Ayah 2:213کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ، ابتداء میں لوگ ایک ہی طریقہ یعنی توحید پر تھے پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے، حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر رہے اس آیت میں مفسرین صحابہ نے، فَاخْتَلَفُوْا، محذوف مانا ہے یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک و مظاہر پرستی عام ہوگئی فَبَعَثَ ، کا عطف فاختلفوا، (محذوف) پر ہے پس اللہ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا فیصلہ اور حق و توحید کو قائم اور واضح کریں۔ ناواقف لوگ جو اپنے قیاس و گمان کی بنیاد پر مذہب کی تاریخ مرتب کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کی ابتداء شرک کی تاریکیوں سے کی پھر بتدریج ارتقاء کے ساتھ ساتھ یہ تاریکی چھٹتی اور روشنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آدمی توحید کے مقام پر پہنچا، قرآن اس کے برعکس بتاتا ہے کہ دنیا میں انسان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس انسان کو پیدا کیا تھا اس کو یہ بھی بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور تیرے لئے صحیح راستہ کونسا ہے، اس کے بعد بعد نسل آدم ایک مدت تک راہ راست پر قائم رہی اور ایک امت بنی رہی، پھر لوگوں نے نئے نئے راستے نکالے اور مختلف طریقے ایجاد کر لئے، اس وجہ سے نہیں کہ ان کو حقیقت نہیں بتائی گئی تھی بلکہ اس وجہ سے کہ حق کو جاننے کے باوجود بعض لوگ اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات، فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم، سرکشی اور زیادتی کرنے کے خواہشمند تھے، اسی خرابی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو مبعوث کرنا شروع کیا، یہ انبیاء اس لئے نہیں بھیجے گئے تھے، کہ ہر ایک اپنے نام سے ایک نئی امت بنا لے اور نئے مذہب کی بنیاد ڈالے، بلکہ ان کے بھیجنے کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کے سامنے اس کھوئی راہ حق کو واضح کرکے انہیں پھر سے ایک امت بنادیں۔
Ayah 2:214اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ (الآیۃ) کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوں ہی جنت میں داخل ہوجائے گا حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گذرا جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے ؟
شان نزول : عبد الرزاق وابن جریر و ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت غزوہ احزاب (غزوہ ضندق) کے وقت نازل ہوئی، اس کا مقصد آپ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی دینا ہے۔
غزوہ احزاب : غزوہ احزاب جس کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں صحیح قول کے مطابق 5 ھ میں پیش آیا ابو سفیان جو کہ ابھی حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوئے تھے دس ہزار کی ایک بڑی جمعیت لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے، اس غزوہ میں مسلمانوں کو بہت دقت پیش آئی بےسروسامانی کا عالم، سخت سردیوں کا موسم، مقابلہ پر دس ہزار کا مسلح لشکر جرار ان تمام وجوہ کی بنا پر مسلمانوں کو تشویش لاحق تھی، اور مایوسی و ناامید کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دل بڑھانے اور تسلی دینے کے لئے فرمایا : کیا تم جنت میں جانا آسان سمجھتے ہو تم سے پہلے جو پیغمبر اور ان کے تابعین گذرے ہیں، ان کی مصیبتیں یاد کرو ابھی تو تم پر وہ سختی نہیں آئی، مطلب یہ کہ یہ معاملہ ہوا ان کے سروں پر آرا رکھ کر جسم کو دو لخت کردیا گیا، لوہے کی کنگھیوں سے ان کے جیتے جی ہڈیوں سے گوشت کھرچا گیا لیکن یہ ظلم ان کو ان کے دین سے نہ پھیر سکا، لہٰذا چاہیے کہ جس طرح انہوں نے صبر کیا تم صبر کرو مدد عنقریب آنے والی ہے آپ ﷺ کا مقصد مسلمانوں کے اندر عزم اور حوصلہ پیدا کرنا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ ایک سوار تنہا صنعاء سے حضرموت تک سفر کریگا اور اس کو سوائے خدا کے کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ (بخاری کتاب الاکراہ)
Ayah 2:215آیت نمبر 215 تا 216
ترجمہ : اے محمد ﷺ آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ مَاذَا بمعنی اَلَّذِیْ ہے اور سائل عمرو بن جموح تھے، جو کہ مالدار بوڑھے تھے، تو انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ ان کو جواب دو کہ تم جو مال خرچ کرو (مِن خیر) مَا کا بیان ہے جو کہ قلیل و کثیر سب کو شامل ہے اور اس میں خرچ کی جانے والی چیز کا بیان ہے جو کہ سوال کی دو شقوں میں سے ایک ہے اور مصرف کا جواب دیا اپنے قول فللوالدین سے جو کہ سوال کی دوسری شق ہے (یعنی اپنے) والدین پر، رشتہ داروں پر، یتیموں پر، مسکینوں پر اور مسافروں پر (خرچ کرو) یہ لوگ انفاق کے زیادہ مستحق ہیں، انفاق وغیرہ جو بھی عمل خیر تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے اس کا تم کو صلہ ملے گا، تم پر کفار سے جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو طبعًا ناپسند ہے اس میں مشقت ہونے کی وجہ سے، اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو ناگوار اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور وہ سکتا کہ ایک چیز تم کو پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو ہلاک کرنے والی خواہشات کی طرف نفس کے میلان کی وجہ سے، اور نفس کے لئے سعادت کو واجب کرنے والی تکلیفوں سے نفس کے نفرت کرنے کی وجہ سے، اس لئے ہوسکتا ہے کہ جہاد میں تمہارے لئے خیر ہو اگرچہ تم اس کو ناگوار سمجھو اس میں یا تو فتح اور مال غنیمت ہے یا شہادت اور اجر ہے، اور جہاد کے ترک کرنے میں اگرچہ تم اس (ترک جہاد) کو پسند کرو، شر ہو، اس لئے کہ اس میں ذلت فقر اور اجر سے محرومی ہے تمہارے لئے کیا بہتر ہے ؟ اللہ جانتا ہے تم اس کو نہیں جانتے، لہٰذا جس کا تم کو حکم کرے اس کی طرف سبقت کرو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَلَّذِیْ ، اس میں اشارہ ہے کہ ذا، یہاں موصول ہے نہ کہ اسم اشارہ یعنی اَلَّذِیْ ، اِذَا کی تفسیر ہے نہ کہ مَاذَا کی۔
قولہ : وَعَلٰی مَنْ یُنْفِقُ ، اس عبارت کو مقدر ماننے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جواب عمروبن جموح کے سوال کے مطابق نہیں ہے اس لئے کہ سوال تھا کیا خرچ کریں، نہ یہ کہ کس پر خرچ کریں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فَلِلْوَ الِدَیْنِ کہہ کر، مصرف کو بیان کیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ سوال منفق کا تھا اور جواب منفق علیہم سے دیا گیا۔ جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ سوال دونوں چیزوں کا تھا مگر نظر آیت میں ایجاز و اختصار کی وجہ سے منفق کو ذکر نہیں کیا، جواب پر محمول کرتے ہوئے کہ جواب ہی سے سوال سمجھ میں آجائے گا، مِنْ خیرٍ ، مَا کا بیان ہے جو کہ قلیل و کثیر کو شامل ہے اور اس میں اشارہ مَنْفَقْ کا بیان ہے جو کہ سوال کے دو جزؤں میں سے ایک ہے اور فلِلْوَا لدین مصرف کا بیان ہے جو کہ سوال کے دوسرے جزء کا بیان ہے، سوال کا جو جزء صراحۃً مذکور ہے اس کا جواب ما انفَقتُم مِن خیر، سے اشارۃ دیا اور سوال کا جو جزء محذوف ہے یعنی عَلٰی مَنْ یُنْفَقُ ، اس کا جواب صراحۃً مذکور ہے یعنی فلِلوالدین الخ لہٰذا اب کوئی اشکال باقی نہیں رہا، سوال و جواب دونوں مطابق ہوگئے، منفق کے اشارہ اور منفق علیہم کے صراحۃ ذکر کرنے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ منفق کے بارے میں سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا اس لئے کہ کیا خرچ کرے اور کتنا خرچ کرے یہ انسان کی حالت اور صوابدید پر موقوف ہوتا ہے البتہ صرف کا جاننا ضروری ہے تاکہ صرف کیا ہوا مال بےمصرف اور بےجا صرف نہ ہوجائے ورنہ تو مال ضائع اور اجر سے محرومی لازم آئے گی۔
قولہ : ھُمْ اولی بہٖ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ مصارف اولی اور افضل ضرور ہیں مگر ان ہی میں منحصر نہیں ہیں ان کے علاوہ پر بھی صرف کرسکتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ فللو الدین میں لام اختصاص کا نہیں ہے۔
قولہ : طبعًا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اللہ کے حکم کو خصوصاً جب کہ فرض ہو، ناپسند کرنا اور مکروہ سمجھنا کفر ہے۔
جواب : طبعی کراہت موجب کفر نہیں اس لئے کہ یہ انسان کی فطرت ہے۔
تفسیر و تشریح
یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ، یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ یہی سوال اسی رکوع میں دو آیتوں کے بعد انہی الفاظ کے ساتھ دہرایا گیا ہے وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ، لیکن اس ایک ہی سوال کا جواب آیت متذکرہ میں کچھ اور ہے اور بعد میں آنے والی آیت میں مذکور سوال کا جواب کچھ اور۔ اس لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک ہی سوال کے دو مختلف جواب کس بات پر مبنی ہیں یہ حکمت ان حالات و واقعات میں غور کرنے سے واضح ہوجاتی ہے جن میں یہ آیت نازل ہوئی مثلاً آپ متذکرہ کا شان نزول یہ ہے کہ عمرو بن جموح نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ ما نُنْفِقُ مِنْ اَمْوَالِنا واَیْنَ نَضُعُھَا (اخرجہ ابن المنذر، مظہری) یعنی ہم اپنے اموال میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں ؟ ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ سوال تنہا ابن جموح کا نہیں تھا بلکہ عام مسلمانوں کا تھا اس سوال کے دو جز ہیں یہ کہ مال میں سے کیا اور کتنا خرچ کریں، دوسرے یہ کہ اس کا مصرف کیا ہو ؟
دوسری آیت میں جو بعد میں آرہی ہے وہ بھی اسی سوال پر مشتمل ہے، اس کا شان نزول بروایت ابن ابی حاتم یہ ہے کہ جب قرآن میں مسلمانوں کو اس کا حکم دیا گیا کہ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو چند صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انفاق فی سبیل اللہ کا جو حکم ہم کو ملا ہے ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں کہ کونسا مال اللہ کی راہ میں خرچ کریں ؟ اس سوال میں صرف ایک ہی چیز ہے یعنی کیا خرچ کریں ؟ اس طرح دونوں سوالوں کی نوعیت کچھ مختلف ہوگئی، پہلے سوال کے جواب میں جو کچھ قرآن میں ارشاد فرمایا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال کے دوسرے جز یعنی کہاں خرچ کریں کو زیادہ اہمیت دے کر اس کا جواب تو صریح طور پر دیا گیا اور پہلے جزء یعنی کیا خرچ کریں کا جواب ضمنی طور پر دیدینا کافی سمجھا گیا۔
مصارف خیر کی حکمت : مصارف خیر کی یہ فہرست کیسی جامع اور اس کی ترتیب کس قدر حکیمانہ ہے سب سے بڑھا ہوا اور اہم ترین حق انسان کے ماں باپ کا ہے جتنی بھی مالی خدمت ہوسکے ان کی کی جائے، پھر دوسرے عزیزوں کا نمبر ہے اور اس میں بھائی بہن چچا پھوپھی وغیرہ سب آگئے، شریعت نے اپنے نظام میں خاندان کو جو مرکزی اہمیت دی ہے اس پر یہ ایک اور دلیل ہے پھر امت کے وہ فرزند ہیں جو معاش کے سب سے بڑے ظاہری سہارے یعنی شفیق باپ کے سایہ سے محروم ہوچکے ہیں، پھر وہ اللہ کے بندے جن پر کسی طبعی معذوری کی وجہ سے یا کسی خارجی سبب سے معاش کے عام ذریعے بند یا قریب قریب بند ہوچکے ہیں اور اپنی ضرورتوں کے پوری ہونے کے لئے بیرونی امداد کے محتاج ہیں اور آخر میں وہ عام انسان آتے ہیں جو اپنے وطن سے علیحدہ اور دور ہونے کے باعث عارضی طور پر احتیاج یا تنگدستی میں مبتلا ہیں، قریبی اور دور سے حقدار اور ملی رشتہ رکھنے والے سب کے سب اپنی اپنی جگہ پر کس خوبصورتی سے ایک فریم کے اندر فٹ ہوگئے مقصود شریعت یہ ہرگز نہیں کہ پڑوس میں ہمارا بھائی بھوک سے تڑپ رہا ہو اور ہم اس کی طرف سے بیخبر ہو کر چندہ لکھوا رہے ہوں چین یا جاپان کے کسی ریلیف فنڈ میں !
وَمَا تَفْعَلْوُْا مِنْ خَیْرٍ ، خیر عام ہے بدنی، مالی، چھوٹی، بڑی ہر قسم اور ہر درجہ کی نیکی کو شامل ہے خیر کا تعلق یہاں انفاق کے ساتھ نہیں، فعل کے ساتھ ہے اور اس معنی میں وہ عام ہے۔
Ayah 2:216کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ (الآیۃ) قتال و جہاد مسلمانوں پر اس وقت فرض ہے جب اس کے شرائط متحقق ہوجائیں قتال کے آداب و شرائط کچھ تو اسی پارہ میں بیان ہوچکے ہیں کچھ آئندہ حسب موقع بیان ہوتے رہیں گے غیر مصافی کو قتل نہ کرنے پر اسلام نے جو زور دیا ہے اس کو سامنے رکھ کر ذرا ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو اسی کتاب سے جو یہودو نصاریٰ دونوں کے یہاں مقدس ہے۔ سو اب تو جا، اور عمالیق کو مار، اور جو کچھ اس کا ہے یک لخت ختم کر اور اس پر رحم مت کر بلکہ مرد، عورت، ننھے بچے شیر خوار اور بیل، بھیڑ اور اونٹ اور گدھے تک سب کو قتل کر۔ (سموئیل، 2: 15)
وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ، اپنی جان کس کو عزیز نہیں ہوتی، اپنی جان خطرہ میں ڈالتے ہوئے ہر جاندار ہچکچاتا ہے، پھر مکہ کے غریب مہاجرین جو ابھی ترک وطن کرکے مدینہ میں آکر پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے، وہ تو روپیہ پیسہ میں سازوسامان میں تعداد میں غرض مادی اعتبار سے کسی معنی میں بھی حریفوں کے مدمقابل نہ تھے ان شکستہ دل شکستہ بازؤں کو حکم جنگ و قتال پاکر اگر طبعی گرانی محسوس ہو تو یہ ان کے مرتبہ اخلاص اور قوت ایمانی کے ذرا بھی منافی نہیں۔ شاقٌ علیکم مکروہ طبعًا (بیضاوی) مکروہ بالطبیعۃ۔ (بحر)
ھُوَ کرہٌ لکم، آیت پوری طرح تردید کر رہی ہے ان بےغیرت مستشرقین کی جنہوں نے یہ لکھ ڈالا کہ مسلمان مال غنیمت کی حرص میں خود ہی مشتاق جنگ و قتال کے رہتے تھے۔ لفظ کُرْہٌ مصدر ہے مگر معنی میں مکروہ کے ہے جیسے خُبْزٌ بمعنی مخبوزٌ، استعمال ہوتا ہے۔ (ماجدی)
Ayahs 2:217–218آیت نمبر 217 تا 219
ترجمہ : نبی ﷺ نے اپنے سرایا (جنگی یونٹ) میں سے پہلا سریہ (یونٹ) روانہ فرمایا، اور اس کا امیر عبد اللہ بن جحش کو بنایا، چناچہ ان لوگوں نے مشرکین سے قتال کیا اور جمادی الاخری کے آخری دن ابن حضرمی کو قتل کردیا، اور ان کو جمادی الاخری کا رجب کے پہلے سن سے اشتباہ ہوگیا، تو کفار نے ماہ رجب کو حلال سمجھنے پر عار دلائی تو، یَسْئلُونَکَ نازل ہوئی، لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام (یعنی) ماہ محترم میں لڑنا کیسا ہے ؟ قِتَال فیہِ (عن الشھر الحرام) سے بدل الاشتمال ہے آپ ان کو بتادو کہ ان میں قتال کرنا بہت برا ہے (یعنی) گناہ کے اعتبار سے بڑا جرم ہے (قتال فیہ) مبتداء خبر ہیں، اور لوگوں کو اللہ کے راستہ یعنی ان کے دین سے روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام یعنی مکہ سے روکنا اور اہل حرم کو حرم سے نکالنا، اور وہ نبی ﷺ اور مومنین ہیں، اللہ کے نزدیک بڑا گناہ ہے اس میں قتال کرنے سے، صَدٌّ، مبتداء ہے اور اکبر عند اللہ اس کی خبر ہے، اور فتنہ (یعنی) تمہارا شرک کرنا تم کو اس میں قتل کرنے سے شدید تر ہے اور اے مومنو ! یہ کافر تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ تم کو تمہارے دین سے کفر کی طرف پھیر دیں اگر ان کا بس چلے، اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھرے گا، اور وہ کفر ہی کی حالت میں رہے گا تو اس کے اعمال صالحہ دنیا و آخرت میں ضائع ہوجائیں گے تو نہ تو ان اعمال کا شمار ہوگا اور نہ ان پر اجر ملے گا اور کفر ہی پر مرنے کی قید کا یہ فائدہ ہے کہ اگر یہ شخص اسلام کی طرف واپس آگیا تو اس کا عمل ضائع نہیں ہوا، لہٰذا اس پر ثواب عطا کیا جائیگا اور وہ اس عمل کا اعادہ نہ کرے گا جیسا کہ حج مثلاً امام شافعی (رح) تعالیٰ کا یہی مذہب ہے اور ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے اور جب اہل سریہ کو یہ گمان ہوا کہ وہ اگرچہ گناہ سے محفوظ رہے لیکن ان کو (جہاد کا) اجر تو نہیں ملا تو (اِنَّ الَّذِیْنَ ) نازل ہوئی بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی یعنی اپنے وطنوں کو چھوڑا اور دین کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا یہی ہیں وہ لوگ جو اللہ کی رحمت ثواب کے (بجا طور پر) امیدوار ہیں، اور اللہ تعالیٰ مومنین کو معاف کرنے والا ہے اور ان پر رحم کرنے والا ہے آپ سے شراب اور جوئے یعنی ان کے حکم کے بارے میں پوچھتے ہیں ان کو بتادو ان دونوں کے کرنے میں گناہ عظیم ہے اور ایک قراءت میں (کبیرٌ) ثاء مثلثہ کے ساتھ (یعنی) کثیرٌ ہے اس لئے کہ ان دونوں کی وجہ سے عداوت اور گالی گلوچ اور فحش گوئی کی نوبت آتی ہے اور (ان میں) لوگوں کے لئے کچھ منافع بھی ہیں مثلاً لذت مسرت شراب میں اور بلا مشقت مال کا حصول جوئے میں، اور ان کا گناہ یعنی ان مفاسد کا گناہ جو (ان دونوں) سے پیدا ہوتے ہیں عظیم تر ہے ان کے نفع سے، اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگ (شراب) پیتے رہے اور کچھ (پینے سے) باز آگئے، حتیٰ کہ سورة مائدہ کی آیت نے ان دونوں کو حرام کردیا اور لوگ آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ (راہ خدا میں) کیا خرچ کریں ؟ یعنی اس کی مقدار کیا ہو ؟ آپ بتادو کہ جو تمہاری حاجت سے فاضل ہو اس کو خرچ کرو اور جس کی تم کو حاجت ہو اس کو خرچ نہ کرو (کہ اس کو خرچ کرکے) خود کا ضائع کردو اور ایک قراءت میں (العَفوُ ) رفع کے ساتھ ہے، ھُوَ کی تقدیر کے ساتھ اس طرح جس طرح کہ تمہارے لئے مذکورہ احکام بیان کئے اللہ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم دنیا و آخرت کے معاملہ میں غور کرو پس اسی کو اختیار کرو جو دنیا و آخرت میں تمہارے لئے بہتر ہو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ابن الحضرمی، ان کا اصل نام عمر بن عبد اللہ بن عباد حضرمی ہے حضرموت کی طرف منسوب ہے۔
قولہ : سَرَایَا، سَریَّۃٌ کی جمع ہے لشکر کا ایک حصہ، اصطلاح میں سریہ اس لشکر کو کہتے ہیں جس میں آپ ﷺ نے بذات خود شرکت نہ فرمائی ہو اور غزوہ اس لشکر کو کہتے ہیں جس میں آپ ﷺ نے بذات خود شرکت فرمائی ہو، غزوات اور سرایا کی مجموعی تعداد ستر ہے، سریہ پانچ افراد سے لے کر چار سو تک کی تعداد کو کہتے ہیں اس سے زیادہ کو جند (لشکر) کہا جاتا ہے، مفسر علام نے اس سریہ کو پہلا سریہ کہا ہے حالانکہ مواہب میں ہے کہ اس سے پہلے تین سرایا اور چار غزوے ہوچکے تھے پہلا سریہ ہجرت کے ساتویں مہینہ رمضان میں پیش آیا جس کا امیر آپ ﷺ نے اپنے چچا حمزہ ؓ کو بنایا تھا اس سریہ کے افراد کی تعداد تیس تھی اس کے بعد دوسرا سریہ، سریہ عبیدۃ بن الحارث ہے یہ شوال کے مہینہ میں پیش آیا، ہجرت کے آٹھویں مہینہ میں اس میں ساٹھ افراد شامل تھے اس کے بعد تیسرا سریہ، سریہ سعد ابن ابی وقاص ہے یہ حجاز کی ایک وادی خرار میں پیش آیا، یہ ذی القعدہ میں ہجرت کے نویں مہینہ میں پیش آیا یہ سریہ بیس افراد پر مشتمل تھا، اس کے بعد چار غزوات پیش آئے اول غزوہ و دان دوسرا بواط تیسرا غزوہ ذوالعُشیرہ پیش آیا اور چوتھا غزوہ بدر الاولیٰ پیش آیا جس کے بعد سریہ عبد اللہ بن جحش رجب کے آخر میں ہجرت کے ستر ہویں مہینہ میں پیش آیا، لہٰذا سریہ عبد اللہ بن جحش کو اول سریہ کہنے میں نظر ہے۔
تطبیق : تطبیق کی جو صورت ہوسکتی ہے وہ یہ کہ جس سریہ میں کسی کا قتل ہوا ہو اور مال غنیمت ہاتھ لگا ہو وہ یہی سریہ ہے اس اعتبار سے اس کو پہلا سریہ کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس سے پہلے سرایا میں نہ کوئی قتل ہوا اور نہ مال غنیمت ہاتھ آیا۔ (جمل، صاوی)
قولہ : اِلتبسَ عَلَیْھِمْ بِرَجَبَ ، جمادی الاخری کی آخری تاریخ سمجھ کر مسلمانوں نے حضرمی کے قافلہ پر شب خون مارا تھا، دوسرے روز جب چاند دیکھا تو اس میں اشتباہ ہوا بعض کہنے لگے یہ کل کا چاند ہے بعض نے کہا آج ہی کا ہے اگر کل کا ہو تو قتال رجب کی پہلی تاریخ میں واقع ہوا جو کہ اشہر حرم میں سے ہے اس وجہ سے مسلمان بھی شش و پنج میں پڑگئے اور مشرکین مکہ نے بھی اس بارے میں مسلمانوں پر طعنہ زنی شروع کردی کہ تم نے تو اشہر حرام کو بھی حلال کرلیا حتی کہ مشرکین مکہ کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلمانوں کی شکایت کی اور یہی مسئلہ دریافت کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی ” یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ الخ “۔
قولہ : المحرم۔ سوال : الحرام کی تفسیر المحرم سے کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : مقصد ایک سوال مقدر کا جواب دینا ہے۔
سوال : یہ ہے کہ : الشھر الحرام میں مصدر کا حمل ذات پر لازم آرہا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔
جواب : یہ ہے کہ : الحرام مصدر المحرم مفعول کے معنی میں ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں، یا یہ حمل مبالغۃ ہے۔
قولہ : قتال فیہ یہ الشھر الحرام سے بدل الاشتمال ہے اس لئے کہ الشھر الحرام اداء مقصود کے لئے ناکافی ہے۔
سوال : قتال فیہ نکرہ ہے اور الشھر الحرام، معرفہ، اور نکرہ کا معرفہ سے بدل واقع ہونا درست نہیں ہے۔
جواب : نکرہ موصوفہ کا بدل واقع ہونا درست ہے تقدیر عبارت یہ ہے قِتَال کائن فیہ۔
قولہ : مبتداء و خبرٌ، یعنی قتال فیہ کبیرٌ مبتداء خبر ہیں۔ سوال : قتال نکرہ ہے اور نکرہ کا مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے۔
جواب : نکرہ اگر موصوفی ہو تو مبتداء واقع ہونا درست ہے یہاں، فیہِ ، قتال کی صفت ہے تقدیر عبارت یہ ہے قتال کائنٍ فیہ کبیر (فلا اعتراض) بعض حضرات نے قتالٌ فیہ کبیرٌ، جملہ موصوفہ قرار دے کر قول کا مقولہ قرار دیا ہے مگر یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ مقولہ کا جملہ ہونا ضروری ہے اور قتالٌ فیہ کبیرٌ جملہ تامہ نہیں ہے اس کا جملہ موصوفہ واقع ہونا درست نہیں ہے۔
قولہ : اَکبرُ ، اعظم۔ سوال : اکبَرُ متعدد کی خبر واقع ہے حالانکہ اکبر مفرد ہے۔ جواب : اَفْعَلُ کا وزن واحد تثنیہ جمع مذکر و مؤنث سب میں استعمال ہوتا ہے۔ قولہ : وَالْفِتْنَۃُ اَکْبرُ مِنَ الْقَتْلِ ، اَلْفِتنَۃُ اکبرُ ، مبتداء خبر ہیں حالانکہ ان میں مطابقت نہیں ہے اس کے دو جواب ہیں ایک کی طرف تو مفسر علام نے اَلشِرک کہہ کر اشارہ کیا ہے یعنی فتنہ سے مراد شرک ہے، لہٰذا مطابقت موجود ہے دوسرا جواب اَفْعَلُ کے وزن میں مذکر اور مؤنث دونوں برابر ہیں۔
قولہ : فلا اعتدادَبِھَا، ولا ثواب عَلَیْھَا، فلا اِعْتَدادَ ، کا تعلق فی الدنیا سے ہے، یعنی وہ نہ میراث کا مستحق ہوگا اور مال غنیمت وغیرہ میں حصوں کا، اور ولا ثواب کا تعلق آخرت سے ہے یعنی ایسے شخص کو آخرت میں کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔
قولہ : وَعَلَیْہِ الشافعی : ان دونوں مسئلوں میں امام شافعی (رح) تعالیٰ سے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا اختلاف ہے یعنی اگر مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہوگیا تو امام صاحب کے نزدیک ارتداد سے پہلے کے اعمال کا اب کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔
نتیجہ اختلاف : ایک شخص نے نماز پڑھی اور وہ مرتد ہوگیا اور ابھی وقت باقی ہے کہ پھر اسلام قبول کرلیا تو امام صاحب کے نزدیک اس پر دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہے بخلاف امام شافعی (رح) تعالیٰ کے۔
قولہ : فی تعاطیْھمَا، اس میں اشارہ ہے کہ خمر اور میسر کی ذات میں گناہ نہیں ہے بلکہ بروئے کار لانے اور استعمال کرنے میں گناہ ہے
قولہ : ای ما ینشَأُ عنھما مِن المفاسِد، اس میں اشارہ ہے کہ اِثْمھُما، میں اضافت، اضافت مصدر الی السبب کے قبیل سے ہے نہ کہ اضافت مصدر الی الفاعل کے قبیل سے جو کہ غالب ہے۔ قولہ : اَیْ مَا قدرُہ، اس اضافہ کا مقصد تکرار کے اعتراض کو دفع کرنا ہے۔
دفع : دفع کا خلاصہ یہ ہے کہ سابق میں مذکور یَسْئلُوْنَک مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ، میں ذات نفق سے سوال تھا اور یہاں مقدار منفق سے سوال ہے۔ (فلا تکرار) ۔ قولہ : انفقوا اس میں اشارہ ہے کہ العَفْوَ ، فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔
سوال : ھُوْ کو مبتداء محذوف کی خبر قرار دینے میں کیا نقصان ہے ای ھو العَفْوُ ۔ جواب : اس صورت میں سوال و جواب میں مطابقت نہیں رہتی اس لئے کہ سوال جملہ فعلیہ ہے اور جواب جملہ اسمیہ ہوجاتا اب دونوں جملے فعلیہ ہوگئے۔
قولہ : کَمَا بُیَّنَ لکم، اس میں اشارہ ہے کہ کذلک میں کاف فعل مؤخر یُبَیّنُ کے مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اسی تبیینًا مثل ھذا التبیین۔
تفسیر و تشریح
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ ، اَرْسَلَ النبی ﷺ اَوَّلَ سَرَایَاہُ الخ اس آیت کا تعلق ایک واقعہ سے ہے۔
واقعہ : رجب 2 ھ میں نبی ﷺ نے آٹھ افراد پر مشتمل ایک دستہ نخلہ کی جانب بھیجا تھا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) اور اس کو ہدایت فرما دی تھی کہ قریش کی نقل و حرکت اور ان کے آئندہ ارادوں کے متعلق معلومات حاصل کرے، آپ ﷺ نے ان کو جنگ کی اجازت نہیں دی تھی، لیکن ان لوگوں کو راستے میں قریش کا ایک چھوٹا سا تجارتی قافلہ ملا اور اس پر انہوں نے حملہ کرکے ایک شخص جس کا نام عمر بن عبد اللہ حضرمی تھا قتل کردیا ان میں سے ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا باقی دو آدمیوں کو مع مال و اسباب کے گرفتار کرکے مدینہ لے آئے یہ کاروائی اس وقت ہوئی جب جمادی الثانیہ ختم ہو رہا تھا اور رجب شروع ہونے والا تھا یہ امر مشتبہ تھا کہ آیا حملہ جمادی الثانیہ کی آخری تاریخ میں ہوا یا رجب کا مہینہ شروع ہوچکا ہے (جو کہ اشہر حرام میں سے ہے) لیکن قریش نے اور ان سے در پردہ ملے ہوئے یہودیوں اور منافقوں نے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لئے اس واقعہ کو خوب شہرت دی اور سخت اعتراضات شروع کر دئیے، اسی سلسلہ میں مشرکوں کا ایک وفد بھی آپ ﷺ سے ملا اور ماہ محرم میں قتال کے بارے میں فتوی معلوم کیا، اس آیت میں ان کے اعتراضات کے دو جواب اور ماہ محترم میں قتال کا حکم بیان کیا گیا ہے، ایک جواب تسلیمی ہے اور ایک الزامی۔ تسلیمی جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ بلاشبہ اشہرم حرام میں قتال کرنا نہایت برا اور گناہ کبیر ہے مگر مسلمانوں سے اس واقعہ کا وقوع قصداً نہیں ہوا بلکہ غلطی اور غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے جو گناہ نہیں ہے مسلمان جمادی الاخری کی آخری تاریخ سمجھے ہوئے تھے مگر اتفاقاً وہ رجب کی پہلی تاریخ نکلی۔
الزامی جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ بلاشبہ ماہ حرام میں لڑنا بڑی بری حرکت ہے مگر اس پر اعتراض کرنا ان لوگوں کو زیب نہیں دیتا جنہوں نے 13 برس تک مسلسل اپنے سینکڑوں بھائیوں پر صرف اس لئے ظلم توڑے کہ وہ ایک خدا پر ایمان لاے تھے، ان کو یہاں تک تنگ کیا کہ وہ اپنا وطن عزیز چھوڑ کر جلاوطن ہونے پر مجبور ہوگئے، پھر اس پر بھی اکتفا نہ کیا اور اپنے ان بھائیوں کیلئے مسجد حرام تک جانے کا راستہ بھی بند کردیا، حالانکہ مسجد حرام کسی کی مملوکہ جائدار نہیں ہے اور پچھلے دو ہزار برس میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کو اس کی زیارت سے روکا گیا ہو، اب جن ظالموں کا اعمال نامہ ان کرتوتوں سے سیاہ ہے ان کا کیا منہ ہے کہ معمولی سی سرحدی جھڑپ پر اس قدر شور مچائیں، حالانکہ اس جھڑپ میں جو کچھ ہوا وہ اول تو نادانستہ طور پر ہوا، دوسرے یہ کہ نبی کی اجازت کے بغیر ہوا ہے اور اس کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ چند مسلمانوں سے غیر ذمہ دار انہ فعل کا ارتکاب ہوگیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی یار رکھنے کے قابل ہے کہ جب یہ دستہ قیدی اور مال غنیمت لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا کہ میں نے تم کو لڑنے کی اجازت تو نہیں دی تھی نیز آپ نے ان کے لائے ہوئے مال غنیمت میں سے بیت المال کا حصہ خمس لینے سے انکار فرما دیا تھا، جو اس بات کی علامت تھی کہ ان کو یہ لوٹ ناجائز ہے، اپنے آدمیوں نے بھی ان کے اس فعل پر سخت ملامت کی تھی اور مدینہ میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے انہیں اس پر دار دی ہو۔
مسئلہ : جہاد فی سبیل اللہ، عام حالات میں فرض کفایہ ہے اگر ایک جماعت اس فرض کو انجام دے رہی ہے تو دوسروں کو اجازت ہے کہ وہ دیگر کاموں میں دینی خدمت انجام دیں، البتہ اگر کسی وقت امام المسلمین ضروری سمجھ کر اعلان عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکت جہاد کی دعوت دے تو پھر سب پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے قرآن کریم نے سورة توبہ میں ارشاد فرمایا : ” یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ “ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل ہوجاتے ہو۔
اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے، اسی طرح اگر خدانخوستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی مملک پر حملہ آور ہوں اور
مدافعت کرنے والی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر نہ ہو تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہو کر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہوجاتا ہے اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو اس کے پاس والے مسلمانوں پر یہاں تک کہ پوری دنیا کے ہر ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے، قرآن مجید کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہاء و محدثین نے یہ حکم اخذ کیا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے۔
مسئلہ : اسی لئے جب تک جہاد فرض کفایہ ہو تو اولاد کو والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں جانا جائز نہیں۔
مسئلہ : جس شخص کے ذمہ قرض ہو اس کے لئے جب تک قرض ادا نہ کر دے فرض کفایہ میں حصہ لینا جائز نہیں، البتہ اگر نفیر عام کی وجہ سے جہاد فرض عین ہوجائے تو پھر کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں رہتی۔
اشہر حرم میں قتال کا حکم : ابتداءً قتال ان مہینوں میں ہمیشہ کے لئے حرام ہے مگر جب کفار ان مہینوں میں حملہ آور ہوں تو مدافعانہ قتال کی مسلمانوں کو بھی اجازت ہے، جیسا کہ امام جصاص نے بروایت حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی شہر حرام میں اس وقت تک قتال نہ کرتے تھے جب تک کہ ابتداء کفار کی طرف سے نہ ہو۔
مسئلہ : دنیا میں اعمال کا ضائع ہونا یہ ہے کہ اس کی بیوی نکاح سے خارج ہوجاتی ہے، اگر اس کا کوئی مورث مسلمان انتقال کرے تو اس شخص کو میراث کا حصہ نہیں ملتا، حالت اسلام میں جو کچھ نماز روزہ کیا تھا وہ سب کالعدم ہوجاتا ہے، مرتد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی، مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہیں کیا جاتا۔ اور آخرت میں ضائع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت کا ثواب نہیں ملتا، ہمیشہ ہمیش کے لئے دوزخ میں داخل ہوگا۔
مسئلہ : کافر اصلی، حالت کفر میں اگر کوئی نیکی عمل کرے تو اس کے عمل کا ثواب معلق رہتا ہے، اگر کبھی اسلام لے آیا تو سب پر ثواب ملتا ہے اور اگر کفر پر انتقال کر گیا تو تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں آخرت میں اس کو کوئی اجر نہیں ملتا۔ مسئلہ : مرتد کی حالت کافر اصلی کی حالت سے بدتر ہے، کافر اصلی سے جزیہ قبول ہوسکتا ہے مگر مرتد سے جزیہ قبول نہیں ہوتا، مرتد اگر اسلام نہ لائے تو اگر مرد ہے تو قتل کردیا جاتا ہے اور اگر عورت ہے تو حبس دوام کی سزا ہے، سرکاری اہانت کرنے والا اسی سزا کے لائق ہے۔
Ayah 2:219یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ، خمر اور میسر یہاں دونوں اپنے وسیع معنی میں ہیں خمر کے تحت ہر وہ نشیلا مشروب داخل ہے جو عقل کو مختل کر دے اسی طرح میسِرْ بھی اپنے تمام اقسام کو شامل ہے (کل شئ فیہ قمارٌ فھُو المَیسر) (تاج) ۔ شراب اور جوا آج جس طرح فرنگی تہذیب میں جائز ہی نہیں بلکہ عین اس تہذیب کا جز ہیں اور دلیل اعزاز ہیں، اسی طرح قدیم عربی تہذیب کے بھی جزء تھے، اکیلے عرب ہی کی کیا بات ہے یہ مشغلے تمام روئے زمین پر پھیلے ہوئے تھے، ہندی تہذیب، مصری تہذیب، یونانی تہذیب، رومی تہذیب یہ تہذیبیں تو خیر جاہلی تہذیبیں تھیں ہی، اسرائیلی اور مسیحی تہذیبیں جو شرف نبوت کے تعلق سے مشرف تھیں وہ بھی اس کی روک تھام نہ کرسکیں، شریعت اسلامی ہی دنیا کا وہ واحد قانون ہے جس نے آکر ان کی قطعی حرمت کا اعلان کیا، یہ آیت سلسلہ حرمت کی سب سے پہلی آیت ہے حرمت کا قطعی حکم بعد میں نازل ہوا۔ جوئے اور شراب سے متعلق یہ پہلا حکم ہے جس میں صرف اظہار ناپسندیدگی کرکے چھوڑ دیا گیا ہے، تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائے، اس کے بعد شراب پی کر نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ” لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سَکَارَی “ پھر شراب، جوئے اور اس نوعیت کی تمام چیزوں کو قطعی حرام کردیا گیا۔
نئی بوتل میں پرانی شراب : علامہ آلوسی بغداری صاحب روح المعانی نے اس مقام پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے ہمارے زمانہ کے فاسقوں نے نشیلے مشروبات کے لئے طرح طرح کے خوشنما نام اور لقب رکھ لئے ہیں، مثلاً عرق عنبری وغیرہ، لیکن نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی، اور نہ حکم شرعی بدلتا ہے نشہ آور چیزیں بہرحال حرام ہیں۔
شراب اور جوئے سے معاشرہ کی تباہی : شراب نوشی کی بدولت آج تک جتنے فسادات ہوئے اور ہو رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، گالیاں بکوانا، بےحیائی پھیلانا، حرام کاری کی طرف بلانا، دنگے کرانا طرح طرح کی مہلک بیماریاں پیدا کرنا، چوری اور ٹھگی پر آمادہ کرنا، قتل تک نوبت لے آنا، دوستوں اور عزیزوں کے درمیان جوتے چلوانا، یہ سب اسی شراب نوشی کے کارنامے ہیں مزید برآں جوئے کی ہلاکت خیزیاں بھی کچھ کم نہیں قمار بازی نے نہ معلوم کتنے خاندان اور گھرانے تباہ و برباد کر دئیے، فرنگستان کے سب سے بڑے قمار خانہ، مونٹے کارلو (Montecarlu) میں ہر سال بیشمار دولت تلف ہوتی ہے دیوالی کی راتوں میں ہندوستان میں کیا کچھ نہیں ہوتا، پھر جوئے کی جدید ترین شکلوں بیمہ کمپنیوں کے جوئے، گھوڑ دوڑ کے جوئے، لاٹریوں کے جوئے سٹے وغیرہ وغیرہ کہاں تک شمار کرائے جائیں۔
اسلام کا حیرت انگیز کارنامہ : یہ فخر تاریخ میں اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے اپنے ایک اشارہ میں اپنے حدود مملکت سے اس ام الخبائث کا خاتمہ ہی کردیا، اور امت کی نظر میں بحیثیت مجموعی لفظ شراعی اور لفظ جواری کی انتہائی تحقیر اور ذلت کا لقب ٹھہرادیا۔
سرولیم میور کی شہادت : سرولیم اپنے نہیں پرائے ہیں، معتقد نہیں غیر معتقد ہیں اس کے باوجود لکھتے ہیں : اسلام فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ترک مے کشی کرانے میں اسلام کا میاب ہوا ہے، کوئی اور مذہب نہیں ہوا۔ (لائف آف محمد ص : 521)
Ayah 2:220آیت نمبر 220 تا 221
ترجمہ : یتیموں اور ان کے معاملہ میں پیش آنے والے حرج کے بارے میں آپ سے پوچھتے ہیں کہ اگر ان کو ساتھ کھلاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں، اگر ان کے مالوں کو اپنے مالوں سے الگ کرتے ہیں اور تنہا ان کا کھانا بناتے ہیں تو یہ بھی وقت ہے، آپ ان سے ک کہ دیجئے کہ ان کی خیرخواہی ان کے مال میں اضافہ اور تمہاری شمولیت کرکے، اس کو ترک کرنے سے بہتر ہے، اور اگر تم ان کے نفقہ کو اپنے نفقہ کے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، یعنی دینی بھائی ہیں اور بھائی کی یہ شان ہونی چاہیے کہ اپنے بھائی کو شامل کرے لہٰذا یہ تمہارے لئے جائز ہے، اللہ تعالیی ان یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر بدخواہی اور خیر خواہی کرنے والے کو (خوب) جانتا ہے لہٰذا ان دونوں کو جزاء دے گا، اور اگر اللہ چاہتا تو شرکت کو حرام قرار دے کر تم کو تنگی میں ڈال دیتا اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے اور اے مسلمانو تم مشرکات یعنی کافرات سے نکاح نہ کرو تاآنکہ وہ ایمان نہ لے آئیں اور بلاشبہ مومنہ باندی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے، اس لئے کہ (لوگوں کا) اس شخص پر نکتہ چینی کرنا جس نے مومنہ باندی سے نکاح کرلیا اور آزاد مشرکہ عورت میں رغبت کرنا، اس آیت کے نزول کا سبب ہے اگرچہ (مشرکہ عورت) تم کو اس کے مال و جمال کی وجہ سے بھلی معلوم ہو، اور (نھی عن نکاح المشرکات) مخصوص ہے غیر کتابیات کے ساتھ ” والمحصنٰت مِنَ الَّذِین اوتوا الکتاب “ کی وجہ سے، اور مشرکوں (یعنی) کافروں سے مومن عورتوں کا نکاح نہ کرو تاآنکہ وہ کافر ایمان لے آئیں اور بلاشبہ مومن غلام مشرک (آزاد) سے بہتر ہے اگرچہ وہ تم کو اس کے مال و جمال کی وجہ سے بھلا معلوم ہو اور یہ اہل شرک نار جہنم کی دعوت دیتے ہیں ان اعمال کی طرف دعوت دے کر جو نار جہنم واجب کرنے والے ہیں لہٰذا ان سے نکاح کرنا لائق نہیں ہے اور اللہ اپنے رسول کی زبانی جنت اور مغفرت کی طرف اپنے ارادہ سے بلاتا ہے، یعنی ایسے عمل کی طرف جو ان دونوں کے لئے موجب ہے لہٰذا اس کے حکم کو قبول کرنا واجب ہے اس کے اولیاء (یعنی) مسلمانوں سے نکاح کرکے اور وہ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَمَا یَلْقَوْنَہٗ ، اس میں اشارہ ہے کہ عبارت حذف مضاف کے ساتھ ہے اس لئے کہ سوال حال سے ہوتا ہے نہ کہ ذات سے۔
قولہ : وَاکَلوھُمْ ، اٰکَلُوا میں ایک لغت ہمزہ کو واؤ سے بدل کر والکلوا بھی ہے یعنی مل کر کھانا پینا۔
قولہ : فی اموالھم، اس میں اشارہ ہے کہ اصلاح مالی مراد ہے نہ کہ غیر مالی، تاکہ جواب مطابق سوال ہوجائے، نیز اس کا قرینہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ “ بھی ہے۔ قولہ : مِن ترک ذلِک، اس میں حذف مفضل علیہ کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : فَھُمْ اِخْوانُکُمْ ، اس حذف میں اس طرف اشارہ ہے، فاخوانکم، جزاء شرط ہے اور جزاء کا جملہ ہونا ضروری اسی لئے ھُمْ ، مبتداء محذوف مانا ہے۔ قولہ : ای فَلَکُمْ ذلکَ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : واِن تُخَالِطُوْھُمْ ، شرط ہے اور فَاِخْوَانُکم، اس کی جزاء ہے مگر جزاء کا شرط پر ترتب درست نہیں ہے، اس لئے کہ شرط و جزاء میں کوئی ربط نہیں ہے۔ جواب : اصل جزاء محذوف ہے جس کی طرف مفسر علام نے فَلَکم ذلک، کہہ کر اشارہ کردیا ہے کہ سبب جزاء کو جزاء کے قائم مقام کردیا ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول : ابوداؤد اور نسائی اور حاکم وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ” وَلاتَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ “ اور ” اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ “ (الآیۃ) نازل ہوئیں، تو ان لوگوں نے جن کی پرورش میں کوئی یتیم تھا، ان کا کھانا پینا الگ کردیا، بعض اوقات یتیم کا کھانا بچ جاتا تو اٹھا کر رکھ دیا جاتا، دوسرے وقت یتیم کو وہی بچا ہوا کھانا، کھانا پڑتا، اور بعض اوقات بچا ہوا کھان خراب بھی ہوجاتا جس کی وجہ سے یتیم کا نقصان ہوتا، اس صورت حال سے اولیاء یتامیٰ کو دقت پیش آئی اول تو یتیم کا کھانا مستقل الگ پکانا یہ مستقل ایک دردسر تھا، دوسرے اس میں یتیم کا بھی نقصان تھا، آپ ﷺ کے سامنے بعض صحابہ نے صورت حال بیان کرکے پریشان اور دقت کا اظہار کیا تو مذکورہ آیت ” وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی “ نازل ہوئی۔ آپ سے یتیموں کی پرورش اور ان کے ساتھ معاشرت و معاملات کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ بتا دیجئے کہ ان کی اصلاح اچھی بات ہے اگر مل جل کر بسر کرو تو تمہارے بھائی ہیں کچھ حرج نہیں، مگر اللہ مفسد کی بدنیتی اور مصلح کی نیک نیتی کو جانتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم کو یتیموں کے معاملہ میں ایسی وسعت اور سہولت نہ دیتا جس کی وجہ سے تم مشقت میں پڑجاتے۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ آپ نے بیچ کی اور کلمہ کی انگلی ملا کر فرمایا : میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے، اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” اَحَبُّ بُیُوْتٍ الی اللہ بیتٌ فیہ یتیمٌ مُکْرَمٌ“ اللہ کو زیادہ محبوب وہ گھر ہے کہ جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کی ناز برداری ہوتی ہو۔ یہاں اصلاح سے اگرچہ اصلاح مالی مراد ہے مگر اس میں اخلاقی اور جسمانہ اصلاح بھی شامل ہے، ایسے تصرفات جن میں یتیم کا فائدہ ہی فائدہ مقصود ہے مگر نقصان کا بھی احتمال ہے جیسے تجارت وغیرہ، ایسے امور ولی کے اختیار میں ہیں اور ایسے امور کہ جن میں نقصان محض ہے جیسے صدقہ، غلام آزاد کرنا، ہبہ کرنا، یہ ولی کے اختیار میں نہیں ہیں۔
مسئلہ : فقہاء کرام نے بہ قاعدہ اقتضاء النص اصلاح کے عموم سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یتیم پر جو تہدید و تنبیہ تعلیم و ترتیب کی ضرورت کی غرض سے ہو وہ بالکل جائز اور درست ہے، اسلام کی یتیم نوزی، یتیم پروردی، کا اعتراف اپنوں ہی کی طرح غیروں نے اور مخالفوں نے بھی کیا ہے برطانوی مصنف، باسورتھ اسمتھ نے لکھا ہے۔ پیغمبر کی خصوصی توجہ کے مرکز غلاموں کی طرح یتیم بھی رہے ہیں، وہ خود بھی یتیم رہ چکے تھے، اس لئے دل سے چاہتے تھے کہ جو حسن سلوک خدا نے ان کے ساتھ کیا وہی وہ دوسروں کے ساتھ کریں۔ (محمد اینڈ محمد نزم، ص : 251) ۔ امریکی ماہر اجتماعیات ڈاکٹر رابرٹس لکھتے ہیں۔
” قرآن کے مطالعہ سے ایک خوشگوار ترین چیز معلوم ہوتی ہے کہ محمد ﷺ کو بچوں کا کس قدر خیال تھا، خصوصاً ان بچوں کا جو والدین کی سرپرستی سے محروم ہوگئے ہوں، بار بار تاکید بچوں کے ساتھ حسن سلوک کی ملتی ہے “ اور پھر آگے کہتا ہے۔ ” محمد ﷺ نے یتیموں کے باب میں اپنی خاص توجہ مبذول رکھی، یتیموں کے حقوق کا بکثرت ذکر کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں اور ان کے حقوق حصب کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت وعیدیں سیرت محمدی کے اس پہلو کو ظاہر کرتی ہیں جن پر مسلمان مصنفین کو بجا طور پر ناز ہے “۔ (ص : 41، ایضا)
اسلام کی رواداری : اِخوانکم، چونکہ اس وقت اکثر مسلمانوں کے پاس مسلمان بچے ہی یتیم تھے، اس لئے اخوانکم فرمایا، ورنہ اگر دوسرے مذہب کے بچے بھی اپنی تربیت میں ہوں، اس کا بھی بعینہٖ یہی حکم ہے اور اس کی تائید دوسری آیت اور احادیث میں جو الفاظ عام کے ساتھ وارد ہیں سے ہوتی ہے بلکہ ان کے ساتھ مذہبی رعایت اتنی اور زیادہ ہے کہ اس بچہ پر بلوغ کے بعد اسلام کے لئے جبر نہ کیا جائے، مذہبی آزادی دی جائے۔ (تھانوی)
Ayah 2:221وَلَاتَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ، تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، زن و شوکا رشتہ انتہائی الفت و رفق و محبت کا ہے جو آپس میں مناسبت و موافقت و موانست کا متقاضی ہے، عورت اور مرد کے درمیان نکاح کا تعلق محض ایک شہواتی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے، مومن اور مشرک کے درمیان اگر یہ قلبی تعلق ہو تو جہاں اس امر کا امکان ہے کہ مومن شوہر یا بیوی کے اثر سے مشرک شوہر یا بیوی پر اور اس کے خاندان اور آئندہ نسل پر اسلام کے عقائد اور طرز زندگی کا نقش ثبت ہوگا، وہیں اس امر کا بھی امکان ہے کہ مشرک شوہر یا بیوی کے خیالات اور طور طریقوں سے نہ صرف مومن شوہر یا بیوی بلکہ اس کا خاندان اور دونوں کی نسل تک متاثر ہوجائے گی اور غالب امکان اس امر کا ہے کہ ایسے ازدواج سے اسلام اور کفر و شرک کی ایک ایسی معجون مرکب اس خاندان اور اس گھر میں تیار ہوگی کہ غیر مسلم خواہ کتنا ہی پسند کریں مگر اسلام کسی طرح پسند کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
المشرکات : لفظ مشرکہ یہاں اپنے عام اور وسیع معنی میں ہے ہر قسم کی کافر یا غیر مسلم عورت اس حکم ممانعت میں داخل ہے، اس کا بت پرست ہونا لازم نہیں قول محقق یہی ہے۔ (جصاص) ۔ امام مالک (رح) تعالیٰ اور امام شافعی (رح) تعالیٰ نے اسی آیت کی بنا پر فرمایا کہ کسی بنا پر فرمایا کہ کسی قسم کی غیر مسلم عورت سے نکاح جائز نہیں، لایجوز العقد بنکاح علیٰ مشرکۃ کانت کتابیۃ اوغیر کتابیۃ، قال عمر ؓ فی احدیٰ روایتہٖ وھو اختیار مالک والشافعی۔ (ابن عربی) ۔ لیکن فقہاء حنفیہ کی نگاہ مزید نکتہ سنجی کے ساتھ قرآن مجید ہی کی ایک دوسری آیت کی طرف بھی گئی اور وہ آیت سورة مائدہ کی ہے ” وَالْمُحْصِنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ الخ “ فقہاء حنفیہ نے پہلی آیت کے عموم میں اس آیت سے تخصیص کی، یعنی عام قاعدہ کے لحاظ سے تو ہر غیر مسلمہ سے نکاح ناجائز ہے لیکن کتابیہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے اور یہی مذہب ابن عباس ؓ اور بعض تابعین سے مروی ہے۔
چند فقہی افادات : (1) ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح ناجائز ہے۔ (2) کتابیہ سے نکاح جائز ہے لیکن بہتر نہیں، حضرت عمر ؓ نے ناپسند فرمایا ہے اور خود حدیث میں نکاح دیندار ہی عورت سے کرنے کا حکم ہے اور جب غیر متدین مسلمان عورت سے بھی نکاح پسند نہیں کیا گیا تو کسی غیر مسلم سے کیسے پسند کیا جاسکتا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کو جب خبر پہنچی کہ عراق و شام کے مسلمانوں میں کچھ ایسے ازدواج کی کثرت ہونے لگی ہے تو بذریعہ فرمان ان کو اس سے روک دیا گیا، اور اس پر توجہ دلائی گئی کہ یہ ازدواجی تعلق دیانۃً بھی مسلم گھرانوں کیلئے خرابی کا سبب ہے اور سیاسۃ بھی، آج اس کا نقصان بالکل کھلی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں کئی مسلمان سربراہ ہوں کے نکاح میں یہودی یا نصرانی عورتیں ہیں جنکے ذریعہ مملکت کے تمام رازہائے پوشیدہ ان سے مخفی نہیں ان کے ذریعہ دشمن ملکوں کو مسلمانوں کے خفیہ راز معلوم ہوجاتے ہیں بلکہ مغربی ممالک کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان سربراہوں کو یہودی حسیناؤں کے دام زلف میں گرفتار کرکے شکار کرلیا جائے اور آج یہی ہو رہا ہے۔
سوال : اہل کتاب کی عورتوں کا نکاح مسلمان مردوں سے جائز ہے تو اس کا عکس یعنی مسلمان عورتوں کا نکاح اہل کتاب مردوں سے کیوں جائز نہیں ہے ؟ پہلا جواب : اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ عورت فطرۃ ضعیف ہوتی ہے اس کے علاوہ شوہر کو اس کا حاکم اور نگران بنایا گیا ہے، لہٰذا شوہر کے عقائد سے عورت کا متاثر ہونا قرین قیاس بلکہ اقرب الی القیاس ہے، اس لئے اگر مسلمان عورت اہل کتاب مرد کے نکاح میں رہے تو اس کے عقائد کے خراب ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے اس کے عکس میں اندیشہ نہیں ہے یا کم ہے۔
دوسرا جواب : مسلمان چونکہ انبیاء سابقین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان کا نام بھی بصد احترام لیتے ہیں بخلاف اہل کتاب یہود و نصاری کے کہ وہ آنحضرت محمد ﷺ کی نبوت کے قائل نہیں ہے اور نہ وہ اپنے ذمہ محمد ﷺ کا اسم مبارک احترام سے لینا ضروری سمجھتے ہیں بخلاف مسلمانوں کے کہ ان پر انبیاء سابقین کا احترام لازم اور ضروری ہے نیز ان پر اجمالی ایمان لانا بھی فرض ہے اگر کوئی مسلمان کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، لہٰذا کتابیہ خواہ یہود یہ ہو یا نصرانیہ وہ اپنے پیغمبر کا نام مسلمانوں کے گھر میں ادب و احترام سے سنے گی، بخلاف مسلمان عورت کے کہ جو کسی اہل کتاب یہودی یا نصرانی کے نکاح میں ہو تو وہ اپنے نبی محمد ﷺ کا نام ادب اور احترام سے نہ سنے گی جس سے اس کو تکلیف ہوگی جو آپس میں نا اتفاقی اور ناچانی کا سبب بن سکتی ہے جس سے ازدواجی زندگی کے تباہ و برباد ہونے کا قوی امکان ہے، ان مصلحتوں کی بنا پر مسلمان عورت کا نکاح کسی اہل کتاب سے جائز نہیں رکھا گیا۔