2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے وہ اس سے پاک ہے، بلکہ اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔

(1) امام بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھ کو ابن آدم نے جھٹلایا اور اس کو یہ لائق نہیں تھا اور ابن آدم نے مجھ کو گالی دی اور اس کو یہ لائق نہیں تھا اس کو جھٹلانا یہ ہے کہ وہ گمان ہوتا ہے تو میں اس کو دوبارہ لوٹانے پر قادر نہیں ہوں جیسے وہ تھا اور اس کا مجھ کو گالی دینا یہ ہے کہ اس کا یہ کہنا میرا بیٹا ہے اور میں بیوی اور بیٹے سے پاک ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے شریک قرار دینا بڑا گناہ ہے (2) امام بخاری، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم نے مجھ کو جھٹلایا اور مجھے جھٹلانا اس کو مناسب نہیں تھا اور اس نے مجھے گالی دی اس کو مجھے گالی دینا مناسب نہیں تھا اس کا یہ کہنا کہ میں اس کو ہرگز دوبارہ پیدا نہیں کروں گا جیسا کہ مجھے پہلی بار پیدا کیا تھا مجھے جھٹلانا ہے اور پہلی بار پیدا کرنا مجھ پر زیادہ آسان نہیں ہے اس کے دوبارہ پیدا کرنے سے اور اس کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ مجھے گالی دینا ہے اور میں اللہ ہوں جو احد بےنیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ (3) امام احمد، بخاری، مسلم، بسائی، ابن مردویہ بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی بھی صبر کرنے والا نہیں اذیت پر۔ لوگ اس کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کو رزق دیتا ہے اور ان کو عافیت دیتا ہے۔ (4) ابن ابی شیبہ، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے غالب بن عجرد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے اہل شام میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین کو پیدا فرمایا اور جو کچھ اس میں ہے درختوں میں سے ان کو بھی پیدا فرمایا جب کہ زمین میں کوئی درخت نہیں تھا۔ جو انسان نے اگایا ہو لیکن یہ اس کا پھل استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ فاجر لوگ اتنا بڑا کلمہ کہتے ہیں لفظ آیت ” وقالوا اتخذ اللہ ولدا، سبحنہ، بل لہ ما فی السموت والارض، کل لہ قنتون “ (کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنایا) جب وہ یہ بات کہتے ہیں تو زمین کانپ جاتی ہے اور درختوں کے کانٹے نکل آتے ہیں۔ (5) ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا اتخذ اللہ ولدا “ سے مراد ہے کہ جب لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر (بیٹے کا) بہتان باندھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو خود پاکی بیان فرمائی۔ فرمایا سبحانہ ! اما قولہ تعالیٰ : سبحانہ : (6) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور محاملی نے اپنی امالی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” سبحان اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص اور ہر عیب سے اپنی پاکی بیان فرماتے ہیں۔ (7) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور البیہقی نے الاسماء والصفات میں موسیٰ بن طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے تسبیح کے بارے میں پوچھا گیا کہ انسان سبحان اللہ کہتا ہے (اس کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا ہر نقص سے اللہ تعالیٰ کی برأت ہے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے ہر عیب سے۔ (8) ابن جریر دیلمی اور الخطیب نے الکفایہ میں دوسرے متعدد موصول طریق سے موسیٰ بن طلحہ بن عبد اللہ عن ابیہ عن جدہ، طلحہ بن عبید اللہ کے سلسلہ سے ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سبحان اللہ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا پاکی بیان کرنا ہر نقص اور کمزوری سے۔ (9) امام ابن مردویہ نے سفیان ثوری کے طریق سے بعد اللہ بن عبد اللہ بن موھب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے طلحہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ سے ” سبحان اللہ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے ہر عیب سے۔ (10) ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ” سبحان اللہ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایسا اسم ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی تعظیم بیان کی جاتی ہے۔ اور ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کی جاتی ہے۔ (11) ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے ” سبحان اللہ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ وہ کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے پسند فرمایا ہے۔ (12) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ سبحان اللہ وہ اسم ہے کہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے کہ اس کو اپنی طرف منسوب کریں۔ (13) عبد بن حمید نے یزید بن اصم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ لا الہ الا اللہ کو ہم جانتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور الحمد للہ کو بھی ہم پہچانتے ہیں کہ ساری نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور اس پر اس کی تعریف بیان کی جاتی ہے اور اللہ اکبر کو بھی ہم پہچانتے ہیں کہ اس سے بڑی کوئی چیز نہیں لیکن یہ سبحان اللہ کیا ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تو اس کو کیوں نہیں جانتا یہ وہ کلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے اس کو پسند فرمایا اور اس کا اپنے ملائکہ کو بھی حکم فرمایا اور بہترین لوگوں نے اس کی مخلوق میں سے اس کلمہ کا قصد کیا۔ اما قولہ تعالیٰ : کل لہ قنتون : (14) امام احمد بن حمید، ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور النحاس اور الناسخ میں، ابن حبان، طبرانی نے الدوسط میں، ابو نصر السجزی نے الابانہ میں، ابو نعیم نے الحلیہ میں، الضیاء نے المختارہ میں، ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قرآن مجید کا ہر حرف جس میں قنوت کا ذکر کیا گیا ہو وہ اطاعت ہے۔ (15) ابن جریر اور ابن المنذر نے کئی طریق سے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا کہ قانتون سے مراد ہے مطیعون (یعنی اطاعت کرنے والے) ۔ (16) امام طستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے ” کل لہ فنتون “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اقرار کرنے والے۔ پھر پوچھا کیا عرب اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کا شعر نہیں سنا۔ قانتا للہ یرجو عفوہ یوم لا یکفر عبد ما ادخر ترجمہ : اللہ تعالیٰ کا اقرار کرتے ہوئے اس سے درگزر کی امید رکھتا ہے اس دن جس میں کوئی بندہ انکار نہیں کرے گا جو کچھ اس نے (اعمال کا) ذخیرہ کیا۔ (17) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا لفظ آیت ” کل لہ قنتون “ سے مراد ہے اس کی عبادت کے ساتھ اقرار کرنے والے۔ (18) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” کل لہ فنتون “ یعنی ہر اطاعت کرنے والا (اور) اقرار کرنے والا ہے بیشک اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کا خالق ہے۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

بلا مثال کے پیدا فرمانے والا ہے، اور جب فیصلہ فرمائے کسی امر کا تو بس یوں فرما دیتا ہے کہ ہوجا پس ہوجاتا ہے۔

(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بدیع السموت والارض “ سے مراد ہے کہ ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) خود ایجاد فرمایا اور ان دونوں کی پیدائش میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ (2) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کو خد ایجاد فرمایا اور ان دونوں سے پہلے کسی چیز کو پیدا نہیں فرمایا تاکہ اس کے مشابہ قرار نہ دی جائے۔ (3) ابن ابی شیبہ نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ ایک دعا کرنے والے نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں یوں دعا کی :۔ ” اللہم انی اسئلک باسمک الذی لا الہ الا انت الرحمن الرحیم بدیع السموات والارض واذا اردت امرا فانما یقول لہ کن فیکون “ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے اس ذات کے نام سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں توں رحمن ہے الرحیم ہے بےمثال (بغیر نمونہ) کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور جب تو کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں جانتے، کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ، یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی دلیل، ایسا ہی کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے انہیں جیسی بات، ان کے دل آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کے لئے دلیلیں بیان کردی ہیں جو یقین لاتے ہیں۔

(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رافع بن حریملہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا محمد ! اگر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہہ کہ وہ ہم سے کلام کرے یہاں تک کہ ہم اس کے کلام کو سنیں اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” وقال الذین لا یعلمون “ فرمایا وہ عرب کے کافر ہیں جنہوں نے کہا تھا ” لولا یکلمنا اللہ “ فرمایا ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا ” کذلک قال الذین من قبلہم “ یعنی یہود و نصاری اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کہا تھا لفظ آیت ” تشابھت قلوبھم “ یعنی یہود و نصاری اور عرب اور ان کے علاوہ (دوسرے لوگوں کے دل آپس میں) ایک جیسے ہوگئے۔ (2) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقال الذین لا یعلمون لولا یکلمنا اللہ “ یعنی نصاری نے اس بات کو کہا اور ان سے پہلے جو یہودی تھے انہوں نے کہا۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور دوزخ والوں کے بارے میں آپ سے سوال نہیں کیا جائے گا۔

(1) وکیع، سفیان بن عینیہ، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کاش کہ مجھے علم ہوتا کہ میرے والدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا۔ تو اس پر یہ آیت پاک نے آپ کو دنیا سے اٹھا لیا (میں نے کہا یہ حدیث مرسل ہے اور ضعیف الاسناد ہے) ۔ (2) ابن جریر نے داؤد بن ابی عاصم ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ کہاں ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (میں نے کہا یہ دوسری حدیث معضل الاسناد اور ضعیف الاسناد اور ضعیف ہے ان سے کوئی حجت قائم نہیں ہوسکتی اور نہ وہ حدیث حجت ہے جو اس سے پہلے ہے۔ (3) ابن المنذر نے اعرج نے (رح) سے روایت کیا کہ وہ لفظ آیت ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “ پڑھتے تھے یعنی اے محمد ﷺ دوزخ والوں کے بارے میں آپ سوال نہ کیجئے۔ (4) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ الجحیم سب سے بڑی آگ کو کہتے ہیں۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور ہرگز راضی نہ ہوں گے آپ سے یہود و نصاری یہاں تک کہ آپ ان کے دین کا اتباع کرلیں، آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ اللہ کی ہدایت جو ہے وہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے ان کی خواہشوں کا اتباع کیا بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو نہ ہوگا آپ کے لئے کوئی ولی اور مددگار جو اللہ سے بچا دے۔

یہود و مسلمان کبھی ایک نہیں ہوسکتے (1) امام ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مدینہ کے یہودی اور نجران کے نصاری یہ امید رکھتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں جب اللہ تعالیٰ نے قبلہ کو کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا تو یہ بات ان پر بہت بھاری گزری اور وہ اس بات سے ناامید ہوگئے کہ (مسلمان) ان کے دین کو موافقت کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ولن ترضی عنک الیھود ولا النصاری “۔
Ayahs 2:121–123

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں، جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے، یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو شخص اس پر ایمان نہ لائے سو یہ لوگ پوری طرح خسارہ میں ہیں۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل میری ان نعمتوں کو یاد کرو جن کا میں نے تم پر انعام کیا اور اس بات کا بھی کہ میں نے تم کو جہانوں پر فضیلت دی۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی شخص کسی جان کی طرف سے کوئی مطالبہ ادا کرے گا اور نہ کسی کی طرف سے جان کا کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی شفاعت نفع دے گی، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

(1) امام عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین اتینھم الکتب “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔ (2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ سے مراد ہے کہ وہ اس حلال کو حلال کہتے ہیں۔ اور اس کے حرام کو حرام کہتے ہیں اور اس کی جگہوں سے (آیات کو) نہیں ہٹاتے۔ (3) ابو عبید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور الہروی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسے اس کی اتباع کا حق ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت ” والقمر اذا تلہا “ (سورۃ شمس آیت 2) بطور دلیل پڑھی فرمایا کہ جب چاند سورج کی اتباع کرے۔ (4) ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ کے تحت روایت کیا کہ جب وہ جنت کے ذکر سے گزرے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے اور جب دوزخ کے ذکر سے گزرے تو اللہ تعالیٰ کی دوزخ سے پناہ مانگے۔ (5) الخطیب نے کتاب الرواۃ میں مالک سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ولگ اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اس کی اتباع کا حق ہے۔ (6) عبد الرزاق اور ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اس کے حلال کو حلال کرتے ہیں اور اس کے حرام کو حرام کرتے ہیں اور اس کو اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اتارا اور کلمات میں تحریف نہیں کرتے اور اس میں سے کسی چیز کی تاویل نہیں کرتے اس کی تاویل کے اور دوسرے لفظ میں اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اس کی اتباع کا حق ہے۔ (7) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ کا یہ مطلب بیان کیا کہ وہ اس کو بیان کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور اس کو چھپاتے بھی نہیں۔ تلاوت کا حق یہ ہے کہ حلال و حرام میں تمیز کرے (8) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین اتینھم الکتب یتلونہ حق تلاوتہ، اولئک یؤمنون بہ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ راوی نے کہا کہ ہم کو یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے اللہ کی قسم کہ اس کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے حلال کو حلال کرتے ہیں اور اس کے حرام کو حرام کرتے ہیں اور اس کو اس طرح پڑھتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کو اتارا۔ اور اس کے الفاظ اور معنی میں تحریف نہیں کرتے راوی نے کہا کہ ہم کو عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل گزر کئے، غیر کو سنانے میں کوئی فائدہ نہیں۔ (9) امام وکیع اور ابن جریر نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ کا یہ مطلب بیان کیا کہ اس کی محکم آیات پر عمل کرتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں اور جو ان کو سمجھ نہیں آتا تو وہ اس کے جاننے والے کی طرف سپرد کرتے ہیں۔ (10) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ کا یہ مطلب بیان کیا کہ اس کا اتباع کرتے ہیں جس طرح اس کی اتباع کرنے کا حق ہے۔