Ayahs 2:256–257لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ، حصین انصاری نامی ایک شخص کے دو لڑکے یہودی یا نصرانی ہوگئے تھے، پھر جب انصار مسلمان ہوگئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو یہودی یا نصرانی ہوگئے تھے زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر یہ آیت نازل ہوئی، شان نزول کے اعتبار سے مفسرین نے اسے اہل کتاب کے لیے خاص مانا ہے یعنی اسلامی مملکت میں رہنے والے اہل کتاب اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں تو انہیں قبول اسلام کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے کہ ہر شخص اپنی مرضی سے چاہے اپنے کفر پر قائم رہے اور چاہے اسلام میں داخل ہوجائے، تاہم کفر و شرک کے خاتمے اور باطل کا زور توڑنے کے لیے جہاد ایک الگ اور جبرواکراہ سے مختلف چیز ہے، مقصد معاشرے سے اس قوت و طاقت کا زور توڑنا ہے جو اللہ کے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ کی راہ میں روڑا بنا ہوا ہوتا ہے چونکہ روڑا بننے والی طاقتیں رہ رہ کر ابھرتی رہیں گے اس لیے جہاد کا حکم اور اس کی ضرورت بھی قیامت تک رہے گی جیسا کہ حدیث میں ہے، ” الجھاد ماضٍ الی یوم القیامۃ “ ، جہاد قیامت تک جاری رہے گا اسی طرح سزائے ارتداد سے بھی اس آیت کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، کیونکہ ارتداد کی سزائے قتل سے مقصود جبرواکراہ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کی نظریاتی حیثیت کا تحفظ ہے، ایک اسلامی ملک میں ایک کافر کو اپنے کفر پر قائم رہنے کی اجازت تو ہوسکتی ہے لیکن ایک بار جب وہ اسلام میں داخل ہوجائے تو اس کو اس سے بغاوت اور انحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہٰذا وہ خوب سوچ سمجھ کر اسلام لائے کیونکہ اگر ارتداد کی اجازت دیدی جاتی تو نظر یاتی اساس منہدم ہوسکتی تھی جس س سے نظریاتی انتشار اور فکری انار کی پھیلتی ہے جو اسلامی معاشرہ کے امن کو اور ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی تھی اس لیے جس طرح انسانی حقوق کے نام پر قتل، چوری، زنا، ڈاکہ وغیرہ جرائم کی اجازت نہیں دی جاسکتی اسی طرح آزادی رائے کے نام پر ایک اسلامی مملکت میں نظریاتی بغاوت (ارتداد) کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی یہ جبر واکراہ نہیں ہے بلکہ مرتد کا قتل اسی طرح عین انصاف ہے جس طرح قتل و غارت گری اور اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزائیں دینا عین انصاف ہے ایک کا مقصد ملک کا نظریاتی تحفظ ہے اور دوسرے کا مقصد ملک کو شروفساد سے بچانا ہے اور دونوں ہی مقصد ایک مملکت کے لیے ناگزیر ہیں، آج اکثر اسلامی ممالک ان دونوں مقاصد کو نظر انداز کرکے جن الجھنوں، دشواریوں اور پریشانیوں سے دوچار ہیں محتاج و ضاحت نہیں۔
وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ : ” طاغوت “ لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا ہو، قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جو بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خود آقائی اور خداوندی کا دم بھرنے لگے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے، خدا کے مقابلہ میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں، پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً خدا کی فرماں برداری ہی کو حق جانے مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے اس کا نام فسق ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرمانبرداری سے اصولاً منحرف ہو کر خود مختار ہوجائے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے یہ کفر ہے، تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہو کر اس کے ملک میں اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے، اس آخری مرتبہ پر جو بندہ پہنچ جائے اسی کا نام ” طاغوت “ ہے۔
Ayah 2:258آیت نمبر 258 تا 260
ترجمہ : کیا تم نے اس شخص کے حال پر نظر نہیں کی جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے بارے میں مباحثہ کیا تھا ؟ اس سبب سے کہ اللہ نے اس کو بادشاہت دے رکھی تھی، اللہ کی نعمتوں پر اترانے نے اس کو اس سرکشی (مباحثہ) پر آمادہ کیا تھا اور وہ نمروذ تھا، اس وقت جبکہ ابراہیم نے اس کے اس قول کے جواب میں کہ تیرا رب کون ہے ؟ جس کی طرف دعوت دیتا ہے ؟ کہا تھا میرا رب تو وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے یعنی موت وحیات کو جسموں میں پیدا کرتا ہے، وہ بولا زندگی اور موت تو قتل اور معافی کے ذریعہ میں (بھی) دیتا ہوں اور اس نے دو آدمیوں کو بلایا ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا۔ جب (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) اس کو بیوقوف پایا تو اس سے بھی زیادہ واضح حجت کی طرف انتقال کرتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (اچھا) اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دکھا۔ اس پر وہ کافر دنگ رہ گیا (یعنی) حیران و ششدر رہ گیا، اللہ تعالیٰ کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والوں کو راہ استدلال نہیں دکھاتا، یا (پھر) کیا اس شخص (کے حال) پر نظر کی ؟ کاف زائد ہے۔ جو ایک بستی پر کہ بستی وہ بیت المقدس تھی گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور اس کے ساتھ انجیر کی ایک ٹوکری تھی اور انگور کے شیرے کا ایک پیالہ تھا، اور وہ عزیز (علیہ السلام) تھے اور وہ بستی اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی، اس لئے کہ اس کو بخت نصر نے برباد کردیا تھا۔ تو اس نے کہا اس بستی (والوں) کو ان کے مرنے کے بعد اللہ کس طرح زندہ کرے گا ؟ (حضرت عزیز نے) یہ بات اللہ کی قدرت کو عظیم سمجھتے ہوئے (تعجب کے طور پر) کہی تو اللہ نے اس کو موت دیدی اور سو سال تک پڑا رکھا پھر اس کو زندہ کیا تاکہ اس کو احیاء کی کیفیت دکھائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو (اس حالت میں) کتنی مدت پڑا رہا تو اس نے کہا ایک دن یا اس کا کچھ حصہ رہا ہوں گا اسلئے کہ وہ بوقت صبح سویا تھا تو اس کی روح قبض کرلی گئی اور غروب کے وقت زندگہ کیا گیا تو اس نے سمجھا کہ یہ غروب سونے کے دن ہی کا ہے۔ فرمایا (نہیں) بلکہ تو سو سال تک رہا اب تو اپنے انجیر کو اور مشروب انگور کے رس کو دیکھ کر وہ بول زمان کے باوجود خراب نہیں ہوا، کہا گیا ہے کہ (یَتَسَنّہ) میں (ھا) اصلی ہے، سَانَھْتُ سے مشتق ہے اور کہا گیا ہے کہ وقف کی ہے سانَیْت سے ماخوذ ہے، اور ایک قراءت میں حذف ھا۔ کے ساتھ ہے اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ کہ اس کی کیا حالت ہے تو اس کو مردہ دیکھا، اور اس کی ہڈیاں سفید چمکدار ہیں، ہم نے یہ اس وجہ سے کیا تاکہ تم کو (مشاہدہ) کے طور پر معلوم ہوجائے اور تاکہ ہم تجھ کو لوگوں کے لئے بعثت پر نشانی بنادیں اور تو اپنے گدھے کی ہڈیوں کو دیکھ کہ ہم ان کو کس طرح زندہ کرکے اٹھاتے ہیں (نُنشِزُھَا) نون کے ضمہ اور نون کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اَنْشَزَ اور نَشَزَ سے دو لغت ہیں اور ایک قراءت میں ضمہ نون اوزاء کے ساتھ ہے یعنی اس کو حرکت دیتے ہیں اور اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں تو (حضرت عزیز (علیہ السلام) نے) ان ہڈیوں کو دیکھا دراں حالیکہ وہ جڑ گئیں اور ان پر گوشت چڑھا دیا گیا اور ان میں روح پھونک دی گئی، اور وہ بولنے لگا، پھر جب یہ سب کچھ مشاہدہ کے طور پر ظاہر ہوگیا تو (حضرت عزیر (علیہ السلام) کہہ اٹھے کہ مجھے (مشاہدہ سے) علم یقینی حاصل ہوگیا، کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر شئ پر قادر ہے اور ایک قراءت میں اِعْلَمْ بصیغہ امر ہے (یعنی) اللہ کی جانب سے ان کو دیکھ کر علم مشاہدہ حاصل کرنے کا حکم ہوا، اور اس واقعہ کو یاد کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ ان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم کو میری قدرت علی الاحیاء پر یقین نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کیا باوجود یکہ اللہ تعالیٰ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا علم تھا، تاکہ ابراہیم (علیہ السلام) اس کے سوال کا جواب دیں اور سامعین کو ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کا مقصد معلوم ہوجائے، ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ایمان تو ہے مگر میں نے آپ سے سوال کیا تاکہ مشاہدہ مع استدلال سے میرے قلب کو سکون ہوجائے، فرمایا چار پرند لو ان کے ٹکڑے کر ڈالو پھر ان کو اپنی طرف ہلاؤ صاد کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ یعنی ان کو اپنی طرف مائل کرو اور ان کے ٹکڑے کرکے ان کے گوشت اور پروں کو خَلَطْ مَلَطْ کردو پھر اپنے علاقہ کے ہر پہاڑ پر ان میں سے تھوڑا تھوڑا رکھ دو پھر ان کو اپنی طرف آواز دو وہ تیری طرف تیزی سے آئیں گے اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے، اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی اور اپنی صنعت میں حکمتوں والا ہے چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) ایک مور ایک کرگس ایک کوا ایک مرغا لیا اور ان کے ساتھ مذکورہ معاملہ کیا اور ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا، پھر ان کو آواز دی تو بعض اجزاء بعض کی طرف اڑے حتیٰ کہ مکمل پرند ہوگئے پھر وہ اپنے سروں کی طرف متوجہ ہوئے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : جَادَلَ ، حاجّ کی تفسیر جادَلَ سے کرکے بتادیا کہ حاجَّ بمعنی غَلَبَ فی الحجۃ نہیں ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے فَحَجّ آدمُ موسیٰ ، آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ اس لئے کہ نمرود حجت میں ابراہیم پر غالب نہیں آیا تھا۔
قولہ : اَیْ حَمَلَہٗ الخ، اس میں اشارہ ہے کہ نمروذ کی حجت بازی کا سبب اعطاء ملک تھا، أنْ اٰتٰہُ اللہُ ، الملکَ حذف لام کے ساتھ مفعول لِاَجَلہ ہے ای لَاَن آتاہ اللہ الملک۔
قولہ : نُمرُوذُ ، نمرُوذُ بن کنعان، نُمرُوذ۔ نون اور ذال معجمہ کے ضمہ کے ساتھ، (ترویح الارواح) ، یہ ولد الزنا تھا سب سے پہلے تاج مکلل اپنے سر پر اسی نے رکھا تھا اور روئے زمین کا مالک ہوا نیز اس نے ربوبیت کا دعویٰ کیا، دنیا میں چار بادشاہ ایسے گزرے ہیں جو روئے زمین کا مالک ہوئے ہیں ان میں سے دو مسلمان سلیمان و ذوالقرنین (علیہم السلام) ہیں، اور دو کافر ہیں نمروذوبخت نصر۔
قولہ : بَطَرہ، بَطَر کے معنی اترانے اور حد سے زیادہ بےجا فخر کرنے کے ہیں۔ قولہ : اِذ، بدل من حَاجّ ۔ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : اِذ ظرفیہ کا فعل سے بدل واقع ہونا درست نہیں ہے ؟
جواب : حذف فعل مثل جاَدلَ یا خَاصَمَ سے بدل کل ہے اِذ ظرفیہ کی طرف بدلیت کی نسبت فعل کے قائم مقام ہونے کی وجہ ہے۔
قولہ : ای یخلق الحیاۃَ والموتَ اس عبارت میں نمروذ کے اعتراض کے فاسد ہونے کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ یحی وَیُمیت سے مطلب اجسام میں موت وحیات کو پیدا کرنا ہے جو کہ نمروذ سے ممکن نہیں تھا۔
قولہ : تَحَیَّرَ ودَھِشَ ، بُھِتَ ، ان افعال میں سے ہے کہ جو مبنی للمفعول استعمال ہوتے ہیں مگر معنی میں مبنی للفاعل کے ہوتے ہیں، بُھِتَ ، کی تفسیر تحَیَرَ اور دَھِشَ ، سے کرکے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : المحجۃ، میم کے فتحہ کے ساتھ، کشادہ راستہ۔ قولہ : منتقلاً اِلیٰ حجۃٍ اوضع منھا، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ ایک دلیل سے دوسری دلیل کی طرف انتقال دو وجہ سے ہوا کرتا ہے اول دلیل میں فساد و نقص ہو حالانکہ نبی سے یہ ممکن نہیں ہے، دوسرے یہ کہ اگر دلیل میں کوئی ابہام ہو تو اس کو واضح نہ کرسکے اور یہ بھی درست نہیں۔
جواب : یہ انتقال، مِنْ دَلیلٍ اِلیٰ دَلیلٍ آخر، نہیں ہے بلکہ دلیل خفی سے دلیل جلی کی طرف انتقال ہے۔
قولہ : اَوْ راَیتَ کالّذی، راَیتَ کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : اَوْ کاَلّذی کا عطف کالّذِیْ حَاجَّ پر درست نہیں ہے اس لئے کہ جو عامل معطوف علیہ کا ہوتا ہے وہی معطوف کا بھی ہوتا ہے معطوف علیہ کا عامل اِلیٰ ، ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کالّذِی کا عامل بھی، الیٰ ہو، حالانکہ کاف پر الیٰ کا دخول جائز نہیں ہے کاف خواہ اسمیہ ہو یا حرفیہ۔ جواب : یہ عطف مفرد علی المفرد نہیں ہے بلکہ عطف جملہ علی الجملہ ہے اور کالذی سے پہلے اَراَیتَ محذوف ہے جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے۔
قولہ : بُخت نصر، بخت بمعنی ابن اور نصر ایک بت کا نام ہے بخت نصر، کے معنی ہیں ابن الصنم اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب یہ پیدا ہوا تھا تو اس کی والدہ نے اس کو نصر بت کے پاس ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام بخت نصر یعنی ابن الصنم مشہور ہوگیا۔ (صاوی)
قولہ : لَمْ یَتَسنَّہ، ای لم یَتَغَیرّ (تَفَعُّل) سے مضارع واحد مذکر غائب، سالہا سال گزرنے کے باوجود خراب نہ ہوا، حمزہ اور کسائی نے ھاء کو ھاء سکتہ قرار دیتے ہوئے حالت وصل میں حذف ضروری قرار دیا ہے ان کے نزدیک اصل لفظ یَتَسَنَّ ہے جس کی اصل یَتَسَنّٰی تھی حالت جزم میں الف ساقط ہو کر یَتَسَنَّ ہوگیا، اس قول کے مطابق یہ سَنَۃٌ سے ماخوذ ہوگا، کس کی اصل سَنْوَۃ تھی۔ ابو عمر و نے کہا تَسَنّی (تفعل) کی اصل تَسَنُّنٌ تھی اور تَسَنُّنٌ کے معنی ہیں تغیر۔ اسی مادہ سے حَمَا مَّسْنُون ہے۔ بعض دیگر حضرات، ھاء کے اصل ہونے کے قائل ہیں جو کہ وقف اور وصل دونوں حالتوں میں باقی رہتی ہے اس قول پر بھی سَنَۃٔ سے ماخوذ ہوگا مگر سَنَۃ کی اصل سَنْھَۃٌ تھی اس لئے کہ اس کی تصغیر سُنِیْھَۃ آتی ہے۔
سوال : لم یَتَسَنَّہٗ ، کو مفرد لایا گیا ہے حالانکہ اس سے مراد ظعام و شراب ہیں لہٰذا تثنیہ لانا چاہیے تھا۔
جواب : طع ام و شراب، بمنزلہ غذا، حکم میں مفرد کے ہیں اس لئے یَتَسَنَّہٗ ، کو مفرد لایا گیا ہے۔ قولہ : فَعَلْنا ذٰلکَ لتَعْلَمَ ۔
سوال : وَلِنَجْعَلَکَ ، میں واؤ کیسا ہے ؟ اگر عاطفہ ہے تو اس کا معطوف علیہ کیا ہے ؟ حالانکہ ماقبل میں کوئی معطوف علیہ ایسا نہیں کہ اس کا اس پر عطف درست ہو۔
جواب : بعض حضرات نے واؤ کو استینافیہ کہا ہے اور لام محذوف کے متعلق ہے، تقدیر عبارت یہ ہے فَعَلْنَا ذٰلک لِنَجْعَلَکَ اٰیۃً للنَاس، لِنَجْعَلَکَ اصل میں لِاَنْ نَجْعَلَکَ ہے جار اپنے مصدر تاویلی مجرور سے مل کر فعل محذوف کے متعلق ہے۔
دوسرا جواب : جن حضرات نے واؤ عاطفہ مانا ہے تو انہوں نے فعل محذوف پر عطف کیا ہے جیسا کہ مفسر علام نے لِتَعْلَمَ معطوف علیہ مقدر مانا ہے اور وہ معطوف علیہ ایک دوسرے فعل مقدر سے جو کہ ماسبق سے مفہوم ہے، متعلق ہے اور وہ فَعَلْنَا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے فَعَلْنَا ذلِکَ لِتَعْلَمَ قدرتنا علیٰ اِحیاءِ الموتیٰ ۔
قولہ : نُنشِرُھا، نون کے ضمہ اور راء مہملہ کے ساتھ انشار (افعال) سے جمع متکلم، ہم کس طرح زندہ کرکے اٹھاتے ہیں اور راء مہملہ کی صورت میں نون کے فتحہ کے ساتھ (ن) سے بھی پڑھا گیا ہے۔ اور ایک قراءت میں نون کے ضمہ اور زائے معجمہ کے ساتھ ہے ای نُحَرِّکُھَا ونرفَعُھا، یعنی کسی طرح حرکت دیتے ہیں اور اٹھاتے ہیں، مجازی معنی ہم کس طرح زندہ کرتے ہیں۔ حضرت عزیز (علیہ السلام) کو مشاہدہ احیاء سے قبل علم استدلالی حاصل تھا اور مشاہدہ کے بعد علم المشاہدہ حاصل ہوا، لہٰذا دونوں باتیں صحیح ہیں۔
قولہ : فَیَعْلَمُ السَّمِعون، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کی وجہ عدم یقین اور عدم ایمان نہیں تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ سامعین کو معلوم ہوجائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کا مقصد اطمینان قلبی حاصل کرنا تھا نہ کہ نفس علم، تاکہ علم الوحی کے ساتھ علم المشاھدہ بلکہ مزید اطمینان کا سبب بنے، لہٰذا یہ وہم ختم ہوگیا کہ باوجود اس کے کہ اللہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا علم تھا تو پھر، اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ، کہہ کر اللہ تعالیٰ نے کیوں سوال کیا ؟
اللغۃ والبلاغۃ
اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْ حَاجَّ ، یہ استفہام تعجبی ہے، ای اِعجَبْ یا محمد مِنْ ھذہ القصۃ اور اَنّٰی یُحییْ ھذہ اللہ بَعْدَ مَوْتِھَا، میں استفہام اظہار عظمت کے لئے ہے۔ فَصُرْھُنّ ، بضم الصاد و کسرھا، صَارَ یَصورُ یا صَارَ یَصیْرُ سے فعل امر ہے بمعنی ضَمِّ او بمعنی مال ملا، مائل کر، مانوس کر، اس کے معنی ٹکڑے ٹکڑے کرنا بھی ہیں اور بعض نے کہا ہے ضمہ کے ساتھ تو دونوں معنی میں مشترک ہے اور کسرہ کے ساتھ بمعنی قطع کرنا۔
تفسیر و تشریح
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرَاھِیْمَ فِیْ رَبِّہٖ ، اَلَمْ تَرَ ، عربی ادب میں یہ اسلوب حیرت اور استعجاب کے موقع پر استعمال ہوتا ہے، اور اس میں پہلوئے ذم نمایاں ہے جب کبھی کسی کے کسی حیرت انگیز نقص یا عیب کی طرف توجہ دلانی ہوتی ہے تو اس کو اسی طریقہ پر شروع کرتے ہیں جیسے اردو میں کہتے ہیں : تم نے فلاں کی حرکت دیکھی ؟ (تفسیر کبیر ملخصاً ) رہی یہ بحث کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بحث و مباحثہ کرنے والا کون تھا ؟ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کوئی معاصر بادشاہ تھا، مفسرین نے اس کا نام نمرود بتایا ہے، جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وطن عراق کا بادشاہ تھا، جس واقعہ کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اس کا ذکر بائبل میں نہیں ہے اس لئے اہل کتاب اس واقعہ کو ماننے ہی میں تامل کرتے ہیں، البتہ تلمود میں یہ پورا واقعہ موجود ہے اور بڑی حد تک قرآن کے مطابق ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نمروذ کے یہاں سب سے بڑا عہدیدار تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب برملا شرک کی مخالفت اور توحید کی تبلیغ شروع کی اور بت خانہ میں گس کر بتوں کو توڑ ڈالا تو ان کے باپ نے خود ان کا مقدمہ بادشاہ کے دربار میں پیش کیا اور پھر وہ گفتگو ہوئی جو یہاں بیان کی گئی ہے۔
مابہ النزاع کیا تھا ؟: مابہ النزاع یہ بات تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنا رب کس کو مانتے ہیں اور یہ نزاع اس وجہ سے پیدا ہوا کہ جھگڑنے والے شخص کو خدا نے حکومت عطا کی تھی اس وجہ نزاع کی طرف، اِنْ اٰتٰہُ اللہُ الْمَلْکَ ، سے اشارہ کیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل حقیقتوں پر نظر رہنی ضروری ہے۔
(1) قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام مشرک سوسائٹیوں کی مشترکہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو رب الاعباب خدائے خداوند گان کی حیثیت سے تو مانتے ہیں، مگر صرف اسی کو رب اور تنہا اسی کو خدا اور معبود نہیں مانتے۔
(2) خدائی کو مشرکین نے ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک فوق الفطری خدائی جو سلسلہ اسباب پر حکمراں ہے اور جس کی طرف انسان اپنی حاجت اور مشکلات میں دستگیری کے لئے رجوع کرت ا ہے، اس خدائی میں وہ اللہ کے ساتھ ارواح، فرشتوں اور جنوں اور سیاروں اور دوسری بہت سی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ان سے دعائیں مانگتے ہیں ان کے سامنے مراسم پرستش بجا لاتے ہیں اور ان کے آستانوں پر نذر و نیاز پیش کرتے ہیں۔ دوسری تمدنی اور سیاسی معاملات کی خدائی (یعنی حاکمیت) ہے اس دوسری قسم کی خدائی کو دنیا کے تمام مشرکوں نے قریب قریب ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے سلب کرکے شاہی خاندانوں اور مذہبی پروہتوں اور سوسائٹی کے اگلے پچھلے بڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اکثر شاہی خاندان اسی دوسرے معنی میں خدائی کے مدعی ہوئے ہیں اور اسے مستحکم کرنے کے لئے انہوں نے بالعموم پہلے معنی والے خداؤں کی اولاد ہونیکا دعوی کیا ہے اور مذہبی طبقے اس معاملہ میں ان کے ساتھ شریک سازش رہے ہیں مثلاً جاپان کا شاہی خاندان اسی معنی کے اعتبار سے خود کو خدا کا اوتار کہتا ہے اور جاپانی ان کو خدا کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔
(3) نمروذ کا دعوائے خدائی بھی اسی دوسری قسم کا تھا وہ خدا کے وجود کا منکر نہ تھا اس کا دعویٰ یہ نہ تھا کہ زمین و آسمان کا خالق اور پوری کائنات کا مدبر میں ہوں، بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اس ملک عراق کا اور اس کے باشندوں کا حاکم مطلق میں ہوں میری زبان قانون ہے میرے اوپر کوئی بالاتر اقتدار نہیں ہے جس کے سامنے میں جواب دہ ہوں، اور عراق کا ہر وہ باشندہ باغی اور غدار ہے جو اس حیثیت سے مجھے اپنا رب نہ مانے یا میرے سوا کسی اور کو رب تسلیم کرے، نمزوذ کو اس خداداد سلطنت کی وسعت ہی نے اتنا دلیر، سرکش اور برخود غلط بنا رکھا تھا کہ دعوائے خدائی کر بیٹھا روایات یہود میں یہاں تک تصریح ملتی ہے کہ اس نے اپنے لئے ایک عرش الٰہی بنا رکھا تھا جس پر بیٹھ کر اجلاس کرتا تھا (ملاحظہ ہوگینزہوگ کی حکایات یہود) ۔
(4) ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کہا کہ میں صرف ایک رب العالمین کو خدا، معبود، اور رب مانتا ہوں اور اس کے سوا سب کی خدائی اور ربوبیت کا منکر ہوں تو سوال صرف یہی نہیں پیدا ہوا کہ قومی مذہب اور مذہبی معبودوں کے بارے میں ان کا یہ نیا عقیدہ کہاں تک قابل برداشت ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ قومی ریاست اور اس کے مرکزی اقتدار پر اس عقیدے کی جو زد پڑی ہے اسے کیونکر نظر انداز کیا جاسکتا ہے یہی وجہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جرم بغاوت کے الزام میں نمروذ کے سامنے پیش کئے گئے۔ نمروذ نے داعی توحید (ابراہیم (علیہ السلام) کو چیلنج دے کر پوچھا کہ وہ کونسا خدا ہے کہ جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو ذرا میں بھی تو اس کے اوصاف سنوں، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیِیٖ وَیُمِیْتُ “ یعنی حیات و موت کی ساری قوتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں، وہ سارے نظام و ربوبیت کا سرچشمہ ہے کائنات حیاتی کی فنا اور بقا کے سارے قانون اور ضابطے آخر میں اسی پر جا کر ٹھیرتے ہیں۔ کسی بندے میں یہ طاقت نہیں کہ اس نظام حیاتی کو بدل سکے اس میں کوئی ادنی تصرف کر دکھائے، اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب کے اس پہلے ہی فقرے سے یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ اب، اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا، تاہم نمروذ اس کا جواب ڈھٹائی سے دے گیا اور دو واجب القتل مجرموں کو بلایا اور ایک کو معاف کردیا اور دوسرے کو قتل کرا دیا اور کہہ دیا ” اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استدلال وہی قائم رکھا صرف مخاطب کی ذہنی سطح کا لحاظ رکھتے ہوئے دوسری مثال پیش کردی اور فرمایا اچھا کائنات حیاتی نہ سہی کائنات طبعی ہی کے خدائی نظام میں ایک ادنی تصرف کرکے دکھا دو نمروذ سورج دیوتا کا خود کو اوتار کہتا تھا اور سورج کے خدائے اعظم ہونے کا قائل تھا اس کے عقیدہ کے ابطال و تردید میں سورج ہی کی مثال پیش کی، ” قَالَ اِبْرَاھِیْمُ فَاِنَّ اللہَ یَاْتِیْ بالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَر “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کس قدر بہترین گرفت فرمائی ! !
اس استدلال کا نمروذ ڈھٹائی سے بھی جواب نہ دے سکا، اس لیے کہ وہ خود ہی جانتا تھا کہ آفتاب و ماہتاب اسی خدا کے زیر فرمان ہیں جس کو ابراہیم (علیہ السلام) رب مانتا ہے، مگر اس طرح جو حقیقت اس کے سامنے بےنقاب ہو رہی تھی اس کو تسلیم کرلینے کے معنی اپنی مطلق العنان فرمانروائی سے دست بردار ہوجانے کے تھے، جس کے لیے اس کے نفس کا طاغوت تیار نہ تھا لہٰذا وہ ششدر ہی ہو کر رہ گیا، خود پرستی کی تاریکی سے ھق پرستی کی روشنی میں نہ آیا۔ تلمود کا بیان ہے کہ اس کے بعد نمروذ کے حکم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قید کر دئیے گئے دس روز تک وہ جیل میں رہے، پھر بادشاہ کی کونسل نے ان کو زندہ جلانے کا فیصلہ کیا اور ان کو آگ میں پھینکے جانے کا واقعہ پیش آیا جو سورة انبیاء، عنکبوت اور سورة الصافات میں بیان ہوا ہے۔
Ayahs 2:259–260اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ آیت کا عطف معنوی سابق آیت پر ہے اور تقدیر کلام اکثر نحویوں نے یہ نکالی ہے، ” اَرَیْتَ کَالَّذِیْ حَاجَّ اِبْرَاھِیْمَ اَوْ کالَّذِیْ مَرَّ علی قریۃٍ “ اور زمخشری، بیضاوی وغیرہ نے تقدیر ” اَرَیتَ مِثل الذی مَرَّ الخ “ نکالی ہے اور اسی کو ترجیح دی ہے۔
قرآن عزیز اور حضرت عزیر (علیہ السلام) : قرآن عزیز میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کا نام صرف ایک جگہ سورة توبہ میں مذکور ہے، اور اس میں بھی صرف یہ کہا گیا ہے کہ یہود عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں جس طرح کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں، اس ایک جگہ کے سوا قرآن میں اور کسی مقام پر ان کا نام لے کر ان کے حالات و واقعات کا تذکرہ نہیں ہے۔ وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللہُ وَقَالَتِ النَّصَارَیٰ الْمَسِیْحُ ابْنُ اللہُ ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ یُضَاھِنُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قبْلُ قَاتَلَھُمُ اللہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ ( سورة توبہ) ۔ اور یہود یوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ ان کی باتیں ہیں محض ان کی زبانوں سے نکالی ہوئی، ان لوگوں نے بھی ان ہی کی سی بات کہی جو اس سے پہلے کفر کی راہ اختیار کرچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت یہ کدھر بھٹکے جا رہے ہیں۔
قرآن میں مذکور ایک واقعہ : البتہ مذکورہ آیت میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک برگزیدہ ہستی کا اپنے گدھے پر سوار ایک ایسی بستی سے گزر ہوا جو بالکل تباہ و برباد ہو کر کھنڈر ہوچکی تھی وہاں نہ کوئی مکان تھا اور نہ مکین، ان بزرگ نے جب یہ دیکھا تو تعجب اور حیرت سے کہا ایسا کھنڈر اور تباہ حال ویرانہ پھر کیسے آباد ہوگا ؟ اور یہ مردہ بستی کس طرح دوبارہ زندگی اختیار کرے گی ؟ یہاں تو بظاہر کوئی بھی ایسا سبب نظر نہیں آتا، یہ بزرگ ابھی اسی فکر میں غرق تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی جگہ ان کی روح قبض کرلی اور سو برس تک اسی حالت میں ڈالے رکھا، یہ مدت گزر جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندگی بخشی، تب ان سے کہا بتاؤ ! کتنے عرصہ اس حالت میں رہے ؟ وہ جب موت کی آغوش میں سوئے تھے تو دن چڑھنے کا وقت تھا، اور جب دوبارہ زندگی پائی تو غروب آفتاب کا وقت تھا، اس لیے انہوں نے جواب دیا ایک دن یا چند گھنٹے۔ اللہ نے فرمایا ایسا نہیں ہے، بلکہ تم سو برس تک اسی حالت میں رہے، اور اب تمہارے تعجب اور حیرت کا یہ جواب ہے کہ تم ایک طرف اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ ان میں مطلق کوئی تغیر نہیں آیا، اور دوسری جانب اپنے گدھے کو دیکھو کہ اس کا جسم گل سڑ کر صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے، اور پھر ہماری قدرت کا اندازہ کرو کہ جس چیز کو چاہا کہ محفوظ رہے تو سو برس کے اس طویل عرصہ میں کسی بھی اس پر موسمی تغیرات نے اثر نہ کیا اور محفوظ وسالم رہی اور جس کے بارے میں ارادہ کیا کہ گل سڑ جائے وہ گل سڑگئی اور اب تماری آنکھوں کے دیکھتے ہی ہم اس کو دوبارہ زندگی بخشے دیتے ہیں، اور یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ ہم تم کو اور تمہارے واقعہ کو لوگوں کیلئے نشان قدرت بنادیں اور تم یقین کے ساتھ ساتھ عینی مشاہدہ بھی کرلو۔ تب انہوں نے اظہار عبودیت کے بعد یہ اقرار کیا کہ بلاشبہ تیری قدرت کاملہ کے لیے یہ سب کچھ آسان ہے اور مجھ کو علم الیقین کے بعد عین الیقین کا درجہ ہو حاصل ہوگیا۔
اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلیٰ قَرْیَۃٍ (الآیۃ) ان آیات کی تفسیر میں یہ سوال پیدا ہوتا کہ وہ بزرگ شخص کون تھا جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تو اس کے جواب میں مشہور قول یہ ہے کہ یہ حضرت عزیز (علیہ السلام) تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ تم یروشلم جاؤ۔ ہم اس کو دوبارہ آباد کردیں گے جب یہ وہاں پہنچے اور شہر کو تباہ اور برباد پایا تو بر بنائے بشریت یہ کہہ اٹھے کہ اس مردہ بستی کو دوبارہ کیسے زندگی ملے گی ؟ ان کا یہ قول بہ شکل انکار نہ تھا بلکہ تعجب اور حیرت کے ساتھ ان اسباب کے متلاشی تھے جن کے ذریعہ سے اللہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا تھا، لیکن اللہ کو اپنے برگزیدہ بندے اور نبی کی یہ بات بھی پسند نہیں آئی کیونکہ ان کے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے دوبارہ اس بستی کی زندگی کا وعدہ فرمایا ہے۔ چناچہ ان کے ساتھ وہ معاملہ پیش آیا جو مذکورہ بالاسطور میں بیان ہوا، اور جب وہ زندہ کئے گئے تو یروشلم (بیت المقدس) آبار ہوچکا تھا۔ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبد اللہ بن سلام اور قتادہ، سلیمان، حسن ؓ کا رجحان اسی جانب ہے کہ یہ واقعہ حضرت عزیز (علیہ السلام) سے متعلق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) ۔ اور وہب بن منبہ اور عبد اللہ بن عبید کا اور ایک روایت میں عبد اللہ بن سلام کا قول یہ ہے کہ یہ شخص حضرت ارمیاہ (یرمیاہ) نبی تھے، ابن جریر طبری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (تفسیر و تاریخ ابن کثیر)
تاریخی بحث : اور یہ اس لیے کہ جب قرآن عزیز نے اس ہستی کا نام ذکر نہیں کیا اور نبی ﷺ سے بھی اس سلسلہ میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے اور صحابہ وتابعین سے جو آثار منقول ہیں ان کا ماخذ بھی وہ روایات و اقوال ہیں جو وہب بن منبہ، کعب احبار اور حضرت عبد اللہ بن سلام تک پہنچتے ہیں جو کہ اسرائیلی روایات و واقعات سے منقول ہیں۔ اب واقعہ سے متعلق شخصیت کی تحقیق کے لئے صرف ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے کہ تورات اور تاریخی مصادر سے اس کو حل کیا جائے، مجموعہ تورات کے صحائف انبیاء اور تاریخی بیانات پر غور کرنے سے یہ تفصیلات سامنے آتی ہیں کہ یہ واقعہ حضرت یرمیاہ نبی سے متعلق ہے مزید تفصیل کے لیے قصص القرآن مصنفہ حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی (رح) تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔
Ayahs 2:261–262آیت نمبر 261 تا 266
ترجمہ : جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کے راستہ میں یعنی اس کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں ان کے مال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ کہ اس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اسی طرح ان کا (راہ خدا) میں صرف کیا ہوا مال سات سو گنا افزوں ہوتا ہے، اور اللہ جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ دیتا ہے اور اللہ کا فضل بڑا وسیع ہے (اور) وہ اس بات سے واقف بھی ہے کہ افزونی کا کون مستحق ہے ؟ جو لوگ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد جس پر خرچ کیا ہے مثلاً یہ کہہ کر احسان نہیں جتاتے کہ میں نے اس کے ساتھ احسان کیا اور میں نے اس کی (خستہ) حالت سدھا ردی اور نہ اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں اس احسان کا اس شخص کے سامنے تذکرہ کرکے کہ جس کا واقف ہونا یہ شخص پسند نہیں کرتا، (علی ہذا القیاس) ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، یعنی ان کے خرچ کا ثواب اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اعر نہ وہ غمگین ہوں گے ایک میٹھا بول (اچھی بات) اور سائل کو اچھا جواب دینا اور اس کے اصرار کو نظر انداز کرنا اس خیرات سے بہتر ہے کہ جس کے پیچھے احسان جتلا کر اور سوال پر عار دلا کر ایذا رسانی کی ہو، اور اللہ بندوں کے صدقے سے بےنیاز ہے اور احسان جتلانے والے اور تکلیف پہنچانے والے کی سزا کو مؤخر کرکے بردبار ہے، اے ایمان والو تم اپنے صدقات کو یعنی ان کے ثواب کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کے مانند ضائع نہ کرو۔ یعنی اس شخص کے صدقہ کے ضائع کرنے کے مانند کہ جو اپنے مال کو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا حال یہ کہ وہ منافق ہے۔ اس کی مثال اس چکنے پتھر کی ہے کہ جس پر مٹی پڑی ہو۔ اور اس پر زور کی بارش ہو سو اس کو بالکل صاف کرکے رکھ دے کہ اس پر کچھ باقی نہ رہے۔ (ایسے لوگ) کچھ بھی حاصل نہ کرسکیں گے اپنی کمائی (صدقات) سے، یہ جملہ مستانفہ ہے ریاکاری کے طور پر خرچ کرنے والے منافق کی مثال بیان کرنے کے لیے۔ اور (لایقدرون) کو جمع لایا گیا ہے اَلَّذِیْ کے معنی کی رعایت کرتے ہوئے۔ یعنی آخرت میں عمل خیر کا ثواب نہ پائیں گے جیسا کہ چکنے پتھر پر اس مٹی میں سے کچھ باقی نہیں رہتا جو اس پر تھی، بارش کے اس مٹی کو بہالے جانے کی وجہ سے۔ اور اللہ تعالیٰ کافروں کو راہ ہدایت نہ دکھائے گا اور ان لوگوں کے لیے (راہ خدا میں) خرچ کرنے کی مثال جو اپنے مالوں کو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات (وقرار) کے ساتھ خرچ کرتے ہیں یعنی اس پر ثواب حاصل کرنے کے لئے، بخلاف منافقین کے کہ وہ ثواب کی توقع نہیں رکھتے ان کے ثواب کے منکر ہونے کی وجہ سے اور مِنْ ابتدائیہ ہے، اس باغ کی ہے جو بلند سطح پر ہو (رُبْوَۃ) میں راء کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ۔ وہ جگہ جو مرتفع اور مستوی ہو۔ اور اس پر زور دار بارش ہوئی ہو جس کی وجہ سے اس (باغ) نے دوسرے باغوں کے پھل دینے کے مقابلے میں دوگنا پھل دیا ہو۔ اُکُلُھا۔ میں کاف کے ضمہ اور سکون کے ساتھ۔ (مراد) اس کے پھل ہیں اور اگر اس پر زوردار بارش نہ بھی ہو تو ہلکی ہی کافی ہے۔ یعنی اگر ہلکی بارش بھی اس پر ہوجائے تو اس کے بلند مقام پر ہونے کی وجہ سے وہی کافی ہوجاتی ہے، مطلب یہ کہ اس میں پھل آتے ہیں اور بڑھتے ہیں بارش خواہ زیادہ ہو یا کم ہو۔ اسی طرح مذکورین کے صدقات عند اللہ زیادہ ہوتے ہیں اور بڑھتے ہیں خواہ وہ صدقات کم ہوں یا زیادہ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے، لہٰذا وہ تم کو اس کی جزاء دے گا۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ کھجوروں کا اور انگوروں کا ہو جس کے تحت نہریں بہتی ہوں اور اس کے لیے اس باغ میں اور بھی ہر قسم کے میوے ہوں اور اس کا بڑھاپا آچکا ہو جس کی وجہ سے وہ کمانے میں کمزور پڑگیا ہو۔ اور اس کے کمزور کم سن بچے ہوں جو کمانے پر قادر نہ ہوں۔ اس باغ پر ایک بگولہ آئے (یعنی) شدید آندھی، کہ جس میں آگ ہو، جس کی وجہ سے وہ (باغ) جل جائے سو اس نے باغ کو اس وقت کھویا ہو کہ جب وہ آخرت میں اس کا سخت محتاج ہو۔ اور وہ اور اس کے بچے عاجز متحیر رہ گئے ہوں کہ ان کے لیے (گزر بسر کرنے کی) اور کوئی صورت نہ ہو۔ یہ ریاکار اور احسان جتلانے والے کی تمثیل ہے اس کے ضائع ہونے اور اس کے نفع نہ پہنچانے میں ایسے وقت میں جب کہ (وہ ریاکار) آخرت میں اس (کے ثواب) کا شدید محتاج ہو۔ اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، اور ابن عباس ؓ منقول ہے کہ یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے نیک اعمال کئے۔ پھر اس پر شیطان مسلط کردیا گیا تو اس نے معصیت کے عمل شروع کر دئیے یہاں تک کہ اس نے اپنے اعمال کو غرق (ضائع) کردیا۔ اللہ تمہارے لیے اسی طرح جس طرح بیان کی گئیں کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم اس میں غور وفکر کرو اور عبرت حاصل کرو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
مَثْلُ مضاف اَلَّذِیْنَ موصول، یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ جملہ ہو کر صلہ، صلہ موصول سے مل کر مثل کا مضاف الیہ، مضاف، مضاف الیہ سے مل کر مبتداء (کَمَثَل حبَّۃٍ ) حِبَّۃٍ موصوف ہے انبتت الخ جملہ ہو کر صفت ہے موصوف صفت سے مل کر محذوف کے متعلق ہو کر مبتداء کی خبر ہے۔ مفسر علام نے صفۃ، کا اضافہ کرکے بتادیا کہ مثل بمعنی مثال نہیں ہے بلکہ بمعنی صفت ہے
سوال : نفقات کے اضافہ کا کیا مقصد ہے ؟
جواب : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ مشبہ ہے اور کاف حرف تشبیہ ہے اور مثل حبۃ الخ مشبہ بہ ہے مشبہ اور مشبہ بہ میں موافقت نہ ہونے کی وجہ سے تشبیہ درست نہیں ہے اس لیے کہ مشبہ بہ (الذین منفقون) از قبیل حیوانات ہے اور مشبہ (حبۃ) ازقبیل جمادات ہے لہٰذا تشبیہ مناسب نہیں ہے، اس کے دو جواب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ مشبہ کی جانب حذف مانا جائے جیسا کہ مفسر علام نے لفظ نفقات محذوف مانا ہے، اب تقدیر عبارت یہ ہوگی، مَثل نفقۃ الَّذین ینفقون کمثل حَبَّۃٍ اَنْبَتت الخ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مشبہ بہ کی جانب حذف مانا جائے اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی، مثل الَّذینَ ینفقون اَمْوَالَھُمْ الخ کمثل زارع حبَّۃٍ ۔
قولہ : اکثر مِن ذٰلک اس حذف سے اشارہ کردیا کہ یُصٰعفُ کا مفعول محذوف ہے۔
سوال : مُضاعفت تو ماقبل سے مفہوم ہورہی ہے دوبارہ ذکر کرنے سے تکرار معلوم ہوتا ہے اس کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اکثرَ مِن ذٰلک کا اضافہ کرکے اس سوال کا جواب دیا ہے یعنی ماسبق سے جو مفہوم ہو رہا ہے اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے۔
قولہ : قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ، موصوف صفت سے ملکر معطوف علیہ اور مغفرۃ معطوف، معطوف معطوف علیہ سے ملکر مبتداء خَیْرٌ مِنْ صدقۃ الخ خبر۔ سوال : خَیْرٌ نکرہ ہے اس کا مبتداء بننا کیسے درست ہے ؟ جواب : چونکہ اس کا معطوف علیہ معرفہ ہے جس کی وجہ سے معطوف کا مبتداء بننا درست ہوگیا۔
سوال : معطوف علیہ قَوْلٌ ہے جو کہ نکرہ ہے اس کا خود مبتداء بننا صحیح نہیں ہے ؟ جواب : جب نکرہ موصوفی بالصفت ہو تو اس کا مبتداء بننا صحیح ہوتا ہے، قولٌ موصوف معروف صفت ہے لہٰذا اس کا مبتداء واقع ہونا درست ہوگیا۔
قولہ : ای اُجُوْرَھَا۔ سوال : اُجور مضاف محذوف ماننے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : نفس صدقہ یعنی مال صدقہ کے باطل ہونے کا کوئی مفہوم نہیں ہے اس لیے کہ احسان جتانے یا اذیت پہنچانے سے مال صدقہ ضائع اور باطل نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا اجر وثواب ضائع ہوجاتا ہے اسی شبہ کو رفع کرنے کے لیے اُجُوْرَھَا کا اضافہ کیا ہے۔
قولہ : جمع الضمیر باعتبار معنیٰ الذی : یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یَقْدِرون، کی ضمیر، اَلَذی ینفقُ کی طرف راجع ہے جو کہ مفرد ہے اور یَقْدِرُوْنَ میں ضمیر جمع ہے۔ جواب : اَلَّذی، اگرچہ لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے مگر معنی کے اعتبار سے جمع ہے، کما فی قول الشاعر :۔
وَاِن الّذِیْ حَانَت بفلجٍ دِمَاؤھم ھُمُ القوم کلُّ القوم
فلج، بصرہ میں ایک مقام کا نام ہے، وہ شخص جس کا خون مقام فلج میں ضائع ہوگیا درحقیقت وہی پوری قوم کے قائم مقام تھا، مقام استشہاد، ھُمْ ضمیر ہے جو کہ اَلّذِی کی طرف راجع ہے۔
قولہ : نفقات یہاں بھی حذف مضاف کی وجہ مشبہ اور مشبہ بہ میں موافقت پیدا کرنا ہے کما مرّ قریباً ۔
قولہ : اَعْطَتْ ، اٰتَتْ ، کی تفسیر اعطت سے کرکے اشارہ کردیا کہ اٰتت ایتاءٌ سے ہے نہ کہ اِتْیَان سے۔
اللغۃ والبلاغۃ
السُّنبلَۃ، خوشہ، بالی، مشہور و معروف شئ ہے جو کہ گندم وغیرہ میں نکلتی ہے، اس کا وزن فُنْعُلَۃٌ، ہے، نون زائدہ ہے اَسْبَلَ الزرعُ اس وقت بولتے ہیں جب کھیتی میں بال نکل آتی ہے اور بعض حضرات نے سنبل سے مشق مان کی نون کو اصلی بھی کہا ہے۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ (الآیۃ) اس آیت میں تشبیہ تمثیل ہے (یعنی تشبیہ مرکب) اس میں مُنْفِقِیْن فی سبیل اللہ کے نفقہ کو مضاعفت میں دانہ گندم کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، یعنی جس طرح ایک دانہ سے بہت سی بالیں اور ہر بال میں سینکڑوں دانے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح اخلاص کے ساتھ راہ خدا میں خرچ کرنے والے کا اجر وثواب اضعافًا مضاعفۃً ہوتا ہے، وجہ تشبیہ مضاعفت ہے، تشبیہ تمثیلی یا تشبیہ مرکب میں وجہ تشبیہ متعدد چیزوں سے اخذ کی جاتی ہے، اخلاص و ایمان کے ساتھ راہ خدا میں خرچ کرنا مشبہ ہے جو کہ مرکب ہے اور خوشہ گندم جس میں دانے زیادہ ہوں مشبہ بہ ہے یہ بھی مرکب ہے لہٰذا مذکورہ آیت میں تشبیہ مرکب ہے جس میں تشبیہ کے چاروں رکن مذکور ہیں، مشبہ، مشبہ بہ، وجہ شبہ، اور حرف تشبیہ۔
یٰایَّھُا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتُبْطِلُوْا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالہٗ رِئَاءَ النَّاسِ (الآیۃ) اس آیت میں بھی تشبیہ مرکب ہے۔ ریا کاری کے طور پر خرچ کرنے والے کی کیفیت کو اس صاف اور چکنے پتھر کی کیفیت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس پر ریت پڑا ہو اور زور دار بارش میں وہ ریت مٹی بہہ کر صاف ہوجائے جس طرح یہ پتھر بارش کی وجہ سے صاف ہوگیا اسی طرح اس شخص کے نفاق کی وجہ سے اس کے نفاق کا اجر وثواب بھی ضائع ہوگیا۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ ابْتِغَآءُ مَرْضَاتِ اللہِ (الآیۃ) اس آیت میں بھی تشبیہ مرکب ہے اس لیے کہ اخلاص کیساتھ اور رضاء الٰہی کے لیے راہ خدا میں خرچ کرنے والے کو اس باغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو بلندی پر ہو اور جس میں ہرحال میں پھل بکثرت آئیں خواہ بارش زیادہ ہو یا کم۔
قولہ : نَخِیْلٌ کہا گیا ہے کہ یہ اسم جمع ہے اس کا واحد نخلۃٌ ہے، اور کہا گیا ہے کہ نخل کی جمع ہے اور نخل اسم جنس ہے۔
قولہ : اِعصارٌ، تیز آندھی، بگولہ، لو یا پالے والی ہوا، جو درختوں کو اپنی سمیت کی وجہ سے جھلس دے۔
اَیَوَدّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ (الآیۃ) اس آیت میں تشبیہ تمثیل (تشبیہ مرکب) استعمال ہوئی، مشبہ بہ ایک ایسا شخص ہے کہ جس نے زندگی بھر آبپاری کرکے ایک عمدہ باغ تیار کیا ہو جس میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اس کے پاس گذر و بسر کرنے کا صرف وہی واحد ذریعہ ہو اور یہ شخص پڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہو ضعف و نقاہت کی وجہ سے کسب کرنے کی طاقت بھی نہ رہی ہو اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں وہ بچے اس کا سہارا تو کیا بنتے الٹے اس کے لئے بوجھ بنے ہوئے ہوں، ایسی صورت میں اس باغ پر کوئی بلائے آسمانی آپڑے جو اس باغ کو جلا کر خاکستر کر دے تو اس شخص کو کس قدر حسرت و یاس ہوگی، یہی حال قیامت کے دن اس ریا کار خرچ کرنے والے کا ہوگا کہ نفاق و ریا کاری کی وجہ سے اس کے سارے اعمال اکارت ہوجائیں گے جب کہ وہاں نیکیوں کی شدید ضرورت ہوگی اور دوبارہ اعمال خیر کرنے کی مہلت و فرصت بھی نہ ہوگی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہارا بھی یہی حال ہو ؟۔ باغ والے کے حالات سے جو کیفیت منتزع ہوتی ہے وہ مشبہ بہ ہے اور قیامت کے دن ایک ریاکار کی جو حالت ہوگی اس سے جو کیفیت منتزع ہوتی ہے، اس تمثیل میں مشبہ بہ مذکور ہے اور مشبہ محذوف ہے، اَیَوَدُّ ، میں استفہام نفی و قوع کے لیے ہے نہ کہ نفی واقع کے لیے۔
تفسیر و تشریح
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ (الآیۃ) یہ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان ہے۔
ثُمَّ لَایُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًی، یہ اس بات کا بیان ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی مذکورہ فضیلت صرف اس شخص کو حاصل ہوگی جو مال خرچ کرکے احسان نہیں جتلاتا یعنی زبان سے ایسا کلمہ تحقیر ادا نہیں کرتا ہے جس سے کسی غریب ضرورتمند محتاج کی عزت نفس مجروح ہو اور وہ تکلیف محسوس کرے، حدیث شریف میں ہے آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے کلام نہیں فرمائے گا ان میں سے ایک احسان جتلانے والا بھی ہے۔ (مسلم کتاب الایمان)
Ayahs 2:263–265قَوْلٌ مَعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌا (الآیۃ) سائل سے نرمی اور شفقت سے بولنا اور دعائیہ کلمات کہنا مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ تم کو اور ہم کو بھی اپنے فضل و کرم سے نوازے۔ یہ قول معروف ہے اور مغفرۃ کا مطلب ہے کہ اگر سائل کی زبان سے کوئی نازیبا کلمہ نکل جائے تو اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے درگزر کرنا۔ یہ نرمی اور چشم پوشی اور درگزر اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں رسوا و ذلیل کرے یا احسان جتائے۔ کسی سے کلمہ خیر کہنا اور خندہ پیشانی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔ (مسلم کتاب البر)
فَمَثَلُہٗ ، کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا یہ ایک تمثیل ہے جس میں ریاکار کے اعمال نیک کو بارش سے تشبیہ دے کر سمجھایا گیا ہے۔ تمثیل میں بارش سے مراد خیرات اور دیگر اعمال نیک ہیں اور چٹان سے مراد نیت اور جذبے کی خرابی ہے جس کے ساتھ خیرات یا کوئی بھی نیک کام کیا گیا ہے، ہلکی مٹی سے مراد نیکی کی وہ ظاہری سطح ہے جس کے نیچے نیت کی خرابی پوشیدہ ہے۔
بارش کا فطری تقاضہ تو یہی ہے کہ اس سے روئیدگی ہو اور شادابی آئے، لیکن جب روئیدگی قبول کرنے والی زمین اوپر ہی اوپر برائے نام ہو اور اس کے نیچے نری پتھر کی چٹان ہو تو بارش مفید ہونے کے بجائے الٹی مضر ہوگی، اسی طرح خیرات بھی اگرچہ بھلائیوں کو نشو و نما دینے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر اس کے نافع ہونے کے لیے حقیقی نیک نیتی شرط ہے نیت نیک نہ ہو تو ابر کرم کا فیضان بھی بجز اس کے محض ضیاع مال ہے اور کچھ نہیں۔
Ayah 2:266اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ أَنآ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ، یعنی اگر تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہاری عمر بھر کی کمائی ایک ایسے نازک موقع پر تباہ ہوجائے جب کہ تم اس سے فائدہ اٹھانے کے سب سے زیادہ محتاج ہو اور ازسرنو کمائی کرنے کا موقع بھی باقی نہ رہا ہو تو تم یہ بات کیسے پسند کر رہے ہو کہ دنیا میں مدت العمر عمل کرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں تم اس طرح قدم رکھو کہ وہاں پہنچ کر یکایک تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا پورا کارنامہ حیات یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتا، جو کچھ تم نے دنیا کے لیے کمایا تھا وہ دنیا ہی میں رہ گیا آخرت کے لیے کچھ کما کر لائے ہی نہیں کہ یہاں اس کے پھل کھا سکو، آخرت میں تمہیں اس کا کوئی موقع نہ ملے گا کہ ازسرنو اب آخرت کے لئے کمائی کرو۔ آخرت کے لیے جو کچھ بھی کمائی کرنے کا موقع ہے وہ اسی دنیا میں ہے یہاں اگر تم آخرت کی فکر کئے بغیر ساری عمر دنیا ہی کی دھن میں لگے رہے اور اپنی تمام قومیں اور کوششیں دنیوی فائدے تلاش کرنے ہی میں کھپاتے رہے تو آفتاب زندگی غروب ہونے کے بعد تمہاری حالت بعینہٖ اس بڈھے کی طرح حسرت ناک ہوگی جس کی عمر بھر کی کمائی اور جس کی زندگی کا سہارا ایک باغ تھا اور وہ باغ عین عالم پیری میں اس وقت جل گیا جب کہ وہ نہ خود نئے سرے سے باغ لگا سکتا ہے اور نہ اس کی اولاد ہی اس قابل تھی کہ اس کی مدد کرسکے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عمر ؓ نے اس مثال کا مصداق ان لوگوں کو بھی قرار دیا ہے جو ساری عمر نیکیاں کرتے ہیں اور آخر عمر میں شیطان کے جال میں پھنس کر اللہ کے نافرمان ہوجاتے ہیں جس سے عمر بھر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہے۔ وفی روایۃ البخاری والحاکم وابن جریر و جماعۃ عن ابن عباس کہ حضرت عمر ؓ نے ایک روز اصحاب نبی ﷺ سے فرمایا تمہارا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے، ” اَیَوَدّ اَحَدُکم “ الخ ؟۔ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اعلم، حضرت عمر ؓ غصہ ہوگئے اور فرمایا، ہاں کہونا، کہو (یعنی یہ گول مول بات میرے سوال کا جواب نہیں ہے تو ابن عباس ؓ نے عرض کیا اے امیر المومنین ! اس آیت کے بارے میں میرے دل میں ایک بات ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے میرے بردار زادے کہو، اور اپنے آپ کو کم نہ سمجھو، تو حضرت ابن عباس ؓ نے عرض کیا اس آیت میں اس مالدار آدمی کی مثال بیان کی گئی ہے جس نے اللہ کی اطاعت میں عمل کیا، پھر اللہ نے اس کی طرف شیطان بھیجا تو وہ معاصی میں مبتلا ہوگیا اور اپنے اعمال کو برباد کرلیا) ۔ (روح المعانی)