2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:222–223

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو وہ تو نجاست ہے سو ایام حیض میں عورتوں سے کنا رہ کش رہو اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے تمہیں ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لیے (نیک عمل) آگے بھیجو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے رو برو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ ایمان والوں کو بشارت سنادو

آیت نمبر 222 تا 225 ترجمہ : لوگ آپ سے حیض کے (حکم) کے بارے میں پوچھتے ہیں، یعنی حیض یا حائضہ کے بارے میں کہ اس حالت میں عورتوں سے (ازدواجی) تعلق کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ حیض گندگی ہے یا محل گندگی ہے، لہٰذا عورتوں کو حالت حیض میں یعنی وطی کو یا محل حیض کو چھوڑ دو اور جماع کے لئے ان کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک صاف ہوجائیں (یَطھرن) طاء کے سکون و تشدید کے ساتھ اور ھاء کی تشدید کے ساتھ ہے اور اس میں اصل میں تاء میں ادغام ہے یعنی حیض موقوف ہونے کے بعد غسل کرلیں، پھر جب پاک صاف ہوجائیں تو ان کے پاس جانے (وطی) کی اجازت ہے اس مقام میں جہاں سے اللہ نے تم کو حالت حیض میں وطی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا اور وہ قُبُلْ ہے اور قُبُلْ سے غیر قُبُل (دُبُر) کی طرف تجاوز نہ کرو اور اللہ تعالیی گناہوں سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے یعنی ان کو ثواب عطا کرتا ہے اور قدر دانی کرتا ہے اور گندگیوں سے پاک و صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی حصول ولد کے لئے تمہارے واسطے بمنزلہ کھیت کے ہیں، تو تم اپنے کھیت یعنی محل کاشت میں جس طرح چاہو آؤ کھڑے ہوکر، بیٹھ کر، لیٹ کر، اور آگے کی جانب سے یا پشت کی جانب سے، اور وہ محل زراعت قُبُل ہے (یہ آیت) یہود کے اس قول کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی کہ : جس شخص نے اپنی بیوی سے اس کے قبل میں پشت کی جانب سے وطی کی تو اس کے بھینگا بچہ پیدا ہوگا، اور اپنے لئے اعمال صالحہ آگے بھیجو (یعنی اپنے مستقبل کی فکر کرو) مثلاً بوقت بسم اللہ پڑھنا وغیرہ اور اللہ سے اس کے امر و نہی میں ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تمہیں بعد از مرگ زندہ ہونے کے بعد اس سے ملنا ہے تو وہ تمہارے اعمال کی تم کو جزاء دے گا، اور (اے نبی) مومنوں کو جو اللہ سے درتے ہیں جنت کا مثردہ سنا دو اور تم اللہ (کے نام) کو اس کی قسم کھانے کے لئے ہدف نہ بناؤ کہ اس کی قسم کثرت سے کھاؤ کہ نیکی کے اور تقوے کے اور اصلاح بین الناس کے کام نہ کرو گے اور ایسی باتوں پر قسم کھانا مکروہ ہے، اور اس قسم کی قسموں کو توڑ دینا اور کفارہ ادا کردینا سنت ہے، اس کے برخلاف نیکی کرنے کی قسم کھانا طاعت ہے خلاصہ یہ کہ مذکورہ جسے نیک کاموں کے کرنے سے باز نہ رہو جب کہ تم نے اس کے (نہ کرنے کی) قسم کھائی ہو، بلکہ وہ کام کرلو اور (قسم کا) کفارہ ادا کردو، اس لئے کہ اس (آیت) کے نزول کا سبب نیک کام سے رک جانا تھا، اور اللہ تمہاری باتوں کو سننے والا اور تمہارے احوال کا جاننے والا ہے، اللہ تعالیٰ تمہاری لغو (بےمقصد) قسموں پر مؤاخذہ نہ کرے گا، اور وہ ایسی قسمیں ہیں جو بلا ارادہ سبقت لسانی سے تم کھالیتے ہو، جیسے لَا وَاللہ، اور بلیٰ واللہ، تو ان میں نہ گناہ ہے اور نہ کفارہ، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ان پر تم سے ضرور مؤاخذہ کرے گا، یعنی جن قسموں کو تم نے بامقصد کھایا ہے، جب تم حانث ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں کو معاف کرنے وال ہے اور مستحق سزا کی سزا کا مؤخر کرنے کی وجہ سے بردبار ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : المَحِیْض، ظرف زمان (وقت حیض) ظرف مکان (مقام حیض) مصدر (حیض آنا، یا بمعنی حیض، وہ فاسد خون جو مخصوص زمانہ اور مخصوص حالت میں جو ان تندرست غیر حاملہ عورت کے رحم سے نکلتا ہے) ۔ (لغات القرآن) ۔ المحیض ھو الحیض، وھو مصدرٌ، یقال حاضت المرأۃ حَیْضًا ومحیضًا فھی حَائِضٌ وحَائضۃٌ۔ (فتح القدیر شرکانی) قولہ : الحیض اومکانہ، یہ محیض کی دو تفسیروں کی طرف اشارہ ہے، الحیض کہہ کر اشارہ کردیا کہ محیض مصدر میمی ہے، اسکے معنی ہیں سیلان الدم۔ قولہ : قذرٌ او محلہ، یہ اذًی کی دو تفسیریں ہیں اول تفسیر، محیض کی اول تفسیر کے اعتبار سے ہے اور ثانی، ثانی کے اعتبار سے، اس میں لف و نشر مرتب ہے۔ قولہ : بالجماع، اس میں اشارہ ہے کہ حالت حیض میں جماع ممنوع ہے نہ کہ مطلقاً قعبان و میل ملاپ۔ قولہ : یثیبُ ویکرمُ ، یہ یحبُّ کی تفسیر باللاّزم ہے، اسلئے کہ حُبّ ، کے معنی میلان القلب کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شایان شان نہیں ہیں قولہ : وَاتَّقُوا اللہَ اس کا عطف فأتوا حَرثکُمْ پر ہے، اور یہ اشارہ عام بعد الخاص کے قبیل سے ہے۔ قولہ : بَشِّرْ ، اس کا عطف قُلْ ھُوَ اَذًی پر ہے۔ قولہ : الَّذِیْن اتقوہُ ، المؤمنین کو اَلَّذِین اتقوا، کی قید سے مقید کرکے ایک اشکال کو دفع کیا ہے۔ اشکال : یہ ہے کہ سابق سے خطاب مؤمنین کو چل رہا ہے تو یہاں بَشّرھم کہنا کافی تھا ضمیر کافی تھی اسم ظاہر لانے میں کیا مصلحت ہے جواب : سابق میں مخاطب مطلق مومنین تھے اور یہاں مومنین متقین مراد ہے لہٰذا ثانی غیر سابق ہیں اسی لئے اسم ظاہر کی صراحت کرنے کو ضرورت پیش آئی۔ قولہ : عُرْضَۃً نشانہ، ہدف، آڑ، ہتھکنڈہ ” لَاتَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لاَیْمَانِکُمْ “ (اللہ کو اپنی قسموں کے لئے آڑ نہ بناؤ) اس صورت میں عُرضۃٌ کے معنی آڑ، یا بہانے کے ہیں دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ مطلب نکالنے کے لئے بات بات پر قسمیں نہ کھاؤ، اس لئے کہ اس طریقہ پر اللہ کا باعزت نام تمہاری قسموں کا نشانہ بن جائے گا، اس تفسیر کی صورت میں، عُرضَۃ، کا ترجمہ، ہتھکنڈہ، نشانہ کے ہوں گے، مطلب یہ کہ آیت شریفہ میں دونوں مطلبوں کی گنجائش ہے۔ (لغات القرآن) قولہ : نُصُبًا، یہ نَصَبٌ کی جمع ہے بمعنی منصوب، نصب کی ہوئی چیز، ہدف، نشانہ، ای المنصوب للرماۃ، تیر اندازوں کے لئے بطور نشانہ کسی چیز کو گاڑ دینا، کہا جاتا ہے جَعَلتُہٗ عُرضۃً للبیع، میں نے اس کو فروخت کے لئے پیش کیا۔ قولہ : لِأنَّ سبب نزولھا، یہ اَن لا تَبَرُّوا وتَتَّقُوْا، کے حاصل معنی کا بیان ہے بعض نے کہا ہے کہ لا، محذوف نہ ماننا بہتر ہے۔ قولہ : الکائن، اس میں اشارہ ہے کہ ظرف یعنی فی اَیْمَانِکم، الکائن مقدر کے متعلق ہو کر اللغو کی صفت ہے۔ قولہ : اِذَا حَنِثْتُمْ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا دفعیہ ہے۔ اعتراض : یہ ہے کہ قسم بالذات موجب للمؤاخذۃ نہیں ہے لہٰذا مطلقاً یمین پر مؤاخذہ کا حکم لگانے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک اگرچہ یمین ہی موجب کفارہ ہے مگر احناف کے نزدیک حانث ہونا موجب کفارہ ہے یعنی احناف کے نزدیک یمین موجب کفارہ نہیں ہے بلکہ حانث ہوجانا موجب کفارہ ہے۔ تفسیر و تشریح یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ، یہود کا یہ دستور تھا کہ عورت جب حائضہ ہوجاتی تھی تو اس کو گھر سے نکال دیتے تھے اور الگ کسی کونے یا گوشہ میں رہنے پر مجبور کرتے تھے اور اس کے ساتھ کھانا پینا بالکل بند کردیتے تھے، ہنود کا بھی یہی طریقہ تھا کہ حائضہ عورت کے برتن اور بستر الگ کردیتے تھے، غرضیکہ حالت حیض میں اس سے معاشرت بالکل منقطع کردی جاتی تھی، اس کو جانور سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا اس کے برخلاف نصاری کا یہ حال تھا کہ وہ حالت حیض میں بھی جماع کو جائز سمجھتے تھے، یہ دونوں جماعتیں افراط وتفریط میں مبتلا تھیں۔ ابوالدّ خدا ح اور بعض دیگر صحابہ ؓ کی ایک جماعت نے حالت حیض میں عورت سے جماع کے بارے میں آپ ﷺ سے دریافت کیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ قَدْ اخرجَ مسلم واھل المسنن وغیرھم عن انس أن الیھود کانوا اذا حاضت المرأۃ اخرجوھا من البیتِ ولم یواکلوھا ولم یشاربوھا ولم یجامعوھا فی البیوت، فسئل رسول اللہ ﷺ عن ذلک فانزل اللہ ” ویَسْئلونک عن المحیض “ (الآیۃ) فقال رسول اللہ ﷺ : جامعوھُنَّ فی البیوت واصنعوا کل شئ اِلا النکاح۔ مسلم اور اہل سنن وغیرہم نے حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہود کا یہ دستور تھا کہ جب عورت حائضہ ہوجاتی تھی تو اس کو گھر سے باہر کردیتے تھے اور اس کے ساتھ کھانا پینا بند کردیتے تھے اور اس کے ساتھ مجامعت ترک کردیتے تھے، غرضیکہ اس کے ساتھ بودوباش ختم کردیتے تھے، اور صحابہ نے حالت حیض میں عورت کے ساتھ معاشرت و مجامعت کے بارے میں سوال کیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ جماع کے علاوہ کوئی چیز منع نہیں ہے، ہندوستان میں بھی چند صدیوں قبل تک یہی طریقہ رہا ہے بستر برتن وغیرہ سب الگ کر دئیے جاتے تھے، خصوصاً اونچی ذات سمجھے جانے والی قوموں میں زمانہ قریب تک یہی صورت حال رہی ہے، اس کے علاوہ بھی اور بہت سے معاملات ان کے طور و طریقے یہود کے طور و طریقوں کے مطابق رہے ہیں، مال کی حرص، موت کا خوف، اپنے سے نیچے سمجھے جانے والی قوموں کو مذہبی کتابیں پڑھنے کا حق نہ ہونا، قلت تعداد کے باوجود اقتدار پر قابض رہنا، سود کو محبوب ترین ذریعہ آمدنی سمجھنا اور خود کو ہی اقتدار کا مستحق سمجھنا ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہنود کا نسلی تعلق یہود ہی سے ہے۔ قرآن مجید نے حالت حیض میں جماع کے مسئلہ کو استعارہ کے طور پر بیان کیا ہے جیسا کہ قرآن کی عادت ہے کہ اس قسم کے مسائل استعاروں اور کنایوں میں بیان کرتا ہے، اسی کو ” ولا تقربوھن “ سے بیان کیا ہے، یعنی ان سے الگ رہو ان کے قریب نہ جاؤ کے الفاظ استعمال کئے ہیں، مگر ان کا مطلب یہ نہیں کہ حائضہ عورت کے ساتھ بستر پر بیٹھنے یا ایک جگہ کھانے پینے سے بھی احتراز کیا جائے اور بالکل اچھوت بنا کر رکھ دیا جائے جیسا کہ یہود و ہنود اور بعض دوسری قوموں کا دستور ہے، نبی ﷺ نے اس حکم کی توضیح فرما دی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت حیض میں صرف مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے، باقی تمام تعلقات بدستور برقرار رکھے جائیں یہود اور بعض دیگر قوموں کا اس معاملہ میں تشدد : بعض قوموں میں عورتیں اپنے حیض کے زمانہ میں نہ دوسروں کے ساتھ کچھ کھاپی سکتی ہیں نہ لیٹ بیٹھ سکتی ہیں، بعض قوموں میں اس زمانہ میں عورت کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا ناپاک سمجھا جاتا ہے، اور بعض مشرک قوموں میں یہ دستور ہے کہ اس زمانہ میں عورت کو میلے کچیلے کپڑے پہنا کر گھر کے ایک گوشہ میں اچھوت بنا کر بٹھا دیا جاتا ہے، غرضیکہ دوسری قوموں نے عام طور پر اس طبعی ناپاکی سے متعلق بہت مبالغہ آمیز تخیل قائم کرلیا ہے، شریعت اسلامی میں اس قسم کے کوئی امتناعی احکام موجود نہیں ہیں۔ حالت حیض میں توریت کا قانون : مشرک قوموں نے اس بات میں جو سختیاں روا رکھی ہیں ان سے قطع نظر خود محرف تورات کے قانون کا تشدد بھی اس باب میں اپنی مثال ہے، عورت ایام ماہواری کے زمانہ میں خود ہی ناپاک نہیں ہوتی بلکہ جو شخص یا جو چیز بھی اس سے چھو جاتی ہے وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے اور سلسلہ در سلسلہ یہ ناپاکی متعدی ہوتی جاتی ہے، ملاحظہ فرمائیں۔ جو کوئی اسے چھوئے گا شام تک نجس رہے گا، اور جو کوئی اس کے بستر کو چھوئے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک ہے اور جو کوئی اس چیز کو جس پر وہ بیٹھی ہے چھوئے، اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے اور شام تک ناپاک رہے، اگر مرد اس کے ساتھ سوتا ہے اور اس کی نجاست اس پر ہے تو وہ رات دن ناپاک رہے گا اور ہر ایک بستر جس پر مرد سوئے گا ناپاک ہوجائے گا۔ (احبار : 24، 19، 15) (ماجدی) مسئلہ : اگر حیض پورے دس دن گزرنے پر موقوف ہو تو بغیر غسل کئے بھی صحبت درست ہے۔ مسئلہ : اگر دس دن سے پہلے حیض موقوف ہوجائے مگر عادت کے موافق موقوف ہوتا صحبت جب درست ہوتی ہے کہ عورت یا تو غسل کرے یا ایک نماز کا وقت گزر جائے، اور اگر دس دن سے پہلے موقوف ہو اور ابھی عادت کے دن پورے نہیں ہوئے مثلاً سات دن کی عادت تھی اور حیض چھ ہی دن میں موقوف ہوگیا تو ایام عادت کے گزرے بغیر صحبت درست نہیں ہے۔ مسئلہ : اگر غلبہ شہوت سے حالت حیض میں صحبت ہوگئی تو خوب توبہ و استغفار کرنا واجب ہے اور اگر کچھ صدقہ و خیرات بھی کر دے تو بہتر ہے۔ مسئلہ : پیچھے کے راستہ میں اپنی بیوی سے بھی صحبت حرام ہے بعض شیعہ حضرات اپنی بیوی سے وطی فی الدبر کو جائز ٹھہراتے ہیں جو بالکل غلط ہے اور اَنّٰی شئتُمْ میں انّٰی بمعنی اَیْنَ لے کر استدلال کرتے ہیں حالانکہ حَرثَکُمْ ، اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں اَنّٰی بمعنی کَیْفَ ہے
Ayahs 2:224–225

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور خدا (کے نام) کو اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اور پرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

وَلَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لاَیْمَانِکُمْ ، عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ بھی تھا کہ قسم کھا کر یہ کہہ دیتے تھے کہ ہم فلاں کام نیکی، تقویٰ ، اصلاح ذات البین کا نہیں کریں گے اور جب کوئی ان سے کہتا تو یہ کہہ دیتے کہ ہم اس کام کے نہ کرنے کی قسم کھاچکے ہیں، ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی صورتاً مذموم تھا چہ جائیکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے باعظمت نام کو قرب حق کے بجائے کارخیر سے دوری کا ذریعہ بنایا جائے۔ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں اس پر واضح ہوجائے کہ اس قسم کو توڑ دینے ہی میں خیر ہے تو اس کو قسم توڑ دینی چاہیے اور کفارہ ادا کرنا چاہیے، قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا یا تین دن کے روزے رکھنا ہے، البتہ جو قسمیں بطور تکیہ کلام کے بلا ارادہ زبان سے نکل جاتی ہیں ایسی قسموں پر نہ مواخذہ ہے اور نہ کفارہ۔ عُرضۃ، کے عام اور متداول معنی ہدف یا نشانہ کے ہیں اور بعض نے یہی معنی مراد لئے ہیں لیکن ایک دوسرے معنی حجاب اور مانع کے بھی ہیں اور یہاں یہی معنی زیادہ چسپاں ہیں۔ فقہاء نے بلا ضرورت اور کثرت سے قسم کھانے کو یوں بھی ناپسند کیا ہے اس میں اللہ کے نام کی بےتوقیری ہے، چہ جائیکہ قصداً جھوٹی قسمیں کھانا۔
Ayahs 2:226–228

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہئے اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے رہیں اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں اور عورتوں کو حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر البتہ مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

آیت نمبر 226 تا 228 ترجمہ : اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھالیتے ہیں، تو ان کے لئے چار ماہ انتظار کی مدت ہے پس اگر اس مدت میں یا اس کے بعد وطی کی جانب قسم سے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ عورت کے اس نقصان کو معاد کرنے والے ہیں، جو انہوں نے اس قسم کے ذریعہ پہنچایا ہے اور ان پر رحم کرنے والے ہیں، اور اگر طلاق کا ہی کا پختہ ارادہ ہو بایں طور کہ وہ رجوع نہ کریں گے تو پھر طلاق ہی دیدیں، اللہ تعالیٰ ان کی بات کو سننے والا ہے اور ان کے عزم کو جاننے والا ہے مطلب یہ ہے کہ مذکورہ (مدت) انتظار کے بعد ان کے لئے صرف رجوع کرنے یا طلاق دینے کی صورت ہے اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو طلاق کے وقت سے تین حیض تک نکاح سے روکے رکھیں (قُروء) قُرءٌ کی جمع ہے، قاف کے فتحہ کے ساتھ، اس کے معنی طہر یا حیض کے ہیں، یہ دو قول ہیں اور یہ حکم مدخول بہا عورتوں کا ہے، لیکن غیر مدخول بہا تو ان کے لئے کوئی مدت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے قول ” فَمَا لَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا “ کی وجہ سے (اگر تم نے وطی نہ کی ہو تو ان پر تمارے لئے کوئی عدت نہیں) اور یہ حکم آئسہ (یعنی) حیض سے ناامید اور صغیرہ کے علاوہ کا ہے کہ ان کی عدت تین ماہ ہے اور حاملہ عورتیں، تو ان کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ سورة طلاق میں ہے اور رہیں باندیاں تو ان کی عدت دو قُرُوء (حیض یا طہر) ہیں سنت کی رو سے، اور ان کے لئے حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو بچہ یا حیض پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر ایمان ہو اور ان کے شوہر اس مدت انتظار میں ان کو لوٹانے کے پورے حق دار ہیں اگرچہ بیویاں انکار کریں، اگر ان کا آپسی اصلاح کا قصد ہو نہ کہ عورت کو نقصان پہنچانے کا، اور یہ کلام (اِنْ اَرَادُوْا اِصْلَاحًا) اصلاح پر آمادہ کرنے کے لئے ہے نہ کہ جواز رجعت کی شرط کے طور پر اور یہ (حق رجعت) طلاق رجعی کی صورت میں ہے، اور لفظ (احق) میں تفصیل کے معنی نہیں ہیں، اس لئے کہ شوہروں کے علاوہ کسی کو عدت کی مدت میں ان سے نکاح کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اور عورتوں کے بھی مردوں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیس حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں شرعی دستور کے مطابق، حسن سلوک حسن معاشرت کے ساتھ اور نقصان رسانی وغیرہ کو ترک کرکے، البتہ مردوں کو حقوق میں عورتوں پر فضیلت حاصل ہے اور وہ عورتوں پر اطاعت کا وجوب ہے اس لئے کہ مردوں نے مہر اور نان نفقہ کا ذمہ لیا ہے، اور اللہ زبردست ہے اپنے ملک میں اور حکمت والا ہے ان چیزوں میں جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے بطور تدبیر اختیار کی ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یُؤلُوْنَ ، (اِیْلَاءٌ) سے جمع مذکر غائب، جو عورتوں سے ہم بستر نہ ہونے کی قسم کھالیں اَلْاِیْلاء فی اللغۃ الیمین، وَالْاِیْلاء مِنَ المرأۃ اَنْ یَقُوْل وَاللہ لَا اقْرَبُکِ اَرْبَعَۃَ اشھرٍ فَصَاعِدًا۔ قولہ : اَنْ لایُحَامِعوھُنَّ یہ عبارت اس سوال کا جواب ہے کہ حلف فعل پر ہوتی ہے نہ کہ ذات پر، یہاں نسائِھم، پر حلف ہے جو کہ ذات ہے۔ جواب : عبارت حذف مضاف کے ساتھ ہے ای یَحْلِفونَ اَنْ لا یُجَامِعوھُنَّ حذف مضاف کا مقصد مبالغہ ہے جیسا کہ حُرِمَّت عَلَیْکُمْ اُمَّھَاتُکُمْ میں ہے۔ قولہ : تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اشھُر ٍ بترکیب اضافی مبتداء مؤخر، من نساء ھِمْ خبر مقدم۔ سوال : یُؤْلُوْنَ ، کا صلہ عَلٰی استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں مِنْ استعمال ہوا ہے۔ جواب : اِیْلاء، بُعد، کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے، مِنْ صلہ لانا درست ہے، چونکہ ایلاء کرنے والا بھی اپنی بیوی سے دور رہتا ہے لہٰذا ایلاء بمعنی بعد درست ہے۔ قولہ : عَلَیْہِ ۔ سوال : عَلَیْہِ ، مقدر ماننے سے کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اَلطَّلاق حذف جر کی وجہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اِنْ عزموا علی الطلاق۔ قولہ : بفتح القاف۔ سوال : قَرْءٌ کو فتحہ قاف کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے جب کہ ضمہ قاف بھی اس میں ایک لعنت ہے۔ جواب : جمع جب قُرُوءٌ ہو تو اس کا واحد قَرءٌ بفتح القاف ہی ہوتا ہے چونکہ جمع مذکور قُروءٌ ہے اس لئے واحد کا قاف کے فتحہ کے ساتھ ہونا ضروری ہے اگر ضمہ قاف کے ساتھ ہو تو اس کی جمع اَقْراء آتی ہے۔ جیسے قُفْل، کی جمع اَقْفَال آتی ہے۔ قولہ : ھو الطھر والحیض، اول امام شافعی (رح) تعالیٰ کا اور ثانی امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور امام مالک (رح) تعالیٰ کا ہے۔ قولہ : اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہِ الخ یہ شرط ہے اور اس کی جزاء فَلَایَجْتَرِئن علیٰ ذٰلِکَ ، محذوف ہے۔ قولہ : بعُولَتُھُنَّ ، ان عورتوں کے شاہر بُعُوْلَۃٌ، بَعُلٌ کی جمع ہے جیسا کہ فُوُلَۃٌ، فَحْلٌ کی جمع ہے تاء زائدہ اور امثلہ سماعی ہے۔ قولہ : اَحَقُ لاتفضیل فیہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : اَحَقُّ اسم تفضیل ہے اور اسم تفضیل مفضل علیہ کا تقاضہ کرتا ہے حالانکہ یہاں مفضل علیہ ممکن نہیں ہے اس لئے کہ شوہر کے علاوہ کسی کو رجعت کا حق ہی نہیں ہے اعتراض کا ماحصل یہ ہے کہ اَحَقُّ اسم تفضیل سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر رجعت کا زیادہ حق دار ہے اور غیر شوہر کم حق دار ہے حالن کہ غیر شوہر کو رجعت حق کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ جواب : اسم تفضیل بمعنی اسم فاعل ہے یعنی اَحَقَ بمعنی حقیقی ہے، لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ہے یہی مطلب ہے مفسر علام کے قول ” اِذْ لَا حقّ لغیرھم فی نکاحھِنَّ فی العدۃ “ کا گویا کہ یہ الشتاء اَبْرَدُ مِنَ الصیف کے قبیل سے ہے۔ قولہ : لَمَا ساقوا مِنَ المھر وَالاِنفاق یہ ثبوت درجہ کی علت ہے اس لئے کہ لذت، باشرت اور طلب ولد میں دونوں برابر کے شریک ہیں اور امورخانہ داری کے انتظام میں بھی دونوں مساوی، شوہر کے ذمہ خارجی امور ہیں اور بیوی کے ذمہ داخلی اور مزید برآں شوہر کے ذمہ بیوی کے نان نفقہ اور مہر کی بھی ذمہ داری ہے اس اضافی ذمہ داری کی وجہ سے مرد کو عورت پر ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔ تفسیر وتشریح لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ ، چار ماہ یا اس سے زیادہ یا مطلقاً بیوی سے ازدواجی تعلق نہ کرنے کی قسم کھا لینا شریعت کی اصطلاح میں ایلاء کہلاتا ہے، میاں بیوی کے درمیان کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ تعلقات خوشگوار نہ رہ سکیں اور بگاڑ کے اسباب ظاہر ہوجائیں، لیکن ایسے بگاڑ کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کہ دونوں ایک دوسرے سے قانونی طور پر رشتہ ازدواج میں تو بند ہے رہے مگر عملاً ایک دوسرے سے اس طرح الگ رہیں کہ گویا وہ میاں بیوی ہی نہیں ہیں، ایسے بگاڑ کے لئے اللہ تعالیٰ نے چار ماہ کی مدت مقرر کردی ہے کہ یا تو اس دوران اپنے تعلقات درست کرلیں ورنہ ازدواجی رشتہ منقطع کردیں، تاکہ دونوں ایک دوسرے سے آزاد ہو کر اپنی راہ اور اپنی منزل متعین کرسکیں۔ آیت میں چونکہ قسم کھا لینے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس لئے فقہاء حنفیہ اور شافعیہ نے اس آیت کا منشایہ سمجھا ہے کہ جہاں شوہرنے بیوی سے تعلق زن و شونہ رکھنے کی قسم کھائی ہو، صرف وہیں اس حکم کا اطلاق ہوگا باقی رہا قسم کھائے بغیر تعلق منقطع کرلینا، تو یہ خواہ کتنی ہی طویل مدت کے لئے ہو، اس آیت کا حکم اس پر چسپاں نہ ہوگا۔ مگر فقہاء مالکیہ کی رائے یہ ہے کہ خواہ قسم کھائی گئی ہو یا نہ کھائی گئی ہو دونوں صورتوں میں ترک تعلق کے لئے بھی چار مہینے کی مدت ہے ایک قول امام احمد بن حنبل کا بھی اسی کی تائید میں ہے۔ (بدایۃ المجتھد جلد دوم) ۔ حضرت عثمان ؓ ، ابن مسعود ؓ ، زید بن ثابت ؓ وغیرہم کے نزدیک رجوع کا موقع چار ماہ کے اندر ہے اس مدت کا گزر جانا خود بات کی دلیل ہے کہ شوہر نے طلاق کا عزم کرلیا ہے اور اس لئے یہ مدت گزرتے ہی طلاق خود بخود واقع ہوجائے گا اور وہ ایک طلاق بائن ہوگی، یعنی دوران عدت شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا، البتہ اگر دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ سے بھی ایک قول اسی معنی میں منقول ہے اور فقہاء حنفیہ نے اسی رائے کو قبول کیا ہے۔ سعید بن مسیب، مکحول، زہری یہاں تک تو متفق ہیں کہ چار مہینے کی مدت گزرنے کے بعد خودبخود طلاق واقع ہوجائے گی مگر ان کے نزدیک وہ ایک طلاق رجعی ہوگی، یعنی دوان عدت میں شوہر کو رجوع کرلینے کا حق ہوگا اگر رجوع نہ کرے تو مدت گزر جانے کے بعد اگر دونوں چاہیں تو نکاح کرسکتے ہیں۔ بخلاف اس کے حضرت عائشہ ؓ ابو الدرداء ؓ اور اکثر فقہاء مدینہ کی رائے یہ ہے کہ چار ماہ کی مدت گزرنے کے بعد معاملہ عدالت میں پیش ہوگا، اور حاکم عدالت شوہر کو حکم دے گا کہ یا تو اس عورت سے رجوع کرے یا اسے طلاق دے، حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ اور ابن عمر ؓ کا ایک قول اس کی تائید میں بھی ہے اور امام مالک و شافعی (رح) تعالیٰ نے اسی کو قبول کیا ہے۔ خلاصہ کلام : اگر شوہر قسم کھالے کہ اپنی بیوی سے صحبت نہ کروں گا، اس کی چار صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کوئی مدت متعین نہ کرے، دوم یہ کہ چار مہینے کی قید لگا دے، سوم یہ کہ چار ماہ سے زیادہ کی قید لگا دے، چہارم یہ کہ چار ماہ سے کم کی مدت کا نام لے، صورت اول و دوم و سوم کو اصطلاح شرع میں ایلاء کہتے ہیں، اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ دے اور بیوی کے پاس چلا جاوے تو قسم کا کفارہ دے اور نکاح باقی ہے اور اگر چار ماہ گزر گئے اور قسم نہ توڑی تو اس عورت پر قطعی طلاق پڑگئی، یعنی بلانکاح رجوع کرنا درست نہیں رہا البتہ اگر دونوں رضا مند ہوں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں اور حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی، اور چوتھی صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم توڑے تو کفارہ لازم ہوگا، اور اگر قسم پوری کی جب بھی نکاح باقی ہے۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق (صرف) دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا اور جو لوگ خدا کی حدو سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

آیت نمبر 229 تا 231 ترجمہ : ایسی طلاق جس کے بعد رجوع کیا جاسکے دو با رہے یعنی دو تک ہیں، پھر یا تو معروف طریقہ سے تمہارے ذمہ روک لینا ہے بعد اس کے کہ ان سے رجوع کرلو، یا بھلے طریقہ سے ان کا رخصت کردینا ہے بغیر نقصان پہنچائے اور شوہرو ! تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں کہ جب تم ان کو طلاق دو تو جو مہر تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو کہ اللہ نے ان کے لئے جو حدود مقرر کئے ہیں ان کو ادا نہ کرسکیں گے اور ایک قراءت میں (یَخَافَا، یُقیما) کو تاء کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں کے درمیان معاملہ طے ہوجانے میں کہ عورت اپنے نفس کا مالی معاوضہ دیدے تاکہ شوہر اس کو طلاق دیدے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یعنی نہ شوہر کے لئے اس معاوضہ کے لینے میں کوئی حرج ہے اور نہ عورت کے لئے اس کے دینے میں یہ مذکورہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں وہی لوگ ظالم ہیں، پھر اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد طلاق دیدے تو اس کے لئے تیسری طلاق کے بعد وہ عورت حلال نہیں اِلاّ یہ کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور وہ (دوسرا شوہر) اس سے وطی کرے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے (رواہ الشیخان) پھر اگر دوسرا شوہر اس کو طلاق دیدے تو بیوی اور شوہر اول پر کوئی حرج نہیں کہ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کرلیں، اگر دونوں یہ خیال کریں کہ وہ حدود الہیٰ کو قائم رکھیں گے، یہ مذکورہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، اللہ ان لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں غور و فکر کرتے ہیں، اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں یعنی ان کی عدت ختم ہونے کے قریب ہوجائے تو ان سے رجوع کرکے بھلے طریقہ پر بغیر نقصان پہنچائے، ان کو روک لو، یا شریفانہ طریقہ سے ان کو رخصت کردو، یعنی ان کو (اپنی حالت پر) چھوڑ دو تاآنکہ ان کی مدت پوری ہوجائے اور رجعت کے ذریعہ ستانے کے لئے نہ روکو (ضراراً ) مفعول لہ ہے کہ ان کو فدیہ (معاوضہ خلع) دینے یا خلع کرنے پر مجبور کرنے اور مدت حبس کو طویل کرنے کے لئے (نہ روکو) اور جو ایسا کرے گا تو اس نے درحقیقت خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا، اللہ کے عذاب پر خود کو پیش کرکے اور اللہ کی آیات کو کھیل نہ بناؤ یعنی ان کی مخالفت کرکے ان کا مذاق نہ بناؤ، اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت اسلام کو یاد رکھو اور اس کتاب (یعنی) قرآن اور حکمت کو اور اس میں جو احکام ہیں یاد رکھو جو تم پر نازل کی ہے وہ تم کو اس کی نصیحت کرتا ہے کہ اس پر عمل کرکے اس کی شکر گزاری کرو اور اللہ سے ڈرو اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ ہر بات سے باخبر ہے اس سے کوئی شئ پوشیدہ نہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : التطلیق الَّذِیْ ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ کہ الطلاق اسم مصدر، تَطْلیق مصدر کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ طلاق سے شوہر کا فعل تطلیق مراد ہے اس لئے کہ فعل طلاق ہی متصف بالوحدۃ والتعدد ہوتا ہے نہ کہ وہ طلاق جو مرأۃ کی صفت ہوتی ہے اس کی تائید اوتَسْرِیْحٌ سے بھی ہوتی ہے اس لئے کہ تَسْریح، بھی شوہر کا فعل ہے۔ قولہ : فَعَلَیْکُم، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِمْسَاک، مبتداء ہے اور اس کی خبر، فَعَلیکُم، محذوف ہے۔ سوال : اِمْسَاک، نکرہ ہے لہٰذا اس کا مبتداء بننا درست نہیں ہے۔ جواب : اِمْسَاک کی صفت، بمعروف ہے لہٰذا نکرہ جب موصوف بالصفت ہو تو اس کا مبتداء بننا صحیح ہوتا ہے۔ قولہ : ای اِثْنتان۔ سوال : مَرَّتَان، کی تفسیر اثنتان، سے کرنے میں کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مَرَّتَان، سے اس کے حقیقی معنی جو کہ تثنیہ ہیں، مراد ہیں، یعنی دو طلاقیں نہ کہ مجازی معنی جو کہ تکرار ہیں، گویا کہ یہ رد ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کہا ہے کہ مَرّتان، یہاں تکرار کے معنی میں ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ تکرار معنی مجازی ہیں اور تثنیہ معنی حقیقی ہیں اور معنی مجازی سے حقیقی مراد لینا اولی ہوتا ہے دو مجازی معنی مراد لینے والوں کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ایک ساتھ دو طلاق درست نہیں ہے بلکہ دو مرتبہ میں دو طلاقیں ہونی چاہئیں اور جو لوگ مرتان کو اثنتان (تثنیہ) کے معنی میں لیتے ہیں ان کے نزدیک ایک لفظ سے دو طلاق دینا درست ہے۔ قولہ : بَعْدَ التطلیقۃِ الثالثۃِ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بَعْدُ ، مبنی برضم ہے اس لئے کہ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے اور وہ بَعْدَ الطلقہ الثالثۃِ ہے، لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ اس کو حرف جر کی وجہ سے مجرور ہونا چاہیے۔ قولہ : تَتَزَوَّجُ ، تنکح، کی تفسیر تتزوجَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ تنکح، بمعنی عقد نکاح ہے نہ کہ وطی اس لئے کہ عقد نکاح مراد لینے کی صورت میں اس کی اسناد مرد اور عورت دونوں کی طرف حقیقت ہوگی اور اگر بمعنی وطی ہو تو مرد کی طرف تو نسبت حقیقی ہوگی مگر عورت کی جانب وطی کی نسبت مجازی ہوگی قولہ : یَطَاھَا اس میں ان لوگوں پر رد ہے جو حلالہ کے لئے صرف عقد نکاح کو کافی سمجھتے ہیں، جیسا کہ سعید بن مسیّب (رح) تعالیٰ اس لئے کہ یہ حدیث مشہور کے خلاف ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : رَویٰ عروۃ بن الزبیر الخ، فرماتے ہیں کہ لوگ ابتداء اسلام میں اپنی بیویوں کو بیشمار طلاقیں دیدیا کرتے تھے اور بعض لوگ ایسا بھی کرتے تھے کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدتے تھے اور جب اس کی عدت ختم ہونے کے قریب ہوجاتی تھی تو رجوع کرلیتے تھے اس کے بعد پھر طلاق دیدتے تھے، ستانے اور تکلیف پہنچانے کی نیت سے اسی طرح باربار کرتے رہتے تھے تو اس موقع پر اَلطّلاق مَرَّتَانِ نازل ہوئی۔ (مظہری) طلاق رجعی دو ہی تک ہیں : طلاق رجعی دو ہی بار ہے پھر خواہ حسن معاشرت اور محبت سے اسے رکھ لے یا احسان اور شریفانہ طریقہ سے رخصت کروے ” تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ “ اکثر روایتوں میں تیسری طلاق ہے مگر ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کہتے ہیں کہ تیسری طلاق ضرر خالص ہے احسان سے اس کیا واسطہ، بلکہ مراد یہ ہے کہ دوسری طلاق کے بعد اگر رجوع کرنا اور محبت سے بسر کرنا ہے تو بہتر، ورنہ خاموش بیٹھ رہے، جب عدت پوری ہوجائیگی عورت خودبخود بائنہ ہوجائے گی اس کے بعد اگر دونوں کی مرضی ہو تو نکاح کرسکتے ہیں یہی ان کے حق میں احسان ہے۔ طلاق دینے کے تین طریقے : طلاق دینے کے تین طریقے ہیں (اول) اَحْسَن، یعنی صرف ایک طلاق ایسے طہر میں دے جس میں عورت سے جماع نہ کیا ہو، (دوسری) حَسَن یعنی تین طلاقیں اس طرح دے کہ جب حیض سے پاکی حاصل ہو تو وطی سے پہلے طلاق دے پھر دوسرے حیض کا اتنظار کرے دوسرے حیض کے بعد دوسری طلاق اور تیسرے حیض کے بعد تیسری طلاق دے کر قصہ ختم کرے، اور اگر عورت کو حیض نہ آتا ہو یعنی صغیرہ ہو یا آئسہ (بہت بوڑھی) تو ہر ماہ بعد ایک طلاق دے، (تیسری) بدعی، ایک وقت یا ایک طہر میں تین طلاقیں دے یہ طلاقیں تو پڑجائیں گی مگر مرد گنہگار ہوگا، اس طلاق کے واقع ہونے میں بعض حضرار کو کلام ہے مگر ابن عمر کی مرفوع حدیث ہماری شاہد ہے اور حیض میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے مگر رجوع کرنا واجب ہے اگر حالت حیض میں طلاق واقع ہی نہ ہو تو ابن عمر ؓ کو حالت حیض میں دی ہوئی طلاق سے رجوع کرنے کے حکم کے کیا معنی ؟ لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ کہ طلاق دو بار ہے یعنی مسنون تو یہی ہے کہ ایک بار ایک طلاق دے پھر دوسری دے، بعد ازاں خواہ رجوع کرے یا تیسری طلاق بھی دیدے بیک وقت دو طلاقیں دینا چونکہ اچھا نہیں ہے اسی لئے مرتان، یعنی ” دو بار “ فرمایا کہ تعداد اور توقف پر اشارہ کرے فائدہ : اس مختصر سی آیت میں ایک بہت بڑی معاشرتی خرابی کی جو عرب جاہلیت میں رائج تھی اصلاح کی گئی ہے عرب میں قاعدہ یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو بےحدو بےحساب طلاق دینے کا مجاز تھا، جس عورت سے اس کا شوہر بگڑ جاتا تھا اس کو بار بار طلاق دے کر رجوع کرتا رہتا تھا، تاکہ نہ تو وہ غریب اس کے ساتھ بس ہی سکے اور نہ اس سے آزاد ہو سکے کہ کسی اور سے نکاح کرلے، قرآن مجید کی یہ آیت اسی ظلم کا دروازہ بند کرتی ہے، اس آیت کی رو دے ایک مرد رشتہ نکاح میں اپنی بیوی پر زیادہ سے زیادہ دو ہی مرتبہ طلاق رجعی کا حق استعمال کرسکتا ہے جو شخص اپنی منکوحہ کو دو مرتبہ طلاق دے کر اس سے رجوع کرچکا ہو وہ اپنی عمر میں اس کو تیسری بار طلاق دے گا تو عورت اس سے مستقل طور پر جدا ہوجائے گی۔ اگر ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے ڈالی جائیں، جیسا کہ آج کل جہلاء کا عام طریقہ ہے تو یہ شریعت کی رو سے سخت گناہ ہے اس کی بڑی مذمت فرمائی گئی ہے اور حضرت عمر ؓ سے یہاں تک ثابت ہے کہ جو شخص بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیتا تھا آپ اس کو درے لگاتے تھے، تاہم سخت گناہ ہونے کے باوجود ائمہ اربعہ کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور طلاق مغلظ ہوجاتی ہے۔ وَلَایَحِلُّ لَکُمْ أَنْ تَاْخُذُوْا (الآیۃ) یعنی مہر اور وہ زیورات اور کپڑے وغیرہ جو شوہر اپنی بیوی کو دے چکا ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی واپس طلب کرنے کا اسے حق نہیں ہے، یہ بات ویسے بھی اسلامی اخلاقی اصولوں کی ضد ہے کہ کوئی شخص ایسی چیز کو جسے وہ دوسرے شخص کو ہبہ یا ہدیہ و تحفہ کے طور پردے چکا ہو واپس مانگے، اس ذلیل حرکت کو حدیث شریف میں اس کتے کے فعل سے تشبیہ دی گئی ہے جو اپنی ہی قے کو خود چاٹ لے، مگر خصوصیت کے ساتھ ایک شوہر کے لئے تو یہ بہت ہی شرمناک ہے کہ وہ طلاق دے کہ رخصت کرتے وقت اپنی بیوی سے وہ کچھ رکھوا لیتا ہے جو اس نے کبھی اسے خود دیا تھا، اس کے برعکس اسلام نے یہ اخلاق سکھائے ہیں کہ آدمی جس عورت کو طلاق دے اسے رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے۔ شان نزول : تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہے کہ جمیلہ یا حبیبہ نامی خاتوں حضور ﷺ کی خدمت میں آئیں اور اپنے شوہر ثابت بن قیس کی شکایت کی اور مار کے نشان جو منہ پر تھے دکھائے اور کہا میرا اور اس کا اب نبھاؤ نہ ہوسکے گا، آپ ﷺ نے ابن قیس کو بلا کر حالات معلوم کئے، ابن قیس نے عرض کیا یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس عورت سے زیادہ دنیا میں کسی کو محبوب نہیں رکھتا سوائے آپ کی محبت کے، آپ کی محبت تو آپ کے مشتاقوں کے لئے رگ و پے میں خون کی طرح داخل ہے بلکہ جوہر روح اور لطف حیات ہے آپ نے جمیلہ سے فرمایا : اب تم کیا کہتی ہو ؟ وہ بولیں کہ میں ایسی بات نہ کہوں گی جس کے خلاف حضور پر وحی نازل ہوجائئے، بیشک ثابت اپنی بیوی سے سلوک کرنے میں تمام مردوں سے اچھا ہے مگر مجھے اس سے بالطبع نفرت ہے، اور بعض روایتوں میں بدصورتی کا بھی ذکر ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا وہ باغ جو تم نے مہر میں لیا ہے واپس کردوگی ؟ بولیں باغ اور مزید کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا ” اَمَّا الزِیادۃُ فَلَا “ مہر سے زائد نہ کیا جائے پھر آپ ﷺ نے ثابت سے فرمایا ” اقبل الحدیقۃ وطَلّقْھا تَطْلیفۃ “ باغ لو اور طلاق دو ۔ (خلاصۃ التفاسیر، تائب لکھنوی) مباحث احکام خلع : خَلْع، (ف) خَلْعًا، اتارنا، خَلَعَ المرأۃ، مال کے عوض عورت نے جدائی اختیار کی، اگر عورت کی جانب سے مال کے عوض طلاق کا مطالبہ ہو تو اس کو شریعت کی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں اور اگر شوہر کی جانب سے مال کے عوض طلاق کی پیش کش ہو تو طلاق علی مال کہتے ہیں۔ مسئلہ : اس بارے میں اگر شوہر اور بیوی کے درمیان آپس میں معاملہ طے ہوجائے، تو جو کچھ طے ہوا ہو وہی نافذ ہوگا، لیکن اگر عدالت میں معاملہ چلا جائے تو عدالت صرف اس امر کی تحقیق کرے گی کہ آیا فی الواقع یہ عورت اس حد تک متنفر ہے کہ اس کے ساتھ اس کا نباہ نہیں ہوسکتا، اس کے تحقیق ہوجانے پر عدالت کو اختیار ہے کہ حالات کے لحاظ سے جو فدیہ چاہے تجویز کرے اور اس فدیہ کو قبول کرکے شوہر کو اسے طلاق دینے کا حکم کرے، شوہر پر لازم ہوگا کہ فدیہ قبول کرکے طلاق دیدے بالعموم فقہاء نے اس کو پسند نہیں کیا کہ جو مال شوہر نے اس عورت کو دیا ہو، اس سے زائد کا فدیہ دلوایا جائے۔ مسئلہ : خلع کی صورت میں طلاق بائن ہوتی ہے شوہر اس سے رجوع نہیں کرسکتا البتہ یہی مرد اور عورت اگر راضی ہوجائیں تو دوبارہ نکاح جدید کرسکتے ہیں۔ مسئلہ : جمہور کے نزدیک خلع کی عدت وہی ہے جو طلاق کی ہے، مگر ابو داؤد، ترمذی، اور ابن ماجہ وغیرہ کی کی متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اس کی عدت ایک ہی حیض قرار دی تھی اور اس کے مطابق حضرت عثمان غنی ؓ نے ایک مقدمہ میں فیصلہ فرمایا تھا۔ (ابن کثیر جلد اول، ص : 276) فائدہ : خلع کی چار صورتیں ممکن ہیں، (1) شوہر کی طرف سے زیادتی ہو، (2) عورت کی شرارت ہو، (3) دونوں کی خطاء ہو، (4) کسی کی طرف سے بھی کوئی بےلطفی نہ ہو، یہ چوتھی صورت خلع سے متعلق نہیں ہے اور نہ اس سے کوئی حکم متعلق ہے۔ بحث : باقی رہی تین صورتیں، قرآن نے عورت کا مال لینا اس شرط پر حلال کیا ہے کہ جب دونوں کی طرف سے ظلم وتعدی کا خوف ہوجیسا کہ فرمایا : ” اَنْ یَّخَافَآ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَاللہِ “ لہٰذاوہ صورت کہ شوہر کی طرف سے زیادتی ہو آیت سے متعلق نہیں ہے عورت کے مال کی حرکت بدستور باقی رہے گی، اسی کے متعلق دوسرے مقام پر یہ تصریح فرمائی ،” اِنْ اَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ “ اگر ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری سے نکاح کرنا چاہتے ہو ” فَلَا تَاْخُذُوْامِنْہُ شَیا “ تو عورت کو دیئے ہوئے مال میں سے کچھ بھی نہ لو، اس میں قصور مرد کا ہے اس لئے کہ یہی ایسے چھوڑنا چاہتا ہے مناسب اور لائق تو یہ تھا کہ مہر بھی واپس نہ لے، مگر اس وجہ سے کہ ہر حلال مال مالک کی اجازت سے لیناجائز ہے گودینے والا کسی مصلحت یا مجبوری سے دے، یا خوشی سے یہاں عورت اپنے اختیار سے اپنے فائدہ کے لئے اپنا مال صرف کرتی ہے اور اس کے عوض آزادی کا فائدہ حاصل کرتی ہے مذکورہ دونوں شقوں پر نظر کرتے ہوئے لینا جائز مگر مکر وہ قرار دیا گیا ہے۔ سوال : عورت کی طرف سے مرد کا طلاق لینے کے عوض مال دینا رشوت ہے اور شوت حرام ہے۔ جواب : رشوت ایسے مال کے لینے کو کہتے ہیں جس سے کسی کا حق تلف کیا جائے یا رشوت دینے والے کا وہ حق دیا جائے جو بغیر کسی عوض کے رشوت لینے والے کے ذمہ واجب تھا اور یہاں طلاق دینا مرد کے ذمہ نہیں، البتہ دفع ظلم اور ترک تعدی اس کے ذمہ ہے، مگر بدل دفع ظلم اور ترک تعدی کا معاوضہ نہیں ہے جو واجب ہے بلکہ طلاق کا معاوضہ ہے جو واجب نہیں ہے دوسری صورت یعنی عورت کی شرارت ہو تو یہ بھی بظاہر یک طرفہ ہے اور آیت کے حکم سے خارج ہے، مگر مرد کو طلاق کو اختیار حاصل ہے، ایسی شریر عورت کو روکنے سے اس کی غرض خواہ ایذا رسانی اور انتقام ہے خواہ امید اصلاح، تو امید اصلاح تو قابل اعتماد نہیں البتہ قصد انتقام کے لحاظ سے دو طرفہ چھیڑ چھاڑ اور زیادتی ہوگئی اور یہ صورت بھی آیت : ” اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہِ فَلَا جُنَاحَ “ (الآیۃ) کی مصداق ہوئی لہٰذا آیت کی رو سے جو مال عورت دینا قبول کرے جائز ہے اور حدیچ پیغمبر ” اَمّ ۔ ا الزِّیَادَۃَ فَلَا “ کی رو سے مہر سے زیادتی ممنوع ہے جیسا کہ ثابت بن قیس کے واقعہ میں اوپر مذکور ہوا، اگر زیادہ لینے میں کوئی کراہت نہ ہوتی تو آپ ثابت ؓ کے حق کو ناقص نہ کرتے۔ جواز اور کراہت میں منافات نہیں : کہ قرآن کے عموم کا بطلان لازم آئے، مثلاً نماز ایک درہم نجاست کے ساتھ جائز ہے مگر مکروہ تحریمی ہے (شامی) اور نماز بدون تعدیل ارکان جائز مگر واجب الاعادہ ہے (نور الانوار) ایسے ہی یہ زیادتی جائز مگر مکروہ ہے۔ عقلی دلیل : خلع بمنزلہ اقالہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں کی رضا مندی پر موقوف ہے اقالہ میں ثابت شدہ ملک کو باطل کیا جاتا ہے، خلع میں بھی ثابت شدہ ملک بضع کو باطل کیا جاتا ہے پس جس طرح اقالہ میں مبیع مستعمل ہو یا نہ ہو ثمن اول ہی پر اقالہ ہوگا، اسی طرح خلع میں بھی مہر جو کہ بمنزلہ ثمن ہے مہر کی مقدار پر ہی خلع کرنا چاہیے۔ تیسری صورت : یعنی دونوں کی خطاء ہو اس کا حکم بھی مثل دوم ہے (اگرچہ اس کا حکم کتب میں مذکور نہیں) ۔ (خلاصہ التفاسیر) خلع طلاق ہے یا فسخ ؟ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک خلع طلاق ہے اور امام احمد (رح) تعالیٰ کے نزدیک فسخ ہے امام شافعی (رح) تعالیٰ ایک قول میں امام احمد (رح) تعالیٰ کے ساتھ ہیں اور صحیح قول میں ابو حنفیہ (رح) تعالیٰ کے ساتھ ہیں حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عثمان ؓ سے بھی فسخ مروی ہے۔ (خلاصہ التفاسیر)
Ayahs 2:230–231

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی ہاں اگر دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے اور عورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ (الآیۃ) اگر مرد نے تیسری طلاق دیدی تو اب نکاح جدید سے بھی حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے مرد سے وطی حلال نہ کرے، حلالہ کے بعد اگر یہ خیال کریں کہ آئندہ حقوق اللہ کی حفاظت کریں گے تو ان کے لئے نکاح جائز ہے، اِنْ ظنّا شرط نکاح نہیں ہے شرط اولویت ہے۔ مسئلہ : جب تک شوہر ثانی مباشرت نہ کرے عورت شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی، اور یہ قید خود قرآن سے مفہوم ہوتی ہے حَتّٰی تَنْکِحَ رَوْجًا غَیْرَہٗ ، نکاح کے لغوی معنی وطی کے ہیں اور نکاح عرفی زوجًا غیرہ سے مفہوم ہے ورنہ تو شوہر سے عقد نکاح کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اسکے علاوہ امرأۃ رفاعہ کی حدیث مشہور ہے جس سے کتاب اللہ پر زیادتی درست ہے امرّۃ رفاعہ کا واقعہ معروف ہے۔ مسئلہ : تحلیل کے لئے نفس جماع کافی ہے حالت حیض میں ہو یا طہر میں، انزال ہونا نہ ہو، زوج مراہق ہو یا بالغ۔ مسئلہ : اس شرط پر نکاح کرنا کہ وطی کے بعد طلاق دیدی جائے گی، تاکہ زوج اول پر عورت حلال ہوجائے، گناہ ہے، ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ لَعَنَ رسول اللہ ﷺ المحلل والمحلل لہٗ حلال کرنے اور کرانے والے دونوں پر آپ نے لعنت فرمائی، احناف کے نزدیک نکاح جائز اور گناہ لازم ہوگا، اور شوافع کے نزدیک ایسا نکاح درست ہی نہ ہوگا۔ (خلاصۃ التفاسیر) وَلَا تَتَّخِذْوْآ آیٰتِ اللہِ ھُزُوًا، اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو دل لگی اور ٹھٹھا نہ بناؤ، خوب سوچ سمجھ کر عمل کیا کرو اور اللہ کی نعمتوں کو نہ بھولو، اور کتاب و حکمت پر نازل کی گئی ہے یہ بہت عظیم نعمتیں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ تم کو نصیحت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی ہزار ہا نعمتیں ہیں خود ہدایت اور قرآن اور آپ ﷺ کا وجود محمود اپنی جگہ عظیم نعمتیں ہیں اور عورتوں کو حلال کردینا بھی بذات خود نعمت ہے حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ ” الدنیا حسنۃ “ سے عورت صالحہ مراد ہے، عبد اللہ بن عمر نے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” خیر مَتَاع الدنیا اَلْمَرأۃ الصالحۃ “۔ فائدہ : آیات کا تمسخر دو طریقہ سے ہوتا ہے (اول) صراحۃً (دوم) ایسی بات کرنا جس سے احکام الہیٰ سے بےپرواہی اور اس کی کم وقعتی یا بےوقعتی ظاہر ہو۔