیر کا مقصد یہود کی قبائح کو یکجا بیان کرنا ہے۔ قولہ : کَذَالِکَ یُحْیِ اللہُ الْمَوْتٰی، یہ جملہ بھی کلام مسلسل کے درمیان معترضہ ہے اور اس کے مخاطب غیر یہود ہیں اس لئے کہ یہ یہود منکرین بعث نہیں تھے۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اسکے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور خدا تمہارے عملوں سے بیخبر نہیں

قولہ : ثُمَّ قسَتْ قُلُوْبُکُمْ ۔ سوال : ثُمَّ تراخی زمان پر دلالت کرتا ہے اور یہاں تراخی فی الزمان نہیں ہے اس لئے کہ یہود کی شقاوت قلبی اسی وقت موجود تھی، نہ یہ کہ بعد میں پیدا ہوئی۔ لہٰذا ثُمَّ کا استعمال برمحل معلوم نہیں ہوتا۔ جواب : یہاں ثُمَّ کا استعمال مجازاً استبعاد کے معنی میں ہے یعنی اتنے سارے دلائل دیکھنے، سننے کے بعد ایک عاقل بالغ سے شقاوت قلبی بعید ہے۔ قولہ : مِنْ بَعْدَ ذٰلِکَ ، یہ استبعاد کی مزید تاکید ہے جو مفہوم ثُمَّ کا ہے وہی مِنْ بَعْد ذٰلِکَ کا ہے۔ قولہ : اَوْاَشَدُّ قَسْوَۃً ، اَوْ ، بمعنی بَلْ ہے، مگر ابوحیان نے اَوْ ، کو توزیع کے لئے لیا ہے، یعنی قلوب کی اقسام کو بیان کرنے کے لئے۔ قولہ : اَفَتَطْمَعُوْنَ ، یہ طَمْعٌ، سے مضارع جمع مذکر حاضر ہے، ہمزہ استفہام انکاری ہے یعنی کیا تم توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مانیں گے ؟ یعنی تم کو توقع نہیں رکھنی چاہیے، اَفَتَطْمَعُوْنَ ، اصل میں فَاَتَطْمَعُوْنَ ، فاء کی تقدیم کے ساتھ تھا، ہمزہ استفہام چونکہ صدارت کلام کو چاہتا ہے اس لیے ہمزہ کو فاء پر مقدم کردیا، اَفَتَطْمَعُوْنَ ہوگیا، یہ جمہور کا مذہب ہے، زمخشری نے کہا ہے کہ ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور فائ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے تقدیر عبات یہ ہے : اَتَسْمَعُوْنَ کلَامَھُمْ وتَعرفون اَحْوَالَھُمْ فَتَطْمَعُون اَنْ یؤمنوا لکم۔ فائدہ : ہمزہ استفہام، حروف عطف میں سے صرف تین پر داخل ہوتا ہے، واؤ، فاء، ثم۔ قولہ : اَنْ یُّؤمِنُوْا لَکُمْ ۔ سوال : یؤمنوا، کا صلہ لام نہیں آتا بلکہ باء آتا ہے اور یہاں لام استعمال ہوا ہے۔ جواب : یؤمنوا، یَنْقادُوْا کے معنی کو مشتمل ہے لہٰذا لام صلہ لانا درست ہے، یعنی کیا تم کو توقع ہے کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے۔ قولہ : فلَھُمْ سابقۃ بالکفر، یعنی ان کو کفر و انکار کی پرانی عادت ہے، اس لئے کہ یہود تورات میں تحریف کا ارتکاب کرکے محمد ﷺ کا انکار کرنے سے پہلے ہی کفر کرچکے ہیں گویا کہ کفر و انکار ان کی عادت قدیمہ ہے لہٰذا ان کا ایمان لانا مستبعد ہے۔ قولہ : اِذَا خَلَا رَجَعَ ، خَلَا، کی تفسیر رِجِع، سے کرکے اس اعتراض کا جواب دیدیا کہ : خَلاَ ، کا صلہ اِلیٰ نہیں آتا حالانکہ اذا خلا بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ میں خَلَا کا صلہ اِلیٰ استعمال ہوا ہے۔ جواب : خَلَا، رَجَعَ ، کے معنی کو متضمن ہے، اس کی وجہ سے اس کا صلہ الیٰ لانا درست ہے۔ قولہ : والسلام للصیرورۃ، لِیُحَاجُّوکم میں لامتعلیل کا نہیں ہے بلکہ صیرورت یا عاقبت کا ہے، اس لئے کہ احتجاج ان کی غرض اور مقصد نہیں ہے، یُحَاجُّوکم، مضارع جمع مذکر غائب ہے، یعنی انجام کار وہ تمہارے ساتھ حجت بازی کریں، لِیُحَاجُّوکم، أن مقدرہ کی وجہ سے منصوب ہے، اس لئے کہ لام صیرورت کے بعد اِنْ جوازاً مقدر ہوتا ہے لِیُحاجُّوکم، تحدثونھم، سے متعلق ہے، نہ کہ فتح اللہ سے۔ اللغۃ والبلاغۃ سوال : ماقبل میں رؤسائ یہود کا کلام ہے، جو کہ معطوف علیہ ہے اور اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ معطوف ہے لیکن معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان کوئی معنوی ربط نہیں ہے۔ جواب : مفسر علام نے قال اللہ تعالیٰ کا اضافہ کرکے اسی اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے مطلب یہ کہ یہ یہود کے کلام کا تتمہ نہیں ہے کہ اس میں جوڑ اور ربط تلاش کرنے کی ضرورت ہو یہ کلام مستانف ہے اور باری تعالیٰ کا کلام ہے۔ قولہ : الواؤ الداخلۃ للعطف، الداخلۃ، الواؤ کی صفت ہے اور الدَّاخلۃُ کا فاعل محذوف ہے اور وہ ہمزہ استفہام ہے، یعنی وہ واو کہ جس پر ہمزہ استفہام داخل ہے، اگر مفسر علام اَلدَّاخلۃُ کے فاعل کو ظاہر کردیتے تو بات زیادہ واضح ہوجاتی، تقدیر عبارت یہ ہے ” الواؤ الداخل علیھا استفھام للعطف “ یعنی وہ واؤ کہ جس پر ہمزہ استفہام داخل ہے۔ عطف کے لئے ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے، ” أیَلُومَوْنَھُمْ علی التحدیث مخَافَۃ الحاجۃ وَلَا یَعْلمونَ اَنّ اللہ یعلم مَا یُسِرون ومَا یُعلنُوْنَ “ یہ مذہب زمخشری کا ہے۔ جمہور کا مذہب جمہور کا مذہب یہ ہے کہ : واؤ ہمزہ استفہام پر داخل ہے اور تقدیر عبارت ” وَایَعْلَمُوْنَ “ ہے، مگر چونکہ ہمزہ صدارت کلام کو چاہتا ہے، اس لئے ہمزہ کو واؤ پر مقدم کردیا، ” اَوَلَا یَعْلمونَ “ ہوگیا۔ قولہ : مِن ذلک وغیرہٖ ، سے اشارہ اخفاء اور تحریف وغیرہ کی طرف ہے۔ قولہ : فَیَرْعَوا عن ذٰلک، یہ اِرْعوَاءٌ سے ماخوذ ہے، اس کے معنی باز رہنے اور رجوع کرنے کے ہیں۔ ثُمَّ قَسَت قلوبکم مِنْ بعد ذلک فھِیْ کالحجارۃ اَو أشَدُّ قَسْوَۃً فی الآیۃ المذکورۃ، التشبیہ المرسل، فقد شبَّہ قلوبَھُمْ فی نبوِّھا عن الحقِّ ، وتحا فیھا مع احکامہٖ بالحجارۃ القاسیۃ، چم ترقی التشبیہ، فَجَعَلَ الحجارۃ اکثر لینا مِن قلوبھم۔ المجاز العقلی فی اسناد الخشیۃ الی الحجارۃ وھو کثیرٌ فی اَلْسنَۃِ العرب۔ تفسیر و تشریح ذبح بقر کے واقعہ کی قدرے تفصیل : وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ ، یہ قتل کا وہی واقعہ ہے جس کی بنا پر بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کی قدرے تفصیل سابق میں گزر چکی ہے، اِذْقَتَلْتُمْ ، میں خطاب اگرچہ آپ ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے، مگر مراد ان کے آباء و اجداد ہیں موجود بنی اسرائیل کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تمہارے اگلے بزرگوں نے ایک شخص کو جس کا نام عامیل تھا اور نہایت مالدار ہونے کے ساتھ لاولد بھی تھا اور اس کے قاتل خود اس کے بھتیجے ہی تھے، بھتیجوں نے جب دیکھا کہ یہ بڈھا تو مرنے کا نام ہی نہیں لیتا اور وہ کافی عمردراز ہوگیا تھا، مگر بظاہر اس کے مرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے، بھتیجوں نے میراث کی لالچ میں اندھیری رات میں قتل کرکے کسی دوسرے شخص کے دروازے پر ڈال دیا اور خود ہی خون کے دعویدار بن گئے اور قتل کا الزام ایک دوسرے پر ڈالنے لگے قریب تھا کہ خانہ جنگی شروع ہوجائے، جب اختلاف شدید ہوگیا تو معاملہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوچ کر کہ اگر قاتل کا پتہ نہ چلا، تو قوم میں اختلاف شدید رونما ہوجائے گا، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعاء فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا ایک حصہ مقتول کے جسم سے لگائیں وہ بحکم خداوندی زندہ ہو کر اپنے قاتل کو بتادے گا، مگر بنی اسرائیل نے اپنی پرانی جبلت کی وجہ سے کٹھ حجتی شروع کردی اور گائے ذبح کرنے کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے گائے کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنی شروع کردیں اور جس قدر سوالات کرتے گئے، اسی قدر اور زیادہ گھر تے چلے گئے، آخر کار ایک خاص قسم کی سنہری گائے پر جسے اس زمانہ میں پرستش کے لئے مخصوص کیا جاتا تھا، بات ٹھہر گئی، آخر کار ان صفات کی حامل گائے ایک شخص کے پاس مل گئی جو اپنی والدہ کا بڑا فرمانبردار تھا، اور اس گائے کے چمڑے بھر سونے کے عوض اس کو خریدا اور ذبح کرکے اس کا ایک حصہ جس کے بارے میں روایات مختلف ہیں، ایک روایت میں ہے کہ گائے کی زبان لگائی اور دوسری روایت میں ہے کہ دم کی جڑ لگائی، بہرحال وہ مقتول زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے قاتلوں کے نام بتائے اور ان دونوں قاتلوں کو میراث سے محروم کرنے کے علاوہ قصاصاً قتل بھی کردیا گیا۔ گائے ذبح کرانے کی مصلحت : اس موقع پر یہ سوال ذہن میں آسکتا ہیں کہ اللہ تعالیی کو تو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ براہ راست مردہ کو زندہ کرسکتا ہے، ذبح بقر کو وسیلہ اور ذریعہ بنانے میں کیا مصلحت اور حکمت ہے ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ خدا کی حکمتوں اور مصلحتوں تک پہنچا انسانی مقدرت سے باہر ہے، تاہم عقل و شعور کی جو روشنی اس نے انسان کو بخشی ہے، وہ اس طرف رہنمائی کرتی ہے کہ بنی اسرائیل کی صدہا سال تک مصریوں کی غلامی اور ان کے ساتھ بودوباش نیز مصریوں کے ساتھ اختلاط اور میل جول نے ان کے اندر بت پرستی کے جراثیم پیدا کر دئیے تھے اور گائے کی عظمت اور تقدیس کا جذبہ بہت زیادہ نمایاں کردیا تھا، پس خدا کی مصلحت نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کی اس گمراہی کو کسی ایسے عملی طریقہ سے دور کرے کہ جس کا مشاہدہ خود ان کی آنکھیں کر رہی ہوں، چناچہ عملی طور پر گائے ذبح کراکر ان کو یہ مشاہدہ کرایا گیا کہ جس گائے کی تقدیس تمہارے دلوں میں پیوست ہوگئی ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تم نے خود اس کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرکے فنا کے گھاٹ اتار دیا، وہ تمہارا بال بیکا بھی نہ کرسکی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ موت وحیات کا معاملہ صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور جس گؤسالہ کی محبت تمہارے دلوں میں رچ گئی ہے وہ تم سے بھی ادنی ایک حیوان ہے جو صرف تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ تمہارا دیوتا اور دیوی ہے۔ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ ، (الآیۃ) یعنی گزشتہ معجزات اور یہ تازہ واقعہ کہ مقتول دوبارہ زندہ ہوگیا دیکھ کر بھی تمہارے دل متاثر نہیں ہوتے کہ انابت الی اللہ کا داعیہ اور توبہ و استغفار کا جذبہ پیدا ہو بلکہ اس کے برعکس تمہارے قلوب پتھر کی طرح سخت بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے، اس لئے کہ بعض پتھر اپنی سنگینی کے باوجود ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ خوف خدا سے لرز کر گر بھی پڑتے ہیں، مگر تمہارے قلوب ان مذکورہ قسم کے پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں کہ ایسے عجیب و غریب معجزات اور حیرت زدہ واقعات دیکھ کر بھی اثر پذیر نہیں ہوتے، بلکہ اس کے برعکس تمردو سرکشی پر کمربستہ ہوجاتے ہیں یاد رکھو ! وہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

(مومنو ! ) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہوجائیں گے (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلام خدا (یعنی تورات) کو سنتے پھر اس کے بعد سمجھ لینے کے اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں ؟

اَفَقَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا، (الآیہ) مومنین کو خطاب کرکے بنی اسرائیل کی بابت کہا جا رہا ہے کہ کیا تمہیں ان کے ایمان لانے کی امید ہے ؟ حالانکہ ان کے پچھلے بزرگوں میں ایک فریق ایسا بھی تھا کہ جو کلام الہٰی (تورات) میں دیدہ دانستہ تحریف کرتا تھا، یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی قطعاً امید نہیں، فریق سے مراد وہ ستراکابر بنی اسرائیل بھی ہوسکتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر کلام الہٰی سننے کے لئے گئے تھے اور واپس آکر شہادت دیتے وقت یہ بھی اضافہ کرکے کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ جتنا ہوسکے عمل کرنا اور نہ ہوسکے تو معاف ہے۔ (فوائد عثمانی ملخصا) اور بعض مفسرین حضرات نے تحریف سے مراد یہ لیا ہے کہ توریت کی آیات میں تحریف لفظی اور معنوی کرتے تھے، مثلاً تورات میں جو آپ ﷺ کی ظاہری اور معنوی نشانیاں مذکور تھیں مثلاً یہ کہ آپ کا حلیہ مذکور تھا، اسی طرح آیت رجم کو بدل ڈالا غرضیکہ وہ کلام الہٰی میں ہر قسم کی تحریف کرتے تھے، اب آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ ایسے لوگ جو دنیوی حقیر اور قلیل مفادات کی خاطر کلام الہٰی میں تحریف کرنے سے بھی نہ چوکتے ہوں ان سے اور ان کی ذریت سے ایمان کی توقع رکھنا سادہ لوحی ہی ہوسکتی ہے، ورنہ جب پتھر دلوں سے تمہاری دعوت حق ٹکرا کر واپس آئے گی تو تم دل شکستہ ہوجاؤ گے یہ لوگ آج کے نہیں صدیوں کے بگڑے ہوئے پاپی ہیں، ان سے توقع رکھنا فضول ہے کہ حق کی آواز بلند ہوتے ہی یہ ہر طرف سے دوڑے چلے آئیں گے۔
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جس وقت آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

شان نزول : ” وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضِ قَالُوْ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَیْکُمْ “۔ یہود میں سے جو لوگ منافق تھے، وہ بطور خوش آمد اپنی کتاب تورات کی کچھ باتیں مسلمانوں سے بیان کردیتے تھے، مطلب یہ کہ وہ آپس میں کہتے تھے کہ : تورات اور دیگر آسمانی کتابوں میں جو پیش گوئیاں اس نبی سے متعلق موجود ہیں، یا جو آیات اور تعلیمات ہماری مقدس کتابوں میں ایسی ملتی ہیں جن سے ہماری موجودہ روش پر گرفت ہوسکتی ہے، انہیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو ورنہ یہ تمہارے رب کے سامنے ان کو تمہارے خلاف حجت کے طور پیش کریں گے گویا وہ اپنے دل میں یہ سمجھتے تھے کہ اگر دنیا میں وہ اپنی تحریفات اور حق پوشی کو چھپالے گئے تو آخرت میں ان پر مقدمہ نہ چل سکے گا، اس لئے بعد میں جملہ معترضہ میں ان پر تنبیہ کی گئی ہے کہ تم اللہ کو بیخبر سمجھتے ہو ؟ اَخْرَجَ ابن اسحاق وابن جریر عن ابن عباس ؓ فی قولہ (وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ آمَنُوْا قَالُوْا آمَنَّا) ای بصَاحِبکم رسول اللہ ﷺ ولکنہ الیکم خاصۃ، (وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ ) قالوا لا تحدثوا العربَ بھذا فقد کنتم تستفتحون بہ عَلَیْھم، وکان منھم لِیُحَاجّوکم بہ عِنْدَ رَبکم “۔ (فتح القدیر شوکانی) وَرویٰ ابن ابی حاتم عن عکرمۃ انّ السبب فی نزول الآیۃ : أنّ اِمراۃ من الیھود اَصَابَتِ الفاحِشۃَ فجاؤا الی النبی ﷺ یبتغونَ منہ الحکم رجائ الرخصۃ، فَدَعا رسول اللہ ﷺ عَالِمَھم وَھُوَ ابن صوریا فقال لہ : احکم، فقال فَحُبُّوْہُ ، والتحبیۃ : یحملونہ علی حمارٍ ویجعلون وَجْھَہٗ اِلی ذنب الحمار فقال رسول اللہ ﷺ : اَبِحُکم اللہ حکمت ؟ قال : لا ولکنّا نِسَاءنا کنَّ حسانا فاسْرع فِیْھِنّ رِجَالنا فغیّرنا الحکم۔ (فتح القدیر شوکانی) ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ ایک یہودن زن کی مرتکب ہوئی، تو کچھ یہودی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رخصت کی امید پر آپ ﷺ سے فیصلہ طلب کیا آپ ﷺ نے ان کے ایک عالم کو بلایا، جس کا نام ابن صوریا تھا، اور اس سے فرمایا تم فیصلہ کرو، تو اس نے فیصلہ کیا کہ اس کو گدھے پر الٹا بٹھاؤ (یعنی الٹا بٹھا کر گھماؤ) آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے یہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے تو اس نے کہا نہیں، مگر بات یہ ہے کہ ہماری عورتیں زیادہ حسین ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے مردان کی طرف سبقت کرتے ہیں اسی وجہ سے ہم نے حکم بدل دیا ہے۔
Ayahs 2:77–78

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں خدا کو سب معلوم ہے ؟

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

آیت نمبر 78 تا 82 ترجمہ : اور ان یہود میں بعض ناخواندہ بھی ہیں جو کتاب یعنی تورات کا علم نہیں رکھتے، مگر دل خوش کن باتوں کا جو انہوں نے اپنے سرداروں سے سنی ہیں، ان ہی پر اعتماد کرلیا اور وہ آپ کی نبوت سے انکار کے بارے میں جن کو وہ گھڑ لیتے ہیں، محض وہم و گمان پر قائم ہیں اور ان کے پاس (اس کی) کوئی سند نہیں، لہٰذا ان کے لئے ہلاکت، شدید عذاب ہے، (اس لئے) کہ وہ اپنی طرف سے تصنیف کرتے ہیں (یعنی) ازخود ایجاد کرلیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ (نوشتہ) اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے، تاکہ اس کے معاوضہ میں (دنیا کا) قلیل فائدہ حاصل کریں اور یہ یہود ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کی تورات میں مذکور صفات کو بدل ڈالا اور آیت رجم وغیرہ کو (بھی) اور نازل کردہ کے برعکس لکھ دیا تو ایسے لوگوں کے لئے بربادی ہے خود نوشتہ کی وجہ سے جو انہوں نے گھڑ لیا ہے اور ان کی رشوت کی یہ کمائی بھی موجب ہلاکت ہوگئی اور وہ جب ان کو نبی ﷺ جہنم کی آگ سے ڈراتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کو آگ ہرگز نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن یعنی چالیس دن جو ان کے آباء (و اجداد) کے بچھڑے کو پوجنے کی مدت ہے، پھر ختم ہوجائے گی، اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان سے پوچھو، کیا تم نے اللہ سے اس کا کوئی عہدلے لیا ہے ؟ (اَتَّخَذْتُمْ ) ہمزہ استفہام کی وجہ سے ہمزہ وصل سے مستغنی یہ ہے کہ تم اللہ پر ایسی بات کا بہتان لگاتے ہو جس کے متعلق خود تم کو علم نہیں ہے، آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی اور اس میں ہمیشہ رہو گے، جو بھی بدی شرک کمائے گا اور اس کو اس کی خطا کاری گھیرے ہو (خطیئَۃٌ) افراد اور جمع کے ساتھ ہے یعنی (بدی) اس پر غالب آگئی اور اس کو ہر جانب سے گھیر لیا بایں طور کہ وہ حالت شرک میں مرگیا، تو وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں ہمیشہ رہے گا (اولئک اور ھم اور خلدون وغیرہ میں) مَنْ کے معنی کی رعایت کی گئی ہے اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں وہی جنتی ہیں اور وہ (جنت) میں ہمیشہ رہیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : عَوَام، اُمِّیُّون، کی تفسیر عوام سے کرکے ایک سوال مقدر کے جواب کی طرف اشارہ کردیا۔ سوال : عرب میں اُمِّیُونَ بولا جاتا ہے، تو قوم عرب کی طرف ذہن سبقت کرتا ہے، نیز اُمّۃُ الُامیۃ، عرب ہی کے بارے میں بولا جاتا ہے۔ جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ یہاں اُمّیونَ سے عوام یہود مراد ہیں جو احبار یہود کے بالمقابل ہیں جن کو عوام کہا جاتا ہے نیز اس شبہ کا بھی جواب ہوگیا کہ منھم سے مراد یہود ہیں اور امیون سے معلوم ہوتا ہے کہ : عرب ہیں جب امیون کی تفسیر عوام سے کردی تو یہ تضاد بھی ختم ہوگیا۔ قولہ : اَلْاَمَانِی، اَمَانِی، اُمْنِیَّۃٌ، کی جمع ہے، بمعنی آرزو، بےاصل خیالات، یہ منیٰ یمنی، مَنیًا، بمعنی مقدر کرنا سے ماخوذ ہے۔ قولہ : بِاَ یْدِ یھم، یہ یکتبون کی تاکید ہے، اس لئے کہ کتابت ہاتھ ہی سے ہوتی ہے جیسا ” ولا طا ئرٍ یَطِیرُ بجناحیہ “ میں یطیر بجناحَیْہِ طائرٌ، کی تاکید ہے۔ قولہ : فَوَ یْلٌ لَھُمْ ۔ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : وَیْلٌ مبتدا اور لَھُمْ اس کی خبر ہے حالانکہ وَیْلٌ نکرہ اور نکرہ کا مبتدا واقع ہونا درست نہیں ہے۔ جواب : وَیْلٌ، دارصل کلمئہ بد دعا ہے، یہ اصل میں ھَلَکَتْ وَیْلاً تھا، جیسا کہسَلّمتُ سَلَا مًا فعل کو حذف کرکے نصب سے رفع کی جانب عدول کیا تاکہ دوام ثبات پر دلالت کرے۔ تفسیر وتشریح اس سے پہلی آیت میں رؤسائے یہود کی جانب سے اس بات پر ملامت کا ذکر تھا کہ وہ مسلمانوں کو وہ باتیں بتادیتے ہیں کہ جو کل بروز قیامت خدا کے روبرو خود اپنے ہی خلافت ہتھیار اور حجب کا کام دیں گی مثلاًٍٍ آپ ﷺ کی صفات اور علامات اور آپ کا حلیہ مبارک وغیرہ جو تورات وغیرہ میں مذکور تھا۔ اَوَلَایَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ ، (الآیۃ) اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بےمغزیہوداتنا بھی نہیں جانتے کہ جن باتوں کو مسلمانوں سے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، ان کی خبر وہ وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو دے سکتا ہے، مثلاً آیت رجم کو انہوں نے چھپایا مگر اللہ نے اس کو ظاہر رکے ان کو رسوا کردیا، یہ تو ان کے علمائ کا حال ہوا کہ جو عقلمندی اور کتاب دانی کے مدعی تھی، اب اگلی آیت میں جاہل اور ناخواندہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ اس بات سے قطعاً بیخبر اور غافل ہیں کہ تورات میں کیا لکھا ہے ؟ سوائے چند آرزؤں اور خوش کن باتوں کے جو انہوں نے اپنے عالموں سے سن رکھی ہیں، مثلاً جنت میں یہودیوں کے علاوہ کوئی نہیں جائے گا اور یہ کہ ہمارے آباء و اجداد ہم کو ضرور بخشوا لیں گے اور اگر بالفرض دوزخ میں جانا بھی ہوا تو وہ مدت چند (چالیس) دنوں سے زائد نہ ہوگی، ان کے یہ خیالات محض بےاصل اور بےبنیاد ہیں اس کی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان سے پہلوں کے پاس تھی۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں، ان پر افسوس ہے اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں

فَوَیْلٌ لِلَّذِیْنَ یَکْتُبَوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ، (الآیۃ) اس آیت میں یہود کے علماء اور احبار اور اکابر کا ذکر ذکر ہے یہود کے علماء اور احبار نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ کلام الہٰی کے معانی کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلا ہو، بلکہ یہ بھی کیا کہ بائبل میں اپنی تفسیروں کو اپنی قومی تاریخ کو، اپنے اوہام اور قیاسات کو اور اپنے خیالی فلسفوں کو کلام الہٰی کے ساتھ خلط ملط کردیا اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیں کہ گویا یہ سب چیزیں اللہ ہی کی طرف سے آئی ہوئی ہیں۔ توریت کی تحریف اب کوئی اختلافی یا نزاعی مسئلہ نہیں ہے دوست و دشمن سب کو ہی تسلیم ہے کہ موجود توریت کلام الہٰی نہیں دوست زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا رسیدہ انسانوں کی تصنیف ہے، کسی کٹر سے کٹر اور جامد سے جامد یہودی میں بھی اب یہ ہمت نہیں کہ توریت کو قرآن مجید کی طرح تنزیل لفظی قرار دے سکے، کاش سید احمد خاں آج زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے جس الزام کی صفائی خواہ مخواہ انہوں نے اپنے سر لے رکھی تھی اس جرم کا اقرار و اقبال اب کھلے لفظوں میں خود ہی لوگ کس کثرت سے کر رہے عرب کے امی محمد ﷺ کے لائے ہوئے کلام کا اعجاز ہے کہ اس نے چودہ صدی پہلے ہی اہل کتاب کی کتاب ( بائبل) کو تمام تر محرف اور ناقابل اعتماد ہونا قرار دیا تھا، یورپ کی تحقیق تو اب ایک صدی سے سامنے آئی ہے۔ (تفسیر ماجدی ملخصًا) ثَمَنًا قَلِیْلًا، ثمن سے مراد صرف نقد یازر قیمت ہی نہیں بلکہ جو چیز بھی کسی چیز کے معاوضہ میں حاصل ہو وہ اس کا ثمن ہے (کل ما یَحْصُلُ عوضًا بشیْئ، فَھُوْ ثمنُہٗ ) (راغب) کلام ربانی کی تصحیف و تحریف جیسے شدید و عظیم جرم سے جو بھی مادی نفع حاصل ہوگا خواہ کتنا بھی کثیر و عظیم کیوں نہ ہو حقیر اور قلیل ہی ہوگا۔ قرآن کی خریدو فروخت کا مسئلہ : بعض اہل ظاہر نے آیت کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر یہ فتویٰ دیا ہے کہ قرآن مجید کی خریدو فروخت اور اس کی کتابت و طباعت پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، لیکن مذہب صحیح کی رو سے مذکورہ چیزیں بالکل جائز اور درست ہیں، اس لئے کہ یہاں جو بیع و شرا ہوتی ہے وہ کاغذ و کتابت وغیرہ کی ہوتی ہے نہ کہ آیات اللہ کی، اگر آیت سے کوئی وعید لازم آتی ہے تو وہ جھوٹے اور غلط مسئلے بتا کر اور موضوع حدیثیں بیان کرکے دنیوی فائدہ حاصل کرنے والوں کے حق میں ہے۔ ہر تحریف و تصحیف موجب لعنت ہے : قرآنی اور اسلامی معیار صداقت و دیانت کے اعتبار سے ہر تحریف اور تصحیف موجب لعنت اور حد سے بڑھی ہوئی جسارت ہے لیکن دوسری قومیں اس معیار ہی سے نا آشنا ہیں بلکہ بعض اہل کتاب کے یہاں تو بھلائی کے لئے ہر برائی درست اور جائز ہے اور خدا کی سچائی اور خداوند کے جلال کے اظہار کے لئے ہر جھوٹ روا ہے جس طرح آج دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر پوری دنیا میں جو ٹانڈوکا ناچ ناچا جا رہا ہے، اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی، جس میں انسانی اور اخلاقی تمام قدروں کو نہ صرف یہ کہ بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے بلکہ پیروں تلے بری طرح روندا جا رہا ہے اور یہ برائیں سچائی کے نام پر ہو رہی ہیں۔ مذہب تثلیث کے بانی پولس (Paulas) اسرائیلی کا مقولہ آج تک انجیل میں لکھا ہوا ہے، اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی اس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتا ہے ؟ اور ہم کیوں نہ برائی کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو۔ (رومیون، 7: 3، ماجدی ملخصا) مِمَّا یَکْسِبُوْنَ ، مِمّا یکْسِبُوْنَ سے مراد وہ دنیاوی مالی اور جاہی منافع ہیں جو وہ اپنی غرض مندانہ تحریف اور (بقول خود) دروغ مصلحت آمیز سے حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی، ان سے پوچھو کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا ؟ (نہیں) بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

یہود کی غلط فہمی : وَقَاکُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَنَّمَّا مَّعْدُوْدَۃً ، یہ یہود کی غلط فہمی کا بیان ہے، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مبتلا تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ بھی کریں بہرحال چونکہ ہم یہود ہیں لہٰذا جہنم کی آگ ہم پر حرام ہے اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی تو بس چند روز جہنم میں بھیجے جائیں گے اور بعد ازاں سیدھے جنت میں بھیج دیئے جائیں گے، جیسا کہ پادری راڈول نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے حاشیے میں اکابر یہود کے حوالہ سے لکھا ہے، کہ جہنم میں داخلے کی مدت چالیس روز ہوگی جن میں بنی اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلا رہے تھے اور بعض دیگر مفسرین یہود نے یہ مدت گیارہ مہینے اور کسی نے سات دن بیان کی ہے، بلکہ بعض یہودی ماخذوں سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے، کہ یہودی خود کو آتش دوزخ سے بالکل آزاد سمجھتے تھے، چناچہ (جیوش انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے کہ) ۔ آتش دوزخ گنہگار ان قوم یہود کو چھوئے گی بھی نہیں اس لئے کہ وہ جہنم پر پہنچتے ہی اپنے گناہوں کا انکار کرلیں گے اور خدا کے پاس واپس آجائیں گے۔ (جلد، 5، ص : 583، ماجدی) قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللہِ عَھْدًا، (الآیۃ) یہود سے بطور حجت الزامی سوال ہو رہا ہے کہ یہ جو تم اپنی قوم کی محبوبیت اور ناز جہنم سے محفوظیت اور عدم مسؤلیت کا عقیدہ اپنے دلوں میں جمائے بیٹھے ہو، آخر اس کی تمہارے پاس کیا سند اور کیا دلیل ہے ؟ کیا تم اس کی سند اپنے مقدس نوشتوں میں دکھا سکتے ہو ؟ جب تمہارے پاس اس عقیدے کی کوئی سند اور دلیل نہیں ہے تو پھر اللہ پر بہتان اور افتراء پردازی کے سوا اور کیا ہے ؟ اَمْ تَقُوْلَوْنَ عَلَی اللہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ، قَالَ کا صلہ جب علیٰ آتا ہے، تو افتراء پردازی اور بہتان تراشی کے معنی ہوتے ہیں، قَالَ عَلَیْہِ ، اِفتریٰ عَلَیْہِ ۔ (تاج)
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جو برے کام کرے اور اسکے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

نجات اور عدم نجات کا قانون : ” بَلٰی مَنْ کَسَبَ سِیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ “ (الآیۃ) ۔ نجات یا عدم نجات کا نسل و قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا مدار ایمان اور عدم ایمان پر ہے، اَح۔ اطَتْ بِہٖ خَطِیْئَتُہٗ ، تمام اکابر اہل سنت کے نزدیک یہاں کفر ہی مراد ہے، گناہ کے احاطہ کرنے کا مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلے کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو حتی کہ دل میں ایمان و تصدیق بھی باقی نہ رہے، اس لئے کہ اگر دل میں ایمان و تصدیق باقی ہوگی تو بھی احاطہ مذکورہ محقق نہ ہوگا لہٰذا کافر پر ہی یہ صورت صادق آتی ہے، مومن کتنا ہی بدعمل ہو بہر حال اس آیت کا مصداق نہ ہوگا۔ بعض اہل باطل نے اس آیت میں جو مومن عاصی کی عدم مغفرت پر استدلال کرنا چاہا ہے وہ صریحاً باطل ہے اول تو خود سَیَئۃ، کا معنی ہی شرک کے ہیں، اَلسَّیئۃ الشرک، (قرطبی) مومن اس آیت کا مصداق اس لئے نہیں ہوسکتا کہ کم از کم زبان سے اقرار اور تصدیق قلبی کا درجہ اسے بہر حال حاصل ہوتا ہے۔ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ، خلود اگرچہ مدت طویل کے معنی میں بھی مستعمل ہے، لیکن اہل دوزخ اور اہل جنت کے سلسلہ میں جہاں جہاں بھی اس لفظ کا استعمال قرآن میں ہوا ہے، اہل سنت کا اجماع ہے کہ اس سے مراددوام ہی ہے اور اس کی تائید و تاکید کے لئے قرآن مجید میں خالدین کے ساتھ جابجا اَبَدًا بھی آیا ہے، وَالمراد بالخلود اَلدَّوامُ (روح) وَمنَ الناس مَن حَمَلَ الخلود علیٰ اصل الوضع وھو البث الطویلُ لَیْسَ بشئِ لَاِنّ فیہ تَھوِیْنَ الخَطْب فی مقام التھویل مع عدم ملائمتہٖ حمل الخلود فی الجنۃ علی الدوام۔ (روح) ۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

آیت نمبر 83 تا 84 ترجمہ : اور یاد کرو (اس وقت کو) جب ہم نے تورات میں بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا، اور کہا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرنا (تعبدون) میں یاء اور تاء دونوں ہیں اور (لا تَعْبُدوْنَ ) خبر بمعنی نہی ہے، اور لَاتَعْبُدُوا، بھی پڑھا گیا ہے اور والدین کے ساتھ اور رشتہ داروں کے ساتھ القربیٰ بمعنی قرابت ہے اور ذی القربیٰ کا عطف وَالدَیْن، پر ہے اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور لوگوں سے بھلی بات کہنا، یعنی امر بالمعروف اور نہی عند المنکر (کرنا) اور محمد ﷺ کی شان میں (بیان صفات کے بارے میں) سچ بولنا اور لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا اور ایک قراءت میں (حُسْنًا) حاء کے ضمہ اور سین کے سکون کے ساتھ ہے جو کہ مصدر مبالغہ و صفت لایا گیا ہے، اور نماز کی پابندی رکھنا اور زکوٰۃ ادا کرنا تم نے یہ بات قبول کرلی تھی، مگر پھر بھی تم وفاعہد سے پھرگئے، اس میں غیبت سے (خطاب) کی طرف التفات ہے اور مرادان کے آباء (و اجداد) ہیں، مگر تم میں سے بہت تھوڑے (عہد پر قائم رہے) اور تم اس عہد سے اپنے آباء کے مانند پھرے ہوئے ہو اور (پھر ذرا یاد کرو) کہ جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا اور ہم نے کہا تھا کہ آپس میں قتل کرکے خون خرابہ نہ کرنا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بےگھر کرنا یعنی کوئی کسی کو اسکے گھر سے نہ نکالے اور تم نے اس عہد کا اقرار کیا تھا اور تم خود اپنے اوپر گواہ ہو تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : میثاق، عہد و پیمان، (جمع) مَوَاثِقْ وَمَواثیق، وَمیَاثِق، بعض مفسرین نے اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ ، کے معنی اَمَرْنَا لذلکَ ، (یعنی حکم دینے کے) لئے ہیں، (ابن قتیبہ) یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا، مِیْثَاق، اَخَذْنا، کا مفعول بہ ہے۔ قولہ : بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ ، بَنِیْ دراصل بَنِیْنَ ، تھا، یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے، مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جری میں یاء نون کے ساتھ ہے نون اضافت کی وجہ سے ساقط ہوگیا اسرائیل عجمہ اور علم ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے اس کا فتحہ نیابۃً عن الکسرہ ہے۔ سوال : مفسر علام کا لفظ ” قَلْنَا “ اضافہ کرنے سے کیا مقصد ہے ؟ جواب : کلام، کو ماقبل یعنی، واِذَا اَخَذْنا، سے مربوط کرنا ہے بایں طور کہ دونوں جگہ جمع متکلم کے صیغہ ہوجائیں ورنہ تو کلام واحد میں مخاطب واحد کے لئے غائب اور حاضر کے صیغہ کا استعمال لازم آئے گا، اس لئے کہ بنی اسرائیل ہیں اور یہ حاضر کا صیغہ ہے، اس طرح کلام واحد میں شئی واحد کے لئے خطاب بالغائب اور خطاب بالحاضر لازم آتا ہے، اس سے بچنے کے لئے مفسر علام نے ” قُلْنَا “ کا اضافہ کیا تاکہ اَخَذْنَا، اور قلنا، میں مطابقت ہوجائے۔ فائدہ : یہ التفات من الغیبۃ الی الخطاب، قلنا محذوف نہ ماننے کی صورت میں لازم آئے گا اور اگر قلنا محذوف مان لیا جائے، جیسا کہ مفسر علام نے مانا ہے، تو اس صورت میں التفات من الغیبۃ الی الخطاب نہ ہوگا، اس لئے کہ قلنا سے جملہ مستانفہ ہوجائے گا۔ قولہ : خبرٌ بمعنی النھی، یعنی، لاتَعْبُدُونَ ، مضارع منفی جمع مذکر حاضر ہونے کی وجہ سے جملہ خبر یہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا نون اعرابی ساقط نہیں ہوا، مگر معنی کے اعتبار سے جملہ انشائیہ ہے اور معنی میں لا تَعبُدوْا کے ہے۔ سوال : نہی کو مضارع منفی کی صورت میں ذکر کرنے سے کیا فائدہ ہے ؟ جواب : صراحۃً نہی سے کنایۃً نہی اولیٰ ہے، اس لئے کہ نہی بصورت مضارع منفی سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ گویا حکم کی تعمیل ہوچکی ہے اس کی خبر دی جا رہی ہے۔ وھو ابلغ من صریح الامر والنھی کانَّہٗ سورع الی الْامتچال، (کشاف) حضرت ابی اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قراءت، لا تعبُدُوا، بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ : مضارع منفی بمعنی نہی ہے، نیز وَقَوْلُوا، واقیموا، وآتوا، کا، لَاتَعْبُدُوْنَ ، پر عطف بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ : لَاتَعْبُدُونَ ، لَاتَعْبُدُوْا، کے معنی میں ہے۔ قولہ : وَاَحْسِنُوْا۔ سوال : احسنوا مقدر ماننے سے کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اس تقدیر کا مقصد اس اعتراض کا جواب دینا ہے کہ بالوالدین جو کہ جار مجرور ہے، کا عطف، لَاتَعْبُدُوْنَ ، پر ہے جو کہ جار مجرور کا غیر جار مجرور پر عطف ہے، جو درست نہیں ہے، جب اَحْسِنُوْا، محذوف مان لیا تو یہ اعتراض ختم ہوگیا، مفسر علام نے اَحْسِنُوْا، امر کا صیغہ مقدر مان کر اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ عطف، لَاتَعْبُدُوْنَ ، کے معنی پر ہے، نہ کہ لفظ پر۔ قولہ : فَقَبِلْتُمْ ، قَبِلْتُمْ ، کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ، تَوَلَّیْتُمْ ، کا عطف، مقدر پر ہے نہ کہ اقیموا پر جیسا کہ متبادر ہے، لہٰذا عطف الخبر علی الانشائ کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : بِرًّا، اِحْسَانًا، کی تفسیر بِرًّا سے کرکے اشارہ کردیا کہ احسان سے مطلق حسن سلوک مراد ہے خواہ قولاً ہو یا فعلاً یا عملاً نہ کہ صرف مالی جیسا کہ احساناً سے معلوم ہوتا ہے۔ قولہ : ذی القربیٰ ، قربٰی، کی تفسیر القرابۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ قربی رُجْعٰی، کے مانند مصدر ہے نہ کہ جمع۔ قولہ : الیَتَامٰی، یہ الیتیمہ، کی جمع معرف باللام ہے انسان میں باپ کے مرنے سے اور حیوانوں میں ماں کے مرنے سے بچہ یتیم کہلاتا ہے۔ (صاوی) اللغۃ والبلاغۃ (1) لاتَعْبُدُوْنَ ، جملۃ خبریۃ معناہ النھی، وھو ابلغ مِنَ التصرِیح۔ (2) فی قولہ تعالیٰ ” لا تعبدون “ التفات من الغیبۃ الی الخطاب۔ تفسیر و تشریح وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ ، یہ آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود یہودیوں کے اسلاف کی بد عنوانیوں کا سلسلہ وار ذکر ہے یہود کے اسلاف کی بدعنوانیوں کو بیان کرنے اور شمار کرنے کا منشایہ ہے کہ موجودہ یہود کج فطرت اس لئے ہیں کہ یہ تخم بد کے شجر خبیث کے برگ وبار ہیں ان سے خیر کی توقع رکھنا شیطان سے خیر کی توقع رکھنا ہے اس لئے کہ سانپ سے سانپ ہی پیدا ہوتا ہے، لاتَلِدُ اِلاّ الحیۃَ ، آپ ان کے اسلاف کے کرتوتوں کو ذرا یاد کریں کہ جب ہم نے ان سے پختہ عہد لیا تھا یعنی ان کو احکام شرع پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا، مگر انہوں نے تمام احکام کو پس پشت ڈال دیا، جس کے نتیجے میں ہم نے ان کے اوپر طور کو معلق کردیا جب پہاڑ کو نیچے آتا دیکھتے تو احکام کو قبول کرلیتے اور جب واپس جاتا دیکھتے تو پھر منکر ہوجاتے، چند لوگ مثلاً عہد اللہ بن سلام اور ان کے اصحاب توریت کے پابند رہے اور توریت کے منسوخ ہونے کے بعد شریعت محمدیہ کے متبع رہے۔ توحید کا اقرار، والدین اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کی خدمت اور تمام انسانوں کے ساتھ نرم خوئی اور خوش خلقی سے پیش آنا اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنا سابقہ امتوں میں بھی لازمی اور ضروری تھی۔ توریت اثبات توحید اور ممانعت شرک سے بھری پڑی ہے نمونہ کے طور پر چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ (1) میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہوئے، تو اپنے لئے تراشی ہوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی پر زمین کے نیچے ہے، مت بنا تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر۔ (خروج، 5، 2: 20) (ماجدی) (2) سن لے اے اسرائیل خداوند ہمارا خدا اکیلا خداوند ہے۔ (استثناء، 4: 6) توریت اور والدین کا احترام : تو اپنے ماں باپ کو عزت دے (خروج، 12: 20) اپنے باپ اور اپنی ماں کو عزت دے جیسا خداوند تیرے خدا نے فرمایا۔ (استثناء 16: 5) توریت میں ضرورت مند کا ذکر : اور اپنے مفلس بھائی کی طرف سے اپنے ہاتھ مت بند کرو، بلکہ تو اس پر اپنا ہاتھ کشادہ رکھیو، اور کسی کام میں جو وہ چاہے، بقدر اس کی احتیاج کے ضرور اس کو قرض دیجیو۔ (استثناء 29: 14) مسکین زمین پر سے کبھی ختم نہ ہوں گے اس لئے یہ کہہ کے میں تجھے حکم کرتا ہوں کہ تو اپنے بھائی کے واسطے اور اپنے مسکین کے لئے اور اپنے محتاج کے واسطے جو تیری زمین پر ہے اپنا ہاتھ کشادہ رکھیو۔ (استثناء 11: 15) وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا، مالی تعاون چونکہ تمام انسانوں کے ساتھ ممکن نہیں ہے، اس لئے عوام الناس کے ساتھ خوش گفتاری، نرم خوئی، خندہ پیشانی اور شیریں کلامی کا حکم دیا جا رہا ہے اور یہ کام نہایت آسان اور سہل ترین ہے، اس میں نہ کچھ خرچ ہوتا ہے اور نہ کوئی زحمت ہوتی ہے یہ ادنی ترین فریضہ انسانیت ہے اس لئے یہ حکم عام ہے، عزیز و اقارب یا کسی مخصوص طبقہ کے ساتھ خاص نہیں ہے خوش خلقی سے سب کے ساتھ پیش آتے رہنا خواہ وہ نیک ہو یا بد، فاسق ہو یا صالح، ہاں البتہ احتیاط اتنی ضرور رہے کہ اس خوش خلقی و خندہ روئی سے کہیں مخاطب کی بدعت یا بےدینی کی تائید نہ پیدا ہوجائے۔ حق تعالیٰ شانہٗ نے جب موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو یہ ہدایت دی تھی، ” فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا “ ظاہر ہے کہ آج کلام کرنے والا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل نہیں اور مخاطب خواہ کتنا ہی برابر مگر فرعون سے زیادہ برا نہیں۔ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ ، (الآیۃ) یہ قرآن کے معاصرین یہود کو خطاب ہے کہ تم تمام قول وقرار سے پھرگئے اور تم میں سے صرف چند (عبد اللہ بن سلام وغیرہ) دین حق پر قائم رہے۔ (قرطبی) وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ ، یہ بھی قرآن کے معاصرین یہود کو خطاب ہے اور مراد تمام موجودہ اور گزشتہ بنی اسرائیل ہیں خود اس مضمون کی شہادتیں مروجہ تورات میں موجود ہیں، ملاحظہ ہوں۔ اور وہ اس راہ سے جو میں نے انہیں فرمائی جلد پھرگئے۔ (خروج 8: 32) میں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ ایک گردن کش قوم ہے۔ (خروج 9: 22) بنی اسرائیل کو کہہ دو کہ تم گردن کش لوگ ہو۔ (خروج 5: 33)
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کرلیا اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

وَاِذْاَخَذْنا مِیْثَاقَکُمْ ، (الآیۃ) یعنی کنایۃً نہیں بلکہ صراحۃً تم سے یہ عہد لیا گیا کہ یہ اپنی قوم کو قتل کرو گے اور نہ اس کو جلاوطن کروگے۔ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ ، یعنی ان احکام کی اطاعت کا اقرار تم نے صاف صاف کیا جو آج تک تمہارے نوشتوں میں لکھا ہوا ہے اور تمہیں اس سے مجال انکار نہیں، توریت میں ہے ” وہ بولے کہ سب کچھ جو خدا وند نے فرمایا ہے ہم کریں گے “۔ (خروج، 7: 24)
Ayahs 2:85–86

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کر کے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلا دے کر انکو چھڑا بھی لیتے ہو حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتاب (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں ان کو سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دئیے جائیں ؟ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے غافل نہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی

آیت نمبر 85 تا 86 ترجمہ : پھر جیسے تم ہو، سامنے ہو، کہ اپنے ہی بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو یعنی آپس ہی میں خون خرابہ کرتے ہو اور اپنے ہی میں سے ایک فریق کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور ان کے خلاف (غیروں) کی ظلم و زیادتی کے ساتھ مدد کرتے ہو (تَظَاھَرُوْنَ ) میں تاء کا ظَاء میں اصل میں ادغام ہے اور ایک قراءت میں تخفیف کے ساتھ ہے تاء کو حذف کرکے (تَظَاھَرُوْن) معنی میں تَتَعَاونونَ کے ہے اور اگر وہ گرفتار ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں اور ایک قراءت میں اسریٰ ہے تو تم ان کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو اور ایک قراءت میں، تُفْدُوْھُمْ ، ہے یعنی تم ان کو قید سے مال وغیرہ دے کر رہائی دلاتے ہو، (یعنی قیدی کا قیدی سے تبادلہ کرکے) یہ بھی ان احکام میں سے ہے، جن کا ان سے عہد لیا گیا، حالانکہ بات یہ ہے کہ ان کا اخراج ہی سرے سے تمہارے اوپر حرام ہے (ھُوْ مُحَرَّمٌ) کا تعلق تخرجون سے ہے اور (وَاِنْ یتوکم الخ) متعلق اور متعلق کے درمیان جملہ معترضہ ہے، یعنی جس طرح ترک فدیہ حرام ہے، (اسی طرح قتل و اخراج بھی حرام ہے) اور (بنو) قریظہ اوس کے حلیف تھے، اور (بنو) نضیر خزوج کے اور ہر فریق اپنے حلیف کے ساتھ مل کر قتال کرتا تھا اور (فریق مخالف کے) گھروں کو ویران کرتا تھا، اور ان کو ان کے گھروں سے نکالتا تھا اور جب وہ قیدی ہوجاتے تھے، تو فدیہ دے کر ان کو چھڑا لیتے تھے، اور جب ان سے سوال کیا جاتا تھا، کہ تم ان سے قتال کیوں کرتے ہو، اور پھر ان کو فدیہ دے کر رہائی دلاتے ہو، تو وہ جواب دیتے تھے، کہ اس بات سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے حلیف ذلیل سمجھے جائیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور وہ فدیہ کا حکم ہے اور دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو اور وہ قتل و اخراج اور (غیروں کے) تعاون کو ترک کرنا ہے، تو تم میں سے جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ وہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں ؟ چناچہ (بنو) قریظہ قتل سے اور (بنو) نضیر جلاوطنی سے اور جزیہ عائد کرنے سے ذلیل ہوئے اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے، اللہ ان کی حرکتوں سے بیخبر نہیں ہے، (تعملون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خریدلی بایں طور کر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لہٰذا ان کی سزا میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی یعنی وہ عذاب سے نہ بچائے جائیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ثُمَّ اَنْتُمْ ، یا ھٰؤلَاءِ ، حرف عطف تراخی کے لئے ہے، اَنْتُمْ ، مبتداء تَقْتُلُوْنَ الخ جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہے۔ ھٰؤُلَآءِ ، اسم اشارہ منادیٰ محلاً منصوب، یا، حرف ندا محذوف کما ذھب الیہ المفسر، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : ھٰؤُلَآءِ ، محلاً منصوب علی الذم یعنی فعل محذوف ام کی وجہ سے۔ قولہ : تَظٰھَرُوْنَ ، فعل مضارع جمع مذکر حاضر، جملہ ہو کر محلاً حال ہونے کی وجہ سے منصوب بمعنی متعاونین عَلَیْھِمْ ۔ قولہ : فی الاصل، ای بعد قَلْبِھَا، ظَاءً ، تاء ثانیہ کو حذف کرکے۔ قولہ : مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اِخْرَاجُھُمْ ، محرّمٌ، اپنے متعلق علیکم سے مل کر خبر مقدم، اِخْزَاجُھُمْ ، بترکیب اضافی مبتداء مؤخر، مبتداء باخبر جملہ ہو کر خبر ہوئی ھُوَ مبتداء کی ھُوَ کا ماقبل میں چونکہ مرجع مذکور نہیں ہے، اس لئے اس کو ضمیر شان قرار دیا ہے۔ قولہ : متصل بقولہ : وَتُخرِجُوْنَ ، اس اتصال سے مراد تعلق الحال مع ذوالحال ہے، اور حال و ذوالحال کے درمیان وَاِنْ یاتوکم اُسٰریٰ تفادوھم، جملہ معترضہ ہے اور ایک قراءت میں اَسْریٰ ہے جو کہ اَسِیْرٌ کی جمع ہے جیسا کہ : جَرْحٰی، جَرِیْح کی جمع ہے اور اُسَاریٰ ، اَسْریٰ کی جمع ہے جیسا کہ سکاری جمع سکریٰ ، اس اعتبار سے اساریٰ جمع الجمع ہے، نہ کہ اسیر مفرد کی جمع، لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ فعِیْلٌ کی جمع فُعَالیٰ کے وزن پر نہیں آتی۔ اللغۃ والبلاغۃ الِاستعارۃ المکنیۃ : فی قولہ تعالیٰ : اولئِکَ الذِّین اشتروا الحیوٰۃ والدنیا بالْاٰخرِۃِ استعارۃ مکنیۃ تبعِیّۃ فی شراء الحیوۃ الدنیا۔ تفسیر و تشریح ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰؤُلآء تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ ، نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں مشرکین کے دو مشہور قبیلے مدینہ میں آباد تھے، اوس اور خزرج یہی بعد میں انصار کہلائے ان کی آئے دن آپس میں لڑائی رہتی تھی، اسی طرح یہود کے تین قبیلے اطراف مدینہ میں آباد تھے، قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ، یہ بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے، بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے، اور بنو فینقاع اور بنو نضیر خزرج کے حلیف تھے، جنگ میں یہ قبیلے اپنے اپنے حلیفوں کی مدد کرتے اور اپنے ہی ہم مذہب یہودیوں کو قتل کرتے اور ان کے گھروں کو لوٹتے اور انہیں جلاوطن کردیتے، حالانکہ تورات میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن پھر ان یہودیوں کو جب وہ مغلوب ہونے کی وجہ سے قیدی ہوجاتے تو فدیہ دے کر چھڑاتے اور کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے ان آیات میں یہودیوں کے اسی کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے شریعت کو موم کی ناک سمجھ رکھا ہے کہ جدھر چاہا موڑ دیا چناچہ یہ یہود بعض چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کو ترک کردیتے ہیں قتل، اخراج اور ایک دوسرے کے خلاف مدد کرنا ان کی شریعت میں بھی حرام ہے، مگر ان باتوں کا تو انہوں نے ذرہ برابر لحاظ نہ کیا، اور فدیہ دے کر چھڑا لینے کا جو حکم تھا اس پر عمل کرلیا اس طرز عمل سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بعض احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پر ایمان لانا تو درکنار، تم تو تورات کے بھی تمام احکام کے پابند نہیں ہو تمہارے اسلاف کے طرز عمل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگ تورات کو بھی واجب العمل نہیں سمجھتے اس کے بعض احکام پر عمل کرتے ہو اور بعض کو پس پشت ڈال دیتے ہو۔ ” فَمَا جَزَاءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا “ ذلت و رسوائی کی پیش گوئی چند ہی روز بعد حرف بحرف پوری ہوئی حجاز میں یہودیوں کے تین قبیلے رہتے تھے، بنی نضیر، بنی قریظہ، بنی قینقاع جو ہنر و دولت مندی میں معروف و مشہور تھے، تینوں قبیلے چند سال کی مدت میں رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارک ہی میں ذلت و رسوائی کے ساتھ یا تو قتل کر دئیے گئے یا پھر ارض حجاز سے جلاوطن کر دئیے گئے۔ اسرائیلیوں کے لئے جہنم کی وصیت ایک اسرائیلی بنی کی زبانی : اسرائیلی سلسلے کے ایک آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اسرائیلیوں کے لئے جہنم کی وعید منقول ہے ” تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ ہم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہیں غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو اے سانپو، اے افعیٰ کے بچو ! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے “ (متیٰ 24: 23) اس آیت میں یہودیوں کے خفیہ طریقہ کار اور سازش اور کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی طرف اشارہ موجود ہے۔ جنگ بعاث : جنگ بعاث دراصل اوس اور خزرج کی جنگ تھی، یہود اس میں فریقین کی جانب سے شریک ہوگئے اور نمایاں حصہ لیا بنو نضیر اور بنو قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا اور بنو قینقاع خزرج کی حمایت میں نکل پڑے جنگ نے طول کھینچا گھمسان کا رن پڑا بالآخر شکست خزرج کے فریق کو ہوئی۔ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ، یہ شریعت کے بعض احکام کو ماننے اور بعض کو نہ ماننے کی سزا کا بیان ہے کہ اس کی سزا دنیا میں عزت و سرفرازی کی جگہ ذلت و رسوائی اور آخرت میں ابدی نعمتوں کے بجائے، سخت عذاب ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے یہاں وہ اطاعت مقبول ہے جو مکمل ہو، بعض باتوں کو ماننا اور بعض کو نظر انداز کرنا اللہ کے یہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں، یہ آیت مسلمانوں کو بھی دعوت غور و فکر دے رہی ہے کہ کہیں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی وجہ بھی مسلمانوں کے وہی کردار تو نہیں جو مذکورہ آیات میں یہود کے بیان کیے گئے ہیں۔