Ayah 2:154شہید کی فضیلت کا ذکر
(1) ابن منذر نے المعرفہ میں السدی الصغیر کے طریق سے الکلبی سے انہوں نے ابو صالح سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تمیم بن حمام ؓ بدر میں شہید ہوئے ان کے بارے میں اور ان کے علاوہ (دوسرے شہیداء) کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “ (الآیہ)
(2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لمن یقتل فی سبیل اللہ “ کا معنی ہے ” فی طاعۃ اللہ فی قتال المشرکین “ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشرکین سے جنگ کرنا۔
(3) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات، بل احیاء “ سے مراد ہے کہ وہ سبز پرندوں کی صورت میں جنت میں زندہ ہیں جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور جہاں سے چاہتے ہیں کھاتے ہیں۔
(4) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ شہداء کی روحیں میں انتہائی سفید پرندوں کی صورتوں میں ہیں۔
(5) ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے البعث والنشور میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ جنت الماوی میں سبز پرندے ہیں جس میں شہداء کی روحیں ان سبز پرندوں کے پوٹوں میں بلند ہوتی ہیں اور مؤمنین کے نابالغ بچے ( جو مرتے ہیں) وہ جنت کی چڑیوں میں سے چڑیاں ہیں جو (جنت میں) چرتی پھرتی ہیں۔
(6) عبد الرزاق نے معمر سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ شہداء کی روحیں سفید پرندے کی صورت میں جنت کے پھلوں میں سے کھاتی پھرتی ہیں کلبی ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ شہداء کی روحیں سفید پرندوں کی صورتوں میں ان قنادیل میں پناہ لیتی ہیں جو عرش کے نیچے معلق ہیں۔
(7) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات، بل احیاء ولکن لا تشعرون “ کے بارے میں ہم سے ذکر کیا گیا کہ شہداء کی روحیں پرندوں میں معروف ہیں اور جنت کے پھلوں سے کھاتی پھرتی ہیں اور ان کے رہنے کی جگہیں سدرہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ مجاہد کو خیر میں سے تین چیزیں عطا فرماتے ہیں۔ (پہلی چیز) جو شخص اللہ کے راستے میں شہید ہوتا ہے وہ زندہ ہوتا ہے اور اسے رزق دیا جاتا ہے (دوسری چیز) جو شخص (دشمن پر) غالب آجائے اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عطا فرماتے ہیں (تیسری چیز) اور جو شخص (اللہ کے راستے میں) مرجائے اللہ تعالیٰ اس کو بہترین رزق عطا فرماتے ہیں۔
(8) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” بل احیاء “ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ جنت کے پھلوں کی وجہ سے زندہ ہیں اور جنت کی خوشبو پاتے ہیں جبکہ وہ جنت میں نہیں ہیں۔
(9) احمد، ترمذی (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) نسائی، ابن ماجی نے کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں جو جنت کے پھلوں یا درختوں سے معلق ہیں۔
(10) عبد الرزاق نے المصنف میں عبد اللہ بن کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی صورتوں میں ہیں جو جنت کے قنادیل کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن لوٹائے گا۔
(11) امام نسائی، حاکم نے (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے اے ابن آدم ! تو نے اپنے گھر کو کیسے پایا ؟ وہ عرض کرے گا اے میرے رب ! بہترین گھر ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو سوال کر اور کسی خواہش کا اظہار کر وہ عرض کرے گا میں آپ نے کیا سوال کروں اور کیا خواہش کروں ہاں البتہ یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھے دنیا کی طرف دوبارہ لوٹا دیجئے میں تیرے راستے میں دس مرتبہ شہید کیا جاؤں جب وہ دیکھ چکا ہوگا شہادت کی فضیلت کو۔
Ayahs 2:155–157مصائب میں صبر کرنے والوں کے لئے بشارت
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولنبونکم “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو خبر دی ہے کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور ان کو (اللہ تعالیٰ ) مصیبتوں میں مبتلا کرے گا اس لئے ان کو صبر کا حکم فرمایا اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” وبشر الصبرین “ اور ان کو خبر دی ہے کہ مؤمن بندہ (جب) اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے اور مصیبت کے وقت لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ رجعون “ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ خیر میں اسے اس کے لئے تین بھلائیاں لکھ دیتے ہیں صلوۃ اور رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ہدایت کے راستوں کی تحقیق اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مصیبت کے وقت لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ رجعون “ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت کی کمی کو دور کردیتا ہے اور اس کے انجام کو اچھا کردیتا ہے اور اس کے لئے نیک جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں۔
(3) سفیان بن عینیہ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں جویبر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ضحاک (رح) کی طرف لکھا اور ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ رجعون “ کیا (یہ آیت) خاص ہے یا عام ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ اس لئے ہے جو تقوی کو اختیار کرے اور فرائض کو ادا کرے۔
(4) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ ” ولنبونکم “ سے مراد ہے کہ ضرور آزمائیں گے تم کو یونی ایمان والوں کو لفظ آیت ” وبشر الصبرین “ (یعنی صبر کرنے والے) اللہ تعالیٰ کے حکم پر مصائب میں ان کو جنت کی خوشخبری دیجئے لفظ آیت ” اولئک علیہم “ یعنی اس شخص پر جس نے مصیبت کے وقت اللہ کے حکم پر صبر کیا ” صلوات “ یعنی مغفرت ” من ربھم “ یعنی ان کے لئے رحمت ہوگی اور عذاب سے امن ہوگا۔ لفظ آیت ” واولئک ہم المھتدون “ یعنی وہ ہدایت والے ہیں مصیبت کے وقت ” اناللہ وانا الیہ رجعون “ کہنے کی وجہ سے۔
(5) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے رجاء بن حیوہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونقص من الثمرات “ سے مراد ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں کھجوروں پر پھل نہیں آتا سوائے ایک کھجور ہے۔
(6) طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری امت کو ایسی چیز دی گئی ہے کہ (پہلی) امتوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ چیز نہیں دی گئی اور وہ یہ کہ مصیبت کے وقت وہ لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ رجعون “ کہتے ہیں۔
(7) امام مسلم، عبد بن حمید، ابن جریر، بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اس امت کو مصیبت کے وقت ایسی چیز دی گئی جو ان سے پہلے (دوسرے) انبیاء کو نہیں دی گئی اگر انبیاء کو یہ چیز دی جاتی تو یعقوب (علیہ السلام) کو بھی ضرور دی جاتی جب انہوں نے کہا لفظ آیت ” یا اسفی علی یوسف “ (اے افسوس یوسف پر) اور بیہقی میں یہ الفاظ ہیں فرمایا اس امت کے علاوہ کسی امت کو مصیبت کے وقت لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ رجعون “ (کے الفاظ) نہیں دئیے گئے کیا تو نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ قول نہیں سنا ؟ ” یا اسفی علی یوسف “۔
(8) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین اذا اصابتھم مصیبۃ، قالوا اناللہ وانا الیہ رجعون (156) اولئک علیہم صلوٹ من ربھم ورحمہ، واولئک ہم المھتدون “ سے مراد ہے کہ جو شخص اس بات کی طاقت رکھے کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے صلوۃ رحمت اور ہدایت کا مستحق ہوجائے اس کو ایسا کرنا چاہئے اور نیکی کمانے کی طاقت صرف اللہ کی مدد سے ہے جو اللہ تعالیٰ پر حق کو ثابت کرے گا اس حق کے ساتھ جو اللہ نے اس کے لئے ثابت کیا ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کو کرنے والا پائے گا۔
(9) امام وکیع، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے کتاب الغزاء میں ابن المنذر، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ دونوں طرف کا بوجھ اچھا ہے اور جو بوجھ درمیان میں ہے وہ بھی اچھا ہے۔ دونوں طرف کے بوجھ سے مراد اس آیت لفظ آیت ” الذین اذا اصابتھم مصیبۃ، قالوا اناللہ وانا الیہ رجعون (156) اولئک علیہم صلوت من ربھم ورحمۃ “ میں ہے اور درمیانے بوجھ سے مراد لفظ آیت ” واولئک ہم المھتدون “ ہے۔
(10) ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے عمرو بن شعب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص میں چار چیزیں ہوں گی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیں گے جس کے کام کی عصمت ” لا الہ الا اللہ “ ہو اور جب کوئی مصیبت پہنچے تو کہے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ رجعون “ اور جب (اللہ کی طرف سے) کوئی نعمت اس کو دی جائے تو کہے الحمدللہ اور جب کوئی گناہ ہوجائے تو کہے استغفر اللہ۔
(11) ابن ابی الدنیا نے العزاء میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مصیبت پر صبر کرے گا یہاں تک کہ اچھی تعزیت کے ساتھ اس کو لوٹا دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے تین سو درجات لکھ دیں گے ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔
(12) ابن ابی الدنیا نے العزاء میں یونس بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ میں ربیعہ بن عبد الرحمن (رح) سے پوچھا کہ صبر کی آخری حد کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ تو مصیبت کے دن اس طرح ہو جس طرح مصیبت سے پہلے تھا۔
(13) ابن ابی الدنیا نے کتاب الاعتبار میں عمر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن عبد الملک نے اسے اپنے بیٹے سے موت کے وقت فرمایا کہ مؤمن اتنا صبر کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی مصیبت کی وجہ سے کوئی تکلیف نہیں پاتا۔ اس نے کہا اے امیر المؤمنین آپ کے نزدیک محبوب اور مکروہ برابر نہیں صبر مؤمن کی پناہ گاہ ہے۔
(14) امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے پھر اس کو یاد کرتا ہے اگرچہ اس (مصیبت) کا زمانہ لمبا ہوجاتا ہے پھر وہ اس پر (دوبارہ) لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس وقت اس کا ارادہ فرماتے ہیں اور اسے مصیبت کے دن لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہنے کی طرح اجر عطا فرماتے ہیں۔
سعید بن منصور العقیلی نے الضعفاء میں عائشہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
(15) حکیم ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی نعمت ایسی نہیں ہے اگر اس کا زمانہ پرانا ہوجاتا ہے پھر وہ بندہ اس کے لئے حمد کی تجدید کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے اس کے ثواب کی تجدید فرماتے ہیں (یعنی نئے سرے سے اس کو ثواب عطا فرماتے ہیں) اور کوئی مصیبت ایسی نہیں کہ اس کا زمانہ پرانا ہوجاتا ہے پھر وہ اس کے لئے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کی تجدید کرتا ہے (یعنی نئے سرے سے پڑھتا ہے) تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ثواب اور اجر کی تجدید فرماتے ہیں (یعنی نئے سرے سے اجر وثواب عطا فرماتے ہیں) ۔
(16) ابن ابی الدنیا نے کتاب العزاء میں سعید بن مسیب (رح) سے مرفوع روایت نقل کی ہے کہ جس نے چالیس سال کے بعد لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت کا ثواب اس دن کا عطا فرمائیں گے جس دن میں اس کو مصیبت پہنچی تھی۔
(17) ابن ابی الدنیا نے حضرت کعب ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچی اور اس نے چالیس سال کے بعد یاد کرکے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس وقت اس کے لئے وہی اجر جاری فرما دیتے ہیں جیسا کہ اس نے مصیبت پہنچنے کے دن لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا تھا۔
(18) امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن ابو سلمہ ؓ (ان کے شوہر) رسول اللہ ﷺ کے پاس ہو کر میرے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسی بات سنی ہے جس کے ساتھ مجھے خوشی ہوئی (پھر) فرمایا مسلمانوں میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ مصیبت کے وقت لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھے لفظ آیت ” اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا “ (اے اللہ مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور اس کے بدلہ میں مجھے بہتر عطا فرما دیجئے) ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس دعا کو یاد کرلیا جب ابو مسلمہ (ان کے شوہر) وفات پاگئے تو میں نے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اور میں نے یہ دعا پڑھی لفظ آیت ” اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا “ پھر میں نے اپنے دل میں سوچا اور میں نے کہا کہ میرے لئے ابو سلمہ ؓ سے بہتر کون ہوسکتا ہے (مگر) اللہ تعالیٰ نے ابو سلمہ کے بدلہ میں مجھے اس سے بہتر رسول اللہ ﷺ (کی شکل) میں بدلہ عطا فرما دیا۔
(19) ام مسلم نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس آدمی کو کوئی مصیبت لاحق ہو اور وہ لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہے اور یہ دعا بھر پڑھے۔ ” اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیر امنھا “ تو اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت میں اس کو اجر عطا فرماتے ہیں اور اس کا بہتر بدلہ عطا فرماتے ہیں (پھر) فرمایا کہ جب ابو سلمہ (میرے شوہر) وفات پاگئے تو میں نے ایسا ہی کہا جیسا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے (مجھ کو) بہتر بدل رسول اللہ ﷺ (کی شکل میں) عطا فرما دیا۔
بچہ کی موت پر صبر کرنے کا اجر و ثواب
(20) امام احمد ترمذی (انہوں نے اس حسن کہا ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی بندہ کا بچہ مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے بندہ کے بچے کی روح تم نے قبض کرلی ہے ؟ عرض کرتے ہیں ہاں ! پھر (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم نے اس کے دل کے پھل کو قبض کرلیا عرض کرتے ہیں جی ہاں پھر اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں میرے بندے نے کیا کہا ؟ عرض کرتے ہیں اس نے آپ کی حمد بیان کی اور لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کے لئے ایک گھر جنت میں بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو ۔
(21) امام طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ موت کے لئے گھبراہٹ ہے جب کوئی تم میں سے اپنے بھائی کی موت پر آئے تو اس کو چاہئے کہ یوں کہے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون وانا الی ربنا لمنقلبون “۔
(22) ابن ابی الدنیا نے العزاء میں ابوبکر بن ابی مریم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اپنے شیوخ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مصیبت والوں پر (جب) مصیبت نازل ہوتی ہے۔ تو اس پر جزع فزع کرتے ہیں پھر لوگوں میں سے ایک گزرنے والا ان کے پاس سے گزرتا ہے اور کہتا ہے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ تو اس مصیبت میں اس شخص کا اجر مصیبت والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
(23) امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ أبو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے جوتے مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا صحابہ نے عرض کیا کیا یہ مصیبت ہے یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا کسی مؤمن کو وہ چیز پہنچے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ مصیبت ہے۔
(24) البزار نے ضعیف سند کے ساتھ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو چاہئے کہ لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ لے کیونکہ وہ مصائب میں سے ہے۔
البزار سے سند ضعیف کے ساتھ شداد بن اوس ؓ سے اسی طرح مرفوعا روایت کیا ہے۔
(25) ابن ابی ادنیا نے العزاء میں شہر بن حوشب ؓ سے ایک مرفوع روایت کی ہے کہ جس کا جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے اس کو چاہئے کہ لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ لے کیونکہ یہ مصیبت ہے۔
(26) ابن ابی الدنیا اور ابن ابی شیبہ نے عوف بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ جس کا جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے اس کو چاہئے کہ لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ لے کیونکہ یہ مصیبت ہے۔
ہر مصیبت میں انا للہ پڑھنا
(27) ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے عوف بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ پیدل چل رہے تھے ان کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا تو انہوں نے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا ان سے پوچھا گیا کیا اس جیسے فعل پر بھی لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا جاتا ہے انہوں نے فرمایا یہ بھی مصیبت ہے۔
(28) ابن سعد، عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ہناد، عبد اللہ بن احمد نے زوائد میں، ابن المنذر اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آپ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا تو انہوں نے لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا ان سے پوچھا گیا آپ نے ایسا کیوں کہا ؟ انہوں نے فرمایا میرے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا اس سے مجھے تکلیف پہنچی اور جو چیز تکلیف دے وہ مصیبت ہے۔
(29) ابن ابی الدنیا نے الامل میں اور دیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اپنے جوتے کو لوہے کی نتھنی لگوا رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا تو نے (لمبی) امید لگا رکھی ہے (پھر آپ نے فرمایا) جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے اور لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ لے۔ تو اس پر اس کے رب کی طرف سے صلوۃ ہدایت اور رحمت ہوگی اور یہ اس کے لئے ساری دنیا سے بہتر ہے۔ ابن ابی الدنیا اور دیلمی دونوں کی مرویات محل کلام ہوتی ہیں۔
(30) عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے العزاء میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کا چراغ بجھ گیا تو آپ نے فرمایا لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ آپ نے فرمایا ہر وہ چیز جو مؤمن کو تکلیف سے وہ مصیبت ہے اور اس پر اجر ہے۔
(31) ابن ابی الدنیا نے عبد العزیز بن ابی داؤد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب چراغ بجھ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ (پھر فرمایا) ہر وہ چیز جو تجھے تکلیف سے وہ مصیبت ہے۔
(32) طبرانی اور مسمویہ نے فوائد میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (سفر میں) نکلے نبی اکرم ﷺ کی جوتی مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا آپ نے فرمایا لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ ایک صحابی نے عرض کیا یہ تو تسمہ ہے (آپ نے ” اناللہ “ کیوں پڑھا) آپ ﷺ نے فرمایا یہ بھی مصیبت ہے۔
(33) امام ابن السنی نے عمل یوم لیلہ میں ابو ادریس خولانی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ اجمعین پیدل چل رہے تھے کہ آپ ﷺ کا تسمہ ٹوٹ گیا آپ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کسی صحابی نے عرض کیا کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ہر وہ چیز جو مؤمن کو تکلیف دے وہ مصیبت ہے۔
(34) دیلمی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ کے انگوٹھے مبارک میں ایک کانٹا چبھ گیا تھا آپ لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ رہے تھے اور اس جگہ کو مل رہے تھے میں نے جب آپ کو ” اناللہ “ پڑھتے سنا تو میں قریب ہوگئی اور کہنے لگی تو وہ معمولی سا نشان تھا میں (یہ دیکھ کر) ہنس پڑھی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا آپ اس کانٹے پر اتنا زیادہ لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے تبسم فرمایا پھر میرے کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا اے عائشہ ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب ارادہ فرماتے ہیں چھوٹے زخم کو بڑا کردیتے ہیں ایسا کردیتے ہیں اور جب ارادہ فرماتے ہیں کہ بڑے کو چھوٹا کردیں تو ایسا بھی کردیتے ہیں۔
(35) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب تیری نماز فوت ہوجائے جماعت سے تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھ لے کیونکہ یہ مصیبت ہے۔
(36) عبد بن حمید نے سواد بن داؤد (رح) سے بیان فرمایا کہ سعید بن مسیب (رح) تشریف لائے اور ان کی نماز جماعت سے فوت ہوگئی تو انہوں نے (زور سے) لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا یہاں تک کہ ان کی آواز مسجد کے باہر بھی سنی گئی۔
(37) عبد الرزاق نے المصنف میں اور عبد بن حمید نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے۔ اور آنسوؤں کو ابن آدم قابو میں نہیں رکھ سکتا انسان کی محبت اپنے بھائی کی طرف (فطری امر ہے) ۔
(38) ابن سعد نے حیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب عبد اللہ بن مسعود ؓ تشریف لائے تو ان کے بھائی نے عتبہ کی موت کی خبر دی تو ان کے آنسو بہہ پڑھے پھر فرمایا یہ رحمت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ابن آدم اس پر قدرت نہیں رکھتا۔
اصل صبر پہلے صدمہ کے وقت کا ہے
(39) امام احمد، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ترمذی اور ابو داؤد، نسائی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بچے پر رو رہی تھی آپ ﷺ نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کر۔ کہنے لگی میری مصیبت پر آپ کو کوئی پرواہ نہیں ؟ جب آپ واپس تشریف لے گئے تو اس عورت سے کہا گیا کہ وہ تو رسول اللہ ﷺ تھے عورت انتہائی پریشان ہوگئی اور آپ ﷺ کے دروازہ پر آئی تو وہاں کوئی چوکیدار نہ پایا کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو نہ پہچانا تھا آپ نے فرمایا صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے۔
(40) عبد بن حمید، ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن دو مسلمانوں کے تین ایسے بچے مرجائیں جو ابھی بالغ نہ تھے تو (یہ بچے) اپنے والدین کے لئے مضبوط قلعہ (کی طرح) ہوں گے آگ سے بچاؤ کے لیے ابوذر ؓ سے عرض کیا میرے دو بچے فوت ہوگئے ہیں آپ نے فرمایا دو بچے بھی۔ ابو المنذر سید القراء نے عرض کیا میرا ایک بچہ فوت ہوگیا یا رسول اللہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور ایک بھی (دوزخ کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوگا) (صبر کرنا) پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے (یہ بچے کے مرنے کے وقت صبر کرے) ۔
(41) عبد بن حمید نے کریب بن حسان (رح) سے روایت کیا کہ ہم میں سے ایک آدمی وفات پا گیا اس کے باپ کو اس کی وجہ سے سخت رنج ہوا نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے اس سے فرمایا جس کو حوشب کہا جاتا تھا کہ میں تم کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اس طرح کا ایک واقعہ بیان نہ کروں جس کو میں نے خود نبی ﷺ سے دیکھا ہے ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آتا تھا اور اس کے ساتھ ایک بیٹا تھا جو فوت ہوچکا تھا اس کا باپ انتہائی پریشانی میں تھا نبی اکرم ﷺ نے پوچھا اسے کیا ہوا ؟ عرض کیا یا رسول اللہ اس کا بیٹا مرگیا ہے جو آپ کے پاس بھی اپنے باپ کے ساتھ آیا کرتا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس آدمی سے ملاقات فرمائی۔ اور فرمایا اے فلاں ! کیا تجھے یہ پسند ہے کہ تیرا بیٹا تیرے پاس بچوں کے دوڑنے کی طرح دوڑ رہا ہو ؟ اے فلاں کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تیرا بیٹا تیرے پاس خوبصورت نوجوان کی شکل میں ہو ؟ کیا تجھے یہ پسند ہے تجھے کہا جائے داخل ہوجا جنت میں ؟ یہ اس کا ثواب ہے جو تجھ سے لیا گیا۔
(42) امام احمد، عبد بن حمید نسائی حاتم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بیہقی نے شعب الایمان میں معاویہ بن قرۃ نے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتا تھا اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی ہوتا تھا ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو اس سے محبت کرتا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ سے ایسے ہی محبت کرتا ہوں جیسے میں اس سے محبت کرتا ہوں پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا آپ نے فرمایا فلاں کے بیٹے کو کیا ہوا ؟ صحابہ نے عرض کیا وہ مرگیا (پھر) نبی اکرم ﷺ نے اس سے ملاقات فرمائی اور فرمایا کیا تو اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازہ پر آئے اور تو اس کو کھولنا چاہئے (وہ نہ کھلے) مگر وہ (تیرا بیٹا) دوڑتا ہوا آئے یہاں تک کہ تیرے لئے اس کو کھول دے ؟ صحابہ نے عرض کیا فضیلت صرف اسی کے لئے ہے یا ہم سب کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا لیکن تم سب کے لئے ہے۔
(43) امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن بندے کے لئے میرے پاس کوئی جزاء نہیں سوائے جنت کے جب میں اس کی اہل دنیا میں پسندیدہ چیز کو قبض کرلیتا ہوں پھر وہ ثواب کی امید رکھتا ہے۔
(44) امام مالک نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن بندے کو برابر تکلیف پہنچتی رہے گی اس کی اولاد میں اور اس کی حاجت میں یہاں تک کہ (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔
تین بچوں کی موت پر صبر کا بدلہ جنت ہے
(45) امام احمد اور طبرانی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو اپنی صلب کے تین بچوں نے رلایا ہو (یعنی جس کے تین بچے مرگئے ہوں) اور اس نے ان پر اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھی تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
(46) البزار اور حاکم نے (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا آپ کو یہ خبر ملی کی انصار کی ایک عورت کا لڑکا مرگیا ہے جس پر اس نے جزع فزع کیا ہے نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے (اپنے بیٹے کے مرنے پر) جزع فزع کیا ہے۔ اس عورت نے کہا میں کیوں جزع فزع نہ کروں میرا بچہ فوت ہوگیا ہے اور میرے بچے زندہ نہیں رہتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا رقوب وہ عورت ہے جس کی اولاد زندہ رہتی ہے کیونکہ کسی مسلمان کے تین (نابالغ) بچے مرجائیں اور وہ ان پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہے۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اور جس کے دو بچے مرجائیں آپ نے فرمایا جس کے دو فوت ہوئے ہوں (اس کے لئے بھی یہی حکم ہے)
(47) امام مالک نے موطا میں أبو نضر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے مرجائیں اور اس نے ثواب کی نیت سے صبر کیا تو وہ بچے اس کے لئے آگ سے اس کے لئے ڈھال ہوں گے۔ ایک عورت نے عرض کیا جس کے دو بچے فوت ہوئے ہوں۔ آپ نے فرمایا اور دو کا بھی (یہی حکم ہے) ۔
(48) امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس (کسی مسلمان) کے تین (نابالغ) بچے مرجائیں اور وہ ان پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک عورت نے عرض کیا اور جس کے دو بچے فوت ہوجائیں آپ نے فرمایا دو کا بھی یہی حکم ہے۔
(49) امام احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن دو مسلمان (میاں بیوی) کے تین (نابالغ) بچے مرجائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان بچوں پر رحمت کی وجہ سے اس کے والدین کو جنت میں داخل فرما دیں گے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر دو بچے (مرجائیں) آپ نے فرمایا دو کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر عرض کیا گر ایک بچہ مرجائے آپ نے فرمایا ایک کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ادھورا گزرا ہوا بچہ بھی ناف کے ذریعہ اپنی مان کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا جب ماں ثواب کی نیت سے صبر کرے۔
(50) طبرانی نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس (مسلمان) نے اپنے تین (نابالغ) بچوں کو دفن کیا اور ان پر صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھی تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ام ایمن ؓ نے عرض کیا جس نے دو بچے دفن کئے ہوں آپ نے فرمایا اور دو کا بھی (یہی حکم) ہے پھر اس نے عرض کیا جس نے ایک بچہ دفن کیا ہو آپ خاموش رہے پھر فرمایا اور ایک کا بھی یہی حکم ہے۔
ایک بچہ کی موت پر صبر کرنے کا بدلہ
(51) امام احمد ابن قاسم نے معجم الصحابہ میں اور ابن منذر نے المعرفہ میں حوشب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس (کسی مسلمان) کا لڑکا (نابالغ) مرگیا اس نے صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہوجا اس کے فضل کی وجہ سے جو ہم نے تجھ سے لیا تھا۔
(52) امام نسائی، ابن حبان، طبرانی، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واہ واہ (آفرین) ہے پانچ چیزوں کے لئے، جو میزان میں کتنی بھاری ہیں ” لا الہ الا اللہ اللہ اکبر سبحان اللہ “ اور الحمدللہ نیک بچہ جو کسی آدمی کا مرجاتا ہے اور آدمی اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے۔
(53) امام ابن ابی الدنیا نے العزاء میں اور بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون ؓ سے روایت کیا کہ بیٹے وفات پاگئے اس پر ان کو سخت غم ہوا نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور دوزخ کے سات ہیں کیا تجھ کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تو اس میں سے کسی دروازہ پر آئے اور اپنے بیٹے کو اپنی ایک جانب کی طرف پائے وہ تیری کمر سے پکڑ کر تیرے لئے تیرے رب سے سفارش کرے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں (میں اس بات سے خوش ہوں) مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہمارے بچے جو فوت ہوگئے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے جو حضرت عثمان کے لئے ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں جس نے بھی صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی۔
(54) امام نسائی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے بھی راضی نہیں ہوتے جنت کے علاوہ (کوئی اور چیز دینے) پر جب زمین والوں میں سے اس کی پسندیدہ چیز کو لے لیتا ہوں اور وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے۔
(55) ابو نعیم نے الحلیہ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے عقل کو تین اجزاء میں تقسیم فرما دیا ہے جس میں یہ تینوں اجزاء ہوں گے وہ عاقل ہوگا اور جس میں یہ نہیں ہوں گے اس میں عقل نہیں ہوگی۔
1) جس مغرفت اللہ کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کی اچھی مغرفت حاصل کرنا)
2) حسن طاعۃ اللہ کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کی اچھی اطاعت کرنا)
3) حسن البصر اللہ تعالیٰ کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے اچھا صبر کرنا)
(56) ابن سعد نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کا بیٹا مرگیا کنگی کئے ہوئے اچھے کپڑوں میں باہر نکلے اس بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو مصیبتوں پر تین چیزوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہر چیز ان میں سے مجھ کو ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الذین اذا اصابتھم مصیبۃ “ سے ” ہم المھتدون “ تک کیا میں اس وعدہ کے بعد سکون حاصل نہ کرلوں (یعنی مطمئن نہ ہوجاؤں)
Ayah 2:158صفا ومروہ کے درمیان سعی
(1) امام مالک نے موطا میں امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن ابی داؤد، ابن الانباری نے مصاحف میں، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ عروہ نے (جو ان کے بھانجے تھے) ان سے پوچھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ کے بارے میں بتائیے میرا خیال یہ ہے کہ جو آدمی ان کا طواف نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کیا ؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اے میرے بھانجے تو نے غلط کہا ہے اگر یہ مطلب ہوتا جو تو نے بیان کیا ہے تو عبارت اس طرح ہوتی ” فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ لیکن یہ آیت نازل ہوئی جب انصار اسلام لانے سے پہلے مناۃ بت کے لئے احرام باندھتے تھے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اور جو اس بت کے لئے احرام باندھتا تھا وہ صفا مروہ کی سعی کرنے سے اجتناب کرتا تھا۔ اس بارے میں ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کہ ہم زمانہ جاہلیت میں صفا ومروہ کی سعی کرنے سے اجتناب کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ (الآیہ) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کی سعی کی سنت بنا دیا اب کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ صفا مروہ کی سعی کو چھوڑے۔
(2) عبد بن حمید، بخاری، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی داؤد فی المصاحف، ابن ابی حاتم، ابن السکن اور بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے صفا مروہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کو جاہلیت کے کام میں سے خیال کرتے تھے لیکن جب اسلام آیا تو ہم اس سے رک گئے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “۔
(3) امام حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا فرماتی ہیں یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی زمانہ جاہلیت میں جب وہ لوگ احرام باندھتے تھے تو صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ان کے لئے حلال نہ تھا جب ہم (مدینہ منورہ) آئے تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی۔ تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الصفا والمرۃ من شعائر اللہ “۔
صفا ومروہ کے درمیان سعی واجب ہے
(4) ابن جریر، ابن ابی داؤد، فی المصاحف، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں شیاطین صفا مروہ کے درمیان ساری رات جمع ہو کر ہجویہ اشعار پڑھتے تھے صفا مروہ میں بت تھے جن کو وہ خدا سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم صفا مروہ کا طواف نہ کریں کیونکہ یہ ایک ایسا کام تھا جس کو ہم زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ فرمایا کہ (صفا مروہ کا طواف کرنے میں) اس پر کوئی گناہ نہیں بلکہ اس کے لئے اجر ہے۔
(5) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انصار (صحابہ) نے عرض کیا کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “۔
(6) ابن جریر نے عمرو بن جیش (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ الآیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو وہ زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ حضرت محمد ﷺ پر اتارا گیا۔ میں ان کے پاس آیا اور ان سے (اس بارے میں) پوچھا تو انہوں نے فرمایا ان (دونوں پہاڑوں پر) بت رکھے ہوئے تھے۔ (اس لئے) جب وہ لوگ اسلام لائے تو ان دونوں کے درمیان سعی کرنے سے رک گئے یہاں تک کہ (یہ آیت) ” ان الصفا والمروۃ “ نازل ہوئی۔
(7) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بتایا کہ دونوں اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان سعی کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے اب ان دونوں کے درمیان سعی کرنے کی سنت قائم ہوگئی۔
(8) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ صفا پر ایک بت تھا جس کو اساف کہتے تھے اور مروہ پر ایک بت تھا جس کو نائلہ کہتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں جب بیت اللہ کا طواف کرتے تھے تو صفا مروہ کے درمیان بھی سعی کرتے ہوئے بتوں کو ہاتھ لگاتے تھے جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم بتوں کی وجہ سے صفا مروہ کی سعی کرتے تھے اور ان کے درمیان سعی کرنا شعائر میں نہیں ہے (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ “ (الآیہ) اور لفظ آیت ” الصفا “ کو مذکر فرمایا کیونکہ اس پر جو بت تھا وہ مذکر تھا۔ اور مروہ کو مؤنث ذکر فرمایا کیونکہ اس پر جو بت تھا وہ مؤنث تھا۔
(9) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر مے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انصار نے کہا کہ ان پتھروں (یعنی صفا مروہ) کے درمیان سعی کرنا جاہلیت والوں کے کام میں سے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ فرمایا کہ یہ عمل خیر میں سے ہے جس کے بارے میں، میں نے تم کو بتایا ہے اس پر کوئی حرج نہیں جو ان دونوں (کے درمیان) سعی نہ کرے لفظ آیت ” ومن تطوع خیرا فھو خیرلہ “ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو بطور نفل کے کیا پس یہ سنن میں سے ہے۔ عطا (رح) فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس کی جگہ کو ستر کعبہ کے ساتھ بدل دیتے۔
(10) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں تھامہ کے لوگ صفا ومروہ کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ اور ان کے درمیان سعی کرنا ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی سنت ہے۔
مشرکین صفاء مروہ پر بتوں کو پوجتے تھے
(11) عبد بن حمید، مسلم، ترمذی، ابن جریر، ابن مردویہ، بیہقی نے اپنی سنن میں زہری کے طریق سے عروہ (رح) سے وہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا انصار میں سے کچھ لوگ مناۃ (بت) کے لئے زمانہ جاہلیت میں احرام باندھتے تھے اور مناۃ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کہ ہم مناۃ کی تعظیم کرتے ہوئے صفا مروہ کی سعی کرتے تھے اب ہم پر سعی میں کوئی حرج ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ عروہ (رح) نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ پرواہ نہیں اگر میں صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں (کیونکہ) اللہ نے فرمایا لفظ آیت ” فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اے میرے بھانجے ! کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “۔ زہری (رح) نے فرمایا کہ یہ بات میں نے ابوبکر بن عبد الرحمن بن الحرث بن ہشام کو بتائی تو انہوں نے کہا یہ علم ہے (اور) ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ میں نے اہل علم لوگوں کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کے بارے میں (حکم) نازل فرمایا اور صفا مروہ کے درمیان طواف کا (حکم) نازل فرمایا تو نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا تو ذکر فرمایا ہے اور صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کریں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ (الآیہ) ابوبکر نے فرمایا کہ یہ آیت دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی ان کے بارے میں بھی جنہوں نے سعی کی اور ان کے بارے میں بھی جنہوں نے سعی نہ کی۔
(12) امام وکیع، عبد الرزاق، عبند بن حمید، مسلم، ابن ماجہ اور ابن جریر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ قسم ہے میری عمر کی اللہ تعالیٰ اس کے حج اور عمرہ کو پورا نہیں فرمائیں گے جو شخص صفا ومروہ کے درمیان سعی نہ کرے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “۔
(13) عبد بن حمید اور مسلم نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ انصار صفا مروہ کے درمیان سعی کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ پس ان کے درمیان سعی کرنا نفل ہے۔
(14) ابو عبید نے فضائل میں، عبد بن حمید، ابن جریہر، ابن ابی داؤد نے المصاحف میں، ابن المنذر اور ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آیت لفظ آیت ” فلا جناح علیہ ان لا یطوف بھما “ کو اس طرح پڑھتے تھے۔
(15) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کے مصحف میں اس طرح سے ہے۔ لفظ آیت ” فلا جناح علیہ ان لا یطوف بھما “۔
(16) حماد (رح) سے روایت ہے کہ میں نے والد کے مصحف میں (یوں) پایا لفظ آیت ” فلا جناح علیہ ان لا یطوف بھما “
(17) ابن ابی داؤد نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لفظ آیت ” فلا جناح علیہ ان لا یطوف بھما “ پڑھتے تھے۔
(18) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” فلا جناح علیہ ان لا یطوف بھما “ تشدید کے ساتھ پس جس نے اس کو چھوڑ دیا تو اس پر کوئی حرج نہیں۔
(19) سعید بن منصور اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں مروہ سے پہلے صفا سے شروع کرتا ہوں طواف کرنے سے پہلے نماز پڑھ لیتا ہوں یا نماز سے پہلے طواف کرتا ہوں اور ذبح کرنے سے پہلے حلق کرتا ہوں یا حلق کرانے کے بعد ذبح کرتا ہوں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ باتیں اللہ کی کتاب میں سے لے لو وہ یاد کرنے کے قابل ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ (اس میں) صفا (کا حکم) ہے مروہ سے پہلے اور فرمایا لفظ آیت ” لا تخلقوا رؤوسکم حتی یبلغ الھدی محلۃ “ یعنی ذبح ہے حلق سے پہلے اور فرمایا لفظ آیت ” وطھر بیتی للطایفین والقائمین والرکع السجود (26) “ (الحج آیت 26) اور اس آیت میں نماز سے پہلے طواف ہے۔
(20) امام وکیع نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ (سعی) مروہ سے پہلے صفا سے کیوں شروع کی جاتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ (یعنی مروہ سے پہلے صفا کا ذکر فرمایا) ۔
(21) امام مسلم، ترمذی، ابن جریر اور بیہقی نے سنن میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنے حج میں صفا کے قریب تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ میں پس اللہ تعالیٰ نے کلام کو جس سے شروع فرمایا ہے تم بھی اس سے شروع کرو۔ آپ ﷺ نے سعی صفا سے شروع فرمائی اور اس پر چڑھ گئے۔
(22) امام شافعی، ابن سعد، احمد، ابن المنذر، ابن قانع اور بیہقی نے حبیبہ بنت أبی بحران ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا لوگ آپ کے آگے تھے اور آپ ان کے پیچھے سعی فرما رہے تھے یہاں تکہ کہ میں نے تیز سعی کی وجہ سے آپ کے گھٹنے دیکھے آپ اپنی چادر مبارک لپیٹے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے کہ سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض فرما دی ہے۔
(23) امام طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے (کسی نے) پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کی ہے پس تم سعی کرو۔
(24) امام وکیع نے ابو فصیل عامر بن واثلہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سعی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلا نے سعی کی تھی۔
(25) امام طبرانی اور بیہقی نے ابو طفیل (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم یہ گمان کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ سنت میں سے ہے آپ نے فرمایا انہوں نے سچ کہا جب ابراہیم (علیہ السلام) کو حج کے احکام کا حکم دیا گیا تو سعی کی جگہ کے درمیان شیطان نے ان کے سامنے اور ان کے آگے جانے کی کوشش کی مگر ابراہیم (علیہ السلام) اس سے آگے نکل گئے۔
(26) امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لوگوں کو صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا اور فرمایا یہ ان کاموں میں سے ہے جس کا تم کو اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ نے وارث بنایا۔
حضرت ہاجرہ و اسماعیل (علیہ السلام) برکت
(27) الخطیب نے التلخیص میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے ان کے ساتھ ہاجرہ (ان کی بیوی) اور اسماعیل (ان کے بیٹے) بھی تھے ان دونوں (یعنی ہاجرہ اور اسماعیل (علیہ السلام) کو بیت اللہ کے پاس بٹھایا ان کی بیوی نے پوچھا کیا اس کام کا اللہ نے آپ کو حکم فرمایا ہے فرمایا ہاں ! (پھر) بچے کو پیاس لگی حضرت ہاجرہ نے ادھر ادھر دیکھا پہاڑوں میں سب سے زیادہ قریب صفا کی پہاڑی تھی اس پر جاکر دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی یہ صفا مروہ کے درمیان پہلی سعی تھی۔ وہ واؤس آئیں تو اپنے آگے ایک ہلکی سی آواز سنی اور فرمایا میں نے سن لیا ہے اگر تیرے پاس کوئی مدد ہے تو لے آ اچانک اس کے آگے جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو اپنی ایڑھی کو زم زم پر مار رہے تھے تو پانی ابل آیا۔ وہ کوئی چیز لے آئیں تاکہ اس میں پانی کو جمع کریں۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کیا تو پیاس سے ڈرتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کا شہر ہے تم پیاس سے نہ ڈرو۔
(28) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، ترمذی، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی۔ اور شیاطین کو کنکری مارنا اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ان کی اور کوئی غرض نہیں۔
(29) الازرقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ صفا مروہ میں سعی کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ صفا سے اترے پھر چلتے ہوئے گزر گاہ کے بطن میں پہنچ جائے جب اس جگہ میں آئے تو دوڑے حتی کہ یہاں سے پار ہوجائے پھر (اپنی رفتار پر چلے حتی کہ مروہ پر آجائے) ۔
(30) الازرقی نے مسروق کے طریق سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ صفا کی طرف نکلے پھر صدع (یعنی صفا کی چوڑائی) پر کھڑے ہو کر لبیک پڑھا میں نے ان سے کہا کہ لوگ یہاں ہلال (یعنی تلبیہ کہنے) سے منع کرتے ہیں انہوں نے فرمایا لیکن میں تم کو اس کا حکم کرتا ہوں کیا تو جانتا ہے اھلال کیا ہے ؟ یہ وہ دعا ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے رب کے ہاں قبولیت ہے۔ جب آپ (نیچے) وادی میں آئے تو رمل کیا اور (یہ دعا) مانگی ” رب اغفر وارحم انک انت الاعندلاکرم “ (اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما بیشک تو بہت عزت والا اور بہت اکرام والا ہے۔
(31) طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن مسعود ؓ سے صدع (مقام) پر کھڑے ہوئے جو صفا میں ہے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ وہ مقام ہے جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی۔
وما قولہ تعالیٰ : ومن تطوع خیرا :
(32) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں الاعمش (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عبد اللہ ؓ کی قرأت میں لفظ آیت ” ومن تطوع خیرا “ ہے۔
(33) سعید بن منصور نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ صفا مروہ پر یہ دعا کرتے تھے تین مرتبہ (یعنی اللہ اکبر) کہتے تھے اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے :
” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر لا الہ الا اللہ ولا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکفرون “۔
ترجمہ : اللہ کے سوا کوئی معبود (نہیں) اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے ملک ہے اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی اس کے دین کے لئے خالص ہو کر اگرچہ کافر اس کو ناپسند کریں۔
اور بہت سی دعائیں کرتے تھے یہاں تک کہ ہم تھک جاتے اگرچہ ہم جوان لوگ تھے اور ان کی دعا میں سے ایک یہ دعا بھی تھی :۔
” اللہم اجعلنی ممن یحبک ویحب ملائکتک والی رسلک والی عبادک الصالحین اللہم حببنی الیک والی ملائکتک والی رسلک والی عبادک الصالحین “
ترجمہ : اے اللہ مجھے پنا دے ان لوگوں میں سے جو تجھ سے اور تیرے فرشتوں سے اور تیرے رسولوں سے محبت کرتے ہیں اور تیرے نیک بندوں سے محبت کرتے ہیں۔ اور اے اللہ ! مجھے اپنا اپنے فرشتوں، رسولوں اور نیک بندوں کا محبوب بنا دے۔
” اللہم یسرنی للیسری وجنبنی للعسری واغفرلی فی الاخرۃ والاولی واجعلنی من الائمۃ المتقین ومن ورثۃ جنۃ النعیم واغفرلی یوم الدین اللہم انک قلت (ادعونی استجب لکم) وانک لا تخلف المیعاد “۔
ترجمہ : اے اللہ ! آسانی کر دے میرے لئے آسانی کو اور بچا دے مجھے تنگی سے اور بخش دے مجھ کو دنیا میں اور آخرت میں اور مجھے متقین کے اماموں میں سے بنا دے اور جنت النعیم کے ورثا میں سے بنا دے اور میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اے اللہ بیشک آپ نے فرمایا ہے مجھ سے دعا کرو اور میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرونگا اور بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں فرماتے۔
” اللہم اذھدیتنی للاسلام فلا تنزعہ منی ولا تنزعنی منہ حتی توفان علی الاسلام وقدرضیت عنی “
ترجمہ : اے اللہ جب آپ نے مجھ کو السلام کی ہدایت دی اس کو مجھ سے نہ چھین لینا اور مجھے اس سے جدا نہ کرلینا اور مجھ سے راضی ہوجائیے۔
” اللہم لا تقدمنی للعذاب ولا تؤخرنی لسیء الفتن “
ترجمہ : اے اللہ مجھے عذاب کے لئے پیش نہ کرنا اور مجھے برے فتنوں کے لئے پیچھے نہ چھوڑ دینا۔
(34) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص تم میں سے حج کے لئے آئے تو اس کو چاہئے کہ بیت اللہ کے طواف سے شروع کرے اور سات چکر لگائے پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھے پھر صفا پر آئے اور اس پر قبلہ رخ کھڑا ہوجائے پھر سات مرتبہ تکبیریں کہے دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجے اور اپنے لئے دعا کرے اور اسی طرح مروہ پر بھی کرے۔
(35) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سات جگہوں میں ہاتھ بلند کئے جاتے ہیں جب نماز کی طرف کھڑے ہو، بیت اللہ کو دیکھو، صفا مروہ پر، عرفات میں، مزدلفہ میں، شیاطین کو کنکری مارتے وقت۔
(36) امام شافعی نے الام میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہاتھوں کو بلند کیا جائے نماز میں، جب بیت اللہ کو دیکھو، صفا مروہ پر، عرفات میں، مزدلفہ میں اور جمروں کے پاس اور میت پر۔
وأما قولہ : فان اللہ شاکر علیہ :
(37) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی قدردان نہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ خیر کی کوئی جزا دینے والا نہیں۔