Ayah 2:58(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ادخلوا ھذہ القریۃ “ میں قریہ سے مراد بیت المقدس ہے۔
(2) وکیع الفریابی، عبد بن حمید ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ادخلوا الباب “ میں باب سے مراد ہے تنگی دروازہ۔ ” سجدا “ سے مراد ہے ” رکعا “ یعنی رکوع کی حالت میں ” وقولوا حظۃ “ سے مراد ہے ” مغفرۃ “ یعنی مغفرت طلب کرتے ہوئے (لیکن) وہ اپنے سرین کے بل (گھسٹتے ہوئے) داخل ہوئے اور مذاق کرتے ہوئے (حطۃ کی بجائے) حنطۃ کہنے لگے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لہم “۔
(3) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ادخلوا ھذہ القریۃ “ سے بیت المقدس کے دروازوں میں سے وہ ایک دروازہ مراد ہے جس کو ” حطۃ “ کہا جاتا تھا۔
(4) امام وکیع، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے الکبیر میں اور ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا لفظ آیت ” ادخلوا ھذہ القریۃ “ یعنی اپنے سروں کو جھکاتے ہوئے داخل ہوں ” وقولوا حطۃ “ اور حطۃ کہتے رہو مگر وہ کہنے لگے ” حنطۃ حبۃ حمیرا، فیہا شعیرۃ “ یعنی گیہوں کا سرخ دانہ جس میں جو ہوتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فبدل الذین ظلموا “۔
(5) امام ابن جریر، طبرانی، ابو الشیخ اور حاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (الفاظ) کہے ” ھطی سمقانا اربۃ مزیا “ اور یہ عربی زبان میں گیہوں کے سرخ سوراخ والے دانے کو کہتے ہیں جس میں کالے رنگ کا جو ہو۔
(6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقولوا حطۃ “ سے مراد ہے کہ (اے اللہ) ہماری خطاؤں کو معاف کر دے۔
(7) امام عبد بن حمید، ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ادخلوا ھذہ القریۃ “ سے مراد ہے اپنے سروں کو جھکاتے ہوئے ” وقولوا حظۃ “ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ (کہتے ہوئے) ۔
(8) امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وقولوا حطۃ “ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ (کہتے ہوئے)
(9) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دروازہ قبلہ کی طرف تھا۔
(10) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ حطۃ بیت المقدس کے دروازوں میں سے ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم فرمایا کہ (دروازہ میں) داخل ہوجاؤ حطۃ کہتے ہوئے اور دروازہ ان کے لیے چھوٹا کردیا گیا تھا تاکہ سر جھکا کر گزریں (لیکن) جب انہوں نے سجدہ کیا (یعنی سروں کو جھکایا) تو (بجائے حطۃ کے) حنطۃ کہنے لگے۔
(11) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ادخلوا ھذہ القریۃ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم بیان کرتے تھے کہ وہ بیت المقدس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ تھا لفظ آیت ” وقولوا حطۃ نغفرلکم خطیکم، وسنزید المحسنین “ فرمایا کہ جو شخص خطا کار ہوگا اس کی خطاؤں کو بخش دیا جائے گا اور جو شخص نیک ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو (اور) زیادہ مقدر فرما دیں گے لفظ آیت ” فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لہم “ فرمایا کہ ان کے لیے ایک حکم بیان کیا گیا تھا پھر انہوں نے جان بوجھ کر حکم الٰہی کی مخالفت کی اور سرکشی کرتے ہوئے اور اللہ کے حکم کے خلاف جرأت کرتے ہوئے۔
نیکی کرنے والوں کی نیکی میں اضافہ
(12) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وسنزید المحسنین “ کے بارے میں فرمایا کہ جو تم سے پہلے نیکی کرنے والا تھا اس کی نیکیوں کو بڑھا دیا جائے گا اور جو خطا کار ہوگا اس کی خطاؤں کو ہم معاف کردیں گے۔
(13) امام عبد الرزاق، احمد، بکاری، مسلم، عبد بن حمید، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابو عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل کو یہ کہا گیا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے اور ” حطۃ “ کہتے ہوئے داخل ہوں تو انہوں نے حکم کو بدل دیا اور چوتڑوں کے بل گھسٹے ہوئے داخ (رح) ہوئے اور وہ (حطۃ کی بجائے) حبۃ فی شعرۃ کیا (یعنی جو میں گندم کا دانہ)
(14) امام ابن جریر، ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے اور ابوہریرہ ؓ (دونوں سے) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ لوگ اس دروازہ میں چوتڑوں کے بل گھسٹے ہوئے داخل ہوئے جس میں ان کو سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے لفظ آیت ” حنطۃ فی شعیرۃ “ کہا۔
(15) امام ابو داؤد، الضیاء المقدسی نے المختارہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرمایا تھا لفظ آیت ” وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطۃ تغفرلکم خطیکم “۔
(16) امام ابن مردویہ نے ابو سعید (رح) سے روایت کیا کہ (ایک دفعہ) ہم روات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ساتھ سفر کر رہے تھے جب رات کا آخری حصہ تھا تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا جس کو ذات الحنظل کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس رات والی گھاٹی کی مثال اس درواذہ کی سی ہے جس کی بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ فرمایا تھا لفظ آیت ” وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطۃ نغفرلکم خطیکم “
(17) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اس امت میں ہماری مثال نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی طرح ہے اور بنی اسرائیل میں حطۃ کے مکتوب کی طرح ہے۔
Ayah 2:59(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز اللہ کتاب میں ” رجزا “ سے مراد عذاب ہے۔
(2) امام احمد، عبد بن حمید، مسلم، نسائی، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن مالک، اسامہ بن زید اور خزیمہ بن ثابت ؓ (تینوں حضرات) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بالشبہ یہ طاعون رجز ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جس سے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا۔ جب یہ (طاعون) اس زمین میں ہو جس میں تم رہتے ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تم کو یہ (بات) پہنچے کہ (طاعون) فلاں زمین میں ہے تو اس میں داخل نہ ہو۔
(3) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رجز سے مراد غضب ہے۔
Ayah 2:60(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” واذا استسقی موسیٰ لقومہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (واقعہ) میدان تیسہ میں ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو مار اتو اس میں پانی کے بارہ چشمے بن گئے۔ ہر ایک قبیلہ کے لیے اس میں سے ایک چشمہ تھا کہ اس میں سے وہ لوگ پیتے تھے۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے (اس) آیت ” واذا استسقی موسیٰ لقومہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (واقعہ) صحراء میں ہوا جب ان کو پیاس کا خوف ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (اللہ تعالیٰ سے) پانی مانگا تو حکم ہوا کہ پتھر کو مارو اور (یہ) پتھر طور پہاڑ کا تھا جس کو اپنے اپنے لئے اٹھا لائے تھے۔ جب وہ لوگ (میدان میں اترتے) موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اپنی لاٹھی سے مارا۔
” فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا، قد علم کل اناس مشربھم “ (پھر) فرمایا ہر ایک قبیلہ اپنا چشمہ جان لیتا جس کے پانی سے وہ فائدہ اٹھاتا تھا۔
(3) امام عبد بن حمید اور ابن جریر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مارنے سے ان کے لیے بارہ چشمے جاری ہوئے (اور) یہ معاملہ تیسہ کے میدان میں ہوا جب وہ بھٹک رہے تھے۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے جویبر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان میں سے لفظ آیت ” قد علم کل اناس مشربھم “ کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر ڈالتے تھے اور ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) پتھر پر عصا مارتے تو اس میں سے بارہ چشمے جاری ہوجاتے۔ ہر ایک چشمہ ایک شخص کی طرف جاری ہوتا تو وہ اس چشمہ کی طرف اپنے قبیلے کو بلاتا
(5) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعثوا فی الارض “ سے مراد ہے ” ولا تعثو “ یعنی فساد کی کوشش نہ کرو۔
(6) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “ سے مراد ہے کہ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” ولا تعثوا “ سے مراد ہے کہ گناہوں کے ساتھ زمین میں نہ چلو۔
(8) عبد بن حمید، عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “ سے مراد ہے کہ زمین میں فساد کے لیے نہ چلو پھرو۔
(9) امام ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی طلب کیا (اور اپنی قوم سے) فرمایا اے گدھے پیو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا میرے بندوں کو گدھے نہ کہو۔
Ayah 2:61(1) امام عبدبن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا قلتم یموسی نصبر علی طعام واحد “ سے مراد من او سلوی ہے اس کے بدلے انہوں نے سبزیاں طلب کیں اور دیگر دوسری اشیاء جن کا ذکر آیت میں ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل جب جنگل میں اس کھانے سے اکتا گئے تو انہوں نے اس معیشت (یعنی خوراک) کا مطالبہ کیا جس پر وہ پہلے گزارہ کرتے تھے اور کہنے لگے لفظ آیت ” ادع لنا ربک “ یعنی اپنے رب سے دع فرمائیے۔
(3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وقومھا “ سے مراد روٹی ہے۔ دوسرے لفظ میں گندم مراد ہے اور لفظ میں حنطہ فرمایا (یعنی گیہوں) بنی ہاشم کی لغت میں۔
(4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے الکبیر میں کئی طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے ” وفومھا “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے ” حنطۃ “ یعنی گیہوں عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے احیحہ بن جلال کو نہیں سنا وہ کہتا تھا :
قد کنت اغنی الناس شخصا واحدا وردا المدینۃ عن زراعۃ فوم
ترجمہ : میں اس شخص کے لوگوں کو غنی کرتا تھا جس نے پورے شہر کو گندم کی کاشت سے روک دیا تھا۔
(5) وکیع، عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد و عطا (رح) (دونوں) سے روایت کیا کہ ” وفوقھا “ سے مراد خبز یعنی روٹی ہے۔
(6) عبد بن حمید، ابن جریر نے حسن و ابو مالک (رح) (دونوں) سے روایت کیا کہ ” وفوقھا “ سے مراد خبز یعنی روٹی ہے۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر نے حسن و ابو مالک (رح) (دونوں) سے روایت کیا کہ ” وفوقھا “ سے مراد الحنطہ یعنی گیہوں ہے۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فوم “ سے مراد لہسن ہے۔
(9) امام ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کہا کہ ” فوم “ لہسن ہے۔ (کیونکہ) بعض قرأۃ میں (وفومھا کے بجائے) وفومھا ہے۔
(10) سعید بن منصور ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اور ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” وثومھا “ پڑھا۔
(11) ابن ابی داؤد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میری قرأۃ زید ؓ کی قرأۃ ہے۔ اور میں نے دس میں سے کچھ اوپر حروف ابن مسعود کی قرأۃ سے لئے ہیں اس میں ایک ثومھا بھی ہے ” من بقلہا وقثاءھا وثومھا “۔
(12) امام الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وفومھا “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا فوم سے مراد حنطہ یعنی گندم ہے۔ عرض کیا عرب کے لوگ اس (معنی) سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا آپ نے ابو محجن ثقفی کو نہیں سنا وہ کہتا ہے۔
قد کنت احسبی کا غنی واحد قدم المدینۃ عن زراعۃ قوم
ترجمہ : میں اپنے آپ کو یہ خیال کیا کرتا تھا کہ ایک شخص نے مستغنیٰ کردیا ہے کہ لوگوں کو گندم کی کاشت کی طرف پیش قدمی کرنے سے۔
فرمایا اے ابن ازرق جس شخص نے اس کو ابن مسعود ؓ کی قرأت پر پڑھا تو اس سے مراد وہی بدبو دار درخت ہے۔ امیہ بن أبی اصلت نے فرمایا :
کانت منازلہم اذذاک ظاھرۃ فیہا الفرادیس والفومات والبصل
ترجمہ : ان کے مکانات وہاں ظاہر تھے ان مکانات میں باغات گندم اور پیاز تھے۔
اور امیہ بن ابی صلت نے مزید فرمایا :
أنفی الدیاس من القوم الصحیح کما أنفی من الارض صوت الوابل البرد
ترجمہ : صحیح قوم سے قتال نے اسے اس طرح صاف کردیا ہے جیسے بارش کے پانی نے زمین کو صاف کردیا۔
(13) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قال اتسبدلون الذی ھو ادنی “ سے مراد ہے أدراء یعنی سب سے زیادہ خراب چیز۔
(14) حضرت سفیان بن عینہ، ابن جریر اور حضرت ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اھبطوا مصرا “ سے مراد ہے شہروں میں ایک شہر۔
(15) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اھبطوا مصرا “ سے مراد ہے شہروں میں ایک شہر۔
(16) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” اھبطوا مصرا “ سے فرعون کا شہر مراد ہے۔
(17) ابن ابی داؤد ابن الانباری نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ وہ ” اھبطوا مصر “ بلا تنوین کے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ شہر ہے جس پر صالح بن علی حکمران تھا۔
(18) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ “ سے وہ لوگ مراد ہیں جن سے جزیہ لیا جاتا ہے۔
(19) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہو کر جزیہ دیتے تھے۔
(20) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” والمسکنۃ “ سے مراد خاتمہ ہے۔
(21) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وباء وا بغضب من اللہ “ سے مراد ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غضب کے مستحق ہوگئے۔
(22) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” وباء وا “ سے مراد ” انقلبوا “ ہے یعنی وہ پلٹ گئے۔
اما قولہ تعالیٰ : ویقتلون النبین۔
ترجمہ : اور وہ قتل کرتے تھے نبیوں کو۔
(1) ابو داؤد، الطیالسی، ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے ایک دن میں تین سو انبیاء کو قتل کیا پھر ان کے آخر میں سبزی کا بازار لگاتے تھے۔
(2) احمد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ عذاب اس آدمی کو ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا اس کو کسی نبی نے قتل کیا اور جو گمراہی کا امام ہوگا اور جو مصور ہوگا مصوروں میں سے۔
(3) امام حاکم نے روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے بھی ان کا تعاقب کیا ہے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا نبی اللہ آپ نے فرمایا میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ میں نبی اللہ ہوں ذہبی فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے۔ صحیح نہیں ہے۔
(4) امام ابن عدی نے حمران بن أعین ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی دیہاتی لوگوں میں سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا السلام علیک یا نبیء اللہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں نبیء اللہ نہیں ہوں بلکہ میں نبی اللہ ہوں۔
(5) امام حاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبیء کو ہمزہ کے ساتھ نہ رسول اللہ ﷺ نے پڑھا نہ ابوبکر نے نہ عمر نے اور نہ خلفاء نے اور یہ ہمزہ بعد کے لوگوں کی بدعت ہے۔
Ayah 2:62سلمان نیشابوری کا واقعہ
(1) حضرت ابن ابی عمر العدنی نے اپنی سند میں اور ابن ابی حاتم نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ان دین والوں کے بارے میں پوچھا اور جن کے ساتھ میرا تعلق تھا پھر ان کی نماز اور ان کی عبادت کا بھی ذکر کیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ (الآیہ)
(2) حضرت الدارمی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب سلمان ؓ نے اپنے ساتھیوں کا قصہ رسول اللہ ﷺ کو بیان فرمایا تو آپ نے فرمایا وہ دوزخ میں ہیں۔ سلمان نے کہا مجھ پر زمین تاریک ہوگئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ الی قولہ ” یحزنون “ فرمایا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میری رسی کھل گئی۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت سلمان ؓ کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور سلمان نیشاپور کے لشکر کے ایک آدمی تھے اور ان کے سرداروں میں سے تھے اور بادشاہ کا لڑکا اس کا دوست تھا اور بھائی بنا ہوا تھا اس میں سے کوئی بھی اپنے دوست کو چھوڑ کر فیصلہ نہیں کرتا تھا اور دونوں شکار کے لئے اکٹھے سواری پر آتے تھے ایک مرتبہ دونوں شکار پر تھے اچانک دور سے ان کو ایک خیمہ دکھائی دیا دھاری دار کمبل سے بنا ہوا تھا۔ وہ دونوں اس میں آئے کیا دیکھتے ہیں کہ اس میں ایک آدمی مصحف میں پڑھ رہا ہے جو اس کے آگے رکھا ہوا ہے اور وہ رہ بھی رہا ہے ہم دونوں نے اس سے پوچھا یہ کیا ہوا اس نے کہا کہ جو آدمی اس کے سیکھنے کا ارادہ کرتا ہے وہ تمہاری طرح کھڑا نہیں رہتا اگر تم دونوں اس کے سیکھنے کا ارادہ رکھتے ہو تو اپنی سواریوں سے اتر آؤ تاکہ میں تم کو سکھاؤں وہ دونوں اس کے پاس اتر آئے اس آدمی نے ان سے کہا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ اس میں اس نے اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اپنی نافرمانی سے روکا ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ چوری نہ کرو زنا نہ کرو اور لوگوں کے اموال کو ناجائز طریقہ سے نہ لو پھر اس نے ان کو دوسرے احکام بھی بتائے اس میں سے کہ انجیل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی یہ باتیں ان کے دلوں میں بیٹھ گئیں اور انہوں نے توبہ کی اور اسلام لے آئے اس آدمی نے ان سے یہ بھی کہا کہ تمہاری قوم کا ذبیحہ تم پر حرام ہے۔
دو دونوں لگاتار اس سے علم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ بادشاہ کی عید (کا دن) آگیا اس نے کھانا جمع کیا پھر (عام) لوگوں اور سرداروں کو جمع کیا۔ بادشاہ نے بادشاہ کے بیٹے کی طرف بھی پیغام بھیجا اور اسے بھی دعوت پر مدعو کیا تاکہ لوگوں کے ساتھ کھانا کھائے اس نوجوان نے دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہنے لگا کیہ میں تجھ سے اعراض کرنے والا ہوں تو (خود) کھا اور تیرے ساتھی جب اس پر قاصد زیادہ ہوگئے (بلانے کے لیے) تو اس نے ان کو بتایا کہ وہ ان کے کھانے میں سے نہیں کھائے گا تب بادشاہ نے اپنے بیٹے کی طرف (قاصد) بھیجا اور اس کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ اس (دعوت کے بارے میں) تیرا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا ہم تمہارے ذبح کئے ہوئے میں سے نہیں کھاتے۔ تم کافر ہو اس لئے تمہارا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ کس نے تجھے اس بات کا حکم دیا ہے ؟ اس نے بتایا کہ (فلاں) راہب نے مجھے یہ بتایا ہے۔ بادشاہ نے اس راہب کو بلوایا اور کہا کہ میرا بیٹا کیا کہتا ہے ؟ راہب نے کہا کہ تیرا بیٹا سچ کہتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اگر تیرا خون ہمارے مذہب میں برا نہ ہوتا تو میں ضرور تجھ کو قتل کردیتا۔ لیکن تو ہماری زمین سے نکل جا اس نے ایک مدت کے لیے اسے اپنے ملک سے بدر کردیا سلمان (رح) فرماتے ہیں کہ ہم وہیں کھڑے ہو کر اس (کی جلاوطنی) پر رونے لگے
بادشاہ نے ان دونوں سے کہا اگر تم دونوں سچے ہو تو ہمارا موصل شہر میں ایک گرجا گھر ہے ہم ساٹھ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں تم (بھی) اس میں پہنچ جاؤ وہ راہب چل پڑا اور سلمان اور بادشاہ کا بیٹا پیچھے رہ گئے۔ سلمان نے بادشاہ کے بیٹے کو کہنا شروع کیا کہ تو (بھی) ہمارے ساتھ چل بادشاہ کے بیٹے نے کہا ہاں (چلتا ہوں) اور اس نے اپنا سامان بیچ کر تیاری شروع کردی جب اس نے (چلنے میں) دیر لگائی تو سلمان خود چل نکلا اور ان (عبادت کرنے والوں) کے پاس پہنچ گیا۔ وہ اپنے ساتھی کے پاس ٹھہرا جو گر جا گھر کا مالک تھا اس گرجاگھر کے رہنے والے راہبوں سے مرتبہ میں افضل تھا۔ سلمان اس کے ساتھ عبادت میں مشغول ہوگیا اور وہ اپنے آپ کو تھکا دیتا تھا۔ سلمان نے اس سے کہا کہ مجھ کو بتا کر جو تو مجھ کو حکم کرتا ہے وہ افضل ہے یا وہ جو (خود سے) کرتا ہوں وہ افضل ہے۔ اس نے کہا لیکن جو تو (خود سے عبادت) کرتا ہے (وہ افضل ہے) سلمان نے کہا میرا رشتہ چھوڑ دے۔
پھر اس نے گرجا گھر کے مالک نے بلایا اور کہا کیا تو جانتا ہے یہ گر جا میرا ہے اور میں لوگوں سے اس کا زیادہ حق دار ہوں اگر تو یہاں سے نکلنا چاہتا ہے تو یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے لیکن میں ان لوگوں کی عبادت سے کمزور آدمی ہوں اور میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں اس گرجا سے دوسرے گرجا کی طرف منتقل ہوجاؤں جہاں اس کی نسبت عبادت آسان ہے۔ اگر تو یہیں ٹھہرنا چاہے تو ٹھہر جا اور اگر تو میرے ساتھ چلنا چاہے تو میرے ساتھ چل۔ سلمان نے اس سے پوچھا ان دونوں گرجا گھر میں سے رہنے والوں کے لحاظ سے کون سا بہتر ہے اس نے کہا یہی سلمان نے کہا تو میں اسی میں رہوں گا سلمان اسی میں ٹھہر گئے اور گرجا گھر کے مالک نے سلمان کو وصیت کی کہ ان کے ساتھ عبادت کرتا رہے۔
پھر اس عالم شیخ نے بیت المقدس جانے کا ارادہ کیا تو اس نے سلمان کو بلایا اور کہا میں بیت المقدس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اگر تو میرے ساتھ چلنا چاہے تو چل اور اگر تو یہاں رہنا چاہے تو رہ جا۔ سلمان نے اس سے پوچھا دونوں (جگہوں) میں سے کون سی افضل ہے۔ میں تیرے ساتھ چلوں یا یہیں ٹھہرارہوں ؟ اس نے کہا نہیں بلکہ تم میرے ساتھ چلو۔ سلمان ان کے ساتھ چل پڑے۔ یہ (دونو) راستے میں بیٹھے ہوئے ایک اپاہج کے پاس سے گزرے جب اس نے ان دونوں کو دیکھا تو پکارا اے راہبوں کے سردار ! مجھ پر رحم فرما اللہ تجھ پر رحم کرے۔ شیخ نے اس سے نہ کوئی بات کی اور نہ اس کی طرف دیکھا اور ہم دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے شیخ نے سلمان سے کہا جاؤ اور علم کو حاصل کرو کیونکہ اس مسجد میں زمین کے علامء حاضر ہوتے ہیں سلمان ان کے سننے کے لیے نکلے ایک دن غمگین واپس آئے تو شیخ نے کہا اے سلمان تجھ کو کیا ہوا سلمان نے کہا خیر ساری کی ساری انبیاء اور ان کے تابعداری کرنے والے لے گئے ہیں شیخ نے کہا غمگین مت ہو کیونکہ ایک نبی باقی ہے کہ اس سے کوئی نبی افضل نہیں اور یہ اس کا زمانہ ہے جس میں وہ نکلے گا اور میں اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ اس سے کوئی نبی افضل نہیں اور یہ اس کا زمانہ ہے جس میں وہ نکلے گا اور میں اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ اس کو پالوں (کیونکہ میں بوڑھا ہوں) اور تو نوجوان ہے شاید کہ تو اس کو پالے اور وہ عرب کی سرزمین میں نکلے گا اگر اس کو تو پالے تو اس پر ایمان لے آنا اور اس کی تابعداری کرنا۔
سلمان نے اس سے کہا مجھے اس کی علامات میں سے کچھ بتائیے اس نے کہا ہاں اور وہ اپنی پیٹھ میں مہر والے ہوں گے مہر نبوت کے ساتھ اور وہ ہدیہ (کا مال) کھائیں گے اور صدقہ (کا مال) نہیں کھائیں گے پھر یہ دونوں وہاں سے لوٹے حتیٰ کہ اس اپاہج شخص کے پاس پہنچے اس نے دونوں کو آواز دی اور کہا اے راہبوں کے سردار مجھ پر رحم فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے گا۔ شیخ نے اپنا گدھا اس کی طرف موڑ دیا پھر اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اس کو اوپر اٹھایا پھر زمین پر ڈال دیا اور اس کے لیے دعا کی اور اس سے کہا اللہ کے حکم سے کھڑا ہوجا وہ صحت مند ہو کر کھڑا ہوگیا اور چلنے لگا سلمان تعجب کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگا راہب چلا گیا اور سلمان سے غائب ہوگیا سلمان کو اس کے متعلق کوئی علم نہ تھا۔
پھر سلمان راہب کی تلاش میں نکل پڑا عرب کے قبیلہ کلب میں سے اس کو دو آدمی ملے۔ ان دونوں سے اس نے پوچھا کیا تم نے راہب کو دیکھا ہے ؟ ان میں سے ایک آدمی نے اپنی سواری کو بٹھا دیا اور کہنے لگا ہاں اس اونٹوں کو چرانے والا یہ ہے اس نے سلمان کو سوار کرلیا اور اس کو مدینہ لے آیا۔ سلمان نے کہا مجھے ایسا غم پہنچا کہ اس طرح کا غم کبھی نہیں پہنچا اس نے (مدینہ پہنچ کر) قبیلہ جہینیہ کی عورت کا ہاتھ مجھے بیچ دیا میں اور اس عورت کا ایک اور غلام تھا ہم دونوں باری باری اس عورت کی بکریاں چراتے تھے۔ سلمان دراھم جمع کرتا تھا اور محمد ﷺ کے نکلنے کے انتظار میں تھا اس درمیان کہ ایک دن وہ بکریاں چرا رہا تھا اس کا ساتھی اچانک اس کے پیچھے سے آیا اور کہنے لگا کیا تو جانتا ہے کہ آج ایک آدمی مدینہ منورہ میں آیا ہے جو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں سلمان نے اپنے ساتھی سے کہا کہ تو بکریوں میں ٹھہرجا اور میں ابھی آتا ہوں۔
سلمان مدینہ منورہ پہنچا نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا اور اس کے گرد گھومنے لگا جب آپ نے اس کو دیکھا تو جان لیا کہ یہ کیا چاہتا ہتے آپ نے (پیٹھ سے) اپنے کپڑے کو اٹھالیا یہاں تک مہر مبارک ظاہر ہوگئی۔ جب سلمان نے اس کو دیکھا تو آپ کے قریب آئے اور آپ سے بات کی پھر چلے گئے اور کچھ دیناروں کے ساتھ ایک نکری دیدی اس کو بھونا اور کچھ دیناروں کے ساتھ روٹیاں خریدیں اور بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے آپ نے پوچھا یہ کیا ہے۔ سلمان نے کہا یہ صدقہ ہے آپ نے فرمایا مجھے اس کو کوئی حاجت نہیں اسے لے جاؤ تاکہ اس کو دوسرے مسلمان کھالیں۔ پھر (سلمان) چلا گیا اور دوسرے دینار سے روٹی اور گوشت خریدا پھر نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا آپ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ عرض کیا یہ ہدیہ ہے فرمایا بیٹھ جا اور کھا سلمان بیٹھ گئے اور اس میں سے اور انہوں نے آپ ﷺ نے مل کر کھانا کھایا اس درمیان وہ (سلمان) آپ سے گفتگو کر رہے تھے جب انہوں نے اپنے ساتھیوں کا ذکر کیا اور ان کو بتایا کہ وہ لوگ نماز پڑھتے تھے روزے رکھتے تھے اور آپ پر ایمان رکھتے تھے اور گواہی دیتے تھے کہ بلاشبہ آپ عنقریب نبی بن کر آنے والے ہیں جب سلمان ان (ساتھیوں) کی تعریف سے فارغ ہوئے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا اے سلمان وہ دوزخ والوں میں سے ہیں۔ یہ بات سلمان کو بھاری ہوئی اور سلمان یہ کہہ چکا تھا اگر وہ لوگ آپ کو پالیتے تو آپ کی تصدیق کرتے اور آپ کا اتباع کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا والنصری واصبین من امن باللہ والیوم الاخر “۔
(4) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سلمان فارسی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ان انصار کے بارے میں پوچھا، ان کے اعمال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اسلام پر نہیں مرے۔ سلمان نے کہا تو مجھ پر زمین تاریک ہوگئی اور میں نے ان کی عبادت میں محنت کا ذکر کیا (کہ وہ لوگ اللہ کی عبادت میں کتنی محنت کرتے تھے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ آپ نے سلمان کو بلایا اور فرمایا کہ یہ آیت تیرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی پھر فرمایا جو آدمی میرے بارے میں سننے سے پہلے دین عیسیٰ پر مرگیا تو وہ خیر پر ہے اور جس آدمی نے میری نبوت کے بارے میں سن لیا اور مجھ پر ایمان نہیں لایا تو وہ ہلاک ہوگیا۔
(5) امام ابو داؤد نے الناسخ والمنسوخ میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ، وھو فی الاخرۃ من الخسرین “ (آل عمران آیت 3)
(6) امام ابن جریر و ابن ابی حاتم نے عبد اللہ ابن نجی کے طریق سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ ان کا نام یہود کو اس لئے یہود کہا جاتا ہے ” انا ھدنا الیک “ (الاعراف 15) کہنے کی وجہ سے۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم لوگوں میں سے زیادہ جاننے والے ہیں یہود کو یہودی کیوں کہ کہا جاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کلمہ کہنے کی وجہ سے ” انا ھدنا الیک “ (ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں) اور نصاری کو نصاری اس لئے کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس کلمہ کی وجہ سے جو انہوں نے فرمایا تھا ” کونوا انصار اللہ “۔
(8) امام ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں میں سے ہم زیادہ جاننے والے ہیں یہود کو۔ یہودی اور نصاری کو نصرانی کیوں کہا جاتا ہے۔ یہود کا نام یہودی اس کلمہ کی وجہ سے رکھا گیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ” انا ھدنا الیک “ جب موسیٰ (علیہ السلام) وفات پا گئے تو ان کو یہ کلمہ بہت پسند آیا تو وہ اپنے آپ کو یہودی کہنے لگے اور نصاری کا نام نصرانی اس کلمہ کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ جس کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا لفظ آیت ” من انصاری الی اللہ “ حواریوں نے کہا ” نحن انصار اللہ “ اس لئے وہ اپنے آپ کو نصرانی کہنے لگے۔
نصاری کو نصاریٰ کیوں کہا جاتا ہے ؟
(9) امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک بستی کی وجہ سے نصاری نام رکھا گیا جس کو ناصرہ کہا جاتا تھا اسی میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اترے تھے مدینہ نام انہوں نے خود رکھا۔ اور اس کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا۔
(10) ابن سعد نے طبقات میں اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری اس لئے نام رکھا گیا کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بستی کا نام ناصرہ تھا۔
(11) وکیع، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ صائبون یہود، مجوس اور نصاری کے درمیان ایک قوم تھی ان کا کوئی دین نہ تھا۔
(12) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ صائبون، نہ یہود تھے نہ نصاری تھے وہ مشرکین میں سے ایک قوم تھی جس کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔
(13) امام عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے صائبین کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے فرمایا کہ وہ یہود نصاری اور مجوس کے درمیان ایک قوم تھی ان کے ذبائح حلال نہیں ہیں اور نہ (ان کے ساتھ) نکاح حلال ہے۔
(14) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ صائبون، نصاری اور مجوس کے درمیان ایک منزل ہے اور ابن ابی حاتم کے الفاظ یوں ہیں کہ یہود اور نصاری کے درمیان ایک منزل ہے۔
(15) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ صائبون یہود کے پاس گئے اور ان سے کہا تمہارا کیا دین ہے ؟ انہوں نے کہا ہمارے نبی موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس یہ احکام لے کر آئے اور ہم کو ان ان چیزوں سے منع کیا۔ یہ ہماری کتاب تورات ہے جو ہماری تابعداری کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا پھر وہ نصاری کے پاس آئے انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا جو یہود نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تھا اور کہنے لگے یہ انجیل ہماری کتاب ہے۔ جو ہماری تابعدادی کرے گا جنت میں داخل ہوگا صابی کہنے لگے یہ لوگ (یعنی نصاری) کہتے ہیں کہ ہم ہی (حق پر) ہیں اور جو شخص ہماری تابعداری کرے گا جنت میں جائے گا اور یہود کہتے ہیں کہ ہم ہی (حق پر) ہیں اور جو شخص ہماری تابعداری کرے گا جنت میں جائے گا۔ اور ہم کوئی دین قبول نہیں کرتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام صائبین رکھ دیا۔
(16) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ صائبون اہل کتاب میں سے ایک فرقہ ہے جو زبور پڑھتا تھا۔
(17) امام وکیع نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ صائبون اہل کتاب میں سے ایک گروہ ہے۔
(18) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صائبون ایک ایسی قوم ہے جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور زبور شریف کی تلاوت کرتے ہیں۔
(19) امام ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ صابی وہ ہے جو ایک خدا کو پہچانتا ہے اور اس کی کوئی شریعت نہیں جس پر عمل کرے اور وہ کفر کی بات نہیں کرتا۔
(20) امام ابن ابی حاتم نے ابو زنار (رح) سے روایت کیا کہ صائبون ان قوموں سے ہے جو عراق کے پاس رہتی ہے اور وہ کو ثی میں رہتے ہیں (جو) سارے نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔
(21) امام عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ کہتے ہیں ” الصائمون وما الصابؤن الصابؤن “ یعنی کیا میں صائبون کہتے ہیں ” الخاطؤن وما الخاطؤن الخاطؤن “ کیا میں (خاطؤن) یعنی خطا کرنے والے۔
Ayahs 2:63–64(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور “ طور ایک پہاڑ ہے جس کے قریب یہود اترتے تھے اور وہ ان کے اوپر اٹھایا گیا اور فرمایا میرے حکم پر چلو ورنہ میں تمہارے اوپر اس پہاڑ کو گرا دوں گا۔
(2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر تورات شریف اتاری گئی اور بنی اسرائیل اس کے نیچے تھے۔
(3) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو پہاڑوں میں سے اگایا گیا اور جو نہیں اگایا گیا وہ طور نہیں۔
(4) الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سریانی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں
(5) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا نبطی لوگو پہاڑ کو طور کہتے ہیں۔
(6) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کہا کہ لفظ آیت ” خذوا ما اتینکم بقوۃ “ میں قوۃ سے مراد بجد ہیں یعنی مضبوطی کے ساتھ پکڑنا۔
(7) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” واذکروا ما فیہ “ سے مراد ہے کہ جو کچھ تورات شریف میں ہے اس کو پڑھو اور اس پر عمل کرو۔
(8) ابن اسحاق اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لعلکم تتقون “ سے مراد ہے کہ شاید تم ان اعمال سے رک جاؤ جن میں پہلے مبتلا تھے۔
Ayahs 2:65–66(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ولقد علمتم “ سے مراد ہے عرفتم یعنی تم نے پہچان لیا اور یہ ان کو گناہ سے ڈرانے کے لیے تھا فرمایا کہ ڈرو تم اس بات سے کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچ جائے جو ہفتہ والوں کو پہنچا تھا جب انہوں نے میری نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے تو فرمایا کہ (جب) انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار کرنے پر جرأت کی تو ہم نے ان سے کہا لفظ آیت ” کونوا فردۃ خاسئین “ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی کے سبب ان کو بندر (کی صورت) میں مسخ فرما دیا۔ اور مسخ شدہ کبھی تین دنوں سے زیادہ زندہ نہیں رہا (مسخ ہوجانے کے بعد) نہ اس نے کھایا نہ پیا اور نہ ان کی نسل چلی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی وہ فوراً بندر بنا دیئے گئے تھے پھر وہ ہلاک ہوگئے تھے کیونکہ مسخ ہونے والے کی نسل نہیں چلتی۔
(3) حضرت ابن المنذر نے ایک دوسرے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بندر اور سور اس نسل میں سے ہیں جو مسخ کئے گئے تھے۔
(4) امام ابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ان کی نسل ختم کردی گئی تھی۔
(5) ابن المنذر نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقلنا لہم کونوا قردۃ خسئین “ سے مراد ہے کہ ان کے دلوں کو مسخ کیا گیا تھا اور بندر (کی شکل) میں مسخ نہیں کیا گیا تھا اور یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان (اہل کتاب) کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے اس گدھے کی مثال ہے جو کتابیں اٹھائے ہوتا ہے۔
بنی اسرائیل کے مچھلی شکار کرنے کا واقعہ
(6) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے لیے مچھلیاں حلال کی گئی تھی اور ہفتہ کے دن ان پر شکار کرنا حرام تھا کہ یہ جان لیا جائے کون نافرمانی کرتا اور کون فرمانبرداری کرتا ہے۔ ان میں لوگ تین قسم کے تھے۔ ایک قسم ان لوگوں کی تھی جو (شکار کرنے سے) رک گئے اور (دوسروں کو) نافرمانی سے روکا۔ اور دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو خود تو حرام کا ارتکاب نہیں کرتے تھے (مگر دوسروں کو نہ روکتے تھے) اور تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جو گناہ کا ارتکاب کرتے تھے اور گناہ (کرنے) پر عادی ہوگئے جب انہوں نے (اللہ کے حکم کا) انکار کیا اور سرکشی کی اس کام سے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منع فرمایا تھا (تو فرمایا) لفظ آیت ” قلنالہم کونوا قردۃ خاسئین “ اور قوم بندر بن گئی (جو) بھیڑئیے ان پر غرآتے تھے پس وہ مرد اور عورتیں بندر بن گئے۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ” خسئین “ سے مراد لیا ہے ذلیلیں یعنی ذلیل ہونے والے۔
(8) امام ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کہا کہ ” خسئین “ سے مراد ہے صاغرین یعنی حقیر۔
ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اس کی مثل معنی نقل کیا ہے۔
(9) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فجعلنھا نکالا لما بین یدیھا “ یعنی گناہوں کی وجہ سے ” وما خلفھا “ بستیوں میں سے ” ومؤعظۃ للمتقین “ (اور نصیحت ہے) ان لوگوں کے لئے جو ان کے بعد قیامت کے دن تک ہوں گے۔
(10) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فجعلناھا “ یعنی ان مچھلیوں کو ” نکالا لما بین یدیھا وما خلفھا “ (عبرت بنا دیا) گناہوں کی وجہ سے جو انہوں نے پہلے اور بعد میں کئے تھے۔
(11) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فجعلنھا “ یعنی ہم نے اس سزا کو اور وہ سزا مسخ ہونا تھا۔ ” نکالا “ یعنی عقوبہ (سزا) ” لما بین یدیھا “ تاکہ وہ ان کے بعد والے میری سزا سے ڈریں ” وما خلفھا “ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان کے ساتھ باقی بچ گئے تھے ” وموعظۃ “ یعنی نصیحت اور عبرت ہے متقین کے لیے۔
(12) عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نکالا لما بین یدیھا وما خلفھا “ سے مراد گناہ ہیں ” وموعظۃ للمتقین “ یعنی محمد ﷺ کی امت کے لیے (نصیحت ہے)
Ayah 2:67(1) ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب (من عاش بعد الموت) میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کے دو شہر تھے ان میں سے ایک حصینہ تھا جس کے دروازے تھے اور دوسرا خربہ تھا حصینہ والے جب شام ہوتی تو اس کے دروازے بند کردیتے اور جب صبح ہوتی تو شہر کی دیواروں پر کھڑے ہو کر دیکھتے کیا اس شہر کے ارد گرد کوئی حادثہ تو پیش نہیں آیا ایک دن صبح کو دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی قتل کیا ہوا ان کے شہر کی دیوار کے ساتھ پڑا ہوا ہے خربہ شہر والے ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے۔ اور ان کا نوجوان بھتیجا اس پر رونے لگا اور کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے چچا کو قتل کردیا حصینہ والے کہنے لگے اللہ کی قسم ہم نے اپنے شہر کو نہیں کھولا جب سے ہم نے اس کو بند کیا اور تمہارے اس ساتھی کے خون کا ہمارے پاس کوئی ذمہ دار نہیں (اس کے بعد) وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ “ سے لے کر ” فذبحوھا وما کادوا یفعلون “ (پھر) فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان لڑکا تھا جو اپنی دکان پر خریدو فروخت کرتا تھا اس کا ایک بوڑھا باپ تھا ایک آدمی دوسرے شہر سے سودا لینے کے لیے اس کے پاس آیا اور اس کو پیسے دئیے۔ وہ نوجوان اس کے ساتھ چلا تاکہ اپنی دکان کھول کر اس آدمی کو سامان دے لیکن دکان کی چابی اس کے پاس تھی اور اس کا والد دکان کے سائے میں سو رہا تھا اس آدمی نے کہا اس کو جگا دو اس کے لڑکے نے کہا وہ سو رہا ہے میں اس کو نیند سے جگانا ناپسند کرتا ہوں اور دونوں چلے آئے اور اس آدمی نے لڑکے کو دوگنے پیسے دئیے اس شرط پر کہ وہ والد کو جگا دے مگر لڑکے نے انکار کردیا سامان لینے والا چلا گیا۔ وہ بوڑھا (جب) جاگا تو اس کے لڑکے نے کہا اے میرے باپ اللہ کی قسم ایک آدمی اتنا تنا سامان خریدنے آیا تھا اور اس نے اتنی اتنی قیمت دی تھی۔ لیکن میں نے آپ کو نیند سے جگانے کو ناپسند کیا۔ (اس پر) شیخ نے ملامت کی اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کو اپنے والد کے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنے پر وہ بچھڑی عطا فرما دی تھی جس کو بنی اسرائیل ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ لوگ اس کے پاس آئے اور کہنے لگے اس (بچھڑی) کو ہمارے ہاتھ بیچ دو لڑکے نے کہا میں نہیں بیچوں گا کہنے لگے تب تو ہم تجھ سے لیں گے۔ وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے انہوں نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور اس کو کچھ سامان پر راضی کرلو۔ کہنے لگے آپ کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا میرا حکم یہ ہے کہ ترازو کے ایک پلڑے میں بچھڑے کو رکھو اور دوسرے پلڑے میں سونا رکھو۔ جب سونا زیادہ ہوجائے گا تو میں وہ لے لوں گا۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا گائے کو لے کر چلے یہاں تک کہ اس (مقتول) شیخ کی قبر تک پہنچ گئے۔ (وہاں) دونوں شہروں کے لوگ اکٹھے ہوئے اس گائے کو ذبح کیا اور اس گائے کے گوشت کے ٹکڑے کو قبر پر مارا شیخ اپنے سر کو جاڑتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور کہنے لگا کہ بھتیجے نے مجھے قتل کیا (کیونکہ) میری عمر لمبی ہوگئی اور اس نے میرے لئے مال کو لینے کا ارادہ کیا اس کے بعد وہ (دوبارہ) مرگیا۔
بنی اسرائیل میں ایک قتل
(2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں عبیدہ سلمانی (رح) نے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی بنی اسرائیل میں بانجھ تھا جس کی اولاد نہ تھی اور اس کے پاس بہت مال تھا اس کا بھتیجا اس کا وارث تھا۔ اس نے چچا کو قتل کیا پھر رات کے وقت اٹھا کر ایک آدمی کے دروازہ پر ڈال دیا پھر صبح کے وقت ان پر (قتل کا) دعویٰ کردیا یہاں تک کہ (آپس میں) انہوں نے اسلحہ اٹھالیا اور ایک دوسرے پر (لڑنے کے لیے تیار ہوگئے) ان میں صاحب عقل لوگوں نے کہا (کس لئے تم) ایک دوسرے کو قتل کرو گے حالانکہ یہ اللہ کے رسول تم میں موجود ہیں ؟ تو وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے یہ واقعہ ان کو بتایا انہوں نے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزوا، قال اعوذ باللہ ان اکون من الجھلین “ راوی فرماتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض نہ کرتے تو ان کی طرف سے معمولی گائے بھی کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے شدت اختیار کیا تو ان پر سختی کردی گئی یہاں تک کہ اس گائے کہ طرف پہنچے جس کے ذبح کرنے کا ان کو حکم دیا گیا تھا انہوں نے اس گائے کو ایسے آدمی کے پاس پایا جس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی گائے نہ تھی گائے کا مالک کہنے لگا اللہ کی قسم اس گائے کی کھال کو سونے سے بھر دینے سے (اس کی قیمت) کم نہیں لوں گا۔ پھر (انہوں نے خرید کر) اس کو ذبح کیا۔ اس کے گوشت کے بعض حصے کو اس مقتول (کے جسم) سے مارا۔ تو وہ (زندہ ہوکر) کھڑا ہوگیا انہوں نے اس سے پوچھا تجھے کس نے قتل کیا ؟ اس نے کہا اس بھائی کے بیٹے نے پھر وہ مرگیا اس کے مال میں سے (اس کے بھتیجے کو) کچھ نہیں دیا گیا۔ اور اس کے بعد قاتل کو (مقتول کے مال کا) وارث نہیں بنایا جاتا۔
(3) امام عبد الرزاق نے عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے جو فیصلہ کیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے متعلق تھا کہ قاتل وارث نہیں ہوگا۔
(4) ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلا قاتل جس کو میراث سے روک دیا گیا وہ اس گائے والا تھا۔
(5) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں ایک بوڑھا آدمی بہت مال دار تھا اس کے بھائی کے بیٹے غریب تھے۔ جن کے پاس کچھ بھی مال نہ تھا اور اس بوڑھے آدمی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس کے یہ بھائی کے بیٹے ہی اس کے وارث بنتے تھے۔ وہ کہتے تھے کاش کہ ہمارا چچا مرجاتا تو ہم اس کے مال کے وارث بن جاتے۔ جب ان پر مدت لمبی ہوگئی کہ وہ نہ مرا تو ان کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تم اپنے چچا کو قتل کر دو اور اس کی دیت کا مطالبہ دوسرے شہر والوں سے کرو اور یہ اس وجہ سے کہ وہاں دو شہر تھے۔ ان دونوں میں سے ایک میں یہ لوگ رہتے تھے جن میں اگر کوئی قتل کرکے دونوں شہروں کے درمیان پھینکا جاتا تو اس مقتول اور دونوں شہروں کے درمیان کی جگہ کی پیمائش کی جاتی جس کے قریب وہ پایا جاتا اس پر دیت لازم کردی جاتی۔ اور جب شیطان نے ان کو اس پر آمادہ کرلیا تو وہ (اس کے قتل کرنے پر) تیار ہوگئے اور انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر اس کو ایک شہر کے دروازہ پر پھینک دیا جس کے ساتھ ان کا اپنا تعلق نہیں تھا جب شہر والوں نے صبح کی تو اس (مقتول) بوڑھے کے بھائی کے بیٹے آئے اور کہنے لگے ہمارے چچا کو تمہارے شہر کے دروازہ پر قتل کردیا گیا اللہ کی قسم ہم تم سے ضرور دیت لیں گے شہر والوں نے کہا ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں ہم نے قتل نہیں کیا اور ہم قاتل کو بھی نہیں جانتے۔ ہم نے اپنے شہر کا دروازہ نہیں کھولا جب سے ہم نے بند کیا ہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اس پر وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گئے حضرت جبرائیل ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ان سے کہہ دو لفظ آیت ” ان اللہ یأمرکم ان تذبحوا بقرۃ “ (انہوں نے گائے ذبح کی) اور اس کے گوشت کے بعض حصے کو اس مقتول کے جسم سے لگایا (تو مقتول زندہ ہوگیا اور اس نے قاتل کا بتایا) ۔
بنی اسرائیل کی مسجد کا ذکر
(6) سفیان بن عینیہ (رح) نے حضرت عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کی ایک مسجد تھی جس کے بارہ دروازے تھے ہر قبیلہ کے لیے ایک دروازہ تھا جس سے وہ داخل ہوتے تھے اور باہر نکلتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک قبیلہ کے دروازہ پر ایک مقتول پایا گیا جس کو ایک قبیلہ کے دروازے پر قتل کرکے گھسیٹ کر دوسرے قبیلہ کے دروازہ پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس (مقتول) کے بارے میں قبیلہ والے آپس میں لڑنے لگے۔ ایک قبیلہ والوں نے کہا کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا ہے اور دوسرے نے کہا بلکہ تم نے اس کو قتل کرکے گھسیٹ کر ہماری طرف ڈال دیا ہے۔ دونوں فریق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جھگڑا لے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم أن تذبحوا بقرۃ “ (کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم فرماتے ہیں) وہ لوگ کہنے لگے لفظ آیت ” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی، قال انہ یقول انھا بقرۃ لا فارض ولا بکر، عوان بین ذلک “ (یعنی کہنے لگے پوچھ اپنے رب سے کہ بیان فرما دے ہمیں کہ وہ کیسی (گائے) ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی ہو اور نہ بیاہی۔ ان دونوں کے درمیان ہو راوی نے کہا کہ وہ لوگ اس کو ڈھونڈنے چلے گئے گویا کہ یہ (حکم) ان پر مشکل پڑگیا پھر وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف واپس آئے۔ اور کہنے لگے لفظ آیت ” ادع لنا قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماہی “ سے لے کر ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ تک (ہمارے لئے اپنے رب سے دعا فرما دیجئے کہ ہم کو یہ بیان فرمادیں کہ وہ گائے کس طرح کی ہو اور ہم انشاء اللہ ٹھیک پتہ لگالیں گے) اور اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو اس (گائے) کو نہ پاتے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے ایسی ہو کہ محنت کرنے والی نہ ہو اور وہ گائے اس دن تین دینار کی تھی اور وہ اس سے تھوڑی قیمت والی بھی لے کر ذبح کرلیتے تو ان کو کافی ہوجاتا لیکن انہوں نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی سختی کردی۔
وہ لوگ اس گائے کو تلاش کرنے لگے تو انہوں نے اس مذکورہ صفات والی گائے ایک آدمی کے پاس پائی۔ اور اس سے کہا اس گائے کو ہمارے پاس بیچ دے اس نے کہا میں اس کو بیچ دوں گا کہنے لگے اس کو کتنے میں بیچے گا ؟ اس نے کہا سو دینار میں کہنے لگے کہ یہ گائے تو تین دینار کی ہے۔ انہوں نے اس کو (اس قیمت پر) لینے سے انکار کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آئے کہنے لگے کہ ہم نے اس (گائے) کو ایک آدمی کے پاس پایا ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ میں سو دینار سے کم نہیں کروں گا حالانکہ وہ گائے تین دینار کی ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اس کا مالک ہی اس کے متعلق بہتر جانتا ہے۔ اگر چاہے بیچ دے اگر چاہے نہ بیچے۔ وہ لوگ پھر اس آدمی کے پاس لوٹ کر آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس (گائے) کو سو دینار میں لے لیا ہے۔ اس نے کہا میں اس کی قیمت دو سو دینار سے کم نہیں کروں گا۔ کہنے لگے سبحان اللہ تو نے ہم کو سو دینار کے بدلہ میں بیچی تھی اور تو (اس قیمت پر) راضی ہوگیا تھا سو ہم نے اس کو (اس قیمت پر وہ لے لی گی اس آدمی نے کہا کہ میں دو سو دینار سے کم نہیں کروں گا۔ نہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف واپس لوٹ گئے اور ان سے کہا کہ ہم اس کو سو دینا دے رہے تھے جب ہم اس کی طرف واپس لوٹے تو اس نے کہا کہ میں چار سو دینار سے کم نہیں لوں گا۔ کہنے لگے تو نے اس کو ہمیں دو سو دینار میں بیچی تھی اور ہم نے لے لی تھی اس نے کہا میں چار سو دینار سے کم نہیں کروں گا۔ انہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس کو دو سو دینار دئیے لیکن اس نے لینے سے انکار کردیا ہے اور کہا کہ میں چار سو دینار سے کم نہیں کروں گا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کا مالک زیادہ جانتا ہے۔ اگر چاہے تو اس کا بیچ دے اگر چاہے نہ بیچے۔ وہ لوگ پھر اس کی طرف لوٹ آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس (گائے) کو چار سو دینار میں لیتے ہیں اس نے کہا میں آٹھ سو دینار سے کم میں نہیں بیچوں گا وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس آدمی کے پاس بار بار لوٹتے رہے جب بھی وہ اس آدمی کے پاس واپس آئے تو وہ ان کے لیے دگنی قیمت کردینا یہاں تک کہ اس نے کہہ دیا کہ میں اس کو نہیں بیچوں گا مگر اس کی کھال سونے سے بھر کر۔ انہوں نے (اس قیمت پر) اس کو خرید لیا اور اس کو ذبح کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کے بعض گوشت کو اس لاش کے ساتھ لگاؤ انہوں نے گائے کو ذبح کرکے اس کی ران کو گوشت میت کو مارا تو وہ زندہ ہوگیا اور کہا کہ فلاں نے مجھے قتل کیا ہے۔ وہ (قاتل) ایک (ایسا) آدمی تھا جس کا چچا مالدار تھا اس کی ایک بیٹی تھی بھتیجے نے کہا کہ میں اپنے چچا کو قتل کر دوں میں اس کے مال کا وارث بن جاؤں گا اور اس کی بیٹی سے شادی کرلوں گا۔ اس نے چچا کو قتل کردیا اور کسی چیز کا وارث نہ بنا اور قاتل کو اس وقت سے کسی چیز کا وارث نہیں بنایا جاتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ اس گائے کی بڑی شان ہے۔ اس کے مالک کو میرے پاس لاؤ انہوں نے اس کو بلایا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا اس گائے اور اس کی شام کے بارے میں مجھے بتلاؤ اس نے کہا ہاں میں ایک آدمی تھا کہ میں بازار میں خریدو فروخت کرتا تھا۔ ایک شخص نے مجھ سے اس مال کا سودا کیا جو میرے پاس تھا۔ میں نے اسے وہ سامان بیچ دیا اور مجھے اس مال سے بہت زیادہ منافع کی امید نہ تھی پھر میں آیا تاکہ اس کو وہ مال دے دوں جو میں اس کو بیچ چکا تھا میں نے چابی کو اپنی والدہ کے سر کے نیچے پایا میں نے اس کو نیند سے جگانا پسند نہ کیا میں اس آدمی کے پاس واپس لوٹ آیا اور میں نے کہا میرے اور تیرے درمیان کوئی بیع نہیں یعنی وہ ختم ہوگئی وہ آدمی چلا گیا پھر میں گھر لوٹ آیا اور اس گائے نے میرے لئے ایک بچہ جنا۔ (یعنی میری یہ گائے پیدا ہوچکی تھی) اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس گائے کی محبت کو ڈال دیا سو میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں تھی اس سے کہا گیا کہ تو نے (اتنی بڑی قیمت کو) اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کی وجہ سے پایا۔