2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:109–112

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنادیں حالانکہ ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے تو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا دوسرا حکم بھیجے بیشک خدا ہر بات پر قادر ہے

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو بھلائی اپنے لئے آگے بھیج رکھو گے اس کو خدا کے ہاں پالو گے کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور (یہودی و عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا، یہ ان لوگوں کے خیالات باطل ہیں (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

آیت نمبر 109 تا 112 ترجمہ : اور اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں لَو مصدر یہ ہے کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں، اس حسد کی وجہ سے جو خود ان کی طرف سے ہے، حَسَدًا مفعول لہٗ ہے (یعنی بلاوجہ) حسد پر ان کو ان کے خبیث نفس نے آمادہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ تورات میں نبی کی بابت ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے (اس کے باوجود) تم فعو و درگزر سے کام لو، اور نظر اندوز کرو اور ان سے بدلہ نہ لو، تاآنکہ ان سے قتال کے بارے میں خود اللہ کا حکم آجائے، بلاشبہ وہ ہر شئی پر قادر ہے، نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے لئے جو بھلائی مثلاً نماز، صدقہ، تم آگے بھیجو گے تو تم اس کو یعنی اس کے اجر کو اللہ کے پاس پاؤ گے، جو کچھ تم کرتے ہو وہ اللہ کی نظر میں ہے وہ اس کا تم کو اجر دے گا، ان کا کہنا ہے کہ جنت میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ کوئی نہ جائے گا، ھُود، ھائد کی جمع ہے، یہ بات مدینہ کے یہودیوں اور نجران کے نصاریٰ نے اس وقت کہی جب ان دونوں فریقوں نے آپ ﷺ کے سامنے مناظرہ کیا، یہود نے کہا : یہود کے سوا جنت میں کوئی نہ جائے گا، اور نصاریٰ نے کہا : نصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں نہ جائے گا، یہ باتیں ان کی تمنائیں ہیں (یعنی باطل خواہشیں ہیں) آپ ان سے کہئے کہ اس بات پر اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اس دعوے میں سچے ہو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَدَّ ماضی واحد مذکر غائب (س) مصدر، وَدٌّ، مَوَدَّۃٌ چاہنا، آرزو کرنا۔ قولہ : لَوْ مَصْدَریّۃ لَو حرف مصدری ہے جب فعل کے بعد واقع ہوتا ہے تو تمنی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وَدَّ کثیرٌ رَدَّکم الخ رَدَّ چونکہ صیَّرَ کے معنی میں ہے، دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے، مفعول اول کُم ہے، اور ثانی کُفَّارًا ہے۔ قولہ : کائنًا مِن عِنْدِ اَنفُسِھِم مفسر علام نے کائنًا مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِم کائنًا محذوف کے متعلق ہو کر حَسَدًا کی صفت ہے۔ قولہ : مِنْ بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ ، مِن بعدِ ، وَدَّ کے متعلق ہے، اور مَا مصدریہ ہے ای بَعْدَ تَبْیِیْنِ الحقِّ لَھُمْ ۔ قولہ : ھُوْدٌ جمع ھَائِدٍ ، ھَائد بمعنی تائب ابتداءً اس شخص کو ھائد کہتے تھے جس نے گوسالہ پرستی سے توبہ کرلی تھی، بعد میں پوری قوم کے لئے علم کے طور پر استعمال ہونے لگا، اس میں ایک اعتراض کے جواب کی طرف بھی شارہ ہے۔ اعتراض : مَن کان ھودًا۔ کَانَ کے اندر ضمیر مفرد کان کا اسم اور ھُوْدًا کان کی خبر ہے، جو کہ جمع ہے حالانکہ اسم و خبر میں مطابقت ضروری ہے۔ جواب : کان کے اسم کے مفرد لانے میں لفظ مَن کی رعایت کی گئی ہے، اور ھوداً کے جمع لانے میں مَن کے معنی کی رعایت کی گئی ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : عمار بن یاسر ؓ اور حذیفۃ بن الیمان ؓ غزوہ احد سے جب لوٹ رہے تھے تو یہود کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی، یہود نے کہا : کیا ہم نے تم سے نہیں کہا تھا کہ یہودی مذہب حق ہے ؟ اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ سب باطل ہے اگر محمد کا دین حق ہوتا تو ان کے اصحاب قتل نہ کئے جاتے، حالانکہ محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ جب وہ قتال کرتے ہیں تو اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، تو عمار بن یاسر ؓ نے جواب دیا کہ عہد شکنی کا تمہارے یہاں کیا حکم ہے، یہود نے جواب دیا : نہایت بری ہے، تو حضرت عمار ؓ نے فرمایا کہ میں محمد ﷺ سے ان کی اتباع پر تاموت عہد کرچکا ہوں، یہود نے کہا : عمار بےدین ہوگیا، اور حضرت حذیفہ نے جواب دیا : رضیتُ باللہِ ربًّا، وبِالاِسلامِ دِینًا، والکعبۃ قبلۃً ، والقرآن امَامًا، والمؤمنینَ اِخوانًا چناچہ یہ حضرات واپس پہنچے اور اس واقعہ کی خبر آنحضرت ﷺ کو دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اَصبتُما الخیرَ واَفْلَحْتُمَا (تم خیر کو پہنچے اور کامیاب ہوئے) اس کے بعد وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ نازل ہوئی۔ (صاوی) اے مسلمانو ! تم کو واپس کفر کی طرف لیجانے کی یہود کی خواہش اور تمنا کسی خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبہ کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں سے عناد اور حسد کی وجہ سے ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ان پر اسلام کا حق ہونا اور محمد ﷺ کا انبی برحق ہونا واضح ہوگیا ہے، اس کے باوجود ایمان نہیں لائے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ صبر اور عفو و درگذر سے کام لیتے رہیں، ان کے حسد وعناد کو دیکھ کر مشتعل نہ ہوں، ان سے بحث و مباحثہ کرنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں، اور صبر کے ساتھ دیکھتے رہیں کہ اللہ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ عموماً مفسرین نے شان نزول کے مخصوص واقعہ کی وجہ سے یہاں اہل کتاب سے یہود یا احبار یہود مراد لئے ہیں، لیکن وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ کی قرآنی الفاظ عام ہیں، اس عموم میں یہود و نصاریٰ دونوں داخل ہیں، مسیحیوں کی طرف ہے جو کھلا ہوا زبردست اور منظم اور علماء یہود کی طرف سے نسبۃً ہلکا اور مخفی پروپیگنڈہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف، سیاسی، معاشرتی، تاریخی غرضیکہ ہر قسم کا جاری رہتا ہے، وہ سب اسی حقیقت کے مظاہر ہیں، ان تمام سرگرمیوں اور کوششوں کا مقصود یہی ہوتا ہے کہ مسلمان اگر مسیحیت اور یہودیت کو قبول نہ بھی کریں تو کم از کم اپنے دین سے ضرور برگشتہ اور بدگمان ہوجائیں۔ تِلْکَ اَمٰنِیُّھُمْ (الآیۃ) یعنی دراصل ان کی یہ باتیں ہیں تو محض ان کے دلوں کی خواہشیں اور آرزوئیں مگر وہ انہیں بیان اس طرح کر رہے ہیں کہ گویا فی الواقع اسی طرح ہونے والا ہے۔ اللہ کے یہاں قوم و نسل کی قیمت نہیں ایمان اور عمل صالح کی قیمت ہے : کوئی بھی شخص محض قومیت کے زعم میں خود کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھ لے تو یہ صرف اس کی خود فریبی ہے، جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی قوم، نسل یا علاقہ اور وطن کی بنیاد پر مقبول و مقرب نہیں بن سکتی جب تک اس میں ایمان و عمل صالح کی روح موجود نہ ہو۔ پھر اصول ایمان تو ہر رسول کے زمانہ میں مشترک اور یکساں رہے ہیں، البتہ عمل صالح کی شکلیں ادلتی بدلتی رہتی ہیں، تورات کے زمانہ میں عمل صالح وہ سمجھا گیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کی تعلیم کے مطابق تھا، انجیل کے دور میں یقیناً عمل صالح وہی عمل تھا جو حضرت عیسیٰ اور انجیل کی تعلیم سے مطابقت رکھتا تھا، اور قرآن کے زمانہ میں وہی عمل صالح کہے جانے کا مستحق ہے جو نبی آخر الزمان محمد ﷺ کے فرمان اور اللہ کی کتاب قرآن کی ہدایت کے مطابق ہوگا۔ مطلب یہ کہ یہودو نصاریٰ کے اس اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دونوں قومیں جہالت کی باتیں کر رہی ہیں، دونوں میں سے کوئی بھی جنت کا ٹھیکیدار نہیں اور نہ ہی دونوں کے مذہب بےبنیاد اور بےاصل ہیں، بلکہ دونوں مذہبوں کی صحیح بنیاد موجود ہے۔ غلط فہمی کا سبب : غلط فہمی کا اصلی سبب یہ ہے کہ انھوں نے مذہب و ملت کی اصل روح یعنی عقائد و اعمال و نظریات کو چھوڑ کر نسلی یا وطنی بنیاد پر کسی قوم کو یہود ٹھہرایا اور کسی کو نصرانی سمجھا، جو یہود کی نسل سے تعلق رکھتا ہو یا یہود کے شہر میں بستا ہو یا مردم شماری میں خود کو یہود شمار کراتا ہو اس کو یہود سمجھ لیا گیا، اسی طرح نصرانیوں کی تشخیص و تعیین کی گئی، حالانکہ اصول ایمان کو توڑ کر اور اعمال صالحہ سے منہ موڑ کر نہ کوئی یہودی، یہودی رہتا ہے اور نہ نصرانی، نصرانی قرآن کریم میں اس اختلاف اور اس فیصلہ کا ذکر مسلمانوں کو سنانے اور متنبہ کرنے کے لئے ہے کہ کہیں وہ بھی اس قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ ہم تو پشتی مسلمان ہیں ہر دفتر اور رجسٹر میں ہمارا نام مسلمان کے خانہ میں درج ہے اور زبان سے بھی خود کو مسلمان کہتے ہیں، اس لئے جنت کے نیز ان تمام انعامی وعدوں کے وہی مستحق ہیں جو نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مسلمانوں سے کئے گئے۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ کوئی شخص نہ محض دعوے سے حقیقی مسلمان بنتا ہے نہ مسلمان نام درج کرانے سے یا مسلمان کی صلب یا ان کے کسی شہر میں پیدا ہونے سے بلکہ مسلمان ہونے کے لئے اول اسلام ضروری ہے، اور اسلام کے معنی ہیں اپنے آپ کو سپرد کردینا دوسرے احسان، یعنی عمل سنت کے مطابق کرنا۔ لیکن قرآن کی اس تنبیہ کے باوجود بہت سے مسلمان اسی یہودی اور نصرانی غلطی کا شکار ہوگئے کہ خدا و رسول اور آخرت و قیامت سے بالکل غافل رہ کر اپنا نسلی مسلمان ہونا مسلمان ہونے کے لئے کافی سمجھنے لگے اور قرآن و حدیث میں فلاح دین و آخرت کے جو وعدے مسلمانوں سے کئے گئے ہیں خود کو ان کا مستحق سمجھ کر ان کے پورے ہونے کا انتظار کرنے لگے، اور جب وہ پورے ہوتے نظر نہیں آتے تو قرآن و حدیث کے وعدوں میں شک کرنے لگے، اس کو نہیں دیکھتے کہ قرآن نے محض نسلی مسلمانوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا، جب تک وہ اپنے تمام ارادوں کو اللہ اور اس کے رسول کے تابع نہ کردیں، یہی خلاصہ ہے آیت مذکورہ بَلیٰ مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ للہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ کا۔ آج کل پوری دنیا کے مسلمان مصائب کا شکار کیوں ؟ آج کل پوری دنیا کے مسلمان طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا شکار ہیں، اس کو دیکھ کر بہت سے ناواقف لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان آفات و مصائب کا سبب اسلام ہے، لیکن مذکورہ تحریر سے واضح ہوگیا کہ ان کا اصل سبب ہمارا اسلام نہیں بلکہ ترک اسلام ہے کہ ہم نے اسلام کا صرف نام باقی رکھا ہے، نہ اسلام کے عقائد ہمارے اندر نہ اخلاق نہ اعمال، پھر ہمیں کیا حق ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے وعدوں اور انعاموں کا ہم انتظار کریں۔ ایک شبہ اور اس کا جواب : یہاں ایک (شبہ) سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کچھ بھی سہی کم از کم نام تو اسلام کا لیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کے نام لیوا تو ہیں اور جو کفار کھلے طور پر اللہ و رسول کی مخالفت کرتے ہیں، اسلام کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے وہ تو آج دنیا میں ہر طرح کی ترقی کر رہے ہیں، بڑی بڑی حکومتوں کے مالک ہیں، دنیا کی صنعتوں اور تجارتوں کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ؛ لیکن اگر ذرا غور سے کام لیا جائے، تو یہ شبہ خودبخود ختم ہوجائے گا۔ اول تو اس لئے کہ دوست اور دشمن کے ساتھ معاملہ یکساں نہیں ہوا کرتا، دوست کو قدم قدم پر اور بات بات پر ٹوکا جاتا ہے، اور اولاد اور شاگرد کو ذرا ذرا سی بات پر تنبیہ کی جاتی ہے ؛ لیکن دشمن کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا، اس کو ڈھیل دی جاتی ہے اور وقت آنے پر دفعۃً پکڑ لیا جاتا ہے۔ مسلمان جب تک ایمان و اسلام کا نام لیتا ہے اور اللہ کی عظمت و محبت کا دم بھرتا ہے وہ دوستوں کی فہرست میں داخل ہے، اس کے برے اعمال کی سزا عموماً دنیا ہی میں دیدی جاتی ہے تاکہ آخرت کا بار ہلکا ہوجائے، بخلاف کافر کے کہ اس پر باغیوں کا قانون جاری ہے، دنیا کی ہلکی ہلکی سزاؤں سے اس کا بار عذاب ہلکا نہیں کیا جاتا، ان کو یک لخت عذاب میں پکڑا جائے گا، رسول اللہ ﷺ کے اس ارشادِ گرامی کا یہی مطب ہے ” کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے “۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی راستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی راستے پر نہیں حالانکہ وہ کتاب (الٰہی) پڑھتے ہیں اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا

آیت نمبر 113 تا 114 ترجمہ : یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کے پاس کچھ نہیں یعنی کوئی معتدبہ چیز نہیں، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی (نبوت) کے منکر ہیں، اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کے پاس کچھ نہیں یعنی کوئی معتدبہ چیز نہیں، اور موسیٰ (علیہ السلام) کی (نبوت) کے منکر ہیں، حالانکہ یہ دونوں فریق کتاب پڑھتے ہیں، اور یہود کی کتاب (تورات) میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی (نبوت کی) تصدیق موجود ہے اور نصاریٰ کی کتاب (انجیل) میں موسیٰ (علیہ السلام) کی (نبوت کی) تصدیق موجود ہے، اور جملہ (وَھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ ) حال ہے، اور جیسی بات یہ (دونوں فریق) کرتے ہیں، اسی طرح کی بات بےعلم لوگ بھی کرتے ہیں، یعنی مشرکین عرب وغیرہ (مِثْلَ قَوْلِھِمْ ) ذٰلک کے معنی کا بیان ہے، یعنی ان (مشرکوں) نے (آسمانی) دین والوں میں سے ہر ایک کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس کچھ نہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دین کے معاملہ میں ان کے اختلاف کا فیصلہ کر دے گا، بایں طور کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو دوزخ میں داخل کرے گا، اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا ؟ یعنی اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ کی مسجدوں (معبدوں) میں اللہ کے نام کی نماز و تسبیح پڑھنے سے روکے، اور ہدم و تعطیل کے ذریعہ ان کی ویرانی کے درپے ہو، (یہ آیت) ان رومیوں کی خبر دینے کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بیت المقدس ویران کیا، یا مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جب آپ ﷺ کو (صلح) حدیبیہ کے سال بیت اللہ سے روکا، ان کو تو چاہیے کہ اس میں قدم بھی نہ رکھیں، مگر ڈرتے ہوئے، خبر بمعنی امر ہے یعنی ان کو جہاد کے ذریعہ (ایسا) خوف زدہ کردو کہ کوئی اس میں بےخوف داخل نہ ہو، ان لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے، قتل و قید اور جزیہ کے ذریعہ اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے، (اور) وہ آگ ہے، اور (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے تحویل قبلہ کے بارے میں، یا سفر میں سواری پر جدھر سواری کا رخ ہو نفل نماز پڑھنے کے بارے میں طعن کیا، مشرق و مغرب سب اللہ ہی کے ہیں، یعنی پوری زمین، اس لئے کہ دونوں (مشرق و مغرب) زمین ہی کے دو کنارے ہیں، تم اس کے حکم سے نماز میں جدھر بھی رخ کرو اسی طرف اللہ کا رخ ہے یعنی اس کا قبلہ ہے جو اس کا پسندیدہ ہے، بلاشبہ اللہ بڑی وسعت والا ہے، کہ اس کا فضل ہر شئ کو حاوی ہے، اور اپنی مخلوق کی تدبیر سے واقف ہے (وقالُوا میں) واؤ اور بغیر واؤ دونوں صورتیں ہیں، اور یہود و نصاریٰ اور ان لوگوں کا جو اللہ کے لئے بیٹیاں ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں کہنا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے، اللہ تعالیٰ نے اولاد سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا، وہ پاک ہے (اولاد سے) بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے یعنی اسی کی ملک ہے اور اسی کی مخلوق ہے اور اسی کی مملوک ہے، اور ولادت ملکیت کے منافی ہے، اور غیر ذوی العقول کو غلبہ دیتے ہوئے ما سے تعبیر فرمایا، سب کے سب اس کے فرمانبردار ہیں یعنی پر شئ اس مقصد کے لئے اس کے تابع فرمان ہے، جو اس سے مطلوب ہے اور اس میں ذوی العقول کو غلبہ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ، کذٰلِکَ ای مثل ذٰلکَ الَّذِی سَمِعْتَ بہٖ کاف محل میں نصب کے ہے، یا تو اس لئے کہ مصدر محذوف کی صفت ہے جس کو افادہ حصر کے لئے مقدم کردیا گیا ہے، ای قولاً مِثلَ ذٰلِکَ القول بعینہٖ لَا قِوْلاً مغایرًا لَہٗ ۔ قولہ : وغیرُھم، غیرُھم رفع کے ساتھ اس کا عطف مشرکون پر ہے نہ کہ عرب پر یعنی مشرکین کے علاوہ دیگر کفار کا بھی یہی کہنا تھا قولہ : بَیان لمعنی ذٰلِکَ یعنی مثل قولھم، کذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ کا بدل ہے۔ قولہ : لَیْسُوا، لَیْسُوا کی جمع کی ضمیر کل کی طرف باعتبار معنی کے راجع ہے۔ قولہ : وَمَنْ اَظْلَمُ ، مَنْ مبتداء محلاً مرفوع ہے، اَظْلَمُ اسم تفصیل اس کی خبر ہے، استفہام انکاری ہے، ای لا احدٌ اظلَمَ منہ۔ سوال : یہاں قدرتی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ فَمَنْ اَظْلَمُ کا کلمہ قرآن کے اندر بار بار آیا ہے، مثلاً وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَیٰ ، وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِآیَاتِ رَبِّہٖ ، فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللہِ ، وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللہِ ان میں سے ہر ایک کا تقاضا حصر کا ہے کہ اس میں مذکور سے بڑا ظالم کوئی نہیں، تو پھر دوسرا فریق اس سے بڑا ظالم کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی اظلمیت کے ساتھ جب ایک فریق کو متصف کردیا تو اب دوسرت فریق کو اظلمیت کی صفت کے ساتھ متصف کرنا کیسے درست ہے ؟ جواب : ہر ایک اپنے صلہ کے معنی کے اعتبار سے خاص ہے، مثلاً کَاَنَّہٗ قَالَ لَا اَحَدٌ مِنَ المَانِعِیْنَ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللہِ ، وَلاَ احدٌ مِنَ المفسدین اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتریٰ عَلی اللہِ ، وَلاَ احدٌ مِنَ الکذَّابِینَ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ علی اللہ علیٰ ھٰذا القیاس۔ (جمل) قولہ : مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدِ اللہِ ، مَسَاجِدَ ، مَنَعَ کا مفعول اول ہے اور اَنْ یُّذْکَرَ بتاویل مصدر ہو کر مفعول ثانی ہے، مَسَاجِد مسجِدٌ کی جمع ہے، سجدہ کرنے کی جگہ، قاعدہ کے مطابق، مَفْعَلُ کے وزن پر مَسْجَدُ ہونا چاہیے، اس لئے کہ جس کا مضارع مرفوع العین ہوتا ہے اس کا ظرف مکان مَفْعَلُ کے وزن پر آتا ہے یہاں خلاف قیاس جیم کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ سوال : مَسَاجِدَ کو جمع کیوں لایا گیا ہے ؟ جبکہ مراد بیت المقدس ہے، اس لئے کہ بیت المقدس کو رومی بادشاہ بخت نصر مجوسی نے منہدم کردیا تھا، یا مراد مسجد حرام ہے جبکہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو صلح حدیبیہ کے سال عمرہ کرنے سے روک دیا تھا۔ جواب : مذکورہ دونوں مسجدیں چونکہ سب سے زیادہ اہم اور بابرکت ہیں ان سے روکنا یا ان کو ویران کرنا گویا کہ تمام مساجد کو ویران کرنا ہے۔ سوال : مَنَعَ مَسَاجد اللہ میں مَنَعَ کی نسبت مساجد کی طرف کی گئی ہے حالانکہ حقیقت میں ممنوع لوگ ہیں۔ جواب : مانعین کا فعل چونکہ مسجد سے متعلق تھا مثلاً مساجد میں گندگی وغیرہ ڈالنا یا ان کو منہدم کرنا اس لئے منع کی نسبت مساجد کی طرف کی گئی ہے۔ قولہ : اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ اس میں اعراب کے اعتبار سے چار صورتیں ممکن ہیں، (1) مَنَعَ کا مفعول ثانی ہے کما تقول مَنَعْتُہٗ کذَا (2) مَنَعَ کا مفعول لہٗ ہے، ای مَنَعَ کرَاھَۃ اَنْ یُذْکَرَ یا مَنَعَ دخولَ مساجد اللہ (3) مَسَاجد اللہ سے بدل الاشتمال ہے، ای مَنَعَ ذِکْرَ اسمِہٖ فِیھَا (4) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای مَنَعَ مَسَاجِدَ مِنْ اَنْ یُّزْکَرَ ۔ قولہ : بالھَدم اَو التعطیل، ھدم سے بیت المقدس کی طرف اشارہ ہے، اس لئے اس کو بخت نصر مجوسی نے منہدم کردیا تھا، اور تعطیل سے مسجد حرام کی طرف اشارہ ہے، اس لئے کہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو روک کر گویا کہ مسجد حرام کو معطل اور ویران کردیا تھا، اَوْ تمویع کے لئے ہے نہ کہ تردید کے لئے۔ قولہ : فِیْ خَرَابِھَا ابو البقاء نے کہا ہے کہ خَرَاب اسم مصدر بمعنی تخریب ہے، اپنے مفعول کی جانب منضاف ہے، جیسا کہ سَلَام بمعنی تسلیم، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ خَرِبَ کا مصدر ہے، جو خَرِبَ بالمکان سے مشتق ہے، یعنی اس کو بغیر نگہداشت کے چھوڑ دیا تاکہ وہ خود بخود ویران اور برباد ہوجائے۔ قولہ : خبر بمعنی الامر یعنی یہ جملہ لفظاً خبریہ اور معنی انشائیہ ہے، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : لَایَدْخُلُوْھَآ اِلاَّ خَآئِفِیْنَ میں خبر دی گئی ہے، کہ تخریب کا ربیت المقدس میں ڈرتے ہوئے داخل ہوئے، حالانکہ وہ تو نہایت بےخوف ہو کر بیت المقدس میں داخل ہوئے، ایک سال سے بھی زیادہ قابض رہے، ہاں البتہ مسلمان بیت المقدس میں اللہ سے ڈرتے ہوئے سلطان الدین کے زمانہ میں داخل ہوئے۔ جواب : جواب یہ ہے کہ خبر بمعنی امر ہے، معنی ان کو حکم دیا جارہا ہے کہ بیت المقدس میں خوف خدا کے ساتھ داخل ہوں۔ (جمل) مگر یہ جواب پسندیدہ نہیں ہے اس لئے کہ اس میں تعبیر کان کے ساتھ ہے، بیضاوی نے کہا ہے کہ اس آیت کا مقصد مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے منع کرنا ہے۔ (معناہ النھی عن تمکینھم من الدخول فی المسجد) ۔ (جمل) قولہ : اخیفوھم بالجھاد یعنی ہم کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مسجد حرام اور بہت المقدس میں داخل ہونے کو بذریعہ جہاد روکیں۔ (صاوی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظاً اور معنیً جملہ خبریہ ہو اور مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں پیش آنے والے حالات کی خبر دی ہو۔ (ھو اقرب) (صاوی) قولہ : مُطِیْعُوْنَ کُلٌّ بِمَا یُرَادُ مِنْہُ یعنی مخلوق کا ہر فرد اس مقصود کے تابع ہے جو اس سے مطلوب ہے، بِمَا میں باء بمعنی لام ہے۔ تفسیر و تشریح وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ لَیْسَتِ النَّصَاریٰ علیٰ شَیْءٍ یہود تورات پڑھتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق موجود ہے ؛ لیکن اس کے باوجود یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکفیر کرتے ہیں، عیسائیوں کے پاس انجیل موجود ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کے من عند اللہ ہونے کی تصدیق ہے اس کے باوجود یہ یہودیوں کی تکفیر کرتے ہیں، ان کا یہ طریقہ اہل کتاب کے دونوں فریقوں کے کفر وعناد اور اپنے اپنے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا ہونے کو ظاہر کر رہا ہے۔ اہل کتاب کے مقابلہ میں عرب کے مشرکین اَن پڑھ (اُمی) تھے اس لئے انہیں بےعلم کہا گیا ہے ؛ لیکن وہ بھی امی ہونے کے باوجود یہود و نصاریٰ کی طرف اس زعم باطل میں مبتلا تھے، کہ وہی حق پر ہیں، اسی لئے وہ محمد ﷺ کو صابی یعنی بےدین کہا کرتے تھے۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ؟ ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے

وَمَنْ اَظْلَمُ مِنَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ (الآیۃ) جن لوگوں نے مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکا یہ کون ہیں ؟ ان کے بارے میں مفسرین کی رائے مختلف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ ان سے مراد عیسائی ہیں، جنہوں نے بادشاہ روم کے ساتھ مل کر بیت المقدس میں یہودیوں کو نماز پڑھنے سے روکا، اس کی تخریب میں حصہ لیا، ابن جریر نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے، لیکن حافظ بن کثیر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کا مصداق مشرکین مکہ کو قرار دیا ہے، جنہوں نے ایک تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا اس طرح مسلمانوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے روکا، پھر صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی یہی کردار ادا کیا، حالانکہ خانہ کعبہ میں عبادت سے کسی کو روکنے کی اجازت نہیں تھی۔ تخریب اور بربادی صرف یہی نہیں ہے کہ اسے ڈھا دیا جائے اور عمارت کو نقصان پہنچایا جائے بلکہ ان میں اللہ کی عبادت اور ذکر سے روکنا یہی تخریب ہے۔ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَآئِفِیْنَ یہ الفاظ خبر کے ہیں یعنی لفظوں کے اعتبار سے جملہ خبر یہ ہے، لیکن مراد اس سے یہ خواہش ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں تمکن و غلبہ عطا کرے تو ان مشرکوں کو اس میں صلح اور جزیہ کے بغیر رہنے کی اجازت نہ دینا، چناچہ 8 ھ میں مکہ فتح ہوا، تو نبی ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ آئندہ سال کسی مشرک کو کعبۃ اللہ کا حج کرنے اور ننگا طواف کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ عبادت گاہیں اس قسم کے ظالموں کے ہاتھوں میں ہوں اور یہ ان کے متولی اور پاسبان ہوں، خدا پرست اور خدا ترس لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار ہونا چاہیے، تاکہ یہ شریر لوگ اگر وہاں جائیں بھی تو انہیں خوف ہو کہ اگر شرارت کریں گے تو سزا پائیں گے۔ شان نزول : مذکورہ دو آیتوں میں دو اہم مسئلوں کا بیان ہے پہلی آیت ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ زمانہ اسلام سے پہلے جب یہودیوں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا تو روم کے نصاریٰ نے ان سے انتقام لینے کی خاطر عراق کے ایک مجوسی بادشاہ طیطوس کے ساتھ مل کر شام کے بنی اسرائیل پر حملہ کرکے ان کو قتل کر ڈالا، تورات کے نسخے جلا دیئے، بیت المقدس میں نجاست اور خنزیر ڈال دئیے، اس کی عمارت کو منہدم کردیا، آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک تک بیت المقدس اسی طرح ویران و منہدم پڑا تھا نوٹ : بعض حضرات مفسرین نے اس مجوسی بادشاہ کا نام بخت نصر بتلایا ہے، اس سے معروف بخت نصر مراد نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ اس کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے ہے، یہ ممکن ہے کہ بعد میں کسی بادشاہ کو بخت نصر ثانی کہنے لگے ہوں۔ (معارف) فاروق اعظم ؓ تعالیِ عنہ کے عہد خلافت میں جب عراق و شام فتح ہوئے تو آپ کے حکم سے بیت المقدس کی دوبارہ تعمیر کرائی گئی مدت دراز تک پورا ملک شام اور بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں رہا، پھر ایک عرصہ کے بعد بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ سے نکل کیا اور تقریباً سو سال یورپ کے عیسائیوں کا اس پر قبضہ رہا یہاں تک کہ چھٹی صدی ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے پھر اس کو فتح کیا۔ رومی نصاریٰ کی اس گستاخانہ حرکت پر کہ تورات کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب و برباد کرکے اس کی بےحرمتی کی تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ہے۔ اور حضرت ابن زید وغیرہ دوسرے مفسرین نے آیت کا شان نزول یہ بتلایا ہے کہ جب مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو واقعہ حدیبیہ کے موقع پر مسجد حرام میں داخل ہونے اور طواف کرنے سے روک دیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسجد میں ذکر و نماز سے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز و حرام ہیں مثلاً ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی کو مسجد میں جانے اور وہاں تلاوت و ذکر سے روکا جائئے، یا مسجد میں شوروشغب کرکے یا قرب و جوار میں باجے وغیرہ بجا کر ذکر نماز میں خلل صالے یہ بھی اللہ کے ذکر سے روکنے میں داخل ہے، اسی طرح جبکہ لوگ نماز و تسبیحات میں مشغول ہوں، کوئی شخص بلند آواز سے تلاوت یا ذکر بالجہر کرنے لگے یہ بھی نمازیوں کی نماز و تسبیح میں خلل ڈالنے اور ذکر اللہ سے روکنے کے مترادف ہے۔ (معارف ملخصا)
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے تو جدھر تم رخ کرو ادھر خدا کی ذات ہے بیشک خدا صاحب وسعت اور باخبر ہے

دوسری آیت وللہ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ (الآیۃ) میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو مکہ سے ہجرت کرنے اور بیت اللہ کو چھوڑنے پر مجبور کردیا لیکن اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں ہے نہ آپ کے غمگین ہونے کی کوئی وجہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی خاص سمت میں محدود نہیں وہ ہر جگہ ہے اس کے لئے مشرق و مغرب یکساں ہیں کعبۃ اللہ کو قبلہ یا بیت المقدس کو دونوں میں کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ امر الہیٰ کی تعمیل ہی دونوں جگہ سبب فضیلت ہے اسی لئے جب کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا اس میں فضیلت تھی اور جب سولہ سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوگیا تو اب اس میں فضیلت ہے لہٰذا آپ دل گیر نہ ہوں اللہ تعالیٰ کی توجہ دونوں حالتوں میں یکساں ہے۔ الغرض آیت مذکورہ وللہ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ نے استقبال قبلہ کی پوری حقیقت واضح کردی کہ اس کا منشا بیت المقدس یا بیت اللہ کی معاذ اللہ پرستش نہیں اور نہ ان دونوں مکانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات مخصوص ہے بلکہ اس کی ذات سارے عالم پر محیط ہے اور ہر سمت میں اس کی توجہ یکساں ہے۔ آیت مذکورہ کے اس مضمون کو واضح کرنے ہی کے لئے غالباً آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو ہجرت کے اوائل میں سولہ سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم دے کر عملی طور پر یہ بتلا دیا گیا کہ ہماری توجہ ہر طرف ہے، اور نوافل میں اس حکم کو ہمیشہ کے لئے جاری رکھا کہ سفر میں کوئی شخص سواری مثلاً اونٹ گھوڑے وغیرہ پر سوار ہو تو اس کو اجازت ہے کہ سواری پر بیٹھے ہوئے اشارہ سے نفلی نماز پڑھ لے اس کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی ضروری نہیں جس طرف اس کی سواری چل رہی ہو اسی طرف رخ کرلینا کافی ہے۔ مذکورہ حکم ان سواریوں کا ہے جن پر سوار ہو کر چلتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا دشوار ہو اور جن سواریوں پر سوار ہو کر قبلہ کی طرف رخ کرنا دشوار نہیں ہے، جیسے ریل، ہوائی جہاز، بحری جہاز، ان کا وہی حکم ہے جو حالت حضر کا ہے، اگر ان میں نفل نماز بھی پڑھنی ہو تو قبلہ رخ ہو کر پڑھی جائے، البتہ نماز کی حالت میں ریل کا یا جہاز کا رخ مڑ جائے اور نمازی کے لئے گنجائش نہ ہو کہ وہ بھی قبلہ رخ پھرجائے تو اسی حالت میں نماز پوری کرلے۔ اسی طرح جہاں نمازی کو سمت قبلہ معلوم نہ ہو یا رات کی تاریکی میں اندازہ نہ ہوسکے اور نہ کوئی بتلانے والا ہو اور نہ کوئی ایسی علامت ہو کہ جس سے سمت قبلہ کا تعین ہوسکے تو اندازہ اور تخمینہ سے سمت قبلہ متعین کرکے نماز ادا کرلے، اگر بعد میں یہ معلوم ہو کہ نماز غلط رخ پر پڑھی گئی تو نماز دہرانے کی ضرورت نہیں وہی نماز کافی ہے۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے (نہیں) وہ پاک ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرمانبردار ہیں

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ، اِتَّخَذَ وَلَدًا کا ترجمہ ہے، لے رکھا ہے ایک بیٹا، بنا رکھا ہے ایک بیٹا، یہاں مسیحیوں کا یہ قول نہیں نقل کیا جا رہا ہے کہ خدا کے ایک بیٹا ہے بلکہ کہا جا رہا ہے خدا نے ایک بیٹا بنا لیا ہے، مطلب یہ کہ خدا نے کسی کو تنبیٰ بنا رکھا ہے۔ فرقہ اتخاذی : ایک فرقہ اتخاذیوں (AD۔ PTI۔ NISTS) کے نام سے گزرا ہے ان کے مرکزی عقیدہ کے لئے اصطلاحی لفظ تبنیت یا اتخاذیت (AD۔ PTI۔ NISM) ہے، اس عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) خلیفہ خدا نہیں، وہ خدا پیدا نہیں ہوئے، وہ شروع سے خود بخود بنے بنائے خدا نہیں ہیں ؛ بلکہ اصلاً وخلقہً وہ انسان ہی تھے، البتہ اقنوم ثالث یعنی روح المقدس کا فیضان ان پر شروع ہی سے ہونے لگا تھا، اس لئے وہ قدوسیت کے ایسے اوج کمال پر پہنچ گئے کہ روح الہیٰ ان کے اندر ایسی حلول کرگئی کہ اقنوم اول یعنی خدائے برتر و اعظم نے انہیں اپنا بیٹا قرار دے کر اپنا متنبیٰ بنا کر شریک الوہیت کرلیا، اور اب وہ ربوبیت، مالکیت وغیرہ جملہ صفات الہیٰ میں شریک وسہیم ہے، اس عقیدہ کا وجود 185 ء میں ملتا ہے آٹھویں صدی عیسوی میں پا پائے روم نے اس عقیدہ کو الحاد اور زندقہ قرار دیا، بارہویں صدی میں اس عقیدہ نے پھر زور پکڑا، پھر یہ لوگ زندیق قرار پائے۔ (تفسیر ماجدی ماجدی ملخصا) اللہ کے لئے ولد عقلاً و نقلاً ممکن نہیں : کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ ! (کیا مہمل بات ہے) بعض یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو، اور مشرکین عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں حق تعالیٰ اس قول کی قباحت اور بطلان کو بیان فرما رہے ہیں۔ دلیل بطلان : اگر اللہ کی اولاد مانی جائے تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو اولاد غیر جنس ہوگی اور یا ہم جنس ہوگی، اگر غیر جنس ہو تو اولاد کا ناجنس ہونا عیب ہے، اور حق تعالیٰ عیب سے پاک ہے، اور اگر ہم جنس ہو تو اس لئے باطل ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی ہم جنس نہیں کیونکہ جو صفات کمال لوازم ذات واجبہ سے ہیں وہ اللہ کے ساتھ مخصوص اور غیر اللہ میں معدوم ہیں اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی کو مستلزم ہے، لہٰذا ہم جنس ہونا بھی باطل ہوا۔ بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ مخلوق کا رشتہ اپنے خالق کے ساتھ صرف ملکیت اور مملوکیت مطلقہ کا ہے نہ کہ فرزندی اور دل بندی کا، مطلب یہ کہ کائنات کی ہر شئی اللہ کی مملوک ہے کوئی ہستی اس سے خارج نہیں اور مملوکیت وابنیت میں تضاد و تنافی ہے جو مملوک ہے وہ ابن نہیں اور جو ابن ہے وہ مملوک نہیں ہوسکتا، غرضیکہ وہ بشریت کی ہر قسم کی رشتہ داریوں سے پاک و منزہ ہے۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

آیت نمبر 117 تا 121 ترجمہ : وہ آسمانوں اور زمین کا بغیر سابقہ نمونہ کے پیدا کرنے والا ہے، اور جب کسی شئی کے کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو بس اس کے لئے یہ حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے اور ایک قراءت میں (یکونَ ) جواب امر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، نادان (اَن پڑھ) یعنی کفار مکہ نبی ﷺ سے کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، یا آپ ﷺ کی صداقت پر جو نشانی ہم تجویز کریں ہمارے پاس کیوں نہیں آتی ؟ اسی طرح یعنی جیسا کہ یہ کہتے ہیں ان سے پہلے امم سابقہ کے کافروں نے بھی اپنے نبیوں سے ان کے جیسی بات کہی یعنی سرکشی اور طلب معجزات کی، کفر وعناد میں ان کے قلوب یکساں ہیں، اس میں نبی ﷺ کو تسلی ہے، یقین لانے والوں کے لئے تو ہم صاف صاف نشانیاں ظاہر کرچکے ہیں، جو جانتے ہیں، کہ یہ معجزات ہیں تو ان پر ایمان لے آتے ہیں، پھر ان نشانیوں کے ساتھ مزید معجزے کا مطالبہ کرنا سرکشی ہے، بلاشبہ اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو ہدایت کے ساتھ جنت کی خوش خبری سنانے والا بنا کر بھیجا، اس کو جس نے آپ جئ دعوت قبول کی، اور اس شخص کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا جس نے آپ کی دعوت قبول نہ کی، جہنمیوں یعنی کفار کے بارے میں آپ سے پرستش نہیں ہوگی کہ وہ ایمان کیوں نہیں لائے ؟ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور ایک قراءت میں تُسئَلْ جزم کے ساتھ ہے نہی ہونے کی وجہ سے، اور یہود و نصاریٰ ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے، جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کرینے لگیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت یعنی اسلام ہی (صحیح) راستہ ہے اور اس کے علاوہ سب گمراہی ہیں، اور قسم ہے لام قسمیہ ہے، آپ کے پاس وحی کا علم آجانے کے بعد اگر بالفرض آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی جس کی طرف وہ آپ کو دعوت دیتے ہیں، تو اللہ کے پاس آپ کا نہ کوئی ولی ہوگا جو آپ کی حفاظت کرسکے اور نہ کوئی مددگار ہوگا جو آپ کو اس سے بچا سکے جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (الذین اٰتینٰھم الکتاب) مبتداء ہے، (اور) وہ اس کو اس کے تلاوت کے حق کے ساتھ یعنی جس طرح نازل کی گئی ہے اسی طرح پڑھتے ہیں یہ جملہ حال ہے اور حقَّ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اور خبر (اُولٰئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ہے) یہی ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان رکھتے ہیں (یہ آیت) اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو حبشہ سے آئی تھی اور اسلام قبول کیا، اور جو اس عطا کردہ کتاب کا منکر ہے بایں طور کہ اس میں تحریف کرتا ہے تو یہی زیاں کار ہیں، ان کے دائمی آگ کی طرف لوٹنے کی وجہ سے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ، بَدِیْعٌ بروزن فَعِیْلٌ بمعنی مَبْدِعٌ بغیر کسی سابق نمونہ اور مادہ کے پیدا کرنے والا، بَدِیْعٔ السَّمٰوَاتِ والارض ای ھُوْ بدیع السمٰوَاتِ ” بَدِیْعٌ“ اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ قولہ : وَاِذَا قَضٰی، اَرادَ مفسر علام نے قضٰی کی تفسیر اَرَادَ سے کرکے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ سوال : قَضٰی کے معنی اتمام شئی کے ہیں خواہ قولاً ہو، جیسے وَقَضٰی رَبُّکَ یا فعلاً جیسے فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ اور اتمام شئی کے بعد اس کے لئے کن کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، بلکہ درست بھی نہیں ہے اس لئے کہ اس سے تحصیل حاصل لازم آتا ہے، جو کہ ممنوع ہے اور مکوِّن واحد کے لئے وہ کون یا کہئے کہ موجود واحد کے لئے دو وجودوں کا ہونا لازم آتا ہے، اس لئے کہ مخاطب بننے کے لئے موجود ہونا ضروری ہے ورنہ تو معدم کو خطاب لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے اور دوسرا کن کہنے کے بعد موجود ہوگا ورنہ تو امر بےکار ہوگا۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ قضٰی بمعنی اَرَادَ ہے مجازاً ۔ سوال : فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی معدوم کو وجود میں لانے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس سے کن کہہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ معدوم موجود ہوجاتا ہے، اس سے معدوم کو مخاطب کرنا لازم آتا ہے۔ جواب : اللہ تعالیٰ کے ارادہ ہی سے وہ معدوم موجود کے حکم میں ہوجاتا ہے، لہٰذا خطاب کرنا درست ہے، نیز کُن فیکونُ سے مقصد سرعت ہے نہ کہ ایجاد۔ قولہ : فھو یکون اس جملہ کے اضافہ کا فائدہ ایک سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال : مضارع جب فاء کے بعد واقع ہو اور اس کے ماقبل امر یا نہی ہو تو اس پر نصب واجب ہے حالانکہ یہاں فیکونُ پر رفع ہے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : حذف مبتداء کی وجہ سے یہ جملہ اسمیہ ہے تقدیر عبارت فَھُوَ یکونُ ہے، جملہ اسمیہ ہو کر جواب امر ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے، اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ فیکونُ جملہ مستانفہ ہے اور ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے، اور ایک قراءت میں فیکون نصب کے ساتھ بھی ہے اس صورت میں فاء سببیہ کے بعد اَن مقدر ماننا ہوگا۔ قولہ : اَی کفار مکۃ۔ سوال : اَلَّذِینَ لَا یَعْلَمُوْنَ کی تفسیر کفار مکہ سے درست نہیں ہے، اس لئے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ جواب : بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ پوری سورت مدنی ہے مگر یہ آیت مکی ہے، مگر یہ جواب بعید ہے۔ دوسرا جواب : یہ ہوسکتا ہے کہ مذکورہ سوال کفار مکہ نے یہود مدینہ کی معرفت آپ ﷺ سے کیا ہو۔ قولہ : فی قراءۃ بجزم تَسْئَل نھیًا یعنی ایک قراءت میں لاتُسْئَلُ کے بجائے لَا تَسْئَلْ ہے یعنی آپ جہنمیوں کے بارے میں کچھ نہ پوچھئے ان کا بہت برا حال ہوگا۔ قولہ : وَحَقَّ نُصِبَ عَلی المصدریۃ حَقَّ ، تلَاوتِہٖ مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہے ہتلونَہٗ تلاوَۃً حقًّا صفت کو مقد کرکے موصوف کی طرف اضافت کردی گئی ہے۔ تفسیر و تشریح بَدِیْعُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ اللہ وہی ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کی مالک ہے، ہر چیز اس کی فرمانبردار ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی مادہ اور نمونے کے بنانے والا بھی وہی ہے، علاوہ ازیں اس کو جو کام کرنا ہوتا ہے اس کے لئے کُنْ کہہ دیتا ہے وہ چیز فوراً موجود ہوجاتی ہے، ایسی ذات کو بھلا اولاد کی کیا ضرورت ؟
Ayahs 2:118–119

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی انہیں کی سی باتیں کیا کرتے تھے ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں جو لوگ صاحب یقین ہیں ان کے (سمجھانے کے) لیے ہم نے نشانیاں بیان کردیں ہیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُکَلِّمُنَا اللہُ (الآیۃ) الذین لا یعلمون سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہوں نے یہودیوں کی طرح مطالبہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست گفتگو کیوں نہیں کرتا ؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ خدایا تو خود ہمارے سامنے آخر کہے کہ یہ میری کتاب ہے تم لوگ اس کی پیروی کرو یا پھر ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائی جائے جس سے ہمیں یقین آجائے کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ یعنی آج کے گمراہوں نے کوئی اعتراض اور کوئی مطالبہ ایسا پیش نہیں کیا جو ان سے پہلے گمراہ پیش نہ کرچکے ہوں، قدیم زمانہ سے آج تک گمراہی کا ایک ہی مزاج رہا ہے اور وہ بار بار ایک ہی قسم کے شبہات اور اعتراض اور سوالات دہراتی رہتی ہے یعنی مشرکین عرب کے دل کفر وعناد اور انکار و سرکشی میں اپنے ما قبل کے لوگوں کے دلوں کے مشابہ ہیں۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَھُمْ (الآیۃ) یہ اس بات پر وعید ہے کہ علم آجانے کے بعد بھی اگر محض ان برخود غلط لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ان کی پیروی کی تو تیرا کوئی مددگار نہ ہوگا، یہ دراصل امت محمدیہ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ اہل بدعت اور گمراہوں کی خوشنودی کے لئے وہ بھی ایسا کام نہ کریں نہ دین میں مداہنت اور نہ بےجا تاویل کا ارتکاب کریں۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے اور (اے پیغمبر ﷺ اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آجانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی مددگار

وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰاریٰ : الخ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی خواہ کتنی بھی رعایت کریں مگر یہ آپ ﷺ سے راضی ہونے والے نہیں ہیں اس لئے کہ ان کی ناراضگی کی وجہ عناد اور حسد وعناد میں اضافہ کے سوا کی نتیجہ نکلا ؟ ان لوگوں کی ناراضگی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالب حق ہیں اور آپ ﷺ نے ان کے سامنے حق کو واضح کرنے میں کچھ کمی کی ہے، بلکہ ان کی خواہش اور تمنا تو یہ ہے کہ آپ بھی ان کی طرف گندم نمائی اور جو فروشی کیوں نہیں کرتے ؟ جو خود ان کا شیوہ ہے یہ لوگ تو صرف ایک ہی صورت سے راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان ہی کے رنگ میں رنگ جائیں اور خدا پرستی کے پردے میں نفس پرستی اختیار کرلیں، اور اگر خدانخواستہ ان کو راضی کرنے کے لئے آپ نے خلاف شرع کوئی بھی قدم اٹھایا تو پھر نہ آپ کا کوئی حامی ہوگا اور نہ مددگار۔
Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اسکے پڑھنے کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں اور جو لوگ اس کو نہیں مانتے وہ خسارہ پانے والے ہیں

اَلَّذِیْنَ آتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ (الآیۃ) اہل کتاب کے ناخلف لوگوں کی ضروری تفصیل کے بعد اس آیت میں اہل کتاب کے ان صالح عنصر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دیانت اور راستی کے ساتھ خدا کی کتاب پڑھتے ہیں، جیسے عبد اللہ بن سلام، اس لئے جو حق ہوتا ہے اسے تسلیم کرلیتے ہیں۔
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے اور نہ اس سے بدلا قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے۔

آیت نمبر 122 تا 126 ترجمہ : اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جس سے میں نے تم کو نوازا تھا اور میں نے تم کو اقوام عالم پر فضیلت عطا کی تھی، اسی جیسی آیت سابق میں گذر چکی ہے اور اس دن سے ڈرو جس دن کسی کے کام نہ آئے گا۔ اور نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، اور نہ کوئی سفارش ہی کسی کو فائدہ دے گی اور نہ (مجرموں) کو کہیں سے مدد ہی پہنچ سکے گی، کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچا سکیں اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں سے آزمایا اور ایک قراءت میں ابراہام ہے (اور وہ باتیں) جن کا اس کو مکلف کرنا اور مونچھوں کو کاٹنا اور سر کے بالوں میں مانگ نکالنا، اور ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھاڑنا، اور زیر ناف کے بال لینا، اور ختنہ کرانا، اور پانی سے استنجاء کرنا تھیں، چناچہ (ابراہیم (علیہ السلام) نے) ان باتوں کو مکمل طور پر ادا کیا (تو) اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں تم کو دین میں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا، ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا : میری اولاد میں سے بھی پیشوا بنائیے، اللہ نے جواب دیا : پیشوائی کا میرا وعدہ ان میں سے ظالموں کافروں سے نہیں ہے اس سے معلوم ہوا جو ظالم نہیں ہیں ان سے وعدہ ہے اور یہ کہ ہم نے اس گھر کو کعبہ کو لوگوں کے لئے مرجع (مرکز) بنایا، ہر جانب سے لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور ظلم سے اور دوسری جگہ ہونے والی غارت گری سے امن کی جگہ بنائی آدمی بیت اللہ میں اپنے باپ کے قاتل سے ملتا تھا مگر (باپ کا قتل) اس کو (قاتل کے قتل پر) برانگیختہ نہیں کرتا تھا، اور اے لوگو ! تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو اور وہ وہی پتھر ہے جس پر تعمیر بیت اللہ کے وقت (ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوتے تھے، مصلیٰ بمعنی جائے نماز، بایں طور کہ اس کے پیچھے طواف کی دو رکعت نماز پڑھو، اور ایک قراءت میں اِتَّخَڈُوا خاء کے فتح کے ساتھ ہے اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسماعیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے بتوں سے پاک رکھو، یعنی اس میں قیام کرنے والوں کے لئے، اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے (یعنی) نماز پڑھنے والوں کے لئے، رُکّع راکع کی اور السجود ساجد کی جمع ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار تو اس جگہ کو امن والی بنا اور اللہ تعالیی نے اس کی دعاء قبول فرمائی چناچہ اس کو محترم بنادیا کہ نہ اس میں انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ اس میں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس میں شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کا کانٹا اکھاڑا جاتا ہے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی عطا کر چناچہ طائف کے خطہ کو ملک شام سے منتقل کرکے ایسا ہی کردیا حالانکہ وہ بنجر بےآب وگیاہ زمین تھی ان کے لئے جو ان میں سے اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر مَنْ آمَنَ ، اھلہ سے بدل ہے اور ان کو دعاء کے لئے خاص کرنا اس وجہ سے ہے کہ یہ لاینال عھدی الظلمین کے موافق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو لوگ کفر کریں گے ان کو بھی قدرت یعنی ان کی حیات کی مقدار نفع پہنچاؤں گا، پھر آخرت میں ان کو جبراً دوزخ کی طرف لیجاؤں گا کہ وہ اس سے رہائی نہ پاسکیں گے اور وہ (دوزخ) بدترین ٹھکانا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یَوْمًا لَّاتَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ ، فِیْہِ لَاتَجْزِی نَفْسٌ عن نفسٍ جملہ ہو کر یَوْمًا کی صفت ہے، اور صفت جب جملہ ہو تو عائد ضروری ہوتا ہے فِیْہِ کا اضافہ عائد کے محذوف ہونے کی طرف اشارہ ہے واذکر اذا ابتلیٰ ابراہیم میں ایک قراءت ابراھام بھی ہے، ابراہیم سریانی زبان میں أَبٌّ رحیمٌ کو کہتے ہیں، یعنی مشفق و مہربان باپ، یہاں اذکر محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ اِذْ ، اذکر فعل محذوف کا معمول ہے نہ کہ ابتلیٰ کا، یہ ان لوگوں پر رد ہے جو کہتے ہیں کہ اِذْ ، اِبتَلٰی کا معمول ہے، اس لئے کہ اس میں معمول کا عامل پر مقدم ہونا لازم آتا ہے۔ قولہ : قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا یہ جملہ مستانفہ ہے، اور ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے تمام اوامرو نواہی کو بحسن و خوبی انجام دیدیا تو کیا ہوا ؟ جواب : میں فرمایا میں تجھ کو لوگوں کا دینی پیشوا بناؤنگا۔ قولہ : قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ کا عطف بتاویل بعض جاعِلکَ کے کاف پر ہے، جیسا کہ مِن تبعیضیہ دلالت کر رہا ہے۔ سوال : ضمیر متصل پر بغیر اعادہ ضمیر یا فصل کے عطف صحیح نہیں ہے، لہٰذا مِن ذُرِّیّتی کا عطف کاف ضمیر پر کیسے درست ہے ؟ جواب : جَاعِلُکَ میں جاعِل کی کاف کی طرف اضافت لفظیہ ہے اور انفصال کے درجہ میں ہے، لہٰذا عطف درست ہوگیا۔ سوال : اس عطف میں ایک کے مقولہ کا دوسرے کے مقولہ پر عطف لازم آرہا پے، اس لئے کہ اِنّی جَاعلُکَ اللہ تعالیٰ کا مقولہ ہے، او وَمِنْ ذُرِّیَّتِی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ جواب : ایک کے مقولہ کا دوسرے کے مقولہ پر عطف جائز ہے جیسا کہ تیرا وَزَیْدًا اس کے جواب میں کہنا جو تجھ سے کہے ساکرمُکَ تو کہے وزَیْدًا یعنی زید کا بھی اکرام کر، اس کو عطف تلقین کہتے ہیں، جیسا کہ سلام کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا، یہ بھی ایک کے مقولہ کا دوسرے کے مقولہ پر عطف کے قبیل سے ہے، جس میں کوئی قباحت نہیں ہے، حاصل یہ کہ خبر بمعنی طلب ہے۔ (ترویح الارواح) قولہ : الکعبۃ، اَلْبَیْت کی تفسیر الکعبۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ البیت میں الف لام عہد کا ہے، اور یہ اسماء مغالیہ میں سے جیسے الثریّا مطلق ستارہ کو کہتے ہیں، اب ایک مخصوص ستارہ کا نام ہوگیا ہے، اسی طرح البیت جب مطلق بولا جاتا ہے تو بیت اللہ ہی مراد ہوتا ہے۔ قولہ : مَثابَۃً ، ثابَ یثوبُ سے ظرف مکان ہے، لوٹنے کی جگہ، مرجع، مرکز، ثوبًا کے معنی ہیں، اصلی حالت کی طرف لوٹنا، ھاء اس میں مبالغہ کے لئے ہے جیسا کہ علامۃ ونسَّابۃ میں ہے۔ قولہ : مَأمَنًا لَّھُمْ یہ مصدر میمی بمعنی ظرف مکان ہے، موضع امن، اَمْنًا کو مَامَنًا کے معنی میں لینے کی وجہ سے اَمْنًا کا اَلْبَیْت پر حمل بھی درست ہوگیا ورنہ مصدر کا حمل ذات پر لازم آرہا تھا۔ قولہ : وَکَان الرجل یَلْقٰی الخ یہ اغارات وغیرہ سے امن کے معنی کا بیان ہے۔ قولہ : وَاتَّخِذُوْا اس کا عطف جَعلنا پر ہے، اور یہ قول محذوف کا مقولہ ہے ای قلنا لہم اتحذوا مِن مقام ابراھیمَ مصلیّٰ ۔ قولہ : بفتح الخاء خبرٌ اس کا عطف بھی جَعَلْنَا پر ہے، یہ بیان حال کے لئے ہے، یعنی لوگوں نے اس کو اپنا مصلیّٰ بنا لیا۔ قولہ : اَمَرْنَاھُمَا، عَھِدَنَا کی تفسیر اَمَرْنَا سے کرکے ایک سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔ سوال : عَھِدَ کا صلہ جب الیٰ آتا ہے تو اس کے معنی توصیۃ کے ہوتے ہیں جو ذات باری کے مناسب نہیں ہیں۔ جواب : عَھِدْنَا بمعنی اَمَرْنَا ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : بِاَنْ اس میں اشارہ ہے کہ اَنْ مصدریہ ہے نہ کہ تفسیر یہ، فعل امر پر بیان مامور بہ کے لئے داخل ہے۔ تفسیر و تشریح یٰبَنِی اِسْرَآئِیْلَ سابق میں یہ بات گزرچکی ہے کہ بنی اسرائیل اولادِ یعقوب کو کہا جاتا ہے، ما قبل میں بنی اسرائیل کی ایک طویل فرد جرم شمار کرانے اور ان کی موجودہ حالت جو نزول قرآن کے وقت تھی بےکم وکاست بیان کرنے کے بعد ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم ہماری ان نعمتوں کی انتہائی ناقدری کرچکے ہو جو ہم نے تم کو عطا کی تھیں، تم نے صرف یہی نہیں کیا کہ منصب امامت کا حق ادا نہیں کیا بلکہ خود بھی حق وراستی سے پھرگئے، اور اب ایک نہایت قلیل عنصر صالح کے سوا تمہاری پوری امت میں کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ اور اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ امامت اور پیشوائی کسی نسل یا قوم کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ اس سچی اطاعت و فرماں برداری کا پھل ہے جس میں ہمارے اس بندے (ابراہیم) نے اپنی ہستی کو گم کردیا تھا، اور اس کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو ابراہیم کے طریقہ پر خود چلیں اور دنیا کو اس پر چلانے کی خدمت انجام دیں، چونکہ اے بنی اسرائیل ! تم اس طریقہ سے ہٹ گئے ہو اور اس خدمت کی اہلیت پوری طرح کھوچکے ہو، لہٰذا تمہیں امامت کے منصب سے معزول کیا جاتا ہے۔ اسی کے بعد یہ بات ارشاد فرمائی کہ اب ہم نے نسل ابراہیم کی دوسری شاخ بنی اسرائیل میں وہ رسول پیدا کیا کہ جس کے لئے ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) نے دعا کی تھی، لہٰذا اب امامت کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں، جو اس رسول کی پیروی کریں گے۔ تبدیلی امامت کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی قدرتی طور پر تحویل قبلہ کا اعلان بھی ضروری تھا، جب تک بنی اسرائیل کی امامت کا دور تھا، بیت المقدس مرکزدعوت رہا اور وہی قبلہ اہل حق بھی رہا، مگر جب بنی اسرائیل اس منصب سے باضابطہ معزول کر دئیے گئے تو بیت المقدس کی مرکزیت خود بخود ختم ہوگئی، لہٰذا اعلان کیا گیا کہ اب وہ مقام دین الہٰی کا مرکز ہے جہاں سے اس رسول کی دعوت کا ظہور ہوا ہے اور چونکہ ابتداء میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مرکز بھی یہی مقام تھا، اس لئے اہل کتاب اور مشرکین کسی کے لئے بھی یہ تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ قبلہ ہونے کا زیادہ حق کعبے ہی کو پہنچتا ہے، ہٹ دھرمی کی بات دوسری ہے کہ وہ حق کو حق جانتے ہوئے بھی اعراض کئے چلے جا رہے ہیں۔ امت محمد ﷺ کی امامت اور کعبے کی مرکز یت کا اعلان کرنے کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے انیسویں رکوع سے آخر سورت تک مسلسل اس امت کو ہدایت دی ہیں جن پر انہیں عمل پیرا ہونا چاہیے۔