Ayah 2:267آیت نمبر 267 تا 273
ترجمہ : اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمایا ہے اس میں سے عمدہ چیزیں خرچ کرو زکوٰۃ دو اور اس سے بھی عمدہ چیزیں جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہیں۔ (مثلاً ) غلہ اور پھل اور مذکورہ چیزوں میں سے خراب چیز کا قصد بھی نہ کرو کہ اس میں سے زکوٰۃ میں خرچ کرو گے تنفقون، تیمموا کی ضمیر سے حال ہے، حالانکہ تم خود بھی اس خراب چیز کو لینے والے نہیں ہو اگر وہ چیز تمہارے حقوق میں دی جائے مگر نرمی اور چشم پوشی کرتے ہوئے، تم نظر انداز کر جاؤ تو پھر تم خراب چیز سے اللہ کا حق کس طرح ادا کرتے ہو اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خرچے سے بےنیاز اور ہرحال میں ستودہ صفات ہے، شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے (یعنی) اگر تم صدقہ کرو گے تو محتاج ہوجاؤ گے سو تم خرچ نہ کرو، اور تم کو بخل اور زکوٰۃ نہ دینے کا حکم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خرچ کرنے پر اپنی طرف سے تمہارے گناہوں کو معاف کرنے کا اور اس (خرچ کردہ) کے عوض رزق کا وعدہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے معاملہ میں بڑا کشادہ دست اور خرچ کرنے والے سے باخبر ہے، وہ جس کو چاہتا ہے حکمت یعنی ایسا علم نافع جو عمل تک پہنچانے والا ہو عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت مل گئی اس کو بڑی خیر کی چیز مل گئی، اس کے سعادت ابدی تک پہنچنے کی وجہ سے۔ اور نصیحت تو بس دانشمند ہی قبول کرتے ہیں اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو (یعنی) صدقہ و زکوٰۃ ادا کرتے ہو یا جو بھی نذر مانتے ہو پھر تم اس کو پوری کرتے ہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے، تو وہ تم کو اس کا صلہ دے گا، اور زکوٰۃ کو روک کر اور نذر کو پورا کرکے یا اللہ کی معصیت میں بےمحل خرچ کرکے ظلم کرنے والوں کا کوئی بھی حامی نہیں ہوگا۔ (یعنی) اس کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اگر تم نفلی صدقات کو ظاہر کرو تب بھی اچھی بات ہے یعنی اس کا ظاہر کرنا اچھی بات ہے، اور اگر تم اسے پوشیدہ رکھو اور فقراء کو دو تو اس کے ظاہر کرنے اور مالداروں کو دینے سے تمہارے حق میں بہتر ہے، لیکن فرض صدقہ کہ اس کا اظہار افضل ہے تاکہ لوگ اس کی اقتداء کریں اور تاکہ یہ شخص محل تہمت میں نہ رہے اور اس کا فقراء کو دینا متعین ہے، اور اللہ تمہارے کچھ گناہ بھی دور کر دے گا، یُکَفِّرُ ، یاء اور نون کے ساتھ مجزوم پڑھا جائے تو فَھُو، کے محل پر عطف ہوگا اور مرفوع پڑھا جائے تو مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے، یعنی اس کے باطن سے اسی طرح واقف ہے جس طرح اس کے ظاہر سے، اس سے اس کی کوئی شئ مخفی نہیں ہے، اور جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین پر صدقہ کرتے ہوئے منع فرما دیا تاکہ وہ اسلام قبول کرلیں تب یہ آیت نازل ہوئی، (لِیْسِ عَلَیکَ ھُدٰھُمْ ) ان کی ہدایت یعنی اسلام میں داخل کرنا آپ کے ذمہ نہیں، آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے، بلکہ اللہ اسلام میں دخول کی جس کی ہدایت چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تم جو کچھ بھی مال میں سے خرچ کرتے ہو سو اپنے لیے کرتے ہو، اس لیے کہ اس کا اجر تمہارے ہی لیے ہے، اور تم اللہ ہی کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہو یعنی اس کے ثواب کے لیے نہ کہ دنیا کی کسی اور غرض کے لیے، خبر بمعنی نہی ہے، اور مال میں سے تم جو کچھ خرچ کرتے ہو تم کو اس کی پوری پوری جزاء دی جائے گی، تم پر ذرا بھی زیادتی نہ کی جائے گی کہ اس کے اجر میں کچھ کمی کردی جائے، یہ دونوں جملے پہلے جملے کی تاکید ہیں۔ صدقات کے (اصل) مستحق وہ فقراء ہیں (لِلْفُقْرَاء) مبتداء محذوف کی خبر ہے جو اللہ کی راہ میں گھر گئے ہیں، یعنی جنہوں نے خود کو جہاد میں محبوس کرلیا ہے (اور آئندہ آیت) اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی اور وہ مہاجرین میں سے چار سو تھے، جو قرآن کی تعلیم اور سراپا کے ساتھ نکلنے کے لیے مستعد رہتے تھے، وہ جہاد میں مشغول رہنے کی وجہ سے (طلب) معاش اور تجارت کے لیے سفر نہیں کرسکتے تھے، ان کے حال سے ناواقف انہیں غنی سمجھتا تھا سوال سے ان کے احتیاط کرنے اور ترک سوال کرنے کی وجہ سے اے مخاطب تو ان کی تواضع اور مشقت کے اثر کی علامت سے پہچان لے گا، وہ لوگوں سے لپٹ کر کسی چیز کا سوال نہیں کرتے، یعنی وہ بالکل سوال نہیں کرتے، لہٰذا چمٹ کر سوال بھی ان کی طرف سے نہیں ہوتا اور الحاف کے معنی اصرار کے ہیں، اور تم مال میں سے جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے سو وہ تم کو اس کی جزاء دے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : الجیاد، طیبٰت کی تفسیر الجیاد سے کرکے اشارہ کردیا کہ طیبٰت کے معنی حلال کے نہیں ہیں جو کہ اکثر استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہاں عمدہ کے معنی ہیں جو ردّی کے مقابلہ میں مستعمل ہے۔
قولہ : تغمضوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر آنکھیں بند کرنا، یہاں مجازی معنی، درگذر کرنا، چشم پوشی کرنا مراد ہیں۔
قولہ : البخل، فحشآء کی تفسیر بخل سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں فحشاء کے مشہور معنی جو کہ زنا کے ہیں مراد نہیں ہیں۔
قولہ : مجزومًا بالعطف علیٰ محلِّ فَھُوَ و مرفوعاً علی الاستیناف۔ اس عبارت کا مقصد یُکَفِرُ کے اعراب کو بتانا ہے، اس کو مجزوم پڑھا جائے تو مجزوم فَھُوَ کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے ہوگا اس لیے کہ فَھُوَ ، جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، اور اگر مرفوع پڑھا جائے تو مرفوع جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے ہوگا شرط سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
قولہ : ای الناس اس میں اشارہ ہے کہ ھُدٰھم کی ضمیر الناس کی طرف راجع ہے اگرچہ وہ ماقبل میں صراحۃً مذکور نہیں ہے مگر مضمون کلام سے مفہوم ہے فقراء کی طرف راجع نہیں جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس صورت میں معنیٰ درست نہیں رہتے۔
قولہ : الی الدخول فی السلام، اس اضافہ سے ایک سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔
سوال : آپ ﷺ سے ہدایت کی نفی کا کیا مقصد ہے جب کہ آپ ﷺ کی بعثت ہدایت ہی کے لئے ہے۔
جواب : نفی ہدایت سے مراد ایصال الی المطلوب کی نفی ہے نہ کہ ارادءۃ الطریق کی۔
قولہ : خبر بمعنی النھی یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْہِ اللہِ میں خبر دی گئی ہے کہ تم رضاء الہیٰ ہی کے لیے خرچ کرتے ہو حالانکہ بہت سے لوگ ریاء و نمود کے لیے بھی خرچ کرتے ہیں۔ اس میں کذب باری لازم آتا ہے۔
جواب : یہ ہے کہ خبر بمعنی نہی ہے، کہ تم غیر رضاء کے لیے خرچ مت کرو۔
قولہ : لتعففھم اس میں اشارہ ہے کہ مِن التعفف، میں مِنْ تعلیلیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ۔ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا، وہ اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے، اس میں فن بیان کی ایک صنعت ہے جس کو ” نفی الشیء بایْجابہ “ کہتے ہیں، اس میں بظاہر ایک شئ کی نفی اور دوسری شئ کا اثبات ہوتا ہے، مگر حقیقت میں دونوں کی نفی مقصود ہوتی ہے، مذکورہ آیت میں بظاہر الحاف (اصرار) کی نفی ہے، نفس سوال کی نفی نہیں ہے، مگر مقصود کلام ” مطلقاً “ کی نفی ہے یعنی بظاہر قید کی نفی ہے مگر باطن میں قید اور مقید دونوں کی نفی ہے۔
تفسیر و تشریح
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ (الآیۃ) صدقہ کی قبولیت کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ مَنْ و اَذَیٰ اور ریا کاری سے خالی ہو جیسا کہ گزشتہ آیات میں بیان کیا گیا ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حلال اور پاکیزہ اور عمدہ چیز ہو۔
شان نزول : بعض انصار مدینہ جو کھجوروں کے باغات کے مالک تھے وہ بعض اوقات نکمی اور ردی کھجوروں کا خوشہ مسجد میں لاکر لٹکا دیا کرتے تھے اور اصحاب صفہ کا چونکہ کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا جب ان کو بھوک لگتی تو ان خوشوں میں سے جھاڑ کو کھجوریں کھالیا کرتے تھے اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر بحوالہ ترمذی)
طیبٰت، کا ترجمہ بعض حضرات نے جن میں مفسر علام بھی شامل ہیں، عمدہ چیز کیا ہے اور قرینہ ممّا اَخرَجْنا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ کو قرار دیا ہے اس لیے کہ زمین سے پیدا ہونے والی شئ حلال تو ہوتی ہے البتہ جودت اور ردأت میں کافی مختلف ہوتی ہے اس لیے طیبٰت، کا ترجمہ عمدہ شئ سے کیا ہے شان نزول کے واقعہ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے، اور بعض حضرات نے حلال شئ سے کیا ہے اس لئے کہ مکمل اور پوری طرح عمدہ شئ وہی ہوتی ہے جو حلال بھی ہو۔ اگر دونوں ہی معنیٰ مراد لئے جائیں تو کوئی تضاد نہیں ہے، البتہ جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے۔
عشری اراضی کے احکام : مِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ، لفظ اخرجنا سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عشری زمین سے عشر واجب ہے، اس آیت کے عموم سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے استدلال کیا ہے کہ عشری زمین کی ہر قیل و کثیر پیداوار میں عشر واجب ہے، عشر اور خراج دونوں اسلامی حکومت کی جانب سے زمین پر عائد کردہ ٹیکس ہیں، ان میں فرق یہ ہے کہ عشر فقط ٹیکس نہیں بلکہ اس میں عبادت مالی کی حیثیت بھی ہے جیسا کہ زکوٰۃ میں ہے، اس لئے اس کو زکوۃ الارض بھی کہا جاتا ہے اور خراج خالص ٹیکس ہے جس میں عبادت کا کوئی پہلو نہیں ہے، مسلمان چونکہ عبادت کا اہل ہے لہٰذا عشری زمین سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے اسے عشر کہتے ہیں اور غیر مسلم سے جو اراضی کا ٹیکس لیا جاتا ہے اس کو خراج کہتے ہیں، عشری اور خراجی زمین کا فرق اور عشر و خراج کے تفصیلی مسائل کتب فقہ سے معلوم کیے جاسکتے ہیں، یہاں اس کا موقع نہیں۔
Ayah 2:268اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمْ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآءِ ، بھلے اور نیک کام میں اگر مال خرچ کرنا ہو تو شیطان ڈراتا ہے کہ مفلس اور قلاش ہوجاؤ گے اور تمہارا فلاں کام رک جائے گا البتہ اگر برے کام میں خرچ کرنا ہو تو بڑی سے بڑی رقم خرچ کرواڈالتا ہے چناچہ دیکھا گیا ہے کہ مسجد و مدرسہ یا کسی اور کارخیر کے لئے کوئی تعاون کے لیے پہنچ جائے تو صاحب خیر ایک معمولی رقم کے لیے بار بار حساب کی جانچ پڑتال کرتا ہے، اور چندہ والے کو بسا اوقات کئی کئی بار بلاتا ہے لیکن اگر سینما، ٹیلی وژن، شراب، بدکاری، اور مقدمہ بازی میں خرچ کرنا ہو تو یہی شخص بڑی سے بڑی رقم بےتحاشا خرچ کر ڈالتا ہے۔
Ayahs 2:269–270” حکمت “ کے معنی اور تفسیر : یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ ، حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوت فیصلہ ہے یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ جس شخص کے پاس حکمت کی دولت ہوگی وہ ہرگز شیطان کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے گا، بلکہ اس کشادہ راہ کو اختیار کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے، شیطان کے تنگ نظر مریدوں میں یہ بڑی ہوشیاری اور علمندی ہے کہ آدمی اپنی دولت کو سنبھال کر رکھے اور ہر وقت کمائی کی فکر میں لگا رہے لیکن جن کو اللہ کی جانب سے نور نصیرت کی دولت ملی ہے ان کی نظر میں یہ عین بےوقوفی ہے، حکمت اور دانائی ان کے نزدک یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے اس سے اپنی متوسط ضروریات پوری کرنے کے بعد باقی کو دل کھول کر بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے۔
نذر کا حکم : نذر اسی عبادت کی صحیح ہے جو واجبات کی جنس سے ہو اور خود واجب نہ ہو، مثلاً نماز، روزہ، حج وغیرہ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص عیادت مریض کی نذر مانے تو واجب نہ ہوگی۔ نذر اگر معصیت کی نہ ہو تو پورا کرنا واجب ہے اگر کسی نے معصیت کی نذر قسم کے ساتھ مانی تو نذر پوری نہ کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے۔
غیر اللہ کی نذر جائز نہیں : نذر بھی چونکہ نماز روزہ کی طرف عبادت ہے لہٰذا غیر اللہ کے لیے جائز نہیں غیر اللہ کی نذر ماننا شرک ہے لہٰذا کسی بھی پیر، پیغمبر یا ولی کے نام کی نذر ماننا شرک ہے اس سے بچنا ضروری ہے۔
Ayahs 2:271–272خفیہ طور پر صدقہ افضل ہے : اَنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ (الآیۃ) اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا ا افضل ہے، سوائے اس صورت کے کہ جس میں اعلانیہ خرچ کرنے میں لوگوں کو ترغیب کا پہلو ہو یا تہمت سے بچنا مقصود ہو، تاہم مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے خفیہ طور پر صدقہ کرنا ہی بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں کو روز قیامت عرش الہیٰ کا سایہ نصیب ہوگا ان میں وہ شخص بھی ہوگا جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایسے خفیہ طریقہ سے صدقہ کیا ہوگا کہ اسکے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ؟ (اس تعبیر سے مراد مبالغہ فی الخفاء ہے) نفلی صدقات کو چھپا کر اور جو صدقہ فرض ہو مثلاً زکوٰۃ وغیرہ اس کو علانیہ دینا افضل ہے۔ لَیْسَ علَیْکَ ھُدٰھُمْ یہ جملہ معترضہ ہے یعنی آپ پر یہ واجب نہیں کہ آپ ان کو ہدایت یافتہ کردیں صرف رہنمائی کرنا اور راہ ہدایت دکھانا آپ کا فرض منصبی ہے۔
شان نزول : عبد ابن حمید اور نسائی وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابتداء میں مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور عام غیر مسلم حاجتمندوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے، اور اس کو ناپسند کرتے تھے، ان کا خیال یہ تھا کہ صرف مسلمان حاجت مندوں کی مدد کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے، اس آیت سے ان کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کی والدہ اپنے کفر کے زمانہ میں اپنی بیٹی حضرت اسماء کی خدمت میں مدد کی خواہاں ہو کر مدینہ آئیں تو حضرت اسماء نے اپنی والدہ کی مدد اس وقت تک نہیں کہ جب تک کہ آپ ﷺ سے اجازت نہ لے لی۔
مسئلہ : یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ صدقہ سے مراد نفلی صدقہ ہے جس کا انسانیت کی بنیاد پر ذمی کافر کو بھی دینا جائز ہے، البتہ صدقہ واجبہ مسلمان کے علاوہ کسی کو دینا جائز نہیں ہے۔ مسئلہ : کافر ذمی یعنی غیر حربی کو صرف زکوٰۃ و عشر دینا جائز نہیں البتہ دیگر صدقات واجبہ و نافلہ دینا جائز ہے، اور اس آیت میں زکوٰۃ داخل نہیں ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:273لَایَسَئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا۔ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقر و غربت کے باوجود وہ سوال سے بچتے ہیں اور الحاف یعنی اصرار سے سوال کرنے سے بچتے ہیں، بعض نے الحاف کے معنی کئے ہیں بالکل سوال نہ کرنا، اور بعض نے کہا ہے کہ وہ سوال میں الحاح وزاری نہیں کرتے، اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسکین وہ نہیں ہے جو ایک ایک دو دو کھجور یا ایک ایک دو دو لقمے کے لیے دررد جا کر سوال کرتا ہے، مسکین تو وہ ہے جو سوال سے بچتا ہے، پھر آپ ﷺ نے لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا کا حوالہ پیش فرمایا (صحیح بخاری) اس لیے پیشہ ور گداگروں کے بجائے دین کے طلبہ علماء اور سفید پوش ضرورت مندوں کا پتہ چلا کر ان کی مدد کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے لوگ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا عزت نفس اور خوداری کے خلاف سمجھتے ہیں۔
Ayah 2:274آیت نمبر 274 تا 281
ترجمہ : جو لوگ اپنا مال رات اور دن، پوشیدہ اور آشکار اخرچ کرتے رہتے ہیں سو ان لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس اجر ہے نہ ان کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ سود کھاتے ہیں یعنی سود لیتے ہیں اور وہ معاملات میں نقود کی زیادتی اور ماکولات میں مقدار یا مدت میں زیادتی ہے، وہ لوگ قبروں سے نہ کھڑے ہو سکیں گے مگر اس شخص کے مانند جس کو شیطان لپٹ کر خبطی بنا دیتا ہے (یعنی) جس کو شیطان پچھاڑ دیتا ہے، ان کو جنون ہونے کی وجہ سے (مِنَ المَسِّ ) یقومون کے متعلق ہے۔ ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہوگی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع تو جواز میں سود کے مانند ہے اور یہ مبالغہ کے لیے الٹی تشبیہ ہے، ان کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے، پھر جس کے پاس اس کے پروردگار کی نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود خوری سے باز آگیا تو ممانعت سے پہلے جو کچھ ہوچکا ہے وہ اس کا ہے (یعنی) اس سے واپس نہ لیا جائے گا، اور اس کے معاف کرنے کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے اور جو شخص سودخوری کی طرف لوٹے سود کو حلت میں بیع کے مشابہ قرار دیتے ہوئے تو یہی لوگ دوزخی ہیں، سو اس میں یہ لوگ ہمیشہ پڑے رہیں گے، اور اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے یعنی اس کو کم کرتا ہے اور اس کی برکت ختم کردیتا ہے اور صدقات میں اضافہ کرتا ہے (یعنی) اس کو نشو و نما دیتا ہے اور اس کا اجر دوگنا کردیتا ہے، اور اللہ سود کو حلال قرار دے کر کسی کفر کرنے والے اور سود خوری کرکے گنہگار (فاجر) کو پسند نہیں کرتا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو (یعنی) اگر تم اپنے ایمان میں سچے ہو، اس لیے کہ مومن کی شان اللہ کا حکم بجالانا ہے، (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جب بعض صحابہ نے سود کی ممانعت کے بعد سابقہ سود کا مطالبہ کیا، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے ساتھ اعلان جنگ ہے، اس میں ان کے لیے شدید دھمکی ہے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو (صحابہ) نے کہا ہم میں اس کے ساتھ جنگ کی طاقت نہیں، اور اگر تم توبہ کرلو یعنی اس سے باز آجاؤ تو (رأس المال) اصل سرمایہ کا تم کو حق ہے نہ تم زیادتی کرکے ظلم کرو۔ اور نہ کمی کرکے تم پر ظلم کیا جائے اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو تمہارے اوپر اس کی کشادہ دستی تک اس کے لیے مہلت ہے، (یعنی وصول یابی کو مؤخر کرنا ہے) (مَیْسَرَۃ) سین کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، یعنی اس کی خوشحالی تک اور اگر تم معاف کردو (تَصَّدَّقُوْا) تشدید کے ساتھ تاء کو صاد میں ادغام کرکے اور تخفیف کے ساتھ تاء کو حذف کرکے، یعنی تنگ دست سے قرض معاف کرکے بری کردو۔ تو تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو کہ یہ بہتر ہے تو ایسا کرلو، حدیث میں ہے کہ جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس سے اپنا قرض معاف کردیا تو اللہ اس کو اپنے سایہ میں رکھیں گے جس دن کہ اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، (رواہ مسلم) اور اس دن سے ڈرو جس دن تم کو اللہ کی طرف لوٹا یا جائے گا مجہول کے صیغہ کے ساتھ۔ معنی لوٹائے جاؤ گے، اور معروف کے صیغہ کے ساتھ، یعنی تم لوٹو گے، وہ قیامت کا دن ہے پھر اس دن میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا جو اس نے اچھے برے کئے ہوں گے، پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان کے اعمال حسنہ میں کمی کرکے یا اعمال سیئہ میں اضافہ کرکے ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ای یاخذوْنَہ، اس اضافہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اکل (کھانے) سے مراد صرف کھانا ہی نہیں ہے بلکہ مطلقا لینا ہے خواہ کھائے یا لباس بنائے یا جمع کرکے رکھے یا کسی دوسرے کام میں استعمال کرے، مگر کھانا چونکہ اہم مصارف میں سے ہے اس لیے صرف کھانے کا ذکر کیا ہے۔
قولہ : المطعومات، یہ قید مفسر علام نے امام شافعی (رح) تعالیٰ کے مذہب کے مطابق لگائی ہے اس لیے کہ ربوا کے لیے ان کے نزدیک ازقبیل مطعومات یا ثمنیات ہونا ضروری ہے، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک قدروجنس میں اتحاد کافی ہے، ازقبیل مطعوم ہونا ضروری ہے۔
قولہ : فی القدر او الاجل یہ المعاملہ سے بدل ہے قدر کا تعلق ربوا فضل سے ہے اور یہ اتحاد جنس کی صورت میں ہوگا اور اَلْاَجل کا تعلق اتحاد کے ساتھ ہے، اگر جنس مختلف ہو اور قدر میں اتحاد ہو تو تفاضل جائز ہے اور ادھار ناجائز ہوگا۔
قولہ : من قبودھم مفسر علام نے مِن قبورھم کی قید لگا کر اس شبہ کا جواب دیا کہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی سود خور ہیں مگر ان کے قیام و قعود میں کسی قسم کا خبط و عدم توازن نہیں ہوتا یہ تو واقعہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے حالانکہ کلام باری میں کذب نہیں ہوسکتا۔
جواب : قیام سے مراد روز محشر اپنی قبروں سے کھڑا ہونا ہے نہ کہ دنیا میں کھڑا ہونا اسی شبہ کے جواب کے لیے مِن قبورھم کی قید کا اضافہ کیا ہے۔ قولہ : قِیامًا۔ سوال : لفظ قیام کے اضافہ کا کیا فائدہ ؟۔ جواب : یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ ، میں حرف استثناء حرف (کاف) پر داخل ہے حالانکہ حرف استثناء کا حرف پر داخل ہونا صحیح نہیں ہے ” ما “ خواہ موصولہ ہو یا مصدریہ۔ جواب : مستثنیٰ محذوف ہے اور وہ قیامًا، ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : یَتَخَبَّطُہُ (تفعَل) سے مضارع واحد مذکر غائب ” ہ “ ضمیر مفعول، اس کو پاگل بنا دیتا ہے، خَبْط کے اصل معنیٰ غیر متوازن طریقہ پر چلنا کخبط العشواء بےڈھنگے پن سے چلنے والی اونٹنی یہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی غیر متوازن طریقہ سے چلے۔
قولہ : من الجنون یہ اَلْمَسْ کی تفسیر ہے۔
قولہ : مِن عکسِ التشبیہ الخ عکس اس لیے ہے کہ کلام ربوا میں ہے نہ کہ بیع میں لہٰذا ربوا کو بیع کے ساتھ تشبیہ دینا چاہیے تھا نہ کہ بیع کو ربوا کے ساتھ، ایسا مبالغہ کے طور پر کیا ہے، اس لیے کہ جواز ربوا ان کے نزدیک اصل تھا اسی پر بیع کو قیاس کیا۔
قولہ : وعظ، موعظۃ، کی تفسیر وعظ سے کرکے اشارہ کردیا کہ موعظۃ مصدر میمی ہے نہ کہ ظرف۔ قولہ : عنہ، ای عن آکل الربوا۔
قولہ : الی اکلہٖ مشبھاً لہ بِالْبَیْعِ فی الحِلِّ اس عبارت سے ایک سوال کا جواب مقصود ہے۔
سوال : یہ ہے کہ آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ممانعت کے بعد اکل ربوا کا اعادہ و ارتکاب کرے گا تو وہ دائمی طور پر دوزخ میں جائے گا، جو کہ معتزلہ کا نظریہ ہے۔
جواب : کا خلاصہ یہ ہے کہ دائمی جہنم میں داخل اس صورت میں ہوگا کہ ربوا کو بیع کی مانند حلال سمجھ کر استعمال کرے۔
قولہ : یُعَاقِبہٗ یہ لَایُحبُّ کی تفسیر ہے۔ قولہ : بِحَربٍ ، حرب کی تنکیر تعظیم وشدت پر دلالت کرتی ہے، نیز اللہ اور اس کے رسول کی جانب نسبت سے اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ قولہ : لا یَدَی لَنَا، ای لاطاقۃ لنا۔
قولہ : وَقَعَ غَریمٌ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کان تامّہ ہے اس کو خبر کی ضرورت نہیں ہے یعنی کانَ ، بمعنیٰ وَقَعَ ہے۔
قولہ : ای عَلَیْکُمْ تاخیرہ، فَنَظرۃ، مبتداء ہے اس کی خبر عَلَیْکُمْ تاخِیْرَہٗ محذوف ہے، خبر کے حذف کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی تاکہ فَنَظرۃ جملہ ہو کر جواب شرط واقع ہوجائے، تاخیرہ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ نَظِرۃ، اِنظار سے ہے جو بمعنی مہلت ہے نہ کہ نظر سے بمعنیٰ رویت۔ قولہ : وقت یسرہ اس سے اشارہ کردیا کہ مَیْسرۃ، ظرف ہے مصدر میمی نہیں ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
(1) اَلَذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ الرِّبٰوا (الآیۃ) اس آیت میں تشبیہ تمثیل (تشبیہ مرکب) استعمال ہوئی ہے سود خور کی جو حالت روز محشر قبر سے نکلنے کے وقت ہوگی اس کیفیت کو مشبہ بہ اور دنیا میں جو ایک سود خور کی کیفیت ہوتی ہے اس کو مشبہ قرار دے کر تشبیہ مرکب منتزع کی گئی ہے، اسی کا نام تشبیہ تمثیلی ہے۔ دراصل اس آیت میں روز قیامت سود خوروں کے قبروں سے نکلنے کی حالت کی منظر کشی کی گئی ہے، سودخور اپنی قبروں سے نکلنے کے وقت سیدھے کھڑے تک نہ ہو سکیں گے کھڑے ہوں گے بھی تو دیوانوں، متوالوں، خبطیوں اور شرابیوں کی طرف گرتے پڑتے لڑکھڑاتے ہوئے غیر متوازن طریقہ سے کھڑے ہوں گے، جیسا کہ اس حالت کی ایک ہلکی سی جھلک سود خور میں دنیا میں بھی پائی جاتی ہے، مہاجن، ساہوکار جو روپے کے پیچھے دیوانہ باؤلا رہتا ہے واقعی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے بھوت لپٹ گیا ہے اور اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے بس اس پر ایک ہی دھن سوار رہتی ہے اور وہ دھن ہوتی ہے سود کی، جس کی حرص وطمع اس قدر بڑھی ہوئی ہو لازم ہے کہ اس کا حشر بھی اسی مخبوط جنون زدہ حالت کے ساتھ ہو۔
(2) اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثَلُ الرِّبوٰا، اس میں تشبیہ قلب جس کا عکس بھی کہتے ہیں استعمال ہوئی ہے یعنی بیع کو مشبہ اور ربوا کو مشبہ بہ قرار دیا ہے بطور مبالغہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حلت میں اصل ربوا ہے اور بیع بھی حلت میں ربوا کے مانند ہے حالانکہ حلت میں اصل بیع ہے بیع کو مشبہ بہ اور ربوا کو مشبہ ہونا چاہیے تھا۔
تفسیر و تشریح
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ (الآیۃ) اس آیت میں ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضیلت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں، یعنی جس وقت، جس گھڑی، جب بھی ضرورت ہو خواہ دن ہو یا رات غرضیکہ ہمہ وقت فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
شان نزول : صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن عساکر نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے چالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں اس طرح خرچ کئے کہ دس ہزار دن میں دس ہزار رات میں، دس ہزار پوشیدہ طریقہ سے اور دس ہزار علانیہ طریقہ سے، تو ان کی فضیلت بیان کرنے کے لیے مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ عبد الرزاق اور عبد بن حمید وغیرہ نے عبد الوہاب ابن مجاہد عن ابیہ عن ابن عباس کے طریق سے اس آیت کا نزول حضرت علی کی شان میں نقل کیا ہے، کہ حضرت علی ؓ کے پاس چار درہم تھے انہوں نے ایک کو رات میں اور ایک کو دن میں اور ایک کو پوشیدہ طریقہ سے اور ایک کو علانیہ طریقہ سے خرچ کیا، اس کے علاوہ بھی اور روایتیں مذکور ہیں۔ (فتح القدیر شوکانی)
Ayah 2:275اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبوٰا لَایَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْنُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ۔ ” ربوا “ کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں اور شریعت میں اس کا استعمال ربا الفضل اور ربا النسیئہ پر ہوتا ہے ربا الفضل اس کو کہتے ہیں جو اشیاء میں بلا عوض حاصل ہوتا ہے اور ربا النسیئہ اس فائدہ کو کہتے ہیں جو مدت کے عوض حاصل ہو۔ اصطلاح میں ربوا اس زائد رقم کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے اسی کو ہماری زبان میں سود کہتے ہیں۔
نزول قرآن کے وقت سودی معاملات کی متعدد شکلیں رائج تھیں۔ اور وہ یہ تھیں مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرتا اور ادائے قیمت کے لیے ایک وقت مقرر کردیتا اگر وہ مدت گزر جاتی اور قیمت ادا نہ ہوتی تو وہ مزید مہلت دیتا اور قیمت میں اضافہ کردیتا، یا مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کو قرض دیتا اور اس سے طے کرلیتا کہ اتنی مدت میں اتنی رقم اصل سے زائد ادا کرنی ہوگی، یا مثلاً قرض خواہ اور قرض دار کے درمیان ایک خاص مدت کے لیے ایک خاص شرح طے ہوجاتی تھی، اور اگر اس مدت میں اصل رقم مع اضافہ کے ادا نہ ہوتی تو مزید مہلت پہلے سے زائد شرح پر دی جاتی تھی اور اگر اس مدت میں اصل رقم مع اضافہ کے ادا نہ ہوتی تو پھر مزید مہلت پہلے سے زائد شرح پر دی جاتی تھی اسی نوعیت کے معاملات کا بیان یہاں کیا جارہا ہے۔
یہ کل چھ آیتیں ہیں جن میں سود کی حرمت اور احکام کا بیان ہے، پہلی آیت کے جملہ میں سود خوروں کے انجام بد اور محشر میں ان کی رسوائی اور گمراہی کا ذکر ہے جس میں سودخور کی حالت کو ایک آسیب زدہ کی حالت سے تشبیہ دی ہے، ضمنا اس آیت سے یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ شیطان کے اثر سے انسان بیہوش یا مجنون ہوسکتا ہے، اور اہل تجربہ کے متواتر مشاہدات اس پر شاہد ہیں۔ اور حافظ ابن رقیم (رح) تعالیٰ نے لکھا ہے کہ اطباء اور فلاسفہ نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ صرع، بیہوشی یا جنون مختلف اسباب سے ہوتا ہے ان میں بعض اوقات جنات و شیاطین کے اثر کا سبب بھی ہوتا ہے جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے ان کے پاس بجز ظاہری استبعاد کے کوئی دلیل نہیں۔
ذٰلِکَ بِأَنَّھُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبوٰا ان کا کہنا تھا کہ بیع اور ربوا میں کیا فرق ہے دونوں میں مقصد حصول نفع ہے پھر تجارت حلال اور ربوا کیوں حرام ہو ؟ یہ نظریہ کی خرابی بلکہ عقل کا دیوالیہ پن نہیں تو اور کیا ہے ؟ کہ تجارت میں اصل لاگت پر جو نفع لیا جاتا ہے اس کی نوعیت اور سود کی نوعیت کا فرق وہ نہیں سمجھتے اور دونوں کو ایک ہی قسم کی چیز سمجھ کر یوں استدلال کرتے ہیں کہ جب تجارت میں لگے ہوئے روپے کا منافع جائز ہے تو قرض پر دئیے ہوئے روپے کا منافع کیوں ناجائز ہے ؟ اسی قسم کے دلائل موجودہ زمانہ کے سود خور کے حق میں پیش کرتے ہیں، مگر یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ دنیا میں جتنے کاروبار ہیں خواہ وہ تجارت کے ہوں یا صنعت و حرفت کے یا زراعت کے، اور خواہ انہیں آدمی صرف اپنی محنت سے کرتا ہو یا اپنے سرمایہ اور محنت سے ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جس میں آدمی نقصان کا خطرہ مول نہ لیتا ہو اور جس میں آدمی کے لیے لازماً ایک حقیر منافع کی ضمانت ہو، پھر آخر پوری کاروباری دنیا میں ایک قرض دینے والا سرمایہ دار ہی ایسا کیوں ہو جو نقصان کے خطرہ سے بچ کر ایک مقرر لازمی نفع کا حقدار قرار پائے ؟
سوال یہ ہے کہ جو لوگ ایک کاروبار میں اپنا وقت، اپنی محنت، اپنی قابلیت اور اپنا سرمایہ رات دن کھپاتے رہے ہیں اور جن کی سعی و کوشش کے بل پر ہی اس کاروبار کا بار آور ہونا موقوف ہے ان کے لیے تو ایک مقرر منافع کی ضمانت نہ ہو بلکہ نقصان کا سارا خطرہ ان ہی کے سر ہو مگر سرمایہ دار جس نے اپنا روپیہ انہیں قرض دیا ہو وہ بےخطر ایک طے شدہ منافع وصول کرتا چلا جائے یہ آخر کس عقل اور کس اصول انصاف اور کس اصول معاشیات کی رو سے درست ہیں ؟ متجددین کو نہ معلوم اس کی قباحت کیوں نظر نہیں آتی ؟ یہ ظلم کی ایک واضح صورت ہے جسے شریعت اسلامیہ کس طرح جائز قرار دے سکتی ہے ؟ علاوہ ازیں شریعت تو اہل ایمان کو معاشرے کے خرورت مندوں پر بغیر کسی دنیوی غرض اور منفعت کے خرچ کرنے کی ترغیب دیتی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں اخوت، بھائی چارے، ہمدردی، تعاون اور شفقت و محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں، اس کے برعکس سودی نظام سے سنگ دلی خود غرضی نفرت، وحشت و عداوت کا جذبہ فروغ پاتا ہے، ایک سودخور سرمایہ دار کو اپنے سرمایہ سے غرض ہوتی ہے چاہے معاشرہ میں ضرورت مند بیماری و افلاس سے کراہ رہے ہوں شریعت اس سنگدلی کو کس طرح پسند کرسکتی ہے ؟ بہرحال سود مطلقاً حرام ہے خواہ ذاتی غرض کے لیے ہو یا تجارتی مقاصد کے لئے۔
تجارت اور سود میں اصولی فرق : جس کی بنا پر دونوں کی معاشی اور اخلاقی حیثیت ایک نہیں ہوسکتی یہ ہے کہ۔
(1) تجارت میں بائع اور مشتری کے درمیان منافع کا مساویانہ تبادلہ ہوتا ہے، کیونکہ مشتری اس چیز سے نفع اٹھاتا ہے جسے اس نے بائع سے خریدا ہے اور بائع اپنی محنت، ذہانت اور وقت کی اجرت لیتا ہے، جس کو اس نے مشتری کے لیے وہ چیز مہیا کرنے میں صرف کیا ہے بخلاف اس کے سودی لین دین میں منافع کا تبادلہ برابری کے ساتھ نہیں ہوتا۔ سود لینے والا تو مال کی ایک مقررہ مقدار لے لیتا ہے جو اس کے لیے یقیناً نفع بخش ہے، لیکن اس کے مقابلہ میں سود دینے والے کو صرف مہلت ملتی ہے جس کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں، اگر اس نے سرمایہ اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرنے کے لیے لیا ہے تب تو ظاہر ہے کہ مہلت اس کے لیے قطعی نافع نہیں ہے، اور اگر وہ تجارت، زراعت یا صنعت وحرفت میں لگانے کے لیے سرمایہ لیتا ہے تب بھی مہلت میں جس طرح اس کے لیے نفع کا مکان ہے اسی طرح نقصان کا بھی امکان ہے، پس سود کا معاملہ یا تو ایک فریق کے فائدے اور دوسرے کے نقصان پر ہوتا ہے یا ایک کے یقینی اور متعین فائدے اور دوسرے کے غیر یقینی اور غیر متعین فائدے پر۔
(2) تجارت میں بائع، مشتری سے خواہ کتنا ہی زائد نفع لے بہرحال وہ جو کچھ لیتا ہے ایک ہی بار لیتا ہے، لیکن سود کے معاملہ میں مال دینے والا اپنے مال پر مسلسل منافع وصول کرتا رہتا ہے اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کا منافع بڑھتا چلا جاتا ہے، مدیون نے اس کے مال سے خواہ کتنا ہی فائدہ حاصل کیا ہو بہرحال اس کا فائدہ ایک خاص حد تک ہی ہوگا، مگر دائن اس فائدے کے بدلے میں جو نفع اٹھاتا ہے اس کے لئے کوئی حد نہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ مدیون کی پوری کمائی، اس کے تمام وسائل معیشت حتی کہ اس کے تن کے کپڑے اور گھر کے برتن تک ہضم کرلے اور پھر بھی اس کا مطالبہ باقی رہے۔
(3) تجارت میں شئی اور اس کی قیمت کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ہی معاملہ ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد مشتری کو کوئی چیز بائع کو واپس دینی نہیں ہوتی۔ مکان یا دکان یا زمین یا سامان کے کرایہ میں اصل شئ جس کے استعمال کا معاوضہ دیا جاتا ہے صرف نہیں ہوتی بلکہ برقرار رہتی ہے اور بجنسہ مالک جائداد کو واپس دیدی جاتی ہے، لیکن سود کے معاملہ میں قرض دار سرمایہ کو صرف کرسکتا ہے اور پھر اس کو صرف شدہ مال دوبارہ پیدا کرکے اضافہ کے ساتھ واپس دینا ہوتا ہے، ان وجوہ کی بناء پر تجارت اور سود کی معاشی حیثیت میں اتنا عظیم فرق ہوجاتا ہے کہ تجارت انسانی تمدن کی تعمیر کرنے والی قوت بن جاتی ہے اور اس کے برعکس سود اس کی تخریب کرنے کا موجب بنتا ہے پھر اخلاقی حیثیت سے سود کی یہ عین فطرت ہے کہ وہ افراد میں بخل، خود غرضی، شقاوت، نفرت، بےرحمی اور زرپرستی جیسی صفات پیدا کرتا ہے۔ اور ہمدردی و امداد باہمی کی روح کو فنا کرتا ہے اس بنا پر سود معاشی اور اخلاقی دونوں حیثیت سے نوع انسانی کے لیے تبا کن ہے۔
سود کا اخلاقی نقصان : اخلاقی اور روحانی حیثیت سے آپ دیکھیں تو آپ کو یہ بات بالکل واضح طور پر نظر آئے گی کہ سود دراصل خود غرضی، بخ، تنگ دلی اور سنگ دلی جیسی صفات کا نتیجہ ہے اور وہ ان ہی صفات کو انسان میں نشو و نما دیتا ہے۔ اس کے برعکس صدقات کے نتیجہ میں فیاضی، ہمدردی، فراخ دلی اور علی ظرفی جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں، اور صدقات پر عمل کرتے رہنے سے ہی صفات انسان کے نادر پرورش پاتی ہیں، کون ہے جو اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلے مجموعہ کو بدترین اور دوسرے کو بہترین نہ مانتا ہو۔
سود کا معاشی نقصان : معاشیات کے نقطہ نظر سے سودی قرض دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ قرض جو اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دوسرا وہ قرض جو تجارت، صنعت و حرفت اور زراعت وغیرہ کے کاموں پر لگانے کے لیے پیشہ ور لوگ لیتے ہیں، پہلی قسم کے قرض کے بارے میں تو دنیا جانتی ہے کہ اس پر سود و صول کرنے کا طریقہ نہایت ہی تباہ کن ہے، دنیا کا کوئی ملک ایس انہیں کہ جس میں مہاجن افراد اور مہاجن ادارے اس ذریعہ سے غریب مزدوروں، کاشتکاروں، قلیل المعاش عوام کا خون نہ چوس رہے ہوں، سود کی وجہ سے اس قسم کا قرض لوگوں کے لیے ادا کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے ایک قرض ادا کرنے کے لیے دوسرا اور تیسرا قرض لیتے چلے جاتے ہیں، اصل رقم سے کئی گنا سود دے چکنے کے باوجود بھی اصل رقم جوں کی توں باقی کھڑی رہتی ہے، محنت پیشہ کی آمدنی کا بیشتر حصہ مہاجن لے جاتا ہے اور اس غریب کی اپنی کمائی میں سے اس کے پاس اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھی کافی روپیہ نہیں بچتا، یہ صورت حال رفتہ رفتہ کارکن کی اپنے کام سے دلچسپی ختم کردیتی ہے جس کی وجہ سے ملکی پیداوار میں شدید نقصان ہوتا ہے، جس سے ملک کی معیشت زوال پذیر ہوجاتی ہے، اس کے علاوہ سودی قرض کے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ہر وقت کی فکر و پریشانی گھلا دیتی ہے اور تنگدستی کی وجہ سے ان کے لئے صحیح غذا اور علاج اس قدر مشکل ہوجاتا ہے کہ ان کی صحیتیں کبھی درست نہیں رہ سکتیں، سودی قرض کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چند افراد تو لاکھوں آدمیوں کا خون چوس چوس کر موٹے ہوتے رہتے ہیں۔ مگر نادار اور کمزور اور زیادہ نادار اور کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، اور انجام کار خود خون چوسنے والے افراد اس کے نقصانات سے نہیں بچ سکتے، کیونکہ ان کی اس خود غرضی سے غریب عوام کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کی بدولت مالداروں کے خلاف غصے اور نفرت کا ایک طوفان دلوں میں اٹھتا رہتا ہے اور کسی انقلاب کے موقع پر جب یہ آتش فشاں پھٹتا ہے تو ان ظالم مالداروں کو اپنے مال کے ساتھ اپنی جان اور آبرو سے بھی ہاتھ دھونا پڑجاتا ہے۔
فَمَنْ جَآءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَھٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ۔ اس جملہ میں یہ ارشاد ہے کہ سود حرام ہونے سے پہلے جس شخص نے کوئی رقم جمع کرلی تھی لیکن جب سود کو حرام قرار دیا گیا تو اگر آئندہ کے لئے اس نے توبہ کرلی اور باز آگیا تو اس سے پہلے جمع شدہ رقم ظاہر شرع کے حکم سے اسی کی ہوگی اور باطنی معاملہ اس کا کہ وہ دل سے باز آیا یا منافقانہ توبہ کی اس کا یہ معاملہ خدا کے حوالہ رہا، عام لوگوں کو بدگمانی کرنے کا حق نہیں ہے، اور جو شخص نصیحت سنکر بھی اسی قول و فعل کی طرف پھر عود کرے تو چونکہ سود خوری گناہ ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
Ayahs 2:276–277یَمْحَقُ اللہُ الرِّبوٰا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ ، اس آیت میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے یہاں سود کے ساتھ صدقات کا ذکر ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے وہ یہ کہ سود اور صدقہ کی حقیقت میں تضاد ہے اور اس کے نتائج بھی مختلف ہیں اور عموماً ان دونوں کا موں کے کرنے والوں کی غرض اور نیت بھی متضاد ہوتی ہے۔ حقیقت کا تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں تو بغیر کسی معاوضہ کے اپنا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے اور سود میں بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے۔ ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض اس لیے متضاد ہے کہ صدقہ کرنے والا محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ایک مال کو کم یا ختم کردینے کا فیصلہ کرتا ہے اور سود لینے والا اپنے موجودہ مال پر ناجائز زیادتی کا خواہشمند ہے، اور ان دونوں کا انجام بھی متضاد ہے صدقہ سے معاشرہ میں ہمدردی، الفت، محبت و شفقت جنم لیتی ہے اور سود سے غصہ، عداوت، نفرت اور خود غرضی فروغ پاتی ہیں۔
سود کو مٹانے اور صدقہ کو پڑھانے کے وعدہ و وعید کا مشاہدہ پوری طرح تو آخرت میں ہو کر ہی رہے گا لیکن دنیا میں بھی سود کھانے میں برکت و خیریت برائئے نام بھی نظر نہ آئے گی۔ اس کے برعکس ایک شخص کو نبی ﷺ نے شب معراج میں خون کے دریا میں غوطہ کھاتے دیکھا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے دریافت فرمایا یہ کون شخص ہے ؟ جبرئیل (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ سود کھانے والا ہے۔ ایک سود خود مہاجن چونکہ عوام الناس قلیل المایہ لوگوں کا بےرحمی سے خون چوس چوس کر خود کو فربہ کرتا ہے اس لیے مثالی شکل کے طور پر سود خور کو خون کے دریا میں تیرتا ہوا دکھایا گیا، اس کے علاوہ دنیا میں بھی سود خود قوموں اور افراد کی تباہی و بربادی کا انجام بار ہا دنیا نے دیکھا ہے سود خوری کی عادت بنیوں اور مہاجنوں کے دل میں روپیہ کو فی نفسہٖ محبوب بنا دیتی ہے۔ سود خور روپے پیسے سے محبت کی وجہ سے خرچ نہیں کرتا جس کی وجہ سے روپیہ خرچ کرنا اس کیلئے جان نکالنے کے برابر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی اپنی دولت سے کما حقہ لطف و راحت حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کے مقابلہ میں صدقہ کی برکتیں ملی غمخواری و ہمدردی، ایک دوسرے کی مشارکت و معاونت، قوم و افراد دونوں میں مشاہدہ کی چیزیں ہیں۔ بینکوں کے آئے دن لوٹنے، مہاجنوں اور بنیوں کے دیوالیہ نکلتے رہنے اور پھر اس سے ہزاروں گھروں کی تباہی و بربادی کس نے نہیں دیکھی۔
وَاللہُ لَا یُحِبُ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ ، اس میں دونوں قسم کے نافرمان شامل ہیں سود کی حرمت کا عقیدہ رکھنے کے باوجود سودی کاروبار کرنے والے اور سود کی حرمت کا عقیدہ نہ رکھنے والے بھی یہ دونوں جہنم میں جائیں گے لیکن دائمی دخول ان سورخوروں کی سزا ہے جو سود کو حلال سمجھ کر سودی کاروبار کرتے ہیں۔
سامان راحت اور چیز ہے اور راحت اور چیز : یہاں شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ آج تو سود خوروں کو بڑی سے بڑی راحت و عزت حاصل ہے وہ کوٹھیوں، بنگلوں کے مالک ہیں عیش و آرام کے سامان مہیا ہیں، کھانے پینے پہننے اور رہنے سہنے کی ضروریات بلکہ فضولیات بھی سب ان کو حاصل ہیں، نوکر چاکر اور شان و شوکت کے تمام اسباب موجود ہیں، لیکن غور کیا جائے تو ہر شخص سمجھ لے گا کہ سامان راحت اور راحت میں بڑا فرق ہے، سامان راحت تو فیکٹریوں، کارخانوں میں بنتا ہے اور بازاروں میں بکتا ہے وہ سونے چاندی کے عوض حاصل ہوسکتا ہے، لیکن جس شئ کا نام راحت ہے وہ نہ کسی فیکٹری میں بنتی ہے اور نہ کسی منڈی میں بکتی ہے وہ تو ایک ایسی رحمت ہے جو براہ راست حق تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی ہے وہ بعض اوقات ہزاروں سامان راحت کے باوجود حاصل نہیں ہوتی، ایک نیند ہی کی راحت کو دیکھ لیجئے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے یہ تو کرسکتے ہیں کہ سونے کے لیے بہتر مکان بنائیں، ہوا، روشنی کا پورا اعتدال ہو، مکان کا فرنیچر دیدہ زیب و دل خوش کن ہو، مسہری اور گدے تکئے حسب منشا ہوں، لیکن کیا نیند کا آجانا ان سامانوں کے مہیا ہونے پر لازمی ہے ؟ اگر آپ کو کبھی اتفاق نہ ہوا ہو تو ہزاروں انسان اس کا جواب نفی میں دیں گے جن کو کسی عارضہ کی وجہ سے نیند نہیں آتی امریکہ جیسے مالدار و متمول ملک کے متعلق بعض رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں پچھتر فیصد آدمی خواب آور گولیوں کے بغیر سو ہی نہیں سکتے، اور بعض اوقات خواب آور گولیاں بھی جواب دے دیتی ہیں، نیند کا سامان تو آپ بازار سے خرید لائے مگر نیند آپ کسی بازار سے کسی قیمت پر نہیں لاسکتے، اسی طرح دوسری راحتوں اور لذتوں کا حال ہے۔
Ayahs 2:278–280یٰآیُّھَا الَّذیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوآ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ، زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود کی وجہ سے اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا جس سے وہ تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک مہلت دو ، اور اگر قرض بالکل ہی معاف کرو تو زیادہ بہتر ہے احادیث میں بھی اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ؟ ایک سراسر ظلم، تنگدلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا ہمدردی تعاون اور ایک دوسرے کو سہارا دینے والا نظام ہے اگر مسلمان خود ہی اس بابرکت نظام الہیٰ کو نہ اپنائیں تو اس میں اسلام کا کیا قصور اور اللہ پر کیا الزام ؟ کاش مسلمان اپنے دین کی افادیت اور اہمیت کو سمجھ لیں اور اس پر اپنے نظام زندگی کو استوا کرسکیں۔
Ayah 2:281وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللہِ (الآیۃ) بعض آثار میں ہے کہ یہ قرآن کی آخری آیت ہے جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی، اس کے چند دن بعد ہی آپ ﷺ دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (ابن کثیر)