2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

آیت نمبر 177 تا 179 ترجمہ : تمام تر اچھائی نماز میں مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے ہی میں نہیں یہ آیت یہود و نصاریٰ کے رد میں نازل ہوئی ہے اس لئے کہ وہ اس قسم کا اعتقاد رکھتے تھے، بلکہ اچھا یعنی نیک وہ شخص ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھنے والا ہو، اور البِرّ کے بجائے البَار بھی پڑھا گیا ہے، اور جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود قرابت داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوالیوں کو دے اور مکاتبوں کو اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز کی پابندی کرے اور فرض زکوٰۃ ادا کرے ما قبل (میں مذکور زکوٰۃ) سے نفلی صدقہ مراد ہے (اور نیک وہ لوگ ہیں) کہ جو اللہ سے یا لوگوں سے عہد کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں اور الصَّابرینَ منصوب بالمدح ہے اور تنگی (یعنی) شدید حاجت کے حاملین اپنے ایمان میں اور نیکی کا دعویٰ کرنے میں سچے ہیں، اور یہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اے ایمان والو ! تم پر مقتولوں کے بارے میں وصفاً اور فعلاً مماثلت (برابری) فرض کی گئی ہے آزاد آزاد کے بدلے قتل کیا جائے، اور غلام کے عوض (آزاد) قتل نہ کیا جائے، اور غلام، غلام کے عوض اور عورت عورت کے عوض (قتل کی جائے) اور سنت نے بیان کیا کہ مردوں کو عورتوں کے عوض قتل کیا جائے گا، اور یہ کہ دین میں مماثلت کا اعتبار کیا جائے گا، لہٰذا مسلمان اگرچہ غلام ہو کافر کے عوض اگرچہ آزاد ہو قتل نہیں کیا جائے گا، ہاں ! قاتلین میں سے کسی کو اپنے مقتول بھائی کے خون کی کچھ معافی دیدی جائے، اس طریقہ سے کہ اس سے قصاص معاف کردیا جائے، اور شئ کی تنکیر بعض ورثاء کی طرف سے قصاص کا مطالبہ اور بعض کی طرف سے قصاص کی معافی کی صورت میں قصاص کے ساقط ہونے کا فائدہ دیتی ہے، اور بھائی کا ذکر کرنے میں معافی کی داعی شفقت ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ قتل اخوۃ ایمانی کو قطع نہیں کرتا، اور مَن مبتداء ہے شرطیہ ہے یا موصولہ اور فاتباع خبر ہے، تو معاف کرنے والے کا قاتل کا معروف طریقہ پر تعاقب (مطالبہ) کرنا ہے، اس طریقہ پر کہ سختی کے بغیر (نرمی سے) مطالبہ کرے، اور معافی پر اتباع کو مرتب کرنا اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ واجب ان دونوں میں سے ایک ہے، اور یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے ایک ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ واجب قصاص ہے، اور دیت اس کا بدل ہے چناچہ اگر مقتول کے وارث نے معاف کردیا اور دیت کا تذکرہ نہ کیا تو مقتول کے ورثاء کے لئے کچھ نہیں ہے، اور یہی قول راجح قرار دیا گیا ہے، اور قاتل پر معاف کرنے والے یعنی وارث کے پاس دیت کو خوبی کے ساتھ پہنچا دینا ہے بایں طور کہ بغیر ٹال مٹول اور کمی کے پہنچا دے یہ حکم (یعنی) جواز قصاص اور دیت کے عوض قصاص سے معافی تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے سہولت اور رحمت ہے اس لئے کہ اس میں وسعت کردی ہے، اور (متعین طور پر) ان دونوں میں سے ایک واجب نہیں کیا جیسا کہ یہود پر (صرف) قصاص واجب کیا تھا، اور نصاریٰ پر (صرف) دیت واجب تھی پھر جس نے قاتل پر زیادتی کی بایں طور کہ معاف کرنے کے بعد اس کو قتل کردیا تو اس کیلئے آخرت میں آگ دردناک عذاب ہے یا دنیا میں قتل ہے، اے عقلمندو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے یعنی بقاء عظیم ہے اس لئے کہ قاتل کو جب یہ علم ہوگا کہ وہ بھی قتل کیا جائے گا تو وہ (قتل) سے باز رہے گا، تو اس نے خود اپنی جان بچائی اور جس کے قتل کا ارادہ کیا تھا اس کی بھی، لہٰذا تمہارے لئے قانون قصاص مشروع کیا گیا ہے تاکہ تم قصاص کے خوف سے قتل سے بچو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لَیْسَ الْبِرَّ لَیْسَ ماضی جامد فعل ناقص ہے اس کا مضارع مستعمل نہیں ہے اس لئے کہ لَیسَ اگرچہ صیغہ ماضی کا ہے مگر اس کے معنی نفی للحال کے ہیں، لَیِسَ اصل میں لَیِسَ بروزن فَعِلَ تھا، اگر لَیْسَ کے لئے یاء ساکنہ لَیْتَ کے مانند لازم نہ ہوتی تو لَیْسَ میں یاء ساکن ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے یاء الف سے بدل جاتی تو ل اس ہوجاتا۔ قولہ : البرَّ بالنصب، البرَّ لَیْسَ ، کی خبر مقدم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور تُولُّوْا بتاویل مصدر ہو کر لَیْسَ کا اسم مؤخر ہے، اور بعض قراء نے البرُّ لیس قرار دے کر مرفوع بھی پڑھا ہے۔ قولہ : اَنْ تُوَلُّوا تم رخ کرو تَوْلِیَۃً سے مضارع جمع مذکر حاضر، نونِ اعرابی عامل ناصب اَنْ کی وجہ سے گرگیا ، یہ اضداد میں سے ہے اس کے معنی رخ کرنے اور منہ پھیرنے، دونوں کے آتے ہیں۔ فائدہ : لَیْسَ البرَّ پر سورة بقرہ نصف ہوگئی، نصف اول اصول دن اور بنی اسرائیل کے بیان پر مشتمل ہے اور نصف ثانی کا غالب حصہ احکام فرعیہ تفصیلیہ سے متعلق ہے۔ قولہ : فی الصلوٰۃ، فی الصلوٰۃ کے ساتھ مقید کرنے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ خارج صلوٰۃ کدھر بھی رخ کرنا کسی کے یہاں مطلوب و محمود نہیں ہے۔ قولہ : ردًا علی الیھود والنصاریٰ ۔ تنبیہ : یہ تردید نصاریٰ کے بارے میں تو درست ہے اس لئے کہ وہ عبادت میں مشرق کی جانب رخ کرتے ہیں مگر یہود کے بارے میں درست نہیں ہے اس لئے کہ یہود عبادت میں بیت المقدس کی جانب رخ کرتے ہیں، نہ کہ مغرب کی طرف، اور بیت المقدس مدینہ سے جانب شمال میں ہے نہ کہ جنوب مغرب میں (فیہ مافیہ) لہٰذا اگر یہود و نصاریٰ کی تخصیص نہ کرتے ہوئے مطلق جہت مراد لی جائے بایں طور کہ عبادت میں کوئی جہت مقصود و مطلوب نہیں ہے، اصل مطلوب امتثال امر ہے، متعدد بار تحویل قبلہ کرکے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : ذَا البِرِّ وقُرِئَ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : لٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ میں مصدر کا حمل ذات پر ہو رہا ہے جو درست نہیں ہے اس لئے کہ اس کا ترجمہ ہے ” نیکی وہ ہے جو اللہ پر ایمان لایا “ حالانکہ یہ درست نہیں ہے اس کے دو جواب دئیے ہیں : پہلا جواب : یہ کہ مصدر کے ماقبل ذو محذوف مانا جائے ای ذَا البرِّ اس طرح مصدر اسم فاعل بن جائے گا اور ترجمہ یہ ہوجائے گا، نیکی والا (یعنی) نیک وہ ہے جو اللہ پر ایمان لایا۔ دوسرا جواب : یہ دیا ہے کہ بِرٌّ مصدر بَارٌّ اسم فاعل کے معنی میں ہے اس صورت میں حمل مصدر ولی الذات کا اعتراض ختم ہوجائے گا، بعض حضرات نے ایک تیسرا جواب دیا ہے اس کا ماحصل یہ ہے مصدر جانب خبر میں محذوف مانا جائے، اور تقدیر عبارت یہ ہوگی : لکِنَّ البِرَّ برُّ مَن اٰمَنَ اس صورت میں بھی کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔ قولہ : وَآتَی الْمَالَ عَلیٰ مع حُبِّہٖ لہٗ ، علیٰ بمعنی مع ہے، اس لئے کہ یہاں استعلاء کے معنی درست نہیں ہیں۔ قولہ : حُبِّہٖ لہٗ ، لہٗ کی ضمیر میں تین احتمال ہیں : (1) مال کی طرف راجع ہو یعنی مال کی حاجت و ضرورت کے باوجود اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرتے ہیں، (2) اللہ کی طرف راجع ہو یعنی اللہ کی محبت کی وجہ سے راہ خدا میں مال صرف کرتے ہیں، (3) آتَی سے جو اتیان مفہوم ہے اس کی طرف راجع ہو یعنی راہ خدا میں دینے کو محبوب سمجھتے ہوئے حاجت مندوں کو دیتے ہیں۔ قولہ : عَلیٰ حُبِّہٖ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ذوالحال آتٰی کی ضمیر ہے (ای آتی المال حال محبتہٖ لہٗ ) ۔ قولہ : القربیٰ مصدر ہے، نہ تو قریبٌ کی جمع ہے اور نہ اَقْرَبُ کی مؤنث ہے، اور قرینہ اس کا ذو کی اضافت ہے اگر قربیٰ قریب کی جمع یا اقرب کی مؤنث ہو تو ذو کی اضافت درست نہ ہوگی۔ قولہ : والموفون بعھدھم اس کا عطف مَن آمَنَ پر ہے۔ قولہ : نَصبٌ علی المدح اس عبارت کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : والصَّابِرُونَ رفع کے ساتھ ہونا چاہیے، اس لئے کہ یہ الموفون پر عطف ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ الموفون پر عطف کا تقاضا اگرچہ یہ ہے کہ الصَّابرونَ رفع کے ساتھ ہو لیکن نصب دیا گیا تاکہ مقصد بدرجہ اتم مکمل ہو، لہٰذا اَمدَحُ مقدر کی وجہ سے الصابرینَ منصوب ہے، اختصار کو چھوڑ کر اطناب کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقام، مقام مدح ہے اور جب مقام مدح میں صفات کثیرہ ذکر کی جاتی ہیں تو احسن طریقہ یہ ہے کہ ان کا اعراب مختلف ہو اس لئے کہ اعراب کا اختلاف انواع متعددہ پر دلالت کرتا ہے اور اتحاد فی الاعراب نوع واحد پر دلالت کرتا ہے لہٰذا جب اعراب میں اختلاف ہوگا تو مقصد حمد و مدح اکمل پورا ہوگا، گویا کہ والصابرون صفت مقطوعہ عن الموصوف ہے اور موصوف الموفون ہے، اور صفت کا قطع موصوف سے جائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وَامْرَأَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ میں ہے۔ قولہ : اُولٰئِکَ مبتداء الَّذِینَ صدقُوا جملہ ہو کر مبتداء کی خبر اول، اُولٰئِکَ ھُمُ المُتَّقونَ جملہ ہو کر خبر ثانی، یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : اَلقَتْلٰی قتیل کی جمع ہے بمعنی مقتول قولہ : وَصْفًا وفعلاً مماثلت فی الوصف کا مطلب یہ ہے کہ حرو عبد کا تفاوت نہ ہو، اور مماثلت فی الفعل کا مطلب یہ ہے کہ جس طریقہ اور جس آلہ سے مقتول کو قتل کیا گیا ہے قاتل کو بھی اسی طرح قصاصاً قتل کیا جائے، اگر جلا کر قتل کیا ہے تو قاتل کو بھی جلا کر قتل کیا جائے، اور غرق کرکے قتل کیا ہے تو قاتل بھی غرق کرکے قتل کیا جائے، علیٰ ھٰذا القیاس۔ قولہ : المماثلۃ اس لفظ سے اس شبہ کو دور کردیا کہ قصاص کا صلہ فی نہیں آتا، مگر یہاں صلہ فی استعمال ہوا ہے۔ جواب : قصاص، مماثلت کے معنی کو متضمن ہے اس لئے فی صلہ لانا درست ہے۔ قولہ : تنکیر شئ، یُفیدُ سقوطَ القصاص الخ یعنی شئ میں فاعل کے معنی ہونے کی وجہ سے اصل تعریف ہے مگر نکرہ لاکر اشارہ کردیا کہ اگر کسی وارث نے معاد کردیا تو قصاص ساقط ہوجائے گا۔ قولہ : فی ذکر اخیہ الخ لفظ اخ سے اشارہ کردیا کہ قاتل نے اگرچہ قتل کرکے بڑا ظلم کیا ہے اور مقتول کے ورثاء کو بہت تکلیف پہنچائی ہے مگر ہے تو پھر بھی تمہارا بھائی لہٰذا اس پر رحم کرو۔ قولہ : ویذان بان القتل لا یقطع اخوۃَ الایمان اس سے معتزلہ پر رد مقصود ہے، قتل ناحق چونکہ گناہ کبیرہ ہے جو انسان کو معتزلہ کے نزدیک اسلام سے خارج کردیتا ہے، اور کافر اور مسلمان میں کوئی اخوۃ نہیں ہوتی، مگر مِن دمِ اخِیہِ کہہ کر اشارہ کردیا کہ قتل ناحق اگرچہ گناہ کبیرہ ہے مگر اسلام سے خارج نہیں کرتا ورنہ تو اس کو اخ نہ کہا جاتا۔ قولہ : وَمَنْ مبتداء ہے خواہ شرطیہ ہو یا موصولہ اور فَاتّباعٌ بالمعروفِ اس کی خبر ہے، جواب شرط ہونے کی وجہ سے فاداخل ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء نے قتل سے قصاص معاف کردیا اور دیت پر رضا مند ہوگئے تو قاتل کو یہ ہدایت ہے کہ دیت بحسن و خوبی ادا کر دے بلاوجہ ٹال مٹول نہ کرے، ادھر معاف کرنے والے ورثاء کو یہ ہدایت ہے کہ دیت وصول کرنے کے لئے قاتل کے پیچھے نہ پڑجائیں بلکہ نرمی اور سہولت سے تقاضا کریں یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے قصاص معاف کردیا ہے تو قاتل پر بڑا احسان کردیا، اس لئے کہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے۔ قولہ : فَعَلَی العَافی مفسر علام نے مذکورہ عبارت محذوف مان کر ایک اعتراض کا جواب دیا ہے : اعتراض : مَن شرطیہ ہو یا موصولہ، جواب شرط کا پہلی صورت میں اور صلہ کا دوسری صورت میں جملہ ہونا ضروری ہے اس لئے کہ صلہ حکم میں جزاء کے ہوتا ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ فاتباع بھی جملہ ہے اس لئے کہ اتباع مبتداء ہے اور اس کی خبر عَلَی العَافِی خبر مقدم ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : فَعَلی العَافی اتباع بالمعروف۔ قولہ : و ترتیب الاتباع علی العفو الخ اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دیت قصاص کا بدل یا تابع نہیں ہے بلکہ مستقل واجب ہے کہ قرآن کریم میں اتباع یعنی مطالبہ دیت کو عفو قصاص پر مرتب کیا ہے یعنی اول درجہ قصاص کا ہے اگر قصاص کسی وجہ سے ساقط ہوجائے تو دیت خود بخود واجب ہوجائے گی، اس سے معلوم ہوا کہ دیت قصاص کا بدل نہیں ہے کہ اگر قصاص معاف ہوجائے تو دیت بھی خود بخود معاف ہوجائے، بلکہ ان دونوں میں سے ایک واجب ہے اور مقدم قصاص ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کا یہ قول اول ہے، اگر فقط قصاص واجب ہوتا اور دیت اس کا بدل ہوتا جیسا کہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کا قول ثانی ہے، تو بلا عوض یا مطلقاً قصاص معاف کرنے سے دیت بلا ذکر واجب نہ ہوتی حالانکہ دیت بلا ذکر واجب ہوتی ہے۔ قولہ : والثانی الواجب القصاص والدیۃ بدل عنہ یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے قول ثانی کا بیان ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ واجب قصاص ہے اور دیت اس کا بدل ہے اگر مقتول کے ورثاء نے قصاص معاف کردیا اور دیت کا کوئی ذکر نہ کیا تو دیت بھی خودبخود معاف ہوجائے گی اور یہی قول راجح ہے اس لئے کہ تعیین کے ساتھ قصاص کے وجوب پر نصوص موجود ہیں۔ قولہ : وعلی القاتل اس عبارت کو محذوف ماننے کا مقصد سابق اعتراض کا دفعیہ ہے وَاَدَاءٌ اِلَیہِ باحسان کا عطف چونکہ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ پر ہے لہٰذا جو اعتراض وہاں ہوتا ہے وہی یہاں ہوتا ہے، اعتراض و جواب کی تقریر سابق میں گزر چکی ہے، ملاحظہ کرلی جائے۔ قولہ : الحکم المذکور اس عبارت کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : ذٰلک اسم اشارہ واحد ہے حالانکہ اس کے مشار الیہ تین ہیں : (1) جوازِ قصاص (2) العفو عنہ (3) دیت۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ذٰلک کا مرجع الحکم المذکور ہے، جس میں یہ تینوں احکام آجاتے ہیں۔ قولہ : عذابٌ الیمٌ مؤلَم، مؤلِمٌ میں لام کا فتحہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں فتحہ میں مبالغہ زیادہ ہے۔ تفسیر و تشریح لَیْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مشرق و مغرب کا ذکر تو محض تمثیل کے طور پر کیا گیا ہے ورنہ اصل مقصد سمت پرستی کی تردید ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ذہن نشین کرانا ہے کہ مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کردینا اور صرف ضابطہ کی خانہ پری کردینا ہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ اصل نیکی وہ ہے جس کو لکنَّ البرَّ مَن آمَنَ سے بیان فرمایا ہے، بعض مفسرین کو مشرق و مغرب کے لفظ سے دھوکا ہوا ہے جیسا کہ خود صاحب جلالین علامہ سیوطی کو مغالطہ ہوا ہے کہ مشرق سے مراد نصاریٰ کا قبلہ اور مغرب سے مراد یہود کا قبلہ لیا ہے، اس لئے کہ مغرب کی سمت یہود کا قبلہ نہیں ہے ان کا قبلہ بیت المقدس ہے جو مدینہ سے شمال کی جانب ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے بیشمار گمراہیوں میں سے ایک گمراہی سمت پرستی بھی تھی یعنی بےجان دیوتاؤں، مورتیوں، پتھروں، درختوں، پہاڑوں، دریاؤں کے علاوہ خود سمتوں کی بھی پرستش ہوتی تھی، اور مختلف جاہل قوموں نے یہ اعتقاد جما لیا تھا کہ فلاں سمت مثلاً مشرق کی سمت بھی مقدس ہے یا مثلاً مغرب کی سمت قابل پرستش ہے قرآن کریم یہاں شرک کی اسی مخصوص قسم کی تردید کر رہا ہے، فرماتا ہے کہ کوئی سمت و جہت، سمت و جہت ہونے کے اعتبار سے ہرگز قابل تقدیس نہیں اور نہ طاعت و بر سے اس کا کوئی تعلق، بعض مفسرین کو اس آیت میں جو اشکال ہوا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے، انہوں نے جہت مشرق و مغرب سے مخصوص سمت سمجھ لی حالانکہ مطلقاً سمت پرستی کی تردید مقصود ہے۔ اسلام نے بھی کسی سمت کو بحیثیت سمت ہرگز متعین نہیں کیا، اسلام نے صرف ایک متعین مکان یعنی خانہ کعبہ کو ایک مرکزی حیثیت دی ہے خواہ کسی سمت میں پڑجائے جیسا کہ مشاہدہ ہے، کعبہ مصر و طرابلس اور حبشہ سے مشرق میں پڑتا ہے اور ہندوستان پاکستان چین و افغانستان وغیرہ سے مغرب میں، شام و فلسطین و مدینہ سے جنوب میں اور یمن اور بحر قلزم کے جنوبی ساحلوں سے شمال میں، اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے تو تمام اشکالات خود بخود رفع ہوجاتے ہیں، اور نہ کسی تاویل کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ (ماجدی) مشرق یعنی سورج دیوتا، دنیائے شرک کا معبود اعظم رہا ہے، سورج چونکہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے اس لئے عموماً جاہلی قوموں نے سمت مشرق کو بھی مقدس سمجھ لیا اور عبادت کے لئے مشرق رخی کو متعین کرلیا۔ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ (الآیۃ) مشرکانہ ذہنیت پر کاری ضرب لگانے کے بعد قرآن نے اصلاح عقیدہ کی طرف توجہ فرمائی جو کہ ایک اہم اور نبی ادی ضرورت ہے، عقیدہ کی صحت کے بغیر نہ کوئی عمل معتبر ہے اور نہ عبادت مقبول، عقائد میں سب سے پہلی چیز ایمان باللہ ہے، اس کا ذکر مَنْ آمَنَ باللہِ میں آگیا، ایمان کے بقیہ اجزاء کا ذکر وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَالْمَلآئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیِّیْنَ میں آگیا، اس کے بعد عبادات کا درجہ ہے جن کا ذکر وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ الخ میں کیا گیا، اس کے بعد تیسرا درجہ معاملات کا ہے جس کا ذکر وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ الخ سے فرما دیا۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

مومنو ! تم کو مقتولوں کے بارے میں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ اور اگر قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول کو) پسندیدہ طریق سے (قرارداد کی) پیروی (یعنی مطالبہ خون بہا کرنا) اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے یہ پروردگار کی طرف سے (تمہارے لئے) آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔

یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ (الآیۃ) قصاص کے لفظی مماثلت کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنتا ظلم کسی نے کسی پر کیا ہو اتنا ہی بدلہ لینا دوسرے کے لئے جائز ہے اس پر زیادتی جائز نہیں۔ شان نزول : زمانہ جاہلیت میں کوئی نظم و قانون تو تھا نہیں اس لئے زور آور قبیلے کمزور قبیلوں پر جس طرح چاہتے ظلم کرتے، ظلم کی ایک شکل یہ تھی کہ کسی طاقتور قبیلے کا کوئی مرد قتل ہوجاتا تو وہ صرف قاتل کو قتل کرنے کے بجائئے قاتل کے قبیلے کے کئی مردوں کو بلکہ بعض اوقات پورے قبیلے ہی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا اور عورت کے بدلے مرد کو اور غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرتا۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کی سند سے نقل کیا ہے کہ زمانہ اسلام سے کچھ پہلے دو عرب قبیلوں میں جنگ ہوگئی طرفین کے بہت سے آدمی آزاد و غلام اور مردو و عورت قتل ہوئے، ابھی ان کے معاملہ کا تصفیہ ہونے نہیں پایا تھا کہ زمانہ اسلام شروع ہوگیا اور یہ دونوں قبیلے اسلام میں داخل ہوگئے اسلام لانے کے بعد اپنے اپنے مقتولوں کا قصاص لینے کی گفتگو شروع ہوئی تو ایک قبیلہ جو کہ زیادہ قوت و شوکت والا تھا، اس نے کہا ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے تمہارا آزاد آدمی اور عورت کے بدلے مرد قتل نہ کیا جائے۔ ان کے اس جاہلانہ اور ظالمانہ مطالبہ کی تردید کرنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی : اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ (الآیۃ) جس کا حاصل ان کے اس مطالبہ کی تردید کرنا تھا، چناچہ اس ظالمانہ مطالبہ کو رد کرتے ہوئے اسلام نے اپنا عاد لانہ قانون یہ نافذ کیا کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے گا، اگر عورت قاتل ہے تو کسی بےگناہ مرد کو اس کے بدلہ میں قتل کرنا، اسی طرح قاتل اگر غلام ہے تو اس کے بدلے میں کسی بےگناہ آزاد کو قتل کرنا ظلم عظیم ہے جو اسلام میں قطعاً برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر عورت کو کوئی مرد قتل کر دے یا غلام کو کوئی آزاد قتل کر دے تو اس سے قصاص نہ لیا جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ قصاص میں مساوات رہے گی اور خون سب کا برابر سمجھا جائے گا ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ اونچے شخص کی جان کو معمولی شخص کی جان سے زیادہ قیمتی سمجھا جائے جیسا کہ عرب جاہلیت کے دور اور یہود عرب کا دستور یہ تھا کہ اعلیٰ قبیلے کے مقتول کے عوض ادنیٰ قبیلے کے دو شخصوں سے قصاص لیا جاتا تھا، اور یہ حالت کچھ قدم جاہلیت ہی میں نہ تھی موجودہ زمانہ میں جن قوموں کو انتہائی مہذب سمجھا جاتا ہے ان کے باقاعدہ سرکاری اعلانات تک میں بسا اوقات یہ بات بغیر کسی شرم کے دنیا کو سنائی جاتی ہے کہ ہمارا ایک آدمی مارا جائے گا تو ہم قاتل قوم کے پچاس آدمیوں کو قتل کریں گے، امریکہ تو آج بھی ایک گوارے کا خون، کالے کے خون سے کہیں زیادہ قیمتی سمجھتا ہے۔ اسلام نے اسی ظالمانہ دستور کو مٹا کر اعلان کردیا کہ زندگی ہر مومن کی اور امت کے ہر فرد کی یکساں قابل احترام ہے۔ مسئلہ : مقتول اگر کافر ذمی ہے تو اس کا بھی قصاص قاتل ہی سے لیا جائے گا اگرچہ قاتل مسلم ہو، البتہ کافر اگر حربی ہو تو چونکہ وہ کھلا ہوا باغی اور دشمن ہوتا ہے اس کے قتل میں قصاص نہیں لیا جائے گا۔ مسئلہ : قتل عمد میں آزاد کے عوض آزاد تو قتل کیا ہی جائے گا غلام کے عوض میں بھی قتل کیا جائے گا، اسی طرح عورت کے عوض عورت تو قتل کی ہی جائے گی لیکن مرد بھی قتل کیا جائے گا۔ مسئلہ : اگر قتل عمد میں مقتول کے ورثاء نے قاتل کو پوری معافی دیدی، مثلاً مقتول کے وارث صرف دو بیٹے تھے اور ان دونوں نے اپنا حق معاف کردیا تو قاتل پر کوئی مطالبہ نہیں رہا، اور اگر پوری معافی نہ ہو مثلاً صورت مذکورہ میں دو بیٹوں میں سے ایک نے معاف کردیا مگر دوسرے نے معاف نہیں کیا تو قاتل سزائے قصاص سے تو بری ہوگیا لیکن معاف نہ کرنے والے کو نصب دیت دلائی جائے گی، دیت کی مقدار شریعت میں سو اونٹ یا ہزار دینار، یا دس ہزار درہم ہیں، اور درہم ساڑھے تین ماشہ چاندی کا ہوتا ہے اس حساب سے پوری دیت دو ہزار نو سو سولہ تولے آٹھ ماشے چاندی ہوگی۔ مسئلہ : جس طرح نا تمام معافی سے مال واجب ہوجاتا ہے اسی طرح اگر کسی قدر مال پر مصالحت ہوجائے تب بھی قصاص ساقط ہو کر مال واجب ہوجاتا ہے مگر کچھ شرطوں کے ساتھ جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ (معارف) مسئلہ : مقتول کے جتنے شرعی وارث ہیں وہی قصاص و دیت کے مالک بقدر اپنے حصہ میراث کے ہوں گے اور اگر قصاص کا فیصلہ ہوا تو قصاص کا حق بھی سب میں مشترک ہوگا مگر چونکہ قصاص ناقابل تقسیم ہے اس لئے اگر کوئی حصہ دار بھی اپنا حق قصاص معاف کر دے گا تو دوسرے وارثوں کا حق قصاص بھی معاف ہوجائے گا، البتہ ان کو دیت (خون بہا) کی رقم سے حسب استحقاق وراثت حصہ ملے گا۔ مسئلہ : قصاص لینے کا حق اگرچہ اولیاء مقتول کا ہے مگر باجماع امت ان کو یہ حق خود وصول کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ خود ہی قاتل کو قتل کردیں، بلکہ اس حق کو حاصل کرنے کے لئے حکم سلطان مسلم یا اس کے کسی نائب کا ہونا ضروری ہے۔ فَمَنْ عُفَیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ بھائی کا لفظ فرما کر نہایت لطیف طریقہ سے نرمی کی سفارش بھی کردی ہے، مطلب یہ ہے کہ تمہارے اور قاتل کے درمیان جانی دشمنی ہی سہی مگر ہے تو وہ تمہارا انسانی بھائی، لہٰذا اگر اپنے ایک خطا کار بھائی کے مقابلہ میں انتقام کے غصہ کو پی جاؤ تو یہ تمہاری انسانیت کے زیادہ شایان شان ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اسلامی قانون تعزیرات میں قتل تک کا معاملہ قابل راضی نامہ ہے مقتول کے وارثوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ قاتل کو معاف کردیں، اور اس صورت میں عدالت کے لئے جائز نہیں کہ قاتل کی جان ہی لینے پر اصرار کرے، البتہ جیسا کہ بعد کی آیت میں ارشاد ہوا معافی کی صورت میں قاتل کو خون بہا ادا کرنا ہوگا۔ ایک طرف قصاص کی یہ سختی اور دوسری طرف دیت اور عفو کی نرمی یہ حسن امتزاج اور اعتدال و توازن یہ اسی قانون کا حصہ ہوسکتا ہے جو بشری دماغ سے نہیں حکمت مطلق سے نکلا ہو۔ فَمَنِ اعْتَدَیٰ بَعْدَذ ٰلَکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ مطلب یہ ہے کہ جب قصاص معاف ہو کر دیت پر بات طے ہوگئی تو اب دونوں فریقوں کو چاہیے کہ کسی طرح کی زیادتی نہ کریں، مثلاً یہ کہ مقتول کے وارث خون بہا وصول کرلینے کے بعد پھر انتقام کی کوشش کریں، یا قاتل خون بہا کی رقم ادا کرنے میں ٹال مٹول کرے اور مقتول کے ورثاء نے جو اس کے ساتھ احسان کیا ہے اس کا بدلہ احسان فراموشی سے دے ” فَاِتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَاءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ “ کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے اہل عقل ! (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو۔

وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یہ ایک دوسری رسم جاہلیت کی تردید ہے جو پہلے بھی بہت سے دماغوں میں موجود تھی اور آج بھی بکثرت پائی جاتی ہے جس طرح اہل جاہلیت کا ایک گروہ انتقام کے معالہ میں افراط کی طرف چلا گیا تھا اسی طرح دوسرا گروہ عفو کے معاملہ میں تفریط کی طرف گیا ہے اور اس نے سزائے موت کے خلاف اس قدر شور مچایا ہے کہ بہت سے لوگ اس کو ایک نفرت انگیز چیز سمجھنے لگے ہیں اور دنیا کے بہت سے ملکوں نے سزائے موت کو منسوخ بھی کردیا ہے، قرآن اسی پر اہل عقل و خرد کو مخاطب کرکے تنبیہ کرتا ہے کہ قصاص میں سوسائٹی معاشرہ کی زندگی ہے جو سوسائٹی انسانی جان کا احترام نہ کرنے والوں کی جان کو محترم ٹھہراتی ہے وہ دراصل اپنی آستین میں سانپ پالتی ہے، اور ایک قاتل کی جان بچا کر بہت سے بےگناہ انسانوں کی جانیں خطرے میں ڈالتی ہے، قصاص عین عدل و مساوات کا قانون ہے اس قانون کو یکسر منسوخ کرا دینے کی تبلیغ و تحریک سرتا سرنا معقول اور خلاف حکمت ہے۔
Ayahs 2:180–182

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کر جائے (خدا سے) ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں (اور) بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

آیت نمبر 180 تا 182 ترجمہ : تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے یعنی موت کی علامات ظاہر ہوں اگر وہ کچھ مال چھوڑے تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے (الوَصیۃُ ) کُتِبَ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اِذَا سے متعلق ہے اگر اِذَا ظرفیہ ہے، اور دال علی الجزاء ہے اگر (اذا) شرطیہ ہے، اور ان کا جواب محذوف ہے، اور وہ فَلْیُوصِ ہے، انصاف کے ساتھ اس طریقہ پر کہ ایک ثلث سے زیادہ کی وصیت نہ کرے، اور مالدار کو ترجیح نہ دے، یہ حق ہے خوف خدا رکھنے والوں پر (حقًّا) اپنے سابقہ جملہ کے مضمون کے لئے مصدر موکد ہے، اور یہ (وصیت کا حکم) آیت میراث اور لَا وَصِیَّۃَ لِواِثٍ سے منسوخ ہے (رواہ الترمذی) لہٰذا جس شخص نے اس کو (یعنی) ایصاء کو بدل دیا علم ہونے لے بعد گواہ ہو یا خود وصی، تو وصیت کی تبدیلی کا گناہ ان لوگوں پر ہوگا جس اس میں تبدیلی کریں گے اس میں اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر ہے بلاشبہ اللہ تعالیی وصیت کرنے والے کی بات (وصیت) کو سننے والا اور وصی کے فعل سے باخبر ہے تو وہ اس پر جزاء دینے والا ہے، سو اگر وصیت کرنے والے کی طرف سے حق سے نادانستہ یا دانستہ طور پر پھرجانے کا اندیشہ ہو (مُوَصٍّ ) مخفف اور مشددد دونوں ہیں، بایں طور کہ ثلث سے زیادہ کی (وصیت) کا ارادہ کرے یا مثلاً مالدار کی تخصیص کرے، تو انصاف کا حکم دے کر ان کے یعنی موصی اور موصیٰ لہ کے درمیان (کوئی شخص) صلح کرا دے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : کُتِبَ ای فُرِضَ ، کتابت کے اصل معنی لکھنے کے ہیں، مگر علیٰ کے قرینہ سے جو کہ الزام پر دلالت کرتا ہے کے معنی لئے گئے ہیں جیسا کہ کُتِبَ علیکم القصاص میں کہا ہے۔ قولہ : ای اسبابُہٗ مفسرعلام نے مضاف محذوف مان کر ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے : سوال : آیت میں کہا گیا ہے کہ جب کسی شخص کی موت حاضر ہوجائے تو اس پر وصیت کرنا فرض ہے حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے اس لئے کہ حضور موت کے وقت انسان مرجاتا ہے۔ جواب : موت سے علامات موت مراد ہی، یا مجازاً قرب کو حضور سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ قولہ : اَحَدَکُمْ اس سے فرض عین کی طرف اشارہ ہے یعنی قانون میراث نازل ہونے سے پہلے وصیت کرنی فرض تھی۔ قولہ : مرفوعٌ بکُتِبَ یہ ان لوگوں کے قول کے رد کی جانب اشارہ ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اَلوَصیَّۃُ مبتداء ہے اور للوالدین اس کی خبر ہے، اس قول کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ اگر الوصیَّۃُ ، کُتِبَ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو تو کُتِبَ کو کُتِبَتْ مؤنث ہونا چاہیے۔ جواب : فعل اور فاعل کے درمیان اگر فاصلہ واقع ہو تو فعل اور فاعل میں مطابقت ضروری نہیں رہتی۔ قولہ : اِنْ تَرَکَ ، اَنْ حرف شرط کے جو ان کے بارے میں اختلاف ہے، کہ کیا ہے ؟ اخفش نے اس کی دو صورتیں بیان کی ہیں، جواب شرط الوصیَّۃُ ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی اِنْ تَرَکَ خیراً فَالوَصیۃُ واجِبَۃٌ مگر اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ جزاء جب جملہ اسمیہ ہوتی ہے تو اس پر فاء لانا ضروری ہوتا ہے حالانکہ یہاں فاء نہیں ہے اور حذف بلا ضرورت جائز نہیں، دوسری صورت یہ ہے کہ شرط سے پہلے جواب شرط محذوف مانا جائے، تقدیر عبارت یہ ہوگی ای کُتِبَ الوصیَّۃُ للوَالِدَینِ والَاقرَبینَ اِنْ تَرَکَ خیرًا لہٰذا بہتر یہی ہے کہ الوصیۃ کی کُتِبَ کا نائب فاعل مانا جائے، اور دونوں شرطوں کے لئے جزاء محذوف مان لی جائے جیسا کہ مفسر علام نے کہا ہے، اور عدم مطابقت کا بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ الوصیَّۃُ بمعنی ایصاءٌ ہے اور بعض دیگر حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ جب فاعل مؤنث مجازی ہو تو فعل کو مذکر اور مؤنث دونوں لانا جائز ہے، اگر اذا ظرفیت محض کے لئے ہو تو الوصیَّۃُ کا ظرف ہوگا، اور اگر متضمن بمعنی شرط ہو تو دال علیٰ جواب الشرط ہوگا، اور دونوں شرطوں کا جواب محذوب ہوگا۔ (کما صرَّحِ المفسر علیہ الرحمۃ) ۔ قولہ : و متعلق باذا اس اضافہ سے ان حضرات کے قول کی تضعیف مقصود ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اِذَا، کُتِبَ سے متعلق ہے نہ کہ الوصیَّۃُ سے ان قائلین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ الوصیَّۃُ اسم ہونے کی وجہ سے عامل ضعیف ہے، لہٰذا اپنے معمول مقدم میں عمل نہیں کرسکتا، وجہ ضعف یہ ہے کہ اِذَا ماضی کو مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے، اور کُتِبَ فعل ماضی ہے جو کہ زمانہ گزشتہ پر دلالت کرتا ہے اور زمانہ مستقبل ماضی کا ظرف نہیں ہوسکتا، اور بعض حضرات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ الوصیَّۃُ اسم عامل ضعیف ہونے کی وجہ سے اپنے ماقبل میں عمل نہیں کرسکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ الوصیَّۃُ اسم مصدر ہے نہ کہ اسم جامد اور تحقیق یہ ہے کہ اسم مصدر ظرف مقدم میں عمل کرسکتا ہے اس لئے کہ ظرف میں عمل کرنے کے لئے فعل کی بوکافی ہے اور اسم مصدر میں فعل کی بو ہوتی ہے۔ قولہ : وَدَالٌ علیٰ جوابِھَا ان کانت شرطیۃً ۔ سوال : مفسر علام نے دال علی الجزاء کہا ہے یہ کیوں نہیں کہا کہ الوصیۃ جزاء ہے ؟ جواب : یہ ہے کہ جزاء کے لئے جملہ ہونا شرط ہے اور الوصیَّۃ جملہ نہیں ہے اس لئے خود اَلوَصیَّۃ جزاء نہیں بن سکتا۔ قولہ : وَجَواب ان محذوف، محذوف، جواب کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ الوصیَّۃُ ، اِذَا کے جواب محذوف پر دال ہے اگر اِذا، شرطیہ ہو اور اِنْ کے جواب محذوف پر بھی دال ہے، اور وہ فلیُوْصِ ہے۔ قولہ : حقًّا مصدرٌ مؤکِّدٌ لمضمون الجملۃ قبلَہٗ ، حقًّا سابق جملہ کے مضمون کی تاکید ہے، سابق جملہ سے مراد کُتِبَ عَلَیْکُمْ ہے، اور کُتِبَ علیکم کا مضمون ہے حُقَّ علیکم لہٰذا حقًّا اس کی تاکید ہے اور تقدیر عبارت ہے حُقَّ علیکم حقًّا جس طرح مفعول بغیر لفظ سابق مضمون جملہ کی تاکید کرتا ہے اسی طرح حقًّا بھی مضمون جملہ کی تاکید کر رہا ہے، اور سابق جملہ میں حقَّ علیکم کے علاوہ کا احتمال نہیں ہے۔ قولہ : بآیۃ المیراث آیت میراث سے مراد اللہ تعالیٰ کا قول یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مَثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ہے، یعنی آیت و صیت کا حکم منسوخ ہے تلاوت باقی ہے۔ قولہ : ای الایصاء اس عبارت کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے : اعتراض : بَدَّلَہٗ کی ضمیر الوَصِیَّۃ کی طرف راجع ہے کہ جو مؤنث ہے، لہٰذا ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں ہے۔ جواب : الوصیَّۃ سے جو ایصاء مفہوم ہے اس کی طرف ضمیر راجع ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔ قولہ : اِقامَۃَ الظَّاھرِ مقام المضمر یعنی فاِنَّمَا اِثْمُہٗ علَیْھم کہنا کافی تھا، مگر ضمیر کے بجائے اسم لانے میں علت اثم کی جانب اشارہ ہے یعنی گنہگار ہونے کی وجہ شاہد یا وصی کا وصیت میں تبدیلی کرنا ہے۔ قولہ : مَیلاً عن الحق خطأ، جَنَفُ لغت میں مطلقاً جھکنے اور مائل ہونے کو کہتے ہیں، یہاں حق سے بلا ارادہ پھرجانا مراد ہے اس لئے کہ اس کے بالمقابل بالاثِم آیا ہے، اثم کہتے ہیں بالقصد وبالا رادہ حق سے پھرجانے کو۔ تفسیر و تشریح قولہ : الوَصِیَّۃُ وصیت لغت میں ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے کا حکم دیا جائے خواہ زندگی میں یا مرنے کے بعد، لیکن عرف میں اس کام کو کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد جس کے کرنے کا حکم ہو، خیر کے بہت سے معانی آتے ہیں ان میں سے ایک معنی مال کے بھی ہیں یہی معنی مراد ہیں۔ ابتداء اسلام میں جب میراث کے حصے شریعت کی جانب سے مقرر نہیں ہوئے تھے یہ حکم تھا کہ ترکہ کے ایک ثلث میں مرنے والا اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے لئے جتنا جتنا مناسب سمجھے وصیت کر دے باقی جو کچھ رہ جاتا وہ سب اولاد کا حق تھا اس آیت میں یہی حکم مذکور ہے۔ (معارف) وصیت کا مذکورہ حکم آیت مواریث کے نزول سے پہلے دیا گیا تھا، اب یہ منسوخ ہے آپ ﷺ کا فرمان ہے اِنَ اللہَ قد اعطیٰ کلَّ ذِی حقٍّ حقَّہٗ فَلَا وصِیَّۃَ لوِارثٍ (ابن کثیر، اخرجہ السنن) اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیدیا، لہٰذا اب کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں، البتہ ایسے رشتہ داروں کے لئے وصیت کی جاسکتی ہے جو وارث نہ ہوں، یا راہ خیر میں خرچ کرنے کی کی جاسکتی ہے مگر اس کی زیادہ سے زیادہ حد ایک تہائی ہے۔ غیر وارث رشتہ داروں کے لئے وصیت کرنا لازم اور فرض نہیں ہے صرف مستحب یا مباح ہے لہٰذا فرضیت ان کے حق میں بھی منسوخ ہے، فرضیت کی ناسخ وہ حدیث متواتر ہے جس کا اعلان آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ ؓ کے مجمع کے سامنے فرمایا : اِنَّ اللہَ اعطٰی لکل ذی حق حقّہٗ لوِارثٍ ، اخرجہ الترمذی وقال ھذا حدیث حسن صحیح۔ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کا حق خود دیدیا اس لئے ا بکسی وارث کے لئے وصیت جائز نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں اِلّا أن تجیزہ الورثَۃُ کے الفاظ بھی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ورثاء اجازت دیں تو وصیت جائز ہے۔ مسئلہ : اگر کسی شخص کے ذمہ دوسرے لوگوں کے حقوق واجبہ ہوں یا اس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو اس پر ان تمام چیزوں کی ادائیگی کے لئے وصیت واجب ہے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

آیت نمبر 183 تا 186 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم پر اسی طرح روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم معاصی سے بچو بلاشبہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے جو کہ معصیت کا سرچشمہ ہے (ایَّامًا) صِیَامًا کی وجہ سے یا یصوموا مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، جو معدودے چند روزے ہیں جن کی تعداد معلوم ہے اور وہ رمضان کے روزے ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا، ماہ رمضان کے روزوں کو مکلفین پر سہولت کے لئے قلیل قرار دیا ہے، پس تم میں سے جو ماہ رمضان کی آمد کے وقت مریض یا مسافر ہو یعنی سفر قصر کی مسافت کا مسافر ہو اور دونوں صورتوں میں اس کو روزے سے مشقت ہو تو وہ افطار کرسکتا ہے، اس پر چھوڑے ہوئے روزوں کی تعداد کے مساوی دوسرے دنوں میں تعداد کو پورا کرنا لازم ہے، کہ ان کے بدلے روزے رکھے، اور جو و لوگ کبرسنی کی وجہ سے یا ایسے مرض کی وجہ سے جس سے صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو روزہ نہ رکھ سکیں تو ان پر فدیہ واجب ہے (اور) وہ ایک مسکین کی خوراک ہے یعنی اتنی مقدار کہ جو ایک روز کی خوراک ہو اور وہ بقدر ایک مُد ہے، روز مررہ شہر کی عام خوراج سے، اور ایک قراءت میں فدیہ کی اضافت کے ساتھ ہے اور یہ اضافت بیانیہ ہے اور کہا گیا ہے کہ لَا مقدر نہیں ہے، اور ابتداء اسلام میں روزہ اور فدیہ میں اختیار تھا، پھر اللہ کے قول فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ کے ذریعہ اختیار منسوخ کردیا گیا ابن عباس ؓ نے فرمایا، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) کا اختیار منسوخ نہیں ہوا، جب کہ اپنے بچے کے بارے میں (نقصان) کا اندیشہ ہو جس کی وجہ سے فدیہ ان دونوں کے حق میں بلانسخ باقی ہے، پھر جو شخص فدیہ کی مقدار مذکور میں بخوشی اضافہ کرے تو یہ بخوشی اضافہ اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھنا افطار اور فدیہ سے تمہارے لئے بہتر ہے أن تصُومُوا مبتداء اور خیرٌلکم اس کی خبر ہے، اگر تم سمجھو، کہ روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے تو تم ان دنوں کے روزے رکھو ماہ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے گمراہی سے ہدایت کرنے والا ہے اور ہدایت کی واضح نشانیاں ہیں جو حق یعنی احکام کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کرتا ہے لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی ماہ رمضان کو پائے تو اس کو روزہ رکھنا چاہیے اور جو شخص مریض یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے اس جیسا حکم سابق میں بھی گزر چکا ہے اور اس حکم کو مکرر لایا گیا ہے تاکہ فَمَنْ شَھِدَ کے عموم سے (حکم قضا کے) منسوخ ہونے کا وہم نہ ہو، اللہ تمہارے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے سختی کا نہیں اس لئے تمہارے لئے حالت و سفر میں افطار کو مباح قرار دیا، اور یُرِیدُ اللہ الخ کے بھی امر بالصوم (یعنی فَلْیَصُمہٗ ) کی علت کے معنی میں ہونے کی وجہ سے َلِتکمِلْوا الخ کا رُرِیدُ اللہ الخ پر عطف کیا گیا ہے، (وَلِتکمِلُوا) تخفیف و تشدید کے ساتھ، اور تاکہ رمضان کے روزوں کے عدد کو پورا کرو اور روزوں کو پورا کرنے بعد اس بات پر کہ اس میں تم کو ہدایت دی (یعنی) اپنے دین کے احکام کی طرف رہنمائی فرمائی، اللہ کی بڑائی بیان کرو اور تاکہ تم اس ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کرو اور کچھ لوگوں نے اللہ کے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ ہمارا پروردگار آیا قریب ہے کہ اس سے سرگوشی کریں یا بعید ہے کہ اس کو زور سے پکاریں، تو آیت نازل ہوئی، اور جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں (تو واقعہ یہ ہے) کہ میں ان سے باعتبار میرے علم کے بلاشبہ قریب ہوں آپ ان کو یہ بات بتادو ہر دعا کرنے والے کی دعا اس کا مطلوب عطا کرکے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے کہ اطاعت کرکے میری بات مان لیا کریں۔ اور مجھ پر ایمان رکھیں (یعنی) ایمان پر دائم و قائم رہیں تاکہ وہ راہ راست پائیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الصِّیام (ن) صَومًا وصِیَامًا لغت میں مطلقًا رکنا، اصطلاح شرع میں کھانے پینے اور جماع سے روزہ کی نیت کے ساتھ صبح صادق سے غروب شمس تک رکنا۔ قولہ : مِنَ الاُمَمِ کا اضافہ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کے عموم کو ظاہر کرنے کے لئے اور ان لوگوں کی تردید ہے جو اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ سے نصاریٰ مراد لیتے ہیں، الصیام مصدر ہے بمعنی روزہ رکھنا۔ قولہ : المعاصی کے اضافہ سے اشارہ کردیا کہ تتقون سے لغوی معنی مراد ہیں اور المعاصی اس کا مفعول بہ ہے۔ قولہ : نُصِبَ بالصَّیامِ او بصوموْا مُقَدّرًا، کی تقدیر سے اَیّامًا کے منصوب ہونے کی دو صورتوں کی طرف اشارہ ہے، ایک تو یہ ہے کہ ایّامًا، الصِّیام مذکور کی وجہ سے منصوب ہے، مگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ عامل اور معمول کے درمیان کما کتِبَ علی الذین من قبلکم کا فعل بالاجنبی ہے، لہٰذا الصِّیام عامل نہیں ہوسکتا، جواب اس کا یہ ہے کہ رضی (رح) تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر معمول ظرف ہو تو فصل بالاجنبی کے باوجود عمل درست ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ صُومُوْا مقدر مان لیا جائے، اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔ قولہ : ای قلَائِلَ ، معدُودَاتٍ کی تفسیر قَلائِلَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ معدودات سے مراد قلیل مقدار ہے اس لئے کہ عرب قلیل کو جو کہ چالیس سے کم ہو ” معدود “ سے اور کثیر کو ” موزون “ سے تعبیر کرتے ہیں، قلیل مال کو کہتے ہیں یُعَدُّ عدًّا اور کثیر کو یُصَبُّ صَبًّا بولتے ہیں، ای یُوزَنُ وزْنًا۔ قولہ : ای موقتاتٍ بعددٍ ای محدوداتٍ ، بعدد یہ قلائل کی تفسیر ہے معنی ہیں معدودے چند۔ قولہ : قَلَّلَہٗ تَسْھِیلًا علی المکلفین ماہ رمضان کے روزے اگرچہ بنفسہ کثیر ہیں مگر نفسیانی طور پر متاثر کرنے کے لئے تشجیع کے طور پر قلت سے تعبیر کردیا ہے تاکہ مکلفین کے لئے اداء صوم میں سہولت اور آسانی ہو۔ قولہ : حین شھودہٖ یعنی رمضان کی آمد کی وقت مریض ہو یا مسافر اس میں احتراز ہے اس صورت سے جب کہ حالت سفر یا حالت مرض میں روزہ شروع ہوجائے۔ قولہ : ای مسافِرًا سفر القصر اس میں سفر شرعی کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : اَجْھَدَہُ الصومُ فی الحالین فَافْطَرَ ای فی حالۃ المرض والسفر دونوں صورتوں میں افطار کی اجازت کے لئے مشقت کی شرط امام شافعی (رح) تعالیٰ کے قول کے مطابق ہے احناف کے نزدیک سفر میں مشقت کی شرط نہیں ہے سفر اگر آرام دہ بھی ہو تب بھی افطار کی اجازت ہے، مرض میں افظار کے لئے جہد و مشقت کی شرط ہے، اس لئے کہ بعض امراض میں روزہ مفید ہوتا ہے نہ کہ مضر، بخلاف سفر کے کہ سفر ہی کو قائم مقام مشقت مان لیا گیا ہے۔ قولہ : ھُدًی حال ہے بمعنی ھادِیًا، نہ کہ القرآن کی صفت اس لئے کہ ھدًی نکرہ اور القرآن معرفہ ہے۔ قولہ : وَکَرَّرَہُ لِئَلَّا یُتَوَھَّم نسخہ بتعمیم مَن شھِدَ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : مذکورہ آیت کو مکرر لانے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : اللہ تعالیٰ کے قول فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمْ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہٗ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان کے روزے سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہے، مریض ہو یا مسافر، مرضعہ ہو یا حامل، حالانکہ اول دو کے علاوہ سب مستثنیٰ ہیں خواہ مقیم ہو یا تندرست، اس لئے کہ فَمَنْ شَھِدَ عموم پر دلالت کرتا ہے، اسی وہم کو دفع کرنے کے لئے اس آیت کو مکرر لایا گیا ہے۔ قولہ : ولِکَون ذٰلک فی معنی العلۃ ایضا للامر بالصوم عُطِفَ علیہ ولتکمِلُوا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے۔ اعتراض : اعتراض کا ماحصل یہ ہے کہ یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الیُسْرَ الخ۔ فعدۃ من ایام اخر جملہ فعلیہ ہے اور اس پر ولتکمِلُوا العِدَّۃَ کا عطف ہے، اور یہ جملہ انشائیہ ہے اور جملہ انشائیہ کا جملہ خبر یہ پر عطف درست نہیں ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ معطوف علیہ یعنی یُریدُ اللہ بکم الیسر الخ علت کے معنی میں ہے اور ولتکملوا بھی علت کے معنی میں ہے لہٰذا علت کا علت پر عطف درست ہے۔ قولہ : وَلِتکبِّوُوا اللہ علیٰ ما ھدٰکم امر بالقضاء کی علت ثالثہ ہے۔ تفسیر و تشریح یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ ، صِیام روزہ رکھنا، باب نصر کا مصدر ہے۔ صوم کے لغوی معنی مطلقًا رکنا، اور اصطلاح شرح میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے، جماع سے روزہ کی نیت کے ساتھ رکنا، روزہ کسی نہ کسی شکل و صورت میں دنیا کے تقریباً ہر مذہب و قوم میں پایا جاتا ہے، قرآن چونکہ مشرکانہ مذاہب سے بحث نہیں کرتا اس لئے اَلَّذِیْنَ مِن قبلِکُمْ سے اہل کتاب ہی مراد ہیں، کمَا کُتِبَ یہ تشبیہ دوسری ملتوں کے ساتھ فرضیت صیام میں ہے نہ کہ تعداد اور شرائط و کیفیات صوم میں، فھُوَ تشبیہ فی الفرضیۃِ ولا تدخل فِیْہِ الکیفیۃُ والکمیَّۃُ ۔ (المنار) روزہ کا جسمانی و روحانی فائدہ : لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ اس جملہ سے روزہ کی اصل غرض وغایت کی طرف اشارہ ہے، روزہ کا مقصد تقویٰ کی عادت ڈالنا اور امت کے افراد کو متقی بنانا ہے، تقویٰ نفس کی ایک مستقل کیفیت کا نام ہے، جس سے عالم آخرت کی لذتوں اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کی صلاحیت و استعداد انسان میں پوری طرح پیدا ہوجاتی ہے روزہ سے جہاں بہت سی جسمانی بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے وہیں بہت سی روحانی بیماریوں کا بھی کارگر اور محرب علاج ہے، جدید و قدیم سب طبیں اس پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج ہے اس کے علاوہ اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبط نفس کی عادت پیدا ہوتی ہے، روزہ رکھنے سے بھوک خوب کھل کر لگتی ہے خون صالح پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں۔ تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں۔ (یہ آیت اگلی آیت سے ملصوق ہے) اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

مریض کا روزہ : فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے، یا مرض میں اضافی یا صحت میں تاخیر کا اندیشہ ہو، وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ کا یہی مطلب ہے۔ مسافر کا روزہ : اَوْ عَلٰی سَفَرٍ یہ امر غور طلب ہے کہ مختصر لفظ مسافر کے بجائے علیٰ سفر کا لفظ اختیار فرما کر کئی اہم مسائل کی طرف اشارہ فرما دیا، اول یہ کہ مطلقاً لغوی سفر یعنی گھر یا بستی سے باہر نکلنے کا نام سفر نہیں بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہیے اس لئے کہ لفظ علیٰ سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوار ہو جس سے یہ بات خودبخود معلوم ہوتی ہے کہ گھر سے دس پانچ میل چلے جانا مراد نہیں، مگر یہ تحدید کہ سفر کتنا طویل ہو قرآنی الفاظ میں مذکور نہیں، رسول اللہ ﷺ کے بیان اور صحابہ کرام کے تعامل سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور بہت سے فقہاء نے اس کی مقدار تین منزل یعنی وہ مسافت جس کو پیادہ سفر کرنے والا بآسانی تین روز میں طے کرسکے قرار دی ہے اور بعد کے فقہاء نے میل کے حساب سے اڑتالیس (48) میل بتائے ہیں، جس کی مقدار کلومیٹر کے حساب سے 24836/77 کلومیٹر یعنی سو استتر کلومیٹر کا مستحق ہے جب تک اس کے سفر کا سلسلہ جاری رہے، اور یہ ظاہر ہے کہ آرام یا کسی کام کے لیے ٹھہر جانا، مطلقًا اس کے سلسلہ سفر کو ختم نہیں کردیتا، جب تک کہ کوئی معتدبہ مقدار قیام نہ ہو اور اسی معتدبہ قیام کی مدت نبی ﷺ کے بیان سے ثابت ہوئی کہ پندرہ دن ہیں، جو شخص کسی ایک مقام پر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ علیٰ سفَرٍ نہیں کہلاتا، اسی لئے وہ رخصت سفر کا بھی مستحق نہیں رہتا۔ مسئلہ : اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص پندرہ دن کے قیام کی نیت ایک جگہ نہیں بلکہ متفرق مقامات پر ٹھہرنے کی کرے تو وہ بدستور مسافر کے حکم میں رہ کر رخصت کا مستحق رہے گا، کیونکہ وہ علیٰ سفرٍ کی حالت میں ہے۔ روزہ کی قضاء : فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یعنی مریض و مسافر کو اپنے فوت شدہ روزوں کی گنتی کے مطابق دوسرے دنوں میں روزے رکھنا واجب ہے فَعَلیہ القضاء کے مختصر جملہ کے بجائے مِنْ ایّام اُخَر کا طویل جملہ اختیار کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ فوت شدہ روزوں کی قضاء صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب کہ مریض صحت کے بعد اور مسافر مقیم ہونے کے بعد اتنے دنوں کی مہلت پائے جن میں قضا کرسکے اگر کوئی شخص اتنے دن سے پہلے انتقال کر گیا تو اس پر قضا یا وصیت فدیہ لازم نہیں ہوگی۔ مسئلہ : عِدَّۃٌ مِن ایّامٍ اُخَر میں چونکہ کوئی قید نہیں ہے اس لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ مسلسل اور ترتیب سے رکھے یا غیر مسلسل اور غیر مرتب طریقہ پر رکھے، روزہ رکھنے والے کو اختیار ہے جس طرح چاہے رکھے۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ اس کے بےتکلف معنی یہ ہیں کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت تو رکھتے ہیں مگر کسی وجہ سے دل نہیں چاہتا تو ان کے لئے بھی یہ گنجائش ہے کہ روزہ کے بجائے روزے کا فدیہ بصورت صدقہ ادا کریں وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب لوگوں کو روزہ رکھنے کی عادت نہیں تھی اور لوگوں کو روزہ کا خوگر بنانا مقصود تھا، اس کے بعد والی آیت یعنی فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ جب نازل ہوئی تو اس حکم کو عام لوگوں کے حق میں منسوخ کردیا گیا، صرف ایسے لوگوں کے حق میں اب بھی باجماع امت باقی رہ گیا جو بہت بوڑھے ہوں (جصاص) یا ایسے بیمار ہوں کہ اب صحت کی امید ہی نہ رہی ہو، جمہور صحابہ ؓ اور تابعین (رح) تعالیٰ کا بھی یہی قول ہے۔ (جصاص، مظہری) صحیح بخاری و مسلم و ابو داؤد، نسائی، ترمذی وغیرہ میں تمام ائمہ حدیث نے سلمہ بن اکوع ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ نازل ہوئی تو ہمیں اختیار دیدیا گیا تھا کہ جس کا جی چاہے روزے کا فدیہ دے پھر جب دوسری آیت فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ نازل ہوئی تو یہ اختیار ختم ہو کر طاقت والوں پر روزہ ہی رکھنا لازم ہوگیا۔ مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبل ؓ کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نماز کے معاملات میں بھی ابتداء اسلام میں تین تغیرات ہوئے اور روزہ کے معاملہ میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں، روزہ کی تین تبدیلیاں یہ ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو ہر مہینہ میں تین روزے اور ایک روزہ یوم عاشورہ یعنی دسویں محرم کا رکھتے تھے، پھر رمجان کی فرضیت کے بارے میں کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ آیت نازل ہوئی، تو حکم یہ تھا کہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ روزہ رکھ لے یا فدیہ دیدے، اور روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہے پھر اللہ تعالیٰ نے روزہ ہی کے بارے میں ایک دوسری آیت فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمْ الشَّھْرَ نازل فرمائی اس آیت نے تندر سے قوی کے لئے یہ اختیار ختم کرکے صرف روزہ رکھنا لازم کردیا، مگر بہت بوڑھے آدمی کے لئے یہ حکم باقی رہا کہ وہ چاہے تو روزہ کے عوض فدیہ ادا کردے۔ تیسری تبدیلی یہ ہوئی کہ شروع میں افطار کے بعد کھانے پینے اور اپنی خواہش پوری کرنے کی اجازت صرف اس وقت تک تھی جب تک آدمی سوئے نہیں، جب سو گیا تو دوسرا روزہ شروع ہوگیا، کھانا پیناوغیرہ ممنوع ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے آیت اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلیٰ نِسَآئِکُمْ : نازل فرما کر یہ آسانی فرما دی کہ اگلے دن کی صبح صادق تک کھانا پینا وغیرہ سب جائز فرما دیا۔ (ابن کثیر، معارف) فدیہ کی مقدار : ایک روزہ کا فدیہ نصف صاع گندم یا اس کی قیمت ہے مروجہ وزن کے اعتبار سے نصف صاع ایک کلو، 575 گرام، اور 140 ملی گرام، یعنی نصف صاع ایک کلو پانچ سو پچھتر گرام اور ایک سو چالیس ملی گرام کے مساوی ہوتا ہے۔ (امداد الاوزان) اس کی بازاری قیمت معلوم کرکے کسسی مستحق کو مالکانہ طور پر دیدینا ایک روزہ کا فدیہ ہے۔ مسئلہ : ایک روزہ کے فدیہ کو دو آدمیوں میں تقسیم کرنا یا چند روزوں کے فدیہ کو ایک ہی شخص کو ایک تاریخ میں دینا درست نہیں، جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحرقنیہ سے نقل کیا ہے، امداد الفتاویٰ میں حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ نے فتویٰ اس پر نقل کیا ہے کہ مذکورہ دونوں صورتیں جائز ہیں، شامی نے بھی فتویٰ اسی پر نقل کیا ہے، البتہ امدار الفتاویٰ میں ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ کئی روزوں کا فدیہ ایک تاریخ میں ایک ہی شخص کو نہ دے، لیکن دینے کی گنجائش بھی ہے۔ مسئلہ : اگر کسی کو فدیہ دینے کی بھی وسعت نہ ہو تو وہ استغفار کرے اور دل میں ادا کرنے کی نیت رکھے۔ (معارف)