2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:144–147

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لو اور تم لوگ جہاں ہوا کرو (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں اور اگر تم باوجود اسکے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحی خدا) آچکی ہے ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

آیت نمبر 144 تا 147 ترجمہ : قد تحقیق کے لئے ہے، ہم آپ کے چہرے کو آسمان کی طرف وحی کی طلب اور استقبال کعبہ کے شوق میں بار بار اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں، اور آپ (کعبہ) کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ (کعبہ) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، اور اس لئے بھی کہ کعبہ کو قبلہ قرار دینا عربوں کو اسلام کی طرف بلانے میں زیادہ مؤثر (اپیل کرنے والا) تھا، سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیتے ہیں جس کو آپ پسند کرتے ہیں آپ اپنا رخ نماز میں مسجد حرام یعنی کعبہ کی جانب پھیر لیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو یہ امت کو خطاب ہے، اپنے چہرے کا (رخ) نماز میں اسی طرف کیا کریں اہل کتاب کو قطعی علم ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کرنا ان کے رب کی جانب سے قطعی حق ہے اس لئے کہ ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کئ صفات کے بارے میں یہ موجود ہے کہ وہ (نماز میں) رخ کعبہ کی طرف کریں گے، اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے بیخبر نہیں یاء اور تاء کے ساتھ، اے مومنو ! امتشال امر وغیرہ جو تم کرتے ہو اور یہود قبلہ کے حکم کا جو انکار کرتے ہیں (اللہ اس سے غافل نہیں ہے) اور اگرچہ آپ ﷺ لئِنْ میں لام قسمیہ ہے، قبلہ کے معاملہ میں اپنی صداقت پر تمام دلیلیں پیش کردیں تب بھی وہ دشمنی کی وجہ سے آپ کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں، یہ ان کے اسلام کے بارے میں آپ ﷺ کی امید کو منقطع کرنا ہے اور آپ ﷺ کے بارے میں ان کے قبلہ کی طرف لوٹنے کی امید کو منقطع کرنا ہے، اور نہ یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے کے قبلہ کی اتباع کرنے والے ہیں، یعنی نہ یہود و نصاریٰ کے قبلہ کی اور برعکس اور اگر آپ ﷺ ، آپ کے پاس علم آجانے کے باوجود ان کی ان خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں جن کی طرف وہ دعوت دے رہے ہیں (یعنی) بالفرض اگر آپ ان کی اتباع کریں تو آپ یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے، جنہیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ تو محمد ﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا کوئی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے ان کی کتابوں میں آپ کی صفات کے موجود ہونے کی وجہ سے، عبد اللہ بن سلام نے کہا : جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو میں آپ کو اس طرح پہچان گیا، جیسے اپنے بیٹے کو پہچانتا ہوں، بلکہ محمد ﷺ کی شناخت اس سے بھی زیادہ ہے۔ (رواہ البخاری) بلاشبہ ان میں ایک جماعت آپ کی صفات کو چھپاتی ہے باوجود یکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ (طریقہ) جس پر آپ ﷺ ہیں حق ہے جو آپ کے رب کی جانب سے ہے، سنو ! آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوجانا یعنی شک کرنے والوں کی قسم سے نہ ہوجانا، فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (طرزِ خطاب) میں لاتَمْتَرْ سے زیادہ بلیغ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : قَدْ تحقیق کے لئے ہے کما صرّح المفسر العلام، اور بعض کے نزدیک تکثیر کے لئے ہے اور یہ کثرت آپ ﷺ کی نسبت سے ہے، یعنی ہم آپ کی نظر کو بکثرت آسمان کی طرف اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں، یہاں قَدْ تقلیل کا اس لئے نہیں ہوسکتا کہ تقلب اس کی نفی کرتا ہے اس لئے کہ تقلب کثرت کا تقاضہ کرتا ہے۔ قولہ : نُوَلِّیَنَّکَ مضارع جمع متکلم بانون تاکید ثقیلہ، مصدر تَوْلِیَۃً کاف ضمیر مفعول ہے ہم آپ کو ضرور پھیر دیں گے، مراد اس سے تحویل قبلہ ہے جو غزوہ بدر سے دو ماہ قبل ماہ رجب میں بروایت براء بن عازب ؓ زوال آفتاب کے بعد عصر کی نماز میں ہوئی، مجاہد کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ ﷺ صحابہ کو بنی سلمہ کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ قولہ : اَیُّھَا المومنون الخ یہ تعلمون کی صورت میں ہے۔ قولہ : قَطْع لطمعِہ فی اسلامِھم وطَمعِھمْ فی غودِھَا اِلَیھَا ان میں لف و نشر مرتب ہے۔ قولہ : الیھور قبلۃَ النصاریٰ وبالعکس یہود کا قبلہ صخرۃ البیت المقدس تحا اور نصاریٰ کا صخرہ کی مشرق کی جانب۔ قولہ : فرضًا فرضاً کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : لَئنْ اَتَیْتَ میں ان استعمال ہوا ہے جو کہ غیر یقینی چیزوں کے لئے استعمال ہوتا ہے حالانکہ آپ ﷺ کا ان کے قبلہ کی اتباع نہ کرنا اور ان کا آپ ﷺ کے قبلہ کی اتباع نہ کرنا یقینی تھا۔ جواب : علیٰ سبیل الفرض تسلیم کرتے ہوئے، اِنْ کا استعمال کیا گیا ہے۔ قولہ : ھٰذا الذی انت علیہ الحقُّ ھٰذا اسم اشارہ، الذی انت علیہ موصول صلہ سے مل کر مشار الیہ جملہ ہو کر مبتدا٫ الحقُّ اس کی خبر۔ تفسیر و تسریح وحی خفی سے ثابت شدہ حکم کا کتاب اللہ سے نسخ : جصاص (رح) تعالیٰ نے احکام القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم میں کہیں اس کی تصریح نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قبل ہجرت بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، البتہ اس کا ثبوت صرف سنت نبوی سے ہے تو جو حکم سنت نبوی سے ثابت ہوا تھا اس کو آیت قرآنی سے منسوخ کرکے آپ کا قبلہ بیت اللہ کو قرار دیدیا تھا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حدیث رسول بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی ہے اور یہ کہ کچھ احکام وہ بھی ہیں جو قرآن میں مذکور نہیں صرف حدیث سے ثابت ہیں اور قرآن ان کی شرعی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے کیونکہ اسی آیت کے آخر میں یہ بھی مذکور ہے کہ جو نمازیں بامر رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف پڑھی گئیں وہ عند اللہ معتبر ہیں بخاری و مسلم اور تمام معتبر کتب حدیث میں متعدد صحابہ کرام ؓ کی روایت سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو آپ نے عصر کے بجائے ظہر کی نماز مذکور ہے (ابن کثیر) بعض صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ کر باہر گئے اور دیکھا کہ قبیلہ بنی سلمہ کے لوگ اپنی مسجد میں حسب سابق بیت المقدس کی جانب نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے آواز دے کر کہا کہ اب قبلہ بیت اللہ کی طرف ہوگیا ہے، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ کر آئے ہیں ان لوگوں نے درمیان نماز ہی میں اپنا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیرلیا، نویلہ بنت مسلم کی روایت میں ہے کہ جو عورتیں پچھلی صفوں میں تھیں وہ اگلی صفوں میں اور مرد جو اگلی صفوں میں تھے وہ پچھلی صفوں میں ہوگئے اس کے بعد صفوں کی ترتیب درست ہوئی۔ بنو سلمہ کے لوگوں نے تحویل قبلہ پر عصر ہی کی نماز میں عمل کیا، مگر قباء میں یہ خبر اگلے روز صبح کی نماز میں پہنچی جیسا کہ بخاری و مسلم میں بروایت ابن عمر ؓ مذکور ہے، اہل قباء نے بھی اپنا رخ نماز ہی میں بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیرلیا۔ (ابن کثیر، و جصاص) لاوڈ اسپیکر پر نماز کا مسئلہ : مائک (لاوڈ اسپیکر) پر نماز جاء ز ہے یہ بات ظاہر ہے کہ اتباع لاوڈ اسپیکر کا نہیں ہوتا، بلکہ اتباع تو رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب امام رکوع کرے رکوع کرو اور جب سجدہ کرے سجدہ کرو، لاوڈ اسپیکر تو محض امام کی آواز کو بلند کرنے کا واسطہ ہے نہ کہ مقتدیٰ ، اس لئے کہ مائک کی آواز بعینہ امام کی آواز ہوتی ہے نہ کہ حکایت و نقل لہٰذا مائک پر نماز کے جواز میں کوئی اشکال نہیں۔ (معارف ملخصا) قَدّ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ اس آیت سے متعلق ضروری مضمون سابق تشریح کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ استقبالِ قبلہ : اگرچہ تمام جہتیں اللہ ہی کی ہیں وہ کسی خاص جہت میں محدود نہیں ہے، لیکن مصالح امت کے لئے بتقاضائے حکمت کسی ایک جہت کا تمام دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے لئے قبلہ بنا کر سب میں ایک دینی وحدت کا عملی مظاہرہ مقصود تھا، وہ جہت بیت المقدس بھی ہوسکتی تھی، مگر رسول اللہ ﷺ کی تمنا و خواہش کے مطابق بیت اللہ کو قبلہ بنادیا گیا، اسی کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے قرآن مجید میں جہت قبلہ کے لئے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں : فَوَلِّ وَجّھَکَ شَطْرَ الْمَسْجدِ الحرامِ اللہ تعالیٰ نے فَوَلِّ وَجْھَکَ اِلَی الْکَعْبَۃِ کی مختصر تعبیر کو چھوڑ کر شطْر المسجد الحرامِ کی طویل تعبیر اختیار فرمائی، اس تعبیر سے استقبال قبلہ کے کئی مسائل واضح ہوگئے۔ (1) اول یہ کہ اگرچہ اصل قبلہ بیت اللہ ہے جس کو کعبۃ اللہ کہا جاتا ہے جو کہ ایک چھوٹی سی مربع عمارت ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ عین بیت اللہ کا استقبال اس جگہ تک تو ممکن ہے جہاں تک بیت اللہ نظر آتا ہے، لیکن وہ لوگ جو بیت اللہ سے دور ہیں جن کو بیت اللہ نظر نہیں آتا ان پر یہ پابندی عائد کعنا کہ عین بیت اللہ کی طرف رخ ضروری ہے تو اس میں بہت دشواری ہوگی، خاص آلات اور حساب کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے ہے جو نہ ہر شخص کو دستیاب اور نہ ان کے استعمال پر قادر شریعت محمدیہ ﷺ کا مدار چونکہ سہولت پر ہے اس لئے بجائے بیت اللہ یا کعبہ کے مسجد حرام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ بیت اللہ کے مقابلہ میں کافی وسیع ہے اس کی طرف رخ کرنا دور دراز کے لوگوں کے لئے آسان ہے۔ (2) دوسری سہولت لفظ شطر اختیار کرکے دیدی گئی ورنہ اس سے مختصر لفظ الی المسجد الحرام تھا، شطر کے دو معنی ہیں ایک نصف اور دوسرے سمت باتفاق مفسرین یہاں سمت کے معنی مراد ہیں اس سے معلوم ہوگیا کہ بلاد بعیدہ میں یہ ضروری نہیں کہ خاص مسجد حرام ہی کی طرف ہر ایک کا رخ ضروری ہے بلکہ سمت مسجد حرام کافی ہے۔ (بحر محیط، معارف) مثلاً مشرقی ممالک ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ کے لئے جانب مغرب مسجد حرام کی سمت ہے اور چونکہ موسم سرما و گرما میں سمت مغرب میں اختلاف ہوتا رہتا ہے اس لئے فقہاء رحمہم اللہ نے اس سمت کو سمت مغرب و قبلہ قرار دیا ہے جو دونوں موسموں کے درمیان ہے۔ قواعد ریاضی کے اعتبار سے سمت قبلہ : قواعد ریاضی کے حساب سے صورت مسئلہ یہ ہوگی کہ مغرب صیف اور مغرب شتا کے درمیان 48 ذگری تک سمت قبلہ قرار دی جائے گی، یعنی 24 ڈگری تک بھی اگر انحراف ہوجائے تب بھی سمت قبلہ فوت ہوگی۔ (شرح چغمینی، معارف) رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث سے اس کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں مَا بَیْنَ المَشرِقِ والمَغْرب قبلۃ (قرمذی) آپ کا یہ ارشاد مدینہ طیبہ والوں کے لئے تھا اس لئے کہ ان کا قبلہ مشرق و مغرب کے درمیان جانب جنوب واقع تھا، اس حدیث سے گویا کہ لفظ شطر کی تشریح ہوگئی۔
Ayahs 2:148–149

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فرقے) کیلئے ایک سمت (مقرر) ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو تم جہاں ہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کرلیا کرو بےشبہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے بیخبر نہیں

آیت نمبر 148 تا 152 ترجمہ : ہر امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ طرف وہ اپنی عبادت میں رخ کرتی ہے اور ایک قراءت میں مُوَلَّاھَا ہے (جس کی طرف پھیرا گیا ہے) نیکیوں کی طرف سبقت کرو یعنی طاعتوں اور اس کے قبول کی جانب جلدی کرو، تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم کو جمع کر لائے گا (یعنی) روز قیامت تم کو جمع کرے گا، اور تمہارے اعمال کی جزا دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (اے محمد ﷺ ! ) آپ جہاں سے بھی سفر شروع کریں (نماز میں) رخ مسجد حرام کی جانب کریں، یہی آپ کے رب کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے تاء اور یاء کے ساتھ، اسی جیسی آیت گزر چکی ہے، سفر و حضر میں حکم کی یکسانیت کو بیان کرنے کے لئے (آیت) مکرر ذکر کی ہے، اور (اے مسلمانو ! تم بھی) جس جگہ سے سفر شروع کرو اپنا رخ مسجد حرام کی جانب کرو تاکید کے لئے مکرر ذکر کیا ہے، تاکہ لوگوں (یعنی) یہود یا مشرکین کو، تمہارے ساتھ کوئی نزاع نہ رہے (ان کے) قبلہ کی مخالف جانب رخ کرنے کی وجہ سے، یعنی تاکہ تمہارے ساتھ ان کی حجت بازی ختم ہوجائے، اس بات میں کہ یہود کہتے ہیں کہ (محمد) ہمارے دین کا (تو) انکار کرتے ہیں مگر ہمارے قبلہ (بہت المقدس) کی اتبار کرتے ہیں، اور مشرکوں کا کہنا یہ ہے، کہ محمد ملت ابراہیمی کا تو دعویٰ کرتے ہیں مگر اس کے قبلہ کی مخالفت کرتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے کہ جنہوں نے ان میں سے بوجہ عناد کے ظلم کیا، ان کا کہنا ہے کہ کعبہ کی جانب رخ محض اپنے آباء کے دین کی طرف میلان کی وجہ سے کیا ہے اور (للناس) استثناء متصل ہے، اور معنی یہ ہیں کہ تم پر کسی کا کوئی اعتراض نہ رہے گا، مگر (ظالم) لوگوں کا لہٰذا تم کعبہ کی جانب رخ کرنے میں ان کے جھگڑنے سے نہ ڈرو، میرا حکم بجالا کر مجھ سے ڈرتے رہو اور تاکہ میں تم کو تمہارے دین کے احکام کی طرف رہنمائی کرکے تمہارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دوں، اور اس لئے تاکہ تم حق کی طرف ہدایت پاؤ جس طرح ہم نے تمہارے لئے تم ہی میں سے ایک رسول (محمد ﷺ بھیجا (کَمَا اَرْسَلْنَا) اُتَمَّ سے متعلق ہے، یعنی اس طرح نعمت کی تکمیل کرکے جس طرح ہم نے تم ہی میں سے رسول بھیج کر نعمت کی تکمیل کی، جو تم کو ہماری قرآنی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو شرک سے پاک کرتا ہے، اور تم کو کتاب یعنی قرآن اور حکمت سکھاتا ہے جس کے اندر احکام ہیں اور تمہیں وہ چیزیں سکھاتا ہے، جس سے تم ناواقف تھے، لہٰذا تم نماز و تسبیح کے ذریعہ میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد کروں گا، کہا گیا ہے کہ اس کے معنی ہیں میں تم کو جزاء دوں گا، اور حدیث قدسی میں ہے کہ جو شخص مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اس کے مجمع سے بہتر مجمع میں اس کو یاد کرتا ہوں اور میری نعمتوں کا طاعت کے ذریعہ شکر ادا کرو اور معصیۃ کے ذریعہ ناشکری نہ کرو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ مفسر علام نے مِنَ الُامَمِ محذوف مان کر حذف مضاف الیہ کی طرف اشارہ کیا ہے حذب مضاف کی طرف حذف مضاف الیہ کی مثالیں بھی عام ہے، لِکُلٍّ ای لکُلٍّ اُمَّۃٍ یعنی ہر دین و دھرم والوں کے لئے خواہ دین حق ہو یا باطل ایک مرکزی رخ ہوتا ہے جس کو ان کا قبلہ کہا جاسکتا ہے۔ قولہ : ھُوَ مُوَلِّیْھَا، ھو سے فریق مراد ہے، جو اُمَمٌ سے مفہوم ہے، کُلٌ کی مناسبت سے ھو لایا گے ہے، اگر مفسر علام امم کے بجائے فریق سے تعبیر کرتے تو زیادہ واضح ہوتا۔ (صاوی) ۔ قولہ : مُوَلِّیھَا، مُوَلِّیْ اسم فاعل ہے، ھَا مفعول اول ہے وَجْھہٗ مفعول ثانی ہے، جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے، وفی قراء ۃٍ مُوْلَّاھَا بصیغہ اسم مفعول اس کا نائب فاعل مفعول اول ہے۔ قولہ : قِبْلَۃٌ مفسر علام نے وِجْھَۃٌ کی تفسیر قبلۃٌ سے کرکے دو اعتراضوں کا جواب دیا ہے : (1) وِجْھَۃٌ مصدر ہے بمعنی توجہ، اس صورت میں معنی درست نہیں ہیں اس لئے کہ مقصود یہ نہیں ہے کہ ہر امت کے لئے توجہ ہے بلکہ مراد متوجہ الیہ ہے، یعنی جس کی جانب توجہ کی جائے، قِبْلَۃ کا اضافہ کرکے جواب دیدیا، کہ معنی مصدری مراد نہیں ہیں۔ مراد ظرف مکان ہے جس کو قبلہ کہا جاتا ہے۔ (2) قیاس کا تقاضہ یہ ہے کہ جِھَۃٌ ہو اس لئے کہ تاء واؤ کے عوض میں ہے جیسا کہ عِدَۃٌ میں کہ اصل وِعْدٌ تھا، واؤ حذف کر کرے آخر میں تاء کا اضافہ کردیا جِھَۃٌ ہوگیا، وِجْھَۃٌ میں عوض اور معوض دونوں کا جمع ہونا لازم آتا ہے جواب : وِجْھَۃٌ اگرچہ اصل میں مصدر ہے لیکن متوجہ الیہ کا نام ہوگیا ہے اور وہ قبلہ ہے اس میں واؤ کو باقی شاذ نہیں ہے۔ (ترویح الارواح) قولہ : الیھود او المشرکین اس میں اشارہ ہے کہ للناس میں لام عہد کا ہے۔ قولہ : ای مُجَادَلَۃ، حُجَّۃٌ کی تفسیر مجادلۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں حجۃ سے دلیل وبرہان مراد نہیں ہے اس لئے کہ ان کے پاس کوئی حجۃ وبرہان نہیں تھی بلکہ منازعت اور مجادلۃ بالباطل مراد ہے۔ قولہ : من قول الیھود الخ یہ مجادلۃ کا بیان ہے یعنی یہود یہ کہہ کر مجادلۃ کرتے ہیں اور مشرکین یہ کہہ کر مجادلہ کرتے ہیں۔ قولہ : الیٰ غِیْرِہٖ ، غیرہٖ کی ضمیر تَوَلِّی کی طرف راجع ہے، مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! ہم نے تم کو سمت کعبہ کی طرف رخ کرنے کا اس لئے حکم دیا ہے کہ رخ کرنے میں نزاع ہی ختم ہوجائے۔ قولہ : الاِ ستثناء متصل اس لئے ہے کہ مستثنیٰ منہ بھی ظالمین ہی ہے۔ تفسیر و تشریح وَلِکُلٍّ وِّجھَۃٌ۔ ہر قوم راست را ہے دینے و قبلہ گا ہے۔ یعنی ہر قوم، ہر امت اپنی نماز و عبادت حتی کہ پوجا پاٹ کے لئے بھی کوئی نہ کوئی مرکزی رخ رکھتی ہے۔ سو امت اسلامیہ کے لئے بھی ایک متعین قبلہ ناگزیر ہے، مطلب یہ ہے کہ ہر قوم دامت کے لئے مختلف قبلہ ہوتے چلے آئے ہیں خواہ منجانب اللہ ہو یا خود ساختہ، بہر حال یہ امر واقعہ ہے کہ ہر قوم و ملت کا کوئی نہ کوئی قبلہ ہوتا ہے کوئی کسی کے قبلہ کو قبلہ تسلیم نہیں کرتا، اس لئے اپنے قبلہ کے حق ہونے پر ان لوگوں سے بحث و مباحثہ فضول ہے، لہٰذا اس فضول بحث کو چھوڑ کر اپنے اصل کام میں لگ جانا چاہیے، اور وہ اصل کام ہے نیک کاموں میں دوڑ دھوپ مسابقت میں لگ جانا، فضول بحثوں میں الجھنے سے وقت ضائع ہوتا ہے اور مسابقت الی الخٰرات میں سستی اور آخرت سے غفلت ہوتی ہے۔ وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ الخ قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ دہرایا گیا ہے، یا تو اس کی تاکید اور اہمیت ظاہر کرنے کے لئے، یا چونکہ یہ نسخ حکم کا پہلا تجربہ تھا اس لئے ذہنی خلجان دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بار بار دہرا کر دلوں میں راسخ کردیا جائے، یا تعدد علت کی وجہ سے ایسا کیا گیا، ایک علت نبی ﷺ کی مرضی اور خواہش تھی ایک جگہ اسے بیان کیا گیا، دوسری علت ہر اہل ملت اور صاحب دعوت کے لئے ایک مستقل مرکز کا وجود درکار ہے، تیسری علت مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہے لہٰذا تیسری مرتبہ دہرایا گیا۔ (فتح القدیر شوکانی)
Ayahs 2:150–152

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا کرو) اور (مسلمانو ! ) تم جہاں ہوا کرو اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لئے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں مگر ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (من جملہ نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمہیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں اور ایسی باتیں بتاتے ہیں جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کرونگا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

لِئَلَّا یَکُوْنَ لِنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ ” خانہ کعبہ “ لکھا ہوا ہے اور بت المقدس کی جانب نماز پڑھتے ہیں۔ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یہاں ظلموا سے معاندین مراد ہیں یعنی اہل کتاب میں سے جو معاندین ہیں وہ یہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور حسد وعناد کہیں گے کہ بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر بالآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا اور بعض کے نزدیک اس سے مشرکین مراد ہیں۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

آیت نمبر 153 تا 158 ترجمہ : اے ایمان والو ! طاعت اور مصیبت پر صبر اور نماز سے آخرت کے لئے مدد چاہو نماز کو اس لے بار بار آنے اور اس کی عظمت شان کی وجہ سے خاص طور پر مکرر ذکر کیا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا مدد کے ذریعہ ساتھ دیتا ہے اور راہ خدا کے شہدوں کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں جنت میں جہاں چاہیں گھومتی ہیں، اس مضمون کی حدیث کی وجہ سے، لیکن جس کیفیت میں وہ ہیں تم نہیں سمجھ سکتے اور ہم تم کو دشمن کے خوف اور قحط کی فاقہ کشی اور مال کے ضیاع کے ذریعہ نقصان نیز جانوں میں قتل اور امراض اور موت کے ذریعہ ضرور آزمائیں گے، اور پھلوں میں روگ سے نقصان کے ذریعہ تمہاری ضرور آزمائش کریں گے، تاکہ ہم دیکھ لیں آیا تم صبر کرتے ہو یا نہیں اور مصیبت پر صبر کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیدو یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم ملکیت اور عبدیت کے اعتبار سے اللہ کے ہیں اس کو اختیار ہے وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور ہم آخرت میں اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں تو وہ ہم کو جزاء دے گا، حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کا چراغ گل ہوگیا تو آپ ﷺ نے اِنَّا للہ پڑھی، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا (یا رسول اللہ) یہ چراغ ہی تو ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہر وہ چیز مومن کو تکلیف پہنچائے وہ مصیبت ہے، اس کو ابو داؤد نے اپنی مراسیل میں ذکر کیا ہے۔ یہی ہیں وہ لوگ جن پر ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور نوازشیں ہوں گی اور ایسے راستی کی طرف ہدایت یافتہ ہیں، یقیناً صفا اور مردہ مکہ ہے دو پہاڑ اللہ کی نشانیاں ہیں یعنی اس کے دین کی نشانیاں ہیں، شَعَائِرْ ، شَعِیْرَۃ کی جمع ہے، سو جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا یعنی حج وعمرہ کا احرام باندھا، اور حج کے اصلی معنی قصد و زیارت کے ہیں، تو اس کے لئے صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، یطَّوَّفَ میں اصل میں تاء کا طاء میں ادغام ہے، اس طریقہ پر کہ صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی کرے، یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں نے (سعی بیان الصفا و المروۃ) ناپسند سمجھا، اس لئے کہ اہل جاہلیت ان کا طواف کیا کرتے تھے اور ان پر دو بت تھے، اور ان کو مس کرتے تھے، اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سعی فرض نہیں ہے، اس لئے کہ رفع اثم سے تخییر مستفاد ہوتی ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ وغیرہ نے فرمایا کہ (سعی) رکن ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول اِنّ الہ کتب علَیْکُمْ السَّعْیَ سے اس کا وجوب بیان فرمایا، (رواہ بیہقی وغیرہ) اور فرمایا جس سے اللہ نے ابتداء فرمائی تم بھی اسی سے ابتداء کرو، یعنی صفا سے (رواہ مسلم) اور شخص اختیاری طور پر (کوئی) کارخیر کرے، یعنی طواف وغیرہ یعنی کوئی ایسا کارخیر کرے جو اس پر واجب نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر عطا فرما کر اس کے عمل کا قدر دان ہے، اس سے باخبر ہے، تَطَوَّعَ میں ایک قراءت یاء تحتانیہ کے اور طاء کی تشدید کے ساتھ مجزوم ہے، اور اس میں تاء کا طاء میں ادغام ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بِالعَوْنِ ، بِالعَوْنِ کہہ کر اشارہ کردیا کہ عَوْن سے نصرت خاصہ مراد ہے، اس لئے کہ عمومی معیت تو اللہ تعالیٰ کی ہر شئ کے ساتھ ہے، لہٰذا اس میں صابرین کے لئے کوئی فضیلت نہیں ہے، مفسر علام نے بِالعَوْنِ کہہ کر اسی شبہ کو دفع کیا ہے، اس دفع کا حاصل یہ ہے کہ معیت دو قسم کی ہوتی ہے اور ان میں سے یہ معیت متقین و محسنین و صابرین کے ساتھ خاص ہے، اس میں صبر و صلوٰۃ کے ذریعہ امر بالا ستعانت کی علت بھی ہے، صلوٰۃ صبر سے اولیٰ ہے، لہٰذا مصلین کے ساتھ معیت خاصہ بطریق اولیٰ ہوگی۔ قولہ : فی الحواصل، حَوَاصِلُ ، حَوصِلَۃٌ کی جمع ہے، فارسی میں سنگدانِ مرغ کو کہتے ہیں، اور اردو میں اس کا ترجمہ ہے پوٹا۔ قولہ : لحدیث بذلک۔ (المسلم والمشکور) ۔ قولہ : بالجوائح یہ جائحۃٌ کی جمع ہے، پھلوں کے روگ کو کہتے ہیں۔ قولہ : ھَمْ اَمْوَات، ھُمْ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ اَمْوَاتٌ مبتداء محذوف کی خبر ہے، اس لئے اَمْوات مقولہ ہے اور مقولہ جملہ ہوا کرتا ہے۔ قولہ : بَلْ ھُمْ اَحْیَاءٌ مفسر علام نے ھُمْ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا ہے کہ اَحْیاءٌ اور نہ ھم اموات پر عطف ہے کہ عطف جملہ علی الجملہ ہو اس لئے کہ یہ قول کے تحت نہیں ہے بلکہ یہ جملہ تقولوا پر معطوف ہے، اس جملہ کے ذریعہ نہی ہے اخبار کی جانب اضراب ہے، اس لئے کہ مقصد، ان کے لئے اثبات حیات ہے نہ یہ کہ ان کو حکم دی جا رہا ہے کہ تم ان کی شان میں اَنَھم اَحْیَاءٌ کہو۔ قولہ : مَاھُمْ فیہِ ، تَشْعُرُوْنَ بمعنی تعلمون کا مفعول بہ ہے۔ قولہ : مُصِیْبَۃٌ یہ اِصَابَۃٌ (افعال) سے اسم فاعل مؤنث ہے، تکلیف پہنچانے والی، مُصیبَۃ دراصل کا صیغہ ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا موصوف محذوف ہے، مثلاً رَمْیۃ مُصیبۃ نشانہ پر لگنے والی تیر اندازی، جیسا کہ کثرت استعمال کی وجہ سے مویز منقیٰ بیج نکالا ہوا مویز۔ منقیٰ کے معنی ہیں، بیج صاف کیا ہوا۔ مویز دواؤں میں چونکہ بیج نکال کر ہی استعمال ہوتا ہے گویا کہ بیج نکالنا لازم ہے، لہٰذا موصوف کو حذف کرکے صفت کو اس کے قائم مقام کردیا، اور صرف منقیّٰ کہا جانے لگا۔ قولہ : نِعمَۃ، رحمَۃ کی تفسیر، نعمۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ رحمۃ کے لازم معنی مرا ہیں اور وہ ہیں نعمت، اس لئے کہ رحمۃ کے اصلی معنی رقت قلبی کے ہیں جو ذات باری تعالیٰ کے لئے مقصود نہیں ہیں۔ قولہ : مجزومًا یعنی یاء کی صورت میں یَطَّوَعْ جزم عین کے ساتھ ہوگا، مجزومًا کے اضافہ کا مقصد ایک وہم کو دور کرنا ہے، وہم یہ ہے کہ جس طرح تَطَوَعَّ کی صورت میں عین کے فتحہ کے ساتھ ہے لہٰذا یاء کی صورت میں بھی عین کے فتحہ کے ساتھ ہوگا، حالانکہ یاء کی صورت میں مضارع ہوگا، اور مضارع بغیر ناصب کے منصوب نہیں ہوسکتا، بخلاف تاء کی صورت کے کہ ماضی کا صیغہ ہے، اور مجزوم ہونے کی وجہ جزاء ہونا ہے۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : امت کو منصب امامت پر فائز کرنے کے بعد، اب کچھ ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں، سب سے پہلے جس بات پر متنبہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ منصب امامت کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے جس پر آپ حضرات لٹائے جا رہے ہیں، یہ تو ایک عظیم الشان اور پرخطر خدمت ہے جس کی ذمہ داری اٹھانے کے ساتھ تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہوگی، سخت آزمائشوں میں ڈالے جاؤ گے، طرح طرح کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے راہ خدا میں بڑھتے چلے جاؤ گے تب تم پر عنایات کی بارشیں ہوں گی۔ طاقت کا سرچشمہ : اس باری خدمت کے بوجھ کو اٹھانے کے لئے توانائی کہاں سے حاصل ہوگی ؟ اس کا سرچشمہ کہاں ہے ؟ اسی قوت کی نشان دہی اور اس سوال کا جواب یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ سے دیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ یہ توانائی تم کو دو چیزوں سے حاصل ہوگی، ایک صبر اور دوسرے نماز، حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کلید کامیابی ہیں، جس کے بغیر کوئی شخص کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا، صبر ایک سلبی کیفیت کا نام ہے اور صلوٰۃ ایک ایجابی عمل ہے، ان دونوں کلیدی لفظوں سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ انفرادی اصلاح اور اجتماعی فلاح دونوں کا راز صرف ان دو چیزوں میں ہے ایک معاصی سے حفظ و اجتناب اور دوسرے اوامر کا امتشال واتباع۔ صبر کے معنی : صبر کے لفظی معنی ہیں تنگی اور ناخوشگواری کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھنا الصَّبْرُ اَلِامْسَاکُ فی ضیقٍ (راغب) اصطلاح شرح میں اس کے معنی ہیں نفس کو عقل پر غالب نہ آنے دیا جائے اور قدم دائرہ شریعت سے باہر نہ نکالا اور بشری ہیں، ان کے آثار کو بھی اپنے اوپر طاری نہ ہونے دی جائے، بھوک کے وقت مضمحل اور نڈھال ہونا، درد کی تکلیف سے کراہنا، اور رنج کے وقت آہ سرد بھرنا، عزیز و قریب کی موت پر دل گیر اور رنجیدہ ہونا، ان میں سے کوئی شئ بھی صبر کے منافی اور بےصبری میں داخل نہیں، قرآنی فرمان کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہجوم مشکلات کے وقت گھبرا نہ جاؤ، ثابت قدم رہو، دل کو بس میں رکھو، خود دل کے بس میں نہ آجاؤ۔ صبر کے تین شعبے : صبر کے معنی تو نفس کو قابو میں رکھنے کے ہیں، مگر قرآن و سنت کی اصطلاح میں صبر کے تین شعبے ہیں، (1) اول اپنے نفس کا حوام اور ناجائز چیزوں سے روکنا (2) دوسرے طاعات اور عبادات کی پابندی پر نفس کو مجبور کرنا (3) تیسرے مصائب و آفات پر صبر کرنا، اس کے باوجود اگر تکلیف و پریشانی کے وقت کوئی کلمہ اظہار پریشانی کا منہ سے نکل جائے تو یہ صبر کے منافی نہیں۔ (ابن کثیر عن سعید بن جبیر) قرآن و حدیث کی اصطلاح میں صابرین انہیں لوگوں کا لقب ہے جو تینوں طرح کے صبر میں ثابت قدم ہوں بعض روایات حدیث میں ہے کہ محشر میں ندا کی جائے گی کہ صابریں کہاں ہیں ؟ تو وہ لوگ جو تینوں طرح کے صبر پر قائم رہ کر زندگی سے گزرے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں گے، اور ان کو بلاحساب جنت میں داخلہ کی اجازت دیدی جائے گی۔ اس نسخہ کامیابی کا دوسرا جز نماز ہے، اگرچہ صبر کی تفسیر سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ نماز اور دیگر عبادات صبر ہی کی جزئیات ہیں، مگر نماز کو جداگانہ بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تمام عبادات میں نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جو صبر کا مکمل نمونہ ہے، کیونکہ نماز کی حالت میں نفس کو عبادت وطاعت پر محسوس کیا جاتا ہے اور تمام معاصی و مکروہات سے بلکہ تمام مباحات سے بھی نفس کو بحالت نماز روکا جاتا ہے، اس لئے نماز صبر کی ایک مکمل تمثیل ہے۔ نماز کی تاثیر یقینی ہے : اس کے علاوہ نماز کو انسان کی تمام حاجات کے پورا کرنے میں ایک خاص تاثیر بھی ہے گو اس کی وجہ اور سبب معلوم نہ ہو، جیسے دواؤں میں بہت سی ادویہ مؤثر بالخاصہ ہوتی ہیں مگر اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی، جیسے دردگردہ کے لئے فرنگی دانہ ہاتھ یا منہ میں رکھنا بالخاصہ مفید ہے مگر اس کی وجہ کسی کو معلوم نہیں، یا مثلاً مرگی کے لئے عود صلیب گلے میں ڈالنا مفید ہے مگر سبب معلوم نہیں ہے مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچنے میں مؤثر بالخاص ہے مگر آج تک اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ صرف تخمین وظن ہے، اسی طرح نماز تمام انسانی ضروریات کی کفالت اور تمام مصائب سے نجات دلانے میں مؤثر بالخاص ہے بشرطیکہ نماز کو نماز کی طرح آداب و خشوع کے ساتھ پڑھا جائے، ہماری نمازیں جو غیر مؤثر نظر آتی ہیں اس کا سبب ہمارا قصور ہے نہ کہ نماز کا، کہ نماز کے آداب اور خضوع میں کوتاہی ہوتی ہے ورنہ آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب کوئی مہم پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرماتے تھے، اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس مہم کو پورا فرما دیتے تھے۔ (معارف) اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ، بالعَونِ معیت کی مختلف قسمیں ہیں عامہ، خاصہ، زمانی، مکانی، معنوی، یہاں معیت سے معیت بالنصرۃ مراد ہے، قَالُوْا المعِیَّۃُ ھُنَا مَعِیَّۃُ المعونَۃ۔ (المنار) ۔ اللہ تعالیٰ کی معیت عامہ تو کافر، مومن، فاسق، صالح، اپنے ہر بندے کے ساتھ ہے، وَھُوَ مَعَلُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ یہاں یہ معیت عامہ مراد نہیں ہے بلکہ خصوصی معیت مراد ہے اسی معیت خاصہ کی طرف مفسر علام نے بالعون کہہ کر اشارہ کیا ہے، معیت خاصہ کے آثار، حفاظت، اعانت اور توجہ خاص ہیں، یہ اسی معیت الہٰی کا احساس و استحضار تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو بےپناہ قوت و جرأت، بےخوفی کا مالک بنادیا تھا، اور حق یہ ہے کہ یقین معیت خاصہ سے بڑھ کر نہ کوئی روح کے لئے لذیذ غذا ہے اور نہ جراحت قلب کے لئے کوئی مرہم تسکین، یہی وہ تصور ہے کہ جو ہر ناگوار کو خوشگوار، اور ہر تلخ کو شیریں اور ہر زہر کو قند اور ہر مشکل کو آسان بنا دینے کے لئے کافی ہے۔
Ayahs 2:154–157

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں

شان نزول : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ غزوہ بدر میں جب چند صحابہ شہید ہوگئے جن کی تعداد چودہ تھی چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے تو نافہم منافقوں اور کافروں نے کہنا شروع کردیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوا دی، اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب دیا جا رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو اس معنی کے اعتبار سے وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں زیادہ لذت سے لذت یاب ہو رہے ہیں، اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں، برزخی زندگی اپنے عام معنی میں تو سب ہی کے لئے ہے لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور امتیازی زندگی نصیب ہوتی ہے جو آثار حیات میں دوسروں سے کہیں زیادہ قوی ہوتی ہے، بقول حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ شہید کی اس حیات کی قوت کا اثر اس کے جسد ظاہری تک بھی پہنچتا ہے کہ اس کا جسد باوجود گوشت پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور جسد زندہ کے مانند صحیح وسالم رہتا ہے، جیسا کہ احادیث اور مشاہدات ہیں اور یہی حیات ہے جس میں انبیاء کرام ؓ شہیدوں سے بھی زیادہ قوت و امتیاز رکھتے ہیں۔ ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ حیات روحانی ہوتی ہے لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ جسمانی اور روحانی دونوں ہوتی ہے، رہی شہداء کو مردہ نہ کہنے کی تلقین تو یہ ان کے اعزازو تکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخی زندگی ہے جس کے سمجھنے سے ہم قاصر ہیں یہ زندگی علی قدر المراتب انبیاء، شہداء، مومنین حتی کہ کفار کو بھی حاصل ہے، شہیدوں کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کے جوف (سینہ) میں جنت میں جہاں چاہتی ہے پھرتی ہے۔ (ابن کثیر، آل عمران) ۔ شہداء کو اگرچہ دیگر مردوں کی طرح مردہ کہنے کی ممانعت کی گئی ہے مگر بعض احکام مثلاً غسل وغیرہ کے علاوہ میں وہ عام مردوں کی طرح ہیں، ان کی میراث تقسیم ہوتی ہے، ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں اور یہی حیات ہے کہ جس میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) شہداء سے بھی زیادہ ممتاز اور قوی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سلامت جسم کے علاوہ اس حیات برزخی کے کچھ آثار ظاہری احکام پر بھی پڑتے ہیں، مثلاً انبیاء کی میراث تقسیم نہیں ہوتی، ان کی ازواج سے دوسرے نکاح نہیں کرسکتے۔ شبہ کا دفع : اور اگر کسی شخص نے کسی شہید کی لاش کو خاک خوردہ پایا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ اس کی نیت خالص نہ ہو، جس پر شہادت کا مدار ہے، اور بالفرض اگر ایسا شہید خاک خوردہ پایا جائے جس کا قتل فی سبیل اللہ اور اس کا جامع شرائط شہادت ہونا دلیل تو اتر وغیرہ سے ثابت ہو تو اس کی وجہ میں یہ کہا جائے گا کہ حدیث میں جو تصریح ہے وہ زمین کے اجسام شہداء کو خراب نہ کرنے کی ہے، مگر زمین میں اجزاء ارضیہ کے علاوہ دیگر عناصر بھی موجود ہیں، مثلاً پارہ، گندھک، تیزاب، ان کے علاوہ دیگر اکالہ اجزاء موجود ہیں، ممکن ہے ان اجزاء نے جسم کو خراب کردیا ہو، یہ صورت حدیث کے منافی نہیں ہے، یا زمانہ دراز تک صحیح وسالم محفوظ رہنا مراد ہے، یہ بھی عام جسموں کے اعتبار سے فضیلت اور کرامت کی بات ہے، لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ اجزاء ارضیہ کے علاوہ اگر دیگر اجزاء سے اجسام شہداء متاثر ہوجائیں تو ان سے ان احادیث پر اشکال نہیں ہوتا جس میں حرمت اجساد علی الارض وارد ہے۔ (معارف ملخصا)
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللہِ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا، حض کا ایک رکن ہے لیکن قرآن کے الفاظ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا سے بعض صحابہ ؓ کو یہ شبہ ہوا کہ شاید یہ ضروری نہیں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا : اگر اس کا یہ مطلب ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا : فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ ان لایطَّوَّف بھمَا اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں، پھر حضرت عائشہ ؓ نے اس آیت کا شان نزول بیان فرمایا کہ انصار قبول اسلام سے پہلے مناۃ طاغیہ (بت) کے نام کا تلبیہ پکارتے تھے جس کی وہ مشلل پہاڑی کے اوپر عبادت کرتے تھے، اور پھر مکہ پہنچ کر ایسے لوگ صفا ومروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے تھے، مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معلوم کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، جس میں کہا گیا ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی گناہ نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الحج) ۔ بعض حضرات نے اس کا پس منظر اس طرح بیان کیا ہے کہ جاہلیت میں مشرکوں نے صفا پہاڑی پر ایک بت جس کا نام اساف اور مروہ پر ایک دوسرا بت جس کا نام نائلہ تھا، رکھ لئے تھے، جنہیں وہ سعی کے دوران چھوتے اور بوسہ دیتے تھے جب یہ لوگ مسلمان ہوئے تو ان کے ذہن میں آیا کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی تو شاید گناہ ہو کیونکہ اسلام سے قبل دو بتوں کی وجہ سے سعی کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس وہم اور خلش کو دور فرما دیا، اب یہ سعی ضروری ہے جس کا آغاز صفا سے اور خاتمہ مروہ پر ہوتا ہے۔ (ایسر التفاسیر) ایک فقہی مسئلہ : سعی بین الصفا والمروہ امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ کے نزدیک سنت، مستحب ہے اور امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک واجب اس کی ترک سے ایک بکری ذبح کرنا لازم ہے۔
Ayahs 2:159–163

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے، ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (لوگو ! ) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

آیت نمبر 159 تا 163 ترجمہ : اور یہود کے بارے میں اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ (الآیۃ) نازل ہوئی، بلاشبہ وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی دلیلیوں اور ہدایت مثلاً آیت رجم اور محمد ﷺ کی صفات کو چھپاتے ہیں باوجود یکہ ہم نے ان لوگوں کے لئے کتاب تورات میں بیان کردیا ہے یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے یعنی اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (اور وہ) فرشتے اور مومنین ہیں یا ہر شئ جو ان کے لئے لعنت کی بددعاء کرتی ہے، مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے توبہ کرلی، یعنی اس حرکت سے باز آگئے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی اور جو انہوں نے چھپایا تھا اس کو ظاہر کردیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ میں جن کی توبہ کو قبول کرتا ہوں اور میں بڑا درگزر کرنے والا ہوں اور مومنوں پر رحم کرنے والا ہوں، بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور حالت کفر ہی میں مرگئے، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی، فرشتوں کی، اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، یعنی یہ لوگ دنیا و آخرت میں لعنت کے مستحق ہیں، النَّاس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عام لوگ مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ مومنین مراد ہیں، لعنت میں یا آگ میں جو کہ لعنت کا مدلول ہے ہمیشہ رہیں گے، (لہٰذا اضمار قبل الذکر لازم نہیں آئے گا) اور نہ ان کے عذاب میں پلک جھپکنے کی مقدار تخفیف کی جائے گی اور نہ ان کو توبہ اور معذرت کی مہلت ہی دی جائے گی، اور جب (مشرکین) نے کہا تم ہمارے لئے رب کا تخفیف کی جائے گی اور نہ ان کو توبہ اور معذرت کی مہلت ہی دی جائے گی، اور جب (مشرکین) نے کہا تم ہمارے لئے رب کا وصف بیان کرو، تو یہ آیت نازل ہوئی وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ تمہارا خدا جو کہ تمہاری عبادت کا مستحق ہے ایک ہی خدا ہے ذات وصفات میں اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں وہی رحمن و رحیم ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَنَزَلَ فی الیھودِ اس میں اشارہ ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ میں موصول عہد کے لئے ہے، (کما قال صاحب الکشاف) اور مِن البینٰتِ میں الف لام بھی عہد کا ہے اس لئے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور فی الکتاب اس کا قرینہ ہے اس لئے کہ کتاب سے تورات مراد ہے۔ قولہ : الناس یہ یَکْتُمُوْنَ کا مفعول ثانی ہے اور البینٰت سے احکام مراد ہیں جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے یعنی رجم وغیرہ اور ھُدٰی سے مراد آپ ﷺ کی صفات ہیں، جو آپ ﷺ کی اتباع کی جانب رہنمائی کرنے والی ہیں، لہٰذا ھدیٰ بمعنی ھادٍ ہے، مباغہ کے طور پر ھادٍ کو ھُدًی سے تعبیر کردیا ہے۔ قولہ : اَللّٰعِنُوْنَ واؤ اور نون کے ساتھ جمع لانے میں اشارہ ہے کہ لعنت کرنے والوں سے ذوی العقول مراد ہیں۔ قولہ : اَوکلُّ شئً اس میں اشارہ ہے کہ اَللَّعِنُون میں الف لام استغراق کے لئے ہے۔ قولہ : ای اَللَّعنَۃُ او النار اس عبارت کا مقصد فیھَا کے مرجع میں احتمال کو بیان کرنا ہے یعنی ہمیشہ رہیں گے لعنت میں یا آگ میں۔ قولہ : المدلول بِھِا علَیْھَا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : فیھَا کا مرجع النار نہیں ہوسکتا اس لئے کہ ماقبل میں اس کا ذکر نہیں ہے لہٰذا اضمار قبل الذکر لازم آئیگا ؟ جواب : النار اگرچہ صراحۃ مذکور نہیں ہے مگر ضمناً مذکور ہے اس لئے کہ النار، اللَّعْنۃ کا مدلول ہے یعنی جو شخص دائمی لعنت کا مستحق ہوگا اس کے لئے نار لازم ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتَمُوْنَ (الآیۃ) یہ آیت علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے، علماء یہود نے کتاب اللہ یعنی تورات کی اشاعت کرنے کے بجائے اس کو ربِّیُّون اور مذہبی پیشواؤں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقہ میں مقید کردیا، عام خلائق تو درکنار خود یہودی عوام تک کو اس کی ہوا نہ لگنے دیتے تھے اور عوام اور کمزور طبقے سے مال وصول کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے جو باتیں اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں انہیں چھپانا اتنا بڑا ظلم اور جرم ہے کہ اللہ کے علاوہ دیگر مخلوق بھی اس پر لعنت کرتے ہیں۔ مسئلہ : آیات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص مال کے لالچ سے حکم شرعی کو بدل دے، وہ جو مال کھاتا ہے گویا اپنے پیٹ میں انگارے بھر رہا ہے کہ اس عمل کا انجام یہی ہے، اور بعض محقق علماء نے فرمایا کہ مال حرام در حقیقت جہنم کی آگ میں انگارے بھر رہا ہے اس لئے کہ اس عمل کا انجام یہی ہے، اور بعض محقق علماء نے فرمایا کہ مال حرام در حقیقت جہنم کی آگ ہی ہے، اگرچہ اس کا آگ ہونا دنیا میں محسوس نہیں ہوتا مگر مرنے کے بعد اس کا یہ عمل آگ کی شکل میں سامنے آجائے گا۔ (معارف)
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لیکر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

آیت نمبر 164 تا 167 ترجمہ : اور مشرکین نے جب اس پر دلیل کا مطالبہ کیا تو یہ آیت ان خلق السماوات الخ اتری بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی ساخت آسمانوں اور زمین کی ساخت میں اور ان کے عجائبات میں اور رات و دن کی آمدورفت اور بڑھنے گھٹنے کے ذریعہ تغیر میں اور ان کشتیوں میں جو دریاؤں میں لوگوں کے لئے نفع بخش سامان تجارت اور بوجھ لے کر چلتی ہیں، اور بوجھل ہونے کے باوجود ڑوبتی نہیں ہیں اور اس پانی میں جسے آسمان سے بارش کی شکل میں اللہ نے برسایا ہے پھر اس پانی سے نباتات کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کیا اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلایا اس لئے کہ ان کا نشو و نما اس سبزے سے ہوتا ہے جو پانی سے پیدا ہوتا ہے اور ہواؤں کو جنوباً و شمالاً اور گرم و سرد بدلنے میں اور ان بادلوں میں جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں (اور) زمین و آسمان کے درمیان بغیر کسی بندھن کے معلق ہیں (اور) جدھر اللہ چاہتا ہے ادھر چلتے ہیں ان میں عقلمندوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں اللہ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو غیر اللہ (یعنی) بتوں کو (اللہ کا) ہمسر ٹھہراتے ہیں، تعظیم اور عاجزی کے ذریعہ ان سے ایسی گرویدگی کا معاملہ کرتے ہیں جیسا کہ اللہ کے ساتھ اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں، ان کے شرکاء کی محبت کے مقابلہ میں، اس لئے کہ وہ کسی حال میں بھی اللہ سے نہیں پھرتے اور کفار مصیبت کے وقت (اپنے شریک کردوہ شرکاء کو چھوڑ کر) اللہ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، اور اے محمد ﷺ ! اگر آپ ان لوگوں کو دیکھیں جنہوں نے شریک ٹھہرا کر ظلم کیا ہے جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے (یَرَونَ ) معروف و مجہول دونوں ہیں، تو آپ ایک امر عظیم (ہولناک منظر) دیکھیں گے اور اِذْ بمعنی اذا ہے، اس لئے کہ پوری قدرت اور غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے۔ (جمیعًا) کائنًۃ (مقدر) سے حال ہے، اور اللہ سخت عذاب والا ہے، اور ایک قراءت میں یَرَیٰ تحتا نیہ کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ یریٰ کا فاعل مخاطب کی ضمیر ہے اور کہا گیا ہے کہ الذِیْنَ ظَلمُوْا ہے اور یَرَیٰ بمعنی یعلم ہے، اور أنَّ اور اس کا مابعد دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اور لَوْ کا جواب محذوف ہے، اور معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ دنیا میں جان لیں، قیامت کے دن ان کے عذاب کو دیکھنے کے وقت اللہ واحدہ کی قدرت اور شدت عذاب کو تو اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اِذْ ، سابقہ اِذْ سے بدل ہے، جبکہ پیشوا یعنی سردار اپنے ماتحتوں سے اظہار لا تعلقی کریں گے، یعنی ان کو گمراہ کرنے کے الزام میں انکار کردیں گے حالانکہ عذاب کو (بچشم خود) دیکھ لیں گے، اور تمام رشتے ناتے منقطع ہوجائیں گے یعنی وہ تعلقات جو ان کے درمیان قرابت اور دوستی کے دنیا میں تھے (ختم ہوجائیں گے) تَقطَّعْت کا عطف تَبَرّأ پر ہے، اور ماتحت لوگ کہیں گے کاش ہم کو دنیا میں واپسی کا موقع مل جائے تو ہم بھی ان مبتوعین سے اسی طرح اظہار لا تعلقی کریں گے جس طرح آج انہوں نے ہم سے اظہار لاتعلقی کیا ہے، اور لَوْ تمنی کے لئے ہے فَنَتَبَرَّأ جواب تمنی ہے، اسی طرح جیسا کہ دکھلائی ان کو اپنے عذاب کی شدت اور بعض کی بعض سے اظہار بیزاری دکھلائے گا اللہ ان کو ان کے برے اعمال حال یہ کہ ان کے اوپر ندامت طاری ہوگی اور وہ داخل ہونے کے بعد آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں، حَسَراتٍ بمعنی دامات، ھُم ضمیر سے حال ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَطَلَبُوا آیۃً علیٰ ذٰلک مشرکین کی جانب سے صفات باری کے مطالبہ کے جواب میں جب اللہ تعالیٰ نے وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ الخ فرمایا، تو مشرکین نے قرآن کے اس دعوت پر دلیل کا مطلابہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے دلیل کے طور پر اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ (الآیۃ) نازل فرمائی، اِنَّ حرف مشبہ بالفعل ناصب ہے اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ الخ کائِنَۃً کے متعلق ہو کر اِنَّ کی خبر مقدم ہے اور لَاَیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلوْنَ اس کا اسم مؤخر ہے۔ قولہ : فُلکِ الَّتی تجرِی۔ فُلْکٌ جب مفرد ہو تو مذکر ہے اور اگر جمع ہو تو جمع مکسر ہونے کی وجہ سے مؤنث ہے یہاں فُلْکْ مؤنث ہے اور قرینہ اَلَّتی تجری اس کی صفت ہے۔ سوال : جمع مکسر مفرد میں تغیر کرکے بنائی جاتی ہے، جیسے رَجُلٌ سے رِجَالٌ مگر یہاں مفرد اور جمع دونوں ایک ہی وزن پر ہیں جمع میں کوئی تغیر نہیں ہوا، تو پھر یہ جمع مکسر کیسے ہوئی ؟ جواب : اس میں تغیر معنوی ہوا ہے اس لیے کہ جب فُلک قُفْلٌ کے وزن پر ہو تو مفرد ہوگا اور جب اُسُدٌ کے وزن پر ہو تو جمع ہوگا۔ قولہ : من التجارات اس میں اشارہ ہے کہ بِمَا یَنْفَعُ میں ما موصولہ ہے ای تجری فی البحر بالذی ینفعُ الناس اور بعض نے مَا کو مصدریہ بھی کہا ہے، ای تجری فی البحرِ بِنَفْعِ الناس۔ قولہ : بِلَا عِلَاقۃ عین کے کسرہ کے ساتھ محسوس رابطہ جیسے تلوار کا پٹکا اور عین کے فتحہ کے ساتھ معنوی غیر محسوس رابطہ جیسے عشق و محبت کا رابطہ یا حسد و عداوت کا تعلق۔ قولہ : تَبْصُرُ مفسر علام نے یَرَیٰ کی تفسیر تَبْصُرُ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یَرَی سے رویت بصری مراد ہے نہ کہ قلبی اس لئے ہ رویت قلبی کے لئے دو مفعولوں کی ضرورت ہوگی جو کہ موجود نہیں ہیں۔ قولہ : اِذْ بمعنی اِذَا یہ دو سوالوں کا جواب ہے۔ سوال : (1) لَو اور اِذْ ماضی پر داخل ہوتے ہیں نہ کہ مضارع پر یہاں مضارع پر داخل ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : اِذْ یِرَونَ العذابَ میں رویت کا ووقوع چونکہ یقینی ہے لہٰذا مضارع پر اِذْ داخل کردیا تاکہ بتاویل ماضی ہو کر یقینی الوقوع ہونے پر دلالت کرے۔ سوال : (2) تو پھر مضارع کے بجائے ماضی کا صیغہ لانا چاہیے تھا تاکہ حقیقۃ یقینی الوقوع پر دلالت کرتا۔ جواب : چونکہ رویت در حقیقت مستقبل یعنی روز قیامت میں ہوگی اس کی طرف مضارع کا صیغہ لاکر اشارہ کردیا۔ قولہ : لِاَنّ یہ جواب شرط محذوف کی علت ہے۔ قولہ : فَھِیَ بمعنی یَعْلَمُ یَرٰی کو یَعلَم کے معنی میں اس لئے لیا ہے کہ ظالموں کا اللہ کے عذاب کی شدت کو دنیا میں بچشم سر دیکھنا ممکن نہیں ہے، اس لئے کہ عذاب کا تحقیق آخرت میں ہوگا، لہٰذا رویت سے رویت قلبی مراد ہے یعنی یَرَی، یَعْلَمُ کے معنی میں ہے۔ قولہ : وفق مُعَاینَتِھم یہ اَنَّ اللہ شدید العذاب کا ظرف ہے۔ قولہ : وقَدْ ، قد کو محذوف ماننے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ واؤ حالیہ ہے، اور قدْ رأوا العذَابَ ، الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا اور اَلَّذِیْن اتَّبَعُّوْا دونوں کی ضمیر سے حال ہے ای رَائین جیسے لَقِیْتُ زیدًا رَاکِبَیْنِ اور چونکہ ماضی بغیر قد کے حال واقع نہیں ہوسکتا قَد خواہ حفظًا خواہ لفظاً ہو یا تقدیراً ، لہٰذا یہاں قَدْ کو مقرر مانا ہے۔ قولہ : لَوْ للتَّمَنّی، لَوْتمنی کے لئے ہے اور فَنَتَبَرَّأ اس کا جواب ہے، یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں : سوال : (1) لَو کا جواب لام کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ فاء کے ساتھ، حالانکہ یہاں فَنَتَبرَّأ، فا کے ساتھ ہے۔ سوال : (2) فَنَثَبَرَّأ کے منصوب ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ جب کہ ناصب نہ لفظاً ہے اور نہ تقدیراً ۔ جواب : مفسر علام نے لو للتمنی کہہ کر ان دونوں اعتراضوں کا جواب دیا ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ مذکورہ دونوں باتیں لَو شرطیہ کے لئے ضروری ہیں اور یہ لَو تمنیہ ہے، لَو تمنیہ کے بعد ان مقدر ہونے کی وجہ سے جواب تمنی منصوب ہوتا ہے۔ (کما لا یخفیٰ علیٰ مَن لہ درایۃ فی علم النحو) ۔ تفسیر و تشریح شان نزول : اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ابن عبای حاتم اور ابن مردویہ نے عمدہ سند متصل کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ قریش نے نبی کریم ﷺ سے کہا : خدا سے دعا کرو کہ کوہ صفا کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے تاکہ اس کی وجہ سے ہم کو دشمن پر قوت حاصل ہو، تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ فرمایا : میں ایسا کرسکتا ہوں لیکن اگر اس کے بعد بھی کفر کیا تو میں ان کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی کو نہ دیا گیا ہوگا، تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اور میری قوم کو اسی حالت پر چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ کوہ صفا کو سونے کا بنانے کا مطالبہ کس طرح کر رہے ہیں حالانکہ وہ میری قدرت کی نشانیوں میں سے اس سے کہیں زیادہ عظیم و عجیب نشانیاں کائنات عالم میں دیکھ رہے ہیں۔ مشرکین کی جانب سے صفات رب کے مطالبہ کے جواب میں جب اللہ تعالیٰ نے وَاِلْھُکُمْ اِلٰۃٔ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ نازل فرمائی تو مشرکین نے دعوائے وحدت والوہیۃ پر دلیل کا مطالبہ کیا تو اللہ نے اس کے جواب میں اِنَّ فِی خلق السَّمٰواتِ والَارضِ (الآیۃ) نازل فرمائی، یہ آیت اس معنی کے اعتبار سے بڑی اہم اور عظیم ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت والوہیت وقدرت پر یکجا دس نشانیوں بیان فرمائی ہیں۔ یعنی تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اس رحمان و رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، اس حقیقت کو پہچاننے کے لئے اگر کوئی نشانی و علامت درکار ہے، تو جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے مسلسل ادلنے بدلنے میں نیز ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اس پانی میں جسے اللہ تعالیٰ آسمانوں سے نازل کرتا ہے پھر اس کے ذریعہ زندگی بخشتا ہے اور اپنی اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش اور ان کے رخ بدلنے میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بیشمار نشانیاں ہیں۔ یعنی اگر انسان کائنات کے اس کارخانہ کو جو شب و روز اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، محض جانوروں کی طرح نہ دیکھے بلکہ عقل و خرد سے کام لے کر اس نظام پر غور کرے، اور ضد یا تعصب سے آزاد ہو کر سوچے تو یہ آثار جو اس کے مشاہدے میں آرہے ہیں، اس نتیجے پر پہنچانے کے لئے بالکل کافی ہیں کہ یہ عظلم الشان نظام ایک ہی قادر مطلق، حکیم کے زیر فرمان ہے، تمام اقتدار و اختیار بالکل اسی کے ہاتھ میں ہے کسی دوسرے کا اس میں قطعا دخل نہیں۔