Ayah 2:42وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اس آیت کو سمجھنے سے پہلے تمہید کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے، کہ اہل عرب '' بالعموم '' ناخواندہ تھے، ان کے مقابلہ میں یہود تعلیم یافتہ تھے، اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رعب بہت زیادہ تھا، اس کے علاوہ ان کے علماء اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جما کر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلا کر اس رعب کو اور بھی زیادہ وسیع کردیا تھا، ان حالات میں جب نبی ﷺ نے اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی، تو قدرتی بات تھی کہ ان پڑھ عرب اہل کتاب یہودیوں سے جا کر پوچھتے کہ آپ لوگ بھی ایک نبی کے پیرو ہیں اور ایک کتاب کو مانتے ہیں، آپ ہمیں بتائیں کہ یہ صاحب ہمارے اندر نبوت کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں ان کے متعلق، ان کی تعلیم کے متعلق آپ حضرات کی کیا رائے ہے۔ مگر علماء یہود نے کبھی لوگوں کو صحیح بات نہ بتائی حالانکہ ان کے مذہبی نوشتوں میں ایک نبی آخر الزمان کی آمد کی صراحت کے ساتھ پیشین گوئی موجود تھی اور آنے والے نبی کے اوصاف کا بھی ذکر تھا سیدھی اور صاف بات بتانے کے بجائے، انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ہر سائل کے دل میں نبی ﷺ کے خلاف، آپ کی جماعت کے خلاف اور آپ کے مشن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتے تھے، غرض کہ وہ حق کو چھپانے اور اس پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے کبھی کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتے تھے کہ جس سے لوگ شکوک و شبہات میں پڑجائیں اور کبھی لوگوں کو الجھن میں ڈالنے والے سوالات سکھا دیتے تاکہ لوگ خود ہی تذبذب کا شکار ہوجائیں، یہود کے اسی رویے کی بنا پر فرمایا جا رہا ہے کہ حق پر باطل کا پردہ نہ ڈالو، حق و باطل کو خلط ملط کرکے دنیا کو دھوکا نہ دو ۔
فائدہ : بعض مفسرین نے تعلق بالبعید کے طور پر یہاں اجرت علی تعلیم القرآن وغیرہ کی بحث چھیڑی ہے، قرطبی (رح) تعالیٰ نے اس بحث کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے شائقین رجوع کرسکتے ہیں۔
تعلیم قرآن پر اجرت کا مسئلہ : اجرة علیٰ تعلیم القرآن کا مسئلہ سلف سے مختلف فیہ رہا ہے، مگر اس آیت سے اس مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں ہے، امام مالک، شافعی، احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ جائز دیتے ہیں، اور امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور بعض دیگر ائمہ منع فرماتے ہیں، لیکن متاخرین حنفیہ نے بھی جب ان حالات کا مشاہدہ کیا کہ قرآن مجید کے معلمین کو اسلامی بیت المال سے گزارہ ملا کرتا تھا، اب ہر جگہ اسلامی نظام میں فتور کے سبب ان معلمین کو عموماً کچھ نہیں ملتا، یہ اگر اپنی معاش کے لئے کسی محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ میں لگ جائیں، تو بچوں کے تعلیم قرآن کا سلسلہ یکسر بند ہوجائے گا، اس لئے تعلیم قرآن پر معاوضہ لینے کو بضرورت جائز قرار دیا، صاحب ہدایہ کے بعد آنے والے دوسرے فقہاء نے بعض ایسے ہی دوسرے وظائف جن پر تعلیم قرآن کی طرح دین کی بقاء موقوف ہے، مثلاً امامت و اذان اور تعلیم حدیث وفقہ وغیرہ کو تعلیم قرآن کے ساتھ ملحق کرکے ان کی اجازت دی ہے۔ (درمختار، شامی)
ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی پر اجرت لینا جائز نہیں : علامہ شامی نے درمختار کی شرح میں اور اپنے رسالہ شفاء العلیل میں بڑی اور قوی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کردی ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ پر اجرت لینے کی جن متاخرین نے اجازت دی ہے اس کی علت ایک ایسی دینی ضرورت ہے جس میں خلل آنے سے دین کا پورا نظام مختل ہوجاتا ہے، اس لئے اس کو ایسی ہی ضرورت کے موقع میں محدود رکھنا ضروری ہے، اس لئے مردوں کو ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن کرانا یا کوئی دوسرا وظیفہ پڑھوانا اجرت کے ساتھ حرام ہے۔ (معارف)
Ayahs 2:43–46آیت نمبر 43 تا 46
وَاَقِیْمُوا الصَّلوٰةَ وَاتُوا الزَّکوٰةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ .... الیٰ .... وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔
ترجمہ : اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، نماز پڑھنے والوں (یعنی) محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھو، اور (آئندہ) آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رشتہ داروں سے کہا کرتے تھے، کہ دین محمد پر قائم رہو اس لئے کہ وہ حق ہے، کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی) محمد ﷺ پر ایمان کا حکم کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، کہ خود کو ایمان کا حکم نہیں کرتے باوجود یکہ تم کتاب تورات پڑھتے ہو اور اس میں قول و فعل کی مخالفت پر وعید ہے، کیا تم اپنی اس غلط روش کو سمجھتے نہیں ہو ؟ کہ (اس قول و فعل کے تضاد سے) باز آجاؤ جملہ نسیان (یعنی ینسون الخ) استفہام انکاری کا محل ہے، اور اپنے معاملات میں صبر و صلوة سے مدد طلب کرو، نفس جس کو ناپسند کرے، اس کے کرنے پر نفس کو مجبور کرنے کو صبر کہتے ہیں، صرف نماز کا ذکر اس کی عظمت شان کی وجہ سے ہے۔
اور حدیث شریف میں ہے، کہ جب آپ کو کوئی پریشان کن امر پیش آتا تو نماز کی طرف سبقت فرماتے اور کہا گیا ہے کہ خطاب یہود کو ہے جب ان کو حرص اور حب جاہ نے ایمان لانے سے روک دیا تو ان کو صبر کا کہ وہ روزہ ہے حکم دیا گیا کہ وہ شہوت کو توڑ دیتا ہے اور نماز کا، اس لئے کہ نماز خشوع پیدا کرتی ہے اور تکبر کو ختم کرتی ہے اور نماز بلاشبہ گراں ہے، مگر خشوع اختیار کرنے والوں پر (گراں نہیں ہے) یعنی اطاعت کی طرف مائل ہونے والوں پر جو کہ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد زندہ ہو کر اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور ان کو آخرت میں رب کے پاس جانا ہے، تو وہ ان کو جزا دے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : صَلّوا مع المصلین، وارکعوا مع الراکعین، کی تفسیر صلوا مع المصلین سے کرکے اشارہ کردیا کہ جزء بول کر کل مراد ہے، اور رکوع کی تخصیص اس لئے کہ امم سابقہ کی نمازوں میں رکوع نہیں تھا، مطلب یہ ہے کہ تم وہ نماز پڑھو جس میں رکوع بھی ہو اور مع الراکعین سے اشارہ کردیا کہ جماعت سے نماز پڑھو، خطاب چونکہ یہود کو ہے اس لئے ان سے کہا جا رہا ہے، کہ تم ایسی نماز پڑھو، جس میں رکوع بھی ہو اور باجماعت بھی ہو چونکہ یہود کی نماز میں سجدہ تو تھا، مگر رکوع نہیں تھا۔ اس لئے رکوع والی نماز محمد ﷺ کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ تم محمد ﷺ پر ایمان لے آؤ اور ان کے جیسی نماز پڑھو۔
قولہ : فجملة النسیان محل الاستفھام الانکاری، مطلب یہ ہے کہ انکار کا تعلق تنسون انفسکم سے ہے، نہ کہ تامرون الناس سے اس لئے کہ امر بالبر تو امر مندوب و مطلوب ہے۔
قولہ : اَفَرَدَھَا بالذکر، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ صرف نماز ہی کو کیوں ذکر کیا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ اس کی عظمت شان کی وجہ سے اس کو خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
تفسیر و تشریح
صبر اور نماز ہر اللہ والے کے دو بڑے ہتھیار ہیں نماز کے ذریعہ ایک مومن کا رابطہ اور تعلق اللہ سے استوار ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے، صبر کے ذریعہ کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے حدیث میں آتا ہے : '' اِذَا حَزَبَہ امر فزعَ اِلَی الصَلوٰةِ '' (احمد، و ابو داؤد) یعنی جب بھی آپ ﷺ کو کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ فوراً نماز کا اہتمام فرماتے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، تو اس دشواری کا علاج صبر اور نماز ہے ان دو چیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہوجائے گی، صبر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادہ کی وہ مضبوطی، عزم کی وہ پختگی اور خواہشات نفس کا وہ انضباط ہے، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلہ میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کئے ہوئے راستہ پر لگاتار بڑھتا چلا جاتا ہے۔
اور جو شخص خدا کا فرمانبردار نہ ہو اور آخرت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو اس کے لئے نماز کی پابندی ایک ایسی مصیبت ہے جسے وہ کبھی گوارا نہیں کرسکتا مگر جو شخص برضا ورغبت خدا کے آگے سر اطاعت خم کرچکا ہو اور جسے یہ خیال ہو کہ کبھی مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا، اس کے لئے نماز ادا کرنا گراں نہیں، بلکہ نماز چھوڑنا مشکل ہے۔
Ayah 2:47آیت نمبر 47 تا 54
یٰبَبِیْ اِسْرَائِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ .... الیٰ .... اِنَّہ ھُوْ التَوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔
ترجمہ : اے اولاد یعقوب میری اس نعمت کو یاد کرو، جس سے میں نے تم کو نوازا تھا، یعنی ان نعمتوں پر شکر گزاری کے ذریعہ اطاعت کرکے اور میں نے تم کو یعنی تمہارے آباء کو عالم والوں پر (یعنی) اس زمانہ کے عالم والوں پر فضیلت عطاء کی تھی اور اس دن سے ڈرتے رہو، جس دن کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور وہ قیامت کا دن ہے، اور نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول کی جائے گی، (یُقْبَلُ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، یعنی اس کے لئے سفارش ہی نہیں ہوگی، کہ قبول کی جائے، جیسا کہ فما لنا من شافعین سے معلوم ہوتا ہے اور نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچا لئے جائیں اور وہ وقت یاد کرو، جب کہ ہم نے تم کو یعنی تمہارے آباء کو اور خطاب اس کے اور مابعد کے ذریعہ ان (یہودیوں) کو ہے، جو آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے، ان انعامات کی ان کو خبر دی جارہی ہے جو ان کے آباہ کو عطا کئے گئے تھے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد لانے کے لئے تاکہ ایمان لے آئیں، آل عمران کی (غلامی) سے نجات دی، تم کو بدترین عذاب چکھا رہے تھے، یعنی شدید ترین عذاب اور جملہ، نَجّینٰکُمْ کی ضمیر سے حال ہے، تمہارے (نو) مولود لڑکوں کو ذبح کر رہے تھے، یُذبّحُوْنَ ماقبل سے بدل ہے، اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ رہے تھے، بعض کاہنوں کے فرعون سے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو تیری حکومت کے زوال کا سبب بنے گا، اور اس عذاب یا نجات دینے میں تمہارے رب کی جانب سے بڑی آزمائش یا انعام ہے اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا تھا، یہاں تک کہ تم اپنے دشمن سے بھاگ کر اس میں داخل ہوگئے اور تم کو غرق سے نجات دی اور آل فرعون اور اس کی قوم کو مع فرعون کے ہم نے غرق کردیا اور تم دریا کا ان پر ملنا دیکھ رہے تھے، اور جب ہم نے موسیٰ علیہ الصلاة والسلام سے چالیس راتوں وعدہ کیا، (وَاعَدْ نَا) میں الف دونوں قراءتیں ہیں کہ ہم اس مدت کے پورا ہونے پر تورات عطا کریں گے، تاکہ تم اس پر عمل کرو، پھر تم نے اس بچھڑے کو معبود بنالیا، جس کو تمہارے لئے سامری نے ڈھالا تھا، موسیٰ علیہ الصلاة والسلام کے ہمارے مقام وعد پر جانے کے بعد اور تم اس کے معبود بنانے کی وجہ سے ظلم بن گئے، عبادت کو غیر محل میں رکھنے کی وجہ سے پھر ہم نے تم کو معاف کردیا، یعنی تمہارے گناہوں کو معاف کردیا، بچھڑے کو معبود بنانے کے بعد تاکہ تم اپنے اوپر ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرو، اور جب ہم نے موسیٰ علیہ الصلاة والسلام کو کتاب تورات اور فرقان عطاکی یہ عطف تفسیری ہے، یعنی حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے والی تاکہ تم اس کے ذریعہ گمر اہی سے ہدایت حاصل کرو، اور جب موسیٰ علیہ الصلاة والسلام نے اپنی قوم سے جنہوں نے گائے کی پرستش کی تھی، فرمایا اے میری قوم تم نے بچھڑے کو معبود بناکو اپنے اوپر ظلم کیا ہے لہٰذاتم اپنے خالق سے اس کی عبادت سے توبہ کرو، لہٰذا تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو، یعنی تم میں بری، مجرم کو قتل کرے یہ قتل تمہارے لئے بہتر ہے تمہارے پیدا کر نیوالے کے نزدیک تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسکی توفیق دی اوپر سیا بادل بھیج دیا۔ تاکہ تم میں سے بعض بعض کو نہ دیکھ سکے کہ اس پر ترس کھائے، یہاں تک کے تم میں قتل کئے گئے ستر ہزار کے لگ بھگ پس اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہ توبہ کو قبول کو نیوالا اور رحم کو نیوالا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : عَالَمِیْ زمَ نِِھِمْ ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : عَالَمْ ماسوی اللہ کو کہتے ہیں، بنی اسرائیل کی ماسوی اللہ پر فضلیت سے لازم آتا ہے کہ امت محمد یہ ﷺ پر بھی فضیلت حاصل ہو حالانکہ محمد یہ ﷺ تمام امتوں میں افضل ترین امت ہے۔
جواب : عالم سے اس زمانہ کے موجودین مراد ہیں، نہ کہ مطلق موجودین۔
قولہ : عَدْل، بمعنی، عوض، بدلہ، معاوضہ، انصاف، فدیہ، عِدل کسرئہ عین کے ساتھ بمعنی مثل، ابو عمرنے کہا ہے کہ فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہم معنی ہیں۔
قولہ : وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : ھُمْ ضمیر جمع مزکر کی ہے، نفس کی طرف راجع ہے حالا ن کہ نفس مفرد ہے۔
جواب : نفس، نکرہ کے تحت النفی داخل ہونے کی وجہ سے عموم پر دلالت کرتا ہے، جس کی وجہ سے نفس میں جمعیت کے معنی پیدا ہوگئے ہیں
سوال : ھُمْ ،۔ جواب : نَفْس، عِبَاد، کی تاویل ہے۔
قولہ : یَسُوْمُوْنَکمْ ، یہ سَوْم (ن) سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے، وہ تم کو تکلیف دیتے ہیں، مجبور کرتے ہیں
قولہ : بَیَان لِّمَا قَبْلَہ، یعنی یُذَبِّحُوْنَ ، بعضماقبل یعنی یسومونکم کا بیان ہے، اس لئے کہ متعدد اور مختلف قسم کی تکالیف میں سے یہاں صرف ذبح کا ذکر ہے۔
قولہ : یَسْتَحْیُوْنَ ، اِسْتحیاء (استفعال) سے جمع مذکر غائب مضارع وہ زندہ چھوڑ دیتے ہیں، یَسْتَحْیُوْنَ اصل میں یَسْتَحْیِیُوْنَ دریاؤں کے ساتھ تھا، پہلی یاء عین کلمہ اور دوسری لام کلمہ پہلی یاء پر کسرہ دشوار ہونے کی وجہ سے کسرہ حذف ہوگیا، اس کے بعد یاء اور حاء کے درمیان التقاء ساکنین ہوا، جس کی وجہ سے یاء حذف ہوگئی، اور کہا گیا ہے کہ تخفیفاً یاء ثانیہ کو حذف کردیا گیا اور پہلی یاء کو واؤ کی مناسبت سے ضمہ دیدیا گیا ہے، لڑکیوں کو مایَؤل کے اعتبار سے نساء سے تعبیر کردیا گیا ہے۔
قولہ : وفی ذلکم، خبر مقدم ہے، بَلَائ مِّنْ رَّبِکُمْ عَظِیْم، مبتداء مؤخر ہے۔
قولہ : اَلسَّامِرِیّ ، سامری کا اصل نام موسیٰ ہے یہ شخص ولد الزنا تھا، نسلاً اسرائیلی تھا، اس کی والدہ نے شرم اور بدنامی کے خوف سے اس کو ایک پہاڑ کی غار میں جنا تھا اور بدنامی کے خوف سے غار ہی میں چھوڑ دیا تھا، حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰة والسلام نے اس کی پرورش فرمائی تھی۔
فموسَی الذی رَبَّاہُ جبرئیل کافر وموسی الذی رَبَّاہُ فرعون مرسل .
اللغة والبلاغة
عَدْل بفتحة العین وھو الفداء لِانَّہ معادل للمفدیّ قیمة وقدراً اِن لم یکن من جنسہ، وبکسر العین ھو المساوی فی الجنس والجرم ویقال عدل وعَدِیْل الی بالجملہ معطوفة التی ہی '' وَلاہم یُنْصرون '' اسمیة مع اَنّ الجمل التی قبلہا فعلیة للمبالغة والدلالة علی الثباتِ والدیمومة، ای اَنَّہُمْ غیرُ منصورین دائماً ، ولا عبرة بما یصادفونَہ مِن نجاح موقتٍ '' موسیٰ علم اعجمی لا ینصرف ھو فی الاصل مرکب، ھو فی الاصل موشی بالشین المعجمة، لأنّ المائَ بالعَبْریّةِ یقال لہ موء والشجر یقال لہ، شا، فعربت العربُ وقالوا : موسیٰ ۔
تفسیر و تشریح
یٰبَنِی اِسْرَآئِیْلَ ، یہاں سے دوبارہ بنی اسرائیل کو وہ انعامات یاد لائے جا رہے ہیں جو ان پر کئے گئے اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا جا رہا ہے، جس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا نہ کسی کی سفارش قبول ہوگی اور نہ معاوضہ دے کر چھٹکارا پاسکے گا۔
دراصل یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب تمام دنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علم حق موجود تھا، اور جس کو اقوال عالم کا امام و رہنما بنادیا گیا تھا تاکہ وہ بندگی رب کے راستہ پر سب قوموں کو بلائے اور چلائے۔
بنی اسرائیل کے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ آخرت کے متعلق ان کے عقیدے میں خرابی آگئی تھی، وہ اس قسم کے خیال خام میں مبتلا ہوگئے تھے کہ ہم جلیل القدر انبیاء کی اولاد ہیں بڑے بڑے اولیاء صلحاء اور زہّاد سے نسبت رکھتے ہیں ہماری بخشش تو ان بزرگوں کے صدقہ میں ہو ہی جائیگی، ان کے دامن سے وابستہ ہونے کے بعد بھلا کوئی سزا کس طرح پاسکتا ہے، اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کو شمار کرانے کے معاً بعد فرمایا : '' وَاتَّقُوْا یَوْمًا لاَّ تَجْزِیْ نَفْس عَنْ نَّفْس شَیْئًا وَّلاَ یُقْبِلُ مِنْھَا شَفَاعَة وَّلاَ یُؤٰخَذُ مِنْھَا عَدْل وَّلاَہُمْ یُنْصَرُوْنَ ''
Ayah 2:48وَاتَّقُوْا یَوْمًا، اس دن سے مراد ظاہر ہے کہ قیامت کا دن ہے، قیامت کی یاد بروقت اور بڑے حکیمانہ انداز سے دلائی گئی ہے حشر و نشر، جزاء و سزا کا عقیدہ جو انسان کے دل میں مسئولیت اور ذمہ داری ہے اسرائیلیوں کے دلوں ہی سے نہیں، بلکہ ان کی مقدس کتابوں اور دینی نوشتوں تک سے مٹ چکا تھا، آگے جو روز قیامت کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں، ہر ایک میں مقصود کسی نہ کسی اسرائیلی عقیدے ہی کا رد ہے۔
لاَتَجْزِیْ نَفْس عَنْ نَّفْسٍ ، اس کا مقصد اس اسرائیلی عقیدے کی تردید ہے، جس میں آج تک اسرائیلی قوم مبتلا ہے، یعنی جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) کی نسل سے ہونے کی وجہ سے بخشش کا زعم باطل جیوش انسائیکلوپیڈیا، میں لکھا ہے
بہت سے لوگ اپنے اسلام کے اور بہت سے لوگ اپنے اسلاف کے اعمال حسنہ کی بنا پر بخش دئیے جائیں گے (جلد، 6، ص : 61)
یہود کو یہ بھی دھوکا تھا کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں، اس لئے مؤاخذہ آخرت سے محفوظ رہیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ وہاں اللہ کے نافرمانوں کو کوئی سہارا نہیں دے سکے گا۔
'' وَلاَ یُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَة وَّلاَ یَأٰخَذُ مِنْھَا عَدْل وَّلاَہُمْ یُنْصَرُوْنَ ''۔
بنی اسرائیل پر ایک انعام یہ بھی ذکر فرمایا گیا کہ ان کو تمام جہانوں پر فضیلت دی گئی یعنی امت محمدیہ سے پہلے افضل العلمین ہونے کی یہ فضیلت بنو اسرائیل کو حاصل تھی، جو انہوں نے معصیت الٰہی کا ارتکاب کرکے گنوادی اور ان کی جگہ امت محمدیہ کو خیر امت بنادیا گیا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انعامات الٰہی کسی خاص نسل کے ساتھ وابستہ نہیں، بلکہ یہ ایمان اور عمل کی بنیاد پر ملتے ہیں اور ایمان و عمل سے محرومی پر سلب کر لئے جاتے ہیں۔
Ayah 2:49وَاذکروا اِذْنَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ آل فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ ، سابقہ آیات میں بنی اسرائیل پر جن انعامات و احسانات کا اجمالا ذکر تھا، (اب یہاں سے مسلسل کئی رکوعوں تک) ان کی قدرے تفصیل بیان کی جا رہی ہے، اس تاریخی بیان میں دراصل یہ دکھانا مقصود ہے کہ ایک طرف یہ احسانات و انعامات ہیں جو خدا نے تم پر کئے اور دوسری طرف تمہارے یہ کرتوت ہیں جو ان احسانات کے جواب میں تم کرتے رہے ہو۔
مِنْ آل فِرْعَوْنَ ، ال یہ اہل کامرادف ہے اور مراد اس سے فرعون کی قبطی قوم ہے آل اور اہل میں فرق صرف اس قدر ہے کہ اہل کا استعمال عام ہے اور آل صرف خصوصیت اور اہمیت رکھنے والوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
فرعون کسی متعین بادشاہ کا ذاتی نام یا علم نہیں ہے قدیم شاہان مصر کا لقب تھا، جیسا کہ فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے بادشاہ کو قیصر اور حبشہ کو نجاشی کہتے تھے، جیسا کہ زمانہ قریب میں روس کے بادشاہ کو زار اور ترکی کے فرمانروا کو سلطان اور والی مصر کو خدیو اور والی حیدرآباد دکھن کو نظام کہتے تھے، مؤرخین کا خیال ہے کہ موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کا ہمعصر کوئی ایک بادشاہ نہیں ہے بلکہ یکے بعد دیگرے دو بادشاہ ہیں۔
تشریح نقشہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر جزیرہ نمائے سینا میں مارہ، ایلیم اور عیدیم کے راستے کوہسینا
کی طرف آئے اور ایک سال سے کچھ زائد مدت تک اس مقام پر ٹھہرے رہے، یہیں تورات کے بیشتر احکام آپ پر نازل ہوئے، ہر آپ کو حکم ہوا، کہ بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف جاؤ اور اسے فتح کرلو کہ کہ وہ تمہاری میراث میں دیا گیا ہے، چناچہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بنی اسرائیل کو لئے ہوئے تبعیر اور حصیرات کے راستے دشت فاران میں تشریف لائے اور یہاں سے آپ نے ایک وفد فلسطین کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے روانہ کیا، قادس کے مقام پر اس وفد نے آکر اپنی رپورٹ پیش کی، حضرت یوشع اور کالب کے سوا پورے وفد کی رپورٹ نہایت حوصلہ شکن تھی، جسے سن کر بنی اسرائیل چہخ اٹھے اور انہوں نے فلسطین کی مہم پر جانے سے انکار کردیا، تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب یہ چالیس برس تک اس علاقے میں بھٹکتے رہیں گے اور ان کی موجودہ نسل، یوشع اور کالب کے سوا فلسطین کی شکل دیکھنے نہ پائے گی، اس کے بعد بنی اسرائیل دشت فاران و بیانان شور اور دشت صین کے درمیان مارے مارے پھرتے رہے اور عمالقہ، اموریوں، ادومیوں ندیانوں اور موآب کے لوگوں سے لڑتے بھڑتے رہے، جب چالیس سال گزرنے کے قریب آئے تو ادوم کی سرحد کے قریب کوہ ہور پر حضرت ہارون علیہ الصلوٰة والسلام نے وفات پائی، پھر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بنی اسرائیل کو لئے ہوئے موآب کے علاقے آئے میں داخل ہوئے، اور اس پورے علاقے کو فتح کرتے ہوئے حسبون اور شطیم تک پہنچ گئے، یہاں کوہ عباریم پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کا انتقال ہوا، اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اول حضرت یوشع نے مشرق کی جانب سے دریائے اردن کو پار کرکے شہر یریکو (اریکا) کو فتح کیا، یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا پھر ایک مدت ہی میں پورا فلسطین فتح ہوگیا، اس نقدشہ میں ایلہ (قدیم نام ایلات اور موجودہ نام عقبہ) وہ مقام ہے جہاں غالبا اصحاب السبت کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر سورة بقرہ رکوع 8، اور سورة اعراف رکوع 12 میں آیا ہے۔
فرعون موسیٰ کا نام : اہل کتاب کے قول کے مطابق فرعون موسیٰ کا نام قابوس ہے اور وہب نے کہا ہے کہ اس کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے، (فتح القدیر شرکانی)
جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے کہ '' فرعون '' شاہان مصر کا لقب ہے کسی خاص بادشاہ کا نام نہیں ہے، تین ہزار سال قبل مسیح سے شروع ہو کر عہد سکندر تک فراعنہ کے اکتیس خاندان مصر پر حکمران رہے ہیں۔
عام مؤرخین عرب اور مفسرین، فرعون موسیٰ کا تعلق خاندان عمالقہ سے قرار دیتے ہیں، کوئی اس کا نام ولید بن معصب بن ریاب بتاتا ہے اور کوئی مصعب بن ریان، مگر ارباب تحقیق کی رائے ہے کہ اس کا نام ریان تھا، ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کنیت ابومرہ تھی، یہ سب اقوال قدیم مورخین کی تحقیقی روایات پر مبنی تھے، مگر اب جدید مصری اثری تحقیقات اور حجری کتبات کے پیش نظر اس سلسلہ میں دوسری رائے سامنے آتی ہے وہ یہ کہ موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام کے زمانہ کا فرعون ریمسیس ثانی کا بیٹا منفتاح ہے، جس کا دور حکومت، 1292 قبل مسیح سے شروع ہو کر 1225 قبل مسیح پر ختم ہوتا ہے۔ (قصص القرآن مولانا حفظ الرحمن ملخصا)
مصری عجائب خانہ میں یہ نعش آج بھی محفوظ ہے اور قرآن عزیز کے اس کلام بلاغت نظام کی تصدیق کر رہا ہے۔
فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً ، آج کے دن ہم تیرے جسم کو (دریا سے) نجات دیں گے، تاکہ وہ تیرے بعد آنے والوں کے لئے (خدا کا) نشان رہے۔ محمد احمد عدوی اپنی کتاب '' دعوة الرسل الی اللہ '' میں لکھتے ہیں کہ اس نعش کی ناک کے سامنے کا حصہ ندارد ہے اس کی تصدیق اس تصویر کے دیکھنے سے بھی ہوتی ہے جو زمانہ قریب میں سی ڈی میں محفوظ کی گئی ہے۔
فرعون کا جواب : تورات اور مورخین کا بیان ہے کہ فرعون کو بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے عداوت ہوگئی تھی کہ فرعون نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا وہ یہ کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے۔ یہاں تک کہ : اس نے مصر پہنچ کر مصر کے تمام گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور قبطیوں کو جلا ڈالا اور اسرائیلیوں کو چھوڑ دیا، اس خواب سے فرعون کو بہت تشویش لاحق ہوئی اس کی تعبیر کے لئے کاہنوں، نجومیوں اور قیافوں کو جمع کیا، ان لوگوں نے بتایا کہ تیری حکومت کا زوال ایک اسرائیلی لڑکے کے ہاتھوں ہوگا، اس واقعہ کے بعد فرعون کو اسرائیلیوں سے عدوات ہوگئی اور نومولود لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیدیا۔ مفسرین نے بھی انہی روایات کو کتب تفسیر میں نقل فرمایا ہے۔
موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ان کا نسب : حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کا نسب چند واسطوں سے یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام تک پہنچتا ہے ان کے والد کا نام عمران اور والدہ کا نام یوکابد تھا، سلسلہ نسب یہ ہے موسیٰ بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب (علیہ الصلوٰة والسلام) بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ الصلوٰة والسلام) موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی ولادت ایسے زمانہ میں ہوئی جب کہ فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا فیصلہ کرچکا تھا۔
بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات : وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ آل فِرْعَوْنَ ، نَجَّیْنَا، باب تفعیل سے ہے، اس باب کی ایک خاصیت فعل کی تدریج ظاہر کرنا بھی ہے، بعض مورخین کا خیال ہے کہ تمام اسرائیلی مصر سے ایک ساتھ نہیں نکلے تھے، بلکہ بتدریج مختلف جماعتوں کی شکل میں نکلے تھے، اور ان کا سب سے بڑا اور آخری دستہ وہ تھا، جو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی قیادت میں روانہ ہوا اور راہ بھٹک کر سمندر پار ہوا۔ (تفسیر ماجدی)
فرعون اور مصری سرکار کے مظالم سالہا سال تک برداشت کرنے کے بعد بالآخر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی قیادت میں ساری قوم اسرائیل نے مصر کی سکونت ترک کرکے اپنے آبائی وطن شام و فلسطین کو چلا جانا طے کرلیا، سفر مصری حکومت سے خفیہ طور پر رات کے وقت شروع کیا، یہ وہ زمانہ تھا کہ راستہ میں روشنی کا انتظام تو دور کی بات ہے، آج کل کی طرح باقاعدہ سڑکیں بھی نہ تھیں، رات کی تاریکی میں اسرائیلی راستہ بھول گئے اور نجائے اس کے کہ شمال کی طرف کچھ آگے بڑھ کر اپنی دائیں طرف مشرق کی جانب مڑتے پہلے ہی ادھر مڑ گئے، ادھر فرعون کو بھی اس کی اطلاع ہوگئی، فرعون اپنے لشکر کی کمان خود کرتا ہو تیزی سے تعاقب میں آپہنچا، اب اسرائیلیوں کے سامنے یعنی مشرق کی جانب بحر قلزم کا شمالی سرا تھا اور دائیں بائیں یعنی شمال و جنوب میں پہاڑیاں تھیں اور پشت یعنی مغرب کی جانب مصری لشکر تھا، قرآن مجید میں اسی تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 2:50وَاِذْفَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَانْجَیْنَکُمْ ، بحر سے مراد یہاں دریائے نیل نہیں جیسا کہ بعض ثقات کو دھوکا ہوا ہے، بلکہ بحر قلزم (بحراحمر)
مراد ہے اسرائیلی اپنے کو ہر طرف سے محصور پاکر قدرة سخت پریشان ہوئے لیکن رہنمائی اللہ کے ایک پیغمبر کر رہے تھے، آپ نے وحی الٰہی کے اشارہ پر فرمایا کہ بلا توقف سمندر میں داخل ہوجاؤ، سمندر کا پانی سمٹ کر دونوں طرف پہاڑ جیسی دیواروں کی طرف کھڑا ہوگیا، درمیان میں خشک راستہ پیدا ہوگیا اسرائیلیوں کا قافلہ عبور کرگیا، اس دوران فرعونی بھی لب ساحل پہنچ گئے، اور یہ منظر دیکھ کر وہ بھی پیدال اور سوار خشک سمندر میں داخل ہوگئے، لیکن ابھی درمیان ہی میں تھے کہ پانی کی وہ کھڑی دیواریں آپس میں مل گئیں، اور سمندر کا پانی حسب سابق رواں ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فرعون مع اپنے لاؤ لشکر کے غرق ہو کر رہ گیا۔
معجزہ کی حقیقت : انسان کے محدود نقطہ نظر اور ناقص علم کے اعتبار سے جو مستبعد خلاف معمول اور حیرت انگیز واقعہ کسی نبی کی تائید میں ظاہری مادی اسباب سے بےتعلق ظہور میں آئے اسے اصطلاح میں معجزہ کہتے ہیں، '' ایسے کسی واقعہ کو جس کا ثبوت رؤیت یا روایت یعنی مشاہدہ یا نقل صحیح سے مل جائے '' خلاف عقل کہہ کر اس کے امکان سے انکار کر بیٹھنا یا اس کی تاویل کی کوشش کرنا جیسا کہ سرسید احمد خاں نے کی ہے خود ایک انتہائی نادانی اور بےعقلی ہے، عجائبات سے آخر تاریخ بھری پڑی ہے، اور خوارق، نوادر، اور حوادث عجیبہ سے دنیا کا کونسا دور خالی رہا ہے، زیادہ سے زیادہ ایسے واقعات کو خلاف معمول خلاف عادت عامہ کہا جاسکتا ہے اور ان کے روایتی ثبوت کا مطالبہ یقینا کیا جاسکتا ہے اور راویوں پر جرح بھی خوب کرلینی چاہیے، لیکن اس سے تجاوز کر کے ان کے نفس امکان میں شک کرنا یا انہیں خلاف عقل یا محال قرار دینا اپنی کم عقلی کا اظہار ہے۔
استبعاد جو کچھ بھی ہے وہ تو صرف انسانی معیار سے ہے، انسان کے بہت ہی محدود مختصر رقبہ، علم و تجربہ کے اعتبار سے ہے ورنہ جو قادر مطلق ہے اس کے لئے تو حسب معمول اور خلاف معمول سب ایک ہے۔
وقوع اور امکان میں فرق : وقوع اور امکان دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں اور ان ہی کے خلط مبحث نے معجزہ کے مسئلہ میں اتنی الجھن پیدا کردی ہے امکان تو ہر چیز کا ہے قادر مطلق کے دائرہ قدرت کے اندر ہر بڑی سے بڑی چیز ہے ناممکن اور محال اس کے لئے کوئی چیز نہیں، لیکن وقوع پر یقین کرنے کے لئے شاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ تو معجزات پر اصولی گفتگو تھی، باقی یہاں جس فرق بحر کا ذکر ہے تو یہ سمندر کا پھٹ جانا اور درمیان میں خشکی کی راہ بن جانا، کچھ ایسا زیادہ خارق عادت ہے بھی نہیں کہ اس کی نظیر کہیں نہ ملتی ہو، بحری زلزلے کے وقت ایسی صورتیں پیش آتی رہتی ہیں، جنوری 1934 ء رمضان 1352 ھ میں جو عظیم زلزلہ بہار اور اطراف بہار میں آیا اس موقع پر صوبہ بہار کے صدر مقام پٹنہ میں دوپہر ڈھائی بجے کے قریب ایک مجمع کثیر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گنگا جیسے وسیع و عریض دریا کا پانی چشم زدن میں غائب ہوگیا، اور اتنے چوڑے پاٹ میں بجائے دریا کے دھارے کے خشک زمین نکل آئی اور یہ حیرت انگیز اور دہشت ناک منظر چند سیکنڈ نہیں چار پانچ منٹ تک قائم رہا یہاں تک کہ دریا اسی برق رفتاری کے ساتھ یک بیک زمین سے ابل کر پھر جاری ہوگیا واقعہ کی مفصل روائد وقائع نگار کے قلم سے انگریزی روزنامہ '' پانیر '' (لکھنؤ) 20 جنوری 1934 ء کی اشاعت میں درج ہے۔ (تفسیر ماجدی)
Ayahs 2:51–54وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعْیِنَ لَیْلَةً ، بنی اسرائیل فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد دریا عبور کرکے جب جزیرہ نما صحراء سینا میں
پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ وہاں اس قوم کے لئے جو اب آزاد ہوچکی ہے، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰة والسلام) بن عمر ان سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور اور جلیل القدر پیغمبر ہیں تورات میں ہے کہ ان کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی۔ (ماجدی)
آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثرئین کے تخمینہ کے مطابق پندرہویں اور سولہویں صدی قبل مسیح کا تھا، سال ولادت غالبا 1520 قبل مسیح (علیہ الصلوٰة والسلام) ، سال وفات غالبا 1400 قبل مسیح (علیہ الصلوٰة والسلام) ہے۔ (ماجدی)
حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام حکم خداوندی سے چالیس روز کے لئے نوشتہ شریعت لینے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے تھے، موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام کی غیر موجودگی میں اسرائیلیوں نے سامری اسرائیلی منافق کے پیچھے لگ کر ایک سونے چاندی کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔
جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے شرک پر متنبہ فرمایا، تو پھر انہیں تو بہ کا احساس ہوا، تو بہ کا طریقہ قتل تجویز ہوا (فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ) آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو، اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جن لوگوں نے گاؤ پرستی میں حصہ لیا تھا، وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں، دوسری تفسیر یہ ہے کہ شرک کا ارتکاب نہ کرنے والے شرک کے ارتکاب کرنے والوں کو قتل کریں، مقتولین کی تعداد ستر ہزار بیان کی گئی ہے۔ (ابن کثیر)
نقشہ
حضرت نوح علیہ الصلوٰة والسلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰةو السلام پہلے نبی ہیں جن کو اللہ نے عالمگیر دعوت پھیلانے کے لئے مقرر کیا تھا، انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف لوگوں کو دعوت دی پھر اپنے اس مشن کی اشاعت کے لئے مختلف علاقوں میں اپنے نائب مقرر کئے، شرق اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ الصلوٰة والسلام کو، شام و فلسطین میں اپنے بیٹے اسحاق علیہ الصلوٰة والسلام کو، اور اندرون عرب اپنے بڑے بیٹے اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام کو مامور کیا، پھر اللہ کے حکم سے مکہ میں وہ گھر تعمیر کیا جس کا نام کعبہ ہے، اور اللہ ہی کے حکم سے وہ ہی اس مشن کا مرکز قرار پایا۔
تشریح : حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام عراق میں ار کے مقام پر پیدا ہوئے، آگ کے الاؤ سے بچ نکلنے کے بعد آپ وطن چھوڑ کر پہلے حران (یا حاران) تشریف لے گئے پھر وہاں سے فلسطین کی طرف منتقل ہوئے اور بیت ایل، حسبرون اور پیرشبع میں اپنی دعوت کے مراکز قائم کئے، پھر بحر لوط کے مشرق میں اپنے بھتیجے حضرت لوط کو مامور کیا، وہاں سے آپ مصر تشریف لے گئے جو اس زمانہ میں عراق کے بعد تہذیب وتہدن کا دوسرا عظیم الشان گہوارہ تھا، مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مصر میں بھی آپ کا کوئی تبلیغی مشن قائم ہوا یا نہیں، اس کے بعد آپ نے حجاز کا رخ کیا اور مکہ میں بیت اللہ تعمیر کرکے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰةو السلام کو اس کی خدمت سپرد کی، پھر فلسطین میں حسبرون کو اپنا مستقل مرکز بنایا، اور یہیں آپ کا انتقال ہوا، آپ کے بعد آپ کے دوسرے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ الصلوٰة والسلام اس مرکز میں آپ کے جانشین ہوئے، اور ان سے یہ میراث حضرت یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام کو پہنچی۔
موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے ستر ہمراہیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زندہ ہونے کا واقعہ : حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ستر (70) آدمیوں کو کوہ طور پر تورات لینے کے لئے اپنے ساتھ لے گئے، جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام واپس آنے لگے، تو انہوں نے کہا جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں ہم تیری بات پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، جس پر بطور عتاب بجلی گری اور ہلاک ہوگئے، حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سخت پریشان ہوئے اور ان کی زندگی کی دعاء کی جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کردیا۔
اکثر مفسرین نے نزدیک یہ مصر و شام کے درمیان میدان تیہ کا واقعہ ہے، جب انہوں نے بحکم الٰہی عمالقہ کی بستی میں داخل ہونے سے انکار کردیا، اور بطور سزا بنو اسرائیل چالیس سال تک تیہ کے میدان میں پڑے رہے۔
Ayah 2:55آیت نمبر 55 تا 59
وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی .... الیٰ .... مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔
ترجمہ : (یاد کرو) جب تم نے موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام سے کہا تھا، (جب کہ) تم موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام کے ساتھ گاؤ پرستی کی عذر خواہی کے لئے اللہ کی طرف نکلے تھے، اور تم نے اس کا کلام سنا تھا، اے موسیٰ ہم ہرگز آپ کی بات کا یقین نہ کریں گے جب تک کہ ہم اپنی آنکھوں سے علانیہ اللہ کو نہ دیکھ لیں، سو تم کو بجلی کی کڑک نے آلیا، جس کی وجہ سے تم مرگئے اور جو کچھ تم پر گزرا، تم دیکھ رہے تھے، پھر ہم نے تمہارے مرنے کے بعد تم کو زندہ کردیا، تاکہ تم اس احسان کی شکر گزاری کرو، اور ہم نے تم پر ابرکا سایہ کیا یعنی مقام تیہ میں رقیق (ہلکے) بادل کے ذریعہ سورج کی گرمی سے حفاظت کی اور اس مقام تیہ میں من وسلویٰ تمہارے لئے فراہم کیا اور وہ ترنجبین اور بٹیر تھیں میم کی تخفیف اور الف مقصورہ کے ساتھ اور ہم نے تم سے کہا جو پاک چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں، انہیں کھاؤ اور ذخیرہ نہ کرو، مگر انہوں نے نعمت کی ناشکری کی اور ذخیرہ اندوزی شروع کردی، جس کی وجہ سے وہ چیزیں موقوف ہوگئیں، اور (تمہارے اسلاف نے) اس ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا، بلکہ خود انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اس لئے کہ اس کا وبال خود ان پر پڑنے والا ہے، اور جب ہم نے ان سے مقام تیہ سے نکلنے کے بعد کہا تھا، کہ اس بستی بیت المقدس یا اریحا میں داخل ہوجاؤ، اور اس میں جو چاہو اور جہاں سے چاہو بافراغت کھاؤ، اس میں کوئی پابندی نہیں، مگر اس بستی کے دروازے میں (عاجزی کے ساتھ) جھکے جھکے داخل ہونا، اور کہتے جانا ہماری درخواست معافی ہے، یعنی ہمارے خطاؤں کو معاف کر دے، ہم تمہاری خطاؤں کو معاف کردیں گے اور ایک قراءت میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور دونوں صیغے مجہول کے ساتھ ہم نیکو کاروں کو مزید نوازیں گے طاعت کے سبب ثواب سے، مگر جو بات ان کو بتائی گئی تھی، ظالموں نے اس کو دوسری بات سے بدل ڈالا اور حَبَّة فی شعرةٍ کہا، یعنی خوشہ دانہ سمیت اور اپنے سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، آخرکار ہم نے ظلم کرنے والوں پر اس میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا ہے، ان کی تقبیح شان میں مبالغہ کرنے کے لئے آسمان سے طاعون کا عذاب نازل کردیا، ان کے فسق کی وجہ سے یعنی ان کے اطاعت سے انحراف کرنے کی وجہ سے، چناچہ اسی وقت ان میں سے 70 ہزار یا (کچھ) کم ہلاک ہوگئے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لَنْ نُّوْمِنَ لَکَ ۔ سوال : مؤمن بہ کیا ہے ؟
جواب : صاحب کشاف نے کہا ہے کہ مومن بہ یہ ہے کہ : اللہ ہی آپ سے ہمکلام ہے اور یہ کہ اللہ ہی نے آپ کو تورات دی ہے ؟ اور محی السنہ نے کہا ہے کہ مومن بہ آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں ؟
سوال : نُؤمِنُ ، متعدی بنفسہ ہے، لہٰذا اس کے صلہ میں لام کیسا ہے ؟
جواب : لام بمعنی اجل ہے : اَیْ لَانُؤْمِنْ لِاَجلکَ ، یعنی محض آپ کے کہنے کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔
قولہ : عیانا، جَھْرَةً کی تفسیر عیاناً سے کرنے سے ایک سوال مقدر کا جواب مقصود ہے۔
سوال : جَھْرْةً ، جَھَرْتُ بالقراء ة کا مصدر ہے، جس کا تعلق صوت سے ہے، جَھْرَةً کو رؤیةً کے معنی میں استعمال کرنے کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : جَھْر، رؤیة کے معنی میں مجاز ہے، مناسبت دونوں میں ظہور تام ہے۔
قولہ : صَاعِقَة، بجلی کی کڑک، کڑکڑاہٹ۔
قولہ : فَمُتُّمْ ، فَمُتُّمْ ، کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ ثُمَّ بَعْثْنٰکُمْ کا عطف مقدر پر ہے لہٰذا اب یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ بعث تو بعد الموت ہوتا ہے اور اخذ صاعقہ کے لئے موت لازم نہیں ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ صاعقہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
قولہ : ما حَلَّ بِکُمْ ، اس اضافے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ تنظرون کا مفعول محذوف ہے کہ : اَخَذتکم الصاعقة۔
قولہ : اَلغَمام، السَّحابُ الرقیق الابیض۔
قولہ : تیہ، شام اور مصر کے درمیان ایک وادی کا نام ہے، جس کی وسعت نو فرسخ ہے۔
قولہ : مَنَّ ، ایک قسم کی شبنمی شریں گوند کی شکل کی چیز تھی، جو رات کو پتوں پر جم جاتی تھی، مفسر علام نے اس کو ترنجبین سے تعبیر کیا ہے۔
قولہ : سَلْوٰی، ایک قسم کا پرندہ ہے، جو کبوتر سے چھوٹا اور چڑیا سے بڑا ہوتا ہے، اردو میں اس کو بیٹر کہتے ہیں، اس کو لَوَیٰ اور فارسی میں ببودنہ کہتے ہیں، قاموس میں ہے کہ : اس کا واحد سلواةً ہے، اخفش سے منقول ہے کہ اس کا واحد نہیں سنا گیا۔ (لغات القرآن)
قولہ : سُمانی، سین کے ضمہ اور الف مقصورہ کے ساتھ اس کی جمع سمانات آتی ہے۔ (ترویح الارواح)
قولہ : منحنینَ ، اس میں اشارہ ہے کہ سُجَّدًا حال ہے ای متواضعین۔
قولہ : مسالتنا حِطة، اس میں اشارہ ہے کہ حِطّة مبتداء محذوف کی خبر ہے اور حِطّة کلمہ استغفار ہے، اور اس میں حذف کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
سوال : حِطّة کو قولوا کا مقولہ کیوں قرار نہیں دیا، حالانکہ یہی ظاہر ہے۔
جواب : اس لئے کہ قول کا مقولہ جملہ ہوتا ہے اور حِطّة مفرد ہے اسی اعتراض سے بچنے کے لئے مَسْألتنا، مبتداء محذوف کی حِطَّة کو خبر قرار دیا ہے۔
قولہ : یَزحَفُوْنَ علیٰ استاھم، ای یمشون علی اَدْبارھم، یعنی سرین کے بل گھسٹتے ہوئے، اَستاہ، جمع سَتْةٍ ، سرین۔
قولہ : بسبب فسقھم، اس میں اشارہ ہے کہ : بماء میں باء سببیہ اور ما، مصدریہ ہے۔
تفسیر و تشریح
وَاِذْقُلْتُمْ یَا مُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ (الآیة) خطاب اگرچہ آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود یہودیوں کو ہے مگر مراد ان کی قوم کے وہ ستر نمائندے ہیں، جن کو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے تھے : '' والقائلون ہُم السَبْعُونَ الَّذِیْنَ اخْتَارَہُم موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام لِلْمِیْقات۔ (بیضاوی) لَنْ نؤمنَ لَکَ ای لَاجْلکَ (بیضاوی) یعنی محض آپ کے کہنے سے یقین نہ کریں گے جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ تاریخ بنی اسرائیل کے اہم ترین واقعات دہرائے جا رہے ہیں اور اسرائیلیوں پر حجت ان کی قومی تاریخ سے قائم کی جا رہی ہے یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام جزیرہ نمائے سینا میں ستر بزرگان قوم کو ہمراہ لے کر لشکر گاہ سے کوہ طور پر گئے تھے، دامن کوہ میں انہیں چھوڑ کر خود آگے بڑھ گئے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی سے مشرف ہونے کے بعد اس کی اطلاع اور خوشخبری ان بزرگان قوم کو پہنچائی تھی۔
وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ، یعنی صاعقہ گرنے کے بعد ابتدائی حالات کو دیکھ رہے تھے، جس کے بعد موت واقع ہوئی، بعض مفسرین نے : '' فَاَخذتکم الصاعقة '' سے بےہوش ہوجانا بھی مراد لیا ہے اور '' وَخرّ موسیٰ صَعِقا، فَلَمَّا اَفَاقَ '' سے استدلال کیا ہے، اور انتم تنظرون کو اس کا قرینہ قرار دیا ہے، اس لئے کہ افاقہ غشی سے ہوتا ہے، نہ کہ موت سے امام رازی (رح) تعالیٰ اور ابن جریر (رح) تعالیٰ کی بھی یہی رائے ہے۔ (ماجدی)
مفسر علام نے '' اخذ صاعقة '' سے موت مراد لی ہے، اور اس کا قرینہ بعد میں آنے والے جملہ '' ثم بعثنا کم من بعد موتکم '' کو قرار دیا ہے، یہی قول راجح ہے۔
Ayah 2:56ثُمَّ بَعْثَنَاکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ، یعنی پھر ہم نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی دعائ) سے تم کو زندہ کو اٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے۔
فائدہ : '' موت '' کے لفظ سے ظاہر ہے کہ : یہ لوگ بجلی سے مرگئے تھے، اس مرنے کا قصہ اور سبب یہ ہوا کہ : جب موسیٰ علیہ
الصلوٰةو السلام نے کوہ طور سے تورات لاکر پیش کی اور اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی کی خوشخبری سنائی تو بعض گستاخ لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ ہماری کتاب ہے، تو بیشک ہم کو یقین آجائے گا، بنی اسرائیل نے اس کام کے لئے ستر آدمی منتخب کر کے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے ہمراہ کوہ طور پر روانہ کئے، وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو اس وقت کہنے لگے، ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ پس پردہ اللہ بول رہا ہے، نہ معلوم کون بول رہا ہوگا، اگر ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو مان لیں گے، چونکہ دنیا میں کوئی شخص اللہ کو دیکھنے کی قوت نہیں رکھتا، اس لئے اس گستاخی پر ان پر بجلی آن پڑی، اور سب ہلاک ہوگئے۔
اس کے بعد موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام نے اللہ سے عرض کیا کہ بنی اسرائیل یوں ہی بدگمان رہتے ہیں اب وہ یہ سمجھیں گے کہ میں نے ان کو لے جاکر کہیں ہلاک کردیا ہوگا، مجھ کو اس تمہت سے محفوظ رکھئے اس دعاء کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا۔ (معارف ملخصا)
رؤیت باری کا مسئلہ : معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ رؤیت باری ممکن نہیں ہے، اگر رؤیت باری ممکن اور جائز ہوتی تو اس سوال پر سرداران بنی اسرائیل کو اتنی سخت سزا نہ ملتی، لیکن اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ رویت باری جنت میں تو مومنین کو ہوگی ہی دنیا میں بھی مخصوص افراد کو بطور فضل خاص ممکن ہے، البتہ ہر جہت جسم اور مادی کم و کیف سے پاک۔ (بیضاوی، قرطبی، بحوالہ ماجدی)
Ayah 2:57وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ ، (الآیة) یہ دونوں قصے وادی تیہ میں پیش آئے، وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن ملک شام ہے، یہ لوگ حضرت یوسف علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانہ میں مصر آئے تھے، اور یہاں کے باشندے ہوگئے اور ملک شام پر پھر عمالقہ نامی ایک قوم کا تسلط ہوگیا، فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنے وطن کو ان سے آزاد کراؤ بنی اسرائیل اسی ارادہ سے مصر سے روانہ ہوئے، ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زوروقوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کردیا اور کہہ دیا، فاذھب انت وربک الخ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس انکار کی سزا یہ دی کہ چالیس برس تک میدان تیہ میں سرگرداں اور پریشان پھرتے رہے یہ جزیرہ نمائے سینہ جہاں دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں تھی اور نہ وہاں نباتاتی غذا کی کوئی صورت، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام کی دعاء سے دھوپ سے بچاؤ کا یہ انتظام فرمایا کہ بادل کو ان پر سایہ فگن رہنے کا حکم دیدیا، یہاں یہ بات بھی خیال رکھنے کی ہے کہ یہ اسرائیلیوں کی کوئی معمولی تعداد نہیں تھی، ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی، صحراء سینا میں مکانات کا تو ذکر ہی کیا سر چھپانے کے لئے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے، اس زمانہ میں اگر خدا آسمان کو ابر آلود رکھتا تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہوجاتی۔
اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے غذا کا یہ انتظام فرمایا کہ ان پر من وسلویٰ نازل فرما دیا، مَنّ ، شبنمی شریں گوند کی طرح ایک چیز تھی، جو درختوں کے پتوں پر بکثرت جم جاتی جس کو یہ لوگ جمع کرلیتے، دوسری چیز بٹیر تھی، جو کثرت سے آتیں جن
کو یہ لوگ پکڑ لیتے اور خوشگوار غذا کے طور پر استعمال کرتے۔
اور جب پانی کی ضرورت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو ایک پتھر پر اپنا عصا مارنے کا حکم دیا۔ اس کے نتیجے میں اس پتھر سے بارہ چشمے رواں ہوگئے، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کی بنیادی ضرورت کا انتظام فرما دیا۔
بنی اسرائیل کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ بقدر ضرورت لے لیا کریں آئندہ کے لئے جمع نہ کریں، مگر یہ لوگ ذخیرہ اندوزی سے باز نہ آئے، معلوم ہوا کہ ذخیرہ اندوزی بنی اسرائیل کی قدیم عادت ہے آخر اس ذخیرہ اندوزی کی سزا میں گوشت سڑنا شروع ہوگیا۔ (معارف) اسی کے لئے فرمایا گیا ہیں : '' وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ''
Ayah 2:58وَاِذْقُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَةَ ، یہ بستی کونسی تھی، بعض مفسرین نے بیت المقدس بتایا ہے اور ممکن ہے کہ فلسطین کا مشہور شہر اریحا ہو، جو موجودہ نقشوں میں (Jericho) کے نام سے ملے گا، یہ بحر مردار کے شمال سے پانچ میل کے فاصلہ پر واقع ہے، اسے اسرائیلیوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام کی وفات کے بعد حضرت یوشع علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانہ میں فتح کیا تھا، اس کے علاوہ بھی متعدد شہروں اور مقامات کے نام لئے گئے ہیں، بعض شہروں کے نام اب بدل گئے ہیں مثلا ایلہ کہ اب اسے عقبہ کہتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ مراد شہر سطیم ہو، یہ علاقہ مواب میں واقع ہے، جو بحر مردار کے مشرق میں ہے، اس زمانہ میں یہ شہر بہت شاداب اور آباد تھا، بنی اسرائیل کے اپنے وطن شام سے نکلنے کے بعد شام پر قوم عمالقہ قابض ہوگئی تھی، جب فرعون فرق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو سکون اور اطمینان حاصل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم عمالقہ سے جہاد کرو اور وطن واپس لے لو اور ساتھ ہی یہ حخم بھی دیا تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اکڑتے ہوئے داخل نہ ہونا، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسر انہ شان سے داخل ہونا، اس لئے کہ شان عبودیت یہی ہے اور مؤمنین مخلصین کے لئے یہی مناسب زور زیبا ہے، جیسا کہ حضرت محمد ﷺ فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں نہایت عاجزانہ انداز سے سرجھکائے ہوئے داخل ہوئے تھے۔
وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا، '' باب '' سے مراد شہر کا پھاٹک ہے، قدیم زمانہ میں شہر کے چاروں طرف بلند فصیل بنائی جاتی تھی، جو شہر پناہ کے نام سے مشہور ہوتی تھی، شہر میں داخل ہوتے وقت ایسی فصیل کے پھاٹک سے گزرتا ہوتا تھا سُجَّدًا، سجدہ سے مراد مشہور و معروف سجدہ نہیں ہے بلکہ عاجزی اور فروتنی مراد ہے، (راغب، ابن جریر، ابن عباس)
قولہ : حِطَّة، مراد یہ نہیں ہے کہ بعینہ لفظ، حِطَّة کہتے جانا اس لئے کہ یہ تو عربی زبان کا لفظ ہے اور اسرائیلیوں کی زبان عبری یا عبرانی تھی، حطة کے معنی توبہ و استغفار کے ہیں، مطلب یہ تھا، کہ قلبی خشوع خضوع کے ساتھ زبان سے بھی توبہ و استغفار کرتے جانا، اور بعض حضرات نے بعینہ اسی لفظ کے کہنے کا حکم بھی مراد لیا ہے، اگرچہ اس کا بھی احتمال ہے مگر اقرب الی المقصود اول ہے۔ (کبیر، روح)
Ayah 2:59فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا، (الآیة) یعنی جو الفاظ ان کو تلقین کئے گئے تھے، ان کو چھوڑ کر دوسری ہزل و تمسخر کے کلمے زبان پر لانے
لگے، ہزل و تمسخر کے کلمے کیا تھے ؟ اس میں روایات مختلف ہیں مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے کہ بجائے توبہ وانابت کے تمسخر اور استہزاء کا کلامہ کہہ رہے تھے۔
رِجْزًا مِّنْ السَّمَآئِ ، رجز عام ہے ہر عذاب کے لئے استعمال ہوتا ہے، خواہ وہ کسی صورت میں ہو۔
مِنَ السَّمَآئِ ، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عذاب برف یا بارش کی شکل میں آسمان سے نازل ہوا تھا، مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب اسباب طبعی سے پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ عذاب آسمانی حاکم کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ ای مقدرٔ من السمائ۔ اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا، کی تکرار ظالموں کے ظلم کو نمایاں کرنے کے لئے ہے۔
اسرائیلیوں پر نازل ہونے والا عذاب کیا تھا ؟ ہمارے یہاں طاعون کی روایتیں نقل ہوئی ہیں کہا جاتا ہے کہ اس طاعونی عذاب میں ستر ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ بمَا کانوا یفسقونَ ، بائ، سببیہ ہے، ای بسبب فسقھِمْ المستمر (ابو سعود)
کانوا کا صیغہ دوام و استمرار پر دلالت کرنے کے لئے ہے، بما کانوا یفسقون سے یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کہ طاعون کا اصل سبب طبی یا طبعی نہیں تھا، بلکہ روحانی اور اخلاقی بدپرہیزیاں اور نافرمانیاں تھیں۔ (ماجدی ملخصا)