Ayah 2:25آیت نمبر 25
ترجمہ : اور (اے نبی) خوشخبری دے دیجئے ان لوگوں کو جو ایمان لائے (یعنی) اللہ کی (توحید) کی تصدیق کی، اور نیک اعمال کئے کہ وہ فرائض اور نوافل ہیں، ان کے لئے درختوں والے اور محلوں والے باغات ہیں کہ ان باغوں اور محلوں کے نیچے نہریں جاری ہیں یعنی ان نہروں میں پانی جاری ہے اور نہر وہ جگہ ہے کہ جس میں پانی جاری ہوتا ہے (نہر کو نہر اس لئے کہتے ہیں) کہ پانی اس نہر کو کھود دیتا ہے اور جریان کی اسناد نہر کی جانب اسناد مجازی ہے جب ان باغوں میں سے کوئی پھل ان کو کھانے کے لئے بطور غذا دیا جائے گا تو کہیں گے کہ یہ تو اسی جیسا ہے جو ہم کو اس سے پہلے کھانے کے لیے دیا گیا، یعنی جو اس سے پہلے جنت میں دیا گیا (یہ اس وجہ سے ہوگا) کہ جنت کے پھل ہم شکل ہوں گے (اس قول کا) قرینہ وَاُتُوْا بِہ مُتَشَابِھًا ہے اور ملیں گے بھی ان کو ہم شکل بھی، کہ رنگ کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے مگر ذائقہ میں مختلف ہوں گے اور ان کے لئے جنت میں بیویاں ہوں گی یعنی حور وغیرہ، پاک ہوں گی حیض اور ہر گندگی سے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی دائمی قیام ہوگا نہ اس میں فنا ہوں گے اور نہ (اس سے) نکلیں گے، آیت : '' اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَحْی اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا '' یہود کے اعتراض '' مَاذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِذکرِ ھذہ الاشیائِ الخسیسةِ '' یعنی ان حقیر چیزوں کے ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصد ہے ؟ کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول : وَاِنْ یَّسْلُبْھُمْ الذُّبَابُ شَیْئًا '' میں مکھی کی اور اپنے قول '' کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ '' میں مکڑی کی مثال بیان فرمائی، یقینا اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا خواہ مچھر کی ہو یا اس سے اعلیٰ کی : (مَثَلاً ) ضَرَبَ یعنی جَعَلَ کا مفعول اول ہے، مَا نکرہ موصوفہ اپنے مابعد صفت سے مل کر، ضَرَبَ کا مفعول ثانی (یعنی) مَثْلاً مَّا، معنی میں اَیُّ مِثْالٍ کَانَ کے ہے یا ما زائدہ ہت، حقارت کی تاکید کے لئے اور اس کا مابعد مفعول ثانی ہے، بَعُوضَة، بعوض کا مفرد ہے (یعنی) چھوٹا مچھر، یعنی اس کے بیان کو ترک نہیں کرتا، اس لئے کہ اس کے بیان کرنے میں حکمتیں ہیں اہل ایمان تو اس مثال کو اپنے رب کی طرف سے صحیح سمجھتے ہیں، (یعنی) برمحل بیان ہوئی ہے اور کفار کہتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کو ایسی (حقیر) مثالوں سے کیا سروکار ؟ مَثَلاً تمیز ہے (بھٰذا مَثَلاً ) ای بِھَذَا المثل (کے معنی میں ہے) اور ما استفہام انکاری مبتداء اور ذا بمعنی الذی اپنے صلہ سے مل کر مبتداء کی خبر، یعنی اس مثال میں کیا فائدہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان (معترضین) کے جواب میں فرمایا کہ وہ اس مثال سے بہت سوں کو حق سے ان کے اس مثال کا انکار کرنے کی وجہ سے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے مومنین کی ان کے اس مثال کی تصدیق کرنے کی وجہ سے رہنمائی کرتا ہے اور اس سے ان فاسقوں کو بھی گمراہ کرتا ہے جو اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کے باوجود توڑ دیتے ہیں، یعنی اس کی اطاعت سے خروج کرنے والوں کو (گمراہ کرتا ہے) یعنی اس عہد کو جس کو اللہ نے ان سے کتابوں میں محمد ﷺ پر ایمان لانے کے بارے میں لیا تھا، (الَّذِیْنَ ) فَاسِقِیْنَ کی صفت ہے اور اللہ نے جس کو جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں اور وہ نبی ﷺ پر ایمان لانا اور صلی رحمی وغیرہ کرنا ہے اور أَنْ یُّوْصَلَ ، بہ کی ضمیر سے بدل ہے اور معاصی کے ذریعہ اور (لوگوں کو) ایمان سے روکنے کے ذریعہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں حقیقت میں یہی لوگ ہیں جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں نقصان اٹھانے والے ہیں، دائمی عذاب (میں) ان کا ٹھکانہ ہونے کی وجہ سے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا : اس کا عطف، عطف قصہ علی القصہ کے طور پر فان لَمْ تَفْعَلُوْا کے مضمون پر ہے۔
قولہ : بَشِّرْ ، امر واحد مذکر حاضر بمعنی تو خوش کن خبر سنا، بَشِّر، اَلبشارة سے مشتق ہے، بشارت اس پہلی خبر کو کہتے ہیں جو خوش کن ہو، پہلی خوش کن خبر کو بشارت اس لئے کہتے ہیں کہ : اس کا اثر (بشرہ) چہرہ پر ظاہر ہوتا ہے، (اَلْبَشَارَةُ : الْخَبر الَاوَّلُ السَّارُ الَّذِیْ یَظْھرُ بِہ اَثَرُ السُرُوُرِ فِی الْبشرَةِ ) ۔ (اعراب القرآن)
قولہ : اَخْبِرْ ، بَشِّرْ کی تفسیر اخْبِرْ سے کرکے اشارہ کردیا کہ بشارت اگرچہ خوشخبری کو کہتے ہیں مگر یہاں یہ مطلق خبر کے معنی میں ہے اور بشارت کی ضد انذار ہے۔
سوال : وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ، الصّٰلحٰت، ایسا وصف ہے جو کیا نہیں جاسکتا اس لئے کہ وصف ازقبیل اعراض ہے اور عرض موجود فی الخارج نہیں ہوتا جب تک کہ کسی جوہر (موصوف) کے ساتھ متصل نہ ہو، لہٰذا : '' وَعَمِلوا الصٰلحٰتِ '' کہنا درست نہیں ہے۔
جواب : الصٰلحٰت، اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے وصف ہے مگر اس پر اسمیت غالب ہونے کی وجہ سے اسم کے قائم مقام ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : بِاَنَّ ، بِأنَّ ، پر باء کو ظاہر کرکے بتادیا کہ أنَّ اصل میں بِاَنَّ تھا، یاء کو جوازاً حذف کردیا گیا أنَّ مع اپنے مدخول کے بَشِّرْ ، کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ (ابو البھائ (
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وَبَشِّرْ کا عطف فَاتقوا، پر ہے مگر اس صورت میں تغایر مخاطبین کا اعتراض ہوگا، صاحب روح المعانی نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ تغایر مخاطبین عطف کے لئے مضر نہیں، جیسا کہ : اللہ تعالیٰ کے قول : '' یوسفُ اعرض عن ھذا واستغفری '' یہاں معطوف علیہ اور معطوف کے مخاطب الگ الگ ہیں مگر پھر بھی عطف کیا گیا ہے۔
قولہ : الَّذِیْنَ : موصول اپنے صلہ سے مل کر بَشِّرْ کا مفعول بہ ہے۔
قولہ : '' أَنَّ لَہُمْ جنّٰتٍ تَجْرِیْ '' مشابہ مفعول نہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، تجری من تحتھا الاَنْھَارُ ، جَنّٰت کی صفت اول اور کُلَّمَا رُزِقوا صفت ثانی اور لَہُمق فیہا صفت ثالث اور ہم فیہ خٰلِدُوْنَ صفت رابع ہے۔
قولہ : بِھٰذَا مَثَلاً تمیز لفظ تمیز کے اضافہ کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ مَثَلاً تمیز سے حال نہیں ہے جیسا کہ بعض حضرات نے مَثَلاً کو حال قرار دیا، حالانکہ حال قرار دینا ضعیف ہے، ضعیف کی وجہ یہ ہے کہ اسم جامد کے حال واقع ہونے میں اختلاف ہے لہٰذا مَثَلاً کا حال واقع ہونا مختلف فیہ ہے اور اسم جامد کے تمیز واقع ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے لہٰذا مَثَلاً کا تمیز قرار دینا راجح ہے۔
قولہ : بِھٰذَا مَثَلاً ، مفسر علام نے بِھٰذَا مثلاً کی تفسیر بھذا المثل سے کرکے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔
سوال : یہ ہے کہ تمیز میں اصل یہ ہے کہ نسبت سے واقع ہو اور ھذا مثلاً میں نسبت نہیں ہے لہٰذا مثلاً کا تمیز واقع ہونا درست نہیں ہے۔ جواب : ھَذا مَثَلاً ، ھٰذا المثل کے معنی میں ہے، جس کے اندر نسبت موجود ہے لہٰذا مثلاً کا تمیز واقع ہونا درست ہے۔
قولہ : مَا، استفہام انکارٍ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : مَاذّا اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذا مَثَلاً ، میں مثال بیان کرنے کی حکمت معلوم کی گئی ہے اور کسی قول و فعل کی حکمت معلوم کرنا مذموم نہیں۔ حالانکہ یہاں مذموم قرار دیا گیا ہے۔
جواب : یہ استفہام معلوم کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ انکار اور نفی کے طور پر تھا، اسی وجہ سے اس کی مذمت کی گئی ہے۔
قولہ : مبتداء اس کا مقصد سیبویہ کے مذہب کو راجح قرار دینا ہے اور وہ یہ ہے کہ مَا، مبتداء ہے اور ذَا، موصول اپنے صلہ سے مل کر مبتداء کی خبر، نہ یہ کہ ذا مبتداء مؤخر اور ما، خبر مقدم، وجہ ترجیح یہ ہے کہ سیبویہ کی ترکیب قاعدہ معروفہ کے مطابق ہے اور وہ یہ کہ مبتداء مقدم اور خبر مؤخر ہوا کرتی ہے۔
قولہ : اَلخَارِ جِیْنَ عَنْ طَاعَتِہ : یہ الْفٰسِقِیْنَ کی تفسیر ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ : یہاں فاسق سے فاسق کامل مراد ہے اور وہ مشرک اور کافر ہے نہ کہ مومن فاسق مطلب یہ کہ یہاں فسق کے لغوی معنی مراد ہیں نہ کہ اصطلاحی اور شرعی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول : '' اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ '' میں منافق کو فاسق کہا گیا ہے حالانکہ منافق کلیةً اسلام سے خارج ہوتا ہے۔
قولہ : توکیدہ عَلَیْھِمْ : یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : '' یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِن بَعْدِ مِیْثَاقِہ '' اس آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں عہد اور میثاق، اور دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اس کا ترجمہ ہوگا، وہ اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں اس کے عہد کے بعد، اور اس کا کوئی مطلب نہیں ہے
جواب : میثاق : بمعنی تاکید اور پختگی ہے، یعنی وہ اللہ کے عہد کو اس کے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور یہ معنی درست ہیں۔
قولہ : من الایمان بالنبی ﷺ ، یہ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہ، میں مَا، کا بیان ہے، یعنی وہ لوگ اس کو قطع کرتے ہیں جس کو متصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور وہ ایمان بالرسول اور صلی رحمی ہے۔
قولہ : وَاَنْ یُوصَل بدل مِنْ ضمیر بِہ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ : اَنْ یُوْصَلَ بہ کی ضمیر سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور
ہے نہ کہ مَا، سے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب۔
اللغة والبلاغة
1۔ المجاز المرسل فی قولہ تعالیٰ : '' تجری من تحتھا الانْھَارُ '' والعلاقة المحلیة، ھذا اذا کان النھر مجری المائ .
2۔ التشبیہ البلیغ فی قولہ، '' ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ '' سمّیَ بلیغًا لانّ اداةَ التشبیہ فیہ محذوفة، فَتِساوی طرفا التشبیہ فی المرتبة .
3۔ الاستعارة المکنیة : وذالک فی قولہ تعالیٰ '' یَنْقُضُوْنَ عَھْد اللہ '' فقد شَبّہ العھد بالحبل المبرم، ثم حذف المشبہ بہ ورَمَزَ الیہ بشی من خصائصہ اولوازمِہ، وھو النقض، لأنّہ احدیٰ حالتی الحبل وھما النقص والابرام .
تفسیر وتشریح
ربط آیات : سابقہ آیت میں منکرین اور ان کے عذاب کا ذکر تھا، اس آیت میں ماننے والوں کے لئے خوشخبری مذکور ہے جنت اور حوران جنت وغیرہ کی بشارت ہے۔
ایمان و عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے : یہاں مومنین کی بشارت کے لئے ایمان کے ساتھ عمل صالح کی قید بھی لگائی ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح کے انسان کو اس بشارت کا مستحق قرار نہیں دیتا، اگرچہ صرف ایمان بھی جہنم میں خلود و دوام سے بچانے کا سبب ہے اور مومن خواہ کتنا بھی گنہگار ہو کسی نہ کسی وقت جہنم سے نکالا جائے گا، اور داخل کیا جائے گا، مگر عذاب جہنم سے کلیةً اور ابتداء نجات کا مستحق بغیر عمل صالح کے نہیں ہوگا۔
قرآن کریم نے ہر جگہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کا تذکرہ فرما کہ اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے عمل صالح ان کے بغیر ثمر آور نہیں اور ایمان کے بغیر عمل صالح کی عند اللہ کوئی اہمیت نہیں، مگر عمل صالح عند اللہ وہی معتبر ہے جو سنت کے مطابق ہو اور خالص رضائے الٰہی کی نیت سے کیا جائے، جو عمل خلاف سنت ہو یا نمود و نمائش کے لیے کیا ہو وہ عند اللہ مردود ہے۔
وَاُتُوْا بِہ مُتَشَابِھًا : مشابہت کا مطلب یا تو جنت کے تمام پھلوں کا آپس میں باہم ہمشکل ہونا ہے یا مشابہت سے مراد دنیا کے پھلوں سے مشابہت مراد ہے، مگر یہ مشابہت صرف شکل اور نام کی حد تک ہی ہوگی، ورنہ جنت کے پھلوں کے مزے اور ذائقے سے دنیا کے پھلوں اور میووں کی کوئی نسبت ہی نہیں ہے، جنت کی نعمتوں کی بابت حدیث شریف میں ہے : '' مَا لاَعَیْن رَأت وَلاَ اذُن سمعت ولا خَطَرَ عَلیٰ قَلبِ بَشَرٍ '' (صحیح بخاری تفسیر الم السجدة) نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے ان کی بابت سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔
دنیوی پھلوں سے ظاہری مشابہت کی مصلحت : دنیوی پھلوں سے ظاہری مشاکلت صرف اس لئے ہوگی کہ وہ جنتی پھلوں سے نامانوس نہ ہوں اور اجنبیت محسوس نہ کریں البتہ لذت میں وہ ان سے بدرجہا بڑھے ہوئے ہوں گے، دیکھنے میں مثلاً آم، انار، سیب، سنترے ہی ہوں گے اہل جنت دیکھ کر ہی پہچان لیں گے کہ یہ آم ہے اور یہ انار ہے اور یہ سنترا ہے، مگر مزے میں دنیا کے پھلوں
سے کوئی نسبت نہ ہوگی۔
وَلَہُمْ فِیْھَآ اَزْوَاج مُّطَھَّرَة : ازواج، زَوْج کی جمع ہے، زوج کے معنی جوڑے کے ہیں اور اس لفظ کا استعمال بیوی اور شوہر دونوں کے لئے ہوتا ہے بیوی شوہر کے لئے اور شوہر بیوی کے لئے زوج ہے۔ بیوی اور شوہر روحانی اخلاقی اور جسمانی ہر قسم کی گندگیوں اوع آلائشوں اور آلودگیوں سے صاف ستھرے اور پاکیزہ ہوں گے۔
مُطَھَّرَة مِنَ القذرِ وَالاَذیٰ (ابن جریر عن ابن عباس ؓ ما) قِیلَ مُطَہَرَّة عَن مساوی الاخلاق (معالم) ۔
فالمراد طَھَارَةُ اَبْدانِھِنَّ ، وَطَھارة اَزْوَاجِھِنَّ مِن جمیع الخصائل الذمیمة (کبیر) اِنَّ التطھیر یستعملُ فی الَاجْسَام وَالأخلاق وَالْاَفْعَال (بیضاوی) ومن کل اذیً یکونُ من نِسائِ الدنیا فَطَھُرَ مع ذٰلِکَ باطِنُھَا مِنَ الْاَخْلاقِ السَّیئة وَالصِفاتِ المذمومة . (ابن قیم) (تفسیر ماجدی) ۔
نام نہادر روشن خیال اور جنت کی نعمتیں : بعض روشن خیالوں کو پاکیزہ بیویوں کے نام سے خدا معلوم کیوں اتنی شرم آئی کہ انہوں نے اس معنی ہی سے انکار کردیا اور اَزوَاج مُّطَھَّرَة کی تفسیر عجیب توڑ مروڑ کر کی ہے، گویا کہ بہشت میں رضائے الٰہی کے مقام میں ہر قسم کی انتہائی لذت، مسرت و راحت کے موقع پر بیویوں اور پھر پاکیزہ بیویوں کا ملنا بڑے ہی شرم و ندامت کی بات ہے، اگر نفس جنت کے وجود ہی سے انکار ہے، تب تو بات ہی اور ہے ایسے مخاطب کے سامنے پہلے جنت کا اثبات کیا جائے گا، لیکن اگر جنت کا اقرار ہے، تو وہاں کی کسی لذت، کسی نعمت، کسی راحت سے انکار کے کوئی معنی نہ نقل کے اعتبار سے صحیح ہیں اور نہ عقل کے اعتبار سے جنت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ وہ مادی اور روحانی ہر قسم کی لذتوں، مسرتوں، راحتوں کا گھر ہے، یا پھر یہ ہے کہ بیوی کے نعمت اور اعلیٰ نعمت ہونے ہی سے انکار ہے، اگر ایسا ہے تو اس عقیدہ کا رشتہ اسلام سے نہیں بلکہ یہ رہبانیت اور مسیحیت سے وابستہ ہے اور مسیحیت اور رہبانیت بھی وہ نہیں جو مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کی لائی ہوئی ہے بلکہ وہ جو پولوس کی پھیلائی ہوئی ہے، اس قسم کا عقیدہ اور نظر یہ پولوسی مسیحیت سے دماغی مرعوبیت کا نتیجہ ہے اور جنت میں عمل زوجیت کا مقصد بقائے نوع یا افزائش نسل نہ ہوگا، بلکہ حذا کی طرح نفس لذت مقصود ہوگی۔
وَہُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ : یہ جنت کی انتہائی عظیم نعمت کا ذکر ہے، خلود کے معنی ہمیشگی اور ایسی حالت میں رہنے کے ہیں کہ جن میں کبھی تغیر اور خرابی پیدا نہ ہو اور جب اس کا ذکر دوزخ و جنت کے سیاق وسباق میں آئے گا تو اس کا مطلب ہوگا کہ اہل جنت ہمیشہ ہمیش جنت میں رہیں گے، اور اہل دوزخ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہیں گے، حدیث شریف میں ہے کہ جنت اور جہنم میں جانے کے بعد ایک فرشتہ اعلان کرے گا، اے جہنمیو ! اب موت نہیں ہے اور اے جنتیو ! اب موت نہیں ہے جو فریق جس حالت میں ہے اسی میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق، صحیح مسلم کتاب الجنة)
Ayah 2:26اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَحْییْ : (الآیة) ممکن ہے کہ یہ لفظ خود معترضین نے استعمال کیا ہو کہ یہ کیسا محمد ﷺ کا خدا ہے کہ جو ایسی حقیر چیزوں کی مثال پیش کرتے بھی نہیں شرماتا اور قرآن مجید نے مشاکلت کی رعایت سے اس لفظ کو دہرایا ہو۔
یجوز اَنْ تَقَعَ ھذہ العبارة فی کلام الکفرة فقالوا أما یستحیی رب محمد ﷺ ان یَضْرِبَ مثلا بالذبابِ وَالْعَنْکَبُوْتِ فجاءت علی سبیل المقابلة واطباقِ الجواب علی السوال۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اعتراض کے دفعیہ کے طور پر خدا ہی کا کلام ہو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر توضیح مدعا کے لئے بڑی اور عظیم مخلوق کا تذکرہ آیا ہے اور چھوٹی اور حقیر شئی کا بھی، قرآن مجید میں، جہاں ایک طرف ارض و سمائ، اور شمس و قمر کا تذکرہ ہے تو دوسری طرف مکھی، مچھر اور چیونٹی اور مکڑی کا ذکر ہے اس تمثیلی تذکرہ پر بعض کم فہموں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ کیسا خدائی کلام ہے ؟ دعویٰ تو خدائی کا اور تذکرہ حقیر چیزوں کا حالانکہ، کلام الملوک ملوک الکلام کے قاعدے اس میں حقیر اور ذلیل چیزوں کا تذکرہ ہونا ہی نہیں چاہیے۔
تمثیل کا مقصد : تمثیل کا مقصد اور غرض وغایت ممثل لہ کی وضاحت اور اس کو ذہب نشین کرانا ہوتا ہے لہٰذا یہ مقصد جس مثال سے پورا ہو سکے اس کو بہتر کہا جائے گا مثال میں پیش کی جانے والی چیز خواہ کیسی ہی حقیر کیوں نہ ہو، مچھر بظاہر ایک بہت حقیر اور بےوقعت سی مخلوق ہے اب جہاں کسی شئی کی بےوقعتی بیان کرنی ہے وہاں ظاہر ہے کہ مناسب اور موذوں مثال مچھر ہی کی ہوگی، اس پر اعتراض سفاہت و حماقت کے سو اور کیا ہوسکتا ہے ؟
فَمَا فَوْقَھَا : یعنی مچھر سے بڑھ کر خواہ جسم و جثہ میں یا صغر و حقارت میں (دونوں معنوں کی گنجائش ہے) اللہ کی بیان کردہ مثالوں سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ اور اہل کفر کے کفر میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ سب اللہ کے قانون قدرت و مشیئت کے تحت ہی ہوتا ہے۔ '' فسق '' اطاعت الٰہی سے خروج کو کہتے ہیں، جس کا ارتکاب عارضی اور وقتی طور پر ایک مومن سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس آیت میں فسق سے مراد اطاعت سے کلی خروج ہے یعنی کفر، جیسا کہ آئندہ آیت سے واضح ہے۔
Ayah 2:27الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ : (الآیة) مفسرین نے عہد کے مختلف مفہوم بیان کئے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی وہ وصیت جو اس نے اپنے اوامر بجالانے اور نواہی سے باز رکھنے کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ مخلوق کو کی ہے، دوسرا وہ عہد جو اہل کتاب سے تورات میں لیا گیا کہ نبی آخر الزمان کے آجانے کے بعد تمہارے لئے ان کی تصدیق کرنا اور ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوگا، تیسرے وہ عہد الست جو صلب آدم سے نکالنے کے بعد تمام ذریت آدم سے لیا گیا جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے : '' وَاِذْ اخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَلِی آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِہِمْ '' نقص عہد کا مطلب عہد کی پرواہ نہ کرنا ہے۔ (ابن کثیر)
بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرامین جاری کرتا ہے، اسے عربی کے محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے، جس کی رو سے تمام نوع انسانی صرف اسی کی بندگی کرنے پر مامور ہے (من بعد میثاقہ) (یعنی مضبوط عہد باندھ لینے کے باوجود) سے اشارہ اس طرف ہے کہ : آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا۔
وَیَقْطَعُوْنَ مَا اَمَرَ اللّٰہُ : یعنی جن روابط کے قیام اور استحکام پر انسان کی اجتماع و انفرادی فلاح کا انحصار ہے اور جنہیں درست
رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر لوگ تیشہ چلاتے ہیں اس مختصر سے جملہ میں اس قدر وسعت ہے کہ انسانی تمدن و اخلاق کی پوری دنیا پر جو دو آدمیوں کے تعلق سے لے کر عالمگیر بین الاقوامی تعلقات تک پھیلی ہوئی ہے صرف یہی ایک جملہ حاوی ہوجاتا ہے روابط کو کاٹنے سے مراد محض تعلقات انسانی کا انقطاع نہیں ہے بلکہ تعلقات کی صحیح اور جائز صورتوں کے سوا جو صورتیں بھی اختیار کی جائیں گی وہ سب اسی ذیل میں آجائیں گی، کیونکہ تعلقات کی صحیح اور جائز صورتوں کء سوا جو صورتیں بھی اختیار کی جائیں گی وہ سب اسی ذیل میں آجائیں گی، کیونکہ ناجائز اور غلط روابط کا انجام وہی ہے جو انقطاع روابط کا ہے یعنی بین الانسان تعلقات کی خرابی اور نظام اخلاق و تمدن کی بربادی۔
آیت کے وسعت مفہوم میں سارے حقوق اللہ اور حقوق العباد داخل ہیں یعنی وہ تمام فرائض جو ہر انسان پر خالق اور مخلوق دونوں سے متعلق عائد رہتے ہیں۔ (ابن جریر عن ابن عباس)
وُولٰئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ : اس نقصان میں دنیا کا خسارہ اور آخرت کا خسارہ دونوں داخل ہیں، دنیا میں تو اس لئے کہ عدم ایمان سے دلوں سے سکون و اطمینان رخصت ہوجاتا ہے اور آخرت میں اس لئے کہ آخرت میں ہر نعمت سے محروم رہے گا مَغْبُونونَ بذھاب الدنیا والآخرة۔ (ابن عباس)
Ayah 2:28آیت نمبر 28
ترجمہ : اے مکہ والو ! تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیوں اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم پشتوں میں بےجان نطفے تھے، اس نے ماؤں کے رحموں میں اور دنیا میں تمہارے اندر روح پھونک کر تم کو زندگی بخشی، اور استفہام ان کے کفر پر اظہار تعجب کے لئے ہے اور توبیخ کے لئے ہے، قیام دلیل کے باوجود پھر وہ تم کو موت دے گا، تمہاری مدت حیات ختم ہونے کے وقت پھر تم کو وہی مرنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر زندہ ہونے کے بعد اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، سو وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزاء دے گا، چناچہ جب انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر دلیل کے طور پر فرمایا، وہی تو ہے، جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا فرمائیں یعنی زمین اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ تم اس سے استفادہ کرو اور عبرت حاصل کرو پھر (یعنی) زمین پیدا کرنے کے بعد وہ آسمان کی جانب متوجہ ہوا اور سات آسمان استوار کئے، ھُنَّ ، کی ضمیر اَلسَّمَاء کی طرف راجع ہے اس لئے کہ : اَلسَّماء ماَ یؤل کے اعتبار سے جمع کے معنی میں ہے (سَوّٰہُمَّ ) معنیٰ میں صَیَّرَہَا، جیسا کہ دوسری آیت میں فَقَضٰہُنَّ سِبْعَ سَمٰوٰتٍ ہے اور وہ ہر چیز کا اجمالی اور تفصیلی علم رکھنے والا ہے کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ جو ذات ان (مذکورہ) چیزوں کے ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہے جو تم سے عظیم تر ہے تمہارے دوبارہ پیدا کرنے پر (بطریق اولیٰ ) قادر ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ یا اہل مکة، کَیْفَ ، حرف استفہام ہے حالت سے سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر قرآن میں زیادہ تر اناکر اور جرأت پر اظہار تعجب کے لئے مستعمل ہے۔
قولہ : وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا : واؤ حالیہ ہے اور کنتم امواتًا، تکفرون کی ضمیر سے حال ہے مفسر علام نے قَدْ کا اضافہ کرکے ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے۔
سوال : ماضی کا بغیر قد کے حال واقع ہونا صحیح نہیں ہے۔
جواب : قد کا لفظوں میں ہونا ضروری نہیں ہے اگر قد مقدر ہو، تب بھی ماضی حال واقع ہوسکتی ہے، یہاں قد مقدر ہے جیسا کہ مفسر علام نے قد مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے۔
دوسرا جواب : بغیر قد کی تقدیر کے بھی حال بننا درست ہے اس لئے کہ حال محض کنتم امواتاً ہی نہیں ہے بلکہ ما بعد، ترجعون، تک جملہ ہو کر حال ہے، کما جزم صاحب الکشاف، گویا کہ یوں کہا : کیفَ تکفرون ؟ وقصتکم ھذہ۔
قولہ : نُطَقًا فِی الْاَصْلَابِ ، ای اصلاب الرجال، نُطَفْ نُطْفَة، کی جمع ہے صاف پانی، تھوڑا پانی، ٹپکنے والی چیز یہاں مرد کا نطفہ منی مراد ہے۔ قولہ : فَاَحْیَاکُمْ ، یہ محذوف پر مرتب ہے تقدیری عبارت ہے : '' وَکُنْتُمْ عَلَقَةً فمضغةً فَاحْیَاکم '' اس تقدیر کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ نطفہ کے فوراً بعد حیات عطا نہیں ہوتی، بلکہ رحم مادر میں 120، ایام میں مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد حیات عطا ہوتی ہے۔
قولہ : فی الأرحام، وفی الدنیا بنفخ الروح، ظرفیت کا تعلق صرف ارحام سے ہے، بنفخ الروح میں باء سببیہ ہے یعنی اعطاء حیات رحم مادر میں نفخ روح کے سبب سے ہوتی ہے غالباً دنیا کا ذکر حیات رحم اور حیات دنیا میں فرق کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے اس لئے کہ دونوں زندگیوں میں نوعیت کا فرق ہے۔ (ترویح الارواح)
قولہ : وَالاستدہام للتعجب من کفرہم : یعنی اتنے سارے انعامات کے باوجود کفر و انکار پر جرأت کرنا باعث حیرت و تجب ہے، یا پھر استفہام توبیخ کے لئے ہے جیسا کہ مفسر (رح) تعالیٰ نے ارشاد کیا ہے کہ معروف معنی میں تعجب مراد نہیں ہے، اس لئے کہ معروف معنی میں تعجب اسباب کے مخفی ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے اور یہ معنی خدا تعالیٰ کے لئے متصور نہیں ہیں، اس لئے کہ باری تعالیٰ سے کسی بھی شئی کے اسباب مخفی نہیں ہیں۔
قولہ : لَاِنَّہَا فی معنی الجمع اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : ثُمَّ اسْتَویٰ اِلَی السَّمَآئِ فَسَوَّاہُنَّ ، میں ہُنَّ کی ضمیر اَلسَّماء کی طرف راجع ہے اور السّماء مفرد ہے اور ضمیر جمع ہے، لہٰذا مرجع اور ضمیر میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : السَّماء مایؤل کے اعتبار سے جمع ہے اس لئے کہ استویٰ کے بعد سات آسمان ہونے والے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے دَحْوِارض کے بعد سات آسمان بنائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : '' فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ '' یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے کہ السّماء میں الف لام جنس کا ہے لہٰذا جمع پر اطالق درست ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : گذشتہ آیات میں خدا کے وجود، توحید و رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا، ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس بات پر اظہار تعجب کیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے یہ بظاہر کیسے کفر و انکار کی جرأت کرتا ہے ؟ نیز اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا تو کم از کم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم اور اطاعت کرنا تو ہر شریف انسان کا طبعی اور فطری تقاضہ ہے حتیٰ کہ ایک بےعقل جانور بھی اپنے محسن کا، احسان مند اور مشکور ہوتا ہے، مگر یہ انسان عقل و فہم کا مدعی ہونے کے باوجود اپنے محسن حقیقی کی احسان فراموشی کی جرأت کیسے کرتا ہے۔
تخلیق انسان کی سرگزشت کے ادوار : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا (الآیة) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی سرگذشت بیان فرمائی ہے، اور فرمایا کہ ابتداء میں انسان عدم محض تھا، پھر موجود ہوا پھر معدوم ہوگا، پھر مکرر زندہ ہو کر خدا کے سامنے جوابدہی کرے گا، یہ ہے انسان کی پیدائش کی سرگذشت اور مبداء و منتہیٰ ۔
مذکورہ آیت میں دو موتوں اور دو زندگیوں کا تذکرہ ہے، پہلی موت سے مراد عدم مطلق ہے اور پہلی زندگی بطن مادر سے نکلنے کے بعد بعد موت سے ہم کنار ہونے کے وقت تک ہے دنیوی مدت حیات پوری ہونے کے بعد پھر موت آئے گی، اس کے بعد آخرت کی زندگی کا آغاز ہوگا، جس زندگی کا منکرین قیامت سے انکار کرتے ہیں وہ یہی ہے، شوکانی نے بعض علماء کی رائے ذکر کی ہے کہ قبر کی زندگی دنیوی زندگی ہی کا حصہ ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ برزخی زندگی حیات آخرت کا مقدمہ اور دنیوی زندگی کا تتمہ ہے، یعنی دونوں زندگیوں کے درمیان ایک واسطہ ہے، گو اس کا تعلق عالم آخرت کے مقابلہ میں عالم دنیا سے زیادہ ہے۔
ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ : یعنی جس ذات نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرات کو حیات بخشی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا وقت پورا ہونے کے بعد تمہاری اس حیات مستعار کو سلب کرلے گا، پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم بےجان اور منتشر ذرات کو جمع کرکے تمہیں زندہ کرے گا اسی طرح ایک مدت یعنی حالت عدم ابتداء میں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو حیات بخشی یعنی تم عدم سے وجود میں آئے، دوسری دنیوی زندگی پوری ہونے کے بعد تمہارے اوپر طاری ہوتی ہے، اور پھر دوسری زندگی قیامت کے روز عطا ہوگی۔ (معارف ملخصا)
پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کئی فاصلہ نہیں تھا، اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا یعنی فَاحْیَاکُمْ ، اور چونکہ دنیا کی موت وحیات کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور بروز قیامت زندگی کے درمیان فاصلہ ہے، اس لئے لفظ ثم اختیار کیا گیا، یعنی ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ، اس لئے کہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
سوال : اس آیت میں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے مگر عالم برزخ (عالم قبر) کی زندگی کا ذکر نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ برزخی زندگی نہ تو اس دنیوی زندگی کی طرح مستقل زندگی ہے اور نہ آخرت کی زندگی کے مانند مستقل زندگی ہے، بلکہ مشل خواب، موت وحیات کے مانند ایک درمیانی کیفیت ہے، اس کو دنیوی زندگی کا تکملہ اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی کہا جاسکتا ہے یہ چونکہ کوئی مستقل زندگی نہیں کہ اس کا مستقل ذکر کیا جائے اسی وجہ سے اس آیت میں برزخی زندگی کا مستقل ذکر نہیں ہے۔
عالم برزخ : لغت میں برزخ کے معنی ہیں دو چیزوں کے درمیان کی حد، روک، سورة الرحمن، آیت : 120، اور سورة الفرقان آیت 52، میں شیریں اور شور دریاؤں کے درمیان کے حجاب کو برزخ کہا گیا ہے اور اصلاح شریعت میں موت سے حشر تک کی مدت کا نام ہے سورة المؤمنون آیت 100 میں برزخ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
عالم برزخ کو عالم قبر اور قبر کی زندگی بھی کہتے ہیں، شریعت کی اصطلاح میں قبر صرف مٹی کے گڑھے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک عالم ہے، مرنے کے بعد ہر شخص اس عالم میں پہنچ جاتا ہے مرنے کے بعد اس عالم میں پہنچنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے، خواہ مرنے کے بعد قبر میں دفن کیا جائے، یا نہ کیا جائے، اس لئے کہ مر کر انسان ختم نہیں ہوجاتا بلکہ وہ انتقال مکانی کرتا ہے یعنی اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے اور یہ انتقال مکانی روحانی طور پر ہوتا ہے جسم تو اسی دنیا میں گل سڑ کر ختم ہوجاتا ہے یا جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
عالم برزخ میں مجازات : عالم برزخ کو اگر تمثیلاً گہری نیند سے تعبیر کردیا جائے تو نامناسب نہ ہوگا، نیند کو اخوالموت کہا جاتا ہے، جس طرح نیند، موت اور زندگی کے درمیان ایک واسطہ ہے، اسی طرح عالم دنیا اور عالم آخرت کے درمیان عالم برزخ بھی ایک واسطہ ہے۔ عالم دنیا اور عالم آخرت تو حقیقةً موجود فی الخارج ہے اور ان کی جزاء و سزا بھی حقیقی اور خارجی ہے، بخلاف عالم برزخ کے کہ وہ مثالی عالم ہے، جو موجود فی الخارج نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی جزاء و سزا بھی موجود فی الخارج نہیں ہوتی، بلکہ تمثیلی ہوتی ہے جیسا کہ سونے والا شخص خواب میں تکلیف دہ اور راحت رساں خیالی واقعات دیکھتا ہے اور ان واقعات سے رنج و راحت محسوس بھی کرتا ہے اور خواب میں پیش آنے والے واقعات کو واقعی اور حقیقی سمجھتا ہے، حالانکہ وہ واقعات نہ حقیقی ہوتے ہیں اور نہ واقعی اور نہ موجود فی الخارج خواب دیکھنے والا جب بیدار ہوتا ہے، تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو خواب تھا ورنہ تو وہ ان واقعات کو واقعی سمجھتا ہے۔
برزخی زندگی اور خواب میں فرق : خواب اور برزخی زندگی میں فرق یہ ہے کہ خوابیدہ شخص جب بیدار ہوجاتا ہے، تو خواب میں پیش آنے والے واقعات سے رنج و راحت کا خیالی تصور جس کو وہ حقیقت اور موجود فی الخارج سمجھے ہوئے تھا، ختم ہوجاتا ہے، مگر عالم برزخ میں جن مثالی اور خیالی تکلیف دہ یا راحت رساں حالات میں مبتلا ہوگا وہ تاقیامت ختم نہ ہوں گے، اس لئے کہ برزخ میں کوئی شخص نفخہء ثانیہ سے پہلے بیدار ہونے والا نہیں ہے، نفخہ ثانیہ کے وقت مجرم : '' مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا '' ( سورة یٰسین) (ہم کو ہماری خوابگاہ سے کس نے اٹھایا ؟ ) کہتا ہوا اٹھے گا، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عالم برزخ میں برزخیوں کی کیفیت مدت دراز تک (تاقیامت) سونیوالوں کی سی ہوگی، سو نیوالے کے خواب میں پیش آنے والے واقعات سے رنج و راحت کا تعلق سونے والے کی روح سے ہوتا ہے نہ کہ جسد خاکی سے، یہی وجہ ہے کہ سونے والے کو خواب میں جو رنج و راحت کے واقعات پیش آتے ہیں ان کا اثر
عام طور پر جسم پر ظاہر نہیں ہوتا اور نہ پاس میں موجود لوگوں کو سونے والے کے رنج و راحت کا احساس ہوتا ہے۔
حالت نوم میں روح کا تعلق جسم سے پوری طرض منقطع نہیں ہوتا : حالت نوم میں روح کا تعلق ہونے کے باوجود کسی نہ کسی درجہ میں باقی رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات خواب میں پیش آنے والے واقعات کا اثر سونے والے کے جسم پر بھی ظاہر ہوجاتا ہے اگر کوئی شخص خواب میں کسی خوفناک چیز کو دیکھتا ہے تو ڈر کر چیخ مار کر بیدار ہوجاتا ہے اور گھبرایا ہوا ہوتا ہے، اس کے برخلاف اگر کوئی مسرور کن واقعہ خواب میں دیکھتا ہے تو اس کے چہرے پر ہنسی اور مسکراہٹ کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، دیکھا گیا ہے کہ چھوٹا بچہ سونے کی حالت میں ہنستا اور کبھی روتا محسوس ہوتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچہ ڈرانے یا ہنسانے والے خواب دیکھ رہا ہے۔
اسی طرح مرنے کے بعد روح حیوانی (نسمہ) کا تدبیری تعلق بدن سے منقطع ہوجاتا ہے، مگر وہی یعنی خیالی تعلق باقی رہتا ہے، جیسے ایک ٹیلیفون کا بیشمار ٹیلیفونوں سے بیک وقت تعلق قائم رہتا ہے، مگر جب کسی نمبر کو ڈائل کرتے ہیں، تو اس نمبر سے حقیقی رابطہ قائم ہوجاتا ہے، اس محسوس مثال سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آگئی کہ اگر جسم و روح کے درمیان حقیقی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ خیالی رابطہ بھی منقطع ہوجائے۔ ( (رح) الواسعہ ملخصا)
عالم برزخ میں روح کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا اثر جسم پر بعض اوقات ظاہر ہوجاتا ہے
اسی طرح عالم برزخ میں جب مردہ کی روح کے ساتھ اچھایا برا معاملہ ہوتا ہے، تو بعض اوقات ان واقعات کا اثر مردہ کے جسد خاکی پر ظاہر ہوجاتا ہے، بعض روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے، ایک روایت میں یہ مضمون وارد ہے کہ آپ ﷺ نے ایک قبر میں مردے کو عذاب ہونے کی اطلاع دی اور آپ نے ہری ٹہنی اس قبر پر گاڑ دی جس سے مردے کے عذاب میں تخفیف ہوگئی، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ روح کا تعلق جسم سے بالکلیہ منقطع نہیں ہوتا۔
عالم برزخ میں مجازات : عالم برزخ میں عذاب وثواب کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ انسان دنیوی زندگی میں جو اچھے یا برے اعمال کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان اعمال ہی کو تکلیف دہ یا راحت رساں چیزوں کی مثالی شکل میں متشکل کردیتا ہے، جیسا کہ اچھے برے اعمال کا اچھی بری شکلوں میں متشکل ہونا روایات سے ثابت ہے چناچہ ایک درندہ صفت ظالم شخص عالم برزخ میں دیکھتا ہے کہ اسے کوئی درندہ نوچ رہا ہے، اور بخیل آدمی جس نے مالی حقوق واجبہ ادا کرنے میں کوتاہی کی ہوگی تو وہ اپنے مال کو سانپ، بچھو کی شکل میں اپنے اوپر مسلط دیکھتا ہے۔
عالم برزخ میں پوری جزاء یا سزا نہیں ہوگی : عالم برزخ چونکہ عبوری اور عارضی وقفہ ہے ابھی مقدمہ عدالت خداوندی میں فیصل نہیں ہوا، اس کو باقاعدہ مجرم، یا جرم سے بری قرار نہیں دیا گیا اس لئے سزا یا جزاء کا معاملہ ابھی نہیں کیا جاتا دنیاوی قانون کی اصطلاح میں اس کو حوالات کا زمانہ کہا جاتا ہے، مگر ابتدائی انٹرویو سے مقدمہ کا رخ متعین ہوجاتا ہے، یہ انٹرویو (قبر) عالم برزخ میں فکر و نکیر لیتے ہیں جس میں مختصر طور پر تین سوال ہوتے ہیں، (1) مَنْ رَّبُّکَ ؟ (2) مَادِیْنُکَ ؟ (3) مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ ؟ اگر مردہ ان سوالات کا جواب صحیح صحیح دیدیتا ہے، تو اس سے کہا جاتا ہے : '' نَمْ کَنَوْمَةِ العُروس '' تو دلہن کی طرح آرام سے سو جا اور اس کی طرف جنت کے دریچوں میں سے ایک دریچہ کھول دیا جاتا ہے، جس کے ذریعہ جنت کی خوشبوئیں، ٹھنڈی ہوائیں اس تک پہنچتی رہتی ہیں، گویا کہ وہ اشارہ ہوتا ہے اس کی کامیابی کی طرف، اور اگر منکر و نکیر کے سوالوں کا جواب صحیح نہ دے گا بلکہ گھبراہٹ کے عالم میں اس کی زبان سے : '' ھَاء ہَاء لا ادری '' نکلا تو اسکی طرف جہنم کے دریچوں میں سے ایک دریچہ کھول دیا جاتا ہے، پوری سزا مقدمہ فیصل ہونے کے بعد ہوگی۔
فائدہ : عالم برزخ میں منکر و نکیر کے سوالوں اور مردے کے جوابوں اور اس کے نتیجے سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔
اول : یہ کہ برزخی زندگی سونے والے کی حالت کے مانند ہے، اس لئے کہ فرشتے انٹرویو میں کامیاب ہونے والے شخص سے کہیں گے : '' نَمْ کَنَوْمَةِ الْعُرُوْسِ '' تو دلہن کے مانند سو جا یعنی اب تجھ کو قیامت تک کوئی اٹھانے والا نہیں، اس حدیث میں برزخی زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے اسی کی تائید روز قیامت اٹھائے جانے والے مجرم کے مقولہ : '' مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا '' سے ہوتی ہے۔
دوم : دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عالم برزخ کا مل مجازات کی جگہ نہیں ہے اس لئے کہ حدیث شریف میں جنت کی یا دوزخ کی جانب سے دریچہ کھولنے کا ذکر ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالم برزخ کا آخرت سے بہت خفیف اور معمولی تعلق ہے، اس لئے کہ عالم برزخ کوئی مستقل عالم نہیں ہے بلکہ دو عالم کے درمیان حد فاصل ہے، جس طرح کہ دھوپ اور چھاؤں دو مستقل چیزیں ہیں اور جہاں دھوپ اور چھاؤں کا التقاء ہوتا ہے، وہ جگہ دونوں کے درمیان حد فاضل ہوتی ہے دونوں کے اثرات وہاں ظاہر ہوتے ہیں، مگر چونکہ عالم برزخ عالم دنیا کا تتمہ اور ضمیمہ ہے، اس لئے یہ عالم، عالم دنیا سے قریب ہوتا ہے اور برزخ میں عالم آخرت کے اثرات بہت خفیف ظاہر ہوتے ہیں، اسی کو حدیث شریف میں کھڑکی کھولنے سے تعبیر کیا گیا ہے، واللہ اعلم بالصواب (رحمة اللہ الواسعة شرح حجة اللہ البالغہ اول از حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالنپوری استاذ حدیث دار العلوم دیوبند) ۔
نوٹ : بنیادی فکر حجة اللہ البالغة سے ماخوذ ہے، الفاظ اور تعبیر مع اضافہ احقر کی طرف سے ہے۔
Ayah 2:29ھُوَ الَّذِ یْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِی الْأَ رْضِ جَمِیْعًا : سا بقہ آیات میں انسان کی ذات سے متعلق انعامات و احسانات ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں جو انسان کی بقا اور اس کے آرام و راحت کے لئے ضروری ہے، یعنی تم کو پیدا کیا، جو کہ تمام نعمتوں کی اصل ہے، پھر تمہاری بقاء اور انتقاع کے لئے زمین میں ہر طرح کی چیزیں بکثرت پیدا فرمائیں، اس کے بعد متعدد آسمان بنائے، جن میں تمہارے لئے طرح طرح کے منافع ہیں۔
اس آیت میں زمین کی پیدائش پہلے اور آسمانوں کی پیدائش بعد میں ہونا، ثُمَّ ، کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے اور سورة النازعات میں جو یہ ارشاد ہیں : '' وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذَالِکَ دَحَاہَا '' یعنی زمین کو آسمان کے پیدا کرنے کے بعد بچھایا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین کی پیدائش آسمانوں کے بعد ہوئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی درستی اور اس سے پیداوار نکالنے کے تفصیلی کام آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوئے اگرچہ اصل زمین کے مادہ کی تخلیق آسمانوں سے پہلے ہوچکی تھی۔ (بحر محیط)
آسمانوں کے ساتھ ہونے پر کلام : عام انسانوں کو تو آسمان ایک ہی نظر آتا ہے، قرآن کریم میں سات کا ذکر ہے جیسا کہ مذکورہ آیت میں سبع سمٰوٰت صراحت کے ساتھ موجود ہے، اور فلاسفہ نو آسمان ثابت کرتے ہیں علماء اسلام کے قدیم فلاسفہ نے آسمانوں کو سات کہا اور باقی دو عرش وکرسی سے ثابت کئے، سات آسمان بالکل حق ہیں اور طبقہ بطبقہ ہیں قرآن کوئی سائنس یا فلکیات کی کتاب نہیں کہ اس میں خواہ مخواہ سائنس کے جدید یا قدیم نظریات سے مطابقت کی کوشش کی جائے، قرآن کے نزول کا مقصد سائنس علوم کی تعلیم نہیں بلکہ انسانیت اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم دینا ہے، سائنس نظریات میں قرار نہیں ہے، جو چیز کل تک مسلم اور صدفی صددرست تسلیم کی جاتی تھی، وہ آج صدفی صد غلط اور غیر مسلم مانی جاتی ہے، ہزارہا سال سے یہی طریقہ رہا ہے، بعد کا نظریہ ہر سابقہ مسلم نظریہ کی تردید کرتا ہے، لہٰذا اس کی کیا ضمانت ہے کہ موجودہ سائنسی نظریات کو مسلم سمجھ کر ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی غالباً ان کا مقصد یہ رہا ہوگا کہ اس دور کے سائنسی مسلماے سے آسمانی کتابوں کو ہم آہنگ کرنے سے آسمانی کتابوں کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا مگر جب تحقیق جدید نے ان سائنسی نظریات کو غلط ثابت کردیا، جس کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں معرکہ برپا ہوگیا، ابتداء میں مذہبی طبقہ غالب رہا جس کے وجہ سے بڑے بڑے سائنس دانوں کو نظر آتش کردیا گیا، لیکن جب سائنس جدید کو فروغ حاصل ہوا اور ان ہی نظریات کو مسلم سمجھا جانے لگا، تو مذہب کو سائنس جدید کے مقابلہ میں پسپا ہونا پڑا اور اس معرکہ آرائی میں مذہب کو شکست فاش ہوئی جس کی وجہ سے یورپ لامذہب (دہریہ) ہوگیا۔
علم و خیبر خالق کائنات کا علم قطعی اور بےریب ہے اور مخلوق کا علم ظن وتخمین پر مبنی ہے جو ہر زمانہ میں بدلتا رہتا ہے اور آئندہ بھی یہی ہوتا رہے گا، قرآن سائنسی نظریات کے تابع نہیں ہے اگر سائنس کا کوئی نظریہ قرآن کے نظریہ کے مطابق ہوجائے، تو ہوجائے، مطابق کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ اس پر خوش ہونے کی ضرورت ہے۔ (تفسیر الجواھر، طنطاوی، حذف و اضافہ کے ساتھ)