Ayah 2:248(1) ابن المنذر نے زہری سے زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے تھے کہ مجھ کو عثمان بن عفان ؓ نے حکم فرمایا کہ اس کے لئے ایک صحف لکھ دے۔ پھر فرمایا میں تیرے ساتھ ایک فصیح زبان والا آدمی بھی لگا دوں گا تم دونوں اس کام پر اکٹھے جاؤ اور اس کو لکھ دو اور اس میں جو تم اختلاف کرو تو اس کو میرے پاس لے آؤ۔ حضرت زید نے فرمایا میں ” التابوہ “ کہتا ہوں اور ایان بن سعید نے فرمایا ” التابوت “ ہم اس کو حضرت عثمان کے پاس لے گئے تو انہوں نے فرمایا ” التابوت “ لکھو چناچہ ” التابوت “ لکھ دیا گیا۔
(2) سعید بن منصور، عبد بن حمید نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ نے مہاجرین اور انصار کے دو جوانوں کو حکم فرمایا کہ مصاحف لکھ دو پھر فرمایا جو تم (اس میں) اختلاف کرو تو اس کو قریش کی لغت کے مطابق لکھو۔ مہاجرین نے کہا ” التابوت “ اور انصار نے کہا ” التابوۃ “ حضرت عثمان نے فرمایا مہاجرین کی لغت پر لکھ دو ” التابوت “۔
(3) ابن سعد، بخاری نے ترمذی، نسائی، ابن ابی داؤد، ابن الانباری ان دونوں نے المصاحف میں، ابن عباس اور بیہقی نے سنن میں زہری کے طریق سے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ حذیفہ بن یمان ؓ حضرت عثمان ؓ کے پاس آئے اور شام والوں سے جہاد کر رہے تھے آرمینیہ اور آذربائیجان کی بستیوں میں عراق والوں کے ساتھ حذیفہ نے ان میں قرآن کے بارے میں اختلاف دیکھا اور حضرت عثمان سے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! کتاب اللہ میں اختلاف کرنے سے پہلے اس امت کی دستگیری کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس طرح اختلاف میں پڑجائیں۔ جیسا کہ یہود و نصاری نے اختلاف کیا تھا پھر انہوں نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس اپنا مصحف بھیجنے کا پیغام بھیجا کہ ہم دوسرے مصاحف میں اس کو نقل کریں گے پھر اس کو آپ کی طرف واپس کردیں گے حضرت حفصہ نے اپنا مصحف حضرت عثمان ؓ کے پاس بھیج دیا اور حضرت عثمان ؓ نے (وہ مصحف) زید بن ثابت ؓ سعید بن عاص، عبد الرحمن بن حرث بن ہشام اور عبد اللہ بن زبیر ؓ کے پاس بھیج دیا کہ اس صحیفہ کو اپنے مصاحف میں لکھو اور ان تین قریش کو کہا کہ جب تم اور زید بن ثابت اختلاف کریں تو اس کو قریش کی لغت کے مطابق لکھ دو کیونکہ ان کی لغت میں قرآن نازل ہوا زہری (رح) نے فرمایا کہ ایک دن انہوں نے ” التابوت “ اور ” التابوہ “ کے بارے میں اختلاف کیا قریش کی ایک جماعت نے کہا ” التابوت “ اور زید نے فرمایا ” التابوہ “ ان کے اختلاف کو حضرت عثمان کے پاس لے جایا گیا تو انہوں نے فرمایا ” التابوت “ لکھ دو کیونکہ قرآن قریش کی لغت میں نازل ہوا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کی لمبائی اور چوڑائی
(4) عبد بن حمید، ابن المنذر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کی وسعت کتنی تھی۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تین ہاتھ لمبا اور دو ہاتھ چوڑا تھا۔
أما قولہ تعالیٰ : فیہ سکینۃ من ربکم :
(5) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سکینہ سے مراد رحمت ہے۔
(6) ابن ابی داؤد، ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سکینہ سے مراد اطمینان ہے۔
(7) ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سکینہ ایک جانور ہے بلی کے بقدر اس کی دو آنکھیں ہیں جن میں روشنی کی کرن ہے۔ جب دو لشکر (یعنی مؤمن اور کافر آپس میں آمنے سامنے ہوتے تو وہ جانور اپنے ہاتھ نکالتا اور ان کی طرف دیکھتا ہے تو اس کے رعب کی وجہ سے کافروں کا لشکر شکست کھا جاتا ہے۔
(8) طبرانی نے الاوسط میں خالد بن عروہ بن علی سے انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سکینہ تیز چلنے والی ہوا ہے۔
(9) ابن جریر نے خالد بن عروہ سے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ سکینہ تیز ہوا ہے اور اس کے دو سر ہیں۔
(10) عبد الرزاق، ابو عبید، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن عساکر، بیہقی نے دلائل میں ابو الاموس کے طریق سے حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ سکینہ کا ایک چہرہ ہے انسان کے چہرہ کی طرح پھر وہ سائیں سائیں کرنے والی تیز ہوا بن گئی۔
(11) ابو سفیان بن عینیہ، ابن جریر نے سلمہ بن کہیل سے حضرت علی ؓ سے لفظ آیت ” فیہ سکینۃ من ربکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سائیں سائیں کرنے والی تیز ہوا ہے جس کی ایک صورت ہے اور اس کا چہرہ انسان کے چہرے کی طرح ہے۔
(12) ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے سعد بن مسعود صدفی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے آپ نے اپنی نظر کو آسمان کی طرف بلند فرمایا پھر اپنی نظر کو جھکا دیا۔ پھر اس کو بلند کیا اور اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں یعنی مجلس والے جو آپ کے سامنے تھے پھر ان پر سکینہ نازل ہوئی فرشتے اس کو قبہ کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔ جب یہ فرشتے ان کے قریب ہوئے تو ان میں سے ایک آدمی نے غلط بات کی پس وہ ان سے اٹھالی گئی۔
(13) سفیان بن عینیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سکینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا کی صورت میں ہویے ہے۔ بلی کی طرح اس کا چہرہ ہوتا ہے اس کے دو پر ہوتے ہیں اور بلی کی طرف دم ہوتی ہے۔
(14) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر نے ابو مالک سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” فیہ سکینۃ من ربکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ جنت میں سے سونے کا ایک طشت ہے جس میں انبیاء کے قلوب کو دھویا گیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس میں تختیاں رکھی تھیں۔
سکینہ سے کیا مراد ہے ؟ اقوال علماء
(15) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سکینہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روح ہے جا بات کرتی ہے جب لوگ کسی چیز میں اختلاف کرتے ہیں تو وہ ان کو مراد بتاتی ہے۔
(16) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے لفظ آیت ” فیہ سکینۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں کوئی ایسی چیز ہے کہ اس کی طرف ان کے دل سکون پاتے ہیں یعنی جو نشانیاں دیکھتے ہیں ان سے سکون پاتے ہیں۔
(17) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فیہ سکینۃ “ سے مراد وقار ہے۔
(18) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بقیۃ مما ترک ال موسیٰ “ سے مراد ان کی لاٹھی اور تختیوں کے ٹکڑے ہیں۔
(19) وکیع، سعید بن سفیان، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ صندوق میں یہ چیزیں تھیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی۔ ہارون (علیہ السلام) کی لاٹھی۔ موسیٰ کے کپڑے، ہارون کے کپڑے تورات کی دو تختیاں اور ترنجین کشادگی (پیدا کرنے) کا حکم (یعنی)
لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم وسبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظیم والحمدللہ رب العالمین۔
(20) اسحاق بن بشیر نے المبتداء میں، ابن عساکر نے کلبی کے طریق سے انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بقیہ (مال یہ تھا) تختیوں کے ٹکڑے موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی، ہارون (علیہ السلام) کی پگڑی، ہارون (علیہ السلام) چغہ جس میں قبیلوں کی نشانیاں تھیں۔ اور اس میں سونے کا طشت تھا اس میں ایک صاع جنت کی ترنجین تھی۔ اور اس سے یعقوب (علیہ السلام) نے افطار کرتے تھے۔ اور سکینہ زبر جد کے سبز پتھر سے بلی کے سر کی طرح (ایک شکل) تھی۔
(21) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تحملہ الملایکۃ “ سے مراد ہے کہ ملائکہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو اٹھا کر لائے یہاں تک کہ اس کو طالوت کے گھر میں رکھ دیا اور وہ (صندوق) صبح کے وقت اس کے گھر میں تھا۔
(22) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان فی ذلک لایۃ “ سے مراد نشانی ہے۔
Ayah 2:249(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ طالوت کے ساتھ اسی ہزار آدمی نکلے اور جالوت انتہائی جنگجو تھا اور ان میں سخت لڑائی والا تھا وہ اپنے لشکر کے آگے چلتا تھا اس کے ساتھی اس کے پاس جمع ہوتے۔ تو مخالف شکست کھا جاتا تھا۔ جب یہ لوگ نکلے تو طالوت نے اپنے ساتھیوں سے کہا لفظ آیت ” فلما فصل طالوت بالجنود، قال ان اللہ مبتلیکم بنھر، فمن شرب منہ فلیس منی “ (اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعہ آزمانے والا ہے) تو ان لوگوں نے جالوت سے ڈرتے ہوئے اس میں سے پی لیا۔ تو ان میں سے چار ہزار نے (نہر کو) عبور کیا اور چھپتر ہزار واپس لوٹ گئے جس نے اس میں سے پی لیا وہ پیاسا ہوگیا اور جس نے اس میں سے نہ پیا مگر ایک چلو تو وہ سیراب ہوگیا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” فلما جاوزہ وھو والذین امنوا معہ “ جب طالوت اور ایمان والوں نے نہر کو عبور کیا اور انہوں نے جالوت کی طرف دیکھا تو وہ بھی لوٹ گئے اور کہنے لگے لفظ آیت ” لاطاقۃ لنا الیوم بجالوت و جنودہ “ (کہ جالوت) اور اس کے لشکر سے آج ہمارے لئے لڑنے کی طاقت نہیں ہے) اور پھر اس میں سے بھی تین ہزار چھ سو اسی سے کچھ اوپر لوٹ گئے اور صرف تین سو دس سے کچھ اوپر اہل بدر کی تعداد کے برابر میں طالوت بیٹھا۔
(2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ مبتلیکم بنھر “ سے مراد ہے کہ پیاس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ آزمائیں گے جب وہ نہر پر پہنچے اور وہ نہر اردن تھی تو اس میں سے عام لوگوں نے منہ لگا کر پی لیا۔ جس نے پیا پیاس اور زیادہ ہوگئی۔ اور وہ لوگ سیر ہوگئے جنہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک چلو پیا (پھر پیاس ختم ہوگئی) ۔
(3) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلما فصل طالوت بالجنود “ کہ جب طالوت جالوت سے لڑنے کے لئے روانہ ہوا تو طالوت نے بنی اسرائیل سے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ مبتلیکم بنھر “ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعہ سے آزمائیں گے۔ جو اردن اور فلسطین کے درمیان تھی۔ نہر کا پانی میٹھا اور پاکیزہ تھا۔ ہر آدمی نے اس میں جتنا دل چاہا پی لیا۔ اور جس شخص نے ایک چلو پیا اور اپنے پیغمبر کی اطاعت کی تو وہ اس کی اطاعت کی وجہ سے سیراب ہوگیا اور جس نے زیادہ پیا اس نے نافرمانی کی اور سیر بھی نہ ہوا۔ اس نے فرمایا لفظ آیت ” فلما جاوزہ وھو الذین امنوا معہ “ (اب) لوگوں نے کہا جنہوں نے (خوب) پیا تھا۔ لفظ آیت ” لاطاقۃ لنا الیوم بجالوت و جنودہ، قال الذین یظنون “ (یعنی) آج جالوت اور اس کے لشکر سے ہماری طاقت نہیں ہے (مگر) ان لوگوں نے کہا جو گمان کرتے تھے یعنی یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چلو بھر پیا تھا (وہ لڑنے کے لئے تیار ہوگئے) ۔
(4) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ مبتلیکم بنھر “ سے مراد نہر فلسطین ہے۔
(5) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ کافر پیتے ہیں مگر سیر نہیں ہوتے اور مسلمان ایک چلو سے پیتے ہیں اور ان کے لئے یہ کافی ہوجاتا ہے۔
(6) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس چلو میں سے وہ (خود بھی) پیتے تھے اور اپنے جانوروں کو بھی پلاتے تھے۔
(7) سعید بن منصور نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” الا من اغترف غرفۃ “ غین کے ضمہ کے ساتھ۔
(8) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فشربوا منہ الا قلیلا منھم “ میں ” قلیلا منھم “ سے مراد تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔ جیسے اہل بدر کی تعداد تھی۔
(9) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، بخاری، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے دلائل میں براء ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ یہ بیان کرتے تھے کہ اصحاب بدر، اصحاب طالوت کی تعداد کے برابر تھے جنہوں نے ان کے ساتھ بہر پار کی تھی۔ اور تین سو دس سے کچھ اوپر مؤمنین نے عبور کیا تھا۔
(10) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے بدر کے دن فرمایا کہ تم اصحاب طالوت کی تعداد کے برابر ہو جس دن وہ دشمن سے ملے تھے۔ اور بدر کے دن صحابہ ؓ تین سو دس سے کچھ زائد تھے۔
(11) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب طالوت کی تعداد جالوت (سے لڑائی) کے دن تین سو دس سے کچھ اوپر تھی۔
(12) ابن ابی شیبہ نے عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ ان لوگوں کی تعداد جو بدر کے دن نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حاضر تھے ان لوگوں کی تعداد کی طرح تھی جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر کو عبور کیا تھا اور ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔
(13) اسحاق بن بشیر نے المبتداء میں اور ابن عساکر نے جویبر سے انہوں نے ضحاک سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ تین لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ آدمی تھے۔ تین سو تیرہ آدمیوں کے علاوہ سب نے پانی پی لیا۔ یہ تعداد بدر کے دن نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کی تعداد کے برابر تھی (جنہوں نے پانی پی لیا تھا) ان کو طالوت نے واپس کردیا اور تین سو تیرہ کو لے کر چل دئیے۔ اور شموئیل نے طالوت کو ایک زرہ بھیجی اور ان سے کہا جس شخص کو یہ زرہ پوری آئے گی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جالوت کو قتل کر دے گا اور طالوت کے منادی نے آواز لگائی جو آدمی جالوت کو قتل کرے گا میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کروں گا۔ اور اس کے لئے میری آدھی بادشاہی اور آدھا مال ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے اس کام کی تکمیل داؤد بن ایشا کے ہاتھوں پر کر ادی اور وہ خصرون بن فارض بن یہود بن یعقوب کی اولاد میں سے تھے۔
(14) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین یظنون انھم ملاقوا اللہ “ سے مراد وہ لوگ تھے جو (اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا) یقین کرنے والے تھے۔
(15) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین یظنون انھم ملاقوا اللہ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو اللہ کے لئے بھیج دیا اور موت پر اپنی جانوں کو قائم کردیا تھا۔
(16) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مؤمن دشمن سے جنگ کرتے ہیں اس حال میں کہ ان کا بعض بعض سے بہت ہی افضل ہوتا ہے حالانکہ وہ سب مؤمن ہوتے ہیں۔
Ayahs 2:250–252(1) فریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طالوت لشکر پر امیر تھے داؤد کے باپ نے اسے بھائیوں کی طرف سے کوئی چیز دے کر بھیجا۔ اور داؤد نے طالوت سے فرمایا میرے لئے کیا انعام ہوگا اگر میں جالوت کو قتل کر دوں ؟ طالوت نے کہا تیرے لئے میری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ ہوگا۔ اور میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح بھی کر دوں گا۔ داؤد نے تو برہ اٹھایا اور اس میں تین پتھر رکھے پھر انہوں نے نام لیا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس میں داخل کرتے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو میرا اور میرے آباؤ اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا معبود ہے۔ پھر ابراہیم کے نام سے پتھر نکالا تو اسے اپنی غلیل میں رکھا اور جالوت کو مارا اس نے جالوت کے سر پر خود کو چیر دیا اور جالوت کے علاوہ تیس ہزار آدمیوں کا قتل کردیا۔
داؤد (علیہ السلام) اور طالوت میں مکالمہ
(2) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب طالوت، جالوت (سے لڑنے) کے لئے سامنے آیا تو جالوت نے (طالوت سے) کہا مجھ سے مقابلہ کرنے والا سامنے لاؤ اگر وہ مجھ کو قتل کر دے تو میرا ملک تمہارے لئے ہوگا۔ اور اگر میں نے اس کو قتل کردیا تو تمہارا ملک میرا ہوگا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو طالوت کے پاس لایا گیا۔ داؤد نے مطالبہ کیا کہ اگر اس نے (یعنی داؤد) نے اس (جالوت) کو قتل کردیا۔ تو میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردوں گا اور اس کے بارے میں فیصلہ کروں گا اپنے مال میں سے طالوت نے ان کو ہتھیار پہنا دئیے مگر داؤد (علیہ السلام) نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ اس ہتھیار سے لڑے اور فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد نہ کی تو ہتھیار ذرا بھی کام نہیں آئے گا تو داؤد اس کی طرف نکلے گوبھن اور پتھر پھینکنے کا آلہ لے کر کہ اس میں پتھر رکھے ہوئے تھے پھر ان کے سامنے جالوت نکلا اور کہا کیا تو مجھے قتل کرے گا۔ داؤد نے فرمایا ہاں اس نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو اس طرح (میرے مقابلہ کے لئے) نکلا ہے جس طرح کتے کے لئے گوبھن اور پتھر لے کر نکلا جاتا ہے۔ میں تیرے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پرندوں اور درندوں کو کھلاؤں گا۔ داؤد نے فرمایا بلکہ تو اللہ کا دشمن کتے سے زیادہ بدتر ہے۔ داؤد نے پتھر اٹھایا اور گوبھن کے ذریعہ اس پر پھینکا وہ پتھر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان پہنچا یہاں تک کہ اس کے دماغ کے پار ہوگیا۔ جالوت چیخا اور اس کے ساتھی شکست کھا گئے اور اس کا سرکٹ گیا۔
(3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے بیان فرمایا کہ جس دن داؤد کے باپ نے طالوت کے ساتھ نہر کو عبور کیا تو اس کے ساتھ اس کے تیرہ بیٹے بھی تھے اور داؤد اس کے بیٹوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ ایک دن وہ اپنے باپ کے پاس آیا اور کہا اے میرے باپ جو چیز میں اپنی منجنیق سے پھینکتا ہوں تو وہ اس کو پچھاڑ دیتی ہے۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا تجھ کو خوشخبری ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تیرا رزق تیری منجنیق میں رکھ دیا ہے۔ دوسرے دن پھر داؤد آئے اور عرض کیا اے میرے باپ ! میں پہاڑوں کے درمیان داخل ہوا میں نے وہاں ایک شیر کو پناہ لیتے ہوئے پایا میں اس پر سوار ہوگیا اور اس کے کان پکڑ لئے تو اس نے مجھے کچھ بھی نہ کہا انہوں نے فرمایا تجھ کو خوشخبری ہو۔ اے میرے بیٹے ! بلاشبہ یہ خیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے پھر ایک دن آئے اور عرض کیا اے میرے باپ ! میں پہاڑوں کے درمیان چلتا ہوں۔ اور میں نے تسبیح بیان کی تو سب پہاڑوں نے میرے ساتھ تسبیح بیان کی۔ فرمایا اے میرے بیٹے تجھ کو خوشخبری ہو بلاشبہ یہ خیر ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا فرمائی اور داؤد (علیہ السلام) بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اور اس کا والد اس کے پیچھے اس کے پاس اور اس کے بھائیوں کے پاس کھانا لے کر آتے تھے (اس وقت کے) نبی کے پاس ایک سینگ لایا گیا اس میں تیل تھا اور لوہے کا لباس تھا۔ انہوں نے طالوت کے پاس یہ چیزیں بھیج دیں۔ اور عرض کیا بلاشبہ تمہارا ساتھی جو جالوت کو قتل کرے گا۔ یہ سینگ اس کے سر پر رکھا جائے گا۔ یہ سینگ اس کے سر پر رکھا جائے گا۔ جب وہ اس میں سے تیل لگائے گا وہ جوش مارے گا۔ اور اس کے چہرہ پر نہیں بہے گا۔ وہ اس کے سر پر تاج کی طرح ہوگا۔ اور وہ اس زرہ میں داخل ہوگا۔ تو اس کو پوری آئے گی طالوت نے بنی اسرائیل کو بلایا اور اس کا تجربہ کیا تو ان میں سے کسی کو زرہ پوری نہ آئی اور کسی کے سر سے تیل نہ ابلا جب فارغ ہوئے تو طالوت نے کہا اور اس کے باپ سے کہا کیا کوئی تیرا لڑکا باقی ہے۔ جو ہمارے پاس نہ آیا ہو۔ اس نے کہا ہاں ! میرا بیٹا داؤد باقی ہے۔ اور وہ ہمارے پاس کھانا لاتا ہے۔ جب داؤد طالوت کے پاس تھا تو وہ راستے میں تین پتھروں کے پاس سے گزرے ان پتھروں نے اس نے بات کی اور ان سے کہا اے داؤد ! ہم کو اٹھا لو تو ہمارے ساتھ جالوت کو قتل کرے گا انہوں نے ان (پتھروں) کو اٹھالیا۔ اور اس کو اپنے تو برے میں رکھ دیا اور طالوت نے کہا جس آدمی نے جالوت کو قتل کیا میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کروں گا اپنے ملک میں اس کا حکم نافذ کروں گا جب داؤد آگئے تو لوگوں نے سینگ اس کے سر پر رکھا اس کا تیل ابلنے لگا یہاں تک کہ اس میں سے تیل لگایا۔ اور وہ زرہ پہنی تو وہ بھی پوری آگئی وہ ایک بیمار آدمی تھا۔ اور جو آدمی بھی اس زرہ کو پہنتا تھا۔ تو وہ اس حرکت کرتا (یعنی وہ زرہ کھل جاتی) جب داؤد نے اس کو پہنا تو وہ اس پر تنگ ہوگئی۔ یہاں تک کہ ٹوٹ بھی گئی پھر داؤد جالوت کی طرف چلے۔ جالوت لوگوں میں سے بڑی جسارت والا اور سخت طبیعت والا آدمی تھا۔ جب اس نے داؤد کی طرف دیکھا تو اس کے دل میں رعب پڑگیا۔ اور اس سے کہنے لگا۔ اے نوجوان ! واپس لوٹ جا۔ میں تجھ کو قتل کرنے کی بجائے تجھ پر رحم کروں گا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں بلکہ میں تجھ کو قتل کروں گا۔ اور انہوں نے پتھر نکالا اور اس کو گابھن میں رکھا۔ جب بھی پتھر کو اٹھایا تو اس کا نام رکھا اور کہا یہ میرا باپ ابراہیم (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ہے اور دوسرا ابو اسحاق کے نام کے ساتھ ہے۔ اور تیسرا ابو اسرائیل کے نام کے ساتھ ہے۔ پھر گابھن کو گھمایا اور وہ تینوں پتھر ایک بن گئے پھر اس کو پھینکا تو وہ جالوت کو دا آنکھوں کے درمیان جاکر لگا جس نے اس کے سر میں سوراخ کردیا اور اسے قتل کردیا پھر وہ پتھر ہر انسان کو قتل کردیتا تھا جس کو پہنچتا تھا وہ پتھر گزرتا گیا یہاں تک کہ کوئی بھی اس کے سامنے نہ رہا پس طالوت کے ساتھیوں نے جالوت اور اس کے ہمراہ آنے والوں کو شکست دیدی۔ داؤد نے جالوت کو قتل کردیا پھر طالوت کے پاس لوٹ آیا تو اس نے داؤد سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور اس کو اپنی ملک میں شریک کرلیا۔ (یہ دیکھ کر) لوگ داؤد کی طرف مائل ہوگئے اور اس سے محبت کرنے لگے۔
داؤد (علیہ السلام) کی سلطنت
جب طالوت نے یہ منظر دیکھا تو داؤد سے حسد کرنے لگا اور اس کے قتل کا ارادہ کیا اس بات کو داؤد نے بھی جان لیا اور اپنی خوابگاہ میں ایک مشکیزہ شراب کا رکھ دیا اور خود چلے گئے طالوت جب داؤد کی نیند کرنے کی جگہ میں داخل ہوا تو داؤد جا چکے تھے۔ طالوت نے مشکیزہ کو ایک ضرب لگائی اور اسے پھاڑ دیا۔ تو اس میں شراب بہہ گئی۔ اور طالوت کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد پر رحم فرمائے کتنی زیادہ شراب پیتا تھا۔ پھر داؤد آئندہ شب اس کے گھر آئے تو وہ سو رہا تھا تو انہوں نے دو تیر اس کے سر کے پاس اور اس کے پاؤں کے پاس رکھے اور دائیں جانب اور بائیں جانب بھی دو دو تیر رکھے جب طالوت نیند سے بیدار ہوا تو تیروں کو دیکھا تو سمجھ گیا اور کہنے لگا اللہ تعالیٰ داؤد پر رحم فرمائے وہ مجھ سے بہتر ہے (اگر) میں اس پر کامیاب ہوتا تو اس کو قتل کردیتا اور وہ مجھ پر کامیاب ہوا تو مجھ سے رک گیا (قتل نہیں کیا) پھر وہ ایک دن سوار ہوا داؤد کو دیکھا کہ وہ جنگل میں پیدل چل رہا تھا اور طالوت گھوڑے پر سوار تھا طالوت نے کہا آج میں داؤد کو قتل کر دوں گا۔ داؤد جب بھاگتا تھا تو اس کو کوئی نہیں پاسکتا تھا۔ طالوت نے داؤد کے نشانات قدم پر گھوڑے کو دوڑایا داؤد سخت گھبرایا اور ایک غار میں داخل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مکڑیکو حکم فرمایا تو اس نے (غار کے منہ پر) اپنا گھر بنا لیا (یعنی جالا بن دیا) جب طالوت غارع پر پہنچا تو مکڑی کے جالے کو دیکھا اور کہا اگر وہ اس میں داخل ہوتا تو مکڑی کا جالا پھٹ جاتا تو اس نے داؤد کا پیچھا چھوڑ دیا ہے طالوت کے قتل ہوجانے کے بعد داؤد بادشاہ بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی بھی بنا دیا۔ اور اس کو فرمایا لفظ آیت ” واتہ اللہ الملک والحکمۃ “ فرمایا کہ حکمت سے مراد نبوت ہے۔ داؤد (علیہ السلام) کو شمعون کو نبوت عطا فرمائی اور طالوت کو بادشاہت عطا فرمائی۔
(4) ابن المنذر نے ابن اسحاق اور ابن عساکر دونوں حضرات مکحول (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ اہل کتاب (یعنی یہودی اور نصرانی لوگوں نے گمان کیا کہ طالوت نے جب بنی اسرائیل کو داؤد کی طرف مائل ہوتے ہوئے دیکھا تو داؤد (علیہ السلام) سے حسد کرنے لگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی حسد کی بیماری پھیر دی اور (جب) طالوت نے اپنی غلطی کو پہچان لیا تو اس سے کسی طرح نکل جانے کا اور توبہ کرنے کا راستہ ڈھونڈا۔ وہ ایک بڑھیا کے پاس آئے جو ایسا اسم جانتی تھی کہ جس سے (اللہ تعالیٰ ) کو پکارا جاتا تھا۔ اس بڑھیا سے کہا میں نے ایک غلطی کی ہے۔ اس کا کفارہ ہرگز مجھے کوئی نہیں بتاسکتا۔ مگر یسع (علیہ السلام) کیا تو میرے ساتھ اس کی قبر تک جائے گی پھر تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے وہ اپنی قبر سے انھیں اور زمین ان سے اپنی غلطی کا کفارہ پوچھوں بڑھیا کہنے لگی ہاں (میں تیرے ساتھ چلوں گی) وہ اس کے ساتھ قبر تک گئی اور دو رکعت پڑھ کر دعا مانگی یسع (علیہ السلام) اس کی طرف قبر سے نکلے تو انہوں نے اس سے سوال کیا انہوں نے فرمایا تیری غلطی کا کفارہ یہ ہے کہ تو اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ جہاد کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ایک بھی باقی نہ رہے پھر یسع (علیہ السلام) اپنی جگہ پر چلے گئے طالوت نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ وہ بھی اور اس کے گھر والے بھی سب ہلاک ہوگئے بنی اسرائیل داؤد (علیہ السلام) پر جمع ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل فرمائی۔ اور ان کے لوہے کی صفت سکھائی۔ اور ان کے لئے لوہا نرم کردیا۔ اور پرندوں اور پہاڑوں کو حکم فرمایا کہ ان کے ساتھ تسبیح بیان کریں جب وہ تسبیح پڑھیں اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسی خوبصورت آواز نہیں دی گئی ان کی آواز کی طرح زبور پڑھتے تھے تو وحشی جانور آپ کے قریب آجاتے۔ یہاں تک کہ ان کی گردنوں کو پکڑا جاسکتا۔ کیونکہ وہ جھکی ہوئی ہوتی تھیں ان کے آواز سننے کے لئے اور شیاطین نے گانے بجانے کے آلات اور طنبور سے اور نوح کے ساز آپ کی آواز کی اصاف پر بنائے۔
وأما قولہ تعالیٰ : ولولا دفع اللہ : (الآیہ)
صالح مسلمان کی برکات
(6) ابن جریر، ابن عدی نے صعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک صالح مسلمان کی وجہ سے اس کے پڑوسی میں سے سو گھرانوں کی مصیبت کو دور فرما دیتے ہیں۔ ابن عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض، لفسدت الارض “
(7) ابن جریر نے ضعیف سند کے ساتھ جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان آدمی کی نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کی اولاد۔ اس کے گھر والے اور اس کے اردگرد کے گھرانوں کی خیر اور اصلاح فرما دیتے ہیں اور وہ برابر اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتے ہیں جب تک وہ ان میں رہتا ہے۔
(8) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے کی وجہ سے بےنمازیوں کے مصائب دور فرماتا ہے اور حج کرنے والوں کی وجہ سے حج نہ کرنے والوں کی بلاؤں کو دور فرماتے ہیں اور زکوٰۃ دینے والوں کی وجہ سے زکوٰۃ نہ دینے والوں سے تکلیفوں کو دور کرتا ہے۔
(9) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولولا دفع اللہ الناس “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نیک آدمی کے ذریعہ بدکار کو معاف نہ فرماتے اور خوش اخلاق لوگوں کی وجہ سے ان کے بعض کو بعض سے دفع نہ فرماتے تو زمین اپنے رہنے والوں کی ہلاکت کی وجہ سے فاسد ہوجاتی۔
(10) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کو (آزمائش میں) مبتلا فرماتے ہیں کافر کی وجہ سے اور کافر کو معاف کردیتے ہیں مؤمن کی وجہ سے۔
(11) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لفسدت الارض “ سے مراد ہے کہ ہلاک ہوجائیں جو زمین پر رہنے والے ہیں۔
(12) ابن جریر نے ابو مسلم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم میں سے مسلمان کے نیک لوگ نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہوجاتے۔
(13) احمد، ترمذی اور ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس آدمی ہیں جب (ان میں سے) کوئی آدمی مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے آدمی کو ابدال بنا دیتے تھے۔ ان کی وجہ سے بارش سے (لوگ) سیراب ہوتے ہیں۔ اور ان کی وجہ سے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے شام والوں سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا ہے۔ اور ابن عساکر کے الفاظ ہیں اور زمین والوں سے بلاؤں اور (پانی میں) غرق ہوجانے کا ہٹا دیا جاتا ہے۔
(14) خلال نے کرامات اولیاء میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی والوں سے (بلاؤں کو) دور فرماتے ہیں ان سات مؤمنین کی وجہ سے جو ان میں ہوتے ہیں۔
(15) طبرانی نے الاوسط میں حسن سند کے ساتھ حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز زمین ایسے چالیس آدمیوں سے خالی نہیں رہتی جو رحمن کے خلیل کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے (لوگوں کو) پانی پلایا جاتا ہے (یعنی بارشیں ہوتی ہیں) اور ان کی وجہ سے (دشمنوں پر) تمہاری مدد کی جاتی ہے جب کوئی ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے آدمی کو مقرر فرما دیتے ہیں۔
(16) طبرانی نے الکبیر میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں تیس ابدال ہوں گے ان کی وجہ سے زمین قائم ہے۔ ان کی وجہ سے بارش ہوتی ہے۔ اور ان کی وجہ سے (دشمنوں پر) تمہاری مدد کی جاتی ہے۔
(17) احمد نے الزہد میں الخلال نے کرامات اولیاء میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین ساتھ آدمیوں سے خالی نہیں رہتی جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمین والوں کا دفاع فرماتے ہیں۔
(18) الخلال نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ہمیشہ ایسے چالیس آدمی رہیں گے کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین کی حفاظت فرماتا ہے۔ جب ان میں سے کوئی آدمی مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے آدمی کو بدل دیتے ہیں اور وہ چالیس افراد ساری زمین میں ہوتے ہیں۔
(19) طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں چالیس ایسے افراد ہمیشہ رہیں گے کہ ان کے دل ابراہیم (علیہ السلام) کے دل کی مثل ہوں گے ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین والوں کا دفاع فرماتا ہے۔ ان کو ابدال کہا جاتا ہے۔ بیشک وہ ہرگز اس (مرتبہ) کو نہیں پاتے نماز کے ذریعہ سے اور نہ روزہ کے ذریعہ سے اور نہ صدقہ کے ذریعہ سے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس مرتبہ کو انہوں نے کیسے پایا ؟ آپ نے فرمایا سخاوت اور مسلمانوں کو نصیحت کے ذریعہ سے۔
(20) ابو نعیم نے الحلیہ میں اور ابن عساکر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے لئے مخلوق میں سے تین سو افراد ایسے ہیں جن کے دل آدم (علیہ السلام) کے دل کی طرح ہیں اور اللہ کی مخلوق میں سے چالیس بندے ایسے ہیں جن کے دل موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی طرح ہیں اور اللہ کی مخلوق میں سے سات سو افراد ایسے ہیں جن کے دل ابراہیم (علیہ السلام) کے دن کی طرح ہیں اور اللہ کے لئے مخلوق میں سے پانچ افراد ایسے ہیں جن کے دل جبرئیل (علیہ السلام) کے دل کی طرح ہیں۔ اور اللہ کے لئے مخلوق میں سے تین افراد ایسے ہیں جن کے دل میکائیل (علیہ السلام) کے دل کی طرح ہیں۔ اور اللہ کے لئے مخلوق میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کا دل اسرافیل (علیہ السلام) کے دل کی طرح ہے۔ جب ایک مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تین میں سے ایک کو مقرر فرما دیتے ہیں اور جب تین میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پانچ میں سے ایک کو مقرر فرما دیتے ہیں اور جب پانچ میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ سات میں سے ایک کو مقرر فرما دیتے ہیں اور جب سات میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ چالیس میں سے ایک کو مقرر فرما دیتے ہیں اور جب چالیس میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تین سو میں سے ایک کو مقرر فرما دیتے ہیں اور جب تین سو میں سے کوئی ایک فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ عام لوگوں میں سے ایک کو مقرر فرما دیتے ہیں ان کی وجہ سے زندگی اور موت واقع ہوتی ہے۔ اور (ان کی وجہ سے) بارش ہوتی ہے اور کھیتیاں اگتی ہیں۔ اور بلائیں دور ہوتی ہیں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا گیا ان کی وجہ سے کیسے زندگی اور موت ہوتی ہے َ تو انہوں نے فرمایا اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امت کے زیادہ ہونے کا سوال کرتے ہیں تو (لوگ) زیادہ کر دئیے جاتے ہیں اور ظالم اور جابر لوگوں کے لئے بددعا کرتے ہیں تو ان کی گردنیں توڑ دی جاتی ہیں اور وہ بارش مانگتے ہیں تو بارش ہوتی ہے اور وہ سوال کرتے ہیں تو ان کے لئے زمین سبزہ اگاتی ہے اور دعا کرتے ہیں تو ان کی دعا سے ہر قسم کی بلائیں مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔
(21) طبرانی اور ابن عساکر نے عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ شام والوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ان میں ابدال ہیں ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور ان کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔
(22) ابن حبان نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہرگز زمین ایسے تیس افراد سے خالی نہ ہوگی جو ابراہیم خلیل اللہ کی مثل ہیں۔ ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے ان کی وجہ سے تم کو رزق دیا جاتا ہے اور ان کی وجہ سے تم پر بارش ہوتی ہے۔
(23) ابن عساکر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہرگز زمین چالیس آدمیوں سے خالی نہیں رہتی ان کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اور ان کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے جب ان میں کوئی ایک مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ایک اور آدمی کو مقرر فرماتے ہیں۔ قتادہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ حسن (رح) انہیں میں سے ہیں۔
(24) عبد الرزاق نے المصنف میں اور ابن المنذر نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ زمین پر ہر زمانہ میں سات مسلمان یا اس سے زیادہ ہمیشہ رہے ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب ہلاک ہوجائے۔
(25) ابن جریر نے شھر بن حوشب ؓ سے روایت کیا کہ زمین نہیں باقی رہے گی مگر یہ کہ اس میں چودہ آدمی ایسے ہوں گے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمین والوں کا دفاع کرتا ہے اور ان کی وجہ سے زمین کی برکت کو نکالتا ہے۔ سوائے ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے کیونکہ وہ اکیلے تھے۔
(26) احمد بن حنبل نے الزہد میں اور الخلال نے کرامات اولیاء میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین سات ایسے آدمیوں سے خالی نہیں رہتی جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمین والوں کا دفاع فرماتا ہے۔
(27) احمد نے زھد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں ہمیشہ چودہ افراد ایسے رہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب کو دفع فرماتے ہیں۔
(28) الخلال نے کرامات اولیاء میں زاذان (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد بارہ یا اس سے زیادہ افراد سے زمین خالی کبھی نہیں رہتی کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمین والوں کا دفاع کرتا ہے۔
(29) الجندی نے فضائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں ساتھ مسلمان یا اس سے زیادہ ہمیشہ رہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب ہلاک ہوجائے۔
(30) الازرقی نے تاریخ مکہ میں زہیر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ زمین پر ہمیشہ سات مسلمان یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو زمین اور جس اس پر ہے سب ہلاک ہوجائیں۔
ملک شام میں تیس ابدال ہوتے ہیں
(31) ابن عساکر نے ابو الزاھریہ (رح) سے روایت کیا کہ تیس آدمی شام میں ابدال ہیں ان کی وجہ سے تم کو پناہ دی جاتی ہے۔ اور ان کی وجہ سے رزق دئیے جاتے ہیں جب ان میں سے کوئی ایک آدمی مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے آدمی کو مقرر فرماتے ہیں۔
(32) الخلال نے کرامات اولیاء میں ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ کوئی بستی یا کوئی شہر ایسا نہیں ہے جس میں کوئی ایسا آدمی نہ ہو کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان سے (بلائیں) دفع فرماتے ہیں۔
(33) ابن ابی الدنیا نے کتاب اولیاء میں ابو الزناد (رح) سے روایت کیا کہ جب نبوت ختم ہوگئی جو زمین کی میخیں تھیں۔ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی امت میں سے چالیس آدمیوں کو خلیفہ بنا دیا جن کو ابدال کہا جاتا ہے کوئی شخص ان میں سے (جب) مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے آدمی کو مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کی جگہ لیتا ہے۔ اور وہ زمین کی صحتیں ہوتی ہیں ان میں سے تیس آدمیوں کے دل ابراہیم (علیہ السلام) کے یقین کی مثل ہیں۔ یہ لوگ فضیلت نہیں دئیے گئے کثرت نماز اور روزوں کی کثرت سے لیکن (فضیلت دئیے گئے) پرہیزگاری کی سچائی، اچھی نیت، دلوں کی سلامتی اور سارے مسلمانوں کی نصیحت کی وجہ سے۔
(34) بخاری، مسلم، ابن ماجہ نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کے ساتھ قائم رہے گی۔ نہیں ضرر دے گا ان کو وہ شخص جو ان کو رسوا کرے گا یا ان کی حفاظت کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (یعنی قیامت) آجائے گی اور وہ لوگوں پر غلبہ کرنے والے ہوں گے۔
(35) مسلم، ترمذی، ابن ماجہ نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ ان کو ضرر نہیں دے گا وہ آدمی جو ان کو رسوا نہیں کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا (یعنی قیامت) اور وہ اسی پر (قائم) ہوں گے۔
(36) بخاری، مسلم نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک قوم ہمیشہ لوگوں پر غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا (یعنی قیامت آئے گی) اور وہ غالب ہونے والے ہوں گے۔
(37) ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی ان کو ضرر نہیں پہنچائے گا جو ان کی مخالفت کرے گا۔
(38) حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
(39) مسلم و حاکم نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہمیشہ یہ دین قائم رہے گا۔ اس پر مسلمان (کافروں سے) قتال کریں گے۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
(40) ابو داؤد، حاکم نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ ایسی رہے گی جو حق پر قتال کرتے رہیں گے اور اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح و جال سے قتال کریں گے۔
(41) ترمذی اور ابن ماجہ نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا۔ ان کو وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو ان کو رسوا کرے گا۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
(42) ابن جریر، حکیم تر مذی نے نوادر الاصول میں ابو خولانی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ کچھ ایسے پودے اگاتا رہے گا۔ جن سے اپنی تابعداری کے کام لے گا۔ یعنی ہر دور میں کچھ صالحین اور مجدددین پیدا ہوتے رہیں گے جو دین اسلام کے احیاء کے لئے کام کرتے رہیں گے۔
مجاہدین کی ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی
(43) عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں ایک جماعت ایسی رہے گی جو اللہ کے حکم پر قتال کرتی رہے گی۔ (جو) دشمن پر غالب رہے گی۔ نہیں نقصان پہنچائے گا ان کو جو ان کی مخالفت کرے گا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت آجائے گی اور وہ اسی اللہ کے حکم پر قائم ہوں گے۔
(44) سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل مغرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
(45) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے سو سال کے آغاز پر ایسا شخص پیدا فرمایا ہے جو دین کی تجدید کرتا ہے۔
(46) حاکم نے مناقب شافعی میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ جب سو سال کا آغاز تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر عمر بن عبد العزیز (رح) کے ذریعہ احسان فرمایا۔
(47) ابوبکر المروزی (رح) سے روایت کیا کہ احمد بن حنبل (رح) نے فرمایا جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا ہے اور میں اس کو نہیں جانتا تو میں اس میں امام شافعی کے قول بتاتا ہوں کیونکہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سو سال کے آغاز پر ایک ایسے آدمی کو مقرر فرما دیتے ہیں جو لوگوں کو سنتیں سکھاتا ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ سے (منسوب کردہ) جھوٹ کو دور کردیتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سو سال کے آغاز پر عمر بن عبد العزیز (رح) آئے اور دو سو سال کے آغاز پر شافعی (رح) آئے۔
(48) سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات حسرت آیات کے بعد ہر سو سال میں ایک عالم پیدا ہوتا ہے۔ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دین کو تقویت دیتا ہے۔ اور بلاشبہ یحییٰ بن آدم (رح) میرے نزدیک انہیں میں سے ہیں۔
(49) حاکم نے مناقب شافعی میں ابو الولید حسان بن محمد الفقیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے اہل علم میں سے ایک ایک شیخ کو ابو العباس بن سریج (رح) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے قاضی خوش ہوجائے بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر بن عبد العزیز (رح) کے ذریعہ سو سال کے آغاز پر مسلمانوں پر احسان فرمایا کہ انہوں نے ہر سنت کو غالب کیا اور ہر بدعت کو مٹایا اور دو سو سال کے آغاز پر شافعی (رح) کے ذریعہ احسان فرمایا یہاں تک کہ انہوں نے سنت کو ظاہر کیا اور بدعت کو مٹایا اور تین سو سال کے آغاز پر اللہ تعالیٰ نے تیرے ذریعہ سے (ایمان والوں پر) احسان فرمایا۔ یہاں تک کہ تو نے ہر سنت کو قوی کردیا اور ہر بدعت کو کمزور کردیا۔
Ayah 2:253(1) قتادہ سے لفظ آیت ” فضلنا بعضہم علی بعض “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا بس وہ ہوگیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندے اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ سلیمان (علیہ السلام) کو ایسی بادشاہی عطا فرمائی جو ان کے بعد کسی کے لئے ایسی بادشاہی مناسب نہیں۔ اور محمد ﷺ کی اگلی پچھلی سب لغزشوں کو معاف فرمادیا۔
(3) مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” منہم من کلمہ اللہ ورفع بعضہم درجت “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور محمد ﷺ کو (قیامت تک) تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔
ابن ابی حاتم نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ورفع بعضہم درجت “ سے محمد ﷺ مراد ہیں
(4) ابن منذر، حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا تم (اس بات پر) تعجب کرتے ہو کہ دوستی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہے، کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیدار محمد ﷺ کے لئے ہے۔
(5) ابن ابی منذر ربیع بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے نبی ﷺ سے کوئی بھی افضل نہیں ہے اور ابراہیم خلیل الرحمن پر بھی کوئی افضل نہیں۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو شاء اللہ ما اقتتل الذین من بعدہم من بعد ما جاء تہم البینت “ سے مراد ہے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد۔
حضرت معاویہ وعلی ؓ میں رنجش
(7) ابن عساکر نے ایک بہت کمزور سند سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا کہ آپ کے پاس ابو بکر، عمر، عثمان، اور معاویہ ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے جبکہ حضرت علی اچانک تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ ؓ سے فرمایا کہ تو علی ؓ سے محبت کرتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! آپ نے فرمایا عنقریب تمہارے درمیان تھوڑا عرصہ رنجش ہوگی، حضرت معاویہ ؓ نے عرض کیا اس کے بعد کیا ہوگا یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی معافی اور اس کی رضا مندی حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا ہم اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کی رضا پر راضی ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ولو شاء اللہ ما اقتتلوا ولکن یفعل ما یرید۔
Ayah 2:254(1) ابن جریر ابن المنذر ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ اس (آیت میں) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا انفقوا مما رزقنکم “ میں زکوٰۃ اور نفل صدقہ میں (خرچ کرنا) مراد ہے۔
(2) ابن المنذر نے حضرت سفیان ؓ سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ کے حکم نے قرآن مجید میں موجود ہر صدقہ کو منسوخ کردیا اور رمضان کے مہینہ نے ہر روزہ کو منسوخ کردیا۔
(3) عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جان لیا کہ لوگ ایک دوسرے سے دوستی رکھتے دنیا میں اور بعض بعض کی سفارش کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن کوئی دوستی کام نہیں آئے گی مگر متقین لوگوں کی دوستی کام آئے گی۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عطاء بن دینار ؓ سے روایت کیا کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے یہ فرمایا کہ لفظ آیت ” والکفرون ہم الظلمون “ کافر لوگ وہی ظالم ہیں اور یہ نہیں فرمایا لفظ آیت ” والظلمون ہم الکفرون “ کہ ظالم وہی کافر ہیں۔