2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

ربط آیات : اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا، آگے مشرکین کے شرک اور اس پر وعید کا بیان ہے، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ الہِ اَنْدَادًا مذکورہ دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کے باوجود ایسے لوگ ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اس کی صفات میں شریک بنا لیتے ہیں، اور ان سے اسی طرح محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ سے کرنی چاہیے انسانوں میں مظاہر پرستی اور نافع و ضار چیزوں کو معبود و مسجو بنانے کا رجحان زمان قدیم سے ہے اور موجودہ زمانہ میں بھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے خود اپنی ہی بنائی ہوئی چیزوں اور خور تراشدہ بتوں کی بندگی اور پوجا پاٹ شروع کردی۔ ہندوستان میں جب شروع شروع میں ریل نکلی تو دیہاتیوں نے اس کی بھی پوجا شروع کردی اور ریل کے انجن کے سامنے ناچتے گاتے ہوئے جانور کی بلی چڑھائی، اس طرح اپنے ہزاروں دیوتاؤں میں ایک انجن دیوتا کا اور اضافہ کرلیا۔ (ماجدی، ملخصاو اضافۃ) یُحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللہِ (الآیۃ) یعنی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے لئے اللہ کی رضا ہر دوسرے کی رضا پر مقدم ہو اور کسی چیز کی عقلی محبت انسان کے دل میں یہ مرتبہ و مقام حاصل نہ کرے کہ وہ اللہ کی محبت کو دیکھے تو اس کے وقوع میں غور کرکے یہ سمجھ لیا کرے کہ سب قوت اللہ تعالیٰ ہی کے دست قدرت میں ہے اور دوسرے سب عاجز اور بےبس ہیں نہ اس مصیبت کو کوئی ٹال سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے، ایسے وقت میں صرف اللہ ہی یاد آتا ہے، اور اس مصیبت کی شدت میں غور کرکے یہ سمجھ لیا کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آخرت میں کہ وہ دار الجزاء ہے سخت ہوگا، تو اس طرح غور کرنے سے تراشیدہ بتوں کا عجز اور حق تعالیٰ کی عظمت وقدرت منکشف ہو کر توحید و ایمان اختیار کرلیتے۔
Ayahs 2:166–167

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرؤوں سے بیزاری کریں گے اور (دونوں عذاب الٰہی) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہوتا کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں اس طرح خدا ان کے اعمال حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

ربط آیات : اوپر عذاب کی شدت کا بیان تھا یہاں شدت کی کیفیت کا بیان ہے، اِذ تَبَرَّأ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا یہاں اس منظر کا نقشہ پیش کیا گیا ہے، جب قیامت میں مشرکین کے خواص علماء اور امراء اپنے عوام اور اپنے متبعین اور رعایا سے لاتعلق کا اعلان کریں گے اور انہیں بےیارومددگار چھوڑ دیں گے اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے کہیں گے کاش ہم کو ایک موقع دنیا میں واپسی کا دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں ہم بھی دنیا میں ان سے بیزار ہو کر اور ٹکاسا جواب دے کر دکھا دیتے۔ وَتَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ اہل باطل کے جتنے بھی باہمی تعلقات اور رابطے ہیں استاذی شاگردی یا ہم نسبتی اور قرابت کے یا ہم وطنی اور دوستی کے یہ سب اس دنیاتک محدود ہیں، آخرت میں جو حقائق کے مشاہدہ اور معائنہ کا وقت ہوگا سب ایک دوسرے سے بےتعلق بلکہ مخالف نظرآئیں گے اَلْاَخِلَّا ءُیَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِینَ ۔ (سورۃ الزخرف)
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

آیت نمبر 168 تا 173 ترجمہ : اور (یہ آیت) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے سوائب وغیرہ (بتوں کے نام پر آزاد کئے ہوئے جانور) کو حرام کرلیا تھا، لوگو ! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ (پیو) طَیّبًا، حَلَالًا کی صفت مؤکدہ ہے، یا بمعنی مُتَلَذَّذًا ہے، (یعنی مرغوب و پسندیدہ) اور شیطان کے نقش قدم پر (یعنی طریقہ) پر نہ چلو یعنی اس کے آراستہ راستہ پر، وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے یعنی اس کی عداوت بالکل واضح ہے وہ تمہیں صرف گناہ اور فحش یعنی شرعا قبیح بات کا حکم کرتا ہے اور اس بات کا حکم کرتا ہے کہ تم اللہ کے بارے میں وہ باتیں کہو جن کو تم نہیں جانتے یعنی جو چیزیں حرام نہیں کی گئیں ان کو حرام کرنا وغیرہ اور جب کافروں سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو توحید اور پاکیزہ چیزوں کی حلت نازل کی ہے اس کی اتباع کرو تو وہ کہتے ہیں نہیں بلکہ ہم تو اس کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء (و اجداد) کو پایا ہے اور بتوں کی بندگی ہے اور وہ سوائب و بحائر کو حرام کرنا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا یہ ان کی اتباع کریں گے ؟ اگرچہ ان آباء (و اجداد) دین کے معاملہ میں کچھ نہ سمجھتے ہوں اور نہ حق کی طرف راہ یافتہ ہوں، اور ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور کافروں کی مثال اور ان لوگوں کی جو ان کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اس شخص کے جیسی ہے جو اس کو آواز دیتا ہے جو ہانک پکار کے سوا کچھ نہ سنتا ہو یعنی آواز کو کہ جس کے معنی نہ سمجھتا ہو، مطلب یہ کہ (یہ کافر) نصیحت سننے اور اس پر غور کرنے میں جانوروں کے مانند ہیں جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں مگر اس کو سمجھتے نہیں ہیں، وہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں جو نصیحت کو نہیں سمجھتے، اے ایمان والو ! جو حلال چیزیں ہم نے تم کو دے رکھی ہیں ان میں سے کھاؤ پیو، اور جو چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں ان پر اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو، اور جو چیزیں تمہارے لئے حرام کی گئی ہیں (ان میں ایک) مردار ہے یعنی اس کا کھانا حرام ہے، اس لئے کہ گفتگو کھانے ہی کے بارے میں ہے، اور اسی طرح اس کے بعد مذکور (چیزوں کا کھانا بھی حرام ہے) اور مردار وہ ہے جو شرعی طریقہ پر ذبح نہ کیا گیا ہو، اور بحکم حدیث مردار میں گوشت کا وہ ٹکڑا بھی شامل کرلیا گیا ہے جو زندہ اجانور سے کاٹ لیا گیا ہو، اور مردار سے مچھلی اور ٹڈی کو مستثنیٰ کردیا گیا ہے اور بہتا خون ہے جیسا کہ سورة انعام میں ہے، اور خنزیر کا گوشت (حرام کیا گیا ہے) اور (حرمت کے لئے) گوشت کی تخصیص اس لئے کی گئی ہے کہ (کھانے) میں مقصود اعظم ہے دوسری چیزیں (مثلاً رگ، پٹھے وغیرہ) اس کے تابع ہیں، اور وہ جانور (بھی حرام ہے) جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو یعنی غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو (اھْلال) آواز بلند کرنے کو کہتے ہیں، اور مشرکین ذبح کے وقت اپنے معبودوں کے نام بآواز بلند پکارتے تھے، سو اگر کوئی مجبور ہوجائے یعنی ضرورت نے اس کو مذکورہ چیزوں میں سے کھانے پر مجبور کردیا ہو درآنحالیکہ وہ باغی نہ ہو یعنی مسلمانوں کے خلاف بغاوت کرنے والا نہ ہو اور نہ رہزنی وغیرہ کے ذریعہ مسلمانوں پر ظلم کرنے والا ہو، تو ایسے شخص کے لئے ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ہے، بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے اپنے دوستوں پر مہربان ہے اپنے اطاعت گزاروں پر کہ اس کو اس معاملہ میں وسعت (سہولت) دیدی اور باغی اور ظالم اس حکم سے خارج ہوگئے اور (باغی اور ظالم) کے ساتھ ہر وہ شخص شامل ہے جو سفر معصیت کر رہا ہو، جیسے بھاگا ہوا غلام، اور ظالمانہ طور پر مال وصول کرنے والا۔ ایسے لوگوں کے لئے مذکورہ چیزوں میں سے کسی چیز کا کھانا حالال نہیں ہے، جب تک کہ توبہ نہ کرلیں، اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کا یہی مذہب ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یٰایُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا اس آیت کے مخاطب مکہ کے مشرکین ہیں، سورة کے مدنی ہونے کی وجہ سے اور سورت کا نزول اگرچہ مدنی ہے لیکن نزول مدنی ہو اور خطاب اہل مکہ ہو اس میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ قولہ : حالٌ یعنی حلَالًا، مِمَّا فی الارْضِ سے حال ہے، کلُوا کا مفعول بہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے اس لئے کہ اس صورت میں مِمّا فِی الارضِ ، حلَالًا سے صفت کی تقدیم موصوف پر اور حال کی تقدیم ذوالحال پر خلاف ظاہر ہے، گو بعض حضرات نے حَلاَلاً کو کُلُوا کا مفعول بہ بھی قرار دیا ہے، اور مِمّا فی الارض کو حلَالًا سے حال مقدم قرار دیا ہے، ذوالحال کے نکرہ ہونے کی وجہ سے حال مقدم کردیا گیا۔ قولہ : السَّوائب یہ سائبَۃٌ کی جمع ہے، اس اونٹنی کو کہتے ہیں جا کسی بت وغیرہ کے نام پر چھوڑ دیا جائے اور تعظیمًا اس سے کسی قسم کا استفادہ نہ کیا جائے۔ قولہ : ونحوھا نحو سے بَحَائر مراد ہیں، بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کو غیر اللہ کے نام پر آزاد کردیا ہو اور علامت کے طور پر اس کے کان چیر دئیے گئے ہوں۔ قولہ : طیّبًا، صفۃ مؤکدہ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : جب حلالاً سے شرعاً پاکیزہ چیز مراد ہے تو پھر اس کے بعد طیباً کو ذکر کرنے سے کیا فائدہ ہے ؟ اس لئے کہ جو چیز شرعاً حلال ہوتی ہے وہ پاک ہی ہوتی ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ طیبًا صفت مؤکدہ ہے نہ کہ احترازیہ۔ قولہ : او مُستَلَذًّا مفعول کے صیغہ کے ساتھ جو چیز مرغوب اور پسندیدہ ہو، اس صورت میں طیبًا صفت مقیدہ ہوگی، جس سے ناپسندیدہ مثلا کڑوی اور بدمزاہ اشیاء خارج ہوجائیں گے، مُسْتَلَذًّا صفت مخصصہ اس صورت میں ہوگی جب کہ اَو کے ساتھ ہو اور بعض نسخوں میں ومستلَذًّا واؤ کے ساتھ ہے، اس صورت میں طیبا صفت مؤکدہ ہوگی یعنی نفس مومن کو مرغوب شئی۔ قولہ : ای تزیینَہٗ اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے، اور تزئین سے شیطانی وسوسے مراد ہیں۔ قولہ : یامرکم بالسُّوء یہ اِنّہٗ لکم عدوّ مُبین کے لئے علت کے مانند ہے، یعنی وہ تمہارا دشمن اس لئے ہے کہ وہ تم کو بری اور فحش باتوں کا حکم کرتا ہے، السُّوء ہر اس عمل کو کہتے ہیں جس سے خدا ناراض ہو خواہ وہ عمل چھوٹا ہو یا بڑا، اور اَلْفَحْشَاء سے مراد کبیرہ گناہ ہیں، گویا یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے، مگر مفسر علام کے کلام سے دونوں میں تساوی مستفاد ہو رہی ہے۔ قولہ : مِن تحریم مَالَم یُحرَمْ الخ یہ مالاتعلمُونَ میں ما کا بیان ہے۔ قولہ : أیَتَّبِعُوْنَھُمَ اس میں اشارہ ہے کہ ہمزہ فعل مقدر پر داخل ہے اور وَلَوْ کَانَ فعل مقدر کے مفعول سے حال ہے، تقدیر عبارت یہ ہے أیتَّبِعُونَھم فی حال فرضھم غیر عاقلین ولا مھتَدِین ہمزہ انکار تعجب کے لئے ہے، مفسر علام نے أیَتَّبعونَھم میں ہمزہ کے بعد فعل مقدر مان کر ایک سوال کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سوال : اَوَلَوْ کَانَ میں لَو شرطیہ ہے، لہٰذا اس کے لئے جواب شرط کا ہونا ضروری ہے حالانکہ یہاں جواب شرط موجود نہیں ہے۔ جواب : لَو پر جو داؤ داخل ہے وہ حالیہ ہے لہٰذا لَوْ کو اس صورت میں جواب کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ شرط تب ہی حال واقع ہوتی ہے جب اس سے شرطیت کے معنی سلب کر لئے جاتے ہیں، اس لئے کہ جملہ مقدمہ محذوفی کی صورت میں لَوْ میں معنی شرطیت باقی نہیں رہتے۔ لہٰذا اس کو جواب کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ (ترویح الارواح) قولہ : صفۃ یعنی مثل بمعنی صفت ہے نہ کہ بمعنی مشابہ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ میں کاف تشبیہ کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ مثل کے ذکر کے بعد کاف تشبیہ بلا وجہ تکرار ہے جواب : پہلے مثل کے معنی تشبیہ کے نہیں ہیں، بلکہ اس کے معنی صفت کے ہیں، لہٰذا اب کوئی تکرار نہیں۔ قولہ : النعق والنعیق، صوت الراعی بالغنم، چرواہے کی بکریوں کو ہانک۔ قولہ : وَمَنْ یَدْعُوھم الی الھُدٰی اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کو جواب ہے۔ سوال : آیت میں کفار کو ناعق (چروا ہے) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اس لئے کہ آیت کا ترجمہ یہ ہے، اور کافروں کی مثال اس ناعق داعی (ہدایت کی طرف بلانے والے رسول یا مسلمان ہیں) اور کفار منعوق، مدعو (مثل بہائم) ہیں۔ جواب : یہاں معطوف محذوف ہے اور وہ مَنْ یَدْعُوھم اِلَی الھُدٰی ہے، لہٰذا کفار اور ان کے داعی کو، چروا ہے اور بہائم کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، یعنی کفار اور ان کے داعی مشبہ ہیں اور بہائم اور ان کا چرواہا مشبہ بہ ہیں، گویا کہ یہ تشبیہ مرکب بالمرکب ہے، جس میں ایک مجموعہ کو دوسرے مجموعے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے، لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں۔ سوال : اگر اَلَّذِیْنَ کفرُوا سے پہلے مضاف محذوف مان لیا جائے جیسا کہ قاضی وغیرہ نے مضاف محذوف مانا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی، مَثلُ داعِی الَّذِینَ کَفَرُوْا کمَثَلِ الَّذِیْ ینعِقُ اب مطلب یہ ہوگا، کہ داعی کی مثال ناعق (چروا ہے) جیسی ہے یعنی داعی کو ناعق سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جواب : مطلب تو صحیح ہوجاتا ہے مگر اس صورت میں تشبیہ داعی (مسلمان یا رسول) کی حالت کو بیان کرنے کے لئے ہوگی نہ کہ مدعو کی حالت کو بیان کرنے کے لئے حالانکہ مقصود دونوں کی حالت کو بیان کرنا ہے اور اہم مدعو (کفار) کی حالت کو بیان کرنا ہے، جیسا کہ خود مفسر علام نے اس بات کی طرف اپنے قول ھم فی سماع الموعظۃ الخ سے اشارہ کیا ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے تفسیر مظہری جلد اول : ص 167 کی طرف رجوع کریں) ۔ تفسیر و تشریح شان نزول : یٰآیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ یہ آیت ثقیف اور خزاعہ اور عامر ابن صعصعہ اور بنی مدلج کے بارے میں نازل ہوئی تھی، کہ ان لوگوں نے اپنے اوپر حرث، انعام، البحیرہ اور سائبہ اور الحام اور وسیلہ کو حرام کرلیا تھا۔ (مظہری) ۔ ونزلت فی قوم حرموا علیٰ انفسھم رفیع الاطعمۃ والملابس یعنی مذکورہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ جنہوں نے اپنے اوپر عمدہ کھانا اور اچھا لباس حرام کرلیا تھا، (روح البیان) سبب نزول اگرچہ خاص بھی ہو لیکن اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے دام فریب میں آکر اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہ کرو جس طرح مشرکین کہ بتوں کے نام وقف کردہ جانوروں کو حرام کرلیتے تھے، لَاتَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطٰنِ میں اتباع شیطان سے منع کیا جا رہا ہے کہ خواہش اور نفس شیطانی کے اغواء سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہ سمجھو، اور زمین (دنیا) میں حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں استعمال کرو اور اغواء شیطانی کے شکار نہ ہو کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے لگو اس لئے کہ شیطان انسانوں کا کھلا دشمن ہے وہ ہمیشہ بدی اور فحش کا ہی حکم کرتا ہے۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں

اِنّما یأمرُکُم الخ شیطان کے حکم سے مراد وسوسہ ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ آدم کے بیٹے کے قلب میں ایک شیطانی الہام واثر ہوتا ہے اور دوسرا فرشتہ کی طرف سے، شیطانی وسوسہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ برے کام کے فوائد اور مصالح سامنے آتے ہیں اور فرشتہ کے الہام کا اثر یہ ہوتا ہے کہ خیر اور نیکی پر انعام و فلاح کا وعدہ اور حق کی تصدیق پر قلب مطمئن ہوتا ہے۔ مسئلہ : سانڈ وغیرہ جو بتوں کے نام پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں یا اور کوئی جانور مثلاً مرغا، بکرا وغیرہ کسی بزرگ یا کسی پیر پیغمبر کے نام نامزد کردیا جاتا ہے اس کی حرمت کا بیان بھی عنقریب وَمَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہِ کی تفسیر میں انشاء اللہ آنے والا ہے، اس آیت یٰایُّھَا النَّاسُ کُلُوْا الخ میں ایسے جانوروں کے حرام ہونے کی نفی کرنا مقصود نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کو شبہ ہوگیا ہے بلکہ اس فعل کی حرمت و ممانعت مقصود ہے کہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے جانوروں کو آزاد چھوڑ دینا اور اس عمل کو موجب برکت و تقرب سمجھنا اور ان جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا عہد کرلینا یہ تمام افعال ناجائز اور گناہ ہیں۔ مسئلہ : اگر کسی شخص نے جہالت یا غفلت سے کسی جانور کو کسی غیر اللہ کے لئے نامزد کرکے آزاد کردیا تو اس کی توبہ یہی ہے کہ اپنے اس حرمت کے خیال سے رجوع کرے اور اس فعل سے توبہ کرے، تو پھر اس کا گوشت حلال ہوجائے گا۔ (معارف)
Ayahs 2:170–172

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ نہیں سکتے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا (الآیۃ) اس آیت سے جس طرح باپ دادوں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہوگیا جس کی طرف دو لفظوں سے اشارہ فرمایا : لَایَعْقِلُوْنَ اور لَایَھْتَدُوْنَ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آباء و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انہیں نہ عقل تھی نہ ہدایت، ہدایت سے مراد احکام ہیں جو اللہ کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے ہیں، اور عقل سے مراد وہ احکام ہیں جو بذریععہ اجتہاد نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے ہوں۔ آباء و اجداد کے اتباع و تقلید کے عدم جواز کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام ہیں اور نہ اس کی صلاحیت کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان یعنی نصوص قطعیہ سے احکام کا استنباط کرسکیں، اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہوگیا کہ جس عالم کے متعلق یہ اطمینان ہوجائے کہ اس کے پاس قرآن و سنت کا علم ہے اور اس کو درجہ اجتہاد بھی حاصل ہے کہ جو احکام صراحۃ قرآن و سنت میں نہ ہوں ان کو نصوص قرآن و سنت سے بذریعہ قیاس نکال سکتا ہے تو ایسے عالم کی تقلید واتباع جائز ہے، اس لئے نہیں کہ یہ اس کا حکم ماننا اور اس کی اتباع کرنی ہے بلکہ اس لئے کہ حکم اللہ کا ماننا اور اسی کا اتباع کرنا ہے مگر چونکہ ہم براہ راست اللہ کے حکم سے واقف نہیں ہوسکتے اس لئے کسی عالم مجتہد کا اتباع کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل ہوسکے۔ جاہلانہ تقلید اور ائمہ مجتہدین کی تقلید میں فرق : اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مطلق تقلید ائمہ مجتہدین کے خلاف اس طرح کی آیت پڑھ دیتے ہیں وہ خود ان آیات کے صحیح مدلول سے واقف نہیں۔ امام قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اس آیت میں تقلید آبائی کے ممنوع ہونے کا جو ذکر ہے اس سے مراد باطل عقائد و اعمال میں آباء و اجداد کی تقلید کرنا ہے، عقائد صحیحہ و اعمال صالحہ میں تقلید اس میں داخل نہیں ہے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کلام میں ان دونوں چیزوں کی وضاحت سورة یوسف میں اس طرح آئی ہے : اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَھُمْ بِالْآخرَۃِ ھُمْ کَافِرُوْنَ ، وَاتَّبَعْتُ مِلّۃَ آبَائیِ اِبْرَاھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ۔ ” میں نے ان لوگوں کی ملت اور مذہب کو چھوڑ دیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور میں نے اتباع کیا اپنے آباء ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا “۔ اس میں پوری وضاحت سے ثابت ہوگیا کہ آباء کی تقلید باطل میں حرام ہے حق میں جائز بلکہ مستحسن ہے۔ امام قرطبی نے اسی آیت کے ذیل میں ائمہ مجتہدین کی تقلید سے متعلق بھی مسائل و احکام بیان کئے ہیں، فرمایا : تعلق قوم بھذہ الآیۃ فی ذم التقلید (الیٰ ) وھذا فی الباطل صحیح اَمّا التقلید فی الحق فاصل من اصول الدین وعصمۃ من عصم المسلمین یلجاءُ الَیْھَا الجاھِل المقصر عن درک النظر۔ (قرطبی : ص 491، ج 2، معارف) ” کچھ لوگوں نے اس آیت کو تقلید کی مذمت میں پیش کیا ہے، اور یہ باطل کے معاملہ میں تو صحیح ہے لیکن حق کے معاملہ میں تقلید سے اس کا کوئی تعلق نہیں، حق میں تقلید کرنا تو دین کے اصول میں سے ایک مستقل بنیاد ہے، اور مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے کہ جو شخص اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ دین کے معاملہ میں تقلید ہی پر اعتماد کرتا ہے “۔ یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ (الآیۃ) اوپر اکل طیبات کے معاملہ میں مشرکین کو غلطی پر تنبہ اور اصلاح مقصود تھی، اس آیت میں اہل ایمان کو اس بات پر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس غلطی میں مشرکین کی موافقت نہ کریں، اس کے ضمن میں اہل ایمان پر اپنے انعامات کا بھی ذکر ہے، اور اس پر ادائے شکر کی تعلیم بھی ہے۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے، ہاں جو ناچار ہوئے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

ربط آیات : اوپر تو اس کا بیان تھا کہ حلال کو حرام مت کرو گے اس کا ذکر ہے کہ حرام کو حلال مت سمجھو مثلاً مردار جانور اور ایسے جانور جن کو غیر اللہ کے نام ذبح کیا گیا ہو، اس میں اشارہ ہئ کہ نیک عمل کی توفیق اور دعا قبول ہونے میں اکل حلال کو بڑا دخل ہے، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول کرتا ہے، اور مومنین کو وہی حکم کرتا ہے جو مرسلین کو کرتا ہے، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو طویل سفر طے کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے یا ربِّ یا ربِّ اشعَثَ اَغْبَرَ ، مَطْعَمَہٗ حرام و مشربہ حرام وملبسہ حرام وغذی بالحرام فانیّٰ یُسْتجَابُ لِذٰلک (رواہ مسلم) بہت سے لوگ طویل سفر پریشان حال اللہ کے سامنے دعاء کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یا رب یارب پکارتے ہیں، مگر کھانا ان کا حرام، پینا ان کا حرام، لباس ان کا حرام، غذا ان کی حرام، ان حالات میں ان کی دعاء کہاں قبول ہوسکتی ہے ؟ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَۃَ ابو جعفر نے الْمَیِّتَۃُ یاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ سوال : اِنّما کلمہ حصر ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار چیزیں جو مذکور ہیں حرام ہیں، حالانکہ ان کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں جو دیگر آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے معلوم ہوتی ہیں۔ جواب : حنفیہ کے نزدیک اِنّما کے بارے میں نحاۃ کوفہ کا قول معتبر ہے جس میں انہوں نے کہا اِنَّ کلمۃ اِنّما لیْسَتْ للقصر بل ھِیَ مرکبۃ من اِنّ للتحقیق ومَا الکافۃ اور اگر اِنّما کا کلمہ حصر ہونا تسلیم کرلیا جائے تو حصر اضافی ہوگا، اور یہ حصر ان چیزوں کے اعتبار سے ہوا جن کو کفار نے حرام کرلیا تھا، بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ المیتۃ مردار اور یہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کا ذبح کرنا ضروری ہو، اور اس کو ذبح نہ کیا گیا ہو، لہٰذا مچھلی اور ٹڈی اس میں داخل نہیں ہیں، یا ان دونوں کو حدیث کی وجہ سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے، (قال رسول اللہ ﷺ اُحل لنّا میتتان ودَمَان السَّمک والجَرَ اد والکبدو الطحال) (اخرجہ ابن ماجہ والحاکم من حدیث ابن عمر) اور ان ہی کے ساتھ گوشت کے اس ٹکڑے کو بھی شامل کرلیا گیا ہے جو زندہ جانور سے کاٹ لیا گیا ہو، عن ابی واقد اللیثی قال قال رسول اللہ ﷺ : مَا قُطِعَ مِنَ البَھِیمَۃِ وھیَ حَیَّۃٌ فَھُوَ مَیْتَۃٌ۔ (اخرجہ ابو داؤد والترمذی) آگے اس آیت میں جن چیزوں کی حرمت کا ذکر کیا گیا ہے وہ چار چیزیں ہیں : مردار، خون، لحم خنزیر، اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا ناام لیا گیا ہو۔ مردار : اس سے مراد وہ جانور ہے جس کے حلال ہونے کے لئے ازروئے شرع ذبح کرنا ضروری ہے مگر وہ بغیر ذبح کے خود بخود مرجائے یا گلا گھونٹ کر یا کسی دوسری طرح چوٹ وغیرہ مار کر مار دیا جائے، تو وہ مردار اور حرام ہے، مگر خود قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دریائی جانوروں کا ذبح کرنا ضروری نہیں ہے اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ البَحْرِ اسی بناء پر حدیث میں بھی مچھلی اور ٹڈی کو میتہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، البتہ وہ مچھلی جو خودبخود مر کر پانی کے اوپر آجائے وہ حرام ہے۔ (جصاص) ۔ مسئلہ : اسی طرح وہ شکاری جانور جو قابو میں نہیں کہ ذبح کرلیا جائے تو اس کو بھی بسم اللہ پڑھ کر تیر وغیرہ دھاری دار چیز سے زخم لگا دیا جائے اور قابو میں آنے سے پہلے مرجائے تو بغیر ذبح کے حلال ہوجاتا ہے، مگر زخمی دھاری دار آلہ سے ہونا چاہیے، لہٰذا پھاڑنے والے یا جلانے والے آلہ مثلاً گولی سے زخمی شدہ بغیر ذنح کے حلال نہ ہوگا۔ مسئلہ : اگر بندوق کی گولی سے کوئی جانور زخمی ہو کر قبل الذبح مرجائے تو وہ حلال نہ ہوگا، اگر مرنے سے پہلے اسے ذبح کرلیا جائے تو حلال ہوجائے گا۔ مسئلہ : اگر بندوق کی گولی نوکدار ہو جیسا کہ آج کل ایسی گولی بنائی گئی ہے تو بعض علماء کا خیال ہے کہ ایسی گولی تیر کے حکم میں ہے، مگر جمہور علماء کے نزدیک ایسی گولی بھی جارحہ نہیں بلکہ خارقہ ہے اس لئے ایسی گولی کا شکار بھی بغیر ذبح حلال نہیں۔ مسئلہ : مردار جانور کے تمام اجزاء حرام ہیں، مگر جانور کے وہ اجزاء جو کھانے کی چیز نہیں، مثلاً بال، سینگ، کھر، ہڈی وغیرہ یہ پاک ہیں، ان کا استعمال جائز ہے بشرطیکہ ان پر نجاست نہ لگی ہو۔ مسئلہ : مردار جانور کی چربی اور اس سے بنائی ہوئی چیزیں بھی حرام ہیں نہ ان کا استعمال جائز اور نہ خرید فروخت۔ مسئلہ : یورپ وغیرہ سے آئی ہوئی چیزیں مثلاً صابون، کریم، لپ اسٹک وغیرہ جن میں چربی ہوتی ہے ان سے پرہیز کرنا احتیاط ہے، مگر مردار یا حرام جانور کی چربی کا یقینی علم نہ ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے، نیز اس وجہ سے بھی کہ بعض صحابہ کرام مثلاً ابن عمر، ابو سعید خدری، ابو موسیٰ اشعری ؓ نے مردار کی چربی کا صرف کھانے میں استعمال حرام قرار دیا ہے، خارجی استعمال کی اجازت ہے، اس لئے اس کی خریدو فروخت کو بھی جائز رکھا گیا ہے۔ (جصاص، معارف) ۔ مسئلہ : دودھ کا پنیر بنانے میں ایک چیز استعمال ہوتی ہے جس کو عربی میں اِنْفحۃ کہا جاتا ہے، یہ جانور کے پیٹ سے نکالی ہوئی ایک چیز ہوتی ہے اس کو دودھ میں شامل کرنے سے دودھ جم جاتا ہے، اگر انفحۃ شرعی طریقہ سے مذبوحہ جانور کا ہے تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن غیر مذبوح کے پیٹ سے حاصل کیا ہوا انفحہ کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے، امام اعظم، امام مالک اس کو پاک کہتے ہیں اور امام ابو یوسف امام محمد اور سفیان ثوری اس کو ناپاک کہتے ہیں۔ (قرطبی، معارف) خون : دوسری چیز جو آیت مذکورہ میں حرام قرار دی گئی ہے وہ خون ہے، اس آیت میں اگرچہ مطلق ہے مگر سورة انعام کی آیت میں مسفوح کی قید بھی ہے یعنی بہنے والا خون، لہٰذا جو خون منجمد ہو جیسے کلیجی، تلی، گردہ، پھیپھڑا وغیرہ یہ حلال اور پاک ہیں۔ مسئلہ : ذبح کے بعد جو خون گوشت میں لگا رہ جاتا ہے وہ پاک ہے، اسی طرھ مچھر، مکھی، کھٹمل وغیرہ کا خون ناپاک نہیں ہے، اگر زیادہ ہو تو اس کو بھی دھونا چاہیے۔ مسئلہ : جس طرح خون کا کھانا حرام ہے اس کا خارجی استعمال بھی حرام ہے اور اس کی خریدو فروخت بھی جائز نہیں۔ مسئلہ : مریض کو دوسرے کا خون کا مسئلہ، تحقیق اس کی یہ ہے کہ انسانی خون انسان کا جز ہے اور جب بدن سے نکال لیا جائے تو وہ بھی نجس ہے، اس کا اصل تقاضہ تو یہی ہے، لہٰذا قاعدہ اور ضابطہ کی رو سے دوسرے کا خون چڑھانا جائز نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اضطراری اور مجبوری کی صورت میں شریعت اسلام کی دی ہوئی سہولتوں میں غور کرنے سے امور ذیل ثابت ہوئے : خون اگرچہ انسانی جز ہے مگر اس کو کسی دوسرے انسان کے بدن میں منتقل کرنے کے لئے اعضاء انسانی میں کاٹ چھانٹ اور آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی، انجکشن کے ذریعی خون نکالا اور داخل کیا جاتا ہے، اس لئے اس کی مثال دودھ کی سی ہوگئی جو بدن انسانی سے بغیر کاٹ چھانٹ کے نکلتا ہے اور دوسرے انسان کا جز بنتا ہے، شریعت اسلام نے بچہ کی ضرورت کے پیش نظر انسانی دودھ کو بچے کی غذاقرار دیا ہے، اور علاج کے طور پر بڑوں کے لے بھی اجازت ہے جیسا کہ عالمگیری میں ہے : ولا بأسَ بان یسعط الرجل بلبن المرۃ ویشربَہٗ للدواء۔ (عالمگیری : ص 4، معارف) ۔ ” اس میں مضائقہ نہیں کہ دوا کے لئے کسی شخص کی ناک میں عورت کا دودھ ڈالا جائے، یا پینے میں استعمال کیا جائے “۔ مسئلہ : اگر خون کو دودھ پر قیاس کیا جائے تو بعید از قیاس نہیں، کیونکہ دودھ بھی خون کی بدلی ہوئی صورت ہے اور جزء انسانی ہونے میں مشترک ہے، صرف فرق یہ ہے کہ دودھ پاک ہے اور خون ناپاک ہے، لہٰذا جزء انسانی ہونا تو یہاں وجہ ممانعت نہ رہی اس لئے کہ دودھ جزء انسانی ہونے کے باوجود دوسرے انسان کے بدن کا جزء بنتا ہے، اب صرف نجاست کا معاملہ رہ گیا، علاج اور دوا کے معاملہ میں بعض فقہاء نے خون کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا خون دوسرے کے بدن میں منتقل کرنے کا شرعی حکم یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں تو جائز نہیں، مگر علاج اور دوا کے طور پر اضطراری حالت میں بلاشبہ جائز ہے، اضطراری حالت سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان خطرہ میں ہو اور کوئی دوسرا طریقہ مؤثر نہ ہو یا موجود نہ ہو، اور خون دینے سے مریض کی جان بچنے کا گمان غالب ہو ان شرطوں کے ساتھ خون دینا اس نص قرآنی کی رو سے جائز ہے جس میں مضطر کے لئے مردار جانور کھا کر جان بچانے کی اجازت صراحۃ مذکور ہے۔ خنزیر کی حرمت : تیسری چیز جس کی حرمت اس آیت مذکورہ میں ہے وہ لحم خنزیر ہے اس کے نجس العین ہونے پر اتفاق ہے، قرآن میں خنزیر کے ساتھ لحم کی قید یا تو اس لئے ہے کہ اعظم مقصود گوشت ہی ہے بقیہ چیزیں اس کے تابع ہیں اور لحم کی قید سے اس بات کی طرف اشارہ ہوگیا کہ خنزیر دیگر حرام جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ ذبح کے بعد اگرچہ کھانے کے لئے حرام ہی رہتے ہیں مگر یہ پاک ہوجاتے ہیں، البتہ خنزیر ذبح کرنے کے بعد بھی پاک نہیں ہوتا، صرف چمڑا سینے کے لئے اس کے بال کا استعمال حدیث میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ (جصاص، قرطبی) ائمہ کا مسلک : امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور امام مالک (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ خنزیر کے بالوں کا استعمال ضرورت کے پیش نظر صرف چمڑا سینے کے لئے جائز ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ ممنوع قرار دیتے ہیں، اور امام احمد (رح) تعالیٰ نے مکروہ قرار دیا ہے اگر خنزیر کا بال پانی میں گرجائے تو پانی ناپاک ہوجائے گا۔ لحم خنزیر کی مضرت : فقہی احکام اور شرعی حرمت سے قطع نظر فطرت سلیم اسے گندہ سمجھتی ہے نظافت طبعی اس کی طرف رغبت کرنے سے کراہت کرتی ہے، خنزیر کا گوشت بکثرت استعمال سے اخلاقی خرابیاں اور بےحیائی کا پیدا ہونا ایک مسلم حقیقت ہے جن قوموں میں اس کو کثرت سے کھانے کا رواج ہے ان کی بےحیائی کسی سے پوشیدہ نہیں، اس کے گوشت کے جو طبی نقصانات ہیں وہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہیں، خصوصاً امراض غدودی میں یہ جس طرح معین و مددگار ہوتا ہے اس پر آج کل کے ڈاکٹر بہت کچھ لکھ چکے ہیں، سور کی گندگی اور ناپاکی اتنی روشن اور عیاں ہے کہ بعض قدیم قومیں مثلاً اہل مصر بھی اسے نجس سمجھتی رہی ہیں، بلکہ خود یہودیوں کے یہاں بھی خنزیر حرام تھا، آج مسیح قومیں جس ذوق و شوق سے یہ گندہ گوشت کھاتی ہیں اور اس کی چربی سے جو طرح طرح کے کام لیتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراہت کیسی ؟ عجب نہیں کہ کچھ فضائل مسیحیت میں اس جانور کے وارد ہوئے ہوں، حالانکہ اس کی حرمت اور نجاست دونوں صراحت کے ساتھ بائبل میں موجود ہیں۔ بائبل میں سور کی حرمت اور نجاست : اور سور کہ اس کا کھر دو حصہ (چرا ہوا) ہوتا ہے اور اس کا پاؤں چرا ہے، پر وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔ (اخبار 7: 11) ۔ اور سور کہ کھر اس کے چرے ہوئے ہیں، یہ جگالی نہیں کرتا، بھی تمہارے لئے ناپاک ہے، تم اس کا گوشت نہ کھائیو نہ اس کی لاش کو ہاتھ لگائیو۔ (استثناء 8: 12) وَمَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہِ : یہ چوتھی چیز ہے جس کو آیت میں حرام قرار دیا گیا ہے، یہ وہ جانور ہے جس کو غیر اللہ کے لئے وقف کیا گیا ہو، اس کی تین صورتیں متعارف ہیں : اول یہ کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے اور بوقت ذبح غیر اللہ ہی کا نام لیا جائے۔ صورت باجماع امت حرام ہے اور یہ جانور مردار ہے اس کے کسی جزء سے انتفاع جائز نہیں، اس لئے کہ یہ صورت آیت مَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہِ کی مدلول صریح ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کو تقرب الی غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جائے لیکن بوقت ذبح اس پر نام اللہ کا لیا جائے، جیسا کہ بہت سے ناواقف مسلمان پیروں اور بزرگوں کے نام پر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بکرے مرغے وغیرہ ذبح کرتے ہیں، جیسے ربیع الثانی کے مہینہ میں گیارہویں شریف کے موقع پر (بقول جہلاء) غوث پاک کا خصی، ماہ محرم میں سیدنا حسن و حسین ؓ کے نام کا مرغا، اور شیخ سدو کے نام کا بکرا یہ صورت بھی باتفاق فقہاء حرام اور مذبوحہ مردار ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کے کان کاٹ کر یا کوئی دوسری علامت لگا کر تقرب الیٰ غیر اللہ اور تعظیم لغیر اللہ کے طور پر چھوڑا جائے نہ اس سے کام لینے اور نہ اس کو ذبح کرنے کا قصد ہو بلکہ اس کے ذبح کو حرام جانیں یہ جانور مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہِ اور مَا ذُبِھَ عَلَی النُّصُبِ دونوں میں داخل نہیں ؛ بلکہ اس قسم کے جانور کو بحیرہ یا سائبہ کہا جاتا ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ یہ فعل تو بنص قرآنی حرام ہے، جیسا کہ مَا جَعَلَ اللہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَائِبَۃٍ سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر ان کے اس حرام عمل سے اور اس جانور کو حرام سمجھنے سے یہ جانور حرام نہیں ہوجاتا، اس لئے یہ جانور عام جانوروں کی طرح حلال ہے، مگر شرعی اصول کے مطابق یہ جانور اپنے مالک کی ملک سے خارج نہیں ہوا، اگرچہ وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ میری ملک سے خارج ہو کر غیر اللہ کے لئے وقف ہوگیا، اس کا یہ عقیدہ باطل ہے وہ جانور بدستور اس کی ملک میں ہے، اب اگر وہ شخص اس جانور کو کسی کے ہاتھ فروخت کر دے یا ہبہ کر دے تو اس کے لئے یہ جانور حلال ہے جیسا کہ ہندو بکثرت اپنے دیوی ویوتاؤں کے نام بکرا، گائے وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں، اور مندر کے پجاری کو اختیار دیدیتے ہیں، کہ جو چاہیں کریں، مندر کے پجاری ان کو فروخت کردیتے ہیں، اسی طرح ناواقف مسلمان بھی بعض مزارات پر ایسا ہی عمل کرتے ہیں کہ بکرا مرغا وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں اور مجاوروں کو اختیار دیدیتے ہیں جن کو وہ فروخت کردیتے ہیں ان مجاوروں سے ان جانوروں کا خریدنا اور ذبح کرکے کھانا وغیرہ سب حلال ہے۔ نذر لغیر اللہ کا مسئلہ : یہاں ایک چوتھی شکل اور ہے جس کا تعلق حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں مثلاً مٹھائی، کھانا وغیرہ، جن کو غیر اللہ کے نام پر منت کے طور پر ہندو بتوں پر اور جاہل مسلمان نزرگوں کے مزارات پر چڑھاتے ہیں، حضرات فقہاء نے اس کو بھی اشتراک علت یعنی تقرب الی غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہِ کے حکم میں قرار دے کر حرام قرار دیا ہے، کتب فقہ مثلاً بحر الرائق وغیرہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ اضطرار اور مجبوری کے احکام : آیت مذکورہ میں چار چیزوں کو حرام قرار دینے کے بعد ایک حکم استثنائی مذکور ہے، فَمَنِ اضْطُرَّ غِیْرَ بَاغٍ وَّلَا عادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیمٌ اس استثنائی حکم میں اتنی سہولت کردی گئی ہے کہ جو شخص بھوک سے بیتاب ہوجائے بشرطیکہ نہ تو کھانے میں طالب لذت ہو اور نہ قانون شکنی کا داعیہ اور نہ قدر ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو تو اس حالت میں ان حرام چیزوں کو کھا لینے سے بھی اس شخص کو کوئی گناہ نہیں، بلکہ نہ کھانے میں گناہ ہے اگر نہ کھا کر مرگیا تو گناہ گار کی موت مرے گا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے غفور رحیم ہیں۔ اس میں مضطر کے لئے جان بچانے کے واسطے دو شرطوں کے ساتھ ان حرام چیزوں کو کھانے کی اجازت دی گئی ہے، ایک شرط مضطرو مجبور ہونا، مضطر شرعی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی جان خطرہ میں ہو مثلاً کوئی شخص بھوک اور پیاس کی وجہ سے ایسی حالت میں پہنچ گیا ہو کہ اگر یہ کھائے پیے تو اس کی جان جاتی رہے، اس لئے حرام چیز کو استعمال کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک شرط یہ ہے کہ مقصود جان بچانا ہو لذت اندوزی یا قانون شکنی نہ ہو، دوسرہ شرط یہ ہے کہ صرف اتنی مقدار کھائے جو جان بچانے کے لئے کافی ہو، پیٹ بھر کر کھانا یا ضرورت سے زیادہ کھانا اس وقت بھی حرام ہے۔ فائدہ : اضطرار اور مجبوری جس طرح داخلی ہوتی ہے خارجی بھی ہوسکتی ہے، مثلاً کوئی شخص حرام چیز کھانے یا پینے پر مجبور کرے کہ اگر نہ کھاؤ گے نہ پیو گے تو تم کو قتل کردیں گے یا کوئی عضو ضائع کردیں گے تب بھی یہی حکم ہے، معمولی زدو کو ب کا یہ حکم نہیں ہے۔ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ کی تفسیر : غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ کی دو تفسیریں منقول ہیں ایک تو وہ ہے جس کو صاحب جلالین علامہ شیوطی (رح) تعالیٰ نے اختیار کیا ہے، وہ یہ کہ باغٍ کا مطلب ہے امام عادل کے خلاف بغاوت کرنے والا اور عادٍ کے معنی رہزنی کرنے والا، یا فساد فی الارض برپا کرنے والا، یعنی جو شخص امام عادل کے خلاف بغاوت کرنے والا اور رہزنی کرنے والا ہو اور وہ حالت اضطرار میں آجائے تو اسے اس حالت اضطرار کی سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ بیضاوی (رح) تعالیٰ نے کہا کہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کا ظاہر مذہب بھی یہی ہے، بغوی نے کہا ہے کہ ابن عباس معصیت کو مضطر کی سہولیات حاصل نہ ہوں گی، بخلاف امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے، مگر زیادہ مفسرین کا رجحان اس طرف ہے کہ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍکا تعلق، اکل سے ہے، یعنی مضطر کا مقصد لذت اندوزی یا قانون شکنی نہ ہو، اور نہ بقدر سدر مق سے تجاوز کرے، البتہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک پیٹ بھر کر کھانا بھی جائز ہے، امام مالک (رح) تعالیٰ کا بھی یہی قول ہے اور ایک روایت امام احمد (رح) تعالیٰ کی بھی ایسی ہی ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کا راجح مذہب یہ ہے کہ اگر قریبی زمانہ میں حلال کھانا ملنے کی توقع ہو تو سدرمق سے زیادہ کھانا جائز نہیں، اور اگر امید نہ ہو تو پیٹ بھر کر کھانا جائز ہے بلکہ بطور توشہ ساتھ بھی لے سکتا ہے۔ (مظہری، ملخصا)
Ayahs 2:174–176

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

جو لوگ (خدا کی) کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن کلام نہ کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا، یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے ولے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آ کر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

آیت نمبر 174 تا 176 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کتاب (تورات) کو جو اللہ نے نازل کی ہے جو محمد ﷺ کی صفات پر مشتمل ہے (اور چھپانے والے) یہود ہیں اور اس کے عوض دنیوی قلیل قیمت لیتے ہیں اور چھپانے کے بدلے اپنے عوام سے قلیل ثمن وصول کرتے ہیں، اور اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے اندیشہ سے حضور ﷺ کی صفات کو ظاہر نہیں کرتے، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں، اس لئے کہ دوزخ انکا انجام ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر غضبنا کی کی وجہ سے ان سے کلام نہ کرے گا، اور نہ ان کو گناہوں کی گندگی سے پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور وہ آگ ہے الیمٌ بمعنی مولِمٌ ہے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے یعنی دنیا میں ہدایت کے بجائے گمراہی لے لی ہے، اور عذاب کو مغفرت کے عوض لیا ہے (یعنی) وہ مغفرت جو ان کے لیے تیار کی گئی تھی اگر وہ کتمان نہ کرتے، تو یہ لوگ کس قدر آگ پر صبر کرنے والے ہیں (یعنی) کس قدر سخت ہے ان کا صبر، اور لاپرواہی سے ان کے موجبات نار جہنم کے ارتکاب کرنے پر مسلمانوں کو تعجب دلانا ہے ورنہ انہیں صبر کیسا ؟ اور یہ آگ کا کھانا اور اس کا مابعد اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب (تورات) کو حق کے ساتھ نازل کیا (بالحق) نَزَلَ کے متعلق ہے، تو اس میں انہوں نے اختلاف کیا، اس طریقہ پر کہ کچھ حصہ کا انکار کردیا اس کو چھپا کر اور جب لوگوں نے کتاب میں مذکور طریقہ پر اختلاف کیا بلاشبہ وہ یہود ہیں، اور کہا گیا ہے کہ قرآن میں اختلاف کرنے والے مشرکین ہیں، اسی طریقہ پر کہ ان میں سے بعض نے کہا (قرآن) شعر ہے اور بعض نے کہا جا دو ہے، اور بعض نے کہا کہانت ہے، بلاشبہ یہ لوگ اختلاف میں (حق سے) بہت دور ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : مِنَ الْکِتَابِ یہ ضمیر محذوف سے حال ہے، تقدیر عبارت یہ ہے مَا اَنزَلَہٗ اللہ کائناً مِنَ الکِتَابِ ۔ قولہ : مَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ اِلَّا النَّارَ ، فِی بُطُونِھم کے اضافہ کا مقصد احتمال مجاز کو دفع کرنا ہے، اس لئے کہ اکل مجازاً غضب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کہا جاتا ہے، اَکَلَ فلانٌ أرضی فلاں شخص میری زمین کھا گیا، یعنی غصب کرلی، جیسا کہ طَآئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ میں بھی یَطِیرُ بجَنَاحَیہِ کا اضافہ احتمال مجاز کو دفع کرنے کے لئے ہے، اگر اکل نار سے جہنم میں اکل نار مراد ہے تو نار کے حقیقی معنی مراد ہوں گی یعنی درحقیقت آگ کھائیں گے اور اگر دنیا میں اکل نار مراد ہو مجازا نار مراد ہوگی یعنی سبب نار مراد ہوگا، اس لئے کہ رشوت کا مال نار جہنم کا سبب ہوگا، اور اگر نار سے بالقوہ نار مراد ہو تو دنیا میں بھی نار کے حقیقی معنی مراد ہوسکتے ہیں جیسا کہ ماچس بالقوہ آگ ہوتی ہے، مفسر علام نے لِانَّھَا مَآلھُم کا اضافہ کرکے معنی مجازی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ قولہ : فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَی النَّارِ یہ صیغہ تعجب ہے ای مَا اَصْبَرَھم علیٰ اعْمَال اھلِ النارِ اور تعجب سے مراد تعجب یعنی تعجب میں ڈالنا ہے، اور تعجب بندوں کی نسبت سے ہے اس لئے کہ تعجب کا منشا سبب سے ناواقفیت ہے، تعجب کہتے ہیں انفعال النفس مما خفِیَ سَبَبُہٗ تعجب نام ہے نفس کا ایسی ثیز سے منفعل ہونے کا جس کا سبب مخفی ہو اور یہ شان باری کے لئے محال ہے اور بعض حضرات نے مَآ اَصْبَرَھُمْ میں ما کو استفہامیہ برائے توبیخ کہا ہے : اَی اَیُّ شئٍ اَصْبَرھم علی عمل النارِ ۔ (فتح القدیر ملخصا) تفسیر و تشریح شان نزول : اَنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ الْکِتَابِ یہ آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی کہ جو احکام تورات کو اور خاص طور پر آپ ﷺ کی صفات کو عوام سے چھپاتے تھے بلکہ ان صفات کے خلاف ظاہر کرتے تھے اور عوام سے بدئیے تحفے وصول کرتے تھے علماء کا خیال تھا کہ آخری نبی ان ہی میں سے ہوگا، مگر جب بنی اسراعیل میں آگیا تو حسد اور بقاء ریاست اور ہدایا و تحائف کے لالچ کی وجہ سے آپ ﷺ کی ان صفات کو جو تورات میں مذکور تھیں چھپالیا۔ وَقَدْ اَخْرَجَ ابن جریر عن عکرمۃ فی قولہ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللہُ ) قَالَ : نَزَلَتْ فِی یھود واَخْرَجَ ابن جریر عن السدّی قال : کَتَمُوا اسم محمد ﷺ وَاَخَذُوْا علیہ طَمْعًا قلیلاً فھو الثمن القلیل۔ فی لباب النقول اَخْرَجَ الثعلبی من طریق الثعلبی عن ابی صالح عن ابن عباس ؓ ما، قال : نَزَلَتْ ھذہ الآیۃ فی رؤساء الیھود وعلمائِھم کانوا یصیبونَ من سفلتھن الھدایا والفضل و کانوا یرْجُونَ اَن یکونَ النبی المبعوث منھم فَلَمَّا بعَثَ اللہُ محمداً ﷺ من غیرھم خافوا ذھاب ما کلتھم وزَوال ریاستھم فعَمَدُوا الی صفۃ ﷺ فغیّروھَا ثم اَخْرَجُوھا الیھم وقالوا ھذہ نعت النبی الذی یخرج فی آخر الزمان لا یشبہ نعمت ھذا النبی، فانزل اللہ اِنّ الذینَ یکتُمُونَ مَا انزل اللہ من الکتاب۔ (حاشیہ بیان القرآن) آیت مذکورہ کا شان نزول اگرچہ خاص واقعہ ہے مگر اعتبار عموما الفاظ کا ہوگا، مطلب یہ ہے کہ اگر آج بھی کوئی شخص کتمان حق کرے گا اور دین فرشی کرے گا تو وہ بھی اسی وعید کا مستحق ہوگا، خلاصہ یہ کہ عوام میں جتنے غلط توہمات اور رسم و رواج جنم لیتے ہیں، ان کی ذمہ داری ان علماء پر ہے جن کے پاس کتاب الٰہی کا علم ہے مگر وہ عوام تک اس علم کو نہیں پہنچاتے اور جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط رسم و رواج پھیلنے لگتے ہیں تو یہ علماء سوء اس وقت بھی گونگے کا گڑ کھائے ہوئے خاموش بیٹھے رہتے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے اپنا فائدہ اسی میں سمجھتے ہیں کہ صحیح احکام پر پردہ ہی پڑا رہے۔